

روزینہ اسماعیل,October16,2026
نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اکتوبر 2026ء
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں اور بحیرۂ احمر و آبنائے باب المندب میں تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات کی مذمت کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور بین الاقوامی قوانین کی پابندی پر زور دیا ہے۔ کونسل کے ارکان نے اپنے بیان میں کہا کہ شہری ہوائی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملے شہریوں کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، جبکہ تجارتی جہازوں اور ان کے عملے کو درپیش خطرات عالمی تجارت اور بحری آمدورفت کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے بیان کے مطابق، حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کے ساتھ بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب میں تجارتی جہازوں کے خلاف مسلسل حملے اور دھمکیاں بھی تشویش کا باعث ہیں۔ ارکان نے زور دیا کہ سمندری راستوں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور ان پر کام کرنے والے عملے کی حفاظت یقینی بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو بحری آمدورفت، علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی تجارت کے لیے مزید خطرات پیدا کریں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن میں جاری تنازع اور سعودی عرب کے خلاف حملوں کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتِ حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ حالیہ کشیدگی نے شہری تنصیبات، توانائی کی تنصیبات اور اہم بحری راستوں کے تحفظ سے متعلق خدشات کو نمایاں کیا ہے۔
شہری تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر تشویش
سلامتی کونسل کے ارکان نے سعودی عرب میں شہری ہوائی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کی۔ ان کے مطابق، ایسی کارروائیاں نہ صرف شہریوں کی جان و مال کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں بلکہ فضائی سفر، کاروباری سرگرمیوں اور ضروری خدمات کے تسلسل کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔
شہری ہوائی اڈے مسافروں، فضائی عملے اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کی آمدورفت کے اہم مراکز ہوتے ہیں۔ اسی طرح توانائی کی تنصیبات ملکی معیشت اور عالمی توانائی کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان مقامات کو لاحق خطرات کے اثرات کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتے اور ان سے خطے میں اقتصادی سرگرمیاں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
سلامتی کونسل کے ارکان نے تجارتی جہازوں کے خلاف حملوں اور دھمکیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب بین الاقوامی بحری تجارت کے اہم راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے گزرنے والے جہاز ایشیا، مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور یورپ کے درمیان سامان کی نقل و حمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اگر ان راستوں پر سکیورٹی خطرات بڑھتے ہیں تو جہاز رانی کی کمپنیوں کو اپنے سفر کے انتظامات تبدیل کرنا پڑ سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں سفر کا دورانیہ، نقل و حمل کے اخراجات اور سامان کی ترسیل کے نظام پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہوتا ہے۔ تاہم ان اثرات کی شدت کا انحصار حملوں کی نوعیت، خطرات کے دورانیے اور تجارتی جہازوں کے لیے دستیاب متبادل راستوں پر ہوگا۔
بین الاقوامی سمندری قوانین کی پابندی پر زور
سلامتی کونسل کے ارکان نے اپنے بیان میں بین الاقوامی قوانین، بالخصوص اقوامِ متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر (UNCLOS)، کی پابندی کی ضرورت پر زور دیا۔ بیان میں جہاز رانی کے حقوق اور آزادیوں کے تحفظ کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ تجارتی جہازوں کی سلامتی یقینی بنانا بین الاقوامی بحری نظام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
بحری راستوں کی آزادی اور جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت عالمی تجارت کے تسلسل کے لیے ضروری ہیں۔ کسی بھی اہم سمندری گزرگاہ میں مسلسل خطرات پیدا ہونے سے نہ صرف متعلقہ ممالک بلکہ ان راستوں پر انحصار کرنے والی عالمی منڈیوں کو بھی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
کونسل کے ارکان کا مؤقف ہے کہ تنازع کے فریقوں کو بین الاقوامی قوانین اور بحری آمدورفت سے متعلق ذمہ داریوں کا احترام کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو جاری رکھا جائے اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو تنازع کو مزید پھیلا سکتے ہوں۔
یمن میں سیاسی حل ہی پائیدار امن کی بنیاد قرار
سلامتی کونسل کے ارکان نے واضح کیا کہ یمن میں دیرپا امن تشدد، جبر یا طاقت کے استعمال کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق، تنازع کا مستقل حل مذاکرات اور ایک جامع سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
یمن کئی برسوں سے سیاسی عدم استحکام، مسلح تصادم اور انسانی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ تنازع کے مختلف فریقوں کے درمیان اختلافات نے ملک میں امن کی کوششوں کو پیچیدہ بنایا ہے، جبکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات یمن کی صورتِ حال کو مزید مشکل بنا سکتے ہیں۔
کونسل کے ارکان نے سیاسی حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات کے ذریعے ایسا راستہ تلاش کیا جائے جس سے تشدد میں کمی آئے اور یمن میں پائیدار امن کی بنیاد رکھی جا سکے۔ اس عمل میں متعلقہ فریقوں کی سنجیدہ شرکت، علاقائی کشیدگی میں کمی اور سفارتی کوششوں کا تسلسل اہم ہوگا۔
سلامتی کونسل کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی ادارے کے ارکان کے لیے اس وقت دو معاملات خصوصی اہمیت رکھتے ہیں: سعودی عرب میں شہری اور توانائی کی تنصیبات کا تحفظ، اور بحیرۂ احمر و آبنائے باب المندب میں بین الاقوامی جہاز رانی کی سلامتی۔ تاہم ان خدشات کا مستقل حل یمن کے تنازع میں سیاسی پیش رفت اور متعلقہ فریقوں کی جانب سے تشدد کم کرنے کے اقدامات سے جڑا ہوا ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: سلامتی کونسل کے بیان میں حوثیوں کے حملوں اور بحری جہازوں کو لاحق خطرات کی مذمت کے ساتھ سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ بیان میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات کو اہم قرار دیا گیا، تاہم اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ تنازع کے حل کے لیے کوئی نیا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ خطے میں صورتِ حال کی بہتری کا انحصار آئندہ اقدامات، سفارتی کوششوں اور متعلقہ فریقوں کے رویے پر ہوگا۔
ماخذ: اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل، اقوامِ متحدہ کا دفتر برائے خصوصی ایلچی برائے یمن