سندھ ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں اینٹی کرپشن عدالتوں کو منتقل کیے گئے کرپشن کے متعدد مقدمات کی احتساب عدالتوں میں باقاعدہ واپسی شروع ہو گئی ہے۔ نیب پراسیکیوٹر کی استدعا پر احتساب عدالت نے 15 مختلف ریفرنسز کی بحالی کا عمل شروع کرتے ہوئے نامزد اہم شخصیات کو نوٹس جاری کر کے طلب کر لیا ہے۔
سندھ ہائیکورٹ نے پہلے سے اینٹی کرپشن منتقل کیے گئے نیب کیسز کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے تمام مقدمات دوبارہ نیب عدالتوں میں بھیجنے کی ہدایت کی تھی۔ عدالت کی جانب سے اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ اور مالی بدعنوانی کے کیسز میں بلوچستان کے صوبائی وزیر علی حسن بروہی، سندھ کے سابق چیف سیکرٹری و ممبر لینڈ یوٹیلائزیشن صدیق میمن سمیت کئی اہم انتظامی افسران اور بلڈرز کو نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔
طلب کیے گئے دیگر افراد میں ملیر کے سابق ڈپٹی کمشنر قاضی جان محمد، سابق ڈسٹرکٹ آفیسر ریونیو اعجاز حسین، سابق ایڈیشنل سیکرٹری عبدالقادر میمن، سابق سیکشن آفیسر غلام مصطفیٰ، ٹریژری آفیسر محمد موسیٰ کاظمی اور اسسٹنٹ ٹریژری آفیسر عبداللطیف کھوسو شامل ہیں۔ اس کے علاوہ میرپور ساکرو کے تپیدار نثار احمد وگن، علی اصغر میندھرو، سابق مختیارکار اقبال اعوان، محمد حنیف اور معروف بلڈرز جاوید اقبال اور وسیم احمد شیخ کو بھی احتساب عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی ایک دیرپا اور لازوال بھائی چارے کا تعلق ہے، جو باہمی اعتماد، احترام اور غیر متزلزل حمایت پر استوار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس تاریخی دوستی کو پاکستان بھر میں تمام سیاسی جماعتوں کی مکمل حمایت حاصل ہے جو کہ ایک مضبوط قومی اتفاقِ رائے کی عکاس ہے۔
اسلام آباد میں منعقدہ ایک اہم سیمینار سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ اس تقریب میں چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ، کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (CPC) کے مرکزی وفد، پاکستانی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔ سیمینار کے آغاز میں چیئرمین سینیٹ نے صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا خصوصی پیغام بھی پڑھ کر سنایا، جس میں صدر نے چینی وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاک چین دوستی وقت کی ہر آزمائش پر پورا اتری ہے اور دونوں ممالک کے باہمی مفادات کو فروغ دے رہی ہے۔
اپنے خطاب میں چیئرمین سینیٹ نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے قیام کی 105ویں سالگرہ پر چینی قیادت اور عوام کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ چین کی غیر معمولی ترقی، غربت کے خاتمے اور جدید طرزِ حکمرانی کے تجربات ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک روشن مثال ہیں۔ انہوں نے ون چائنا پالیسی کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔
سیمینار سے قبل مسٹر لیو ڈاشیو کی قیادت میں چینی وفد نے چینی سفیر کے ہمراہ چیئرمین سینیٹ سے خصوصی ملاقات بھی کی، جس میں پارلیمانی، سیاسی اور جماعتی سطح پر روابط اور تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے قتل کے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران اسلام آباد پولیس کی ناقص تفتیش اور خامیاں سامنے آنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت کے تفتیشی نظام پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ کیس کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد پولیس سے کہیں اچھی اور معیاری تفتیش تو نصف تنخواہ لینے والے سندھ پولیس کے تفتیشی افسران کر لیتے ہیں۔
سماعت کے دوران جسٹس خادم حسین سومرو نے ایس ایس پی اسلام آباد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے سامنے جب بھی کوئی مقدمہ آتا ہے تو فیصلے کی بنیاد درست تفتیش پر ہوتی ہے، تاہم حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے چار اہم کیسز میں پولیس انویسٹی گیشن انتہائی ناقص رہی۔ فاضل جج نے کہا کہ تفتیش میں اس قدر خامیاں رکھی جاتی ہیں کہ مجبوری میں عدالت کو ملزمان کی ضمانتیں منظور کرنا پڑتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد پولیس میں ایک تفتیشی افسر کی تنخواہ لاکھ روپے کے قریب ہے جبکہ سندھ پولیس میں یہی تنخواہ محض 40 ہزار کے قریب ہے، اس کے باوجود سندھ پولیس کا تفتیشی معیار بہتر ہے۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے مزید کہا کہ انہوں نے ڈیڑھ سال کے دوران کسی سینئر پولیس افسر کو عدالت بلانے سے گریز کیا لیکن گزشتہ 14 دنوں کے دوران چار مقدمات میں لگاتار خراب تفتیش دیکھنے کے بعد ایس ایس پی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرنا پڑا۔
عدالت نے ایس ایس پی اسلام آباد کو واضح ہدایت کی کہ وہ اپنے ادارے کے تفتیشی نظام کو فوری طور پر درست کریں اور مقدمات کی انویسٹی گیشن قانون اور میرٹ کے مطابق یقینی بنائیں۔ فاضل جج نے متنبہ کیا کہ آئی جی اسلام آباد کو پیغام پہنچا دیا جائے کہ اگر آئندہ کسی کیس میں ایسی ناقص تفتیش سامنے آئی تو عدالت اسلام آباد پولیس کے خلاف سخت تحریری حکم نامہ جاری کرے گی۔
گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے زیادہ جامع، اخلاقی اور انسان مرکز نقطۂ نظر اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت کے مستقبل اور اس کی عالمی حکمرانی کی تشکیل میں بامعنی اور فعال کردار دیا جانا چاہیے۔
انٹرنیشنل یوتھ ڈے 2026ء کے موقع پر اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں منعقدہ ‘یوتھ اینڈ اے آئی سمٹ’ سے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان نے پاکستان کے روشن مستقبل میں نوجوانوں کی اہمیت اجاگر کی اور بتایا کہ ملک کی تقریباً 70 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نیشنل اے آئی پالیسی علم پر مبنی معیشت کے فروغ کے لیے ایک جامع لائحۂ عمل فراہم کرتی ہے، جس کے تحت سال 2030ء تک 10 لاکھ مصنوعی ذہانت کے ماہرین کی تربیت، اے آئی تعلیم و تحقیق کے فروغ اور حکومت، تعلیمی اداروں و صنعت کے درمیان تعاون کو وسعت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ڈیجیٹل تبدیلی کی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے گورنر مندوخیل نے کہا کہ مصنوعی ذہانت جغرافیائی فاصلوں کو کم کرتے ہوئے بلوچستان جیسے پسماندہ اور دور دراز علاقوں کے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے، تاہم یہ اسی وقت ممکن ہے جب ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے اور مہارتوں تک مساوی رسائی حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی تعلیم، صحت، موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے اور عوامی خدمات کو بہتر بنانے کا ذریعہ ہے، لیکن بین الاقوامی تعاون کے بغیر یہ انقلاب ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان عدم مساوات کو بڑھا سکتا ہے۔
نوجوان شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے گورنر مندوخیل نے زور دیا کہ اے آئی کا مستقبل محض نئی نسل پر مسلط نہیں ہونا چاہیے بلکہ انہیں خود اس کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان مصنوعی ذہانت کو زیادہ مواقع، شمولیت اور انسانی فلاح و بہبود کا ذریعہ بنانے کے لیے اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان کی آئندہ سفارتی سرگرمیوں، اعلیٰ سطح کے متوقع دوروں اور خطے و بین الاقوامی سطح پر ہونے والی اہم پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اجلاس کے دوران بالخصوص ناروے کے وزیر خارجہ کے اسلام آباد کے آنے والے اہم دورے کی تیاریوں اور انتظامات کا جامع جائزہ لیا گیا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ہدایت کی کہ آنے والی تمام سفارتی سرگرمیوں اور مذاکرات سے ملک کے لیے مثبت اور ٹھوس نتائج کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ شعبے موثر رابطہ کاری اور بھرپور تیاری کریں۔
اجلاس میں سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ سمیت وزارتِ خارجہ کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور پاکستان کی عالمی و علاقائی سفارتی حکمتِ عملی سے متعلق نائب وزیراعظم کو بریفنگ دی۔
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ ‘آسان خدمت مرکز’ کا بنیادی مقصد حکومتی خدمات کو شہریوں کے لیے آسان، تیز اور قابلِ رسائی بنانا ہے۔ اس مرکز کے ذریعے ایک ہی چھت تلے مختلف سرکاری اداروں کی 60 سے زائد خدمات فراہم کی جا رہی ہیں، جس سے شہریوں کو مختلف دفاتر کے چکر لگانے اور طویل قطاروں میں کھڑے ہونے سے نجات مل گئی ہے۔
آسان خدمت مرکز میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومتِ پاکستان اور آذربائیجان کے باہمی تعاون سے صرف 90 دنوں کے اندر قائم کیے گئے اس مرکز میں شناختی کارڈ، پاسپورٹ، نادرا، سی ڈی اے، اسلام آباد پولیس، میونسپل کارپوریشن اور وزارتِ خارجہ کی خدمات دستیاب ہیں۔ مرکز میں شادی اور نکاح کی سہولت بھی متعارف کرائی گئی ہے، جہاں حال ہی میں ایک تقریب کا انعقاد کر کے محض نصف گھنٹے کے اندر رجسٹریشن اور شناختی کارڈز کا کام مکمل کیا گیا۔
شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ ڈیجیٹل تبدیلی کے تحت 39 وفاقی سرکاری محکموں کو پیپر لیس بنایا جا چکا ہے اور ‘ون پیشنٹ، ون آئی ڈی’ نظام کے تحت 42 لاکھ مریضوں کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے۔ ادویات کی سیریلائزیشن کا پروجیکٹ بھی زیرِ تکمیل ہے جس سے شہری اصلی اور جعلی دوا کی فوری تصدیق کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ روایتی اسٹامپ پیپرز کے مسائل کو ختم کرنے کے لیے ای اسٹامپ کے ڈیجیٹل نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے اور اوورسیز پاکستانیوں کی رائے و شکایات کے لیے بھی آن لائن پلیٹ فارم فعال کر دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ حکومت کی بنیادی توجہ طریقہ کار کے بجائے شہری مرکزیت پر مبنی طرزِ حکمرانی پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل حدود اور ڈیجیٹل خودمختاری بھی ملک کے لیے ایک اہم وجودی معاملہ ہے، اور انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے مطابق پاکستان اب دنیا کے اعلیٰ ترین سائبر سیکیورٹی ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں سالانہ 20 فیصد اضافہ ہو رہا ہے اور ملک اپنے 79ویں یومِ آزادی پر ڈیجیٹل محاذ پر بالکل درست سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
بلوچستان کے ضلع سوراب میں گاڑی میں دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) کی تیاری کے دوران قبل از وقت دھماکے اور اس کے بعد سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں ‘فتنۃ الہندوستان’ سے وابستہ مجموعی طور پر 18 دہشت گرد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ قبل از وقت ہونے والے اس دھماکے اور قریبی بارودی مواد کے پھٹنے سے علاقے کے 3 عام شہری بھی جاں بحق ہو گئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، سوراب میں دہشت گرد گاڑی میں بم نصب کر رہے تھے کہ اچانک دھماکا ہو گیا، جس سے موقع پر ہی 8 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز اور بلوچستان پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر مشترکہ کلیئرنس اور سرچ آپریشن کا آغاز کیا۔ فرار ہونے والے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگا کر سیکیورٹی فورسز نے موثر جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں مزید 10 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔
شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران پاک فوج کے دو بہادر جوان بھی زخمی ہوئے، جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں موجود باقی ماندہ دہشت گردوں کے مکمل خاتمے اور کلیئرنس کے لیے سرچ آپریشن تاحال جاری ہے۔
ترجمان آئی ایس پی آر نے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظوری اور ‘عزمِ استحکام’ کے وژن کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے غیر ملکی سرپرستی یافتہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے اپنی بھرپور کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھیں گے۔
پاکستان اور بیلاروس نے دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، صنعتی تعاون، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کے شعبوں میں باہمی شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر مکمل اتفاق کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک نے خدمات کے شعبے میں دوطرفہ تجارتی معاہدے کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے ایک مشترکہ فزیبلٹی سٹڈی گروپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ دونوں ملکوں کے قومی میڈیا اداروں کے درمیان نشریاتی تعاون اور مواد کے تبادلے کے لیے ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے ہیں۔
وزارت اقتصادی امور ڈویژن سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان اور بیلاروس کے درمیان تجارت اور اقتصادی تعاون کے مشترکہ وزارتی کمیشن کا دو روزہ 9 واں اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور بیلاروس کے وزیر توانائی ڈزیانس ماروز نے کی۔ اجلاس میں دونوں جانب سے تجارت اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے اور بدلتے ہوئے عالمی حالات میں نئے تجارتی مواقع تلاش کرنے پر زور دیا گیا۔ اس موقع پر مشترکہ وزارتی کمیشن کے متفقہ پروٹوکول پر دستخط کیے گئے جبکہ پاکستان ٹیلی ویژن اور بیلاروس کے نیشنل سٹیٹ ٹیلی ویژن اینڈ ریڈیو کے درمیان باہمی تعاون کی یادداشت پر بھی دستخط عمل میں آئے۔
صنعتی اور زرعی شعبوں میں ٹیکنالوجی کی منتقلی اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے درمیان اشتراکِ عمل کو بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ زراعت کے شعبے میں سی فوڈ، پھلوں، بیجوں اور ڈیری پروڈکٹس کے لیے آن لائن بزنس ٹو بزنس اجلاسوں اور نمائشوں کے انعقاد پر فیصلہ ہوا۔ اس کے علاوہ سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں کوالٹی کنٹرول معیارات کو باہمی طور پر تسلیم کرنے کے طریقہ کار پر کام شروع کرنے کی تجویز دی گئی، جبکہ بیلاروس نے پانی کے تحفظ اور فضلے کے انتظام کی جدید ٹیکنالوجی میں تعاون کی پیشکش کی۔
پاکستانی جانب سے بیلاروس کی معیشت کے لیے ماہر اور غیر ماہر افرادی قوت کی منظم فراہمی کا طریقہ کار وضع کرنے کی آمادگی ظاہر کی گئی، جس سے پاکستانی نوجوانوں کے لیے بیرون ملک روزگار کے بہترین مواقع پیدا ہوں گے۔ دونوں ممالک کے چیئرمینوں نے اجلاس کے نتائج اور فیصلوں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ اقدامات دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کو ایک نئی بلندی پر لے جائیں گے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چین کے سابق وزیراعظم ژو رونگ جی کے انتقال پر گہرے دکھ اور انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں پاکستان کا مخلص دوست اور عظیم رہنما قرار دیا ہے۔
بدھ کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے تعزیتی بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ سابق چینی وزیراعظم ژو رونگ جی کی رحلت کی خبر سن کر انہیں شدید صدمہ پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم نے چین کی ترقی اور پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا، وہ ایک عظیم مدبر، بصیرت افروز رہنما اور پاکستان کے بے لوث دوست تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے حکومتِ پاکستان اور تمام پاکستانی عوام کی جانب سے چینی صدر شی جن پنگ، وزیراعظم لی چیانگ، چین کے عوام اور مرحوم کے سوگوار خاندان سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دکھ اور غم کی اس گھڑی میں اپنے لازوال اور آزمودہ آئرن برادر چین کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کے غم میں برابر کا شریک ہے۔
وفاقی وزیر قانون، انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ جی ایس پی پلس کا درجہ پاکستان کے لیے ایک زبردست اور اہم موقع ہے، پاکستان میں انسانی حقوق کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے جبکہ اس سلسلے میں تمام ضروری قانونی و ادارہ جاتی اصلاحات پر کام تیزی سے جاری ہے۔
بدھ کے روز یورپی یونین کے سفیر رائمونڈاس کاروبلس سے وفد کے ہمراہ ہونے والی اہم ملاقات کے دوران وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک اور سیکریٹری وزارت انسانی حقوق بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران پاکستان اور یورپی یونین کے باہمی تعلقات، جی ایس پی پلس اسٹیٹس، انسانی حقوق سے متعلق ترجیحات، قومی ایکشن پلان 2026ء پر عملدرآمد اور دیگر متعلقہ اداروں کی استعداد کار بڑھانے سے متعلق تفصیلی گفتگو کی گئی۔
وفاقی وزیر نے یورپی یونین کے وفد کو بچوں اور اقلیتوں کے حقوق اور تحفظ سے متعلق حکومتی اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں چائلڈ لیبر، کم عمری کی شادی اور اقلیتوں کے حقوق کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے، جبکہ اقلیتوں سے متعلق قومی کمیشن کو بھی جلد مکمل طور پر فعال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں پر تشدد، زیادتی کے کیسز اور صنفی امتیاز کے خاتمے کے لیے حکومت انتہائی سنجیدہ اور عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔
سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ مل کر جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور جی ایس پی پلس کی ترجیحات پر مزید مؤثر پیش رفت کی جائے گی۔ اس موقع پر یورپی یونین کے سفیر رائمونڈاس کاروبلس نے انسانی حقوق کی شقوں پر عملدرآمد میں پاکستان کی پیش رفت کی تعریف کی جبکہ دونوں جانب سے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی جانب سے جیل سے پارٹی کے بانی رہنما اور دیرینہ ساتھی اکبر ایس بابر کو اہم پیغام بھیجے جانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ اکبر ایس بابر نے اس معاملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ عمران خان کے ایک مشترکہ دوست، جو خود بھی جیل میں ہیں، کے ذریعے یہ پیغام ان تک پہنچایا گیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اکبر ایس بابر نے انکشاف کیا کہ عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ جیل سے رہائی کے فوراً بعد سب سے پہلے اکبر ایس بابر کے گھر جائیں گے۔ اس کے علاوہ بانی پی ٹی آئی نے خواہش ظاہر کی ہے کہ پارٹی کے ابتدائی دور سے وابستہ، ناراض رہنماؤں اور کارکنوں کو دوبارہ ایک ہی سیاسی پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے۔ عمران خان نے اپنے ابتدائی ساتھیوں کو پارٹی کا حقیقی اثاثہ قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ جدوجہد کے دور کے مخلص ارکان کی کمی ہمیشہ محسوس کی گئی اور اب ان تمام لوگوں کو دوبارہ قریب لانے کی شدید ضرورت ہے۔
عمران خان کا پیغام موصول ہونے کے بعد اکبر ایس بابر نے ناراض ارکان اور بانی رہنماؤں کو متحد کرنے کے لیے عملی کاوشیں شروع کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں پی ٹی آئی پنجاب کے سابق سینئر نائب صدر رانا سہیل کی سربراہی میں ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جس میں امین ذکی، فیصل پیرزادہ اور آصف احمد شامل ہیں۔ کمیٹی نے ان تمام ساتھیوں سے رابطہ مہم کا آغاز کر دیا ہے جو مختلف وجوہات کی بنا پر پارٹی سے دور یا ناراض ہو گئے تھے۔
اکبر ایس بابر کے مطابق عمران خان کے اس پیغام پر ناراض ارکان کا ردعمل انتہائی مثبت رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ ان کے کبھی ذاتی نہیں بلکہ محض سیاسی اختلافات رہے ہیں اور اگر بانی پی ٹی آئی ان کے گھر آئیں گے تو وہ ان کا گرمجوشی سے استقبال کریں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تمام بانی ارکان اور کارکنوں کو دوبارہ متحرک کرنے کے بعد اگلے ماہ لاہور میں ایک بڑا کنونشن منعقد کیا جائے گا تاکہ نظریاتی ساتھیوں کو دوبارہ ایک پیج پر لایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نوجوانوں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان کی 65 فیصد نوجوان آبادی ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے اور انہیں جدید تعلیم و ہنر سے آراستہ کر کے عالمی سطح پر ان کا مثبت کردار یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب حکومت نوجوانوں کو درپیش تمام درپیش مسائل کے حل اور انہیں معاشی و سیاسی طور پر بااختیار بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے اپنے پیغام میں کہا کہ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد ملکی تعمیر و ترقی میں یوتھ کے تعمیری کردار کو اجاگر کرنا اور ان کی صحیح سمت میں سرپرستی کرنا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ملک و قوم سے محبت کو اپنا شعار بنائیں اور گالی گلوچ کی سیاست اور نشے جیسے زہر سے خود کو دور رکھتے ہوئے اپنی جسمانی اور ذہنی صحت پر توجہ دیں۔ مریم نواز شریف نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار پنجاب حکومت نوجوانوں کے لیے ایک مضبوط سہارا بن کر سامنے آئی ہے۔
حکومتی کاوشوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایگریکلچر انٹرن شپ، لیپ ٹاپ سکیم، ای ٹیکسیز، آسان فنانس اور آسان کاروبار سکیموں میں نوجوانوں کو شامل کیا گیا ہے۔ پرواز کارڈ کے ذریعے ہنرمند اور غیر ہنرمند افراد کو بیرونِ ملک روزگار کے لیے بلاسود قرضے دیے جا رہے ہیں جس کے تحت پہلے ہی 10 ہزار ہنرمند نوجوان خلیجی ممالک میں روزگار حاصل کر چکے ہیں۔ مزید برآں، اپنے کاروبار کے قیام کے لیے 3 کروڑ روپے تک کے بلاسود قرضے اور نئے بزنس آئیڈیاز کی حوصلہ افزائی کے لیے انکیوبیشن سنٹرز بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔
تعلیمی شعبے میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ اسکولوں اور کالجوں کے ہزاروں طلبہ کے لیے ہونہار سکالرشپ پروگرام جاری ہے جبکہ نصاب میں پہلی بار آئی ٹی، ای روزگار اور فری لانسنگ جیسے جدید مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل اسکلز کی تربیت کے ساتھ فنی تربیتی اداروں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ مریم نواز نے نوجوانوں کو ہدایت کی کہ وہ صرف نوکری تلاش کرنے کے بجائے نوکری دینے والے بنیں اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے آگے بڑھیں، پنجاب حکومت ان کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔
انگلینڈ کے دورے پر موجود پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے وارم اپ میچ کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کی باہمی رضامندی سے پریکٹس میچ کا دورانیہ چار دن سے کم کر کے تین دن کر دیا گیا ہے۔
کینٹ کرکٹ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پاکستان اور پی سی سی سلیکٹ الیون کے درمیان یہ وارم اپ میچ اب 13 اگست سے دی کاؤنٹی گراؤنڈ، بیکنہم میں کھیلا جائے گا۔ ابتدائی شیڈول کے تحت یہ میچ چار روز پر محیط تھا تاہم دونوں کرکٹ بورڈز کی باہمی موافقت کے بعد اسے تین روز تک محدود کر دیا گیا ہے۔
میچ کے شیڈول میں اس تبدیلی کے بعد کینٹ کرکٹ نے شائقینِ کرکٹ کے ٹکٹوں سے متعلق تفصیلی ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جن شائقین نے 12 اگست کے کھیل کے لیے ٹکٹ خریدے تھے، ان کی تمام تر رقم مکمل طور پر واپس کر دی جائے گی، جبکہ 13، 14 اور 15 اگست کے لیے خریدے گئے پہلے سے تمام ٹکٹس برقرار رہیں گے اور گراؤنڈ میں داخلے کے لیے قابلِ قبول ہوں گے۔
یہ تین روزہ وارم اپ میچ انگلینڈ کے خلاف آنے والی اہم ٹیسٹ سیریز سے قبل قومی کرکٹ ٹیم کے لیے تیاریوں کا ایک سنہری اور حتمی موقع فراہم کرے گا۔ دورانیہ کم ہونے کے باوجود قومی اسکاڈ کو انگلش پچز کی کنڈیشنز، موسم اور ماحول سے آہنگ ہونے میں مدد ملے گی، جبکہ ٹیم مینجمنٹ کو بھی ٹیسٹ سیریز سے قبل تمام کھلاڑیوں کی موجودہ فارم، تکنیک اور کارکردگی کا جائزہ لینے کا بھرپور موقع ملے گا۔
انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں دہلی کیپیٹلز کی نمائندگی کرنے والے 27 سالہ بھارتی کرکٹر ابھشیک پورل کو ایک میڈیکل طالبہ کی مدعیت میں درج ہونے والے سنگین مقدمے کے تحت گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بھارتی پولیس نے کرکٹر کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے خلاف مبینہ زیادتی، مجرمانہ دھمکیوں اور تشدد کے الزامات کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق یہ مقدمہ رواں سال جون کے مہینے میں ایک میڈیکل طالبہ کی درخواست پر درج کیا گیا تھا۔ متاثرہ خاتون نے اپنے بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ تین سال سے کرکٹر کے ساتھ تعلقات میں تھیں اور ابھشیک پورل نے ان سے شادی کا وعدہ کر رکھا تھا۔ خاتون کا الزام ہے کہ شادی کی اسی یقین دہانی پر ان کے درمیان جنسی تعلقات قائم ہوئے، تاہم بعد میں کرکٹر اپنے وعدے سے مکر گئے اور ان سے دوری اختیار کرنا شروع کر دی۔
متاثرہ خاتون نے پولیس کو دی گئی شکایت میں یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ تعلقات کے دوران ابھشیک پورل نے انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا اور سنگین نتائج کی مجرمانہ دھمکیاں بھی دیں۔ معاملے کی ابتدائی تفتیش کے بعد کلکتہ ہائی کورٹ نے پولیس کو مقدمے میں نامزد کرکٹر کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کیا، جس کی تعمیل کرتے ہوئے پولیس نے فوری کارروائی کر کے ابھشیک پورل کو حراست میں لے لیا۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق ابھشیک پورل ماضی میں اپنے خلاف عائد کیے جانے والے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر تردید کر چکے ہیں۔ بائیں ہاتھ کے 27 سالہ بلے باز ابھشیک پورل سال 2023ء سے آئی پی ایل میں دہلی کیپیٹلز کی نمائندگی کر رہے ہیں اور گزشتہ سیزن میں انہوں نے اپنی ٹیم کی جانب سے چار اننگز میں 108 رنز بنائے تھے۔ مقدمے میں عائد تمام الزامات کی قانونی اور واقعی تصدیق کے لیے پولیس کی مزید تفتیش جاری ہے۔
سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی صاحبزادی اور جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی (جے ایس ایم یو) کی پروفیسر ڈاکٹر نگہت شاہ کو ریٹائرمنٹ سے محض ایک روز قبل صوبائی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں مزید 3 سال کے لیے بطور پروفیسر مقرر کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ اس تقرری کے سامنے آنے پر پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) کے قواعد و ضوابط اور صوبائی حکومت کی ہدایت کے درمیان واضح فرق پر سنگین انتظامی و قانونی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
سیکریٹری بورڈز و جامعات عباس بلوچ کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ نوٹیفکیشن میں صوبائی کابینہ کے 5 اگست کے اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے وائس چانسلر جے ایس ایم یو کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ڈاکٹر نگہت شاہ کی 3 سال کے لیے بطور پروفیسر تقرری پر غور کریں۔ نوٹیفکیشن میں وائس چانسلر کو مزید کارروائی بلا تاخیر اور من و عن مکمل کر کے ترجیحی بنیادوں پر رپورٹ محکمہ بورڈز و جامعات کو فراہم کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔
اس تقرری کے لیے پی ایم اینڈ ڈی سی کے جس نوٹیفکیشن کا سہارا لیا گیا ہے، اس میں واضح لکھا گیا ہے کہ ریٹائرڈ فیکلٹی کو کنٹریکٹ پر رکھنے کا فیصلہ محض ایک سہولت کے طور پر ہے اور کوئی ادارہ اس کا پابند نہیں، بلکہ متعلقہ یونیورسٹی اپنی ضرورت اور قواعد کے مطابق فیصلہ کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ پی ایم اینڈ ڈی سی پالیسی کے مطابق ریٹائرڈ فیکلٹی کی تعیناتی سے جونیئر فیکلٹی کی سنیارٹی یا ترقیاں متاثر نہیں ہونی چاہئیں۔
اس تمام صورتحال میں یہ سوالات شد و مد سے اٹھ رہے ہیں کہ جب اختلافی اختیارات یونیورسٹی کے پاس تھے تو ایک مخصوص فرد کا کیس صوبائی کابینہ کے سامنے کیوں لایا گیا اور اس پر ہنگامی بنیادوں پر عمل درآمد کا حکم کیوں دیا گیا۔ دوسری جانب جے ایس ایم یو کی سینئر ایسوسی ایٹ پروفیسرز ڈاکٹر شازیہ نصیب، ڈاکٹر نسرین فاطمہ، ڈاکٹر صبا خان، ڈاکٹر ارم ماجد اور ڈاکٹر میمونہ رحمان کی سنیارٹی اور ترقی کے امکانات متاثر ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، جس سے یونیورسٹی انتظامیہ اور اساتذہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
دنیا کی مشہور ترین انگلش پریمیئر فٹ بال لیگ کے 35 ویں سیزن کا باقاعدہ آغاز 22 اگست سے ہونے جا رہا ہے۔ ٹاپ فلائٹ انگلش فٹ بال کا یہ مجموعی طور پر 128واں ایڈیشن ہوگا، جس کے مکمل شیڈول کا باضابطہ اعلان پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔ اس میگا ایونٹ کی تیاریاں انتہائی عروج پر پہنچ چکی ہیں جبکہ سیزن کا باضابطہ اختتام 30 مئی 2027ء کو ہوگا۔ اس بار آرسنل کی ٹیم میدان میں اپنے اعزاز کا دفاع کرے گی، جس نے گزشتہ سیزن میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے مجموعی طور پر اپنا 14واں ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔
پریمیئر لیگ کے افتتاحی روز یعنی 22 اگست کو شائقین کو 6 سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملیں گے، جبکہ اس لیگ میں کل 20 بہترین ٹیمیں چیمپئن بننے کے لیے ایک دوسرے سے پنجہ آزمائی کریں گی۔ اس بار انگلش چیمپئن شپ سے ترقی پا کر پریمیئر لیگ میں جگہ بنانے والی ٹیموں میں کووینٹری سٹی، اپسوچ ٹاؤن اور ہل سٹی شامل ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ کووینٹری سٹی نے 25 سال کے ایک طویل عرصے کے بعد پریمیئر لیگ میں تاریخی واپسی کی ہے جو کہ ایک نیا ریکارڈ ہے، جبکہ دوسری جانب خراب کارکردگی کی بنیاد پر ویسٹ ہیم یونائیٹڈ، برنلے اور وولور ہیمپٹن وانڈررز لیگ سے باہر ہو چکی ہیں۔
رواں سیزن میں پریمیئر لیگ انتظامہ نے ایک انتہائی اہم اور تاریخی فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت میچ ڈے شرٹس کے سامنے والی مرکزی جگہ پر جوئے کی کمپنیوں کی اسپانسرشپ پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس انقلابی قدم کا بنیادی مقصد جوئے کی تشہیر کو کم سے کم کرنا ہے، تاہم جوئے کی کمپنیاں فی الحال شرٹس کی آستینوں اور ٹریننگ کٹس پر اپنی سپانسرشپ محدود پیمانے پر جاری رکھ سکیں گی۔
ای پی ایل کے آئندہ سیزن میں حصہ لینے والی 20 ٹیموں میں دفاعی چیمپئن آرسنل، ایسٹن ولا، بورن مائوتھ، برینٹ فورڈ، برائٹن، چیلسی، کووینٹری سٹی، کرسٹل پیلس، ایورٹن، فلہم، ہل سٹی، اپسوچ ٹاؤن، لیدز یونائیٹڈ، لیورپول، مانچسٹر سٹی، مانچسٹر یونائیٹڈ، نیو کیسل یونائیٹڈ، ناٹنگھم فارسٹ، ٹوٹنہام ہاٹ پور اور سنڈر لینڈ شامل ہیں۔ انگلش پریمیئر لیگ کا افتتاحی اور پہلا میچ 22 اگست کو دفاعی چیمپئن آرسنل اور نووارد کووینٹری سٹی کے درمیان ایمرٹس سٹیڈیم لندن میں کھیلا جائے گا۔
سعودی عرب نے کولمبیا کی جانب سے مقبوضہ شامی گولان ہائٹس پر غاصب اسرائیلی خودمختاری و تسلط کو باقاعدہ تسلیم کرنے کے یکطرفہ فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین، عالمی اصولوں اور اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے جاری کردہ ایک انتہائی اہم سرکاری بیان میں واضح کیا کہ کولمبیا کا یہ غیر قانونی اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سال 1981ء میں منظور کی جانے والی تاریخی قرارداد 497 کی مکمل اور صریح خلاف ورزی ہے۔ اس سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت مقبوضہ گولان ہائٹس کے علاقے پر اسرائیل کے اپنے ظالمانہ قوانین، دائرہ اختیار اور انتظامیہ نافذ کرنے کا اقدام مکمل طور پر کالعدم اور قانونی اثرات کے بغیر ٹھہرایا گیا ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اس قسم کے بلاجواز اور غیر قانونی سیاسی موقف خطے میں منصفانہ اور پائیدار امن کے حصول میں کسی قسم کی مدد فراہم نہیں کرتے بلکہ اس سے خطے میں قیامِ امن کی بین الاقوامی کاوشوں کو شدید نقصان پہنچنے اور معاملات کو سبوتاژ کرنے کا اندیشہ ہے۔
سعودی عرب نے اپنے دیرینہ اور اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے زور دیا کہ گولان ہائٹس بلا شبہ شام کی ایک مقبوضہ سرزمین ہے اور اس کی تاریخی، جغرافیائی یا قانونی حیثیت کو کسی صورت تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے یکطرفہ فیصلے يا اقدامات اس ناانصافی کو کوئی قانونی جواز فراہم نہیں کر سکتے۔ اپنے بیان کے اختتام پر مملکت نے کولمبیا کی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اپنے اس فیصلے اور موقف پر نظرثانی کرے، عالمی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری کو یقینی بنائے اور خطے میں منصفانہ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے کوششوں کی حمایت کرے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے مشرقِ وسطیٰ کی تشویشناک اور نازک صورتِ حال پر سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بڑھتے ہوئے اسرائیلی مظالم، غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور شدت اختیار کرتے ہوئے انسانی بحران پر عالمی برادری اور سلامتی کونسل سے فوری و سخت عملی اقدامات کا مطالبات کیا ہے۔ سلامتی کونسل کے اس اہم اور ہنگامی اجلاس کے دوران اپنے مفصل اور جامع خطاب میں پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کے نمائندوں کی جانب سے کونسل کو فراہم کی گئی بریفنگز محض لفظی کارروائی یا کارروائی کا حصہ نہیں بلکہ فوری اور عملی اقدامات کا بین الاقوامی تقاضا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے اور غزة میں پیش آنے والے واقعات کو الگ تھلگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ یہ ایک طے شدہ، باہم مربوط اور دہائیوں پر محیط غاصبانہ قبضے کا نتیجہ ہیں جس کا بنیادی مقصد دو ریاستی حل کے تمام امکانات کو یکسر اور ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے مغربی کنارے میں بستیوں کی مسلسل توسیع بالخصوص ‘کرمسن تھریڈ’ منصوبے اور ای ون علاقے میں آبادکاری پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں 1967ء کے بعد سے فلسطین میں بے دخلی کا سب سے بڑا بحران جنم لے چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے زمینوں کی رجسٹریشن اور انتظامی اختیارات پر ناجائز قبضہ درحقیقت عملاً الحاق کے عمل کو آگے بڑھا رہا ہے جو سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں اور عالمی عدالتِ انصاف کی واضح مشاورتی آراء کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینیوں کے ٹیکس اور ریونیو کے اربوں روپے کی مسلسل روک تھام فلسطینی اداروں کو معاشی طور پر مفلوج کرنے کی ایک منظم سازش ہے، لہٰذا یہ رقم بغیر کسی تاخیر کے فوری اور مکمل طور پر جاری کی جانی چاہیے۔
مسجدِ اقصیٰ اور الحرم الشریف کی مقدس صورتحال پر بات کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے کہا کہ اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے مسلمانوں کی مقدس ترین جگہ پر مسلسل دھاوے اور اشتعال انگیز کارروائیاں پورے خطے کی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ انہوں نے 24 جولائی اور 6 اگست کو پاکستان سمیت آٹھ اہم عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غزہ پر اسرائیلی حملوں اور مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد کو الگ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ تمام تر اقدامات طاقت کے زور پر ایک نئی جغرافیائی صورتحال مسلط کرنے کی پالیسی کا حصہ ہیں۔
غزہ کی انسانی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ جامع منصوبے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 نے انسانی تکالیف کو کم کرنے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کیا تھا، تاہم اسرائیل کی جانب سے مسلسل فوجی کشیدگی اور روڈ میپ کو مسترد کرنا عالمی سفارتی کاوشوں کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس سلسلے میں امریکہ، مصر، قطر اور ترکیہ کی جانب سے جاری مسلسل سفارتی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے واضح مطالبات پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قابض طاقت اسرائیل تمام تر غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیاں فوری طور پر روکے اور بین الاقوامی قوانین بالخصوص سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 پر مکمل عمل پیرا ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کو فی الفور بند کرایا جائے اور جرم کے مرتکب افراد کا کڑا احتساب کیا جائے۔ انہوں نے فلسطینی صدر کے مطالبے کے مطابق فلسطینی عوام کو عالمی تحفظ فراہم کرنے اور بچوں کی حفاظت سے متعلق یونیسیف کی سفارشات پر فوراً عمل درآمد کرنے پر بھی زور دیا۔
پاکستانی مندوب نے مطالبہ کیا کہ مسجدِ اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنایا جائے اور تمام اشتعال انگیز اقدامات کو فوری روکا جائے۔ انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ قرارداد 2803 اور جامع امن منصوبے پر بغیر کسی حیل و حجت کے مکمل اور نیک نیتی سے عمل درآمد کرایا جائے اور اس کے راستے میں حائل رکاوٹوں کا سختی سے سدباب کیا جائے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے انتباہ جاری کیا کہ اگر اسرائیل کی ان جارحانہ پالیسیوں کی سمت کو فوری نہ بدلا گیا تو پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے اس کے نتائج انتہائی تباہ کن ہوں گے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا واحد راستہ 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ایک خودمختار، آزاد اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کا قیام ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے “نوجوانوں کے عالمی دن” کے بین الاقوامی موقع پر پوری قوم اور خاص طور پر ملک کے کروڑوں باصلاحیت نوجوانوں کے نام ایک نہایت اہم، فکر انگیز اور مفصل پیغام جاری کیا ہے۔ اپنے پیغام میں وزیراعظم نے واضح اور قطعیت کے ساتھ اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کے تمام تر دستیاب قومی وسائل کو نوجوانوں کی بہترین ذہنی، جسمانی، فکری اور علمی نشوونما کے لیے وقف کرنا موجودہ حکومت کی پالیسی کا مرکزی نقطہ اور سب سے اہم ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم کی پائیدار ترقی اور تابناک مستقبل کا راز نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو درست سمت فراہم کرنے میں پنہاں ہے۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری ہونے والے اس خصوصی اور تفصیل سے بھرپور پیغام میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان آج دنیا کے تمام دیگر اقوام کے ساتھ ہم آواز ہو کر اپنے نوجوانوں کو ان کی بے پناہ قدرتی صلاحیتوں، پرجوش توانائی، مثبت جذبے اور ان داتا خدمات پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک یا معاشرے کی حقیقی ترقی کا دارومدار وہاں کی یوتھ کی تعلیمی اور اخلاقی تربیت پر ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس سال نوجوانوں کا عالمی دن جس عنوان سے منایا جا رہا ہے، یعنی “مختلف حالات، مشترکہ امنگیں”، وہ ایک بہت بڑی سچائی کا مظہر ہے۔ یہ موضوع دنیا بھر کی یہ حقیقت کھول کر سامنے لاتا ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں رہنے والے نوجوانوں کے سیاسی، معاشی، جغرافیائی اور سماجی حالات بے شک ایک دوسرے سے بالکل مختلف اور گوناگوں ہو سکتے ہیں، لیکن ایک محفوظ، پرامن، خوشحال اور تابناک مستقبل کی خواب اور خواہشات سبھی کی یکساں ہیں۔
وزیراعظم نے اپنے بیان میں انتہائی گرمجوشی کے ساتھ اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی مجموعی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جو ہماری قوم کے لیے اللہ تعالیٰ کا ایک انمول تحفہ اور عظیم ترین سرمایہ ہیں۔ ہمارے یہی نوجوان آئندہ کل کے روشن اور پرامید پاکستان کے حقیقی معمار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیت، نئے خیالات، سچی لگن اور پرعزم محنت ہر شعبہ ہائے زندگی میں امید افزاء اور مثبت تبدیلیوں کا باعث بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا کھل کر اظہار ہی ایک پائیدار، مضبوط اور خودکفیل پاکستان کی بنیاد قائم کر سکتا ہے۔ پاکستان کی نوجوان نسل نے تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، کھیل، فنون، اور سماجی خدمت جیسے متعدد شعبوں میں نہ صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر بھی ملک کا نام اور پرچم بلند کیا ہے، جبکہ مقامي سطح پر بھی ایک ذمہ دار اور فعال شہری کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
حکومتی اصلاحات، پالیسیوں اور عملی اقدامات کی مفصل وضاحت کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ حکومتِ پاکستان نوجوانوں کو جدید دور کے جدید ترین تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے عملی بنیادوں پر کام کر رہی ہے۔ نوجوانوں کو معیاری اور اثر انگیز تعلیم، فنی و پیشہ ورانہ مہارتوں، خود روزگار کے مواقع، کاروباری اور صنعتی ترقی، ڈیجیٹل جدت اور سماجی و قومی فیصلوں میں شمولیت کے ذریعے مضبوط سے مضبوط تر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایسے عملی راستے ہموار کیے ہیں تاکہ ہمارے ہونہار طلباء عالمی منڈیوں کے معیار پر پورا اتر سکیں اور اپنی فنی استعداد کو عالمی سطح پر منوا سکیں۔
تعلیمی اصلاحات اور یوتھ پروگرام کے عملی منصوبوں کی بابت گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہونہار طلبہ و طالبات کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیکنیکل ایجوکیشن اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید ترین شعبوں میں تربیتی راستے کھولنے کے لیے بلا سود قرضوں، لیپ ٹاپس کی تقسیم، اسکالرشپ پروگرامز، اور بامعاوضہ انٹرن شپ جیسے پروگرامز کا جال بچھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام” کے تحت ملک بھر کی نوجوان افرادی قوت کو جدید ترین اور معتبر ہنر سکھائے جا رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے “نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن” کو ہنگامی بنیادوں پر مزید فعال، بااختیار اور متحرک کیا گیا ہے۔ یہ قومی ادارہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ سندات اور اندرونِ ملک انڈسٹری کی ضروریات کے مطابق نوجوانوں کو بین الاقوامی معیار کی جدید ترین پیشہ ورانہ تربیت فراہم کر رہا ہے۔
اپنے پیغام کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے تمام نوجوانوں کو ایک جذباتی اور حوصلہ افزا خصوصی پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ دیانتداری، سخت محنت، ذمہ داری اور جذبۂ حب الوطنی کے ساتھ اپنے سفر کو آگے بڑھاتے رہیں۔ نوجوانوں کی ترقی ہی میں پاکستان کا پائیدار اور درخشندہ مستقبل محفوظ ہے۔ انہوں نے تمام مکاتبِ فکر، تمام طبقات اور بالخصوص یوتھ پر زور دیا کہ آئیں سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم ایک جٹ ہو کر ملکی ترقی و خوشحالی میں اپنا تعمیری اور مثبت کردار ادا کریں گے تاکہ وطنِ عزیز پاکستان ہر نوجوان کے لیے روشن، محفوظ اور باوقار مستقبل کی حتمی ضمانت بن سکے۔
عالمی ایئرلائن ایمریٹس نے اپنے مسافروں کو سفری منصوبوں میں آسانی اور لچک فراہم کرنے کے لیے چار اہم نئی سہولیات کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔ ان میں دبئی کے سفر کی تاریخ میں مفت تبدیلی، کم فیس کے ساتھ ریفنڈ، ایئرلائن کے پورے نیٹ ورک پر تاریخ میں ایک مرتبہ مفت تبدیلی اور اسکائی وارڈز اراکین کے لیے خصوصی بچت شامل ہیں۔
ایمریٹس کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق 10 اگست 2026ء سے دبئی جانے والے مسافروں کو اپنے سفر کی تاریخ میں بغیر کسی اضافی فیس کے جتنی بار چاہے تبدیلی ( کرنے کی سہولت دے دی گئی ہے۔ یہ سہولت اکانومی کلاس (سیور سے فلیکس) اور بزنس کلاس کے تمام کرایوں پر لاگو ہوگی۔ اس کے علاوہ دبئی کی پروازوں کے لیے ریفنڈ فیس میں بھی نمایاں کمی کی گئی ہے، جہاں اکانومی سیور اور بزنس سیور پر اب ریفنڈ فیس صرف 50 امریکی ڈالر جبکہ فلیکس کرایوں پر محض 25 امریکی ڈالر ہوگی۔
اسی طرح ایمریٹس نیٹ ورک کے تمام روٹس پر سفر کرنے والے مسافروں کو بھی ٹکٹ کی تاریخ میں ایک بار مفت تبدیلی کا موقع حاصل ہوگا۔ پروازوں میں کسی بھی غیر متوقع خلل یا فضائی حدود کی بندش کی صورت میں ایئرلائن مسافروں کی رہائش اور متبادل پروازوں کی بکنگ بلا معاوضہ خود یقینی بنائے گی۔
علاوہ ازیں، ایمریٹس اسکائی وارڈز اراکین کے لیے 31 اگست 2026ء تک خصوصی آفر دی گئی ہے، جس کے تحت سلور، گولڈ اور پلاٹینم کا درجہ حاصل کرنے کے لیے درکار ٹیر مائلز میں 20 فیصد کی رعایت شامل ہے، جبکہ کیش پلس مائلز کے استعمال پر فی 2,000 مائلز کے بدلے 30 امریکی ڈالر کی بچت کی جا سکے گی۔