افغان طالبان حکومت پر عالمی دباؤ میں اضافہ، انسانی حقوق کی 83 تنظیموں کا یورپی یونین سے سخت مؤقف اپنانے کا مطالبہ

محمود احمد May31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء

افغانستان میں بنیادی انسانی حقوق، خواتین کی آزادیوں اور تمام گروہوں کی سیاسی شمولیت کے حوالے سے بڑھتے ہوئے شدید خدشات کے باعث افغان طالبان حکومت کو ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر کڑی تنقید اور سخت سفارتی دباؤ کا سامنا ہے۔ اس سلسلے میں عالمی انسانی حقوق کی درجنوں تنظیموں نے یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ کابل کی عبوری حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کے سرکاری، سفارتی یا سیاسی روابط قائم کرنے میں انتہائی احتیاط سے کام لے۔

یورپی یونین سے مطالبہ اور دورۂ برسلز پر تشویش بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، بین الاقوامی فیڈریشن برائے انسانی حقوق سمیت دنیا بھر کی 83 معتبر عالمی تنظیموں نے آئندہ ماہ جون میں طالبان وفد کے ممکنہ دورۂ برسلز پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان تنظیموں نے یورپی یونین کی قیادت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ طالبان کے ساتھ کسی بھی قسم کے سیاسی یا سفارتی روابط کو افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال میں عملی بہتری لانے سے مشروط کیا جائے۔

طالبان حکومت کی نمائندگی پر عالمی تنظیموں کے سوالات ان تنظیموں نے اپنے مشترکہ اعلامیے اور مؤقف میں موقف اختیار کیا ہے کہ طالبان کسی عوامی، جمہوری یا نمائندہ انتخابی عمل کے ذریعے اقتدار میں نہیں آئے، اس لیے انہیں بین الاقوامی قوانین کے تحت افغانستان کے تمام عوام کا حقیقی نمائندہ تصور نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی جانب سے افغان خواتین، نوجوانوں، اقلیتوں اور سول سوسائٹی کی دبائی گئی آوازوں کو کسی بھی قیمت پر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

خواتین کے حقوق اور پابندیوں پر عالمی برادری کی تشویش انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں نے اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے کہ افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم، خواتین کے روزگار اور ان کی سماجی آزادیوں پر عائد سخت پابندیوں کے باعث پوری عالمی برادری میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ تنظیموں کے مطابق، طالبان حکومت کو بین الاقوامی سطح پر سفارتی قبولیت اور تسلیم کیے جانے کے لیے بنیادی انسانی حقوق کی بحالی اور عالمی معاہدوں کے حوالے سے فوری اور عملی اقدامات کر کے دکھانا ہوں گے۔

انسانی امداد اور سفارت کاری کا چیلنج بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کی موجودہ نازک صورتحال میں عالمی برادری کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج افغان عوام کے لیے انسانی امداد کی فراہمی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے مطالبے کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے۔ ماہرین کے مطابق، افغان عوام کی معاشی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنیادی اور غذائی امداد کا تعاون تو جاری رہنا چاہیے، تاہم سیاسی اور سفارتی سطح پر کسی بھی قسم کی پیش رفت کو بنیادی حقوق کی فراہمی اور ایک جامع سیاسی عمل کے آغاز سے مشروط رکھنا خطے کے مستقبل کے لیے بے حد ضروری ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، خواتین کے حقوق، اعلیٰ تعلیم تک رسائی، حکومت میں تمام طبقات کی سیاسی شمولیت اور بین الاقوامی وعدوں پر عملدرآمد جیسے حساس معاملات مستقبل میں بھی طالبان حکومت اور عالمی برادری کے باہمی تعلقات کا رخ طے کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے رہیں گے۔

معرکۂ حق کے اثرات عالمی مباحث کا حصہ، سربیا کے صدر کے بیان نے بھارتی دعوؤں پر نئے سوالات کھڑے کر دیے

کاشف عباسی ,May 31 ,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء

معرکۂ حق کے دوران پیش آنے والے اہم واقعات اور عسکری نتائج پر بین الاقوامی سطح پر بحث کا سلسلہ اب بھی عروج پر ہے، جبکہ اسی دوران سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچیچ کے حالیہ تہلکہ خیز بیان نے بھارتی دفاعی دعوؤں اور نئی دہلی کے سرکاری بیانیے کی قلعی کھولتے ہوئے عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

سربین صدر کا انٹرویو اور زمینی شواہد کا تذکرہ میڈیا رپورٹس کے مطابق، سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچیچ نے ایک حالیہ اہم انٹرویو میں جنوبی ایشیا کی حالیہ کشیدگی اور عسکری صورتحال کا گہرا تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں جدید دفاعی نظاموں کی کارکردگی اس وقت عالمی دفاعی اداروں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ سربین صدر کا کہنا تھا کہ اس معرکے کے حوالے سے دستیاب معلومات اور ناقابلِ تردید زمینی شواہد بعض ایسے حقائق کی نشاندہی کرتے ہیں جو بھارتی حکومت کے سرکاری دعوؤں سے بالکل مختلف اور برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔

جدید ٹیکنالوجی اور بھارتی دفاعی نظام کی ناکامی سربین صدر نے اپنے تجزیے میں مزید کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ نگرانی اور مختلف ڈیجیٹل ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے باعث اب جنگی میدان میں ہونے والی سرگرمیوں اور نقصانات کو دنیا سے مکمل طور پر پوشیدہ رکھنا کسی کے لیے ممکن نہیں رہا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ متعدد بین الاقوامی رپورٹس اور شواہد اس بات کی صاف اشارہ کرتے ہیں کہ معرکے کے دوران بھارتی فضائی دفاعی نظام (ایئر ڈیفنس سسٹم) کے بعض انتہائی اہم حصے حملوں کی زد میں آ کر شدید متاثر ہوئے تھے۔

عالمی رائے عامہ اور معلومات کی اہمیت دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر جانبدار بین الاقوامی شخصیات اور دیگر ممالک کی جانب سے سامنے آنے والے یہ تجزیے اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ جدید تنازعات میں اب محض پروپیگنڈا کام نہیں آتا، بلکہ شواہد اور تکنیکی ڈیٹا کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، کسی بھی عسکری واقعے کے بارے میں عالمی رائے عامہ اب صرف بھارتی میڈیا اور ان کے سرکاری بیانات تک محدود نہیں رہتی، بلکہ دنیا بھر کے ماہرین آزاد اور مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔

خطے کا عسکری توازن اور پائیدار امن کا راستہ ماہرین کے مطابق، سربیا کے صدر کے ان ریمارکس نے بھارتی میڈیا اور نئی دہلی کے سرکاری مؤقف کے جھوٹے پہلوؤں پر گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ دوسری جانب خطے میں عسکری توازن، جدید دفاعی نظاموں کی اصل افادیت اور جنگی حکمت عملیوں پر بھی دنیا بھر میں ایک نئی تزویراتی بحث شروع ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں حقائق پر مبنی معلومات، ذمہ دارانہ بیانات اور سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل کو ترجیح دینا ہی پائیدار امن، ترقی اور استحکام کی واحد ضمانت بن سکتا ہے۔

بھارتی آرمی چیف کا ’’سندور 2.0‘‘ بیان تنقید کی زد میں، ماہرین نے اسے داخلی بحرانوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دے دیا

منصور احمد ,May 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء

دفاعی اور سیاسی ماہرین نے بھارتی آرمی چیف کے حالیہ ’’سندور 2.0‘‘ سے متعلق بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے عسکری ضرورت کے بجائے بھارت کے اندر بڑھتے ہوئے سنگین سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل سے عوامی توجہ ہٹانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنے داخلی بحرانوں کو چھپانے کے لیے پاکستان کے خلاف من گھڑت بیانیہ تشکیل دینا بھارتی قیادت کی ایک پرانی حکمتِ عملی رہی ہے، جسے داخلی دباؤ بڑھنے پر ہمیشہ دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے۔

بدلتی علاقائی صورتحال اور سفارتی محاذ تجزیہ کاروں کے مطابق، حالیہ علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے مؤثر سفارتی کردار کے بعد بھارت کو متعدد عالمی اور علاقائی محاذوں پر سخت سفارتی مشکلات کا سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئی دہلی کی قیادت بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر ایک بار پھر روایتی پاکستان مخالف بیانیے کو فروغ دینے کی کوششوں میں مصروف ہو گئی ہے تاکہ اپنی ناکامیاں چھپائی جا سکیں۔

جدید عسکری چیلنجز اور بھارتی فوج کا اعتراف ماہرین نے اس اہم نکتے کی نشاندہی کی کہ بھارتی آرمی چیف نے اپنے خطاب میں خود جدید جنگی ماحول کے چیلنجز کے حوالے سے اعتراف کیا ہے کہ موجودہ دور میں جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے فوجی نقل و حرکت، آپریشنل سرگرمیاں اور عسکری تیاریوں کو مکمل طور پر خفیہ رکھنا اب کسی کے لیے ممکن نہیں رہا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، بھارتی آرمی چیف کا یہ اعتراف دراصل خود بھارتی فوج کو درپیش عملی اور تزویراتی چیلنجز اور ان کی کمزوریوں کی واضح عکاسی کرتا ہے۔

عسکری معاملات کا سیاسی استعمال دفاعی ماہرین کے مطابق ’’سندور 2.0‘‘ جیسے مبہم اور فرضی تصورات زیادہ تر سیاسی مقاصد حاصل کرنے اور عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے استعمال ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی مبینہ فوجی کارروائی کو ایک سال گزرنے کے بعد بھی نئی اصطلاحات اور جذباتی بیانیوں کے ذریعے زندہ رکھنے کی ضرورت پیش آ رہی ہے، تو یہ اس بات کا کھلا اشارہ ہے کہ اس کارروائی کے مطلوبہ سیاسی اور تزویراتی اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکے اور وہ ناکام ثابت ہوئی ہے۔

داخلی مسائل اور تصادم کی پالیسی تجزیہ نگاروں نے کھل کر کہا کہ بھارت میں اس وقت بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی، شدید معاشی دباؤ، داخلی نسلی تنازعات اور حکومتی پالیسیوں پر اٹھنے والی شدید تنقید کے ماحول میں ایسے بیانات کا سامنے آنا محض کوئی اتفاق نہیں ہے۔ ان کے مطابق ایسے جارحانہ بیانیوں کا واحد مقصد عوامی غیظ و غضب کا رخ داخلی مسائل سے ہٹا کر بیرونی خطرات کی جانب منتقل کرنا ہوتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ فوجی معاملات کو سیاسی بیانیے کا حصہ بنانا پیشہ ورانہ اصولوں کے خلاف ہے۔ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے تصادم کے بجائے سفارت کاری، مکالمے اور باہمی احترام کی پالیسی ہی سب سے ناگزیر راستہ ہے۔

اسلام آباد میں المناک ٹریفک حادثہ، اٹھال چوک کے قریب 4 افراد جاں بحق، 2 شدید زخمی

منصور احمد ,May 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اتوار کی علی الصبح ایک انتہائی افسوسناک اور دلخراش ٹریفک حادثہ پیش آیا ہے، جس کے نتیجے میں چار افراد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے جبکہ دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق یہ المناک حادثہ بہارہ کہو کے مصروف علاقے اٹھال چوک کے قریب اس وقت پیش آیا جب تیز رفتاری کے باعث دو کاریں آپس میں بے قابو ہو کر ایک موٹر سائیکل سے ٹکرا گئیں۔

تصادم کی شدت اور امدادی کارروائیاں مقامی پولیس اور امدادی ٹیموں (ریسکیو حکام) کے مطابق تصادم اس قدر شدید تھا کہ دونوں کاریں اور موٹر سائیکل بری طرح تباہ ہو گئے اور چار افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی نفری اور ریسکیو کی گاڑیاں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا۔ ٹیموں نے گاڑیوں کو کاٹ کر لاشوں اور زخمیوں کو نکالا اور فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کیا۔

جاں بحق افراد کی شناخت اور زخمیوں کی حالت ہسپتال انتظامیہ اور پولیس حکام نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والے چار افراد میں سے دو کی شناخت فضل اور عامر کے ناموں سے ہو چکی ہے، جبکہ باقی دو افراد کی شناخت کے لیے بائیومیٹرک اور دیگر ذرائع سے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب، حادثے میں زخمی ہونے والے دو افراد کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جنہیں ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ (آئی سی یو) میں منتقل کر کے ہنگامی بنیادوں پر ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

حادثے کی وجوہات اور پولیس تحقیقات بہارہ کہو پولیس کے مطابق ابتدائی معلومات اور شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ حادثہ علی الصبح سڑک خالی ہونے کے باعث تیز رفتاری اور غفلت کی وجہ سے پیش آیا، تاہم حادثے کی اصل اور حتمی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تفصیلی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے گاڑیوں کے ملبے کو ہٹا کر ٹریفک کے لیے راستہ کھول دیا ہے اور مختلف پہلوؤں سے واقعے کی رپورٹ مرتب کی جا رہی ہے۔

شہریوں کا ٹریفک قوانین پر سختی کا مطالبہ اسلام آباد کے مقامی شہریوں اور سماجی حلقوں نے اس المناک حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔ شہریوں نے وفاقی ترقیاتی ادارے اور اسلام آباد ٹریفک پولیس سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ شاہراہوں، بالخصوص بہارہ کہو اور اٹھال چوک کے اطراف تیز رفتاری کو روکنے کے لیے اسپیڈ کیمرے لگائے جائیں اور ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ آئندہ ایسے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

گلگت بلتستان انتخابات: سکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات، پنجاب پولیس کے 5 ہزار اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ

کاشف عباسی ,May 31 ,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز۔ 3١ مئی 2026ء)

گلگت بلتستان میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات کے پُرامن، شفاف اور محفوظ انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے سکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے پنجاب پولیس کے 5 ہزار اہلکاروں پر مشتمل خصوصی نفری گلگت بلتستان بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق انتخابات کے دوران حساس پولنگ اسٹیشنوں، اہم سرکاری تنصیبات اور عوامی اجتماعات کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے پنجاب پولیس کے مختلف شعبوں سے اہلکاروں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اس نفری میں رائٹ مینجمنٹ فورس، پنجاب ہائی وے پٹرول اور پنجاب کانسٹیبلری کے تربیت یافتہ جوان شامل ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق رائٹ مینجمنٹ فورس کے ایک ہزار پانچ سو اہلکار انتخابی سکیورٹی پر مامور ہوں گے جبکہ پنجاب ہائی وے پٹرول کے ایک ہزار نو سو اٹھاون جوان بھی ڈیوٹی سرانجام دیں گے۔ اسی طرح پنجاب کانسٹیبلری کے ایک ہزار دو سو بیالیس اہلکار سکیورٹی پلان کا حصہ ہوں گے، جبکہ لاہور سے تین سو پولیس اہلکار خصوصی طور پر گلگت بلتستان روانہ کیے جائیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل کے دوران امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے، حساس علاقوں کی نگرانی اور ہنگامی حالات میں فوری ردعمل کے لیے جامع سکیورٹی حکمت عملی مرتب کی گئی ہے۔ پولیس کی اضافی نفری مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر فرائض انجام دے گی تاکہ ووٹرز کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔

اس سلسلے میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آپریشنز کی جانب سے سینئر سپرنٹنڈنٹ موٹر ٹرانسپورٹ کو باقاعدہ مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے، جس میں اہلکاروں کی بروقت اور محفوظ منتقلی کے لیے مناسب ٹرانسپورٹ کے انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

حکام کے مطابق تمام اضلاع سے طلب کی گئی نفری کی تفصیلات اور سفری انتظامات کی رپورٹ مرکزی پولیس دفتر کو ارسال کی جا رہی ہے تاکہ سکیورٹی منصوبے پر مؤثر نگرانی اور بروقت عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات کے دوران امن، شفافیت اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے، جس کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔

حج 2026 کی شاندار کامیابی، پاکستان کو بین الاقوامی ’’لبیتم‘‘ ایوارڈ سمیت 4 عالمی اعزازات حاصل

روزینہ اسماعیل.May 31,2026

مکہ مکرمہ (نیوز اینڈ نیوز) 31 مئی 2026ء

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے حج 2026 کے کامیاب انعقاد پر پاکستان کو مسلسل دوسرے سال بین الاقوامی ’’لبیتم امتیازی ایوارڈ‘‘ حاصل ہونے اور نجی حج سکیم کے تحت مزید تین عالمی اعزازات ملنے کا اعلان کیا ہے۔ مکہ مکرمہ میں پاکستان حج مشن کے زیر اہتمام بعد از حج پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہترین انتظامات، جدید سہولیات اور مؤثر نگرانی کے باعث رواں سال شکایات کا تناسب ایک فیصد سے بھی کم رہا، جو کہ ایک تاریخی ریکارڈ ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حج 2026 ہر لحاظ سے کامیاب رہا اور پاکستانی عازمین نے اپنے تمام مناسک بخیر و عافیت ادا کیے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ کامیابی حکومتِ پاکستان، وزارتِ مذہبی امور، پاکستان حج مشن اور سعودی حکام کے باہمی گہرے تعاون کا نتیجہ ہے۔

وزیراعظم کی خصوصی ہدایات اور سفری سہولیات سردار محمد یوسف نے بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایات کے تحت عازمینِ حج کو رہائش، خوراک، ٹرانسپورٹ اور طبی سہولیات کی بہترین فراہمی یقینی بنائی گئی، جس کے نتیجے میں پاکستان کی کارکردگی کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک لاکھ اسی ہزار عازمین کے حج کوٹے کے ساتھ پاکستان دنیا کا دوسرا بڑا حج آپریشن چلانے والا ملک ہے۔ رواں سال ’’روڈ ٹو مکہ‘‘ منصوبے کے دائرہ کار میں توسیع کے بعد تقریباً 80 فیصد پاکستانی عازمین نے اس جدید سہولت سے فائدہ اٹھایا، جس سے سفری مراحل انتہائی آسان اور تیز تر ہو گئے۔

بیمار اور معمر عازمین کے لیے خصوصی اقدامات وفاقی وزیر نے حج طبی مشن اور سعودی جرمن ہسپتال کی خدمات کو بھرپور طریقے سے سراہتے ہوئے بتایا کہ خصوصی انتظامات کے ذریعے 146 شدید بیمار، معمر اور کمزور عازمین کو وقوفِ عرفات، طوافِ زیارت اور دیگر اہم مناسک کی ادائیگی میں سرکاری سطح پر مدد فراہم کی گئی، جو پاکستان حج مشن کی بڑی کامیابی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بعض عناصر کی جانب سے غلط معلومات اور منفی پروپیگنڈا پھیلانے کی کوشش کی گئی، تاہم قومی ذرائع ابلاغ نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حقائق عوام تک پہنچائے۔ انہوں نے زور دیا کہ حج ایک مقدس فریضہ اور قومی ذمہ داری ہے، اسے سیاسی مقاصد یا پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

حج 2027 کی تیاریاں اور نئی پالیسی کا آغاز سردار محمد یوسف نے مستقبل کی حکمت عملی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ سعودی وزارتِ حج کی نئی پالیسی کے مطابق حج 2027 کی تیاریوں کا باقاعدہ آغاز ابھی سے کر دیا گیا ہے۔ آئندہ حج پالیسی رواں سال جون میں وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کی جائے گی جبکہ ’’پہلے آؤ، پہلے پاؤ‘‘ کی پالیسی کو برقرار رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ آئندہ دو ماہ کے اندر حج 2027 کی بکنگ مکمل کر لی جائے گی، اس لیے حج کے خواہشمند افراد فوری طور پر اپنے پاسپورٹ اور دیگر سفری دستاویزات تیار کر لیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حج 2027 میں انتظامات کو ڈیجیٹل اور جدید بنانے کے لیے کئی نئے اقدامات زیر غور ہیں، جن میں عازمین کی سخت طبی جانچ، گروپ ناظمین کی پیشگی تربیت، تربیتی پروگراموں کو ڈویژنل سطح تک وسعت دینا اور مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تک تیز رفتار ٹرین سروس کے استعمال پر پیش رفت شامل ہے۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، سعودی وزیر حج ڈاکٹر توفیق بن فوزان الربیعہ اور سعودی سفیر نواف سعید المالکی کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور قوم سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کی ترقی، استحکام، خوشحالی اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعائیں کریں۔

گوادر پورٹ پر 53 ہزار میٹرک ٹن کارگو کی کامیاب ہینڈلنگ، علاقائی تجارت میں نیا سنگِ میل عبور

منصور احمد ,May 31,2026

گوادر (نیوز اینڈ نیوز۔ 3١ مئی 2026ء)

پاکستان کی تزویراتی اور اقتصادی اہمیت کی حامل گوادر گہرے پانی کی بندرگاہ نے علاقائی اور بین الاقوامی تجارت کے فروغ کی جانب ایک اور تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ گوادر پورٹ پر حالیہ آپریشنز کے دوران مجموعی طور پر 53 ہزار 277 میٹرک ٹن سے زائد مختلف نوعیت کے کارگو کی کامیاب ہینڈلنگ مکمل کر لی گئی ہے، جو بندرگاہ کی روز بروز بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں اور جدید آپریشنل صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔

تفصیلات کے مطابق، دوست ملک چین سے آنے والے ایک بڑے تجارتی بحری جہاز “ایم وی بی جیا شان” کو انتہائی کامیابی اور مہارت کے ساتھ گوادر پورٹ پر لنگر انداز کیا گیا۔ اس جہاز پر موجود تقریباً 20 ہزار 669 میٹرک ٹن وزنی اسٹیل بلٹس کو جدید ترین کرینوں اور لائفٹ سسٹم کے ذریعے محفوظ اور مؤثر انداز میں اتارا گیا۔ بندرگاہی حکام اور چائنا اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی کے مطابق، تمام آپریشنز کو بین الاقوامی بحری قوانین اور مقررہ معیارات کے مطابق وقت پر مکمل کیا گیا۔

اسی دوران، گوادر پورٹ کی ٹرانس شپمنٹ صلاحیتوں کا مظاہرہ اس وقت دیکھنے کو ملا جب سلطنت عمان کی مشہور بندرگاہ “صحار” جانے والے ایک اور بحری جہاز کو ٹرانس شپمنٹ آپریشنز کے لیے گوادر منتقل کیا گیا۔ اس کامیاب آپریشن سے گوادر پورٹ کی خلیج فارس اور بحیرہ عرب کے خطے میں ابھرتی ہوئی تجارتی اور لاجسٹک حیثیت مزید مستحکم ہو گئی ہے۔

بندرگاہ کے تزویراتی امور کے ماہرین کے مطابق، 12 اعشاریہ 8 میٹر ڈرافٹ کے حامل اتنے بڑے بحری جہاز کی محفوظ برتھنگ اس بات کا عملی مظہر ہے کہ گوادر پورٹ دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ گوادر پورٹ اب نہ صرف پاکستان بلکہ وسطی ایشیائی ریاستوں اور پورے خطے کے لیے ایک اہم ترین اور سستا تجارتی مرکز بن کر ابھر رہی ہے۔ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کے تحت گوادر پورٹ کو جو مرکزی حیثیت حاصل ہے، یہ تجارتی سرگرمیاں اسی وژن کو سچ ثابت کر رہی ہیں۔

بندرگاہی حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ گوادر پورٹ کو عالمی معیار کی اسمارٹ پورٹ بنانے کے لیے انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل سسٹم میں مزید سرمایہ کاری کی جا رہی ہے تاکہ علاقائی اور عالمی تجارتی ضروریات کو تیز ترین وقت میں پورا کیا جا سکے۔ کارگو ہینڈلنگ میں یہ حالیہ ریکارڈ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ گوادر آنے والے دنوں میں عالمی بحری تجارت، ٹرانزٹ روٹس اور علاقائی اقتصادی روابط کا سب سے بڑا مرکز بننے جا رہا ہے۔

سگی بیٹی سے زیادتی کے الزام میں گرفتار ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک، گوجرانوالہ میں سنسنی

منصور احمد ,May 30,2026

گوجرانوالہ (نیوز اینڈ نیوز) – 30 مئی 2026ء
گوجرانوالہ کے علاقے لدھیوالہ وڑائچ میں سگی بیٹی سے مبینہ جنسی زیادتی کے سنگین مقدمے میں گرفتار مرکزی ملزم پولیس مقابلے کے دوران ہلاک ہو گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم کو تفتیش اور واقعے سے متعلق برآمدگی کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ راستے میں نامعلوم مسلح افراد نے اسے چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اچانک ہونے والی فائرنگ کے بعد اہلکاروں نے اپنی جانوں کے تحفظ اور ملزم کو فرار ہونے سے روکنے کے لیے جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران مرکزی ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گیا اور موقع پر ہی دم توڑ گیا، جبکہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والا ملزم اپنی 13 سالہ سگی بیٹی کے ساتھ مبینہ زیادتی کے مقدمے میں گرفتار تھا۔ واقعے نے علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی اور شہری ملزم کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات بھی جاری ہیں۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ مقدمے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

ترجمان پولیس کے مطابق بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم ناقابلِ برداشت ہیں اور ایسے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندان کو قانونی اور دیگر ضروری معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کے خلاف جنسی جرائم معاشرے کے لیے انتہائی سنگین خطرہ ہیں اور ان کے خاتمے کے لیے والدین، تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ ایسے جرائم یا مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔

ایران کا ٹرمپ پر سخت ردعمل، مذاکراتی عمل پر اعتماد متزلزل، آبنائے ہرمز پر مؤقف مزید واضح

کاشف عباسی ,May 30 ,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز۔ 30 مئی 2026ء)

— ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ سفارتی عمل میں مسلسل رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں اور تیسری مرتبہ مذاکراتی اعتماد کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے سامنے آنے والے غیر معمولی مطالبات نے ثابت کر دیا ہے کہ واشنگٹن کا مقصد صرف مذاکرات نہیں بلکہ دیگر سیاسی اور تزویراتی اہداف کا حصول بھی ہے۔

محسن رضائی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران ہمیشہ باعزت اور منصفانہ مذاکرات کا حامی رہا ہے، تاہم کسی بھی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کیا جائے گا جو ایرانی مفادات، خودمختاری اور قومی سلامتی کے خلاف ہو۔ ان کے مطابق حالیہ امریکی بیانات اور شرائط نے مذاکراتی فضا کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے مزید 24 بحری جہاز محفوظ طریقے سے گزرے ہیں اور تمام جہاز ایرانی نگرانی اور سکیورٹی انتظامات کے تحت اپنی منزلوں کی جانب روانہ ہوئے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا مؤثر کنٹرول برقرار ہے اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کا فیصلہ کن جواب دینے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔

ایران اور عمان کا آبنائے ہرمز پر مشاورت بڑھانے پر اتفاق

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عمان کے وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطے میں علاقائی صورتحال، جنگ بندی کی کوششوں اور آبنائے ہرمز کی سکیورٹی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز سے متعلق خودمختار اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق پالیسی سازی پر تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

عباس عراقچی نے کہا کہ ایران خطے کے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ مشاورت اور تعاون کا خیرمقدم کرتا ہے اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے تمام فیصلے بین الاقوامی قوانین اور علاقائی استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔ انہوں نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی بھی مذمت کی اور اسلامی تعاون تنظیم سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے پر غیر یقینی صورتحال برقرار

ادھر امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق واشنگٹن کو اب بھی امید ہے کہ ایران کے ساتھ کسی مفاہمتی معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے، تاہم متعدد اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔ ذرائع کے مطابق قطر میں منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ مذاکرات میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ بن چکا ہے۔

ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران اپنے منجمد اثاثوں میں سے 12 ارب ڈالر کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کر رہا ہے اور اس پیش رفت کے بغیر مذاکرات کے اگلے مرحلے میں جانے پر آمادہ نہیں۔ دوسری طرف امریکی حکام ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں سکیورٹی سے متعلق اپنی شرائط پر زور دے رہے ہیں۔

خطے میں کشیدگی برقرار، سفارتی کوششیں جاری

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ امریکہ ضرورت پڑنے پر خطے میں کارروائی کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ امریکی مرکزی کمان نے بھی اپنی افواج کی مکمل تیاری کی تصدیق کی ہے۔ اس کے برعکس ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا اور دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز، منجمد ایرانی اثاثوں اور جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کے باعث مذاکراتی عمل بدستور نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ خطے میں حالیہ فوجی کشیدگی نے سفارتی کوششوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے

بجٹ 2026-27: سولر پینلز، برقی اور ہائبرڈ گاڑیوں پر مجوزہ ٹیکسوں سے مہنگائی کا نیا خدشہ

کاشف عباسی ,May 30 ,2026

اسلام آباد: (نیوز اینڈ نیوز۔ 30 مئی 2026ء)

آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی تیاریوں کے دوران مختلف شعبوں پر نئے ٹیکسوں کی تجاویز زیر غور ہیں، جن کے باعث سولر پینلز، برقی گاڑیوں اور ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے پر زور دیے جانے کے بعد حکومت مختلف شعبوں میں ٹیکس شرحوں پر نظرثانی کر رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق بجٹ تجاویز میں ماحول دوست ٹیکنالوجی اور متبادل توانائی کے شعبے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ مجوزہ منصوبے کے تحت برقی گاڑیوں پر عائد کم شرح کے ٹیکس میں اضافہ جبکہ ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ ٹیکس شرح کو مزید بڑھانے کی تجویز زیر غور ہے۔ اگر ان تجاویز کی منظوری دی گئی تو برقی کاروں، موٹر سائیکلوں، رکشوں، بسوں، ٹرکوں اور دیگر گاڑیوں کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔

اسی طرح سولر پینلز پر بھی ٹیکس کی شرح بڑھانے کی تجویز سامنے آئی ہے، جس سے متبادل توانائی کے منصوبوں کی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ملک میں بڑھتی ہوئی گرمی، بجلی کی بلند قیمتوں اور لوڈ مینجمنٹ کے مسائل کے باعث بڑی تعداد میں شہری شمسی توانائی کی جانب راغب ہو رہے ہیں، تاہم نئے ٹیکس نافذ ہونے کی صورت میں سولر نظام کی تنصیب مزید مہنگی ہو جائے گی۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت محصولات میں اضافے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، تاہم ماحول دوست توانائی اور جدید ٹرانسپورٹ کے شعبوں پر اضافی بوجھ سے ان شعبوں کی ترقی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ برقی اور ہائبرڈ گاڑیوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ شمسی توانائی کی حوصلہ افزائی ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور توانائی کے بحران سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق بجٹ کی حتمی منظوری اور ٹیکس شرحوں کا اعلان وفاقی بجٹ پیش کیے جانے کے بعد ہی سامنے آئے گا، تاہم مجوزہ اقدامات نے عوام اور کاروباری حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی ریلیف اور محصولات کے اہداف کے درمیان توازن برقرار رکھنا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

امریکا۔ایران معاہدہ قریب، منجمد فنڈز اور جوہری تنازع اہم رکاوٹ بن گئے: نیویارک پوسٹ

محمود احمد May30,2026

(نیوز اینڈ نیوز۔ 30 مئی 2026ء):واشنگٹن

امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمتی معاہدے کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے، تاہم چند اہم اور حساس معاملات پر مذاکرات ابھی بھی جاری ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم ان کی انتظامیہ کو امید ہے کہ جاری سفارتی کوششیں مثبت نتائج کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں اعلیٰ سطحی مشاورت کے باوجود بعض بنیادی نکات پر اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکا۔

رپورٹس کے مطابق قطر میں منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ معاہدے میں تاخیر کی سب سے بڑی وجہ بن گیا ہے۔ ایران اپنے منجمد مالی اثاثوں کی فوری واپسی کا مطالبہ کر رہا ہے جبکہ امریکی حکام اس معاملے پر محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق تہران نے 12 ارب ڈالر کی فوری ادائیگی کو مذاکرات کی اہم شرط قرار دیا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں آزاد بحری آمدورفت اور خطے میں استحکام کو بھی کسی بھی ممکنہ معاہدے کا اہم حصہ قرار دیا۔

ادھر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکا ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی افواج خطے میں ہر ممکن ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

امریکی مرکزی کمان نے بھی تصدیق کی ہے کہ خطے میں تعینات امریکی فوجی دستے مکمل الرٹ ہیں اور کسی بھی ممکنہ پیش رفت پر فوری ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

دوسری جانب ایران نے امریکی بیانات پر محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کسی حتمی معاہدے پر اتفاق نہیں ہوا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے لیکن مذاکرات ابھی فیصلہ کن مرحلے میں داخل نہیں ہوئے۔

ایرانی ذرائع کے مطابق جنگ کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں، تاہم جوہری پروگرام، منجمد اثاثوں اور بعض سکیورٹی معاملات پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔

سیاسی و سفارتی مبصرین کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ تاہم موجودہ اختلافات کو دیکھتے ہوئے مذاکرات کا عمل ابھی مزید وقت لے سکتا ہے۔

مریم نواز کا ستھرا پنجاب کے کارکنوں کیلئے بڑا اعزاز، فی کارکن 10 ہزار روپے انعام کا اعلان

محمود احمد May30,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز۔ 30 مئی 2026ء)

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے عیدالاضحیٰ کے دوران شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ستھرا پنجاب پروگرام کے کارکنوں کے لیے فی کس 10 ہزار روپے انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔

اپنے بیان میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب بھر میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر صفائی کا خصوصی آپریشن کامیابی سے مکمل کیا گیا، جس کے دوران ستھرا پنجاب کے کارکنوں نے دن رات محنت کرتے ہوئے قربانی کے جانوروں کی 3 لاکھ 60 ہزار ٹن سے زائد آلائشیں محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگائیں۔

انہوں نے بتایا کہ صوبہ بھر میں جاری صفائی مہم میں ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد کارکنوں نے حصہ لیا جبکہ 60 ہزار گاڑیاں اور مشینری آپریشن میں مصروف رہیں۔ قربانی کی آلائشیں اٹھانے والی گاڑیوں نے مجموعی طور پر 60 لاکھ کلومیٹر سے زائد فاصلہ طے کیا۔

وزیر اطلاعات کے مطابق لاہور سے اٹک، ملتان، رحیم یار خان اور صادق آباد سمیت پنجاب کے تمام بڑے اور چھوٹے شہروں میں بلا تعطل صفائی آپریشن جاری رکھا گیا۔ شہریوں کو تعفن اور ماحولیاتی آلودگی سے محفوظ رکھنے کے لیے عرقِ گلاب، فینائل اور چونے کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا گیا جبکہ پنجاب کی چار ہزار سے زائد سڑکوں کو عرقِ گلاب سے دھویا گیا۔

عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صفائی آپریشن کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کی اور بہترین کارکردگی پر ستھرا پنجاب کے کارکنوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے خصوصی نقد انعامات کا اعلان کیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ستھرا پنجاب کی ٹیموں نے عید کے موقع پر 60 ہزار سے زائد مساجد، امام بارگاہوں اور عید گاہوں کی صفائی بھی یقینی بنائی، جبکہ ہیلپ لائن پر موصول ہونے والی تمام شکایات کا بروقت ازالہ کیا گیا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ صفائی آپریشن کی کامیابی پر پنجاب کے شہریوں نے بھی اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا ہے، جبکہ حکومت صوبے کو صاف، سرسبز اور صحت مند بنانے کے مشن پر پوری سنجیدگی سے عمل پیرا ہے۔

نیشنل بینک نے بڑی عالمی کرنسیوں کی نئی شرحِ تبادلہ جاری کر دی

کاشف عباسی ,May 30 ,2026

اسلام آباد: (نیوز اینڈ نیوز۔ 30 مئی 2026ء)

نیشنل بینک آف پاکستان نے ہفتہ کے روز مختلف عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی نئی شرحِ تبادلہ جاری کر دی ہے۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی ڈالر، برطانوی پاؤنڈ، یورو، سعودی ریال، اماراتی درہم اور جاپانی ین سمیت اہم غیر ملکی کرنسیوں کی خرید و فروخت کی قیمتوں کا اعلان کیا گیا ہے۔

نیشنل بینک آف پاکستان کے مطابق امریکی ڈالر کی قیمتِ خرید 277.29 روپے جبکہ قیمتِ فروخت 280.29 روپے مقرر کی گئی ہے۔

برطانوی پاؤنڈ کی قیمتِ خرید 373.27 روپے اور قیمتِ فروخت 377.74 روپے ریکارڈ کی گئی، جبکہ یورو کی قیمتِ خرید 322.34 روپے اور قیمتِ فروخت 326.17 روپے رہی۔

اسی طرح جاپانی ین کی قیمتِ خرید 1.7433 روپے جبکہ قیمتِ فروخت 1.7640 روپے مقرر کی گئی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے درہم کی قیمتِ خرید 73.82 روپے اور قیمتِ فروخت 74.70 روپے رہی، جبکہ سعودی ریال کی قیمتِ خرید 75.93 روپے اور قیمتِ فروخت 76.32 روپے ریکارڈ کی گئی۔

مالیاتی ماہرین کے مطابق عالمی منڈیوں میں کرنسیوں کی قدر میں اتار چڑھاؤ، بین الاقوامی معاشی حالات اور مقامی اقتصادی عوامل شرحِ تبادلہ پر اثرانداز ہوتے ہیں، جس کے باعث کرنسیوں کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی دیکھنے میں آتی ہے۔

اہم کرنسیوں کی شرحِ تبادلہ

کرنسیقیمتِ خریدقیمتِ فروخت
امریکی ڈالر277.29 روپے280.29 روپے
برطانوی پاؤنڈ373.27 روپے377.74 روپے
یورو322.34 روپے326.17 روپے
سعودی ریال75.93 روپے76.32 روپے
اماراتی درہم73.82 روپے74.70 روپے
جاپانی ین1.7433 روپے1.7640 روپے

نیشنل بینک کی جانب سے جاری کردہ یہ نرخ بین الاقوامی مالیاتی رجحانات اور ملکی زرِمبادلہ مارکیٹ کی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں

“ایشیا ہاکی کپ: پاکستان کا شاندار آغاز، چین کو 3-0 سے زیر کر لیا”

کاشف عباسی ,May 30 ,2026

کاکامیگاہارا (جاپان) (نیوز اینڈ نیوز۔ 30 مئی 2026ء)

انڈر 18 ایشیا ہاکی کپ 2026 میں پاکستان نے اپنے پہلے مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چین کو صفر کے مقابلے میں 3 گول سے شکست دے کر چیمپئن شپ کا فاتحانہ آغاز کر دیا۔

ایشیائی ہاکی فیڈریشن کے زیر اہتمام جاپان کے شہر کاکامیگاہارا میں جاری چیمپئن شپ میں قومی نوجوان کھلاڑیوں نے آغاز ہی سے جارحانہ کھیل پیش کیا اور پورے مقابلے کے دوران چینی ٹیم پر دباؤ برقرار رکھا۔

پاکستان کی جانب سے پہلا گول مقابلے کے چھٹے منٹ میں عثمان نے اسکور کیا، جس کے بعد گیارہویں منٹ میں عدیل نے دوسرا گول کرکے برتری کو مزید مستحکم بنا دیا۔ قومی ٹیم نے عمدہ دفاعی اور جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے حریف ٹیم کو واپسی کا کوئی موقع نہ دیا۔

مقابلے کے چھپن ویں منٹ میں یاسین نے تیسرا گول اسکور کرکے پاکستان کی فتح پر مہر ثبت کر دی۔ پاکستانی کھلاڑی اسنان کو شاندار کھیل پیش کرنے پر مقابلے کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اس کامیابی کے بعد قومی ٹیم اپنے اگلے مقابلے میں 31 مئی کو ملائیشیا کا سامنا کرے گی، جبکہ تیسرا میچ 3 جون کو بنگلہ دیش کے خلاف کھیلا جائے گا۔ دونوں مقابلے مقامی وقت کے مطابق سہ پہر تین بجے شروع ہوں گے۔

چیمپئن شپ کے ابتدائی مرحلے کے مقابلے یکم جون تک جاری رہیں گے، جس کے بعد آخری چار ٹیموں کے مرحلے اور درجہ بندی کے میچز کا آغاز ہوگا۔ آخری چار ٹیموں کے مقابلے 5 جون جبکہ فائنل اور تیسری پوزیشن کا مقابلہ 6 جون کو کھیلا جائے گا۔

پاکستانی شائقین ہاکی نے قومی نوجوان ٹیم کی شاندار فتح پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ گرین شرٹس پورے ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی کا سلسلہ برقرار رکھیں گے۔

“پاک آسٹریلیا ون ڈے: راولپنڈی اسٹیڈیم کے گرد سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات، 4,500 اہلکار تعینات”

منصور احمد ,May 30,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز۔ 30 مئی 2026ء)

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان سیریز کے پہلے ایک روزہ بین الاقوامی میچ کے موقع پر راولپنڈی پولیس نے سکیورٹی اور ٹریفک کے خصوصی اور جامع انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔ شائقین کرکٹ، کھلاڑیوں اور آفیشلز کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے شہر بھر میں ہائی الرٹ سکیورٹی پلان نافذ کر دیا گیا ہے۔

سی پی او راولپنڈی سید خالد محمود ہمدانی۔ کی ہدایت پر راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم اور اس کے اطراف فول پروف سکیورٹی حصار میں تبدیل کر دیے گئے ہیں۔ میچ کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے راولپنڈی پولیس کے 4 ہزار 500 سے زائد افسران اور اہلکار مختلف مقامات پر فرائض انجام دے رہے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق سینئر افسران خود فیلڈ میں موجود رہ کر سکیورٹی انتظامات کی نگرانی کر رہے ہیں اور ڈیوٹی پر تعینات اہلکاروں کو مسلسل بریفنگ دی جا رہی ہے۔ اسٹیڈیم کے اطراف موجود اہم عمارتوں پر روف ٹاپ سنائپرز بھی تعینات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔

سکیورٹی صورتحال کی نگرانی کے لیے جدید سیف سٹی کیمروں اور دیگر سی سی ٹی وی نظام کو فعال کر دیا گیا ہے جبکہ ایک خصوصی کنٹرول روم بھی قائم کیا گیا ہے جہاں سے تمام سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ متعلقہ تھانوں کی موبائل گاڑیاں، ایلیٹ فورس اور ڈولفن فورس کے دستے اسٹیڈیم اور گرد و نواح میں مسلسل گشت کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل دیا جا سکے۔

شائقین کرکٹ کی سہولت کے لیے خصوصی ٹریفک پلان بھی نافذ کیا گیا ہے جس کے تحت مختلف شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے اور پارکنگ کے مناسب انتظامات یقینی بنائے گئے ہیں۔ پولیس نے شہریوں اور شائقین سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹریفک پلان اور سکیورٹی ہدایات پر عمل کریں تاکہ میچ کے دوران کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

سی پی او سید خالد محمود ہمدانی کا کہنا ہے کہ پاک آسٹریلیا سیریز کے پہلے ون ڈے میچ کے لیے تمام سکیورٹی انتظامات بین الاقوامی معیار کے مطابق کیے گئے ہیں اور کھلاڑیوں، آفیشلز اور شائقین کو محفوظ ماحول فراہم کرنا راولپنڈی پولیس کی اولین ترجیح ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کے مطابق راولپنڈی میں کرکٹ کے اس بڑے مقابلے کے لیے سکیورٹی ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں جبکہ شائقین کرکٹ ایک محفوظ اور پرجوش ماحول میں میچ سے لطف اندوز ہوں گے۔

پاکستانی نژاد حمزہ شیراز نے تاریخ رقم کر دی، عالمی باکسنگ چیمپئن کا اعزاز اپنے نام کر لیا

منصور احمد ,May 30,2026

لندن/برلن (نیوز اینڈ نیوز۔ ٣٠ مئی 2026ء)

لندن/برلن: کھیلوں کی دنیا میں ایک بار پھر پاکستان کا نام روشن ہو گیا۔ پاکستانی نژاد برطانوی باکسر حمزہ شیراز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی باکسنگ چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ حمزہ شیراز نے جرمنی کے حریف باکسر ایلم بیگچ کو دوسرے راؤنڈ میں ناک آؤٹ کر کے ڈبلیو بی او سپر مڈل ویٹ عالمی ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔

26 سالہ حمزہ شیراز نے فائٹ کے آغاز سے ہی جارحانہ انداز اپنایا اور مسلسل درست و طاقتور پنچز کے ذریعے اپنے جرمن حریف کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ مقابلے کے دوسرے راؤنڈ میں حمزہ شیراز کے خطرناک لیفٹ ہک نے ایلم بیگچ کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے بعد وہ سنبھل نہ سکے اور ریفری نے مقابلہ فوری طور پر روک کر حمزہ شیراز کو فاتح قرار دے دیا۔

اس تاریخی کامیابی کے ساتھ حمزہ شیراز نے ریٹائر ہونے والے عالمی شہرت یافتہ باکسر ٹیرنس کرافورڈ کی خالی کردہ ڈبلیو بی او سپر مڈل ویٹ چیمپئن شپ بیلٹ جیت لی اور اپنے کیریئر کا سب سے بڑا اعزاز حاصل کیا۔

کامیابی کے بعد جذباتی منظر بھی دیکھنے میں آیا جب حمزہ شیراز نے رنگ میں سجدۂ شکر ادا کیا اور اپنی ٹیم کے ہمراہ تاریخی فتح کا جشن منایا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی چیمپئن بننا ان کے کیریئر کا ایک اہم سنگ میل ہے اور اب وہ 168 پاؤنڈ کیٹیگری کے تمام بڑے عالمی باکسرز کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

حمزہ شیراز اس سے قبل بھی بین الاقوامی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کر چکے ہیں۔ ستمبر 2024 میں انہوں نے ٹائلر ڈینی کو شکست دے کر یورپی مڈل ویٹ ٹائٹل اپنے نام کیا تھا، جبکہ اب عالمی چیمپئن بن کر انہوں نے اپنے کیریئر کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔

حمزہ شیراز کی اس شاندار کامیابی پر پاکستان اور برطانیہ سمیت دنیا بھر میں موجود پاکستانی کمیونٹی نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے انہیں مبارکباد دیتے ہوئے اس کامیابی کو پاکستان کے لیے باعثِ فخر قرار دیا ہے۔ کھیلوں کے حلقوں کا کہنا ہے کہ حمزہ شیراز کی یہ تاریخی فتح نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک نئی امید اور تحریک بنے گی۔

نیوز اینڈ نیوز کے مطابق عالمی باکسنگ چیمپئن بننے والے حمزہ شیراز نے نہ صرف اپنے خاندان اور مداحوں کا سر فخر سے بلند کیا بلکہ دنیا بھر میں پاکستانی قوم کا نام بھی روشن کر دیا ہے۔

عید پر عوام کیلئے بڑا تحفہ: پٹرول اور ڈیزل 22، 22 روپے سستا کرنے کا اعلان

کاشف عباسی ,May 29 ,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز۔ 29 مئی 2026ء)

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے عید کے تیسرے روز عوام کے لیے اہم ریلیف پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی منظوری دی۔ حکومت کے اس فیصلے سے لاکھوں گاڑی مالکان، موٹر سائیکل سواروں، ٹرانسپورٹ سیکٹر اور عام صارفین کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ جیسے ہی مالی گنجائش پیدا ہوگی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرکے اس کا فائدہ براہ راست عوام تک پہنچایا جائے گا۔ آج حکومت نے اپنے اسی وعدے پر مکمل عمل کرتے ہوئے عوام کو عید کا تحفہ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف دینا حکومت کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے اور یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ہفتے بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی گئی تھی۔ حکومت مستقبل میں بھی عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے اقدامات جاری رکھے گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے مشکل معاشی حالات کے باوجود عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی پالیسی برقرار رکھی۔ پبلک ٹرانسپورٹ، مال بردار گاڑیوں، موٹر سائیکل اور رکشہ استعمال کرنے والے شہریوں کے لیے ایندھن پر خصوصی سبسڈی بھی فراہم کی گئی تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں تیل کے بحران کے دوران عوام کو ایندھن کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم پاکستان میں بروقت حکومتی اقدامات کے باعث پٹرول اور ڈیزل کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی گئی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باوجود حکومت نے عوام پر اضافی بوجھ منتقل کرنے کے بجائے 130 روپے فی لیٹر سے زائد سبسڈی برداشت کی اور قیمتوں کو کنٹرول میں رکھا۔

حکومت کے اس تازہ فیصلے کو عوامی ریلیف کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ اشیائے ضروریہ کی ترسیل پر پڑنے والے اخراجات بھی کم ہونے کی توقع ہے، جس کا مثبت اثر عام صارفین تک پہنچ سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ کمی کو عیدالاضحیٰ کے موقع پر عوام کے لیے ایک اہم معاشی ریلیف قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ حکومت نے آئندہ بھی عوامی سہولت کے لیے ایسے اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کی لازوال خدمات، سفیر عاصم افتخار کا عالمی امن کے لیے عزم کا اعادہ

محمود احمد May29,2026

نیویارک/ اقوامِ متحدہ(نیوز اینڈ نیوز۔ 29 مئی 2026ء)

اقوامِ متحدہ کے امن کاروں کے عالمی دن کے موقع پر اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی امن، سلامتی اور استحکام کے قیام کے لیے اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں اپنی تاریخی اور نمایاں خدمات جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔

29 مئی کو جاری اپنے خصوصی پیغام میں سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر نیلے پرچم تلے خدمات انجام دینے والے تمام امن کاروں کی جرات، پیشہ ورانہ مہارت، لگن اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف تنازعات زدہ اور غیر مستحکم خطوں میں امن کے قیام کے لیے خدمات انجام دینے والے امن کار انسانیت کے حقیقی سفیر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں شرکت صرف ایک ذمہ داری نہیں بلکہ بین الاقوامی امن و سلامتی کے فروغ اور کثیرالجہتی تعاون سے وابستگی کا عملی اظہار ہے۔ پاکستان سن 1960 سے اب تک دنیا بھر میں اقوامِ متحدہ کے مختلف امن مشنز میں 2 لاکھ 70 ہزار سے زائد فوجی اور سویلین امن کار بھیج چکا ہے، جنہوں نے انتہائی مشکل اور خطرناک حالات میں اپنے فرائض انجام دیے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے ان 183 پاکستانی امن کاروں کو بھی زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ عظیم قربانیاں پاکستان کے عالمی امن کے لیے غیر متزلزل عزم کی روشن مثال ہیں اور پوری قوم اپنے شہداء پر فخر کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز دنیا میں امن قائم رکھنے کے لیے عالمی برادری کے پاس موجود سب سے مؤثر، عملی اور نسبتاً کم لاگت ذرائع میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ مشنز شہریوں کے تحفظ، جنگ بندی کی نگرانی، تشدد کی روک تھام، سیاسی عمل کی معاونت، انسانی امداد کی فراہمی اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

پاکستانی مندوب نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ دنیا کے مختلف حصوں میں امن کاروں کو بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اقوامِ متحدہ کے امن کاروں پر حملے ناقابلِ قبول ہیں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ایسے اقدامات جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ امن کاروں کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر کا احتساب یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن اور امن مشنز کے لیے بڑے فوجی دستے فراہم کرنے والے ملک کی حیثیت سے پاکستان امن کارروائیوں کو مزید مؤثر، محفوظ اور مستحکم بنانے کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان امن کاروں کی حفاظت، احتساب، بہتر کارکردگی اور پائیدار مالی معاونت کے حوالے سے جاری عالمی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے امن مشنز کے مستقبل اور ان کی افادیت کے جائزے کے عمل کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات کے تناظر میں امن کارروائیوں کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔

اپنے پیغام کے اختتام پر سفیر عاصم افتخار احمد نے دنیا بھر میں خدمات انجام دینے والے تمام امن کاروں کو سلام پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان عالمی امن، استحکام اور اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کے فروغ کے لیے اپنی تاریخی ذمہ داریاں مستقبل میں بھی پوری کرتا رہے گا۔

عید تعطیلات میں مری میں فوڈ اتھارٹی کا بڑا ایکشن، 98 فوڈ پوائنٹس کی چیکنگ، جرمانے اور دکانیں سیل

کاشف عباسی ,May 29 ,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز۔ 29 مئی 2026ء)

عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران مری میں سیاحوں کے غیر معمولی رش کے پیش نظر پنجاب فوڈ اتھارٹی نے سیاحتی مقامات پر خوراک کے معیار اور صفائی کی صورتحال چیک کرنے کیلئے خصوصی آپریشن کرتے ہوئے 98 فوڈ پوائنٹس کی تفصیلی انسپکشن کی، جبکہ متعدد ہوٹلوں اور فوڈ پوائنٹس کے خلاف سخت کارروائی بھی عمل میں لائی گئی۔

ترجمان پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مطابق مری، نیو مری، پتریاٹہ، مال روڈ اور مری ایکسپریس وے سمیت مختلف اہم سیاحتی علاقوں میں خصوصی مانیٹرنگ ٹیموں نے کارروائیاں کیں۔ معائنوں کے دوران صفائی کے ناقص انتظامات، غیر معیاری خوراک، زائد المعیاد اشیاء کے استعمال اور حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزیوں پر 11 فوڈ پوائنٹس کو مجموعی طور پر ایک لاکھ 53 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

حکام کے مطابق انتہائی ناقص صفائی اور غیر تسلی بخش صورتحال پر 2 فوڈ پوائنٹس کو عارضی طور پر بند بھی کر دیا گیا، جبکہ بڑی مقدار میں ایکسپائرڈ کولڈ ڈرنکس، مضر صحت مصالحہ جات اور دیگر غیر معیاری اشیائے خورونوش تلف کر دی گئیں تاکہ سیاحوں کی صحت کو ہر ممکن تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ عید کی تعطیلات میں مری آنے والے سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافے کے باعث خصوصی انسپکشن ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو مختلف علاقوں میں مسلسل نگرانی اور چیکنگ کر رہی ہیں تاکہ عوام کو معیاری اور محفوظ خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

اتھارٹی حکام نے فوڈ بزنس مالکان کو سختی سے ہدایت جاری کی ہے کہ وہ صفائی، معیاری خوراک اور حفظان صحت کے اصولوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں، بصورت دیگر قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

ترجمان نے شہریوں اور سیاحوں سے اپیل کی کہ اگر کہیں ناقص خوراک، گندگی یا غیر معیاری اشیاء فروخت ہوتی نظر آئیں تو فوری طور پر پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ہیلپ لائن 1223 پر شکایت درج کروائیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔

اسرائیل اور لبنان کے درمیان اہم مذاکرات آج واشنگٹن میں، جنگ بندی اور سرحدی کشیدگی پر بڑی پیش رفت متوقع

محمود احمد May29,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز۔ 29 مئی 2026ء)

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنوبی لبنان میں مسلسل اسرائیلی حملوں کے تناظر میں اسرائیلی اور لبنانی فوجی حکام کے درمیان آج واشنگٹن میں انتہائی اہم مذاکرات ہونے جا رہے ہیں، جنہیں خطے میں ممکنہ امن اور جنگ بندی کے لیے ایک بڑی سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق لبنانی اور اسرائیلی فوجی حکام امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں مذاکرات کے پہلے باضابطہ دور میں شرکت کریں گے، جہاں سرحدی کشیدگی، جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد، جنوبی لبنان کی صورتحال اور خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔

رپورٹس کے مطابق یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب اپریل کے وسط میں لبنان اور اسرائیل نے جنگ بندی میں توسیع پر رضامندی ظاہر کی تھی، تاہم اس کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور فضائی حملوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے باعث خطے میں ایک بار پھر شدید بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔

لبنانی وزیر اعظم نواف سلام نے اسرائیلی حملوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی لبنان پر جاری اسرائیلی حملوں کا کوئی جواز موجود نہیں، لبنان اپنی سرزمین کے مکمل تحفظ اور اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کے لیے ہر ممکن سفارتی اور سیاسی کوشش جاری رکھے گا۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں واضح کیا کہ لبنانی حکومت کا بنیادی مقصد اپنی تمام سرزمین پر ریاستی رٹ کو مضبوط بنانا اور خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل فوجی کارروائیاں نہ صرف جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہیں بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق واشنگٹن مذاکرات کو امریکا کی ایک اہم سفارتی کوشش سمجھا جا رہا ہے، جس کے ذریعے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے اور لبنان اسرائیل سرحد پر ممکنہ بڑے تصادم کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی حکام کی جانب سے تاحال مذاکرات کے ایجنڈے کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مذاکرات میں سرحدی سکیورٹی، جنگ بندی کی نگرانی، حزب اللہ کی سرگرمیوں اور علاقائی استحکام جیسے اہم معاملات زیر بحث آئیں گے۔

بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب رہے تو یہ نہ صرف لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں امن کی نئی راہیں بھی کھول سکتے ہیں۔