فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اسلام آباد زون کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل نے برازیل سے ڈیپورٹ ہو کر پاکستان پہنچنے والے مسافر کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کر لیا ہے۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ڈیپورٹ ہونے والے مسافر علی رضا ولد محمد عارف کے خلاف پاسپورٹ ایکٹ 1974ء کی دفعات 3 اور 4 کے تحت پرچہ درج کیا گیا ہے۔ ملزم 9 اگست 2026ء کو غیر ملکی ایئر لائن کی فلائٹ کے ذریعے اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچا تھا، جس کی ڈیپورٹیشن دستاویزات میں وجہ ‘لو پروفائل ایسائلم سیکر’ درج تھی۔ مربوط نظام کے ریکارڈ سے پتہ چلا کہ ملزم روانہ 17 مئی 2026ء کو لاہور ایئرپورٹ سے وزٹ ویزے پر انڈونیشیا گیا تھا۔
ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے انکشاف کیا کہ اس نے انڈونیشیا سے سعودی عرب اور پھر وہاں سے میکسیکو کا ویزا حاصل کیا، جس کے بعد وہ برازیل پہنچا اور ایک دن کے ٹرانزٹ قیام کی بجائے وہاں غیر قانونی طور پر مقررہ مدت سے زائد مقیم رہا۔ قانون شکنی پر برازیلی حکام نے اسے حراست میں لے کر ایمرجنسی پاسپورٹ پر واپس ڈیپورٹ کر دیا۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزم کے پاسپورٹ پر چسپاں میکسیکو کا ویزا بھی مکمل طور پر مشکوک اور جعلی پایا گیا ہے۔
ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل نے ملزم کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے، جبکہ اس انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک اور جعلی دستاویزات کی تیاری میں ملوث ایجنٹوں کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔
قونصلیٹ جنرل آف پاکستان سڈنی میں مالی سال 2025-26ء کے دوران آسٹریلیا سے پاکستان کو 1 ارب امریکی ڈالر سے زائد (1.14 ارب ڈالر) کی ریکارڈ ترسیلاتِ زر کی موصولی کی خوشی میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں آسٹریلیا میں پاکستان کے ہائی کمشنر عرفان شوکت، بینکوں، ایکسچینج کمپنیوں، کاروباری تنظیموں اور پاکستانی برادری کے نمایاں نمائندوں نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر عرفان شوکت نے اس تاریخی کامیابی پر آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی برادری، بینکوں اور ریمیٹنس پرووائیڈرز کے کردار کی بھرپور تعریف کی اور قانونی ذرائع سے پیسے بھیجنے کے عمل کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ تقریب میں بتایا گیا کہ آسٹریلیا سے پاکستان بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے، جو مالی سال 2020-21ء کے 598 ملین ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2025-26ء میں 1.14 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
آسٹریلین ریمیٹنس اینڈ کرنسی پرووائیڈرز ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر منیر محمد، اعزازی ٹیکس ایڈوائزر علی چوہان اور بینک الفلاح کے نمائندے پرویز شہباز نے خطاب کرتے ہوئے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ ، محفوظ ترسیلات اور مالیاتی آگاہی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے نمائندے ارشد ستار اور آسٹریلیا پاکستان یوتھ ایسوسی ایشن کے سرپرستِ اعلیٰ چوہدری شکیب نے بھی پاکستانی معیشت میں اوورسیز پاکستانیوں کے کردار کو سراہا۔
تقریب کے اختتام پر قونصل جنرل قمر زمان نے تمام مہمانوں اور اسٹیک ہولڈرز کا شکریہ ادا کیا، جبکہ اس تاریخی کامیابی کی یاد میں کیک بھی کاٹا گیا۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کے تحت پاکستان اور چین کے درمیان صنعتی، زرعی اور کاروباری تعاون کو وسعت دینے کے لیے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ عوامی جمہوریہ چین کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے اقتصادی امور پریس کے سینئر ایڈوائزر سن ڈونگ شینگ کی قیادت میں سی پیک سیکرٹریٹ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال اور سینیئر پالیسی سازوں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی۔
ملاقات کے دوران وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے چینی وفد کو پاکستان کے قومی اقتصادی ایجنڈے ”اڑان پاکستان“ سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج برآمدات کی کمزور بنیاد ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ چین سالانہ 2.6 ٹریلین ڈالر کی درآمدات کرتا ہے جبکہ اس میں پاکستان کا حصہ صرف 3 ارب ڈالر کے قریب ہے، جسے بڑھانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے میں چین نے پاکستان کو توانائی کے بحران سے نکالا اور اب سی پیک 2.0 کے ذریعے پاکستان اپنے برآمدی خسارے پر قابو پانے کے لیے پرعزم ہے۔
پروفیسر احسن اقبال نے صنعتی انقلاب 4.0 اور 5.0 کے تحت آٹومیشن، روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی میں چینی تجربات سے استفادہ کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے زور دیا کہ سی پیک 2.0 کا اصل محور کاروبار سے کاروبار تعاون ہے، جس کے تحت صنعتی، زرعی اور معدنی شعبوں میں علاقائی و عالمی سطح پر نجی شعبوں کا اشتراکِ عمل ضروری ہے۔
چینی وفد کے سربراہ مسٹر سن ڈونگ شینگ نے پاک چین دوستی کی مضبوطی کا اعادہ کرتے ہوئے سی پیک فیز ون کی کامیابیوں کو سراہا۔ انہوں نے زراعت، صنعت، پیداواری صلاحیت میں اضافے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی شمولیت اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کے فروغ پر زور دیا۔
اجلاس کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سی پیک 2.0 کے پانچ کوریڈورز اور پاکستان کے ”اڑان پاکستان“ فریم ورک کے درمیان تزویراتی ہم آہنگی کو عملی جامہ پہنایا جائے گا تاکہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے آگے بڑھ کر صنعتی ترقی، مسابقت، اور کاروباری شراکت داری کے ذریعے مشترکہ خوشحالی کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ملک کے مالیاتی و معاشی نظام میں اصلاحات اور بین الاقوامی معاہدوں کی پیش رفت سے متعلق پانچ اہم سمریوں اور بلوں کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے جاری کردہ سرکاری اعلامیے کے مطابق، صدر مملکت نے جن اہم آئینی و قانونی بلوں کی توثیق کی ہے ان میں ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان (ترمیمی) بل 2026ء، مالیاتی اداروں کی مالی رقوم کی وصولی (ترمیمی) بل 2026ء اور وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) (ترمیمی) بل 2026ء شامل ہیں۔ ان بلوں کا مقصد ملکی بینکنگ نظام کو مضبوط بنانا، واجب الادا مالیاتی رقوم کی وصولی کو تیز تر کرنا اور ٹیکس دہندگان کے حوالے سے ریونیو فریم ورک میں اصلاحات لانا ہے۔
اس کے علاوہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے نمایاں خدمات کے اعتراف میں سید علی محمود کو پاکستان سول ایوارڈ عطا کرنے کی منظوری بھی دی۔ دوسری جانب، بین الاقوامی اور اسلامی سطح پر شفافیت اور بدعنوانی کی روک تھام کے لیے صدر مملکت نے تنظیمِ اسلامی تعاون (OIC) کے رکن ممالک کے انسدادِ بدعنوانی قوانین کے نفاذ میں باہمی تعاون سے متعلق مکہ المکرمہ کنونشن کی باضابطہ توثیق کی منظوری دے دی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قیامِ پاکستان سے لے کر تعمیرِ پاکستان تک زندگی کے ہر شعبے میں مسلمانوں کے شانہ بشانہ اقلیتی برادریوں کے مثبت اور کلیدی کردار کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں بسنے والے تمام شہری بلا تفریقِ مذہب و ملت اس ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے متحد ہیں۔
منگل کے روز وزیراعظم آفس میں ‘مذہبی اقلیتوں کے قومی دن’ کی مناسبت سے منعقدہ ایک پروقار تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 11 اگست کا دن ملک کی اقلیتوں کے جذبۂ حب الوطنی اور خدمات کو سراہنے کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسیحی، ہندو، سکھ، پارسی اور دیگر تمام اقلیتی برادریوں کے لیے پوری قوم کے دل میں انتہائی احترام ہے۔ وزیراعظم نے قائد اعظم محمد علی جناح کے 11 اگست کے تاریخی خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دہانی کرائی کہ آئینِ پاکستان تمام شہریوں کو مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔
وزیراعظم نے اپنی اور اپنے بہن بھائیوں کی ابتدائی تعلیم کا ذکر کرتے ہوئے تعلیمی شعبے میں کرسچنکمیونٹی کی دہائیوں پر محیط خدمات کی تعریف کی۔ انہوں نے گروپ کیپٹن سیسل چوہدری، جسٹس اے آر کارنیلئیس، جوگندر ناتھ منڈل، ایس ایل گبز اور ایس پی سنگھا جیسی عظیم اقلیتی شخصیات کو قومی خدمات پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دفاعِ وطن اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اقلیتوں کے جانی نذرانے تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مکہ دفاعی معاہدے پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں امن، استوار معیشت اور ترقی کے فروغ کا ضامن ہے۔
تقریب سے وفاقی وزیرِ مذہبی امور سردار محمد یوسف، وزیرِ مملکت برائے مذہبی بین المذاہب ہم آہنگی کھیئل داس کوہستانی اور سینیٹر خلیل طاہر سندھو نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے اقلیتوں کو حاصل مکمل مذہبی آزادی، سکھ اور ہندو میرج ایکٹس جیسے قانون سازی کے اہم اقدامات اور عبادت گاہوں کی سیکیورٹی پر حکومتی کاوشوں کو سراہا۔ تقریب کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دینے والی اقلیتی شخصیات میں ایوارڈز اور اعزازات بھی تقسیم کیے۔
نجکاری کمیشن بورڈ کا 257واں اہم اجلاس منگل کے روز وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری و چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور اور جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی کی آؤٹ سورسنگ سمیت لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) اور ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) کی نجکاری کے حوالے سے کلیدی منظوریاں دی گئیں۔
نجکاری کمیشن کے ترجمان کے مطابق بورڈ نے لاہور اور کراچی کے بین الاقوامی ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ کے لیے ‘ای وائی پارتھنون’ کی زیرِ قیادت قائم کنسورشیم کو شفاف مسابقتی عمل کے بعد مالیاتی مشیر کے طور پر منتخب کرنے کی منظوری دے دی۔ اس کے ساتھ ہی کامیاب کنسورشیم کے ساتھ مالیاتی مشاورتی خدمات کے معاہدے کے خدوخال طے کرنے اور اسے حتمی شکل دینے کے لیے ایک خصوصی مذاکراتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔
اجلاس میں بورڈ نے پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کے شعبے میں لیسکو اور میپکو کی نجکاری کو “بڑی نجکاری” کا درجہ دینے کی منظوری بھی دی۔ اس اہم فیصلے کے بعد لاگو ضوابط کے تحت ان دونوں بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے لیے مالیاتی مشیر کی باقاعدہ تقرری کا عمل شروع کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ لیسکو اور میپکو حکومت کی جانب سے طے شدہ نجکاری کے چوتھے مرحلے میں شامل ہیں، جبکہ اس سے قبل کے تین مراحل کا عمل پہلے سے جاری ہے۔
نجکاری کمیشن بورڈ نے حکومتی نجکاری کے ایجنڈے کو کامیابی سے آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام تر عمل کو مکمل شفافیت، مسابقت اور پیشہ ورانہ اصولوں کے مطابق یقینی بنایا جائے گا تاکہ عوام اور قومی خزانے کو بہترین قیمت حاصل ہو سکے۔
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے پاکستان بزنس کونسل کے نو منتخب چیئرمین زید بشیر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جاوید قریشی نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران ملک میں غیر ملکی و مقامی سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری مسابقت، ریگولیٹری اصلاحات اور قومی معاشی ترقی میں نجی شعبے کے نقش کو مزید فعال بنانے پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔
وزیر خزانہ نے زید بشیر کو نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ معاشی منظر نامے میں نجی شعبے کی قیادت میں ترقی بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی منڈیوں میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے کاروباری اداروں کو ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تبدیلی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا پڑے گا۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے پی بی سی پر زور دیا کہ وہ معاشی چیلنجز کے حل اور بہتر پالیسی سازی کے لیے مختصر، شعبہ جاتی اور عملی تحقیق حکومت کے سامنے پیش کرے تاکہ درپیش مسائل پر فوری اقدامات کیے جا سکیں۔
ملاقات میں بین الاقوامی فنانسنگ اور سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے ذرائع سے فائدہ اٹھانے پر بھی غور کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ممکنہ عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے مکمل طور پر تیار اور تجارتی لحاظ سے منافع بخش منصوبے پیش کیے جانے چاہئیں۔ اس کے علاوہ ملک کے درمیانی مدت کے ٹیکس پالیسی فریم ورک اور اصلاحات کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے ایک ایسے پائیدار ٹیکس نظام کی تشکیل پر زور دیا جو مسابقت اور سرمایہ کاری کو تحرک فراہم کرے۔
پاکستان بزنس کونسل کے نو منتخب چیئرمین زید بشیر اور سی ای او جاوید قریشی نے حکومت کی مالیاتی اور معاشی سمت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ وفاقی بجٹ کو حالیہ برسوں کا سب سے امید افزا بجٹ قرار دیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ بزنس کونسل نجی شعبے کی ترقی، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور سرمایہ کاری کے سازگار ماحول کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گی۔
حکومتِ پاکستان نے ممتاز ماہرِ اقتصادیات اور کاروباری رہنما ہارون اختر خان کی بطور وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار تقرری کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت انہیں وفاقی وزیر کا منصب اور درجہ حاصل ہوگا۔
وزارتِ صنعت و پیداوار کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ہارون اختر خان کی یہ تقرری صدرِ پاکستان کی منظوری کے بعد عمل میں آئی ہے جس کا نوٹیفکیشن کابینہ ڈویژن نے جاری کیا۔ وہ سینیئر مشیر کے طور پر فوری طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے اور صنعت و پیداوار کا اہم قلمدان ان کی دیکھ بھال میں رہے گا۔
ہارون اختر خان عوامی خدمت، مقننہ اور کاروباری دنیا کا ایک شاندار اور وسیع پس منظر رکھتے ہیں۔ وہ ماضی میں دو مرتبہ سینیٹر اور دو مرتبہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں۔ تعلیمی لحاظ سے انہوں نے کینیڈا کی معروف یونیورسٹی آف مینی ٹوبا سے ایکچوریل سائنس اور بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹر آف سائنس کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ اس کے علاوہ وہ سوسائٹی آف ایکچوریز (امریکہ) اور کینیڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایکچوریز کے فیلو بھی ہیں، اور اپنی پیشہ ورانہ سند حاصل کرتے وقت وہ اس شعبے کی تاریخ کے سب سے کم عمر ایکچوری بنے تھے۔
پاکستان واپس آ کر ملکی خدمات انجام دینے سے قبل انہوں نے امریکہ اور کینیڈا کی معروف کمپنیوں میں کارپوریٹ گورننس، اقتصادی منصوبہ بندی، مالیاتی ماڈلنگ اور سرمایہ کاری کے میدانوں میں گراں قدر تجربہ حاصل کیا۔ بعد ازاں سال 2015ء سے 2018ء کے دوران انہوں نے وفاقی وزیر کے درجے کے ساتھ معاونِ خصوصی برائے محصولات کے طور پر بھی کامیابی سے فرائض انجام دیے، جہاں انہوں نے ٹیکس اصلاحات میں اہم کردار ادا کیا۔
بطور سینیٹر انہوں نے 2006ء سے 2012ء کے دوران خزانہ، تجارتی و اقتصادی امور، منصوبہ بندی، صنعت و پیداوار، اور پٹرولیم سمیت سینیٹ کی متعدد اہم ترین قائمہ کمیٹیوں میں سینیئر رکن کی حیثیت سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط کاروباری اور سیاسی کیریئر کے دوران انہوں نے بزنس ٹو بزنس اور حکومت و صنعت کے درمیان قریبی روابط استوار کرنے، سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی اور صنعتی ترقی کی راہ ہموار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
ہیلتھ سروسز اکیڈمی اسلام آباد نے تعلیمی سیشن خزاں 2026ء کے لیے اپنے چار سالہ بی ایس آپٹومیٹری ڈگری پروگرام میں نئے داخلوں کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔
ہیلتھ سروسز اکیڈمی انتظامیہ کی جانب سے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق اس پروگرام میں داخلے کے لیے وہ تمام امیدوار اپلائی کرنے کے اہل ہوں گے جنہوں نے ایف ایس سی پری میڈیکل یا اس کے مساوی امتحان میں کم از کم 50 فیصد نمبر حاصل کیے ہوں۔ یہ چار سالہ ڈگری پروگرام ہائر ایجوکیشن کمیشن سے مکمل منظور شدہ ہے، جبکہ ہیلتھ سروسز اکیڈمی ایچ ای سی کی تسلیم شدہ یونیورسٹی کا درجہ رکھتی ہے۔ مزید برآں، یہ کورس الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل کونسل کے تحت باقاعدہ رجسٹرڈ اور ریگولیٹڈ ہے، جبکہ اس ڈگری کو ‘ورلڈ کونسل آف آپٹومیٹری’ سے بھی عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔
اکیڈمی حکام کا کہنا ہے کہ چار سالہ ڈگری کامیابی سے مکمل کرنے والے گریجویٹس کے لیے ملک و بیرونِ ملک روزگار کی وسیع تر مارکیٹ موجود رہے گی۔ فراغت حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات سرکاری و نجی ہسپتالوں، آئی کلینکس، طبی تدریس و سائنسی تحقیق کے شعبوں، آپٹیکل انڈسٹری، بزنس مینجمنٹ، اور ماہرینِ امراضِ چشم کے ساتھ کلینیکل پریکٹس سمیت مختلف معتبر شعبوں میں بطور پیشہ ور ماہرِ بصریات اپنی خدمات انجام دے سکیں گے۔
اس ڈگری پروگرام کی فی سمسٹر ٹیوشن فیس 70 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ تمام خواہشمند امیدوار اپنی درخواستیں ہیلتھ سروسز اکیڈمی کی سرکاری ویب سائٹ کے ذریعے آن لائن جمع کرا سکتے ہیں۔ داخلہ فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 اگست 2026ء مقرر کی گئی ہے۔ ہیلتھ سروسز اکیڈمی کا کیمپس پارک روڈ، پی ایم ہیلتھ کمپلیکس، چک شہزاد اسلام آباد میں واقع ہے۔
پاکستان اور امریکہ نے اعلیٰ تعلیم، سائنسی تحقیق اور انسانی وسائل کی پیشہ ورانہ ترقی کو وسعت دینے کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور یونائیٹڈ سٹیٹس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن ان پاکستان (یو ایس ای ایف پی) کے درمیان تاریخی پانچ سالہ فل برائٹ-ایچ ای سی معاہدے کی باقاعدہ تجدید کر دی ہے۔
وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق تجدید شدہ معاہدہ مالی سال 2026-27ء سے مالی سال 2031-32ء تک اگلے پانچ برسوں کے لیے نافذ العمل رہے گا۔ اس معاہدے کے تحت فل برائٹ ماسٹرز اور پی ایچ ڈی پروگرامز، پوسٹ ڈاکٹریٹ وزٹنگ اسکالر پروگرام، فارن لینگوئج ٹیچنگ اسسٹنٹ پروگرام اور ہیوبرٹ ایچ ہمفری فیلوشپ پروگرام کے ذریعے پاکستانی طلبہ اور محققین کو امریکی جامعات میں اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
معاہدے کے تحت آئندہ پانچ سالوں کے دوران 66 پاکستانی پی ایچ ڈی اسکارلرز کو خصوصی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس فنڈنگ کے لیے ایچ ای سی سالانہ کم از کم 4.54 ملین ڈالر فراہم کرے گا جبکہ پانچ سال کی مدت میں مجموعی مالیاتی حجم 6.48 ارب روپے تک ہوگا۔ مزید برآں، یو ایس ای ایف پی کے پاس موجود فنڈز سے حاصل ہونے والے منافع کو بھی مزید اسکالرشپس کی فراہمی کے لیے استعمال کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق طلبہ اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔
معاہدے کی اہم شرط کے مطابق اسکارلرز کا انتخاب مکمل طور پر شفاف میرٹ کی بنیاد پر کیا جائے گا اور کسی خطے یا شعبے کے لیے کوئی مخصوص کوٹہ نہیں ہوگا، جبکہ انتخابی کمیٹی میں ایچ ای سی کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ پروگرام کی کارکردگی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ جائزہ کمیٹی سال میں دو بار اجلاس منعقد کرے گی اور تمام مالیاتی معاملات کا سالانہ آڈٹ کرایا جائے گا۔
یہ معاہدہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلیمی شراکت داری کے تیسرے مرحلے کا آغاز ہے جو کہ فروری 2016ء کے ابتدائی معاہدے کے تسلسل کے طور پر سامنے آیا ہے۔ وفاقی حکومت نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس اقدام سے ملک میں معیاری اعلیٰ تعلیم، جدت اور بین الاقوامی تعلیمی و تحقیقی روابط کو بے حد فروغ حاصل ہوگا۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ تشدد اور انارکی کی سیاست پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا دیرینہ وطیرہ بن چکی ہے اور وہ کبھی پرامن احتجاج پر یقین نہیں رکھتی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا بنیادی مقصد ملک میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنا اور قومی ترقی کے جاری سفر کو روکنا ہے، جبکہ راولپنڈی میں ہونے والے تازہ فائرنگ کے واقعے نے ان کے مذموم ایجنڈے کو پوری قوم کے سامنے واضح کر دیا ہے۔
منگل کے روز راولپنڈی مال روڈ پر پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے پر اپنے خصوصی ردِعمل میں وفاقی وزیر اطلاعات نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ مسلح ہو کر آنا اور سیکیورٹی اہلکاروں پر دن دیہاڑے فائرنگ کرنا ناقابلِ برداشت اور شدید قابلِ مذمت عمل ہے جس کا کوئی قانونی یا سیاسی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ ماضی میں بھی پی ٹی آئی کے مسلح احتجاجوں کے دوران پولیس اور رینجرز کے اہلکار جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں اور آج کے واقعے سے بھی ملزم کے قبضے سے پارٹی کا پرچم اور دیگر اہم دستاویزات برآمد ہوئی ہیں، جو ان کے نظریے کی عکاسی کرتی ہیں۔
عطاء اللہ تارڑ نے پی ٹی آئی کی جانب سے کی جانے والی لانگ مارچ کی کال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر کوئی اہم سفارتی و معاشی کامیابی ملتی ہے یا اہم معاہدے طے پاتے ہیں، پی ٹی آئی فوری طور پر ملک میں انارکی پھیلانے کے لیے احتجاج کا راستہ اختیار کر لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے جیسی عظیم بین الاقوامی کامیابی اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی عالمی عزّت ان سے ہضم نہیں ہو رہی۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے اپنے بیان کے اختتام پر عزم ظاہر کیا کہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود پاکستان ترقی، خوشحالی اور استحکام کے راستے پر کامیابی سے گامزن رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی قیادت عوام کی بہتری کے لیے دن رات کوشاں ہے اور امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والے عناصر کو ہر محاذ پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت، ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے سنگین چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کیمپس کو ماحول دوست بنانے کے لیے ”پودے لگاؤ، ملک سنوارو“ کے عنوان سے مون سون شجرکاری مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کوالٹی انہانسمنٹ سیل کی عمارت کے سامنے واقع مرکزی پارک میں ”کوریزیا“ کا پودا لگا کر اس مہم کا افتتاح کیا۔ افتتاح کے پروقار موقع پر یونیورسٹی کے تمام ڈینز، رجسٹرار، تمام پرنسپل افسران اور شعبہ ہارٹیکلچر کے حکام بھی موجود تھے۔ وائس چانسلر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ درخت لگانا صرف خوبصورتی کی سرگرمی نہیں بلکہ ہماری اجتماعی بقا اور صحت مند مستقبل کا ضامن ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے شجرکاری کو ہر شہری کے لیے قومی فرض کا درجہ دینا ہوگا۔
پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے شعبہ ہارٹیکلچر کو ہدایت جاری کی کہ یونیورسٹی کیمپس کے اندر ایک مصنوعی جنگل کے قیام کے لیے تمام ضروری انتظامات کو فوری طور پر حتمی شکل دی جائے تاکہ کیمپس کو جدید اور پائیدار ماحولیاتی ماڈل میں ڈھالا جا سکے۔
شعبہ زرعی سائنس کے ہارٹیکلچر آفیسر وجیح الحسن نے مہم کی تفصیلات بتاتے ہوئے آگاہ کیا کہ پہلے مرحلے میں کیمپس کے اندر ستر خوبصورت پھول دار پودے لگائے جا رہے ہیں، جبکہ اس پوری مون سون مہم کے لیے کل دو سو پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اسی دوران پروفیسر ڈاکٹر ارشاد احمد ارشد نے بتایا کہ اس مہم میں استعمال ہونے والے ستر فیصد پودے کسی باہر کی نرسری سے خریدنے کی بجائے یونیورسٹی میں پہلے سے موجود پودوں ہی سے تیار کیے گئے ہیں، جو کہ حکومتی و ادارے کے مالی وسائل کے انتہائی موثر اور پائیدار استعمال کا بہترین ثبوت ہے۔
تقریب کے اختتام پر تمام ڈینز اور سینئر افسران نے بھی پودے لگائے اور یونیورسٹی میں سبزہ زاروں کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس مہم کا بنیادی مقصد کیمپس کو خوبصورت بنانے کے ساتھ ساتھ اساتذہ، طلبہ اور ملازمین میں ماحولیاتی تحفظ اور شجرکاری کی اہمیت کا شعور بیدار کرنا ہے۔
خاتونِ اول اور رکنِ قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے ‘اقلیتوں کے قومی دن’ کے موقع پر پاکستان بھر کی تمام اقلیتی برادریوں کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی تعمیر، ترقی اور خوشحالی میں تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی خدمات اور بنیادی کردار انتہائی قابلِ قدر ہیں۔ اپنے ایک خصوصی پیغام میں انہوں نے واضح کیا کہ یہ دن ملک کے لیے اقلیتی برادریوں کی گراں قدر کاوشوں کو تسلیم کرنے اور اس قومی عزم کی تجدید کا موقع ہے کہ ہر شہری اس وطنِ عزیز کا مساوی اور برابر کا رکن ہے۔
خاتونِ اول نے اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان شخصیات نے تعلیم، صحت، قانون، عوامی خدمت، تجارت، مسلح افواج، فنون اور کھیل سمیت تمام شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ان کی حاصل کردہ کامیابیوں اور محنت نے پاکستان کی پیش رفت اور خوشحالی کی داستان کو مضبوط بنایا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مساوات کا حقیقی اور عملی اظہار ہر شہری کو حاصل یکساں حقوق اور بلا امتیاز مواقع میں نظر آنا چاہیے، جبکہ قانون ریاست کے تمام باشندوں کو یکساں تحفظ فراہم کرنے کا پابند ہے۔
بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے بالخصوص اقلیتی نوجوانوں اور خواتین کے بااختیار ہونے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایک جامع اور خوشحال پاکستان کی تعمیر میں ان کا نقش کلیدی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم، ہنر مندی اور روزگار کے یکساں راستے ہموار کیے جانے چاہئیں تاکہ وہ ملک کے بہتر مستقبل میں اپنا مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ اسی طرح اقلیتی خواتین کو بھی تعلیمی، معاشی اور عوامی زندگی میں بھرپور انداز میں حصہ لینے کے پورے مواقع ملنے چاہئیں۔
اپنے پیغام کے اختتام پر خاتونِ اول نے تمام تعلیمی اداروں، خاندانوں اور عوامی طبقات پر زور دیا کہ وہ نوجوان نسل میں باہمی احترام، برداشت اور مساوات کی اقدار کو فروغ دیں۔ انہوں نے دعا کی کہ پاکستان اپنے تمام شہریوں کے لیے مساوی حقوق، انصاف اور عزتِ نفس کی ضمانت بن کر مسلسل ترقی اور خوشحالی کے سفر پر گامزن رہے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پاکستان میں منعقد ہونے والے 14ویں ساؤتھ ایشین گیمز کی تیاریوں اور انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے منگل کے روز ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق پاکستان مارچ 2027ء میں ان تاریخی علاقائی کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی کا فریضہ انجام دے گا، جس کے لیے تمام سفارتی اور انتظامی سطح پر تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں۔
اجلاس کے دوران نائب وزیراعظم نے کھیلوں کی بین الاقوامی معیار کے مطابق بلا تعطل اور بہترین تیاریوں کو یقینی بنانے کے لیے مختلف ذیلی کمیٹیاں تشکیل دینے کی ہدایت جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کمیٹیوں کی ذمہ داریوں میں مالیاتی امور کی دیکھ بھال، اسپورٹس انفراسٹرکچر کی جدید بنیادوں پر تعمیر و اپ گریڈیشن، قومی کھلاڑیوں کی پیشہ ورانہ تربیت و تیاری اور ایونٹ سے منسلک تمام لاجسٹک انتظامات کی باقاعدہ نگرانی شامل ہوگی۔ سینیٹر اسحاق ڈار نے تمام متعلقہ اداروں، صوبائی حکومتوں اور وزارتوں کے درمیان بروقت منصوبہ بندی اور باہمی قریبی رابطے کی اہمیت پر خصوصی زور دیا تاکہ کسی بھی شعبے میں تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ 14ویں ساؤتھ ایشین گیمز کی میزبانی پاکستان کے لیے اپنے کھیلوں کے میدان میں موجود صلاحیتوں، شاندار مہمان نوازی اور اعلیٰ انتظامی استعداد کو دنیا بھر کے سامنے بہترین طریقے سے اجاگر کرنے کا ایک سنہری موقع ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بین الاقوامی کھیلوں کے انعقاد کے ذریعے خطے اور دنیا کو پاکستان کی طرف سے امن، باہمی دوستی، خیر سگالی اور ہم آہنگی کا مثبت اور واضح پیغام پہنچایا جائے گا۔
اس اہم جائزاتی اجلاس میں وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر عارف سعید، سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ، ڈائریکٹر جنرل پاکستان اسپورٹس بورڈ، وزارتِ خزانہ کے اعلیٰ حکام کے علاوہ پنجاب اور خیبر پختونخوا حکومتوں کے نمائندگان نے بھی شرکت کی اور کھیلوں کے کامیاب انعقاد کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں۔
سندھ میں قومی شاہراہوں اور موٹرویز کے بنیادی ڈھانچے کو جدید ترین خطوط پر استوار کرنے، تجارتی سرگرمیوں کو تیز کرنے اور سفر کو محفوظ بنانے کے لیے رواں مالی سال کے دوران 49 ارب 30 کروڑ 50 لاکھ روپے کے بھاری فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ ان فنڈز کی مدد سے حیدرآباد سکھر موٹروے اور سیلاب سے شدید متاثر ہونے والی اہم قومی شاہراہ این-5 کی تعمیر و بحالی سمیت متعدد اہم ترین مواصلاتی منصوبوں پر کام تیزی سے جاری رکھا جائے گا۔
سندھ کے مواصلاتی انفراسٹرکچر کے حوالے سے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی 2026-27) کے سرکاری دستاویزات سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے زیرِ انتظام سندھ میں موٹرویز اور قومی شاہراہوں کے کل 9 بڑے اور اہم ترین منصوبے شامل ہیں، جن کی مجموعی منظور شدہ پی سی-ون لاگت 594 ارب 97 کروڑ 70 لاکھ روپے بنتی ہے۔ ان تمام منصوبوں پر جون 2026 تک مجموعی طور پر 122 ارب 50 کروڑ 80 لاکھ روپے کی رقوم خرچ کی جا چکی تھیں، جبکہ یکم جولائی 2026 کے بعد باقی ماندہ مالی ضروریات کا تخمینہ 472 ارب 46 کروڑ 90 لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔ رواں مالی سال 2026-27 کے لیے مختص کیے گئے 49 ارب 30 کروڑ 50 لاکھ روپے میں 8 ارب 5 کروڑ 50 لاکھ روپے کے مقامی وسائل شامل ہیں، جبکہ 41 ارب 25 کروڑ روپے کی رقم غیر ملکی معاونت پر مشتمل ہے۔
دستاویزات کے مطابق منصوبوں میں سب سے بڑی اور اہم رقم، یعنی 30 ارب روپے، 306 کلومیٹر طویل حیدرآباد۔سکھر موٹروے کی تعمیر کے لیے مختص کی گئی ہے۔ چھ لین پر مشتمل یہ جدید اور باڑ سے محفوظ موٹروے بلڈ، آپریٹ اینڈ ٹرانسفر (BOT) کی بنیاد پر تعمیر کرنے کا عظیم الشان منصوبہ ہے جس کی مجموعی منظور شدہ لاگت 363 ارب 70 کروڑ روپے ہے، اور اس کی باقی ماندہ مالی ضرورت 363 ارب 69 کروڑ 10 لاکھ روپے رکھی گئی ہے۔ اس منصوبے کے لیے رواں مالی سال کے 30 ارب روپے میں سے 2 ارب روپے مقامی ذرائع اور 28 ارب روپے غیر ملکی مالی معاونت سے حاصل ہوں گے۔ حکام کے مطابق اس میگا پروجیکٹ کی خریدی و ٹینڈرنگ کا عمل نومبر 2026ء تک مکمل ہونے کی قوی توقع ہے۔
اس کے علاوہ سال 2022 کے تباہ کن سیلاب سے متاثر ہونے والی قومی شاہراہ این-5 کے مورو سے رانی پور تک (کلومیٹر 318 سے 404 کے درمیانی) شمالی اور جنوبی دونوں حصوں کی تعمیرِ نو اور 32 متاثرہ پلوں کی مکمل بحالی کے لیے 9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ 57 ارب 24 کروڑ 50 لاکھ روپے کی مجموعی لاگت والے اس منصوبے پر جون 2026 تک 13 ارب 22 کروڑ 40 لاکھ روپے خرچ کیے جا چکے تھے۔ اس منصوبے کے لاٹ-1 پر 23 فیصد اور لاٹ-2 پر 19 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور اسے 30 جون 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے تحت انڈس ہائی وے (این-55) پر شکارپور سے راجن پور کے درمیان 221.9 کلومیٹر طویل اضافی کیریج وے کی تعمیر کے لیے 5 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ 44 ارب 70 کروڑ روپے سے زائد لاگت کے اس منصوبے پر اب تک 32 ارب روپے سے زائد خرچ ہو چکے ہیں اور اس کے مختلف حصوں پر 21 فیصد سے 79 فیصد تک کام مکمل ہو چکا ہے، جسے اکتوبر 2026 تک مکمل کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ دوسری جانب چین کے تعاون سے این-5 کے ہالا۔مورو سیکشن کے 66 کلومیٹر حصے کی بحالی کے لیے 2 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کی مجموعی لاگت 27 ارب 97 کروڑ روپے ہے اور اس کی خریداری کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔
اسی طرح سکھر میں این-5 اور این-65 کے سنگم پر چار لین فلائی اوور اور رابطہ سڑکوں کے لیے 1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس پر 62 فیصد کام مکمل ہے اور اسے اپریل 2027 تک مکمل کیا جائے گا۔ کراچی۔لاہور موٹروے کے لیے زمین کے حصول، معاوضوں کی ادائیگی اور یوٹیلٹی سروسز کی منتقلی کی مد میں 80 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس پر 68 فیصد کام مکمل ہے اور دسمبر 2026 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ مزید برآں سکھر۔ملتان موٹروے پر بھونگ انٹرچینج کی 31 اگست 2026 تک مکمل تیاری کے لیے 10 کروڑ روپے، کیریک کوریڈور کے منصوبوں کے لیے 83 کروڑ روپے، جبکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مجوزہ نئی کراچی۔حیدرآباد موٹروے کی کمرشل فزیبلٹی کی تیاری کے لیے 7 کروڑ 50 لاکھ روپے کے فنڈز فراہم کیے گئے ہیں۔ ان تمام ترقیاتی اور مواصلاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل سے سندھ بھر میں نہ صرف سفری سہولیات اور تجارتی مال برداری کے نظام میں واضح بہتری آئے گی بلکہ ملک گیر سطح پر معاشی سرگرمیوں کو بھی زبردست فروغ حاصل ہوگا۔
پاکستان اور سوئٹزرلینڈ نے توانائی کے شعبے میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے اور نئی سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کے لیے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت سوئس عالمی توانائی تجارتی کمپنی ‘گنور گروپ’ کے وفد کی وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک سے ملاقات کے دوران سامنے آئی۔
ملاقات میں گنور گروپ کے وفد نے پاکستان کی انرجی مارکیٹ میں ڈی ریگولیشن اور نئی ریفائنری پالیسی کے حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈاؤن سٹریم مارکیٹ کو کھولنے سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ وفد نے مجوزہ ‘بانڈڈ سٹوریج پالیسی’ اور ایل پی جی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے امکانات میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے ایک موزوں و پرکشش مارکیٹ قرار دیا۔
وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے وفد کو بتایا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں شفاف، مسابقتی اور سرمایہ کار دوست ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے گنور گروپ کو ایل پی جی اور دیگر جاری اصلاحاتی منصوبوں میں موجود نئے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کو اہم سفارتی و دفاعی پیش رفت قرار دیتے ہوئے متفقہ قرارداد منظور کی گئی۔ قرارداد میں وزیراعظم، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
اجلاس کے دوران نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2026ء اور اس کے ایکشن پلان کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے ہدایت کی کہ عمودی رہائش ) اور انرجی ایفیشنسی کوڈز کو ترجیح دی جائے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ‘اپنا گھر’ سکیم کے تحت بینکوں نے 220 ارب روپے کے قرضے منظور کیے ہیں جبکہ 32 ارب روپے سے زائد کی رقوم جاری کی جا چکی ہیں۔
وفاقی کابینہ نے پاکستان انفارمیشن سکورٹی فریم ورک کی منظوری دی جو ملک میں سائبر سکورٹی کے بنیادی معیارات کے لیے اہم دستاویز ثابت ہوگا۔ علاوہ ازیں، پاکستان اور سویڈن کے درمیان 1981ء کے دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے کے خاتمے کا نوٹس واپس لینے اور پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 میں ترامیم کی توثیق بھی کی گئی۔
اجلاس کے اختتام پر کابینہ کمیٹی برائے توانائی، اقتصادی رابطہ کمیٹی ) اور کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے گزشتہ اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں کی باضابطہ توثیق کر دی گئی۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اقلیتیں پاکستان کی برابر کی شہری ہیں اور ملکی ترقی و خوشحالی میں ان کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہمیشہ آواز بلند کی، جبکہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی اقلیتی برادریوں کے حقوق کے لیے مکمل پرعزم ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں قومی اقلیتی دن کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، سینیٹر دنیش کمار، سینیٹر مولانا عطاء الرحمن، وزیر مملکت برائے مذہبی امور کھیل داس کوہستانی، سینیٹر طاہر خلیل سندھو، بشریٰ انجم بٹ، فیصل سلیم رحمان، شہادت اعوان، ناصر بٹ، کامران مرتضیٰ، رکن قومی اسمبلی سید عبدالقادر گیلانی اور سیکرٹری سینیٹ سید حسنین حیدر سمیت اراکینِ پارلیمنٹ اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ قومی اقلیتی دن بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے وژن اور آئینِ پاکستان میں درج مساوات، آزادی، انسانی وقار اور شمولیت کے بنیادی اصولوں سے تجدیدِ عہد کا ایک اہم موقع ہے۔
محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا، تاہم شمال مشرقی پنجاب، بالائی خیبرپختونخوا، کشمیر، اسلام آباد اور خطہ پوٹھوہار میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔
ترجمان محکمہ موسمیات کے مطابق اس وقت ہوا کا سیزنل کم دباؤ شمال مشرقی بلوچستان پر موجود ہے جبکہ ملک کے بالائی حصوں میں کمزور مون سون ہوائیں داخل ہو رہی ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھی ملک کے اکثر حصوں میں موسم گرم اور مرطوب رہا، تاہم قصور کے علاقے میں 1 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق پیر کے روز ملک میں شدید گرمی ریکارڈ کی گئی جہاں سب سے زیادہ درجہ حرارت دادو میں 45 ڈگری سینٹی گریڈ رہا، جبکہ سبی، دالبندین، سکھر، روہڑی اور خیرپور میں درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی ‘مکہ معاہدے’ کے کوئی جارحانہ مقاصد نہیں، بلکہ یہ صرف دفاعی مقاصد اور خطے میں امن، ترقی و خوشحالی کے فروغ کے لیے ہے۔ انہوں نے اس معاہدے کو مسلم امہ کے لیے باعثِ تقویت قرار دیتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو سراہا۔
وزیراعظم نے ہنگو اور سوات سمیت دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جامِ شہادت نوش کرنے والے میجر حافظ احسان الٰہی، کیپٹن حمزہ اکرم اور ڈی ایس پی دیار خان سمیت تمام شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ اجلاس کے دوران مسلم لیگ (ن) کے دیرینہ رہنما اقبال چنڑ کے انتقال پر بھی گہرے دکھ کا اظہار اور ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) وہاں اکثریتی جماعت بن کر ابھری ہے، جو قائد نواز شریف کی قیادت پر عوام کے اعتماد کا مظہر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر میں کسی کو لاقانونیت یا انارکی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، تاہم امن اور تحمل کے ساتھ بات چیت کرنے والوں کے لیے نئی حکومت کے قیام کے بعد مذاکرات کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے قوم کو 14 اگست کا جشنِ آزادی بھرپور شان و شوکت اور ملی جوش و جذبے کے ساتھ منانے کی ہدایت کی اور عزم ظاہر کیا کہ پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرکے قائد اعظم کا واقعی پاکستان بنایا جائے گا۔