کاشغر/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء
چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے کاشغر میں نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) کے لاجسٹکس مرکز کا اہم دورہ کیا ہے، جہاں انہیں این ایل سی کی سرحد پار لاجسٹکس سرگرمیوں، جدید ترین آپریشنز اور فراہم کردہ سہولیات پر ایک تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اتوار کے روز موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق، کاشغر اور تاشکرگن میں این ایل سی کی جانب سے قائم کردہ یہ جدید سہولیات پاک چین دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے ایک انتہائی اہم اور کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ مراکز چین، وسطی ایشیائی ممالک بشمول قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان اور دیگر عالمی منڈیوں تک تجارتی سامان کی بلا رکاوٹ ترسیل میں بہترین معاون ثابت ہو رہے ہیں۔
سفارت خانہ پاکستان کے مطابق، چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے عظیم منصوبے کی کامیابی میں این ایل سی کا مؤثر اور کلیدی کردار مسلسل جاری ہے۔ این ایل سی نے اس تجارتی نیٹ ورک کو مزید وسعت دینے کے لیے چین میں سو فیصد ملکیتی لاجسٹکس کمپنی بھی قائم کر رکھی ہے، جبکہ این ایل سی کے بیڑے میں شامل جدید ترین گاڑیاں پاک چین تجارتی روابط کو روز بروز مزید مضبوط بنانے میں مصروفِ عمل ہیں۔ کارپوریشن کی یہ بین الاقوامی خدمات پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے تزویراتی تجارتی روابط کو ایک بالکل نئی اور مضبوط جہت دے رہی ہیں۔ اس موقع پر چین میں متعین پاکستانی سفیر خلیل ہاشمی نے این ایل سی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے واضح کیا کہ پاک چین تجارت اور علاقائی رابطوں کے فروغ میں این ایل سی کا یہ مقتدر کردار بلاشبہ انتہائی قابلِ تحسین اور ملکی معیشت کے لیے اہم ہے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی شرح ساڑھے تین فیصد تک گرنے اور سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر اکتیس ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کے ساتھ ہی ’اڑان پاکستان‘ کا معاشی نظم و ضبط اب حقیقت کا روپ دھار رہا ہے۔ انہوں نے واشنگٹن اور تہران کو ایک میز پر بٹھانے والی پیچیدہ سفارت کاری کا حوالہ دیتے ہوئے پُرعزم الفاظ میں کہا کہ پاکستان نے دنیا پر ثابت کر دیا ہے کہ وہ کوئی کمزور ریاست نہیں، بلکہ اپنے قدموں پر کھڑا ہوتا ہوا ایک مضبوط ملک ہے۔ اتوار کے روز وزارتِ منصوبہ بندی و ترقی کی جانب سے جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، پروفیسر احسن اقبال نے اورلینڈو میں انچاسویں ‘اپنا’ سالانہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔
وفاقی وزیر نے شرکاء کو بتایا کہ ’اڑان پاکستان‘ کے ذریعے حکومت قومی سوچ کو بنیادی طور پر تبدیل کر رہی ہے، اور ملکی تاریخ میں پہلی بار آبادی اور انسانی وسائل کو معاشی منصوبہ بندی میں کوئی معمولی حاشیہ بنانے کے بجائے معاشی ترقی کا پہلا باب بنایا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت ‘فائیو ایز’ کے مقتدر اصولوں کی بنیاد پر سال دو ہزار سڑتالیس تک تین ٹریلین ڈالر کی معیشت کا بڑا ہدف لے کر چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف وہ پیچیدہ ملکی سفارت کاری جس نے واشنگٹن اور تہران کو ایک میز پر بٹھایا اور دوسری طرف بدترین حالات میں بھی اپنی سرحدوں کا مضبوط دفاع، ان دونوں عوامل سے پاکستان نے دنیا میں اپنا لوہا منوایا ہے، مگر یاد رہے کہ حقیقی استحکام صرف سرحدوں پر نہیں جیتا جاتا، بلکہ یہ ہمارے کلینکس، ہمارے ڈیٹا سسٹمز اور ہماری معاشی منصوبہ بندی سے جیتا جاتا ہے۔
پروفیسر احسن اقبال نے زور دیا کہ آگے کا راستہ آسان نہیں ہے اور اب تمام تر دارومدار صرف اس معاشی منصوبے پر سخت عمل درآمد پر ہے۔ انہوں نے اورلینڈو میں مقیم سمندر پار پاکستانی ڈاکٹروں کی تنظیم ’اپنا‘ کی کمیونٹی کو ایک سیدھا اور سادہ پیغام دیا کہ وہ اب پاکستان پر صرف یقین مت رکھیں بلکہ اسے بنانے میں حکومت کا عملی ساتھ دیں۔ انہوں نے تارکینِ وطن پر زور دیا کہ وہ اپنی مہارت، جدید سسٹمز اور اپنا وژن وطنِ عزیز واپس لے کر آئیں، کیونکہ اب مستقبل کی مقتدر تعمیر ہی ہمارا اگلا سب سے بڑا مشن ہے۔
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزہ فاطمہ خواجہ اور وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے ایک اہم مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نئے ٹیلی کام بل کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کسی کی ذاتی زمین پر زبردستی قبضہ کیا جائے گا، اور وہ اپنے خلاف لگائے گئے بے بنیاد مالی الزامات پر قانونی کارروائی کا پورا حق رکھتے ہیں۔ اتوار کے روز ہونے والی اس پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ ملک میں مکمل اتفاقِ رائے کے ساتھ قانون سازی کی جا رہی ہے اور اس بل کے حوالے سے عوام اور پارلیمان کو حقائق سے آگاہ کرنا انتہائی ضروری تھا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی کام کا پرانا قانون موجودہ دور کی جدید ضروریات سے مطابقت نہیں رکھتا تھا، اور اس نئے بل کا بنیادی مقصد وزیراعظم کے وژن کے مطابق ملک بھر میں تیز ترین انٹرنیٹ کی فراہمی کو بہتر اور ممکن بنانا ہے، جو بطور آئی ٹی منسٹر ان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
وفاقی وزیر آئی ٹی نے میڈیا میں ہونے والے پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ یہ بل چھ مہینے تک قومی اسمبلی میں پڑا رہا اور پھر اسے سینیٹ سے کمیٹی میں بھیج کر روکا گیا، جو کہ جمہوریت کا حسن ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس بل کو لے کر ان کے اور سیکریٹری آئی ٹی کے خلاف بلاوجہ میڈیا میں واویلا مچایا گیا اور بے بنیاد مالی فائدے حاصل کرنے کے الزامات لگائے گئے۔ شزہ فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ انہوں نے خود وزیراعظم سے درخواست کی ہے کہ ان الزامات کی اعلیٰ سطح پر انکوائری کرائی جائے، جبکہ انہوں نے ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی اسپیکٹرم نیلامی بھی شفاف طریقے سے کی ہے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ٹیلی کام بل کو لے کر میڈیا میں بے جا تشہیر کی گئی اور یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ اس قانون کے ذریعے کسی کی ذاتی پراپرٹی پر قبضہ ہونے جا رہا ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ کمیٹی کو اس بل کے عمل میں کسی کو بھی نوازے جانے کے کوئی شواہد نہیں ملے، اور قومی اسمبلی سے یہ بل چھ اہم ترامیم کے ساتھ منظور ہوا ہے۔ وزیر قانون نے واضح کیا کہ ملک کی خواتین اور نوجوان اس وقت گھر بیٹھے فری لانسنگ کے ذریعے روزگار کما رہے ہیں اور یہ بل بنیادی طور پر ان ہاؤسنگ سوسائٹیز کے حوالے سے تھا جو معاہدے کر کے مکر جاتی ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ شہریوں کی ذاتی زمینوں سے فائبر آپٹک گزارنے کے لیے مالکان کی باقاعدہ اجازت لینا قانونی طور پر لازمی ہے، اور اگر کوئی شہری انٹرنیٹ کے لیے اپنی ذاتی پراپرٹی نہیں دینا چاہتا تو یہ اس کا قانونی حق ہے، حکومت کسی کی ذاتی پراپرٹی کو زبردستی متاثر نہیں کرے گی۔
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (پی آر اے) کے صدر ایم بی سومرو کی خوش دامن کے انتقال پر گہرے دکھ، رنج اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اتوار کے روز سینیٹ سیکرٹریٹ سے جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پی آر اے کے صدر ایم بی سومرو اور ان کے تمام اہل خانہ سے دلی تعزیت اور مقتدر ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس انتہائی کٹھن گھڑی میں وہ غمزدہ خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے مرحومہ کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی دعا کرتے ہوئے التجا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ جگہ عطا فرمائے، ان کی کامل مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں بلند مقام نصیب کرے اور تمام سوگوار خاندان کو یہ ناقابلِ تلافی صدمہ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے۔
کارگل جنگ کے عظیم ہیرو اور نشانِ حیدر پانے والے کیپٹن کرنل شیر خان شہید کا یومِ شہادت آج ملک بھر میں انتہائی عقیدت، مقتدر احترام اور قومی جذبے کے ساتھ منایا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، اس اہم موقع پر ملک بھر کی مساجد میں شہدائے وطن کے بلندیِ درجات، مغفرت اور وطنِ عزیز پاکستان کی سلامتی، بقا اور تزویراتی استحکام کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا گیا۔ مساجد اور مقتدر فورمز پر علماء کرام اور مذہبی رہنماؤں نے کیپٹن کرنل شیر خان شہید اور دیگر شہداء کی دفاعِ وطن کے لیے پیش کی جانے والی لازوال قربانیوں پر انہیں شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
علماء کرام نے اپنے خطبات اور بیانات میں اس بات پر خصوصی زور دیا کہ وطنِ عزیز کی حفاظت اور جغرافیائی حدود کے دفاع کے لیے اپنی معزز جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے تمام شہداء پوری قوم کا حقیقی سرمایۂ افتخار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہداء کی یہ عظیم قربانیاں قوم کی اجتماعی ذمہ داری اور ایک مقدس امانت ہیں، جنہیں کسی بھی صورت فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ مذہبی دانشوروں کا کہنا تھا کہ شہدائے پاکستان کی ان بے مثال قربانیوں نے ہی وطن کے امن، بقا، آزادی اور ملکی استحکام کو ہمیشہ کے لیے مضبوط اور مقتدر بنیادیں فراہم کی ہیں، کیونکہ زندہ اور باوقار قومیں اپنے مقتدر شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ یاد رکھتی ہیں۔
مقررین نے مزید کہا کہ جو قومیں اپنے شہداء کے لہو اور ان کی تزویراتی قربانیوں کی قدر کرتی ہیں، وہ دنیا میں ہمیشہ عزت، اتحاد اور پائیدار استحکام کی راہ پر گامزن رہتی ہیں۔ انہوں نے کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی پاک فوج میں خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جرات، بے پناہ بہادری اور حب الوطنی کی ایک ایسی روشن مثال قائم کی ہے جو ہماری آنے والی تمام نسلوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گی۔ علماء نے عزم ظاہر کیا کہ شہداء کی یہ لازوال قربانیاں پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور بلند قومی وقار کی سب سے مضبوط اور پُرعزم علامت ہیں۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے نشانِ حیدر پانے والے قوم کے عظیم ہیرو کیپٹن کرنل شیر خان شہید کو ان کے یومِ شہادت پر شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ اتوار کے روز وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اپنے پیغام میں کہا کہ وطنِ عزیز کے اس عظیم اور بہادر بیٹے کو پوری قوم کا سلام ہو، کیونکہ معرکہ کارگل کے فلک بوس پہاڑ کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی لازوال بہادری اور شجاعت کے چشم دید گواہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کیپٹن کرنل شیر خان شہید نے کارگل کے محاذ پر دفاعِ وطن کا فریضہ انجام دیتے ہوئے مقتدر جرات کے ساتھ دشمن کی فوج پر لرزہ طاری کر دیا تھا۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے شہید کے پُرعزم کردار کو سراہتے ہوئے مزید کہا کہ دشمن کا ہراول دستوں کی طرح بھرپور مقابلہ کرنے والا قوم کا یہ دلیر سپاہی آج بھی ہر پاکستانی کے دل میں زندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیپٹن کرنل شیر خان شہید نے بے مثال جرات سے لڑتے ہوئے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا اور جوانمردی و ملکی دفاع کی ایک ایسی مقتدر تاریخ رقم کی جو ہماری آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔ وزیرِ داخلہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کیپٹن کرنل شیر خان شہید جیسے بہادر اور پُرعزم جوانوں کی موجودگی میں کوئی بھی دشمن وطنِ عزیز پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا، اور پوری قوم اپنے ان مقتدر شہداء کی لازوال قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔
استنبول/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 جولائی 2026ء
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون، توانائی، روابط، ٹیکنالوجی، علاقائی امن اور عوامی سطح پر تعلقات سمیت پاکستان اور ترکیہ کی اسٹریٹجک شراکت داری کے تمام اہم پہلوؤں کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کردہ اپنے ایک مقتدر بیان میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے بتایا کہ تاریخی شہر استنبول میں صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات ان کے لیے باعثِ مسرت اور بڑا اعزاز تھی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کی گفتگو میں باہمی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر اتفاق ہوا ہے۔
وزیر اعظم نے واضح کیا کہ ملاقات کے دوران اس مشترکہ یقین کا اعادہ کیا گیا کہ مختلف علاقائی و عالمی اختلافات کے پائیدار حل اور عالمی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے مکالمہ، سفارت کاری اور باہمی احترام ہی واحد مؤثر اور دیرپا راستہ ہیں۔ انہوں نے صدر رجب طیب اردوان کی پرتپاک میزبانی پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں برادر ممالک نے اپنی شراکت داری کی بے پناہ صلاحیت سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے باہمی تجارت کے حجم کو پانچ ارب امریکی ڈالر کے متفقہ ہدف تک پہنچانے کے پُرعزم عزم کا دوبارہ اعادہ کیا ہے۔
اپنے دورے کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے استنبول میں منعقدہ پاکستان–ترکیہ بزنس کانفرنس میں بھی شرکت کی، جہاں انہیں ترکیہ کی متحرک کاروباری برادری کے ممتاز نمائندوں سے تفصیلی ملاقات کا موقع ملا۔ انہوں نے ترک تاجروں کے پُرعزم جذبے، جدت اور کاروباری صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس سے ان کے اس یقین کو مزید تقویت ملی ہے کہ صدر رجب طیب اردوان کی مدبرانہ قیادت میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی و تجارتی شراکت داری اب ایک نئے، مضبوط اور روشن دور میں داخل ہو رہی ہے۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے وفاقی حکومت کی پالیسی گائیڈ لائنز کے مطابق جون دو ہزار چھبیس کے لیے ری گیسیفائیڈ لیکوئڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی نئی قیمتوں کا تعین کر دیا ہے، جس کا باقاعدہ اطلاق یکم جون دو ہزار چھبیس سے ہوگا۔ جمعہ کے روز اوگرا کی جانب سے جاری کردہ مقتدر نوٹیفیکیشن کے مطابق، جون دو ہزار چھبیس سے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے ٹرانسمیشن ریٹ سترہ اعشاریہ نو تین نو چار (17.9394) امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اور ڈسٹری بیوشن ریٹ انیس اعشاریہ پانچ دو دو آٹھ (19.5228) امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کیے گئے ہیں۔ دوسری طرف، سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کے ٹرانسمیشن ریٹ سولہ اعشاریہ تین چھ سات نو (16.3679) امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اور ڈسٹری بیوشن ریٹ اٹھارہ اعشاریہ چھ تین چھ صفر (18.6360) امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو طے کیے گئے ہیں۔
نوٹیفیکیشن کے تزویراتی اعداد و شمار کے مطابق، مئی دو ہزار چھبیس کے مقابلے میں جون کے مہینے کے لیے ایس این جی پی ایل کے ٹرانسمیشن ریٹ میں دو اعشاریہ تین ایک پانچ سات (2.3157) امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (یعنی 14.82 فیصد) اور ڈسٹری بیوشن ریٹ میں دو اعشاریہ پانچ تین آٹھ ایک (2.5381) امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (یعنی 14.94 فیصد) کا مقتدر اضافہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح، ایس ایس جی سی ایل کے ٹرانسمیشن ریٹ میں دو اعشاریہ دو سات چار آٹھ (2.2748) امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (یعنی 16.14 فیصد) اور ڈسٹری بیوشن ریٹ میں دو اعشاریہ پانچ نو تین چار (2.5934) امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (یعنی 16.17 فیصد) اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔
ترجمان اوگرا نے اس مقتدر مہم کی تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جون دو ہزار چھبیس کے لیے آر ایل این جی کی ان قیمتوں کا حتمی تعین پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے تین کارگو اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) کے ایک اسپاٹ کارگو کی قیمتوں کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ اوگرا حکام کے مطابق، آر ایل این جی کی قیمتوں کا یہ تفصیلی نوٹیفیکیشن عوامی معلومات کے لیے اوگرا کی باقاعدہ ویب سائٹ پر بھی آن لائن فراہم کر دیا گیا ہے۔
حکومتِ پنجاب نے صوبائی انتظامیہ اور امن و امان کے نظام میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کرتے ہوئے راولپنڈی ڈویژن، ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے مجموعی طور پر پانچ اعلیٰ ترین افسران کو فوری طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کی جانب سے جاری کردہ الگ الگ نوٹیفیکیشنز کے مطابق، ان تبادلوں میں کمشنر، ڈپٹی کمشنر، سٹی پولیس آفیسر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر شامل ہیں، جنہیں فوری طور پر اپنے عہدے چھوڑنے اور نئی تعیناتی کے مقامات پر رپورٹ کرنے کے سخت احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ گورنر پنجاب کی حتمی منظوری سے جاری ہونے والے ان تمام احکامات پر فوری طور پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے۔
نوٹیفیکیشن کے مندرجات کے مطابق، کمشنر راولپنڈی ڈویژن محمد عبدالحکیم خٹک کا راولپنڈی سے تبادلہ کر دیا گیا ہے اور انہیں فوری طور پر سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب، لاہور رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جہاں بعد میں ان کی اگلی پوسٹنگ کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ضلعی انتظامیہ کی سطح پر راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر حسن وقار چیمہ کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا کر سروسز ڈیپارٹمنٹ لاہور رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ ان کی جگہ اب فیصل آباد کے ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ریٹائرڈ) ندیم ناصر کو راولپنڈی کا نیا ڈپٹی کمشنر تعینات کر دیا گیا ہے۔
ضلعی بیوروکریسی میں مزید اکھاڑ پچھاڑ کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) راولپنڈی کیپٹن (ریٹائرڈ) شہریار شیرازی کا بھی تبادلہ کر کے انہیں لاہور رپورٹ کرنے کا پابند کیا گیا ہے، جبکہ ان کی خالی ہونے والی نشست پر کیپٹن (ریٹائرڈ) طیب سمیع خان کو راولپنڈی کا نیا ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) مقرر کیا گیا ہے جو اس سے قبل لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) لاہور میں بطور ڈائریکٹر جنرل خدمات انجام دے رہے تھے۔ پولیس انتظامیہ اور تحصیل کی سطح پر بھی بڑی تبدیلیاں عمل میں لائی گئی ہیں، جہاں امن و امان کی نازک صورتحال کے پیشِ نظر سٹی پولیس آفیسر (سی پی او) راولپنڈی سید خالد محمود ہمدانی کو فوری طور پر تبدیل کر کے سنٹرل پولیس آفس پنجاب، لاہور رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ دوسری طرف، تحصیل کی سطح پر اسسٹنٹ کمشنر راولپنڈی (صدر) حاکم خان کو تبدیل کر کے ایڈمنسٹریشن ونگ سروسز ڈیپارٹمنٹ رپورٹ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں اور ان کی جگہ کوٹ مومن کے اسسٹنٹ کمشنر محمد اختر کو راولپنڈی کا نیا اسسٹنٹ کمشنر صدر تعینات کر دیا گیا ہے۔
ممتاز سیاستدان اور سینیٹر فیصل واوڈا نے رضا ڈار پر لگنے والے شرمناک الزامات کے بعد مقتدر نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے فوری طور پر عہدے سے استعفیٰ دینے کا مقتدر مطالبہ کر دیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کردہ اپنے ایک تندوتیز اور مقتدر بیان میں سینیٹر فیصل واوڈا نے سخت سوال اٹھایا کہ ان انتہائی سنگین الزامات کے سامنے آنے کے بعد اب کون اسحاق ڈار کے ساتھ پاکستان کے مقتدر پرچم تلے کھڑا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسحاق ڈار اس وقت ملک کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ بھی ہیں، اور اس وقت پورے پاکستان کو ایک فیملی کارپوریشن کی طرح چلایا جا رہا ہے۔
اپنے مقتدر مینوفیسٹو کے مطابق سینیٹر فیصل واوڈا نے انکشاف کیا کہ اسحاق ڈار کے مبینہ قریبی رشتے دار پر غیر ملکی خواتین کے ساتھ زیادتی، ہولناک تشدد اور بھتہ خوری جیسے مقتدر الزامات سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم مبینہ طور پر غیر ملکی خواتین کو بلا کر ان کے ساتھ درندگی کا مظاہرہ کرتا تھا، اور ایک غیر ملکی سفارت خانے کی براہِ راست اور تزویراتی مداخلت کے بعد ہی ملزم کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔ فیصل واوڈا نے سنگین خدشہ ظاہر کیا کہ اب اس ہائی پروفائل کیس کو مبینہ زیادتی کے بجائے محض بھتہ خوری کے معمولی کیس تک محدود کرنے کی مقتدر کوششیں تیزی سے جاری ہیں، جبکہ مظلوم غیر ملکی خواتین کو جلد از جلد ملک سے واپس بھیجنے کی تزویراتی تیاریاں کی جا رہی ہیں تاکہ اس مقتدر اسکینڈل کو دبایا جا سکے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس حساس کیس میں دفعہ ایک سو چونسٹھ کا اہم قانونی بیان اب تک دانستہ طور پر سامنے نہیں لایا گیا ہے۔ سینیٹر فیصل واوڈا نے الزام عائد کیا کہ ماضی کے مقتدر ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کیس میں بھی من پسند میڈیکل رپورٹس حاصل کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے جمہوریت پر وار کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے نام پر پانچ سو افراد کی ایک مخصوص ایلیٹ کلاس نے پورے ملک پر قبضہ کیا ہوا ہے اور وہ طویل عرصے سے ان جمہوری جماعتوں اور جمہوری جنازوں کو بے نقاب کرتے آ رہے ہیں۔ انہوں نے قوم کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ عوام خود دیکھ لے کہ اس مقتدر واقعے پر حکومت ہو یا اپوزیشن، کسی بھی سیاسی جماعت یا اس کے لیڈر کا کوئی مذمتی بیان سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ انہوں نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ کچھ مقتدر پاکستانیوں کے انٹرنیشنل اسکینڈلز اور مخصوص ویڈیوز جلد منظرِ عام پر آئیں گی۔
پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی مقتدر رسومات میں شرکت کے لیے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں۔ تہران کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر آمد کے موقع پر ایران کے وزیرِ دفاع، وزیرِ داخلہ اور پاسدارانِ انقلاب سمیت اعلیٰ سول و ملٹری حکام نے پاکستانی وفد کا پرتپاک اور مقتدر استقبال کیا۔
اس مقتدر دورے کے دوران آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر ایرانی قیادت، مقتدرہ کے ارکان اور سوگوار خاندان سے تعزیت کا اظہار کریں گے۔ وہ حکومتِ پاکستان، افواجِ پاکستان اور ملک کے غیور عوام کی جانب سے برادر ملک ایران کو اس گہرے صدمے پر تعزیت کا مقتدر پیغام پہنچائیں گے اور اس مشکل گھڑی میں پاکستان کی جانب سے مکمل تزویراتی یکجہتی اور مقتدر حمایت کا اعادہ کریں گے۔ یہ دورہ پاک ایران تاریخی اور برادرانہ تعلقات کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔
قومی یکجہتی، مذہبی رواداری اور بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ کی جانب ایک تاریخی پیش رفت کے طور پر قومی پیغامِ امن کمیٹی کے مختلف مذاہب اور مکاتبِ فکر پر مشتمل مشترکہ وفد نے پاکستان کے ممتاز ترین دینی ادارے جامعہ اشرفیہ لاہور کا دورہ کیا ہے جہاں انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ کی جانب سے وفد کا والہانہ اور پرتپاک استقبال کیا گیا۔ جامعہ اشرفیہ کی قیادت نے اس دورے کو قومی اتحاد اور مقتدر مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کی جانب ایک انتہائی مثبت اور تاریخی تزویراتی اقدام قرار دیا ہے۔
قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر اور چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی قیادت میں آنے والے اس اعلیٰ سطحی وفد میں مسیحی، ہندو، شیعہ اور سنی مکاتبِ فکر کے ممتاز ترین نمائندے شامل تھے۔ وفد میں بشپ کامران، رمیش کمار، بھگت لال کھوکھر، علامہ محمد حسین اکبر، علامہ عارف واحدی، مولانا ضیاء اللہ شاہ بخاری، مولانا انوارالحق، مولانا یوسف کشمیری، انجینئر عثمان، مولانا زاہد محمود، حافظ مقبول احمد، علامہ توقیر عباس، علامہ سلمان نقوی، اور مولانا اکبر آصف میر سمیت مختلف مکاتبِ فکر کے ممتاز علماء، مذہبی رہنما اور مقتدر دانشور بڑی تعداد میں شریک تھے۔ دورے کے دوران وفد اور جامعہ اشرفیہ کی مقتدر قیادت کے درمیان بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی، مذہبی رواداری، باہمی احترام، قومی اتحاد اور معاشرتی استحکام کے فروغ سے متعلق تفصیلی اور تعمیری تبادلۂ خیال کیا گیا، اور شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان میں امن، بھائی چارے، برداشت اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے تمام مذہبی و سماجی طبقات باہمی تعاون کے ساتھ اپنا کردار مزید مؤثر انداز میں جاری رکھیں گے۔
شرکاء نے اس مشترکہ دورے کو قومی ہم آہنگی کی تاریخ کا ایک اہم ترین سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ مختلف مذاہب اور مسالک کے نمائندوں کا ایک ہی مقتدر پلیٹ فارم پر متحد ہو کر ملک کے اتنے بڑے دینی ادارے کا دورہ کرنا اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کے تمام مذہبی طبقات امن، رواداری اور ملکی اتحاد کے مشترکہ تزویراتی ایجنڈے پر مکمل متفق ہیں۔ انہوں نے پُرعزم امید کا اظہار کیا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی کے تحت اس نوعیت کے مقتدر مشترکہ اقدامات نہ صرف بین المذاہب اور بین المسالک روابط کو مزید مضبوط بنائیں گے بلکہ ملک بھر میں مستقل امن، قومی یکجہتی اور باہمی احترام کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کریں گے۔ واضح رہے کہ پاکستان کی مقتدر تاریخ میں یہ پہلا منفرد موقع ہے کہ جب تمام مسالک و مذاہب کی اعلیٰ قیادت ایک دینی ادارے میں مشترکہ وفد کی صورت میں پہنچی اور ان کا بھرپور استقبال کیا گیا، جس پر قومی پیغامِ امن کمیٹی بلاشبہ مبارکباد کی مستحق ہے۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے پاکستانی جامعات کے تدریسی و فیکلٹی اراکین کے لیے جنوبی کوریا کی ممتاز سیول نیشنل یونیورسٹی کے مقتدر “پریذیڈنٹ فیلوشپ اسکالرشپ پروگرام” برائے اسپرنگ دو ہزار ستائیس کے تحت باقاعدہ درخواستیں طلب کر لی ہیں۔ ایچ ای سی کے مطابق، یہ تزویراتی اسکالرشپ جمہوریہ کوریا کی سیول نیشنل یونیورسٹی کی جانب سے پیش کی جا رہی ہے، جس کے لیے صرف پاکستانی جامعات کے فیکلٹی ممبران ہی درخواست دینے کے مقتدر اہل ہوں گے۔ خواہشمند اور اہل فیکلٹی اراکین کے لیے درخواستیں جمع کرانے کی مدت چھ جولائی سے نو جولائی دو ہزار چھبیس تک مقرر کی گئی ہے، جس کے بعد پورٹل بند کر دیا جائے گا۔
ایچ ای سی نے اپنے مقتدر اعلامیے میں واضح کیا ہے کہ وہ اس اسکالرشپ کی معلومات صرف سرکاری سفارتی ذرائع سے موصول ہونے کے بعد عام کر رہا ہے، جبکہ امیدواروں کے حتمی انتخاب، داخلے اور اسکالرشپ کی منظوری کا مکمل تزویراتی اختیار صرف سیول نیشنل یونیورسٹی کے پاس محفوظ ہوگا۔ اعلان کے مطابق، اس اسکالرشپ کے تحت ترقی پذیر ممالک کی جامعات میں خدمات انجام دینے والے ایسے تدریسی و تحقیقی فیکلٹی اراکین درخواست دے سکتے ہیں جو ابھی پی ایچ ڈی کی ڈگری نہیں رکھتے اور سیول نیشنل یونیورسٹی میں اسپرنگ دو ہزار ستائیس سیشن کے لیے پی ایچ ڈی پروگرام میں داخلہ حاصل کرنے کی تمام مطلوبہ مقتدر شرائط پوری کرتے ہوں۔
اس مقتدر فیلوشپ کے تحت منتخب ہونے والے خوش نصیب امیدواروں کو یونیورسٹی کی جانب سے مکمل ٹیوشن فیس، معقول ماہانہ وظیفہ، بین الاقوامی فضائی سفر کا ٹکٹ اور دیگر تمام مقتدر سفری و تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے دلچسپی رکھنے والے تمام ملکی امیدواروں کو سخت ہدایت کی ہے کہ وہ آن لائن درخواست دینے سے قبل اسکالرشپ کی اہلیت، شرائط اور درخواست کے پیچیدہ طریقہ کار کا بغور مطالعہ کر لیں اور کسی بھی تزویراتی غلطی سے بچنے کے لیے مقررہ مدت کے اندر اندر اپنی درخواستیں کامیابی سے جمع کرائیں۔
جنیوا/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء
وفاقی وزیرِ برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال سے جنیوا میں انڈونیشیا کے وزیرِ صحت نے ایک اہم تزویراتی ملاقات کی ہے، جس میں دونوں برادر ممالک کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون اور باہمی دلچسپی کے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزارتِ صحت کی طرف سے جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، اس ملاقات کے دوران پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون کے نظام کو مزید مضبوط بنانے پر مکمل اتفاق کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان گہرے برادرانہ اور تاریخی تعلقات موجود ہیں، جنہیں اب صحت کے شعبے میں مقتدر تعاون کے ذریعے مزید وسعت دی جائے گی۔
وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے ملاقات کے دوران پاکستان میں مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کو ملکی بقا کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ویکسین سازی کی قومی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے عملی اور تزویراتی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اہم ترین مقصد کے حصول کے لیے انڈونیشیا پاکستان کا ایک کلیدی اور قابلِ اعتماد ترقیاتی شراکت دار ہے، اور پاکستان انڈونیشیا کی جدید طبی ٹیکنالوجی اور وسیع تجربات سے بھرپور استفادہ کرنے کا خواہاں ہے۔ ملاقات میں پاکستان میں مقامی سطح پر ویکسین سازی کی اب تک کی پیش رفت اور اس ضمن میں جاری حکومتی اقدامات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔
انڈونیشیا کے وزیرِ صحت نے وفاقی وزیر سید مصطفیٰ کمال کے مقتدر عزم کو سراہتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ان کا ملک پاکستان میں مقامی سطح پر ویکسین سازی، جدید طبی ٹیکنالوجی کی منتقلی اور افرادی قوت کی استعدادِ کار میں اضافے کے حوالے سے ہر ممکن تزویراتی تعاون فراہم کرے گا۔ دونوں وزرائے صحت نے اس پُرعزم عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے عوام کو جدید، معیاری اور مؤثر طبی سہولیات کی بلاتعطل فراہمی کے لیے یہ مشترکہ مہم اور تزویراتی شراکت داری مستقل بنیادوں پر جاری رکھی جائے گی۔
وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی سے گجرات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احمد حسن مٹو کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح کے مقتدر وفد نے وزارتِ ریلوے میں اہم تزویراتی ملاقات کی ہے۔ ریلوے ترجمان کی طرف سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، وفد میں سابق ایم پی اے و سابق میئر گجرات حاجی ناصر محمود، سابق صدر گجرات چیمبر باؤ منیر احمد، ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین چوہدری عمران وڑائچ، عادل اشرف بھٹہ، عمران عباس، معصوم قمر، عبدالرحمن، عاقف سعید، عباس بٹ، قیصر لطیف، راجہ آصف، چیئرمین کمیٹی سرفراز نذر، سابق چیئرمین پولٹری ایسوسی ایشن حاجی زاہد محمود، حاجی جاوید اقبال اور چوہدری عدیل شامل تھے۔ ملاقات کے دوران ریلوے کے ذریعے ملکی تجارت کے فروغ، کارگو سروسز کو جدید بنیادوں پر مزید مؤثر بنانے، صنعتکاروں اور کاروباری برادری کو بہتر سہولیات کی فراہمی، لاجسٹکس کے نظام میں انقلابی بہتری اور گجرات سمیت مختلف صنعتی علاقوں کو ریلوے نیٹ ورک سے زیادہ فعال انداز میں منسلک کرنے سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران چیمبر کے وفد نے وفاقی وزیر کو کاروباری برادری کو درپیش مختلف مسائل اور اہم تجاویز سے آگاہ کیا اور ریلوے کارگو سروسز کو جدید خطوط پر استوار کرنے، سامان کی بروقت ترسیل اور نجی شعبے کے ساتھ تعاون بڑھانے کی ضرورت پر خصوصی زور دیا۔ وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ریلوے کو قومی معیشت کا مؤثر اور تزویراتی ستون بنانے اور ریلوے کے ذریعے ملکی تجارت و صنعت کے فروغ کے لیے حکومت ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کارگو آپریشنز کی استعداد بڑھانے، جدید سہولیات کی فراہمی اور کاروباری برادری کے ساتھ مسلسل مشاورت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے تاکہ ریلوے کو ملکی تجارت کے لیے ایک قابلِ اعتماد، تیز رفتار اور کم لاگت ذریعہ بنایا جا سکے۔ وفاقی وزیر نے وفد کو یقین دلایا کہ گجرات کی صنعتی برادری کی تمام قابلِ عمل تجاویز کا خیرمقدم کیا جائے گا اور پاکستان ریلوے کی کارکردگی، کارگو سہولیات اور تجارتی خدمات کو مزید بہتر بنانے کے لیے تمام مقتدر اقدامات اٹھائے جائیں گے، جس پر وفد نے وزیر ریلوے کی جانب سے مسائل کے حل کی یقین دہانی کو سراہا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین مقتدر اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران زرمبادلہ کے ملکی ذخائر میں مجموعی طور پر 3.954 ارب ڈالر کا نمایاں اور تزویراتی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق جون دو ہزار پچیس کے اختتام پر زرمبادلہ کے ملکی ذخائر کا کل حجم 18.091 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا، جس میں سے مرکزی بینک کے پاس 12.728 ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں کے پاس 5.363 ارب ڈالر کے ذخائر موجود تھے جو اس وقت ڈھائی ماہ کی ملکی درآمدات کے لیے کافی تھے۔ چوبیس جون دو ہزار چھبیس کو اختتام پذیر ہونے والے مالیاتی ہفتے تک زرمبادلہ کے ملکی ذخائر کی مجموعی مالیت بڑھ کر 22.045 ارب ڈالر کی مقتدر سطح تک پہنچ چکی ہے، جس میں اسٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم 16.527 ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں کے پاس 5.517 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس مالیاتی سفر کے دوران اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں مجموعی طور پر 3.799 ارب ڈالر کا بھاری اضافہ ہوا جبکہ کمرشل بینکوں کے زرمبادلہ کے ذخائر بھی 154 ملین ڈالر تک بہتر ہوئے۔ مالیاتی ماہرین اور مرکزی بینک کے حکام کے مطابق زرمبادلہ کے موجودہ ذخائر ملکی معاشی استحکام کے لیے انتہائی خوش آئند ہیں جو اب 2.91 ماہ کی ملکی درآمدات کی ضروریات کو باآسانی پورا کرنے کے لیے مؤثر اور کافی ہیں۔ اس مثبت تزویراتی ترقی سے ملکی کرنسی پر دباؤ میں کمی اور بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔
وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے نئے متعارف کردہ آن لائن حج رجسٹریشن نظام کو ملک بھر میں ریکارڈ پذیرائی حاصل ہوئی ہے، جس کے تحت پہلے گیارہ دنوں کے مختصر ترین عرصے میں دو لاکھ تین ہزار سات سو بائیس (2,03,722) عازمینِ حج نے گھر بیٹھے کامیابی سے اپنی ڈیجیٹل رجسٹریشن مکمل کر لی ہے۔ وزارتِ مذہبی امور کے ترجمان عمر بٹ نے جمعہ کے روز اپنے ایک مقتدر بیان میں اس ڈیجیٹل کامیابی کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس جدید نظام کے ذریعے اب تک ایک لاکھ اسی ہزار عازمین نے باقاعدہ ویب پورٹل کا استعمال کیا، جبکہ چوبیس ہزار سے زائد عازمین نے مخصوص موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے اپنی درخواستیں جمع کرائیں۔
ترجمان کے مطابق، اس سال عازمین کی بڑی تعداد نے سرکاری اسکیم پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے، جس کے تحت ایک لاکھ چوون ہزار سے زائد عازمین نے سرکاری جبکہ انچاس ہزار عازمین نے پرائیویٹ حج اسکیم کا انتخاب کیا ہے۔ صوبائی بریک ڈاؤن کے تزویراتی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پنجاب پچانوے ہزار عازمین کے ساتھ رجسٹریشن میں سب سے آگے ہے، جبکہ سندھ سے تریسٹھ ہزار، خیبرپختونخوا سے اٹھائیس ہزار، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے نو ہزار، بلوچستان سے پچپن سو، آزاد جموں و کشمیر سے بارہ سو اور گلگت بلتستان سے چھ سو عازمین نے اس جدید ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے اپنے پُرعزم سفری ارادے کو پایا۔
وزارتِ مذہبی امور نے اس نئے نظام میں مستقبل کی منصوبہ بندی کی سہولت بھی متعارف کرائی ہے، جس کے تحت سال دو ہزار اٹھائیس کے حج کے لیے چودہ سو، سال دو ہزار انتیس کے لیے ڈھائی سو، اور سال دو ہزار تیس کے طویل مدتی ارادے کے لیے ساڑھے تین سو عازمین نے ابھی سے اپنی دلچسپی کا مقتدر اظہار کر دیا ہے۔ ترجمان عمر بٹ نے مزید بتایا کہ اب تک رجسٹرڈ ہونے والے کل عازمینِ حج میں مردوں کی تعداد ایک لاکھ انیس ہزار جبکہ خواتین کی تعداد چوراسی ہزار پانچ سو ہے، اور یہ ڈیجیٹل عمل بغیر کسی تعطل کے انتہائی شفاف انداز میں جاری ہے۔
عالمی بینک نے پاکستان میں معاشی استحکام برقرار رکھنے، عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مالی وفاقیت کو مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔ عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ مقتدر رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں حکومت کی تینوں سطحوں یعنی وفاق، صوبوں اور مقامی حکومتوں کے درمیان مالی وسائل کی منصفانہ اور مؤثر تقسیم کو مضبوط بنانا معاشی بقا کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ سن دو ہزار دس کی تاریخی اصلاحات، یعنی آئین کی اٹھارہویں ترمیم اور ساتواں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ مالی وفاقیت کے فروغ کی جانب ایک اہم تزویراتی پیش رفت تھیں، جن کے تحت عوامی خدمات کی فراہمی سے متعلق متعدد اہم ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل کی گئیں اور ان کے مالی وسائل میں نمایاں اضافہ ہوا، تاہم مالیاتی نظام کی بعض ساختی کمزوریاں اب بھی مالی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور عوام تک معیاری خدمات کی مؤثر فراہمی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔
رپورٹ کے تزویراتی اعداد و شمار کے مطابق، سن دو ہزار دس سے دو ہزار چوبیس کے دوران صوبائی آمدنی مجموعی قومی پیداوار کے چار فیصد سے بڑھ کر اوسطاً ساڑھے چھ فیصد تک پہنچ گئی، تاہم پانچ مختلف دائرہ اختیار میں ٹیکس نظام کی تقسیم سے ٹیکس دہندگان پر عمل درآمد کی لاگت بڑھی اور محصولات میں اضافے کی گنجائش محدود ہوئی۔ دوسری جانب، زرعی شعبہ جو ملک کی مجموعی قومی پیداوار کا بیس فیصد سے زیادہ حصہ رکھتا ہے، اب بھی بڑی حد تک ٹیکس کے دائرے سے باہر ہے۔ پاکستان میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازر نے بتایا کہ پاکستان نے اختیارات کو عوام کے قریب منتقل کر کے تاریخی قدم اٹھایا، مگر اس کے مکمل فوائد ابھی حاصل ہونا باقی ہیں۔ مالی وسائل کو ذمہ داریوں کے مطابق ہم آہنگ کرنا، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا، اور اس بات کو یقینی بنانا کہ وسائل اسکولوں، صحت کے مراکز اور مقامی برادریوں تک موثر انداز میں پہنچیں، انتہائی ضروری ہے۔
رپورٹ میں اس تشویشناک امر کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ اختیارات کی منتقلی کے باوجود اب تک سرکاری اخراجات کو حقیقی ضروریات سے موثر طور پر ہم آہنگ نہیں کیا جا سکا۔ صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کا موجودہ فارمولا نہ تو مالی ضروریات کی مکمل عکاسی کرتا ہے اور نہ ہی صوبوں کو اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے موثر ترغیبات فراہم کرتا ہے۔ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد صوبائی اخراجات میں ہونے والے اضافے کا بڑا حصہ تعلیم اور صحت کے بجائے انتظامی اخراجات پر صرف ہوا، اور مالی سال دو ہزار تئیس میں مجموعی صوبائی اخراجات کا اسی فیصد سے زائد حصہ جاری اخراجات کی مد میں استعمال ہوا۔ اسی طرح اضلاع کے درمیان وسائل کی تقسیم غربت کی سطح یا عوامی خدمات کی حقیقی ضروریات کو مدنظر رکھنے کی بجائے اب بھی تاریخی بنیادوں پر ہو رہی ہے۔
عالمی بینک کے لیڈ کنٹری اکانومسٹ اور رپورٹ کے مرکزی مصنف ٹوبیاس حق نے بتایا کہ مالی وفاقیت کا موجودہ ڈھانچہ اس بات پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے کہ آیا بچے فعال اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور آیا صحت کے مراکز میں ضروری ادویات دستیاب ہیں یا نہیں۔ آئندہ متوقع این ایف سی ایوارڈ اس نظام میں بہتری کا ایک اہم مقتدر موقع فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے ایسے صوبوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے جو اپنی آمدنی بڑھانے اور عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے میں مؤثر کردار ادا کریں، جبکہ زیادہ وسائل ان علاقوں کو دیے جائیں جہاں ضرورت سب سے زیادہ ہے۔ رپورٹ میں مخصوص اصلاحاتی پروگرام کی سفارش کرنے کے بجائے مختلف قابلِ عمل تزویراتی تجاویز پیش کی گئی ہیں جنہیں نئے این ایف سی ایوارڈ اور موجودہ آئینی فریم ورک کے اندر نافذ کیا جا سکتا ہے۔ ان تجاویز میں وفاقی مالی وسائل کو ذمہ داریوں سے ہم آہنگ کرنا، ملکی محصولات میں اضافہ، مقامی حکومتوں کو زیادہ مستحکم مالی وسائل کی فراہمی، اور حکومت کی مختلف سطحوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کو فروغ دینا شامل ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف آج ایران اور ترکیہ کے مقتدر سرکاری دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی تزویراتی دورے کے پہلے مرحلے میں وزیراعظم ایران پہنچیں گے جہاں وہ ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی مقتدر رسومات میں شرکت کریں گے۔ اس اہم ترین دورے میں وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور کابینہ کے دیگر مقتدر ارکان پر مشتمل اعلیٰ سطح کا وفد بھی موجود ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ تہران میں قیام کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف ایرانی قیادت اور سوگوار خاندانوں سے خصوصی ملاقاتیں کریں گے اور پاکستانی عوام و حکومت کی جانب سے گہری تعزیت کا اظہار کریں گے۔ وہ اس مشکل اور گہرے غم کی گھڑی میں برادر ایرانی قوم اور مقتدرہ کے ساتھ پاکستان کی مکمل تزویراتی یکجہتی کا اعادہ کریں گے۔ دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ ایران کا یہ مقتدر دورہ مکمل کرنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کی خصوصی دعوت پر استنبول روانہ ہوں گے، جہاں دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ، باہمی تجارت کے حجم میں اضافے، سرمایہ کاری، اقتصادی تعاون اور علاقائی امن و سلامتی سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر اہم شعبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
استنبول میں اپنے قیام کے دوران وزیراعظم شہباز شریف پاکستان کی میزبانی میں منعقد ہونے والی ایک اہم اور تزویراتی بزنس کانفرنس سے خصوصی خطاب بھی کریں گے۔ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز، توانائی، آئی ٹی، تجارت اور نجکاری سمیت مختلف کلیدی شعبوں میں پاکستان کی سرمایہ کاری اور کاروباری صلاحیتوں کو عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے مؤثر انداز میں اجاگر کرنا ہے۔ اس مقتدر تقریب میں ترکیہ کی ممتاز کاروباری شخصیات، بڑے سرمایہ کار، اعلیٰ سرکاری حکام اور کاروباری برادری کے نمائندے بھرپور شرکت کریں گے۔ ترجمان دفترِ خارجہ نے واضح کیا کہ وزیراعظم کا ایران اور ترکیہ کا یہ دورہ دونوں برادر ممالک کے ساتھ پاکستان کے گہرے تاریخی، ثقافتی اور دیرینہ برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور باہمی تعاون کو مزید مستحکم بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
پاکستان نے عالمی ترقیاتی اقدام کی بھرپور تزویراتی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے مضبوط بین الاقوامی شراکت داری، مالی وسائل میں خاطر خواہ اضافے اور عملی اقدامات پر زور دیا ہے تاکہ دو ہزار تیس کے ترقیاتی ایجنڈے کے آخری پانچ برسوں میں اہداف کے حصول کی رفتار کو تیز کیا جا سکے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے گروپ آف فرینڈز آف دی جی ڈی آئی اور اقوامِ متحدہ کی ٹاسک فورس برائے دو ہزار تیس ایجنڈا کے نفاذ کے لیے شراکت داری کے فروغ کے موضوع پر منعقدہ تیسرے پالیسی ڈائیلاگ سے مقتدر خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی تعاون اور عملی ترقیاتی شراکت داری کے ذریعے مکالمے سے عملی نفاذ کی جانب پیش رفت کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے چائنا انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ کوآپریشن ایجنسی کی اجلاس میں شرکت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کا ایک قابلِ اعتماد اور تزویراتی ترقیاتی شراکت دار قرار دیا۔ انہوں نے یکجہتی، جنوب۔جنوب تعاون اور ترقی پذیر ممالک کے لیے عملی نتائج کے حصول کے پلیٹ فارم کے طور پر عالمی ترقیاتی اقدام سے پاکستان کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ مستقل مندوب نے پاکستان کی مقتدر ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے چین۔پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کے ذریعے صنعتی تعاون کے فروغ، آفات سے بحالی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے شہری لچک کو مضبوط بنانے، نیز غربت کے خاتمے اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے اس ضمن میں سماجی تحفظ کے پروگراموں میں پاکستان کے تجربات سے دیگر ممالک کو فائدہ پہنچانے کی تزویراتی پیشکش بھی کی۔
اپنے مقتدر خطاب کے دوران سفیر عاصم افتخار احمد کا کہنا تھا کہ غربت کے خاتمے اور غذائی تحفظ کے حوالے سے پاکستان گروپ آف فرینڈز کے دیگر ارکان کے ساتھ اپنے تجربات کا تبادلہ کرنے کے لیے تیار ہے، جن میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے قومی سماجی تحفظ کے اقدامات شامل ہیں اور ہم دلچسپی رکھنے والے شراکت داروں کے ساتھ اس بات پر بھی کام کرنے کے خواہاں ہیں کہ ایسے ماڈلز کو کس طرح مزید وسعت دی جا سکتی ہے یا مختلف ممالک کے حالات کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ترجیحی ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کے طریقۂ کار کو مزید واضح بنانے پر بھی زور دیا اور تجویز پیش کی کہ ٹاسک فورس کے تحت ایسا مؤثر فالو اپ نظام قائم کیا جائے جو رکن ممالک کی ترجیحات کو عملی منصوبوں اور ترقیاتی شراکت داری سے جوڑ سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چین، گروپ آف فرینڈز اور اقوامِ متحدہ کے ساتھ مل کر یہ اقدام ترقی پذیر ممالک کے لیے ٹھوس فوائد فراہم کرتا رہے گا، پاکستان اس مقتدر سفر میں ایک ثابت قدم شراکت دار ہے۔