ایران سے معاہدے یا دوبارہ جنگ؟ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار تک فیصلہ کرنے کا عندیہ دے دیا

محمود احمد May23,2026

واشنگٹن / نیوز اینڈ نیوز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے امکانات “ففٹی ففٹی” ہیں اور آئندہ چند روز میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ سفارتی راستہ اختیار کیا جائے یا دوبارہ سخت فوجی کارروائی کی جانب بڑھا جائے۔

امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ایک انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور وہ اپنی ٹیم کے ساتھ مشاورت کے بعد اتوار تک اہم فیصلہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں دو ہی امکانات موجود ہیں، یا ایک مضبوط اور مؤثر معاہدہ طے پا جائے گا یا پھر خطے میں شدید کشیدگی اور ممکنہ بمباری کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ صرف ایسے معاہدے کو قبول کرے گا جس میں ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام اور ذخائر سے متعلق تمام معاملات مکمل طور پر طے کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نہیں ہوگا جس سے ایران کو مستقبل میں جوہری صلاحیت بڑھانے کا موقع ملے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی مذاکراتی ٹیم اور قریبی مشیروں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں تاکہ ایران کی حالیہ تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق امریکہ اس وقت سفارتی حل کو ترجیح دے رہا ہے، تاہم تمام آپشنز بدستور میز پر موجود ہیں۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کی عسکری صلاحیت پہلے کے مقابلے میں کمزور ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کی گئی بعض پوسٹس بھی عالمی توجہ کا مرکز بن گئیں۔ صدر ٹرمپ نے امریکی پرچم کے رنگوں سے مزین ایران کا ایک نقشہ شیئر کیا، جس پر “یونائیٹڈ اسٹیٹس آف مڈل ایسٹ” کا جملہ تحریر تھا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس پوسٹ کو خطے میں جاری سفارتی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

اسی دوران ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے عالمی سطح پر قیاس آرائیاں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ خلیجی ممالک، یورپی سفارتی حلقے اور کئی بین الاقوامی طاقتیں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ آبنائے ہرمز اور مشرقِ وسطیٰ میں کسی بڑے فوجی تصادم سے بچا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے چند روز امریکہ اور ایران تعلقات کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو خطے میں ایک نئی کشیدگی جنم لینے کا خدشہ موجود ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

پاکستانی ثالثی کوششوں پر قطر اور امریکہ میں اہم مشاورت، امیرِ قطر اور صدر ٹرمپ کا خطے میں کشیدگی کم کرنے پر زور

محمود احمد May23,2026

دوحہ / نیوز اینڈ نیوز

دوحہ: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی تناؤ اور خلیجی خطے کی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، عالمی تجارتی راستوں کے تحفظ اور پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی و ثالثی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

قطری وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کو کسی بڑے تصادم سے بچانے، سفارتی رابطوں کو مؤثر بنانے اور خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر پاکستان کی قیادت میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری بیک ڈور سفارت کاری اور اعتماد سازی کی کوششوں کو بھی خاص اہمیت دی گئی۔

ذرائع کے مطابق امیرِ قطر اور امریکی صدر نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ حالات میں جنگ یا عسکری محاذ آرائی کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں، اس لیے مسائل کا حل مذاکرات، سفارت کاری اور مسلسل رابطوں کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ دونوں رہنماؤں نے اس امر پر زور دیا کہ خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان سمیت دیگر دوست ممالک کے کردار کو مزید فعال اور مؤثر بنایا جائے۔

ٹیلیفونک گفتگو میں ایران اور امریکہ کے درمیان پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خلیجی سمندری راستوں کی سیکیورٹی پر بھی تفصیلی مشاورت کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ عالمی تجارت، تیل و گیس کی ترسیل اور بین الاقوامی بحری سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے ضروری ہے کہ خطے میں استحکام برقرار رکھا جائے اور کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی سے گریز کیا جائے۔

امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے اس موقع پر کہا کہ قطر ہمیشہ سے تنازعات کے سیاسی اور پرامن حل پر یقین رکھتا آیا ہے اور موجودہ صورتحال میں بھی دوحہ خطے کے امن کے لیے ہر ممکن سفارتی کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد سازی کی کوششوں کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے کے استحکام کے لیے تمام ذمہ دار ممالک کو مشترکہ حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔

اعلامیے کے مطابق گفتگو میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ آبنائے ہرمز سمیت تمام اہم بحری راستوں پر تجارتی اور غیر فوجی جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنایا جائے تاکہ عالمی معیشت متاثر نہ ہو۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تناؤ کے باعث قطر، پاکستان، چین اور دیگر علاقائی ممالک مسلسل سفارتی رابطوں میں مصروف ہیں تاکہ کسی ممکنہ بحران کو روکنے کے لیے قابلِ عمل راستہ نکالا جا سکے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کی ایران اور دیگر خلیجی ممالک سے ملاقاتوں کو بھی اسی سفارتی کوشش کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

امیرِ قطر اور صدر ٹرمپ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خطے میں پائیدار امن، اقتصادی استحکام اور عالمی تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھی جائیں گی اور تمام تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی حمایت کی جائے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف چین پہنچ گئے، ہانگژو آمد پر پرتپاک استقبال، اہم ملاقاتوں اور اقتصادی مصروفیات کا آغاز

کاشف عباسی ,May 23 ,2026

ہانگژو / نیوز اینڈ نیوز

وزیراعظم شہباز شریف اپنے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ چین کے شہر ہانگژو پہنچ گئے، جہاں ژجیانگ صوبے کی اعلیٰ قیادت اور دونوں ممالک کے سفارتی حکام نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ وزیراعظم کے دورۂ چین کو پاکستان اور چین کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری، اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

شیاؤ شین ائیرپورٹ پر وزیراعظم شہباز شریف کا استقبال ژجیانگ صوبے کے نائب گورنر شو وینگوانگ، چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی اور پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائیڈونگ نے کیا۔ اس موقع پر چینی حکام اور سفارتی عملے کی جانب سے وزیراعظم اور پاکستانی وفد کے اعزاز میں خصوصی استقبالی انتظامات بھی کیے گئے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم اپنے دورے کے دوران چینی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے جن میں دوطرفہ تعلقات، سی پیک کے دوسرے مرحلے، تجارت، سرمایہ کاری، صنعتی تعاون، زرعی ترقی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور توانائی کے شعبوں میں اشتراک پر تفصیلی گفتگو ہوگی۔

دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف مختلف صنعتی و تجارتی اداروں کا دورہ بھی کریں گے جبکہ پاکستانی وفد کو جدید چینی صنعتی ماڈلز، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے متعلق بریفنگ دی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دورے میں کئی اہم معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی متوقع ہیں۔

حکومتی حکام کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ دوستی کو مزید مستحکم بنانے، صنعتی ترقی کو فروغ دینے اور اقتصادی تعاون کے نئے دروازے کھولنے کے لیے یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اپنے دورے کے دوران چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دیں گے اور حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات سے آگاہ کریں گے۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف؛ لیبیا کی خودمختاری، سیاسی استحکام اور انصاف کے یکساں نظام کی بھرپور حمایت

محمود احمد May23,2026

نیویارک/ نیوز اینڈ نیوز

اقوامِ متحدہ: پاکستان نے ایک بار پھر لیبیا کی خودمختاری، قومی وحدت اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ لیبیا میں پائیدار امن، سیاسی استحکام اور قومی مفاہمت کا واحد راستہ لیبیا کی قیادت اور ملکیت میں جاری سیاسی عمل ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں لیبیا اور بین الاقوامی فوجداری عدالت سے متعلق اہم اجلاس کے دوران اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو لیبیا میں امن کے قیام، ادارہ جاتی استحکام اور انصاف کے شفاف نظام کے فروغ کے لیے تعمیری کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی نائب پراسیکیوٹر نزہت شمیم خان کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ رپورٹ میں لیبیا سے متعلق تحقیقات، عدالتی تعاون اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ روابط میں پیش رفت ایک اہم پیشرفت ہے۔

پاکستانی مندوب نے اس بات کو خاص طور پر سراہا کہ لیبیا کی صورتحال میں پہلی مرتبہ ایک مشتبہ شخص کو عالمی عدالت کے حوالے کیا گیا، جس کے بعد ابتدائی عدالتی کارروائی کا آغاز ہوا۔ انہوں نے کہا کہ احتساب کا عمل صرف قانونی کارروائی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے قومی مفاہمت، سیاسی استحکام اور امن کے وسیع تر مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے زور دیا کہ بین الاقوامی احتسابی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے انصاف، غیرجانبداری، شفافیت اور یکساں طرزِ عمل ناگزیر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عالمی قوانین کا اطلاق تمام ممالک پر مساوی بنیادوں پر ہونا چاہیے اور کسی بھی معاملے میں انتخابی یا امتیازی رویہ بین الاقوامی نظام کے اعتماد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان روم اسٹیچوٹ کا فریق نہیں، تاہم پاکستان سنگین بین الاقوامی جرائم کے خلاف مؤثر، شفاف اور غیرجانبدار احتساب کے اصول کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی انصاف کا نظام اسی وقت مؤثر ثابت ہوسکتا ہے جب اس کا اطلاق سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر کیا جائے۔

پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 1970 پر عملدرآمد کے لیے بین الاقوامی فوجداری عدالت اور لیبیائی حکام کے درمیان تعاون اہم ہے، تاہم اس عمل میں لیبیا کی عدالتی خودمختاری، قومی اداروں اور داخلی معاملات کے احترام کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔

انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ لیبیا میں قومی سطح پر اداروں کو مضبوط بنانے، قانون کی حکمرانی کو فروغ دینے، عدالتی نظام کو مستحکم کرنے اور آئینی نگرانی کے عمل کو مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو طویل المدتی استحکام کی جانب لے جایا جا سکے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر پاکستان نے لیبیا میں امن، استحکام، قومی مفاہمت اور پائیدار ادارہ جاتی تعمیر کے لیے جاری تمام بین الاقوامی اور مقامی کوششوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی امن اور انصاف کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا

تہران میں سفارتی سرگرمیاں تیز، فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے، امریکہ اور ایران مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل

کاشف عباسی ,May 23 ,2026

اسلام آباد / تہران: نیوز اینڈ نیوز

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان جاری حساس مذاکرات ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں، جبکہ پاکستان اس پورے سفارتی عمل میں مرکزی کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ اسی سلسلے میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر جمعہ کے روز تہران پہنچ گئے، جہاں وہ ایرانی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔

پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ تہران جاری ثالثی اور سفارتی کوششوں کا حصہ ہے۔ تہران پہنچنے پر ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی نے ان کا استقبال کیا، جبکہ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ محسن نقوی گزشتہ کئی روز سے تہران میں موجود ہیں اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ حکام سے متعدد ملاقاتیں کر چکے ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست کشیدگی میں کمی لانے کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب مذاکرات ابتدائی بیانات اور سفارتی اشاروں سے آگے بڑھ کر عملی اور تفصیلی معاملات تک پہنچ چکے ہیں، جن میں آبنائے ہرمز کی صورتحال، ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں میں ممکنہ نرمی اور خطے میں فوجی کشیدگی روکنے کے نکات شامل ہیں۔

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اس معاملے میں پاکستان کو اپنا اہم رابطہ کار سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ مسلسل فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستانی حکام سے رابطے میں ہے اور پاکستان نے سفارتی پیش رفت میں قابلِ تعریف کردار ادا کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق قطر نے بھی امریکہ کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے تہران میں مذاکراتی ٹیم بھیج دی ہے، جبکہ سعودی عرب بھی پسِ پردہ سفارتی کوششوں میں متحرک ہے۔ علاقائی مبصرین کے مطابق خلیجی ممالک اب خطے میں کسی نئی جنگ کے بجائے سیاسی اور سفارتی حل کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ عالمی معیشت، تیل کی ترسیل اور بحری تجارت کو کسی بڑے بحران سے بچایا جا سکے۔

ادھر ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ افزودہ یورینیم مکمل طور پر حوالے کرنے کی شرط عائد کرتا ہے تو کسی معاہدے کا امکان کم ہو جائے گا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران اپنے دفاعی اور جوہری حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، تاہم سفارتی راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے۔

ذرائع کے مطابق موجودہ مذاکرات کسی مستقل معاہدے کے بجائے ایک عبوری اور محدود فریم ورک کی طرف بڑھ رہے ہیں، جس کے تحت جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی، مرحلہ وار پابندیوں میں نرمی اور آئندہ مذاکرات کے لیے ایک قابلِ عمل ٹائم لائن طے کی جا سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت خطے میں ایک متوازن اور مؤثر سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ چین بھی اس پورے عمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اطلاعات ہیں کہ بیجنگ پاکستان کے ذریعے پسِ پردہ سفارتی ہم آہنگی کو ترجیح دے رہا ہے۔

سیاسی و دفاعی حلقوں کے مطابق اگر موجودہ کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو یہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ بڑے تصادم کو روکنے میں مددگار ثابت ہوں گی بلکہ پاکستان کا عالمی سفارتی کردار بھی مزید مضبوط ہوگا۔

ایشیا پیسیفک خطے میں سائبر حملوں میں خطرناک اضافہ، اداروں کے لیے بڑا خطرہ پیدا ہوگیا

منصور احمد ,May 22,2026

تاوان کی غرض سے کیے جانے والے سائبر حملوں میں ایشیا پیسیفک دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ متاثرہ خطہ قرار

اسلام آباد: نیوز اینڈ نیوز

عالمی سائبر سکیورٹی کمپنی کیسپرسکی کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2025 کے دوران ایشیا پیسیفک خطہ تاوان کی غرض سے کیے جانے والے سائبر حملوں کا بڑا مرکز بن کر سامنے آیا، جہاں ہزاروں ادارے جدید رینسم ویئر حملوں سے متاثر ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق لاطینی امریکہ کے بعد ایشیا پیسیفک دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ متاثرہ خطہ رہا۔

کیسپرسکی سکیورٹی نیٹ ورک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں لاطینی امریکہ کے 8 اعشاریہ 13 فیصد ادارے رینسم ویئر حملوں کا شکار بنے، جبکہ ایشیا پیسیفک خطے میں یہ شرح 7 اعشاریہ 89 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ افریقہ 7 اعشاریہ 62 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا، جبکہ مشرقِ وسطیٰ، سی آئی ایس ممالک اور یورپ میں بھی سائبر حملوں کی نمایاں شرح دیکھی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں برس سائبر جرائم پیشہ گروہوں نے حملوں کے نئے اور زیادہ خطرناک طریقے اختیار کیے۔ ماہرین کے مطابق اب حملہ آور صرف کمپیوٹر سسٹمز لاک کرنے تک محدود نہیں رہے بلکہ حساس معلومات چرا کر انہیں لیک کرنے کی دھمکیاں دے کر اداروں کو بلیک میل کر رہے ہیں۔

کیسپرسکی کے سائبر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ رینسم ویئر گروپس مصنوعی ذہانت اور جدید خودکار ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے اپنے حملوں کو مزید پیچیدہ اور مؤثر بنا رہے ہیں، جس کے باعث مستقبل میں سائبر سکیورٹی اداروں کے لیے ان خطرات سے نمٹنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ “کلرز ای ڈی آر” نامی خطرناک ٹولز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، جو سکیورٹی سسٹمز کو غیر فعال کرکے رینسم ویئر حملوں کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسے ٹولز اداروں کے دفاعی نظام کو خاموشی سے ناکارہ بنا دیتے ہیں، جس کے بعد حملہ آور حساس ڈیٹا تک آسانی سے رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔

کیسپرسکی نے اپنی تحقیق میں بتایا کہ ٹیلیگرام چینلز اور ڈارک ویب فورمز اب بھی چوری شدہ معلومات، لاگ اِن تفصیلات اور خفیہ ڈیٹا کی خرید و فروخت کے بڑے مراکز بنے ہوئے ہیں، جہاں سائبر جرائم پیشہ عناصر عالمی سطح پر سرگرم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2025 میں سب سے زیادہ متحرک رینسم ویئر گروپ “قایلن” رہا، جبکہ “کلاپ” دوسرے اور “اکیرا” تیسرے نمبر پر موجود رہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 2026 میں “جینٹلمین” نامی نیا گروپ عالمی سائبر سکیورٹی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔

کیسپرسکی کے لیڈ سکیورٹی ریسرچر فیبیو ایسولینی نے کہا کہ رینسم ویئر اب ایک منظم مجرمانہ صنعت کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں حملہ آور جدید ٹیکنالوجی، چوری شدہ معلومات اور خودکار نظاموں کی مدد سے بڑے پیمانے پر حملے کر رہے ہیں۔ انہوں نے اداروں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے بیک اپ سسٹمز کو محفوظ بنائیں، جدید سکیورٹی سافٹ ویئر استعمال کریں اور ملازمین کی سائبر آگاہی پر خصوصی توجہ دیں۔

کیسپرسکی نے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ تمام کمپیوٹر سسٹمز اور سافٹ ویئر کو مسلسل اپ ڈیٹ رکھا جائے، جدید اینٹی رینسم ویئر ٹولز استعمال کیے جائیں اور سکیورٹی ٹیموں کی پیشہ ورانہ تربیت یقینی بنائی جائے تاکہ بڑھتے ہوئے سائبر خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

ایران کے خلاف امریکی کارروائی کے لیے پاکستانی فضائی حدود مانگنے کی کوئی درخواست نہیں ملی: دفتر خارجہ

منصور احمد ,May 22,2026

پاکستان اپنے پانی کے ایک قطرے پر بھی سمجھوتہ نہیں کرے گا، سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا

اسلام آباد: نیوز اینڈ نیوز

: ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملے کے لیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس حوالے سے کسی قسم کا باضابطہ یا غیر رسمی مطالبہ نہیں کیا گیا۔

ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور تمام معاملات سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے پاکستان مسلسل صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم فضائی حدود سے متعلق زیر گردش اطلاعات حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔

ترجمان نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے پانی کے ایک قطرے پر بھی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام قانونی اور سفارتی ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں کسی بھی فریق کے لیے یکطرفہ طور پر معاہدہ ختم کرنے کی کوئی شق موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت تنازعات کے حل کے لیے واضح قانونی طریقہ کار موجود ہے اور پاکستان نے انہی اصولوں کے تحت عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کیا۔ ترجمان کے مطابق عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے نے بھارت کے مغربی دریاؤں پر آبی کنٹرول کی حدود کو واضح کر دیا ہے اور پاکستان اس فیصلے کو حتمی اور دونوں ممالک کے لیے لازمی قرار دیتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت سندھ طاس معاہدے کے تحت پیدا ہونے والے تنازعات کے حل کے لیے قائم کی گئی ہے اور پاکستان بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنے مؤقف کا دفاع جاری رکھے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ “رن آف دی ریور” منصوبوں کو بھارت کے یکطرفہ مؤقف کے مطابق نہیں دیکھا جا سکتا اور پاکستان عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کو اطمینان بخش سمجھتا ہے۔

بریفنگ کے دوران ترجمان نے وزیراعظم شہباز شریف کے آئندہ دورۂ چین کی بھی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم 23 سے 26 مئی تک چین کا دورہ کریں گے جہاں وہ چینی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، علاقائی صورتحال اور مختلف ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

متحدہ عرب امارات میں پاکستانی شہریوں کی مبینہ بے دخلی سے متعلق سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اس حوالے سے گردش کرنے والے اعداد و شمار مبالغہ آمیز اور گمراہ کن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد مقیم ہے اور چند ہزار افراد کی واپسی کو مجموعی صورتحال کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

ترجمان نے واضح کیا کہ حکومت پاکستان متحدہ عرب امارات کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط اور دوستانہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں کے مسائل کے حل کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے۔

بھارت میں پاکستانی پنکھے کی مبینہ دریافت سے متعلق سوال پر ترجمان نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ دعویٰ بھی “پاکستانی کبوتر” جیسے پرانے اور بے بنیاد الزامات کی ایک نئی شکل ہے، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے کے درمیان سخت معاشی پالیسیوں پر اتفاق

کاشف عباسی ,May 22 ,2026

اسلام آباد: نیوز اینڈ نیوز

نئے مالی سال میں دو فیصد بنیادی بجٹ سرپلس ہدف برقرار رکھنے کا فیصلہ، مزید ٹیکس اقدامات متوقع

اسلام آباد: پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ اور معاشی حکمتِ عملی پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دونوں فریقین نے سخت مالیاتی اور مانیٹری پالیسی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت اور عالمی مالیاتی ادارہ معیشت کو مستحکم بنانے، مالی خسارہ کم کرنے اور ٹیکس نظام کو مزید وسعت دینے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی پر کام کر رہے ہیں۔

عالمی مالیاتی ادارے کے وفد نے 13 مئی سے 20 مئی تک اسلام آباد کا دورہ کیا، جس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے مالی سال 2026-27 کے لیے مجموعی قومی پیداوار کے دو فیصد کے برابر بنیادی بجٹ سرپلس برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق یہ ہدف مالیاتی استحکام اور معیشت کی مضبوطی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان بتدریج مالیاتی نظم و ضبط کو مزید سخت کرے گا، جبکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع بنانے، ٹیکس وصولی کے نظام کو بہتر کرنے، غیر ضروری اخراجات کم کرنے اور وفاقی و صوبائی سطح پر مالیاتی نظم و نسق کو مضبوط بنانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے مجموعی طور پر 860 ارب روپے سے زائد اضافی ریونیو اکٹھا کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے لیے تقریباً 15 ہزار 264 ارب روپے کا ٹیکس ہدف مقرر کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بجٹ مذاکرات کے دوران ٹیکس اصلاحات، توانائی شعبے کی بہتری، سرکاری اخراجات میں کمی اور معاشی اصلاحاتی پروگرام پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ دونوں فریقین نے حالیہ معاشی اشاریوں اور اصلاحات پر اطمینان کا اظہار کیا، تاہم آئندہ مالی سال کے مکمل بجٹ خدوخال پر ابھی حتمی اتفاق نہیں ہو سکا۔

ذرائع کے مطابق بجٹ سے متعلق مزید مذاکرات آئندہ چند روز میں آن لائن ذرائع کے ذریعے جاری رہیں گے تاکہ تمام مالیاتی اہداف اور پالیسی معاملات کو حتمی شکل دی جا سکے۔

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ سخت مالیاتی پالیسی اور ٹیکس اصلاحات کے باعث حکومت کو مہنگائی، کاروباری سرگرمیوں اور عوامی دباؤ جیسے چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے، تاہم معاشی استحکام اور بیرونی مالیاتی اعتماد کے لیے یہ اقدامات ضروری تصور کیے جا رہے ہیں۔

عالمی مالیاتی ادارے نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے محصولات میں اضافے، مالیاتی نظم و ضبط اور ادارہ جاتی اصلاحات پر مسلسل توجہ دینا ہوگی تاکہ طویل المدتی اقتصادی بہتری ممکن بنائی جا سکے۔

چین کے بغیر دنیا ترقی نہیں کر سکتی، پاکستان ہر مشکل وقت میں چین کو اپنے ساتھ پاتا رہا: وزیراعظم شہباز شریف

کاشف عباسی ,May 22 ,2026

اسلام آباد: نیوز اینڈ نیوز

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم کا ون چائنا پالیسی کی مکمل حمایت کا اعادہ، پاک چین دوستی کو خارجہ پالیسی کا اہم ستون قرار

اسلام آباد: پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے کی تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دنیا چین کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی، کیونکہ صنعتی، معاشی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں چین نے غیر معمولی ترقی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہر مشکل وقت میں چین کو ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد دوست کے طور پر اپنے ساتھ کھڑا پایا۔

اسلام آباد میں منعقدہ خصوصی تقریب اور تصویری نمائش سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاک چین تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی بنیاد باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ ترقی پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے ہمیشہ پاکستان کی غیر مشروط حمایت کی اور کبھی کسی سیاسی دباؤ یا شرائط کے تحت تعاون نہیں کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ چین کی ترقی پوری دنیا کے لیے ایک مثال بن چکی ہے اور جدید ٹیکنالوجی، صنعت، معیشت اور انفراسٹرکچر کے میدان میں چین کی کامیابیاں قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے معاشی اور ترقیاتی اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے۔

تقریب میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ چین کے ساتھ دوستی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور ہر آزمائش میں یہ رشتہ مزید مضبوط ہوا ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے چینی قیادت اور عوام کو سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات باہمی اعتماد، مسلسل تعاون اور مشترکہ ترقیاتی اہداف کی بنیاد پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مسلسل فروغ پا رہا ہے۔

صدر اور وزیراعظم نے ایک بار پھر ون چائنا پالیسی کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے حوالے سے اپنے مؤقف پر ثابت قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی اسٹریٹجک شراکت داری خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب توجہ زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، خصوصی اقتصادی زونز اور معدنیات کے شعبوں پر مرکوز کی جا رہی ہے تاکہ پاکستان کی معیشت کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔

تقریب کے دوران پاک چین دوستی کے 75 سال مکمل ہونے پر خصوصی تصویری نمائش بھی منعقد کی گئی، جس میں دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات، اہم ملاقاتوں، مشترکہ منصوبوں اور مختلف شعبوں میں تعاون کو تصویری انداز میں پیش کیا گیا۔ شرکاء نے نمائش کو سراہتے ہوئے پاک چین دوستی کو دنیا کی مثالی دوستی قرار دیا۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرقِ وسطیٰ (فلسطین) پر بریفنگ کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد کا بیان

محمود احمد May22,2026

نیویارک: نیوز اینڈ نیوز

اقوامِ متحدہ میں پاکستان نے غزہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ پر زور دیا ہے۔

پاکستانی نمائندے نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں گزشتہ دو برسوں سے جاری تباہ کن جنگ نے انسانی زندگی، بنیادی ڈھانچے اور پورے معاشرتی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والی محدود امید بھی اب مسلسل خطرات سے دوچار ہے جبکہ خطے کی مجموعی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔

پاکستان نے غزہ میں قیامِ امن اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے مصر، قطر، ترکیہ اور امریکا کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی ریاست اور عرب ممالک کے مؤقف کے ساتھ مکمل یکجہتی رکھتا ہے اور فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔

اجلاس میں غزہ کے انتظامی امور کے لیے قائم عبوری ڈھانچے، قومی انتظامی کمیٹی، سرکاری اداروں کی بحالی، پولیس فورس کی تشکیل اور فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ رابطوں میں پیش رفت کو مثبت قدم قرار دیا گیا، تاہم پاکستان نے واضح کیا کہ زمینی حقائق اب بھی انتہائی تشویشناک ہیں۔

پاکستانی نمائندے نے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی کارروائیاں، فضائی حملے اور انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹیں مسلسل جاری ہیں، جن کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان خلاف ورزیوں سے امن عمل کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور عالمی برادری کو اس صورتحال کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔

غزہ میں انسانی بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ لاکھوں فلسطینی اب بھی عارضی خیموں میں انتہائی خراب حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ صاف پانی، خوراک، ادویات اور طبی سہولیات کی شدید قلت برقرار ہے جبکہ بیشتر اسپتال جزوی طور پر کام کر رہے ہیں۔ خوراک کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ اور نکاسیٔ آب کے نظام کی تباہی نے بیماریوں اور وباؤں کے خطرات مزید بڑھا دیے ہیں۔

پاکستان نے غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے عالمی امدادی وعدوں کو عملی شکل دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صرف اعلانات کافی نہیں بلکہ متاثرہ فلسطینی عوام تک فوری مالی اور انسانی امداد پہنچنا ضروری ہے۔

پاکستانی نمائندے نے بین الاقوامی سمندری حدود میں امدادی قافلے “گلوبل صمود فلوٹیلا” کو روکنے اور انسانی امدادی کارکنوں کی گرفتاری کی شدید مذمت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار افراد میں پاکستانی سماجی کارکن سعد ایدھی بھی شامل ہیں اور ان تمام کارکنوں کی فوری رہائی یقینی بنائی جانی چاہیے۔

اجلاس میں مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیلی آبادکاری، فلسطینیوں کی بے دخلی اور مسجدِ اقصیٰ میں اشتعال انگیز کارروائیوں پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ پاکستان نے ان اقدامات کو بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات دو ریاستی حل کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

پاکستان نے زور دیا کہ غزہ سے متعلق امن منصوبے اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر مکمل عملدرآمد ناگزیر ہے۔ پاکستانی نمائندے نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کا واحد راستہ ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جو 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر قائم ہو اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہو۔

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار، ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر امریکی نگرانی کا دعویٰ کر دیا

محمود احمد May22,2026

:نیوز اینڈ نیوز

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ خلیجی خطے کی صورتحال پر امریکا کی مکمل نظر ہے اور آبنائے ہرمز میں عالمی بحری سرگرمیوں کی نگرانی مؤثر انداز میں جاری رکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا خطے میں کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کرے گا جس سے عالمی تجارتی راستے متاثر ہوں یا بحری نقل و حرکت میں رکاوٹ پیدا ہو۔

اپنے تازہ بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ سفارتی رابطے بدستور جاری ہیں اور واشنگٹن ایک ایسے معاہدے کی کوشش کر رہا ہے جس کے تحت ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارت کاری کو ترجیح دے رہا ہے، تاہم تمام ممکنہ آپشنز اب بھی زیر غور ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا نہیں چاہتا کہ افزودہ یورینیم ایران کے اندر محفوظ رکھا جائے، کیونکہ اس سے خطے کی سلامتی اور عالمی امن کے حوالے سے خدشات جنم لیتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کا حل جلد سامنے آ سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری رابطوں میں اہم پیشرفت متوقع ہے اور پاکستان کی سفارتی کوششیں اس عمل میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے ذریعے ایک اہم سفارتی وفد تہران پہنچ رہا ہے تاکہ جاری مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکے۔

مارکو روبیو کے مطابق امریکا اس معاملے کا پرامن حل چاہتا ہے، تاہم اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو واشنگٹن کے پاس دیگر راستے بھی موجود ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز میں کسی قسم کی اضافی بحری پابندیاں یا ٹیکس عالمی سفارتی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی دفاعی صلاحیت مکمل طور پر فعال ہے اور ملک کسی بھی بیرونی دباؤ یا جارحیت کا مقابلہ کرنے کی بھرپور طاقت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم اور مسلح افواج ملکی خودمختاری کے دفاع کے لیے متحد ہیں۔

ایرانی فوجی قیادت نے بھی واضح کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی یا اشتعال انگیزی کی گئی تو اس کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باوجود تہران سفارتی راستہ اختیار کرنے کے حق میں ہے، تاہم قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

عالمی سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری تناؤ نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو نہایت حساس بنا دیا ہے، جبکہ پاکستان، سعودی عرب، قطر اور دیگر علاقائی ممالک سفارتی ذرائع سے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں سرگرم ہیں

امریکہ۔ایران کشیدگی میں اہم سفارتی پیشرفت، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تہران پہنچ رہے ہیں، پاکستان کا ثالثی کردار مزید نمایاں

تہران / اسلام آباد:(نیوز اینڈ نیوز ) مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، امریکہ اور ایران کے درمیان جاری غیر یقینی صورتحال اور ممکنہ جنگی خطرات کے تناظر میں پاکستان کا سفارتی کردار ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر آج تہران پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ ایران کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔

ذرائع کے مطابق یہ دورہ نہ صرف پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اسے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید تناؤ میں کمی لانے کی کوششوں کا بھی اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت خطے میں ایک ذمہ دار اور متوازن ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے، جو جنگ کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دے رہا ہے۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ایران کے دو ہنگامی دورے کیے۔ مختصر عرصے میں پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کی جانب سے مسلسل رابطوں کو سفارتی ماہرین انتہائی غیر معمولی اور اہم قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان دوروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان پسِ پردہ رابطے اور پیغام رسانی ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

دفاعی ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اپنے دورۂ تہران کے دوران ایرانی صدر، اعلیٰ حکومتی شخصیات اور پاسدارانِ انقلاب کے سینئر کمانڈرز سے تفصیلی ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال، خلیج میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں، ایران کے جوہری پروگرام، امریکہ کے ممکنہ اقدامات اور جنگی خطرات سے بچنے کے لیے سفارتی راستوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کی کوشش ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی ممکنہ غلط فہمی یا فوجی تصادم کو روکا جا سکے اور کشیدگی میں کمی کے لیے ایک قابلِ عمل سفارتی فریم ورک تشکیل دیا جائے۔ اسی مقصد کے تحت پاکستان دونوں ممالک کے درمیان رابطے کے ایک قابلِ اعتماد ذریعے کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی ایسے اشارے دیے گئے ہیں کہ واشنگٹن فوری فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی حل کو ترجیح دینا چاہتا ہے۔ دوسری جانب ایران نے بھی بعض معاملات میں لچک دکھانے کے اشارے دیے ہیں، جس کے بعد خطے میں جنگ کے خدشات کے باوجود مذاکرات کے امکانات کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا رہا۔

خلیجی ممالک خصوصاً متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور قطر بھی خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں سرگرم دکھائی دے رہے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ان ممالک نے پاکستان کے ثالثی کردار کو مثبت قرار دیتے ہوئے اس عمل کی حمایت کی ہے، کیونکہ کسی بھی ممکنہ جنگ کی صورت میں پورا خطہ شدید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔

بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت نہایت محتاط اور متوازن سفارت کاری کے ذریعے ایک اہم علاقائی طاقت کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم ہوتی ہے تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک بڑی پیشرفت تصور کی جائے گی۔

سیاسی اور دفاعی حلقوں میں اس دورے کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی میڈیا بھی پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے چند روز مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور عالمی سفارتی منظرنامے کے لیے نہایت فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

پاکستان اور کویت کے درمیان بحری و توانائی شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

منصور احمد ,May 21,2026

اسلام آباد: (نیوز اینڈ نیوز ) پاکستان اور کویت کے درمیان بحری امور، توانائی ذخیرہ منصوبوں اور بندرگاہی انفراسٹرکچر میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں کویت کے سفیر ناصر عبدالرحمن جاسر المطیری نے وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری سے اہم ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی و تجارتی روابط کو مضبوط بنانے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر بحری امور نے کہا کہ پاکستان خطے میں تجارتی اور بحری سرگرمیوں کے حوالے سے ایک اہم مقام رکھتا ہے اور گوادر بندرگاہ اور پورٹ قاسم میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان ملکی معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے بحری اور توانائی شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

جنید انوار چوہدری نے بتایا کہ پاکستان میں ایل پی جی، ایل این جی اور خام تیل ذخیرہ کرنے کے بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے، جن میں کویت کی شراکت داری نہایت اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی ذخیرہ کرنے کی جدید سہولیات کے قیام سے نہ صرف ملکی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔

وفاقی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے اور کویتی سرمایہ کاروں کے لیے خصوصی مراعات اور آسان کاروباری ماحول فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کو نئی جہت دی جا سکے۔

کویتی سفیر ناصر عبدالرحمن جاسر المطیری نے پاکستان کے بحری اور توانائی منصوبوں میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کویت پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔ انہوں نے گوادر، پورٹ قاسم اور دیگر بندرگاہی منصوبوں کو خطے کی تجارت کے لیے اہم قرار دیا اور کہا کہ کویتی کمپنیاں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہیں۔

ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان میری ٹائم سیکٹر، بندرگاہی ترقی، توانائی انفراسٹرکچر اور تجارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔ فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور کویت کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون خطے میں معاشی استحکام اور ترقی کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہوگا۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمے کے فروغ سے متعلق پاکستان-فلپائن قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی

محمود احمد May20,2026

نیویورک :نیوز اینڈ نیوز


بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمہ پُرامن بقائے باہمی اور عالمی ہم آہنگی کے لیے ناگزیر ہے: سفیر عاصم افتخار احمد

اقوامِ متحدہ، 20 مئی 2026: اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے آج “امن کے لیے بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمے، افہام و تفہیم اور تعاون کے فروغ” کے عنوان سے دو سالہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی، جسے پاکستان اور فلپائن نے مشترکہ طور پر پیش کیا تھا اور جسے اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کی بڑی تعداد کی حمایت حاصل تھی۔

قرارداد پیش کرتے ہوئے اپنے خطاب میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے رکن ممالک کا ان کی تفہیم، لچک اور بھرپور حمایت پر شکریہ ادا کیا، بالخصوص قرارداد کے شریک بانی ممالک کی بڑھتی ہوئی تعداد کو سراہا، جو اقوامِ متحدہ کی وسیع نمائندگی کی عکاس ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ قرارداد آزادیِ اظہار کے حق کی توثیق کرتی ہے اور تمام ریاستوں کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ تمام انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے عالمی احترام، ان کے تحفظ اور ان پر عمل درآمد کو فروغ دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ قرارداد اس اصول کو بھی برقرار رکھتی ہے کہ مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر عدم برداشت کے واقعات کے ردِعمل میں تشدد کسی صورت قابلِ جواز یا قابلِ قبول نہیں ہوسکتا، اور نہ ہی ایسے تشدد کو کسی مذہب، قومیت، تہذیب یا نسلی گروہ سے منسوب کیا جانا چاہیے۔

پاکستانی مستقل مندوب نے مذاہب، ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان مکالمے کو عالمی برادری کی مشترکہ خواہش قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ باہمی افہام و تفہیم، پُرامن بقائے باہمی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسانیت کے دیرینہ خواب یعنی پائیدار امن اور خوشحالی کے حصول کے لیے ایک ایسی ثقافتِ امن کو فروغ دینا ضروری ہے جو تنوع اور شمولیت کو اپنائے، بنیادی حقوق اور آزادیوں کا تحفظ کرے، اور ان سماجی ڈھانچوں اور دقیانوسی تصورات کو مسترد کرے جو افراد، معاشروں، برادریوں اور ریاستوں کے درمیان تقسیم پیدا کرتے ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ یہ قرارداد اقوامِ متحدہ کے منشور اور یونیسکو کے دستور کے اصولوں سے رہنمائی حاصل کرتی ہے اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ پائیدار امن، برداشت، مکالمے اور اقوام و معاشروں کے درمیان تعمیری روابط کے ذریعے ہی قائم کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی جذبے کے تحت پاکستان اور فلپائن نے متعدد شریک بانی ممالک کی حمایت سے یہ دو سالہ قرارداد پیش کی تاکہ بین الثقافتی اور بین المذاہب یکجہتی اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سال قرارداد کو تکنیکی طور پر برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی تاکہ وہ بنیادی پیغام محفوظ اور دوبارہ اجاگر کیا جاسکے جسے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78ویں اجلاس میں متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ گزشتہ برسوں کے دوران پیش رفت ہوئی ہے، تاہم ان عظیم مقاصد کے مکمل حصول کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غیرملکیوں سے نفرت، نسل پرستی اور عدم برداشت آج بھی موجود ہیں، جو اس امر کا تقاضا کرتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم سمیت ہر سطح پر امن اور ہم آہنگ بقائے باہمی کے فروغ کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی فٹبال سازی کو عالمی خراجِ تحسین، “ٹرائیوناڈو” فٹبال جنرل اسمبلی کی صدر کو پیش

محمود احمد May20,2026

نیو یارک : نیوز اینڈ نیوز

اقوامِ متحدہ، 20 مئی 2026: دنیا کے مقبول ترین کھیل فٹبال میں پاکستان کی دیرینہ اور نمایاں خدمات کو آج اقوامِ متحدہ میں بھرپور انداز میں اجاگر کیا گیا، جب پاکستان کے مستقل مندوب سفیرعاصم افتخار احمد نے عالمی یومِ فٹبال 2026 اور فیفا ورلڈ کپ کے سلسلے میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر محترمہ اینالینا بیئربوک کو پاکستان میں تیار کردہ ایڈیڈاس “ٹرائیوناڈو” فٹبال پیش کی۔

اس موقع پر پاکستان کے عالمی معیار کے فٹبال تیار کرنے والے ملک کے طور پر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ کردار کو اجاگر کیا گیا، جبکہ بالخصوص سیالکوٹ کے ہنرمند کاریگروں کی مہارت کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جو دنیا کے بڑے کھیلوں کے مقابلوں کے لیے اعلیٰ معیار کی فٹبالیں تیار کرتے آرہے ہیں۔

اس موقع پر نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز کے تاریخی نارتھ لان میں دوستانہ فٹبال میچز بھی منعقد ہوئے، جن میں سفارتکاروں، سابق فٹبال کھلاڑیوں اور اقوامِ متحدہ کے عملے نے شرکت کی۔ یہ تقریب دوستی، اتحاد اور کھیل کے جذبے کی بھرپور عکاس تھی۔

شرکاء نے علاقائی ٹیموں کی صورت میں مقابلوں میں حصہ لیا اور قومی و جغرافیائی اختلافات سے بالاتر ہو کر “خوبصورت کھیل” کی یکجہتی پیدا کرنے والی قوت کا جشن منایا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں کہا:

“یہ پاکستان کے لیے انتہائی فخر کی بات ہے کہ ہمارے باصلاحیت مزدوروں اور ہنرمند کاریگروں کے تیار کردہ فٹبال عالمی کھیلوں کے اعلیٰ ترین مقابلوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ پاکستان کی فٹبال سازی کی صنعت نہ صرف غیرمعمولی مہارت اور معیار کی عکاس ہے بلکہ ہمارے لوگوں کی محنت، عزم اور فنی صلاحیتوں کی بھی مظہر ہے۔”

انہوں نے مزید کہا:

“سیالکوٹ میں عالمی معیار کی فٹبالوں کی تیاری کے ذریعے پاکستان کھیلوں، دوستی اور عالمی یکجہتی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا آرہا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں آج کی یہ تقریب اس بات کا عملی اظہار تھی کہ فٹبال مختلف ثقافتوں اور اقوام کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی غیرمعمولی صلاحیت رکھتا ہے۔”

سفیرعاصم افتخار احمد نے پاکستان کے فٹبال سازوں کو ملک کے عالمی تشخص کو اجاگر کرنے میں ان کی دیرینہ خدمات پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا:

“ہم اپنے فٹبال سازوں پر بے حد فخر کرتے ہیں، جو اپنی غیرمعمولی مہارت اور فٹبال سازی کے فن میں اعلیٰ معیار کے ذریعے ملک کے لیے مسلسل اعزاز کا باعث بن رہے ہیں۔”

یہ تقریب کھیلوں کو امن، شمولیت، یکجہتی اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر اجاگر کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ کی وسیع تر کوششوں کا حصہ تھی۔

ایران کا امریکا کو سخت انتباہ، صدر ٹرمپ کی نئی حملوں کی دھمکی، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

کاشف عباسی ,May 20 ,2026

رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز

واشنگٹن / تہران: ایران نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر جارحانہ اقدامات جاری رہے تو خطے میں “نئے محاذ” کھول دیے جائیں گے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو معاہدے کے لیے محدود وقت دیتے ہوئے ایک اور بڑے حملے کی دھمکی دے دی۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں، جب آپ کسی ملک کو بری طرح شکست دے رہے ہوں تو وہ مذاکرات کی میز پر آتا ہے اور معاہدے کی درخواست کرتا ہے۔”

امریکی صدر نے مزید کہا کہ اگر ضروری ہوا تو ایران کو “ایک اور بڑا دھچکا” دیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کسی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق تہران کے پاس واشنگٹن کے ساتھ معاہدے کے لیے صرف چند دن باقی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممکنہ پیش رفت جمعہ، ہفتہ، اتوار یا اگلے ہفتے کے آغاز تک سامنے آسکتی ہے۔

دوسری جانب ایرانی فوج نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو “اسٹریٹجک غلطی” سے باز رہنے کا انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی نئی جارحیت کا جواب وسیع اور سخت ہوگا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

قطر نے بھی بیان دیا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے مزید وقت درکار ہے، جبکہ سفارتی ذرائع کے مطابق خطے کے کئی ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے پسِ پردہ رابطوں میں مصروف ہیں۔

ادھر متحدہ عرب امارات نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے عراقی سرزمین سے چھوڑے گئے چھ ڈرون تباہ کر دیے ہیں۔ اماراتی حکام کے مطابق ڈرون حملوں کا مقصد حساس تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا، تاہم فضائی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے خطرہ ٹال دیا۔

خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری نقل و حرکت اور دھمکی آمیز بیانات کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ایک بار پھر انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے، جبکہ عالمی برادری ممکنہ بڑے تصادم کے خدشات پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔

امریکی مسجد پر حملے میں جاں بحق سیکیورٹی گارڈ کو ہیرو قرار دے دیا گیا

محمود احمد ,May 20 ,2026

رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز

واشنگٹن: امریکی ریاست کیلیفورنیا میں واقع اسلامک سینٹر آف سان ڈیاگو پر فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق ہونے والے سیکیورٹی گارڈ امین عبداللہ کو بہادری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ پولیس اور مسلم کمیونٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کی بروقت کارروائی نے درجنوں جانیں بچا لیں۔

امریکی حکام کے مطابق مسجد کمپلیکس پر دو نوجوان حملہ آوروں نے پیر کے روز اندھا دھند فائرنگ کی، جسے تفتیشی ادارے ممکنہ نفرت انگیز جرم قرار دے رہے ہیں۔ دونوں مشتبہ حملہ آور، جن کی عمریں سترہ اور اٹھارہ برس بتائی جا رہی ہیں، بعد ازاں ایک قریبی گاڑی سے مردہ حالت میں پائے گئے، جہاں ابتدائی تحقیقات کے مطابق انہوں نے خود کو گولیاں مار کر زندگی کا خاتمہ کیا۔

پولیس چیف اسکاٹ وال نے امین عبداللہ کے کردار کو “غیر معمولی بہادری” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ فوری ردعمل نہ دیتے تو جانی نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔

مسجد سے ملحقہ اسکول کے سابق عملے کے ارکان نے بھی کہا کہ امین عبداللہ کی حاضر دماغی نے حملہ آوروں کو اُن کلاس رومز تک پہنچنے سے روک دیا جہاں بچے موجود تھے۔

امام طٰہٰ حسانے کے مطابق امین عبداللہ نے ریڈیو کے ذریعے فوری طور پر اساتذہ اور عملے کو خبردار کیا، جس کے بعد بچوں اور نمازیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

واقعے کے بعد امریکی مسلم کمیونٹی میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے، جبکہ مختلف مذہبی و سماجی رہنماؤں نے مسجد پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے نفرت انگیز واقعات پر تشویش ظاہر کی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حملے کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ وفاقی ادارے بھی واقعے کی چھان بین میں شامل ہو گئے ہیں۔

عرب ممالک کی مداخلت پر امریکا نے ایران پر ممکنہ فوجی حملہ مؤخر کردیا

محمود احمد May19,2026

رپورٹ:نیوز اینڈ نیوز

سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی سفارتی کوششیں کامیاب، صدر ٹرمپ نے ایران سے سنجیدہ مذاکرات جاری رہنے کی تصدیق کردی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا نے ایران پر ممکنہ فوجی حملہ عرب ممالک کی درخواست پر مؤخر کر دیا ہے، جبکہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات نے خطے میں جنگ روکنے اور سفارتی حل کو موقع دینے پر زور دیا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی منگل کے روز کی منصوبہ بندی کا حصہ تھی، تاہم سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کی درخواست کے احترام میں حملہ روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔

صدر ٹرمپ کے مطابق خلیجی رہنماؤں نے یقین دہانی کرائی کہ ایران کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ ممکن ہے جو خطے کے استحکام اور عالمی امن کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ایران کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

امریکی صدر نے واضح کیا کہ اگر جاری سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں اور کوئی قابل قبول معاہدہ طے نہ پا سکا تو امریکی افواج ایران کے خلاف جامع فوجی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن نے اسرائیل کو بھی اس فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے اور ایران کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان مسلسل رابطہ برقرار ہے۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں اور خلیجی ممالک کو یقین ہے کہ ایک معاہدہ ممکن ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایرانی قیادت پر دباؤ بڑھا چکا ہے اور اب فیصلہ کن مرحلہ قریب آ رہا ہے۔

دوسری جانب ایرانی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران نے امریکا کو ایک نظرثانی شدہ دستاویز پیش کی ہے، جس میں جنگ بندی، اعتماد سازی اور ممکنہ معاہدے سے متعلق نئی تجاویز شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے بین الاقوامی ضمانتوں کا مطالبہ کیا ہے جبکہ افزودہ یورینیم روس منتقل کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

رپورٹس کے مطابق پاکستان کی سفارتی اور ثالثی کوششوں کے بعد سعودی عرب، قطر اور دیگر خلیجی ممالک نے بھی سرگرم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں کشیدگی میں وقتی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں جنگ کی صورت میں صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک اور تباہ کن ہو سکتی ہے۔

ادھر ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب فضائی دفاعی نظام کو ہائی الرٹ کر دیا ہے جبکہ امریکا بھی خلیج میں اپنی بحری اور فضائی موجودگی مزید مضبوط بنا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ اس وقت انتہائی حساس مرحلے سے گزر رہا ہے اور آنے والے دن خطے کی صورتحال کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کا مارخور کے تحفظ میں کامیابیوں کا اظہار، پہاڑی حیاتیاتی تنوع کے لیے عالمی تعاون پر زور

محمود احمد May19,2026

نیوز اینڈ نیوز رپورٹ

اقوام متحدہ / نیویارک: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ مارخور پاکستان کے لیے صرف ایک جنگلی جانور نہیں بلکہ قومی وقار، بقا اور قدرتی حسن کی علامت ہے، جبکہ اس کے تحفظ کے لیے عالمی تعاون وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

انہوں نے یہ بات اقوام متحدہ میں “مارخور اور پہاڑی حیاتیاتی تنوع: ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے عالمی کوششوں کا فروغ” کے عنوان سے منعقدہ “مارخور کے عالمی دن 2026” کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

تقریب کا انعقاد پاکستان اور تاجکستان کے مستقل مشنز نے اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام اور عالمی ادارہ برائے تحفظِ قدرت کے تعاون سے کیا، جس میں سفارت کاروں، ماحولیاتی ماہرین اور عالمی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ “پہاڑوں کا بادشاہ” کہلانے والا مارخور چترال، کوہستان، کالام، گلگت بلتستان، بلوچستان اور آزاد جموں و کشمیر کے بلند پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا ہے اور یہ پاکستان کے قدرتی ورثے کا اہم حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک دہائی قبل معدومی کے خطرے سے دوچار مارخور کی آبادی میں نمایاں اضافہ پاکستان کی مؤثر تحفظی پالیسیوں، مقامی برادریوں کی شمولیت اور مضبوط سیاسی عزم کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی تحفظی حکمتِ عملی، جس میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ پروگرام بھی شامل ہیں، اس کامیابی میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ موسمیاتی تبدیلی مارخور کے قدرتی مسکن کو شدید متاثر کر رہی ہے۔ درجہ حرارت میں اضافے، بارشوں میں کمی اور جنگلاتی تبدیلیوں کے باعث مارخور کے لیے خوراک اور محفوظ ماحول کے مسائل بڑھ رہے ہیں، جبکہ برفانی چیتوں اور دیگر شکاری جانوروں کی نقل و حرکت نے بھی صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

سفیر عاصم نے کہا کہ غیر قانونی شکار کے خلاف کامیابیوں کے باوجود یہ خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور اس سے نمٹنے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تاجکستان کی ماحولیاتی تحفظ کمیٹی کے چیئرمین بہادر شیر علی زادہ نے بتایا کہ ان کے ملک میں مارخور کی تعداد 1990 کی دہائی میں 300 رہ گئی تھی، جو اب بڑھ کر 7 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے ڈائریکٹر جمیل احمد نے کہا کہ پہاڑی علاقے دنیا کے دیگر خطوں کی نسبت زیادہ تیزی سے موسمیاتی تبدیلی کا شکار ہو رہے ہیں، جس سے گلیشیئرز، پانی کے ذخائر اور حیاتیاتی تنوع کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

عالمی ادارہ برائے تحفظِ قدرت کی مستقل مبصر سوفی سینڈسٹروم جافے نے کہا کہ مارخور کی بحالی اس بات کا ثبوت ہے کہ جب مقامی برادریوں کو بااختیار بنایا جائے اور سائنسی رہنمائی کے ساتھ بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیا جائے تو مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

تقریب کے اختتام پر مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مارخور کے عالمی دن کو حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، پہاڑی ماحولیاتی نظام کی بحالی اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے ایک مؤثر عالمی پلیٹ فارم بنایا جائے گا۔

غزہ جانے والے امدادی قافلے پر اسرائیلی کارروائی، سعد ایدھی سمیت 100 سے زائد کارکن گرفتار

کاشف عباسی ,May 19 ,2026

رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز

کراچی / استنبول: معروف سماجی رہنما فیصل ایدھی کے صاحبزادے اور مرحوم عبدالستار ایدھی کے پوتے سعد ایدھی کو اسرائیلی فورسز نے غزہ جانے والے عالمی امدادی قافلے کے دیگر کارکنوں سمیت حراست میں لے لیا۔ اطلاعات کے مطابق مشرقی بحیرہ روم میں امدادی فلوٹیلا کے کم از کم 10 جہازوں کو روک کر کارروائی کی گئی۔

فلوٹیلا منتظمین کے مطابق اسرائیلی فورسز نے “گلوبل صمود فلوٹیلا” کے جہازوں کو بین الاقوامی سمندری حدود میں روکا، جبکہ مجموعی طور پر 23 کشتیوں سے رابطہ منقطع ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

اسرائیلی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری بیان میں کہا کہ غزہ پر عائد “قانونی بحری ناکہ بندی” کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دوسری جانب فیصل ایدھی نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ دوپہر تقریباً ایک بجے اسرائیلی فورسز نے قبرص کے قریب امدادی قافلے کو روک کر اس میں شامل افراد کو گرفتار کر لیا، جن میں ان کے صاحبزادے سعد ایدھی بھی شامل ہیں۔

انہوں نے پاکستانی دفتر خارجہ سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ “یہ گرفتاریاں بین الاقوامی پانیوں میں کی گئیں، جہاں اسرائیل کو کارروائی کا کوئی حق حاصل نہیں تھا۔ اسرائیلی فورسز نے غیر قانونی طور پر انہیں حراست میں لیا ہے اور ان کے مقام کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔”

فیصل ایدھی نے بتایا کہ سعد ایدھی بطور پاکستانی شہری غزہ کے جنگ متاثرہ عوام کے لیے خوراک اور ادویات لے کر جا رہے تھے، جبکہ قافلے میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 500 کارکن شریک تھے۔

انہوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ اسرائیلی کارروائی کے خلاف آواز اٹھائی جائے اور غزہ میں جاری “انسانی المیے” کو روکا جائے۔

قبل ازیں سعد ایدھی نے بھی غزہ صمود فلوٹیلا سے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا: “میں سعد ایدھی، ایک پاکستانی شہری ہوں۔ اگر آپ یہ ویڈیو دیکھ رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ مجھے روکا جا چکا ہے یا گرفتار کیا جا رہا ہے۔”

میڈیا رپورٹس کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں آئرلینڈ کے صدر کی بہن اور اٹلی کی ایک خاتون رکن پارلیمنٹ بھی شامل ہیں۔

انسانی حقوق کمیشن پاکستان (HRCP) نے اسرائیلی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے