سعودی عرب میں بازوں (فالکنز) کی نیلامی کے نئے اور جدید قواعد کا باقاعدہ اعلان: صرف نیلامی سے خریدے گئے پرندے 13.33 ملین ڈالر انعامی رقم والے مقابلوں میں حصہ لینے کے اہل ہوں گے

محمود احمد, JULY 30,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

سعودی عرب میں باز پروری، روایتی کھیل اور فالکنری کی اعلیٰ ترین بین الاقوامی مارکیٹ کو مزید وسعت دینے کے لیے سعودی حکام اور ‘انٹرنیشنل فالکن بریڈرز آکشن’ نے اپنے 2026ء ایڈیشن کے لیے ایک جدید اور انقلابی پالیسی فریم ورک کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ نئے اور باضابطہ قواعد و ضوابط کے تحت، آئندہ صرف انہی بازوں (فالکنز) کو سعودی عرب میں منعقد ہونے والی مقامی اور بین الاقوامی فالکن چِک ریسنگ اور مختلف دیگر مقابلوں میں حصہ لینے کا قانونی اہل قرار دیا جائے گا جو اس رسمی نیلامی کے ذریعے خریدے گئے ہوں گے۔ اس دور رس اور منفرد اقدام کا بنیادی مقصد باز پالنے والوں (بریڈرز)، بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور خواہش مند خریداروں کے لیے مارکیٹ میں نئے معاشی مواقع پیدا کرنا اور خریداروں کی دلچسپی کو مزید بڑھا کر تجارتی سرگرمیوں کو تاریخی اوج پر پہنچانا ہے۔

نئے قوانین و قواعد کے طریقہ کار کے مطابق، انٹرنیشنل فالکن بریڈرز آکشن کی نیلامی کے ذریعے خریدا جانے والا ہر نیا پرندہ لاگو قوانین کے تحت تمام ریسنگ کیٹیگریز میں حصہ لینے کی سند اور اہلیت خود بخود حاصل کر لے گا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں اب شاہی مملکت کے اندر خرید و فروخت کے تمام معاشی فیصلے ‘نیشنل سینٹر فار فالکنز’ کے زیرِ اہتمام یا مشترکہ طور پر منعقد ہونے والے مقابلے اور ریسنگز کے ساتھ براہِ راست منسلک ہو چکے ہیں۔ واضح رہے کہ ان تمام اعلیٰ سطحی اور معتبر مقابلوں میں کل انعامی رقم کو تقریباً 13.33 ملین امریکی ڈالر تک بڑھا دیا گیا ہے، جو کہ دنیا بھر کے شائقین کے لیے ایک بے نظیر اور کشش کا باعث رقم ہے۔

اس نئی ترغیبی پالیسی کے نفاذ سے نیلامی میں سرمایہ کاروں اور خریداروں کا حجم اور تجارتی کشش انتہائی تیز رفتاری سے بڑھنے کی توقع ہے۔ صنعت کے ماہرین کا ماننا ہے کہ محض نسل، جینیاتی افزائش کے معیار اور پرندے کی ابتدائی قیمت کے علاوہ، اب ممکنہ خریدار فالکن کی بہترین ریسنگ صلاحیت، پرواز کی استعداد اور اس کی مخصوص نسل کی عمومی کارکردگی کا بھی گہرا جائزہ لیں گے۔ اس اقدام سے خصوصی طور پر ‘میلواہ ریسنگ’ کیٹیگری کے لیے موزوں اور سستے و معیاری فالکنز کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوگا۔ دوسری جانب اعلیٰ نسل اور تیز ترین رفتار کے حامل پرندوں کی افزائشِ نسل کو بین الاقوامی سطح پر فروغ ملے گا جو خطے میں فالکنری کی معاشی و ثقافتی صنعت کو ایک نیا نکتہِ عروج عطا کرے گا

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سلامتی کونسل اصلاحاتی مذاکرات 81 ویں اجلاس تک جاری رکھنے کا اہم فیصلہ: پاکستان نے اختلافات مٹانے اور سب کے لیے برابر نمائندگی پر زور دے دیا

محمود احمد, JULY 30,2026

اقوامِ متحدہ/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سلامتی کونسل میں بنیادی و ادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق جاری بین الحکومتی مذاکرات کے عمل کو آئندہ ستمبر میں شروع ہونے والے 81 ویں اجلاس کے دوران بھی تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے کا اہم، متفقہ اور حتمی فیصلہ صادر کر لیا ہے۔ پاکستان نے جنرل اسمبلی کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس اصلاحاتی عمل اور بین الحکومتی مذاکرات کو 15 رکنی سلامتی کونسل کو دنیا بھر کی زیادہ سے زیادہ اقوام کے لیے مؤثر، جمہوری اور حقیقی معنوں میں نمائندہ بنانے کے لیے “واحد بااعتماد اور جائز فورم” قرار دیا ہے اور تمام ارکان پر اپنے شدید ترین سیاسی اختلافات کو کم سے کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نو تعینات یا مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے 193 رکنی جنرل اسمبلی سے اپنا اہم خطاب پیش کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کا اصلاحاتی عمل اقوامِ متحدہ کے سامنے درپیش انتہائی اہم ترین اور حساس ادارہ جاتی اقدامات میں سے ایک ہے۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بغیر کسی ووٹنگ کے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ ستمبر 2026ء سے شروع ہونے والے 81 ویں اجلاس کے دوران اصلاحاتی بات چیت کا یہ عمل باقاعدگی سے جاری رہے گا۔ یاد رہے کہ اصلاحات اور مذاکرات کا یہ عمل اب اپنے 18 ویں سال میں باقاعدہ داخل ہو چکا ہے، جس کے دوران 17 طویل ادوار مکمل ہونے کے باوجود اصلاحات سے متعلق کئی بنیادی پہلوؤں پر تاحال کامل اتفاقِ رائے حاصل نہیں کیا جا سکا ہے۔ سلامتی کونسل کے تمام پانچ بنیادی شعبوں بشمول رکنیت کے زمرے، ویٹو کا طریقہ کار و استعمال، علاقائی متناسب نمائندگی، توسیع شدہ سلامتی کونسل کا حتمی سائز اور جنرل اسمبلی کے ساتھ کونسل کے تعلقات پر گہرا تبادلہِ خیال جاری ہے۔ اس وقت سلامتی کونسل 5 مستقل اور 10 غیر مستقل ارکان پر مشتمل ہے، جن میں تبدیلی اور توسیع پر مختلف ممالک کے واضح اور برعکس گروپس بنے ہوئے ہیں۔

اصلاحات کے اس عمل میں بھارت، برازیل، جرمنی اور جاپان پر مشتمل ‘گروپ آف فور’ سلامتی کونسل میں اپنے لیے نئی مستقل نشستوں کے حصول کا مطالبہ کرتے ہوئے کل 10 نئی نشستیں چاہتے ہیں۔ تاہم دوسری جانب اٹلی اور پاکستان کی بھرپور قیادت میں فعال ‘یونائٹنگ فار کنسنسس’ گروپ نے کسی بھی ملک کو اضافی مستقل نشستیں دینے کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے اور طویل المدت کے لیے منتخب ہونے والی ایسی نئی غیر مستقل نشستوں کا حل تجویز کیا ہے جن پر جمہوری طریقے سے دوبارہ انتخاب ممکن بنایا جا سکے۔ پاکستانی مندوب عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ اصلاحات کا مقصد خودمختار مساوات، جمہوریت اور احتساب ہونا چاہیے، نہ کہ ایک قسم کی اجارہ داری کو ختم کر کے دوسری قسم کی خصوصی مراعات پر مبنی اجارہ داری قائم کرنا۔ انہوں نے مذاکراتی شریک سربراہان (کویت اور نیدرلینڈز) کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے حتمی عزم دہرایا کہ پاکستان “سب کے لیے اصلاحات، کسی کے لیے خصوصی مراعات نہیں” کے رہنما اصول پر قائم رہے گا۔

مشرقِ وسطیٰ کی عسکری کشیدگی عالمی مہنگائی کے لیے بڑا خطرہ، آسٹریلیا کا ایندھن کے ذخائر میں کمی پر شدید تشویش کا اظہار

محمود احمد, JULY 28,2026

کینبرا (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جولائی 2026ء

آسٹریلیا نے متنبہ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ شدت اختیار کرتی ہوئی کشیدگی اور عسکری بحران عالمی سطح پر مہنگائی کے لیے ایک نیا اور ہولناک خطرہ بن سکتا ہے۔ چینی خبر رساں ادارے ’شنہوا‘ کے مطابق یہ اہم ترین بیان آسٹریلیا کے وزیرِ خزانہ جم چالمرز نے وزارتِ خزانہ کی خصوصی بریفنگ کے دوران دیا ہے۔ انہوں نے دنیا کو خبردار کیا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی فراہمی کے متوقع بحران سے نمٹنے کے لیے دنیا کے پاس اس وقت پہلے جیسے مضبوط حفاظتی ذخائر موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ رواں سال فروری میں امریکہ-ایران جنگ کے ابتدائی مرحلے پر تیل کی قیمتوں میں آنے والے جھٹکے کو متبادل راستوں اور ہنگامی ذخائر سے قابو کر لیا گیا تھا، مگر اب وہ ذخائر نمایاں طور پر کم ہو چکے ہیں۔ جم چالمرز نے زور دیا کہ معاشی بنیادوں پر اس جنگ کا مستقل اور پائیدار خاتمہ جتنی جلد ممکن ہو اتنا ہی بہتر ہے۔ آسٹریلوی بجٹ 2026-27ء کے منفی تجزیے کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ مزید پھیلی تو ستمبر کی سہ ماہی تک خام تیل کی قیمت 200 امریکی ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہے، جس سے آسٹریلیا میں مہنگائی کی شرح 7.25 فیصد تک پہنچنے کا شدید خدشہ ہے۔

پاکستان کا یوکرین تنازع کے خاتمے کے لیے فوری جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کی بحالی پر زور؛ اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کا سلامتی کونسل سے خطاب

محمود احمد, JULY 28,2026

نیویارک/اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

پاکستان نے یوکرین میں جاری تصادم اور فوجی شدت میں مسلسل اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ عام شہریوں اور حیاتیاتی بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے حملے نہ صرف سنگین انسانی المیے کو جنم دے رہے ہیں بلکہ اس کے منفی اثرات عالمی سطح پر غذائی اور توانائی کی سیکیورٹی کو بھی شدید متاثر کر رہے ہیں، جس کا سب سے زیادہ خمیازہ غریب اور ترقی پذیر ممالک کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے شہریوں، شہری تنصیبات اور انسانی امداد فراہم کرنے والے والے اداروں پر ہونے والے اٹیکس کی شدید مذمت کی اور تمام متنازع فریقوں سے مطالبات کیے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین اور انسانی حقوق کی پاسداری کو ہر صورت یقینی بنائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس تنازع کا کوئی عسکری حل ممکن نہیں ہے اور پائیدار امن کی واحد راہ صرف اور صرف سنجیدہ، مسلسل اور باہمی سفارتی مذاکرات سے ہی نکل سکتی ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں اس بات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2774 کی منظوری کو 17 ماہ کا طویل عرصہ بیت جانے کے باوجود جنگ کے خاتمے اور پائیدار امن کی بحالی کے مقاصد حاصل نہیں کیے جا سکے۔ انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ قرارداد 2774 پر روح کے مطابق مکمل عمل درآمد کروایا جائے اور خطے میں فوری و بلا مشروط جنگ بندی کا نفاذ یقینی بنایا جائے تاکہ سفارت کاری، گفتگو اور سیاسی حل کے لیے سازگار اور پرامن ماحول میسر آ سکے۔ پاکستانی مندوب نے اس عزم کو دہرایا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور، تمام فریقین کے جائز سلامتی خدشات اور کثیرالجہتی بین الاقوامی معاہدوں سے ہم آہنگ حل ہی آگے بڑھنے کا واحد ذریعہ ہے، اور پاکستان اس تنازع کے ایک منصفانہ، جامع اور جامع پرامن تصفیے کے لیے کی جانے والی تمام عالمی کوششوں کی بلا مشروط حمایت جاری رکھے گا۔

یورپی یونین کا روس پر پابندیوں کا طریقہ کار تبدیل کرنے پر غور؛ فنانشل ٹائمز کا انکشاف

محمود احمد, JULY 27,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

یورپی یونین روس کے خلاف اقتصادی و سیاسی پابندیاں عائد کرنے کے اپنے برسوں پرانے اور روایتی فریم ورک میں بنیادی تبدیلیوں پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ برطانوی اخبار ’فنانشل ٹائمز‘ کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق، برسلز میں پالیسی ساز اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پابندیوں کی منظوری کے موجودہ نظام میں اہم اصلاحات کی شدید ضرورت ہے۔ یہ صورتِ حال اور پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب یونان نے روس کے خلاف پابندیوں کے حالیہ اور انتہائی اہم پیکج کی منظوری کو مسلسل کئی ہفتوں تک روکے رکھا اور بلاآخر اپنی معیشت اور نجی شعبے کی بقا کی خاطر ایک بڑی کامیابی حاصل کی۔ رپورٹس کے مطابق، یونانی حکومت نے یورپی یونین کے اجلاسوں میں اس وقت تک نئے پابندیوں کے مسودے کی تائید اور توثیق سے صاف انکار کر دیا تھا جب تک کہ دیگر تمام یورپی ممبر ممالک نے یونان کی ایک معروف اور بڑی شپنگ کمپنی ’ڈائنا گیس‘ کو روس کے ساتھ تجارت کے حوالے سے خصوصی استثنا دینے پر مکمل رضامندی ظاہر نہیں کی۔

فنانشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ یونان کا بنیادی مقصد اپنی کمپنی کے بحری جہازوں کو اس بات کی قانونی اجازت دلوانا تھا کہ وہ یورپی یونین کی حد سے باہر کے تیسرے ممالک تک روسی مائع قدرتی گیس کی تجارتی ترسیل بلا تعطل جاری رکھ سکیں۔ یونانی حکام کا موقف تھا کہ اگر ان کی شپنگ انڈسٹری پر یہ یکطرفہ پابندیاں نافذ کی گئیں تو اس سے نہ صرف یونانی معیشت کو اربوں ڈالر کا ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا بلکہ عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی چین بھی شدید متاثر ہوگی۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق، یہ یورپی یونین کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ روس کے خلاف اجتماعی اور متفقہ اقتصادی پابندیوں کے فریم ورک کے دوران کسی مخصوص ملک کی درخواست پر ایک خاص تجارتی کمپنی کو یوں واضح اور بڑی نرمی دی گئی ہے۔ اس واقعے نے بلاواسطہ طور پر اس حقیقت کو بھی طشت از بام کر دیا ہے کہ ماسکو کے خلاف برسلز کی جانب سے عائد کی جانے والی اقتصادی پابندیوں کے اثرات اور نقصانات یورپی یونین کے تمام 27 رکن ممالک پر ایک جیسے مرتب نہیں ہوتے، بلکہ ساحلی اور تجارتی لحاظ سے متحرک ممالک کو اس کا زیادہ معاشی خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔

یونان کی جانب سے ملنے والی اس کامیابی اور مسلسل تاخیر کے بعد، اب برسلز کے اعلیٰ حکام اور یورپی کمیشن میں اس بنیادی نقطے پر گہرا غور و خوض جاری ہے کہ مستقبل میں روس یا کسی بھی دیگر ملک کے خلاف پابندیوں کا منظوری کا عمل کس طرح پیش کیا جائے۔ یورپی سفارت کاروں کے مطابق، اب یہ تجویز زیرِ غور ہے کہ آئندہ ایک ہی بڑا، پیچیدہ اور جامع پابندیوں کا پیکج لانے کے بجائے چھوٹے، انفرادی اور مخصوص موضوعاتی پیکجز تیار کر کے انہیں مرحلہ وار منظور کروایا جائے۔ اس نئی مجوزہ حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اگر مستقبل میں کسی ایک یا دو رکن ممالک کو کسی مخصوص شعبے پر تحفظات ہوں یا وہ اپنے قومی معاشی مفادات کی خاطر ویٹو پاور کا استعمال یا فیصلے میں تاخیر کریں، تو اس کے باعث پورے پابندیوں کے پلان اور دیگر اہم شقوں کی منظوری بالکل معطل نہ ہو جائے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یورپی یونین اس نئے طریقہ کار کو اپناتی ہے تو یہ یورپی اتحاد کی خارجہ پالیسی اور فیصلوں کی رفتار کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ روسی توانائی پر یورپی ممالک کا انحصار اور معاشی ترجیحات اب بھی اتحاد کی یکجہتی پر حاوی دکھائی دیتی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ایران جنگ کے حوالے سے 3 آپشنز زیرِ غور؛ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا بڑا دعویٰ

محمود احمد, JULY 27,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے روسی خبر رساں ادارے ’تاس‘ کی رپورٹ کے حوالے سے ایک سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ شدید ہوتی ہوئی عسکری کشیدگی کے تناظر میں مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے تین بنیادی اختیارات پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ اخبار کے مطابق ان تین راستوں میں سے پہلا اختیار ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینا اور جنگ میں شدت لانا ہے، دوسرا اختیار ایران کی معیشت کو مفلوج کرنے کے لیے اس پر غیر معمولی اور انتہائی سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنا ہے، جبکہ تیسرا اختیار امریکہ کی جانب سے میدانِ جنگ میں اپنی “فتح” کا باقاعدہ اعلان کر کے جنگ سے مکمل دستبرداری اختیار کرنا ہے۔ نیویارک ٹائمز نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکی انتظامیہ اور پینٹاگون کے اعلیٰ حکام گزشتہ پانچ ماہ سے جاری اس خونریز تصادم کے باوجود اپنے طے شدہ اہداف حاصل کرنے میں مسلسل ناکام رہے ہیں، جن میں زبردست عسکری طاقت کے استعمال کے ذریعے ایران میں حکومت کی تبدیلی کا بنیادی مقصد بھی شامل تھا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ان تینوں آپشنز پر غور و خوض کے لیے وائٹ ہاؤس اور دفاعی اداروں کے درمیان اعلیٰ سطحی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین، صدر کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ متعدد اہم اور بند کمرہ اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔ ان تمام ملاقاتوں میں ماہرین اور عسکری حکام نے ان تینوں میں سے ہر ایک راستے کے ممکنہ نتائج، خطرات اور فائدے پر تفصیل سے بحث کی ہے۔ نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کے ایک حصے کا ماننا ہے کہ ایران پر مزید دباؤ بڑھایا جائے، جبکہ دوسرا فریق اس بات کا معترف ہے کہ ایران کے خلاف کھلی جنگ امریکہ کے لیے سفارتی، معاشی اور جیو پولیٹیکل سطح پر ایک دلدل ثابت ہو رہی ہے اور امریکہ کو فتح کا اعلان کر کے اس غیر سود مند لڑائی کو جلد از جلد ختم کر دینا چاہیے۔

یہ تمام تر صورتِ حال اس تناظر میں پیدا ہوئی ہے جب روان سال 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ نے مشترکہ طور پر ایران کے متعدد علاقوں اور فوجی تنصیبات پر شدید حملے کیے تھے۔ اس واقعے کے بعد اگرچہ پاکستان کی مؤثر سفارتی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے اور عارضی فائر بندی قائم ہو گئی تھی، لیکن یہ زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ 8 جولائی کو امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر ایرانی حملے کا بہانہ بنا کر ایران پر دوبارہ حملے شروع کر دیے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی دن اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ اس کے فوری جواب میں ایران نے بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات، قطر اور اردن سمیت پورے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی عسکری اڈوں اور تنصیبات کو ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا، جس سے پورا خطہ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ بعد ازاں 24 جولائی کو فریقین نے ایک بار پھر ایک دوسرے پر براہِ راست حملے عارضی طور پر روک دیے تھے۔

تاہم، حملے رکنے کے باوجود تہران کا موقف انتہائی سخت نظر آتا ہے۔ ایرانی عسکری قیادت اور پاسدارانِ انقلاب نے واضح کیا ہے کہ امریکی بمباری رکنے کے باوجود آبنائے ہرمز پر ان کا کنٹرول بلاشرکتِ غیرے برقرار ہے اور عالمی سطح پر تیل کی نقل و حمل کی اس اہم ترین شاہراہ پر وہ اپنی گرفت کمزور نہیں ہونے دیں گے۔ مزید برآں، ایرانی وزارتِ خارجہ نے واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو منقطع کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ پہلے خود کھلی جارحیت کا مظاہرہ کرتا ہے اور پھر بات چیت کا ڈرامہ رچاتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کا یہ سخت موقف اور واشنگٹن کا اپنے مقاصد میں ناکام ہونا، صدر ٹرمپ کو تیسرے اختیار کی طرف مائل کر سکتا ہے تاکہ وہ بغیر کسی بڑے معاشی اور جانی نقصان کے اس جنگ سے امریکی فوج کو نکال سکیں۔

امریکی دفاعی صنعت میں چینی نایاب معدنیات کا بحران؛ 2027 کی متبادل سپلائی چین کی آخری تاریخ پر عدم اطمینان کا خدشہ

محمود احمد, JULY 27,2026

واشنگٹن/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

امریکی دفاعی صنعت چین سے پاک نایاب معدنیات کی سپلائی چین قائم کرنے کی مقررہ آخری تاریخ کو پورا کرنے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہے، جس کے باعث تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کو بالآخر چینی نژاد معدنیات کے استعمال میں کچھ نرمی دینے یا استثنیٰ دینے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔

قانون اور آخری تاریخ

امریکی وفاقی قانون کے تحت یکم جنوری 2027ء سے ہر امریکی دفاعی ٹھیکیدار کے لیے لازم ہوگا کہ وہ سرٹیفائی کرے کہ اس کے نایاب ارتھ میگنٹس کی تیاری کے کسی بھی مرحلے — کان کنی سے لے کر حتمی میگنٹ کی تیاری تک — میں چین، روس، ایران یا شمالی کوریا کا کوئی کردار شامل نہیں۔ یہ پابندی سماریئم-کوبالٹ اور نیوڈیمیم میگنٹس پر لاگو ہوگی جو جدید لڑاکا طیاروں، میزائلوں کے راستہ متعین کرنے والے نظاموں اور جوہری آبدوزوں سمیت جدید ترین امریکی ہتھیاروں کے نظام میں استعمال ہوتے ہیں۔

صنعت کو درپیش مشکلات

ماہرین کے مطابق امریکہ میں گھریلو سطح پر نایاب معدنیات کی پروسیسنگ کی صلاحیت ابھی تک اس پیمانے پر موجود نہیں جو واشنگٹن کو درکار ہے۔ بڑے دفاعی ادارے اپنے ہزاروں ذیلی سپلائرز کا آڈٹ کر رہے ہیں تاکہ 2027ء کے مکمل تعمیل کے تقاضے پورے کیے جا سکیں، تاہم گھریلو “کان سے میگنٹ تک” سپلائی چین کی تعمیر میں طویل وقت درکار ہے اور چین کی مضبوط اجارہ داری اس عمل کو مزید مشکل بنا رہی ہے۔

امریکی محکمہ دفاع نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں ایک امریکی معدنیات کمپنی میں 400 ملین ڈالر کی حصص خریداری، ایک اور امریکی نایاب ارتھ کمپنی کو 1.6 ارب ڈالر کی امداد کا خط، اور 12 ارب ڈالر مالیت کا اسٹریٹجک ذخیرہ شامل ہے۔ اس کے باوجود امریکہ ہر سال چین سے تقریباً 10 ہزار ٹن نایاب ارتھ میگنٹس درآمد کرتا ہے، اور یہ طلب دفاعی و توانائی کے شعبوں میں مسلسل بڑھ رہی ہے۔

استثنیٰ کا امکان

قانون کے تحت اگر کسی معدنیات کا غیر چینی متبادل دستیاب نہ ہو تو ٹھیکیدار استثنیٰ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ ایسے استثنیٰ نایاب ہی دیے جائیں گے۔ تاہم صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنوری 2027ء تک گھریلو پیداواری صلاحیت مطلوبہ سطح تک نہ پہنچ سکی تو کئی اہم دفاعی پروگراموں کو یا تو تاخیر کا سامنا کرنا پڑے گا یا پھر انہیں استثنیٰ کے عمل پر انحصار کرنا ہوگا — جسے قانون خود ایک غیرمعمولی اقدام کے طور پر دیکھتا ہے۔

پس منظر

یہ آخری تاریخ اصل میں سال 2024ء کے دفاعی اختیارات کے قانون کے تحت ایک سال کے لیے موخر کی گئی تھی تاکہ صنعت کو متبادل سپلائرز تلاش کرنے کے لیے مزید وقت مل سکے۔ تاہم اب وہ اضافی مہلت بھی ختم ہونے کے قریب ہے۔ اسی دوران چین کی جانب سے نایاب معدنیات کی برآمدات پر عائد پابندیوں کے باعث مغربی دفاعی، آٹوموبائل اور برقی آلات کی سپلائی چینز بھی شدید دباؤ کا شکار ہو چکی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکی دفاعی صنعت وقت پر خود کفیل سپلائی چین قائم کرنے میں ناکام رہی تو حکومت کو یا تو آخری تاریخ میں مزید توسیع دینی پڑے گی یا پھر بڑے پیمانے پر استثنیٰ جاری کرنا پڑ سکتا ہے — جو بالواسطہ طور پر چینی معدنیات پر انحصار جاری رکھنے کے مترادف ہوگا۔

امریکی بمباری کے باوجود آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول برقرار ہے، واشنگٹن سے اب کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے: ایران کا سخت اعلان

محمود احمد, JULY 27,2026

تہران/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

ایران کی اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت نے واضح اور سخت الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ بمباری کا سلسلہ روکے جانے کے باوجود، تہران خطے کی سب سے اہم اور حکمتِ عملی کے اعتبار سے حساس ترین سمندری شاہراہ ‘آبنائے ہرمز’ پر اپنا مکمل اور بلاشرکتِ غیرے کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایرانی حکام نے واضح کر دیا ہے کہ موجودہ حالات میں وہ واشنگٹن انتظامیہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے سفارتی یا میز کے مذاکرات میں بالکل بھی دلچسپی نہیں رکھتے۔

امریکی حملے اور تہران کا سخت مؤقف

حالیہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ میں پیش آنے والے خوفناک فوجی تصادم اور امریکہ کی جانب سے ایران کے متعدد اہم اور حساس بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کے بعد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکایک بمباری کا سلسلہ روکنے کا حکم جاری کیا تھا۔ واشنگٹن کے اس اقدام کا مقصد خطے کو ایک مکمل اور تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں جانے سے بچانا اور سفارتی راستے تلاش کرنا بتایا گیا تھا۔ تاہم، تہران کی جانب سے اس امریکی پیش رفت پر انتہائی تند و تیز اور سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔

ایرانی عسکری حکام اور پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ “امریکہ کا یہ وہم ہے کہ وہ بمباری شروع کر کے اپنی مرضی سے اسے روک سکتا ہے اور پھر مذاکرات کا ڈرامہ رچا سکتا ہے۔ ایران پر مسلط کی جانے والی کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ہماری فورسز ہمہ وقت تیار ہیں اور امریکہ کی اس ناگہانی کارروائی نے سفارت کاری کے تمام بقایا امکانات کو ختم کر دیا ہے۔”

آبنائے ہرمز کی عالمی و اقتصادی اہمیت

آبنائے ہرمز دنیا میں خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی نقل و حمل کے لیے سب سے اہم ترین سمندری راستہ قرار دیا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر استعمال ہونے والے کل خام تیل کا تقریباً 20 فیصد حصہ اسی تنگ سمندری راستے سے گزر کر عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔

ایران کی جانب سے اس گزرگاہ پر اپنے کنٹرول کا سختی سے اعادہ کرنے اور امریکی بحری جہازوں و خلیجی تیل بردار جہازوں کو کسی بھی وقت کارروائی کا نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں شدید ہاہاکار مچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں معمولی نوعیت کی رکاوٹ یا بلاکبندی کا سامنا بھی ہوتا ہے تو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی، جس کا براہِ راست اثر ایشیائی اور یورپی معیشتوں پر پڑے گا۔

مذاکرات کی منسوخی اور سفارتی تعطل

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک طرف جہاں سخت پالیسیاں اپنائی جا رہی ہیں تو دوسری جانب ایک نئے معاہدے یا مذاکرات کی تجویز بھی پیش کی جاتی رہی ہے۔ تاہم، ایرانی سپریم لیڈر اور حکومت کی جانب سے اس پر قطعی اور حتمی انکار آ چکا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے پریس کانفرنس کے دوران امریکہ پر وعدہ خلافی اور بین الاقوامی قوانین کی شدید خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ:

“امریکہ پہلے خود حملے کرتا ہے، ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچاتا ہے اور پھر مذاکرات کی پیشکش کا ڈھونگ رچاتا ہے۔ ہم ایسے دباؤ اور دھمکیوں کے سائے میں واشنگٹن سے کوئی گفتگو نہیں کریں گے۔ اب بات چیت کا باب مکمل طور پر بند ہو چکا ہے۔”

عالمی برادری اور علاقائی صورتِ حال

ایران کے اس حتمی اور سخت موقف نے عالمی برادری بالخصوص اقوامِ متحدہ ، یورپی یونین اور ایشیائی ممالک کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ تمام بڑی عالمی طاقتیں دوٹوک انداز میں زور دے رہی ہیں کہ تہران اور واشنگٹن دونوں تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ عالمی اقتصادی نظام اور توانائی کے سپلائی سلسلے میں کوئی بڑا بحران جنم نہ لے سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کا یہ سخت اور جارحانہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تہران اپنے دفاعی نظام کو مضبوط تر سمجھتے ہوئے امریکی دباؤ کے سامنے قطعی طور پر جھکنے کو تیار نہیں ہے۔ آنے والے دنوں میں خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز میں امریکی بحری بیڑے اور ایرانی فورسز کی موجودگی کی وجہ سے صورتِ حال مزید باریک اور حساس موڑ اختیار کر سکتی ہے۔

روس کے ماؤنٹ ایلبروس پر شدید برفانی طوفان؛ بوسنیا کے 5 کوہ پیما ہلاک

محمود احمد, JULY 27,2026

ماسکو (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

روس کے ماؤنٹ ایلبروس پر شدید برفانی طوفان کے باعث بوسنیا اور ہرزیگووینا سے تعلق رکھنے والے 5 کوہ پیما ہلاک ہو گئے۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کوہ پیما یورپ کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایلبروس سر کرنے کی مہم پر تھے کہ اچانک علاقے میں موسم انتہائی خراب ہو گیا اور شدید طوفان نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ شدید برف باری، تیز ہواؤں اور انتہائی کم درجہ حرارت کے باعث کوہ پیماؤں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ امدادی کارروائیوں کے باوجود بوسنیا کے 5 کوہ پیماؤں کی جانیں نہ بچائی جا سکیں۔

ماؤنٹ ایلبروس کے بارے میں

ماؤنٹ ایلبروس روس کے قفقاز کے علاقے میں واقع ہے اور سطح سمندر سے 5,642 میٹر بلند ہے۔ اسے یورپ کی بلند ترین چوٹی تصور کیا جاتا ہے اور یہ دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کے لیے ایک مقبول لیکن انتہائی خطرناک مقام ہے۔

ماہرین کے مطابق ماؤنٹ ایلبروس پر موسم انتہائی تیزی سے تبدیل ہو سکتا ہے، اور اچانک آنے والے برفانی طوفان، شدید ہوائیں اور کم حدِ نگاہ کوہ پیماؤں کے لیے جان لیوا خطرات پیدا کر دیتے ہیں۔ تازہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بلند پہاڑی علاقوں میں موسم کی شدت کو نظر انداز کرنا کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

افغانستان میں طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت میں تیزی؛ بدخشان کے اضلاع میں شدید جھڑپیں اور ڈرون حملے

محمود احمد, JULY 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمتی کارروائیوں میں ڈرامائی تیزی آ گئی ہے جس کے بعد صوبہ بدخشان کے اضلاع یفتل اور زیباک میں حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں اور طالبان کے ملک پر مکمل کنٹرول کے دعوؤں پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ افغان طالبان مخالف مسلح تنصیب ‘افغانستان فریڈم فرنٹ’ نے کابل سے بدخشان اضافی نفری لے جانے والے طالبان کے فوجی قافلے کو کابل سے شمالی سالنگ تک تعاقب کے بعد راکٹ حملے کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 7 طالبان اہلکار ہلاک اور 6 شدید زخمی ہو گئے۔ اس سے قبل بدخشان کے ضلع زیباک میں جنگجوؤں نے طالبان کے 2 عسکری ڈرونز کو بھی تباہ کر دیا جبکہ ہیلی کاپٹروں کو لینڈنگ سے روک کر واپس لوٹنے پر مجبور کر دیا۔ معروف افغان صحافی بلال سروری کے مطابق یہ کارروائیاں فریڈم فرنٹ کی بڑھتی ہوئی انٹیلی جنس اور لاجسٹک صلاحیتوں کا ثبوت ہیں، جبکہ سابق افغان نائب صدر امراللہ صالح نے مؤقف اپنایا ہے کہ طالبان کی غیر قانونی حکومت کے خلاف سیاسی و عسکری مزاحمت مزید منظم ہو کر ان کے اقتدار کے خاتمے کا سبب بنے گی۔

چین کی توانائی صنعت میں تاریخی پیش رفت؛ ونڈ اور سولر پاور کی مجموعی صلاحیت تھرمل پاور سے تجاوز کر گئی

محمود احمد, JULY 26,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 26 جولائی 2026ء

چائنا انٹرپرائز ریفارم اینڈ ڈویلپمنٹ ریسرچ ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ ’’2026 انرجی انڈسٹری ایکو سسٹم رپورٹ‘‘ کے مطابق چودھویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران چین میں ونڈ اور سولر پاور کی مجموعی تنصیب نے تاریخ میں پہلی بار تھرمل پاور کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2020ء سے 2025ء کے درمیانی عرصے میں چین کی ونڈ اور سولر پاور کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 530 ملین کلوواٹ سے ریکارڈ سطح پر بڑھ کر 1.84 بلین کلوواٹ تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے علاوہ، جوہری توانائی (نیوکلیئر پاور) کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت کے لحاظ سے چین دنیا میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے جبکہ بائیو ماس پاور جنریشن میں مسلسل ساتویں سال عالمی سطح پر سرفہرست رہا ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ چین کا آئندہ ہدف توانائی کے شعبے کو مصنوعی ذہانت کے ساتھ مربوط کرنا ہے تاکہ ایک محفوظ، صاف اور زیادہ موثر جدید توانائی کا نظام قائم کیا جا سکے۔

چین اور پاکستان کے تعلقات ہمیشہ وقت کے تقاضوں پر پورا اترے ہیں؛ چینی وزیر خارجہ وانگ ای کا شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں بڑا بیان

محمود احمد, JULY 26,2026

بشکیک (نیوز اینڈ نیوز) — 26 جولائی 2026ء

چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ای نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے دیرینہ اور حزوِ جان تعلقات ہمیشہ وقت کے ہر امتحان اور تقاضے پر پورا اترتے آئے ہیں۔ کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے حتمی عمل میں پاکستان کے متحرک اور مثبت کردار کو زبردست الفاظ میں سراہا۔ چینی وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ بیجنگ انتظامیہ پاکستان کی ان سفارتی و ثالثی کی کوششوں کی مکمل اور غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گی۔ وانگ ای نے اعادہ کیا کہ چین تمام متعلقہ فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور مشرقِ وسطیٰ و خطے میں دیرپا اور پائیدار جنگ بندی کے حصول کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر مشترکہ پیش رفت اور کوششیں جاری رکھے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر مزید حملے روکنے کا حکم؛ 13 دن سے جاری روزانہ کی ملٹری کارروائیاں معطل

محمود احمد, JULY 25,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جولائی 2026ء

امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز فوج کو ایران میں فی الوقت کوئی نیا حملہ نہ کرنے کا باضابطہ حکم جاری کیا ہے، جس کے بعد پچھلے دو ہفتوں سے ایران پر جاری روزانہ کی امریکی بمباری کا سلسلہ تھم گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ گزشتہ 13 دنوں سے ایران کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر فوجی کارروائیوں کی منظوری دے رہے تھے، تاہم ان کا نیا حکم سامنے آنے کے بعد یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ عارضی وقفہ ہے یا کوئی مستقل جنگ بندی۔ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ دوبارہ کارروائی کا حکم دیتے ہیں تو امریکی فوج فوری طور پر متحرک ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے اور فوج اب بھی بڑے پیمانے پر ممکنہ جنگی عملیات کے لیے متحرک اور تیار حالت میں ہے۔ دوسری جانب، وائٹ ہاؤس نے اس پیش رفت اور خبر کے بارے میں تبصرہ کرنے کی درخواست پر فی الحال کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

لداخ کے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کا پولیس رویے کے خلاف اہم بیان؛ “اسپتال میں قیدیوں جیسا سلوک کیا گیا”

محمود احمد, JULY 25,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جولائی 2026ء

مقبوضہ جموں و کشمیر کے لداخ خطے سے تعلق رکھنے والے ممتاز ماحولیاتی فعال پسند سونم وانگچک نے انکشاف کیا ہے کہ 18 جولائی کو پولیس نے انہیں احتجاجی مقام سے زبردستی حراست میں لے کر اسپتال منتقل کیا جہاں ان کے ساتھ قیدیوں جیسا سلوک روا رکھا گیا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سونم وانگچک نے اپنے ایک جاری بیان میں بتایا کہ سرکاری و نجی اسپتالوں کو چھاؤنی میں تبدیل کر کے انہیں ملاقاتوں، موبائل اور لیپ ٹاپ استعمال کرنے سے مکمل روک دیا گیا۔ انہوں نے اپنی 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کرنے پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں کوئی سودے بازی کرنی ہوتی تو وہ اتنے دن بھوکے نہ رہتے، بلکہ انہوں نے طلباء پر متوقع تشدد اور حالات کو کشیدگی سے بچانے کے لیے یہ قدم اٹھایا۔ سونم وانگچک نے واضح کیا کہ بھارتی مرکزی وزراء جے پی نڈا اور جیتیندر سنگھ نے اسپتال میں ان سے ملاقات کی اور پارلیمنٹ میں بحث، معاوضے کی ادائیگی اور مظاہرین کے خلاف مقدمات نہ بنانے کی تحریری ضمانت دی، جس کے بعد ہی انہوں نے ہڑتال ختم کرنے کا باضابطہ اعلان کیا۔

راہول گاندھی کا وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو تعلیمی نظام کی اصلاح کی جانب اہم قدم قرار دینا

محمود احمد, JULY 25,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جولائی 2026ء

کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے تنظیم کے مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد احتجاج ختم کیا جا رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق حکومت کی جانب سے مطالبات منظور کیے جانے پر تنظیم نے اپنا احتجاج باضابطہ طور پر واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب پارلیمنٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی نے انڈیا کے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو تعلیمی نظام کی اصلاح کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا ہے۔

راہول گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ ان تمام نوجوانوں اور طلبہ کو دلی مبارک باد دیتے ہیں جنہوں نے جمہوریت، آئین اور اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر نکل کر ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے آپ سب پر فخر ہے۔

انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ طلبہ سے معافی مانگیں، جبکہ حکومت مظاہرین کے خلاف تشدد کے ذمہ دار افراد کے خلاف فوری کارروائی کرے۔

پانی کی نگرانی اور سرحد پار آبی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال ناگزیر؛ فلو مینیپولیشن ایڈوائزری سسٹم قائم کرنے کی تجویز

کاشف عباسی , JULY 25,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جولائی 2026ء

اے آئی جیو نیویگیٹرز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عاصم جاوید نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی کے بہاؤ پر بھارت کے اقدامات کے خلاف بین الاقوامی سطح پر توجہ برقرار رکھی جائے، کیونکہ معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزیاں سنگین تشویش کا معاملہ ہیں۔

خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر ثالثی کی مستقل عدالت کے فیصلے کے بعد سفارتی حمایت حاصل کرنی چاہیے، اپنی قانونی و تکنیکی پوزیشن کو وسیع پیمانے پر اجاگر کرنا چاہیے، معاہدے کی مبینہ بھارتی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرنا چاہیے اور اپنا حق ثابت کرنا چاہیے۔

مصنوعی ذہانت کا ممکنہ کردار

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پاکستان کے آبی تحفظ کو مضبوط بنانے میں دریاؤں کی نگرانی، پانی کی دستیابی کی پیش گوئی اور شواہد پر مبنی پانی کے انتظام کی حمایت کرتے ہوئے سرحد پار پانی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کے حوالے سے نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے۔

عاصم جاوید نے اے آئی کا استعمال کرتے ہوئے ایک “فلو مینیپولیشن ایڈوائزری سسٹم” تیار کرنے کی تجویز پیش کی، تاکہ خاص طور پر پاکستان میں آبی بہاؤ کو متاثر کرنے والی اپ سٹریم مداخلتوں کے پیشِ نظر اہم مقامات پر پانی کی دستیابی کی نگرانی اور جائزہ لیا جا سکے۔ ان کے مطابق جدید ترین اے آئی پر مبنی نظام متعلقہ حکام کو ریئل ٹائم ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کا تجزیہ کرنے، دریا کے بہاؤ میں اتار چڑھاؤ کا اندازہ لگانے اور پانی کی تقسیم و ذخیرہ کرنے کی منصوبہ بندی بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

سیلابی پانی کے بہتر استعمال کی تجویز

سیلابی پانی کو بہتر طریقے سے بروئے کار لانے کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے عاصم جاوید نے کہا کہ پاکستان کو سیلاب کے موسموں میں، بالخصوص دریائے چناب، راوی اور ستلج کے کنارے والے علاقوں میں، پانی ذخیرہ کرنے کے نظام، زیرِ زمین پانی کے ریچارج اور سطح برقرار رکھنے والے تالابوں کی تعمیر کے ذریعے اضافی پانی کو استعمال میں لانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے زیادہ تر میدانی علاقوں پر مشتمل ہیں جہاں بڑے آبی ذخائر کی تعمیر ممکن نہیں، جس سے پانی کے مرکزی انتظام کے حل کو زیادہ عملی اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

عاصم جاوید نے بتایا کہ اے آئی جیو نیویگیٹرز مصنوعی ذہانت، جیو اے آئی، ریموٹ سینسنگ، جیوگرافک انفارمیشن سسٹمز (جی آئی ایس) اور ہائیڈرولوجیکل ماڈلنگ کو مربوط کرتے ہوئے پاکستان کی دریا کے بہاؤ کی نگرانی، اپ سٹریم میں غیرمعمولی تبدیلیوں کا پتہ لگانے، پانی کی قلت یا اچانک اخراج کی پیش گوئی کرنے اور آبی ذخائر کے نظام کو بہتر بنانے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی ٹیکنالوجیز اپنانے سے پاکستان کو زیادہ لچکدار اور ڈیٹا پر مبنی واٹر مینجمنٹ فریم ورک بنانے میں مدد ملے گی، جس سے ملک ابھرتے ہوئے علاقائی آبی چیلنجوں کا مؤثر جواب دینے کے قابل ہو سکے گا

چین کی ڈیجیٹل صنعت عروج پر، مجموعی آمدنی 39.6 ٹریلین یوان اور شہریوں کی ڈیجیٹل کھپت 25.3 ٹریلین یوان تک پہنچ گئی

منصور احمد, JULY 25,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جولائی 2026ء

چین کی ڈیجیٹل معیشت نے بے مثال ترقی کے سنگ میل عبور کر لیے ہیں؛ سال 2025ء کے دوران ڈیجیٹل صنعت کی مجموعی آمدنی 8.8 فیصد اضافے کے ساتھ 39.6 ٹریلین یوان تک پہنچ گئی ہے جبکہ شہریوں کی ڈیجیٹل کھپت کا حجم 8.7 فیصد اضافے سے 25.3 ٹریلین یوان ریکارڈ کیا گیا ہے۔ چین کے سٹیٹ انٹرنیٹ انفارمیشن آفس کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین “نیشنل انفارمیٹائزیشن ڈویلپمنٹ رپورٹ (2025)” کے مطابق، ملک کی ڈیجیٹل معیشت کے بنیادی شعبوں کی اضافی قدر مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 10.5 فیصد کی نمایاں سطح سے تجاوز کر چکی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چین کے نیٹ ورک اور تکنیکی بنیادی ڈھانچے میں غیر معمولی وسعت آئی ہے؛ 2025ء کے اختتام تک پورے ملک میں فائیو جی (5G) بیس اسٹیشنوں کی کل تعداد 48 لاکھ 38 ہزار تک پہنچ چکی ہے، اور چین کے دو تہائی شہروں نے ‘گیگا بٹ سٹی’ کے بین الاقوامی معیار کو کامیابی سے حاصل کر لیا ہے۔

بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس کا انعقاد؛ چینی وزیر خارجہ وانگ ای کا خطاب

محمود احمد, JULY 25,2026

بشکیک (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جولائی 2026ء

چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت اور خطاب کیا۔ اجلاس میں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ، ایس سی او کے سیکریٹری جنرل اور علاقائی انسدادِ دہشت گردی ادارے کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سربراہ سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ چینی خبر رساں ادارے کے مطابق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وانگ ای نے کہا کہ ایس سی او کے تھیان جن سربراہی اجلاس میں آئندہ دس برسوں کی ترقی کے لیے اسٹریٹجک منصوبہ بندی تیار کی گئی ہے جس سے تنظیم اعلیٰ معیار کی ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ رواں سال تنظیم کا 25واں یومِ تاسیس منایا جا رہا ہے؛ چھ ممالک کی سرحدی عسکری اعتماد سازی سے شروع ہونے والی یہ تنظیم آج 27 ممالک اور دنیا کی نصف آبادی پر مشتمل ایک طاقتور پلیٹ فارم بن چکی ہے جو 50 سے زائد شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دے رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ دس سالہ حکمتِ عملی کا مقصد رکن ممالک کے درمیان قریبی اشتراک کو بڑھانا ہے تاکہ ایک زیادہ جمہوری اور منصفانہ کثیر قطبی عالمی نظام کا قیام ممکن ہو سکے۔

فرانس اور سپین کے جنگلات میں ہولناک آگ، 2 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد کی نقل مکانی؛ سپین میں قومی ایمرجنسی نافذ

محمود احمد, JULY 25,2026

پیرس/بارسلونا (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جولائی 2026ء

فرانس اور سپین کے جنگلات میں لگنے والی شدید آگ پر قابو نہ پایا جا سکا، جس کے باعث دونوں ممالک میں اب تک 2 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد کو علاقہ خالی کر کے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ فرانسیسی حکام نے بورڈو کے قریب گیروند اور لانڈز کے علاقوں سے مزید 60 ہزار افراد سمیت مجموعی طور پر دو لاکھ شہریوں کو نقل مکانی کا حکم دیا ہے، جبکہ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے امدادی کارروائیوں میں معاونت کے لیے فوج کو متحرک کر دیا ہے۔ دوسری جانب سپین میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہو گئی ہے جہاں دارالحکومت میڈرڈ کے مغرب میں لگنے والی تین مختلف آگیں یکجا ہو کر ایک بے قابو آفت کی شکل اختیار کر چکی ہیں، جس کے بعد سپین حکومت نے قومی ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ میڈرڈ کے علاقائی صدر ازابیل دیاز آیوسو نے اس صورتحال کو خطے کی تاریخ کی بدترین آگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسلسل تیز ہوائیں، شدید گرمی اور آگ کے پھیلاؤ نے فائر فائٹرز کے لیے کارروائی ناممکن بنا دی ہے، جس کے پیشِ نظر 25 ہزار افراد کو انخلا اور 40 ہزار شہریوں کو گھروں کے اندر محصور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

رانا مشہود احمد خاں کا امریکہ کی تین ممتاز جامعات کا دورہ؛ اعلیٰ تعلیم اور نوجوانوں کی بااختیاری کے لیے اہم تعاون پر پیش رفت

محمود احمد, JULY 24,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 24 جولائی 2026ء

چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں نے امریکہ کی تین ممتاز جامعات — یونیورسٹی آف شکاگو، یونیورسٹی آف الینوائے شکاگو (یو آئی سی) اور ڈی پال یونیورسٹی — کا اہم دورہ کیا ہے۔ اس دورے کا بنیادی مقصد اعلیٰ تعلیم، نوجوانوں کی ترقی، تحقیق، جدت اور ڈیجیٹل مہارتوں کے شعبوں میں باہمی تعاون کو مستحکم کرنا اور پاکستانی نوجوانوں کے لیے عالمی سطح پر نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔

جامعہ شکاگو میں چیئرمین رانا مشہود نے یو شکاگو گلوبل کی ایسوسی ایٹ وائس پریزیڈنٹ کیٹی ہرینیاک سے ملاقات کی، جس میں قائدانہ صلاحیتوں، کاروباری مواقع اور مختصر مدتی تربیتی پروگراموں پر تبادلہ خیال ہوا۔ بعد ازاں، یونیورسٹی آف الینوائے شکاگو کے دورے کے دوران انہوں نے ایگزیکٹو ڈین ڈاکٹر اینریکو بینیڈیٹی اور وائس پرووسٹ ڈاکٹر جیمز ہیمرشمٹ سے ملاقات کی اور یونیورسٹی کی روبوٹک سرجری لیبارٹری کا معائنہ بھی کیا، جہاں طبی تعلیم، ڈیجیٹل ہیلتھ اور جدید ٹیکنالوجی میں باہمی شراکت داری پر اتفاق کیا گیا۔

ڈی پال یونیورسٹی میں صدر ڈاکٹر رابرٹ ایل مینویل سے ملاقات کے دوران چیئرمین نے بتایا کہ پاکستان اس یونیورسٹی میں بین الاقوامی طلبہ بھیجنے والا دوسرا بڑا ملک ہے، جبکہ انڈرگریجویٹ سطح پر پہلے نمبر پر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ 2021-22ء میں یہاں پاکستانی طلبہ کی تعداد 93 تھی جو 2025-26ء میں بڑھ کر 221 ہو چکی ہے، جو مستقبل کے مضبوط روابط کی عکاس ہے۔ دورے کے دوران انہوں نے وہاں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ سے بھی ملاقات کی اور انہیں پاکستان کا بہترین سفیر بن کر دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی و ثقافتی روابط کو مضبوط بنانے کی ہدایت کی۔