ایران امریکا مذاکرات جاری، جنگ کے بادل مزید گہرے

کاشف عباسی ,May 19 ,2026

رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز

تہران / واشنگٹن: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے باوجود خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں سفارتی رابطے جاری ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک کی درخواست پر ایران پر منگل کو متوقع حملہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ “سنجیدہ مذاکرات” جاری ہیں اور سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کو یقین ہے کہ کوئی معاہدہ ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر قابلِ قبول معاہدہ نہ ہوا تو امریکا “کسی بھی لمحے ایران پر مکمل اور بڑے پیمانے کے حملے” کے لیے تیار ہے۔

ٹرمپ کے مطابق خلیجی قیادت نے واشنگٹن کو فوجی کارروائی روکنے پر آمادہ کیا، جس کے بعد مجوزہ حملہ مؤخر کیا گیا۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی کہ ایران نے امریکی تجاویز پر اپنا جواب دے دیا ہے اور “پاکستانی ثالث کے ذریعے رابطے بدستور جاری ہیں”۔

انہوں نے تہران میں پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ایران نے اپنے تحفظات امریکا تک پہنچا دیے ہیں اور سفارتی تبادلے کا سلسلہ جاری ہے۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن نے حالیہ مذاکرات میں کچھ “لچک” دکھائی ہے، تاہم اب بھی کئی اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔

ادھر چھ ہفتوں پر محیط جنگ کے بعد قائم ہونے والی نازک جنگ بندی خطرات سے دوچار دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان کی ثالثی میں شروع ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے بعد خطے میں دوبارہ فوجی نقل و حرکت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکا نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیل کو 6 ہزار 500 ٹن اسلحہ اور فوجی سازوسامان فراہم کیا، جبکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی عسکری موجودگی میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔

ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی نگرانی کے لیے “پرسین گلف اسٹریٹ اتھارٹی” کے قیام کا بھی اعلان کیا ہے، جسے عالمی توانائی سپلائی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ایرانی حکام نے عراق میں بعض مسلح گروہوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ سفارتی رابطے جاری ہیں، لیکن خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری تیاری اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں صورتحال دوبارہ بڑے تصادم کی طرف جا سکتی ہے۔

سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کو بڑی سفارتی کامیابی، عالمی ثالثی عدالت نے بھارت کے آبی اختیارات محدود کر دیے

کاشف عباسی ,May 18 ,2026

رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز

اسلام آباد: پاکستان نے مستقل ثالثی عدالت (Permanent Court of Arbitration) کے ضمنی فیصلے پر “مکمل اطمینان” کا اظہار کرتے ہوئے اسے سندھ طاس معاہدے کے تحت ایک اہم سفارتی اور قانونی کامیابی قرار دیا ہے، جس کے ذریعے مغربی دریاؤں پر بھارت کے آبی کنٹرول کی صلاحیت پر “نمایاں حدود” عائد کر دی گئی ہیں۔

حکومتی بیان کے مطابق یہ فیصلہ رَٹل اور کشن گنگا ہائیڈرو پاور منصوبوں کے ڈیزائن تنازعات سے متعلق تھا، جہاں “زیادہ سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش” (Maximum Pondage) کے معاملے پر پاکستان نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ بھارت معاہدے کی حدود سے تجاوز نہیں کر سکتا۔

بیان میں کہا گیا کہ 15 مئی کو جاری کیے گئے ضمنی ایوارڈ نے پاکستان کے قانونی مؤقف کی توثیق کی ہے، اگرچہ ثالثی عدالت نے تاحال مکمل فیصلہ عوامی سطح پر جاری نہیں کیا۔

دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ نے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے ایک بار پھر ثالثی عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ بھارت ماضی میں بھی عدالت کی تشکیل اور کارروائی پر اعتراضات اٹھاتا رہا ہے۔

واضح رہے کہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں ہونے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب پاکستان کے حصے میں جبکہ راوی، بیاس اور ستلج بھارت کے حصے میں دیے گئے تھے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ فیصلہ پاکستان کے لیے نہ صرف قانونی بلکہ سفارتی سطح پر بھی اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے مقبوضہ کشمیر میں متنازع آبی منصوبوں پر بھارت کی صوابدیدی گنجائش محدود ہو سکتی ہے۔

براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ڈرون حملہ: پاکستان کی شدید مذمت، عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار

منصور احمد ,May 18,2026

رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز

اسلام آباد: پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ہونے والے ڈرون حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان اس مشکل گھڑی میں برادر ملک متحدہ عرب امارات کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔

ترجمان کے مطابق جوہری تنصیبات کو دانستہ طور پر نشانہ بنانا عالمی قوانین اور بین الاقوامی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، جبکہ کسی بھی صورت حال میں شہری جوہری تنصیبات کو حملوں کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔

دفتر خارجہ نے خبردار کیا کہ اس قسم کی غیر ذمہ دارانہ کارروائیاں نہ صرف خطے کے امن و استحکام بلکہ عالمی ماحولیات اور انسانی سلامتی کے لیے بھی تباہ کن نتائج پیدا کر سکتی ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ شہری جوہری انفراسٹرکچر کا تحفظ ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی اصول ہے اور تمام ممالک کو اس کی پاسداری یقینی بنانی چاہیے۔

پاکستان نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں اور مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کا واحد مؤثر راستہ بات چیت، سفارتی روابط اور باہمی تعاون ہے

ایران۔امریکا کشیدگی: پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری، محسن نقوی کی تہران میں ایرانی قیادت سے اہم ملاقاتیں

کاشف عباسی ,May 18 ,2026

رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز

اسلام آباد / تہران: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطے برقرار رکھنے کی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں، جبکہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی صدر اور پارلیمنٹ کے اسپیکر سے اہم ملاقاتیں کی ہیں۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ “وقت تیزی سے گزر رہا ہے” اور تہران کو جلد فیصلے کرنے ہوں گے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی، جو دو روزہ دورے پر تہران پہنچے تھے، نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق صدر پزشکیان کے ساتھ ان کی ون آن ون ملاقات تقریباً 90 منٹ جاری رہی، جو صدارتی محل میں منعقد ہوئی۔

ملاقات میں ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی موجود تھے۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے اس موقع پر زور دیا کہ مسلم ممالک کو مذہبی، ثقافتی اور اسٹریٹجک مشترکات کی بنیاد پر ایک دوسرے کے قریب آنا چاہیے تاکہ “بالادست طاقتوں کی جارحیت” کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک جتنا زیادہ متحد ہوں گے، بیرونی مداخلت اور جارحیت کے امکانات اتنے ہی کم ہوں گے۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خطے میں امریکی موجودگی کو عدم استحکام کی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی پالیسیاں خطے میں “عدم تحفظ” کو فروغ دے رہی ہیں۔

ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے بھی خطے کی صورتحال پر قطر کے وزیراعظم سے رابطہ کیا، جبکہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر کے وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان مسلسل علاقائی ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ایران اور امریکا کے درمیان نازک جنگ بندی کو برقرار رکھا جا سکے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی پاکستان کی کوششوں سے ممکن ہوئی، جس کے بعد اسلام آباد خطے میں ایک اہم سفارتی ثالث کے طور پر متحرک دکھائی دے رہا ہے۔

دریں اثنا، ایرانی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کو دی گئی تازہ تجاویز میں کوئی “واضح رعایت” شامل نہیں، جس کے باعث مذاکراتی عمل اب بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔

معرکۂ حق میں قومی اتحاد نے عسکری کامیابی کو سفارتی فتح میں بدل دیا، سفیر عاصم افتخار احمد

محمود احمد May17,2026

نیویارک: نیوز اینڈ نیوز

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ معرکۂ حق کے دوران پاکستانی قوم کے اتحاد، سیاسی قیادت، سفارتی حکمت عملی اور مسلح افواج کے عزم نے پاکستان کی عسکری کامیابی کو ایک بڑی سفارتی اور سیاسی فتح میں تبدیل کر دیا۔

بروکلین میں معرکۂ حق کی یاد میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ قوموں کی اصل طاقت بحران کے وقت سامنے آتی ہے اور معرکۂ حق کے دوران پوری پاکستانی قوم بھارتی جارحیت کے خلاف اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی رہی۔

انہوں نے پاکستانی عوام، سیاسی و عسکری قیادت اور افواجِ پاکستان کے غیر متزلزل اتحاد اور قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر حقائق اور اصولوں پر مبنی مؤقف پیش کیا، جسے عالمی دارالحکومتوں اور بین الاقوامی میڈیا میں بھرپور پذیرائی ملی۔

تقریب ممتاز کمیونٹی رہنما ملک خالد اعوان کی جانب سے بروکلین میں منعقد کی گئی، جس میں پاکستانی کمیونٹی کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ تقریب سے سینیٹر رانا محمود الحسن نے بھی خطاب کیا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے وزیر اعظم کی ہدایت پر بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں اقوام متحدہ آنے والے اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وفد نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، جنرل اسمبلی کے صدر، سلامتی کونسل کے نمائندوں اور اسلامی تعاون تنظیم کے سفیروں سمیت اہم عالمی شخصیات سے ملاقاتیں کیں اور پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس بھارتی وفد نے اقوام متحدہ میں مؤثر سفارتی روابط سے گریز کیا۔ ان کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ امن، مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت کی ہے، جبکہ تنازع کے باوجود پاکستان نے ذمہ دار ریاست ہونے کا ثبوت دیا۔

انہوں نے جولائی میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاکستان کی صدارت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے “تنازعات کے پُرامن حل” سے متعلق قرارداد کی منظوری میں کلیدی کردار ادا کیا، ایسے وقت میں جب سلامتی کونسل اہم عالمی معاملات پر شدید تقسیم کا شکار تھی۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ پاکستان امن پر یقین رکھتا ہے، لیکن اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کی جانب سے خطے میں کشیدگی بڑھانے کی کوششیں اب بھی جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون سمیت بین الاقوامی شراکت داریوں کا فروغ پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کا ثبوت ہے۔

اپنے خطاب میں سینیٹر رانا محمود الحسن نے کہا کہ معرکۂ حق جیسے لمحات اقوام کی تاریخ میں بہت کم آتے ہیں، جو ان کی تقدیر اور عالمی مقام کا تعین کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی، عسکری اور سفارتی قیادت نے اس نازک مرحلے پر قوم کی توقعات پر پورا اترتے ہوئے دشمن کے عزائم ناکام بنائے۔

انہوں نے پاکستانی سفارت کاروں، خصوصاً سفیر عاصم افتخار احمد، کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مؤقف کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنا ایک بڑی سفارتی کامیابی تھی۔

سینیٹر نے کہا کہ مسئلہ جموں و کشمیر جنوبی ایشیا میں کشیدگی کی بنیادی وجہ ہے اور پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

تقریب سے ڈاکٹر غلام مجتبیٰ، عطیہ شیراز، جاوید چوہدری، روحیل ڈار، میاں عظیم، صفدر گجر، نگہت فاروق، عظریٰ ڈار اور اقبال کھوکھر سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

پانڈا بانڈ پاکستان کیلئے نئی امید یا قرضوں کا نیا بوجھ؟

کاشف عباسی ,May 17 ,2026

رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز

اسلام آباد: پاکستان نے چین کی مقامی بانڈ مارکیٹ میں اپنا پہلا “پانڈا بانڈ” کامیابی سے جاری کرتے ہوئے ایک اہم مالیاتی سنگ میل عبور کر لیا ہے، جسے ماہرین نے نہ صرف بیرونی فنڈنگ کے نئے دروازے کھلنے بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کے بحال ہوتے اعتماد کی علامت بھی قرار دیا ہے۔

پاکستان نے اس بانڈ کے ذریعے 1 ارب 75 کروڑ رینمنبی (چینی کرنسی) حاصل کیے، جبکہ اس پر شرحِ منافع صرف 2.5 فیصد رکھی گئی، جو پاکستان کے روایتی بیرونی قرضوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ حکومتی حکام کے مطابق اس بانڈ کو سرمایہ کاروں کی جانب سے غیر معمولی پذیرائی ملی اور طلب مقررہ حجم سے پانچ گنا زیادہ رہی۔

وزارت خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا کہ اس تاریخی بانڈ کے اجرا سے 8 ارب 80 کروڑ رینمنبی سے زائد سرمایہ کاری کی پیشکش موصول ہوئی، جو پاکستان کے معاشی استحکام اور جاری اصلاحات پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے۔ ان کے مطابق پانڈا بانڈ پاکستان کی مالیاتی حکمتِ عملی میں ایک نئے دور کا آغاز ہے، جس کا مقصد قرضوں کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنا اور عالمی سرمایہ کاروں تک رسائی بڑھانا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کئی دہائیوں سے مغربی مالیاتی اداروں اور عالمی بانڈ مارکیٹوں پر انحصار کرتا رہا ہے، تاہم پانڈا بانڈ کے ذریعے اب چین کی دوسری بڑی عالمی بانڈ مارکیٹ تک رسائی حاصل ہو گئی ہے۔ مالیاتی امور کے ماہر عبدالرحمان وڑائچ کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کو چینی مالیاتی نظام کے ساتھ مزید مربوط کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس سے مستقبل میں نجی چینی سرمایہ کاری کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان معاشی استحکام اور اصلاحات کا تسلسل برقرار رکھتا ہے تو یہ بانڈ ملک کے لیے مزید سستی بیرونی فنانسنگ کے دروازے کھول سکتا ہے۔ ان کے مطابق عالمی بانڈ مارکیٹوں میں مستقل رسائی حکومتوں کو مالیاتی نظم و ضبط، شفافیت اور بہتر گورننس پر بھی مجبور کرتی ہے۔

ماہرین کے مطابق صرف دو سال قبل پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے دوچار تھا، زرمبادلہ کے ذخائر کم ترین سطح پر پہنچ چکے تھے اور عالمی سرمایہ کار پاکستان سے دور ہو رہے تھے، ایسے میں 2.5 فیصد شرح پر فنڈنگ حاصل کرنا غیر معمولی پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔

تاہم اقتصادی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کامیابی کے باوجود پاکستان کی بنیادی معاشی کمزوریاں اب بھی موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بانڈ کو ایشیائی ترقیاتی بینک اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی ضمانتوں کی وجہ سے بہتر ریٹنگ حاصل ہوئی، جس سے سرمایہ کاروں کے خدشات کم ہوئے۔ اگر یہ ضمانتیں نہ ہوتیں تو پاکستان کو کہیں زیادہ شرح سود پر قرض لینا پڑتا۔

ماہرین کے مطابق پانڈا بانڈ وقتی مالیاتی ریلیف ضرور فراہم کر سکتا ہے، لیکن پائیدار معاشی بہتری کے لیے ٹیکس اصلاحات، برآمدات میں اضافہ، مالیاتی نظم و ضبط اور سیاسی استحکام ناگزیر ہیں

امریکہ۔ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششیں تیز، محسن نقوی تہران پہنچ گئے

کاشف عباسی ,May 17 ,2026

اسلام آباد: پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکراتی عمل کو بحال کرنے کیلئے اپنی سفارتی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں، اسی سلسلے میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی غیر اعلانیہ دو روزہ دورے پر تہران پہنچ گئے ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق یہ دورہ پاکستان کی جاری “شٹل ڈپلومیسی” کا حصہ ہے، جس کا مقصد ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکراتی عمل کو مکمل تعطل سے بچانا اور دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے ابتدائی مذاکراتی ادوار کے بعد پیدا ہونے والی پیش رفت حالیہ ہفتوں میں سست روی کا شکار ہو گئی تھی، جس کے بعد پاکستان نے دوبارہ متحرک کردار ادا کرنا شروع کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس دورے کو باضابطہ طور پر دوطرفہ تعلقات اور سرحدی سیکیورٹی تعاون کے تناظر میں رکھا گیا ہے، تاہم اس کے پس منظر میں خطے کی بدلتی صورتحال اور ایران۔امریکہ کشیدگی بھی اہم عنصر ہے۔ توقع ہے کہ محسن نقوی ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں علاقائی سیکیورٹی، سرحدی تعاون اور وسیع تر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ چین اور چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے باوجود ایران کے معاملے پر کوئی بڑا بریک تھرو سامنے نہیں آ سکا۔ اگرچہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ چین تہران کو کسی ممکنہ سمجھوتے پر آمادہ کر سکتا ہے، تاہم عملی طور پر صورتحال میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں عندیہ دیا ہے کہ اگر ایران “حقیقی ضمانت” فراہم کرے تو امریکہ یورینیم افزودگی پر 20 سالہ معطلی کے فارمولے پر غور کر سکتا ہے، تاہم انہوں نے ایرانی تجاویز کو ناکافی قرار دیتے ہوئے تنقید بھی کی۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الجزیرہ کو انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکی بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے تہران کو واشنگٹن کے حقیقی ارادوں پر شکوک ہیں۔

ادھر ایرانی میڈیا کے مطابق حالیہ کشیدگی اور حملوں کے نتیجے میں تہران میں 1,260 افراد جاں بحق جبکہ 2,800 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، جب کہ ہزاروں رہائشی عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

دوسری جانب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ازبکستان کے وزیر خارجہ بختیار سیدوف سے بھی رابطہ کیا، جس میں علاقائی امن، پاک۔ازبک تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ازبک وزیر خارجہ نے خطے میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا

بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اسٹریٹجک دفاعی شراکت داری پر اتفاق

کاشف عباسی ,May 16 ,2026

دبئی (نیوز اینڈ نیوز)
بھارت اور متحدہ عرب امارات نے اسٹریٹجک دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ پیش رفت بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے خلیجی ملک کے دورے کے دوران سامنے آئی۔

بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں ممالک نے دفاعی تعاون کے جامع فریم ورک پر اتفاق کیا، جبکہ اس موقع پر توانائی کے شعبے میں بھی اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت اور متحدہ عرب امارات نے اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر اور مائع پٹرولیم گیس کی فراہمی سے متعلق معاہدے بھی طے کیے ہیں۔

اسٹریٹجک دفاعی شراکت داری کے تحت دونوں ممالک دفاعی صنعت، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، تربیت، مشترکہ فوجی مشقوں، سمندری سلامتی، سائبر دفاع، محفوظ مواصلاتی نظام اور معلومات کے تبادلے میں تعاون بڑھائیں گے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں فریقین نے خطے میں سیکیورٹی تعاون کو مزید مؤثر بنانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ تیل کے نئے معاہدے کے تحت بھارت میں ابو ظہبی نیشنل آئل کمپنی کے خام تیل کے ذخائر کو ممکنہ طور پر تین کروڑ بیرل تک بڑھایا جائے گا۔

دوسری جانب ایران جنگ کے معاملے پر اختلافات کے باعث برکس ممالک کے مذاکرات کسی مشترکہ اعلامیے کے بغیر ہی ختم ہو گئے، جس کے بعد خطے میں سفارتی سرگرمیوں میں مزید تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

مبصرین کے مطابق بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی اور اقتصادی تعاون خطے کی بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال میں اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

اسلام آباد میں طلاق کے مقدمات میں خطرناک حد تک اضافہ، ہر گھنٹے درجنوں کیسز درج ہونے لگے

منصور احمد ,May 16,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز):
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں طلاق کے مقدمات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں خاندانی نظام پر بڑھتے دباؤ نے سماجی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

عدالتی ذرائع کے مطابق رواں سال اب تک مجموعی طور پر پینتالیس ہزار طلاق کے مقدمات دائر کیے جا چکے ہیں، جبکہ ہر ماہ تقریباً نو ہزار نئے کیسز فیملی کورٹس میں سامنے آ رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد میں روزانہ تین سو سے زائد طلاق کی درخواستیں دائر کی جا رہی ہیں، جبکہ اوسطاً ہر گھنٹے اڑتیس طلاقیں رجسٹر ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران طلاق کے مقدمات میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
سال دو ہزار تئیس میں پچاسی ہزار مقدمات دائر ہوئے، جو دو ہزار چوبیس میں بڑھ کر اکانوے ہزار تک پہنچ گئے، جبکہ دو ہزار پچیس میں یہ تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی۔

دوسری جانب وفاقی دارالحکومت میں روزانہ تیس سے زائد کورٹ میرجز بھی ریکارڈ کی جا رہی ہیں۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران اڑتیس ایسے واقعات بھی سامنے آئے جن میں شادی کے صرف ایک سے تین ماہ کے اندر ہی طلاق کی درخواستیں دائر کر دی گئیں۔

سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح معاشرتی ڈھانچے، خاندانی نظام اور نئی نسل کے مستقبل کے لیے ایک سنگین چیلنج بنتی جا رہی ہے۔

ماہرین نے والدین، تعلیمی اداروں، مذہبی رہنماؤں اور سماجی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ نوجوان نسل میں برداشت، باہمی احترام اور خاندانی ذمہ داریوں سے متعلق شعور اجاگر کیا جائے تاکہ اس بڑھتے ہوئے سماجی مسئلے پر قابو پایا جا سکے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا دورۂ چین بغیر بڑی پیشرفت کے ختم، ایران اور تجارت پر کوئی اہم معاہدہ نہ ہو سکا

کاشف عباسی ,May 16 ,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز):
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دو روزہ دورۂ چین بغیر کسی بڑی سفارتی یا تجارتی پیشرفت کے اختتام پذیر ہو گیا، جبکہ ایران، تجارت اور نایاب معدنی دھاتوں کے معاملات پر کوئی اہم معاہدہ طے نہ پا سکا۔

بیجنگ میں قیام کے دوران امریکی صدر نے چینی صدر شی جن پنگ کی بھرپور تعریف کی، تاہم ایران جنگ کے خاتمے یا آبنائے ہرمز کی صورتحال پر چین کی جانب سے کوئی واضح عملی تعاون سامنے نہیں آیا۔

چینی حکام کا کہنا تھا کہ ایران سے متعلق تنازع کبھی پیدا ہی نہیں ہونا چاہیے تھا، جبکہ بیجنگ نے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے پر زور دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واپسی کے سفر کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے معاملے پر ان کا صبر جواب دے رہا ہے، تاہم اگر سنجیدہ پیش رفت ہوئی تو ایران کے جوہری پروگرام پر بیس سالہ پابندی کے معاہدے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنگ بندی پر اتفاق پاکستان کے فائدے کے لیے کیا گیا۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ایرانی تیل خریدنے والی چینی کمپنیوں پر عائد پابندیاں نرم یا ختم کرنے پر غور کر رہا ہے، جبکہ چین اس وقت ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔

رپورٹس کے مطابق ملاقاتوں کے دوران امریکہ اور چین کے درمیان باہمی بے اعتمادی بھی نمایاں رہی، خاص طور پر تائیوان کے معاملے پر دونوں ممالک کے مؤقف میں واضح اختلاف دیکھا گیا۔

چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر کو خبردار کیا کہ تائیوان کے معاملے میں کسی بھی غلطی سے خطے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔

صحافیوں سے گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ شی جن پنگ نے انہیں بتایا کہ چین تائیوان کی آزادی کے خلاف ہے، تاہم انہوں نے اس معاملے پر کوئی وعدہ نہیں کیا۔

امریکی صدر نے کہا کہ وہ تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت سے متعلق زیر التوا فیصلے پر جلد غور کریں گے۔

ذرائع کے مطابق اگرچہ اس دورے میں فوجی اعزازات، خصوصی تقریبات اور تاریخی مقامات کے دورے شامل تھے، لیکن بند کمرے کے مذاکرات میں دونوں ممالک کے درمیان اہم معاملات پر واضح اختلافات برقرار رہے۔

چینی وزیر خارجہ وانگ ای کے مطابق صدر شی جن پنگ رواں سال خزاں کے موسم میں امریکی صدر کی دعوت پر امریکہ کا دورہ بھی کریں گے۔

بیجنگ میں آخری ملاقات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے شی جن پنگ سے کہا کہ یہ ایک ناقابل یقین دورہ تھا اور اس سے مثبت نتائج حاصل ہوئے ہیں، تاہم مبصرین کے مطابق عملی طور پر کسی بڑے معاہدے یا پیشرفت کا اعلان سامنے نہیں آیا۔

صدر شی جن پنگ بھی ایران کو جوہری ہتھیاروں سے دور رکھنے پر متفق ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

محمود احمد May15,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز):
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ بھی اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں، جبکہ امریکہ اور چین کی سوچ ایران کے معاملے پر کافی حد تک یکساں ہے۔

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے عالمی امن، ایران، تجارت اور دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

رپورٹس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے بیجنگ کے حساس حکومتی کمپاؤنڈ ژونگ نان ہائی کے تاریخی باغات میں طویل چہل قدمی بھی کی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور چین اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں ہونے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ صدر شی جن پنگ اس بات پر بھی متفق ہیں کہ عالمی تجارت کے لیے آبنائے ہرمز ہر صورت کھلا رہنا چاہیے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک نے ایسے پیچیدہ مسائل کا حل تلاش کر لیا ہے جو ماضی میں کوئی حل نہیں کر سکا تھا۔

چینی صدر شی جن پنگ نے اس ملاقات کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک تعمیری سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو نئے انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

ملاقات کے دوران چینی صدر نے امریکی صدر کو تقریباً چار سو نوے سال پرانا تاریخی درخت بھی دکھایا اور دوستی کی علامت کے طور پر خصوصی تحفہ دینے کا وعدہ کیا۔

رپورٹس کے مطابق شی جن پنگ نے امریکی صدر کے لیے چینی گلابوں کے بیج بطور تحفہ بھیجنے کی ہدایت بھی کی، جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے خوشی کا اظہار کیا۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق چینی صدر کے باضابطہ خطاب کے دوران صحافیوں کو کمرے سے باہر بھیج دیا گیا جبکہ براہ راست نشریات بھی روک دی گئیں، جس سے ملاقات کی حساس نوعیت ظاہر ہوئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس دورے کے دوران ہونے والے تجارتی معاہدوں کو بھی بہترین قرار دیا۔

تائیوان معاملے پر امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، مارکو روبیو

محمود احمد May14,2026

واشنگٹن / بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز)
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ نے چین پر واضح کر دیا ہے کہ تائیوان کے معاملے پر امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور امریکہ سمجھتا ہے کہ طاقت کے ذریعے تائیوان کے الحاق کی کوشش ایک خوفناک غلطی ہوگی۔

اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی قیادت کے درمیان ملاقات میں تائیوان کا معاملہ زیر بحث آیا، تاہم امریکہ کی پالیسی پہلے جیسی برقرار ہے۔

انہوں نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے تائیوان کا چین کے ساتھ دوبارہ الحاق ناگزیر قرار دیا، لیکن امریکہ اس مسئلے کے حل کے لیے طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔ ان کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر تعاون اور مدد کی پیشکش بھی کی ہے۔

دوسری جانب چین کے دارالحکومت بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان خوشگوار ماحول میں اہم ملاقات ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، عالمی چیلنجز اور تجارتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔

چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور امریکہ کو ایک دوسرے کا حریف بننے کے بجائے شراکت دار بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی کامیابی اور خوشحالی میں مدد کرنی چاہیے اور نئے دور میں تعلقات کا درست راستہ تلاش کرنا ہوگا۔

شی جن پنگ نے کہا کہ دنیا اس وقت تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال سے گزر رہی ہے اور عالمی استحکام کے لیے بڑی طاقتوں کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی جنگوں کا کوئی فاتح نہیں ہوتا اور اختلافات کے حل کے لیے برابری کی سطح پر مذاکرات ہی بہترین راستہ ہیں۔

چینی صدر نے امید ظاہر کی کہ دو ہزار چھبیس چین اور امریکہ کے تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔

اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور چین کے تعلقات پہلے سے کہیں بہتر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ساتھ دنیا کے بہترین کاروباری رہنماؤں کو چین لائے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون عالمی معیشت کے لیے فائدہ مند ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے شی جن پنگ کو عظیم رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی دونوں ممالک کے درمیان مسائل پیدا ہوئے، انہیں بات چیت کے ذریعے جلد حل کر لیا گیا۔

ملاقات سے قبل امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے جنوبی کوریا میں چین کے نائب وزیر اعظم ہی لی فنگ سے بھی ملاقات کی، جس میں اقتصادی اور تجارتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں مثبت پیش رفت، اسحاق ڈار کی امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری سے ملاقات

منصور احمد ,May 14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز): امریکہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری برائے جنوبی و وسطی ایشیائی امور پال کپور نے نائب وزیر اعظم اور وزیرِخارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی، جس سے پاک۔امریکہ تعلقات اور مجموعی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران اسحاق ڈار نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن انسان اور ایران۔امریکہ جنگ بندی مفاہمت کا خیرمقدم۔

انہوں نے کہا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وانس نے 11 تا 12 اپریل کو پاکستان کو سراہا اور مسائل کے حل کے لیے بات چیت اور کیکاری کی طاقت پر زور دیا۔

نائب وزیرِاعظم نے پاکستان اور امریکہ کے موجودہ مثبت پیش رفت پر اظہار خیال کرتے ہوئے سطحی روابط پر اعلیٰ اور ڈائیلاگ کی ضرورت پر زور دیا۔

دونوں لیڈروں نے تجارت، سرمایہ کاری اور تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ اسسٹنٹ سیکرٹری پال کپور نے علاقائی سطح پر پاکستان کے کردار کو سراہا۔

صومالیہ کے ساحل پر اغوا شدہ 10 پاکستانیوں کے اہل خانہ کا احتجاج، حکومت سے فوری بازیابی کا مطالبہ

کاشف عباسی ,May 14 ,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز): صومالیہ کے ساحل پر قزاقوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے آئل ٹینکر پر سوار 10 پاکستانیوں کے اہل خانہ نے اپنوں کی بازیابی کے لیے شدید احتجاج کیا ہے۔ احتجاج میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شریک تھی جنہوں نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔

حکومتی خاموشی پر شدید غم و غصہ مظاہرین نے بینرز پر “کوئی کارروائی نہیں، کوئی بیان نہیں” جیسے نعرے درج کر رکھے تھے جو حکومتی مبینہ سرد مہری کے خلاف احتجاج کی عکاسی کر رہے تھے۔ اہل خانہ کا موقف ہے کہ 21 اپریل کو پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے کو کئی دن بیت چکے ہیں، مگر اب تک حکومت کی جانب سے کوئی ٹھوس قدم اٹھایا گیا ہے اور نہ ہی کوئی باقاعدہ بیان سامنے آیا ہے۔

سفارتی اقدامات کا مطالبہ مظاہرین نے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ صومالی قزاقوں کے چنگل سے پاکستانیوں کو چھڑانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر سفارتی اور حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔ اہل خانہ کا کہنا تھا کہ انتظار کی گھڑیاں اب ان کے لیے ناقابلِ برداشت ہو چکی ہیں اور وہ اپنے پیاروں کی باحفاظت واپسی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

بیجنگ میں ‘سپر پاورز’ کا ٹکراؤ: صدر ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات پر تجارت اور جنگ کے سائے

کاشف عباسی ,May 14 ,2026

یجنگ (نیوز اینڈ نیوز): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان آج بیجنگ کے تاریخی ‘گریٹ ہال آف دی پیپل’ میں ایک انتہائی اہم ملاقات ہو رہی ہے۔ اس ملاقات کے ایجنڈے پر مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران جنگ، تائیوان کے معاملات اور دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری تجارتی تناؤ جیسے حساس موضوعات چھائے ہوئے ہیں۔

ایک دہائی بعد تاریخی دورہ
گزشتہ دس سالوں میں کسی بھی امریکی صدر کا چین کا یہ پہلا دورہ ہے۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ ایران کے ساتھ ایک شدید جنگ میں مصروف ہے، جس کی وجہ سے توانائی کی عالمی منڈیوں میں عدم استحکام پیدا ہو چکا ہے اور واشنگٹن کو اب تک 29 بلین ڈالر سے زائد کا مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اصل میں یہ ملاقات مارچ میں ہونی تھی، لیکن ایران پر امریکہ اور اسرائیلی حملوں کے باعث شروع ہونے والی جنگ کی وجہ سے اسے مؤخر کرنا پڑا۔

ٹیکنالوجی جائنٹس کی شرکت اور معاشی ایجنڈا
صدر ٹرمپ کے اس دورے کی خاص بات ان کے ہمراہ ٹیسلا (Tesla) کے ایلون مسک، اینویڈیا (Nvidia) کے جینسن ہوانگ اور ایپل (Apple) کے سربراہان سمیت درجن بھر اعلیٰ حکام کی موجودگی ہے۔ ایئر فورس ون کے ذریعے بیجنگ پہنچنے پر صدر ٹرمپ کا ریڈ کارپیٹ استقبال کیا گیا۔ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پیغام میں امید ظاہر کی کہ وہ چینی صدر سے مارکیٹ کو مزید ‘کھولنے’ کی درخواست کریں گے تاکہ باصلاحیت چینی عوام اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکیں۔

ملاقاتوں کا شیڈول اور اہداف
بیجنگ پہنچنے پر 300 چینی نوجوانوں نے سفید لباس میں امریکی صدر کا استقبال کیا۔ اپنے قیام کے دوران صدر ٹرمپ تاریخی ‘ٹیمپل آف ہیون’ کا دورہ بھی کریں گے، جبکہ جمعہ کو وطن واپسی سے قبل دونوں رہنماؤں کے درمیان چائے پر ملاقات اور ورکنگ لنچ بھی طے ہے۔ دوسری جانب چین نے بھی اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ تعاون کو فروغ دینے اور باہمی اختلافات کو بہتر انداز میں مینیج کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

تہران: جنگ بندی کی غیر یقینی صورتحال، ایرانی فوج ہائی الرٹ، آبنائے ہرمز سے امریکی فوجی سازوسامان گزارنے پر پابندی کا اعلان

محمود احمد May13,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز): خطے میں جاری کشیدگی اور جنگ بندی کے حوالے سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر ایرانی فوج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ کسی بھی امریکی فوجی سازوسامان کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ترجمان ایرانی فوج کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں دشمن کے سامنے پیچھے ہٹنے کی اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی مسلح افواج دشمن کے کسی بھی ممکنہ جارحانہ اقدام کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور ملکی دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جا چکے ہیں۔

بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم کے مطابق، آبنائے ہرمز کی نگرانی سخت کر دی گئی ہے اور امریکی فوجی نقل و حرکت کو روکنا ایران کی دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کا ماننا ہے کہ ایرانی فوج کے اس تازہ ترین بیان کے بعد خطے میں بحری اور فوجی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

امریکہ ایران کشیدگی: جنگی اخراجات 29 ارب ڈالر سے تجاوز، جنگ بندی غیر یقینی

محمود احمد May13,2026

واشنگٹن / تہران (نیوز اینڈ نیوز رپورٹ)
امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے منگل کے روز کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے آغاز سے اب تک امریکہ کے جنگی اخراجات 29 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، جبکہ امن کی امیدیں مسلسل کمزور ہو رہی ہیں۔

پینٹاگون کے مطابق یہ اخراجات فروری میں شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد سے اب تک کے ہیں، جن میں فوجی ساز و سامان کی مرمت، متبادل آلات کی خریداری اور آپریشنل اخراجات شامل ہیں۔ اس سے قبل 29 اپریل کو یہ تخمینہ 25 ارب ڈالر بتایا گیا تھا۔

کانگریس کو بریفنگ دیتے ہوئے قائم مقام کمپٹرولر جولز ہرسٹ نے بتایا کہ یہ تخمینہ مسلسل اپڈیٹ کیا جا رہا ہے کیونکہ فوجی ٹیمیں ہر مرحلے پر اخراجات کا جائزہ لے رہی ہیں۔

انہوں نے یہ بیان وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین کے ہمراہ دیا۔

ادھر صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں امن کے امکانات کمزور پڑ رہے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے سخت مؤقف کے باعث کشیدگی میں کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔

اسی دوران عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی اثرات دیکھے جا رہے ہیں، جہاں اپریل میں امریکہ میں افراطِ زر (مہنگائی) کی شرح تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے چین کے طویل انتظار کے دورے سے قبل کہا ہے کہ وہ “امن کے ذریعے یا کسی اور طریقے سے کامیابی حاصل کریں گے”۔

دوسری جانب ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے گزشتہ ماہ ایران کی ایک توانائی تنصیب پر حملہ کیا تھا، جبکہ یورپی یونین جنگ کے بعد بحری مشن پر غور کر رہی ہے۔

مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تہران نے آبنائے ہرمز پر اپنی نگرانی مزید سخت کر دی ہے، جو عالمی توانائی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان کی جانب سے بھی خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں، اور اسلام آباد نے چین اور آذربائیجان سمیت مختلف ممالک کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے رابطے بڑھائے ہیں۔ امریکی صدر نے اس کردار کو سراہتے ہوئے پاکستان کو “انتہائی بہترین ثالث” قرار دیا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز
(بین الاقوامی ڈیسک)

امریکا اور ایران میں کشیدگی میں اضافہ، آبنائے ہرمز بحران پر الزامات کا تبادلہ

محمود احمد May12,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جہاں دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر سخت الزامات عائد کیے ہیں۔ ایران نے کہا ہے کہ امریکا حقیقی مذاکرات کے بجائے مکمل ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ امریکی حکام نے ایران پر دباؤ بڑھانے اور عسکری کامیابیوں کے دعوے کیے ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے مذاکرات کے لیے جنگ بندی اور بحری ناکہ بندی کا خاتمہ بنیادی شرط ہے۔ ان کے مطابق امریکا کا رویہ ایران پر اپنی شرائط مسلط کرنے کے مترادف ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی ذمہ داری بھی امریکا پر عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بحری ناکہ بندی بین الاقوامی قانون کے تحت اعلانِ جنگ تصور کی جاتی ہے اور ایران اس صورتحال کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔

چین میں ایران کے سفیر نے بھی ایک بیان میں کہا کہ امریکا دباؤ ڈال کر چین اور ایران کے تعلقات کو متاثر نہیں کر سکتا، کیونکہ دونوں ممالک کے تعلقات تاریخی اور مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔

دوسری جانب امریکی وزیر جنگ نے سینیٹ کمیٹی میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف مختلف محاذوں پر کامیابیاں حاصل کر رہا ہے اور ایران کو اپنے عسکری نقصان کا احساس ہو چکا ہے، اسی لیے وہ مذاکرات کی طرف آ رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق تنازع کا حل صرف صدر ٹرمپ کی شرائط کے مطابق ممکن ہے، اور امریکا کے پاس اپنی پوزیشن منوانے کے لیے تمام ضروری عسکری صلاحیتیں موجود ہیں۔

ادھر ایران کی پارلیمانی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا یا اسرائیل کی جانب سے نیا حملہ کیا گیا تو ایران یورینیئم کی 90 فیصد افزودگی سمیت دیگر آپشنز پر غور کر سکتا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے بھی کہا ہے کہ ایران کے عوام کے حقوق کو تسلیم کیے بغیر کوئی حل ممکن نہیں، اور اس معاملے میں تاخیر سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ہر ناکامی کا بوجھ بالآخر امریکی ٹیکس دہندگان کو برداشت کرنا پڑے گا۔

ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے میں توانائی، تجارت اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

امریکہ ایران مذاکرات میں تعطل، پاکستان کی سفارتی کوششیں تیز

کاشف عباسی ,May 12 ,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل کے آثار نمایاں ہونے کے بعد پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں۔ یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کی جانب سے پیش کیے گئے تصفیہ فریم ورک کو مسترد کر دیا۔

رپورٹس کے مطابق پیر کے روز خطے میں اہم سفارتی سرگرمیاں جاری رہیں جبکہ فوجی دباؤ اور دوبارہ محاذ آرائی کے خدشات بھی بڑھنے لگے ہیں۔ پاکستان اس دوران ایک باضابطہ ثالث کے طور پر مختلف ممالک کے ساتھ رابطوں میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جواب کو “مکمل طور پر ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کی خلیج بہت وسیع ہے۔ فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے جنگ بندی کی صورتحال کو شدید خطرے میں قرار دیا اور کہا کہ یہ ایسے ہے جیسے کسی مریض کے بچنے کے امکانات صرف ایک فیصد رہ جائیں۔

ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے والے تیل بردار اور تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے فوجی آپریشن دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہا ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

اس صورتحال کے تناظر میں پاکستان کا دفتر خارجہ مسلسل سفارتی رابطے کر رہا ہے۔ امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی جس میں خطے کی بدلتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا اور علاقائی استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر گفتگو کی۔ ذرائع کے مطابق پاکستان خلیجی ممالک اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ بھی رابطے میں ہے تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کئی متعلقہ ممالک ایران سے رابطے کر رہے ہیں جبکہ اسلام آباد اب بھی اس معاملے میں ایک فعال ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے ایک اہلکار نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں تعطل پیدا ہوا تو عالمی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو خوراک اور توانائی کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

برطانیہ کی ایران سے منسلک تنظیموں اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس پر نئی پابندیاں

محمود احمد May11,2026

لندن، نیوز اینڈ نیوز:
برطانیہ نے ایران سے منسلک تنظیموں اور مبینہ جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ برطانوی وزارتِ خارجہ کے مطابق ان پابندیوں کا مقصد برطانیہ، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کو مزید مضبوط بنانا اور خطے میں غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام یقینی بنانا ہے۔

برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی ریاست سے منسلک بعض گروہ یورپ اور امریکا میں غیرقانونی سرگرمیوں، مالی جرائم اور سلامتی کے لیے خطرات پیدا کرنے میں ملوث پائے گئے ہیں۔ اسی تناظر میں متعدد افراد، تنظیموں اور نیٹ ورکس پر سفری پابندیاں، اثاثے منجمد کرنے اور مالی لین دین محدود کرنے جیسے اقدامات کیے گئے ہیں۔

وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانیہ اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر عالمی سلامتی کو درپیش خطرات کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا اور کسی بھی ایسے نیٹ ورک کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بنے۔

دوسری جانب ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر ان پابندیوں پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں تہران مغربی ممالک کے ایسے الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق برطانیہ کے اس اقدام سے ایران اور مغربی ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔