پاکستان تعمیری عالمی موسمیاتی سفارت کاری اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے؛ وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک

روزینہ اسماعیل, JULY 24,2026

شاماخی، آذربائیجان (نیوز اینڈ نیوز) — 24 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے، تعمیری عالمی موسمیاتی سفارت کاری اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔

وزارتِ موسمیاتی تبدیلی سے جاری کردہ بیان کے مطابق وفاقی وزیر نے ان خیالات کا اظہار آذربائیجان کے شہر شاماخی میں آئندہ اقوامِ متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس (کوپ 31) کے سلسلے میں منعقدہ ہیڈز آف ڈیلیگیشنز ریٹریٹ میں شرکت کے موقع پر کیا۔ یہ کانفرنس نومبر 2026ء میں ترکیہ کے شہر انطالیہ میں منعقد ہوگی، جس کے لیے شاماخی میں ترجیحات اور ایجنڈے کا جائزہ لیا گیا۔

ریٹریٹ کے موقع پر ڈاکٹر مصدق ملک نے کینیا، آذربائیجان اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام سے اہم دوطرفہ ملاقاتیں کیں:

کینیا کے ساتھ تعاون: کینیا کی کابینہ سیکریٹری ڈاکٹر ڈیبورا ایم باراسا سے ملاقات میں مارگلہ ہلز نیشنل پارک کے نئے وژن اور اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کی ازسرِنو فعالیت پر گفتگو ہوئی۔ ملاقات میں نیروبی نیشنل پارک کے ماڈل سے استفادہ کرنے اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے مشترکہ یادداشتِ تحریر (ایم او یو) کی طرف پیش رفت پر اتفاق کیا گیا۔

آذربائیجان سے روابط: آذربائیجان کے نائب وزیرِ خارجہ یلچن رفییف سے ملاقات کے دوران کوپ 31 کے ایجنڈے اور موسمیاتی امور پر بات چیت ہوئی۔ وفاقی وزیر نے وزیراعظم پاکستان کی جانب سے صدرِ آذربائیجان اور ان کی اہلیہ کے لیے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا، جبکہ دونوں ممالک نے بین الاقوامی فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔

ترکیہ سے بات چیت: ترکیہ کی نائب وزیر برائے ماحولیات فاطمہ ورنک سے ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان موسمیاتی اقدامات کے عملی فروغ اور باہمی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسندوں کا قبضہ اور پرچم لہرانے کے اقدامات نا قابلِ برداشت؛8مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کا مشترکہ بیان

محمود احمد, JULY 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 جولائی 2026ء

پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیز کارروائیوں بالخصوص اسرائیلی انتہا پسند وزراء کی قیادت میں آباد کاروں کے مسلسل داخلے اور وہاں خیمے نصب کرنے کے اقدامات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں پرچم لہرانا اور دیگر غیر قانونی اقدامات بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے دراندازی اور تشدد کو ہوا دینے والے یہ اقدامات خطے میں انتہا پسندی کو مزید بڑھاوا دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر قائم ہونے والے منصفانہ و دیرپا امن کی راہ میں شدید رکاوٹ ہیں۔

اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیل کو مقبوضہ بیت المقدس یا وہاں کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی بھی خودمختاری حاصل نہیں ہے۔ وزرائے خارجہ نے مقبوضہ شہر کے تاریخی، قانونی اور آبادیاتی تشخص کو تبدیل کرنے کی کوششوں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اردن کی ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کی اہمیت پر زور دیا۔

مشترکہ بیان میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ مسجد اقصیٰ کا پورا 144 دونم کا احاطہ صرف اور صرف مسلمانوں کی عبادت کے لیے مخصوص ہے اور اس کا تمام تر انتظام و انصرام اردن کی وزارتِ اوقاف کے ماتحت محکمہ اوقاف کے پاس ہی رہے گا۔ وزرائے خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو ان غیر قانونی اور شرپسندانہ اقدامات سے روکنے کے لیے فوری اور مؤثر کردار ادا کرے۔

ہندوتوا حکومت اسلاموفوبیا اور اقلیتوں پر مظالم میں ملوث؛ سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی کوششیں علاقائی امن کے لیے خطرہ

محمود احمد, JULY 24,2026

نیویارک / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 جولائی 2026ء

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل اور قرارداد 2788 کے حوالے سے ہونے والے مباحثے کے دوران پاکستانی مشن کی کونسلر صائمہ سلیم نے بھارتی وفد کے بے بنیاد الزامات اور غلط بیانی کا سخت اور دندان شکن جواب دیا ہے۔

حقِ جواب کا استعمال کرتے ہوئے محترمہ صائمہ سلیم نے کہا کہ یہ انتہائی ستم ظریفی ہے کہ بھارت امن کا درس دے رہا ہے جبکہ وہ خود بین الاقوامی قوانین، سلامتی کونسل کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزیوں، پڑوسی ممالک کے خلاف جارحیت اور اپنے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں شدید جبر و استبداد کا مرتکب ہو رہا ہے۔

پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر بھارت کا نام نہاد ‘اٹوٹ انگ’ یا داخلی معاملہ ہرگز نہیں ہے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کوئی وقت کی حد نہیں ہوتی۔ انہوں نے آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کے شہری تمام بنیادی حقوق اور آزادی سے مستفید ہو رہے ہیں جبکہ مقبوضہ کشمیر میں آوازوں کو دبایا جاتا ہے اور کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقِ خودارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

صائمہ سلیم نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی بھارتی یکطرفہ کوششوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کی بنیاد ہے اور اسے جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا جنوبی ایشیا کے امن و سلامتی کو شدید خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری کے سامنے بھارتی ریاستی سرپرستی میں جاری دہشت گردی کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 1 لاکھ کے قریب قیمتی جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو بھارتی مالی و عسکری معاونت کا حوالہ دینے کے ساتھ ساتھ کلبھوشن یادیو اور شمالی امریکہ میں بھارتی ایجنٹوں کے غیر ملکی قتل کے منصوبوں کو عالمی سطح پر پھیلتی بھارتی دہشت گردی کا ثبوت قرار دیا۔

پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کی ہندوتوا حکومت کے تحت بھارت میں 20 کروڑ سے زائد مسلمان، مسیحی، دلت اور سکھ شدید ظلم و ستم کا شکار ہیں، جس نے نام نہاد ‘سب سے بڑی جمہوریت’ کے دعوے کو جھوٹا ثابت کر دیا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان نے ہر قسم کی اشتعال انگیزی کے باوجود ہمیشہ تحمل، مذاکرات اور پرامن حل کو ترجیح دی ہے اور بھارت کو بھی چاہیے کہ وہ ہٹ دھرمی چھوڑ کر سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

سلامتی کونسل: تنازعات کے پرامن حل اور قرارداد 2788 پر عمل درآمد کے لیے مؤثر میکانزم کی ضرورت ہے؛ سفیر عاصم افتخار احمد

محمود احمد, JULY 23,2026

نیویارک / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اہم مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی امن و سلامتی کے لیے تنازعات کا پرامن حل اور بروقت سفارت کاری ہی واحد اور مؤثر راستہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ قرارداد 2788 کے جذبے کے تحت اقوامِ متحدہ کے منشور پر اس کے حقیقی روح کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جامع سفارشات اور قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ منشور کا آرٹیکل 33 اور 34 تنازعات کے حل کے لیے مکمل راستہ فراہم کرتے ہیں، تاہم اصل کمی ان طریقوں کے بروقت، غیر جانبدارانہ اور مستقل استعمال کے فقدان میں ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کا احاطہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی ضمانت جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازع کے سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے مطابق پرامن حل میں مضمر ہے۔

انہوں نے مغربی ایشیا میں جاری تنازع اور امریکہ و ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے ثالثی اور سفارتی کردار کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی کاوشوں سے فریقین کے درمیان رابطے بحال ہوئے اور ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ طے پائی۔ انہوں نے زور دیا کہ حالیہ دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی کے باوجود سفارت کاری کو مزید مضبوط عزم کے ساتھ آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے سلامتی کونسل میں عمل درآمد کے لیے 8 اہم عملی تجاویز بھی پیش کیں، جن میں کشیدگی کے ابتدائی آثار پر فوراً متحرک ہونا، قراردادوں پر عمل درآمد کا باقاعدہ فالو اَپ نظام قائم کرنا، آرٹیکل 34 کے تحت غیر جانبدارانہ حقائق کی جانچ، باب ششم کے لیے عملی گائیڈ کی تیاری، سیکریٹری جنرل کے گُڈ آفسز کی مالی و سیاسی حمایت، عالمی عدالتِ انصاف کا استعمال، علاقائی تنظیموں سے تعاون اور سلامتی کونسل کی کارکردگی کا وقتاً فوقتاً جائزہ شامل ہیں۔

بحیرہ جنوبی چین کا مسئلہ چین اور آسیان تعلقات کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے؛ ترجمان چینی وزارتِ خارجہ لین جیئن

محمود احمد, JULY 23,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیئن نے کہا ہے کہ بحیرہ جنوبی چین کا مسئلہ چین اور آسیان کے مضبوط اور بڑھتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کی راہ میں کسی طور بھی رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔

چینی خبر رساں ادارے سی جی ٹی این کے مطابق، ترجمان چینی وزارتِ خارجہ نے جمعرات کو حالیہ علاقائی صورتحال اور چین-آسیان تعلقات کی مستقبل میں ترقی پر میڈیا کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دونوں اطراف کے قائدین کی مشترکہ حکمتِ عملی اور قیادت کے نتیجے میں چین اور آسیان تعاون کے بہترین ثمرات سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ چین اس وقت آسیان کے 8 رکنی ممالک کے ساتھ ‘ہم نصیب معاشرے’ کی تعمیر کے حوالے سے اہم اتفاقِ رائے حاصل کر چکا ہے۔

ترجمان لین جیئن نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بحیرہ جنوبی چین تمام علاقائی ممالک کا مشترکہ گھر ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اور آسیان ممالک کے پاس اتنی دانش اور صلاحیت موجود ہے کہ وہ بحیرہ جنوبی چین کے تمام مسائل کو مناسب اور خوش اسلوبی کے ساتھ سنبھال سکیں تاکہ خطے میں امن، استحکام، باہمی تعاون اور دوستی کا ماحول قائم رہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بحیرہ جنوبی چین میں امن و امان قائم رکھنے کی باگ ڈور علاقائی ممالک کے اپنے ہاتھوں میں ہونی چاہیے۔ چین تمام آسیان ممالک کے ساتھ مل کر ہر قسم کی بیرونی مداخلت اور رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے پرعزم ہے اور بحیرہ جنوبی چین کے طے شدہ ‘ضابطۂ عمل’ پر مذاکرات کو مزید تیز کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ؛ بحیرۂ احمر اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ تجارتی نقل و حرکت کے لیے پاک سعودی مشترکہ عزم

کاشف عباسی , JULY 23,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب خطے میں امن، سلامتی اور پائیدار استحکام کے فروغ کے لیے اپنا قریبی تعاون جاری رکھیں گے، جبکہ بحیرۂ احمر، آبنائے ہرمز اور پورے خطے میں قانونی بحری آمدورفت اور بین الاقوامی تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے بھی مشترکہ حکمتِ عملی پر گامزن رہیں گے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے اہم پیغام میں وزیرِ اعظم نے بتایا کہ ان کی اپنے برادرِ گرامی سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے تفصیلی ٹیلی فونک گفتگو ہوئی ہے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے بحیرۂ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے زور دیا کہ اس نوعیت کے کارروائیاں قطعی ناقابلِ قبول ہیں، جو بین الاقوامی قوانین اور بحری آمدورفت کی آزادی کی صریح خلاف ورزی ہونے کے ساتھ ساتھ پورے خطے کے امن و سلامتی کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔

انہوں نے برادر ملک سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے پاکستان کی مکمل اور غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور تمام پاکستانی قوم اس مشکل گھڑی میں سعودی قیادت اور اپنے برادر عرب عوام کے ساتھ مکمل ثابت قدمی سے کھڑے ہیں۔

وزیرِ اعظم نے بتایا کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ان کے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہوا ہے کہ دونوں ممالک سمندری تجارت اور شاہراہوں کو تحفظ فراہم کرنے اور خطے کے وسیع تر مفاد و امن کے لیے مشترکہ اقدامات جاری رکھیں گے۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی منیلا میں برطانوی وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ سے ملاقات؛ پاک برطانیہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ

کاشف عباسی , JULY 23,026

منیلا / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے منیلا میں منعقدہ ‘آسیان ریجنل فورم 2026ء’ کے موقع پر برطانیہ کے نئے مقرر کردہ وزیر برائے خارجہ، دولتِ مشترکہ و ترقیاتی امور ایڈ ملی بینڈ سے اہم دوطرفہ ملاقات کی ہے۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایڈ ملی بینڈ کو ان کی نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دہائیوں پر محیط دیرینہ اور تاریخی شراکت داری کو تمام شعبوں میں مزید مضبوط اور فعال بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔

برطانوی وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے برطانیہ میں مقیم ملینز پر مشتمل پاکستانی کمیونٹی کی خدمات اور دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو استوار رکھنے میں ان کے مثبت کردار کو سراہا۔

ملاقات کے دوران علاقائی اور عالمی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ برطانوی وزیرِ خارجہ نے حالیہ امریکہ اور ایران کشیدگی کے دوران خطے میں بات چیت کے فروغ اور تناؤ میں کمی لانے کے لیے پاکستان کے مسلسل تعمیری اور سفارتی کردار کی تعریف کی۔ دونوں وزرائے خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار امن اور استحکام کے لیے مسلسل سفارت کاری اور بات چیت ہی واحد راستہ ہے۔

بحیرۂ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی حملوں کی شدید مذمت؛ وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک گفتگو

منصور احمد, JULY 23,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور بحیرۂ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے بزدلانہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

پی ایم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق، انتہائی خوشگوار اور اخوت پر مبنی ماحول میں ہونے والی گفتگو کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بین الاقوامی تجارتی راستوں اور بحری ٹینکرز پر حملے قطعی ناقابلِ قبول اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے اقدامات جہاز رانی کی آزادی اور علاقائی و عالمی امن اور اقتصادی استحکام کے لیے شدید خطرہ ہیں۔

وزیراعظم نے مملکتِ سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل اور تاریخی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور تمام پاکستانی قوم اس نازک گھڑی میں اپنے برادر ملک سعودی عرب اور اس کی قیادت کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔

وزیراعظم نے سعودی ولی عہد کو یقین دلایا کہ پاکستان امن و سلامتی کے قیام، بحیرۂ احمر، آبنائے ہرمز اور وسیع تر خطے میں قانونی و تجارتی بحری نقل و حرکت کی بلاتعطل روانی کو یقینی بنانے کے لیے سعودی عرب اور عالمی برادری کے ساتھ قریبی اور مضبوط تعاون جاری رکھے گا۔

وزیراعظم نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی مسلسل حمایت، یکجہتی اور دونوں ممالک کے درمیان منفرد برادرانہ تعلقات کو دل سے سراہا۔

مصری قومی دن پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور برادر عوام کو مبارکباد

کاشف عباسی , JULY 23,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے مصر کے قومی دن کے پرمسرت موقع پر مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور برادر مصری عوام کو مبارکباد کا پیغام بھیجا ہے۔

جمعرات کو جاری کردہ اپنے تہنیتی پیغام میں صدرِ مملکت نے کہا کہ پاکستان اور مصر کے مابین تعلقات باہمی احترام، مشترکہ اقدار اور مضبوط اعتماد کی تاریخی بنیادوں پر قائم ہیں۔ دونوں ممالک نے دوطرفہ شراکت داری کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی اور کثیر الجہتی فورمز پر بھی ہمیشہ افہام و تفہیم اور تعاون کی شاندار روایت کو برقرار رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، ثقافت، دفاع اور عوامی سطح پر روابط جیسے متنوع شعبوں میں دونوں ممالک کا بڑھتا ہوا تعمیری تعاون انتہائی خوش آئند اور حوصلہ افزا ہے۔

آصف علی زرداری نے حالیہ علاقائی تنازعات کے پرامن حل کے لیے دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے فعال رابطہ کاری اور سفارتی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے برسوں میں پاک مصر دوستی علاقائی ہم آہنگی، امن اور وسیع تر اقتصادی ترقی کے فروغ میں مزید اہم کردار ادا کرے گی۔

امریکی فوج کی ایران پر مسلسل 12ویں رات شدید بمباری؛ بحری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون ذخائر پر فضائی حملے

محمود احمد, JULY 23,2026

واشنگٹن / تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

امریکی فوج نے ایران کی فوجی تنصیبات پر مسلسل 12ویں رات بھی شدید بمباری کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تازہ حملوں میں ایران کی بحری صلاحیتوں، میزائل و ڈرون ذخیرہ کرنے کے مراکز، ساحلی نگرانی کے اڈوں اور فضائی دفاعی نظاموں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ان مسلسل اور منظم کارروائیوں سے تجارتی و سویلین جہازوں کو نشانہ بنانے کی ایرانی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ سینٹکام کے مطابق امریکی فورسز نے سمندری ناکہ بندی کو دوبارہ فعال کرتے ہوئے نو تجارتی جہازوں کا رخ موڑا اور ایک جہاز کو ناکارہ بنایا ہے تاکہ ایرانی بندرگاہوں کی نقل و حرکت روکی جا سکے۔ بیان میں مزید بتایا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں اس وقت 50 ہزار سے زائد امریکی اہلکار ہائی الرٹ پر مامور ہیں۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا نے بوشہر اور جاسک میں امریکی جنگی طیاروں اور میزائلوں کی بمباری کی تصدیق کی ہے۔ بوشہر کے نائب گورنر احسان جہانیان نے کہا کہ بوشہر پر ہونے والے حملوں میں فی الحال کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔

علاوہ ازیں، عرب ذرائع کے مطابق ایران کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں کویت میں واقع ‘السالم’ ایئر بیس سے آگ اور دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے ہیں۔

واشنگٹن میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی اہم ملاقاتیں؛ امریکی ایگزم بینک کے صدر اور آئی ایم ایف کے فرسٹ ڈپٹی ایم ڈی سے گفتگو

منصور احمد, JULY 23,2026

واشنگٹن / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

وفاقی وزیرِ خزانہ و سنٹرل بینکنگ کے اہم امور کے نگران محمد اورنگزیب نے اپنے دورۂ واشنگٹن ڈی سی کے دوران امریکہ کے برآمدی و در آمدی بینک کے صدر و چیئرمین جان جووانووچ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ڈین کاٹز سے الگ الگ اور اہم ملاقاتیں کی ہیں۔

ایگزم بینک کے صدر کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ تجارتی روابط کو وسعت دینے، اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے اور طویل المدتی ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

ملاقات کے دوران ایگزم بینک کے صدر نے پاکستان کے ترجیحی منصوبوں کے لیے ایک جامع اسٹریٹجک فریم ورک تیار کرنے کی تجویز پیش کی، جس کے تحت امریکی مالی معاونت، جدید ٹیکنالوجی، آلات اور خدمات کی پاکستان کو فراہمی کو ممکن بنایا جائے گا۔ وزیرِ خزانہ نے اس تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ملک کی معاشی ترقی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا۔

طرفین نے قریبی مدت کے مالیاتی منصوبوں کی نشاندہی، فوکل پرسنز کی نامزدگی اور اس اسٹریٹجک فریم ورک کو ستمبر 2026ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر حتمی شکل دینے کے ہدف پر اتفاق کیا۔

بعد ازاں، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف کے فرسٹ ڈپٹی ایم ڈی ڈین کاٹز سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستان کے جاری اقتصادی اصلاحاتی پروگرام، مالیاتی استحکام اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اقوام متحدہ میں بھارت کی سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی غیر قانونی کوشش مسترد؛ پاکستان کا پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف شدید انتباہ

محمود احمد, JULY 22,2026

اقوام متحدہ/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر معطل کرنے کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا ہے۔

جمہوریہ کانگو کی صدارت میں منعقدہ اعلیٰ سطحی مباحثے “قدرتی وسائل کی حکمرانی: امن، سلامتی اور خوشحالی کی بنیاد” میں پاکستان کا قومی بیان دیتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خبردار کیا کہ مشترکہ آبی وسائل کو بطورِ سیاسی ہتھیار استعمال کرنا علاقائی و عالمی امن اور 24 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کی زندگیوں کے لیے شدید خطرہ ہے، بالخصوص جب یہ اقدامات جموں و کشمیر کے متنازع پس منظر میں کیے جا رہے ہوں۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگست 2025ء میں ثالثی عدالت ) کے فیصلے کی روشنی میں سندھ طاس معاہدہ بدستور مکمل طور پر فعال، قانونی اور دونوں فریقین پر نافذ العمل ہے۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ قدرتی وسائل پر اقوام کی خودمختاری کے احترام، تحفظ اور مشترکہ وسائل کو ہتھیار بنانے کی کوششوں پر کڑی نظر رکھے اور پیشگی سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنے اختیارات بروئے کار لائے۔

پاکستان کے مندوب نے افریقی ممالک اور بالخصوص جمہوریہ کانگو میں قدرتی وسائل کی غیر قانونی لوٹ مار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو عالمی سپلائی چینز میں محض خام مال کا فراہم کنندہ بنانے کے بجائے مقامی سطح پر ویلیو ایڈیشن، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور منصفانہ آمدنی میں برابر کا حصہ دار بنایا جانا چاہیے۔

قدرتی وسائل کو ہتھیار بنانے کی کوششوں کی سخت مخالفت؛ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا خطاب

محمود احمد, JULY 22,2026

نیویارک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 جولائی 2026ء

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی کھلے مباحثے میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے قومی بیان دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قدرتی وسائل کو تنازعات، جبر اور استحصال کے بجائے پائیدار ترقی اور مشترکہ خوشحالی کا وسیلہ بننا چاہیے۔

اپنے خطاب میں سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ صاف توانائی اور مصنوعی ذہانت کی جانب عالمی منتقلی کے باعث اہم معدنیات پر مقابلہ ایک نئی جیو پولیٹیکل حقیقت بن چکا ہے۔ کمزور طرزِ حکمرانی، قدرتی وسائل کی غیر قانونی لوٹ مار اور بیرونی مداخلت دنیا کے مختلف خطوں میں بدامنی اور انسانی بحرانوں کو ہوا دے رہی ہے۔ انہوں نے جمہوریہ کانگو اور افریقہ کی مثالیں دیتے ہوئے زور دیا کہ ترقی پذیر ممالک کو عالمی سپلائی چینز میں محض خام مال کے فراہم کنندہ کے بجائے ویلیو ایڈیشن اور منصفانہ آمدنی کا برابر کا شریک بنایا جائے اور بین الاقوامی قانون کے تحت قدرتی وسائل پر اقوام کی خودمختاری کو یقینی بنایا جائے۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے مشترکہ آبی وسائل کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے ) کو غیر قانونی طور پر معطل کرنے کی کوششوں کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا یہ رویہ 24 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کی زندگیوں اور روزگار کے لیے مستقیم خطرہ ہے۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ اگست 2025ء میں ثالثی عدالت کے فیصلے نے واضح کر دیا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر فعال، قانونی اور دونوں ممالک پر نافذ العمل ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے خبردار کیا کہ جموں و کشمیر کے متنازع پس منظر میں بھارت کی جانب سے پانی کو بطورِ سیاسی ہتھیار استعمال کرنے کی کوششیں جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کے لیے شدید خطرات پیدا کر رہی ہیں۔ انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ قدرتی وسائل کے استحصال اور انہیں ہتھیار بنانے کے اقدامات پر کڑی نظر رکھے اور پرامن حل کے لیے پیشگی سفارت کاری کا مؤثر استعمال کرے۔

پاکستان اور مصر کا تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق؛ اسحاق ڈار کی مصری ہم منصب ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سے ملاقات

کاشف عباسی , JULY 22,026

منیلا/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں منعقدہ ‘آسیان ریجنل فورم’ (اے آر ایف) کے موقع پر مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی کی جانب سے دیے گئے خصوصی عشائیے میں شرکت کے دوران ان سے اہم ملاقات کی ہے۔

وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان پاکستان اور مصر کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ اس گفتگو میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت، دوطرفہ سرمایہ کاری، اقتصادی تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے اور کثیر الجہتی بین الاقوامی فورمز پر باہمی اشتراک کو فروغ دینے کے امور شامل تھے۔

مشرقِ وسطیٰ کی تازہ ترین اور حساس صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری کشیدگی میں کمی لانے اور مسائل کے حل کے لیے سفارتی مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ تمام ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا۔ انہوں نے اس امر پر تشویش ظاہر کی کہ علاقائی عدم استحکام عالمی بحری تجارت، توانائی کے تحفظ اور مجموعی عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے فلسطین کی تشویشناک صورتِ حال پر بھی مفصل گفتگو کی اور شہری آبادی کے خلاف تشدد کے واقعات اور مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی آبادکاری کی سرگرمیوں کو باضابطہ مسترد کرنے کے اپنے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے قاہرہ میں منعقدہ حالیہ مشاورتی اجلاس کے نتائج کا جائزہ لیتے ہوئے خطے میں پائیدار امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے مشترکہ عزم کو دہرایا۔

امریکہ کے ساتھ 200 ارب ڈالر کے 7 سٹریٹجک معاہدے طے پا گئے؛ ڈیزل اور مٹی کے تیل میں خود کفالت حاصل، عراقی وزیرِ تیل باسم محمد خضیر کی گفتگو، پریس ریلیز

کاشف عباسی , JULY 22,026

بغداد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

عراق کے وزیرِ تیل باسم محمد خضیر نے اعلان کیا ہے کہ ملک کی مجموعی تیل پیدا کرنے کی صلاحیت یومیہ 48 لاکھ بیرل سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ حکومت 2030ء تک قدرتی گیس کے شعبے میں مکمل خود کفالت حاصل کرنے کے ہدف پر گامزن ہے۔

سرکاری ٹی وی کے ایک خصوصی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عراقی وزیرِ تیل نے بتایا کہ وزیراعظم علی الزیدی کے حالیہ دورۂ امریکہ کے دوران توانائی کے شعبے سے متعلق 7 اہم اور بڑے سٹریٹجک معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ان معاہدوں اور منصوبوں کی مجموعی مالیت تقریباً 200 ارب امریکی ڈالر ہے، جن سے عراق میں تیل و گیس کے ذخائر اور پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوگا، روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے اور طلبہ کے لیے تعلیمی وظائف جیسے سماجی منصوبے بھی شروع کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت 22 بین الاقوامی کمپنیاں عراق کے تیل کے شعبوں میں فعال انداز میں کام کر رہی ہیں۔

عراقی وزیرِ تیل نے بتایا کہ ملک نے ڈیزل اور مٹی کے تیل کی پیداوار میں مکمل خود کفالت حاصل کر لی ہے، جبکہ اس وقت ملک میں یومیہ 3 کروڑ لیٹر پٹرول پیدا کیا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ ایندھن کی تقسیم کے نظام میں اب بھی بعض انتظامی چیلنجز موجود ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عراقی حکومت پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم ‘اوپیک’ کے ساتھ مسلسل تعمیری مذاکرات کر رہی ہے تاکہ عراق کے تیل برآمد کرنے کے کوٹے میں اضافہ ممکن ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق ماضی کی جنگوں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے بعد اپنا جائز اور منصفانہ برآمدی حصہ حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

کانگریس سے منظور شدہ فنڈز کی منتقلی نئے امریکی صدر کے منصب سنبھالنے تک معطل؛ امریکی سینیٹر ڈک ڈربن کا اپروپری ایشنز کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف

محمود احمد, JULY 22,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

امریکی انتظامیہ نے یوکرین کے لیے امریکی کانگریس کی جانب سے منظور شدہ 400 ملین ڈالر کی اضافی فوجی امداد کی فوری منتقلی روک دی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق، امریکی سینیٹر ڈک ڈربن نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے کانگریس سے منظور شدہ 400 ملین ڈالر کے یہ فوجی فنڈز یوکرین کو فوری منتقل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

الینوائے سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر ڈک ڈربن نے سینیٹ کی اپروپری ایشنز کمیٹی کے اہم اجلاس کے دوران اعلیٰ امریکی عسکری حکام سے سوال کیا کہ کیا انہیں اس بات کی خبر ہے کہ انتظامیہ نے فنڈز کو فی الحال روک دیا ہے اور یہ رقم اگلے امریکی صدر کے منصب سنبھالنے تک دستیاب نہیں ہوگی۔ سینیٹر ڈربن کے اس سوال پر اجلاس میں موجود عسکری قیادت نے معاملے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

سینیٹر ڈربن کا مزید کہنا تھا کہ اخراجات کے موجودہ منصوبے کے تحت اس رقم کے استعمال کی تیاری مالی سال 2029ء کے لیے کی جائے گی اور اس امداد کی بحالی یا منتقلی سے متعلق حتمی فیصلہ آنے والا نیا امریکی صدر ہی کرے گا۔ سینیٹ کی کمیٹی کے اس اہم اجلاس میں امریکی دفاعی حکام اور وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ بھی موجود تھے۔

اسرائیلی آبادکاروں کے زیرِ قبضہ فلسطینی علاقوں سے تمام اشیاء کی درآمدات پر پابندی کا اعلان؛ نیدرلینڈز کا 22 ستمبر سے فیصلہ نافذ کرنے کا فیصلہ

محمود احمد, JULY 22,2026

ایمسٹرڈیم (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

نیدرلینڈز کی حکومت نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ وہ رواں سال 22 ستمبر سے اسرائیلی آبادکاروں کے زیرِ قبضہ فلسطینی علاقوں سے ہر قسم کی سامان اور مصنوعات کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کر دے گی۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، یورپی یونین میں شامل آئرلینڈ، بیلجیئم اور سپین کے بعد نیدرلینڈز بھی ان اہم یورپی ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی آبادیوں سے تجارتی روابط ختم کرنے کے لیے باقاعدہ اقدامات کیے ہیں۔ غزہ پر اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد میں مسلسل اضافے کے بعد 27 رکنی یورپی یونین پر اس قسم کی سخت پابندیوں کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

ڈچ وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ “ان اقدامات کے ذریعے نیدرلینڈز اس غیر قانونی صورتِ حال اور قبضہ داری کا حصہ نہ بننے کی اپنی بین الاقوامی اور قانونی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے عزم کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔” وزارت نے واضح کیا کہ اس نئی پابندی کا اطلاق مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی آبادیوں میں تیار ہونے والی تمام اشیاء کی خرید و فروخت اور درآمد پر ہو گا۔

فلسطینی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ‘گلوبل ایکو’ کے مطابق، غیر قانونی اسرائیلی آبادیوں سے کی جانے والی مجموعی زرعی برآمدات کا ایک تہائی حصہ اکیلے نیدرلینڈز کو بھیجا جاتا تھا، جبکہ کل تجارتی برآمدات کا تقریباً آدھا حصہ یورپی یونین کی مارکیٹوں میں جاتا تھا، جس پر اب شدید اثرات مرتب ہوں گے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی پر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش کی گہری تشویش؛ فوری جنگ بندی کا مطالبہ

محمود احمد, JULY 22,2026

اقوامِ متحدہ/نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری اور مسلسل بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر تمام فوجی کارروائیاں روکنے اور سفارتی حل کی تلاش کے لیے کوششیں تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے ایک پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ سیکرٹری جنرل بالخصوص ایران میں اہم شہری اور بنیادی تنصیبات پر ہونے والے حملوں پر شدید مضطرب ہیں، جن میں زیرِ تعمیر ایٹمی بجلی گھر اور سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے والے اہم پلانٹس شامل ہیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ خطے کے کسی بھی حصے میں بجلی گھروں اور پانی کی فراہمی جیسے عوامی منصوبوں پر حملے بالکل نا قابلِ قبول ہیں اور ان کا سلسلہ فوراً بند ہونا چاہیے۔

ترجمان کے مطابق، ہسپتالوں، پینے کے پانی کے فراہمی کے نظام اور بنیادی انسانی ضروریات کی تنصیبات کا ہر صورت تحفظ کیا جانا چاہیے۔ سیکرٹری جنرل نے جنگ میں شامل تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین اور عام شہریوں کی حفاظت کے بنیادی اصولوں کی مکمل پاسداری کریں۔

اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اس فوجی بحران کے اثرات خطے کے دیگر ممالک تک پھیل رہے ہیں، جس کی وجہ سے بین الاقوامی تجارت، انسانی امداد کی نقل و حمل، بحری جہاز رانی کے اخراجات اور ایندھن سمیت روزمرہ کی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر شدید دباؤ بڑھ رہا ہے۔

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اس تنازع کا کوئی بھی ملٹری یا فوجی حل موجود نہیں ہے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے سیاسی و سفارتی کاوشوں کو آگے بڑھانا ہی واحد راستہ ہے۔

سعودی عرب کی وزارتِ تجارت کا ‘ڈسکاؤنٹ سیزن 2026’ کا اعلان؛ یکم اگست سے 31 اکتوبر تک رعایت فراہم کی جائے گی

منصور احمد, JULY 22,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

سعودی عرب کی وزارتِ تجارت نے مملکت میں باقاعدہ ‘ڈسکاؤنٹ سیزن 2026ء’ کا اعلان کر دیا ہے جو یکم اگست سے شروع ہو کر 31 اکتوبر تک جاری رہے گا۔

سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق، وزارتِ تجارت نے واضح کیا ہے کہ تمام تجارتی اداروں اور دکانداروں کو سامان رعایت پر فروخت کرنے کے لیے باقاعدہ طور پر عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ (اجازت نامہ) حاصل کرنا لازم ہوگا۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ ڈسکاؤنٹ سیزن ایک خاص بنیاد پر شروع کیا جا رہا ہے جس سے دیگر روایتی سیزن جیسے کہ رمضان المبارک اور عیدین کی سیل متاثر نہیں ہوں گی۔

وزارتِ تجارت کے مطابق تاجر اور دکاندار اپنے ادارے کے لیے مخصوص آن لائن پورٹل کے ذریعے سیلز پرمٹ آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔ خریداروں اور صارفین کی سہولت کے لیے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خریداری کے مقام پر موجود بارکوڈ کو اپنے موبائل سے سکین کر کے یہ تصدیق کر سکتے ہیں کہ آیا اس ادارے کے پاس باقاعدہ سرکاری اجازت نامہ موجود ہے یا نہیں، نیز سیل سے قبل اور بعد کے نرخوں کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی قوانین کے تحت کوئی بھی دکاندار یا کمپنی وزارتِ تجارت کی باضابطہ منظوری کے بغیر ‘سیل’ کا اشتہار یا نوٹس نہیں لگا سکتی۔ اجازت نامے کے حصول کے لیے اشیاء کے پرانے اور نئے رعایتی نرخوں کا مکمل اندراج کروانا ضروری ہوتا ہے۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کا دوطرفہ تعلقات اور باہمی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ؛ اسحاق ڈار کی خلیل الرحمٰن سے اہم ملاقات

محمود احمد, JULY 22,2026

منیلا/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں منعقدہ 33 ویں ‘آسیان ریجنل فورم’ (اے آر ایف) کے وزارتی اجلاس کے موقع پر بنگلہ دیش کے وزیرِ خارجہ اور اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے نومنتخب صدر خلیل الرحمٰن سے ایک اہم ملاقات کی ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے دوران پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی حالیہ مثبت پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے گزشتہ سال نائب وزیرِ اعظم کے دورۂ بنگلہ دیش کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیاسی و سفارتی پیش رفت اور دوطرفہ تعلقات کی نئی رفتار کو سراہا اور باہمی روابط کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دونوں برادر ممالک کے مابین بڑھتے ہوئے تجارتی و ثقافتی تعلقات، عوامی سطح پر رابطوں کی بحالی اور جاری سال کے دوران پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان براہِ راست پروازوں کے باقاعدہ آغاز کا خصوصی خیرمقدم کیا، جس سے باہمی سفر اور مواصلات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

دونوں وزرائے خارجہ نے اس مثبت پیش رفت کو آئندہ بھی جاری رکھنے پر اتفاق کیا اور باہمی دلچسپی کے علاقائی، بین الاقوامی اور سفارتی امور پر تفصیلی گفتگو کی۔