مسجدِ اقصی پر یہودی آباد کاروں کا ایک اور مقتدر دھاوا؛ قابض اسرائیلی افواج کی فلسطینیوں کے گھر مسمار کرنے کی دھمکیاں اور گرفتاریاں

محمود احمد, JULY 20,2026

مقبوضہ بیت المقدس (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

مقبوضہ بیت المقدس اور مسلمانوں کے قبلۂ اول مسجدِ اقصی پر صہیونی جارحیت کا سلسلہ بدستور تیز ہو گیا ہے. مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق، قابض اسرائیلی فورسز کی سخت سکیورٹی میں اتوار کے روز 214 انتہا پسند یہودی آباد کاروں نے مسجدِ اقصی پر ایک بار پھر تزویراتی دھاوا بولا. اس اشتعال انگیز کارروائی کے ساتھ ہی قابض اسرائیلی حکام کی جانب سے مسجد کی انتظامیہ کے ارکان کی جبری بیدخلی، فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری کے یکطرفہ نوٹسز اور شہر کے مختلف علاقوں میں مقتدر چھاپوں کا تادیبی سلسلہ بھی تیز کر دیا گیا ہے.

القدس گورنریٹ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیانیے کے مطابق، 214 یہودی آباد کاروں نے صبح اور دوپہر کے بعد دو مختلف اوقات میں منظم گروپس کی شکل میں مسجدِ اقصی کے تقدس کو پامال کیا، جو کہ یہاں بار بار ہونے والے صہیونی حملوں کا مقتدر تسلسل ہے. وادی حلوہ انفارمیشن سینٹر کے تادیبی اعداد و شمار کے مطابق، صرف گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مسجدِ اقصی پر دھاوا بولنے والے انتہا پسند یہودی آباد کاروں کی مجموعی تعداد 1639 تک پہنچ چکی ہے. مزید برآں، قابض حکام نے مقبوضہ بیت المقدس میں ہیئتِ عملِ قومی کے ممتاز رکن اور سرگرم سیاسی کارکن احمد الصفدی اور ناصر الہدمی سمیت کئی دیگر اہم مسلم شخصیات کو مسجدِ اقصی کی حدود سے جبری طور پر بیدخل کرنے کا مقتدر حکم نامہ جاری کیا ہے.

دوسری جانب، فلسطینی آبادی کو ہجرت پر مجبور کرنے کی تزویراتی پالیسی کے تحت قابض اسرائیلی افواج نے مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع قصبے کفر عقب میں 22 مکانات کے مالکان کو گھر خالی کرنے کے حتمی نوٹسز تھمائے ہیں، جنہیں مسماری کے لیے صرف ایک ہفتے کی مہلت دی گئی ہے؛ یہ مکانات ان 30 گھروں کا حصہ ہیں جن کے خلاف پہلے ہی انہدام کے احکامات جاری ہو چکے ہیں. اسی مقتدر کارروائی کے دوران اسرائیلی فورسز نے قلندیا کیمپ پر چھاپہ مار کر شہریوں کے گھروں میں توڑ پھوڑ کی اور ایک فلسطینی کو گرفتار کر لیا. گورنریٹ کے مطابق، قابض فوج نے قلندیا کیمپ میں پاپولر کمیٹی کی مقتدر عمارت اور خود القدس گورنریٹ کے سرکاری دفتر پر وحشیانہ قبضہ کر لیا اور احتجاج کرنے والے نہتے فلسطینیوں پر اندھا دھند آنسو گیس کے گولے اور ساؤنڈ بم برسائے، جبکہ بیت عنان اور بیت لقیا کو ملانے والی سڑک پر مستقل فوجی گیٹ کی تنصیب کے لیے سیمنٹ کے بھاری بلاکس رکھ کر راستے بلاک کر دیے ہیں.

اتر پردیش کے ضلع مظفر نگر میں افسوسناک واقعہ؛ زخمی ہسپتال منتقل، شمالی اور شمال مشرقی ریاستوں میں مزید بارشوں کا الرٹ جاری

کاشف عباسی , JULY 20,026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش میں مون سون کی شدید اور تباہ کن بارشوں کے باعث ایک مقتدر مکان کی چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے 5 افراد ہلاک اور 2 شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ چینی خبر رساں ادارے ‘شنہوا’ کے مطابق یہ انتہائی افسوسناک اور دلخراش واقعہ گزشتہ رات اتر پردیش کے ضلع مظفر نگر کے نواحی گاؤں حبیب پور میں پیش آیا، جہاں خستہ حال مکان موسلا دھار بارشوں کا دباؤ برداشت نہ کر سکا۔

مقامی پولیس حکام نے تادیبی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ملبے تلے دب کر ہلاک ہونے والوں میں بدقسمت خاندان کے 4 معصوم بچے بھی شامل ہیں، جن کی لاشیں ریسکیو اداروں نے نکال لی ہیں۔ واقعے میں شدید زخمی ہونے والے دیگر 2 افراد کو فوری طور پر قریبی مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا طبی علاج جاری ہے۔ مقتدر بھارتی محکمۂ موسمیات اور سول انتظامیہ نے صورتحال کی سنگینی کے پیشِ نظر آئندہ چند روز کے دوران ملک کے شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں مزید طوفانی اور شدید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے اور شہریوں کو مخدوش مکانات سے دور رہنے کی تادیبی ہدایات دی ہیں۔

نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار سے کینیڈین وزیرِ خارجہ انیتا آنند کی مقتدر ملاقات؛ دوطرفہ تعلقات اور عالمی و علاقائی سکیورٹی کے امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال

محمود احمد, JULY 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی کینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند نے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے وزارتِ خارجہ میں ایک اعلیٰ سطح کی مقتدر اور تزویراتی ملاقات کی ہے۔ کینیڈین وزیرِ خارجہ کا منصب سنبھالنے کے بعد ان کا یہ پہلا باضابطہ دورۂ پاکستان دونوں ممالک کے مابین سفارتی و معاشی تعلقات کو نئی جہت دینے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

پیر کے روز وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ آفیشل اعلامیے کے مطابق، اس ہائی پروفائل ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے پاکستان اور کینیڈا کے دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کا جامع تادیبی جائزہ لیا، جبکہ موجودہ بدلتے ہوئے علاقائی ماحول اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاک-کینیڈا باہمی مفاد اور مشترکہ اقدار پر مبنی طویل مدتی شراکت داری کو مزید مستحکم اور مضبوط بنانے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔

ملاقات میں دونوں وزرائے خارجہ نے تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، آئی ٹی اور عوامی روابط جیسے ترجیحی شعبوں میں باہمی تعاون کا دائرہ کار مزید وسعت دینے پر مکمل اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کے مابین طے پانے والے متفقہ مشترکہ اعلامیے کے مقتدر نکات پر عمل درآمد کی رفتار اور اب تک کی پیش رفت کا مسلسل جائزہ لینے کے لیے ہر سال باقاعدگی کے ساتھ اعلیٰ سطح کا سالانہ اجلاس منعقد کرنے کا ایک اہم تزویراتی فیصلہ بھی کیا گیا، جس سے دونوں ممالک کے مابین ادارہ جاتی روابط مزید منظم ہوں گے۔

اسپین نے ارجنٹائن کو 1-0 سے شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ 2026ء کا عالمی ٹائٹل جیت لیا

محمود احمد, JULY 20,2026

نیویارک/ایسٹ ردرفورڈ (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

اسپین کی قومی فٹ بال ٹیم نے فیفا ورلڈ کپ 2026ء کے سنسنی خیز اور تزویراتی فائنل معرکے میں دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کو 1-0 سے شکست دے کر تاریخ کا ایک اور مقتدر عالمی اعزاز اپنے نام کر لیا ہے. امریکہ کی ریاست نیو جرسی کے تاریخی میٹ لائف اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل میچ میں ہسپانوی ٹیم نے کھیل کے پہلے منٹ سے لے کر اختتامی سیٹی بجنے تک میچ پر اپنا مکمل کنٹرول برقرار رکھا اور شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا.

ورلڈ کپ کے اس تاریخی فائنل میں اسپین نے اپنی روایتی اور منظم حکمتِ عملی کے تحت میچ کے آغاز سے ہی ارجنٹائن پر شدید دباؤ بنائے رکھا. اسپین کی ٹیم پورے میچ میں مسلسل اور جارحانہ حملے کرتی رہی، تاہم ارجنٹائن کے گول کیپر نے انتہائی شاندار اور غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسپین کے کئی یقینی گولز کو ناکام بنایا اور ارجنٹائن کو بڑے نقصان سے بچائے رکھا. دوسری جانب، دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کی ٹیم فائنل کے اس اہم ترین معرکے میں اپنی وہ روایتی اور مقتدر فارم نہ دکھا سکی جس کے لیے وہ دنیا بھر میں جانی جاتی ہے اور ہسپانوی اٹیک کے سامنے بے بس نظر آئی.

میچ کے پہلے ہاف میں ارجنٹائن کے گول کیپر کے بہترین دفاع کی بدولت مقابلہ بغیر کسی گول کے برابر رہا، تاہم دوسرے ہاف میں اسپین نے شاندار اور مربوط کمبینیشن پلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے بالاآخر ارجنٹائن کے دفاع کو توڑ ہی دیا اور فیصلہ کن گول اسکور کر دیا، جو میچ کے آخر تک فاتح گول ثابت ہوا. ارجنٹائن کی ٹیم نے آخری لمحات میں میچ برابر کرنے کی کوشش ضرور کی لیکن اسپین کے مضبوط دفاع نے ان کا کوئی بھی تادیبی حربہ چلنے نہ دیا. شاندار فتح کا مقتدر سائرن بجتے ہی اسپین کے کھلاڑی اور مداح جشن میں ڈوب گئے.

فیفا کی جانب سے مقررہ مروجہ انعامی رقم کے مطابق ورلڈ کپ 2026ء کی فاتح ٹیم اسپین کو 5 کروڑ امریکی ڈالر جبکہ رنر اپ رہنے والی ارجنٹائن کی ٹیم کو 3 کروڑ 30 لاکھ امریکی ڈالر کی بھاری انعامی رقم دی جائے گی. اسی طرح تیسری پوزیشن حاصل کرنے پر انگلینڈ کو 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالر اور چوتھی پوزیشن پر فرانس کو 2 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے انعامات دیے جائیں گے. اس عالمی تاریخی فتح کے بعد اسپین نے ایک بار پھر دنیا کی بہترین فٹ بال ٹیم ہونے کا مقتدر تاج سر پر سجا لیا ہے، جبکہ ارجنٹائن کا مسلسل دوسری بار عالمی چیمپئن بننے کا تزویراتی خواب ادھورا رہ گیا.

وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر بڑی کامیابی؛ ترک دنیا کی آئینی عدالتوں کی کانفرنس میں مبصر کی متفقہ رکنیت منظور

منصور احمد, JULY 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان نے بین الاقوامی آئینی عدالتی برادری میں ایک انتہائی مقتدر اور تزویراتی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ پاکستان کی نو تشکیل شدہ وفاقی آئینی عدالت کو “ترک دنیا کی آئینی عدالتوں کی کانفرنس میں متفقہ طور پر مبصر کی حیثیت سے مستقل رکنیت دے دی گئی ہے، جو کہ عالمی سطح پر ملکی عدالتی برادری کے بڑھتے ہوئے کردار اور مؤثر ترین روابط کا واضح ثبوت ہے۔

اتوار کے روز وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ آفیشل پریس ریلیز کے مطابق، ترک دنیا کی آئینی عدالتوں کی کانفرنس کا تزویراتی قیام 27 اپریل 2022ء کو استنبول (ترکیہ) میں عمل میں آیا تھا، جس کا بنیادی مقصد ترک ممالک کے مابین آئینی انصاف، قانون کی حکمرانی کو مستحکم کرنا اور عدالتی تجربات و بہترین آئینی فقہ کے تبادلے کو فروغ دینا ہے۔ اس اہم تنظیم کے مستقل اور مکمل ارکان میں ترکیہ، آذربائیجان، قازقستان، کرغزستان اور ازبکستان کی سپریم و آئینی عدالتیں شامل ہیں۔

ترک تنظیم کی جانب سے پاکستان کو مبصر کی حیثیت سے شامل کرنے کے اس مقتدر فیصلے سے متعلق جمہوریہ آذربائیجان کی آئینی عدالت کے چیئرمین اور کے موجودہ ٹرم صدر فرہاد عبداللایف نے وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کے چیف جسٹس امین الدین خان کے نام ایک باضابطہ مکتوب ارسال کیا۔ اس خط میں تصدیق کی گئی کہ تنظیم کے دستور کے آرٹیکل 10.4 کے تحت تمام رکن ممالک کی عدالتوں نے پاکستان کی شمولیت کی متفقہ منظوری دی ہے۔ فرہاد عبداللایف نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی ممتاز آئینی مہارت اور اعلیٰ ساکھ تنظیم کی سرگرمیوں میں مثبت کردار ادا کرے گی اور یہ شمولیت ادارہ جاتی روابط کو مزید مضبوط کرے گی۔

وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کے چیف جسٹس امین الدین خان نے اس مقتدر اور تاریخی پیش رفت کا شاندار خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان کی آئینی عدالتی روایت اور وفاقی آئینی عدالت پر بین الاقوامی برادری کے غیر متزلزل اعتماد کا مظہر قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے تادیبی بیان میں کہا کہ یہ رکنیت وفاقی آئینی عدالت کے قانون کی حکمرانی اور آئینی طرزِ حکمرانی کے فروغ کے عزم کی عکاس ہے۔ اس شمولیت سے پاکستان کو ترک دنیا کی عدالتوں کے ساتھ قریبی روابط استوار کرنے، علمی و ادارہ جاتی مکالمے میں شرکت اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے آئینی بالادستی اور بنیادی حقوق کے مؤثر تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے وسیع مواقع میسر آئیں گے۔

کینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند کل پاکستان کا پہلا باضابطہ دورہ کریں گی؛ نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار سے تزویراتی مذاکرات متوقع

محمود احمد, JULY 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

پاکستان اور کینیڈا کے مابین سفارتی و اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی خصوصی دعوت پر کینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند کل (20 جولائی) کو پاکستان کا اپنا پہلا مقتدر سرکاری دورہ کریں گی۔ وزارتِ خارجہ کا منصب سنبھالنے کے بعد انیتا آنند کا یہ دورۂ پاکستان دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔

اتوار کے روز دفترِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ آفیشل پریس ریلیز کے مطابق، اس ہائی پروفائل دورے کے دوران نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور کینیڈین وزیرِ خارجہ کے مابین اعلیٰ سطح کے دوطرفہ مقتدر مذاکرات ہوں گے۔ ان تزویراتی مذاکرات میں پاکستان اور کینیڈا کے باہمی تعلقات کے تمام سفارتی، سیاسی اور معاشی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، جبکہ دونوں رہنما تجارت، دوطرفہ سرمایہ کاری، اعلیٰ تعلیم، ہنر مند افرادی قوت کی منتقلی اور عوامی روابط کے کلیدی شعبوں میں تعاون کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لیے تادیبی روڈ میپ پر تبادلۂ خیال کریں گے۔ اس کے علاوہ باہمی دلچسپی کی موجودہ علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی دونوں وزرائے خارجہ اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ کینیڈا کی وزیرِ خارجہ اپنے قیام کے دوران ملکی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے بھی مقتدر ملاقاتیں کریں گی۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے دونوں ممالک کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان اور کینیڈا کے مابین ہمیشہ سے انتہائی خوشگوار اور مخلصانہ دوطرفہ تعلقات قائم رہے ہیں، جن کی اصل اور مضبوط ترین بنیاد کینیڈا میں مقیم لاکھوں افراد پر مشتمل متحرک اور محنتی پاکستانی کمیونٹی ہے جو دونوں ممالک کو جوڑنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ کینیڈین وزیرِ خارجہ کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے اور شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے مشترکہ تزویراتی عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

برسوں سے رائج ’ڈیوریشن آف اسٹیٹس‘( ڈی/ ایس) نظام کا مقتدر خاتمہ؛ عام غیر ملکی صحافیوں کا قیام 240 دن جبکہ چینی صحافیوں کے لیے صرف 90 دن کی مدت مقرر

محمود احمد, JULY 19,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بین الاقوامی میڈیا اور غیر ملکی صحافیوں کے لیے امریکی ‘آئی’ ویزا سے متعلق مروجہ قوانین میں ایک بہت بڑی اور تزویراتی تبدیلی کو حتمی شکل دے دی ہے. نئے منظور شدہ ضابطے کے تحت امریکہ میں برسوں سے رائج روایتی “ڈیوریشن آف اسٹیٹس” نظام کو باقاعدہ طور پر ختم کر دیا گیا ہے اور اس کی جگہ اب ایک مقررہ مدت پر مبنی داخلے اور قیام کا بالکل نیا نظام نافذ کیا جا رہا ہے، جس سے غیر ملکی میڈیا ہاؤسز کے کام کا طریقہ کار براہِ راست متاثر ہوگا.

امریکی محکمہ داخلی سلامتی کی جانب سے جاری کردہ تادیبی دستاویزات کے مطابق، نئے ضوابط کے تحت عام غیر ملکی صحافیوں کو اب امریکہ میں داخلے کے بعد ‘آئی’ ویزا پر زیادہ سے زیادہ صرف 240 دن تک قیام کرنے کی قانونی اجازت ہوگی. دوسری جانب، بیجنگ اور واشنگٹن کے مابین جاری تزویراتی کشیدگی کے تناظر میں چینی صحافیوں کے لیے اس ویزا پر قیام کی انتہائی حد کو مزید سخت کرتے ہوئے صرف 90 دن مقرر کر دیا گیا ہے.

واضح رہے کہ اس مقتدر تبدیلی سے قبل، امریکی امیگریشن قوانین کے مطابق ‘آئی’ ویزا ہولڈرز کو مروجہ سہولت حاصل تھی، جس کے تحت وہ اس وقت تک بغیر کسی رکاوٹ کے امریکہ میں قیام پذیر رہ سکتے تھے جب تک وہ اپنے متعلقہ بین الاقوامی میڈیا ادارے کے لیے تسلیم شدہ صحافتی ذمہ داریاں انجام دیتے رہتے تھے. تاہم، اب اس نئے تادیبی ضابطے کے بعد تمام غیر ملکی صحافیوں کو تفویض کردہ مقررہ مدت ختم ہونے سے پہلے یا تو لازمی طور پر امریکہ چھوڑنا ہوگا یا پھر اپنے قیام میں قانونی توسیع کے لیے بیوروکریسی کے مروجہ طریقہ کار کے مطابق باقاعدہ درخواست دائر کرنا ہوگی.

امریکی امیگریشن حکام نے اس مقتدر فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ویزا قوانین میں اس تبدیلی کا بنیادی مقصد ملکی امیگریشن نظام میں یکسانیت لانا، غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کی نگرانی کو مزید مؤثر بنانا اور امریکی قومی سلامتی کے تقاضوں کو پہلے سے زیادہ مضبوط کرنا ہے. بین الاقوامی میڈیا اور امیگریشن ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی اس نئی سخت پالیسی سے دنیا بھر کے غیر ملکی میڈیا اداروں، بالخصوص امریکہ میں طویل مدتی اسائنمنٹس اور بیوروز قائم کر کے کام کرنے والے مستقل صحافیوں کو اپنے ویزا اسٹیٹس، ٹیکسز اور ویزا کی بروقت توسیع کے معاملات کو پہلے سے کہیں زیادہ احتیاط اور تندہی کے ساتھ ترتیب دینا ہوں گے. یہ نئی ویزا پالیسی فوری طور پر نافذ العمل ہو چکی ہے جس کے امریکہ میں کام کرنے والے صحافیوں کی رپورٹنگ پر گہرے اثرات متوقع ہیں.

اردن اور کویت میں امریکی عسکری اڈوں پر ایران کے تباہ کن میزائل و ڈرون حملے؛ 2 امریکی فوجی ہلاک، متعدد زخمی، بلیک ہاک اسکواڈرن تباہ

محمود احمد, JULY 19,2026

واشنگٹن/تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید ترین جنگی کشیدگی کے دوران ایران اور امریکہ کے مابین مقتدر عسکری ٹکراؤ نے ہولناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ امریکی جریدے “نیویارک ٹائمز” نے سینئر امریکی حکام کے حوالے سے تزویراتی انکشاف کیا ہے کہ اردن اور کویت میں واقع امریکی عسکری اڈوں پر ایران کے حالیہ بیلسٹک میزائل اور خودکش ڈرون حملوں میں دو امریکی فوجی ہلاک، ایک لاپتا اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ ان حملوں میں امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں کے پورے اسکواڈرن، فائٹر جیٹس، بنکرز اور پیٹریاٹ ریڈار سسٹمز کو شدید ترین نقصان پہنچا ہے۔ امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ یہ مسلسل تتابعی حملے اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ ایرانی افواج کے پاس نہ صرف میزائلوں کا وافر ذخیرہ موجود ہے، بلکہ امریکی فضائی دفاعی نظام کو چکما دینے کی اس کی صلاحیت میں بھی مقتدر اضافہ ہو چکا ہے۔

امریکی عسکری حکام کی جاری کردہ تادیبی تفصیلات کے مطابق، گزشتہ 5 دنوں کے دوران ایرانی میزائلوں نے سب سے پہلے سعودی عرب میں واقع کنگ فیصل ایئر بیس کی رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا جس میں 5 امریکی اہلکار زخمی ہوئے۔ دوسرے حملے میں مشرقی اردن کے ایک خفیہ اڈے کو نشانہ بنا کر وہاں موجود بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز کے کئی اسکواڈرنز کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ اس کے بعد اردن کے موافق السلط ایئر بیس (ازرق) پر ایرانی بیلسٹک میزائلوں کی بارش کی گئی جس کے نتیجے میں بنکروں میں پناہ لینے والے 20 امریکی فوجی زخمی ہوئے، جبکہ اسی اڈے پر دوبارہ ہونے والے حملے میں 2 امریکی فوجی ہلاک اور 4 زخمی ہو گئے۔ امریکی عسکری کمانڈ “سینٹکام” نے 17 جولائی کو اردن میں ہونے والے ان حملوں میں اپنے 2 فوجیوں کی ہلاکت اور ایک اہلکار کے لاپتا ہونے کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے۔ دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے الازرق ایئر بیس پر 2 فائٹر جیٹس، 3 امریکی طیارے، پارکنگ ریمپ اور جیٹ شیلٹرز کو کامیابی سے تباہ کیا ہے۔

ایرانی مسلح افواج نے مزید بتایا کہ انہوں نے امریکی بمباری کے جارحانہ جواب میں کویت میں موجود دو بڑے امریکی اڈوں کو بھی خودکش ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق، ان حملوں میں کویت کے الادیراع اڈے پر موجود امریکی فوج کے مرکزی اسلحہ ڈپو اور علی السالم ایئر بیس پر نصب پیٹریاٹ ریڈار سسٹم اور ایئر سرویلنس ریڈار کو براہِ راست ہٹ کیا گیا ہے۔ کویتی فوج نے اگرچہ کچھ حملوں کو ناکام بنانے کی تصدیق کی ہے، تاہم جمعہ اور ہفتے کو ہونے والے ان حملوں سے کویت کے دو بجلی گھر اور تیل کی اہم تنصیبات شدید متاثر ہوئی ہیں، جس پر خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے ان حملوں کو “جنگی جرائم” قرار دیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی یہ تازہ ترین صورتحال اپریل میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد اب تک کی بلند ترین اور خطرناک ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ کو “ناقابلِ فراموش سبق” سکھانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ “شیطانِ بزرگ” (امریکہ) کی جانب سے 17 جون کو ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان طے شدہ مفاہمت کی یادداشت کے حوالے سے کی جانے والی وعدہ شکنی نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکی صدر کے دستخط کی کوئی ساکھ نہیں ہے۔ اس تزویراتی یادداشت کا مقصد ایرانی سرزمین پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کو روکنا اور 60 دنوں کے اندر حتمی امن معاہدے تک پہنچنا تھا، تاہم امریکہ کی وعدہ شکنی کے بعد ایران نے کویت، اردن اور بحرین میں امریکی تنصیبات پر حملوں کا آغاز کیا۔ اس عسکری بمباری کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا نظام مکمل طور پر معطل ہو چکا ہے، جس کے جواب میں امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر دوبارہ سخت ترین بحری ناکہ بندی عائد کر دی ہے۔

عالمی اے آئی کانفرنس؛ صدر شی جن پنگ کا کلیدی خطاب منصفانہ اور معقول عالمی گورننس سسٹم کے لیے اہم رہنمائی ہے، عالمی شخصیات

محمود احمد, JULY 19,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

چینی صدر شی جن پنگ کے “2026ء عالمی اے آئی کانفرنس اور عالمی اے آئی گورننس اعلیٰ سطحی اجلاس” کی افتتاحی تقریب سے کیے گئے کلیدی خطاب پر دنیا بھر کے متعدد ممالک کی مقتدر اور اہم سیاسی و سماجی شخصیات کا زبردست ردِعمل سامنے آیا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین اور ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر شی جن پنگ کے خطاب میں وسیع تر بین الاقوامی تعاون کی ضرورت اور ڈیجیٹل و ذہین ٹیکنالوجی کے فرق کو کم کرنے پر جو تزویراتی زور دیا گیا ہے، وہ عالمی سطح پر انتہائی دُور رس اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دانشمندانہ خیالات مشترکہ طور پر ایک منصفانہ، متوازن اور معقول عالمی اے آئی گورننس سسٹم کی تشکیل کے لیے کلیدی اور اہم رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد کے مقتدر محقق حارث ملک نے چینی صدر کے وژن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ صدر شی جن پنگ کا یہ مؤقف انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ چین مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہمیشہ عالمی عوامی مفاد کے لیے اپنی خدمات اور وسائل فراہم کرنے کا حقیقی خواہاں رہا ہے۔ انہوں نے تادیبی طور پر واضح کیا کہ اس خطاب سے دنیا کو یہ واضح پیغام ملتا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی پر صرف چند امیر، ترقی یافتہ یا بڑے ممالک کی اجارہ داری قائم نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اس سائنسی ترقی کے حقیقی فوائد پوری انسانیت اور دنیا کے تمام چھوٹے بڑے ممالک، بالخصوص “گلوبل ساؤتھ” کے پسماندہ طبقات تک لازمی پہنچنے چاہئیں۔

برازیل سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی سیاسی معیشت کے ممتاز ماہر ایلان کاموسا نے چینی صدر کے بیانیے کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا میں گلوبل ساؤتھ اور گلوبل نارتھ کے درمیان شدید معاشی و تکنیکی عدم توازن پایا جاتا ہے، خصوصاً مصنوعی ذہانت کی ترقی اور اس کی ریگولیشن کے میدان میں یہ واضح عدم توازن موجود ہے۔ ان کے مطابق گلوبل ساؤتھ کے ممالک اہم معدنیات، سستی توانائی اور خام ڈیٹا تو فراہم کرتے ہیں لیکن بین الاقوامی قواعد و ضوابط کی تشکیل کے مقتدر عمل میں انہیں اب بھی بڑی حد تک نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ صدر شی جن پنگ کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے میدان میں جاری ان ناانصافیوں سے بچنے اور مساوی حقوق کی بات دراصل اسی دیرینہ مسئلے کی درست نشاندہی کرتی ہے، جو کہ ایک انتہائی منصفانہ مؤقف ہے اور عین وقت پر سامنے آیا ہے۔

تاریخی قراردادِ الحاقِ پاکستان؛ کشمیری عوام کے غیر متزلزل نظریاتی عزم اور سیاسی بصیرت کا مقتدر دن

منصور احمد, JULY 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

نظریۂ پاکستان اور تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے لازوال رشتے کے حوالے سے ایک انتہائی مقتدر اور تاریخی دن “یومِ الحاقِ پاکستان” آج شاندار عزائم کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ 19 جولائی 1947ء کو کشمیری عوام کے اجتماعی فیصلے کی اس تاریخی قرارداد نے ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کا رخ ہمیشہ کے لیے متعین کر دیا تھا۔ تاریخِ کشمیر کا یہ وہ یادگار اور تزویراتی دن ہے جب آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے سری نگر کے مقام پر باضابطہ طور پر “قراردادِ الحاقِ پاکستان” منظور کر کے ریاست کے مستقبل کا حتمی فیصلہ عوام کی مرضی کے مطابق کیا تھا۔

یہ تاریخی قرارداد کشمیری عوام کی اعلیٰ اجتماعی سیاسی بصیرت، بے مثال قومی شعور اور پاکستان سے ان کی غیر متزلزل اور گہری نظریاتی وابستگی کا منہ بولتا اور ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ اس دور میں ڈوگرا راج کے سخت ترین ریاستی دباؤ اور ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیری قیادت کا پاکستان سے الحاق کا یہ فیصلہ خالصتاً عوامی امنگوں کا سچا مظہر بن کر سامنے آیا۔ یہ جمہوری اور اصولی فیصلہ نہ صرف کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی قانونی و اخلاقی بنیاد فراہم کرتا ہے، بلکہ آج بھی تحریکِ آزادیٔ کشمیر کی حقیقی روح اور بین الاقوامی فورمز پر پاکستانی بیانیے کا سب سے مضبوط تزویراتی استدلال ہے۔

کشمیریوں نے قیامِ پاکستان سے قبل ہی اپنی غیر معمولی سیاسی بصیرت سے مستقبل کا درست رخ متعین کر دیا تھا اور یہ واضح کر دیا تھا کہ ریاست کا الحاق کسی فردِ واحد کی صوابدید یا جاگیر نہیں، بلکہ صرف اور صرف کشمیری عوام کا بنیادی و جمہوری حق قرار پایا ہے۔ 19 جولائی کی یہ مقتدر قرارداد مسئلۂ کشمیر پر پاکستان کے قانونی اور اخلاقی مؤقف کی مضبوط ترین بنیاد ہے، جو کشمیریوں کے قومی تشخص اور لازوال نظریاتی وابستگی کی ایک زندہ علامت بن کر دنیا کے سامنے کھڑی ہے۔ کشمیری عوام آج بھی اسی تاریخی فیصلے پر قائم رہتے ہوئے اپنی آزادی کی جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازیں عارضی معطل؛ کویت ایئرویز نے بیشتر کمرشل پروازوں کا شیڈول تبدیل کر دیا

محمود احمد, JULY 18,2026

کویت سٹی (نیوز اینڈ نیوز) — 18 جولائی 2026ء

کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر طیاروں کی آمد و رفت عارضی طور پر معطل ہونے کے بعد کویت کی قومی فضائی کمپنی “کویت ایئرویز” نے اپنی بیشتر کمرشل پروازوں کا شیڈول ہنگامی طور پر دوبارہ ترتیب دینے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ اماراتی نیوز ایجنسی ‘وام’ نے کویت نیوز ایجنسی (کونا) کے مقتدر حوالے سے بتایا کہ ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشنز کے عارضی تعطل کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کے پیشِ نظر، قومی فضائی کمپنی نے تمام مسافروں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ سفر پر روانگی سے قبل اپنی متعلقہ پروازوں کی موجودہ صورتحال پر مسلسل اور گہری نظر رکھیں۔

کویت ایئرویز کی انتظامیہ نے تزویراتی تفصیلات جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فلائٹ آپریشنز میں اچانک پیدا ہونے والے اس تعطل سے مسافروں کو لاحق ہونے والی پریشانی کا مکمل احساس ہے، اسی لیے مسافروں کی سہولت کے لیے ایک خودکار نظام فعال کر دیا گیا ہے۔ ایئرلائن کے مطابق، بکنگ ریکارڈ اور ٹکٹ خریدتے وقت فراہم کیے گئے موبائل نمبروں پر خودکار ڈیجیٹل اپ ڈیٹس اور ایس ایم ایس الرٹس کے ذریعے پروازوں کے شیڈول میں ہونے والی تمام تر تادیبی تبدیلیوں سے مسافروں کو لمحہ بہ لمحہ اور بروقت آگاہ کیا جا رہا ہے۔ مسافروں کو مزید ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ابہام کی صورت میں ایئرلائن کے آفیشل ہیلپ لائن اور کسٹمر کیئر سینٹرز سے بھی براہِ راست رجوع کر سکتے ہیں۔

امن، آزادی اور انسانی حقوق کا استعارہ؛ پاکستان سمیت دنیا بھر میں نیلسن منڈیلا کا عالمی دن منایا گیا


Nelson Mandela, 1918-2013 - Saving Lives

    منصور احمد, JULY 18,2026

    اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 جولائی 2026ء

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام نسلی امتیاز کے خلاف تاریخی جدوجہد کرنے والے عظیم عالمی رہنما اور جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن منڈیلا کا عالمی دن عقیدت و احترام اور مقتدر عزم کے ساتھ منایا گیا۔ اس عالمی دن کو منانے کا بنیادی مقصد انسانی حقوق کے فروغ اور قیامِ امن کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے والے عظیم انقلابی رہنما کی سالگرہ کے موقع پر ان کی بے مثال خدمات، قربانیوں اور نظریات کو بھرپور انداز میں خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔

    واضح رہے کہ نیلسن منڈیلا نے جنوبی افریقہ میں رنگ و نسل کی بنیاد پر قائم ظالمانہ نظام (اپارتھائیڈ) کے خاتمے، انسانی حقوق کی بحالی اور مظلوموں کو ان کا حق دلانے کے لیے طویل قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، اور بعد ازاں آزاد جنوبی افریقہ کے پہلے منتخب جمہوری صدر کی حیثیت سے دنیا بھر میں امن و آشتی کا پیغام عام کیا۔ نیلسن منڈیلا کے اس عالمی دن کے موقع پر دنیا بھر کے شہریوں اور نوجوانوں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ اپنے اپنے معاشروں میں مثبت تبدیلی لانے، نسلی و طبقاتی تفریق کو مٹانے اور اس کرہ ارض کو آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ، پُرآمن اور رہنے کے قابل بہتر جگہ بنانے کے لیے انفرادی و اجتماعی سطح پر عملی اقدامات اٹھائیں۔

    اس مقتدر عالمی دن کی مناسبت سے پاکستان اور دنیا بھر کے مختلف دارالحکومتوں میں سیمینارز، واکس اور خصوصی مذاکروں کا اہتمام کیا گیا، جہاں مقررین نے نیلسن منڈیلا کی جمہوریت، رواداری اور انسانی وقار کی بلندی کے لیے کی جانے والی تزویراتی کوششوں کو اجاگر کیا۔ بین الاقوامی دانشوروں اور رہنماؤں نے اپنے پیغامات میں اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں عالمی تنازعات اور بڑھتی ہوئی تلخیوں کے خاتمے کے لیے نیلسن منڈیلا کے صلح جویانہ اور عدم تشدد کے فلسفے پر عمل کرنا پہلے سے کہیں زیادہ ناگزیر ہو چکا ہے۔

    شہری ترقی کے لیے پاکستان کا بڑا عزم؛ رانا مشہود احمد خان کا اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پائیدار اور موسمیاتی لچک پر مبنی وژن کا اعادہ

    محمود احمد, JULY 17,2026

    اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نیو اربن ایجنڈا کے وسط مدتی جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پائیدار، جامع اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ شہروں کی تعمیر کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تیز رفتار شہری آبادی میں اضافے کے باعث رہائش، ٹرانسپورٹ اور ماحولیات پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کو مشترکہ اور پائیدار حل تلاش کرنے ہوں گے۔

    چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام نے 2025ء میں آنے والے تباہ کن شہری اور دریائی سیلابوں کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اب اقوامِ متحدہ کے ادارے ‘یو این ہیبی ٹیٹ’ کے تعاون سے ایک جامع قومی شہری حکمتِ عملی تشکیل دے رہا ہے تاکہ موسمیاتی لچک کو ابتدا ہی سے شہری منصوبہ بندی کا لازمی حصہ بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ سیلاب کے بعد بحالی کے قومی پروگرام کے تحت اب تک بے گھر ہونے والے خاندانوں کے لیے 4 لاکھ سے زائد گھر تعمیر کیے جا چکے ہیں، جبکہ حکومت کم لاگت اور کم کاربن اخراج والی پبلک ٹرانسپورٹ، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے 9 ملین سے زائد خاندانوں کو سماجی تحفظ اور سیف سٹی منصوبوں کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے مقتدر اقدامات کر رہی ہے۔

    رانا مشہود احمد خان نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ پاکستان کا مستقبل اس کے نوجوانوں سے وابستہ ہے، جو ملک کی تقریباً 67 فیصد آبادی پر مشتمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی شہروں کی جانب منتقلی کے پیشِ نظر انہیں معیاری تعلیم اور روزگار فراہم کرنا ناگزیر ہے، جس کے لیے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں “پُرعزم پاکستان” پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے تاکہ نوجوانوں کو ہنر مندی اور کاروباری مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے تیز رفتار شہری آبادی سے نمٹنے کے اپنے تجربات دیگر رکن ممالک کے ساتھ شیئر کرنے اور پائیدار شہری ترقی کے لیے عالمی تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    پاک چین فارماسیوٹیکل کانفرنس کے افتتاحی روز 446 ملین ڈالر مالیت کے تاریخی تجارتی معاہدوں پر دستخط

    محمود احمد, JULY 17,2026

    اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    پاکستان اور چین کے مابین صحت اور دواسازی کے شعبے میں ایک بڑی تزویراتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وفاقی دارالحکومت میں دو روزہ “پاکستان چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس” کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس مقتدر کانفرنس کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ یہ اہم ترین انویسٹمنٹ کانفرنس وزارتِ قومی صحت، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ)، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کے مشترکہ اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے، جس میں تین سو سے زائد پاکستانی اور ایک سو پچاس معروف چینی صنعتی اداروں سمیت ساڑھے چار سو سے زائد نامور کمپنیاں حصہ لے رہی ہیں۔ افتتاحی تقریب سے قبل وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کانفرنس کے خدوخال اور تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    کانفرنس کے پہلے ہی روز دونوں ممالک کی مقتدر کمپنیوں کے مابین مجموعی طور پر 446 ملین امریکی ڈالر مالیت کے نو تاریخی تجارتی و سرمایہ کاری معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جن میں مقامی مینوفیکچرنگ، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی، مشترکہ سرمایہ کاری اور برآمدی استعداد میں اضافے کے انقلابی منصوبے شامل ہیں۔ ان تزویراتی معاہدوں کے تحت ایل ڈی ایس اور سائنوویک ہولڈنگ گروپ کے درمیان ویکسینز کی رجسٹریشن، تجارتی فروغ اور مرحلہ وار مقامی تیاری کے لیے دو سو ملین ڈالر کا سب سے بڑا تزویراتی منصوبہ طے پایا۔ اس کے ساتھ ہی او بی ایس اور کین سائنو بائیولاجکس کے مابین پاکستان میں نمونیا ویکسین کی مقامی تیاری کے لیے پچاس ملین ڈالر، جبکہ اے جی پی اور شنگھائی یونائیٹڈ سیل بائیو ٹیکنالوجی کے مابین گروتھ ہارمون اور اورل ہیضہ ویکسین کی تیاری کا پچاس ملین ڈالر کا مشترکہ منصوبہ دستخط کیا گیا۔

    تقریب میں او بی ایس فارما اور لیائوننگ لڈان فارماسیوٹیکل کے مابین مانع حمل امپلانٹس کی مقامی پیداوار کے لیے پچاس ملین ڈالر کا معاہدہ ہوا، جبکہ جنیکس فارما اور چینی بائیوٹیک کمپنیوں کے اشتراک سے تئیس ملین ڈالر کی لاگت سے پاکستان کا پہلا جدید بائیوفارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ پلیٹ فارم قائم کرنے کی منظوری دی گئی جہاں مونوکلونل اینٹی باڈیز اور انسولین تیار کی جائے گی۔ علاوہ ازیں کانگچنگ لیان شن زی کانگ بائیو ٹیکنالوجی کے ساتھ پچیس ملین ڈالر کی لاگت سے گلوکوز مانیٹرنگ مصنوعات کی اسمبلنگ، تیان یوآن فارماسیوٹیکل کے ساتھ پچیس ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے ملک میں پہلی مرتبہ جدید ترین ذیابیطس ادویات کی مقامی پیداوار، لکی کور انڈسٹریز کا تیرہ ملین ڈالر کا معاہدہ برائے ہیپاٹائٹس ڈیلٹا ادویات اور سٹی فارما کا ینگتزی ریور فارماسیوٹیکل گروپ کے ساتھ دس ملین ڈالر کا ٹیکنالوجی منتقلی کا معاہدہ بھی حتمی شکل پا گیا۔

    پنڈال میں ڈریپ، بورڈ آف انویسٹمنٹ اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے خصوصی سہولت مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں سرمایہ کاروں کو ریگولیٹری رہنمائی، لائسنسنگ اور دیگر امور میں فوری حکومتی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ کانفرنس کے دوسرے اور آخری روز ڈریپ کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کے معیارات اور پاکستان سنگل ونڈو کے ساتھ انضمام پر خصوصی تکنیکی سیشن منعقد کیا جائے گا، جس کے بعد مزید کئی کارپوریٹ مفاہمتی یادداشتوں کو حتمی شکل دیے جانے کا قوی امکان ہے۔

    غزہ کے متاثرین کے لیے متحدہ عرب امارات کی بڑی انسانی کاوش؛ 100 ٹن امدادی سامان لے کر خصوصی طیارہ روانہ

    محمود احمد, JULY 17,2026

    ابوظہبی (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    متحدہ عرب امارات کی قیادت کی خصوصی ہدایات اور دیرینہ انسانی عزم کے تحت غزہ میں محصور فلسطینی عوام کی ہنگامی مدد کے لیے راس الخیمہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے 100 ٹن وزنی امدادی سامان پر مشتمل ایک بڑا مال بردار طیارہ جمعہ کے روز روانہ کر دیا گیا ہے۔ اماراتی نیوز ایجنسی ’وام‘ کے مطابق، یہ اہم امدادی پرواز آپریشن ’’الفارس الشہم۔ 3‘‘ کے تحت ہلالِ احمر امارات، اماراتی۔فلسطینی فرینڈشپ کلب اور دار البر سوسائٹی کے باہمی اشتراک و تعاون سے ترتیب دی گئی ہے، جس کا واحد مقصد غزہ کی پٹی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنے والے مظلوم فلسطینی بہن بھائیوں کی تکالیف کو کم کرنا اور ان کی فوری انسانی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔

    اس مقتدر امدادی طیارے میں خاص طور پر معصوم بچوں کے لیے پاؤڈر کا دودھ، ضروری و ہنگامی ادویات، طبی آلات اور مختلف اقسام کے ملبوسات شامل کیے گئے ہیں تاکہ جاری بحران اور جنگی حالات سے شدید متاثرہ خاندانوں اور بے گھر افراد کی بنیادی لاجسٹک ضروریات کو موقع پر پورا کر کے ان کی بحالی میں مدد کی جا سکے۔ آپریشن الفارس الشہم۔ 3 کے ریلیف آپریشنز کے مرکزی کوآرڈینیٹر حمود العفاری نے اس موقع پر اپنے ایک خصوصی بیان میں واضح کیا کہ متحدہ عرب امارات اپنی اعلیٰ قیادت کے وژن کے مطابق اپنے تمام شراکت دار انسانی اداروں کے تعاون سے فلسطینی عوام کی امداد کے لیے اپنی تمام تر لاجسٹک، مالی اور امدادی صلاحیتوں کو بروئے کار لا رہا ہے اور اس کارِ خیر میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔

    حمود العفاری نے مزید تزویراتی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ امارات کے اس فلاحی اقدام کا بنیادی مقصد غزہ تک انسانی، غذائی اور طبی امداد کی بلا تعطل و مسلسل فراہمی کو ہر صورت یقینی بنانا ہے، تاکہ شہریوں کی روزمرہ کی بنیادی ضروریات پوری کی جا سکیں، ان کی مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو مضبوط کیا جائے اور وہاں جنم لینے والے شدید انسانی بحران کے سنگین اثرات میں ممکنہ حد تک کمی لائی جا سکے۔ واضح رہے کہ یہ حالیہ امدادی پرواز آپریشن الفارس الشہم 3 کے مقتدر فریم ورک کے تحت غزہ کے غیور فلسطینیوں تک مسلسل سامان پہنچانے کی اماراتی کوششوں کا ایک تسلسل ہے، جو دنیا بھر میں کسی بھی انسانی یا قدرتی بحران سے متاثرہ بے سہارا افراد کی مدد کے لیے متحدہ عرب امارات کے تاریخی اور غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

    پاک چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر کانفرنس کا تاریخی آغاز؛ 446 ملین ڈالر مالیت کے 9 بڑے تجارتی معاہدوں پر دستخط

    کاشف عباسی , JULY 17,026

    اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    پاکستان اور چین کے مابین معاشی و تزویراتی تعلقات میں ایک اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وفاقی دارالحکومت میں “پاکستان چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس” کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس مقتدر دو روزہ کانفرنس کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ یہ اہم ترین کانفرنس وزارتِ قومی صحت، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ)، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کے مشترکہ اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے، جس میں تین سو سے زائد پاکستانی اور ایک سو پچاس معروف چینی صنعتی اداروں سمیت ساڑھے چار سو سے زائد کمپنیاں حصہ لے رہی ہیں۔ افتتاحی تقریب سے قبل وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کانفرنس کے تزویراتی خدوخال پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    وفاقی وزیرِ صحت نے چینی وفد کو آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان آپ کا دوسرا گھر ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ پاک چین ‘آہنی بھائی چارے’ کو مشترکہ صنعتوں، کارخانوں کے قیام اور ٹیکنالوجی کی باقاعدہ منتقلی کے ذریعے زمین پر حقیقت کا روپ دیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو ماہ کی مشترکہ کوششوں کے بعد سرمایہ کاری کے لیے سات اہم شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں ایکٹو فارماسیوٹیکل اجزاء، جدید طبی آلات، ویکسین اور بائیولوجکس شامل ہیں۔ تقریب کے دوران دونوں ممالک کی مقتدر کمپنیوں کے مابین مجموعی طور پر 446 ملین امریکی ڈالر مالیت کے نو تاریخی تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جو مقامی مینوفیکچرنگ اور برآمدی استعداد میں انسدادِ تفاوت کا باعث بنیں گے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ نے کہا کہ چین اور پاکستان کی ہر موسم کی تزویراتی شراکت داری ناقابلِ شکست ہے اور چین سی پیک فیز 2.0 کے تحت اپنی جدید ترین ہیلتھ ٹیکنالوجی پاکستان کو منتقل کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

    ان تزویراتی معاہدوں کے تحت لائب ڈائیگنوسٹک سسٹمز اور سائنو ویک ہولڈنگ گروپ کے درمیان ویکسینز کی رجسٹریشن اور مرحلہ وار مقامی مینوفیکچرنگ کے لیے دوسو ملین ڈالر کا سب سے بڑا منصوبہ طے پایا۔ اس کے ساتھ ہی او بی ایس اور کین سائنو بائیولوجکس کے مابین پاکستان میں نمونیا ویکسین کی مقامی تیاری کے لیے پچاس ملین ڈالر جبکہ اے جی پی اور شنگھائی یونائیٹڈ سیل بائیوٹیک کے درمیان گروتھ ہارمون اور ہیضہ ویکسین کی تیاری کا پچاس ملین ڈالر کا مشترکہ منصوبہ دستخط کیا گیا۔ تقریب میں او بی ایس فارما اور لیاؤننگ لوڈان فارما کے مابین مانع حمل امپلانٹس کی مقامی پیداوار کے لیے پچاس ملین ڈالر اور جینکسا فارما کا چینی بائیوٹیک اداروں کے ساتھ بائیو فارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ پلیٹ فارم کے لیے تئیس ملین ڈالر کا معاہدہ بھی ہوا جہاں انسولین اور دیگر حیاتیاتی ادویات تیار ہوں گی۔ علاوہ ازیں چونگ چنگ لیان نکسن کے ساتھ پچیس ملین ڈالر کی لاگت سے گلوکوز مانیٹرنگ مصنوعات کی اسمبلنگ، تیان یوآن فارما کے ساتھ پچیس ملین ڈالر سے جدید ترین ذیابیطس ادویات کی مینوفیکچرنگ، لکی کور انڈسٹریز کا تیرہ ملین ڈالر کا معاہدہ برائے ہیپاٹائٹس ڈیلٹا ادویات اور سٹی فارما کا یانگسی ریور فارماسیوٹیکل کے ساتھ دس ملین ڈالر کا ٹیکنالوجی منتقلی کا معاہدہ بھی حتمی شکل پا گیا۔

    تقریب سے وزیراعظم کے معاونِ خصوص برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے بھی خطاب کیا۔ افتتاح کے فوراً بعد باقاعدہ بی ٹو بی میچ میکنگ سیشن شروع ہوا، جبکہ پنڈال میں ڈریپ، بورڈ آف انویسٹمنٹ اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے خصوصی ڈیسک قائم کیے گئے ہیں تاکہ سرمایہ کاروں کو فوری لائسنسنگ اور ریگولیٹری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ کانفرنس کے دوسرے اور آخری روز ڈریپ کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کے معیارات اور پاکستان سنگل ونڈو کے ساتھ انضمام پر تکنیکی سیشن منعقد کیا جائے گا، جس کے بعد مزید کارپوریٹ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط متوقع ہیں۔

    وینزویلا میں دو طاقتور زلزلوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 4 ہزار 930 تک پہنچ گئی؛ مقتدر بحالی آپریشن جاری

    محمود احمد, JULY 17,2026

    کراکس (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    جنوبی امریکی ملک وینزویلا میں آنے والے دو پے در پے انتہائی طاقتور اور تباہ کن زلزلوں کے نتیجے میں جانی نقصان کے ہولناک اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، جہاں اموات کی مجموعی تعداد بڑھ کر 4 ہزار 930 ہو گئی ہے۔ اماراتی نیوز ایجنسی ‘وام’ کی جانب سے جاری کردہ وینزویلا کے سرکاری بیان کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملبے سے مزید لاشیں نکالنے کے بعد مزید 101 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ افسوسناک امر یہ ہے کہ طویل وقت گزرنے کے باعث اب ملبے سے مزید افراد کو زندہ نکالنے کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں محفوظ نکالے گئے افراد کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہو سکا۔

    مقتدر حکومتی مانیٹرنگ سیل اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام نے زلزلے کے بعد کی صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اس وقت بھی 17 ہزار 907 افراد شدید طور پر بے گھر ہیں، جبکہ 21 Client دو سو دس متاثرین کو حکومت اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے قائم کردہ 107 عارضی امدادی کیمپوں میں ہنگامی طور پر رکھا گیا ہے جہاں انہیں خوراک اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ حالیہ تزویراتی رپورٹ کے مطابق، ان شدید زلزلوں کے جھٹکوں سے مجموعی طور پر 856 بڑی عمارتوں اور رہائشی بلاکس کو شدید نقصان پہنچا ہے، جن میں سے 190 عمارتیں مکمل طور پر زمین بوس ہو چکی ہیں۔

    زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں لاشوں کو نکالنے، ملبہ ہٹانے اور بحالی کی کارروائیوں کو تیز کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر افرادی قوت کام کر رہی ہے۔ اس وقت جائے وقوعہ پر دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے 2 ہزار 278 غیر ملکی امدادی ماہرین اور اہلکار، مقامی سول و عسکری اداروں کے 30 ہزار 989 اہلکار اور 31 ہزار 745 مقامی و بین الاقوامی رضاکار دن رات امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ وینزویلا کی حکومت نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس بڑی قدرتی آفت سے نمٹنے اور انفراسٹرکچر کی تعمیرِ نو کے لیے اپنے تعاون میں مزید اضافہ کرے۔

    شنگھائی ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کانفرنس؛ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے اہم ملاقات

    محمود احمد, JULY 17,2026

    شنگھائی/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے شنگھائی میں منعقدہ عالمی نمائش ‘ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کانفرنس’ کے مقتدر موقع پر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ایک اعلیٰ سطحی تزویراتی ملاقات کی ہے۔ نائب وزیراعظم نے اس سفارتی ملاقات پر گہرے اطمینان اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں جانب سے عالمی امور پر ہم آہنگی بڑھانے کا ایک بہترین ذریعہ قرار دیا ہے۔

    جمعہ کے روز سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر جاری اپنے ایک آفیشل پیغام میں سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ شنگھائی میں ہونے والی یہ ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کانفرنس درحقیقت جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک انتہائی اہم اور نیا بین الاقوامی پلیٹ فارم بن کر ابھرا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اقوامِ متحدہ کے فورمز پر ہونے والی اپنی حالیہ ملاقاتوں اور ٹیلیفونک رابطوں کو خوشگوار انداز میں یاد کیا، اور اس تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے خطے سمیت دنیا بھر میں ہونے والی تازہ ترین سیاسی و سیکیورٹی پیش رفت پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا۔

    نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ کے مطابق، ملاقات میں مشترکہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے، دنیا بھر میں پائیدار امن کے فروغ، اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کی منصفانہ حاصلات اور تمام ترقی پذیر ممالک کے لیے مساوی و جامع معاشی پیش رفت کو آگے بڑھانے کے لیے کثیرالجہتی سفارتی تعاون کی اہمیت پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان مصنوعی ذہانت جیسی جدید ٹیکنالوجیز تک دنیا کے تمام خطوں کی یکساں رسائی کے لیے اقوامِ متحدہ کے وژن کا مکمل حامی ہے اور عالمی چیلنجز کے حل کے لیے کثیرالجہتی فورمز پر اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

    جدید بحری جہاز ‘ایم وی گرینڈے شنگھائی’ کامیابی سے لنگر انداز؛ وقت اور اخراجات میں واضح کمی ہوگی، وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری کا مقتدر بیان

    منصور احمد, JULY 17,2026

    کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    پاکستان کی بحری تجارت کی تاریخ میں ایک نیا اور انقلابی تزویراتی باب رقم ہو گیا ہے، جہاں ملک کی پہلی رورو (رول آن/رول آف) شپمنٹ کے ذریعے 2 ہزار سے زائد جدید الیکٹرک گاڑیاں کامیابی کے ساتھ کراچی پہنچ گئی ہیں۔ وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری نے اس مقتدر کامیابی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کو لے کر آنے والا وشال تجارتی بحری جہاز “ایم وی گرینڈے شنگھائی” کراچی پورٹ کے کے جی ٹی ایم ایل ٹرمینل پر کامیابی سے لنگرانداز ہو گیا ہے۔

    وفاقی وزیر نے اس اہم پیش رفت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ رورو جہاز کے ذریعے پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں الیکٹرک گاڑیوں کی محفوظ درآمد پاکستان کی بحری تجارت اور معیشت میں ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے رورو ٹیکنالوجی کے فوائد کا تذکرہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان مخصوص جہازوں میں تمام گاڑیوں کو روایتی کرینوں کے بجائے براہِ راست چلا کر لوڈ اور اَن لوڈ کیا جاتا ہے، جس کی بدولت قیمتی وقت کی بچت کے ساتھ ساتھ بندرگاہی اخراجات میں بھی نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔

    وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے پختہ عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ ان جدید بندرگاہی سہولیات کے باعث ملک کی مجموعی تجارتی صلاحیت پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور مستحکم ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی پورٹ اب روایتی طریقوں سے نکل کر عالمی معیار کی جدید ترین شپنگ خدمات اور ماحول دوست ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کی جانب تیزی سے گامزن ہے، جس کے دور رس نتائج ملکی معیشت پر مرتب ہوں گے۔

    وزیراعظم یوتھ پروگرام کا ’’پیووٹ‘‘ پروگرام شروع، عالمی پاکستانی نوجوانوں کو قومی ترقی سے جوڑنے کا اقدام

    محمود احمد, JULY 17,2026

    نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

    وزیراعظم یوتھ پروگرام نے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کے اشتراک سے نیویارک میں واقع پاکستان مشن میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران انقلابی “پیووٹ” پروگرام کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ “کنکشن ٹو کنٹری بیوشن پاکستانی یوتھ ڈائسپورا کنیکٹ” کے عنوان سے منعقدہ اس مقتدر تقریب میں امریکہ بھر سے تعلق رکھنے والے ممتاز پاکستانی نوجوان پیشہ ور افراد، نامور کاروباری شخصیات، محققین، طلبہ اور کمیونٹی رہنماؤں نے شرکت کی اور پاکستان کے نوجوانوں کی رہنمائی اور علمی شراکت داری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ اس جدید پروگرام کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں مقیم پاکستانی نوجوانوں کو وطنِ عزیز کے نوجوان طبقے کے ساتھ مینٹورشپ، علم و تجربے کے تبادلے، پیشہ ورانہ روابط، ٹیکنالوجی اور تعلیم کے شعبوں میں باقاعدہ طور پر منسلک کرنا ہے۔

    تقریب سے اپنے کلیدی خطاب میں چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ “پیووٹ” کا آغاز پاکستان اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانی نوجوانوں کے مابین ایک شاندار تزویراتی باب کا آغاز ہے۔ انہوں نے اوورسیز نوجوانوں کو “پاکستان اور مستقبل کے درمیان ایک زندہ پل” قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ پلیٹ فارم خیرات کا نہیں بلکہ باہمی شراکت داری کا ایک فعال تصور ہے جس کا مقصد بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے عالمی تجربات سے فائدہ اٹھا کر ملک میں جدت طرازی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں یوتھ پروگرام تعلیم، روزگار، شمولیت اور ماحولیات جیسے بنیادی ستونوں پر کام کر رہا ہے اور پاکستانی نوجوانوں کو اقوامِ متحدہ سمیت عالمی اداروں میں نمائندگی کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔

    اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے استقبالیہ خطاب میں پاکستان کے نوجوانوں اور تارکینِ وطن کو قومی ترقی کے دو سب سے اہم ستون قرار دیا۔ انہوں نے “پیووٹ” کے آغاز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ تزویراتی شراکت داری قومی معیشت کو نئی رفتار دے گی اور پاکستان کا مستقل مشن نوجوانوں کی عالمی سفارت کاری میں بااعتماد شرکت کو یقینی بناتا رہے گا۔ تقریب کے دوران وزیراعظم یوتھ پروگرام کی فوکل پرسن برائے یو این امور محترمہ بسمہ قمر نے “پیووٹ” کا تعارفی خاکہ پیش کیا جبکہ فوکل پرسن برائے تعلیم محترمہ سدرا قمر نے پروگرام کا جامع جائزہ پیش کیا اور کونسلر صائمہ سلیم نے تقریب کی نظامت کے فرائض انجام دیے۔