یومِ استحصال کی 7 ویں برسی: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی تقریب، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ

محمود احمد, August 06,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 06 اگست 2026ء

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن نے نیویارک میں پاکستان کے قونصل جنرل کے دفتر کے اشتراک سے چانسلری بلڈنگ میں یومِ استحصال کی ساتویں برسی کی مناسبت سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا۔ تقریب میں پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کے اراکین، سفارت کاروں، ماہرینِ تعلیم، طلبہ اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔ مقررین نے جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کا عالمی مطالبہ دہرایا جن میں کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کی ضمانت دی گئی ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خود ارادیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے 5 اگست 2019ء کے غیر قانونی و یکطرفہ بھارتی اقدامات کو دہائیوں پر محیط جبر کو گہرا کرنے والا موڑ قرار دیا اور واضح کیا کہ تنازعے کی قانونی بنیاد اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت آج بھی برقرار ہے۔ سفیر عاصم افتخار نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے 8 اگست 2019ء کے بیان اور حالیہ موقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز اٹھائی ہے اور یہ ملک کی ایک مقدس ذمہ داری ہے۔

افتتاحی کلمات میں پاکستان کے قونصل جنرل نیویارک عامر احمد اتوزئی نے کہا کہ تنازعے کا منصفانہ اور دیرپا حل سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے۔ ڈاکٹر غلام نبی فائی (سیکریٹری جنرل کشمیر آگاہی فورم) نے مقبوضہ وادی میں آبادیاتی تبدیلیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ 47 لاکھ سے زائد غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹس کا اجرا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ انہوں نے مرحوم سید علی گیلانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر ماہرِ تعلیم شاہل کھوسو، کشمیری رہنما تاج خان اور سردار سوار خان نے بھی عالمی علمی اور پالیسی مباحث میں کشمیر کا مقدمہ مؤثر انداز میں پیش کرنے اور یکجہتی برقرار رکھنے پر زور دیا۔

تقریب کے دوران صدر، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ پاکستان کے یومِ استحصال کے موقع پر جاری کردہ خصوص پیغامات پڑھ کر سنائے گئے جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مبنی ایک دستاویزی فلم بھی نمائش کے لیے پیش کی گئی۔

یومِ استحصالِ کشمیر: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا سلامتی کونسل کی صدر کو خط، 5 اگست 2019ء کے اقدامات واپس لینے کا مطالبہ

محمود احمد, August 06,2026

اقوامِ متحدہ / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 اگست 2026ء

پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے 5 اگست 2019ء کو بھارت کی جانب سے کیے گئے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کی ساتویں برسی کے موقع پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدر اور ڈنمارک کی مستقل مندوب عزت مآب کرسٹینا مارکس لاسن کو ایک اہم اور تفصیلی خط ارسال کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے یہ خط رسمی طور پر سلامتی کونسل کی صدر کے حوالے کیا۔ خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بھارت کے 5 اگست 2019ء کے اقدامات سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جن کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو ختم کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔

نائب وزیراعظم نے خط میں سلامتی کونسل کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ بھارت مقبوضہ وادی کی آبادیاتی (ڈیموگرافک)، سیاسی اور ثقافتی شناخت کو مسخ کرنے کی منظم سازش کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ڈومیسائل قوانین اور اراضی کی ملکیت کے ضوابط بدل کر تقریباً 34 لاکھ غیر مقامی افراد کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔

خط میں مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی زبوں حالی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا، جس میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، من مانی گرفتاریوں اور پبلک سیفٹی ایکٹ ، آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون جیسے کاالے قوانین کے نفاذ کا حوالہ دیا گیا۔ علاوہ ازیں، شبیر احمد شاہ، یاسین ملک اور آسیہ اندرابی سمیت ممتاز حریت قیادت کی قید اور 16 سیاسی تنظیموں پر عائد پابندیوں کو اجاگر کیا گیا۔

مذہبی آزادی کی پامالی کا ذکر کرتے ہوئے خط میں جامع مسجد سری نگر میں نماز پر پابندی، دینی مدارس کی بندش، کمیونٹی کے 215 اسکولوں کی سرکاری تحویل اور وقف (ترمیمی) قانون کے منفی اثرات کا بھی احاطہ کیا گیا۔

نائب وزیراعظم نے متنبہ کیا کہ مقبوضہ وادی میں 7 سے 9 لاکھ بھارتی فوجیوں کی موجودگی، بھارتی قیادت کے اشتعال انگیز بیانات اور سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی سے جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

پاکستان نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت پر 5 اگست 2019ء کے اقدامات کی واپسی، ڈیموگرافی کی تبدیلی کی روک تھام اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق مذاکراتی عمل شروع کرنے کے لیے دباؤ ڈالے۔ ساتھ ہی اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مساعیٔ جمیلہ کو بروئے کار لاتے ہوئے تنازع کشمیر کے پائیدار حل میں اپنا مرکزی کردار ادا کریں۔

عمان میں پاک صومالیہ وزرائے خارجہ ملاقات: اسحاق ڈار اور عبدالسلام عبدی علی کا دوطرفہ تعاون و مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلۂ خیال

محمود احمد, August 05,2026

عمان / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اردن کے دارالحکومت عمان میں مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق منعقدہ اہم وزارتی اجلاس کے موقع پر صومالیہ کے وزیرِ خارجہ و بین الاقوامی تعاون عبدالسلام عبدی علی سے ایک اہم ملاقات کی۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق بدھ کے روز ہونے والی اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور صومالیہ کے درمیان قائم دیرینہ، تاریخی اور برادرانہ تعلقات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر سیاسی، اقتصادی، دفاعی، تعلیمی اور مختلف شعبوں میں استعداد کار میں اضافے (کیپیسٹی بلڈنگ) کے لیے دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔

دونوں وزرائے خارجہ نے اقوامِ متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم جیسے کثیر الجہتی بین الاقوامی فورمز پر قریبی رابطہ، ہم آہنگی اور باہمی تعاون کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

ملاقات کے دوران علاقائی صورتحال بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کے تازہ ترین حالات اور مشرقی بیت المقدس میں تیزی سے بگڑتی ہوئی سیکیورٹی و انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس حوالے سے یکساں موقف اپنانے پر زور دیا گیا۔

انقرہ: پاکستانی سفارت خانے میں یومِ استحصالِ کشمیر کی پُرتقار تقریب، مسئلہ کشمیر کے قانونی و انسانی پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی

منصور احمد, August 05,2026

انقرہ (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

انقرہ میں قائم پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر ایک خصوصی اور وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں مسئلۂ کشمیر کے تاریخی، قانونی اور انسانی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی امن اور بین الاقوامی قوانین پر اس کے اثرات کا احاطہ کیا گیا۔

پاکستان کے انقرہ میں قائم سفارتخانے اور ترکیہ کے معروف ادارے ‘اکنامک اینڈ سوشل ریسرچ سینٹر’ کے باہمی اشتراک سے منعقد کی گئی اس تقریب میں ترک سول سوسائٹی کے نمائندوں، ممتاز ماہرینِ تعلیم، محققین اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انقرہ میں پاکستان کے سفارت خانے کے قونصلر عمار امین نے بھارت کے 5 اگست 2019ء کے یکطرفہ اور غاصبانہ اقدامات کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا بنیادی مقصد مقبوضہ کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل کرنا تھا۔ انہوں نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق کی پاسداری اور آزادیٔ اظہار کے احترام پر زور دیا۔

اس موقع پر ڈپٹی ہیڈ آف مشن شائق احمد بھٹو نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور پائیدار حل ہی خطے میں دیرپا امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔

تقریب سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے ترک رہنما اور ای ایس اے ایم کے صدر مصطفیٰ کایا نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین 21ویں صدی کے اہم ترین حل طلب انسانی اور سیاسی مسائل ہیں۔ تقریب کے تمام مقررین نے اس بات پر مکمل اتفاق کیا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاس کردہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حقِ خودارادیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

یومِ استحصالِ کشمیر: اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کا پیغام، حقِ خودارادیت کی غیر مشروط حمایت کا اعادہ

محمود احمد, August 05,2026

نیویارک / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ان کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے لیے پاکستان کی غیر مشروط اور مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کے یکطرفہ اور غیر قانونی بھارتی اقدامات کو سات برس مکمل ہونے کے باوجود بھارتی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال بدستور شدید تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے نشاندہی کی کہ بنیادی انسانی حقوق اور آزادیوں کی مسلسل پامالی، طویل پابندیاں، آبادی کے تناسب (ڈیموگرافی) میں تبدیلی کی غیر قانونی کوششیں اور زمینی حقائق کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کے بھارتی اقدامات نہ تو جموں و کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو ختم کر سکتے ہیں اور نہ ہی کشمیری عوام کی بھارتی تسلط سے آزادی کی جائز خواہش کو دبا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے منشور، سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پُرامن حل کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری اور بالخصوص اقوامِ متحدہ پر پرزور انداز میں زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے احترام کو یقینی بنانے، مقبوضہ وادی کے عوام کے انسانی حقوق کے تحفظ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے اپنے تمام مؤثر اور عملی اقدامات کو آگے بڑھائے۔

پاکستانی مندوب نے کشمیری عوام کی استقامت، بہادری اور بے مثال قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہائیوں پر محیط مظالم کے باوجود ان کی جدوجہدِ آزادی ثابت قدمی سے جاری ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پاکستان اپنے کشمیری بہن بھائیوں کی مکمل حمایت اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک انہیں ان کا حقِ خودارادیت نہیں مل جاتا۔

یومِ استحصالِ کشمیر, 5 اگست تاریخ کا سیاہ ترین دن، بھارت کشمیریوں کی شناخت کبھی نہیں مٹا سکتا، مشعال حسین ملک

محمود احمد, August 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ اور چیئرپرسن پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن مشعال حسین ملک نے کہا ہے کہ 5 اگست 2019ء کے یک طرفہ اور غیر قانونی اقدامات کی آڑ میں بھارت نے اپنے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کی جغرافیائی اور آبادیاتی (ڈیموگرافک) حیثیت کو تبدیل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے، مگر کشمیریوں کی منفرد شناخت، تاریخ اور ان کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو کسی طاقت سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر اپنے جاری کردہ خصوص پیغام میں مشعال حسین ملک نے کہا کہ 5 اگست کشمیریوں کی تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ تہار اور دیگر بھارتی جیلوں میں محصور حریت قیادت بدترین مظالم برداشت کر رہی ہے، لیکن اس کے باوجود آزادی کی تحریک اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹی اور یہ جدوجہد اپنی منزل کے حصول تک مکمل تندہی سے جاری رہے گی۔

انہوں نے عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ وادی کے غیور عوام کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاس کردہ قراردادوں کے مطابق ان کا بنیادی اور پیدائشی حقِ خودارادیت دلانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ اور عالمی کردار ادا کریں۔

مشعال حسین ملک نے بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کے غیر متزلزل عوام کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان، آزاد کشمیر اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری تارکینِ وطن ہر مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیشہ بین الاقوامی سطح پر ان کی مظلوم آواز بنتے رہیں گے۔ انہوں نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں قربانیوں کی بدولت لکھی گئی تحریکِ آزادی کو کوئی جابرانہ طاقت ختم نہیں کر سکتی اور مقبوضہ وادی کے عوام کے ساتھ پاکستان کا رشتہ لازوال ہے۔

لاس اینجلس: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ کی ایک اور مبینہ سازش ناکام، مسلح ملزم گرفتار

محمود احمد, August 05,2026

لاس اینجلس (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

امریکی سیکورٹی اداروں نے سابق صدر اور ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر ایک اور مبینہ قاتلانہ سازش کو بروقت ناکام بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کیلیفورنیا میں ایک مسلح شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم کو لاس اینجلس کے علاقے میں واقع صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملکیت کے گالف کورس کے قریب سے حراست میں لیا گیا جہاں صدر ٹرمپ کو ریپبلکن پارٹی کے ایک چندہ جمع کرنے والے عشائیے میں شرکت کرنا تھی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں تفتیش کاروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 38 سالہ جینین جان ٹائیلے کو رانچو پالوس وردیس میں واقع ٹرمپ نیشنل گالف کورس کے احاطے سے ایک پستول اور غیر قانونی ممنوعہ گولہ بارود کے ساتھ پایا گیا۔ لاس اینجلس شیرف ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ملزم کو گالف کورس کے ارد گرد گھومتے ہوئے، تصاویر اور ویڈیوز بناتے ہوئے اور سیکورٹی پلاننگ کی باریک بینی سے نگرانی کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

حکام کے مطابق گرفتاری اتوار کی دوپہر کو عمل میں آئی۔ ڈونلڈ ٹرمپ ان دنوں ریاست کیلیفورنیا کے دورے پر ہیں تاکہ اسی گالف کورس میں منعقدہ پارٹی کے فنڈ ریزنگ ایونٹ میں شرکت کر سکیں۔ ملزم ٹائیلے کو آتشیں اسلحہ چھپا کر رکھنے اور بکتر شکن و ممنوعہ گولہ بارود پاس رکھنے کے سنگین الزامات میں حراست میں رکھا گیا ہے۔

شیرف ڈیپارٹمنٹ کے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹائیلے کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب سادہ لباس میں ملبوس وفاقی اہلکاروں نے مقامی حکام کو گالف کورس کے قریب ایک مشکوک شخص کی موجودگی کی اطلاع دی۔ پولیس کی جانب سے سامنا کرنے پر انکشاف ہوا کہ ملزم ایل سیگونڈو پولیس ڈیپارٹمنٹ کو ڈکیتی کے ایک مقدمے میں بھی مطلوب تھا۔ ایل سیگونڈو کا علاقہ رانچو پالوس وردیس سے تقریباً 25 کلومیٹر شمال میں واقع ایک خوشحال ساحلی علاقہ ہے۔

پولیس کی جانب سے ملزم کی تلاشی لیے جانے پر اس کے پاس سے 16 گولیوں والی ایک میگزین برآمد ہوئی جو انتہائی خطرناک ‘ہالو پوائنٹ’ گولیوں سے بھری ہوئی تھی، جبکہ گالف کورس کی پارکنگ میں کھڑی اس کی گاڑی سے ایک اور بھرا ہوا پستول اور ہالو پوائنٹ گولیوں سے بھری مزید میگزین برآمد کی گئی۔ واضح رہے کہ ہالو پوائنٹ گولیاں ہدف سے ٹکراتے ہی پھیل جاتی ہیں جس سے جسمانی اعضا کو شدید ترین نقصان پہنچتا ہے، جبکہ ریاست کیلیفورنیا میں 10 سے زیادہ گولیوں والی میگزین پر قانونی پابندی عائد ہے۔

5 اگست 2019ء: کشمیری شناخت اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا سیاہ ترین باب، یومِ استحصالِ کشمیر پر خصوصی رپورٹ

کاشف عباسی , August 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

پانچ اگست 2019ء کا دن بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کی تاریخ میں کشمیری شناخت، حقِ خودارادیت اور عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کا ایک انتہائی سیاہ باب ہے۔ بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019ء کو بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو یکطرفہ طور پر منسوخ کر کے مقبوضہ علاقے کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کیا گیا، جس کے خلاف ہر سال 5 اگست کو یومِ استحصالِ کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ عالمی برادری کی توجہ کشمیریوں کے قومی تشخص اور ان پر جاری بھارتی مظالم کی جانب مبذول کروائی جا سکے۔

یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر جاری کی گئی ایک خصوصی دستاویزی فلم میں 77 سال سے جاری بھارتی بربریت، ریاستی جبر اور کشمیری عوام کے مصائب کو تفصیل کے ساتھ عکاس کیا گیا ہے۔ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی جانب سے اب تک اغوا کیے گئے 7,151 افراد میں سے 4,190 کشمیری تاحال لاپتہ ہیں، جبکہ 2025ء کے پہلے آٹھ مہینوں کے دوران بھارتی فوج کی غیر قانونی حراست میں 113 اور عدالتی حراست کے دوران 1,535 کشمیریوں کو بے دردی سے شہید کیا گیا۔

عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق مقبوضہ علاقے کی معیشت اور انسانی صورتحال انتہائی دباؤ کا شکار ہے۔ جموں و کشمیر چیمبر آف کامرس کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بھارتی حکومت کی جانب سے نافذ کردہ طویل کرفیو اور مواصلاتی بندش کے باعث صرف سیاحت کے شعبے سے وابستہ 44,500 کشمیری بیروزگار ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں، برطانوی اخبار ‘دی گارڈین’ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی شائع کردہ رپورٹس کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں 2 ہزار سے زائد اجتماعی قبریں دریافت ہو چکی ہیں، جہاں 10 لاکھ سے زائد قابض بھارتی فوج کو خصوصی اور استثنائی اختیارات حاصل ہیں جن کے تحت وہ کسی بھی قانونی جواب دہی سے مبرا ہیں۔

خصوصی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کوئی سادہ علاقائی تنازع نہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ڈیڑھ کروڑ انسانوں کے حقِ خودارادیت کا تسلیم شدہ مسئلہ ہے۔ شدید ترین بھارتی سیکیورٹی پابندیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے باوجود کشمیری عوام اپنے بنیادی حقوق اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت کے مطالبے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ حکومتِ پاکستان اور پاکستانی قوم ہر سال 5 اگست کو یومِ استحصالِ کشمیر منا کر 5 اگست 2019ء کے غیر قانونی بھارتی اقدامات کی شدید مذمت کرتی ہے اور کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ اپنے مکمل عزم اور یکجہتی کا اعادہ کرتی ہے۔

افریقہ میں ایبولا وبا کا پھیلائو: چین کا افریقی ممالک کو ہر ممکن طبی امداد اور تعاون کی فراہمی جاری رکھنے کا اعلان

روزینہ اسماعیل, August 05,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ افریقی ممالک کو ایبولا کی وبا کے خاتمے اور اس کے موثر انسداد کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق تمام تر طبی اور فنی تعاون کی فراہمی مسلسل جاری رکھے گا۔

سی جی ٹی این کے مطابق یہ اہم بات چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیان نے جمہوریہ کانگو بھیجے گئے چین کے تیسرے طبی ماہرین کے وفد سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہی۔ چینی ترجمان نے صورتحال کی حساسیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایبولا کی وبا افریقی خطے میں بدستور پھیل رہی ہے، اور چین اس مشکل گھڑی میں افریقی برادر ممالک کو تنہا نہیں چھوڑے گا بلکہ انسدادِ وبا کی تمام تر کوششوں میں اپنی استطاعت کے مطابق مدد فراہم کرتا رہے گا۔

ترجمان لین جیان نے بتایا کہ افریقہ میں ایبولا کی نئی وبا پھوٹنے کے فوراً بعد چین نے اس معاملے کو انتہائی اہمیت دی اور فوری طور پر مسلسل طبی ماہرین اور وبائی امراض کے عالمی ماہرین پر مشتمل وفود جمہوریہ کانگو سمیت متاثرہ ممالک بھیجے تاکہ مقامی انتظامیہ کو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد فراہم کی جا سکے، جسے عالمی اور علاقائی سطح پر مختلف حلقوں کی جانب سے بے حد سراہا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیجنگ سے جمہوریہ کانگو پہنچنے والا ماہرین کا تیسرا وفد وبا کی روک تھام اور علاج معالجے کی مقامی عملی ضروریات کے مطابق جمہوریہ کانگو کے صحت کے حکام اور عالمی صحت سے متعلق بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ باہمی تبادلہ خیال اور ٹیکنیکل تعاون کو مزید گہرا کرے گا۔

فلپائنی بیان پر چین کا شدید ردِعمل: چینی وزارتِ خارجہ نے فلپائن کے الزامات کو جھوٹ اور بدنیتی پر مبنی سیاسی اشتعال انگیزی قرار دے دیا

روزینہ اسماعیل, August 05,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

چین نے فلپائن کی وزارتِ دفاع کی جانب سے چین کے قومیتی اتحاد و ترقی کے فروغ کے قانون سے متعلق جاری کردہ بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹ، بدنیتی اور سنگین سیاسی اشتعال انگیزی پر مبنی قرار دیا ہے۔

سی جی ٹی این کے مطابق چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیان نے فلپائن کی جانب سے آنے والے بیان پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ بیان چین کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت کے مترادف ہے اور انتہائی سنگین نوعیت کی سیاسی اشتعال انگیزی ہے، جس کی بیجنگ شدید ترین الفاظ میں مخالفت کرتا ہے۔

چینی ترجمان نے واضح کیا کہ فلپائن میں چین مخالف عناصر کا ایک مخصوص اور محدود گروہ اپنے سیاسی اور شخصی مفادات کے حصول اور سمندری حدود میں فلپائن کی مسلسل خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنے کی خاطر سیاسی اور ابلاغی ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عناصر حقائق کو مسخ کرنے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں، تاہم ان کے ایسے تمام مذموم عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔

ترجمان نے فلپائن کے ان عناصر کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ وہ چین کے خلاف بے بنیاد الزامات اور بلاوجہ کی اشتعال انگیزیاں فوری طور پر بند کریں، بصورتِ دیگر انہیں اپنے ان منفی اور غیر ذمہ دارانہ اقدامات کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

لین جیان نے قومیتی اتحاد و ترقی کے فروغ کے قانون کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کا نفاذ چین میں تمام مختلف قومیتوں کے قانونی حقوق اور مفادات کے موثر اور بہتر تحفظ کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگا، جبکہ یہ ملک میں قومیتی اتحاد اور مجموعی ترقی کے فروغ کے لیے ایک مضبوط اور مستحکم قانونی ضمانت فراہم کرے گا۔

کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کا سلسلہ برقرار رکھنا ضروری ہے، سعودی عرب

محمود احمد, August 05,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

سعودی عرب نے خطے میں جاری کشیدگی میں کمی اور پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام فریقین کے مابین مذاکرات کا سلسلہ مسلسل برقرار رکھنے کی بنیادی اہمیت پر زور دیا ہے۔

عرب نیوز اور سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق یہ اہم باضابطہ بیان جدہ میں منعقدہ وزرا کے ہفتہ وار کابینہ اجلاس کے بعد سامنے آیا، جو امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے خاتمے اور ممکنہ معاہدے سے متعلق پیش رفت کی رپورٹس کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے علاقائی سیکیورٹی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے تمام سفارتی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

کابینہ اجلاس کے دوران ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اختتامِ ہفتہ پر ہونے والی اہم ٹیلی فونک گفتگو سے متعلق بھی وزرا کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق کابینہ نے سعودی عرب کی قیادت میں قائم ہونے والے کثیر القومی دفاعی بحری اتحاد میں دنیا بھر کے ممالک کی بڑھتی ہوئی حمایت اور شمولیت کا پرجوش خیرمقدم کیا۔ واضح رہے کہ سعودی عرب اور 13 دیگر ممالک نے جمعرات کے روز ایک مشترکہ بحری اتحاد قائم کیا تھا جس کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطیٰ کی اہم بحری گزرگاہوں میں تجارتی جہاز رانی کو محفوظ بنانا ہے۔

سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق ‘ملٹی نیشنل میری ٹائم ڈیفنس اتحاد’ بحری سیکیورٹی کو فروغ دینے، عالمی سمندری راستوں کی حفاظت کرنے اور بحری نقل و حمل یا عالمی تجارت کے خلاف درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ یہ اقدام بحیرہ احمر، باب المندب اور خلیجِ عدن میں بحری گزرگاہوں اور توانائی کی ترسیل کے عالمی راستوں کو تحفظ فراہم کرنے کا ایک مضبوط اور کثیر الجہتی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔

اسی اثنا میں، ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے ایران کے ساتھ جلد ایک معاہدہ طے پانے کے واضح امکانات ظاہر کیے ہیں جس کے تحت حساس ترین آبنائے ہرمز کو دوبارہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھولا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان سابقہ التوا کی یادداشت ناکام ہونے کے بعد ایران نے اس اہم بحری گزرگاہ کو بند کر دیا تھا، جسے اب دوبارہ کھولنے کے لیے سفارتی پیش رفت جاری ہے۔

ملک کے بڑے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کی تازہ ترین صورتحال: واپڈا نے اعداد و شمار جاری کر دیے

منصور احمد, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

واپڈا (واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی) کے ترجمان کے مطابق ملک کے تمام بڑے دریاؤں اور اہم آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج اور واٹر لیول کی تازہ ترین صورتحال پر مبنی رپورٹس جاری کر دی گئی ہیں۔

ترجمان واپڈا کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد 2 لاکھ 50 ہزار 700 کیوسک جبکہ اخراج 1 لاکھ 91 ہزار 900 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد 44 ہزار 700 کیوسک جبکہ اخراج 7 ہزار کیوسک رہا۔ اسی طرح چشمہ بیراج کے مقام پر پانی کی آمد 2 لاکھ 52 ہزار کیوسک جبکہ اخراج 2 لاکھ 43 ہزار 700 کیوسک درج کیا گیا ہے۔

دیگر اہم مقامات کی صورتحال کے مطابق ہیڈ مرالہ پر دریائے چناب میں پانی کی آمد 85 ہزار 900 کیوسک اور اخراج 69 ہزار 900 کیوسک رہا، جبکہ نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں پانی کی آمد اور اخراج دونوں یکساں طور پر 43 ہزار 700 کیوسک ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

آبی ذخائر (ریزروائرز) میں پانی کی موجودگی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تربیلا ریزروائر میں اس وقت پانی کی سطح 1543 فٹ اور ذخیرہ 51 لاکھ 78 ہزار ایکڑ فٹ ہے، جبکہ منگلا ریزروائر میں پانی کی سطح 1199.35 فٹ اور ذخیرہ 41 لاکھ 93 ہزار ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مزید برآں چشمہ ریزروائر میں پانی کی سطح 648.50 فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 2 لاکھ 85 ہزار ایکڑ فٹ ہو چکا ہے۔ اس طرح تینوں بڑے ریزروائرز میں قابلِ استعمال پانی کا مجموعی ذخیرہ اس وقت 96 لاکھ 56 ہزار ایکڑ فٹ تک پہنچ چکا ہے۔

ترجمان واپڈا نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ تربیلا، چشمہ، نوشہرہ اور منگلا کے مقامات پر پانی کی آمد و اخراج سے متعلق اعداد و شمار گزشتہ 24 گھنٹوں کے اوسط بہاؤ کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں، جبکہ ہیڈ مرالہ سمیت دیگر مقامات کے اعداد و شمار آج صبح 6 بجے کی تازہ ترین صورتحال کے مطابق جاری کیے گئے ہیں۔

امریکی ریاست ایڈاہو میں فائرنگ کا افسوسناک واقعہ: ان-این-آؤٹ ریسٹورنٹ میں اندھا دھند فائرنگ سے متعدد افراد ہلاک و زخمی

محمود احمد, August 02,2026

ٹوئن فالس، ایڈاہو (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

امریکی ریاست ایڈاہو کے شہر ٹوئن فالس میں واقع معروف فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ ‘ان-این-آؤٹ’ میں ایک مسلح شخص نے اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

مقامی پولیس حکام اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فائرنگ کا یہ دردناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب ریسٹورنٹ میں شہریوں اور صارفین کا شدید رش تھا۔ اچانک ایک مسلح حملہ آور نے داخل ہو کر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس سے وہاں موجود لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور بھگدڑ مچ گئی۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، سوات ٹیموں اور ہنگامی امدادی اہلکاروں نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر علاقے کا محاصرہ کر لیا۔ پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ سیکیورٹی فورسز اور مسلح حملہ آور کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں مشتبہ شوٹر موقع پر ہی مارا گیا ہے۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تمام زخمیوں کو فوری طبی امداد کی فراہمی کے لیے قریب ترین ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں بعض افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ واقعے کے بعد پولیس نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن اور باریک بینی سے تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے تاکہ فائرنگ کی وجوہات اور ملزم کے دوافع کا پتہ لگایا جا سکے۔

خلیجی تنازعات اور امریکی تجارتی دباؤ: مودی حکومت کی توانائی پالیسی اور غیر متوازن خارجہ حکمتِ عملی شدید مشکلات کا شکار

محمود احمد, August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

خلیجی خطے میں جاری کشیدگی اور امریکی تجارتی دباؤ کے پیشِ نظر مودی حکومت کی توانائی پالیسی اور غیر متوازن خارجہ حکمتِ عملی شدید مشکلات و کڑی آزمائش کا شکار ہو چکی ہے۔ عالمی منظرنامے میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں کے باعث بھارت کو شدید معاشی اور سفارتی چیلنجز کا سامنا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے الجزیرہ کی رپورٹس اور عالمی نشریاتی جائزوں کے مطابق امریکی سینیٹ میں پیش کیے گئے ایک مسودہ قانون کے تحت روسی توانائی کے بڑے خریدار ممالک پر 100 فیصد تک کا بھاری تجارتی ٹیرف عائد ہونے کا خطرہ بھارتی معیشت پر منڈلا رہا ہے۔ عالمی پابندیوں کی پروا کیے بغیر روس سے سستا خام تیل خریدنے کی پالیسی اب بھارت کے لیے گلے کا طوق بن چکی ہے اور مودی حکومت توانائی کے تحفظ اور امریکی ٹیرف کے خطرات کے درمیان توازن قائم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ امریکی سینیٹر رچرڈ بلومن تھال اور دیگر قانون سازوں کی جانب سے متعارف کروائے گئے اس بل کے بعد مودی کی ناکام خارجہ پالیسی کے سبب بھارت امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والا سب سے نمایاں ملک بن چکا ہے۔

دوسری جانب، بھارتی جریدے ‘وی آن نیوز’ کے مطابق بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بھی بدلتے ہوئے عالمگیر حالات کے تناظر میں روسی تیل پر شدید انحصار اور اس کے نتیجے میں درپیش سفارتی و معاشی اثرات کے حوالے سے تحفظات پر ردِعمل دیتے ہوئے صورتحال کی سنگینی کی تائید کی ہے۔

اس کے علاوہ، بھارت کے معروف توانائی اور تیل و گیس کے ماہر کیرت پاریکھ سمیت معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث بھارتی روپے پر مسلسل شدید دباؤ بڑھ رہا ہے، جس سے ملک کے اندر مہنگائی میں سنگین اور غیر معمولی اضافے کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے اور اس کا براہِ راست بوجھ عام بھارتی عوام پر پڑ رہا ہے۔

حریت رہنما میرواعظ عمر فاروق کی کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے کشمیری مہاجرین کے حقوق غصب کرنے کی کوشش پر شدید تنقید

کاشف عباسی , August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے کشمیری مہاجرین کے بنیادی حقوق غصب کرنے کی کوششوں پر مقبوضہ کشمیر اور لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب سے بھی شدید تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

سینئر حریت رہنما میرواعظ عمر فاروق نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے موقف کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں مقیم لاکھوں مہاجرینِ کشمیر کا حقِ رائے دہی ان کا ایک مسلمہ، آئینی اور جمہوری حق ہے، جسے کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری مہاجرین کے حقوق پوری ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے اجتماعی حقوق کا لازمی حصہ ہیں اور وہ مساوی احترام و تحفظ کے مستحق ہیں۔

حریت رہنما میرواعظ عمر فاروق نے اپنے بیان میں زور دے کر کہا کہ کشمیریوں کی جاری جدوجہد کی کامیابی جموں و کشمیر کے ہر خطے کے باشندوں کے حقوق کی بلا تفریق نمائندگی سے مشروط ہے، اور کسی ایک طبقے کے مفاد یا حقوق کی خاطر دوسرے طبقے کے آئینی اور جمہوری حقوق کو کسی طور فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اجتماعی حقوق کا تحفظ صرف مساوات، انصاف اور باہمی احترام کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر ہی ممکن ہے۔

میرواعظ عمر فاروق نے معاملے کے حل کے لیے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ آپس میں مل بیٹھ کر باہمی مشاورت اور افہام و تفہیم کے ذریعے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں اور ایک ایسا متوازن، مقبول اور پائیدار حل تلاش کریں جو تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔ حریت قیادت کے اس ردِعمل سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی عوام کی نمائندگی کے بجائے کشمیری مہاجرین کے حقوق غصب کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا خودمختار ویلتھ فنڈز کے لیے جامع قانون سازی اور احتساب پر زور

محمود احمد, August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے دنیا بھر میں خودمختار ویلتھ فنڈز کی موثر کارکردگی اور قومی سرمایہ کاری کی حفاظت کے لیے واضح، شفاف اور جامع قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے شائع کردہ ایک بلاگ کے مطابق عالمگیر سطح پر مختلف ممالک کے خودمختار ویلتھ فنڈز بین الاقوامی مالیاتی شعبے میں انتہائی کلیدی اور اہم حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ سال 2008ء میں جہاں دنیا بھر کے ویلتھ فنڈز کے اثاثہ جات کی مجموعی مالیت صرف 3 ٹریلین ڈالر تھی، وہیں اب ان کا حجم غیر معمولی حد تک بڑھ کر 16 ٹریلین امریکی ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

آئی ایم ایف نے اپنے جریدے میں واضح کیا ہے کہ خودمختار ویلتھ فنڈز نہ صرف پبلک ہیلتھ کی بہتری، سماجی و صنعتی ترقی کے لیے بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ آئندہ آنے والی نسلوں کے محفوظ معاشی مستقبل کے لیے بھی ان کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ فنڈز کے حجم میں مسلسل اضافے کی بدولت اب ان کا کردار صرف حکومتی بجٹس تک محدود نہیں رہا بلکہ بین الاقوامی بچتوں، انفراسٹرکچر اور قومی ترقی کی اسکیموں تک پھیل چکا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق موجودہ تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے تناظر میں ان فنڈز کو مزید لچک دار بنانے کی شدید ضرورت ہے۔

مالیاتی ادارے نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جامع اور مضبوط قانون سازی کے ذریعے کوئی بھی ملک اپنی قومی دولت کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ اقتصادی و قومی ترقی کے مقررہ اہداف کا بااسانی حصول یقینی بنا سکتا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق موجودہ قوانین میں خامیاں اور سخت احتسابی نظام کی عدم موجودگی ایسے عوامل ہیں جو ان فنڈز کی حقیقی کارکردگی اور شفافیت کو شدید متاثر کرتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور اختراعی ادویات چین کی برآمدات کے نئے تین نمایاں شعبے بن گئے: عالمی سروے میں 93 فیصد سے زائد افراد کا چینی ٹیکنالوجی پر اعتماد

محمود احمد, August 01,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

مصنوعی ذہانت ، روبوٹکس اور اختراعی ادویات اب عالمی سطح پر چین کی برآمدات کے “نئے تین نمایاں شعبے” بن کر ابھرے ہیں۔ چائنا میڈیا گروپ کے معروف بین الاقوامی نیٹ ورک ‘سی جی ٹی این’ کی جانب سے دنیا بھر کے صارفین کے لیے کیے گئے ایک جامع عالمی سروے میں 93.1 فیصد جواب دہندگان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان تین نئے شعبوں کی عالمی مقبولیت اس امر کا روشن ثبوت ہے کہ چینی مصنوعات اب بین الاقوامی مارکیٹ میں محض خام سامان نہیں بلکہ اصل ٹیکنالوجی، انٹیلیجنٹ سسٹمز اور جدید حل فراہم کر رہی ہیں۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق سال 2026ء کی پہلی ششماہی کے دوران چین کی صنعتی روبوٹکس برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 18.6 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس عرصے میں انٹیلیجنٹ بائیونک روبوٹس کی برآمدات 10 ہزار یونٹس سے تجاوز کر گئیں، جبکہ ان جدید روبوٹس کی رسائی دنیا کے 90 سے زائد ممالک اور خطوں تک ہو چکی ہے۔ دوسری جانب، چین کی اختراعی ادویات کی بیرونی لائسنسنگ ٹرانزیکشنز کا مجموعی حجم تقریباً 110 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

سی جی ٹی این کے سروے میں 87.7 فیصد افراد نے رائے دی کہ یہ “نئے تین نمایاں شعبے” چین کی جدید اور مضبوط مینوفیکچرنگ صلاحیت کو اجاگر کرتے ہیں، جبکہ 83.8 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ چینی مینوفیکچرنگ اب تیزی سے ماحول دوست اور ہائی ٹیک طرزِ پیداوار کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ 91.3 فیصد افراد نے اس بات کی توثیق کی کہ عالمگیر مارکیٹ میں چینی مینوفیکچرنگ کا مقابلہ اب صرف بڑے پیمانے پر پیداوار کا نہیں رہا، بلکہ یہ معیار، اعلیٰ ٹیکنالوجی، برانڈ ویلیو اور بہترین سروسز کے مجموعی فوائد میں تبدیل ہو چکا ہے۔

سروے میں شامل 89.5 فیصد سے زائد عالمی صارفین کا کہنا تھا کہ چین کے یہ “نئے تین نمایاں شعبے” عالمی مینوفیکچرنگ انڈسٹری کی جدت اور اپ گریڈیشن کے لیے نئے اور بہترین مواقع فراہم کریں گے۔ یہ عالمی سروے سی جی ٹی این کے انگریزی، ہسپانوی، فرانسیسی، عربی اور روسی پلیٹ فارمز پر شائع کیا گیا، جس میں محض 24 گھنٹوں کے مختصر دورانیے میں دنیا بھر سے 3,339 افراد نے حصہ لے کر اپنی رائے کا اظہار کیا۔

دفترِ خارجہ: پاکستان کا غزہ امن منصوبے اور ‘بورڈ آف پیس’ کے تحت پیش رفت کا خیرمقدم

محمود احمد, August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

پاکستان نے غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد کی جانب ہونے والی مثبت اور اہم پیش رفت کا گرم جوشی سے خیرمقدم کیا ہے۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے ہفتہ کے روز جاری کردہ باضابطہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان غزہ امن منصوبے پر موثر عملدرآمد کے سلسلے میں ‘بورڈ آف پیس’ کے تحت ہونے والی پیش رفت کو ایک خوش آئند اور مثبت قدم سمجھتا ہے۔ اعلامیے کے مطابق پاکستان اس خطے میں پائیدار امن کے لیے امریکہ، مصر، قطر اور ترکیہ سمیت تمام ثالثی کرنے والے ممالک کی مسلسل اور انتھک سفارتی کاوشوں کو شاندار الفاظ میں سراہتا ہے اور امید ظاہر کرتا ہے کہ یہ پیش رفت غزہ امن منصوبے کے تحت طے پانے والے تمام معاہدوں اور وعدوں پر مکمل عملدرآمد کی راہ ہموار کرے گی۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے اپنے بیان میں اس یقین کا اظہار کیا کہ یہ بین الاقوامی کوششیں بین الاقوامی قانون، عالمی جواز اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے عین مطابق ایک قابلِ اعتماد اور مقررہ مدت پر مبنی سیاسی عمل کے ذریعے مظلوم فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے ناقابلِ تنسیخ حق کے حصول میں انتہائی معاون ثابت ہوں گی۔

بیان کے اختتام پر پاکستان کے دیرینہ اور اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ سیاسی عمل بالآخر 1967ء سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک ایسی آزاد، خودمختار، جغرافیائی طور پر متصل اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام پر منتج ہونا چاہیے جس کا دارالحکومت ‘القدس الشریف’ ہو۔

اقوامِ متحدہ: پاکستان کا نوجوانوں پر امن اور کثیرالجہتی نظام کے فروغ میں قائدانہ کردار ادا کرنے پر زور

محمود احمد, August 01,2026

اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

پاکستان نے دنیا بھر کے نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ عالمی امن کے فروغ، کثیرالجہتی نظام کے استحکام اور عالمی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے میں اپنا متحرک اور قائدانہ کردار ادا کریں۔

اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں “فیوچر وی وانٹ: گلوبل انیشی ایٹو فار ینگ لیڈرز” کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، جو “نوجوانوں کو کثیرالجہتی نظام کے استحکام کے لیے بااختیار بنانا” کے عنوان کے تحت منعقد ہوا، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ پاکستان کی تقریباً 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس امر پر پختہ یقین رکھتا ہے کہ نوجوان زیادہ پُرامن، منصفانہ اور جامع مستقبل کی تعمیر میں سب سے اہم شراکت دار ہیں۔ انہوں نے دنیا بھر سے نوجوان رہنماؤں کو یکجا کرنے پر اٹلی کے مستقل مشن اور اطالوی ڈپلومیٹک اکیڈمی کا شکریہ ادا کیا۔

مستقل مندوب نے اپنے خطاب میں کہا کہ اقوامِ متحدہ کا قیام آنے والی نسلوں کو جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے عمل میں آیا تھا، اور امن، انسانی حقوق اور پائیدار ترقی آج بھی اقوامِ متحدہ کے نظام کے تین بنیادی اور باہم مربوط ستون ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امن صرف جنگ یا تنازع کے نہ ہونے کا نام نہیں، بلکہ یہ انصاف، مکالمے، باہمی احترام اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں کی پاسداری پر استوار ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کی دنیا مسلح تنازعات، غیر ملکی قبضے اور بڑھتی ہوئی تقسیم کا سامنا کر رہی ہے، جس کے باعث مؤثر کثیرالجہتی تعاون کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے کیونکہ کوئی بھی ملک تنہا ان باہم مربوط عالمی چیلنجز سے نہیں نمٹ سکتا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کی بین الاقوامی سفارت کاری میں خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے یاد دلایا کہ سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 (2025) متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی، جس میں مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے پُرامن حل کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ انہوں نے مغربی ایشیا میں حالیہ تنازع کے دوران تحمل، مکالمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کے مضبوط موقف اور ان سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا جو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی صورت میں نتیجہ خیز ثابت ہوئیں۔

نوجوان شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امن کا قیام صرف کانفرنس ہالوں یا مذاکراتی کمروں تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ اس کی بنیاد تعلیمی اداروں، جامعات، مقامی برادریوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر رکھی جاتی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو تلقین کی کہ وہ باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دیں، تنوع کو اپنائیں، عدم برداشت اور گمراہ کن معلومات کا مقابلہ کریں، اور مختلف ثقافتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کریں۔ اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر عاصم افتخار احمد نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تقسیم کے بجائے تعاون، محاذ آرائی کے بجائے مکالمے اور خوف کے بجائے امید کا راستہ اختیار کریں۔

اقوامِ متحدہ کی بریفنگ: پاکستان کا جامع، انسان دوست اور شمولیتی عالمی مصنوعی ذہانت حکمرانی کے عزم کا اعادہ

محمود احمد, August 01,2026

اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ 2026ء ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس اور عالمی مصنوعی ذہانت حکمرانی پر اعلیٰ سطحی اجلاس سے متعلق بریفنگ کے دوران ایک جامع، انسان دوست اور ترقی پر مبنی مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے اپنے مکمل عزم کا اعادہ کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کا باضابطہ موقف پیش کرتے ہوئے اس بین الاقوامی کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر چین کو مبارکباد پیش کی اور ‘ورلڈ اے آئی کوآپریشن آرگنائزیشن’ کے تاریخی قیام کا پرزور خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اس کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کی، جبکہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے مئی 2026ء میں اپنے دورۂ چین کے دوران اس اہم بین الاقوامی اقدام کی مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ پاکستان اس نئی عالمی تنظیم کے بانی ارکان میں شامل ہے۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے زور دے کر کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو عالمی مصنوعی ذہانت کی جدید معیشت میں مؤثر اور بامعنی شرکت کے لیے ڈیٹا، کمپیوٹنگ صلاحیت، ماڈلز، ضروری آلات اور جدید تکنیکی مہارت تک مساوی و منصفانہ رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ انہوں نے کانفرنس کے نتائج کو عالمی ٹیکنالوجی تعاون کے فروغ کے لیے ایک عملی اور مؤثر لائحۂ عمل قرار دیا۔

انہوں نے مستقبل کے تکنیکی تعاون کے لیے تین اہم ترجیحات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے اور صلاحیتوں کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ صحت، تعلیم، زراعت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے پائیدار ترقی کے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کا عملی استعمال بڑھایا جائے اور بین الاقوامی معیارات، ڈیجیٹل تحفظ اور ضوابط کے حوالے سے بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ذمہ دارانہ عالمی حکمرانی کو فروغ دیا جائے۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان، چین اور دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا تاکہ مصنوعی ذہانت کو تمام انسانیت کی مشترکہ خوشحالی اور پائیدار ترقی کا ضامن بنایا جا سکے۔