او جی ڈی سی ایل کی بڑی کامیابی، تین برس میں تیل و گیس کے 19 نئے ذخائر دریافت

کاشف عباسی ,May 31 ,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء:

آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے ملک میں توانائی کے شدید بحران سے نمٹنے کے لیے ایک اور تاریخی اور بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ کمپنی نے گزشتہ تین برسوں (2023ء سے اب تک) کے دوران ملک بھر کے تین بڑے صوبوں سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تیل و گیس کے 19 نئے ذخائر دریافت کر لیے ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ دریافتیں پاکستان کی مجموعی توانائی ضروریات پوری کرنے، مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور قیمتی زرِ مبادلہ کی بچت میں انتہائی کلیدی کردار ادا کریں گی۔

اربوں روپے کی روزانہ بچت اور پیداواری صلاحیت سرکاری دستاویزات سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق، ان نئی دریافتوں سے مجموعی طور پر یومیہ تقریباً 17 ہزار 123 بیرل تیل اور 151 ملین معیاری مکعب فٹ گیس حاصل ہونے کی قوی توقع ہے، جس کے نتیجے میں درآمدی ایندھن کے متبادل کے طور پر قومی خزانے کو روزانہ تقریباً ایک ارب 20 کروڑ روپے تک کی خطیر بچت ممکن ہو سکے گی۔

تین سالہ کارکردگی کا تفصیلی جائزہ دستاویزات کے مطابق کمپنی کی سالانہ کارکردگی درج ذیل رہی ہے:مالی سال 2023-24: اس عرصے کے دوران ملک میں پانچ نئے ذخائر دریافت کیے گئے جن سے یومیہ 481 بیرل تیل اور 29.66 ملین معیاری مکعب فٹ گیس حاصل ہونے کی صلاحیت سامنے آئی۔مالی سال 2024-25: اگلے مالی سال میں مزید پانچ بڑی دریافتیں ہوئیں، جس سے ملکی پیداوار میں 947 بیرل یومیہ تیل اور 34.49 ملین معیاری مکعب فٹ یومیہ گیس کی اضافی صلاحیت کا اضافہ ہوا۔مالی سال 2025-26 (ابتدائی نو ماہ): رواں مالی سال کے دوران کمپنی نے زمین سے توانائی کے وسائل تلاش کرنے کی سرگرمیوں میں ریکارڈ تیزی لاتے ہوئے محض نو ماہ میں نو نئے ذخائر دریافت کیے، جن سے 15 ہزار 695 بیرل یومیہ تیل اور 86.95 ملین معیاری مکعب فٹ یومیہ گیس حاصل ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

‘باراغزئی ایکس-01′ کی سب سے نمایاں دریافت کمپنی کی حالیہ کامیابیوں میں خیبر پختونخوا کے علاقے میں ‘باراغزئی ایکس-01’ کی دریافت کو تزویراتی طور پر خاص اہمیت حاصل ہے، جہاں ابتدائی آزمائشی پیداوار کے دوران ہی تقریباً 15 ہزار بیرل یومیہ تیل اور 45.36 ملین معیاری مکعب فٹ یومیہ گیس کی ریکارڈ پیداواری صلاحیت سامنے آئی ہے۔

ذخائر کی تجدید اور ملکی وسائل کی مدت میں اضافہ او جی ڈی سی ایل نے اپنے زیرِ زمین محفوظ ذخائر کی تجدید کی شرح (ریزرو بدلنے کی شرح) میں بھی غیر معمولی بہتری ریکارڈ کی ہے۔ کمپنی کی ذخائر تجدید شرح مالی سال 2023-24 میں 56 فیصد تھی جو اگلے ہی سال بڑھ کر 167 فیصد کی تاریخی سطح تک پہنچ گئی، جبکہ رواں مالی سال کے ابتدائی نو ماہ میں بھی یہ شرح 153 فیصد پر مضبوطی سے برقرار رہی۔ ان شاندار کوششوں کے باعث 31 مارچ 2026ء تک کمپنی کے تیل و گیس ذخائر کی متوقع لائف لائن (مدت) 14 سال سے بڑھ کر اب 17 سال ہو گئی ہے، جس سے قومی توانائی وسائل کی پائیداری کو زبردست استحکام ملا ہے۔

نئے کنوؤں کی سسٹم میں شمولیت اور بحالی کے اقدامات کمپنی نے ان دریافت شدہ ذخائر کو فوری طور پر تجارتی بنیادوں پر ملکی استعمال میں لانے کے لیے 34 نئے کنوؤں اور فیلڈز کو قومی پیداواری نیٹ ورک کا حصہ بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف پرانی فیلڈز میں 65 سے زائد بڑے تکنیکی آپریشنز اور 295 سے زیادہ بحالی (Workover) کے اقدامات کے ذریعے پہلے سے جاری پیداوار میں یومیہ تقریباً 17 ہزار بیرل اضافی تیل اور 90 ملین معیاری مکعب فٹ اضافی گیس شامل کر کے ملکی سپلائی کو بہتر بنایا گیا ہے۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ او جی ڈی سی ایل کی یہ نئی دریافتیں نہ صرف ملکی توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنائیں گی بلکہ درآمدی بل میں واضح کمی، مقامی صنعتی سرگرمیوں کے فروغ اور ڈگمگاتی قومی معیشت کے طویل مدتی استحکام میں بھی اہم ترین سنگِ میل ثابت ہوں گی۔

جی پی آئی کے تحت کسانوں کی سہولت کاری، زرعی خود کفالت اور دیہی ترقی کی نئی راہیں ہموار

منصور احمد ,May 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء

گرین پاکستان انیشی ایٹو (جی پی آئی) کے تحت ملک بھر میں زرعی شعبے کی انقلابی ترقی، کسانوں کی خصوصی سہولت کاری اور جدید کاشتکاری کے فروغ کے لیے کیے گئے حالیہ اقدامات سامنے آئے ہیں۔ ان اقدامات کو ملک میں زرعی خود کفالت کے حصول اور دیہی معیشت کے پائیدار استحکام کے لیے ایک تاریخی اور انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

جدید ٹیکنالوجی اور سمارٹ فارمنگ کا آغاز ملک کے زرعی شعبے میں جدید ترین ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل نگرانی، سمارٹ فارمنگ اور جدید تحقیقی نظام متعارف کرانے سے روایتی کاشتکاروں کو اب بہتر رہنمائی اور عالمی معیار کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ زرعی ماہرین کے مطابق، اس جدید زرعی معلوماتی نظام، سیٹلائٹ نگرانی اور ٹیکنالوجی پر مبنی بروقت زرعی مشاورت کے ذریعے فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار اور کاشتکاروں کی کام کرنے کی استعداد میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔

بنجر زمینوں کی بحالی اور معاشی منصوبے گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت ملک بھر کی لاکھوں ایکڑ بنجر زمینوں کی بحالی، زرعی شعبے میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور زرعی مصنوعات کے برآمدی مواقع میں اضافے کے لیے مختلف بڑے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ ان تمام اقدامات کا بنیادی مقصد پاکستان کے زرعی شعبے کو جدید ترین خطوط پر استوار کرنا اور دور دراز کے دیہی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کو بڑھا کر غربت کا خاتمہ کرنا ہے۔

گرین ایگری مالز کا قیام اور کسانوں کا اعتماد ملک بھر کے کاشتکاروں نے حکومت کی جانب سے ‘گرین ایگری مالز’ کے قیام کو بے حد خوش آئند اور کسان دوست اقدام قرار دیا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ معیاری بیج، کھاد، زرعی ادویات اور جدید ترین زرعی مشینری اب ایک ہی چھت تلے نسبتاً انتہائی آسان اور سستے داموں دستیاب ہو رہی ہے، جس سے ان کے قیمتی وقت اور سفری اخراجات دونوں میں واضح کمی آئی ہے۔

پنجگور سمیت دور دراز علاقوں میں ترقی مقامی کسانوں کے مطابق، ان جدید زرعی منصوبوں کی بدولت بلوچستان کے ضلع پنجگور سمیت دیگر دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں بنیادی زرعی سہولیات، روزگار کے نئے مواقع اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ پنجگور جیسے علاقوں میں اب زرخیز زمینوں سے بہتر پیداوار حاصل کرنے کے امکانات روشن ہو چکے ہیں، جبکہ بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لیے شمسی توانائی (سولر سسٹم) اور جدید آبپاشی (ڈریپ اریگیشن) کے منصوبے بھی کسانوں کے لیے لائف لائن ثابت ہو رہے ہیں۔

خوراک کی فراہمی اور برآمدات میں اضافہ ماہرینِ زراعت کا کہنا ہے کہ اگر ان جدید زرعی اصلاحات، ٹیکنالوجی کے وسیع استعمال اور کسان دوست پالیسیوں کا تسلسل اسی طرح برقرار رہا، تو پاکستان بہت جلد نہ صرف اپنی زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ کرنے میں کامیاب ہو جائے گا، بلکہ خوراک کے شعبے میں مکمل خود کفالت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ قیمتی زرِ مبادلہ کمانے کے لیے برآمدات میں بھی خاطر خواہ بہتری لا سکے گا۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں مدارس اور تعلیمی اداروں پر چھاپے، مذہبی آزادیوں سے متعلق خدشات میں اضافہ

روزینہ اسماعیل.May 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء

مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلم تعلیمی اور مذہبی اداروں کے خلاف قابض بھارتی انتظامیہ کی حالیہ متعصبانہ کارروائیوں پر عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مختلف بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق، بھارتی تحقیقاتی ادارے نے سرینگر اور شوپیاں کے مختلف حساس علاقوں میں کریک ڈاؤن کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر چھاپہ مار کارروائیاں کی ہیں، جن میں کئی نامور دینی مدارس اور مسلم تعلیمی ادارے بھی شامل ہیں۔

شوپیاں اور سرینگر میں کریک ڈاؤن اور تلاشی رپورٹس کے مطابق، بھارتی فورسز اور تحقیقاتی حکام نے شوپیاں میں واقع مشہور دینی ادارے ‘جامعہ سراج العلوم’ سمیت متعدد اہم مقامات کا گھیراؤ کر کے وہاں تفصیلی تلاشی لی، جبکہ سرینگر کے لال بازار کے علاقے میں بھی ایک معروف تعلیمی ادارے میں گھس کر زبردستی تلاشی کی کارروائی کی گئی۔ ان کارروائیوں کے دوران اداروں کے ریکارڈز کو قبضے میں لینے کے ساتھ ساتھ مختلف سماجی اور مذہبی شخصیات کی رہائش گاہوں پر بھی چھاپے مارے گئے اور تفتیشی حربے استعمال کیے گئے۔

مذہبی آزادی اور شہری حقوق کی پامالی کشمیر کے مقامی حلقوں، حریت رہنماؤں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ ان دانستہ کارروائیوں نے خطے میں مسلمانوں کی مذہبی آزادی، تعلیمی سرگرمیوں اور بنیادی شہری حقوق کی بقا کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔ ان کے مطابق، دینی مدارس اور تعلیمی اداروں کے خلاف بھارتی حکومت کے ان جارحانہ اقدامات سے کشمیری عوام میں شدید غم و غصہ اور گہری تشویش پائی جا رہی ہے، کیونکہ اسے کشمیر کی مسلم شناخت کو مٹانے کی کوشش دیکھا جا رہا ہے۔

سیاسی صورتحال اور عوامی بے چینی میں اضافہ دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض فوج کے سخت محاصرے کے باعث سیاسی اور سماجی صورتحال پہلے ہی انتہائی حساس اور کشیدہ ہے۔ ایسے سفاکانہ ماحول میں معصوم طلبہ کے تعلیمی اور مذہبی اداروں کو نشانہ بنانا وادی میں مزید شدید بے چینی اور مہم جوئی کا سبب بن سکتا ہے۔ ماہرین کا مؤقف ہے کہ بنیادی انسانی حقوق، اپنے عقیدے کے مطابق مذہبی آزادی اور بغیر کسی خوف کے تعلیم تک رسائی ہر مہذب معاشرے کے بنیادی اصول ہیں جن کا ہر حال میں تحفظ ضروری ہے۔

عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل حقوقِ انسانی کے ماہرین نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر پرزور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی ابتر ہوتی ہوئی موجودہ صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور وہاں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، شہری آزادیوں پر قدغن اور مسلم تعلیمی سرگرمیوں کے تحفظ کے لیے اپنا مؤثر ترین سفارتی کردار ادا کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن، استحکام اور عوامی اعتماد کا فروغ تب تک ممکن نہیں جب تک تمام اقدامات قانون، شفافیت اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کے مطابق نہ ہوں۔

افغان طالبان حکومت پر عالمی دباؤ میں اضافہ، انسانی حقوق کی 83 تنظیموں کا یورپی یونین سے سخت مؤقف اپنانے کا مطالبہ

محمود احمد May31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء

افغانستان میں بنیادی انسانی حقوق، خواتین کی آزادیوں اور تمام گروہوں کی سیاسی شمولیت کے حوالے سے بڑھتے ہوئے شدید خدشات کے باعث افغان طالبان حکومت کو ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر کڑی تنقید اور سخت سفارتی دباؤ کا سامنا ہے۔ اس سلسلے میں عالمی انسانی حقوق کی درجنوں تنظیموں نے یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ کابل کی عبوری حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کے سرکاری، سفارتی یا سیاسی روابط قائم کرنے میں انتہائی احتیاط سے کام لے۔

یورپی یونین سے مطالبہ اور دورۂ برسلز پر تشویش بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، بین الاقوامی فیڈریشن برائے انسانی حقوق سمیت دنیا بھر کی 83 معتبر عالمی تنظیموں نے آئندہ ماہ جون میں طالبان وفد کے ممکنہ دورۂ برسلز پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان تنظیموں نے یورپی یونین کی قیادت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ طالبان کے ساتھ کسی بھی قسم کے سیاسی یا سفارتی روابط کو افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال میں عملی بہتری لانے سے مشروط کیا جائے۔

طالبان حکومت کی نمائندگی پر عالمی تنظیموں کے سوالات ان تنظیموں نے اپنے مشترکہ اعلامیے اور مؤقف میں موقف اختیار کیا ہے کہ طالبان کسی عوامی، جمہوری یا نمائندہ انتخابی عمل کے ذریعے اقتدار میں نہیں آئے، اس لیے انہیں بین الاقوامی قوانین کے تحت افغانستان کے تمام عوام کا حقیقی نمائندہ تصور نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی جانب سے افغان خواتین، نوجوانوں، اقلیتوں اور سول سوسائٹی کی دبائی گئی آوازوں کو کسی بھی قیمت پر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

خواتین کے حقوق اور پابندیوں پر عالمی برادری کی تشویش انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں نے اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے کہ افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم، خواتین کے روزگار اور ان کی سماجی آزادیوں پر عائد سخت پابندیوں کے باعث پوری عالمی برادری میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ تنظیموں کے مطابق، طالبان حکومت کو بین الاقوامی سطح پر سفارتی قبولیت اور تسلیم کیے جانے کے لیے بنیادی انسانی حقوق کی بحالی اور عالمی معاہدوں کے حوالے سے فوری اور عملی اقدامات کر کے دکھانا ہوں گے۔

انسانی امداد اور سفارت کاری کا چیلنج بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کی موجودہ نازک صورتحال میں عالمی برادری کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج افغان عوام کے لیے انسانی امداد کی فراہمی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے مطالبے کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے۔ ماہرین کے مطابق، افغان عوام کی معاشی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنیادی اور غذائی امداد کا تعاون تو جاری رہنا چاہیے، تاہم سیاسی اور سفارتی سطح پر کسی بھی قسم کی پیش رفت کو بنیادی حقوق کی فراہمی اور ایک جامع سیاسی عمل کے آغاز سے مشروط رکھنا خطے کے مستقبل کے لیے بے حد ضروری ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، خواتین کے حقوق، اعلیٰ تعلیم تک رسائی، حکومت میں تمام طبقات کی سیاسی شمولیت اور بین الاقوامی وعدوں پر عملدرآمد جیسے حساس معاملات مستقبل میں بھی طالبان حکومت اور عالمی برادری کے باہمی تعلقات کا رخ طے کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے رہیں گے۔

بھارتی آرمی چیف کا ’’سندور 2.0‘‘ بیان تنقید کی زد میں، ماہرین نے اسے داخلی بحرانوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دے دیا

منصور احمد ,May 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء

دفاعی اور سیاسی ماہرین نے بھارتی آرمی چیف کے حالیہ ’’سندور 2.0‘‘ سے متعلق بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے عسکری ضرورت کے بجائے بھارت کے اندر بڑھتے ہوئے سنگین سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل سے عوامی توجہ ہٹانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنے داخلی بحرانوں کو چھپانے کے لیے پاکستان کے خلاف من گھڑت بیانیہ تشکیل دینا بھارتی قیادت کی ایک پرانی حکمتِ عملی رہی ہے، جسے داخلی دباؤ بڑھنے پر ہمیشہ دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے۔

بدلتی علاقائی صورتحال اور سفارتی محاذ تجزیہ کاروں کے مطابق، حالیہ علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے مؤثر سفارتی کردار کے بعد بھارت کو متعدد عالمی اور علاقائی محاذوں پر سخت سفارتی مشکلات کا سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئی دہلی کی قیادت بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر ایک بار پھر روایتی پاکستان مخالف بیانیے کو فروغ دینے کی کوششوں میں مصروف ہو گئی ہے تاکہ اپنی ناکامیاں چھپائی جا سکیں۔

جدید عسکری چیلنجز اور بھارتی فوج کا اعتراف ماہرین نے اس اہم نکتے کی نشاندہی کی کہ بھارتی آرمی چیف نے اپنے خطاب میں خود جدید جنگی ماحول کے چیلنجز کے حوالے سے اعتراف کیا ہے کہ موجودہ دور میں جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے فوجی نقل و حرکت، آپریشنل سرگرمیاں اور عسکری تیاریوں کو مکمل طور پر خفیہ رکھنا اب کسی کے لیے ممکن نہیں رہا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، بھارتی آرمی چیف کا یہ اعتراف دراصل خود بھارتی فوج کو درپیش عملی اور تزویراتی چیلنجز اور ان کی کمزوریوں کی واضح عکاسی کرتا ہے۔

عسکری معاملات کا سیاسی استعمال دفاعی ماہرین کے مطابق ’’سندور 2.0‘‘ جیسے مبہم اور فرضی تصورات زیادہ تر سیاسی مقاصد حاصل کرنے اور عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے استعمال ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی مبینہ فوجی کارروائی کو ایک سال گزرنے کے بعد بھی نئی اصطلاحات اور جذباتی بیانیوں کے ذریعے زندہ رکھنے کی ضرورت پیش آ رہی ہے، تو یہ اس بات کا کھلا اشارہ ہے کہ اس کارروائی کے مطلوبہ سیاسی اور تزویراتی اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکے اور وہ ناکام ثابت ہوئی ہے۔

داخلی مسائل اور تصادم کی پالیسی تجزیہ نگاروں نے کھل کر کہا کہ بھارت میں اس وقت بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی، شدید معاشی دباؤ، داخلی نسلی تنازعات اور حکومتی پالیسیوں پر اٹھنے والی شدید تنقید کے ماحول میں ایسے بیانات کا سامنے آنا محض کوئی اتفاق نہیں ہے۔ ان کے مطابق ایسے جارحانہ بیانیوں کا واحد مقصد عوامی غیظ و غضب کا رخ داخلی مسائل سے ہٹا کر بیرونی خطرات کی جانب منتقل کرنا ہوتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ فوجی معاملات کو سیاسی بیانیے کا حصہ بنانا پیشہ ورانہ اصولوں کے خلاف ہے۔ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے تصادم کے بجائے سفارت کاری، مکالمے اور باہمی احترام کی پالیسی ہی سب سے ناگزیر راستہ ہے۔

اسلام آباد میں المناک ٹریفک حادثہ، اٹھال چوک کے قریب 4 افراد جاں بحق، 2 شدید زخمی

منصور احمد ,May 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اتوار کی علی الصبح ایک انتہائی افسوسناک اور دلخراش ٹریفک حادثہ پیش آیا ہے، جس کے نتیجے میں چار افراد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے جبکہ دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق یہ المناک حادثہ بہارہ کہو کے مصروف علاقے اٹھال چوک کے قریب اس وقت پیش آیا جب تیز رفتاری کے باعث دو کاریں آپس میں بے قابو ہو کر ایک موٹر سائیکل سے ٹکرا گئیں۔

تصادم کی شدت اور امدادی کارروائیاں مقامی پولیس اور امدادی ٹیموں (ریسکیو حکام) کے مطابق تصادم اس قدر شدید تھا کہ دونوں کاریں اور موٹر سائیکل بری طرح تباہ ہو گئے اور چار افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی نفری اور ریسکیو کی گاڑیاں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا۔ ٹیموں نے گاڑیوں کو کاٹ کر لاشوں اور زخمیوں کو نکالا اور فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کیا۔

جاں بحق افراد کی شناخت اور زخمیوں کی حالت ہسپتال انتظامیہ اور پولیس حکام نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والے چار افراد میں سے دو کی شناخت فضل اور عامر کے ناموں سے ہو چکی ہے، جبکہ باقی دو افراد کی شناخت کے لیے بائیومیٹرک اور دیگر ذرائع سے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب، حادثے میں زخمی ہونے والے دو افراد کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جنہیں ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ (آئی سی یو) میں منتقل کر کے ہنگامی بنیادوں پر ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

حادثے کی وجوہات اور پولیس تحقیقات بہارہ کہو پولیس کے مطابق ابتدائی معلومات اور شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ حادثہ علی الصبح سڑک خالی ہونے کے باعث تیز رفتاری اور غفلت کی وجہ سے پیش آیا، تاہم حادثے کی اصل اور حتمی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تفصیلی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے گاڑیوں کے ملبے کو ہٹا کر ٹریفک کے لیے راستہ کھول دیا ہے اور مختلف پہلوؤں سے واقعے کی رپورٹ مرتب کی جا رہی ہے۔

شہریوں کا ٹریفک قوانین پر سختی کا مطالبہ اسلام آباد کے مقامی شہریوں اور سماجی حلقوں نے اس المناک حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔ شہریوں نے وفاقی ترقیاتی ادارے اور اسلام آباد ٹریفک پولیس سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ شاہراہوں، بالخصوص بہارہ کہو اور اٹھال چوک کے اطراف تیز رفتاری کو روکنے کے لیے اسپیڈ کیمرے لگائے جائیں اور ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ آئندہ ایسے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

گلگت بلتستان انتخابات: سکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات، پنجاب پولیس کے 5 ہزار اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ

کاشف عباسی ,May 31 ,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز۔ 3١ مئی 2026ء)

گلگت بلتستان میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات کے پُرامن، شفاف اور محفوظ انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے سکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے پنجاب پولیس کے 5 ہزار اہلکاروں پر مشتمل خصوصی نفری گلگت بلتستان بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق انتخابات کے دوران حساس پولنگ اسٹیشنوں، اہم سرکاری تنصیبات اور عوامی اجتماعات کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے پنجاب پولیس کے مختلف شعبوں سے اہلکاروں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اس نفری میں رائٹ مینجمنٹ فورس، پنجاب ہائی وے پٹرول اور پنجاب کانسٹیبلری کے تربیت یافتہ جوان شامل ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق رائٹ مینجمنٹ فورس کے ایک ہزار پانچ سو اہلکار انتخابی سکیورٹی پر مامور ہوں گے جبکہ پنجاب ہائی وے پٹرول کے ایک ہزار نو سو اٹھاون جوان بھی ڈیوٹی سرانجام دیں گے۔ اسی طرح پنجاب کانسٹیبلری کے ایک ہزار دو سو بیالیس اہلکار سکیورٹی پلان کا حصہ ہوں گے، جبکہ لاہور سے تین سو پولیس اہلکار خصوصی طور پر گلگت بلتستان روانہ کیے جائیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل کے دوران امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے، حساس علاقوں کی نگرانی اور ہنگامی حالات میں فوری ردعمل کے لیے جامع سکیورٹی حکمت عملی مرتب کی گئی ہے۔ پولیس کی اضافی نفری مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر فرائض انجام دے گی تاکہ ووٹرز کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔

اس سلسلے میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آپریشنز کی جانب سے سینئر سپرنٹنڈنٹ موٹر ٹرانسپورٹ کو باقاعدہ مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے، جس میں اہلکاروں کی بروقت اور محفوظ منتقلی کے لیے مناسب ٹرانسپورٹ کے انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

حکام کے مطابق تمام اضلاع سے طلب کی گئی نفری کی تفصیلات اور سفری انتظامات کی رپورٹ مرکزی پولیس دفتر کو ارسال کی جا رہی ہے تاکہ سکیورٹی منصوبے پر مؤثر نگرانی اور بروقت عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات کے دوران امن، شفافیت اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے، جس کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔

حج 2026 کی شاندار کامیابی، پاکستان کو بین الاقوامی ’’لبیتم‘‘ ایوارڈ سمیت 4 عالمی اعزازات حاصل

روزینہ اسماعیل.May 31,2026

مکہ مکرمہ (نیوز اینڈ نیوز) 31 مئی 2026ء

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے حج 2026 کے کامیاب انعقاد پر پاکستان کو مسلسل دوسرے سال بین الاقوامی ’’لبیتم امتیازی ایوارڈ‘‘ حاصل ہونے اور نجی حج سکیم کے تحت مزید تین عالمی اعزازات ملنے کا اعلان کیا ہے۔ مکہ مکرمہ میں پاکستان حج مشن کے زیر اہتمام بعد از حج پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہترین انتظامات، جدید سہولیات اور مؤثر نگرانی کے باعث رواں سال شکایات کا تناسب ایک فیصد سے بھی کم رہا، جو کہ ایک تاریخی ریکارڈ ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حج 2026 ہر لحاظ سے کامیاب رہا اور پاکستانی عازمین نے اپنے تمام مناسک بخیر و عافیت ادا کیے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ کامیابی حکومتِ پاکستان، وزارتِ مذہبی امور، پاکستان حج مشن اور سعودی حکام کے باہمی گہرے تعاون کا نتیجہ ہے۔

وزیراعظم کی خصوصی ہدایات اور سفری سہولیات سردار محمد یوسف نے بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایات کے تحت عازمینِ حج کو رہائش، خوراک، ٹرانسپورٹ اور طبی سہولیات کی بہترین فراہمی یقینی بنائی گئی، جس کے نتیجے میں پاکستان کی کارکردگی کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک لاکھ اسی ہزار عازمین کے حج کوٹے کے ساتھ پاکستان دنیا کا دوسرا بڑا حج آپریشن چلانے والا ملک ہے۔ رواں سال ’’روڈ ٹو مکہ‘‘ منصوبے کے دائرہ کار میں توسیع کے بعد تقریباً 80 فیصد پاکستانی عازمین نے اس جدید سہولت سے فائدہ اٹھایا، جس سے سفری مراحل انتہائی آسان اور تیز تر ہو گئے۔

بیمار اور معمر عازمین کے لیے خصوصی اقدامات وفاقی وزیر نے حج طبی مشن اور سعودی جرمن ہسپتال کی خدمات کو بھرپور طریقے سے سراہتے ہوئے بتایا کہ خصوصی انتظامات کے ذریعے 146 شدید بیمار، معمر اور کمزور عازمین کو وقوفِ عرفات، طوافِ زیارت اور دیگر اہم مناسک کی ادائیگی میں سرکاری سطح پر مدد فراہم کی گئی، جو پاکستان حج مشن کی بڑی کامیابی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بعض عناصر کی جانب سے غلط معلومات اور منفی پروپیگنڈا پھیلانے کی کوشش کی گئی، تاہم قومی ذرائع ابلاغ نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حقائق عوام تک پہنچائے۔ انہوں نے زور دیا کہ حج ایک مقدس فریضہ اور قومی ذمہ داری ہے، اسے سیاسی مقاصد یا پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

حج 2027 کی تیاریاں اور نئی پالیسی کا آغاز سردار محمد یوسف نے مستقبل کی حکمت عملی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ سعودی وزارتِ حج کی نئی پالیسی کے مطابق حج 2027 کی تیاریوں کا باقاعدہ آغاز ابھی سے کر دیا گیا ہے۔ آئندہ حج پالیسی رواں سال جون میں وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کی جائے گی جبکہ ’’پہلے آؤ، پہلے پاؤ‘‘ کی پالیسی کو برقرار رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ آئندہ دو ماہ کے اندر حج 2027 کی بکنگ مکمل کر لی جائے گی، اس لیے حج کے خواہشمند افراد فوری طور پر اپنے پاسپورٹ اور دیگر سفری دستاویزات تیار کر لیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حج 2027 میں انتظامات کو ڈیجیٹل اور جدید بنانے کے لیے کئی نئے اقدامات زیر غور ہیں، جن میں عازمین کی سخت طبی جانچ، گروپ ناظمین کی پیشگی تربیت، تربیتی پروگراموں کو ڈویژنل سطح تک وسعت دینا اور مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تک تیز رفتار ٹرین سروس کے استعمال پر پیش رفت شامل ہے۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، سعودی وزیر حج ڈاکٹر توفیق بن فوزان الربیعہ اور سعودی سفیر نواف سعید المالکی کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور قوم سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کی ترقی، استحکام، خوشحالی اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعائیں کریں۔

گوادر پورٹ پر 53 ہزار میٹرک ٹن کارگو کی کامیاب ہینڈلنگ، علاقائی تجارت میں نیا سنگِ میل عبور

منصور احمد ,May 31,2026

گوادر (نیوز اینڈ نیوز۔ 3١ مئی 2026ء)

پاکستان کی تزویراتی اور اقتصادی اہمیت کی حامل گوادر گہرے پانی کی بندرگاہ نے علاقائی اور بین الاقوامی تجارت کے فروغ کی جانب ایک اور تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ گوادر پورٹ پر حالیہ آپریشنز کے دوران مجموعی طور پر 53 ہزار 277 میٹرک ٹن سے زائد مختلف نوعیت کے کارگو کی کامیاب ہینڈلنگ مکمل کر لی گئی ہے، جو بندرگاہ کی روز بروز بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں اور جدید آپریشنل صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔

تفصیلات کے مطابق، دوست ملک چین سے آنے والے ایک بڑے تجارتی بحری جہاز “ایم وی بی جیا شان” کو انتہائی کامیابی اور مہارت کے ساتھ گوادر پورٹ پر لنگر انداز کیا گیا۔ اس جہاز پر موجود تقریباً 20 ہزار 669 میٹرک ٹن وزنی اسٹیل بلٹس کو جدید ترین کرینوں اور لائفٹ سسٹم کے ذریعے محفوظ اور مؤثر انداز میں اتارا گیا۔ بندرگاہی حکام اور چائنا اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی کے مطابق، تمام آپریشنز کو بین الاقوامی بحری قوانین اور مقررہ معیارات کے مطابق وقت پر مکمل کیا گیا۔

اسی دوران، گوادر پورٹ کی ٹرانس شپمنٹ صلاحیتوں کا مظاہرہ اس وقت دیکھنے کو ملا جب سلطنت عمان کی مشہور بندرگاہ “صحار” جانے والے ایک اور بحری جہاز کو ٹرانس شپمنٹ آپریشنز کے لیے گوادر منتقل کیا گیا۔ اس کامیاب آپریشن سے گوادر پورٹ کی خلیج فارس اور بحیرہ عرب کے خطے میں ابھرتی ہوئی تجارتی اور لاجسٹک حیثیت مزید مستحکم ہو گئی ہے۔

بندرگاہ کے تزویراتی امور کے ماہرین کے مطابق، 12 اعشاریہ 8 میٹر ڈرافٹ کے حامل اتنے بڑے بحری جہاز کی محفوظ برتھنگ اس بات کا عملی مظہر ہے کہ گوادر پورٹ دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ گوادر پورٹ اب نہ صرف پاکستان بلکہ وسطی ایشیائی ریاستوں اور پورے خطے کے لیے ایک اہم ترین اور سستا تجارتی مرکز بن کر ابھر رہی ہے۔ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کے تحت گوادر پورٹ کو جو مرکزی حیثیت حاصل ہے، یہ تجارتی سرگرمیاں اسی وژن کو سچ ثابت کر رہی ہیں۔

بندرگاہی حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ گوادر پورٹ کو عالمی معیار کی اسمارٹ پورٹ بنانے کے لیے انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل سسٹم میں مزید سرمایہ کاری کی جا رہی ہے تاکہ علاقائی اور عالمی تجارتی ضروریات کو تیز ترین وقت میں پورا کیا جا سکے۔ کارگو ہینڈلنگ میں یہ حالیہ ریکارڈ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ گوادر آنے والے دنوں میں عالمی بحری تجارت، ٹرانزٹ روٹس اور علاقائی اقتصادی روابط کا سب سے بڑا مرکز بننے جا رہا ہے۔