راولپنڈی تعلیمی بورڈ کا انٹرمیڈیٹ امتحانات میں نقل مافیا کے خلاف سخت کریک ڈاؤن؛ جدید ترین کمانڈ سینٹر سے مانیٹرنگ جاری

منصور احمد june 01,2026

راولپنڈی(نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کے شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی امتحانی نظام کے وژن، چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان اور صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی خصوصی ہدایات پر راولپنڈی میں انٹرمیڈیٹ امتحانات کو شفاف بنانے کے لیے بڑے اقدامات سامنے آئے ہیں۔ کمشنر و چیئرمین تعلیمی بورڈ راولپنڈی انجینئر عامر خٹک کی مؤثر حکمت عملی کے تحت انٹرمیڈیٹ اول سالانہ امتحان 2026ء میں شفافیت اور نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔

جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے ریئل ٹائم مانیٹرنگ بورڈ حکام کے مطابق، امتحانی عمل کی سخت نگرانی کے لیے ایک جدید ترین کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم کیا گیا ہے، جس کے ذریعے تمام امتحانی مراکز کی لائیو (ریئل ٹائم) مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، خصوصی مانیٹرنگ ٹیمیں اور بورڈ کے اعلیٰ افسران مختلف امتحانی مراکز کے مسلسل دورے کر رہے ہیں تاکہ امتحانات کے انعقاد میں شفافیت، میرٹ اور غیر جانبداری کے اصولوں پر سو فیصد عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔

امتحانی مرکز میں نقل کرتے ہوئے امیدوار رنگے ہاتھوں گرفتار کنٹرولر امتحانات تعلیمی بورڈ راولپنڈی تنویر اصغر اعوان کی خصوصی ہدایات پر امتحانی مراکز میں جاری سخت نگرانی کے دوران ایک بڑی کامیابی ملی ہے، جہاں ایک اُمیدوار کو نقل کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گیا۔ امتحانی ضوابط کے سخت قانون کے مطابق، نقل کرنے والے اُمیدوار کے خلاف فوری طور پر کیس رجسٹر کر لیا گیا ہے اور فائل کو مزید سخت قانونی کارروائی کے لیے ڈسپلن برانچ بھجوا دیا گیا ہے۔

ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر بلاامتیاز کارروائی کا انتباہ کنٹرولر امتحانات تنویر اصغر اعوان نے اس حوالے سے میڈیا کو بتایا کہ تعلیمی بورڈ راولپنڈی امتحانات کے شفاف انعقاد، حقیقی حقدار طلبہ کے میرٹ کے تحفظ اور بوٹی مافیا یا نقل کے مکمل خاتمے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں خبردار کیا کہ امتحانی ضابطہ اخلاق کی معمولی سی خلاف ورزی بھی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور قواعد و ضوابط کے مطابق ہر کسی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے تمام طلبا اور اُمیدواروں کو مخلصانہ مشورہ دیا کہ وہ صرف اپنی صلاحیتوں اور دن رات کی محنت پر اعتماد کرتے ہوئے امتحانات میں حصہ لیں اور کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی یا شارٹ کٹ سے دور رہیں۔

شفافیت اور احتساب کے فروغ کا عزم تعلیمی بورڈ راولپنڈی کی انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ امتحانی نظام میں اعلیٰ درجے کی شفافیت، دیانتداری اور کڑے احتساب کے فروغ کے لیے بورڈ کے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا، تاکہ محنتی طلبہ کو ایک منصفانہ، پرامن اور سازگار امتحانی ماحول فراہم کیا جا سکے۔

خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات پر عید کے دوران سیاحوں کی آمد توقع سے کم، ماہرین کا سہولیات کی کمی پر تشویش کا اظہار

کاشف عباسی ,june 01,2026

پشاور(نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

عیدالاضحیٰ کی طویل تعطیلات کے دوران خیبرپختونخوا کے معروف اور خوبصورت سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی آمد توقعات سے نمایاں طور پر کم رہی ہے۔ سرکاری طور پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، گلیات، سوات، کالام، کمراٹ، کاغان اور ناران سمیت صوبے کے مختلف تفریحی علاقوں میں مجموعی طور پر گیارہ لاکھ چونسٹھ ہزار سے زائد افراد نے سفر کیا، جبکہ اس پورے سیزن کے دوران غیر ملکی سیاحوں کی تعداد انتہائی مایوس کن یعنی ایک سو سے بھی کم ریکارڈ کی گئی ہے۔

مختلف وادیوں میں سیاحوں کی آمد کے سرکاری اعداد و شمار صوبائی سیاحتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق، عید کے دنوں میں سب سے زیادہ سیاحوں نے وادی سوات کا رخ کیا جہاں تین لاکھ تینتیس ہزار سے زائد افراد تفریح کے لیے پہنچے۔ اس کے علاوہ سابق قبائلی اضلاع (ضم شدہ اضلاع) میں تین لاکھ چورانوے ہزار، وادی ناران میں ایک لاکھ دس ہزار، جبکہ مری کے قریب واقع گلیات کے مختلف خوبصورت علاقوں میں بھی ایک لاکھ دس ہزار سے زائد افراد نے سیاحت کی۔

سرکاری اعداد و شمار پر ماہرین کے تحفظات سیاحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے ان سرکاری اعداد و شمار پر تفصیلی تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جاری کیے گئے ان اعداد و شمار میں وہاں کی مقامی آبادی اور عید کی تعطیلات گزارنے کے لیے اپنے آبائی گھروں کو جانے والے افراد کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ اس خلط ملط کی وجہ سے اصل سیاحوں (تفریح کی غرض سے آنے والوں) کی اصل تعداد کا درست اور شفاف اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

انتظامی کمزوریاں اور مری سے موازنہ ماہرین کے مطابق، گلیات سمیت خیبرپختونخوا کے دیگر سیاحتی علاقوں میں بیک وقت لاکھوں افراد کو ٹھہرانے کی وسیع گنجائش موجود ہے، تاہم جدید سہولیات کی شدید کمی، ناقص طویل المدتی منصوبہ بندی، انتظامی کمزوریوں اور بنیادی ڈھانچے (سڑکوں وغیرہ) کی خرابی کے باعث یہ خوبصورت علاقے اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ ماہرین نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ عید کے دوران مری میں ہوٹلوں اور رہائشی مقامات پر شدید رش رہا اور بہت سے سیاحوں کو مجبورا اپنی گاڑیوں میں راتیں گزارنا پڑیں، لیکن اس کے باوجود بڑی تعداد میں لوگوں نے قریبی گلیات کا رخ کرنے کے بجائے مری ہی میں مقیم رہنے کو ترجیح دی۔ ماہرین کے نزدیک اس کی بنیادی وجہ گلیات میں مناسب، فیملی کے لیے محفوظ اور سستی رہائش گاہوں کی شدید کمی اور بنیادی سیاحتی سہولیات کا فقدان ہے۔

سیاحت کے سنہری دور کا خاتمہ اور بند منصوبے سیاحتی ماہرین نے افسوس کے ساتھ نشاندہی کی کہ اب سے کئی برس قبل خیبرپختونخوا کے ان سیاحتی مقامات پر سیاحوں کا رش موجودہ صورتحال سے کہیں زیادہ ہوا کرتا تھا؛ ماضی میں عید کے موقع پر وادی سوات، کالام اور گلیات کے ہوٹلوں میں کمرے ملنا ناممکن ہو جاتا تھا، لیکن اب صورتحال اس کے بالکل برعکس نظر آتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے کے اہم ترین تفریحی منصوبے، جیسے کہ ‘ایوبیہ کی چیئر لفٹ’، طویل عرصے سے بند پڑی ہے جبکہ متعدد دیگر تفریحی منصوبے بھی حکومت کی عدم توجہ کا شکار ہیں، جس سے صوبائی سیاحت کے فروغ پر انتہائی منفی اور گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

حکومت سے اصلاحات اور خصوصی تربیت کا مطالبہ ماہرین نے صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ سیاحت کے شعبے میں وسیع تجربہ اور وژن رکھنے والے پیشہ ور افراد کو محکمہ سیاحت میں اہم ذمہ داریاں سونپی جائیں۔ اس کے ساتھ ہی، مقامی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے افسران کو سیاحت اور مہمان نوازی (ہوسپیٹلٹی) کے شعبے کی خصوصی تربیت دی جائے اور تمام سیاحتی مقامات پر پینے کے صاف پانی، سستی رہائش اور اچھے راستوں جیسی بنیادی سہولیات کو ہنگامی بنیادوں پر بہتر بنایا جائے تاکہ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں دوبارہ اضافہ ہو سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مؤثر منصوبہ بندی، جدید ڈیجیٹل سہولیات اور بہتر سکیورٹی انتظامات فراہم کیے جائیں، تو خیبرپختونخوا کا یہ سیاحتی شعبہ صوبے کی معیشت کے لیے ایک انتہائی مضبوط، مستقل اور پائیدار ذریعہ آمدن بن سکتا ہے۔

گلگت بلتستان میں شفاف انتخابات کا مطالبہ، فارم 45 کے تحفظ پر زور

کاشف عباسی ,june 01,2026

شگر (نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شگر میں ایک بڑے اور عوامی انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے گلگت بلتستان میں صاف اور شفاف انتخابات کرانے کا زوردار مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں پر خصوصی زور دیا ہے کہ وہ ووٹنگ کے پورے عمل کی خود نگرانی کریں اور انتخابی نتائج سے متعلق تمام ضروری دستاویزات کو محفوظ بنائیں۔

پیپلز پارٹی سے گلگت بلتستان کے عوام کا دیرینہ رشتہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ گلگت بلتستان کے غیور عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان پیپلز پارٹی کا مخلصانہ ساتھ دیتے آرہے ہیں اور یہی عوامی محبت و وفاداری ان کی سیاسی طاقت کا اصل سرچشمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کی جرات کی بدولت وہ آج بھی فخر کے ساتھ ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘ کا تاریخی نعرہ بلند کرتے ہیں۔

گزشتہ انتخابی نتائج پر تحفظات اور دھاندلی کے الزامات انہوں نے مخالفین پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی متعدد جیتی ہوئی نشستیں زبردستی چھینی گئیں، اسی لیے یہ اب بے حد ضروری ہو چکا ہے کہ آئندہ انتخابات مکمل طور پر آزاد، منصفانہ اور شفاف ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام اس بار اپنے ووٹ کی خود حفاظت کریں اور انتخابی عمل پر دائرے کی طرح گہری نظر رکھیں تاکہ کسی بھی قسم کی انتظامی بے ضابطگی کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔

عوامی مینڈیٹ کا احترام اور کارکنوں سے اپیل چیئرمین پیپلز پارٹی نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ اس بار عوامی مینڈیٹ کا ہر حال میں احترام کیا جائے گا اور اب کسی بھی دوسری سیاسی جماعت کو عوام کا ووٹ چوری کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔ انہوں نے کارکنوں سے پرجوش اپیل کی کہ وہ انتخابی دن بھرپور انداز میں پولنگ اسٹیشنز پر متحرک رہیں اور ہر مرحلے پر عوام کے ڈالے گئے ووٹ کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔

قائدین کی قربانیوں اور نظریے کا تذکرہ اپنے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے محترمہ بینظیر بھٹو اور قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو کی لازوال سیاسی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان عظیم رہنماؤں نے پاکستان کے پسے ہوئے عوام کو آئینی حقوق، جمہوری شعور اور بین الاقوامی سطح پر ایک نئی شناخت فراہم کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی ترقی، جمہوریت کی بقا اور قومی وقار کے لیے پیپلز پارٹی کی دی گئی قربانیاں ملکی تاریخ کا ایک روشن اور اہم حصہ ہیں۔

جلسے کے اختتام پر انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ وہ آنے والے ان اہم انتخابات میں بھرپور طریقے سے حصہ لیں اور اپنے ووٹ کی طاقت کا صحیح استعمال کر کے علاقے کی ترقی، خوشحالی اور اپنے بنیادی عوامی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

ایران پر امریکی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ، تہران کا جوابی کارروائی کا دعویٰ

محمود احمد june 01,2026

تہران / واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان دیرینہ کشیدگی ایک بار پھر انتہائی خطرناک اور نازک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے ایرانی سرزمین پر موجود اہم فوجی تنصیبات کو براہِ راست نشانہ بنانے کے بعد ایران نے بھی امریکہ کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی کا دعویٰ کیا ہے۔ دونوں طاقتوں کے درمیان اس براہِ راست تصادم کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں اور صورتحال انتہائی دھماکہ خیز ہو چکی ہے، جبکہ خطے کے متعدد پڑوسی ممالک میں ہائی سکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

امریکی حملے اور نشانہ بننے والے اہداف امریکی مرکزی کمان کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ بیان کے مطابق، امریکی افواج نے جنوبی ایران کے ساحلی علاقوں گورک اور جزیرہ قشم میں واقع ایرانی فوج کے ریڈار سسٹمز، ڈرون کنٹرول مراکز اور فضائی دفاعی تنصیبات پر شدید حملے کیے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ یکطرفہ کارروائی ایران کی جانب سے گزشتہ دنوں امریکی ڈرون کو مار گرانے اور خطے میں بڑھتی ہوئی جارحانہ عسکری سرگرمیوں کے جواب میں کی گئی ہے۔ امریکی فوج کے مطابق، اس آپریشن کے دوران ایرانی فضائی دفاعی نظام کے بعض حصوں اور ڈرون کنٹرول مرکز کو کامیابی سے تباہ کیا گیا ہے، کیونکہ یہ تنصیبات بین الاقوامی سمندری گزرگاہوں اور امریکی مفادات کے لیے مستقل خطرہ بن چکی تھیں۔

ایران کا جوابی حملہ اور پاسدارانِ انقلاب کا مؤقف دوسری جانب، ایران کے طاقتور عسکری ادارے ‘پاسدارانِ انقلاب’ نے امریکی حملوں کے فوری جواب میں خطے میں قائم ایک بڑے امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق، اس تیز رفتار جوابی کارروائی میں ان مخصوص امریکی مقامات کو ہدف بنایا گیا جہاں سے ایران پر حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ ایرانی اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری، زمینی حدود اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گا اور کسی بھی بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق، ایران کی دفاعی و جارحانہ صلاحیت اس وقت مکمل طور پر فعال ہے اور دشمن کی کسی بھی اگلی کارروائی کا جواب دینے کے لیے انگلیاں ٹریگر پر ہیں۔

خلیجی ممالک میں ہائی الرٹ اور کویت کی تیاری مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی اس شدید فوجی کشیدگی کے باعث کویت سمیت کئی خلیجی ممالک میں ہنگامی حالت (ہائی الرٹ) نافذ کر دی گئی ہے۔ کویتی حکام نے امارت کے فضائی دفاعی نظام کو فوری طور پر متحرک کر دیا ہے جبکہ شہریوں کو کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، کویت کے بعض سرحدی اور حساس علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے ہیں تاکہ ممکنہ فضائی خطرات سے نمٹا جا سکے۔

عالمی تجارت، توانائی کی منڈیاں اور ماہرین کے خدشات سیاسی اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست فوجی کارروائیوں کا یہ سلسلہ پورے خطے کے امن و استحکام کو ملیا میٹ کر سکتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان اس کشیدگی کو فوری طور پر نہ روکا گیا، تو اس کے بھیانک اثرات عالمی تجارت، تیل و گیس کی بین الاقوامی منڈیوں (توانائی کے شعبے) اور مجموعی عالمی سلامتی پر مرتب ہوں گے۔

عالمی برادری کی تشویش اور سفارتی کوششیں اقوامِ متحدہ سمیت عالمی برادری نے مشرقِ وسطیٰ کی اس ابتر صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے اور اس سنگین تنازع کو جنگ کے بجائے سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق، موجودہ نازک حالات میں کسی بھی فریق کی جانب سے ایک غلط اندازہ یا اضافی فوجی کارروائی پورے خطے کو کسی بڑے عالمی بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ اس دوران عالمی سطح پر سفارتی رابطے بھی انتہائی تیز ہو گئے ہیں اور مختلف دوست ممالک خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے پسِ پردہ کوششیں کر رہے ہیں، تاہم صورتحال بدستور غیر یقینی اور انتہائی حساس بنی ہوئی ہے۔

کراچی میں چپس اور پاپڑ کے پیکٹوں میں کوکین سپلائی کرنے والے نیٹ ورک کا انکشاف

کاشف عباسی ,june 01,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

صوبائی دارالحکومت کراچی میں منشیات فروشی کے ایک انتہائی خطرناک، اچھوتے اور حیران کن طریقۂ کار کا انکشاف ہوا ہے۔ جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے مبینہ طور پر مہنگی ترین منشیات ‘کوکین’ کو معصوم بچوں کے کھانے والے چپس اور پاپڑ کے پیکٹوں میں چھپا کر شہر کے مختلف حصوں میں سپلائی کیا جا رہا ہے۔ تحقیقاتی اداروں کے مطابق، گروہ کی مبینہ مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی کی گرفتاری کے باوجود اس کا یہ نیٹ ورک اب بھی پسِ پردہ مکمل طور پر سرگرم ہے اور شہر کے مختلف علاقوں میں اپنی مکروہ کارروائیاں بلاخوف جاری رکھے ہوئے ہے۔

مرکزی ملزمہ کی گرفتاری اور نیٹ ورک کا تحرک رپورٹس کے مطابق، کراچی پولیس اور سویلین انٹیلی جنس اداروں نے ایک مشترکہ اور کامیاب کارروائی کے دوران سنگین منشیات فروشی اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے متعدد مقدمات میں مطلوب اہم ملزمہ انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا تھا۔ تاہم، ملزمہ سے ہونے والی بعد ازاں تفتیش اور تحقیقات میں یہ ہولناک انکشاف ہوا کہ اس خطرناک نیٹ ورک کے دیگر مفرور ارکان اب بھی شہر میں پوری طرح متحرک ہیں اور قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے منشیات کی ترسیل کے نت نئے خفیہ طریقے اختیار کر رہے ہیں۔

پوش علاقوں اور ریسٹورنٹس میں خفیہ سپلائی کا طریقہ حساس تحقیقاتی ذرائع کے مطابق، ان منشیات فروشوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سخت نگرانی اور ناکہ بندیوں سے بچنے کے لیے کوکین کو عام چپس اور پاپڑ کے سیل بند پیکٹوں میں چھپانے کا طریقہ اپنایا ہے۔ یہ سپلائرز ان پیکٹوں کو باآسانی گھروں، شہر کے پوش علاقوں، بڑے بڑے بنگلوں اور بعض معروف ریسٹورنٹس و ہوٹلوں تک پہنچا رہے ہیں تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔

مبینہ آڈیو ریکارڈنگ اور ڈیلیوری کا طریقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران ایک مبینہ آڈیو گفتگو بھی سامنے آئی ہے جس میں ایک سپلائر نے اپنے گاہک کو کوڈ ورڈز میں بتایا کہ ڈیلیوری کے دوران اسے چپس کے متعدد عام پیکٹ بھیجے جائیں گے، جن میں سے کسی ایک مخصوص پیکٹ کے اندر کوکین رکھی گئی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی، قانون کی نظروں سے اوجھل رہنے کے لیے اس نیٹ ورک نے مالی لین دین (پیسوں کی ادائیگی) کے طریقے بھی مکمل طور پر تبدیل کر دیے ہیں۔

ڈیجیٹل والٹس اور عارضی بینک اکاؤنٹس کا استعمال حالیہ تحقیقات کے مطابق، منشیات کی اس خرید و فروخت کے لیے اب نقد رقم کے بجائے عارضی بینک اکاؤنٹس، موبائل ڈیجیٹل والٹس اور صرف ایک بار استعمال ہونے والے آن لائن ادائیگی کے نظام (ون ٹائم پیمنٹ سسٹم) کا سہارا لیا جا رہا ہے، تاکہ بینکنگ چینلز کے ذریعے رقم کی منتقلی اور اس کے اصل مالک کا سراغ لگانا ناممکن بنایا جا سکے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ اس منظم نیٹ ورک کے باقی تمام مفرور ارکان، ان کی بین الاقوامی سپلائی چین اور مالی معاونت کرنے والے پوشیدہ ذرائع تک پہنچنے کے لیے تفتیش کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق، ہماری نوجوان نسل اور بچوں کے مستقبل کو نشانہ بنانے والے ایسے سنگین اور قبیح جرائم کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کیا جائے گا تاکہ روشنیوں کے شہر میں منشیات کی ترسیل کے اس خطرناک رجحان کا جڑ سے خاتمہ کیا جا سکے۔

فیفا عالمی کپ 2026 میں کئی بڑی تبدیلیاں، 48 ٹیمیں اور 104 میچز شامل

محمود احمد june 01,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

فٹبال کے سب سے بڑے عالمی مقابلے “فیفا عالمی کپ 2026” میں پہلی بار کئی اہم اور تاریخی تبدیلیاں متعارف کرائی جا رہی ہیں، جن کے باعث یہ ٹورنامنٹ عالمی کپ کی پوری تاریخ کا سب سے بڑا اور یادگار ایونٹ بن جائے گا۔

ٹیموں اور میچوں کی تعداد میں تاریخی اضافہ اس بار عالمی کپ میں شریک ٹیموں کی تعداد 32 سے بڑھا کر 48 کر دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں مقابلوں کی مجموعی تعداد بھی 64 سے بڑھ کر 104 ہو جائے گی۔ ٹورنامنٹ کے اس نئے فارمیٹ کے تحت اب کسی بھی ٹیم کو عالمی چیمپئن کا تاج اپنے سر سجانے کے لیے 7 کے بجائے 8 میچ کھیلنا ہوں گے۔

تین ممالک کی مشترکہ میزبانی اس عالمی کپ کی ایک اور سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ تین ممالک مشترکہ طور پر اس عظیم ایونٹ کی میزبانی کے فرائض سرانجام دیں گے۔ ان میزبان ممالک میں ریاستہائے متحدہ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو شامل ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس بار ایونٹ میں چار ایسی نئی قومی ٹیمیں بھی پہلی بار ایکشن میں نظر آئیں گی جو اس سے قبل کبھی بھی عالمی کپ کے فائنل مرحلے (مین راؤنڈ) تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں ہیں۔

کھلاڑیوں کے لیے طویل سفر کی تھکاوٹ کا چیلنج کھیلوں کے ماہرین کے مطابق، مختلف ممالک اور وقت کے الگ الگ خطوں (ٹائم زونز) میں میچز منعقد ہونے کے باعث کھلاڑیوں کو سفر کی اضافی تھکاوٹ اور موسم کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ گروپ مرحلے کے فوری بعد بعض ٹیموں کو اگلے میچ کے لیے پانچ ہزار کلومیٹر تک کا طویل فضائی سفر بھی کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے پیشِ نظر عالمی فٹبال انتظامیہ نے کھلاڑیوں کے لیے سفری اور شیڈولنگ کے خصوصی و آرام دہ انتظامات کیے ہیں۔

شائقینِ فٹبال کے لیے سفری ویزا کے مسائل دنیا بھر سے آنے والے شائقینِ فٹبال کو بھی تین مختلف ممالک میں جا کر میچز دیکھنے کے لیے بھاری سفری اخراجات، ویزا کے حصول اور وہاں رہائش کے حوالے سے اضافی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔

تاریخ کا پہلا ہاف ٹائم انٹرٹینمنٹ شو علاوہ ازیں، اطلاعات کے مطابق عالمی کپ کی تاریخ میں پہلی بار فائنل میچ کے وقفے کے دوران ایک خصوصی تفریحی پروگرام (ہاف ٹائم شو) منعقد کرنے کی شاندار منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے، جس میں دنیا کے نامور فنکار پرفارم کریں گے۔ اس اقدام سے فائنل مقابلے کی عالمی کشش اور مقبولیت میں مزید کئی گنا اضافے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

مجموعی طور پر فیفا عالمی کپ 2026 کو فٹبال کی تاریخ کا سب سے بڑا، طویل اور وسیع پیمانے پر منعقد ہونے والا سنسنی خیز ٹورنامنٹ قرار دیا جا رہا ہے، جس پر دنیا بھر کے کروڑوں شائقین کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔

پنجاب میں سولر اور نجی بجلی پیدا کرنے والے بڑے صنعتی و تجارتی یونٹس پر نئی الیکٹرسٹی ڈیوٹی عائد کرنے کی تیاری

منصور احمد june 01,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

پنجاب حکومت نے صوبے میں نجی طور پر اپنی بجلی خود پیدا کرنے والے بڑے صنعتی اور تجارتی اداروں پر نئی الیکٹرسٹی ڈیوٹی عائد کرنے کا ایک بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس نئے حکومتی اقدام کے تحت اب سولر پاور سسٹمز (سولر پینلز) اور نجی جنریٹرز کے ذریعے بجلی پیدا کرنے والے تمام کمرشل اور صنعتی یونٹس سے بھی باقاعدہ سرکاری ڈیوٹی وصول کی جائے گی۔

باقاعدہ فریم ورک تیار اور فی یونٹ ڈیوٹی کا تعین سرکاری ذرائع کے مطابق، حکومتِ پنجاب نے اس مقصد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک باقاعدہ اور جامع فریم ورک تیار کر لیا ہے۔ اس فریم ورک کے تحت اپنی مدد آپ کے تحت بجلی پیدا کرنے والے بڑے کاروباری اور صنعتی اداروں پر “فی یونٹ 4 پیسے” کے حساب سے الیکٹرسٹی ڈیوٹی نافذ کی جائے گی، جو ان کے پیداواری بلوں میں شامل ہوگی۔

گیارہ سو سے زائد صنعتی و تجارتی مقامات دائرہ کار میں شامل حکومتی منصوبے کے مطابق، صوبے بھر میں قائم تقریباً ایک ہزار ایک سو ستتر (1177) بڑے صنعتی اور تجارتی مقامات کو اس نئی ڈیوٹی کے دائرہ کار میں لایا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد نجی سطح پر پیدا ہونے والی بجلی کا مکمل اور شفاف ریکارڈ مرتب کرنا اور صوبے میں توانائی کے شعبے میں نگرانی کے نظام کو پہلے سے زیادہ مؤثر بنانا ہے۔

سولر اور سیلف جنریشن سسٹمز کو دستاویزی بنانے کا فیصلہ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ حکومت نے سولر توانائی سمیت تمام بڑے سیلف جنریشن سسٹمز کو مکمل طور پر دستاویزی (ڈاکیومنٹڈ) نظام میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نجی طور پر پیدا کی جانے والی بجلی کے درست اعداد و شمار کو سرکاری سطح پر باقاعدہ طور پر محفوظ رکھنا اور صوبائی ریونیو (آمدن) کی وصولی کے نظام کو مزید وسعت دینا ہے۔

صنعتی لاگت میں اضافے کا خدشہ اور کاروباری حلقوں کی تشویش اقتصادی اور توانائی کے ماہرین کے مطابق، اس فیصلے سے پنجاب حکومت کی سرکاری آمدنی میں تو یقیناً اضافہ متوقع ہے، تاہم دوسری جانب صنعتی اور تجارتی شعبے میں بجلی کی مجموعی لاگت مزید بڑھنے کا واضح امکان پیدا ہو گیا ہے۔ کاروباری اور تاجر حلقوں نے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سولر توانائی اور نجی بجلی پیدا کرنے کے نظام پر اس قسم کے اضافی مالی بوجھ سے کارخانوں کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے منفی اثرات مارکیٹ کے مختلف دیگر شعبوں پر بھی مرتب ہونے کا شدید خدشہ ہے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے اس مجوزہ ڈیوٹی کے باقاعدہ نفاذ، تاریخ اور وصولی کے طریقہ کار سے متعلق مزید تفصیلی گائیڈ لائنز جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

پی ٹی آئی میں فارورڈ بلاک کی خبروں کی تردید، تمام ارکان متحد اور وزیراعلیٰ کے ساتھ ہیں: بیرسٹر گوہر

کاشف عباسی ,june 01,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے پارٹی کے اندر کسی بھی قسم کے فارورڈ بلاک کی تشکیل یا اندرونی اختلافات کی تمام خبروں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ تحریک انصاف سیاسی طور پر مکمل طور پر متحد ہے اور تمام قائدین و اراکینِ اسمبلی بانی چیئرمین کی قیادت اور وژن پر کامل اعتماد رکھتے ہیں۔

جمہوری روایات اور فیصلوں میں اتفاقِ رائے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے اندر اعلیٰ جمہوری روایات موجود ہیں جہاں ہر رکن کو اپنی آزادانہ رائے دینے کا پورا حق حاصل ہے، تاہم تمام اہم فیصلے ہمیشہ باہمی مشاورت اور اتفاقِ رائے سے ہی کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے سختی سے واضح کیا کہ پارٹی صفوں میں کسی بھی قسم کی تقسیم، دھڑے بندی یا گروپ بندی موجود نہیں ہے اور تمام اراکین ایک ہی بیانیے اور مؤقف پر متحد کھڑے ہیں۔

پارٹی اجلاس اور اراکین کی سو فیصد حاضری چیئرمین تحریک انصاف نے حالیہ اندرونی اجلاسوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پارٹی کے حالیہ اہم اجلاس میں تقریباً تمام اراکین نے بھرپور شرکت کی، اور صرف وہی گنتی کے چند رہنما موجود نہیں تھے جو اس وقت ملک سے باہر یعنی بیرونِ ملک مقیم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کی مرکزی و صوبائی قیادت اور تمام منتخب نمائندے تنظیمی اور سیاسی معاملات پر ایک پیج پر ہیں اور ان میں کوئی اختلاف نہیں۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر بھرپور اعتماد کا اظہار انہوں نے پریس کو بتایا کہ یہ کسی ایک فرد کی حکومت نہیں بلکہ بانی چیئرمین کے وژن اور اصولی پالیسیوں کے تحت چلنے والا ایک منظم نظام ہے۔ بیرسٹر گوہر خان نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر اپنی قیادت کے مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بانی چیئرمین کی بھرپور اور غیر مشروط حمایت حاصل ہے، اور صوبے کے تمام اراکینِ اسمبلی ان کی کارکردگی سے مطمئن اور ان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔

افواہوں کی تردید اور عوامی خدمت کا ایجنڈا بیرسٹر گوہر خان نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کے تمام اراکینِ اسمبلی اور پارٹی کے دیگر سینیئر رہنما صوبائی حکومت کی مضبوطی، ملک میں سیاسی استحکام اور عوامی خدمت کے بنیادی ایجنڈے پر کاربند ہیں، جبکہ پارٹی کو کمزور دکھانے کے لیے پھیلائی جانے والی تمام افواہوں اور من گھڑت خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا یہ وضاحتی بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میڈیا اور سیاسی حلقوں میں پارٹی کے اندرونی اختلافات اور مبینہ فارورڈ بلاک سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں تیزی سے گردش کر رہی تھیں، تاہم پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے ان خبروں کو مسلسل مسترد کر کے ان افواہوں کا دم توڑ دیا ہے۔

چین اور امریکا کے عوام دوستی کے خواہاں، نوجوان نسل مستقبل کے تعلقات کی ضامن ہے: چینی سفیر

محمود احمد june 01,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

امریکا میں تعینات چینی سفیر شیے فینگ نے دونوں ممالک کے تعلقات کے حوالے سے ایک اہم اور مثبت بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ چین اور امریکا کے عوام کے درمیان دوستی، خیرسگالی اور باہمی احترام کی خواہش آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے، اور دونوں ممالک کے نوجوان مستقبل میں ان باہمی تعلقات کو مزید مضبوط اور پائیدار بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

پنگ پونگ سے پکل بال سفارت کاری تک کا سفر واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے اندر منعقدہ ایک منفرد “پکل بال نائٹ” تقریب سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے سفیر شیے فینگ نے تاریخی حوالوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں مشہور ‘پنگ پونگ سفارت کاری’ نے چین اور امریکا کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں تاریخی کردار ادا کیا تھا، جبکہ آج کھیل کے میدانوں کے ذریعے دونوں ممالک کی نوجوان نسل ایک بار پھر عوام کو قریب لانے کا ایک بہترین اور مؤثر ذریعہ بن رہی ہے۔

عوامی روابط اور دوستی کی خواہش چینی سفیر نے واضح کیا کہ اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب کھیل کے انداز اور باہمی رابطوں کے ذرائع ضرور بدل گئے ہیں، لیکن چین اور امریکا کے عام عوام کے دلوں میں دوستی، اقتصادی تعاون اور مثبت روابط قائم کرنے کی خواہش آج بھی برقرار ہے۔ انہوں نے اس بات پر گہرا زور دیا کہ عوامی سطح پر براہِ راست روابط اور دونوں ممالک کے نوجوانوں کے وفود کے تبادلے باہمی تعلقات کو کسی بھی قسم کے بحران سے بچانے اور مستحکم بنانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔

عالمی چیلنجز اور نوجوان نسل کی ذمہ داری سفارت خانے کی اس تقریب کے دوران شیے فینگ نے امریکی طلبہ، اساتذہ اور ان کے والدین سے تفصیلی ملاقاتیں کیں اور کھیلوں کے ذریعے پیدا ہونے والی اس نئی دوستی اور ثقافتی روابط کو دل کھول کر سراہا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی نوجوان نسل کو روایتی اختلافات سے ہٹ کر اب موسمیاتی تبدیلیوں، مصنوعی ذہانت ، عوامی صحت، عالمی غذائی تحفظ اور دیگر بڑے بین الاقوامی چیلنجز پر اپنی مشترکہ توجہ مرکوز کرنی چاہیے تاکہ دنیا کو درپیش سنگین مسائل کے حل میں یہ نوجوان اپنا مؤثر ترین کردار ادا کر سکیں۔

تعلقات کا نیا تاریخی مرحلہ اور عالمی امن چینی سفیر کا کہنا تھا کہ چین اور امریکا کے باہمی تعلقات اس وقت ایک بالکل نئے تاریخی مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں، جس کے پیشِ نظر دونوں ممالک کی قیادت کو اپنے سیاسی اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے باہمی تعاون، تعمیری مکالمے اور سفارتی اعتماد کو فروغ دینا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے طور پر چین اور امریکا کی یہ اولین مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عالمی امن، بقائے باہمی، استحکام اور معاشی ترقی کے فروغ کے لیے مل کر کام کریں اور اپنے تعلقات کو مستحکم، متوازن اور پائیدار بنیادوں پر آگے بڑھائیں۔

بین الاقوامی امور کے مبصرین کے مطابق، واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کی جانب سے اس قسم کی تقریب کا انعقاد دونوں سپر پاورز کے درمیان عوامی سطح پر دوریاں کم کرنے اور نوجوان نسل کے ذریعے مستقبل کے تعلقات کو محفوظ بنانے کی ایک انتہائی مثبت اور خوش آئند تزویراتی کوشش ہے۔

پاکستان اور یورپی یونین تعلقات کے نئے دور میں داخل، اسحاق ڈار اور کاجا کالس کی اہم ملاقات

منصور احمد june 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان دوطرفہ تزویراتی تعلقات کو مزید وسعت دینے اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ایک بڑا سنگِ میل طے ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں “پاکستان۔یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا آٹھواں اہم اجلاس آج وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد ہو رہا ہے۔ اس اعلیٰ سطحی اجلاس کی مشترکہ صدارت پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور و سلامتی پالیسی اور یورپی کمیشن کی نائب صدر کاجا کالس کر رہی ہیں۔

دفتر خارجہ میں پرتپاک استقبال اور وفود کی ملاقات وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے دفتر خارجہ پہنچنے پر یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالس کا انتہائی پرتپاک استقبال کیا۔ اس اہم ملاقات کے موقع پر دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان قائم دیرینہ، پائیدار اور دوستانہ تعلقات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس کے علاوہ علاقائی و عالمی صورتحال، باہمی تجارت، سرمایہ کاری کے نئے مواقع، ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے نمٹنے، تعلیم، سلامتی اور پائیدار ترقی سمیت متعدد باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

اعلیٰ سفارتی رابطوں کا کلیدی فورم سفارتی ماہرین کے مطابق، پاکستان۔یورپی یونین اسٹریٹجک مکالمہ دونوں فریقوں کے مابین اعلیٰ سطحی سفارتی اور تزویراتی رابطوں کا سب سے اہم اور فعال ترین فورم سمجھا جاتا ہے۔ اس فورم کا بنیادی مقصد مشترکہ مفادات کے تمام شعبوں میں تعاون کو پہلے سے زیادہ مستحکم بنانا اور وقت کے ساتھ سامنے آنے والے مشترکہ عالمی چیلنجز سے مل کر نمٹنے کے لیے ایک مؤثر اور دور رس حکمت عملی وضع کرنا ہے۔

سیاسی و اقتصادی تعلقات میں نئی پیش رفت کی امید بین الاقوامی امور کے مبصرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے اس تزویراتی اجلاس سے پاکستان اور یورپی یونین کے مابین سیاسی، اقتصادی اور سفارتی تعلقات کو ایک نئی اور مضبوط جہت ملنے کی قوی امید ہے۔ اس کے ساتھ ہی، آنے والے دنوں میں دونوں فریقین کے درمیان تجارتی روابط، ترقیاتی شراکت داری اور جنوبی ایشیا سمیت عالمی امن و استحکام کے حوالے سے بھی انتہائی اہم تزویراتی پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔

طویل المدتی شراکت داری کا مشترکہ عزم سرکاری حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اسٹریٹجک مکالمے کے اس آٹھویں اجلاس کا انعقاد دراصل دونوں فریقوں کے اس پختہ اور مشترکہ عزم کا واضح مظہر ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین باہمی احترام، مشترکہ مفادات اور ایک طویل المدتی شراکت داری کی مضبوط بنیاد پر اپنے باہمی تعلقات کو آنے والے سالوں میں مزید مضبوط اور مستحکم بنائیں گے۔

ایبولا وبا سے نمٹنے کے لیے عالمی اتحاد ناگزیر، سرحدوں کی بندش مسئلے کا حل نہیں: عالمی ادارۂ صحت

کاشف عباسی ,june 01,2026

کنشاسا (نیوز اینڈ نیوز) –01 جون 2026ء

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس اذانوم گیبریاسس نے جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی حالیہ خطرناک وبا پر قابو پانے کے لیے عالمی یکجہتی، مقامی آبادی کے اعتماد اور بین الاقوامی تعاون کی اشد ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ مختلف ممالک کی جانب سے لگائی جانے والی یکطرفہ سفری پابندیاں اور سرحدوں کی بندش اس وبا کے خلاف جاری عالمی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

مقامی آبادی کا اعتماد اور پریس کانفرنس جمہوریہ کانگو کے صوبہ ایتوری کے دارالحکومت بونیا میں اعلیٰ حکومتی حکام کے ہمراہ ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا کہ کانگو کے عوام اس مشکل گھڑی میں بالکل تنہا نہیں ہیں اور پوری عالمی برادری ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ کسی بھی وبائی مرض پر مؤثر قابو پانے کے لیے مقامی آبادی کا اعتماد حاصل کرنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ مقامی برادریاں اپنے زمینی مسائل کو بہتر انداز میں سمجھتی ہیں اور ان کے حل میں سب سے اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

ویکسین کی عدم دستیابی اور علاج کے چیلنجز ڈاکٹر ٹیڈروس نے حقائق کا اعتراف کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس وقت ایبولا کے اس مخصوص پھیلاؤ (اسٹرین) کے لیے کوئی باقاعدہ منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں ہے۔ تاہم، انہوں نے امید دلائی کہ بروقت تشخیص، معیاری طبی سہولیات کی فراہمی اور مؤثر نگہداشت کے ذریعے مریضوں کی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک متعدد مریض بہتر علاج کے بعد مکمل طور پر صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ادارۂ صحت اور اس کے شراکت دار ادارے محفوظ اور مؤثر ویکسینز اور علاج کی تیاری کے لیے طبی آزمائشوں (کلینیکل ٹرائلز) پر تیزی سے کام کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں اس مہلک بیماری کے خلاف مستقل اقدامات کیے جا سکیں۔

ایتوری میں ٹیسٹنگ کی صلاحیت اور لیبارٹری اقدامات صحت کے مقامی حکام کے مطابق، صوبہ ایتوری میں لیبارٹری کی سہولیات کو اب نمایاں طور پر بہتر بنا دیا گیا ہے۔ وہاں اب تک تقریباً 900 نمونوں کی تفصیلی جانچ کی جا چکی ہے، جن میں سے لگ بھگ 260 افراد میں خطرناک ایبولا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب صوبے میں روزانہ 200 سے 300 ٹیسٹ کرنے کی جدید صلاحیت بھی حاصل کر لی گئی ہے جو کہ وبا کو روکنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔

وبا پر قابو پانے کے بنیادی اصول اور سرحدوں کی بندش پر تنقید عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ نے ہاتھوں کی باقاعدہ صفائی، درست معلومات کی فراہمی، متاثرہ افراد کے رابطوں کا سراغ لگانے (کانٹیکٹ ٹریسنگ)، بروقت تشخیص، مریضوں کی علیحدہ نگہداشت اور محفوظ تدفین جیسے اقدامات کو وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے انتہائی ضروری قرار دیا۔ انہوں نے ان پڑوسی ممالک سے بھی پرزور اپیل کی جنہوں نے کانگو کے ساتھ اپنی سرحدیں بند کر دی ہیں یا سخت سفری پابندیاں نافذ کر رکھی ہیں کہ وہ اپنے فیصلوں پر فوری نظرثانی کریں۔ ان کے مطابق ایسی پابندیاں نہ صرف بین الاقوامی امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ بنتی ہیں بلکہ ممالک کے مابین شفافیت اور باہمی اعتماد کو بھی متاثر کرتی ہیں، جو وبائی امراض کے خلاف جنگ میں کلیدی عناصر ہیں۔

غلط معلومات اور افواہوں کے خلاف انتباہ ڈاکٹر ٹیڈروس نے میڈیا اور عوام کو سخت خبردار کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر غلط معلومات، افواہیں اور گمراہ کن پروپیگنڈا اس وبا کے خلاف جنگ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے تمام معلومات صرف سائنسی شواہد، مستند اعداد و شمار اور طبی ماہرین کی رائے کی بنیاد پر ہی عوام تک پہنچائی جانی چاہئیں۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “یکجہتی ہی ہماری سب سے بڑی قوت ہے، اور مشترکہ عالمی کوششوں سے ایبولا کی اس وبا پر بھی جلد قابو پایا جا سکتا ہے۔”

اسلام آباد میں نئی توانائی پالیسی کا نفاذ؛ مارکیٹس، شاپنگ مالز اور شادی ہالز کے اوقات کار محدود کرنے کا فیصلہ

منصور احمد june 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں توانائی کے مؤثر استعمال اور وفاقی حکومت کی کفایت شعاری پالیسی کے تحت کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کار کو محدود کرنے کا ایک بڑا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ نوٹیفکیشن کے مطابق یکم جون 2026ء سے شہر بھر کی تمام چھوٹی بڑی دکانیں، تجارتی مارکیٹس اور شاپنگ مالز رات 8 بجے لازمی بند کرنے ہوں گے۔

اہم اور ہنگامی خدمات کے لیے استثنیٰ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، عوام کی سہولت کے لیے بعض انتہائی اہم اور ضروری خدمات کو اس وقت کی پابندی سے مکمل طور پر مستثنیٰ (آزاد) قرار دیا گیا ہے۔ شہر بھر میں قائم فارمیسیاں (میڈیکل اسٹورز)، ہسپتال، پیٹرول پمپس، سی این جی اسٹیشنز، دودھ اور ڈیری کی دکانیں، جمنازیم، کھیلوں کی دیگر سہولیات، انٹرنیشنل کال سینٹرز اور معلوماتی ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے شعبے سے وابستہ کمپنیاں معمول کے مطابق اپنے اوقات کار جاری رکھ سکیں گی اور ان پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوگی۔

ریسٹورنٹس، کریانہ اور سبزی فروشوں کے لیے رعایت ضلعی انتظامیہ نے ریسٹورنٹس، فوڈ آؤٹ لیٹس، تندوروں، کریانہ و جنرل اسٹورز، گوشت فروشوں، پھل اور سبزی کی دکانوں کو خصوصی رعایت دیتے ہوئے انہیں رات 10 بجے تک کاروبار جاری رکھنے کی اجازت دی ہے۔ اس کے علاوہ، شہریوں کی سہولت کے لیے ہوٹلوں سے کھانا ساتھ لے جانے (ٹیک اوے) اور گھروں تک ترسیل (ہوم ڈیلیوری) کی خدمات رات 10 بجے کے بعد بھی معمول کے مطابق جاری رکھی جا سکیں گی۔

شادی ہالز اور نجی تقریبات پر پابندی سرکاری نوٹیفکیشن میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ تمام شادی ہالز، مارکیز اور دیگر تقریباتی مقامات کو بھی رات 10 بجے ہر حال میں بند کیا جائے گا۔ انتظامیہ کے مطابق، یہ پابندی نہ صرف کمرشل ہالز بلکہ نجی مقامات یا گھروں کے باہر منعقد ہونے والی دیگر سماجی تقریبات پر بھی یکساں لاگو ہوگی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

حکومتی اقدام کا مقصد اور نفاذ کی تاریخ اسلام آباد انتظامیہ کے مطابق، ان نئے کاروباری اوقات کار کا بنیادی مقصد ملک میں توانائی کے غیر ضروری استعمال اور فضول خرچی میں واضح کمی لانا اور حکومتی سطح پر جاری کفایت شعاری کے اقدامات کو مؤثر بنانا ہے۔ یہ احکامات یکم جون 2026ء سے باقاعدہ طور پر نافذ العمل ہوں گے اور ضلعی انتظامیہ کے آئندہ پیداواری احکامات تک سختی سے برقرار رہیں گے۔

تمام دکانیں، تجارتی مارکیٹس اور شاپنگ مالز: رات 8 بجے تک
ریسٹورنٹس، تندور، کریانہ، گوشت اور پھل و سبزی فروش: رات 10 بجے تک
شادی ہالز، مارکیز اور نجی تقریباتی مقامات: رات 10 بجے تک
فارمیسیاں، ہسپتال، پیٹرول پمپ، کال سینٹرز اور آئی ٹی کمپنیاں: پابندی سے مکمل مستثنیٰ
حکام کا کہنا ہے کہ ان سخت لیکن ضروری اقدامات کی بدولت وفاقی دارالحکومت میں توانائی کے بہتر استعمال اور قومی وسائل کے تحفظ میں بڑی مدد ملے گی۔

او جی ڈی سی ایل کی بڑی کامیابی، تین برس میں تیل و گیس کے 19 نئے ذخائر دریافت

کاشف عباسی ,May 31 ,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء:

آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے ملک میں توانائی کے شدید بحران سے نمٹنے کے لیے ایک اور تاریخی اور بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ کمپنی نے گزشتہ تین برسوں (2023ء سے اب تک) کے دوران ملک بھر کے تین بڑے صوبوں سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تیل و گیس کے 19 نئے ذخائر دریافت کر لیے ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ دریافتیں پاکستان کی مجموعی توانائی ضروریات پوری کرنے، مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور قیمتی زرِ مبادلہ کی بچت میں انتہائی کلیدی کردار ادا کریں گی۔

اربوں روپے کی روزانہ بچت اور پیداواری صلاحیت سرکاری دستاویزات سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق، ان نئی دریافتوں سے مجموعی طور پر یومیہ تقریباً 17 ہزار 123 بیرل تیل اور 151 ملین معیاری مکعب فٹ گیس حاصل ہونے کی قوی توقع ہے، جس کے نتیجے میں درآمدی ایندھن کے متبادل کے طور پر قومی خزانے کو روزانہ تقریباً ایک ارب 20 کروڑ روپے تک کی خطیر بچت ممکن ہو سکے گی۔

تین سالہ کارکردگی کا تفصیلی جائزہ دستاویزات کے مطابق کمپنی کی سالانہ کارکردگی درج ذیل رہی ہے:مالی سال 2023-24: اس عرصے کے دوران ملک میں پانچ نئے ذخائر دریافت کیے گئے جن سے یومیہ 481 بیرل تیل اور 29.66 ملین معیاری مکعب فٹ گیس حاصل ہونے کی صلاحیت سامنے آئی۔مالی سال 2024-25: اگلے مالی سال میں مزید پانچ بڑی دریافتیں ہوئیں، جس سے ملکی پیداوار میں 947 بیرل یومیہ تیل اور 34.49 ملین معیاری مکعب فٹ یومیہ گیس کی اضافی صلاحیت کا اضافہ ہوا۔مالی سال 2025-26 (ابتدائی نو ماہ): رواں مالی سال کے دوران کمپنی نے زمین سے توانائی کے وسائل تلاش کرنے کی سرگرمیوں میں ریکارڈ تیزی لاتے ہوئے محض نو ماہ میں نو نئے ذخائر دریافت کیے، جن سے 15 ہزار 695 بیرل یومیہ تیل اور 86.95 ملین معیاری مکعب فٹ یومیہ گیس حاصل ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

‘باراغزئی ایکس-01′ کی سب سے نمایاں دریافت کمپنی کی حالیہ کامیابیوں میں خیبر پختونخوا کے علاقے میں ‘باراغزئی ایکس-01’ کی دریافت کو تزویراتی طور پر خاص اہمیت حاصل ہے، جہاں ابتدائی آزمائشی پیداوار کے دوران ہی تقریباً 15 ہزار بیرل یومیہ تیل اور 45.36 ملین معیاری مکعب فٹ یومیہ گیس کی ریکارڈ پیداواری صلاحیت سامنے آئی ہے۔

ذخائر کی تجدید اور ملکی وسائل کی مدت میں اضافہ او جی ڈی سی ایل نے اپنے زیرِ زمین محفوظ ذخائر کی تجدید کی شرح (ریزرو بدلنے کی شرح) میں بھی غیر معمولی بہتری ریکارڈ کی ہے۔ کمپنی کی ذخائر تجدید شرح مالی سال 2023-24 میں 56 فیصد تھی جو اگلے ہی سال بڑھ کر 167 فیصد کی تاریخی سطح تک پہنچ گئی، جبکہ رواں مالی سال کے ابتدائی نو ماہ میں بھی یہ شرح 153 فیصد پر مضبوطی سے برقرار رہی۔ ان شاندار کوششوں کے باعث 31 مارچ 2026ء تک کمپنی کے تیل و گیس ذخائر کی متوقع لائف لائن (مدت) 14 سال سے بڑھ کر اب 17 سال ہو گئی ہے، جس سے قومی توانائی وسائل کی پائیداری کو زبردست استحکام ملا ہے۔

نئے کنوؤں کی سسٹم میں شمولیت اور بحالی کے اقدامات کمپنی نے ان دریافت شدہ ذخائر کو فوری طور پر تجارتی بنیادوں پر ملکی استعمال میں لانے کے لیے 34 نئے کنوؤں اور فیلڈز کو قومی پیداواری نیٹ ورک کا حصہ بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف پرانی فیلڈز میں 65 سے زائد بڑے تکنیکی آپریشنز اور 295 سے زیادہ بحالی (Workover) کے اقدامات کے ذریعے پہلے سے جاری پیداوار میں یومیہ تقریباً 17 ہزار بیرل اضافی تیل اور 90 ملین معیاری مکعب فٹ اضافی گیس شامل کر کے ملکی سپلائی کو بہتر بنایا گیا ہے۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ او جی ڈی سی ایل کی یہ نئی دریافتیں نہ صرف ملکی توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنائیں گی بلکہ درآمدی بل میں واضح کمی، مقامی صنعتی سرگرمیوں کے فروغ اور ڈگمگاتی قومی معیشت کے طویل مدتی استحکام میں بھی اہم ترین سنگِ میل ثابت ہوں گی۔

جی پی آئی کے تحت کسانوں کی سہولت کاری، زرعی خود کفالت اور دیہی ترقی کی نئی راہیں ہموار

منصور احمد ,May 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء

گرین پاکستان انیشی ایٹو (جی پی آئی) کے تحت ملک بھر میں زرعی شعبے کی انقلابی ترقی، کسانوں کی خصوصی سہولت کاری اور جدید کاشتکاری کے فروغ کے لیے کیے گئے حالیہ اقدامات سامنے آئے ہیں۔ ان اقدامات کو ملک میں زرعی خود کفالت کے حصول اور دیہی معیشت کے پائیدار استحکام کے لیے ایک تاریخی اور انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

جدید ٹیکنالوجی اور سمارٹ فارمنگ کا آغاز ملک کے زرعی شعبے میں جدید ترین ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل نگرانی، سمارٹ فارمنگ اور جدید تحقیقی نظام متعارف کرانے سے روایتی کاشتکاروں کو اب بہتر رہنمائی اور عالمی معیار کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ زرعی ماہرین کے مطابق، اس جدید زرعی معلوماتی نظام، سیٹلائٹ نگرانی اور ٹیکنالوجی پر مبنی بروقت زرعی مشاورت کے ذریعے فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار اور کاشتکاروں کی کام کرنے کی استعداد میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔

بنجر زمینوں کی بحالی اور معاشی منصوبے گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت ملک بھر کی لاکھوں ایکڑ بنجر زمینوں کی بحالی، زرعی شعبے میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور زرعی مصنوعات کے برآمدی مواقع میں اضافے کے لیے مختلف بڑے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ ان تمام اقدامات کا بنیادی مقصد پاکستان کے زرعی شعبے کو جدید ترین خطوط پر استوار کرنا اور دور دراز کے دیہی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کو بڑھا کر غربت کا خاتمہ کرنا ہے۔

گرین ایگری مالز کا قیام اور کسانوں کا اعتماد ملک بھر کے کاشتکاروں نے حکومت کی جانب سے ‘گرین ایگری مالز’ کے قیام کو بے حد خوش آئند اور کسان دوست اقدام قرار دیا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ معیاری بیج، کھاد، زرعی ادویات اور جدید ترین زرعی مشینری اب ایک ہی چھت تلے نسبتاً انتہائی آسان اور سستے داموں دستیاب ہو رہی ہے، جس سے ان کے قیمتی وقت اور سفری اخراجات دونوں میں واضح کمی آئی ہے۔

پنجگور سمیت دور دراز علاقوں میں ترقی مقامی کسانوں کے مطابق، ان جدید زرعی منصوبوں کی بدولت بلوچستان کے ضلع پنجگور سمیت دیگر دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں بنیادی زرعی سہولیات، روزگار کے نئے مواقع اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ پنجگور جیسے علاقوں میں اب زرخیز زمینوں سے بہتر پیداوار حاصل کرنے کے امکانات روشن ہو چکے ہیں، جبکہ بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لیے شمسی توانائی (سولر سسٹم) اور جدید آبپاشی (ڈریپ اریگیشن) کے منصوبے بھی کسانوں کے لیے لائف لائن ثابت ہو رہے ہیں۔

خوراک کی فراہمی اور برآمدات میں اضافہ ماہرینِ زراعت کا کہنا ہے کہ اگر ان جدید زرعی اصلاحات، ٹیکنالوجی کے وسیع استعمال اور کسان دوست پالیسیوں کا تسلسل اسی طرح برقرار رہا، تو پاکستان بہت جلد نہ صرف اپنی زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ کرنے میں کامیاب ہو جائے گا، بلکہ خوراک کے شعبے میں مکمل خود کفالت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ قیمتی زرِ مبادلہ کمانے کے لیے برآمدات میں بھی خاطر خواہ بہتری لا سکے گا۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں مدارس اور تعلیمی اداروں پر چھاپے، مذہبی آزادیوں سے متعلق خدشات میں اضافہ

روزینہ اسماعیل.May 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء

مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلم تعلیمی اور مذہبی اداروں کے خلاف قابض بھارتی انتظامیہ کی حالیہ متعصبانہ کارروائیوں پر عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مختلف بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق، بھارتی تحقیقاتی ادارے نے سرینگر اور شوپیاں کے مختلف حساس علاقوں میں کریک ڈاؤن کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر چھاپہ مار کارروائیاں کی ہیں، جن میں کئی نامور دینی مدارس اور مسلم تعلیمی ادارے بھی شامل ہیں۔

شوپیاں اور سرینگر میں کریک ڈاؤن اور تلاشی رپورٹس کے مطابق، بھارتی فورسز اور تحقیقاتی حکام نے شوپیاں میں واقع مشہور دینی ادارے ‘جامعہ سراج العلوم’ سمیت متعدد اہم مقامات کا گھیراؤ کر کے وہاں تفصیلی تلاشی لی، جبکہ سرینگر کے لال بازار کے علاقے میں بھی ایک معروف تعلیمی ادارے میں گھس کر زبردستی تلاشی کی کارروائی کی گئی۔ ان کارروائیوں کے دوران اداروں کے ریکارڈز کو قبضے میں لینے کے ساتھ ساتھ مختلف سماجی اور مذہبی شخصیات کی رہائش گاہوں پر بھی چھاپے مارے گئے اور تفتیشی حربے استعمال کیے گئے۔

مذہبی آزادی اور شہری حقوق کی پامالی کشمیر کے مقامی حلقوں، حریت رہنماؤں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ ان دانستہ کارروائیوں نے خطے میں مسلمانوں کی مذہبی آزادی، تعلیمی سرگرمیوں اور بنیادی شہری حقوق کی بقا کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔ ان کے مطابق، دینی مدارس اور تعلیمی اداروں کے خلاف بھارتی حکومت کے ان جارحانہ اقدامات سے کشمیری عوام میں شدید غم و غصہ اور گہری تشویش پائی جا رہی ہے، کیونکہ اسے کشمیر کی مسلم شناخت کو مٹانے کی کوشش دیکھا جا رہا ہے۔

سیاسی صورتحال اور عوامی بے چینی میں اضافہ دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض فوج کے سخت محاصرے کے باعث سیاسی اور سماجی صورتحال پہلے ہی انتہائی حساس اور کشیدہ ہے۔ ایسے سفاکانہ ماحول میں معصوم طلبہ کے تعلیمی اور مذہبی اداروں کو نشانہ بنانا وادی میں مزید شدید بے چینی اور مہم جوئی کا سبب بن سکتا ہے۔ ماہرین کا مؤقف ہے کہ بنیادی انسانی حقوق، اپنے عقیدے کے مطابق مذہبی آزادی اور بغیر کسی خوف کے تعلیم تک رسائی ہر مہذب معاشرے کے بنیادی اصول ہیں جن کا ہر حال میں تحفظ ضروری ہے۔

عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل حقوقِ انسانی کے ماہرین نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر پرزور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی ابتر ہوتی ہوئی موجودہ صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور وہاں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، شہری آزادیوں پر قدغن اور مسلم تعلیمی سرگرمیوں کے تحفظ کے لیے اپنا مؤثر ترین سفارتی کردار ادا کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن، استحکام اور عوامی اعتماد کا فروغ تب تک ممکن نہیں جب تک تمام اقدامات قانون، شفافیت اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کے مطابق نہ ہوں۔

افغان طالبان حکومت پر عالمی دباؤ میں اضافہ، انسانی حقوق کی 83 تنظیموں کا یورپی یونین سے سخت مؤقف اپنانے کا مطالبہ

محمود احمد May31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء

افغانستان میں بنیادی انسانی حقوق، خواتین کی آزادیوں اور تمام گروہوں کی سیاسی شمولیت کے حوالے سے بڑھتے ہوئے شدید خدشات کے باعث افغان طالبان حکومت کو ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر کڑی تنقید اور سخت سفارتی دباؤ کا سامنا ہے۔ اس سلسلے میں عالمی انسانی حقوق کی درجنوں تنظیموں نے یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ کابل کی عبوری حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کے سرکاری، سفارتی یا سیاسی روابط قائم کرنے میں انتہائی احتیاط سے کام لے۔

یورپی یونین سے مطالبہ اور دورۂ برسلز پر تشویش بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، بین الاقوامی فیڈریشن برائے انسانی حقوق سمیت دنیا بھر کی 83 معتبر عالمی تنظیموں نے آئندہ ماہ جون میں طالبان وفد کے ممکنہ دورۂ برسلز پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان تنظیموں نے یورپی یونین کی قیادت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ طالبان کے ساتھ کسی بھی قسم کے سیاسی یا سفارتی روابط کو افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال میں عملی بہتری لانے سے مشروط کیا جائے۔

طالبان حکومت کی نمائندگی پر عالمی تنظیموں کے سوالات ان تنظیموں نے اپنے مشترکہ اعلامیے اور مؤقف میں موقف اختیار کیا ہے کہ طالبان کسی عوامی، جمہوری یا نمائندہ انتخابی عمل کے ذریعے اقتدار میں نہیں آئے، اس لیے انہیں بین الاقوامی قوانین کے تحت افغانستان کے تمام عوام کا حقیقی نمائندہ تصور نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی جانب سے افغان خواتین، نوجوانوں، اقلیتوں اور سول سوسائٹی کی دبائی گئی آوازوں کو کسی بھی قیمت پر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

خواتین کے حقوق اور پابندیوں پر عالمی برادری کی تشویش انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں نے اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے کہ افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم، خواتین کے روزگار اور ان کی سماجی آزادیوں پر عائد سخت پابندیوں کے باعث پوری عالمی برادری میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ تنظیموں کے مطابق، طالبان حکومت کو بین الاقوامی سطح پر سفارتی قبولیت اور تسلیم کیے جانے کے لیے بنیادی انسانی حقوق کی بحالی اور عالمی معاہدوں کے حوالے سے فوری اور عملی اقدامات کر کے دکھانا ہوں گے۔

انسانی امداد اور سفارت کاری کا چیلنج بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کی موجودہ نازک صورتحال میں عالمی برادری کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج افغان عوام کے لیے انسانی امداد کی فراہمی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے مطالبے کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے۔ ماہرین کے مطابق، افغان عوام کی معاشی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنیادی اور غذائی امداد کا تعاون تو جاری رہنا چاہیے، تاہم سیاسی اور سفارتی سطح پر کسی بھی قسم کی پیش رفت کو بنیادی حقوق کی فراہمی اور ایک جامع سیاسی عمل کے آغاز سے مشروط رکھنا خطے کے مستقبل کے لیے بے حد ضروری ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، خواتین کے حقوق، اعلیٰ تعلیم تک رسائی، حکومت میں تمام طبقات کی سیاسی شمولیت اور بین الاقوامی وعدوں پر عملدرآمد جیسے حساس معاملات مستقبل میں بھی طالبان حکومت اور عالمی برادری کے باہمی تعلقات کا رخ طے کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے رہیں گے۔

بھارتی آرمی چیف کا ’’سندور 2.0‘‘ بیان تنقید کی زد میں، ماہرین نے اسے داخلی بحرانوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دے دیا

منصور احمد ,May 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء

دفاعی اور سیاسی ماہرین نے بھارتی آرمی چیف کے حالیہ ’’سندور 2.0‘‘ سے متعلق بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے عسکری ضرورت کے بجائے بھارت کے اندر بڑھتے ہوئے سنگین سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل سے عوامی توجہ ہٹانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنے داخلی بحرانوں کو چھپانے کے لیے پاکستان کے خلاف من گھڑت بیانیہ تشکیل دینا بھارتی قیادت کی ایک پرانی حکمتِ عملی رہی ہے، جسے داخلی دباؤ بڑھنے پر ہمیشہ دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے۔

بدلتی علاقائی صورتحال اور سفارتی محاذ تجزیہ کاروں کے مطابق، حالیہ علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے مؤثر سفارتی کردار کے بعد بھارت کو متعدد عالمی اور علاقائی محاذوں پر سخت سفارتی مشکلات کا سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئی دہلی کی قیادت بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر ایک بار پھر روایتی پاکستان مخالف بیانیے کو فروغ دینے کی کوششوں میں مصروف ہو گئی ہے تاکہ اپنی ناکامیاں چھپائی جا سکیں۔

جدید عسکری چیلنجز اور بھارتی فوج کا اعتراف ماہرین نے اس اہم نکتے کی نشاندہی کی کہ بھارتی آرمی چیف نے اپنے خطاب میں خود جدید جنگی ماحول کے چیلنجز کے حوالے سے اعتراف کیا ہے کہ موجودہ دور میں جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے فوجی نقل و حرکت، آپریشنل سرگرمیاں اور عسکری تیاریوں کو مکمل طور پر خفیہ رکھنا اب کسی کے لیے ممکن نہیں رہا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، بھارتی آرمی چیف کا یہ اعتراف دراصل خود بھارتی فوج کو درپیش عملی اور تزویراتی چیلنجز اور ان کی کمزوریوں کی واضح عکاسی کرتا ہے۔

عسکری معاملات کا سیاسی استعمال دفاعی ماہرین کے مطابق ’’سندور 2.0‘‘ جیسے مبہم اور فرضی تصورات زیادہ تر سیاسی مقاصد حاصل کرنے اور عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے استعمال ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی مبینہ فوجی کارروائی کو ایک سال گزرنے کے بعد بھی نئی اصطلاحات اور جذباتی بیانیوں کے ذریعے زندہ رکھنے کی ضرورت پیش آ رہی ہے، تو یہ اس بات کا کھلا اشارہ ہے کہ اس کارروائی کے مطلوبہ سیاسی اور تزویراتی اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکے اور وہ ناکام ثابت ہوئی ہے۔

داخلی مسائل اور تصادم کی پالیسی تجزیہ نگاروں نے کھل کر کہا کہ بھارت میں اس وقت بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی، شدید معاشی دباؤ، داخلی نسلی تنازعات اور حکومتی پالیسیوں پر اٹھنے والی شدید تنقید کے ماحول میں ایسے بیانات کا سامنے آنا محض کوئی اتفاق نہیں ہے۔ ان کے مطابق ایسے جارحانہ بیانیوں کا واحد مقصد عوامی غیظ و غضب کا رخ داخلی مسائل سے ہٹا کر بیرونی خطرات کی جانب منتقل کرنا ہوتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ فوجی معاملات کو سیاسی بیانیے کا حصہ بنانا پیشہ ورانہ اصولوں کے خلاف ہے۔ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے تصادم کے بجائے سفارت کاری، مکالمے اور باہمی احترام کی پالیسی ہی سب سے ناگزیر راستہ ہے۔

اسلام آباد میں المناک ٹریفک حادثہ، اٹھال چوک کے قریب 4 افراد جاں بحق، 2 شدید زخمی

منصور احمد ,May 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اتوار کی علی الصبح ایک انتہائی افسوسناک اور دلخراش ٹریفک حادثہ پیش آیا ہے، جس کے نتیجے میں چار افراد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے جبکہ دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق یہ المناک حادثہ بہارہ کہو کے مصروف علاقے اٹھال چوک کے قریب اس وقت پیش آیا جب تیز رفتاری کے باعث دو کاریں آپس میں بے قابو ہو کر ایک موٹر سائیکل سے ٹکرا گئیں۔

تصادم کی شدت اور امدادی کارروائیاں مقامی پولیس اور امدادی ٹیموں (ریسکیو حکام) کے مطابق تصادم اس قدر شدید تھا کہ دونوں کاریں اور موٹر سائیکل بری طرح تباہ ہو گئے اور چار افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی نفری اور ریسکیو کی گاڑیاں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا۔ ٹیموں نے گاڑیوں کو کاٹ کر لاشوں اور زخمیوں کو نکالا اور فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کیا۔

جاں بحق افراد کی شناخت اور زخمیوں کی حالت ہسپتال انتظامیہ اور پولیس حکام نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والے چار افراد میں سے دو کی شناخت فضل اور عامر کے ناموں سے ہو چکی ہے، جبکہ باقی دو افراد کی شناخت کے لیے بائیومیٹرک اور دیگر ذرائع سے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب، حادثے میں زخمی ہونے والے دو افراد کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جنہیں ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ (آئی سی یو) میں منتقل کر کے ہنگامی بنیادوں پر ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

حادثے کی وجوہات اور پولیس تحقیقات بہارہ کہو پولیس کے مطابق ابتدائی معلومات اور شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ حادثہ علی الصبح سڑک خالی ہونے کے باعث تیز رفتاری اور غفلت کی وجہ سے پیش آیا، تاہم حادثے کی اصل اور حتمی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تفصیلی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے گاڑیوں کے ملبے کو ہٹا کر ٹریفک کے لیے راستہ کھول دیا ہے اور مختلف پہلوؤں سے واقعے کی رپورٹ مرتب کی جا رہی ہے۔

شہریوں کا ٹریفک قوانین پر سختی کا مطالبہ اسلام آباد کے مقامی شہریوں اور سماجی حلقوں نے اس المناک حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔ شہریوں نے وفاقی ترقیاتی ادارے اور اسلام آباد ٹریفک پولیس سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ شاہراہوں، بالخصوص بہارہ کہو اور اٹھال چوک کے اطراف تیز رفتاری کو روکنے کے لیے اسپیڈ کیمرے لگائے جائیں اور ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ آئندہ ایسے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

گلگت بلتستان انتخابات: سکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات، پنجاب پولیس کے 5 ہزار اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ

کاشف عباسی ,May 31 ,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز۔ 3١ مئی 2026ء)

گلگت بلتستان میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات کے پُرامن، شفاف اور محفوظ انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے سکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے پنجاب پولیس کے 5 ہزار اہلکاروں پر مشتمل خصوصی نفری گلگت بلتستان بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق انتخابات کے دوران حساس پولنگ اسٹیشنوں، اہم سرکاری تنصیبات اور عوامی اجتماعات کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے پنجاب پولیس کے مختلف شعبوں سے اہلکاروں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اس نفری میں رائٹ مینجمنٹ فورس، پنجاب ہائی وے پٹرول اور پنجاب کانسٹیبلری کے تربیت یافتہ جوان شامل ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق رائٹ مینجمنٹ فورس کے ایک ہزار پانچ سو اہلکار انتخابی سکیورٹی پر مامور ہوں گے جبکہ پنجاب ہائی وے پٹرول کے ایک ہزار نو سو اٹھاون جوان بھی ڈیوٹی سرانجام دیں گے۔ اسی طرح پنجاب کانسٹیبلری کے ایک ہزار دو سو بیالیس اہلکار سکیورٹی پلان کا حصہ ہوں گے، جبکہ لاہور سے تین سو پولیس اہلکار خصوصی طور پر گلگت بلتستان روانہ کیے جائیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل کے دوران امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے، حساس علاقوں کی نگرانی اور ہنگامی حالات میں فوری ردعمل کے لیے جامع سکیورٹی حکمت عملی مرتب کی گئی ہے۔ پولیس کی اضافی نفری مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر فرائض انجام دے گی تاکہ ووٹرز کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔

اس سلسلے میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آپریشنز کی جانب سے سینئر سپرنٹنڈنٹ موٹر ٹرانسپورٹ کو باقاعدہ مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے، جس میں اہلکاروں کی بروقت اور محفوظ منتقلی کے لیے مناسب ٹرانسپورٹ کے انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

حکام کے مطابق تمام اضلاع سے طلب کی گئی نفری کی تفصیلات اور سفری انتظامات کی رپورٹ مرکزی پولیس دفتر کو ارسال کی جا رہی ہے تاکہ سکیورٹی منصوبے پر مؤثر نگرانی اور بروقت عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات کے دوران امن، شفافیت اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے، جس کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔

حج 2026 کی شاندار کامیابی، پاکستان کو بین الاقوامی ’’لبیتم‘‘ ایوارڈ سمیت 4 عالمی اعزازات حاصل

روزینہ اسماعیل.May 31,2026

مکہ مکرمہ (نیوز اینڈ نیوز) 31 مئی 2026ء

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے حج 2026 کے کامیاب انعقاد پر پاکستان کو مسلسل دوسرے سال بین الاقوامی ’’لبیتم امتیازی ایوارڈ‘‘ حاصل ہونے اور نجی حج سکیم کے تحت مزید تین عالمی اعزازات ملنے کا اعلان کیا ہے۔ مکہ مکرمہ میں پاکستان حج مشن کے زیر اہتمام بعد از حج پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہترین انتظامات، جدید سہولیات اور مؤثر نگرانی کے باعث رواں سال شکایات کا تناسب ایک فیصد سے بھی کم رہا، جو کہ ایک تاریخی ریکارڈ ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حج 2026 ہر لحاظ سے کامیاب رہا اور پاکستانی عازمین نے اپنے تمام مناسک بخیر و عافیت ادا کیے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ کامیابی حکومتِ پاکستان، وزارتِ مذہبی امور، پاکستان حج مشن اور سعودی حکام کے باہمی گہرے تعاون کا نتیجہ ہے۔

وزیراعظم کی خصوصی ہدایات اور سفری سہولیات سردار محمد یوسف نے بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایات کے تحت عازمینِ حج کو رہائش، خوراک، ٹرانسپورٹ اور طبی سہولیات کی بہترین فراہمی یقینی بنائی گئی، جس کے نتیجے میں پاکستان کی کارکردگی کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک لاکھ اسی ہزار عازمین کے حج کوٹے کے ساتھ پاکستان دنیا کا دوسرا بڑا حج آپریشن چلانے والا ملک ہے۔ رواں سال ’’روڈ ٹو مکہ‘‘ منصوبے کے دائرہ کار میں توسیع کے بعد تقریباً 80 فیصد پاکستانی عازمین نے اس جدید سہولت سے فائدہ اٹھایا، جس سے سفری مراحل انتہائی آسان اور تیز تر ہو گئے۔

بیمار اور معمر عازمین کے لیے خصوصی اقدامات وفاقی وزیر نے حج طبی مشن اور سعودی جرمن ہسپتال کی خدمات کو بھرپور طریقے سے سراہتے ہوئے بتایا کہ خصوصی انتظامات کے ذریعے 146 شدید بیمار، معمر اور کمزور عازمین کو وقوفِ عرفات، طوافِ زیارت اور دیگر اہم مناسک کی ادائیگی میں سرکاری سطح پر مدد فراہم کی گئی، جو پاکستان حج مشن کی بڑی کامیابی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بعض عناصر کی جانب سے غلط معلومات اور منفی پروپیگنڈا پھیلانے کی کوشش کی گئی، تاہم قومی ذرائع ابلاغ نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حقائق عوام تک پہنچائے۔ انہوں نے زور دیا کہ حج ایک مقدس فریضہ اور قومی ذمہ داری ہے، اسے سیاسی مقاصد یا پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

حج 2027 کی تیاریاں اور نئی پالیسی کا آغاز سردار محمد یوسف نے مستقبل کی حکمت عملی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ سعودی وزارتِ حج کی نئی پالیسی کے مطابق حج 2027 کی تیاریوں کا باقاعدہ آغاز ابھی سے کر دیا گیا ہے۔ آئندہ حج پالیسی رواں سال جون میں وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کی جائے گی جبکہ ’’پہلے آؤ، پہلے پاؤ‘‘ کی پالیسی کو برقرار رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ آئندہ دو ماہ کے اندر حج 2027 کی بکنگ مکمل کر لی جائے گی، اس لیے حج کے خواہشمند افراد فوری طور پر اپنے پاسپورٹ اور دیگر سفری دستاویزات تیار کر لیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حج 2027 میں انتظامات کو ڈیجیٹل اور جدید بنانے کے لیے کئی نئے اقدامات زیر غور ہیں، جن میں عازمین کی سخت طبی جانچ، گروپ ناظمین کی پیشگی تربیت، تربیتی پروگراموں کو ڈویژنل سطح تک وسعت دینا اور مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تک تیز رفتار ٹرین سروس کے استعمال پر پیش رفت شامل ہے۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، سعودی وزیر حج ڈاکٹر توفیق بن فوزان الربیعہ اور سعودی سفیر نواف سعید المالکی کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور قوم سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کی ترقی، استحکام، خوشحالی اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعائیں کریں۔