فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایران کا اہم دورہ مکمل، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی کوششوں میں پیش رفت

منصور احمد ,May 24,2026

راولپنڈی/نیوز اینڈ نیوز

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران کا مختصر مگر انتہائی اہم اور نتیجہ خیز سرکاری دورہ مکمل کر لیا، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں۔ یہ دورہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور جاری سفارتی ثالثی کی کوششوں کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی، جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والے چیلنجز اور امن کے قیام کیلئے جاری سفارتی عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ملاقاتوں میں اس بات پر زور دیا گیا کہ خطے میں پائیدار امن، سفارتی رابطوں، مذاکرات اور باہمی اعتماد کے فروغ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ فریقین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ کسی بھی نئی محاذ آرائی سے پورے خطے کے امن و استحکام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اس لیے تمام تنازعات کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی قیادت سے ہونے والی بات چیت مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئی، جس نے جاری ثالثی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ہونے والی مشاورت کو انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق مذاکرات اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے، آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی برقرار رکھنے اور ایران و امریکہ کے درمیان کسی ممکنہ تصادم کو روکنے کیلئے سرگرم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان مختلف علاقائی اور عالمی فریقین سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

ایرانی قیادت نے بھی پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے خطے میں امن کے فروغ کیلئے اسلام آباد کے کردار کو اہم قرار دیا۔ ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، سرحدی تعاون، علاقائی سلامتی، اقتصادی روابط اور مشترکہ مفادات کے دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ دورہ نہ صرف پاکستان اور ایران کے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا بلکہ خطے میں جاری سفارتی کوششوں کو بھی نئی سمت فراہم کرے گا۔

ایک روز میں 274 کوہ پیماؤں نے ماؤنٹ ایورسٹ سر کر کے نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا

کٹھمنڈو/ نیوز اینڈ نیوز
نیپال میں موسم سازگار ہوتے ہی دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ پر غیر معمولی سرگرمی دیکھنے میں آئی، جہاں صرف ایک ہی روز میں 274 کوہ پیماؤں نے کامیابی کے ساتھ چوٹی سر کر کے عالمی ریکارڈ قائم کر دیا۔ یہ نیا ریکارڈ اس سے قبل 2019 میں قائم ہونے والے ریکارڈ سے بھی آگے نکل گیا، جب ایک دن میں 223 کوہ پیما ایورسٹ کی چوٹی تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

نیپالی حکام اور ایکسپیڈیشن کمپنیوں کے مطابق رواں سیزن میں حکومتِ نیپال کی جانب سے تقریباً 500 کلائمبنگ پرمٹ جاری کیے گئے، جس کے باعث ایورسٹ پر دنیا بھر سے آنے والے کوہ پیماؤں کا بڑا رش دیکھنے میں آیا۔ بلند ترین حصوں، خصوصاً 8 ہزار میٹر سے اوپر کے خطرناک “ڈیتھ زون” میں بھی کوہ پیماؤں کی طویل قطاریں دیکھی گئیں، جہاں آکسیجن کی شدید کمی کے باعث ہر قدم انتہائی خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم کی مختصر سازگار ونڈو کے دوران زیادہ سے زیادہ ٹیمیں چوٹی سر کرنے کی کوشش کرتی ہیں، اسی وجہ سے ایک ہی دن میں اتنی بڑی تعداد میں کوہ پیماؤں نے ایورسٹ کی جانب پیش قدمی کی۔ اگرچہ یہ ریکارڈ کوہ پیمائی کی تاریخ میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین نے بڑھتے ہوئے رش، ماحولیاتی دباؤ اور حفاظتی خدشات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

رواں سیزن کے دوران کئی انفرادی ریکارڈز بھی قائم ہوئے۔ معروف نیپالی شیرپا گائیڈ کیمی ریتا شیرپا نے 32ویں بار ماؤنٹ ایورسٹ سر کر کے اپنا ہی عالمی ریکارڈ مزید بہتر بنا لیا۔ انہیں دنیا میں سب سے زیادہ مرتبہ ایورسٹ سر کرنے والا کوہ پیما سمجھا جاتا ہے، اور ان کی کامیابی کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔

اسی طرح 52 سالہ لکھپا شیرپا نے 11ویں مرتبہ ایورسٹ سر کر کے خواتین کے زمرے میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ ان کی کامیابی کو خواتین کوہ پیماؤں کے لیے ایک بڑی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب روس سے تعلق رکھنے والے دونوں ٹانگوں سے محروم کوہ پیما رستم نبیئیف نے بھی غیر معمولی جرات اور عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف ہاتھوں کے سہارے ماؤنٹ ایورسٹ سر کر لیا۔ ان کی یہ کامیابی دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بن گئی ہے اور سوشل میڈیا پر لاکھوں افراد ان کی ہمت کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔

نیپال کی سیاحت کی صنعت کے لیے ایورسٹ سیزن انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ہر سال ہزاروں غیر ملکی سیاح اور کوہ پیما یہاں آتے ہیں، جس سے ملکی معیشت کو کروڑوں ڈالر کا فائدہ ہوتا ہے۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث مستقبل میں حفاظتی اقدامات کو مزید سخت بنانے کی ضرورت ہوگی تاکہ انسانی جانوں کو لاحق خطرات کم کیے جا سکیں۔

ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے 2 بھارتی کوہ پیما واپسی پر جان کی بازی ہار گئے

محمود احمد May23,2026

کٹھمنڈو/ نیوز اینڈ نیوز
دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے دو بھارتی کوہ پیما واپسی کے دوران ہلاک ہو گئے، جبکہ رواں سیزن میں ایورسٹ پر بڑھتی سرگرمیوں کے باعث کوہ پیماؤں کی حفاظت سے متعلق خدشات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔

نیپالی حکام کے مطابق بھارتی کوہ پیما ارون تیواری اور سندیپ آرے نے کامیابی کے ساتھ ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی سر کی، تاہم واپسی کے سفر میں شدید تھکن، خراب موسمی حالات اور جسمانی کمزوری کے باعث دونوں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

ایکسپیڈیشن آپریٹرز ایسوسی ایشن نیپال کے سیکریٹری جنرل رشی بھنڈاری کے مطابق سندیپ آرے کو “بالکونی” کے مقام سے “ساؤتھ کول” تک منتقل کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن وہ راستے میں دم توڑ گئے۔ دوسری جانب ارون تیواری “ہلیری اسٹیپ” کے قریب شدید جسمانی تھکن کا شکار ہوئے، جہاں موجود چار شیرپا گائیڈز نے انہیں بچانے کی بھرپور کوشش کی، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔

ماہرین کے مطابق ماؤنٹ ایورسٹ پر واپسی کا مرحلہ سب سے زیادہ خطرناک تصور کیا جاتا ہے کیونکہ چوٹی سر کرنے کے بعد آکسیجن کی کمی، سخت موسم اور جسمانی توانائی ختم ہونے کے باعث حادثات کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔

نیپال کی سیاحتی اتھارٹی کے مطابق رواں سال ایورسٹ سر کرنے کے لیے غیر معمولی تعداد میں اجازت نامے جاری کیے گئے ہیں۔ صرف ایک روز میں ریکارڈ 274 کوہ پیما دنیا کی بلند ترین چوٹی تک پہنچنے میں کامیاب رہے، جبکہ مجموعی طور پر اس سال تقریباً 500 پرمٹ جاری کیے گئے، جو 1953 کے بعد بلند ترین تعداد قرار دی جا رہی ہے۔

کوہ پیمائی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایورسٹ پر بڑھتی ہوئی رش، محدود موسمی وقت اور بلند مقامات پر انسانی دباؤ مستقبل میں مزید خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔ انہوں نے نیپالی حکام پر زور دیا ہے کہ کوہ پیماؤں کی تعداد، حفاظتی اقدامات اور ریسکیو سہولیات کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ انسانی جانوں کے ضیاع سے بچا جا سکے۔

ایران سے معاہدے یا دوبارہ جنگ؟ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار تک فیصلہ کرنے کا عندیہ دے دیا

محمود احمد May23,2026

واشنگٹن / نیوز اینڈ نیوز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے امکانات “ففٹی ففٹی” ہیں اور آئندہ چند روز میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ سفارتی راستہ اختیار کیا جائے یا دوبارہ سخت فوجی کارروائی کی جانب بڑھا جائے۔

امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ایک انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور وہ اپنی ٹیم کے ساتھ مشاورت کے بعد اتوار تک اہم فیصلہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں دو ہی امکانات موجود ہیں، یا ایک مضبوط اور مؤثر معاہدہ طے پا جائے گا یا پھر خطے میں شدید کشیدگی اور ممکنہ بمباری کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ صرف ایسے معاہدے کو قبول کرے گا جس میں ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام اور ذخائر سے متعلق تمام معاملات مکمل طور پر طے کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نہیں ہوگا جس سے ایران کو مستقبل میں جوہری صلاحیت بڑھانے کا موقع ملے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی مذاکراتی ٹیم اور قریبی مشیروں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں تاکہ ایران کی حالیہ تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق امریکہ اس وقت سفارتی حل کو ترجیح دے رہا ہے، تاہم تمام آپشنز بدستور میز پر موجود ہیں۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کی عسکری صلاحیت پہلے کے مقابلے میں کمزور ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کی گئی بعض پوسٹس بھی عالمی توجہ کا مرکز بن گئیں۔ صدر ٹرمپ نے امریکی پرچم کے رنگوں سے مزین ایران کا ایک نقشہ شیئر کیا، جس پر “یونائیٹڈ اسٹیٹس آف مڈل ایسٹ” کا جملہ تحریر تھا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس پوسٹ کو خطے میں جاری سفارتی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

اسی دوران ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے عالمی سطح پر قیاس آرائیاں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ خلیجی ممالک، یورپی سفارتی حلقے اور کئی بین الاقوامی طاقتیں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ آبنائے ہرمز اور مشرقِ وسطیٰ میں کسی بڑے فوجی تصادم سے بچا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے چند روز امریکہ اور ایران تعلقات کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو خطے میں ایک نئی کشیدگی جنم لینے کا خدشہ موجود ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

پاکستانی ثالثی کوششوں پر قطر اور امریکہ میں اہم مشاورت، امیرِ قطر اور صدر ٹرمپ کا خطے میں کشیدگی کم کرنے پر زور

محمود احمد May23,2026

دوحہ / نیوز اینڈ نیوز

دوحہ: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی تناؤ اور خلیجی خطے کی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، عالمی تجارتی راستوں کے تحفظ اور پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی و ثالثی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

قطری وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کو کسی بڑے تصادم سے بچانے، سفارتی رابطوں کو مؤثر بنانے اور خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر پاکستان کی قیادت میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری بیک ڈور سفارت کاری اور اعتماد سازی کی کوششوں کو بھی خاص اہمیت دی گئی۔

ذرائع کے مطابق امیرِ قطر اور امریکی صدر نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ حالات میں جنگ یا عسکری محاذ آرائی کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں، اس لیے مسائل کا حل مذاکرات، سفارت کاری اور مسلسل رابطوں کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ دونوں رہنماؤں نے اس امر پر زور دیا کہ خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان سمیت دیگر دوست ممالک کے کردار کو مزید فعال اور مؤثر بنایا جائے۔

ٹیلیفونک گفتگو میں ایران اور امریکہ کے درمیان پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خلیجی سمندری راستوں کی سیکیورٹی پر بھی تفصیلی مشاورت کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ عالمی تجارت، تیل و گیس کی ترسیل اور بین الاقوامی بحری سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے ضروری ہے کہ خطے میں استحکام برقرار رکھا جائے اور کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی سے گریز کیا جائے۔

امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے اس موقع پر کہا کہ قطر ہمیشہ سے تنازعات کے سیاسی اور پرامن حل پر یقین رکھتا آیا ہے اور موجودہ صورتحال میں بھی دوحہ خطے کے امن کے لیے ہر ممکن سفارتی کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد سازی کی کوششوں کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے کے استحکام کے لیے تمام ذمہ دار ممالک کو مشترکہ حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔

اعلامیے کے مطابق گفتگو میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ آبنائے ہرمز سمیت تمام اہم بحری راستوں پر تجارتی اور غیر فوجی جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنایا جائے تاکہ عالمی معیشت متاثر نہ ہو۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تناؤ کے باعث قطر، پاکستان، چین اور دیگر علاقائی ممالک مسلسل سفارتی رابطوں میں مصروف ہیں تاکہ کسی ممکنہ بحران کو روکنے کے لیے قابلِ عمل راستہ نکالا جا سکے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کی ایران اور دیگر خلیجی ممالک سے ملاقاتوں کو بھی اسی سفارتی کوشش کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

امیرِ قطر اور صدر ٹرمپ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خطے میں پائیدار امن، اقتصادی استحکام اور عالمی تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھی جائیں گی اور تمام تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی حمایت کی جائے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف چین پہنچ گئے، ہانگژو آمد پر پرتپاک استقبال، اہم ملاقاتوں اور اقتصادی مصروفیات کا آغاز

کاشف عباسی ,May 23 ,2026

ہانگژو / نیوز اینڈ نیوز

وزیراعظم شہباز شریف اپنے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ چین کے شہر ہانگژو پہنچ گئے، جہاں ژجیانگ صوبے کی اعلیٰ قیادت اور دونوں ممالک کے سفارتی حکام نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ وزیراعظم کے دورۂ چین کو پاکستان اور چین کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری، اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

شیاؤ شین ائیرپورٹ پر وزیراعظم شہباز شریف کا استقبال ژجیانگ صوبے کے نائب گورنر شو وینگوانگ، چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی اور پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائیڈونگ نے کیا۔ اس موقع پر چینی حکام اور سفارتی عملے کی جانب سے وزیراعظم اور پاکستانی وفد کے اعزاز میں خصوصی استقبالی انتظامات بھی کیے گئے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم اپنے دورے کے دوران چینی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے جن میں دوطرفہ تعلقات، سی پیک کے دوسرے مرحلے، تجارت، سرمایہ کاری، صنعتی تعاون، زرعی ترقی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور توانائی کے شعبوں میں اشتراک پر تفصیلی گفتگو ہوگی۔

دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف مختلف صنعتی و تجارتی اداروں کا دورہ بھی کریں گے جبکہ پاکستانی وفد کو جدید چینی صنعتی ماڈلز، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے متعلق بریفنگ دی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دورے میں کئی اہم معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی متوقع ہیں۔

حکومتی حکام کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ دوستی کو مزید مستحکم بنانے، صنعتی ترقی کو فروغ دینے اور اقتصادی تعاون کے نئے دروازے کھولنے کے لیے یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اپنے دورے کے دوران چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دیں گے اور حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات سے آگاہ کریں گے۔

راولپنڈی میں بڑی کارروائی، گھریلو ملازمین چوری کے الزام میں گرفتار، ڈیڑھ کروڑ کا سامان برآمد

منصور احمد ,May 23,2026

راولپنڈی / نیوز اینڈ نیوز

راولپنڈی پولیس نے گھر میں چوری کی بڑی واردات میں ملوث دو گھریلو ملازمین کو گرفتار کر کے ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کا سامان اور نقدی برآمد کر لی۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے چند روز قبل گھر والوں کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے واردات کی اور قیمتی سامان لے کر فرار ہو گئے تھے۔

پولیس ترجمان کے مطابق ملزمان کی گرفتاری ٹیکنیکل اور ہیومن انٹیلیجنس کی مدد سے عمل میں لائی گئی، جبکہ ان کے قبضے سے طلائی زیورات، غیر ملکی و ملکی کرنسی، قیمتی گھڑیاں اور دیگر سامان برآمد کیا گیا۔

برآمد ہونے والے سامان میں 6 طلائی انگوٹھیاں، 6 کانٹے اور جوڑیاں، 5 کڑے، ہار، بریسلٹ اور دیگر زیورات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 7 ہزار 865 درہم، 5 ہزار 500 امریکی ڈالر، 355 برطانوی پاؤنڈ اور 48 لاکھ 4 ہزار 500 روپے نقدی بھی برآمد کی گئی۔ پولیس نے ملزمان سے 11 قیمتی گھڑیاں بھی تحویل میں لے لی ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان واردات کے بعد روپوش ہو گئے تھے، تاہم جدید ٹیکنالوجی اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر انہیں ٹریس کر کے گرفتار کیا گیا۔ ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ ممکنہ طور پر دیگر وارداتوں کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی جا سکیں۔

سی پی او راولپنڈی سید خالد محمود ہمدانی نے کامیاب کارروائی پر پولیس ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ شہری گھریلو ملازمین کی مکمل تصدیق اور اندراج لازمی کروائیں۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کا ریکارڈ متعلقہ تھانے، خدمت مرکز یا پنجاب پولیس ایپ کے ذریعے درج کروانے سے جرائم کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔

پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گھروں میں کام کرنے والے ملازمین کی شناختی معلومات اور بائیو ڈیٹا کی تصدیق ضرور کریں تاکہ ایسے ناخوشگوار واقعات سے محفوظ رہا جا سکے۔

پاکستان اور چین کے درمیان صنعتی تعاون میں پیشرفت، چانگژو میں اہم معاہدے اور سرمایہ کاری پر گفتگو

منصور احمد ,May 23,2026

چانگژو، چین/ نیوز اینڈ نیوز

حکومتِ پاکستان نے چین کے ساتھ صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اہم پیشرفت کرتے ہوئے چینی صنعتی اداروں اور مقامی حکام کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کی ہیں۔ یہ پیشرفت وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان اور وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کے چین کے صوبہ جیانگسو کے صنعتی شہر چانگژو کے دورے کے دوران سامنے آئی۔

پاکستانی وفد نے معروف چینی کمپنی Star Charge کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا، جہاں وفد کو الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ انفراسٹرکچر، اسمارٹ انرجی سسٹمز، توانائی ذخیرہ کرنے کی جدید ٹیکنالوجی اور کلاؤڈ بیسڈ انرجی مینجمنٹ پلیٹ فارمز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کمپنی اس وقت دنیا کے 60 سے زائد ممالک میں اپنی خدمات فراہم کر رہی ہے۔

ملاقات کے دوران پاکستان میں الیکٹرک وہیکل انفراسٹرکچر، اسمارٹ انرجی منصوبوں اور مقامی صنعتی پیداوار کے امکانات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وفد کو پاکستان میں کمپنی کے مجوزہ مقامی دفتر، صنعتی توسیعی منصوبوں اور سرمایہ کاری حکمتِ عملی سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔

پاکستانی وفد نے بعد ازاں Changfa Group کا بھی دورہ کیا، جو زرعی اور صنعتی مشینری کی تیاری میں چین کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس موقع پر کنگز برج وینچرز اور چانگفا گروپ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس کے تحت پاکستان میں زرعی اور صنعتی مشینری کی مقامی تیاری، تکنیکی تعاون اور جدید مینوفیکچرنگ منصوبوں کے فروغ پر کام کیا جائے گا۔

چینی حکام اور پاکستانی وفد کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں پاکستان کی صنعتی جدیدکاری، برآمدات میں اضافے، سرمایہ کاری کے فروغ اور ٹیکنالوجی کے تبادلے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مستقبل میں صنعتی روابط، مشترکہ منصوبوں اور مینوفیکچرنگ شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔

دورے کے دوران چانگژو کے میئر ژو وی اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی پاکستانی وفد کا استقبال کیا اور چین کے صنعتی ترقیاتی ماڈل، سرمایہ کاری سہولت کاری اور جدید صنعتی پالیسیوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔

ہارون اختر خان نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری اور صنعتی شراکت داری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی تعاون پاکستان کی معیشت، مینوفیکچرنگ شعبے اور ٹیکنالوجی کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا، جبکہ اس سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

خوشدل شاہ نے آسٹریلیا سیریز کے لیے قومی اسکواڈ کے انتخاب پر سوالات اٹھا دیے

منصور احمد ,May 23,2026

لاہور/ نیوز اینڈ نیوز

پاکستان کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر خوشدل شاہ نے آسٹریلیا کے خلاف آئندہ ون ڈے سیریز کے لیے قومی اسکواڈ کے انتخاب پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سلیکشن پالیسی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے حال ہی میں آسٹریلیا کے خلاف 30 مئی سے 4 جون تک کھیلی جانے والی ون ڈے سیریز کے لیے 16 رکنی اسکواڈ کا اعلان کیا گیا تھا، جس کی قیادت شاہین شاہ آفریدی کو سونپی گئی ہے۔ اسکواڈ میں بابر اعظم، شاداب خان اور نسیم شاہ کی واپسی بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ نوجوان کھلاڑی احمد دانیال، عرفات منہاس اور روحیل نذیر کو پہلی مرتبہ ون ڈے اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ وکٹ کیپر محمد غازی غوری کو بھی موقع دیا گیا ہے۔ دوسری جانب سابق کپتان محمد رضوان کو ٹیم سے باہر کیے جانے پر کرکٹ حلقوں میں بحث جاری ہے۔

خوشدل شاہ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ قومی ٹیم کے انتخاب میں تسلسل اور واضح حکمتِ عملی ضروری ہوتی ہے تاکہ کھلاڑیوں اور شائقین دونوں کو اعتماد مل سکے۔ انہوں نے نوجوان کھلاڑیوں کو مستقل مواقع دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ٹیم میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں تو اس کا واضح مقصد اور سمت بھی سامنے آنی چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف سیریز نوجوان کرکٹرز کو آزمانے اور مستقبل کے کمبینیشن تیار کرنے کا ایک اہم موقع ہو سکتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی ٹیم کے انتخاب میں کارکردگی، تسلسل اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ پاکستان کرکٹ مضبوط بنیادوں پر آگے بڑھ سکے۔

کرکٹ شائقین اور تجزیہ کار بھی قومی اسکواڈ کے بعض فیصلوں پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ آسٹریلیا کے خلاف سیریز کو نئی قیادت اور نئے کمبینیشن کے لیے ایک اہم امتحان قرار دیا جا رہا ہے

پام وسٹا ہاؤسنگ اسکینڈل کا مرکزی ملزم متحدہ عرب امارات سے گرفتار، پاکستان حوالگی کی تیاری شروع

کاشف عباسی ,May 23 ,2026

لاہور/ نیوز اینڈ نیوز

: اربوں روپے کے پام وسٹا ہاؤسنگ اسکینڈل میں مطلوب مرکزی ملزم محمد قاسم خان کو متحدہ عرب امارات میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گرفتاری انٹرپول، پاکستانی حکام اور متحدہ عرب امارات کی متعلقہ ایجنسیوں کے باہمی تعاون سے عمل میں آئی، جبکہ ملزم کو ابوظہبی میں حراست میں لے کر مقامی حکام کے سامنے پیش کیا گیا۔

قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور کے مطابق محمد قاسم خان ایک بڑے مالیاتی اور ہاؤسنگ فراڈ کیس میں مطلوب تھا، جس میں شہریوں کو جعلی ہاؤسنگ منصوبے، منافع کے جھوٹے وعدوں اور غیرقانونی پلاٹوں کی فروخت کے ذریعے اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد اس کی بیرونِ ملک نقل و حرکت پر نظر رکھی جا رہی تھی۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے ملزم کی حوالگی کے لیے باضابطہ قانونی دستاویزات طلب کر لی ہیں تاکہ اسے پاکستانی حکام کے حوالے کیا جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور قانونی رابطے تیز کر دیے گئے ہیں اور جلد حوالگی کا عمل مکمل ہونے کا امکان ہے۔

نیب حکام کے مطابق پام وسٹا ہاؤسنگ اسکینڈل میں کم از کم 295 متاثرین سامنے آئے، جنہیں مجموعی طور پر ایک ارب 40 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچا۔ متاثرین کا مؤقف ہے کہ ہاؤسنگ سوسائٹی کے پاس محدود اراضی ہونے کے باوجود سینکڑوں اضافی پلاٹ فروخت کیے گئے، جبکہ سرمایہ کاری پر غیرمعمولی منافع کے لالچ دے کر شہریوں سے بھاری رقوم وصول کی گئیں۔

متاثرین نے الزام عائد کیا کہ ملزمان نے ایک منظم پونزی اسکیم کے تحت لوگوں کو سرمایہ کاری پر منافع کی ادائیگی کے وعدے کیے، تاہم بعد ازاں منصوبہ بند طریقے سے رقم لے کر غائب ہو گئے۔ متعدد متاثرہ شہری گزشتہ دو برس سے نیب لاہور کے باہر احتجاج اور انصاف کے مطالبات کرتے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل پام وسٹا ہاؤسنگ اسکیم کے دو دیگر ڈائریکٹرز محمود طارق اور عامر عظیم کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ محمد قاسم خان بیرونِ ملک سے مبینہ طور پر اپنے نیٹ ورک کو چلا رہا تھا۔

نیب لاہور کے ایک سینئر پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر بڑھتے ہوئے قانونی تعاون اور انٹرپول کے مؤثر کردار کے باعث مالیاتی جرائم میں ملوث افراد کے لیے بیرونِ ملک پناہ لینا اب مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق پنجاب بھر میں جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیز اور سرمایہ کاری فراڈ کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کیا جا رہا ہے۔

نشتر اسپتال میں ایچ آئی وی اسکریننگ رپورٹ کے بغیر آپریشن، سینئر رجسٹرار سمیت 10 طبی عملہ معطل

کاشف عباسی ,May 23 ,2026

لاہور/ نیوز اینڈ نیوز

نشتر اسپتال کی انتظامیہ نے ایک مریض کا ایچ آئی وی اسکریننگ ٹیسٹ موصول ہونے سے قبل آپریشن کیے جانے کے معاملے پر سخت کارروائی کرتے ہوئے سینئر رجسٹرار، پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹروں اور ایک چارج نرس سمیت 10 طبی اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے، جبکہ محکمہ صحت پنجاب نے بھی ذمہ دار افراد کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی شروع کر دی ہے۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق 19 مئی کو وارڈ نمبر 5 کے آپریشن تھیٹر نمبر 17 میں ایک مریض کی پیٹ کی سرجری اس وقت کی گئی جب اس کی ایچ آئی وی اسکریننگ رپورٹ ابھی موصول نہیں ہوئی تھی۔ اس معاملے کو اسپتال کی جانب سے سنگین غفلت، بدانتظامی اور حفاظتی ایس او پیز کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔

معطل کیے جانے والوں میں ڈاکٹر نعیم اختر، ڈاکٹر علی جان، ڈاکٹر ایفا قمر، ڈاکٹر سید محمد آصف، ڈاکٹر عبیر فاطمہ، ڈاکٹر ابوذر، ڈاکٹر عمر، ڈاکٹر سامعہ اور چارج نرس رضا زہرا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سینئر رجسٹرار سرجری ڈاکٹر فاریہ احمد اور میڈیکل آفیسر ڈاکٹر شہباز انور کو بھی ناقص انتظامی امور اور غفلت کے الزامات پر معطل کر دیا گیا ہے۔

محکمہ صحت پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ڈاکٹروں کی تربیتی پروگرامز بھی عارضی طور پر روک دیے ہیں، جن میں ایف سی پی ایس اور ایم ایس جنرل سرجری پروگرام شامل ہیں۔ تمام معطل اہلکاروں کو اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں رپورٹ کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

اسپتال کے ترجمان راؤ نوشاد کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ متعلقہ مریض آپریشن تھیٹر میں آخری مریض تھا، اس لیے استعمال ہونے والے آلات کسی دوسرے مریض پر استعمال نہیں کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ آپریشن کے بعد تمام آلات اور آپریشن تھیٹر کو مکمل طور پر جراثیم سے پاک کیا گیا۔

ترجمان کے مطابق مریض کا ابتدائی ایچ آئی وی ٹیسٹ مثبت آیا تھا، جس کے بعد نمونے مزید تصدیق کے لیے لاہور بھجوائے گئے ہیں اور پی سی آر رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دیگر مریضوں کو ایچ آئی وی منتقل ہونے کے خدشات کی خبریں تاحال غیر مصدقہ ہیں۔

واقعے کی تحقیقات کے لیے چار رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جس کی سربراہی ڈاکٹر لبنیٰ اعظم کر رہی ہیں۔ کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ ذمہ داروں کا تعین کر کے اپنی رپورٹ فوری طور پر پیش کرے۔

یاد رہے کہ ماضی میں بھی نشتر اسپتال کو انفیکشن کنٹرول اور ڈائلیسز یونٹ میں مبینہ غفلت کے باعث تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پنجاب کے وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے واضح کیا ہے کہ مریضوں کے علاج میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف؛ لیبیا کی خودمختاری، سیاسی استحکام اور انصاف کے یکساں نظام کی بھرپور حمایت

محمود احمد May23,2026

نیویارک/ نیوز اینڈ نیوز

اقوامِ متحدہ: پاکستان نے ایک بار پھر لیبیا کی خودمختاری، قومی وحدت اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ لیبیا میں پائیدار امن، سیاسی استحکام اور قومی مفاہمت کا واحد راستہ لیبیا کی قیادت اور ملکیت میں جاری سیاسی عمل ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں لیبیا اور بین الاقوامی فوجداری عدالت سے متعلق اہم اجلاس کے دوران اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو لیبیا میں امن کے قیام، ادارہ جاتی استحکام اور انصاف کے شفاف نظام کے فروغ کے لیے تعمیری کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی نائب پراسیکیوٹر نزہت شمیم خان کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ رپورٹ میں لیبیا سے متعلق تحقیقات، عدالتی تعاون اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ روابط میں پیش رفت ایک اہم پیشرفت ہے۔

پاکستانی مندوب نے اس بات کو خاص طور پر سراہا کہ لیبیا کی صورتحال میں پہلی مرتبہ ایک مشتبہ شخص کو عالمی عدالت کے حوالے کیا گیا، جس کے بعد ابتدائی عدالتی کارروائی کا آغاز ہوا۔ انہوں نے کہا کہ احتساب کا عمل صرف قانونی کارروائی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے قومی مفاہمت، سیاسی استحکام اور امن کے وسیع تر مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے زور دیا کہ بین الاقوامی احتسابی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے انصاف، غیرجانبداری، شفافیت اور یکساں طرزِ عمل ناگزیر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عالمی قوانین کا اطلاق تمام ممالک پر مساوی بنیادوں پر ہونا چاہیے اور کسی بھی معاملے میں انتخابی یا امتیازی رویہ بین الاقوامی نظام کے اعتماد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان روم اسٹیچوٹ کا فریق نہیں، تاہم پاکستان سنگین بین الاقوامی جرائم کے خلاف مؤثر، شفاف اور غیرجانبدار احتساب کے اصول کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی انصاف کا نظام اسی وقت مؤثر ثابت ہوسکتا ہے جب اس کا اطلاق سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر کیا جائے۔

پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 1970 پر عملدرآمد کے لیے بین الاقوامی فوجداری عدالت اور لیبیائی حکام کے درمیان تعاون اہم ہے، تاہم اس عمل میں لیبیا کی عدالتی خودمختاری، قومی اداروں اور داخلی معاملات کے احترام کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔

انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ لیبیا میں قومی سطح پر اداروں کو مضبوط بنانے، قانون کی حکمرانی کو فروغ دینے، عدالتی نظام کو مستحکم کرنے اور آئینی نگرانی کے عمل کو مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو طویل المدتی استحکام کی جانب لے جایا جا سکے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر پاکستان نے لیبیا میں امن، استحکام، قومی مفاہمت اور پائیدار ادارہ جاتی تعمیر کے لیے جاری تمام بین الاقوامی اور مقامی کوششوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی امن اور انصاف کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا

تہران میں سفارتی سرگرمیاں تیز، فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے، امریکہ اور ایران مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل

کاشف عباسی ,May 23 ,2026

اسلام آباد / تہران: نیوز اینڈ نیوز

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان جاری حساس مذاکرات ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں، جبکہ پاکستان اس پورے سفارتی عمل میں مرکزی کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ اسی سلسلے میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر جمعہ کے روز تہران پہنچ گئے، جہاں وہ ایرانی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔

پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ تہران جاری ثالثی اور سفارتی کوششوں کا حصہ ہے۔ تہران پہنچنے پر ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی نے ان کا استقبال کیا، جبکہ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ محسن نقوی گزشتہ کئی روز سے تہران میں موجود ہیں اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ حکام سے متعدد ملاقاتیں کر چکے ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست کشیدگی میں کمی لانے کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب مذاکرات ابتدائی بیانات اور سفارتی اشاروں سے آگے بڑھ کر عملی اور تفصیلی معاملات تک پہنچ چکے ہیں، جن میں آبنائے ہرمز کی صورتحال، ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں میں ممکنہ نرمی اور خطے میں فوجی کشیدگی روکنے کے نکات شامل ہیں۔

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اس معاملے میں پاکستان کو اپنا اہم رابطہ کار سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ مسلسل فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستانی حکام سے رابطے میں ہے اور پاکستان نے سفارتی پیش رفت میں قابلِ تعریف کردار ادا کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق قطر نے بھی امریکہ کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے تہران میں مذاکراتی ٹیم بھیج دی ہے، جبکہ سعودی عرب بھی پسِ پردہ سفارتی کوششوں میں متحرک ہے۔ علاقائی مبصرین کے مطابق خلیجی ممالک اب خطے میں کسی نئی جنگ کے بجائے سیاسی اور سفارتی حل کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ عالمی معیشت، تیل کی ترسیل اور بحری تجارت کو کسی بڑے بحران سے بچایا جا سکے۔

ادھر ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ افزودہ یورینیم مکمل طور پر حوالے کرنے کی شرط عائد کرتا ہے تو کسی معاہدے کا امکان کم ہو جائے گا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران اپنے دفاعی اور جوہری حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، تاہم سفارتی راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے۔

ذرائع کے مطابق موجودہ مذاکرات کسی مستقل معاہدے کے بجائے ایک عبوری اور محدود فریم ورک کی طرف بڑھ رہے ہیں، جس کے تحت جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی، مرحلہ وار پابندیوں میں نرمی اور آئندہ مذاکرات کے لیے ایک قابلِ عمل ٹائم لائن طے کی جا سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت خطے میں ایک متوازن اور مؤثر سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ چین بھی اس پورے عمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اطلاعات ہیں کہ بیجنگ پاکستان کے ذریعے پسِ پردہ سفارتی ہم آہنگی کو ترجیح دے رہا ہے۔

سیاسی و دفاعی حلقوں کے مطابق اگر موجودہ کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو یہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ بڑے تصادم کو روکنے میں مددگار ثابت ہوں گی بلکہ پاکستان کا عالمی سفارتی کردار بھی مزید مضبوط ہوگا۔

حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کر دی

محمود احمد May22,2026

پٹرول 6 روپے اور ڈیزل 6 روپے 80 پیسے سستا، نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگا

لاہور : نیوز اینڈ نیوز

وفاقی حکومت نے عوام کو جزوی ریلیف دیتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کے مطابق پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 6 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے 80 پیسے کمی کی گئی ہے۔

حکومتی فیصلے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 403 روپے 78 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 402 روپے 78 پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔ وزارت خزانہ کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے کیا جائے گا۔

یہ مسلسل دوسرا موقع ہے جب حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی ہے۔ اس سے قبل گزشتہ ہفتے بھی پٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں 5،5 روپے فی لیٹر کمی کی گئی تھی، تاہم عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود عوام اب بھی ایندھن کی بلند قیمتوں سے پریشان دکھائی دیتے ہیں۔

دوسری جانب پٹرولیم مصنوعات پر عائد پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی میں نمایاں ردوبدل بھی سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے ڈیزل پر لیوی میں اضافہ جبکہ پٹرول پر لیوی میں کمی کی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ڈیزل پر عائد لیوی میں 9 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل پر لیوی کی مجموعی شرح 42 روپے 60 پیسے سے بڑھ کر 52 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اس کے برعکس پٹرول پر لیوی میں 9 روپے 24 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی، جس کے بعد پٹرول پر نئی لیوی 108 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کو ریونیو حاصل کرنے کے بڑے ذرائع میں شامل کر چکی ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل سستا ہونے کے باوجود عوام کو مکمل ریلیف منتقل نہیں کیا جاتا۔

رپورٹس کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کی فروخت قیمت کا ایک بڑا حصہ مختلف ٹیکسز، ڈیوٹیز، لیوی اور مارجنز پر مشتمل ہوتا ہے، جبکہ اصل درآمدی قیمت اس سے کہیں کم ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق پٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکسوں کی وجہ سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔

اقتصادی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ٹیکسوں اور لیوی میں مزید کمی کرے تو عوام کو حقیقی ریلیف مل سکتا ہے، تاہم موجودہ مالی حالات اور ریونیو اہداف کے باعث حکومت کے لیے ایسا کرنا آسان نہیں ہوگا۔

ایشیا پیسیفک خطے میں سائبر حملوں میں خطرناک اضافہ، اداروں کے لیے بڑا خطرہ پیدا ہوگیا

منصور احمد ,May 22,2026

تاوان کی غرض سے کیے جانے والے سائبر حملوں میں ایشیا پیسیفک دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ متاثرہ خطہ قرار

اسلام آباد: نیوز اینڈ نیوز

عالمی سائبر سکیورٹی کمپنی کیسپرسکی کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2025 کے دوران ایشیا پیسیفک خطہ تاوان کی غرض سے کیے جانے والے سائبر حملوں کا بڑا مرکز بن کر سامنے آیا، جہاں ہزاروں ادارے جدید رینسم ویئر حملوں سے متاثر ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق لاطینی امریکہ کے بعد ایشیا پیسیفک دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ متاثرہ خطہ رہا۔

کیسپرسکی سکیورٹی نیٹ ورک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں لاطینی امریکہ کے 8 اعشاریہ 13 فیصد ادارے رینسم ویئر حملوں کا شکار بنے، جبکہ ایشیا پیسیفک خطے میں یہ شرح 7 اعشاریہ 89 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ افریقہ 7 اعشاریہ 62 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا، جبکہ مشرقِ وسطیٰ، سی آئی ایس ممالک اور یورپ میں بھی سائبر حملوں کی نمایاں شرح دیکھی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں برس سائبر جرائم پیشہ گروہوں نے حملوں کے نئے اور زیادہ خطرناک طریقے اختیار کیے۔ ماہرین کے مطابق اب حملہ آور صرف کمپیوٹر سسٹمز لاک کرنے تک محدود نہیں رہے بلکہ حساس معلومات چرا کر انہیں لیک کرنے کی دھمکیاں دے کر اداروں کو بلیک میل کر رہے ہیں۔

کیسپرسکی کے سائبر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ رینسم ویئر گروپس مصنوعی ذہانت اور جدید خودکار ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے اپنے حملوں کو مزید پیچیدہ اور مؤثر بنا رہے ہیں، جس کے باعث مستقبل میں سائبر سکیورٹی اداروں کے لیے ان خطرات سے نمٹنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ “کلرز ای ڈی آر” نامی خطرناک ٹولز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، جو سکیورٹی سسٹمز کو غیر فعال کرکے رینسم ویئر حملوں کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسے ٹولز اداروں کے دفاعی نظام کو خاموشی سے ناکارہ بنا دیتے ہیں، جس کے بعد حملہ آور حساس ڈیٹا تک آسانی سے رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔

کیسپرسکی نے اپنی تحقیق میں بتایا کہ ٹیلیگرام چینلز اور ڈارک ویب فورمز اب بھی چوری شدہ معلومات، لاگ اِن تفصیلات اور خفیہ ڈیٹا کی خرید و فروخت کے بڑے مراکز بنے ہوئے ہیں، جہاں سائبر جرائم پیشہ عناصر عالمی سطح پر سرگرم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2025 میں سب سے زیادہ متحرک رینسم ویئر گروپ “قایلن” رہا، جبکہ “کلاپ” دوسرے اور “اکیرا” تیسرے نمبر پر موجود رہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 2026 میں “جینٹلمین” نامی نیا گروپ عالمی سائبر سکیورٹی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔

کیسپرسکی کے لیڈ سکیورٹی ریسرچر فیبیو ایسولینی نے کہا کہ رینسم ویئر اب ایک منظم مجرمانہ صنعت کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں حملہ آور جدید ٹیکنالوجی، چوری شدہ معلومات اور خودکار نظاموں کی مدد سے بڑے پیمانے پر حملے کر رہے ہیں۔ انہوں نے اداروں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے بیک اپ سسٹمز کو محفوظ بنائیں، جدید سکیورٹی سافٹ ویئر استعمال کریں اور ملازمین کی سائبر آگاہی پر خصوصی توجہ دیں۔

کیسپرسکی نے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ تمام کمپیوٹر سسٹمز اور سافٹ ویئر کو مسلسل اپ ڈیٹ رکھا جائے، جدید اینٹی رینسم ویئر ٹولز استعمال کیے جائیں اور سکیورٹی ٹیموں کی پیشہ ورانہ تربیت یقینی بنائی جائے تاکہ بڑھتے ہوئے سائبر خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

ایران کے خلاف امریکی کارروائی کے لیے پاکستانی فضائی حدود مانگنے کی کوئی درخواست نہیں ملی: دفتر خارجہ

منصور احمد ,May 22,2026

پاکستان اپنے پانی کے ایک قطرے پر بھی سمجھوتہ نہیں کرے گا، سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا

اسلام آباد: نیوز اینڈ نیوز

: ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملے کے لیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس حوالے سے کسی قسم کا باضابطہ یا غیر رسمی مطالبہ نہیں کیا گیا۔

ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور تمام معاملات سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے پاکستان مسلسل صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم فضائی حدود سے متعلق زیر گردش اطلاعات حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔

ترجمان نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے پانی کے ایک قطرے پر بھی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام قانونی اور سفارتی ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں کسی بھی فریق کے لیے یکطرفہ طور پر معاہدہ ختم کرنے کی کوئی شق موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت تنازعات کے حل کے لیے واضح قانونی طریقہ کار موجود ہے اور پاکستان نے انہی اصولوں کے تحت عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کیا۔ ترجمان کے مطابق عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے نے بھارت کے مغربی دریاؤں پر آبی کنٹرول کی حدود کو واضح کر دیا ہے اور پاکستان اس فیصلے کو حتمی اور دونوں ممالک کے لیے لازمی قرار دیتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت سندھ طاس معاہدے کے تحت پیدا ہونے والے تنازعات کے حل کے لیے قائم کی گئی ہے اور پاکستان بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنے مؤقف کا دفاع جاری رکھے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ “رن آف دی ریور” منصوبوں کو بھارت کے یکطرفہ مؤقف کے مطابق نہیں دیکھا جا سکتا اور پاکستان عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کو اطمینان بخش سمجھتا ہے۔

بریفنگ کے دوران ترجمان نے وزیراعظم شہباز شریف کے آئندہ دورۂ چین کی بھی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم 23 سے 26 مئی تک چین کا دورہ کریں گے جہاں وہ چینی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، علاقائی صورتحال اور مختلف ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

متحدہ عرب امارات میں پاکستانی شہریوں کی مبینہ بے دخلی سے متعلق سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اس حوالے سے گردش کرنے والے اعداد و شمار مبالغہ آمیز اور گمراہ کن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد مقیم ہے اور چند ہزار افراد کی واپسی کو مجموعی صورتحال کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

ترجمان نے واضح کیا کہ حکومت پاکستان متحدہ عرب امارات کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط اور دوستانہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں کے مسائل کے حل کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے۔

بھارت میں پاکستانی پنکھے کی مبینہ دریافت سے متعلق سوال پر ترجمان نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ دعویٰ بھی “پاکستانی کبوتر” جیسے پرانے اور بے بنیاد الزامات کی ایک نئی شکل ہے، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے کے درمیان سخت معاشی پالیسیوں پر اتفاق

کاشف عباسی ,May 22 ,2026

اسلام آباد: نیوز اینڈ نیوز

نئے مالی سال میں دو فیصد بنیادی بجٹ سرپلس ہدف برقرار رکھنے کا فیصلہ، مزید ٹیکس اقدامات متوقع

اسلام آباد: پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ اور معاشی حکمتِ عملی پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دونوں فریقین نے سخت مالیاتی اور مانیٹری پالیسی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت اور عالمی مالیاتی ادارہ معیشت کو مستحکم بنانے، مالی خسارہ کم کرنے اور ٹیکس نظام کو مزید وسعت دینے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی پر کام کر رہے ہیں۔

عالمی مالیاتی ادارے کے وفد نے 13 مئی سے 20 مئی تک اسلام آباد کا دورہ کیا، جس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے مالی سال 2026-27 کے لیے مجموعی قومی پیداوار کے دو فیصد کے برابر بنیادی بجٹ سرپلس برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق یہ ہدف مالیاتی استحکام اور معیشت کی مضبوطی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان بتدریج مالیاتی نظم و ضبط کو مزید سخت کرے گا، جبکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع بنانے، ٹیکس وصولی کے نظام کو بہتر کرنے، غیر ضروری اخراجات کم کرنے اور وفاقی و صوبائی سطح پر مالیاتی نظم و نسق کو مضبوط بنانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے مجموعی طور پر 860 ارب روپے سے زائد اضافی ریونیو اکٹھا کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے لیے تقریباً 15 ہزار 264 ارب روپے کا ٹیکس ہدف مقرر کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بجٹ مذاکرات کے دوران ٹیکس اصلاحات، توانائی شعبے کی بہتری، سرکاری اخراجات میں کمی اور معاشی اصلاحاتی پروگرام پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ دونوں فریقین نے حالیہ معاشی اشاریوں اور اصلاحات پر اطمینان کا اظہار کیا، تاہم آئندہ مالی سال کے مکمل بجٹ خدوخال پر ابھی حتمی اتفاق نہیں ہو سکا۔

ذرائع کے مطابق بجٹ سے متعلق مزید مذاکرات آئندہ چند روز میں آن لائن ذرائع کے ذریعے جاری رہیں گے تاکہ تمام مالیاتی اہداف اور پالیسی معاملات کو حتمی شکل دی جا سکے۔

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ سخت مالیاتی پالیسی اور ٹیکس اصلاحات کے باعث حکومت کو مہنگائی، کاروباری سرگرمیوں اور عوامی دباؤ جیسے چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے، تاہم معاشی استحکام اور بیرونی مالیاتی اعتماد کے لیے یہ اقدامات ضروری تصور کیے جا رہے ہیں۔

عالمی مالیاتی ادارے نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے محصولات میں اضافے، مالیاتی نظم و ضبط اور ادارہ جاتی اصلاحات پر مسلسل توجہ دینا ہوگی تاکہ طویل المدتی اقتصادی بہتری ممکن بنائی جا سکے۔

زیرِ حراست تشدد کے سب سے زیادہ کیسز پنجاب میں رپورٹ، لاہور ہائیکورٹ میں رپورٹ جمع

ملک بھر میں 364 شکایات درج، مگر محدود مقدمات ہی ایف آئی آرز میں تبدیل ہو سکے

لاہور: نیوز اینڈ نیوز

لاہور: وفاقی تحقیقاتی ادارے نے لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ زیرِ حراست تشدد اور مبینہ حراستی اموات سے متعلق سب سے زیادہ شکایات پنجاب سے موصول ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دیگر صوبوں کے مقابلے میں پنجاب میں ایسے کیسز کی تعداد نمایاں طور پر زیادہ ہے، تاہم ملک بھر میں موصول ہونے والی شکایات میں سے صرف محدود تعداد کو باقاعدہ فوجداری مقدمات میں تبدیل کیا جا سکا۔

عدالت میں جمع کرائے گئے اعداد و شمار کے مطابق 30 اپریل 2026ء تک وفاقی تحقیقاتی ادارے نے “تشدد اور حراستی اموات کی روک تھام و سزا قانون 2022ء” کے تحت ملک بھر میں مجموعی طور پر 364 انکوائریاں درج کیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں سب سے زیادہ 266 انکوائریاں شروع کی گئیں، جبکہ خیبرپختونخوا میں 48، سندھ میں 33، اسلام آباد میں 15 اور بلوچستان میں 2 کیسز رپورٹ ہوئے۔

اعداد و شمار کے مطابق شکایات کی بڑی تعداد کے باوجود پنجاب اور سندھ میں باقاعدہ مقدمات کی تعداد برابر رہی، جہاں دونوں صوبوں میں 19،19 ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ خیبرپختونخوا اور اسلام آباد میں 6،6 مقدمات درج ہوئے، جبکہ بلوچستان میں سامنے آنے والی دونوں شکایات کو ایف آئی آرز میں تبدیل کر دیا گیا۔

رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ زیرِ حراست تشدد کے متعدد کیسز ابھی مختلف مراحل میں ہیں، جن میں تحقیقات، شواہد جمع کرنے اور قانونی کارروائی کا عمل جاری ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ایسے کیسز میں متاثرین اور گواہوں کے تحفظ، آزادانہ تحقیقات اور شفاف عدالتی کارروائی انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت مقدمے کے دوران عدالت نے متعلقہ اداروں سے تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی تاکہ حراستی تشدد کی روک تھام کے لیے موجودہ اقدامات اور قانون پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جا سکے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست تشدد کے واقعات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں اور ان کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی، احتساب اور اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ تشدد سے پاک تفتیشی نظام ہی انصاف کے شفاف عمل کو یقینی بنا سکتا ہے

چین کے بغیر دنیا ترقی نہیں کر سکتی، پاکستان ہر مشکل وقت میں چین کو اپنے ساتھ پاتا رہا: وزیراعظم شہباز شریف

کاشف عباسی ,May 22 ,2026

اسلام آباد: نیوز اینڈ نیوز

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم کا ون چائنا پالیسی کی مکمل حمایت کا اعادہ، پاک چین دوستی کو خارجہ پالیسی کا اہم ستون قرار

اسلام آباد: پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے کی تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دنیا چین کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی، کیونکہ صنعتی، معاشی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں چین نے غیر معمولی ترقی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہر مشکل وقت میں چین کو ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد دوست کے طور پر اپنے ساتھ کھڑا پایا۔

اسلام آباد میں منعقدہ خصوصی تقریب اور تصویری نمائش سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاک چین تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی بنیاد باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ ترقی پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے ہمیشہ پاکستان کی غیر مشروط حمایت کی اور کبھی کسی سیاسی دباؤ یا شرائط کے تحت تعاون نہیں کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ چین کی ترقی پوری دنیا کے لیے ایک مثال بن چکی ہے اور جدید ٹیکنالوجی، صنعت، معیشت اور انفراسٹرکچر کے میدان میں چین کی کامیابیاں قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے معاشی اور ترقیاتی اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے۔

تقریب میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ چین کے ساتھ دوستی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور ہر آزمائش میں یہ رشتہ مزید مضبوط ہوا ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے چینی قیادت اور عوام کو سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات باہمی اعتماد، مسلسل تعاون اور مشترکہ ترقیاتی اہداف کی بنیاد پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مسلسل فروغ پا رہا ہے۔

صدر اور وزیراعظم نے ایک بار پھر ون چائنا پالیسی کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے حوالے سے اپنے مؤقف پر ثابت قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی اسٹریٹجک شراکت داری خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب توجہ زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، خصوصی اقتصادی زونز اور معدنیات کے شعبوں پر مرکوز کی جا رہی ہے تاکہ پاکستان کی معیشت کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔

تقریب کے دوران پاک چین دوستی کے 75 سال مکمل ہونے پر خصوصی تصویری نمائش بھی منعقد کی گئی، جس میں دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات، اہم ملاقاتوں، مشترکہ منصوبوں اور مختلف شعبوں میں تعاون کو تصویری انداز میں پیش کیا گیا۔ شرکاء نے نمائش کو سراہتے ہوئے پاک چین دوستی کو دنیا کی مثالی دوستی قرار دیا۔

دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کے متاثرین کو مزید 67 کروڑ 77 لاکھ روپے معاوضے کی ادائیگی

منصور احمد ,May 22,2026

اسلام آباد: نیوز اینڈ نیوز

منصوبے کے متاثرین کو مجموعی طور پر 64 ارب 24 کروڑ روپے سے زائد ادا کیے جا چکے ہیں

اسلام آباد: واپڈا نے دیامر بھاشا ڈیم منصوبے سے متاثرہ افراد کو معاوضے کی ادائیگی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ضلع اپر کوہستان کے علاقے ہربن کے متاثرین میں مزید 67 کروڑ 77 لاکھ روپے تقسیم کر دیے۔ یہ رقم زمینوں کے حصول اور دیگر املاک کے معاوضے کے طور پر ادا کی گئی۔

معاوضے کے چیک بوشی داس میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران متاثرین کے حوالے کیے گئے۔ تقریب میں دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کے جنرل منیجر و پراجیکٹ ڈائریکٹر انجینئر ڈاکٹر نزاکت حسین، ڈپٹی کمشنر اپر کوہستان عزیز اللہ جان، ڈپٹی کمشنر دیامر لیفٹیننٹ محمد اویس عباسی (ریٹائرڈ)، تھور ہربن گرینڈ امن جرگہ کے اراکین، مقامی عمائدین، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور واپڈا کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حکام نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم پاکستان کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم منصوبہ ہے، جو ملک کی پانی، خوراک اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں بنیادی کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کے حقوق کا تحفظ حکومت اور واپڈا کی اولین ترجیح ہے اور اسی مقصد کے تحت شفاف انداز میں معاوضوں کی ادائیگی جاری رکھی گئی ہے۔

واضح رہے کہ ہربن اور تھور کے قبائل کے درمیان زمین کی حدود سے متعلق کئی دہائیوں پرانا تنازع 2022ء میں تھور ہربن گرینڈ امن جرگہ کی کامیاب کوششوں سے حل ہوا تھا، جس کے بعد متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کی راہ ہموار ہوئی۔ اس جرگے نے خیبرپختونخوا کے ضلع اپر کوہستان اور گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے قبائل کے درمیان مذاکرات کے ذریعے امن معاہدہ کرایا تھا۔

واپڈا حکام کے مطابق ادارہ اب تک اپر کوہستان کی ضلعی انتظامیہ کو 4 ارب 48 کروڑ روپے سے زائد جبکہ ضلع دیامر کی انتظامیہ کو 59 ارب 76 کروڑ روپے سے زیادہ رقم منتقل کر چکا ہے۔ اس طرح دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کے لیے زمینوں اور جائیدادوں کے حصول کی مد میں مجموعی ادائیگیاں 64 ارب 24 کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق منصوبے کے لیے مجموعی طور پر 35 ہزار 924 ایکڑ اراضی درکار ہے، جس میں سے اب تک 33 ہزار 848 ایکڑ زمین حاصل کی جا چکی ہے۔ حاصل کی گئی زمین میں گلگت بلتستان کے 32 ہزار 428 ایکڑ جبکہ خیبرپختونخوا کے 1 ہزار 420 ایکڑ شامل ہیں۔

دیامر بھاشا ڈیم دریائے سندھ پر تعمیر کیا جا رہا ہے اور اسے پاکستان کے اہم ترین آبی و توانائی منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد 81 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کیا جا سکے گا جبکہ 4 ہزار 500 میگاواٹ سستی، ماحول دوست اور کم لاگت بجلی قومی گرڈ میں شامل ہوگی۔

ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ ملک میں زرعی ترقی کے لیے بھی سنگ میل ثابت ہوگا کیونکہ اس سے مزید 12 لاکھ ایکڑ اراضی سیراب کی جا سکے گی۔ علاوہ ازیں دیامر بھاشا ڈیم ہر سال تقریباً 18 ارب یونٹ کم لاگت بجلی پیدا کرے گا، جس سے توانائی بحران میں نمایاں کمی آنے کی توقع ہے۔