وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات: باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال

کاشف عباسی , August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے پاکستان میں امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے وزارتِ خزانہ میں اہم ملاقات کی، جس میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان معاشی تعلقات، دوطرفہ تجارت، اور مالیاتی تعاون کو وسعت دینے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

وزیر خزانہ نے امریکی ناظم الامور کو اپنے حالیہ دورۂ واشنگٹن کی تفصیلات سے آگاہ کیا، جہاں انہوں نے امریکی وزیر خزانہ، آئی ایم ایف کی اعلیٰ انتظامیہ، امریکی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن اور ایگزم بینک کے حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اداروں کے ساتھ تعمیری گفتگو ہوئی ہے اور پاکستان تجارتی بنیادوں پر قابلِ عمل منصوبوں کے لیے امریکی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتا ہے۔

ملاقات میں امریکی تجارتی نمائندہ دفتر کے ساتھ باہمی تجارت کے فریم ورک پر ہونے والی پیش رفت پر بھی گفتگو کی گئی۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ ان مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے، جس سے مارکیٹ تک رسائی اور پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت زرمبادلہ کے ذخائر اور کریڈٹ پروفائل کو مستحکم بنانے کے لیے مالی معاونت کے ذرائع کو متنوع بنا رہی ہے۔

گفتگو کے دوران بندرگاہوں، لاجسٹکس، توانائی، ٹیلی کمیونیکیشن، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، اور مصنوعی ذہانت جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر غور کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے علاقائی صورتحال کے پیش نظر پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں سے ہم آہنگی کے لیے یومیہ قیمتوں کی نظرثانی کے نظام کا بھی ذکر کیا۔

امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے مشکل عالمی معاشی حالات اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے باوجود معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے کو سراہا۔ انہوں نے امریکی حکومت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت اور خصوصی شعبوں میں امریکی کمپنیوں کی سرمایہ کاری بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

پاکستان اور فلپائن کی باہمی تجارت 500 ملین ڈالر تک بڑھانے کا عزم، ویزا عمل آسان بنایا جا رہا ہے: فلپائنی سفیر

منصور احمد, August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

پاکستان میں فلپائن کے سفیر ڈاکٹر ایمانوئل آر فرننڈیز نے دونوں ممالک کے مابین باہمی تجارت کو 500 ملین امریکی ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تجارتی و معاشی تعلقات کے فروغ میں دونوں ممالک کے نجی شعبے اور چیمبرز آف کامرس کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔

قومی خبر رساں ادارے (اے پی پی) کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں فلپائنی سفیر نے بتایا کہ اس وقت پاکستان اور فلپائن کے درمیان باہمی تجارت 197 ملین ڈالر ہے جو کہ دونوں ممالک کی حقیقی صلاحیت سے کافی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلپائن آبادی کے لحاظ سے آسیان کی دوسری بڑی مارکیٹ ہے اور پاکستان کے لیے اس خطے کا گیٹ وے ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آسیان کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کی صورت میں پاکستان 4 ٹریلین ڈالر کی وسیع مارکیٹ سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

سفیر نے بتایا کہ اسلام آباد میں فلپائن کا سفارتخانہ پاکستانیوں کے لیے ویزا عمل کو آسان بنا رہا ہے اور اس وقت ماہانہ تقریباً 320 ویزے جاری کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال 5 ہزار سے زائد پاکستانی سیاحت کے لیے فلپائن کا رخ کرتے ہیں جبکہ فلپائنی شہری بھی پاکستان کے شمالی علاقوں کی سیر میں دلچسپی رکھتے ہیں، اس لیے آنے والے وقت میں دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست پروازوں کی شروعات کے امکانی راستے موجود ہیں۔

ڈاکٹر ایمانوئل آر فرننڈیز نے ادویات، آٹوموبائل، الیکٹرانکس، حلال مصنوعات، سیاحت، زراعت، ای کامرس اور بلیو و گرین اکانومی کو باہمی سرمایہ کاری کے لیے اہم ترین شعبے قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے نوجوان اور جامعات بھی اسکالرشپ معاہدوں کے ذریعے ڈیجیٹل اکانومی اور تعلیمی میدان میں مضبوط شراکت داری قائم کر سکتے ہیں۔

قومی اقلیتی دن پر سپیکر و ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کے پیغامات: اقلیتوں کا کردار قابلِ فخر اور آئینی حقوق محفوظ ہیں

منصور احمد, August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے 11 اگست ‘اقلیتوں کے قومی دن’ کے موقع پر اپنے خصوصی پیغامات میں ملک کی تعمیر و ترقی، دفاع، تعلیم اور صحت سمیت تمام شعبوں میں اقلیتی برادری کے گراں قدر کردار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اپنے پیغام میں کہا کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 25 کے تحت ملک کے تمام شہری بلاامتیازِ رنگ، نسل، جنس اور مذہب برابر ہیں اور انہیں مساوی قانونی تحفظ حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ 11 اگست 1947ء کو بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے اپنے تاریخی خطاب میں تمام شہریوں کو مکمل مذہبی آزادی، مساوات اور رواداری کی ضمانت دی تھی، اور موجودہ ریاست اسی وژن پر پوری طرح عمل پیرا ہے۔

سردار ایاز صادق نے قومی تاریخ میں غیر مسلم شخصیات کی نمایاں خدمات کا ذکر کرتے ہوئے سابق ڈپٹی سپیکر سی ای گبن، ایس پی سنگھا، جسٹس اے آر کارنیلیئس، جسٹس دراب پٹیل، جسٹس رانا بھگوان داس، ڈاکٹر رتھ فاؤ، سکواڈرن لیڈر سیسل چوہدری، گروپ کیپٹن کامران بشیر اور معروف سفارتکار جمشید مارکر کی خدمات کو ناقابلِ فراموش قرار دیا۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ قومی اسمبلی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے قانون سازی کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ اقلیتوں کا قومی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کے استحکام میں تمام مذاہب کے ماننے والوں نے حصہ لیا ہے۔ رواداری، باہمی احترام اور مذہبی آزادی ہی ایک مضبوط اور پرامن معاشرے کی بنیاد ہیں، اور پارلیمان تمام شہریوں کو مساوی مواقع کی فراہمی کے لیے اپنا فعال کردار ادا کرتی رہے گی۔

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا قومی اقلیتی دن کی تقریب سے خطاب: ملکی ترقی میں اقلیتوں کا کردار ناقابلِ فراموش ہے

منصور احمد, August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی اور تعمیر میں اقلیتی برادریوں کا کردار ناقابلِ فراموش ہے، اور ہر شہری کو حقوق، تحفظ اور مساوی مواقع فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ‘قومی اقلیتی دن’ کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پارلیمنٹرینز، اقلیتی کاکس کے ارکان اور سینیٹ سیکرٹریٹ کے اعلیٰ حکام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

چیئرمین سینیٹ نے یاد دہانی کرائی کہ انہوں نے 2009ء میں بطور وزیراعظم 11 اگست کو ‘قومی اقلیتی دن’ قرار دیا تھا تاکہ اقلیتوں کے مساوی مقام اور خدمات کا سرکاری سطح پر اعتراف کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی دور میں اقلیتی امور کی وفاقی وزارت کا قیام، ملازمتوں میں 5 فیصد کوٹہ اور سینیٹ میں اقلیتی نمائندگی جیسے تاریخی اقدامات کیے گئے تھے۔

سید یوسف رضا گیلانی نے تحریکِ پاکستان اور ملک کی تعمیر و ترقی میں اقلیتی رہنماؤں کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے دیوان بہادر ایس پی سنگھا، جوگندر ناتھ منڈل، جسٹس اے آر کارنیلیس، جسٹس دوراب پٹیل، جسٹس رانا بھگوان داس اور ڈاکٹر رتھ فاؤ کی خدمات کا خصوصی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج، عدلیہ، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اقلیتی شخصیات کا باب قابلِ فخر ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ میثاقِ مدینہ بین المذاہب ہم آہنگی کی روشن مثال ہے، جبکہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی ہمیشہ تمام شہریوں کے مساوی حقوق کے لیے جدوجہد کی۔ تقریب کے اختتام پر چیئرمین سینیٹ نے سینیٹر دنیش کمار اور پارلیمانی اقلیتی کاکس کی کاوشوں کو سراہا۔

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے یورپی پارلیمنٹ کے رکن اوندرے دوستال کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور پارلیمانی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال

کاشف عباسی , August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ممبر یورپین پارلیمنٹ اوندرے دوستال نے پارلیمنٹ ہاؤس میں اہم ملاقات کی، جس میں پاکستان اور یورپی یونین کے دوطرفہ تعلقات، پارلیمانی سفارت کاری اور اہم علاقائی و عالمی امور پر تفصیل سے بات چیت کی گئی۔

ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور دونوں ایوانوں کے درمیان پارلیمانی روابط اور باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ قومی اسمبلی نے قانون سازی، پارلیمانی اصلاحات اور عوامی فلاح کے امور پر نمایاں پیشرفت کی ہے، جبکہ خواتین و بچوں کے حقوق اور پائیدار ترقی کے اہداف کے لیے خصوصی کاکس اور سیکرٹریٹ فعال طور پر کام کر رہے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلیوں پر بات کرتے ہوئے سپیکر نے کہا کہ پاکستان گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں انتہائی کم حصہ رکھنے کے باوجود عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ اس حوالے سے قومی اسمبلی کا ‘گرین پارلیمنٹ منصوبہ’ ماحولیاتی تحفظ اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کا عملی ثبوت ہے۔

سردار ایاز صادق نے مزید کہا کہ پنجاب میں اساتذہ کی تربیت، فنی و پیشہ ورانہ تعلیم اور دیگر شعبوں میں اصلاحات قابلِ تحسین ہیں۔ پاکستان کے پاس باصلاحیت اور ہنرمند افرادی قوت موجود ہے جس سے یورپی یونین تعلیمی اور روزگار کے شعبوں میں استفادہ کر سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان دنیا بھر میں پائیدار امن کا خواہاں ہے اور تمام تنازعات کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتا ہے، جیسا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کا ثالثی کا کردار اس عزم کی روشن مثال ہے۔

یورپی پارلیمنٹ کے رکن اوندرے دوستال نے علاقائی امن، پارلیمانی سفارت کاری اور بین الاقوامی تعاون کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین اور پاکستان کے دوستانہ تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے قدرتی حسن کی بھی تعریف کی۔

لاہور ایئرپورٹ پر بڑی کارروائی: پی آئی اے کی ایئر ہوسٹس جرابوں میں لاکھوں کی غیر ملکی کرنسی چھپا کر جدہ لے جاتے ہوئے گرفتار

محمود احمد, August 10,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کسٹم اور ایف آئی اے حکام نے مشترکہ اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کی جدہ جانے والی پرواز سے ایک ایئر ہوسٹس کو بھاری مقدار میں غیر ملکی کرنسی بیرونِ ملک اسمگل کرنے کی کوشش کے الزام میں پرواز سے اتار کر گرفتار کر لیا ہے۔

حکام کے مطابق پی آئی اے کی پرواز پی کے 203 کے ذریعے جدہ روانہ ہونے والی ایئر ہوسٹس پر شک گزرنے پر اس کی تفصیلی تلاشی لی گئی، جس کے دوران اس کے قبضے سے 37 ہزار 318 امریکی ڈالر اور 40 ہزار سعودی ریال برآمد ہوئے۔ ذرائع کے مطابق یہ غیر ملکی کرنسی انتہائی مہارت کے ساتھ جرابوں میں چھپائی گئی تھی تاکہ ایئرپورٹ سیکیورٹی کو چکمہ دیا جا سکے۔

کسٹم حکام نے اسمگل کی جانے والی تمام غیر ملکی کرنسی کو تحویل میں لے کر متعلقہ قوانین کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے اور ملزمہ کو مزید تفتیش کے لیے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک کے پیچھے ممکنہ طور پر ملوث دیگر افراد کا سراغ لگانے کے لیے بھی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔

قانون دانوں اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی کرنسی کی اس طرح اسمگلنگ ملک کے لیے معاشی نقصان کا باعث بنتی ہے اور کسی بھی قومی ادارے کے ملازم کی جانب سے ایسی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر کڑا احتساب ضروری ہے، تاہم جرم کی حتمی ذمہ داری کا تعین عدالت اور قانونی کارروائی کے بعد ہی ہوگا۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے تاریخ رقم کر دی: داخلوں کے ساتھ ہی طلبہ کو درسی کتب کی ترسیل کا آغاز

روزینہ اسماعیل, August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے طلبہ کو بروقت تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے عزم کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ایک نئی مثال قائم کر دی ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود کی خصوصی ہدایات پر سمسٹر خزاں 2026ء کے داخلوں کا عمل جاری رہتے ہی داخلہ لینے والے طلبہ کو درسی کتب کی ترسیل بھی شروع کر دی گئی ہے۔ یونیورسٹی کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ داخلے جاری ہونے کے ساتھ ہی طلبہ کو درسی کتب کی فراہمی کا عمل بھی بیک وقت شروع کیا گیا ہے۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا کہ طلبہ کو کتب کے انتظار سے نجات دلانا اور بروقت تعلیمی مواد فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد طلبہ کو تعلیمی سفر کے آغاز ہی پر ضروری تعلیمی مواد فراہم کرنا اور فاصلاتی نظامِ تعلیم کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ یونیورسٹی کے سالانہ تعلیمی کیلنڈر کے مطابق کتب کی ترسیل مقررہ نظام الاوقات کے تحت مکمل کی جائے اور ہر طالب علم کو اس کے داخل شدہ کورسز کے مطابق کتب کا مکمل سیٹ بروقت فراہم کیا جائے۔

پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے گزشتہ سمسٹر کے دوران طلبہ کو کتب کے نامکمل سیٹس موصول ہونے سے متعلق شکایات کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ رواں سمسٹر میں اس نوعیت کی شکایات سامنے نہیں آنی چاہئیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ہر طالب علم کے منتخب کردہ کورسز کے مطابق کتب کا مکمل پیکٹ انتہائی احتیاط سے تیار کیا جائے اور اس کی بروقت ترسیل یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کتب کی تیاری اور ترسیل کے عمل میں دستیاب افرادی قوت، وسائل اور انتظامی صلاحیتوں کو مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جائے تاکہ طلبہ کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

شعبہ داخلہ کے ڈائریکٹر سید ضیاء الحسنین نے وائس چانسلر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پہلے مرحلے میں ایسوسی ایٹ ڈگری اِن آرٹس اور ایسوسی ایٹ ڈگری اِن کامرس کے طلبہ کو درسی کتب ارسال کی جا رہی ہیں جبکہ دیگر پروگرامز میں داخلہ لینے والے طلبہ کو بھی مرحلہ وار مقررہ نظام الاوقات کے مطابق کتب کی ترسیل جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ سمسٹر خزاں 2026ء میں داخلہ لینے والے تمام طلبہ کو درسی کتب کی ترسیل کا عمل 15 نومبر 2026ء تک مکمل کر لیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کتب کی ترسیل کے عمل کو داخلوں کے ساتھ مربوط کرنے سے طلبہ کو تعلیمی سرگرمیوں کے آغاز ہی سے اپنے متعلقہ کورسز کے مطالعاتی مواد تک رسائی حاصل ہوگی جس سے انہیں اپنی تعلیمی سرگرمیوں کی بروقت منصوبہ بندی اور مطالعے میں آسانی ہوگی۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا یہ اقدام محض کتب کی ترسیل کے نظام میں بہتری نہیں بلکہ طلبہ کے وقت کی قدر، تعلیمی تسلسل اور بروقت خدمات کی فراہمی کے عزم کا عملی اظہار ہے۔ داخلوں کے ساتھ ہی درسی کتب کی ترسیل کا آغاز فاصلاتی تعلیم کے طلبہ کے لیے ایک اہم سہولت ہے جو یونیورسٹی کی انتظامی کارکردگی، تعلیمی خدمات میں بہتری اور طلبہ مرکز پالیسیوں کے تسلسل کی عکاسی کرتا ہے۔

واپڈا نے ملک کے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے جاری اعداد و شمار جاری کر دیے، تربیلا ڈیم مکمل بھر گیا

روزینہ اسماعیل, August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے ملک بھر کے تمام اہم دریاؤں، بیراجوں اور ڈیموں میں پانی کی آمد و اخراج کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ پیر کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق تربیلا ڈیم اپنی انتہائی گنجائش تک بھر چکا ہے جبکہ دیگر اہم آبی ذخائر میں بھی پانی کا ذخیرہ تسلی بخش سطح پر موجود ہے۔

واپڈا رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد ایک لاکھ 99 ہزار 100 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 69 ہزار 300 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج 36 ہزار 200 کیوسک رہا، جبکہ خیرآباد پل پر آمد و اخراج 2 لاکھ 15 ہزار 300 کیوسک درج کیا گیا۔ دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر آمد 38 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 7 ہزار کیوسک رہا، جبکہ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 70 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 56 ہزار 200 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

بیراجوں کی صورتحال بیان کرتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا کہ جناح بیراج میں پانی کی آمد 2 لاکھ 72 ہزار 900 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 65 ہزار 200 کیوسک رہا۔ چشمہ بیراج میں آمد 2 لاکھ 53 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 44 ہزار 800 کیوسک جبکہ تونسہ بیراج میں آمد 3 لاکھ 30 ہزار کیوسک اور اخراج 3 لاکھ 9 ہزار کیوسک درج کیا گیا۔ سندھ کے بیراجوں میں گدو بیراج پر آمد 2 لاکھ 73 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 33 ہزار 300 کیوسک، سکھر بیراج پر آمد 1 لاکھ 81 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 28 ہزار 100 کیوسک جبکہ کوٹری بیراج پر آمد 1 لاکھ 71 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 30 ہزار 100 کیوسک ریکارڈ ہوا۔ علاوہ ازیں تریموں کے مقام پر آمد 46 ہزار 400 کیوسک اور پنجند بیراج پر آمد 52 ہزار 200 کیوسک درج کی گئی۔

آبی ذخائر اور ڈیموں کی صورتحال کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح اپنی انتہائی گنجائش 1550 فٹ تک پہنچ چکی ہے اور ڈیم مکمل بھر گیا ہے، جہاں آج قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 5.580 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1206.90 فٹ ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کی انتہائی گنجائش 1242 فٹ ہے، اور یہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 4.683 ملین ایکڑ فٹ موجود ہے۔ اسی طرح چشمہ ریزروائر میں پانی کی سطح 648.50 فٹ ہے اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.285 ملین ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

نئے ججز کی تعیناتی کی سمری روکے جانے کا تنازع: اسلام آباد ہائیکورٹ کا صدر، وزیراعظم اور وزارتِ قانون کو نوٹس جاری

منصور احمد, August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

اعلیٰ عدلیہ میں نئے ججز کی تعیناتی اور کنفرمیشن کی سمری کی منظوری نہ ہونے پر پیدا ہونے والا آئینی تنازع شدید تر ہو گیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس سنگین معاملے پر صدرِ مملکت، وزیراعظم اور وزارتِ قانون کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کل تک حتمی جواب طلب کر لیا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے درخواست گزار لقمان ظفر کی آئینی درخواست پر سماعت کی۔ کیس کی پیروی زاہد آصف چوہدری ایڈووکیٹ نے کی۔

سماعت کے دوران جسٹس ارباب محمد طاہر نے وفاقی حکومت کی عدم توجہی پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ “وفاقی حکومت کیا کر رہی ہے؟ کیا آپ کی اس اہم معاملے میں کوئی دلچسپی نہیں؟ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو اس سے کوئی غرض ہی نہیں۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تعیناتی کے ساتھ یہ کیا مذاق ہو رہا ہے؟ ہمیں امید تھی کہ وفاقی حکومت اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ سمری اس وقت کس مرحلے پر رکی ہوئی ہے؟”

فاضل جج نے مزید نشاندہی کی کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی جانب سے منظور شدہ سندھ اور پشاور ہائیکورٹ کے ججز کی کنفرمیشن کا معاملہ بھی روک دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح سمری اپنے پاس رکھ کر تو نہیں بیٹھا جا سکتا، پہلے 15 دن کی آئینی مدت کا کہا جا رہا تھا لیکن اب تو 18 دن گزر چکے ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل زاہد آصف چوہدری نے موقف اختیار کیا کہ آئین میں ججز تعیناتی کا طریقہ کار بالکل واضح ہے۔ مقررہ وقت گزر جانے کے بعد صدرِ مملکت اس طرح سمری کو روکے نہیں رکھ سکتے۔ اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی عدالت کو بتایا کہ قانونی و آئینی نقطہ نظر سے اب صدر اس سمری کو مسترد بھی نہیں کر سکتے۔

عدالت نے تمام فریقین اور وفاقی حکومت کو کل تک تفصیلی اور حتمی جواب جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور کویتی وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ: مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر مبارکباد، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

منصور احمد, August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الصباح کے درمیان اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں علاقائی صورتحال، مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کی تازہ ترین پیش رفت اور دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق گفتگو کے دوران کویتی وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الصباح نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ کے انعقاد پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو خصوصی مبارکباد پیش کی اور اس پیش رفت کو علاقائی سلامتی کے لیے اہم قرار دیا۔

ٹیلیفونک گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور کویت کے مابین تاریخی و برادرانہ دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے متعدد امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔ ترجمان نے بتایا کہ دونوں وزرائے خارجہ نے تجارت، معیشت اور سرمایہ کاری سمیت اہم شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے پر مکمل اتفاق کیا۔

مزید برآں، دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کی ابھرتی ہوئی صورتحال اور درپیش چیلنجز پر باہم مشاورت اور قریبی رابطہ برقرار رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

اپر چترال میں طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی: سڑکیں، پل اور مکانات متاثر، پاک فوج کی ریسکیو کارروائیاں جاری

منصور احمد, August 10,2026

اپر چترال (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

خیبرپختونخوا کے ضلع اپر چترال میں طوفانی بارشوں اور تباہ کن فلیش فلڈ (سیلابی ریلوں) نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں سڑکیں، پل، مکانات اور زرعی اراضی شدید متاثر ہوئی ہیں۔ ملبے اور مٹی کے بڑے پیمانے پر جمع ہو جانے کے باعث علاقے میں آمدورفت اور عام معمولاتِ زندگی معطل ہو کر رہ گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق جگھور گول، شوٹ اور ہنجوگول کے علاقوں میں آنے والے تیز رفتار سیلابی ریلوں نے بنیادی ڈھانچے، سڑکوں اور گلیوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ متعدد علاقوں کا رابطہ دیگر اضلاع سے کٹ گیا تھا اور کئی شہری سیلابی پانی میں پھنس کر رہ گئے۔

بحران کی اس صورتحال میں پاک فوج اور فرنٹیئر کور خیبرپختونخوا نارتھ کے جوان فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں پہنچے اور بڑے پیمانے پر امدادی و ریسکیو سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ سیکورٹی فورسز کے جوانوں نے سیلاب میں گھرے شہریوں کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔

اس کے ساتھ ساتھ بند سڑکوں اور شاہراہوں پر جمع ہونے والے مٹی اور پتھروں کے ملبے کو ہیوی مشینری کے ذریعے ہٹا کر سڑکوں کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے تاکہ امدادی سامان کی فراہمی میں دشواری پیش نہ آئے۔

مقامی رہائشیوں نے اس آفت کی گھڑی میں بروقت امدادی کارروائیوں اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے پر پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ سیکیورٹی فورسز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مشکل ترین حالات میں عوام کی جان و مال کا تحفظ اور ان کی بروقت مدد ہماری اولین ترجیح ہے اور تمام متاثرہ علاقوں میں بحالی کے مکمل ہونے تک ریسکیو و امدادی کام جاری رہیں گے۔

ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کا بڑا اعلان: مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ نیٹو جیسا اتحاد ہے، مصر بھی جلد شامل ہوگا

محمود احمد, August 09,2026

انقرہ (نیوز اینڈ نیوز) — 09 اگست 2026ء

ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ’ خطے میں جاری جنگ، بحرانوں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں علاقائی استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے قائم کیا گیا ہے، جو کہ نیٹو کی طرز کا ایک مضبوط دفاعی اتحاد ہے۔

ترک سرکاری خبر رساں ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ہاکان فیدان نے واضح کیا کہ ایران یا کوئی اور ملک اس دفاعی معاہدے کا براہِ راست ہدف نہیں ہے، اور جب تک اس اتحاد کے کسی رکن پر حملہ نہیں ہوتا، کسی دوسرے ملک کو اس سے کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ ناگفتہ بہ حالات میں علاقائی ممالک کے درمیان سلامتی اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہی مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی ضمانت ثابت ہو سکتا ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اگلے مرحلے میں مصر بھی اس اتحاد کا باقاعدہ حصہ بن جائے گا، کیونکہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب پہلے ہی مصر کے ساتھ اس انداز میں تعاون کر رہے ہیں جیسے وہ اس باقاعدہ دفاعی اتحاد کے رکن ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ مصر کی شمولیت میں چند تکنیکی اور انتظامی امور باقی ہیں جن کے حل ہوتے ہی مصر اس معاہدے میں باقاعدہ شامل ہو جائے گا۔

ہاکان فیدان نے مزید بتایا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی مخصوص ریاست کے خلاف نہیں بنایا گیا، بلکہ صدر رجب طیب اردگان کی سوچ کے مطابق اس کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ ضرورت پڑنے پر خطے کے دیگر ممالک کو بھی اسی دفاعی چھتری کے نیچے لایا جا سکے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں اس تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کی شقوں کے مطابق کسی بھی ایک رکن ملک پر عسکری یا بیرونی حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ تاریخی پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں عالمی تجارتی و بحری آمدورفت شدید متاثر ہو چکی ہے۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف شاندار فارم: بابر اعظم بطور قومی ٹیسٹ کپتان بہترین اوسط رکھنے والے بیٹر بن گئے

محمود احمد, August 09,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

پاکستان کی قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان اور عالمی شہرت یافتہ بیٹر بابر اعظم نے کرکٹ کی دنیا میں ایک اور شاندار سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ وہ پاکستان کی ٹیسٹ تاریخ میں بطور قائد (کپتان) سب سے بہترین بیٹنگ اوسط رکھنے والے بیٹر بن گئے ہیں۔

حال ہی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اختتام پذیر ہونے والی ٹیسٹ سیریز میں کپتان بابر اعظم نے زبردست فارم کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4 اننگز میں 96.50 کی بہترین اوسط سے مجموعی طور پر 193 رنز بنائے۔ وہ اس پورے سیریز کے سب سے کامیاب اور سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی رہے۔

سیریز کے پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں بابر اعظم نے 23 رنز بنائے جبکہ دوسری اننگز میں ذمہ دارانہ نصف سنچری اسکور کی۔ دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں ان کی 88 رنز کی قائدانہ اننگز نے قومی ٹیم کو 43 رنز کی اہم اور کلیدی برتری دلائی۔ بعد ازاں سیریز کے آخری میچ کی آخری اننگز میں بابر نے محض 30 گیندوں پر 2 چھکوں اور 2 چوکوں کی مدد سے ناقابلِ شکست 24 رنز بنا کر پاکستان کو 75 رنز کا ہدف باآسانی دلا دیا۔

اعداد و شمار کے مطابق بابر اعظم اب تک بطور ٹیسٹ کپتان 22 میچز میں 53.33 کی اوسط سے 1,920 رنز بنا چکے ہیں، جن میں 4 شاندار سنچریاں اور 13 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ یہ بطور کپتان 1,000 یا اس سے زائد ٹیسٹ رنز بنانے والے کسی بھی پاکستانی بیٹر کی سب سے زیادہ اوسط ہے۔

بطور ٹیسٹ کپتان بہترین بیٹنگ اوسط کی اس تاریخی فہرست میں دوسرے نمبر پر سلیم ملک ہیں جنہوں نے 52.35 کی اوسط سے 1,047 رنز بنائے۔ سابق کپتان عمران خان 52.34 کی اوسط سے 2,408 رنز بنا کر تیسرے، انضمام الحق 52.10 کی اوسط سے 2,397 رنز بنا کر چوتھے، مصباح الحق 51.39 کی اوسط سے 4,214 رنز بنا کر پانچویں جبکہ جاوید میانداد 50.08 کی اوسط سے 2,354 رنز بنا کر چھٹے نمبر پر موجود ہیں۔

بابر اعظم کی اس ریکارڈ ساز کارکردگی پر کرکٹ کے ماہرین اور شائقین کی جانب سے انہیں بے حد سراہا جا رہا ہے۔

پاکستان کی تاریخ فوجی اتحادوں سے بھری پڑی ہے، بیرونی سرپرستی نے ہمیشہ آمریت کو تقویت دی: افراسیاب خٹک

منصور احمد, August 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 09 اگست 2026ء

عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی غیر ملکی دفاعی یا فوجی معاہدے کا حصہ بننا کوئی نئی بات نہیں، بلکہ ملک ماضی میں بھی مختلف عالمی عسکری بلاکس کا اہم رکن رہ چکا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک تحریری بیان میں افراسیاب خٹک نے ملکی خارجہ و دفاعی پالیسی کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ماضی میں سیٹو اور سینٹو جیسے معاہدو ں کا باقاعدہ رکن رہا ہے، جبکہ بعد میں امریکہ کی جانب سے ‘نان نیٹو اتحادی’ کا درجہ بھی حاصل رہا۔ لہٰذا عسکری اتحادوں میں شمولیت پاکستان کی تاریخ میں پہلے بھی متعدد بار دیکھی جا چکی ہے۔

سابق سینیٹر نے تاریخ کے تلخ حقائق اور نتائج پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ ماضی کے تمام تجربات اس بات کے گواہ ہیں کہ بیرونی طاقتوں کے تعاون اور عسکری سرپرستی نے پاکستان میں جمہوریت کو فائدہ پہنچانے کے بجائے ہمیشہ غیر جمہوری عناصر اور آمریت کو تقویت بخشی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ محض بیرونی امداد یا دفاعی معاہدے کسی بھی ملک کے عوام کو حقیقی طور پر بااختیار نہیں بنا سکتے۔ ریاست کے پائیدار استحکام اور عوام کو سیاسی اختیار دینے کے لیے ملک کے اندرونی جمہوری نظام کا مضبوط ہونا اور آئین و قانون کی پاسداری ہونا بنیادی شرط ہے۔

افراسیاب خٹک نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ پاکستان میں عوامی اختیار اور حقیقی جمہوریت کے قیام کے لیے قانون کی حکمرانی، آزادانہ احتساب اور اداروں کی آئینی حدود میں کارکردگی ہی واحد راستہ ہے، جس سے ملک کو بحرانوں سے نکالا جا سکتا ہے۔

ایران حکومت کا تختہ الٹنے کا منصوبہ ناکام: موساد کے دو اعلیٰ عہدیدار برطرف، اسرائیلی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ میں شدید تناؤ

محمود احمد, August 09,2026

تل ابیب (نیوز اینڈ نیوز) — 09 اگست 2026ء

ایران کی حکومت کا تختہ الٹنے اور اندرونی مسلح بغاوت کا خفیہ منصوبہ ناکام ہونے کے بعد اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی “موساد” کے دو سینئر اور اعلیٰ عہدیداروں کو عہدوں سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے پر اسرائیل کی سیکیورٹی و انٹیلی جنس اسٹیبلشمنٹ میں شدید غم و غصہ اور ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔

اسرائیلی نشریاتی ادارے کی تحریری رپورٹ کے مطابق اس خفیہ اور جامع منصوبے کا مقصد ایران میں مختلف اقلیتی گروہوں، بالخصوص کرد علیحدگی پسندوں کو استعمال کر کے تہران حکومت کے خلاف ملک گیر مظاہروں اور مسلح تصادم کو ہوا دینا تھا۔ امریکی جریدے ‘نیویارک ٹائمز’ کی سابقہ رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کی حتمی توثیق وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کی تھی، جنہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی اس آپریشن پر عملدرآمد کے لیے راضی کیا تھا۔

منصوبے کے تحت ایران کے ایک ہمسایہ عرب ملک کے عراق میں قائم سفارت خانے اور اربیل (عراقی کردستان) میں واقع اس کے قونصل خانے کو مرکزی لاجسٹک ہب بنایا گیا تھا، جہاں سے ایرانی مظاہرین اور مسلح گروہوں کو جدید اسلہ، فنڈز، گاڑیاں اور اسٹار لنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ ڈیوائسز فراہم کی جا رہی تھیں۔ تاہم، تہران اور اس کے اتحادیوں کے خفیہ اداروں کو پیشگی اطلاع مل گئی، جس کے بعد ایرانی فورسز نے سرحدی کرد علاقوں اور متعلقہ قونصل خانے کے قریب تابڑ توڑ حملے کر کے منصوبے کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا اور کرد گروہوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ‘فاکس نیوز’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے کردوں کو فراہم کیا گیا بھاری خطیر رقم اور جدید اسلہ ایران پہنچنے کے بجائے راستے ہی میں ضائع یا ہڑپ کر لیا گیا۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق نیتن یاہو نے اس بڑے سٹریٹجک بلنڈر کی سیاسی و نظامی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے تمام تر ملبہ انٹیلی جنس ایجنسی پر ڈالتے ہوئے موساد کے دو اعلیٰ ترین آفیسرز کو فارغ کر دیا ہے، جس سے ملک کے عسکری و سیاسی حلقوں میں اندرونی کھینچ تان اور تناؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

اسرائیل کا ایران کے خلاف جعلی بیان گھڑنے کا انکشاف، جولائی میں امریکی خفیہ ٹھکانے پر ایرانی حملے میں درجنوں ہلاکتیں: جو کینٹ

محمود احمد, August 09,2026

یروشلم / واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 09 اگست 2026ء

اسرائیل کی جانب سے ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں ملوث ثابت کرنے کے لیے ایرانی حکام کا جعلی بیان گھڑنے اور دنیا کو گمراہ کرنے کا بڑا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ممتاز اسرائیلی صحافی رونن برگمین کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر احمد وحیدی کا ایک من گھڑت بیان تیار کیا گیا جس میں ان سے منسوب کیا گیا کہ ایران ایٹمی بم بنا رہا ہے۔

رونن برگمین کے مطابق یہ جعلی بیان سب سے پہلے بھارت میں ایک ہندو انتہا پسند اکاؤنٹ سے وائرل کروایا گیا، جس کے بعد اسرائیلی خفیہ ادارے موساد، ایک اسرائیلی ٹی وی چینل، وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے اسے دنیا بھر میں پھیلایا تاکہ ایران کے خلاف عالمی رائے عامہ کو بدلا جا سکے۔ اس انکشاف نے اسرائیلی اداروں کے دعوؤں اور بین الاقوامی سطح پر پھیلائی جانے والی غلط معلومات کی حقیقت کا پول کھول دیا ہے۔

دوسری جانب امریکی قومی سلامتی مرکز کے سابق ڈائریکٹر جو کینٹ نے ایک سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ماہ (جولائی) میں ایران نے خطے کے ایک اہم عرب ملک میں واقع سی آئی اے اور سینٹکام کے انتہائی خفیہ مشترکہ مرکز کو بالکل درست نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔

جو کینٹ کے مطابق اس پراسرار اور حساس ٹھکانے سے امریکی افواج کے اہداف اور جاسوسی کے آپریشنز چلائے جاتے تھے، جس کے بارے میں امریکی اتحادیوں کو بھی خبر نہ تھی۔ ایرانی میزائلوں کے اس دقیق حملے کے وقت وہاں سینکڑوں امریکی انٹیلی جنس اہلکار موجود تھے، جس کے نتیجے میں درجنوں ہلاکتیں ہوئیں اور اس دہلا دینے والے حملے نے پینٹاگون اور امریکی قیادت کو ہلا کر رکھ دیا۔

جو کینٹ نے مزید کہا کہ یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ کے محاذ عالمی طاقتوں کے لیے جدید ہتھیاروں اور ڈرون جنگ کی تجارتی تجربہ گاہیں بن چکے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کرپشن کیسز میں جیل جانے سے بچنے اور یوکرینی صدر زیلنسکی اپنے اقتدار کو طویل کرنے کے لیے جنگ ختم نہیں ہونے دے رہے۔

سابق ڈائریکٹر نے امریکی سیاسی قیادت کو متنبہ کیا کہ اندرونی معاشی دباؤ اور عدم استحکام کے شکار امریکہ کو اب نیتن یاہو کی بلیک میلنگ سے باہر نکلنا ہوگا، بصورتِ دیگر عالمی و علاقائی تباہی کے اثرات بدتر ہوتے چلے جائیں گے۔

جیانی انفینٹینو کی خلاف مہم: فیفا کی صدر اور ادارے کو کمزور کرنے کی منظم کوششوں کی سخت مذمت

محمود احمد, August 09,2026

زیورخ (نیوز اینڈ نیوز) — 09 اگست 2026ء

فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے اپنے صدر جیانی انفینٹینو اور ادارے کی انتظامی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی منظم مہم اور الزامات کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، فیفا کا یہ سخت موقف برطانوی اخبار ‘ڈیلی ٹیلی گراف’ کی اس خبر کے بعد سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یوئیفا کے سابق جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے جیانی انفینٹینو کے دور میں ایک مبینہ دوست کو ادارے سے الگ ہوتے وقت رقم ادا کی گئی تھی۔ فیفا کے ترجمان نے ان تمام دعوؤں کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ محض قیاس آرائیوں اور الزام تراشی کو حقائق کے طور پر پیش نہ کیا جائے۔

جیانی انفینٹینو کو ان دنوں ‘فیفا فارورڈ انٹرپرائز’ تجاویز کے بعد یوئیفا اور یورپین فٹبال ایسوسی ایشنز کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ایک نئی کمپنی قائم کر کے اس کا 21 فیصد حصہ ایک پرائیویٹ انویسٹمنٹ فرم کو فروخت کیا جانا تھا۔ یورپی باڈیز کی مخالفت کے بعد یوئیفا نے جیانی انفینٹینو پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے جبکہ نارویجن فٹبال فیڈریشن کی صدر لیس کلیوینس نے ان سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

دوسری جانب فیفا نے اپنا واضح موقف اپنایا ہے کہ صدر جیانی انفینٹینو تمام 211 رکن ایسوسی ایشنز کے مکمل جمہوری مینڈیٹ سے منتخب ہوئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جو عناصر جمہوری عمل کے ذریعے کامیاب نہیں ہو سکے، وہ اب غلط معلومات اور بے بنیاد الزامات کا سہارا لے رہے ہیں۔

یورپی تنظیموں کی شدید مخالفت کے باوجود جیانی انفینٹینو کو افریقی فٹبال کنفیڈریشن کے تمام 54 ممالک، جنوبی امریکی کنفیڈریشن اور میکسیکن فٹبال فیڈریشن کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ فیفا نے اپنے باضابطہ بیان میں اعادہ کیا ہے کہ ادارہ آئینی و قانونی جانچ پڑتال کا خیرمقدم کرتا ہے لیکن حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے والی کسی بھی مہم کا پوری طاقت سے مقابلہ کیا جائے گا۔

دنیا بھر میں 58 کروڑ سے زائد افراد ذیابیطس کا شکار، 25 کروڑ مریض اپنی بیماری سے بے خبر: ڈاکٹر سکندر اقبال

روزینہ اسماعیل, August 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 09 اگست 2026ء

دنیا بھر میں ذیابیطس (شوگر) کا مرض خطرناک حد تک پھیل چکا ہے اور اس وقت عالمی سطح پر تقریباً 58 کروڑ 90 لاکھ (589 ملین) بالغ افراد اس بیماری کا شکار ہیں، جبکہ 25 کروڑ 20 لاکھ (252 ملین) افراد ایسے ہیں جو ذیابیطس میں مبتلا ہونے کے باوجود اپنی اس طبی حالت سے مکمل بے خبر ہیں۔

معروف طبی ماہر ڈاکٹر سکندر اقبال نے اپنی ایک تحریری تجزیاتی رپورٹ میں عالمی ادارہ صحت اور انٹرنیشنل ڈائیبیٹیز فیڈریشن کی جاری کردہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دنیا بھر میں موٹاپا، پری ذیابیطس ، ٹائپ ٹو ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، نان الکوحلک فیٹی لیور اور دل کے امراض ایک عالمی وبا کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں ذیابیطس کی شرح عالمی سطح پر بلند ترین حدود کو چھو رہی ہے۔ پاکستان میں شوگر کے مرض میں اس تیزی سے اضافے کی بنیادی وجوہات غیر متوازن اور پروسیسڈ غذاؤں کا استعمال، جسمانی سرگرمیوں اور ورزش کی شدید کمی، موٹاپا اور غیر صحت مند طرزِ زندگی ہیں۔

ڈاکٹر سکندر اقبال کا کہنا تھا کہ صرف ادویات کے سہارے اس خاموش قاتل بیماری پر قابو پانا ناممکن ہے، جب تک کہ طرزِ زندگی میں بنیادی تبدیلیاں نہ لائی جائیں۔ انہوں نے جدید طبی تحقیق کے حوالے سے بتایا کہ شوگر کی روک تھام اور بہتر شوگر لیول برقرار رکھنے کے لیے ادویات کے ساتھ ساتھ صحت مند لائف اسٹائل اپنانا ناگزیر ہے۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظر اس وقت عالمی سطح پر ‘انٹرمٹنٹ فاسٹنگ’ وقتاً فوقتاً فاقہ یا روزے کا طریقہ) کا رجحان اور مقبولیت تیزی سے بڑھ رہی ہے، جو ذیابیطس کے کنٹرول اور موٹاپے کے خاتمے میں انتہائی مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔

عقیل کریم ڈھیڈی کا حکومت سے پالیسیوں میں تسلسل کا مطالبہ: “کوئی خوشخبری نہیں چاہیے، بس مزید بمبو نہ دیں”

محمود احمد, August 09,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 09 اگست 2026ء

پاکستان کی معروف کاروباری شخصیت اور ممتاز معاشی ماہر عقیل کریم ڈھیڈی نے کہا ہے کہ ان دنوں ملک میں نئی سرمایہ کاری کے حوالے سے مثبت پیش رفت کے قوی امکانات موجود ہیں، تاہم حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے غیر متوقع فیصلوں سے سخت گریز کرے جن سے تجارتی ماحول اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نقصان پہنچے۔

کراچی میں ذرائع ابلاغ اور تاجر برادری سے گفتگو کرتے ہوئے عقیل کریم ڈھیڈی نے معاشی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے مخصوص اور دو ٹوک انداز میں کہا کہ اس وقت کاروباری طبقے کو کسی بڑی سرکاری خوشخبری يا ڈرامائی پیکیج کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ حکومت سے صرف اتنی درخواست ہے کہ معیشت اور سرمایہ کاروں کے لیے مزید مشکلات پیدا کرنے والے فیصلے نہ کیے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے واضح امکانات موجود ہیں اور آنے والے دنوں میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ تاہم، اس موقع پر حکومت کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ کاروباری طبقے کا اعتماد بحال رکھے اور ایک مستحکم و سازگار ماحول فراہم کرے۔

عقیل کریم ڈھیڈی نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی معاملات میں طویل المدتی پالیسیوں کا تسلسل، شفافیت اور واضح فیصلے ہی کسی بھی معیشت کی ترقی کی ضمانت ہوتے ہیں۔ حکومت کو ایسے اچانک اور معاشی دھچکے دینے والے اقدامات سے بچنا چاہیے جو تجارتی حلقوں میں غیر یقینی صورتحال اور خوف پھیلاؤ کا باعث بنیں۔ انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں مگر گہری معاشی حقیقت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا، “ہمیں کسی نئی خوشخبری کی ضرورت نہیں، بس حکومت سے اتنی التجا ہے کہ مزید کوئی ‘بمبو’ مت دینا۔”

انٹرنیشنل نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ 2026ء: پاکستان نے جدہ میں ایک گولڈ اور دو سلور میڈل جیت کر تاریخ رقم کر دی

محمود احمد, August 08,2026

جدہ / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی سرپرستی اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز کے زیرِ انتظام تربیت یافتہ پاکستانی ٹیم نے سعودی عرب کے شہر جدہ میں منعقدہ تیسرے انٹرنیشنل نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 1 گولڈ اور 2 سلور میڈلز اپنے نام کر لیے ہیں۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے تعاون سے 2 سے 8 اگست تک منعقد ہونے والے اس عالمی مقابلے میں چین، روس، جاپان، ترکیہ، ملائیشیا، انڈونیشیا اور سعودی عرب سمیت 19 ممالک کے تقریباً 120 باصلاحیت طلبہ اور سائنسی ماہرین نے شرکت کی۔

پاکستان کے لیے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے طالب علم محمد علی نے شاندار سائنسی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے طلائی تمغہ حاصل کیا۔ جبکہ ایف جی سر سید کالج راولپنڈی کے محمد عثمان اور نکسر کالج کراچی کی سیرت فاطمہ بھٹی نے چاندی کے تمغے جیتے۔ سندر سٹیم اسکول لاہور کے سید شجاع حیدر نے بھی مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کی۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے مطابق ان طلبہ کا انتخاب ‘پاکستان نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ’ کے ذریعے شفاف عمل سے کیا گیا، جس کے بعد ‘پیاس’ کے ممتاز پروفیسروں اور ایٹمی سائنس دانوں نے انہیں جدہ مقابلے کے لیے اعلیٰ ترین تربیت فراہم کی۔

پاکستان 2027ء میں چوتھے انٹرنیشنل نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ کی میزبانی کرے گا اس عظیم کامیابی کے ساتھ ساتھ پاکستان نے ایک اور عالمی اعزاز بھی اپنے نام کر لیا ہے۔ پاکستان کو سال 2027ء میں ہونے والے چوتھے انٹرنیشنل نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ کی میزبانی کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔

اختتامی تقریب کے موقع پر پی اے ای سی کے ڈاکٹر محمد مقصود اور پیاس کے ڈاکٹر سجاد طاہر کو آئندہ سال کے میزبان ملک کے طور پر یادگاری سووینئر پیش کیا گیا۔ عالمی برادری کی جانب سے پاکستان کو میزبانی ملنا پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی، تعلیم اور سائنسی تعاون کے میدان میں پاکستان کے بین الاقوامی وقار کا اعتراف ہے۔