آٹھ بار کی ومبلڈن چیمپئن سیرینا ولیمز چار برس بعد ایونٹ میں واپسی پر پہلے ہی راؤنڈ میں شکست کھا گئیں، آسٹریلیا کی مایا جوائنٹ نے ہرا دیا

محمود احمد, JULY 01,2026

واشنگٹن: (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

آٹھ بار کی ومبلڈن ٹینس چیمپئن، امریکہ کی مایاناز کھلاڑی سیرینا ولیمز چار برس بعد اس باوقار ایونٹ میں اپنی واپسی کو خوشگوار بنانے میں ناکام رہیں اور انہیں پہلے ہی راؤنڈ میں اپ سیٹ شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لندن کے آل انگلینڈ کلب میں جاری سال کے تیسرے گرینڈ سلم ٹورنامنٹ کے ویمن ایونٹ میں دنیائے ٹینس کی مقتدر کھلاڑی سیرینا ولیمز کی کورٹ پر واپسی پورے چار سال بعد ہوئی تھی، مگر وہ پہلے راؤنڈ کا تزویراتی مرحلہ بھی عبور نہ کرسکیں۔ چوالیس سالہ سیرینا ولیمز نے آسٹریلیا کی مایا جوائنٹ کا پورے تین سیٹ تک بھرپور مقابلہ کیا۔ وہ پہلا سیٹ تین چھ کے اسکور سے ہار گئیں، تاہم انہوں نے شاندار کم بیک کرتے ہوئے دوسرا سیٹ ٹائی بریکر پر سات چھ سے اپنے نام کیا، لیکن تیسرے اور فیصلہ کن سیٹ میں وہ صرف تین گیمز جیت سکیں اور دو ایک کے مجموعی اسکور سے میچ ہار کر ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئیں۔

ٹورنامنٹ کے دیگر مقتدر مقابلوں میں ویمن ایونٹ کی نمبر آٹھ سیڈ یوکرین کی ایلینا سیوٹولینا بھی اپ سیٹ شکست کا شکار ہو کر ایونٹ سے باہر ہو گئیں، انہیں سنی گور نے دو سیدھے سیٹس میں سات پانچ اور چھ دو سے مات دی۔ دوسری جانب، نمبر دو سیڈ ایلینا ریبا کینا نے انتہائی دباؤ میں اپنا میچ جیت لیا، انہوں نے بوائسن کو چھ چار، ایک چھ اور چھ تین سے سخت مقابلے کے بعد شکست دی۔ اسی طرح نمبر تین سیڈ پولینڈ کی ایگا شیواٹک نے بھی اپنا میچ جیت کر اگلے راؤنڈ کے لیے کوالیفائی کر لیا، انہوں نے ٹاؤن سینڈ کو تین سیٹ کے دلچسپ مقابلے کے بعد چھ ایک، دو چھ اور چھ تین سے مات دی۔

مینز سنگلز کے مقتدر مقابلوں میں جرمنی کے نمبر دو سیڈ الیگزینڈر زیوریو نے چار سیٹ کے انتہائی دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد بیلجئم کے الیگزینڈر بلاگسک کو زیر کر کے اگلے مرحلے میں جگہ بنا لی۔ دوسری جانب سوئٹزرلینڈ کے مایہ ناز کھلاڑی اسٹین واورینکا کو پہلے ہی راؤنڈ میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، انہیں اٹلی کے میٹیو بیریٹینی نے چار سیٹ کے طویل اور اعصاب شکن مقابلے کے بعد چھ سات، سات چھ، سات چھ اور سات چھ کے اسکور سے شکست دے کر ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا۔

فرانسیسی اسٹار کایلیان ایم باپے نے جرمن فٹ بالر کلوزے کا ریکارڈ توڑ دیا، ورلڈ کپ تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے دوسرے کھلاڑی بن گئے

محمود احمد, JULY 01,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

دنیائے فٹ بال کے مقتدر اور مایہ ناز اسٹار کھلاڑی، فرانس کے کایلیان ایم باپے نے سوئیڈن کے خلاف میچ میں دو شاندار گول اسکور کر کے میگا ایونٹ کی تاریخ میں ایک نیا تزویراتی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ ان دو گولز کی بدولت وہ فٹ بال ورلڈ کپ کی تاریخ میں مجموعی طور پر سب سے زیادہ گول کرنے والے دنیا کے دوسرے کھلاڑی بن گئے ہیں، جہاں ان کے کل گولز کی تعداد اب اٹھارہ ہو گئی ہے۔ ایم باپے کے ان دو شاندار گولز نے انہیں فٹ بال کی دنیا کے منفرد ریکارڈز کا مالک بنا دیا ہے اور انہوں نے جرمنی کے سابق مقتدر فٹ بالر میروسلاو کلوزے کے سولہ گول کرنے کا دیرینہ ریکارڈ کامیابی سے توڑ دیا ہے۔

اس مقتدر ریکارڈ کے ساتھ اب وہ ارجنٹائن کے کپتان اور لیجنڈری فٹ بالر لیونل میسی سے صرف ایک گول پیچھے رہ گئے ہیں، جن کے ورلڈ کپ میں مجموعی گولوں کی تعداد انیس ہے۔ اس کے علاوہ فرانسیسی فارورڈ جاری ورلڈ کپ ٹورنامنٹ میں اب تک مجموعی طور پر چھ گول اسکور کر چکے ہیں، جس کے بعد وہ اس میگا ایونٹ میں چھ گول کرنے والے میسی کے برابر آ گئے ہیں اور ٹورنامنٹ کے سب سے باوقار انعام یعنی “گولڈن بوٹ” حاصل کرنے کی دوڑ میں مضبوط ترین امیدوار بن کر سامنے آئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق، ایم باپے ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کے انتہائی دباؤ والے ناک آؤٹ مرحلے میں بھی دنیا کے سب سے زیادہ گول کرنے والے مقتدر کھلاڑی بن گئے ہیں؛ میگا ایونٹس کے ناک آؤٹ راؤنڈز میں اب ان کے انفرادی گول کرنے کی کل تعداد دس ہو گئی ہے، جو ان کی شاندار تکنیکی مہارت اور تزویراتی کھیل کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ فرانسیسی عوامی اور اسپورٹس حلقوں نے ایم باپے کی اس تاریخی کارکردگی پر انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

دوحہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات جاری ہیں، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا انکشاف

https://images.openai.com/static-rsc-4/mGVmkBkIQMxRXU6ToycDTEhgT7R4tviSAkVn7rbNZbLjTo-SRX_tb4UAnw7qOSpmWVhIdqz9oaJwtiV3Q83onRWfDwj0zIqUJ0jla7S3gD_hhFVGEUVkSishwd48KYG-uOqWQzKIgutD2s2waUdOo4z507Wz8YUFBDpqrh-qbXWlo9LxEXn8hopltPTVoZQw?purpose=fullsize

محمود احمد, JULY 01,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے ملک اور ایران کے درمیان سفارتی و تکنیکی مذاکرات جاری ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے “بی بی سی” کے مطابق، امریکی نائب صدر نے واضح کیا ہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری ان اہم مذاکرات سے متعلق ایران کی عوامی سطح پر تردید دراصل ایک دانستہ “فارسی طرزِ مذاکرات” کا حصہ ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکی حکومت اور ایرانی حکومت کے درمیان پسِ پردہ تکنیکی سطح کی بات چیت مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔ “دی مائیکل نولز شو” کو دیے گئے اپنے ایک مقتدر انٹرویو میں جے ڈی وینس نے تصدیق کی کہ یہ مقررہ مذاکرات ہونے تھے، جو پہلے سے جاری سفارتی رابطوں اور بنیادی تزویراتی فریم ورک کے تحت یکم جولائی کو شیڈول کے مطابق ہو رہے ہیں۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے انٹرویو کے دوران کہا کہ تہران کے عوامی بیانات انہیں انتہائی دلچسپ اور کسی حد تک پریشان کن لگتے ہیں، کیونکہ ایرانی حکام ایک طرف کھلے عام امن مذاکرات کی تردید کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب اندرونی طور پر تکنیکی سطح کی بات چیت کو تسلیم بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایرانی کہتے ہیں کہ کوئی امن مذاکرات نہیں ہو رہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے مقتدر پہلوؤں پر تکنیکی مذاکرات جاری ہیں؛ یہ ایک خاص فارسی طرزِ مذاکرات اور بیانیہ ہے جسے سمجھنا عام طور پر مشکل ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، وائٹ ہاؤس کے مقتدر نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پیر کے روز اس وقت دوحہ کے لیے روانہ ہوئے تھے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باقاعدہ اعلان کیا تھا کہ ایران نے قطری دارالحکومت میں اعلیٰ سطح کی ملاقات کی باضابطہ درخواست کی ہے۔ اگرچہ ایران نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی براہِ راست ملاقات کی منصوبہ بندی کی سختی سے تردید کی ہے، تاہم ایرانی حکام نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے سفارتی مشاورت کا عمل مسلسل جاری ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کو کم کرنے کے لیے ایک اہم تزویراتی کوشش ہے۔

مسلح افواج کو عالمی معیار کے مطابق تیار کرنے کا عمل تیز کیا جائے گا، چینی صدر شی جن پنگ

کاشف عباسی , JULY 01,026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

چینی صدر شی جن پنگ نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ چین اپنی مسلح افواج کی عالمی معیار کے مطابق ترقی کو مزید تیز کرے گا اور مقررہ مدت کے اندر اپنے قومی دفاع اور فوج کی جدید کاری کا عمل ہر صورت مکمل کرے گا۔ روس کی مقتدر خبر رساں ایجنسی “تاس” کے مطابق، انہوں نے چینی کمیونسٹ پارٹی (سی پی سی) کے 105ویں یومِ تاسیس کی مناسبت سے منعقدہ ایک پروقار اور اعلیٰ سطحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں عالمی معیار کی چینی مسلح افواج کی ترقی کو تیز کرنا ہوگا، جبکہ فوج کے قیام کو 100 سال مکمل ہونے کے سلسلے میں طے شدہ تمام تزویراتی اہداف کو وقت پر حاصل کرنا ہوگا۔ چینی صدر نے زور دیا کہ ملک کی خودمختاری، قومی سلامتی اور اس کے ترقیاتی مفادات کا بھرپور دفاع کرنا چین کی اولین ترجیح ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے مقتدر خطاب میں اس بات پر گہرا زور دیا کہ ایک مضبوط ملک کی بقا اور خوشحالی کے لیے ایک مضبوط اور جدید فوج کا ہونا ناگزیر ہے، اور طاقتور مسلح افواج کے بغیر کسی بھی صورت قومی سلامتی کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین اپنی فوجی ترقی کے منفرد اور خودمختار راستے پر پوری ثابت قدمی سے گامزن رہے گا؛ اس مقصد کے لیے فوج کے سیاسی، تکنیکی، افرادی اور قانونی پہلوؤں کو مزید مربوط اور مضبوط بنایا جائے گا تاکہ چینی افواج نہ صرف اپنے ملک کا تزویراتی دفاع کر سکیں بلکہ عالمی امن، استحکام اور عالمی ترقی کے فروغ میں بھی دنیا بھر میں پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر اور کلیدی کردار ادا کر سکیں۔

ہیکرز نے اینڈرائیڈ و آئی او ایس ایپس سمیت آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کا کنٹرول سنبھال کر قرآنی آیت اور ویڈیو چلا دی؛ بھارت کے سائبر سیکیورٹی دعوؤں کا پول کھل گیا

محمود احمد, JULY 01,2026

نئی دہلی/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

نامعلوم ہیکرز کی جانب سے بھارتی ٹی وی چینلز پر تابڑ توڑ سائبر حملوں کا تزویراتی سلسلہ انتہائی شدت کے ساتھ جاری ہے، جس کے تحت ایک اور مقتدر بھارتی نیوز چینل کو کامیابی سے ہیک کر لیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، ہیکرز نے بھارت کے بڑے اور معروف نیوز چینل “اے بی پی نیوز” کو ہیک کر کے اس کی لائیو نشریات کو مکمل طور پر معطل کر دیا ہے۔ سائبر حملے کی زد میں صرف ٹی وی نشریات ہی نہیں آئیں بلکہ ہیکرز نے اے بی پی نیوز کے آفیشل اینڈرائیڈ اور آئی او ایس موبائل ایپلی کیشنز کو بھی مکمل طور پر ہیک کر کے اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔ ہیکنگ کے دوران ہیکرز نے اے بی پی کے آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارمز اور لائیو فیڈ پر قرآنی آیت اور خصوصی ویڈیو بھی دکھائی۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اے بی پی نیوز بھارت کا ایک انتہائی مقتدر اور بڑا میڈیا نیٹ ورک ہے، جس کے صرف یوٹیوب پر پندرہ ملین (ڈیڑھ کروڑ) سے زائد سبسکرائبرز ہیں جبکہ اس کی ماہانہ ویورشپ کا اندازہ تقریباً ایک سو چوبیس ملین (بارہ کروڑ چالیس لاکھ) سے زائد ہے۔ انیس سو اٹھانوے میں قائم ہونے والا یہ نیوز چینل ماضی میں “اسٹار نیوز” کے نام سے جانا جاتا تھا۔ سائبر سیکیورٹی کے مقتدر ماہرین کے مطابق، بھارت جو دنیا بھر میں آئی ٹی گرو ہونے کے بلند و بانگ دعوے کرتا ہے، اس کے بڑے میڈیا چینلز پر یکے بعد دیگرے ہونے والے ان کامیاب حملوں نے اس کے ڈیجیٹل دفاع اور سائبر سیکیورٹی کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیکنگ کے ان پے در پے لرزہ خیز واقعات نے بھارت کی سائبر سیکیورٹی، ڈیجیٹل تحفظ اور ڈیٹا انفراسٹرکچر کے دعوؤں پر سنگین تزویراتی سوالیہ نشانات لگا دیے ہیں۔ یہ تباہ کن سائبر حملے واضح طور پر ثابت کرتے ہیں کہ بھارت کی مجموعی سیکیورٹی، خصوصاً آئی ٹی کے شعبے کا انتظام انتہائی ناقص اور کمزور ہے، جو جدید دور کے سائبر خطرات کا مقابلہ کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔

خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کے خلاف سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ، اکہتر سال بعد دو بہنوں کو شرعی اور قانونی حصہ دینے کا حکم

منصور احمد, JULY 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے خواتین کو وراثتی جائیداد سے محروم کرنے کے خلاف ایک مقتدر اور تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے اکہتر سال بعد دو بہنوں کو قانون اور شریعت کے مطابق وراثت میں ان کا جائز حصہ دینے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے واضح طور پر قرار دیا ہے کہ زبانی ہبہ (تحفہ) ثابت کرنے کا تمام تر قانونی بوجھ ہمیشہ اس فریق پر ہوگا جو اس سے براہِ راست فائدہ اٹھا رہا ہو۔ جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے نور محمد کی اپیل منظور کرتے ہوئے چودہ صفحات پر مشتمل مقتدر تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے سول کورٹ، اپیلیٹ کورٹ اور ہائی کورٹ کے وہ تمام سابقہ فیصلے یکسر کالعدم قرار دے دیے جن میں زبانی ہبے کو درست تسلیم کر کے بہنوں اور والدہ کو وراثت سے محروم رکھا گیا تھا، جبکہ ریونیو حکام کو جائیداد کا تمام ریکارڈ قانون کے مطابق فوری درست کرنے کا حکم بھی جاری کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے مقتدر فیصلے میں تحریر کیا ہے کہ وراثت خاندان کے مرد افراد کی کوئی مہربانی، صوابدید یا تحفہ نہیں بلکہ یہ خواتین کا شرعی اور قانونی حق ہے، جو مورث کے انتقال کے ساتھ ہی خودبخود تمام جائز وارثوں کو منتقل ہو جاتا ہے۔ نجی معاہدوں، خاندانی دباؤ یا فرسودہ رسم و رواج کے ذریعے خواتین کو اس بنیادی حق سے کسی صورت محروم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالتِ عظمیٰ نے اپنے تزویراتی فیصلے میں قرار دیا کہ خواتین کو وراثت سے دور رکھنے کے لیے جعلی ہبہ، جائیداد کا جعلی انتقال یا کسی بھی قسم کی جعلسازی اور فراڈ عدالتوں میں ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا، جبکہ ماتحت عدالتوں کو ایسی ہر مشکوک ٹرانزیکشن کا انتہائی باریک بینی اور احتیاط سے جائزہ لینا چاہیے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ خواتین کے وراثتی حقوق علامتی یا اختیاری نہیں بلکہ لازمی حقوق ہیں اور انہیں صرف کاغذی حد تک نہیں بلکہ عملی طور پر بھی ان کا پورا حصہ ملنا چاہیے۔

مقتدر فیصلے کے مطابق ریکارڈ سے یہ ثابت ہوا کہ انیس سو پچپن میں والد کے انتقال کے بعد دونوں بھائیوں نے مبینہ زبانی ہبے کا موقف اختیار کرتے ہوئے پوری وراثتی جائیداد اپنے نام منتقل کرا لی تھی، جبکہ اپنی سگی والدہ اور بہنوں کو وراثت سے مکمل طور پر محروم کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگرچہ ماتحت عدالتوں نے اس زبانی ہبے کو درست تسلیم کیا، تاہم وہ بارِ ثبوت کے بنیادی قانونی اصول کو نظر انداز کر گئیں؛ کیونکہ زبانی ہبہ ثابت کرنے کی ذمہ داری ہمیشہ فائدہ حاصل کرنے والے فریق پر عائد ہوتی ہے، جبکہ ٹرائل کورٹ نے اس قانونی اصول کے بالکل برعکس خود ہبے کو ہی ثبوت تصور کر لیا، جو قانون کے منافی تھا۔ عدالتِ عظمیٰ نے کیس میں تاخیر سے دعویٰ دائر کرنے کا اعتراض بھی مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ محض اس ٹیکنیکل بنیاد پر خواتین کو ان کے ابدی قانونی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے اپیل منظور کرتے ہوئے تمام ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دے کر متعلقہ ریونیو حکام کو وراثتی ریکارڈ قانون کے مطابق درست کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

عالمی بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے پنجاب میں ڈیجیٹل ترقی کے لیے 7 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری دے دی

محمود احمد, JULY 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

عالمی بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے پنجاب میں ڈیجیٹل ترقی کو نئی رفتار دینے اور مقتدر انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے 7 کروڑ ڈالر کی خطیر مالی معاونت کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ یہ تزویراتی معاونت “کنیکٹڈ پنجاب پروگرام” کے تحت فراہم کی جائے گی، جس کا بنیادی مقصد صوبے بھر میں براڈبینڈ انٹرنیٹ کی رسائی کو بڑھانا، سرکاری خدمات کو جدید ترین ڈیجیٹل نظام سے ہم آہنگ کرنا اور روایتی نقد رقم کے بجائے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔ ورلڈ بینک کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، یہ پروگرام پاکستان کے قومی ڈیجیٹل وژن سے مکمل ہم آہنگ ہے اور وفاقی حکومت کے ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پراجیکٹ کے تحت تیار کیے جانے والے قومی ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کی تکمیل میں معاون ثابت ہوگا، جس کا مقصد وفاقی سطح پر کی جانے والی ڈیجیٹل سرمایہ کاری، پالیسیاں اور ٹیکنالوجی پنجاب کے شہریوں، کاروباری اداروں اور سرکاری محکموں تک مؤثر انداز میں پہنچانا ہے۔

عالمی بینک کے مطابق، اس منصوبے کے لیے فراہم کی جانے والی 7 کروڑ ڈالر کی آئی ڈی اے فنانسنگ پنجاب حکومت کے 20 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے مساوی شراکتی فنڈز کے ساتھ مل کر 27 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے مجموعی سرمایہ کاری پروگرام کا حصہ ہوگی۔ پاکستان میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازر نے اس حوالے سے بتایا کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل رابطہ محض ایک سہولت نہیں بلکہ پائیدار ترقی، روزگار اور مساوی مواقع کی مضبوط بنیاد بن چکا ہے؛ وفاقی حکومت نے پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے ایک جامع وژن پیش کیا ہے اور کنیکٹڈ پنجاب پروگرام اس وژن کو صوبے کے کروڑوں شہریوں کی دہلیز تک پہنچانے کا مقتدر ذریعہ بنے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ براڈبینڈ انفراسٹرکچر کی توسیع اور پنجاب کے ڈیجیٹل نظام کو مضبوط بنانے سے خصوصاً خواتین اور نوجوانوں کے لیے روزگار، کاروبار اور معیاری سرکاری خدمات تک رسائی کے نئے تزویراتی امکانات پیدا ہوں گے۔

عالمی بینک کے مطابق، پنجاب میں براڈبینڈ نیٹ ورک کی توسیع میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں ریگولیٹری پیچیدگیاں اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کے اخراجات شامل ہیں، اسی مقصد کے تحت یہ پروگرام رائٹ آف وے کے اجازت ناموں کے حصول کا عمل نمایاں طور پر آسان بنائے گا، جس کے تحت اجازت نامے جاری کرنے کا اوسط دورانیہ موجودہ 90 دن سے کم کر کے صرف 21 دن تک لایا جائے گا تاکہ نجی شعبے کی جانب سے فائبر آپٹک اور دیگر براڈبینڈ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔ پروگرام کے تزویراتی اہداف کے مطابق، جون 2031ء تک پنجاب میں فکسڈ براڈبینڈ کی رسائی 78 لاکھ افراد سے بڑھ کر 99 لاکھ افراد تک پہنچ جائے گی، جس کے نتیجے میں تقریباً 21 لاکھ نئے شہری پہلی مرتبہ تیز رفتار انٹرنیٹ سے مستفید ہو سکیں گے، جبکہ اسی عرصے میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں نجی شعبے کی جانب سے کم از کم 5 کروڑ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

منصوبے کا ایک اور اہم حصہ پنجاب کے سرکاری اداروں کی ڈیجیٹل صلاحیتوں میں اضافہ کرنا بھی ہے، جس کے لیے حکومت کے کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کو جدید بنایا جائے گا تاکہ مختلف سرکاری محکمے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی خدمات تیار کر سکیں اور انہیں بڑے پیمانے پر عوام تک پہنچا سکیں۔ عالمی بینک کے مطابق، اس اقدام سے جون 2031ء تک تقریباً 2 کروڑ 89 لاکھ افراد جدید ڈیجیٹل سرکاری خدمات سے فائدہ اٹھا سکیں گے، جبکہ پروگرام میں خواتین کی ڈیجیٹل شمولیت کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، صوبے میں نقد لین دین پر انحصار کم کرنے کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل انوائس مینجمنٹ سسٹم قائم کیا جائے گا، جو ادائیگیوں، انوائسز اور حکومتی رپورٹنگ کو ایک مربوط ادائیگی کے نظام کے تحت ایک دوسرے سے منسلک کر دے گا۔

شمالی علاقہ جات میں سیاحوں کا غیر معمولی رش، پی ٹی ڈی سی نے سیاحوں کے لیے اہم ٹریول ایڈوائزری جاری کر دی

منصور احمد, JULY 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن نے ذمہ دارانہ سیاحت آگاہی مہم کے تحت ملک کے مختلف حصوں بالخصوص شمالی علاقہ جات کی سیر کو جانے والے سیاحوں کے لیے ایک اہم اور مقتدر ٹریول ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ ٹریول ایڈوائزری کے مطابق، اس وقت ملک کے شمالی پہاڑی علاقوں میں سیاحوں کا غیر معمولی اور ریکارڈ رش دیکھا جا رہا ہے، جس کے پیشِ نظر تمام سیاحوں اور خاندانوں سے پرزور اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے سفر پر روانگی سے قبل متعلقہ مقامات پر ہوٹل یا رہائش کی پیشگی بکنگ لازمی طور پر یقینی بنائیں تاکہ وہاں پہنچ کر انہیں کسی بھی قسم کی دشواری، پریشانی یا تزویراتی مسئلے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

پی ٹی ڈی سی نے سیاحوں پر گہرا زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہمیشہ ایک منظم منصوبہ بندی اور مقتدر حکمتِ عملی کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز کریں تاکہ ان کا یہ سفر مکمل محفوظ اور خوشگوار رہ سکے۔ ٹریول ایڈوائزری میں سیاحوں کو سخت ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پہاڑی راستوں پر سفر کے دوران ٹریفک قوانین کا خاص خیال رکھیں، محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ موسم کی تازہ ترین صورتحال پر نظر رکھیں، اپنے ساتھ ضروری ادویات اور فرسٹ ایڈ کٹ لازمی رکھیں اور خوبصورت سیاحتی مقامات پر صفائی کا خاص خیال رکھتے ہوئے قدرتی ماحول کو آلودگی سے محفوظ بنانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔ پی ٹی ڈی سی نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی تزویراتی مسئلے یا ناگہانی ہنگامی صورتحال کی صورت میں سیاح فوری طور پر ٹورسٹ ہیلپ لائن چودہ بائیس پر رابطہ کر سکتے ہیں؛ ذمہ داری سے سفر کرنا اور ملک کے خوبصورت ماحول کا تحفظ کرنا ہر سیاح کی اجتماعی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

بیرون ملک مقیم پاکستانی قوم کا قیمتی اثاثہ ہیں، بہبود کے منصوبوں میں مزید تیزی لائی جائے، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی سخت ہدایت

کاشف عباسی , JULY 01,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بہبود اور ان کے مسائل کے فوری حل کے لیے جاری تمام تزویراتی منصوبوں اور اقدامات میں مزید تیزی لانے کی سخت ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی قوم کا انتہائی قیمتی اثاثہ ہیں جو دنیا بھر میں اپنی شبانہ روز محنت کی کمائی پاکستان بھیج کر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور معیشت کی مضبوطی میں اپنا مقتدر حصہ ڈالتے ہیں۔ بدھ کے روز وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے چیئرمین بورڈ آف گورنرز سید قمر رضا اور منیجنگ ڈائریکٹر او پی ایف افضال بھٹی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، جنہوں نے وزیراعظم ہاؤس میں ان سے ایک اعلیٰ سطحی تزویراتی ملاقات کی۔ اس مقتدر ملاقات کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو درپیش مختلف مسائل کے مستقل حل اور ان کی سہولت کے لیے فاؤنڈیشن کی جانب سے اٹھائے گئے حالیہ اقدامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

اس موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سماجی و معاشی بہبود اور ان کو ہر ممکنہ ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے او پی ایف کے مستقبل کے لائحہ عمل پر ایک تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ وزیراعظم نے اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے اب تک کے مقتدر اقدامات اور کارکردگی پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا اور اعلیٰ حکام کو ہدایت کی کہ تارکینِ وطن کے حقوق کے تحفظ اور سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنانے کے لیے ایک جامع اور فول پروف لائحہ عمل مرتب کر کے جلد از جلد پیش کیا جائے تاکہ اس پر فوری عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ ملاقات کے دوران چیئرمین بورڈ آف گورنرز سید قمر رضا اور ایم ڈی او پی ایف افضال بھٹی نے عالمی امن، علاقائی استحکام اور اوورسیز پاکستانیوں کے حقوق کے مقتدر تحفظ کے لیے وفاقی حکومت اور وزیراعظم شہباز شریف کی انتھک تزویراتی کاوشوں کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔

داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ نے ایک اور اہم تعمیراتی ہدف حاصل کر لیا، مین ڈیم پر فل سکیل آر سی سی ٹرائل کا باقاعدہ آغاز

منصور احمد, JULY 01,2026

داسو/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ نے تعمیراتی میدان میں ایک اور مقتدر اور اہم ترین سنگِ میل عبور کر لیا ہے، جس کے تحت پراجیکٹ پر فل سکیل رولر کمپیکٹڈ کنکریٹ (آر سی سی) ٹرائل کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ فل سکیل ٹرائل پراجیکٹ کے مین ڈیم پر آر سی سی ورکس کا باقاعدہ کام شروع کرنے سے پہلے ایک لازمی اور تزویراتی مرحلہ ہے۔ اس وقت انجینئرز اور تکنیکی ماہرین پر مشتمل مقتدر ٹیمیں مین ڈیم سائٹ کے بالکل قریب واقع مخصوص ٹرائل سیکشن میں آر سی سی بچھانے کے اس فل سکیل ٹرائل میں مصروف ہیں۔ اس اہم ترین مشق کا بنیادی مقصد تعمیراتی طریقہ کار کی گہرائی سے جانچ اور توثیق کرنا، ڈیم کی تعمیر کے یکساں اور اعلیٰ ترین معیار کو یقینی بنانا، لاجسٹک اور آپریشنل سسٹم کا تفصیلی جائزہ لینا، ممکنہ تکنیکی چیلنجز کی پیشگی نشاندہی کرنا اور پراجیکٹ پر موجود افرادی قوت کو جدید عملی تربیت فراہم کرنا ہے۔

مقتدر انجینئرز کے مطابق، ٹیسٹنگ سمیت یہ فل سکیل ٹرائلز مسلسل چار ماہ تک جاری رہیں گے، جس کے دوران کنٹریکٹر، کنسلٹنٹس اور واپڈا کی ماہر ٹیمیں ٹرائل کے تمام باریک تکنیکی پہلوؤں کا تفصیلی سائنسی تجزیہ کریں گی۔ اس ٹرائل کی کامیاب تکمیل کے بعد مین ڈیم پر آر سی سی ورکس کا باقاعدہ آغاز رواں سال کے آخر میں شیڈول ہے، تاہم مین ڈیم پر آر سی سی ورکس کا حتمی آغاز گنی ایریا سے درکار اہم تعمیراتی میٹریل پوزولان کی بروقت دستیابی پر منحصر ہے، کیونکہ گزشتہ دس سال پر محیط طویل کوششوں کے باوجود گنی ایریا کی قانونی تحویل اب تک واپڈا کو حاصل نہیں ہو پائی ہے۔ اس فل سکیل آر سی سی ٹرائل کے ساتھ ساتھ داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے تئیس مختلف ورک فرنٹس پر بھی تعمیراتی سرگرمیاں تیز رفتاری سے جاری ہیں، جن مقتدر ورک فرنٹس میں مین ڈیم کی بنیاد، زیرِ زمین پاور ہاؤس اور زیرِ زمین ٹرانسفارمر ہال کی تعمیر قابلِ ذکر ہے، جبکہ آر سی سی کی بڑے پیمانے پر تیاری کے لیے درکار کرشنگ اور بیچنگ پلانٹس کو بھی مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔

یہ امر انتہائی قابلِ ذکر ہے کہ بجلی کی سالانہ پیداوار کے لحاظ سے داسو پاکستان کا سب سے بڑا پن بجلی منصوبہ ہے، جو ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے نیشنل گرڈ کو ہر سال اکیس ارب یونٹ بجلی فراہم کرنے کی مقتدر صلاحیت رکھتا ہے۔ پراجیکٹ کی کل پیداواری صلاحیت چار ہزار تین سو بیس میگاواٹ ہے اور اسے دو تزویراتی مراحل میں تقسیم کر کے مکمل کیا جا رہا ہے، جہاں ہر مرحلے کی انفرادی پیداواری صلاحیت دو ہزار ایک سو ساٹھ میگاواٹ ہے۔ واپڈا اس وقت پراجیکٹ کے پہلے مرحلے پر انتہائی سرگرمی سے کام کر رہا ہے، جس کی کامیاب تکمیل کے بعد قومی گرڈ کو سالانہ بارہ ارب یونٹ صاف، ماحول دوست اور انتہائی کم لاگت پن بجلی فراہم کی جائے گی، جو ملک میں جاری توانائِی کے بحران پر قابو پانے کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگی۔

نائب مستقل مندوب عثمان جدون کا اقوامِ متحدہ کی پلجنگ کانفرنس سے مقتدر خطاب؛ یو این آر ڈبلیو اے کے دفاتر پر اسرائیلی قبضے اور قانون سازی کو مسترد کرتے ہوئے فنڈز میں اضافے کا اعلان

محمود احمد July 01,2026

اقوامِ متحدہ/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

پاکستان نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے امدادی و تعمیرِ نو کے ادارے (یو این آر ڈبلیو اے) کے تزویراتی مینڈیٹ کے تحفظ اور اسے مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس مقتدر ادارے کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنے کے لیے خاطر خواہ، مستقل اور قابلِ پیش گوئی مالی وسائل فراہم کیے جائیں۔ پاکستان نے یو این آر ڈبلیو اے کو نشانہ بنانے والی یکطرفہ اسرائیلی قانون سازی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کے سراسر منافی قرار دیا اور اس کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔ پاکستان نے یو این آر ڈبلیو اے کے دفاتر پر اسرائیلی چھاپوں اور ان پر زبردستی قبضے کے اقدامات کی بھی سخت مذمت کرتے ہوئے ادارے کے مینڈیٹ اور اس کی عملی خودمختاری کو کمزور کرنے کی ہر مذموم کوشش کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں یو این آر ڈبلیو اے کی تزویراتی معاونت کے لیے منعقدہ مقتدر پلجنگ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے بین الاقوامی قانون کے تحت یو این آر ڈبلیو اے کو حاصل تمام مراعات اور استثنیٰ کا مکمل احترام یقینی بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے گزشتہ سات دہائیوں کے دوران یو این آر ڈبلیو اے کی مقتدر خدمات کو شاندار خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ لاکھوں معصوم فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے ایک ناگزیر سہارا ہے، جو انتہائی دشوار اور جنگی حالات میں انہیں تعلیم، صحت، امداد، تحفظ اور پناہ جیسی بنیادی خدمات فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ یو این آر ڈبلیو اے محض ایک انسانی امدادی ادارہ نہیں بلکہ فلسطینی پناہ گزینوں کے حوالے سے منصفانہ اور پائیدار سیاسی حل تک بین الاقوامی برادری کی اجتماعی ذمہ داری کا عملی مظہر ہے۔

سفیر عثمان جدون نے اپنے تزویراتی خطاب میں اس بات پر گہرا زور دیا کہ جانیں بچانے والی امدادی خدمات انجام دینے والے انسانی ہمدردی کے کارکنوں کو کبھی بھی تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے موجودہ تنازع کے آغاز سے اب تک اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے والے تین سو بانوے یو این آر ڈبلیو اے اہلکاروں کی ہلاکتوں کا عالمی سطح پر احتساب کرنے کا مقتدر مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یو این آر ڈبلیو اے کے مینڈیٹ کو فلسطینی پناہ گزینوں کے حتمی سیاسی تصفیے کے مسئلے سے کسی صورت الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق مسئلے کا حل ادارے کو ختم کرنا نہیں بلکہ غاصب اسرائیلی قبضے کا فوری خاتمہ، بین الاقوامی قانون اور متعلقہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کو ممکن بنانا، اور انیس سو سڑسٹھ سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر دو ریاستی حل کو عملی شکل دینا ہے، جس میں القدس الشریف ایک آزاد اور خودمختار ریاستِ فلسطین کا مستقل دارالحکومت ہو۔

سفیر عثمان جدون نے عالمی برادری کو مقتدر حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ یو این آر ڈبلیو اے اس وقت تقریباً بائیس کروڑ امریکی ڈالر کے سنگین بجٹ خسارے کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث لاکھوں ضرورت مند فلسطینی پناہ گزینوں کو بنیادی خدمات کی فراہمی شدید خطرے سے دوچار ہو چکی ہے۔ انہوں نے یو این آر ڈبلیو اے کے عملے کی پیشہ ورانہ صلاحیت، غیر متزلزل عزم اور انتھک خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارے کے لیے مستقل، پائیدار اور بڑھتی ہوئی مالی معاونت محض ایک ضرورت نہیں بلکہ بین الاقوامی برادری کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری ہے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر عثمان جدون نے پاکستان کی جانب سے ایک بڑے تزویراتی اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان رواں سال یو این آر ڈبلیو اے کے لیے اپنی مالی معاونت میں مقتدر اضافہ کرے گا اور انہوں نے تمام رکن ممالک پر بھی زور دیا کہ وہ اپنی موجودہ مالی معاونت کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اسے مزید بڑھائیں۔

بلوچستان میں پیش آنے والے کسی بھی واقعے کو حقائق کے برعکس پیش کرنا عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے، وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی

کاشف عباسی ,june 30,026

کراچی/کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین تزویراتی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پیش آنے والے کسی بھی افسوسناک واقعے کو سوشل میڈیا پر حقائق کے برعکس پیش کرنا نہ صرف معصوم عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے بلکہ اس سے صوبے کے بارے میں ایک منفی تاثر بھی جنم لیتا ہے جس کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ منگل کے روز وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی خصوصی طور پر کراچی پہنچے اور دشت کے علاقے میں افسوسناک حادثے کا شکار ہو کر جاں بحق ہونے والے تاجر مرحوم علی مرتضیٰ کی رہائش گاہ گئے، جہاں انہوں نے سوگوار اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا، مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی کی اور پسماندگان کو صبرِ جمیل کی تلقین کی۔

اس مقتدر موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے اور اس حوالے سے کسی بھی سطح پر کوئی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے تزویراتی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد عناصر اب اپنی آخری سانسیں لے رہے ہیں اور ریاست ان کے ناپاک عزائم کے خلاف پوری قوت اور عزم کے ساتھ برسرپیکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن جب سامنے ہو تو اس کا مقابلہ کرنا آسان ہوتا ہے تاہم گرے زونز میں کارروائی کرنا ہمیشہ ایک مشکل کام ہوتا ہے، لیکن ہماری سیکیورٹی فورسز اور ریاست ہر قسم کے چیلنج سے نمٹنے کی بھرپور اور کامل صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ دشت میں پیش آنے والے انفرادی واقعے کو سوشل میڈیا پر توڑ مروڑ کر اور حقائق کے برعکس پیش کیا جا رہا ہے، ایسے گمراہ کن بیانیے کو روکنا اور سچ کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے واضح کیا کہ صوبے کی تمام بڑی شاہراہوں پر روزانہ ہزاروں کلومیٹر کا سفر کرنے والے لاکھوں شہری مکمل محفوظ انداز میں اپنی منزلوں تک پہنچتے ہیں، لہٰذا ایک انفرادی واقعے کو بنیاد بنا کر پورے صوبے کی امن و امان کی صورتحال کو خراب دکھانا سراسر ناانصافی ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے مرحوم علی مرتضیٰ کے غمزدہ اہل خانہ کو یقین دلایا کہ بلوچستان حکومت اس مشکل گھڑی میں انہیں کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے ایک بڑے ہمدردانہ اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم تاجر کی معصوم بچیوں کی مکمل کفالت اور ان کی اعلیٰ تعلیم و تربیت کی تمام تر مالی ذمہ داری بلوچستان حکومت اٹھائے گی تاکہ متاثرہ خاندان کو معاشی و سماجی طور پر ایک مضبوط سہارا فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ حکومت امن و امان کے مستقل قیام اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے اپنی مقتدر کوششیں مزید مؤثر انداز میں جاری رکھے گی۔

خصوصی بچوں کے لیے عالمی بہترین طریقہ کار اور معاون خدمات متعارف کرانے کا فیصلہ؛ حکومت پاکستان آٹزم کے حامل افراد کو جامع اور موثر ماحول فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے

روزینہ اسماعیل june 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے منگل کے روز وفاقی دارالحکومت میں “سینٹر آف ایکسی لینس فار آٹزم” کے ایڈوائزری بورڈ کے ایک اعلیٰ سطحی اور مقتدر اجلاس کی صدارت کی ہے، جس میں ادارے کی اب تک کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر سے متاثرہ معصوم بچوں کے لیے جامع تعلیم، ابتدائی طبی و نفسیاتی مداخلت اور دیگر معاون خدمات کو مزید مؤثر و فعال بنانے کے تزویراتی اقدامات پر غور کیا گیا۔ دفترِ خارجہ سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، اس اہم بیٹھک کے موقع پر حکومتِ پاکستان کے اس پختہ عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ملک میں آٹزم کے حامل تمام افراد کے لیے ایک جامع، ہمدردانہ اور مؤثر معاون ماحول فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ معاشرے کا مفید شہری بن سکیں۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے مقتدر حکام نے کمیٹی کو اسلام آباد میں آٹزم سے متاثرہ بچوں کے لیے قائم کیے جانے والے اس جدید ترین سینٹر آف ایکسی لینس کے سلسلے میں اب تک کیے گئے عملی اقدامات اور تزویراتی تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر آٹزم کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ملک کے معروف ترین طبی و تعلیمی ماہرین کی قیمتی آراء اور تجاویز بھی طلب کی گئیں تاکہ سینٹر کے ڈھانچے کو بین الاقوامی معیارات کے مطابق استوار کیا جا سکے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے متعلقہ وفاقی اداروں کو سخت ہدایت جاری کی کہ ان خصوصی بچوں کی نازک ضروریات کے مطابق معیاری تعلیم، جدید تھراپی اور دیگر ضروری خدمات کی فراہمی کے لیے دنیا بھر میں رائج بہترین تزویراتی طریقہ کار کو اپنایا جائے اور حکومت کے اس مخلصانہ عزم پر تیز رفتاری سے عمل درآمد کرتے ہوئے اس اسٹیٹ آف دی آرٹ سینٹر آف ایکسی لینس کو جلد از جلد فعال کیا جائے۔ اس مقتدر اجلاس میں وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ، وفاقی سیکریٹریز برائے تعلیم و صحت اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ ترین حکام نے بھی شرکت کی۔

مالی سال کے اختتام پر پاکستان کی معیشت نے گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین شرح نمو حاصل کر لی، ملکی معیشت کا حجم چار سو باون اعشاریہ ایک ارب ڈالر تک پہنچ گیا، وزارتِ خزانہ

منصور احمد june 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

وزارتِ خزانہ نے ملکی معیشت کے حوالے سے مقتدر اور انتہائی مثبت اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے اختتام پر پاکستان کی معیشت نے گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین شرح نمو حاصل کرتے ہوئے تین اعشاریہ سات فیصد کی رفتار سے ترقی کی ہے، جبکہ ملکی معیشت کا مجموعی حجم بڑھ کر چار سو باون اعشاریہ ایک ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ جون 2026ء کی ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق، سال کے آغاز میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور عالمی مارکیٹ میں اجناس کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے باوجود حکومت نے بہترین تزویراتی حکمتِ عملی سے معاشی استحکام برقرار رکھا، جس کی بدولت زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں مجموعی طور پر شاندار ترقی کا رجحان دیکھنے میں آیا اور ملک کی اوسط مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں رہتے ہوئے مقررہ ہدف کے اندر برقرار رہی۔

رپورٹ کے مطابق جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران سخت مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں ریکارڈ اضافے اور صوبائی سرپلس کی بدولت مالیاتی خسارے میں واضح کمی آئی، جبکہ بنیادی مالیاتی سرپلس جی ڈی پی کے تین اعشاریہ پانچ فیصد تک پہنچ گیا۔ وزارتِ خزانہ نے بتایا کہ بیرونی شعبے کی کارکردگی بھی انتہائی مستحکم رہی جس میں سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر، آئی ٹی برآمدات، مستحکم شرح مبادلہ اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری نے کلیدی کردار ادا کیا، جس کے باعث جولائی تا مئی مالی سال 2025-26 کے دوران ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ دو سو پچپن ملین ڈالر سرپلس میں رہا۔ رپورٹ کے مطابق حکومت کے عالمی مالیاتی ادارے کے پروگراموں پر کامیاب عمل درآمد، اور عالمی ریٹنگ ایجنسیوں فچ اور موڈیز کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں مقتدر بہتری کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بے پناہ اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں پاکستان نے چار سال بعد کامیاب یورو بانڈ جاری کیا، پانڈا بانڈ متعارف کرایا جبکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا کے ایس ای-100 انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو کر ایشیا کی تیز ترین ترقی کرتی ہوئی مارکیٹوں میں شامل ہو گیا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ زرعی شعبے نے سیلاب کے شدید نقصانات کے باوجود مالی سال 2025-26 میں دو اعشاریہ نو فیصد ترقی کی جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے اس شعبے کی شرح نمو کا تزویراتی ہدف تین اعشاریہ چھ فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ دوسری جانب بڑے پیمانے کی صنعت نے جولائی تا اپریل کے دوران چھ اعشاریہ چار فیصد کی شاندار ترقی ریکارڈ کی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں اس شعبے میں ایک اعشاریہ پانچ فیصد کی منفی کمی ہوئی تھی۔ مہنگائی کے حوالے سے بتایا گیا کہ مئی 2026ء میں مہنگائی کی سالانہ شرح گیارہ اعشاریہ سات فیصد رہی جبکہ جولائی تا مئی کے دوران اوسط مہنگائی محض چھ اعشاریہ سات فیصد ریکارڈ کی گئی۔ وفاقی محصولات جولائی تا اپریل کے دوران پانچ اعشاریہ اٹھ فیصد اضافے کے ساتھ آٹھ ہزار چھ سو ایک ارب روپے تک پہنچ گئے جبکہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں جولائی تا مئی کے دوران نو اعشاریہ سات فیصد اضافے سے گیارہ ہزار دو سو اٹھائیس اعشاریہ اٹھ ارب روپے رہیں۔ اسی عرصے میں مجموعی حکومتی اخراجات میں نو اعشاریہ نو فیصد کی نمایاں کمی آئی جس کی بڑی وجہ سود کی ادائیگیوں میں اکیس اعشاریہ نو فیصد کی ریکارڈ کمی تھی۔

وزارتِ خزانہ کے مقتدر تجزیے کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں جاری امن کوششوں کے باعث جغرافیائی کشیدگی میں کمی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نرمی سے درآمدی مہنگائی اور تیل کے درآمدی بل میں واضح کمی آئے گی، جبکہ جون 2026ء کے دوران مہنگائی گیارہ سے بارہ فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ وزارتِ خزانہ نے پرامید انداز میں واضح کیا ہے کہ پاکستان کی معیشت آئندہ بھی ترقی کی یہ شاندار رفتار برقرار رکھنے کی بھرپور تزویراتی صلاحیت رکھتی ہے؛ بڑے پیمانے کی صنعت، زرعی شعبے کی جاندار کارکردگی، مضبوط بیرونی کھاتوں، سخت مالیاتی نظم و ضبط اور بہتر معاشی اشاریوں کے باعث ملک کا معاشی استحکام مستقبل میں مزید مضبوط اور پائیدار ہوگا۔

پنجاب بھر میں سرکاری نرخنامے کی کھلی خلاف ورزی، دکانداروں نے قیمتیں پانچ سو روپے فی کلو تک پہنچا دیں؛ سوئی گیس کی لوڈ شیڈنگ سے پریشان عوام کا وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے منافع خوروں کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کا مطالبہ

منصور احمد june 30,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے جولائی کے مہینے کے لیے ایل پی جی کی سرکاری قیمتوں میں اڑسٹھ روپے فی کلو گرام کی مقتدر کمی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے جس کے بعد نئی سرکاری قیمت دو سو اکیانوے روپے فی کلو مقرر کر دی گئی ہے، تاہم اس تزویراتی ریلیف کے برعکس ملک بھر اور خاص طور پر پنجاب میں کہیں بھی سرکاری قیمت پر ایل پی جی دستیاب نہیں ہے۔ مارکیٹ میں ایل پی جی مافیا اور دکانداروں نے قیمتوں میں خودساختہ اور بے تحاشہ اضافہ کر کے سرکاری نرخنامے کی دھجیاں اڑا دی ہیں، جس نے غریب اور متوسط طبقے کے گھریلو صارفین کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ گیس مافیا ضلعی انتظامیہ کی ناک کے نیچے شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف ہے اور پبلک کو منافع خوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

مارکیٹ ذرائع سے حاصل ہونے والی مقتدر معلومات کے مطابق، اس سرکاری قیمت کے برعکس صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت پنجاب کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں دکاندار ایل پی جی چار سو اسی روپے سے لے کر پانچ سو روپے فی کلو تک کی ہوشربا اور غیر قانونی قیمت پر فروخت کر رہے ہیں۔ مقتدر ذرائع کا کہنا ہے کہ گیس مافیا اور دکانداروں کو پوچھنے والا کوئی ادارہ موجود نہیں ہے، جس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ منافع خور اپنی مرضی سے روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں دس سے بیس روپے فی کلو تک کا خودساختہ اضافہ کر دیتے ہیں۔ گیس کی قیمتوں میں اس من مانے اور غیر قانونی اضافے کی وجہ سے گھریلو صارفین کو شدید ترین معاشی مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ مہنگائی کے اس دور میں اب غریب آدمی کے لیے گیس سلنڈر بھروانا پہنچ سے بالکل باہر ہوتا جا رہا ہے۔

اس مقتدر صورتحال پر شدید احتجاج کرتے ہوئے شہریوں اور گھریلو صارفین کا کہنا ہے کہ ایک طرف سوئی گیس کی بدترین لوڈ شیڈنگ نے جینا محال کر رکھا ہے اور دوسری طرف ایل پی جی مافیا نے اوپن مارکیٹ میں لوٹ مار مچا رکھی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اوگرا کے سرکاری نرخ صرف کاغذوں اور نوٹی فکیشن کی حد تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ مقتدر عوامی حلقوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور تمام اضلاع کی ضلعی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ان بے لگام منافع خوروں اور گیس مافیا کے خلاف فوری طور پر سخت ترین تزویراتی کریک ڈاؤن کیا جائے، دکانوں پر چھاپے مار کر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں اور اوگرا کی مقرر کردہ سرکاری قیمت پر ایل پی جی کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔

لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے حادثے پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کا گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

کاشف عباسی ,june 30,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے افسوسناک حادثے کے نتیجے میں ہونے والے قیمتی جانی نقصان پر انتہائی گہرے دکھ، رنج اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ منگل کے روز وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس ناگہانی حادثے میں معصوم بچوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں اور لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کی ہے، جبکہ جاں بحق ہونے والے بچوں کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی مخلصانہ دعا کی ہے۔ وزیراعظم نے انتظامیہ کو سخت ہدایت جاری کی ہے کہ حادثے میں زخمی ہونے والے تمام بچوں اور افراد کی جلد صحت یابی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں اور انہیں ہسپتالوں میں ہر ممکن اور بہترین طبی امداد فوری طور پر فراہم کی جائے۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ایک کروڑ سے زائد مستحق خواتین کے لیے سوشل پروٹیکشن والٹس کے نظام کی جانب منتقل ہو رہا ہے؛ بی آئی ایس پی کا منتقل کردہ ہر ایک روپیہ مقامی معیشت میں دو اعشاریہ چوتیس روپے کی حقیقی آمدن پیدا کرتا ہے

منصور احمد june 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

چیئریٹر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے یو این ویمن کی ڈپٹی کنٹری نمائندہ فہمیدہ خان سے ایک اعلیٰ سطحی اور مقتدر ملاقات کی ہے، جس میں پاکستان کے اندر مستحق خواتین کو بااختیار بنانے اور سماجی تحفظ کے موجودہ اقدامات کو مزید سہل، شفاف اور تزویراتی طور پر مؤثر بنانے کے لیے باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ منگل کے روز جاری کردہ آفیشل اعلامیے کے مطابق، اس اہم بیٹھک کے دوران بینظیر ہنرمند پروگرام کے تحت بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والی خواتین کے لیے جدید ہنر مندی اور مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق تربیت کے مواقع فراہم کرنے پر بات چیت کی گئی، جبکہ بینظیر نشوونما پروگرام کے تحت ماں اور بچے کی صحت سے متعلق آگاہی کے فروغ کے لیے خصوصی خواتین بینیفشری کونسلز کے قیام، کاروباری مواقع کی فراہمی کے ذریعے خواتین کی معاشی خودمختاری کو فروغ دینے اور اس کے ساتھ ساتھ معاشرے کے پسماندہ طبقات بشمول خواجہ سراؤں اور غیر شادی شدہ مستحق خواتین کے لیے معاون اقدامات اٹھانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے حالیہ ورلڈ بینک کی تزویراتی تحقیق کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے وفد کو بتایا کہ بی آئی ایس پی کے ذریعے فراہم کی جانے والی مالی معاونت نہ صرف غریب خاندانوں کو سہارا دے رہی ہے بلکہ یہ مقامی معیشت کو مقتدر سطح پر مضبوط بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ اس عالمی تحقیق کے مطابق، بی آئی ایس پی کے ذریعے مستحقین کو منتقل کیے جانے والے ہر ایک روپے کے بدلے مقامی مارکیٹ اور معیشت میں تقریباً دو اعشاریہ چوتیس روپے کی حقیقی آمدن پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے سماجی تحفظ کے شعبے میں بین الاقوامی اداروں کے ساتھ باہمی اشتراک، تجربات کے تبادلے اور ایک دوسرے کے کامیاب ماڈلز سے سیکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مستحق خواتین تک مؤثر رسائی اور زیادہ مثبت نتائج حاصل کرنے کے لیے ڈیجیٹل اور روایتی آگاہی مہمات کو مزید مقتدر اور مضبوط بنانے کی شدید ضرورت ہے۔

سینیٹر روبینہ خالد نے ایک بڑے تزویراتی اقدام کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ بی آئی ایس پی اس وقت ایک کروڑ سے زائد مستحق خواتین کے لیے ڈیجیٹل سوشل پروٹیکشن والٹس کے جدید نظام کی جانب تیزی سے منتقل ہو رہا ہے، جو کہ ملک میں مالی شمولیت کے حوالے سے اپنی نوعیت کے سب سے بڑے تزویراتی اقدامات میں سے ایک ہے اور جس کا بنیادی مقصد خواتین کو محفوظ، مکمل شفاف اور انتہائی باوقار انداز میں مالی سہولیات اور وظائف تک براہِ راست رسائی فراہم کرنا ہے۔ یو این ویمن کی ڈپٹی کنٹری نمائندہ فہمیدہ خان نے خواتین کی معاشی بااختیاری کے لیے بی آئی ایس پی کے ان مقتدر اقدامات کو بھرپور انداز میں سراہا اور اس پروگرام کو ایک کامیاب اور مؤثر ماڈل قرار دیا جو پاکستان میں پسماندہ خواتین کی زندگیوں میں مثبت اور دیرپا تبدیلی لانے میں سماجی تحفظ کے حقیقی کردار کو واضح طور پر اجاگر کرتا ہے۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے مشترکہ وسائل کے فروغ، تکنیکی سطح پر باقاعدہ مشاورت کے تسلسل اور آئندہ کے تزویراتی لائحہ عمل کی تیاری کے لیے باہمی تعاون کو مزید مضبوط کرنے پر کامل اتفاق کیا۔

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ بھارتی معطلی غیر قانونی اور جنوبی ایشیا کے امن کے لیے سنگین تزویراتی خطرہ ہے، اسلام آباد بین الاقوامی سیمینار کا مقتدر اعلامیہ

کاشف عباسی ,june 30,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت، وفاقی وزراء، بین الاقوامی قانونی ماہرین اور عالمی پالیسی تجزیہ کاروں نے بھارت کی جانب سے تاریخی سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر معطل کرنے کے فیصلے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سخت خبردار کیا ہے کہ نئی دہلی کے یہ جارحانہ اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قانونی نظام کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں، بلکہ جنوبی ایشیا میں ایک ہولناک تزویراتی تصادم اور جنگ کے خطرات کو بھی ہوا دے رہے ہیں۔ منگل کے روز وفاقی دارالحکومت میں انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز کے زیرِ اہتمام وزارتِ اطلاعات و نشریات کے خصوصی اشتراک سے ’’سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ایک ذریعہ‘‘ کے عنوان سے ایک مقتدر بین الاقوامی سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں متفقہ طور پر واضح کیا گیا کہ 1960ء کا یہ معتبر معاہدہ ایک بین الاقوامی طور پر پابند تصفیہ ہے، جسے کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر معطل، منسوخ یا تبدیل کرنے کا قانونی اختیار نہیں رکھتا۔ سیمینار کے مختلف فیزز سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ عالمی موسمیاتی بحران کے اس نازک دور میں بھارت کی جانب سے معاہدے کے تحت لازمی آبی ڈیٹا کی فراہمی روکنا اور معائنہ جاتی سرگرمیوں کو التواء میں ڈالنا درحقیقت پانی کو بطور عسکری ہتھیار استعمال کرنے کی ایک مذموم اور خطرناک کوشش ہے، جو پاکستان کے چوبیس کروڑ سے زائد عوام کی زندگیوں، غذائی تحفظ اور روزگار کے لیے براہِ راست وجودی خطرہ ہے۔ ماہرین نے یاد دلایا کہ پاکستان کی اسی فیصد سے زائد قابلِ کاشت اراضی اور زرعی معیشت کا انحصار دریائے سندھ کے نظام پر ہے، اس لیے ڈیٹا کا تبادلہ اور معمول کے طریقہ کار انسانی سلامتی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہیں۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اپنے مقتدر خطاب میں کہا کہ بھارت نے اس تاریخی معاہدے کو معطل کر کے خطے کو ایک بڑے تنازعے کی بھٹی میں جھونک دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد پار دریا ممالک کو دور کرنے کے بجائے قریب لانے کا ذریعہ ہوتے ہیں، اور پاکستان نے اسی جذبے کے تحت ماضی میں نمایاں رعایتیں دے کر یہ معاہدہ برقرار رکھا تاکہ طویل المدتی پیش بینی اور استحکام میسر آ سکے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کے اس غیر ذمہ دارانہ رویے کا سختی سے نوٹس لے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ پاکستان کی قدیم تہذیب اور شناخت کی بنیاد ہے اور پاکستانیوں کو اس کے پانیوں پر ناقابلِ تنسیخ حق حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا موقف بالکل واضح ہے کہ اس معاہدے میں کسی قسم کی یکطرفہ ترمیم ممکن نہیں؛ یہ باہمی رضامندی سے وجود میں آیا تھا اور اس میں تبدیلی کے لیے بھی باہمی رضامندی ہی درکار ہے۔ اگر پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش کی گئی تو ہماری قومی قیادت اور مسلح افواج عوام کے حق کے تحفظ کے لیے مؤثر اور دندان شکن جواب دینے کا کامل عزم رکھتی ہیں۔ یکطرفہ معطلی کی ناکام کوششوں سے بھارت کو خود عالمی فورمز پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بھارت کے ان غیر قانونی اقدامات کو پاکستان کے خلاف باقاعدہ جنگی اقدام تصور کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے تزویراتی موازنہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کی بندش کے ساتھ دنیا میں امن کا تصور ممکن نہیں، تو کوئی یہ کیسے توقع کر سکتا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے باوجود خطے میں امن اور استحکام قائم رہے گا؛ بھارت نے ہماری شہ رگ پر وار کر کے پانی کو ہتھیار بنایا ہے، جو کہ ایک وجودی حملہ ہے؛ پاکستان جنگ نہیں چاہتا، لیکن ہماری دفاعی صلاحیت کا مقصد ہی ایسے وجودی خطرات کو کچلنا ہے۔ انہوں نے پانی سمیت عالمی مشترکہ وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف ایک نئے بین الاقوامی کنونشن کا بھی پرزور مطالبہ کیا۔ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے اس بحران کو انصاف کا بحران قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت واضح کر چکی ہے کہ بھارت پاکستان کے مغربی دریاؤں پر یکطرفہ آبی ذخائر نہیں بنا سکتا، لیکن نئی دہلی عدالت کے فیصلوں کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے؛ اگر یہ مضبوط ترین معاہدہ، جو تین جنگوں میں بھی قائم رہا، سبوتاژ ہو گیا تو دنیا کا کوئی بھی آبی معاہدہ محفوظ نہیں رہے گا۔

پاکستان کے انڈس واٹرز کمشنر سید مہر علی شاہ نے کہا کہ معاہدے کا آرٹیکل نو تنازعات کے حل کا واضح طریقہ کار دیتا ہے اور بھارت کا ڈیٹا روکنا خود اس کے اپنے دستخطوں کی توہین ہے۔ سابق وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان نے بھارت کی عسکری چالوں کو بے نقاب کرتے ہوئے بگلیہار اور سلال ڈیموں کے گیٹ بند کرنے اور مغربی دریاؤں پر آبی منصوبوں کی تیز رفتار غیر قانونی تعمیر کی تفصیلات پیش کیں۔ سابق نگراں وفاقی وزیر قانون احمر بلال صوفی نے بین الاقوامی قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سرحدی دریا عالمی اثاثے ہیں، بھارت ان پر ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور اس کی جانب سے معطلی کا اعلان خود اس کے جرم کا اعتراف ہے، جس پر پاکستان کو تزویراتی جواب کا پورا قانونی حق حاصل ہے۔ سابق وزیر مملکت خارجہ حنا ربانی کھر نے آرٹیکل بارہ کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ معاہدے میں کسی بھی تبدیلی کا طریقہ کار طے ہے، بھارت عالمی غیر یقینی صورتحال کا فائدہ اٹھا کر مکر رہا ہے، لہٰذا پاکستان کو عالمی سفارت کاری کے تمام قانونی ذرائع بروئے کار لانے چاہئیں۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے سابق صدر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عامر ریاض نے نئی دہلی کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے ایک پنج نکاتی حکمتِ عملی پیش کی، جس میں قانونی و سفارتی طریقہ کار، تکنیکی و آپریشنل تیاری، ڈومیسٹک واٹر مینجمنٹ سسٹم کی پائیداری، اپنی ریڈ لائنز کی واضح تعریف اور مربوط ڈیٹرنس یعنی مضبوط دفاعی ردِعمل کو بروئے کار لانا شامل ہے؛ کیونکہ بھارت دریائے سندھ پر دو، جہلم پر پانچ بشمول کشن گنگا اور چناب پر متعدد ڈیمز بنا کر پاکستان کو تنہا اور کمزور کرنے کی مسلسل کوشش کر رہا ہے۔

سیمینار میں عالمی طاقتوں کے ماہرین نے بھی بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کے موقف کی کھل کر تائید کی۔ بیجنگ میں سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن کے نائب صدر پروفیسر وکٹر گائو نے بھارتی معطلی کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا اور تجویز دی کہ چین کو اس معاہدے کا حصہ بنا کر اسے سہ فریقی فریم ورک دیا جائے۔ انہوں نے بھارت کو یاد دلایا کہ وہ خود چین کے لیے زیریں کنارے کا ملک ہے؛ اگر بھارت نے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے پانی روکا، تو چین بالائی کنارے کا ملک ہونے کے ناطے بھارتی عزائم کا راستہ روک سکتا ہے۔ انہوں نے خطے میں امن کے لیے پاکستانی وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی کوششوں کو سراہتے ہوئے انہیں نوبل امن انعام کا مضبوط امیدوار قرار دیا۔ روسی ماہر ڈاکٹر روکسولانا زیگون نے بالائی علاقوں میں بھارتی ڈیموں کی تعمیر کو خطے کے عدم استحکام کی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے، اشتعال انگیز بیانات کے باوجود پاکستانی پالیسی سازوں کے مقتدر اور ذمہ دارانہ رویے کی تعریف کی۔ امریکہ سے تعلق رکھنے والی مصنفہ اور عالمی پالیسی ماہر لاری واٹکنز نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ پاکستان کے خطوط کا جواب نہ دینا اور ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا روکنا بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور ویانا کنونشن کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اپنے اختتامی کلمات میں آئی آر ایس کے صدر جوہر سلیم نے واضح کیا کہ پائیدار امن صرف بین الاقوامی قوانین کے احترام اور اداروں کی قدر سے ہی ممکن ہے؛ دیرپا آبی تحفظ کا انحصار شفافیت اور پیش بینی پر ہے، اور آگے بڑھنے کا واحد مقتدر راستہ یہی ہے کہ سندھ طاس معاہدے پر اس کے متن اور روح دونوں کے مطابق مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

استنبول تعلیمی سمٹ: پاکستان اور ترکیہ کے مابین تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور تعلیمی ٹیکنالوجی میں تزویراتی تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق

روزینہ اسماعیل june 30,2026

استنبول/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے ترکیہ کے تاریخی شہر استنبول میں منعقدہ “ترکیہ ایجوکیشن ٹیکنالوجیز سمٹ اینڈ فیئر ( 2026)” کے مقتدر موقع پر ترکیہ کے وزیرِ قومی تعلیم یوسف تکین سے ایک اعلیٰ سطحی اور تزویراتی ملاقات کی، جس میں دونوں برادر ممالک کے مابین تعلیم، ہنرمندی، پیشہ ورانہ تربیت، تعلیمی ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کی استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں باہمی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر کامل اتفاق کیا گیا۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلیمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم، زبانوں کی تدریس، ڈیجیٹل لرننگ، ثقافتی روابط اور دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان فعال اشتراکِ عمل کو فروغ دینے کے تمام تزویراتی پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

اس مقتدر ملاقات کے دوران ایک جامع تعلیمی تعاون کے معاہدے پر دستخط کرنے، تیز رفتار پیش رفت کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس قائم کرنے اور دونوں ممالک کے اہم تعلیمی اداروں کے مابین مؤثر و براہِ راست روابط کو فروغ دینے کا تزویراتی فیصلہ کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے جدید دنیا کے تقاضوں کے مطابق تعلیم میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار، خصوصاً زبانوں کی تدریس کے شعبے میں تعاون کے وسیع امکانات پر گہری گفتگو کی۔ اس ضمن میں پاکستان میں ترک زبان اور ترکیہ میں اردو زبان کی ترویج و تدریس کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ترین ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی مشترکہ تیاری اور منصوبوں پر فوری کام شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا تاکہ عوامی روابط اور ثقافتی ہم آہنگی کو مزید مقتدر بنایا جا سکے۔

وزیرِ مملکت وجیہہ قمر نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان ترکیہ کے ساتھ اپنے تاریخی، برادرانہ اور دیرینہ تعلقات کو انتہائی مقتدر اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے مابین پہلے سے موجود معاہدوں پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے اور جدید دور کے مطابق نئے تزویراتی فریم ورک تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، ہنرمندی، ڈیجیٹل لرننگ، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت اور تعلیمی جدت کے شعبوں میں یہ مشترکہ اقدامات دونوں ممالک کے نوجوانوں کے روشن مستقبل اور پائیدار ترقی میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

ترکیہ کے وزیرِ قومی تعلیم یوسف تکین نے پاکستان کے ساتھ تعلیمی تعاون کو غیر مشروط طور پر مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان گہرے تاریخی و تمدنی تعلقات کو مشترکہ تعلیمی منصوبوں، علمی روابط اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی اسٹریٹجک شراکت داری کے ذریعے مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔ اس مقتدر ملاقات میں پاکستان میں ترکیہ کے تعلیمی قونصلر، وزارتِ قومی تعلیم ترکیہ کے ڈائریکٹر جنرل برائے یورپی یونین و خارجہ امور سمیت دونوں ممالک کے اعلیٰ ترین حکام بھی موجود تھے۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مشترکہ تعلیمی اہداف کے حصول کے لیے قریبی و مسلسل رابطہ برقرار رکھا جائے گا اور طے شدہ تزویراتی اقدامات کو جلد از جلد عملی شکل دی جائے گی۔

سندھ طاس معاہدے کو سہ فریقی بنا کر چین کو شامل کیا جائے، پانی روکنے کی دھمکی انسانیت کے خلاف جرم ہے، چینی ماہر پروفیسر وکٹر گائو

کاشف عباسی ,june 30,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

بیجنگ کے مقتدر تھنک ٹینک “سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن” (سی سی جی) کے صدر اور عالمی امور کے نامور ماہر پروفیسر وکٹر گائو نے سندھ طاس معاہدے پر اس کی اصل روح کے مطابق مکمل عملدرآمد پر زور دیتے ہوئے ایک اہم تزویراتی تجویز پیش کی ہے کہ چین کو بھی اس تاریخی معاہدے کا حصہ بنایا جائے تاکہ اسے ایک مضبوط سہ فریقی فریم ورک کی شکل دی جا سکے۔ منگل کے روز اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے مقتدر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سرحد پار دریاؤں کے پائیدار انتظام و انصرام کے لیے اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کی سرپرستی میں ایک جامع بین الاقوامی ضابطہ اخلاق مرتب کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

پروفیسر وکٹر گائو نے اپنے خطاب میں یاد دلایا کہ گزشتہ سال جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کا پانی روکنے کی تزویراتی دھمکی دی تھی، تو انہوں نے خود بھارتی ٹیلی وژن چینلز کو دیے گئے اپنے خصوصی انٹرویوز میں اس جارحانہ موقف کی کھل کر مخالفت کی تھی۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ امن کے زمانے میں کروڑوں معصوم انسانوں کو پانی جیسی بنیادی نعمت سے محروم کرنے کی دھمکی دینا سراسر ’’انسانیت کے خلاف جرم‘‘ ہے، جبکہ جنگ کے دوران ایسا کوئی بھی اقدام اٹھانا باقاعدہ ’’جنگی جرمکے زمرے میں آتا ہے؛ اسی لیے انہوں نے نئی دہلی کو سختی سے مشورہ دیا تھا کہ وہ اس خطرناک راستے پر چلنے سے باز رہے۔

چینی ماہر نے بھارت کو خطے کے جغرافیائی حقائق کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اگرچہ پاکستان دریائے سندھ کے بہاؤ کے اعتبار سے زیریں (ڈاؤن اسٹریم) ملک ہے، تاہم بھارت بھی اس نظام میں آخری بالائی (اپ اسٹریم) ریاست نہیں ہے کیونکہ دریائے سندھ کا اصل منبع ہمالیائی خطہ (تبت) ہے۔ انہوں نے عظیم چینی فلسفی کنفیوشس کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کو ایسا اقدام نہیں کرنا چاہیے جسے وہ خود اپنے خلاف برداشت کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ جب ایک بھارتی ٹی وی اینکر نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ بھارت کو دھمکی دے رہے ہیں، تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ “دوسروں کے ساتھ وہ سلوک نہ کرو جو تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے”۔ انہوں نے مقتدر انداز میں واضح کیا کہ چین اور پاکستان کے باہمی احترام پر مبنی اسٹریٹجک تعلقات کا تقاضا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تقدس کو ہر صورت برقرار رکھا جائے اور چین-پاکستان قریبی تعاون کے ذریعے دریائے سندھ کے نظام میں پانی کے بلا تعطل بہاؤ کو یقینی بنایا جائے۔

پروفیسر وکٹر گائو نے اپنے تزویراتی جائزے میں بتایا کہ دنیا کے کم از کم 8 ممالک ایسے ہیں جو سطح مرتفع تبت سے نکلنے والے دریاؤں کے پانی پر انحصار کرتے ہیں، لہٰذا ان تمام ممالک کو مشترکہ طور پر سرحد پار آبی وسائل کے انتظام کے لیے ایک بین الاقوامی ضابطہ اخلاق تشکیل دینا چاہیے۔ خطے کی بدلتی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز حالیہ عرصے میں شدید کشیدگی کا مرکز رہی، تاہم امریکہ اور ایران کے مابین تاریخی سفارتی معاہدے کے بعد اب یہ اہم بحری گزرگاہ دوبارہ مکمل طور پر کھل چکی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر پاکستان کے وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل خطے میں امن، استحکام اور سفارتی توازن کے لیے اسی مثبت سمت میں پیش رفت جاری رکھتے ہیں، تو وہ مستقبل میں نوبل امن انعام کے مضبوط ترین امیدوار بن سکتے ہیں۔