چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی کا کاشغر میں این ایل سی کے لاجسٹکس مرکز کا دورہ؛ پاک چین تجارت اور رابطوں کے فروغ میں این ایل سی کا کردار قابلِ تحسین قرار

محمود احمد, JULY 05,2026

کاشغر/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء

چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے کاشغر میں نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) کے لاجسٹکس مرکز کا اہم دورہ کیا ہے، جہاں انہیں این ایل سی کی سرحد پار لاجسٹکس سرگرمیوں، جدید ترین آپریشنز اور فراہم کردہ سہولیات پر ایک تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اتوار کے روز موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق، کاشغر اور تاشکرگن میں این ایل سی کی جانب سے قائم کردہ یہ جدید سہولیات پاک چین دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے ایک انتہائی اہم اور کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ مراکز چین، وسطی ایشیائی ممالک بشمول قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان اور دیگر عالمی منڈیوں تک تجارتی سامان کی بلا رکاوٹ ترسیل میں بہترین معاون ثابت ہو رہے ہیں۔

سفارت خانہ پاکستان کے مطابق، چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے عظیم منصوبے کی کامیابی میں این ایل سی کا مؤثر اور کلیدی کردار مسلسل جاری ہے۔ این ایل سی نے اس تجارتی نیٹ ورک کو مزید وسعت دینے کے لیے چین میں سو فیصد ملکیتی لاجسٹکس کمپنی بھی قائم کر رکھی ہے، جبکہ این ایل سی کے بیڑے میں شامل جدید ترین گاڑیاں پاک چین تجارتی روابط کو روز بروز مزید مضبوط بنانے میں مصروفِ عمل ہیں۔ کارپوریشن کی یہ بین الاقوامی خدمات پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے تزویراتی تجارتی روابط کو ایک بالکل نئی اور مضبوط جہت دے رہی ہیں۔ اس موقع پر چین میں متعین پاکستانی سفیر خلیل ہاشمی نے این ایل سی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے واضح کیا کہ پاک چین تجارت اور علاقائی رابطوں کے فروغ میں این ایل سی کا یہ مقتدر کردار بلاشبہ انتہائی قابلِ تحسین اور ملکی معیشت کے لیے اہم ہے۔

کارگل جنگ کے ہیرو کیپٹن کرنل شیر خان شہید کا یومِ شہادت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، ملک بھر میں خصوصی دعائیں

کاشف عباسی , JULY 05,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء

کارگل جنگ کے عظیم ہیرو اور نشانِ حیدر پانے والے کیپٹن کرنل شیر خان شہید کا یومِ شہادت آج ملک بھر میں انتہائی عقیدت، مقتدر احترام اور قومی جذبے کے ساتھ منایا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، اس اہم موقع پر ملک بھر کی مساجد میں شہدائے وطن کے بلندیِ درجات، مغفرت اور وطنِ عزیز پاکستان کی سلامتی، بقا اور تزویراتی استحکام کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا گیا۔ مساجد اور مقتدر فورمز پر علماء کرام اور مذہبی رہنماؤں نے کیپٹن کرنل شیر خان شہید اور دیگر شہداء کی دفاعِ وطن کے لیے پیش کی جانے والی لازوال قربانیوں پر انہیں شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

علماء کرام نے اپنے خطبات اور بیانات میں اس بات پر خصوصی زور دیا کہ وطنِ عزیز کی حفاظت اور جغرافیائی حدود کے دفاع کے لیے اپنی معزز جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے تمام شہداء پوری قوم کا حقیقی سرمایۂ افتخار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہداء کی یہ عظیم قربانیاں قوم کی اجتماعی ذمہ داری اور ایک مقدس امانت ہیں، جنہیں کسی بھی صورت فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ مذہبی دانشوروں کا کہنا تھا کہ شہدائے پاکستان کی ان بے مثال قربانیوں نے ہی وطن کے امن، بقا، آزادی اور ملکی استحکام کو ہمیشہ کے لیے مضبوط اور مقتدر بنیادیں فراہم کی ہیں، کیونکہ زندہ اور باوقار قومیں اپنے مقتدر شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ یاد رکھتی ہیں۔

مقررین نے مزید کہا کہ جو قومیں اپنے شہداء کے لہو اور ان کی تزویراتی قربانیوں کی قدر کرتی ہیں، وہ دنیا میں ہمیشہ عزت، اتحاد اور پائیدار استحکام کی راہ پر گامزن رہتی ہیں۔ انہوں نے کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی پاک فوج میں خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جرات، بے پناہ بہادری اور حب الوطنی کی ایک ایسی روشن مثال قائم کی ہے جو ہماری آنے والی تمام نسلوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گی۔ علماء نے عزم ظاہر کیا کہ شہداء کی یہ لازوال قربانیاں پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور بلند قومی وقار کی سب سے مضبوط اور پُرعزم علامت ہیں۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی استنبول میں صدر رجب طیب اردوان سے اہم ملاقات؛ باہمی تجارت کو پانچ ارب ڈالر تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ

محمود احمد, JULY 04,2026

استنبول/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 جولائی 2026ء

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون، توانائی، روابط، ٹیکنالوجی، علاقائی امن اور عوامی سطح پر تعلقات سمیت پاکستان اور ترکیہ کی اسٹریٹجک شراکت داری کے تمام اہم پہلوؤں کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کردہ اپنے ایک مقتدر بیان میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے بتایا کہ تاریخی شہر استنبول میں صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات ان کے لیے باعثِ مسرت اور بڑا اعزاز تھی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کی گفتگو میں باہمی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر اتفاق ہوا ہے۔

وزیر اعظم نے واضح کیا کہ ملاقات کے دوران اس مشترکہ یقین کا اعادہ کیا گیا کہ مختلف علاقائی و عالمی اختلافات کے پائیدار حل اور عالمی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے مکالمہ، سفارت کاری اور باہمی احترام ہی واحد مؤثر اور دیرپا راستہ ہیں۔ انہوں نے صدر رجب طیب اردوان کی پرتپاک میزبانی پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں برادر ممالک نے اپنی شراکت داری کی بے پناہ صلاحیت سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے باہمی تجارت کے حجم کو پانچ ارب امریکی ڈالر کے متفقہ ہدف تک پہنچانے کے پُرعزم عزم کا دوبارہ اعادہ کیا ہے۔

اپنے دورے کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے استنبول میں منعقدہ پاکستان–ترکیہ بزنس کانفرنس میں بھی شرکت کی، جہاں انہیں ترکیہ کی متحرک کاروباری برادری کے ممتاز نمائندوں سے تفصیلی ملاقات کا موقع ملا۔ انہوں نے ترک تاجروں کے پُرعزم جذبے، جدت اور کاروباری صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس سے ان کے اس یقین کو مزید تقویت ملی ہے کہ صدر رجب طیب اردوان کی مدبرانہ قیادت میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی و تجارتی شراکت داری اب ایک نئے، مضبوط اور روشن دور میں داخل ہو رہی ہے۔

تہران: چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی رسومات میں شرکت کے لیے تہران پہنچ گئے

منصور احمد, JULY 03,2026

تہران/راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی مقتدر رسومات میں شرکت کے لیے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں۔ تہران کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر آمد کے موقع پر ایران کے وزیرِ دفاع، وزیرِ داخلہ اور پاسدارانِ انقلاب سمیت اعلیٰ سول و ملٹری حکام نے پاکستانی وفد کا پرتپاک اور مقتدر استقبال کیا۔

اس مقتدر دورے کے دوران آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر ایرانی قیادت، مقتدرہ کے ارکان اور سوگوار خاندان سے تعزیت کا اظہار کریں گے۔ وہ حکومتِ پاکستان، افواجِ پاکستان اور ملک کے غیور عوام کی جانب سے برادر ملک ایران کو اس گہرے صدمے پر تعزیت کا مقتدر پیغام پہنچائیں گے اور اس مشکل گھڑی میں پاکستان کی جانب سے مکمل تزویراتی یکجہتی اور مقتدر حمایت کا اعادہ کریں گے۔ یہ دورہ پاک ایران تاریخی اور برادرانہ تعلقات کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن نے پاکستانی فیکلٹی کے لیے جنوبی کوریا کی سیول نیشنل یونیورسٹی پریذیڈنٹ فیلوشپ اسکالرشپ 2027 کے لیے درخواستیں طلب کر لیں

روزینہ اسماعیل, JULY 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے پاکستانی جامعات کے تدریسی و فیکلٹی اراکین کے لیے جنوبی کوریا کی ممتاز سیول نیشنل یونیورسٹی کے مقتدر “پریذیڈنٹ فیلوشپ اسکالرشپ پروگرام” برائے اسپرنگ دو ہزار ستائیس کے تحت باقاعدہ درخواستیں طلب کر لی ہیں۔ ایچ ای سی کے مطابق، یہ تزویراتی اسکالرشپ جمہوریہ کوریا کی سیول نیشنل یونیورسٹی کی جانب سے پیش کی جا رہی ہے، جس کے لیے صرف پاکستانی جامعات کے فیکلٹی ممبران ہی درخواست دینے کے مقتدر اہل ہوں گے۔ خواہشمند اور اہل فیکلٹی اراکین کے لیے درخواستیں جمع کرانے کی مدت چھ جولائی سے نو جولائی دو ہزار چھبیس تک مقرر کی گئی ہے، جس کے بعد پورٹل بند کر دیا جائے گا۔

ایچ ای سی نے اپنے مقتدر اعلامیے میں واضح کیا ہے کہ وہ اس اسکالرشپ کی معلومات صرف سرکاری سفارتی ذرائع سے موصول ہونے کے بعد عام کر رہا ہے، جبکہ امیدواروں کے حتمی انتخاب، داخلے اور اسکالرشپ کی منظوری کا مکمل تزویراتی اختیار صرف سیول نیشنل یونیورسٹی کے پاس محفوظ ہوگا۔ اعلان کے مطابق، اس اسکالرشپ کے تحت ترقی پذیر ممالک کی جامعات میں خدمات انجام دینے والے ایسے تدریسی و تحقیقی فیکلٹی اراکین درخواست دے سکتے ہیں جو ابھی پی ایچ ڈی کی ڈگری نہیں رکھتے اور سیول نیشنل یونیورسٹی میں اسپرنگ دو ہزار ستائیس سیشن کے لیے پی ایچ ڈی پروگرام میں داخلہ حاصل کرنے کی تمام مطلوبہ مقتدر شرائط پوری کرتے ہوں۔

اس مقتدر فیلوشپ کے تحت منتخب ہونے والے خوش نصیب امیدواروں کو یونیورسٹی کی جانب سے مکمل ٹیوشن فیس، معقول ماہانہ وظیفہ، بین الاقوامی فضائی سفر کا ٹکٹ اور دیگر تمام مقتدر سفری و تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے دلچسپی رکھنے والے تمام ملکی امیدواروں کو سخت ہدایت کی ہے کہ وہ آن لائن درخواست دینے سے قبل اسکالرشپ کی اہلیت، شرائط اور درخواست کے پیچیدہ طریقہ کار کا بغور مطالعہ کر لیں اور کسی بھی تزویراتی غلطی سے بچنے کے لیے مقررہ مدت کے اندر اندر اپنی درخواستیں کامیابی سے جمع کرائیں۔

وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال سے جنیوا میں انڈونیشیا کے وزیرِ صحت کی ملاقات، صحت کے شعبے میں تعاون اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر تبادلہ خیال

روزینہ اسماعیل, JULY 03,2026

جنیوا/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

وفاقی وزیرِ برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال سے جنیوا میں انڈونیشیا کے وزیرِ صحت نے ایک اہم تزویراتی ملاقات کی ہے، جس میں دونوں برادر ممالک کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون اور باہمی دلچسپی کے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزارتِ صحت کی طرف سے جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، اس ملاقات کے دوران پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون کے نظام کو مزید مضبوط بنانے پر مکمل اتفاق کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان گہرے برادرانہ اور تاریخی تعلقات موجود ہیں، جنہیں اب صحت کے شعبے میں مقتدر تعاون کے ذریعے مزید وسعت دی جائے گی۔

وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے ملاقات کے دوران پاکستان میں مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کو ملکی بقا کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ویکسین سازی کی قومی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے عملی اور تزویراتی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اہم ترین مقصد کے حصول کے لیے انڈونیشیا پاکستان کا ایک کلیدی اور قابلِ اعتماد ترقیاتی شراکت دار ہے، اور پاکستان انڈونیشیا کی جدید طبی ٹیکنالوجی اور وسیع تجربات سے بھرپور استفادہ کرنے کا خواہاں ہے۔ ملاقات میں پاکستان میں مقامی سطح پر ویکسین سازی کی اب تک کی پیش رفت اور اس ضمن میں جاری حکومتی اقدامات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔

انڈونیشیا کے وزیرِ صحت نے وفاقی وزیر سید مصطفیٰ کمال کے مقتدر عزم کو سراہتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ان کا ملک پاکستان میں مقامی سطح پر ویکسین سازی، جدید طبی ٹیکنالوجی کی منتقلی اور افرادی قوت کی استعدادِ کار میں اضافے کے حوالے سے ہر ممکن تزویراتی تعاون فراہم کرے گا۔ دونوں وزرائے صحت نے اس پُرعزم عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے عوام کو جدید، معیاری اور مؤثر طبی سہولیات کی بلاتعطل فراہمی کے لیے یہ مشترکہ مہم اور تزویراتی شراکت داری مستقل بنیادوں پر جاری رکھی جائے گی۔

آن لائن حج رجسٹریشن نظام کی ریکارڈ پذیرائی، پہلے گیارہ دنوں میں دو لاکھ سے زائد عازمین نے گھر بیٹھے رجسٹریشن مکمل کر لی

محمود احمد, JULY 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے نئے متعارف کردہ آن لائن حج رجسٹریشن نظام کو ملک بھر میں ریکارڈ پذیرائی حاصل ہوئی ہے، جس کے تحت پہلے گیارہ دنوں کے مختصر ترین عرصے میں دو لاکھ تین ہزار سات سو بائیس (2,03,722) عازمینِ حج نے گھر بیٹھے کامیابی سے اپنی ڈیجیٹل رجسٹریشن مکمل کر لی ہے۔ وزارتِ مذہبی امور کے ترجمان عمر بٹ نے جمعہ کے روز اپنے ایک مقتدر بیان میں اس ڈیجیٹل کامیابی کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس جدید نظام کے ذریعے اب تک ایک لاکھ اسی ہزار عازمین نے باقاعدہ ویب پورٹل کا استعمال کیا، جبکہ چوبیس ہزار سے زائد عازمین نے مخصوص موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے اپنی درخواستیں جمع کرائیں۔

ترجمان کے مطابق، اس سال عازمین کی بڑی تعداد نے سرکاری اسکیم پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے، جس کے تحت ایک لاکھ چوون ہزار سے زائد عازمین نے سرکاری جبکہ انچاس ہزار عازمین نے پرائیویٹ حج اسکیم کا انتخاب کیا ہے۔ صوبائی بریک ڈاؤن کے تزویراتی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پنجاب پچانوے ہزار عازمین کے ساتھ رجسٹریشن میں سب سے آگے ہے، جبکہ سندھ سے تریسٹھ ہزار، خیبرپختونخوا سے اٹھائیس ہزار، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے نو ہزار، بلوچستان سے پچپن سو، آزاد جموں و کشمیر سے بارہ سو اور گلگت بلتستان سے چھ سو عازمین نے اس جدید ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے اپنے پُرعزم سفری ارادے کو پایا۔

وزارتِ مذہبی امور نے اس نئے نظام میں مستقبل کی منصوبہ بندی کی سہولت بھی متعارف کرائی ہے، جس کے تحت سال دو ہزار اٹھائیس کے حج کے لیے چودہ سو، سال دو ہزار انتیس کے لیے ڈھائی سو، اور سال دو ہزار تیس کے طویل مدتی ارادے کے لیے ساڑھے تین سو عازمین نے ابھی سے اپنی دلچسپی کا مقتدر اظہار کر دیا ہے۔ ترجمان عمر بٹ نے مزید بتایا کہ اب تک رجسٹرڈ ہونے والے کل عازمینِ حج میں مردوں کی تعداد ایک لاکھ انیس ہزار جبکہ خواتین کی تعداد چوراسی ہزار پانچ سو ہے، اور یہ ڈیجیٹل عمل بغیر کسی تعطل کے انتہائی شفاف انداز میں جاری ہے۔

مالی وفاقیت کی مضبوطی سے پاکستان کا معاشی استحکام اور عوامی خدمات میں بہتری ممکن ہے، عالمی بینک کی نئی رپورٹ جاری

کاشف عباسی , JULY 03,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

عالمی بینک نے پاکستان میں معاشی استحکام برقرار رکھنے، عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مالی وفاقیت کو مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔ عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ مقتدر رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں حکومت کی تینوں سطحوں یعنی وفاق، صوبوں اور مقامی حکومتوں کے درمیان مالی وسائل کی منصفانہ اور مؤثر تقسیم کو مضبوط بنانا معاشی بقا کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ سن دو ہزار دس کی تاریخی اصلاحات، یعنی آئین کی اٹھارہویں ترمیم اور ساتواں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ مالی وفاقیت کے فروغ کی جانب ایک اہم تزویراتی پیش رفت تھیں، جن کے تحت عوامی خدمات کی فراہمی سے متعلق متعدد اہم ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل کی گئیں اور ان کے مالی وسائل میں نمایاں اضافہ ہوا، تاہم مالیاتی نظام کی بعض ساختی کمزوریاں اب بھی مالی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور عوام تک معیاری خدمات کی مؤثر فراہمی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔

رپورٹ کے تزویراتی اعداد و شمار کے مطابق، سن دو ہزار دس سے دو ہزار چوبیس کے دوران صوبائی آمدنی مجموعی قومی پیداوار کے چار فیصد سے بڑھ کر اوسطاً ساڑھے چھ فیصد تک پہنچ گئی، تاہم پانچ مختلف دائرہ اختیار میں ٹیکس نظام کی تقسیم سے ٹیکس دہندگان پر عمل درآمد کی لاگت بڑھی اور محصولات میں اضافے کی گنجائش محدود ہوئی۔ دوسری جانب، زرعی شعبہ جو ملک کی مجموعی قومی پیداوار کا بیس فیصد سے زیادہ حصہ رکھتا ہے، اب بھی بڑی حد تک ٹیکس کے دائرے سے باہر ہے۔ پاکستان میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازر نے بتایا کہ پاکستان نے اختیارات کو عوام کے قریب منتقل کر کے تاریخی قدم اٹھایا، مگر اس کے مکمل فوائد ابھی حاصل ہونا باقی ہیں۔ مالی وسائل کو ذمہ داریوں کے مطابق ہم آہنگ کرنا، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا، اور اس بات کو یقینی بنانا کہ وسائل اسکولوں، صحت کے مراکز اور مقامی برادریوں تک موثر انداز میں پہنچیں، انتہائی ضروری ہے۔

رپورٹ میں اس تشویشناک امر کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ اختیارات کی منتقلی کے باوجود اب تک سرکاری اخراجات کو حقیقی ضروریات سے موثر طور پر ہم آہنگ نہیں کیا جا سکا۔ صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کا موجودہ فارمولا نہ تو مالی ضروریات کی مکمل عکاسی کرتا ہے اور نہ ہی صوبوں کو اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے موثر ترغیبات فراہم کرتا ہے۔ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد صوبائی اخراجات میں ہونے والے اضافے کا بڑا حصہ تعلیم اور صحت کے بجائے انتظامی اخراجات پر صرف ہوا، اور مالی سال دو ہزار تئیس میں مجموعی صوبائی اخراجات کا اسی فیصد سے زائد حصہ جاری اخراجات کی مد میں استعمال ہوا۔ اسی طرح اضلاع کے درمیان وسائل کی تقسیم غربت کی سطح یا عوامی خدمات کی حقیقی ضروریات کو مدنظر رکھنے کی بجائے اب بھی تاریخی بنیادوں پر ہو رہی ہے۔

عالمی بینک کے لیڈ کنٹری اکانومسٹ اور رپورٹ کے مرکزی مصنف ٹوبیاس حق نے بتایا کہ مالی وفاقیت کا موجودہ ڈھانچہ اس بات پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے کہ آیا بچے فعال اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور آیا صحت کے مراکز میں ضروری ادویات دستیاب ہیں یا نہیں۔ آئندہ متوقع این ایف سی ایوارڈ اس نظام میں بہتری کا ایک اہم مقتدر موقع فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے ایسے صوبوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے جو اپنی آمدنی بڑھانے اور عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے میں مؤثر کردار ادا کریں، جبکہ زیادہ وسائل ان علاقوں کو دیے جائیں جہاں ضرورت سب سے زیادہ ہے۔ رپورٹ میں مخصوص اصلاحاتی پروگرام کی سفارش کرنے کے بجائے مختلف قابلِ عمل تزویراتی تجاویز پیش کی گئی ہیں جنہیں نئے این ایف سی ایوارڈ اور موجودہ آئینی فریم ورک کے اندر نافذ کیا جا سکتا ہے۔ ان تجاویز میں وفاقی مالی وسائل کو ذمہ داریوں سے ہم آہنگ کرنا، ملکی محصولات میں اضافہ، مقامی حکومتوں کو زیادہ مستحکم مالی وسائل کی فراہمی، اور حکومت کی مختلف سطحوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کو فروغ دینا شامل ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد کا عالمی ترقیاتی اقدام کے تیسرے پالیسی ڈائیلاگ سے مقتدر خطاب؛ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تجربات کی پیشکش

محمود احمد, JULY 03,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

پاکستان نے عالمی ترقیاتی اقدام کی بھرپور تزویراتی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے مضبوط بین الاقوامی شراکت داری، مالی وسائل میں خاطر خواہ اضافے اور عملی اقدامات پر زور دیا ہے تاکہ دو ہزار تیس کے ترقیاتی ایجنڈے کے آخری پانچ برسوں میں اہداف کے حصول کی رفتار کو تیز کیا جا سکے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے گروپ آف فرینڈز آف دی جی ڈی آئی اور اقوامِ متحدہ کی ٹاسک فورس برائے دو ہزار تیس ایجنڈا کے نفاذ کے لیے شراکت داری کے فروغ کے موضوع پر منعقدہ تیسرے پالیسی ڈائیلاگ سے مقتدر خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی تعاون اور عملی ترقیاتی شراکت داری کے ذریعے مکالمے سے عملی نفاذ کی جانب پیش رفت کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے چائنا انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ کوآپریشن ایجنسی کی اجلاس میں شرکت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کا ایک قابلِ اعتماد اور تزویراتی ترقیاتی شراکت دار قرار دیا۔ انہوں نے یکجہتی، جنوب۔جنوب تعاون اور ترقی پذیر ممالک کے لیے عملی نتائج کے حصول کے پلیٹ فارم کے طور پر عالمی ترقیاتی اقدام سے پاکستان کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ مستقل مندوب نے پاکستان کی مقتدر ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے چین۔پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کے ذریعے صنعتی تعاون کے فروغ، آفات سے بحالی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے شہری لچک کو مضبوط بنانے، نیز غربت کے خاتمے اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے اس ضمن میں سماجی تحفظ کے پروگراموں میں پاکستان کے تجربات سے دیگر ممالک کو فائدہ پہنچانے کی تزویراتی پیشکش بھی کی۔

اپنے مقتدر خطاب کے دوران سفیر عاصم افتخار احمد کا کہنا تھا کہ غربت کے خاتمے اور غذائی تحفظ کے حوالے سے پاکستان گروپ آف فرینڈز کے دیگر ارکان کے ساتھ اپنے تجربات کا تبادلہ کرنے کے لیے تیار ہے، جن میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے قومی سماجی تحفظ کے اقدامات شامل ہیں اور ہم دلچسپی رکھنے والے شراکت داروں کے ساتھ اس بات پر بھی کام کرنے کے خواہاں ہیں کہ ایسے ماڈلز کو کس طرح مزید وسعت دی جا سکتی ہے یا مختلف ممالک کے حالات کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ترجیحی ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کے طریقۂ کار کو مزید واضح بنانے پر بھی زور دیا اور تجویز پیش کی کہ ٹاسک فورس کے تحت ایسا مؤثر فالو اپ نظام قائم کیا جائے جو رکن ممالک کی ترجیحات کو عملی منصوبوں اور ترقیاتی شراکت داری سے جوڑ سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چین، گروپ آف فرینڈز اور اقوامِ متحدہ کے ساتھ مل کر یہ اقدام ترقی پذیر ممالک کے لیے ٹھوس فوائد فراہم کرتا رہے گا، پاکستان اس مقتدر سفر میں ایک ثابت قدم شراکت دار ہے۔

خلیج میں کشیدگی کا حل صرف سفارت کاری میں ہے؛ ایران اور امریکہ کے درمیان ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ مقتدر سفارت کاری کی بڑی کامیابی، پاکستان کا اہم ترین بیان

محمود احمد, JULY 03,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

پاکستان نے خلیجی خطے کی موجودہ مخدوش صورتحال کا جامع اور حتمی حل صرف سفارت کاری، تعمیری مکالمے اور پرامن مذاکرات کے ذریعے نکالنے پر زور دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے درمیان طے پانے والی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پاکستان کی مضبوط اور پُرعزم سفارت کاری کی ایک مقتدر کامیابی کی عکاسی کرتی ہے۔ اجلاس میں بحرین کے معزز وزیرِ خارجہ، اور ایران و کویت کے مقتدر نمائندوں کی موجودگی کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان نے اپنے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ بین الاقوامی قانون کی حدود سے باہر کسی بھی قسم کے طاقت کے استعمال کی کوئی گنجائش نہیں۔ پاکستان نے ایران کے خلاف بلاجواز حملوں اور خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کو نشانہ بنانے والے اقدامات کی واضح طور پر مذمت کرتے ہوئے بحرین اور کویت میں اپنے برادر ممالک کے ساتھ مکمل تزویراتی یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

اپنے مقتدر مینوفیسٹو کے مطابق، پاکستان نے خطے اور عالمی امن و استحکام کے فروغ اور قیمتی انسانی جانوں اور روزگار کے تحفظ کے ایک گہرے احساسِ ذمہ داری کے تحت اس ثالثی کا آغاز کیا۔ پاکستان کو یہ پختہ یقین ہے کہ کسی بھی مزید کشیدگی اور لڑائی کے تسلسل سے انسانی مصائب میں ہولناک اضافہ ہوگا اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین نتائج پیدا ہوں گے۔ پاکستانی قیادت نے واضح کیا کہ ہماری یہ تزویراتی کوششیں جانیں بچانے، صورتحال میں کشیدگی کم کرنے اور منظم مکالمے کے لیے سازگار جگہ پیدا کرنے کے لیے ہیں، تاکہ فریقین دیرپا باہمی تفہیم اور حتمی معاہدے تک پہنچ سکیں۔ پاکستان نے اس نازک مرحلے پر اپنے کلیدی شراکت داروں خصوصاً قطر، سعودی عرب، ترکیہ، مصر اور چین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر بھرپور اعتماد اور تزویراتی حمایت کا اظہار کیا۔

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے خطے اور بین الاقوامی اہم فریقین کے ساتھ اپنی سفارتی مصروفیات کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا ہے تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مؤثر فالو اپ اور اس پر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے، جیسا کہ اکیس جون دو ہزار چھبیس کو جاری ہونے والے پاکستان–قطر مشترکہ اعلامیے میں بھی باقاعدہ طے کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر گزشتہ روز پاکستان اور قطر نے دوحہ میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے ساتھ علیحدہ علیحدہ مقتدر ملاقاتیں کیں، جن میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے متعلق اہم امور پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے، جو لیک لوسرن سمٹ کے نتائج کی مضبوط بنیاد پر قائم ہے۔ فریقین نے آئندہ عرصے میں بات چیت کا یہ تزویراتی تسلسل جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور اگلا اجلاس جلد از جلد منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پاکستان کی قیادت اس وقت تمام فریقین، اپنے تزویراتی شراکت داروں اور علاقائی ممالک کے ساتھ مسلسل اور براہِ راست رابطے میں ہے۔ پاکستان مکالمے کو آگے بڑھانے اور اعتماد سازی کے اقدامات کو فروغ دینے میں اپنا تعمیری کردار ادا کر رہا ہے تاکہ خلیج میں کسی بھی ممکنہ کشیدگی کو بروقت روکا جا سکے اور سفارتی عمل کو پٹری سے اترنے سے بچایا جائے۔ پاکستان کے نقطۂ نظر سے یہ امر انتہائی حوصلہ افزا ہے کہ تمام تر چیلنجز کے باوجود بات چیت جاری ہے اور فریقین مذاکراتی میز پر موجود ہیں۔ رابطے کے تمام سفارتی ذرائع کھلے رکھے گئے ہیں اور پاکستان اپنی مقتدر کوششیں اس عظیم مقصد کے لیے جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے کہ خطے میں ایسا پائیدار امن، سلامتی اور استحکام قائم ہو جو تمام ممالک کے لیے یکساں طور پر فائدہ مند ہو۔

بھارتی نیوز چینلز مسلسل نامعلوم ہیکرز کے نشانے پر، ریپبلک ٹی وی کی لائیو نشریات میں بھی بڑی سائبر دراندازی

منصور احمد, JULY 03,2026

نئی دہلی/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

بھارتی نیوز چینلز مسلسل نامعلوم ہیکرز کے نشانے پر ہیں اور اب پاکستان مخالفت میں ہر صحافتی حد پار کر جانے والے معروف اینکر ارنب گوسوامی کے چینل “ریپبلک ٹی وی” کی لائیو نشریات میں بھی ایک بڑی اور حیران کن سائبر دراندازی سامنے آئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق، دو جولائی کو لائیو اسٹریم کے دوران نامعلوم ہیکرز نے ارنب گوسوامی کے لائیو پروگرام کی اسکرین پر اپنے بینرز اور ویڈیوز چلا دیں۔ سائبر ماہرین کے مطابق، یہ حملہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے کیونکہ سائبر حملہ آور براہِ راست چینل کے براڈکاسٹ مینجمنٹ سسٹم تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، جس کے باعث نشریات پر کنٹرول حاصل کیا گیا۔

مسلسل کامیاب ہونے والے ان سائبر حملوں نے بھارت کی مجموعی ڈیجیٹل سیکیورٹی اور سائبر دفاع پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، بلکہ اس سے قبل بھی بھارت کے متعدد بڑے میڈیا نیٹ ورکس ہیکرز کے حملوں کا شکار ہو چکے ہیں جن میں سن ٹی وی نیٹ ورک، ٹی وی نو تیلگو، فریڈم ٹی وی لائیو اور فریڈم ٹی وی کنڑا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اے بی پی لائیو کو بھی حالیہ دنوں میں شدید سائبر سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کروڑوں کی ویورشپ رکھنے والے ان مقتدر بھارتی چینلز کا سائبر حملوں سے محفوظ نہ رہ سکنا انتہائی تشویشناک ہے اور ان پے در پے واقعات نے بھارتی ڈیجیٹل دفاع کے بلند بانگ دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔

بیجنگ: چین اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی و سرمایہ کاری مشاورتی میکانزم کا دوسرا اجلاس رواں سال خزاں میں ہوگا؛ امریکی زرعی مصنوعات پر محصولات میں کمی کے فریم ورک پر اتفاق

محمود احمد, JULY 02,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

چینی وزارتِ تجارت نے اعلان کیا ہے کہ چین اور یورپی یونین اپنے نو تشکیل شدہ “تجارت و سرمایہ کاری مشاورتی میکانزم” کا دوسرا وزارتی اجلاس رواں سال خزاں میں بیجنگ میں منعقد کریں گے۔ سی جی ٹی این کے مطابق، چینی وزارتِ تجارت کے ترجمان حہ یادونگ نے جمعرات کو بیجنگ میں ایک باقاعدہ پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ یہ میکانزم دونوں اہم ترین معاشی شراکت داروں کے درمیان مستقل رابطہ برقرار رکھنے اور تجارتی برآمدات و درآمدات کو متوازن بنانے کے لیے ایک کلیدی مستقل پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔ اس نئے فریم ورک کے تحت دونوں فریقین نے سال میں ایک سے دو بار وزارتی سطح پر ملاقاتیں کرنے پر اصولی اتفاق کیا ہے۔ چینی ترجمان نے مزید بتایا کہ بیجنگ نے یورپی یونین کے تجارتی سربراہ (ماروش شیفکووچ) کو اس دوسرے اجلاس کی مشترکہ صدارت کے لیے باضابطہ طور پر چین کے دورے کی دعوت دی ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران ترجمان حہ یادونگ نے واضح کیا کہ حال ہی میں برسلز میں منعقد ہونے والے افتتاحی اجلاس میں دونوں اقتصادی قوتوں نے باہمی تجارتی حجم کو کم کرنے کے بجائے، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھا کر تجارتی توازن قائم کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ اس ضمن میں مصنوعی ذہانت ، گرین ٹرانزیشن (سبز توانائی کی منتقلی)، اور خدمات کی تجارت جیسے کلیدی شعبوں میں تعاون کو وسعت دی جائے گی، جبکہ دونوں جانب سے مارکیٹ تک رسائی کے تحفظات کو بھی مرحلہ وار مشاورت کے ذریعے حل کیا جائے گا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اس نئے معاشی پوزیشننگ سے نہ صرف چینی اور یورپی کمپنیوں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی معیشت کو بھی ایک مثبت اور مستحکم محرک ملے گا۔

دوسری جانب، امریکا کی زرعی مصنوعات پر ٹیرف (محصولات) کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں چینی ترجمان نے اہم پیش رفت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ پاکٹ معاشی و تجارتی مذاکرات کے بعد چین اور امریکہ نے زرعی مصنوعات کی دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے مخصوص رہنما اہداف مقرر کیے ہیں۔ اس بات پر بھی اصولی اتفاق ہوا ہے کہ متعلقہ زرعی مصنوعات کو مساوی بنیادوں پر محصولات میں کمی کے طے شدہ فریم ورک کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ دونوں ممالک کے کسان اور کاروباری برادری اس تجارتی سہولت کاری سے یکساں فائدہ اٹھا سکیں۔

انتخابات میں حصہ نہ لینا کوئی عارضی تزویراتی چال نہیں بلکہ عوامی امنگوں اور حقِ خودارادیت سے یکجہتی کا کھلا ثبوت ہے، مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ

کاشف عباسی , JULY 02,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ دگرگوں صورتحال، راولاکوٹ سمیت مختلف علاقوں میں جاری عوامی دھرنوں اور پرامن مظاہرین پر ریاستی طاقت کے بے جا استعمال کے خلاف سخت مقتدر احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے وہاں کے آئندہ انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کرنے کا حتمی اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی کے مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، تحریکِ انصاف کا یہ فیصلہ کسی عارضی تزویراتی جوڑ توڑ یا سیاسی نفع نقصان کا حساب نہیں، بلکہ یہ کشمیری عوام کے حقوق، ان کے حقِ خودارادیت اور جمہوری جدوجہد کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا کھلا ثبوت ہے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ جب کشمیری عوام اپنے جائز مطالبات کے لیے خود سڑکوں پر ہوں، تو پی ٹی آئی اقتدار کی روایتی سیاست کے لیے کسی ایسے انتخابی عمل کا حصہ نہیں بن سکتی جو زمینی حقائق سے عاری ہو۔

اعلامیے میں آزاد کشمیر کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید مقتدر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ راولاکوٹ اور دیگر اہم ترین علاقوں میں ہزاروں شہری اپنے بنیادی معاشی و سیاسی مطالبات کے لیے دھرنا دیے بیٹھے ہیں، مگر مقتدرہ کی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کے نتیجے میں کئی قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ پنجاب سے آزاد کشمیر کو اشیائے خوردونوش کی ترسیل بھی مکمل طور پر معطل کر دی گئی ہے، جس نے وہاں ایک بدترین انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ ان مخدوش حالات میں الیکشن کا انعقاد کشمیری عوام کو مزید سیاسی و انتظامی عدم استحکام کی دلدل میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف نے موجودہ مقتدر حلقوں کی کشمیر پالیسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومتی طرزِ عمل سے آزاد جموں و کشمیر کی تاریخی، آئینی اور جمہوری شناخت کو شدید مجروح کیا جا رہا ہے، اور دانستہ طور پر ایسا ماحول تخلیق کیا جا رہا ہے جس سے آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان موجود بنیادی فرق ہی مٹ جائے، جو پاکستان کی روایتی اور مقتدر کشمیر پالیسی کے لیے انتہائی مہلک اور تزویراتی طور پر نقصان دہ ہے۔ قیادت کی بلاجواز گرفتاریوں، میڈیا پر سخت ترین قدغنوں اور سیاسی کارکنوں پر جاری جبر کے سائے میں انتخابی عمل اپنی تمام تر ساکھ کھو چکا ہے۔

اعلامیے کے آخر میں پی ٹی آئی نے اپنی مقتدر شرائط پیش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تک آزاد کشمیر میں کسی بھی انتخابی عمل کا حصہ نہیں بنے گی جب تک حالات مکمل طور پر معمول پر نہیں آ جاتے اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام جائز مطالبات افہام و تفہیم سے تسلیم نہیں کر لیے جاتے۔ مزید برآں، موجودہ یکطرفہ انتخابی شیڈول پر نظرثانی کر کے تمام سیاسی قوتوں کو مساوی، آزادانہ اور منصفانہ ماحول فراہم کرنا لازم ہوگا۔ پارٹی نے اپنے تمام امیدواروں کو جاری کردہ یا تجویز کردہ ٹکٹوں کی سفارشات کو فی الفور معطل کرتے ہوئے انتخابی سرگرمیاں مؤخر کر دی ہیں، اور اب تحریکِ انصاف کی مہم کا بنیادی مرکز و محور الیکشن لڑنا نہیں بلکہ کشمیری عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہوگا۔

اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی: عالمی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کے نویں جائزے پر سفیر عاصم افتخار احمد کا مقتدر بیان

محمود احمد, JULY 02,2026

نیویارک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اہم اجلاس میں عالمی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کے نویں جائزے پر پاکستان کا مقتدر تزویراتی مؤقف پیش کرتے ہوئے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جدوجہد میں ہمیشہ صفِ اول میں رہا ہے اور اس راہ میں بے پناہ جانی و مالی قربانیاں دی ہیں۔ اپنے مقتدر خطاب میں انہوں نے فن لینڈ اور مراکش کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے نویں جائزہ عمل کی مشترکہ سہولت کاری کی، جبکہ انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم کی جانب سے سعودی عرب کے اصولی بیان کی مکمل تائید کرتے ہوئے قرارداد کی منظوری کی توثیق کی۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے جنرل اسمبلی کو بتایا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک رہا ہے اور ہمارے خطے میں موجود بدخواہ مخالف عناصر، تحریکِ طالبان پاکستان ، بلوچ لبریشن آرمی مجید بریگیڈ، داعش خراسان اور ان سے وابستہ دیگر خطرناک پراکسی نیٹ ورکس کی پشت پناہی اور مالی معاونت کرتے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں صرف گزشتہ سال بارہ سو سے زائد معصوم پاکستانیوں کو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا پڑا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہماری بھرپور کوششوں کے باوجود نویں جائزے کے عمل میں عالمی حکمتِ عملی کی خامیوں کو دور نہیں کیا جا سکا اور او آئی سی کے ان جائز خدشات کو شامل کرنے میں ناکامی ہوئی جن کے ارکان اس ناسور سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ پاکستان نے دہشت گردی سے پاک مستقبل کے لیے اقوامِ متحدہ کے سامنے ایک جامع اور مقتدر گیارہ (11) نکاتی تزویراتی ایجنڈا پیش کیا جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

اول، جسمانی اور ورچوئل دونوں شعبوں میں ابھرنے والے نئے خطرات اور رجحانات کا جامع جائزہ لیا جائے؛ دوم، طویل عرصے سے حل طلب علاقائی تنازعات کے پائیدار اور حقیقت پسندانہ حل کے لیے قابلِ عمل راستے تجویز کیے جائیں؛ سوم، غیر ملکی ناجائز قبضے کے خاتمے اور انسانی حقوق کی بالادستی کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا جائے؛ چہارم، اقوامِ متحدہ کی قرارداد کے مطابق عوام کے حقِ خودارادیت کے جائز حق کی توثیق کی جائے اور آزادی کی جائز جدوجہد کو دہشت گردی سے خلط ملط کرنے کی ہر کوشش کو یکسر مسترد کیا جائے؛ پنجم، ان ظالم ریاستوں کی سخت مذمت کی جائے جو غیر ملکی قبضے کا شکار مظلوم عوام کے خلاف منظم ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہیں۔

ششم، زینوفوبیا، نسل پرستی اور اسلاموفوبیا کے خاتمے کے لیے ٹھوس بین الاقوامی اقدامات کیے جائیں؛ ہفتم، پُرتشدد قوم پرست، انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسند، نو فاشسٹ اور مساجد کو نشانہ بنانے والے و قرآنِ مجید کی بے حرمتی کرنے والے بالادست نظریاتی گروہوں کا مؤثر مقابلہ کیا جائے؛ ہشتم، اسلاموفوبک بیانیوں اور متعصبانہ اصطلاحات جیسے کہ “اسلامک ٹیررازم” اور “ریڈیکل اسلام” کے امتیازی استعمال کو فوری ختم کر کے مسلمانوں کی بدنامی کا سدِباب کیا جائے؛ نہم، اقوامِ متحدہ کے انسدادِ دہشت گردی ڈھانچے اور پابندیوں کے نظام میں فوری اصلاحات کی جائیں؛ دہم، سوشل میڈیا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو باضابطہ منظم کیا جائے تاکہ آن لائن انتہا پسندی، نفرت انگیز تقاریر اور غلط معلومات کا مقابلہ ہو سکے؛ اور گیارہویں، ڈیجیٹل مالیاتی نظام، ورچوئل اثاثوں اور کرپٹو کرنسیوں کے مؤثر تزویراتی ضابطے کو یقینی بنایا جائے۔

اپنے مقتدر خطاب کے آخر میں پاکستانی سفیر عاصم افتخار احمد نے ایف اے ٹی ایفجیسے بین الحکومتی اداروں کے نظام پر بات کرتے ہوئے زور دیا کہ ان اداروں کو ہر صورت جامع، منصفانہ، شفاف اور مکمل غیر سیاسی ہونا چاہیے اور کسی بھی ملک کو یہ ہرگز اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ ان تکنیکی فورمز کو اپنے داخلی یا سیاسی مقاصد کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرے۔ انہوں نے کہا کہ تین سال گزرنے کے باوجود حکمتِ عملی میں کوئی قابلِ ذکر بہتری نہ ہونا افسوسناک ہے اور اگرچہ اس تعطل کو ناکامی قرار دیا جا سکتا ہے، تاہم یہ عالمی برادری کے لیے ایک بیدار کرنے والا پیغام بھی ہے، پاکستان تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف اپنا مقتدر کردار ادا کرتا رہے گا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کا کل سے ایران اور ترکیہ کا مقتدر سرکاری دورہ، مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت کریں گے

کاشف عباسی , JULY 02,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف کل تین سے پانچ جولائی تک ایران اور ترکیہ کے مقتدر سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے۔ ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے جمعرات کے روز یہاں پریس بریفنگ کے دوران اس تزویراتی دورے کی باقاعدہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس دورے میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، دیگر وفاقی وزراء اور مقتدر سرکاری حکام پر مشتمل اعلیٰ سطح کا وفد بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہوگا۔ اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں وزیراعظم محمد شہباز شریف ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی مقتدر رسومات میں شرکت کے لیے تہران جائیں گے، جہاں وہ پاکستانی عوام اور حکومت کی جانب سے ایرانی قیادت اور سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کریں گے اور اس گہرے غم کی گھڑی میں برادر ایرانی قوم کے ساتھ پاکستان کی تزویراتی یکجہتی کا اعادہ کریں گے۔

ترجمان کے مطابق، ایران کا دورہ مکمل کرنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کی خصوصی دعوت پر استنبول روانہ ہوں گے، جہاں دونوں رہنماؤں کے مابین برادر ممالک کے دوطرفہ تعلقات کے تمام تزویراتی پہلوؤں پر تفصیلی بات چیت ہوگی جس میں باہمی تجارت کے حجم کو بڑھانے اور سرمایہ کاری کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی، جبکہ دونوں رہنما خطے کے امن و سلامتی اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ استنبول میں قیام کے دوران وزیراعظم پاکستان کی میزبانی میں منعقد ہونے والی اہم بزنس کانفرنس سے خصوصی خطاب بھی کریں گے، جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز، متبادل توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور نجکاری سمیت دیگر ترجیحی شعبوں میں ترک سرمایہ کاروں کے لیے موجود شاندار مواقع کو اجاگر کرنا ہے، جبکہ اس کانفرنس میں ترکیہ کی ممتاز کاروباری شخصیات، مقتدر سرمایہ کار اور اعلیٰ سرکاری حکام شرکت کریں گے۔ دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران اور ترکیہ کے یہ دورے دونوں برادر ممالک کے ساتھ پاکستان کے گہرے تاریخی، تزویراتی، ثقافتی اور دیرینہ برادرانہ تعلقات کے عکاس ہیں۔

اسرائیلی بربریت پر خاموشی اور جنگ کے بعد ایران سے تیل کی خاطر دوستی، بھارتی منافقانہ خارجہ پالیسی عیاں ہو گئی

کاشف عباسی , JULY 02,026

نئی دہلی/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

اسرائیلی بربریت پر مجرمانہ خاموشی اور جنگ بندی کے بعد ایران کے معاملے پر خالصتاً مفاد پرستی پر مبنی بھارتی مودی حکومت کی منافقانہ خارجہ پالیسی عالمی سطح پر ایک بار پھر بری طرح عیاں ہو گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے جانے والے حملے سے محض دو روز قبل بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کا ایک مقتدر دورہ کیا اور پھر مابعد جنگ کے دوران ایران کے معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی؛ تہران پر حملوں کے دوران بھارت کھلم کھلا اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہا اور آج اپنے توانائی و تجارتی مفادات کو تحفظ دینے کے لیے دوبارہ ایران سے عارضی قربت اختیار کر رہا ہے۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی ’اے این آئی‘ کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر سے حالیہ ٹیلی فونک گفتگو میں نریندر مودی نے علاقائی تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر منافقانہ زور دیا ہے، حالانکہ آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران پر مالی پابندیوں میں نرمی جیسے اہم نکات پہلے ہی حالیہ ’ایران امریکا چودہ (14) نکاتی معاہدے‘ میں شامل کیے جا چکے ہیں۔ اس گفتگو میں مودی نے آبنائے ہرمز میں بحری راستوں کی بحالی اور تجارتی آزادی کے تحفظ کو عالمی و بھارتی مفاد قرار دے کر اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کی ہے۔

عالمی و دفاعی ماہرین کے مطابق، بھارت کا آبنائے ہرمز میں آزاد جہاز رانی پر بار بار زور دینا درحقیقت ایران کی کوئی اخلاقی یا سفارتی حمایت نہیں ہے، بلکہ یہ خالصتاً بھارتی تجارت، مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی بلا تعطل رسد اور اپنے معاشی مفادات کا تزویراتی تحفظ ہے۔ ماضی کا ریکارڈ گواہ ہے کہ بھارت امریکی دباؤ پر ایرانی تیل کی خریداری یکسر ترک کر چکا تھا، جس سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ امریکی مفادات کے سامنے ایران کے ساتھ نئی دہلی کے تعلقات ہمیشہ ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔

بھارت نے عالمی اصولوں کے برعکس ایران پر اسرائیلی حملے کی واضح الفاظ میں کوئی مذمت نہیں کی اور ایران کی خودمختاری کے دفاع میں بھی مودی سرکار نے مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی۔ معتبر سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ سے قبل بھارت کی اسرائیل کے ساتھ تزویراتی شراکت داری، دورانِ جنگ سفارتی میدان میں مکمل خاموشی اور جنگ بندی کے فوری بعد ایران سے دوبارہ تیل کی خاطر دوستی کا راگ الاپنا مودی حکومت کی موقع پرستی، تضاد اور بدترین خارجہ منافقت کی واضح علامت ہے۔

ایکواڈور کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے مقتدر اسٹرائیکر اینر ویلنسیا کی انٹرنیشنل فٹبال سے ریٹائرمنٹ

محمود احمد, JULY 02,2026

میکسیکو سٹی (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

ایکواڈور کی فٹبال تاریخ میں سب سے زیادہ بین الاقوامی گول کرنے والے چھتیس سالہ مقتدر اسٹرائیکر اینر ویلنسیا نے فیفا ورلڈ کپ دو ہزار چھبیس سے اپنی ٹیم کے باہر ہونے کے فوری بعد انٹرنیشنل فٹبال سے باقاعدہ ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، وہ ٹورنامنٹ سے قبل ہی یہ تزویراتی اعلان کر چکے تھے کہ وہ ایکواڈور کی اگلی ورلڈ کپ کوالیفائنگ مہم کا حصہ نہیں ہوں گے۔ اینر ویلنسیا نے میکسیکو سٹی میں صحافیوں سے انتہائی جذباتی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ قومی ٹیم کے لیے اپنا آخری میچ کھیل چکے ہیں؛ انہوں نے انتہائی اداس دل کے ساتھ تمام ساتھی کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف کو الوداع کہا، کیونکہ وہ ایکواڈور کی جرسی میں اپنی رخصتی اس شکست خوردہ انداز میں نہیں چاہتے تھے۔

یاد رہے کہ فیفا ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے کے ایک سنسنی خیز اور آخری میچ میں جرمنی جیسی مضبوط ٹیم کو شکست دے کر ورلڈ کپ کے راؤنڈ آف تھرٹی ٹو (32) میں جگہ بنانے والی ایکواڈور کی ٹیم ناک آؤٹ مرحلے کے اہم میچ میں میکسیکو کے خلاف صفر کے مقابلے میں دو (0-2) کی شکست کے بعد ٹورنامنٹ کی دوڑ سے باہر ہو گئی تھی، جو ویلنسیا کا آخری انٹرنیشنل میچ ثابت ہوا۔ ویسٹ ہیم اور ایورٹن جیسے مقتدر انگلش کلبز کے سابق فارورڈ نے سال دو ہزار بارہ میں اپنے انٹرنیشنل ڈیبیو کے بعد سے ایکواڈور کے لیے اب تک ریکارڈ ایک سو نو (109) میچوں میں انچاس (49) شاندار گول کیے۔ انٹرنیشنل فٹبال سے ریٹائرمنٹ کے بعد اب وہ میکسیکو کے مقتدر کلب پاچوکا کے ساتھ اپنے کلب کیریئر کو باقاعدہ جاری رکھیں گے، جہاں ان کا پیشہ ورانہ معاہدہ دسمبر دو ہزار ستائیس تک برقرار ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے مابین کرکٹ کے فروغ کا تاریخی معاہدہ، جدہ میں بین الاقوامی معیار کا جدید کرکٹ سٹیڈیم تعمیر کیا جائے گا

منصور احمد, JULY 02,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور سعودی عرب کرکٹ فیڈریشن کے درمیان کرکٹ کے فروغ اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے ایک مقتدر مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر باقاعدہ دستخط کر دیے گئے ہیں، جس کے تحت جدہ میں بین الاقوامی معیار کا جدید ترین کرکٹ سٹیڈیم تعمیر کیا جائے گا۔ ترجمان پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، اس تاریخی معاہدے پر چیئرمین پی سی بی محسن نقوی اور چیئرمین سعودی عرب کرکٹ فیڈریشن شہزادہ سعود نے دستخط کیے۔ اس تزویراتی موقع پر گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ جدہ میں تعمیر ہونے والا جدید کرکٹ سٹیڈیم بین الاقوامی مقابلوں کے تمام جدید ترین تقاضوں پر پورا اترے گا اور وہاں اعلیٰ معیار کی کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔

انہوں نے تفصیلاً بتایا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور سعودی عرب کرکٹ فیڈریشن کرکٹ انفراسٹرکچر کی ترقی، آپریشنل معیارات اور کھیل کے فروغ کے مختلف شعبوں میں مشترکہ طور پر کام کریں گے۔ ان کے مطابق پی سی بی سعودی عرب میں کرکٹ کی ترقی میں اپنا تزویراتی کردار ادا کرنے پر فخر محسوس کرتا ہے اور یہ شراکت داری دونوں برادر ممالک کے درمیان کھیلوں کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاک سعودی تعاون کے تحت جدید اور مربوط کرکٹ انفراسٹرکچر کی تعمیر کے ساتھ ساتھ سعودی عرب میں کرکٹ کے فروغ اور کھلاڑیوں کے لیے نئے مواقع بھی پیدا کیے جائیں گے، جس سے وہاں کے ٹیلنٹ کو بین الاقوامی سطح پر ابھرنے کا موقع ملے گا۔

دوسری جانب، چیئرمین سعودی عرب کرکٹ فیڈریشن شہزادہ سعود نے پاکستان کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ شراکت داری صرف ایک کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ سعودی عرب میں کرکٹ کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کی جانب ایک اہم اور تزویراتی پیش رفت ثابت ہوگی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پی سی بی کے وسیع تجربے اور تکنیکی مہارت سے فائدہ اٹھا کر سعودی عرب جلد کرکٹ کی دنیا میں اپنی منفرد شناخت بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے مابین کھیلوں کے سفارتی روابط میں ایک نئے اور خوش آئند باب کا اضافہ ہے۔

فیفا ورلڈ کپ دو ہزار چھبیس: ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی میں ناکامی کے باوجود ایرانی فٹبال ٹیم کا وطن واپسی پر پرتپاک استقبال

محمود احمد, JULY 02,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں کھیلے جا رہے فیفا ورلڈ کپ دو ہزار چھبیس کے گروپ مرحلے سے باہر ہونے کے باوجود، ایرانی قومی فٹبال ٹیم کا بدھ کے روز وطن واپسی پر تہران کے مہرآباد ایئرپورٹ پر سیکڑوں شائقین، بچوں اور اہل خانہ نے انتہائی پرتپاک اور تاریخی استقبال کیا ہے۔ ایئرپورٹ پر موجود مداحوں نے “ایران، ایران” کے فلک شگاف نعرے لگائے، قومی پرچم لہرائے اور ٹیم کی آفیشل جرسی پہن کر کھلاڑیوں کی زبردست حوصلہ افزائی کی۔ ایرانی فٹبال ٹیم ترکی کے راستے میکسیکو سے تہران پہنچی، جہاں ورلڈ کپ کے دوران تزویراتی مشکلات کے باعث اس کا عارضی بیس کیمپ قائم کیا گیا تھا۔

کھلاڑیوں کے طیارے سے اترنے پر ایئرپورٹ پر موجود فوجی بینڈ نے قومی ترانہ پیش کر کے ان کا استقبال کیا، جبکہ متعدد شائقین نے مقتدر گول کیپر علی رضا بیرانوند کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں، جنہوں نے بیلجیم کے خلاف میچ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس موقع پر جذباتی انداز میں گفتگو کرتے ہوئے علی رضا بیرانوند نے شائقین سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ ورلڈ کپ کے اگلے مرحلے میں رسائی حاصل نہ کرنے پر قوم سے معذرت خواہ ہیں اور انہیں مطلوبہ خوشی نہ دے سکے جس کا پوری ٹیم کو گہرا افسوس ہے۔ ٹیم کے دفاعی کھلاڑی رامین رضائیان نے واضح کیا کہ ان کی ٹیم تکنیکی طور پر مزید آگے جانے کی مستحق تھی، تاہم ٹورنامنٹ کے دوران امریکی امیگریشن پابندیوں نے ان کے لیے حالات کو انتہائی مشکل بنا دیا تھا۔ ایئرپورٹ پر موجود ایک خاتون مداح، مونا بنی صفا نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ کھلاڑیوں نے نامساعد حالات میں بھی اپنی بھرپور کوشش کی اور وہ صرف ان کا شکریہ ادا کرنے آئی ہیں۔

یاد رہے کہ فیفا ورلڈ کپ دو ہزار چھبیس میں ایران اپنے گروپ میں تینوں میچ برابر کھیلنے کے بعد پوائنٹس ٹیبل پر تیسرے نمبر پر رہا، تاہم بہتر گول فرق نہ ہونے کے باعث وہ ٹورنامنٹ کی بہترین آٹھ تیسرے نمبر کی ٹیموں میں جگہ بنانے میں ناکام رہا اور یوں ناک آؤٹ مرحلے کی دوڑ سے باہر ہو گیا۔ رپورٹ کے مطابق، ٹورنامنٹ کے دوران ایران کی اسپورٹس مہم پر شدید سفری اور انتظامی مسائل اثرانداز رہے۔ ایرانی وفد کے متعدد مقتدر ارکان اور آفیشلز کو امریکی ویزے جاری نہ کیے جانے کے باعث ٹیم کو اپنا مرکزی بیس کیمپ امریکہ کے بجائے میکسیکو منتقل کرنا پڑا تھا، جس پر ایرانی حکام نے بین الاقوامی سطح پر امریکی انتظامیہ کی عائد کردہ سفری پابندیوں اور امتیازی سلوک کے خلاف شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ملک کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت یا غلط اندازہ آرائی کا ہماری مسلح افواج سخت ترین جواب دیں گی، کمانڈر علی عبداللہی؛ قم میں پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے انتظامات مکمل

کاشف عباسی , JULY 02,026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

ایران نے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کی ادائیگی سے قبل اپنے روایتی حریفوں امریکا اور اسرائیل کو کڑی وارننگ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ تہران کے خلاف کسی بھی ممکنہ حملے یا تزویراتی جارحیت سے مکمل گریز کریں۔ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے سینئر کمانڈر علی عبداللہی نے ایک تزویراتی بیان میں واضح کیا کہ ہم ایران کے دشمنوں، بالخصوص امریکا اور اسرائیل کو سخت ترین الفاظ میں خبردار کرتے ہیں کہ وہ خطے کی موجودہ صورتحال میں کسی بھی قسم کی غلط اندازہ آرائی سے باز رہیں اور یہ بات اپنے ذہن نشین رکھیں کہ ہمارے ملک کے خلاف اٹھنے والے کسی بھی خطرے یا جارحیت کا ہماری مسلح افواج انتہائی سخت اور دندان شکن جواب دیں گی۔

ایرانی حکام کی جانب سے یہ مقتدر بیان ایک ایسے نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی سرکاری سطح پر نمازِ جنازہ کی بڑے پیمانے پر تیاریاں جاری ہیں اور خطے میں تزویراتی کشیدگی عروج پر ہے۔ دوسری جانب، ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے کمانڈر کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر کی نمازِ جنازہ کے انتظامات سے متعلق حتمی صورتحال غیر معمولی ہجوم کے باعث اب بھی واضح نہیں ہے۔ ایران کے مقتدر صوبہ قم میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے بتایا کہ سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کے جلوس کے لیے فول پروف سیکیورٹی منصوبہ بندی تو مکمل کر لی گئی ہے، تاہم لاکھوں کی تعداد میں متوقع ہجوم اور سیکیورٹی خدشات کے باعث حتمی طور پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تمام انتظامات سو فیصد منصوبے کے عین مطابق ہی آگے بڑھیں گے۔

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق، صوبہ قم میں پاسدارانِ انقلاب کے مقتدر کمانڈر فتح اللّٰہ جمیری نے روٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ نمازِ جنازہ کا مرکزی جلوس مسجدِ جمکران سے شروع ہو کر حضرت فاطمہ معصومہ کے روضہ مبارک تک جانے کا تزویراتی منصوبہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس سیکیورٹی فورسز کی مدد سے نمازِ جنازہ کے جلوس کا مکمل روٹ اور متبادل راستے موجود ہیں، لیکن عوام کی ریکارڈ توڑ تعداد، بیرونی شرکاء کی آمد اور ٹریفک کی غیر معمولی صورتحال کے باعث ہم سو فیصد یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ عملی طور پر زمینی صورتحال کیا رخ اختیار کرے گی۔ تہران اور قم سمیت پورے ایران میں اس وقت سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔