جرمنی کے شہر لودوِگس لسٹ میں ہسپتال کے اندر خوفناک آتشزدگی، دو افراد ہلاک اور چونتیس زخمی

محمود احمد, JULY 02,2026

برلن/لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

جرمنی کے شمال مشرقی شہر لودوِگس لسٹ میں ایک ہسپتال میں اچانک خوفناک آگ لگنے کے باعث دو افراد ہلاک اور چونتیس دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، مقامی حکام نے مقتدر ذرائع سے بتایا ہے کہ آگ جمعرات کی صبح مقامی وقت کے مطابق تقریباً ساڑھے چار بجے ہسپتال کے ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی عمارت کی چھت میں لگی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے عمارت کے دیگر حصوں کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔ اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی گاڑیوں نے موقع پر پہنچ کر تزویراتی کارروائی کی اور انتھک کوششوں کے بعد آگ پر قابو پا لیا، تاہم مقامی انتظامیہ اور فائر حکام ابھی تک آگ لگنے کی اصل وجہ کا تعین نہیں کر سکے۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق، کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچنے اور احتیاطی تدابیر کے تحت ہسپتال اور اس سے ملحقہ دیگر تمام عمارتوں کو فوری طور پر خالی کرایا جا رہا ہے۔ فائر حکام کا کہنا ہے کہ عمارت میں محبوس تمام مریضوں کو بحفاظت نکال کر ہسپتال کے احاطے میں ہی قائم ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ڈاکٹرز اور طبی عملہ انہیں فوری طبی امداد اور ضروری دیکھ بھال فراہم کر رہا ہے۔ جرمن سیکیورٹی اداروں نے واقعے کی باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ آتشزدگی کی اصل وجوہات کا سراغ لگایا جا سکے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی سعودی ہم منصب شہزادہ عبدالعزیز بن سعود سے ریاض میں مقتدر ملاقات؛ ریاض کے جدید ترین یونیفائیڈ سیکیورٹی آپریشنز سنٹر نائن ون ون کا تفصیلی دورہ

محمود احمد, JULY 02,2026

ریاض/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

پاکستان اور سعودی عرب نے دونوں برادر ممالک کے مابین دیرینہ تزویراتی شراکت داری اور برادرانہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے سیکیورٹی کے شعبے میں ایک مقتدر مفاہمت کی یادداشت پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں۔ سعودی عرب کے وزیرِ داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نائف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری کردہ اپنے مقتدر بیان میں بتایا کہ انہوں نے اپنی اعلیٰ قیادت کی خصوصی ہدایات کے تحت پاکستانی ہم منصب، وفاقی وزیرِ داخلہ و انسدادِ منشیات محسن رضا نقوی سے ریاض میں ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کی۔ اس اہم بیٹھک کے دوران دونوں مقتدر رہنماؤں نے دوطرفہ سیکیورٹی تعاون کو فول پروف بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا اور اس دستخط شدہ معاہدے کو دونوں برادر ممالک کے گہرے اور مستحکم تعلقات کا عکاس قرار دیا۔

اپنے اس مقتدر دورے کے دوران وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ریاض ریجن میں واقع جدید ترین “یونیفائیڈ سیکیورٹی آپریشنز سنٹر” (نائن ون ون) کا تفصیلی معائنہ بھی کیا۔ انہوں نے سنٹر کے مختلف اہم شعبوں کا دورہ کیا جہاں انہیں تمام متعلقہ سیکیورٹی اور سروسز کے اداروں کے مابین بہترین ہم آہنگی، روابط اور انضمام کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کی جانے والی جدید ترین ٹیکنالوجیز کے بارے میں تزویراتی بریفنگ دی گئی۔ محسن نقوی نے شہریوں، مقامی مقیم افراد اور زائرین کے لیے ہنگامی رپورٹس پر انتہائی تیز رفتار اور درست ردعمل کو یقینی بنانے کے لیے سعودی حکام کی انتھک کوششوں اور جدید ترین تکنیکی نظام کو خاص طور پر سراہا۔

واضح رہے کہ ریاض ریجن کا یہ مرکزی آپریشنز سنٹر (نائن ون ون) سعودی عرب کے اہم ترین سیکیورٹی انفراسٹرکچر میں شمار ہوتا ہے، جو ریاض شہر کے علاوہ خطے کی بائیس گورنریٹس کو اپنی چوبیس گھنٹے خدمات فراہم کر رہا ہے۔ ایک ہی چھت تلے قائم اس جدید ترین کنٹرول روم میں باسٹھ آپریشنل ورکنگ یونٹس چوبیس گھنٹے متحرک رہتے ہیں، جو تمام ہنگامی نوعیت کی کالز کو موصول کر کے فوری کارروائی کو یقینی بناتے ہیں۔ سیکیورٹی اور ہنگامی خدمات کا یہ مربوط نظام سعودی عرب کے تاریخی “وژن بیس تیس” اور “کوالٹی آف لائف پروگرام” کے اعلیٰ اہداف کے تحت کامیابی سے کام کر رہا ہے۔

’گلوبل لیڈرشپ ان کمیونیکیشن پروگرام‘ روایتی تربیت سے ہٹ کر ثقافتی ابلاغ اور سعودی عرب کے مثبت عالمی تشخص کو اجاگر کرنے پر مرکوز

محمود احمد, JULY 01,2026

ریاض/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

سعودی عرب کے سلام پراجیکٹ برائے ثقافتی رابطہ نے سعودی نوجوان مرد و خواتین کو علم، عملی مہارتوں اور قائدانہ صلاحیتوں سے آراستہ کرنے کا عمل تیز کر دیا ہے تاکہ وہ عالمی سطح پر مملکت سعودی عرب کی مؤثر نمائندگی کر سکیں اور بین الثقافتی مکالمے اور مہذب ابلاغ کے ذریعے سعودی عرب کے مثبت بین الاقوامی تشخص کو مزید مستحکم بنا سکیں۔ سلام پراجیکٹ برائے ثقافتی رابطہ کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر ابرار عبدالمنان بار نے الاخباریہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلوبل لیڈرشپ ان کمیونیکیشن پروگرام ایک منفرد قومی اقدام ہے، جو روایتی قائدانہ تربیت سے ہٹ کر ثقافتی ابلاغ، تہذیبی روابط اور عالمی سطح پر سعودی عرب کے مثبت تاثر کو اجاگر کرنے پر خصوصی توجہ دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام محض ایک تربیتی کورس نہیں بلکہ ایک جامع تعلیمی و عملی سفر ہے، جس میں شرکاء کو سب سے پہلے اپنے وطن سعودی عرب، اس کی ترقی، قومی کامیابیوں، تہذیبی و انسانی اقدار، ثقافتی شناخت اور عالمی کردار سے گہری آگاہی فراہم کی جاتی ہے، جس کے بعد انہیں وہ عملی مہارتیں سکھائی جاتی ہیں جو بین الاقوامی فورمز پر مملکت کی مؤثر، باوقار اور پیشہ ورانہ نمائندگی کے لیے ناگزیر ہیں۔

ڈاکٹر ابرار عبدالمنان بار کے مطابق، پروگرام کا بنیادی مقصد ایسے باصلاحیت نوجوان تیار کرنا ہے جو سعودی عرب کی حقیقی تصویر، اس کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار اور قومی تشخص کو اعتماد، فہم اور مہارت کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کر سکیں، جبکہ ان میں اپنی تہذیبی شناخت اور قومی ورثے سے وابستگی بھی مزید مضبوط ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں محض نظریاتی تعلیم پر اکتفا نہیں کیا جاتا بلکہ حقیقی زندگی کے عملی تجربات کو مرکزی حیثیت دی جاتی ہے۔ شرکاء کو تجربہ کار سفارت کاروں، مقامی و بین الاقوامی ماہرین اور ابلاغ عامہ کے متخصصین سے براہِ راست سیکھنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے، جس سے انہیں سفارت کاری، عالمی ابلاغ اور بین الثقافتی روابط کے عملی تقاضوں سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پروگرام میں خصوصی تعلیمی مواد، فکری و تربیتی نشستیں، مطالعاتی دورے اور عملی منصوبے بھی شامل ہیں، جن کے ذریعے شرکاء اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، خود اعتمادی اور مؤثر ابلاغ کی مہارتوں کو فروغ دیتے ہیں اور عالمی سطح پر سعودی عرب کے ذمہ دار نمائندے بننے کے لیے درکار تمام اوصاف حاصل کرتے ہیں۔ ڈاکٹر ابرار عبدالمنان بار نے کہا کہ پروگرام مکمل کرنے والے نوجوان نہ صرف جامع علمی و عملی تربیت حاصل کرتے ہیں بلکہ وہ ایسی قائدانہ اور ابلاغی صلاحیتوں سے بھی مزین ہوتے ہیں جو انہیں بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر سعودی عرب کی نمائندگی کرتے ہوئے مثبت، مؤثر اور دیرپا تاثر قائم کرنے کے قابل بناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سلام پراجیکٹ برائے ثقافتی رابطہ سعودی عرب کا ایک مقتدر قومی اقدام ہے، جس کا مقصد مختلف تہذیبوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دینا، اقوام کے درمیان باہمی احترام اور افہام و تفہیم کو مستحکم کرنا، اور سعودی نوجوانوں کو عالمی سطح پر تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے پراجیکٹ خصوصی تربیتی پروگراموں، عملی تجربات اور جدید ابلاغی مہارتوں کے ذریعے نوجوانوں کو مختلف ثقافتوں کے ساتھ مؤثر رابطہ استوار کرنے، بین الاقوامی فورمز میں فعال شرکت کرنے اور سعودی عرب کے مثبت عالمی تشخص کو مزید اجاگر کرنے کے قابل بناتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سلام پراجیکٹ سعودی وژن بیس تیس کے اہداف سے مکمل ہم آہنگ ہے، جس کے تحت مملکت کھلے پن، بقائے باہمی، ثقافتی تبادلوں اور تعمیری عالمی شراکت داری کو فروغ دیتے ہوئے باصلاحیت قومی افرادی قوت کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی مؤثر موجودگی کو مزید مستحکم کر رہی ہے۔

پاک بھارت قونصلر رسائی معاہدہ، دونوں ممالک کے مابین قیدیوں کی تازہ ترین فہرستوں کا تبادلہ

منصور احمد, JULY 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

پاکستان اور بھارت نے دوطرفہ قونصلر رسائی کے تاریخی معاہدے کے تحت روایتی سفارتی ذرائع سے ایک دوسرے کی تحویل میں موجود قیدیوں کی تازہ ترین فہرستوں کا باقاعدہ تبادلہ کیا ہے۔ بدھ کے روز دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، اکیس مئی دو ہزار آٹھ کو طے پانے والے دوطرفہ معاہدے کے تحت دونوں ممالک پابند ہیں کہ وہ ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو اپنی جیلوں میں بند قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کریں۔ اسی تزویراتی فریم ورک کے تحت، حکومتِ پاکستان نے اسلام آباد میں قائم بھارتی ہائی کمیشن کو اپنی تحویل میں موجود دو سو پچاس بھارتی قیدیوں کی سرکاری فہرست فراہم کی، جن میں باون سویلین قیدی اور ایک سو اٹھانوے ماہی گیر شامل ہیں۔ دوسری جانب، حکومتِ بھارت نے بھی نئی دہلی میں پاکستانی سفارت کاروں کو اپنی جیلوں میں موجود چار سو انتالیس پاکستانی یا بظاہر پاکستانی قیدیوں کی تازہ فہرست مقتدر ذرائع سے فراہم کی ہے، جن میں تین سو چھیاسی سویلین قیدی اور ترپن ماہی گیر شامل ہیں۔

دفتر خارجہ کے مقتدر ترجمان کے مطابق، پاکستان نے بھارتی حکومت پر کڑا زور دیا ہے کہ وہ اپنی جیلوں میں اپنی مقررہ سزا مکمل کرنے والے ستانوے پاکستانی قیدیوں، جن میں چونسٹھ سویلین قیدی اور تینتیس ماہی گیر شامل ہیں، کو فوری طور پر رہا کر کے باوقار طریقے سے وطن واپس بھیجے کیونکہ ان تمام قیدیوں کی پاکستانی شہریت کی حتمی تصدیق مکمل ہو چکی ہے۔ پاکستان نے اس موقع پر بھارت سے یہ اہم تزویراتی مطالبہ بھی کیا کہ رہائی اور اپنے وطن واپسی کے منتظر تمام معصوم پاکستانی اور بظاہر پاکستانی قیدیوں کی جیلوں کے اندر مکمل حفاظت، سلامتی اور سماجی فلاح و بہبود کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

آفیشل بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان نے بھارت سے ان تمام بظاہر پاکستانی قیدیوں کو بھی جلد سے جلد قونصلر رسائی فراہم کرنے کا مقتدر مطالبہ کیا ہے جن کے مقدمات ابھی زیرِ التوا ہیں، تاکہ ان کی اصل شہریت کی بروقت اور قانونی تصدیق کا عمل جلد مکمل کیا جا سکے۔ دفتر خارجہ کے مطابق، حکومتِ پاکستان بھارتی جیلوں میں اس وقت محبوس تمام معصوم پاکستانی قیدیوں کے قانونی حقوق کے تحفظ اور ان کی جلد از جلد وطن واپسی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکنہ تزویراتی و سفارتی کوششیں مسلسل جاری رکھے گی تاکہ وہ جلد اپنے خاندانوں سے مل سکیں۔

پاکستان میں موسمیاتی اور انسانی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے حکومت اور اقوامِ متحدہ کا باہمی اشتراک بڑھانے پر اتفاق

روزینہ اسماعیل, JULY 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک سے اسلام آباد میں اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امداد کے نو منتخب اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل برائے انسانی امور اور ڈپٹی ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ نے ایک اعلیٰ سطحی اور مقتدر ملاقات کی ہے۔ اس اہم بیٹھک کے موقع پر اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے اعلیٰ نمائندگان بھی موجود تھے۔ بدھ کے روز وزارتِ موسمیاتی تبدیلی سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق، ملاقات کے آغاز میں وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے محمد یحییٰ کو اقوامِ متحدہ میں اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل برائے انسانی امور اور ڈپٹی ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر کے باوقار عہدے پر تقرری پر دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے پاکستان میں اقوامِ متحدہ کے سابق ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر کی حیثیت سے محمد یحییٰ کی شاندار خدمات کو شاندار الفاظ میں سراہتے ہوئے پاکستان کے ساتھ ان کے مسلسل تزویراتی تعاون کی تعریف کی۔

ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی انسانی امداد سے متعلق خدمات اس عالمی ادارے کے سب سے اہم، قابلِ ستائش اور مؤثر ترین کرداروں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے دنیا بھر بالخصوص پاکستان میں قدرتی آفات، انسانی بحرانوں اور موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے سنگین تزویراتی چیلنجز سے نمٹنے میں اقوامِ متحدہ کی انتھک کاوشوں کا اعتراف کیا۔ اس مقتدر ملاقات کے دوران وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی اور اقوامِ متحدہ کے متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے مختلف تزویراتی امکانات پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا گیا، جس کے تحت موسمیاتی مزاحمت ، ناگہانی آفات سے نمٹنے کی پیشگی تیاری، پائیدار ترقی، اور انسانی امداد سے متعلق اہم شعبوں میں مشترکہ پراجیکٹس شروع کرنے پر غور کیا گیا۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے آئندہ برسوں میں مشترکہ تزویراتی تعاون کے لیے ترجیحی شعبوں کے حتمی تعین اور باہمی اشتراک پر مبنی دوررس منصوبہ بندی کے حوالے سے تفصیلی اتفاقِ رائے پیدا ہوا۔ دونوں مقتدر شخصیات نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے قریبی اشتراک سے ایسے تمام ماحولیاتی اقدامات کو عملی اور مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جائے گا، تاکہ پاکستان میں موسمیاتی موافقت اور انسانی ترقی کے اہداف کا بہتر، تیز رفتار اور پائیدار حصول ہر صورت ممکن بنایا جا سکے۔

آٹھ بار کی ومبلڈن چیمپئن سیرینا ولیمز چار برس بعد ایونٹ میں واپسی پر پہلے ہی راؤنڈ میں شکست کھا گئیں، آسٹریلیا کی مایا جوائنٹ نے ہرا دیا

محمود احمد, JULY 01,2026

واشنگٹن: (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

آٹھ بار کی ومبلڈن ٹینس چیمپئن، امریکہ کی مایاناز کھلاڑی سیرینا ولیمز چار برس بعد اس باوقار ایونٹ میں اپنی واپسی کو خوشگوار بنانے میں ناکام رہیں اور انہیں پہلے ہی راؤنڈ میں اپ سیٹ شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لندن کے آل انگلینڈ کلب میں جاری سال کے تیسرے گرینڈ سلم ٹورنامنٹ کے ویمن ایونٹ میں دنیائے ٹینس کی مقتدر کھلاڑی سیرینا ولیمز کی کورٹ پر واپسی پورے چار سال بعد ہوئی تھی، مگر وہ پہلے راؤنڈ کا تزویراتی مرحلہ بھی عبور نہ کرسکیں۔ چوالیس سالہ سیرینا ولیمز نے آسٹریلیا کی مایا جوائنٹ کا پورے تین سیٹ تک بھرپور مقابلہ کیا۔ وہ پہلا سیٹ تین چھ کے اسکور سے ہار گئیں، تاہم انہوں نے شاندار کم بیک کرتے ہوئے دوسرا سیٹ ٹائی بریکر پر سات چھ سے اپنے نام کیا، لیکن تیسرے اور فیصلہ کن سیٹ میں وہ صرف تین گیمز جیت سکیں اور دو ایک کے مجموعی اسکور سے میچ ہار کر ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئیں۔

ٹورنامنٹ کے دیگر مقتدر مقابلوں میں ویمن ایونٹ کی نمبر آٹھ سیڈ یوکرین کی ایلینا سیوٹولینا بھی اپ سیٹ شکست کا شکار ہو کر ایونٹ سے باہر ہو گئیں، انہیں سنی گور نے دو سیدھے سیٹس میں سات پانچ اور چھ دو سے مات دی۔ دوسری جانب، نمبر دو سیڈ ایلینا ریبا کینا نے انتہائی دباؤ میں اپنا میچ جیت لیا، انہوں نے بوائسن کو چھ چار، ایک چھ اور چھ تین سے سخت مقابلے کے بعد شکست دی۔ اسی طرح نمبر تین سیڈ پولینڈ کی ایگا شیواٹک نے بھی اپنا میچ جیت کر اگلے راؤنڈ کے لیے کوالیفائی کر لیا، انہوں نے ٹاؤن سینڈ کو تین سیٹ کے دلچسپ مقابلے کے بعد چھ ایک، دو چھ اور چھ تین سے مات دی۔

مینز سنگلز کے مقتدر مقابلوں میں جرمنی کے نمبر دو سیڈ الیگزینڈر زیوریو نے چار سیٹ کے انتہائی دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد بیلجئم کے الیگزینڈر بلاگسک کو زیر کر کے اگلے مرحلے میں جگہ بنا لی۔ دوسری جانب سوئٹزرلینڈ کے مایہ ناز کھلاڑی اسٹین واورینکا کو پہلے ہی راؤنڈ میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، انہیں اٹلی کے میٹیو بیریٹینی نے چار سیٹ کے طویل اور اعصاب شکن مقابلے کے بعد چھ سات، سات چھ، سات چھ اور سات چھ کے اسکور سے شکست دے کر ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا۔

فرانسیسی اسٹار کایلیان ایم باپے نے جرمن فٹ بالر کلوزے کا ریکارڈ توڑ دیا، ورلڈ کپ تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے دوسرے کھلاڑی بن گئے

محمود احمد, JULY 01,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

دنیائے فٹ بال کے مقتدر اور مایہ ناز اسٹار کھلاڑی، فرانس کے کایلیان ایم باپے نے سوئیڈن کے خلاف میچ میں دو شاندار گول اسکور کر کے میگا ایونٹ کی تاریخ میں ایک نیا تزویراتی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ ان دو گولز کی بدولت وہ فٹ بال ورلڈ کپ کی تاریخ میں مجموعی طور پر سب سے زیادہ گول کرنے والے دنیا کے دوسرے کھلاڑی بن گئے ہیں، جہاں ان کے کل گولز کی تعداد اب اٹھارہ ہو گئی ہے۔ ایم باپے کے ان دو شاندار گولز نے انہیں فٹ بال کی دنیا کے منفرد ریکارڈز کا مالک بنا دیا ہے اور انہوں نے جرمنی کے سابق مقتدر فٹ بالر میروسلاو کلوزے کے سولہ گول کرنے کا دیرینہ ریکارڈ کامیابی سے توڑ دیا ہے۔

اس مقتدر ریکارڈ کے ساتھ اب وہ ارجنٹائن کے کپتان اور لیجنڈری فٹ بالر لیونل میسی سے صرف ایک گول پیچھے رہ گئے ہیں، جن کے ورلڈ کپ میں مجموعی گولوں کی تعداد انیس ہے۔ اس کے علاوہ فرانسیسی فارورڈ جاری ورلڈ کپ ٹورنامنٹ میں اب تک مجموعی طور پر چھ گول اسکور کر چکے ہیں، جس کے بعد وہ اس میگا ایونٹ میں چھ گول کرنے والے میسی کے برابر آ گئے ہیں اور ٹورنامنٹ کے سب سے باوقار انعام یعنی “گولڈن بوٹ” حاصل کرنے کی دوڑ میں مضبوط ترین امیدوار بن کر سامنے آئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق، ایم باپے ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کے انتہائی دباؤ والے ناک آؤٹ مرحلے میں بھی دنیا کے سب سے زیادہ گول کرنے والے مقتدر کھلاڑی بن گئے ہیں؛ میگا ایونٹس کے ناک آؤٹ راؤنڈز میں اب ان کے انفرادی گول کرنے کی کل تعداد دس ہو گئی ہے، جو ان کی شاندار تکنیکی مہارت اور تزویراتی کھیل کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ فرانسیسی عوامی اور اسپورٹس حلقوں نے ایم باپے کی اس تاریخی کارکردگی پر انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

دوحہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات جاری ہیں، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا انکشاف

https://images.openai.com/static-rsc-4/mGVmkBkIQMxRXU6ToycDTEhgT7R4tviSAkVn7rbNZbLjTo-SRX_tb4UAnw7qOSpmWVhIdqz9oaJwtiV3Q83onRWfDwj0zIqUJ0jla7S3gD_hhFVGEUVkSishwd48KYG-uOqWQzKIgutD2s2waUdOo4z507Wz8YUFBDpqrh-qbXWlo9LxEXn8hopltPTVoZQw?purpose=fullsize

محمود احمد, JULY 01,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے ملک اور ایران کے درمیان سفارتی و تکنیکی مذاکرات جاری ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے “بی بی سی” کے مطابق، امریکی نائب صدر نے واضح کیا ہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری ان اہم مذاکرات سے متعلق ایران کی عوامی سطح پر تردید دراصل ایک دانستہ “فارسی طرزِ مذاکرات” کا حصہ ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکی حکومت اور ایرانی حکومت کے درمیان پسِ پردہ تکنیکی سطح کی بات چیت مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔ “دی مائیکل نولز شو” کو دیے گئے اپنے ایک مقتدر انٹرویو میں جے ڈی وینس نے تصدیق کی کہ یہ مقررہ مذاکرات ہونے تھے، جو پہلے سے جاری سفارتی رابطوں اور بنیادی تزویراتی فریم ورک کے تحت یکم جولائی کو شیڈول کے مطابق ہو رہے ہیں۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے انٹرویو کے دوران کہا کہ تہران کے عوامی بیانات انہیں انتہائی دلچسپ اور کسی حد تک پریشان کن لگتے ہیں، کیونکہ ایرانی حکام ایک طرف کھلے عام امن مذاکرات کی تردید کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب اندرونی طور پر تکنیکی سطح کی بات چیت کو تسلیم بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایرانی کہتے ہیں کہ کوئی امن مذاکرات نہیں ہو رہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے مقتدر پہلوؤں پر تکنیکی مذاکرات جاری ہیں؛ یہ ایک خاص فارسی طرزِ مذاکرات اور بیانیہ ہے جسے سمجھنا عام طور پر مشکل ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، وائٹ ہاؤس کے مقتدر نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پیر کے روز اس وقت دوحہ کے لیے روانہ ہوئے تھے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باقاعدہ اعلان کیا تھا کہ ایران نے قطری دارالحکومت میں اعلیٰ سطح کی ملاقات کی باضابطہ درخواست کی ہے۔ اگرچہ ایران نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی براہِ راست ملاقات کی منصوبہ بندی کی سختی سے تردید کی ہے، تاہم ایرانی حکام نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے سفارتی مشاورت کا عمل مسلسل جاری ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کو کم کرنے کے لیے ایک اہم تزویراتی کوشش ہے۔

مسلح افواج کو عالمی معیار کے مطابق تیار کرنے کا عمل تیز کیا جائے گا، چینی صدر شی جن پنگ

کاشف عباسی , JULY 01,026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

چینی صدر شی جن پنگ نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ چین اپنی مسلح افواج کی عالمی معیار کے مطابق ترقی کو مزید تیز کرے گا اور مقررہ مدت کے اندر اپنے قومی دفاع اور فوج کی جدید کاری کا عمل ہر صورت مکمل کرے گا۔ روس کی مقتدر خبر رساں ایجنسی “تاس” کے مطابق، انہوں نے چینی کمیونسٹ پارٹی (سی پی سی) کے 105ویں یومِ تاسیس کی مناسبت سے منعقدہ ایک پروقار اور اعلیٰ سطحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں عالمی معیار کی چینی مسلح افواج کی ترقی کو تیز کرنا ہوگا، جبکہ فوج کے قیام کو 100 سال مکمل ہونے کے سلسلے میں طے شدہ تمام تزویراتی اہداف کو وقت پر حاصل کرنا ہوگا۔ چینی صدر نے زور دیا کہ ملک کی خودمختاری، قومی سلامتی اور اس کے ترقیاتی مفادات کا بھرپور دفاع کرنا چین کی اولین ترجیح ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے مقتدر خطاب میں اس بات پر گہرا زور دیا کہ ایک مضبوط ملک کی بقا اور خوشحالی کے لیے ایک مضبوط اور جدید فوج کا ہونا ناگزیر ہے، اور طاقتور مسلح افواج کے بغیر کسی بھی صورت قومی سلامتی کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین اپنی فوجی ترقی کے منفرد اور خودمختار راستے پر پوری ثابت قدمی سے گامزن رہے گا؛ اس مقصد کے لیے فوج کے سیاسی، تکنیکی، افرادی اور قانونی پہلوؤں کو مزید مربوط اور مضبوط بنایا جائے گا تاکہ چینی افواج نہ صرف اپنے ملک کا تزویراتی دفاع کر سکیں بلکہ عالمی امن، استحکام اور عالمی ترقی کے فروغ میں بھی دنیا بھر میں پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر اور کلیدی کردار ادا کر سکیں۔

ہیکرز نے اینڈرائیڈ و آئی او ایس ایپس سمیت آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کا کنٹرول سنبھال کر قرآنی آیت اور ویڈیو چلا دی؛ بھارت کے سائبر سیکیورٹی دعوؤں کا پول کھل گیا

محمود احمد, JULY 01,2026

نئی دہلی/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

نامعلوم ہیکرز کی جانب سے بھارتی ٹی وی چینلز پر تابڑ توڑ سائبر حملوں کا تزویراتی سلسلہ انتہائی شدت کے ساتھ جاری ہے، جس کے تحت ایک اور مقتدر بھارتی نیوز چینل کو کامیابی سے ہیک کر لیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، ہیکرز نے بھارت کے بڑے اور معروف نیوز چینل “اے بی پی نیوز” کو ہیک کر کے اس کی لائیو نشریات کو مکمل طور پر معطل کر دیا ہے۔ سائبر حملے کی زد میں صرف ٹی وی نشریات ہی نہیں آئیں بلکہ ہیکرز نے اے بی پی نیوز کے آفیشل اینڈرائیڈ اور آئی او ایس موبائل ایپلی کیشنز کو بھی مکمل طور پر ہیک کر کے اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔ ہیکنگ کے دوران ہیکرز نے اے بی پی کے آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارمز اور لائیو فیڈ پر قرآنی آیت اور خصوصی ویڈیو بھی دکھائی۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اے بی پی نیوز بھارت کا ایک انتہائی مقتدر اور بڑا میڈیا نیٹ ورک ہے، جس کے صرف یوٹیوب پر پندرہ ملین (ڈیڑھ کروڑ) سے زائد سبسکرائبرز ہیں جبکہ اس کی ماہانہ ویورشپ کا اندازہ تقریباً ایک سو چوبیس ملین (بارہ کروڑ چالیس لاکھ) سے زائد ہے۔ انیس سو اٹھانوے میں قائم ہونے والا یہ نیوز چینل ماضی میں “اسٹار نیوز” کے نام سے جانا جاتا تھا۔ سائبر سیکیورٹی کے مقتدر ماہرین کے مطابق، بھارت جو دنیا بھر میں آئی ٹی گرو ہونے کے بلند و بانگ دعوے کرتا ہے، اس کے بڑے میڈیا چینلز پر یکے بعد دیگرے ہونے والے ان کامیاب حملوں نے اس کے ڈیجیٹل دفاع اور سائبر سیکیورٹی کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیکنگ کے ان پے در پے لرزہ خیز واقعات نے بھارت کی سائبر سیکیورٹی، ڈیجیٹل تحفظ اور ڈیٹا انفراسٹرکچر کے دعوؤں پر سنگین تزویراتی سوالیہ نشانات لگا دیے ہیں۔ یہ تباہ کن سائبر حملے واضح طور پر ثابت کرتے ہیں کہ بھارت کی مجموعی سیکیورٹی، خصوصاً آئی ٹی کے شعبے کا انتظام انتہائی ناقص اور کمزور ہے، جو جدید دور کے سائبر خطرات کا مقابلہ کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔

عالمی بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے پنجاب میں ڈیجیٹل ترقی کے لیے 7 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری دے دی

محمود احمد, JULY 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

عالمی بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے پنجاب میں ڈیجیٹل ترقی کو نئی رفتار دینے اور مقتدر انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے 7 کروڑ ڈالر کی خطیر مالی معاونت کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ یہ تزویراتی معاونت “کنیکٹڈ پنجاب پروگرام” کے تحت فراہم کی جائے گی، جس کا بنیادی مقصد صوبے بھر میں براڈبینڈ انٹرنیٹ کی رسائی کو بڑھانا، سرکاری خدمات کو جدید ترین ڈیجیٹل نظام سے ہم آہنگ کرنا اور روایتی نقد رقم کے بجائے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔ ورلڈ بینک کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، یہ پروگرام پاکستان کے قومی ڈیجیٹل وژن سے مکمل ہم آہنگ ہے اور وفاقی حکومت کے ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پراجیکٹ کے تحت تیار کیے جانے والے قومی ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کی تکمیل میں معاون ثابت ہوگا، جس کا مقصد وفاقی سطح پر کی جانے والی ڈیجیٹل سرمایہ کاری، پالیسیاں اور ٹیکنالوجی پنجاب کے شہریوں، کاروباری اداروں اور سرکاری محکموں تک مؤثر انداز میں پہنچانا ہے۔

عالمی بینک کے مطابق، اس منصوبے کے لیے فراہم کی جانے والی 7 کروڑ ڈالر کی آئی ڈی اے فنانسنگ پنجاب حکومت کے 20 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے مساوی شراکتی فنڈز کے ساتھ مل کر 27 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے مجموعی سرمایہ کاری پروگرام کا حصہ ہوگی۔ پاکستان میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازر نے اس حوالے سے بتایا کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل رابطہ محض ایک سہولت نہیں بلکہ پائیدار ترقی، روزگار اور مساوی مواقع کی مضبوط بنیاد بن چکا ہے؛ وفاقی حکومت نے پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے ایک جامع وژن پیش کیا ہے اور کنیکٹڈ پنجاب پروگرام اس وژن کو صوبے کے کروڑوں شہریوں کی دہلیز تک پہنچانے کا مقتدر ذریعہ بنے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ براڈبینڈ انفراسٹرکچر کی توسیع اور پنجاب کے ڈیجیٹل نظام کو مضبوط بنانے سے خصوصاً خواتین اور نوجوانوں کے لیے روزگار، کاروبار اور معیاری سرکاری خدمات تک رسائی کے نئے تزویراتی امکانات پیدا ہوں گے۔

عالمی بینک کے مطابق، پنجاب میں براڈبینڈ نیٹ ورک کی توسیع میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں ریگولیٹری پیچیدگیاں اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کے اخراجات شامل ہیں، اسی مقصد کے تحت یہ پروگرام رائٹ آف وے کے اجازت ناموں کے حصول کا عمل نمایاں طور پر آسان بنائے گا، جس کے تحت اجازت نامے جاری کرنے کا اوسط دورانیہ موجودہ 90 دن سے کم کر کے صرف 21 دن تک لایا جائے گا تاکہ نجی شعبے کی جانب سے فائبر آپٹک اور دیگر براڈبینڈ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔ پروگرام کے تزویراتی اہداف کے مطابق، جون 2031ء تک پنجاب میں فکسڈ براڈبینڈ کی رسائی 78 لاکھ افراد سے بڑھ کر 99 لاکھ افراد تک پہنچ جائے گی، جس کے نتیجے میں تقریباً 21 لاکھ نئے شہری پہلی مرتبہ تیز رفتار انٹرنیٹ سے مستفید ہو سکیں گے، جبکہ اسی عرصے میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں نجی شعبے کی جانب سے کم از کم 5 کروڑ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

منصوبے کا ایک اور اہم حصہ پنجاب کے سرکاری اداروں کی ڈیجیٹل صلاحیتوں میں اضافہ کرنا بھی ہے، جس کے لیے حکومت کے کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کو جدید بنایا جائے گا تاکہ مختلف سرکاری محکمے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی خدمات تیار کر سکیں اور انہیں بڑے پیمانے پر عوام تک پہنچا سکیں۔ عالمی بینک کے مطابق، اس اقدام سے جون 2031ء تک تقریباً 2 کروڑ 89 لاکھ افراد جدید ڈیجیٹل سرکاری خدمات سے فائدہ اٹھا سکیں گے، جبکہ پروگرام میں خواتین کی ڈیجیٹل شمولیت کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، صوبے میں نقد لین دین پر انحصار کم کرنے کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل انوائس مینجمنٹ سسٹم قائم کیا جائے گا، جو ادائیگیوں، انوائسز اور حکومتی رپورٹنگ کو ایک مربوط ادائیگی کے نظام کے تحت ایک دوسرے سے منسلک کر دے گا۔

بیرون ملک مقیم پاکستانی قوم کا قیمتی اثاثہ ہیں، بہبود کے منصوبوں میں مزید تیزی لائی جائے، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی سخت ہدایت

کاشف عباسی , JULY 01,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بہبود اور ان کے مسائل کے فوری حل کے لیے جاری تمام تزویراتی منصوبوں اور اقدامات میں مزید تیزی لانے کی سخت ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی قوم کا انتہائی قیمتی اثاثہ ہیں جو دنیا بھر میں اپنی شبانہ روز محنت کی کمائی پاکستان بھیج کر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور معیشت کی مضبوطی میں اپنا مقتدر حصہ ڈالتے ہیں۔ بدھ کے روز وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے چیئرمین بورڈ آف گورنرز سید قمر رضا اور منیجنگ ڈائریکٹر او پی ایف افضال بھٹی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، جنہوں نے وزیراعظم ہاؤس میں ان سے ایک اعلیٰ سطحی تزویراتی ملاقات کی۔ اس مقتدر ملاقات کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو درپیش مختلف مسائل کے مستقل حل اور ان کی سہولت کے لیے فاؤنڈیشن کی جانب سے اٹھائے گئے حالیہ اقدامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

اس موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سماجی و معاشی بہبود اور ان کو ہر ممکنہ ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے او پی ایف کے مستقبل کے لائحہ عمل پر ایک تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ وزیراعظم نے اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے اب تک کے مقتدر اقدامات اور کارکردگی پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا اور اعلیٰ حکام کو ہدایت کی کہ تارکینِ وطن کے حقوق کے تحفظ اور سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنانے کے لیے ایک جامع اور فول پروف لائحہ عمل مرتب کر کے جلد از جلد پیش کیا جائے تاکہ اس پر فوری عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ ملاقات کے دوران چیئرمین بورڈ آف گورنرز سید قمر رضا اور ایم ڈی او پی ایف افضال بھٹی نے عالمی امن، علاقائی استحکام اور اوورسیز پاکستانیوں کے حقوق کے مقتدر تحفظ کے لیے وفاقی حکومت اور وزیراعظم شہباز شریف کی انتھک تزویراتی کاوشوں کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔

نائب مستقل مندوب عثمان جدون کا اقوامِ متحدہ کی پلجنگ کانفرنس سے مقتدر خطاب؛ یو این آر ڈبلیو اے کے دفاتر پر اسرائیلی قبضے اور قانون سازی کو مسترد کرتے ہوئے فنڈز میں اضافے کا اعلان

محمود احمد July 01,2026

اقوامِ متحدہ/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

پاکستان نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے امدادی و تعمیرِ نو کے ادارے (یو این آر ڈبلیو اے) کے تزویراتی مینڈیٹ کے تحفظ اور اسے مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس مقتدر ادارے کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنے کے لیے خاطر خواہ، مستقل اور قابلِ پیش گوئی مالی وسائل فراہم کیے جائیں۔ پاکستان نے یو این آر ڈبلیو اے کو نشانہ بنانے والی یکطرفہ اسرائیلی قانون سازی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کے سراسر منافی قرار دیا اور اس کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔ پاکستان نے یو این آر ڈبلیو اے کے دفاتر پر اسرائیلی چھاپوں اور ان پر زبردستی قبضے کے اقدامات کی بھی سخت مذمت کرتے ہوئے ادارے کے مینڈیٹ اور اس کی عملی خودمختاری کو کمزور کرنے کی ہر مذموم کوشش کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں یو این آر ڈبلیو اے کی تزویراتی معاونت کے لیے منعقدہ مقتدر پلجنگ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے بین الاقوامی قانون کے تحت یو این آر ڈبلیو اے کو حاصل تمام مراعات اور استثنیٰ کا مکمل احترام یقینی بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے گزشتہ سات دہائیوں کے دوران یو این آر ڈبلیو اے کی مقتدر خدمات کو شاندار خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ لاکھوں معصوم فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے ایک ناگزیر سہارا ہے، جو انتہائی دشوار اور جنگی حالات میں انہیں تعلیم، صحت، امداد، تحفظ اور پناہ جیسی بنیادی خدمات فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ یو این آر ڈبلیو اے محض ایک انسانی امدادی ادارہ نہیں بلکہ فلسطینی پناہ گزینوں کے حوالے سے منصفانہ اور پائیدار سیاسی حل تک بین الاقوامی برادری کی اجتماعی ذمہ داری کا عملی مظہر ہے۔

سفیر عثمان جدون نے اپنے تزویراتی خطاب میں اس بات پر گہرا زور دیا کہ جانیں بچانے والی امدادی خدمات انجام دینے والے انسانی ہمدردی کے کارکنوں کو کبھی بھی تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے موجودہ تنازع کے آغاز سے اب تک اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے والے تین سو بانوے یو این آر ڈبلیو اے اہلکاروں کی ہلاکتوں کا عالمی سطح پر احتساب کرنے کا مقتدر مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یو این آر ڈبلیو اے کے مینڈیٹ کو فلسطینی پناہ گزینوں کے حتمی سیاسی تصفیے کے مسئلے سے کسی صورت الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق مسئلے کا حل ادارے کو ختم کرنا نہیں بلکہ غاصب اسرائیلی قبضے کا فوری خاتمہ، بین الاقوامی قانون اور متعلقہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کو ممکن بنانا، اور انیس سو سڑسٹھ سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر دو ریاستی حل کو عملی شکل دینا ہے، جس میں القدس الشریف ایک آزاد اور خودمختار ریاستِ فلسطین کا مستقل دارالحکومت ہو۔

سفیر عثمان جدون نے عالمی برادری کو مقتدر حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ یو این آر ڈبلیو اے اس وقت تقریباً بائیس کروڑ امریکی ڈالر کے سنگین بجٹ خسارے کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث لاکھوں ضرورت مند فلسطینی پناہ گزینوں کو بنیادی خدمات کی فراہمی شدید خطرے سے دوچار ہو چکی ہے۔ انہوں نے یو این آر ڈبلیو اے کے عملے کی پیشہ ورانہ صلاحیت، غیر متزلزل عزم اور انتھک خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارے کے لیے مستقل، پائیدار اور بڑھتی ہوئی مالی معاونت محض ایک ضرورت نہیں بلکہ بین الاقوامی برادری کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری ہے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر عثمان جدون نے پاکستان کی جانب سے ایک بڑے تزویراتی اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان رواں سال یو این آر ڈبلیو اے کے لیے اپنی مالی معاونت میں مقتدر اضافہ کرے گا اور انہوں نے تمام رکن ممالک پر بھی زور دیا کہ وہ اپنی موجودہ مالی معاونت کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اسے مزید بڑھائیں۔

مالی سال کے اختتام پر پاکستان کی معیشت نے گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین شرح نمو حاصل کر لی، ملکی معیشت کا حجم چار سو باون اعشاریہ ایک ارب ڈالر تک پہنچ گیا، وزارتِ خزانہ

منصور احمد june 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

وزارتِ خزانہ نے ملکی معیشت کے حوالے سے مقتدر اور انتہائی مثبت اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے اختتام پر پاکستان کی معیشت نے گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین شرح نمو حاصل کرتے ہوئے تین اعشاریہ سات فیصد کی رفتار سے ترقی کی ہے، جبکہ ملکی معیشت کا مجموعی حجم بڑھ کر چار سو باون اعشاریہ ایک ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ جون 2026ء کی ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق، سال کے آغاز میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور عالمی مارکیٹ میں اجناس کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے باوجود حکومت نے بہترین تزویراتی حکمتِ عملی سے معاشی استحکام برقرار رکھا، جس کی بدولت زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں مجموعی طور پر شاندار ترقی کا رجحان دیکھنے میں آیا اور ملک کی اوسط مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں رہتے ہوئے مقررہ ہدف کے اندر برقرار رہی۔

رپورٹ کے مطابق جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران سخت مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں ریکارڈ اضافے اور صوبائی سرپلس کی بدولت مالیاتی خسارے میں واضح کمی آئی، جبکہ بنیادی مالیاتی سرپلس جی ڈی پی کے تین اعشاریہ پانچ فیصد تک پہنچ گیا۔ وزارتِ خزانہ نے بتایا کہ بیرونی شعبے کی کارکردگی بھی انتہائی مستحکم رہی جس میں سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر، آئی ٹی برآمدات، مستحکم شرح مبادلہ اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری نے کلیدی کردار ادا کیا، جس کے باعث جولائی تا مئی مالی سال 2025-26 کے دوران ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ دو سو پچپن ملین ڈالر سرپلس میں رہا۔ رپورٹ کے مطابق حکومت کے عالمی مالیاتی ادارے کے پروگراموں پر کامیاب عمل درآمد، اور عالمی ریٹنگ ایجنسیوں فچ اور موڈیز کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں مقتدر بہتری کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بے پناہ اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں پاکستان نے چار سال بعد کامیاب یورو بانڈ جاری کیا، پانڈا بانڈ متعارف کرایا جبکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا کے ایس ای-100 انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو کر ایشیا کی تیز ترین ترقی کرتی ہوئی مارکیٹوں میں شامل ہو گیا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ زرعی شعبے نے سیلاب کے شدید نقصانات کے باوجود مالی سال 2025-26 میں دو اعشاریہ نو فیصد ترقی کی جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے اس شعبے کی شرح نمو کا تزویراتی ہدف تین اعشاریہ چھ فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ دوسری جانب بڑے پیمانے کی صنعت نے جولائی تا اپریل کے دوران چھ اعشاریہ چار فیصد کی شاندار ترقی ریکارڈ کی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں اس شعبے میں ایک اعشاریہ پانچ فیصد کی منفی کمی ہوئی تھی۔ مہنگائی کے حوالے سے بتایا گیا کہ مئی 2026ء میں مہنگائی کی سالانہ شرح گیارہ اعشاریہ سات فیصد رہی جبکہ جولائی تا مئی کے دوران اوسط مہنگائی محض چھ اعشاریہ سات فیصد ریکارڈ کی گئی۔ وفاقی محصولات جولائی تا اپریل کے دوران پانچ اعشاریہ اٹھ فیصد اضافے کے ساتھ آٹھ ہزار چھ سو ایک ارب روپے تک پہنچ گئے جبکہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں جولائی تا مئی کے دوران نو اعشاریہ سات فیصد اضافے سے گیارہ ہزار دو سو اٹھائیس اعشاریہ اٹھ ارب روپے رہیں۔ اسی عرصے میں مجموعی حکومتی اخراجات میں نو اعشاریہ نو فیصد کی نمایاں کمی آئی جس کی بڑی وجہ سود کی ادائیگیوں میں اکیس اعشاریہ نو فیصد کی ریکارڈ کمی تھی۔

وزارتِ خزانہ کے مقتدر تجزیے کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں جاری امن کوششوں کے باعث جغرافیائی کشیدگی میں کمی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نرمی سے درآمدی مہنگائی اور تیل کے درآمدی بل میں واضح کمی آئے گی، جبکہ جون 2026ء کے دوران مہنگائی گیارہ سے بارہ فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ وزارتِ خزانہ نے پرامید انداز میں واضح کیا ہے کہ پاکستان کی معیشت آئندہ بھی ترقی کی یہ شاندار رفتار برقرار رکھنے کی بھرپور تزویراتی صلاحیت رکھتی ہے؛ بڑے پیمانے کی صنعت، زرعی شعبے کی جاندار کارکردگی، مضبوط بیرونی کھاتوں، سخت مالیاتی نظم و ضبط اور بہتر معاشی اشاریوں کے باعث ملک کا معاشی استحکام مستقبل میں مزید مضبوط اور پائیدار ہوگا۔

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ بھارتی معطلی غیر قانونی اور جنوبی ایشیا کے امن کے لیے سنگین تزویراتی خطرہ ہے، اسلام آباد بین الاقوامی سیمینار کا مقتدر اعلامیہ

کاشف عباسی ,june 30,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت، وفاقی وزراء، بین الاقوامی قانونی ماہرین اور عالمی پالیسی تجزیہ کاروں نے بھارت کی جانب سے تاریخی سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر معطل کرنے کے فیصلے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سخت خبردار کیا ہے کہ نئی دہلی کے یہ جارحانہ اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قانونی نظام کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں، بلکہ جنوبی ایشیا میں ایک ہولناک تزویراتی تصادم اور جنگ کے خطرات کو بھی ہوا دے رہے ہیں۔ منگل کے روز وفاقی دارالحکومت میں انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز کے زیرِ اہتمام وزارتِ اطلاعات و نشریات کے خصوصی اشتراک سے ’’سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ایک ذریعہ‘‘ کے عنوان سے ایک مقتدر بین الاقوامی سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں متفقہ طور پر واضح کیا گیا کہ 1960ء کا یہ معتبر معاہدہ ایک بین الاقوامی طور پر پابند تصفیہ ہے، جسے کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر معطل، منسوخ یا تبدیل کرنے کا قانونی اختیار نہیں رکھتا۔ سیمینار کے مختلف فیزز سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ عالمی موسمیاتی بحران کے اس نازک دور میں بھارت کی جانب سے معاہدے کے تحت لازمی آبی ڈیٹا کی فراہمی روکنا اور معائنہ جاتی سرگرمیوں کو التواء میں ڈالنا درحقیقت پانی کو بطور عسکری ہتھیار استعمال کرنے کی ایک مذموم اور خطرناک کوشش ہے، جو پاکستان کے چوبیس کروڑ سے زائد عوام کی زندگیوں، غذائی تحفظ اور روزگار کے لیے براہِ راست وجودی خطرہ ہے۔ ماہرین نے یاد دلایا کہ پاکستان کی اسی فیصد سے زائد قابلِ کاشت اراضی اور زرعی معیشت کا انحصار دریائے سندھ کے نظام پر ہے، اس لیے ڈیٹا کا تبادلہ اور معمول کے طریقہ کار انسانی سلامتی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہیں۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اپنے مقتدر خطاب میں کہا کہ بھارت نے اس تاریخی معاہدے کو معطل کر کے خطے کو ایک بڑے تنازعے کی بھٹی میں جھونک دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد پار دریا ممالک کو دور کرنے کے بجائے قریب لانے کا ذریعہ ہوتے ہیں، اور پاکستان نے اسی جذبے کے تحت ماضی میں نمایاں رعایتیں دے کر یہ معاہدہ برقرار رکھا تاکہ طویل المدتی پیش بینی اور استحکام میسر آ سکے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کے اس غیر ذمہ دارانہ رویے کا سختی سے نوٹس لے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ پاکستان کی قدیم تہذیب اور شناخت کی بنیاد ہے اور پاکستانیوں کو اس کے پانیوں پر ناقابلِ تنسیخ حق حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا موقف بالکل واضح ہے کہ اس معاہدے میں کسی قسم کی یکطرفہ ترمیم ممکن نہیں؛ یہ باہمی رضامندی سے وجود میں آیا تھا اور اس میں تبدیلی کے لیے بھی باہمی رضامندی ہی درکار ہے۔ اگر پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش کی گئی تو ہماری قومی قیادت اور مسلح افواج عوام کے حق کے تحفظ کے لیے مؤثر اور دندان شکن جواب دینے کا کامل عزم رکھتی ہیں۔ یکطرفہ معطلی کی ناکام کوششوں سے بھارت کو خود عالمی فورمز پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بھارت کے ان غیر قانونی اقدامات کو پاکستان کے خلاف باقاعدہ جنگی اقدام تصور کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے تزویراتی موازنہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کی بندش کے ساتھ دنیا میں امن کا تصور ممکن نہیں، تو کوئی یہ کیسے توقع کر سکتا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے باوجود خطے میں امن اور استحکام قائم رہے گا؛ بھارت نے ہماری شہ رگ پر وار کر کے پانی کو ہتھیار بنایا ہے، جو کہ ایک وجودی حملہ ہے؛ پاکستان جنگ نہیں چاہتا، لیکن ہماری دفاعی صلاحیت کا مقصد ہی ایسے وجودی خطرات کو کچلنا ہے۔ انہوں نے پانی سمیت عالمی مشترکہ وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف ایک نئے بین الاقوامی کنونشن کا بھی پرزور مطالبہ کیا۔ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے اس بحران کو انصاف کا بحران قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت واضح کر چکی ہے کہ بھارت پاکستان کے مغربی دریاؤں پر یکطرفہ آبی ذخائر نہیں بنا سکتا، لیکن نئی دہلی عدالت کے فیصلوں کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے؛ اگر یہ مضبوط ترین معاہدہ، جو تین جنگوں میں بھی قائم رہا، سبوتاژ ہو گیا تو دنیا کا کوئی بھی آبی معاہدہ محفوظ نہیں رہے گا۔

پاکستان کے انڈس واٹرز کمشنر سید مہر علی شاہ نے کہا کہ معاہدے کا آرٹیکل نو تنازعات کے حل کا واضح طریقہ کار دیتا ہے اور بھارت کا ڈیٹا روکنا خود اس کے اپنے دستخطوں کی توہین ہے۔ سابق وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان نے بھارت کی عسکری چالوں کو بے نقاب کرتے ہوئے بگلیہار اور سلال ڈیموں کے گیٹ بند کرنے اور مغربی دریاؤں پر آبی منصوبوں کی تیز رفتار غیر قانونی تعمیر کی تفصیلات پیش کیں۔ سابق نگراں وفاقی وزیر قانون احمر بلال صوفی نے بین الاقوامی قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سرحدی دریا عالمی اثاثے ہیں، بھارت ان پر ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور اس کی جانب سے معطلی کا اعلان خود اس کے جرم کا اعتراف ہے، جس پر پاکستان کو تزویراتی جواب کا پورا قانونی حق حاصل ہے۔ سابق وزیر مملکت خارجہ حنا ربانی کھر نے آرٹیکل بارہ کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ معاہدے میں کسی بھی تبدیلی کا طریقہ کار طے ہے، بھارت عالمی غیر یقینی صورتحال کا فائدہ اٹھا کر مکر رہا ہے، لہٰذا پاکستان کو عالمی سفارت کاری کے تمام قانونی ذرائع بروئے کار لانے چاہئیں۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے سابق صدر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عامر ریاض نے نئی دہلی کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے ایک پنج نکاتی حکمتِ عملی پیش کی، جس میں قانونی و سفارتی طریقہ کار، تکنیکی و آپریشنل تیاری، ڈومیسٹک واٹر مینجمنٹ سسٹم کی پائیداری، اپنی ریڈ لائنز کی واضح تعریف اور مربوط ڈیٹرنس یعنی مضبوط دفاعی ردِعمل کو بروئے کار لانا شامل ہے؛ کیونکہ بھارت دریائے سندھ پر دو، جہلم پر پانچ بشمول کشن گنگا اور چناب پر متعدد ڈیمز بنا کر پاکستان کو تنہا اور کمزور کرنے کی مسلسل کوشش کر رہا ہے۔

سیمینار میں عالمی طاقتوں کے ماہرین نے بھی بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کے موقف کی کھل کر تائید کی۔ بیجنگ میں سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن کے نائب صدر پروفیسر وکٹر گائو نے بھارتی معطلی کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا اور تجویز دی کہ چین کو اس معاہدے کا حصہ بنا کر اسے سہ فریقی فریم ورک دیا جائے۔ انہوں نے بھارت کو یاد دلایا کہ وہ خود چین کے لیے زیریں کنارے کا ملک ہے؛ اگر بھارت نے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے پانی روکا، تو چین بالائی کنارے کا ملک ہونے کے ناطے بھارتی عزائم کا راستہ روک سکتا ہے۔ انہوں نے خطے میں امن کے لیے پاکستانی وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی کوششوں کو سراہتے ہوئے انہیں نوبل امن انعام کا مضبوط امیدوار قرار دیا۔ روسی ماہر ڈاکٹر روکسولانا زیگون نے بالائی علاقوں میں بھارتی ڈیموں کی تعمیر کو خطے کے عدم استحکام کی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے، اشتعال انگیز بیانات کے باوجود پاکستانی پالیسی سازوں کے مقتدر اور ذمہ دارانہ رویے کی تعریف کی۔ امریکہ سے تعلق رکھنے والی مصنفہ اور عالمی پالیسی ماہر لاری واٹکنز نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ پاکستان کے خطوط کا جواب نہ دینا اور ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا روکنا بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور ویانا کنونشن کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اپنے اختتامی کلمات میں آئی آر ایس کے صدر جوہر سلیم نے واضح کیا کہ پائیدار امن صرف بین الاقوامی قوانین کے احترام اور اداروں کی قدر سے ہی ممکن ہے؛ دیرپا آبی تحفظ کا انحصار شفافیت اور پیش بینی پر ہے، اور آگے بڑھنے کا واحد مقتدر راستہ یہی ہے کہ سندھ طاس معاہدے پر اس کے متن اور روح دونوں کے مطابق مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

استنبول تعلیمی سمٹ: پاکستان اور ترکیہ کے مابین تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور تعلیمی ٹیکنالوجی میں تزویراتی تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق

روزینہ اسماعیل june 30,2026

استنبول/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے ترکیہ کے تاریخی شہر استنبول میں منعقدہ “ترکیہ ایجوکیشن ٹیکنالوجیز سمٹ اینڈ فیئر ( 2026)” کے مقتدر موقع پر ترکیہ کے وزیرِ قومی تعلیم یوسف تکین سے ایک اعلیٰ سطحی اور تزویراتی ملاقات کی، جس میں دونوں برادر ممالک کے مابین تعلیم، ہنرمندی، پیشہ ورانہ تربیت، تعلیمی ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کی استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں باہمی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر کامل اتفاق کیا گیا۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلیمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم، زبانوں کی تدریس، ڈیجیٹل لرننگ، ثقافتی روابط اور دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان فعال اشتراکِ عمل کو فروغ دینے کے تمام تزویراتی پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

اس مقتدر ملاقات کے دوران ایک جامع تعلیمی تعاون کے معاہدے پر دستخط کرنے، تیز رفتار پیش رفت کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس قائم کرنے اور دونوں ممالک کے اہم تعلیمی اداروں کے مابین مؤثر و براہِ راست روابط کو فروغ دینے کا تزویراتی فیصلہ کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے جدید دنیا کے تقاضوں کے مطابق تعلیم میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار، خصوصاً زبانوں کی تدریس کے شعبے میں تعاون کے وسیع امکانات پر گہری گفتگو کی۔ اس ضمن میں پاکستان میں ترک زبان اور ترکیہ میں اردو زبان کی ترویج و تدریس کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ترین ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی مشترکہ تیاری اور منصوبوں پر فوری کام شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا تاکہ عوامی روابط اور ثقافتی ہم آہنگی کو مزید مقتدر بنایا جا سکے۔

وزیرِ مملکت وجیہہ قمر نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان ترکیہ کے ساتھ اپنے تاریخی، برادرانہ اور دیرینہ تعلقات کو انتہائی مقتدر اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے مابین پہلے سے موجود معاہدوں پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے اور جدید دور کے مطابق نئے تزویراتی فریم ورک تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، ہنرمندی، ڈیجیٹل لرننگ، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت اور تعلیمی جدت کے شعبوں میں یہ مشترکہ اقدامات دونوں ممالک کے نوجوانوں کے روشن مستقبل اور پائیدار ترقی میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

ترکیہ کے وزیرِ قومی تعلیم یوسف تکین نے پاکستان کے ساتھ تعلیمی تعاون کو غیر مشروط طور پر مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان گہرے تاریخی و تمدنی تعلقات کو مشترکہ تعلیمی منصوبوں، علمی روابط اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی اسٹریٹجک شراکت داری کے ذریعے مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔ اس مقتدر ملاقات میں پاکستان میں ترکیہ کے تعلیمی قونصلر، وزارتِ قومی تعلیم ترکیہ کے ڈائریکٹر جنرل برائے یورپی یونین و خارجہ امور سمیت دونوں ممالک کے اعلیٰ ترین حکام بھی موجود تھے۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مشترکہ تعلیمی اہداف کے حصول کے لیے قریبی و مسلسل رابطہ برقرار رکھا جائے گا اور طے شدہ تزویراتی اقدامات کو جلد از جلد عملی شکل دی جائے گی۔

سندھ طاس معاہدے کو سہ فریقی بنا کر چین کو شامل کیا جائے، پانی روکنے کی دھمکی انسانیت کے خلاف جرم ہے، چینی ماہر پروفیسر وکٹر گائو

کاشف عباسی ,june 30,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

بیجنگ کے مقتدر تھنک ٹینک “سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن” (سی سی جی) کے صدر اور عالمی امور کے نامور ماہر پروفیسر وکٹر گائو نے سندھ طاس معاہدے پر اس کی اصل روح کے مطابق مکمل عملدرآمد پر زور دیتے ہوئے ایک اہم تزویراتی تجویز پیش کی ہے کہ چین کو بھی اس تاریخی معاہدے کا حصہ بنایا جائے تاکہ اسے ایک مضبوط سہ فریقی فریم ورک کی شکل دی جا سکے۔ منگل کے روز اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے مقتدر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سرحد پار دریاؤں کے پائیدار انتظام و انصرام کے لیے اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کی سرپرستی میں ایک جامع بین الاقوامی ضابطہ اخلاق مرتب کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

پروفیسر وکٹر گائو نے اپنے خطاب میں یاد دلایا کہ گزشتہ سال جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کا پانی روکنے کی تزویراتی دھمکی دی تھی، تو انہوں نے خود بھارتی ٹیلی وژن چینلز کو دیے گئے اپنے خصوصی انٹرویوز میں اس جارحانہ موقف کی کھل کر مخالفت کی تھی۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ امن کے زمانے میں کروڑوں معصوم انسانوں کو پانی جیسی بنیادی نعمت سے محروم کرنے کی دھمکی دینا سراسر ’’انسانیت کے خلاف جرم‘‘ ہے، جبکہ جنگ کے دوران ایسا کوئی بھی اقدام اٹھانا باقاعدہ ’’جنگی جرمکے زمرے میں آتا ہے؛ اسی لیے انہوں نے نئی دہلی کو سختی سے مشورہ دیا تھا کہ وہ اس خطرناک راستے پر چلنے سے باز رہے۔

چینی ماہر نے بھارت کو خطے کے جغرافیائی حقائق کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اگرچہ پاکستان دریائے سندھ کے بہاؤ کے اعتبار سے زیریں (ڈاؤن اسٹریم) ملک ہے، تاہم بھارت بھی اس نظام میں آخری بالائی (اپ اسٹریم) ریاست نہیں ہے کیونکہ دریائے سندھ کا اصل منبع ہمالیائی خطہ (تبت) ہے۔ انہوں نے عظیم چینی فلسفی کنفیوشس کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کو ایسا اقدام نہیں کرنا چاہیے جسے وہ خود اپنے خلاف برداشت کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ جب ایک بھارتی ٹی وی اینکر نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ بھارت کو دھمکی دے رہے ہیں، تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ “دوسروں کے ساتھ وہ سلوک نہ کرو جو تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے”۔ انہوں نے مقتدر انداز میں واضح کیا کہ چین اور پاکستان کے باہمی احترام پر مبنی اسٹریٹجک تعلقات کا تقاضا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تقدس کو ہر صورت برقرار رکھا جائے اور چین-پاکستان قریبی تعاون کے ذریعے دریائے سندھ کے نظام میں پانی کے بلا تعطل بہاؤ کو یقینی بنایا جائے۔

پروفیسر وکٹر گائو نے اپنے تزویراتی جائزے میں بتایا کہ دنیا کے کم از کم 8 ممالک ایسے ہیں جو سطح مرتفع تبت سے نکلنے والے دریاؤں کے پانی پر انحصار کرتے ہیں، لہٰذا ان تمام ممالک کو مشترکہ طور پر سرحد پار آبی وسائل کے انتظام کے لیے ایک بین الاقوامی ضابطہ اخلاق تشکیل دینا چاہیے۔ خطے کی بدلتی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز حالیہ عرصے میں شدید کشیدگی کا مرکز رہی، تاہم امریکہ اور ایران کے مابین تاریخی سفارتی معاہدے کے بعد اب یہ اہم بحری گزرگاہ دوبارہ مکمل طور پر کھل چکی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر پاکستان کے وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل خطے میں امن، استحکام اور سفارتی توازن کے لیے اسی مثبت سمت میں پیش رفت جاری رکھتے ہیں، تو وہ مستقبل میں نوبل امن انعام کے مضبوط ترین امیدوار بن سکتے ہیں۔

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ بھارتی معطلی غیر قانونی اور خطے کے لیے تزویراتی تباہی کا سبب بن سکتی ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا سیمینار سے مقتدر خطاب

منصور احمد june 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ (انڈس واٹرز ٹریٹی) کو غیر قانونی طور پر معطل کر کے نہ صرف بین الاقوامی قانونی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے بلکہ پورے خطے کو ایک ہولناک تنازعے کے خطرے سے بھی دوچار کر دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز وفاقی دارالحکومت میں انسٹیٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز (آئی آر ایس) کی جانب سے وزارتِ اطلاعات و نشریات کے خصوصی اشتراک سے منعقدہ بین الاقوامی سیمینار ’’سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ایک ذریعہ‘‘ کی اختتامی اور مقتدر نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ ٹرانس باؤنڈری دریا ممالک کے مابین فاصلے بڑھانے کے بجائے انہیں قریب لانے کا تزویراتی ذریعہ ہونے چاہئیں؛ پاکستان نے اسی مثبت جذبے کے تحت ماضی میں بڑی رعایتیں دے کر یہ معاہدہ کیا تھا تاکہ خطے میں طویل المدتی استحکام فراہم ہو سکے، تاہم بھارت کی جانب سے معاہدے کی معطلی اور مشترکہ آبی وسائل پر پاکستان کے ساتھ تعاون سے انکار انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ نئی دہلی کو پانی بطور ہتھیار استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہ دے۔

سیمینار کے مختلف سیشنز سے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی و سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وفاقی وزیرِ موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک اور سابق سینیئر وزراء نے بھی مقتدر خطاب کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے بھارت کے تزویراتی عزائم کو بے نقاب کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں مطالبہ کیا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی میں بھارت کے ہر غیر قانونی اقدام کو پاکستان کے خلاف “جنگی اقدام” (Act of War) تصور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کی بندش کے ساتھ دنیا میں امن کا تصور ممکن نہیں تو سندھ طاس کی معطلی پر خطے میں پائیدار امن کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ انہوں نے پانی سمیت عالمی مشترکہ وسائل کو عسکری و سیاسی مقاصد کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف ایک نئے بین الاقوامی کنونشن کا مطالبہ بھی کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ دریائے سندھ پر پاکستانیوں کا ناقابلِ تنسیخ حق ہے اور بھارت کی غیر قانونی کوششوں سے عالمی سطح پر خود اس کی سبکی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے اسے صرف پانی کا نہیں بلکہ “انصاف کا بحران” قرار دیا جس سے پاکستان میں موسمیاتی چیلنجز سنگین ہو رہے ہیں۔

سیمینار کے دوران سابق وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر نے بھارت کی جانب سے بگلیہار اور سلال ڈیموں کے گیٹ بند کرنے اور مغربی دریاؤں پر آبی منصوبوں کی تیز رفتار غیر قانونی تعمیر کی تفصیلات پیش کیں۔ سابق وزیر مملکت خارجہ حنا ربانی کھر نے واضح کیا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کا فائدہ اٹھا کر بھارت اس مقتدر پابندِ معاہدہ سے بچ نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ معروف قانون دان احمر بلال صوفی نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت بھارت پانی پر ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور اس کی جانب سے معطلی کا اعلان خود معاہدے کی خلاف ورزی کا کھلا اعتراف ہے جس پر پاکستان کو تزویراتی جواب کا پورا حق حاصل ہے۔ سابق صدر این ڈی یو لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض اور پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ نے مقتدر شواہد پیش کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت آرٹیکل IX کے تنازعات کے حل کے طریقہ کار کو ہوا میں اڑا کر ڈیٹا کی فراہمی معطل کر چکا ہے۔

بین الاقوامی ماہرین نے بھی اس موقع پر پاکستانی موقف کی بھرپور تائید کی۔ بیجنگ سے آئے سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن کے نائب صدر پروفیسر وکٹر گا نے سندھ طاس کی معطلی کو “انسانیت کے خلاف جرم” قرار دیتے ہوئے یاد دلایا کہ بھارت خود چین کے لیے زیریں کنارے کا ملک ہے؛ اگر بھارت نے پاکستان پر پانی روکنے کا تزویراتی دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تو چین بالائی کنارے کا ملک ہونے کے ناطے بھارتی عزائم کو مؤثر طریقے سے روک سکتا ہے۔ یونیورسٹی آف ورلڈ سولائزیشنز ماسکو کی ڈاکٹر روکسلانا زیگون نے بھارتی اشتعال انگیزی کے سامنے پاکستانی پالیسی سازوں کے مقتدر اور ذمہ دارانہ رویے کو سراہا۔ امریکی ماہر لاری واٹکنز نے بھی ڈیٹا روکنے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ آئی آر ایس کے صدر جوہر سلیم نے اپنے اختتامی کلمات میں واضح کیا کہ آگے بڑھنے کا واحد مقتدر راستہ سندھ طاس معاہدے پر اس کے متن اور روح کے مطابق مکمل عمل درآمد میں ہی مضمر ہے۔

بھارت کی جانب سے آبی اعدادوشمار روکنا اور پاکستانی خطوط کا جواب نہ دینا بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی ہے، امریکی ماہر لاری واٹکنز

منصور احمد june 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

امریکی مصنفہ و عالمی پالیسی ماہر لاری واٹکنز نے واضح کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے دریائوں کے بہائو سے متعلق اہم ترین تزویراتی اعدادوشمار کو روکنا اور پاکستان کی باضابطہ تحریری مراسلت کا جواب نہ دینا بین الاقوامی قانون کے مسلمہ اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے، کیونکہ کوئی بھی ریاست کسی معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل قرار دے کر اپنی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں سے دستبردار نہیں ہو سکتی۔ منگل کے روز وفاقی دارالحکومت کے جناح کنونشن سینٹر میں انسٹیٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز (آئی آر ایس) کے زیرِ اہتمام ’’سندھ طاس معاہدہ، امن اور علاقائی استحکام کا اہم ذریعہ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے مقتدر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ (انڈس واٹرز ٹریٹی) بین الاقوامی سفارت کاری کی حقیقی و تاریخی کامیابیوں میں سے ایک ہے جو 60 برس سے زائد عرصے تک مؤثر انداز میں کام کرتا رہا ہے۔

لاری واٹکنز نے اپنے خطاب میں تزویراتی نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں دریائوں سے متعلق بین الاقوامی معاہدے بنیادی طور پر تنازعات کو روکنے کے لیے تشکیل دیے جاتے ہیں جبکہ اس ضمن میں قائم “مستقل انڈس کمیشن” عالمی معیار کے مطابق ایک غیر معمولی اور انتہائی قابلِ قدر ادارہ ہے، جس کے تحت مشترکہ معائنے اور تنازعات کے حل کا ایک مربوط، مرحلہ وار اور مقتدر نظام مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے حقائق کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں بھارت کو دریائے چناب کے پانی کے بہائو کے بارے میں متعدد باضابطہ خطوط ارسال کیے، تاہم بھارت نے دریائوں کے غیر مستقل بہائو کے بارے میں ضروری معلومات اور اعدادوشمار فراہم نہیں کیے اور پاکستان کی تحریری مراسلت کا کوئی جواب بھی نہیں دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ محض ایک روایتی، انتظامی یا تکنیکی شکایت نہیں ہے بلکہ دنیا کے دریائی نظاموں کا تجزیہ یہی بتاتا ہے کہ ایسی صورتحال انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ جب آبی معلومات کا تبادلہ رک جائے تو فریقین کے مابین شدید بداعتمادی، غلط اندازے اور بالآخر عسکری و سیاسی کشیدگی جنم لیتی ہے۔

عالمی پالیسی ماہر نے زور دیا کہ کسی بھی بین الاقوامی آبی معاہدے کی اصل طاقت اور پائیداری رابطوں کے مستقل تسلسل میں مضمر ہوتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ بھارت نے چالبازی دکھاتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل قرار دیا ہے، تاہم اس کے باوجود دریائوں کے بہائو سے متعلق معلومات روکنا اور پڑوسی ملک کے مقتدر خطوط کا جواب نہ دینا بین الاقوامی عرفی قانون کے اصولوں کے یکسر خلاف ہے۔ لاری واٹکنز نے بین الاقوامی قوانین کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ “ویانا کنونشن برائے قانون معاہدات” کے مطابق تمام عالمی معاہدوں پر دستخط کنندگان کی جانب سے ہمیشہ نیک نیتی کے ساتھ عمل کیا جانا چاہیے، لہٰذا بھارت پر لازم ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احترام کرے تاکہ خطے کا امن اور تزویراتی استحکام برقرار رہ سکے۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ کی 187ویں برسی کی مقتدر تقاریب اختتام پذیر، بھارتی سکھ یاتری پاکستان سے امن، محبت اور بین المذاہب ہم آہنگی کا پیغام لے کر وطن واپس روانہ

روزینہ اسماعیل.june 30,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے زیرِ اہتمام مہاراجہ رنجیت سنگھ کی 187ویں برسی کی مرکزی اور مقتدر تقاریب باقاعدہ اختتام پذیر ہو گئی ہیں، جس کے بعد بھارتی سکھ یاتری پاکستان سے امن، بے لوث محبت، مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کا مقتدر پیغام لے کر واپس اپنے وطن روانہ ہو گئے۔ واہگہ بارڈر پر صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور و پردھان پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی (پی ایس جی پی سی) سردار رمیش سنگھ اروڑہ، پی ایس جی پی سی کے معزز ممبران اور سیکرٹری متروکہ وقف املاک بورڈ ناصر مشتاق نے بھارتی سکھ یاتریوں کو روایتی مقتدر انداز میں الوداع کیا۔

پاکستان سے رخصتی کے موقع پر سکھ یاتریوں نے یہاں ملنے والی بے پناہ محبت، مقتدر عزت اور تاریخی مہمان نوازی پر والہانہ اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں قیام کے دوران انہیں بالکل اپنے گھر جیسا پرامن ماحول میسر آیا۔ انہوں نے گوردواروں کے بہترین اور جدید انتظامات، مثالی صفائی ستھرائی، تزئین و آرائش اور دیگر سفری و مذہبی سہولیات کو مقتدر سطح پر سراہا۔ یاتریوں نے متروکہ وقف املاک بورڈ کی جانب سے یاتریوں کی دن رات خدمت اور رہائش، لنگر، ٹرانسپورٹ، طبی سہولیات اور سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات فراہم کرنے پر حکومتِ پاکستان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس گوردوارے مکمل محفوظ، انتہائی خوبصورت اور بہترین تزویراتی انداز میں سنبھالے جا رہے ہیں؛ دنیا بھر کے سکھ پاکستان کے ان مقدس مقامات کی یاترا کے مقتدر خواہشمند ہیں اور وہ یہاں سے واپس جا کر محبت، بھائی چارے اور بین المذاہب رواداری کا یہ سچا پیغام پوری دنیا میں پھیلائیں گے۔

صوبائی وزیر سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سکھ یاتری پاکستان سے محبت اور عقیدت کا مقتدر پیغام لے کر جا رہے ہیں جو دونوں ممالک کے عوام کے درمیان مثبت سفارت کاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حکومتِ پاکستان کے مقتدر وژن کے تحت اس وقت ملک بھر میں پچاس اہم گوردواروں کو تزئین و آرائش کے بعد اصل حالت میں بحال کیا جا رہا ہے، اور وہ ان تمام تعمیری معاملات میں بھرپور اور مخلصانہ تعاون پر چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ قمر الزمان اور ان کی پوری ٹیم کے بے حد شکر گزار ہیں۔

سیکرٹری بورڈ ناصر مشتاق نے الوداعی تقریب کے دوران بتایا کہ چیئرمین قمر الزمان کی خصوصی اور مقتدر ہدایات کی روشنی میں یاتریوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی گئی، جبکہ غیر معمولی گرمی کی شدت سے بچاؤ کے لیے راستوں میں خصوصی “ہیٹ سینٹرز” قائم کیے گئے اور واہگہ بارڈر پر بھارتی سکھ یاتریوں کی آمد و روانگی کے وقت ٹھنڈا منرل واٹر اور جوسز بھی وافر مقدار میں فراہم کیے گئے۔ انہوں نے عزم کا اعادہ کیا کہ حکومتِ پاکستان مذہبی سیاحت کے فروغ اور اقلیتوں کے مقدس مقامات کے مستقل تحفظ کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، اور دنیا بھر میں بسنے والے سکھ جب بھی چاہیں پاکستان آئیں، ہم ان کی مقتدر مہمان نوازی کے لیے ہمیشہ تیار ہیں۔ آج تمام سکھ یاتری انتہائی خوشگوار یادوں اور نیک تمناؤں کے ساتھ مقتدر طور پر اپنے وطن روانہ ہو گئے۔