امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی مکمل طور پر ختم کر دی، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت 60 روزہ مدت کا باقاعدہ آغاز، 300 ارب ڈالر فنڈنگ کی خبریں جعلی پروپیگنڈا ہیں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کے اہم بیانات

کاشف عباسی ,june 18,2026

واشنگٹن (بین الاقوامی امور کے ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے مابین تاریخی امن معاہدے کے نفاذ کے ساتھ ہی امریکی افواج نے ایرانی بندرگاہوں کی طویل عرصے سے جاری سخت بحری ناکہ بندی کو مکمل طور پر ختم کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے، واشنگٹن سے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کی جانب سے جاری کردہ آفیشل سٹریٹجک بیان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خصوصی اور براہِ راست ہدایت پر ایرانی بندرگاہوں اور تمام ساحلی علاقوں کی معاشی و عسکری ناکہ بندی فوری طور پر ہٹا لی گئی ہے، سینٹ کام نے واضح کیا ہے کہ خلیجِ عرب اور خلیجِ عمان میں ایرانی بندرگاہوں تک اب بحری آمد و رفت کا راستہ مکمل طور پر صاف ہے اور پٹرولیم و دیگر تجارتی سامان لانے اور لے جانے والے بین الاقوامی بحری جہازوں کی نقل و حرکت میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جا رہی تاہم تہران حکومت کی جانب سے امن معاہدے کی مکمل پاسداری کی حتمی یقین دہانی تک امریکی جنگی جہاز اور بحری بیڑے سیکیورٹی کے پیشِ نظر جنرل ایریا میں بدستور موجود رہیں گے، دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے ایک انتہائی اہم پیغام میں بین الاقوامی میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے کہ امریکہ ایران کو 300 ارب ڈالر کی خطیر رقم ادا کر رہا ہے، صدر ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ امریکہ ایران کو کوئی رقم نہیں دے رہا اور 300 ارب ڈالر کی فنڈنگ کی یہ تمام خبریں سراسر جعلی ہیں اور یہ ڈیموکریٹس کا پھیلاؤ ہوا مایوس کن سیاسی پروپیگنڈا ہے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس تاریخی امن معاہدے میں صرف اور صرف امریکہ کی شاندار کامیابی ہوئی ہے جس کے مثبت اثرات کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں یکدم نیچے آئی ہیں اور ملکی عوام کو چاہیے کہ وہ اپنی معاشی بہتری دیکھنے کے لیے امریکی اسٹاک مارکیٹ کے بہترین انڈیکس کو دیکھیں۔

مزید برآں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واشنگٹن میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے صراحت کی کہ ایران کا اس سخت ترین معاہدے پر دستخط کرنا دراصل سپر پاور امریکہ کی ایک بہت بڑی تاریخی جیت ہے اور یہ معاہدی بالخصوص امریکی عوام کے مفادات کی فتح ہے، انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے نفاذ کے ساتھ ہی ایران کی ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا گیا ہے کیونکہ دستاویز کی اہم ترین شقوں میں واضح طور پر شامل ہے کہ ایران آئندہ ایسے کوئی بھی مہلک ہتھیار یا بیلسٹک میزائل تیار نہیں کرے گا جس سے دنیا کے امن یا کسی بھی ملک کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو، نائب صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے مثبت رویے کو باریک بینی سے مانیٹر کرتے ہوئے ہی اسے مستقبل میں ریلیف فراہم کیا جائے گا اور اس معاشی ریلیف کا تمام تر انحصار تہران کے اپنے ذمہ دارانہ رویے، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک کے ساتھ اس کے پرامن تعلقات پر ہوگا، انہوں نے واضح کیا کہ تہران حکومت کی روزمرہ کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ہی اس پر عائد اقتصادی پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی کی جائے گی اور پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی یہ ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ ہر لحاظ سے امریکی سیکیورٹی مفاد کے عین مطابق ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسرائیل اور حزب اللہ بھی اس عظیم امن معاہدے کا احترام کریں گے کیونکہ خطے میں جنگ اب کسی کے مفاد میں نہیں ہے اور بعض میڈیا ہاؤسز کی جانب سے معاہدے کی شقوں کو انتہائی غلط اور گمراہ کن انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، انہوں نے مہم جوئی کا کریڈٹ دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے اپنی سخت معاشی حکمتِ عملی سے ایران کو اس حد تک کمزور کر دیا کہ وہ اپنا جارحانہ رویہ تبدیل کر کے امن کی میز پر آنے پر مجبور ہوا لہٰذا یہ امریکہ ایران معاہدہ خطے کے وسیع تر امن کے لیے ایک بہترین تاریخی پیش رفت ہے۔

جے ڈی وینس نے خطے کی تازہ ترین عسکری صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ایران نے گزشتہ دو دنوں کے دوران آبنائے ہرمز میں کسی بھی بین الاقوامی یا تجارتی بحری جہاز کو نشانہ نہیں بنایا جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں معاہدے کی پاسداری شروع کر چکا ہے اور صرف گزشتہ رات ہی اس اہم ترین بحری گزرگاہ سے ریکارڈ ۱۲.۵ ملین بیرل خام تیل لے کر متعدد جہاز بحفاظت گزرے ہیں، انہوں نے اعلان کیا کہ اسلام آباد معاہدے کے مطابق باقاعدہ جانچ پڑتال کا ۶۰ روزہ دورانیہ آج سے نافذ العمل ہو گیا ہے اور وائٹ ہاؤس بہت جلد اس مفاہمتی یادداشت کی تمام اہم شقوں اور سٹریٹجک فوائد پر امریکی کانگریس کو تفصیلی بریفنگ دے گا، اپنے آئندہ کے سفارتی شیڈول کے بارے میں بات کرتے ہوئے امریکی نائب صدر نے کہا کہ ان کا سوئٹزرلینڈ جانے کا پروگرام ضرور ہے لیکن وہاں کب جانا ہے اس کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی کیونکہ سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ایران کے ساتھ معاہدے کے انتہائی باریک تکنیکی نکات پر مزید اہم ترین بات چیت ہونی ہے اور قوی امکان ہے کہ وہ اس ہفتے کے آخر تک سوئٹزرلینڈ روانہ ہو جائیں لیکن ان کے اس دورے کا دارومدار جنیوا میں ایرانی وفد کی آمد پر ہے جو اتوار تک متوقع ہے، جے ڈی وینس نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ ایران جنیوا مذاکرات میں تمام شرائط کی مکمل تعمیل اور عملی اقدامات کے بعد ہی دنیا بھر میں موجود اپنے منجمد فنڈز تک رسائی حاصل کر سکے گا، اسرائیلی حکومت کی جانب سے آنے والے بیانات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنجمن نیتن یاہو کی کابینہ کے کچھ وزراء اس تاریخی معاہدے اور صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر بلاجواز تنقید کر رہے ہیں لیکن اسرائیلی کابینہ کو اس قسم کی تنقید کرنے سے پہلے زمینی حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لینا چاہیے، امریکی نائب صدر نے اسرائیلی قیادت کو ایک انتہائی سخت اور واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی کابینہ کو یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ان کے گھروں کی حفاظت صرف اور صرف امریکی ہتھیاروں کی بدولت ہوتی ہے اور اسرائیل کا دفاع امریکی عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے یقینی بنایا جاتا ہے کیونکہ تل ابیب اپنی بقا کے لیے جن جدید ترین ہتھیاروں کا استعمال کرتا ہے وہ سب امریکہ کے بنے ہوئے ہیں۔

”شکریہ وزیرِ اعظم شہباز شریف، شکریہ فیلڈ مارشل عاصم منیر“، امریکہ ایران امن معاہدے کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا پاکستانی قیادت سے تاریخی رابطہ

    کاشف عباسی ,june 18,2026

    اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی کے تاریخی امن معاہدے پر الیکٹرانک دستخط مکمل ہونے کے فوراً بعد اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے ایک انتہائی اہم اور طویل ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیرِ اعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ اعلیٰ سطحی اعلامیے کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف کو آج سہ پہر ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی جانب سے ایک خصوصی ٹیلیفون کال موصول ہوئی جو ۳۰ منٹ سے زائد وقت تک جاری رہی اور دونوں مقتدر رہنماؤں کے مابین تاریخی ”اسلام آباد امن معاہدے“ پر باقاعدہ دستخطوں کے عمل درآمد کے بعد یہ پہلا براہِ راست سفارتی رابطہ ہے، اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان، ایران کی اعلیٰ ترین سٹریٹجک قیادت اور ایران کے تمام برادر عوام کو اس تاریخی امن معاہدے پر دستخط مکمل ہونے پر دلی مبارکباد پیش کی اور نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عظیم الشان معاہدہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ اور پورے خطے میں مستقل امن و استحکام کے قیام میں سنگِ میل ثابت ہوگا بلکہ جنگ کی تباہ کاریوں کے بعد برادر ایرانی قوم کی تیز ترین تعمیرِ نو اور پاکستان و ایران کے مابین باہمی دلچسپی کے تمام اقتصادی، تجارتی و دفاعی شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور پائیدار بنانے کا باعث بھی بنے گا۔

    آفیشل اعلامیے کی تفصلیات کے مطابق وزیرِ اعظم پاکستان نے ایران کے سپریم لیڈر رہبرِ معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے لیے بھی اپنے گہرے احترام اور دلنشین نیک تمناؤں کا خصوصی پیغام پہنچایا، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جنگ کے خاتمے اور خطے کی معاشی خوشحالی کے لیے امن معاہدے پر دستخط کرنے کے ایرانی قیادت کے جرات مندانہ فیصلے کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے اگلے تکنیکی مرحلے کے لیے ایرانی ٹیم کی کامیابی کی دعا کی اور اس پختہ عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک سچے برادر اسلامی اور ہمسایہ ملک کی حیثیت سے عالمی فورمز سمیت ہر کٹھن شعبے میں ایران کی اخلاقی، سیاسی و اقتصادی حمایت جاری رکھے گا، دوسری جانب ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے ایرانی قوم اور تہران حکومت کی جانب سے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا مخلصانہ اور خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے تاریخی الفاظ استعمال کیے کہ ”شکریہ وزیرِ اعظم شہباز شریف، شکریہ فیلڈ مارشل عاصم منیر“، ایرانی صدر نے واشنگٹن اور تہران کو جنگ کی آگ سے نکالنے کے لیے پاکستان کی ان دونوں اعلیٰ ترین شخصیات کی انتھک سفارتی مہارت، غیر معمولی اخلاص اور اعلیٰ دانش مندی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بطورِ ثالث اس پورے عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں نہایت شاندار اور کلیدی کردار ادا کیا ہے جسے ایران کی ریاست ہمیشہ انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھے گی اور مشکل وقت میں پاکستان کی اس مثبت، تعمیری اور مخلصانہ حمایت کو ایران کی تاریخ میں ہمیشہ سنہرے حروف سے یاد رکھا جائے گا۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے برادر پاکستانی عوام کے لیے اپنی نیک خواہشات اور محبت کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ تہران باہمی دلچسپی کے تمام اہم شعبوں میں پاکستان کے ساتھ دوطرفہ سٹریٹجک تعلقات کو اب ایک نئی بلندی تک لے جانے کا شدید خواہاں ہے، اس تاریخی اور دوستانہ گفتگو کے اختتام پر دونوں ممالک کے رہنماؤں نے باہمی سہولت کے مطابق جلد از جلد ایک دوسرے کے دارالحکومتوں یعنی اسلام آباد اور تہران کے باقاعدہ سرکاری دورے کرنے پر مکمل اتفاق کیا تاکہ دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امن و امان کے امور میں موجودہ بہترین تعاون اور مشترکہ منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھایا جا سکے جبکہ دونوں صدور نے آئندہ دنوں میں بھی خطے کی بدلتی صورتحال پر مسلسل اور قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کا دورۂ سوئٹزرلینڈ منسوخ، امریکہ ایران امن معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کے باعث فیصلہ

    کاشف عباسی ,june 18,2026

    اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا دورۂ سوئٹزرلینڈ ناگزیر وجوہات کی بنا پر یکسر منسوخ کر دیا گیا ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے حاصل ہونے والی اعلیٰ سفارتی ذرائع کی تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باقاعدہ اور مستقل خاتمے کے لیے تیار کی گئی تاریخی ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ پر بطور ثالث دستخط کرنے اور دستخطوں کی یہ تقریب جنیوا کے بجائے الیکٹرانک طور پر ورچوئل انداز میں منعقد ہونے کے باعث دورہ منسوخ کرنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا، شیڈول کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے آج رات سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا روانہ ہونا تھا جہاں وہ اس معاہدے کی دستخطی تقریب میں ذاتی طور پر شرکت کرنے والے تھے تاہم دونوں بڑی عالمی طاقتوں کے صدور کے مابین ایم او یو پر مقررہ وقت سے پہلے ہی الیکٹرانک دستخط ہو جانے کے باعث اب جنیوا میں ہونے والی اس تقریب میں وزیرِ اعظم پاکستان کی جسمانی موجودگی ضروری نہیں رہی لہٰذا ان کے بیرونِ ملک دورے کا پورا شیڈول منسوخ کر دیا گیا اور جمعرات کے روز ہی وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اس تاریخی امن دستاویز پر بطور ثالث اپنے ڈیجیٹل دستخط ثبت کر دیے۔

    بین الاقوامی مبصرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے مابین طویل عرصے سے جاری شدید ترین عسکری کشیدگی اور جنگی صورتحال کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششیں بالآخر رنگ لے آئی ہیں اور دونوں عالمی طاقتوں کو امن کی میز پر لانے کے بعد اب اس تاریخی امن دستاویز کو باقاعدہ ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ کا نام دے کر دنیا بھر میں نافذ العمل کر دیا گیا ہے جس کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس بڑے عالمی معاہدے کا مرکز، ضامن اور ثالث اسلامی جمہوریہ پاکستان بنا ہے، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا اس تاریخی دستاویز پر بطور ثالث اپنے دستخط ثبت کرنا عالمی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ، جرات مندانہ خارجہ پالیسی اور بہترین امن پسند کردار کا ایک واضح ثبوت ہے، اس تاریخی امن یادداشت پر دونوں ممالک کی اعلیٰ ترین قیادت نے پہلے ہی اپنی مکمل سفارتی رضامندی ظاہر کرتے ہوئے الیکٹرانک دستخط مکمل کر لیے تھے اور اب اس مقتدر دستاویز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے باقاعدہ دستخط موجود ہیں جس کے بعد اس عالمی امن معاہدے کو دونوں حکومتوں کی اعلیٰ ترین سٹریٹجک سطح پر حتمی قانونی و آئینی حیثیت حاصل ہو گئی ہے جو خطے میں مستقل امن کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔

    آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی ۲۰۱۷ء کی تاریخی فتح کو ۹ سال مکمل، روایتی حریف بھارت کے خلاف شاندار کامیابی قومی کرکٹ کی تاریخ کا سنہرا باب، سرفراز احمد اور فخر زمان کے تاثرات

    منصور احمد june 18,2026

    لاہور (اسپورٹس رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    پاکستانی کرکٹ کی تاریخ کا ۱۸ جون ۲۰۱۷ء ایک انتہائی سنہرا اور لازوال باب ہے جب قومی کرکٹ ٹیم نے دنیا بھر کی تمام تر توقعات اور کرکٹ ماہرین کے تجزیوں کے یکسر برعکس گراؤنڈ پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل معرکے میں اپنے روایتی حریف بھارت کو ۱۸۰ رنز کے بھاری مارجن سے عبرتناک شکست دے کر پہلی بار یہ عالمی اعزاز اپنے نام کیا تھا، اس تاریخی اور ناقابلِ فراموش کامیابی کو آج پورے نو سال مکمل ہو گئے ہیں مگر اس شاندار فتح کی سحر انگیز یادیں آج بھی ملکی و بین الاقوامی شائقینِ کرکٹ کے دلوں میں پوری طرح تازہ ہیں، اس یادگار دن کے موقع پر قومی کرکٹ ٹیم کے اس وقت کے مایہ ناز کپتان سرفراز احمد نے اپنے خصوصی پریس بیان میں جذباتی انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اوول کے تاریخی میدان میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کو فضا میں اٹھانا بلاشبہ ان کے پورے کرکٹ کیریئر کا یادگار ترین اور سنہرا لمحہ تھا، سابق کپتان کے مطابق یہ عظیم کامیابی کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ پوری ٹیم، محنتی کوچنگ سٹاف، اسپورٹنگ مینجمنٹ اور سلیکشن کمیٹی کی مشترکہ اور مخلصانہ کاوشوں کا خوبصورت نتیجہ تھی جس نے پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا۔

    اس تاریخی فائنل معرکے میں بھارتی بالنگ لائن کے پرخچے اڑاتے ہوئے شاندار سنچری اسکور کرنے والے مایہ ناز اوپننگ بیٹر فخر زمان نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فائنل میچ میں کھیلی گئی جارحانہ اننگز اور وہ تاریخی دن آج بھی ان کی زندگی اور یادوں کا سب سے اہم حصہ ہیں کیونکہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی نے انہیں بطور انٹرنیشنل کرکٹر بہت کچھ سکھایا اور ان کے مجموعی کیریئر کو بنانے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا، دوسری جانب قومی ٹیم کے موجودہ مایہ ناز اسپنر ابرار احمد نے ماضی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے ۲۰۱۷ء کا یہ ہائی وولٹیج فائنل میچ اپنے گھر پر بیٹھ کر دیکھا تھا اور پاکستان کی تاریخی جیت پر انہیں بے حد خوشی محسوس ہوئی تھی، ان کے بقول جب کپتان سرفراز احمد عالمی ٹرافی لے کر کراچی پہنچے تو وہ دیوانہ وار ان کے گھر گئے تھے تاہم شائقین کے بے پناہ رش کی وجہ سے وہ اس وقت ٹرافی کو قریب سے دیکھنے میں یکسر ناکام رہے تھے لیکن آج ٹرافی کو اپنے بالکل قریب دیکھنا ان کے لیے ایک انتہائی خاص اور سحر انگیز لمحہ ہے، فاسٹ بولر خرم شہزاد نے اس حوالے سے بتایا کہ چیمپئنز ٹرافی کی تیاری کے لیے لگائے گئے تربیتی کیمپ کے دوران وہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی (این سی اے) میں پاکستان ٹیم کے نیٹ بولر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے اور ملکی ٹیم کی اس عظیم کامیابی کو وہ آج بھی فخر سے یاد کرتے ہیں۔

    عالمی اعزاز حاصل کرنے کی نویں سالگرہ کے موقع پر قومی ٹیم کے مایہ ناز آل راؤنڈر عامر جمال نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی جیتنا پوری پاکستانی قوم کے لیے ایک عظیم الشان فخر کا لمحہ تھا اور اس ایونٹ کے سیمی فائنل و فائنل کی سنسنی خیز یادیں آج بھی ناقابلِ فراموش ہیں، انہوں نے فائنل میچ کا ایک انتہائی نازک موڑ یاد کرتے ہوئے کہا کہ پچ پر جب بھارتی کپتان ویرات کوہلی کا ایک اہم کیچ ڈراپ ہوا تو پوری ٹیم اور شائقین شدید دباؤ کا شکار ہو گئے تھے تاہم اگلی ہی گیند پر شاداب خان کے ایک انتہائی شاندار اور ناقابلِ یقین کیچ نے پاکستان کو دوبارہ مقابلے میں مضبوط پوزیشن دلائی جس سے ٹیم کے حوصلے آسمان پر پہنچ گئے اور یوں روایتی حریف کے خلاف ایک تاریخی کامیابی کی راہ ہموار ہوئی۔

    سعودی عرب کے ۳ سپر آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزر گئے، خلیجی ریاستوں نے سکھ کا سانس لے لیا

    کاشف عباسی ,june 18,2026

    لندن/مسقط (بین الاقوامی تجارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے فوری بعد سعودی عرب کے پرچم بردار ۳ عظیم الشان سپر آئل ٹینکرز انتہائی حساس سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بحفاظت عبور کر چکے ہیں، برطانوی نشریاتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ میرین ٹریفک کے مستند ترین سٹرٹیجک اعداد و شمار کے مطابق اوتاد، جحام اور شادن نامی یہ تینوں پٹرولیم جہاز فروری میں ایران امریکہ تنازع کے باقاعدہ آغاز سے ہی آبنائے ہرمز کے مغرب میں واقع خلیجی سمندر میں لنگر انداز تھے کیونکہ جنگی خطرات کے باعث ان کی نقل و حرکت مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی تھی، بحری ٹریفک ٹریکنگ کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ ان جہازوں نے صیہونی و امریکی ناکہ بندی اور ایرانی حملوں کے خوف سے بچنے کے لیے اپنی لائیو پوزیشن نشر کرنے والے جدید سیکیورٹی ٹرانسمیٹر مکمل بند رکھ کر یہ انتہائی پرخطر راستہ خاموشی سے عبور کیا اور جنگی زون سے نکل کر عمان کی محفوظ خلیج میں داخل ہونے کے فوراً بعد اپنے سگنلز کو دوبارہ فعال کیا، ڈیٹا کے مطابق تینوں ٹینکرز نے سعودی عرب کے ساحلی صنعتی شہر راس تنورہ سے خام تیل لوڈ کیا تھا جن میں سے دو نے جنگ شروع ہونے سے پہلے ۲۷ اور ۲۸ فروری کو مال برداری مکمل کی تھی جبکہ تیسرے ٹینکر نے جنگ شروع ہونے کے ٹھیک ایک ہفتے بعد ۷ مارچ کو تیل لادا تھا، اس وقت اوتاد اور شادن بالترتیب جنوبی کوریا اور جاپان کو اپنی متوقع منزل کے طور پر نشر کر رہے ہیں جبکہ جحام نے اس وقت اپنی لوکیشن کو صیغہ راز میں رکھا ہوا ہے۔

    دوسری جانب بی بی سی کے سلامتی امور کے سینیئر ایڈیٹر فرینک گارڈنر نے خطے کی تازہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس معاہدے کے نفاذ پر خلیجی عرب ریاستوں نے بظاہر محتاط رہتے ہوئے بالآخر سکھ کا سانس لیا ہے کیونکہ ان ممالک کی سب سے اہم سمندری تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز اب معمول کی بین الاقوامی آمد و رفت کے لیے دوبارہ کھولی جا رہی ہے اور یہ تمام ممالک اب یہ قوی امید کر رہے ہیں کہ حالیہ مہینوں میں ایران کی جانب سے ان کی آئل فیلڈز پر آنے والے تباہ کن ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کا سلسلہ اب مستقل طور پر ختم ہو جائے گا، تاہم اس مفاہمتی یادداشت کی ابتدائی کامیابی کے باوجود مشرقِ وسطیٰ میں کئی بڑے حل طلب معاشی و عسکری معاملات بدستور موجود ہیں، ماہرین کے مطابق مذاکرات میں سب سے پیچیدہ اور اہم ترین معاملہ ایران کا جوہری پروگرام ہے کیونکہ آئندہ ۶۰ دن کا عرصہ حد سے زیادہ مختصر ہے جس میں یہ عالمی سطح پر طے کیا جائے گا کہ تہران کے جوہری پروگرام کی نگرانی کس جدید اور سخت طریقے سے کی جائے تاکہ یہ سوفیصد یقینی بنایا جا سکے کہ وہ پسِ پردہ خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے پر کام نہ کر رہا ہو، یاد رہے کہ ۲۰۱۵ء میں اوباما دور کے تاریخی ”جے سی پی او اے“ معاہدے تک پہنچنے میں اس ۶۰ روزہ مدت سے ۱۰ گنا زیادہ طویل وقت لگا تھا جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں یکطرفہ طور پر منسوخ کر دیا تھا۔

    بین الاقوامی معاشی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمد و رفت کے لیے مقررہ ۶۰ روزہ مدت ختم ہونے کے بعد بھی خلیج میں بحری جہازوں کے لیے خطرہ برقرار رہے گا کیونکہ ایران اس گزرگاہ پر سمندری نقل و حرکت کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک نیا خودساختہ قانونی نظام نافذ کر سکتا ہے جس کے تحت وہ یہاں سے گزرنے والے عالمی جہازوں سے باقاعدہ ”ٹول ٹیکس“ وصول کرے گا، واضح رہے کہ مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کو جنگی تباہی کے بعد ملک کی دوبارہ تعمیرِ نو کے لیے ۳۰۰ ارب امریکی ڈالر کا خطیر فنڈ ملنا ہے جس کی معاشی مالی معاونت بڑی حد تک وہی خلیجی عرب ریاستیں کرنے پر مجبور ہوں گی جن پر حالیہ جنگ کے دوران ایران حملے کرتا رہا ہے، بعض ماہرین کے مطابق امریکہ داخلی سیاسی دباؤ کے باعث براہِ راست ایران کو اتنی بڑی رقم دینے کی پوزیشن میں بالکل نہیں ہے لہٰذا واشنگٹن کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں بچتا کہ وہ ایران کو آبنائے ہرمز پر ٹول وصول کرنے کی کھلی اجازت دے اور اس پر مکمل خاموشی اختیار کر لے، زیادہ امکان یہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ واشنگٹن ”ٹول“ والے معاملے پر مصلحت پسندانہ خاموشی اختیار کرے گا جبکہ تہران برادر ملک مسقط (عمان) کے ساتھ مل کر اس اہم سمندری گزرگاہ پر ٹول کی مستقل وصولی کو یقینی بنائے گا، ماہرین کے نزدیک گزشتہ چند ماہ کے تنازع کے دوران ایران نے تجارتی جہازوں کو روک کر ان سے ایک سے دو ملین ڈالر کے حساب سے عارضی ٹول وصول کیا ہے مگر مستقل قانون نافذ کرنے کی صورت میں پٹرولیم جہازوں پر ۵ لاکھ ڈالر فی جہاز ٹول فیس عائد کیے جانے کا قوی امکان ہے جبکہ دیگر تجارتی سازوسامان لے جانے والے کارگو بحری جہازوں پر یہ شرح ان کے وزن کے حساب سے مختلف ہو سکتی ہے۔

    فیفا ورلڈکپ، انگلینڈ کی کروشیا کے خلاف شاندار فتح، کپتان ہیری کین کے دو گول

    محمود احمد june 18,2026

    ٹیکساس، امریکہ (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    جاری فیفا ورلڈکپ 2026ء کے ایک انتہائی سنسنی خیز اور ہائی وولٹیج مقابلے میں انگلینڈ نے کروشیا کی فٹبال ٹیم کو دو کے مقابلے میں چار گول سے عبرتناک شکست دے کر عالمی ایونٹ میں اپنے سفر کا شاندار اور جاندار آغاز کر دیا ہے، ٹیکساس سے حاصل ہونے والی اسپورٹس تفصیلات کے مطابق اس ہائی پروفائل میچ میں انگلش ٹیم کا پلہ آغاز سے ہی کروشیا کے خلاف پوزیشن اور اٹیکنگ فٹبال کے لحاظ سے بھاری رہا، انگلینڈ کی جانب سے جارحانہ اسکورنگ کا باقاعدہ آغاز میچ کے بارہویں منٹ میں ہی ہو گیا جب کروشیا کی دفاعی فاؤل پر انگلینڈ کو ایک اہم پنالٹی کک ملی جس پر کپتان ہیری کین نے انتہائی مہارت کے ساتھ گیند کو جال کی راہ دکھا کر ٹیم کو ابتدائی برتری دلائی، تاہم کھیل کے ۳۶ویں منٹ پر کروشیا کے مایہ ناز فارورڈ مارٹن نے انگلش الیون کے مضبوط دفاع کو یکسر چکمہ دیتے ہوئے بہترین گول اسکور کیا اور مقابلہ ۱-۱ سے برابر کر دیا، اس گول کے جواب میں انگلش کپتان نے پچ پر شاندار کم بیک کیا اور ٹھیک چھ منٹ بعد یعنی ۴۲ویں منٹ پر ہیری کین نے ایک بار پھر خوبصورت فیلڈ گول داغ کر انگلینڈ کو میچ میں ۲-۱ کی برتری دلا دی لیکن پہلے ہاف کے ختم ہونے سے چند سیکنڈ قبل کروشیا کے پیٹر موسیٰ نے پینلٹی ایریا کے پاس سے ایک طوفانی ہٹ لگا کر گیند کو گول پوسٹ میں پہنچایا اور مقابلہ دو دو گول سے برابر کر دیا جس کے ساتھ ہی پہلے ہاف کا کھیل اسی سنسنی خیز اسکور پر یکسر ختم ہوا۔

    کھیل کے دوسرے ہاف کے آغاز سے ہی انگلش ٹیم نے ایک منظم سٹریٹجک دباؤ کروشیا کے کھلاڑیوں پر مسلسل برقرار رکھا جس کا بھرپور فائدہ پچ پر صاف دکھائی دیا جب کھیل کے ۴۷ویں منٹ میں انگلینڈ کے اسٹار مڈفیلڈر جوڈ بیلہنگم نے حریف ٹیم کے ڈیفینڈرز کو ڈربل کرتے ہوئے ایک شاندار گول اسکور کر کے اپنی ٹیم کو ۳-۲ کی برتری دلا دی، اس کے بعد کروشیا کی ٹیم نے میچ میں واپسی کے لیے سرتوڑ کوششیں کیں اور کئی جوابی حملے کیے لیکن انگلش گول کیپر نے ان کے تمام عزائم خاک میں ملا دیے، کھیل کے آخری لمحات میں انگلش اسٹرائیکرز نے ایک بار پھر کروشیا کے کمزور دفاع پر فائنل حملہ بولا جس کے نتیجے میں ۸۵ویں منٹ میں رشفورڈ نے گیند کو نیٹ کی زینت بنا کر اسکور ۴-۲ کر دیا اور کروشیا کی میچ میں واپسی کے تمام راستے ہمیشہ کے لیے بند کر دیے، ریفری کی فائنل سیٹی بجنے تک کروشیا کی ٹیم مزید کوئی گول اسکور کرنے میں یکسر ناکام رہی اور یوں انگلینڈ نے یہ یادگار میچ چار دو کے واضح مارجن سے اپنے نام کر کے ورلڈکپ کے گروپ مرحلے میں اہم ترین تین پوائنٹس حاصل کر لیے ہیں۔

    ایران نے شرائط نہ مانیں تو دوبارہ حملے اور بحری ناکہ بندی کریں گے، امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کی دھمکی، اسرائیل کا لبنان میں آپریشن جاری رکھنے کا اعلان

    کاشف عباسی ,june 18,2026

    واشنگٹن/تل ابیب (بین الاقوامی سفارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    امریکہ اور ایران کے مابین تاریخی امن معاہدے پر دستخطوں کے فوری بعد امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ نے تہران کو سخت ترین الفاظ میں دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ میں طے کردہ کڑی شرائط پر سو فیصد عمل نہیں کیا تو امریکہ اس کے خلاف ایک مضبوط اور ناقابلِ تسخیر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کی مکمل ملٹری صلاحیت رکھتا ہے، واشنگٹن اور تل ابیب سے حاصل ہونے والی سٹریٹجک رپورٹس کے مطابق امریکی وزیرِ جنگ نے واضح کیا کہ رواں ہفتے دستخط کیے گئے امن معاہدے کے تحت واشنگٹن نے نیک نیتی کے طور پر اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر اتفاق ضرور کیا ہے جس کے باعث گزشتہ اپریل کے مہینے سے ایرانی ساحلوں کی طرف آنے اور جانے والے بحری جہازوں کی رکی ہوئی آمد و رفت بحال ہو رہی ہے مگر یہ سب مشروط ہے، پیٹ ہیگستھ نے کڑے تیور اپناتے ہوئے کہا کہ اگر ایران اپنے وعدوں کے مطابق جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی خواہشات کو مکمل طور پر ترک نہیں کرتا تو امریکی وزارتِ جنگ ہر قسم کے اقدامات کے لیے تیار ہے اور ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائیاں فوری دوبارہ شروع کر دی جائیں گی کیونکہ امریکہ کی کسی بھی عسکری کارروائی اور مذاکرات کا بنیادی مرکز صرف ایران کے جوہری ہتھیاروں کا خاتمہ ہے، انہوں نے برطانوی قیادت پر زور دیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنے فوجی اخراجات بڑھائے اور امریکہ کو بحرِ ہند کے چاگوس جزائر میں واقع اہم ترین خفیہ فوجی اڈے ”ڈیاگو گارسیا“ تک مکمل رسائی فراہم کرے۔

    دوسری جانب امریکہ اور ایران کے مابین امن معاہدہ نافذ العمل ہونے اور اس میں تمام فوجی کارروائیاں بند کرنے کی واضح شرط کے باوجود غاصب اسرائیلی فوج نے خطے کے امن کو داؤ پر لگاتے ہوئے برادر اسلامی ملک لبنان کے خلاف اپنی جارحانہ فوجی کارروائیاں بدستور جاری رکھنے کا ہٹ دھرمی پر مبنی باضابطہ اعلان کیا ہے، اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے اپنے آفیشل ٹیلی گرام چینل پر جاری کردہ ایک جابرانہ بیان میں تصدیق کی ہے کہ صیہونی فوجیں اب بھی جنوبی لبنان کے اندر تقریباً ۱۰ کلومیٹر تک پھیلے ہوئے نام نہاد سیکیورٹی زون میں آپریشنز کر رہی ہیں اور ان کی یہ فیلڈ موجودگی آپریشنل ضروریات کے باعث ہے لہٰذا صیہونی دستے خطرات کو ختم کرنے کے نام پر معصوم شہریوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے، اس سے قبل لبنانی میڈیا نے بھی تصدیق کی تھی کہ معاہدے کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی و زمینی حملے کیے گئے ہیں، صیہونی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے اس عالمی امن معاہدے پر دستخط کے بعد اب تک کوئی عوامی بیان جاری نہیں کیا اور وہ خود کو اس عمل سے یکسر الگ تھلگ ظاہر کر رہے ہیں، انہوں نے امریکی ٹیلی ویژن ”فاکس نیوز“ سے گفتگو میں مکارانہ موقف اپنایا کہ اسرائیل اس براہِ راست امن مذاکرات کا حصہ نہیں رہا ہے اور وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے سے شدید اختلاف رکھتے ہیں جبکہ اسرائیل کے انتہا پسند دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی ایتامار بن گویر نے سوشل میڈیا پر زہر اگلتے ہوئے کھلم کھلا اعلان کیا ہے کہ اسرائیل ٹرمپ کے اس امن معاہدے کا بالکل پابند نہیں ہے کیونکہ صیہونی حکومت اس معاہدے کی فریق نہیں ہے جو ان کی نام نہاد سلامتی کو یقینی نہ بنائے، صیہونی حکام کے ان بیانات نے امریکی انتظامیہ کی امن کوششوں اور معاہدے کی شفافیت پر ایک بار پھر گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    سپریم کورٹ ملازمین کے یوٹیلیٹی الاؤنس میں ۱۰۰ فیصد تاریخی اضافہ، شہریوں کا شدید ردعمل، تمام مراعات ختم کرنے کا مطالبہ

    منصور احمد june 18,2026

    اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    چیف جسٹس آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے ملازمین اور افسران کے یوٹیلیٹی الاؤنس میں پورے ۱۰۰ فیصد اضافے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے حاصل ہونے والی عدالتی و انتظامی تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ آفیشل اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ یوٹیلیٹی الاؤنس میں کیے جانے والے اس بھاری اضافے کا باقاعدہ اطلاق یکم جولائی ۲۰۲۶ء سے ہوگا، اعلامیے کے تفصیلی اعداد و شمار کے مطابق گریڈ ۱ سے ۶ تک کے ملازمین کا ماہانہ الاؤنس ۶ ہزار روپے سے بڑھا کر ۱۲ ہزار روپے جبکہ گریڈ ۷ سے ۱۰ تک کے ملازمین کا الاؤنس ۸ ہزار سے بڑھا کر ۱۶ ہزار روپے کر دیا گیا ہے، اسی طرح گریڈ ۱۱ سے ۱۵ تک کے ملازمین کا یوٹیلیٹی الاؤنس ۱۰ ہزار سے بڑھ کر سیدھا ۲۰ ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے، اعلامیے کے مطابق گریڈ ۱۶ کے افسران کا الاؤنس ۱۲ ہزار سے بڑھا کر ۲۴ ہزار روپے، گریڈ ۱۷ کے افسران کا یوٹیلیٹی الاؤنس ۱۵ ہزار سے بڑھ کر ۳۰ ہزار روپے جبکہ گریڈ ۱۸ کے افسران کا الاؤنس ۱۸ ہزار سے بڑھا کر ۳۶ ہزار روپے تک پہنچا دیا گیا ہے، اعلیٰ ترین افسران کی بات کی جائے تو گریڈ ۱۹ کے افسران کا الاؤنس ۲۱ ہزار سے بڑھا کر ۴۲ ہزار روپے، گریڈ ۲۰ کے افسران کا الاؤنس ۲۴ ہزار سے بڑھا کر ۴۸ ہزار روپے جبکہ گریڈ ۲۱ اور اس سے اوپر کے تمام اعلیٰ ترین افسران کا ماہانہ الاؤنس ۳۰ ہزار روپے سے بڑھا کر سیدھا ۶۰ ہزار روپے کر دیا گیا ہے، اس سرکاری اعلامیے میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ اس مخصوص یوٹیلیٹی الاؤنس میں گیس اور بجلی کے بھاری اخراجات شامل ہیں اور اس مد میں ہونے والے تمام اضافی اخراجات مالیاتی سال ۲۰۲۶-۲۷ کے منظور شدہ بجٹ سے ہی پورے کیے جائیں گے۔

    دوسری جانب معاشی بحران اور کمر توڑ مہنگائی کے پِسے ہوئے عام شہریوں نے سپریم کورٹ کے اس اعلامیے پر انتہائی شدید اور منفی ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور عدالتی انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے، شہریوں کا اپنے عوامی احتجاج میں کہنا ہے کہ ملک کے دیگر سرکاری ملازمین اور اعلیٰ حکام کی تنخواہوں میں پہلے ہی کئی سو گنا اضافہ کیا جا چکا ہے اور اب اس کٹھن صورتحال میں سپریم کورٹ کے ملازمین کے لیے یوٹیلیٹی الاؤنس کو دوگنا کرنا موجودہ ملکی حکومت کی اخراجات کم کرنے اور سادگی اختیار کرنے کی دعوے دار پالیسی کے سراسر خلاف ہے، شہریوں اور مختلف عوامی تنظیموں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاشی انصاف کا مظاہرہ کرتے ہوئے یا تو حکومت کو بلاتفریق تمام غریب پاکستانی شہریوں کے لیے بھی کم از کم ۶۰ ہزار روپے کے برابر ماہانہ خصوصی الاؤنس ادا کرنے کا فوری عدالتی حکم جاری کریں یا پھر ملک کی اعلیٰ ترین سیکیورٹی و حکومتی شخصیات سے لے کر نچلے درجے تک کے تمام سرکاری ملازمین کی ایسی تمام غیر ضروری پٹرول، گیس اور بجلی کی مراعات کو اس وقت تک کے لیے مکمل طور پر معطل اور ختم کیا جائے جب تک ملک موجودہ سنگین معاشی بحران اور بیرونی قرضوں کے چنگل سے مستقل طور پر باہر نہیں آجاتا کیونکہ اشرافیہ کو بھاری مراعات دینا غریب عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔

    امریکہ اور ایران کے مابین جنگ کے خاتمے کا تاریخی ۱۴ نکاتی معاہدہ نافذ العمل، صدور نے الیکٹرانک دستخط کر دیے، پاکستان کی بطور ثالث توثیق


    کاشف عباسی ,june 18,2026

    تہران/واشنگٹن/اسلام آباد (بین الاقوامی سفارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    عالمِ اسلام اور بین الاقوامی سیاست کے مابین جاری شدید ترین کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک بہت بڑی اور تاریخی بریک تھرو سامنے آئی ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی اور امن کے قیام کے لیے ایک اہم ۱۴ نکاتی جامع معاہدے پر باقاعدہ طور پر الیکٹرانک دستخط کر دیے ہیں جس کے ساتھ ہی یہ تاریخی معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے، پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے اس عالمی پیش رفت کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ پر امریکہ اور ایران کے مابین الیکٹرانک دستخط مکمل ہو چکے ہیں اور پاکستان نے بطورِ ثالث اس تاریخی امن دستاویز کی باقاعدہ توثیق کر دی ہے، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے اہم ترین جذباتی و سفارتی بیان میں واضح کیا کہ اس تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دونوں طاقتور ممالک کے صدور نے دستخط کیے ہیں جو اس بات کی ناقابلِ تردید علامت ہے کہ دونوں فریقین طویل تنازع اور جنگ کے مستقل حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے میں سو فیصد سنجیدہ ہیں، انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے ابتدائی اور بنیادی قدم کے طور پر ایران نے عالمی تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی بحری ٹریفک کے لیے فوری طور پر دوبارہ کھولنے جبکہ امریکہ نے ایران کے خلاف جاری بحری ناکہ بندی کو فی الفور ختم کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے، پاکستانی وزیرِ اعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جرات مندانہ قیادت اور بہترین سفارتکاری کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی امن کے لیے مخلصانہ وابستگی نے خطے کو ایک ممکنہ ہولناک اور تباہ کن عالمی جنگ سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے جبکہ انہوں نے امریکی مذاکراتی ٹیم بشمول جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی انتھک معاشی و سیاسی کوششوں کو بھی زبردست خراجِ تحسین پیش کیا، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایران کی اعلیٰ ترین قیادت بشمول رہبرِ معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کی اعلیٰ بصیرت اور اسلامی دانشمندی کا اعتراف کرتے ہوئے ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سینیئر ارکان محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور اسکندر مومنی کی مخلصانہ خدمات کو بھی سراہا اور برادر ممالک قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی اعلیٰ قیادت کے تعمیری کردار کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ مفاہمتی یادداشت پورے خطے میں باہمی احترام اور مشترکہ معاشی خوشحالی کی ایک انتہائی مضبوط بنیاد ثابت ہو گی۔

    بین الاقوامی بیورو کے مطابق اس دستخطی تقریب کی حیرت انگیز تفصیلات کے تحت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس کے دورے کے دوران دارالحکومت پیرس کے تاریخی ورسائی محل میں فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے ساتھ ایک پُرتکلف عشائیے کے موقع پر اس تاریخی ایران امریکہ مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کیے، اس یادگار موقع پر امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے صدر ٹرمپ کو باقاعدہ دستاویزات پیش کیں جس پر دستخط مکمل ہوتے ہی فرانسیسی صدر میکرون نے امریکی صدر کو اس عظیم کامیابی پر کھڑے ہو کر دلی مبارکباد پیش کی جبکہ صدر ٹرمپ نے صحافیوں کے جم غفیر کو فاتحانہ انداز میں بتایا کہ انہوں نے ایران کے ساتھ امن معاہدے پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں، وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ آفیشل ویڈیو میں امریکی صدر کے ہاتھ کو زوم کر کے مفاہمت کی یادداشت کے خاص فارسی ورژن پر دستخط کرنے کے تاریخی لمحے کو نمایاں طور پر دکھایا گیا ہے اور اس کے چند ہی منٹوں بعد ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ”ارنا“ نے بھی تہران سے صدر مسعود پزشکیان کی ایک یادگار لائیو تصویر شائع کی جس میں ایرانی صدر نے مسکراتے ہوئے کیمرے کے سامنے اسکرین پر مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے جس کے ایک طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط صاف دکھائی دے رہے تھے، وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام کے مطابق یہ معاہدہ جنیوا (سوئٹزرلینڈ) میں طے شدہ وقت سے پہلے ہی فریقین کی باہمی رضامندی اور جلد عملدرآمد کی خواہش کے باعث الیکٹرانک طریقے سے مکمل کر لیا گیا ہے تاہم جنیوا میں دونوں ممالک کی تکنیکی مذاکراتی ٹیموں کی طے شدہ سٹرٹیجک شرکت اور ملاقات شیڈول کے مطابق بدستور برقرار رہے گی جس میں معاہدے پر عمل درآمد کے لیے فوری اگلے انتظامی مراحل طے کیے جائیں گے۔

    دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹیلی ویژن سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے معاہدے کے حتمی متن پر الیکٹرانک دستخطوں کی مکمل تصدیق کرتے ہوئے ایران کا نپی تلا اور مضبوط موقف دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، ترجمان نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ سٹرٹیجک آبنائے ہرمز کی مکمل سیکیورٹی کا معاملہ صرف ایران اور عمان کی مشترکہ مقتدر ذمہ داری ہے اور اس تجارتی گزرگاہ میں بحری جہازوں کو فراہم کی جانے والی خدمات اور پروٹیکشن کے بدلے ایران باقاعدہ سروس فیس وصول کرے گا، انہوں نے غاصب صیہونی حکومت کو کڑی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل کی جانب سے برادر اسلامی ملک لبنان پر وحشیانہ حملے اور غاصبانہ قبضہ جاری رہا تو یہ اس عالمی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی تصور ہوگی جس کے خلاف ایران سخت ترین جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے، اسماعیل بقائی نے ملکی خودمختاری پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کے میزائل پروگرام پر کسی بھی عالمی طاقت سے کوئی مذاکرات نہیں کیے جا سکتے اور نہ ہی ایران کا کوئی بھی جوہری مواد ملک سے باہر بھیجا جائے گا البتہ تہران کے پاس افزودہ یورینیم کو پرامن مقاصد کے لیے کم درجے پر لانے کا تکنیکی آپشن موجود ہے، انہوں نے واشنگٹن کو یاد دہانی کرائی کہ طے شدہ ۶۰ دنوں کے اندر امریکہ یا کسی دوسرے فریق کو خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں کوئی اضافہ نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی کوئی نئی معاشی پابندیاں لگائی جانی چاہئیں، تہران پر عائد تیل کی تمام جابرانہ پابندیاں آج سے ہی ختم ہونی چاہئیں تاکہ ایران اگلے ۶۰ دنوں میں اپنا خام تیل عالمی منڈی میں آزادانہ فروخت کر سکے اور امریکہ اس بات کا قانونی طور پر پابند ہے کہ وہ دنیا بھر میں منجمد ایرانی مالیاتی اثاثوں کو فوری بحال کرنے کے سلسلے میں حائل تمام تر رکاوٹیں دور کرے کیونکہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں پر دنیا کے کسی بھی فریق کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

    محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات، وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی زیرِ صدارت جائزہ اجلاس میں 4 درجاتی حصار قائم کرنے کا حکم

    روزینہ اسماعیل.june 18,2026

    اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی زیرِ صدارت محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی اور دیگر اہم انتظامات سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک جدید خصوصی موبائل ایپلی کیشن ”محفوظ محرم“ متعارف کرانے کا بڑا فیصلہ کیا گیا ہے، اسلام آباد سے حاصل ہونے والی انتظامی تفصیلات کے مطابق اس اہم اجلاس میں چیف کمشنر اور آئی جی اسلام آباد پولیس نے محرم الحرام کے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے وزیرِ داخلہ کو تفصیلی بریفنگ دی، بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ سیف سٹی اسلام آباد میں ایک مرکزی کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے جبکہ عزاداروں، مجالس اور ماتمی جلوسوں کی فول پروف حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ ۴ درجاتی حصار قائم کرنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے، انتظامیہ کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں تمام مجالس اور جلوسوں کا جامع سیکیورٹی آڈٹ مکمل کر لیا گیا ہے اور امن و نگہبان کمیٹیوں کو بھی فیلڈ میں مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے جبکہ اسلام آباد انتظامیہ امن و امان کی فضا برقرار رکھنے کے لیے تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام، مجالس کے لائسنس ہولڈرز اور جلوسوں کے منتظمین سے مسلسل قریبی رابطے میں ہے۔

    اجلاس کے دوران خصوصی طور پر تیار کی گئی ”محفوظ محرم“ ایپلی کیشن کے بارے میں بتایا گیا کہ اس جدید سروس کے ذریعے اسلام آباد کے عام شہری گراؤنڈ پر کسی بھی مشتبہ شخص، مشکوک سرگرمی یا سیکیورٹی کے نامکمل انتظامات کی فوری اطلاع براہِ راست کنٹرول روم کو دے سکیں گے اور اس ایپ میں شہریوں کے لیے لائیو لوکیشن اور امیج شیئرنگ (تصاویر بھیجنے) کی خصوصی سہولت بھی میسر کی گئی ہے تاکہ فوری ایکشن لیا جا سکے، اس موقع پر وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے پولیس حکام کو تمام چھوٹے بڑے جلوسوں اور مجالس کے داخلی و خارجی راستوں پر واک تھرو گیٹس نصب کرنے اور سخت ترین چیکنگ کا حکم دیا ہے جبکہ شہریوں کی سہولت کے لیے جامع متبادل ٹریفک پلان پر سو فیصد عملدرآمد کرنے کی کڑی ہدایت کی ہے، محسن نقوی نے واشگاف الفاظ میں رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ سیکیورٹی افسران دفاتر کے بجائے خود فیلڈ میں موجود رہیں اور ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کے لیے کھانے پینے کے معیاری انتظامات کو بروقت یقینی بنائیں، وزیرِ داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے طے کردہ ضابطہ اخلاق کی پابندی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور سوشل میڈیا یا فیلڈ میں کسی بھی قسم کے اشتعال انگیز مواد، وال چاکنگ اور نفرت انگیز تقریر کے خلاف ریاست کی جانب سے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    ریاست مخالف ٹویٹ کیس، صنم جاوید اور فلک جاوید پر فردِ جرم عائد نہ ہو سکی، علی امین گنڈاپور کے وارنٹ منسوخ

    کاشف عباسی ,june 18,2026

    لاہور (عدالتی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    لاہور کی مقامی عدالت میں ریاست مخالف ٹویٹ کیس میں نامزد پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) پنجاب کی سرگرم عہدیدار صنم جاوید اور ان کی ہمشیرہ فلک جاوید پر جیل حکام کی جانب سے عدم پیشی کے باعث تاحال فردِ جرم عائد نہ ہو سکی، عدالتی ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق لاہور کی ایڈیشنل سیشن جج نصرت صدیقی کی عدالت میں اس ہائی پروفائل کیس کی باقاعدہ سماعت ہوئی مگر دونوں نامزد ملزمان کو جیل سے عدالت کے روبرو پیش نہیں کیا گیا جس کے باعث فردِ جرم عائد کرنے کی عدالتی کارروائی مکمل نہ ہو سکی، عدالت عالیہ نے ملزمان کی عدم پیشی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ۳ جولائی ۲۰۲۶ء تک ملتوی کر دی اور متعلقہ جیل انتظامیہ کو سخت ہدایت جاری کی کہ آئندہ تاریخِ سماعت پر دونوں خواتین ملزمان کی عدالت میں حاضری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، واضح رہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے اس حساس مقدمے کا تفصیلی چالان پہلے ہی عدالت میں جمع کروایا جا چکا ہے۔

    دوسری جانب لاہور کی سیشن عدالت کے ڈیوٹی جج جاوید اقبال سپرا کی عدالت میں آڈیو لیک کیس کی اہم ترین سماعت کے دوران سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما علی امین گنڈاپور کے باقاعدہ عدالت کے سامنے سرنڈر (پیش) ہو جانے پر ان کے جاری کردہ ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری مستقل طور پر منسوخ کر دیے گئے ہیں، عدالتی کارروائی کے دوران علی امین گنڈاپور اور ان کے شریک ملزم اسد فاروق اپنے وکلاء کے ہمراہ ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوئے جہاں ان کے وکیل نے ٹھوس موقف اختیار کیا کہ محض ایک قانونی سماعت میں ناگزیر وجوہات کی بنا پر عدم پیشی کے باعث علی امین گنڈاپور کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے گئے تھے تاہم اب انہوں نے قانون کا احترام کرتے ہوئے عدالت کے سامنے خود کو سرنڈر کر دیا ہے اور وہ عدالت کے رحم و کرم پر ہیں، ڈیوٹی جج نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا جو بعد میں سناتے ہوئے علی امین گنڈاپور کے وارنٹ منسوخ کر دیے اور آڈیو لیک کیس کی مزید سماعت ۱۵ جولائی ۲۰۲۶ء تک کے لیے ملتوی کرنے کا باقاعدہ حکم جاری کر دیا۔

    ایران کو ۶۰ دنوں تک تیل فروخت کرنے کی مکمل اجازت ملنی چاہیے، دفاعی صلاحیتوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، اسماعیل بقائی

    روزینہ اسماعیل.june 18,2026

    تہران (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والے تاریخی امن معاہدے کے تناظر میں ایران کا ٹھوس اور غیر مبہم موقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ طے شدہ اگلے ۶۰ دنوں کے اندر دوسرے فریق کو خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی ایران پر کوئی نئی پابندیاں عائد کی جانی چاہئیں، تہران سے سرکاری ٹیلی ویژن کے حوالے سے موصولہ بین الاقوامی سفارتی رپورٹ کے مطابق ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے اہم ترین پریس بیان میں واشنگٹن پر زور دیا کہ ایران پر عائد تیل کی تمام تر پابندیاں اب فوری ختم ہونی چاہئیں اور تہران کو معاہدے کے بعد آئندہ ۶۰ دنوں تک عالمی منڈی میں اپنا خام تیل آزادانہ فروخت کرنے کی مکمل آئینی اجازت ملنی چاہیے، انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اس بات کا پابند ہے کہ وہ دنیا بھر میں ایران کے منجمد کیے گئے اربوں ڈالر کے اثاثوں تک تہران کی رسائی کے سلسلے میں حائل تمام تر رکاوٹیں دور کرے، میزائل پروگرام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کے میزائلوں کے بارے میں کسی دوسرے ملک کی گفتگو ہمیں بالکل پسند نہیں اور ایران کی دفاعی صلاحیتوں پر کسی بھی عالمی فریق کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی جبکہ ایران کے پاس افزودہ یورینیم کو خود کار طریقے سے کم درجے پر لانے کا آپشن موجود ہے مگر ایرانی جوہری مواد کو کسی صورت ملک سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا، انہوں نے مزید کہا کہ عالمی تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو فراہم کی جانے والی سیکیورٹی خدمات کے بدلے ایران باقاعدہ فیس وصول کرے گا۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مشرقِ وسطیٰ کی نازک صورتحال پر بات کرتے ہوئے صیہونی حکومت کو سخت وارننگ دی کہ اسرائیل کی لبنان میں کسی بھی قسم کی فوجی موجودگی یا جارحیت اس عالمی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی تصور ہوگی اور اگر اسرائیل نے لبنان پر اپنا غاصبانہ قبضہ جاری رکھا تو ایران کی جانب سے اس کے خلاف انتہائی ضروری و سخت اقدامات کیے جائیں گے، دوسری طرف اسرائیل نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان اس معاہدے کا حصہ نہیں ہے جبکہ لبنانی صدر جوزف عون نے اپنے پریس بیان میں اصرار کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ان کے ملک کی جاری بات چیت امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والے اس تازہ امن معاہدے سے بالکل آزاد اور الگ تھلگ ہے، ادھر امریکی قومی انسدادِ دہشت گردی سینٹر کے سابق سربراہ اور ٹرمپ انتظامیہ کے سابق مشیر جو کینٹ نے خطے کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والی اس ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ کو طویل المدتی برقرار رکھنے کے لیے خطے میں اسرائیلی مہم جوئی اور اقدامات کو محدود کرنا واشنگٹن کے لیے انتہائی ضروری ہے، انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے فیصلے کو انتہائی مثبت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے خطے میں استحکام برقرار رہے گا تاہم معاہدے کی اصل کامیابی کا انحصار اسرائیل کی جارحیت کو روکنے اور مشرقِ وسطیٰ میں توازن قائم رکھنے پر ہے، دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران معاہدہ اسرائیل کے لیے بھی معاشی و سیاسی طور پر فائدہ مند ہوگا لیکن لبنان اور حزب اللہ سے متعلق معاملات میں اسرائیل کو اپنے دفاع کا ہمیشہ مکمل حق حاصل رہے گا۔

    مسجد اقصی کی حیثیت تبدیل کرنے کی اسرائیلی سازش بے نقاب، غیر قانونی بستیوں کی توسیع پر فلسطین کی شدید مذمت

    روزینہ اسماعیل.june 18,2026

    مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    فلسطینی وزارتِ خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں اسرائیلی غیر قانونی بستیوں کی جاری وحشیانہ توسیع کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی خطرناک اور کھلی اشتعال انگیزی قرار دیا ہے، مقبوضہ بیت المقدس سے حاصل ہونے والی بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق فلسطینی وزارتِ خارجہ نے اپنے ہنگامی گراں قدر بیان میں واضح کیا ہے کہ غاصب اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں نئی صیہونی آبادکاری کے لیے ۵۷۶ رہائشی یونٹس اور الخلیل (ہیبرون) کے وسط میں ایک انتہا پسند مڈل اسکول (مذہبی مدرسے) کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے، اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ غیر قانونی منظوری اسرائیل کی ہائر پلاننگ کونسل نے دی ہے جبکہ بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے تحت اسرائیلی آبادکار بستیاں سراسر غیر قانونی اور کالعدم تصور کی جاتی ہیں، فلسطینی وزارتِ خارجہ نے عالمی برادری اور سلامتی کونسل سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ معصوم فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے والے اسرائیل پر فوری طور پر تمام آبادکاری سرگرمیاں روکنے کے لیے کڑا سفارتی و اقتصادی دباؤ ڈالے اور ان جابرانہ اقدامات کو فی الفور کالعدم قرار دے، دوسری جانب اسرائیل کے بعض سخت گیر حکومتی عہدیداروں اور انتہا پسند دائیں بازو کے رہنماؤں پر سنگین الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ امریکہ کے بعض کٹر صیہونی حلقوں کے تعاون سے مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام مسجد اقصی کی تاریخی اور قانونی حیثیت (اسٹیٹس کو) کو مستقل طور پر تبدیل کرنے کی ایک انتہائی گھناؤنی سٹریٹجک سازش پر کام کر رہے ہیں۔

    عالمی مبصرین کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل میں بعض بااثر انتہا پسند حلقے مسجد اقصی کے پاک احاطے کو باضابطہ طور پر کثیر المذاہب عبادت گاہ قرار دینے کی خطرناک تجویز پر عمل پیرا ہیں، ناقدین اور مسلم اسکالرز کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی بھی جابرانہ اقدام صدیوں پرانے اس طے شدہ عالمی انتظام کے خلاف سنگین بغاوت ہو گا جس کے تحت مسجد اقصی کا تمام تر انتظام و انصرام برادر اسلامی ملک اردن کی زیر نگرانی قائم اسلامی وقف کونسل کے پاس ہے اور موجودہ بین الاقوامی قانون کے مطابق غیر مسلم افراد مسجد اقصی کا صرف دورہ کر سکتے ہیں لیکن انہیں وہاں کسی بھی قسم کی مذہبی عبادات یا رسومات ادا کرنے کی بالکل اجازت نہیں ہے، رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے بعض انتہا پسند سیاست دان مسجد اقصی میں یہودی عبادات کو وسیع پیمانے پر زبردستی متعارف کرانے کے کھلے حامی بن چکے ہیں اور اسی سلسلے میں اسرائیلی دائیں بازو کے کٹر رہنما موشے فیگلن نے حال ہی میں مسجد اقصی کے احاطے میں گھس کر اشتعال انگیز مذہبی نغمے گائے اور وہاں مسلمانوں کی مسجد کی جگہ نئی صیہونی عبادت گاہ تعمیر کرنے کے حق میں زہریلا بیان دیا ہے جبکہ اسرائیل کے متعصب وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر بھی متعدد بار پولیس فورس کے سائے میں مسجد اقصی پر دھاوا بول چکے ہیں جس کے خلاف فلسطینی عوام اور تمام عرب ممالک مسلسل شدید ترین احتجاج ریکارڈ کراتے رہے ہیں اور حالیہ وائرل ہونے والی لائیو ویڈیوز میں اتمار بن گویر کو مسجد اقصی میں اسرائیلی جھنڈا لہراتے اور مسجد پر اسرائیلی حقِ ملکیت کے غاصبانہ نعرے لگاتے ہوئے صاف دیکھا جا سکتا ہے۔

    اگرچہ اس عالمی دباؤ پر اسرائیلی وزیراعظم کے مکار دفتر نے مسجد اقصی کی موجودہ حیثیت میں کسی بھی تبدیلی کے دعووں کی روایتی تردید کی ہے تاہم فلسطینی قیادت، اردن اور دیگر علاقائی اسلامی ممالک نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، دریں اثنا اسلامی وقف کونسل کے نائب سربراہ ڈاکٹر مصطفی ابو سوئے نے دنیا کو سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ مسجد اقصی کی موجودہ اسلامی حیثیت تبدیل کرنے کی کوئی بھی ناپاک کوشش پورے مشرقِ وسطیٰ اور خطے کے امن کو ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ میں جھونک سکتی ہے کیونکہ مسجد اقصی کے معاملے میں کوئی بھی صیہونی مداخلت کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانے کا باعث بنے گی، ادھر انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والی پیش رفت کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کے دو معصوم فلسطینی دیہات میں نامعلوم انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں نے رات کی تاریکی میں مساجد کو باقاعدہ آگ لگا دی ہے، مقامی فلسطینی حکام کے مطابق رام اللہ کے قریب واقع گاؤں جِلجِلیہ میں مسجد کے وضو خانے اور دیگر حصوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا جبکہ مسجد کی دیواروں پر عبرانی زبان میں انتہائی اشتعال انگیز اور توہین آمیز نعرے بھی تحریر کیے گئے، عینی شاہدین کے مطابق اس لگی آگ سے اللہ کے گھر کی چھت، دیواریں اور قیمتی فرش بری طرح جھلس کر متاثر ہوئے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج نے روایتی سستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے واقعے کی تصدیق کی اور کہا کہ فوجی دستوں کے پہنچنے تک مشتبہ صیہونی افراد فرار ہو چکے تھے، یہ سنگین ترین پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صیہونی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور مسجد اقصی کا تحفظ ایک بار پھر پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں یکسر نیچے آ گئیں، پاکستان میں تاحال پٹرولیم مصنوعات سستی نہ ہو سکیں

    روزینہ اسماعیل.june 18,2026

    واشنگٹن/اسلام آباد (بین الاقوامی تجارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدور کے مابین تاریخی امن معاہدے کی یادداشت پر دستخط ہوتے ہی عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اور تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، واشنگٹن سے حاصل ہونے والی معاشی رپورٹس کے مطابق اس بڑے سٹریٹجک معاہدے کے نافذ ہوتے ہی امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی فی بیرل قیمت یکسر گر کر ۷۵ ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی ہے جبکہ برطانوی خام تیل (برینٹ کروڈ) ۷۷ ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے، اسی طرح متحدہ عرب امارات کا مشہورِ زمانہ مربن خام تیل بھی عالمی منڈی میں ۷۴ ڈالر فی بیرل کی کم ترین سطح پر ٹریڈ ہو رہا ہے، عالمی معاشی ماہرین کے مطابق اس امن معاہدے کے باعث جاپان، جنوبی کوریا اور دیگر بڑی ایشیائی معیشتوں میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے جس کے نتیجے میں وہاں کے اسٹاک انڈیکسز میں زبردست بہتری اور تیزی ریکارڈ کی گئی ہے، تاہم دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں زمین پر آنے کے باوجود پاکستانی عوام کو اب تک اس کا کوئی ریلیف نہیں مل سکا ہے جس پر عوامی و تجارتی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

    ملکی معاشی ذرائع کے مطابق پاکستانی حکومت نے دو ماہ کا وافر پٹرولیم ذخیرہ موجود ہونے کے باوجود رواں سال فروری کے مہینے میں ایران جنگ شروع ہوتے ہی ہنگامی بنیادوں پر ملک میں پٹرول اور ڈیژل کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کر دیا تھا لیکن اب عالمی منڈی میں قیمتیں انتہائی کم ہونے کے باوجود حکومت کی جانب سے قیمتوں میں کمی کرنے کے بجائے تاحال صرف داخلی مشاورت کا سست عمل جاری ہے، پٹرولیم سیکٹر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کا ۷۴ اور ۷۵ ڈالر فی بیرل کی سطح پر آنا پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے امپورٹ بل میں اربوں ڈالر بچانے کا سنہری موقع ہے مگر اس کے باوجود اوگرا اور وزارتِ خزانہ کی جانب سے پٹرول سستا کرنے کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ملکی صارفین تاحال مہنگا پٹرول خریدنے پر مجبور ہیں اور عوامی سطح پر حکومت سے فوری طور پر عالمی مارکیٹ کے تناسب سے پٹرولیم مصنوعات سستی کرنے کا پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

    ٹیکساس میں چھوٹا مسافر طیارہ ہائی وے پر گر کر تباہ، شہریوں نے جان پر کھیل کر مسافروں کو بچا لیا

    منصور احمد june 18,2026

    آسٹن، ٹیکساس (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے شہر لاریڈو میں ایک چھوٹا جیٹ مسافر طیارہ ہائی وے پر اچانک گر کر خوفناک حد تک تباہ ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں ایک شخص جان کی بازی ہار گیا ہے جبکہ حادثے کے فوراً بعد عام شہریوں نے اپنی جان پر کھیل کر بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی مسافروں کی زندگیاں بچا لیں، ٹیکساس سے موصولہ عالمی بیورو رپورٹ کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں مجموعی طور پر ۶ افراد سوار تھے اور طیارہ گرتے ہی ہائی وے پر سفر کرنے والے متعدد شہریوں نے اپنی گاڑیاں روک دیں اور زخمیوں کو آگ کے شعلوں سے نکالنے کے لیے فوری طور پر جائے حادثہ کی طرف دوڑ پڑے، عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بعض جرات مند شہریوں نے طیارے کے کاک پٹ کی کھڑکی کو کلہاڑیوں اور بھاری اوزاروں سے توڑ کر اندر پھنسے ہوئے زخمی افراد کو بحفاظت باہر نکالا جبکہ دیگر لوگوں نے سرکاری امدادی ٹیموں کے پہنچنے تک شدید زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنا جاری رکھی، رپورٹ کے مطابق حادثے میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ جاں بحق ہونے والا بدقسمت فرد طیارے کا مسافر تھا یا زمین پر موجود کوئی راہگیر اس کی زد میں آیا۔

    مقامی پولیس انتظامیہ نے ابھی تک طیارے میں سوار زخمی افراد کی حتمی شناخت اور ان کی نازک طبی حالت کے بارے میں تفصیلی معلومات صیغہ راز میں رکھی ہیں جبکہ امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق حادثے کے بعد اٹھنے والے زہریلے دھوئیں اور شدید آگ پر قابو پانے کی کوشش کے دوران ۵ مقامی پولیس اہلکار بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں جنہیں فوری طور پر احتیاطی تدابیر کے تحت قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، بین الاقوامی فلائٹ ٹریکنگ کمپنی کے مستند ڈیٹا کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا یہ چھوٹا جیٹ طیارہ میکسیکو کے لاس کابوس انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اڑان بھر کر لاریڈو کی جانب پرواز کر رہا تھا، لاریڈو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ڈائریکٹر گلبرٹو سانچیز نے اپنے ابتدائی بیان میں شدید خدشہ ظاہر کیا ہے کہ طیارے کو دورانِ پرواز اچانک کسی سنگین فنی خرابی کا سامنا ہوا ہو سکتا ہے تاہم فیڈرل ایوی ایشن نے حادثے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے باقاعدہ ہائی لیول تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، اس ہولناک حادثے کی دل دہلا دینے والی ویڈیوز اور لائیو تصاویر سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح وائرل ہو رہی ہیں جن میں امریکی شہریوں کو اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر انسانیت کے ناطے مسافروں کو آگ سے نکالتے دیکھا جا سکتا ہے اور دنیا بھر میں ان شہریوں کو ہیرو قرار دیا جا رہا ہے۔

    مشکل وقت میں ملک کی خاطر صوبوں نے وفاق کو سپورٹ کیا، آئین کے دائرے میں رہ کر گرانٹ دیں گے، مراد علی شاہ

    محمود احمد june 18,2026

    کراچی ( /نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واضح کیا ہے کہ موجودہ ملکی و عالمی معاشی صورتحال کے باعث مالی سال ۲۰۲۶-۲۷ کا بجٹ گزشتہ برسوں سے یکسر مختلف نوعیت کا ہے، مشکل گھڑی میں ملک کی خاطر تمام صوبوں نے وفاقی حکومت کو بھرپور سپورٹ کیا ہے تاہم تمام فریقین نے اس بات پر مکمل اتفاق کیا ہے کہ ہر فیصلہ ملکی آئین کے مطابق کیا جائے گا کیونکہ آئین میں نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کو مکمل تحفظ حاصل ہے اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے کی رقم میں کسی قسم کی کٹوتی یا کمی نہیں کی جا سکتی، کراچی میں صوبائی وزراء ناصر حسین شاہ، مکیش کمار چاولہ اور جام خان شورو کے ہمراہ ایک پُر ہجوم پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت صوبے میں مسلسل ۱۸واں بجٹ پیش کر رہی ہے اور سندھ میں سرمایہ کاری، ترقیاتی منصوبوں اور معاشی سرگرمیوں کا فروغ ہمیشہ ہماری اولین ترجیحات میں شامل رہا ہے، انہوں نے انکشاف کیا کہ ابتدا میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے میں کمی کی تجویز زیر غور آئی تھی تاہم صوبوں نے اپنے آئینی حقوق کا بھرپور دفاع کیا جس کے بعد وفاق، چاروں صوبائی حکومتوں اور اتحادی جماعتوں نے آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے آرٹیکل ۱۶۴ کے تحت مسئلہ حل کیا جس کے مطابق صوبائی حکومتیں قومی دفاع اور یکجہتی کے پیش نظر وفاق کو گرانٹ فراہم کر سکتی ہیں۔

    وزیر اعلیٰ سندھ نے بجٹ کی اندرونی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کی وصولیوں کا مجموعی ہدف ۱۵.۲۶۴ ٹریلین روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ ۱۳.۳۵ ٹریلین روپے کی وصولی تک صوبوں کو ان کا پورا مقررہ حصہ ملے گا اور اس سے زائد وصول ہونے والی رقم صوبے وفاق کو گرانٹ کی صورت میں دیں گے، انہوں نے بتایا کہ صوبائی بجٹ کا کل حجم ۳ ہزار ۵۲۵ ارب روپے ہے جبکہ ہمارے اخراجات ۲ ہزار ۵۶۰ ارب روپے ہیں، بجٹ میں قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے ۵۴ ارب ۲۵ کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جو صوبے کی مالی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے استعمال ہوں گے، ان کا کہنا تھا کہ سندھ کو وفاقی محصولات کی مد میں مئی تک ۴۴۱ ارب روپے کے بڑے خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ صوبائی وصولیوں میں بھی ۵۲ ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ان تمام مالی چیلنجز کے باوجود مجموعی طور پر صوبائی بجٹ میں تقریباً ۳۰۰ ارب روپے کا خسارہ موجود ہے، مراد علی شاہ نے کسانوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی تھوڑی سی سپورٹ سے صوبے میں گندم کی پیداوار ۱.۴ ملین ٹن کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے جبکہ صوبائی ٹیکس وصولی ۶۲۳ ارب روپے ہو چکی ہے، انہوں نے ملازمین کے لیے بڑے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں کم از کم ماہانہ اجرت ۴۳ ہزار روپے مقرر کر دی گئی ہے جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں ۷ فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے اور سندھ حکومت آئینی تقاضوں کے مطابق صوبے کے حقوق کا تحفظ جاری رکھے گی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران معاہدے پر تنقید کرنے والوں کو سخت جواب، تنقید کرنے والے حاسد، برے یا احمق قرار

    کاشف عباسی ,june 18,2026

    واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت ترین مؤقف نہ اپنانے کے حوالے سے ہوم گراؤنڈ پر ہونے والی تمام اندرونی تنقید کو یکسر مسترد کرتے ہوئے پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے تاریخی امن معاہدے کا بھرپور اور جارحانہ دفاع کیا ہے، واشنگٹن سے حاصل ہونے والی سیاسی و معاشی رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے امریکی سٹاک مارکیٹ میں ہونے والے ریکارڈ تاریخی اضافے اور عالمی منڈی میں خام تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کو اپنی کامیاب خارجہ پالیسی کا واضح اور ناقابلِ تردید ثبوت قرار دیا ہے، تفصیلات کے مطابق امریکی صدر نے ایران کے ساتھ طے پانے والی ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ پر امریکی انتظامیہ اور بعض کٹر پالیسی سازوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے ان سوالات کا انتہائی سخت الفاظ میں جواب دیا ہے جس میں ناقدین کا دعویٰ تھا کہ تہران کے ساتھ ہونے والا یہ معاہدہ واشنگٹن کے لیے کوئی بڑی کامیابی نہیں ہے اور امریکہ کو ایران کے خلاف مزید سخت ترین لائن لینی چاہیے تھی۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مخصوص اور روایتی جارحانہ انداز میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل“ پر ایک تند و تیز پوسٹ شیئر کی ہے جس میں انہوں نے واشگاف الفاظ میں لکھا کہ ”یہ بیوقوف، جو یہ سمجھتے ہیں کہ میں ایران پر زیادہ سخت ثابت نہیں ہوا، جب کہ میری اس کامیاب پالیسی کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ نے ابھی ابھی اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھوا ہے اور تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے گر رہی ہیں، یہ لوگ یا تو حسد کا شکار ہیں، برے لوگ ہیں، یا پھر بالکل ہی احمق ہیں“، امریکی صدر کا سٹریٹجک مؤقف ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کا باقاعدہ خاتمہ ہونے اور امن معاہدہ نافذ ہوتے ہی امریکی معیشت اور سٹاک مارکیٹ نے پچھلے تمام ریکارڈز پاش پاش کر دیے ہیں کیونکہ اس معاہدے کے تحت ایران کی جانب سے عالمی تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے اور تیل کی سپلائی بحال ہونے کی امید پر عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں یکسر نیچے آ گئی ہیں جس کا براہِ راست فائدہ امریکی اور عالمی صارفین کو پہنچ رہا ہے لہٰذا معاشی ترقی پر تنقید کرنے والے ملک کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔

    فیفا ورلڈکپ، گھانا کی پاناما کے خلاف اعصاب شکن فتح، پرتگال اور کانگو کا میچ برابر

    محمود احمد june 18,2026

    ٹورنٹو، کینیڈا (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    کینیڈا کے شہر ٹورنٹو کے کھچا کھچ بھرے اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے گروپ ایل کے ایک انتہائی سنسنی خیز اور اعصاب شکن مقابلے میں گھانا نے پاناما کی فٹبال ٹیم کو ۰-۱ سے شکست دے کر اہم کامیابی اپنے نام کر لی ہے، اسپورٹس ذرائع کے مطابق دونوں ٹیموں کے مابین کھیلا گیا یہ میچ آغاز سے ہی سست روی کا شکار رہا اور مقررہ ۹۰ منٹ کے کھیل تک کوئی بھی ٹیم گول کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی، پاناما کے مضبوط دفاع نے گھانا کے فارورڈز کو گول پوسٹ سے دور رکھا لیکن کھیل کے آخری لمحات یعنی انجری ٹائم میں گھانا کے مایہ ناز کھلاڑی کیلب یرینکی نے دفاعی لائن کو چکمہ دیتے ہوئے گیند کو جال کی راہ دکھا دی اور ٹیم کو فیصلہ کن برتری دلا دی، اس سنسنی خیز گول کے فوراً بعد میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا کیونکہ میچ کے آخری لمحات میں گھانا اور پاناما کے کھلاڑیوں کے مابین شدید گرما گرمی دیکھنے میں آئی جہاں دونوں ٹیموں کے کھلاڑی آپس میں گتھم گتھا ہو گئے اور ایک دوسرے کو سرعام دھکے دیے، اس بدامنی اور قانون کی خلاف ورزی پر فیلڈ ریفری نے فوری ایکشن لیتے ہوئے پاناما کے کھلاڑی کو ریڈ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیج دیا۔

    عالمی کپ کے سلسلے میں کھیلے گئے دن کے دوسرے اہم میچ میں دنیائے فٹبال کی مضبوط ترین ٹیم پرتگال اور ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (ڈی آر کانگو) کے مابین کھیلا گیا ہائی وولٹیج مقابلہ مقررہ وقت کے اختتام پر ۱-۱ گول کی برابری کے ساتھ یکسر ختم ہو گیا ہے، فٹبال ماہرین کے مطابق دونوں ٹیموں کے مابین کھیل کا پہلا ہاف انتہائی جارحانہ رہا اور میچ میں ہونے والے دونوں گولز پہلے ہی ہاف کے دوران اسکور کیے گئے جس میں پرتگال کی مڈفیلڈ نے بہترین پاسز کے ذریعے حملے کیے تو دوسری طرف کانگو کے کھلاڑیوں نے بھی جوابی حملوں میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی، تاہم کھیل کے دوسرے ہاف میں دونوں ٹیموں کے دفاعی کھلاڑیوں نے انتہائی الرٹ رہ کر حریف اسٹرائیکرز کو جکڑے رکھا اور مضبوط حکمتِ عملی کے باعث دوسرے ہاف میں کوئی بھی ٹیم مزید کوئی گول اسکور نہ کر سکی جس کے بعد امپائر کی فائنل سیٹی کے ساتھ ہی میچ ڈرا قرار پایا اور دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔

    فیفا ورلڈکپ، لیونل میسی کو ریڈ کارڈ نہ ملنے پر شدید تنازع، ایونٹ کی شفافیت پر انگلیاں اٹھ گئیں

    محمود احمد june 18,2026

    میامی، امریکہ (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    جاری فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ء میں ارجنٹینا اور الجزائر کے مابین کھیلے گئے میچ کے دوران ارجنٹائنی کپتان اور لیجنڈری فٹبالر لیونل میسی کو سنگین فاؤل پر ”ریڈ کارڈ“ نہ دیے جانے کے بعد عالمی ایونٹ کی شفافیت پر گہرے سوالات اٹھ گئے ہیں، میامی سے حاصل ہونے والی اسپورٹس تفصیلات کے مطابق ایک طرف جہاں مشتعل شائقین نے سوشل میڈیا پر فٹبال ورلڈکپ کو ہی باقاعدہ فکسڈ قرار دینا شروع کر دیا ہے، وہیں دوسری جانب معتبر فٹبال تجزیہ کاروں اور مبصرین نے بھی گراؤنڈ ریفری کے اس فیصلے کو سراسر غیر منصفانہ اور یکطرفہ قرار دیا ہے، مشہورِ زمانہ کھیلوں کے نشریاتی ادارے ”ای ایس پی این“ کے پینل مانیٹرنگ اور ماہرین کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے کہنا تھا کہ الجزائری دفاعی کھلاڑی کے پاؤں کے پچھلے حصے پر جان بوجھ کر اپنا بوٹ رکھ کر خطرناک انداز میں گرانے کی پاداش میں قانون کے مطابق لیونل میسی کو ۱۰۰ فیصد ریڈ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیجا جانا چاہیے تھا مگر ریفری نے اسے مکمل نظرانداز کیا۔

    میچ کے سنسنی خیز ری پلے کو بار بار دیکھنے کے بعد دنیا بھر کے کھیلوں کے پنڈتوں اور فٹبال فینز کا متفقہ طور پر یہ ماننا ہے کہ اس انتہائی پرتشدد حرکت پر اسٹار کھلاڑی کو سخت ترین سزا دی جا سکتی تھی، تاہم پولینڈ سے تعلق رکھنے والے فیلڈ ریفری سزیمون نے اس ہولناک فاؤل پر میسی کو کوئی کارڈ تک نہ دکھایا اور سب سے زیادہ حیرت انگیز بات یہ رہی کہ اس دوران جدید ترین ٹیکنالوجی ”وی اے آر“ (فيديو اسسٹنٹ ریفری) کی جانب سے بھی کوئی واضح مداخلت یا ری ویو سامنے نہیں آیا، فٹبال کے دیوانوں اور صارفین نے سوشل میڈیا پر سنگین دعویٰ کیا ہے کہ ٹورنامنٹ کی ویلیو بڑھانے کے لیے فیفا کی جانب سے جان بوجھ کر اسٹار فٹبالر لیونل میسی کو ریڈ کارڈ کی پابندی سے بچایا جا رہا ہے کیونکہ انتظامیہ اور اسپاٹ لائٹ کمپنیاں ہر حال میں چاہتی ہیں کہ آگے چل کر ورلڈکپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں میسی اور کرسٹیانو رونالڈو کا ایک آخری بڑا تاریخی مقابلہ دیکھنے کو ملے اور اسی لالچ میں الجزائر کے خلاف کھلی ناانصافی کی گئی جس سے فیفا کی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔

    آئی سی سی ون ڈے رینکنگ جاری، ڈیرل مچل سرفہرست، ابرار احمد بولرز میں دوسرے نمبر پر برقرار

    منصور احمد june 18,2026

    لاہور (اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے ون ڈے کرکٹ کی تازہ ترین آفیشل پلیئرز رینکنگ جاری کر دی گئی ہے جس کے مطابق نیوزی لینڈ کے مایہ ناز بیٹر ڈیرل مچل بدستور بیٹنگ فہرست میں دنیا کے پہلے نمبر کے بیٹر بنے ہوئے ہیں، لاہور سے حاصل ہونے والی اسپورٹس تفصیلات کے مطابق آئی سی سی کی نئی رینکنگ کے تحت بھارتی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز بیٹر ویرات کوہلی دنیا کے دوسرے بہترین بیٹر کے طور پر اپنی پوزیشن پر مضبوطی سے براجمان ہیں جبکہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان بابر اعظم اس نئی ون ڈے رینکنگ میں چھٹے نمبر پر موجود ہیں، دوسری جانب اگر دنیا کے بہترین بولرز کی ون ڈے رینکنگ پر نظر ڈالی جائے تو وہاں افغانستان کے مایہ ناز لیگ اسپنر راشد خان نے شاندار انداز میں اپنی پہلی پوزیشن کو برقرار رکھا ہوا ہے جبکہ پاکستان کے جادوئی اسپنر ابرار احمد اپنی حالیہ بہترین کارکردگی کی بدولت عالمی بولرز کی فہرست میں دوسرے نمبر پر موجود ہیں، اسی طرح پاکستان کے مایہ ناز فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے بھی شاندار کارکردگی کے بل بوتے پر رینکنگ میں ایک درجہ ترقی حاصل کر لی ہے جس کے بعد وہ دنیا کے ٹاپ ٹین بولرز کی فہرست میں نویں پوزیشن سنبھالنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔