چکوال فائرنگ واقعہ: سی سی ڈی اہلکار کی غفلت سے 9 سالہ ہانیہ کی ہلاکت اور انکوائری رپورٹ کا منظرِ عام پر آنا

منصور احمد, August 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 اگست 2026ء

صوبہ پنجاب کے شہر چکوال میں 10 اور 11 جون کی درمیانی شب پیش آنے والے الم ناک فائرنگ کے واقعے سے متعلق انکوائری رپورٹ پراسیکیوٹر کے پاس جمع کروا دی گئی ہے، جس میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) پنجاب کے ایک اہلکار کو باضابطہ طور پر قصور وار قرار دے دیا گیا ہے۔ اس المناک حادثے میں پریتھ، آسٹریلیا سے آئے ہوئے ایک پاکستانی نژاد خاندان کی 9 سالہ بچی ہانیہ احمد جاں بحق جبکہ ان کے والد عدیل احمد اور 10 سالہ بھائی عفان احمد شدید زخمی ہوئے تھے۔

واقعات کے مطابق جون کی شروعات میں آسٹریلوی نژاد پاکستانی خاندان حج کی ادائیگی کے بعد چکوال میں اپنے عزیز و اقارب سے ملنے آیا ہوا تھا۔ حادثے کی شب جب خاندان اپنی کرائے کی گاڑی میں سی سی ڈی تھانے کی دیوار کے بالکل قریب پہنچا تو دو موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں نے اسلحے کے زور پر انہیں روک کر لوٹنے کی کوشش کی۔ اسی اثنا میں قریب موجود سی سی ڈی کے اہلکار موقع پر پہنچے اور صورتحال کا صحیح اندازہ لگائے بغیر بے دردی سے فائرنگ کر دی۔ پولیس نے بعد میں مؤقف اپنایا تھا کہ اہلکار نے غلط فہمی میں یہ سمجھتے ہوئے گاڑی پر فائر کر دیا کہ ملزمان اس میں فرار ہو رہے ہیں۔

واقعے کے فوری بعد آئی جی پنجاب پولیس اور سی سی ڈی سربراہ ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور ایک ہفتے کے اندر رپورٹ مکمل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم تفصیلی چالان اور رپورٹ 28 جولائی کو پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ میں جمع کروائی گئی جس میں غلط فہمی، طاقت کے بےجا اور بے دریغ استعمال اور غیر پیشہ ورانہ رویے پر متعلقہ سی سی ڈی اہلکار کو واقعے کا مرکزی ذمہ دار قرار دیتے ہوئے قانونی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ دوسری جانب متاثرہ والد عدیل احمد نے کارروائی پر اپنے تحفظات ظاہر کرتے ہوئے مزید غیر جانبدارانہ اور سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک واقعات کا سدِ باب ہو سکے۔

دنیا کی تین بڑی مسلم طاقتوں کا تاریخی ‘مکہ معاہدہ’: پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مشترکہ دفاعی اتحاد کی اہم خصوصیات

محمود احمد, August 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 اگست 2026ء

دنیا کی تین بڑی اور اہم مسلم طاقتوں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ‘مکہ معاہدے’ کے تحت ایک جدید اور تاریخی مشترکہ دفاعی اتحاد وجود میں آ گیا ہے جس نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا بلکہ عالمی جیو پولیٹیکل منظر نامے پر گہرے اور دور رس اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس دفاعی معاہدے کو عالمی و علاقائی سیاست کے ماہرین خطے میں طاقت کے توازن اور پائیدار امن کی جانب ایک انتہائی اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

اس تاریخی معاہدے کے تحت تینوں ممالک دفاعی اور معاشی اعتبار سے اپنی اپنی منفرد خصوصیات اور اعلیٰ صلاحیتوں کا اشتراک کریں گے۔ انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز کے تجزیے کے مطابق اس معاہدے کی بنیادی اور علامتی اہمیت یہ ہے کہ اس میں پاکستان کی مانی ہوئی جوہری و ملٹری صلاحیت، سعودی عرب کی بے پناہ توانائی، مالیاتی وسائل و معاشی طاقت اور ترکی کی جدید اور تیزی سے ابھرتی ہوئی دفاعی و ٹیکنالوجیکل صنعت ایک ساتھ مجتمع ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل یہ تینوں مسلم ممالک مختلف بلاکس یا معاہدوں کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک تھے، تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ تینوں طاقتور ممالک نے ایک مشترکہ چھتری تلے جمع ہو کر دفاعی اشتراک کا اعلان کیا ہے۔

اگرچہ مکہ معاہدے کا پورا باضابطہ متن تاحال عام نہیں کیا گیا، تاہم تینوں ممالک کی سفارتی اور دفاعی قیادت کی جانب سے جاری کردہ اشاروں کے مطابق اس باہمی معاہدے کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ کسی بھی ایک رکن ملک پر غیر ملکی جارحیت یا حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ شق نیٹو یعنی نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن کے مشہور زمانہ ‘آرٹیکل 5’ سے مماثلت رکھتی ہے۔ اس اہم شق کا سیدھا اور واضح مقصد خطے میں کسی بھی ممکنہ دشمن یا جارح قوت کو حملے سے باز رکھنا اور رکن ممالک کی سلامتی کی مکمل ضمانت دینا ہے۔

دفاعی و سٹریٹیجک تجزیہ کاروں کی رائے کے مطابق اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ اگر جنوبی ایشیا میں کسی بھی قسم کے مسلح تنازع یا جنگ کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو سعودی عرب اور ترکی پاکستان کی دفاعی مدد، لاجسٹکس اور سفارتی حمایت فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔ اسی طرح اگر مشرقِ وسطیٰ، شام یا مشرقی بحیرۂ روم کے علاقوں میں اسرائیل یا کسی دوسری قوت کے ساتھ ترکی یا سعودی عرب کا سامنا ہوتا ہے تو پاکستانی مسلح افواج اور انٹیلی جنس ادارے اپنے اتحادیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔

تاہم دیگر بین الاقوامی سیاسی مبصرین اور سفارت کاروں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاہدے میں شامل کسی ایک ملک کو کسی تنازع کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو دیگر دو ممالک کا فوری اور راست طور پر جنگ میں کود پڑنا واحد راستہ نہیں ہوگا۔ اس کے بجائے معاہدے کی شرائط کے تحت متاثرہ ملک کو اعلیٰ درجے کا جدید ترین اسلحہ، دفاعی ڈرونز، مشترکہ انٹیلی جنس، سیٹلائٹ ڈیٹا اور عالمی فورمز پر بھرپور سفارتی و معاشی تعاون فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ کسی بھی جارحیت کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ کر سکے۔

اس کے علاوہ اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک کی برّی، بحری اور فضائی افواج کے درمیان باقاعدگی سے مشترکہ فوجی مشقوں، جنگی سامان کی باہمی تیاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ڈرون ٹیکنالوجی کی ترقی پر بھی کام کیا جائے گا۔ اس اقدام سے دفاعی پیداوار میں خودانحصاری حاصل ہوگی اور مغربی یا بیرونی ممالک پر فوجی انحصار میں نمایاں کمی آئے گی۔

صنعتی اور معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو مکہ معاہدہ صرف فوجی سطح تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے ذریعے تینوں ممالک کے درمیان تجارتی راستوں کی حفاظت، توانائی کے تحفظ اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں بھی تعاون بڑھایا جائے گا۔ پاکستان کی جیو سٹریٹیجک پوزیشن، سعودی عرب کے مالیاتی وسائل اور ترکی کی صنعتی طاقت کا یہ ملاپ ایک ایسا نیا معاشی و دفاعی بلاک تشکیل دے رہا ہے جو خطے میں پائیدار استحکام لانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

عالمی طاقتوں کی جانب سے اس نئے اتحاد کا گہرائی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ جہاں ایک طرف اسلامی دنیا میں اس پیش رفت کو انتہائی خوش آئند اور مسلم امہ کے اتحاد کی جانب بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے، وہاں دوسری جانب روایتی حریف ممالک اور عالمی سیاسی کھلاڑی اس نئے طاقت کے مرکز کی تشکیل کو باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں۔ مکہ معاہدہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آنے والے دور میں علاقائی خود مختاری اور باہمی دفاعی تعاون ہی کسی بھی ملک کی سلامتی کی حتمی ضمانت بن کر سامنے آئے گا۔

وسطی افریقی جمہوریہ میں سونے کی کان میں ہولناک لینڈ سلائیڈنگ: 100 سے زائد افراد ہلاک، ملبے تلے مزید دبے ہونے کا خدشہ

محمود احمد, August 20,2026

اسلام آباد / بانگوئی (نیوز اینڈ نیوز) — 20 اگست 2026ء

وسطی افریقی جمہوریہ (سی اے آر) کے مغربی علاقے “زامبوئی” میں، جو کیمرون کی سرحد کے انتہائی قریب واقع ہے، سونے کی ایک غیر قانونی/مقامی کان میں اچانک زمین دھنسنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ مقامی سرکاری حکام نے اس افسوسناک حادثے اور جانی نقصان کی تصدیق کی ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کان کے مقام پر مٹی کا ایک بہت بڑا تودہ اچانک نیچے آ گرا، جس نے وہاں کام کرنے والے اور موجود درجنوں افراد کو پل بھر میں اپنی زد میں لے لیا جبکہ دیگر افراد نے بھاگ کر اپنی جانیں بچانے کی کوشش کی۔ کیمرون کے سرحدی قصبے گاروآ بولائی کے میئر آدمو عبدون نے میڈیا کو بتایا کہ یہ خوفناک حادثہ منگل کی دوپہر کو پیش آیا اور امدادی کارروائیوں کے دوران اب تک ملبے سے 107 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔

حادثے میں زندہ بچ جانے والے ایک مزدور سیڈرک مبانگو نے بتایا کہ زمین اچانک پوری طرح بیٹھ گئی اور مٹی کا تودہ لوگوں کے اوپر آ گرا، جس سے مزید کئی افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ کیمرون کے مشرقی علاقے کے گورنر گریگوار موونگو کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کم از کم 3 کیمرونی شہری بھی شامل ہیں جن کی لاشیں ابائی علاقوں کو منتقل کی جا رہی ہیں۔ شدید زخمی ہونے والے افراد کو حادثے کے مقام سے 50 کلومیٹر دور واقع قصبے “بابوآ” کے ہسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ لینڈ سلائیڈنگ کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی تاہم امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے خلاف ‘غیر معمولی اور تباہ کن معاشی کارروائی’ کے آغاز کا اعلان

محمود احمد, August 20,2026

اسلام آباد / واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 20 اگست 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک “غیر معمولی اور تباہ کن معاشی کارروائی” شروع کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ امریکی صدر نے یہ اہم اور سخت موقف اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر جاری ایک بیان کے ذریعے سامنے لایا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں لکھا کہ انہوں نے ایران کو ایک اچھے اور پائیدار معاہدے تک پہنچنے کے لیے بھرپور اور مکمل موقع فراہم کیا تھا، لیکن ایرانی قیادت اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے اس نئے اور شدید معاشی دباؤ کے اعلان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی و معاشی کشیدگی میں ایک بار پھر شدید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اس نئے اعلان کے بعد عالمی معاشی منڈیوں خصوصاً تیل کی قیمتوں اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی جیو پولیٹیکل صورتحال پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید (نشانِ حیدر) کی 55ویں برسی: صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا عظیم قربانی پر خراجِ عقیدت

کاشف عباسی , August 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 اگست 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید (نشانِ حیدر) کی 55ویں برسی کے موقع پر مادرِ وطن کی دفاع اور حرمت کے لیے ان کی بے مثال اور تاریخی قربانی کو بھرپور الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

ایوانِ صدر کے پریس ونگ کی جانب سے جاری کردہ رسمی بیان میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید نے انتہائی کم عمری میں وطنِ عزیز کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے شجاعت، فرض شناسی اور حب الوطنی کی وہ لازوال مثال قائم کی ہے جو تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ چمکتی رہے گی۔

صدرِ مملکت نے مزید کہا کہ پاکستان کے سب سے کم عمر نشانِ حیدر حاصل کرنے والے راشد منہاس شہید کی عظیم اور بے لوث قربانی ہماری قومی تاریخ کا ایک روشن ترین باب ہے، جو آنے والی تمام نسلوں کو جرات، عزم، پختہ ارادے اور وطن سے لازوال وفاداری کا سبق دیتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پوری قوم اپنے اس عظیم سپوت، تمام شہدائے وطن اور ان کے خاندانوں کی قربانیوں کو ہمیشہ قدر، احترام اور فخر کی نظر سے دیکھتی ہے۔ صدرِ مملکت نے عزم ظاہر کیا کہ وطنِ عزیز کے دفاع کی خاطر اپنی جانیں نچھاور کرنے والے تمام ہیرو ہمارے سر کا تاج ہیں جن کی عظیم خدمات اور قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

بیجنگ: چینی صدر شی جن پنگ کا ہنگری کے نئے صدر اندریس باکا کو مبارکباد کا پیغام

محمود احمد, August 19,2026

اسلام آباد / بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

چین کے صدر شی جن پنگ نے اندریس باکا کو ہنگری کے صدر کا عہدہ سنبھالنے اور منتخب ہونے پر مبارکباد کا کا پیغام بھیجا ہے। چینی صدر نے اپنے پیغام میں چین اور ہنگری کے دیرینہ اور دوستانہ تعلقات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تاریخی اور مضبوط شراکت داری قائم ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ ہنگری ان پہلے ممالک میں شامل ہے جنہوں نے عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کیا تھا، اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔ سفارتی تعلقات کے قائم ہونے کے 77 سالوں کے دوران، دونوں ممالک نے ہمیشہ باہمی احترام، مساوات اور باہمی فائدے کے اصولوں کی پاسداری کی ہے، جس سے مختلف شعبوں میں نتیجہ خیز تعاون حاصل ہوا ہے۔

صدر شی نے مزید کہا کہ وہ چین اور ہنگری کے تعلقات کی ترقی کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں اور نئے صدر باکا کے ساتھ مل کر روایتی دوستی کو آگے بڑھانے، سیاسی اعتماد کو فروغ دینے، اور مختلف شعبوں میں عملی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے خواہا ں ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دونوں ممالک کے عوام کی بہتری کے لیے “نئے عہد میں چین-ہنگری ہمہ موسمی جامع تزویراتی شراکت داری” کو پائیدار اور دور رس انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔

سپریم کورٹ کا حکم نہ ماننے پر توہینِ عدالت ہوگی: سلمان اکرم راجہ کا پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران بڑا بیان

کاشف عباسی , August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے آرڈر کے تحت حکومت کے پاس کل تک کا وقت موجود ہے، اگر بانی پی ٹی آئی عمران خان کو فوری طور پر الشفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل نہ کیا گیا تو یہ سیدھی توہینِ عدالت تصور ہوگی۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ انہیں ایسا نہیں لگتا کہ حکومت کی نظرثانی درخواست اتنی جلدی کل تک سنی جا سکے گی، کیونکہ سپریم کورٹ میں جب بھی کوئی درخواست دائر ہوتی ہے تو اس کی ابتدائی پڑتال اور انتظامی کارروائی میں ہی چار سے چھ دن لگ جاتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالتی حکم پر آج یا کل تک عملدرآمد نہ ہونے کی کوئی قانونی جواز یا وجہ موجود نہیں ہے، اور عمران خان کو آئینی و عدالتی احکامات کے عین مطابق الشفاء انٹرنیشنل ہسپتال لازمی منتقل کیا جانا چاہیے۔

سلمان اکرم راجہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے اس واضح عدالتی حکم کی عدولی یا توہینِ عدالت کی تو پی ٹی آئی نہ صرف عدالتِ عظمیٰ میں توہینِ عدالت کی باضابطہ درخواست دائر کرے گی بلکہ عوام اور قوم کے سامنے بھی اس معاملے کو رکھے گی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد کی اپوزیشن لیڈر سے ملاقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ ایک محض خیرسگالی ملاقات تھی جس میں پی پی پی نے اپوزیشن کے ساتھ رابطے بحال کرنے اور انتخابی اصلاحات پر مکالمے کی خواہش ظاہر کی، تاہم سلمان اکرم راجہ نے واضح کر دیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے تفصیلی مشاورت کے بغیر کوئی بھی سیاسی یا پارلیمانی بات چیت آگے نہیں بڑھ سکتی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ملاقات کے دوران پی پی وفد نے عدالتی حکم کو سراہا جبکہ نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔

صومالیہ میں 10 پاکستانیوں کو یرغمال بنانے کا معاملہ: قومی اسمبلی میں طارق فضل چوہدری اور پیپلز پارٹی کے درمیان نوک جھونک، وفاقی وزیر کا چیلنج

کاشف عباسی , August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صومالیہ کے بحری قزاقوں کی جانب سے 10 پاکستانیوں کو یرغمال بنائے جانے کے معاملے پر حزبِ اختلاف اور بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین کو سخت ردِعمل دیتے ہوئے چیلنج کیا ہے کہ اگر وہ اپنے موقف میں غلط ثابت ہوں تو عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے، ورنہ الزام تراشی کرنے والے اراکین استعفیٰ دیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ صومالیہ میں 10 پاکستانی شہریوں کی قزاقوں کے قبضے میں موجودگی کا معاملہ ایوان میں بحث کے زیرِ غور آیا تھا۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ الزام لگانے سے قبل ایوان کی رسمی کارروائی کا ریکارڈ چیک کر لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صومالیہ کے ساتھ پاکستان کے براہِ راست سفارتی تعلقات موجود نہیں ہیں، تاہم حکومتِ پاکستان اس سنگین مسئلے کو حل کرنے کے لیے جبوتی اور لندن میں واقع پاکستانی سفارت خانوں کے ذریعے مسلسل متحرک اور کوشاں ہے۔

وفاقی وزیرِ پارلیمانی امور نے ایوان کو آگاہ کیا کہ دفترِ خارجہ کے ذریعے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے تفصیلا ًبتایا کہ جس بحری جہاز کو اغوا کیا گیا ہے وہ اس وقت ایک ایسے سمندری علاقے میں موجود ہے جہاں صومالیہ حکومت کی عمل داری بالکل ختم ہے، جبکہ پلاؤ نامی ملک بھی اس جہاز کی مالکیت تسلیم (اون) نہیں کر رہا۔ طارق فضل چوہدری نے انکشاف کیا کہ صومالی قزاقوں کی جانب سے یرغمالیوں کی رہائی کے عوض 3 ملین ڈالر (30 لاکھ ڈالر) تاوان مانگا گیا ہے، تاہم تاوان کی ادائیگی سے اس نوعیت کے مجرمانہ واقعات میں مزید اضافے کا خطرہ ہے کیونکہ اس جہاز کے بعد 4 مزید بحری جہازوں کو بھی قزاقوں کی جانب سے اغوا کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت ہوا میں باتیں کرنے کے بجائے شہریوں کی محفوظ اور جلد رہائی کے لیے ہر ممکن سفارتی اور عملی ذریعہ استعمال کر رہی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کی قومی اسمبلی چیمبر میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی سے ملاقات، پارلیمانی کمیٹیوں اور انتخابی اصلاحات پر گفتگو

منصور احمد, August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کے اپوزیشن چیمبر میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس سے ایک اہم سیاسی ملاقات کی ہے، جس کا باضابطہ مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔

تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے ترجمان اخوندزادہ حسین یوسفزئی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس اہم ملاقات میں اپوزیشن اور تحریکِ انصاف کی جانب سے سلمان اکرم راجہ، اسد قیصر، مصطفیٰ نواز کھوکھر، عامر ڈوگر، عادل بازئی اور اخوندزادہ حسین موجود تھے، جبکہ پیپلز پارٹی کے وفد میں بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ راجہ پرویز اشرف، شیری رحمان، نوید قمر اور ندیم افضل چن شامل تھے۔

ملاقات کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور پارلیمانی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن قیادت سے درخواست کی کہ وہ تمام اہم پارلیمانی کمیٹیوں میں شامل ہو کر اپنا فعال اور مثبت کردار ادا کریں، جس پر اپوزیشن رہنماؤں نے جواب دیا کہ وہ اس معاملے پر بانی پی ٹی آئی عمران خان سے مشاورت کرنے کے بعد حتمی فیصلہ کریں گے۔ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں فریقین نے پارلیمان کے اندر قانون سازی کے حوالے سے باہمی رابطوں کو مزید بڑھانے اور انتخابی اصلاحات میں متحرک کردار ادا کرنے پر اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ پیپلز پارٹی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت بانی پی ٹی آئی عمران خان کی الشفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی اور علاج کی فراہمی کو خوش آئند قرار دیا۔

طبی آپریشنز سے قبل ایچ آئی وی سکریننگ لازمی قرار: وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت جوائنٹ ورکنگ گروپ کا اجلاس

روزینہ اسماعیل, August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت وزارتِ صحت میں ایچ آئی وی/ایڈز سے متعلق جوائنٹ ورکنگ گروپ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک میں ایچ آئی وی کی مجموعی صورتحال، انسدادِ ایچ آئی وی پروگرام پر عملدرآمد، ڈیجیٹل ڈیٹا مینجمنٹ اور صوبائی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے ہدایت جاری کی کہ ملک بھر میں ہر بڑے یا معمولی آپریشن اور جلد کو چیرنے یا چھیدنے والے تمام طبی طریقہ کار سے قبل ایچ آئی وی سکریننگ کو لازمی طور پر یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ، پنجاب اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں جراحی کے عمل سے قبل ایچ آئی وی سکریننگ پہلے ہی جاری ہے، جبکہ بلوچستان، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے متعلقہ حکام کو بھی اس کے نفاذ کے لیے فوری نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کی گئی۔

وزیرِ صحت نے تاکید کی کہ ایچ آئی وی سے متأثرہ بچوں کی دیکھ بھال صرف طبی علاج تک محدود رکھنے کے بجائے ان کے لیے غذائی، نفسیاتی اور فلاحی معاونت کو بھی یقینی بنایا جائے۔ اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری وزارتِ صحت میجر جنرل (ر) اظہر محمود کیانی نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی کہ صوبے کے ایچ آئی وی ڈیٹا کو قومی ایچ آئی وی مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے ساتھ جلد از جلد منسلک کیا جائے تاکہ ملک گیر سطح پر مربوط نگرانی ممکن ہو سکے۔

اجلاس میں ڈبلیو ایچ او ، یونیسف، یو این ڈی پی، یو این ایڈز ، گلوبل فنڈ کے نمائندگان اور تمام صوبوں و علاقوں کے سیکرٹریز صحت نے شرکت کی۔

مودی دور میں بھارتی سیاست اور عدالتی نظام پر سوالات: زیر التوا ہزاروں فوجداری مقدمات نے دعوئوں کا پول کھول دیا

محمود احمد, August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

بھارت میں مودی حکومت کے دورِ اقتدار میں سیاسی نظام اور عدلیہ کی کارکردگی سے متعلق تشویشناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔ بھارتی جریدے “دی وائر” کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق بھارتی عدالتوں میں سیاسی رہنماؤں کے خلاف ہزاروں زیر التوا فوجداری مقدمات اور تاخیر کے شکار عدالتی نظام نے مودی انتظامیہ کے شفافیت کے تمام دعوئوں کو آشکار کر دیا ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ کے سامنے پیش کی جانے والی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اس وقت بھارت بھر میں قانون سازوں اور ارکانِ اسمبلی کے خلاف مجموعی طور پر 4,192 فوجداری مقدمات زیر التوا ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت کی 28 میں سے 14 ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے خلاف مختلف سنگین نوعیت کے فوجداری کیسز عدالتوں میں چل رہے ہیں۔ ان میں تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کے خلاف 89 اور سیاسی رہنما سووندو ادھیکاری کے خلاف 29 کیسز شامل ہیں۔ اتر پردیش سمیت کئی بڑی ریاستوں میں سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کے مقدمات التوا کا شکار ہیں۔

معروف بھارتی صحافی شویتا کوہاری کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں سنگین الزامات کا سامنا کرنے والے نمائندوں کی موجودگی نے بھارت کے سیاسی نظام اور جوابدہی کے جمہوری عمل کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے دوران عام عوام انصاف کے حصول سے محروم دکھائی دیتے ہیں جبکہ آئینی اداروں اور عدلیہ پر ہندوتوا نظریات کے اثرات بڑھ رہے ہیں جس سے جمہوری اقدار متأثر ہو رہی ہیں۔

ایتھوپیا اور پاکستان کا زراعت، لائیو سٹاک اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

منصور احمد, August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

پاکستان اور ایتھوپیا نے باہمی تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ، جدید زرعی ٹیکنالوجی کی منتقلی، غذائی تحفظ اور لائیو سٹاک کے شعبوں میں پیش رفت کے لیے زراعت میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

اس سلسلے میں پاکستان میں ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین سے اسلام آباد میں ایک اہم ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے زرعی اداروں کے درمیان علم اور تجربات کے تبادلے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے ایک جامع زرعی معاہدے کی تجویز سمیت دوطرفہ تعاون کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

سفیرِ ایتھوپیا نے اپنے ملک کی معیشت میں زراعت کی اہمیت اور حکومتِ ایتھوپیا کی جانب سے اس شعبے کو دی جانے والی ترجیح پر روشنی ڈالتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات کی نشاندہی کی۔ انہوں نے ایتھوپیا کے “گرین لیگیسی انیشی ایٹو” کو پائیدار ترقی، زرعی نمو اور غذائی تحفظ کا جامع پروگرام قرار دیتے ہوئے اس کا تجربہ پاکستان کے ساتھ شیئر کرنے کی پیشکش کی اور پاکستانی زرعی کاروباری شخصیات کو ایتھوپیا میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ اس کے علاوہ انہوں نے وفاقی وزیر کو 2027ء میں ادیس ابابا میں ہونے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس “کوپ 32” کی میزبانی سے متعلق تیاریوں سے بھی آگاہ کیا۔

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے زرعی تحقیق، جدید کاشتکاری کی ٹیکنالوجی، زرعی مشینری، آبپاشی، لائیو سٹاک اور ایگرو پروسیسنگ کے شعبوں میں پاکستان کی مہارت کا ذکر کرتے ہوئے مکمل تکنیکی معاونت کی آمادگی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک فصلوں کی پیداواری صلاحیت، معیاری بیجوں کی تیاری، موسمیاتی اثرات سے محفوظ زراعت اور مشینی کاشتکاری میں تعاون کو نمایاں وسعت دے سکتے ہیں۔

انسانی ہمدردی کا عالمی دن: بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام مستحق خاندانوں کو سماجی تحفظ فراہم کرنے کے مشن پر گامزن ہے، سینیٹر روبینہ خالد

کاشف عباسی , August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سینیٹر روبینہ خالد نے انسانی ہمدردی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ انسانیت کی خدمت، دکھی انسانوں کا سہارا بننا اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا ہم سب کی مشترکہ اخلاقی و قومی ذمہ داری ہے۔ بی آئی ایس پی حکومتِ پاکستان کی جانب سے ملک بھر کے مستحق خاندانوں کو مکمل سماجی تحفظ فراہم کرنے کے مشن پر پوری طرح گامزن ہے۔

سینیٹر روبینہ خالد نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی ہمدردی صرف ایک جذبہ یا ہمدردی کے چند الفاظ نہیں بلکہ معاشرے کے تمام کمزور، محروم اور مستحق طبقات کی عملی مدد کرنے کا نام ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی اس وقت ملک کے لاکھوں مستحق اور غریب خاندانوں کو باقاعدہ مالی معاونت فراہم کر کے انہیں شدید معاشی مشکلات اور غربت سے نکالنے میں انتہائی اہم اور کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ معاشرے کے محروم اور کمزور طبقوں کو مشکل حالات میں کبھی تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ انسانی ہمدردی کا عالمی دن ہمیں یہی درس دیتا ہے کہ ہم دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے آگے بڑھیں اور ضرورت مندوں کا ہاتھ تھامیں۔ انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ آئیں آج ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ اپنے اردگرد موجود تمام ضرورت مند افراد کی مدد اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا مؤثر اور مثبت کردار ادا کریں گے۔

مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے کاروباری ترقی کے نئے مواقع: وزارتِ آئی ٹی اور میٹا کا چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام کا آغاز

روزینہ اسماعیل, August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے فروغ سے کاروباری ترقی، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ اس سلسلے میں وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن نے عالمی ٹیکنالوجی کمپنی “میٹا” کے اشتراک سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

اس مجوزہ تربیتی پروگرام کے تحت ملک کے 9 بڑے شہروں میں ایک ہزار سے زائد کاروباری افراد کو مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے موثر استعمال سے متعلق عملی تربیت فراہم کی جائے گی۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو قومی ڈیجیٹل معیشت سے منسلک کرنا اور ان کی آن لائن کاروباری استعداد کار میں نمایاں اضافہ کرنا ہے۔

یہ پروگرام میٹا کے ایشیا پیسیفک خطے کے 12 ممالک پر مشتمل “سمال بزنس ٹریننگ پروگرام” کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس کے ذریعے مقامی کاروباری افراد کو اے آئی ٹولز، جدید ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنے کاروبار کو علاقائی اور عالمی سطح پر وسعت دینے کے مواقع ملیں گے۔ وزارتِ آئی ٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل مہارتوں کا فروغ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اور عالمی کمپنیوں کے ساتھ اس نوعیت کی شراکت داری سے پاکستانی نوجوانوں اور تاجروں کے لیے نئے معاشی راستے کھلیں گے۔

واپڈا کی جانب سے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کی تفصیلی رپورٹ جاری

منصور احمد, August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے ملک بھر کے مختلف دریاؤں، بیراجوں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ بدھ کے روز جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق مختلف بیراجوں اور ڈیموں میں پانی کا بہاؤ اور ذخیرہ مستحکم سطح پر ریکارڈ کیا گیا ہے۔

واپڈا رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 2 لاکھ 34 ہزار 400 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 33 ہزار 800 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر آمد و اخراج 30 ہزار 900 کیوسک اور خیرآباد پل پر آمد و اخراج 2 لاکھ 54 ہزار 100 کیوسک رہا۔ دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 29 ہزار 800 کیوسک جبکہ اخراج 7 ہزار کیوسک رہا۔ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر آمد 73 ہزار کیوسک اور اخراج 47 ہزار 800 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

مختلف بیراجوں کے اعداد و شمار کے مطابق جناح بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 46 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 3 لاکھ 38 ہزار 400 کیوسک رہا۔ چشمہ بیراج پر آمد 3 لاکھ 11 ہزار کیوسک اور اخراج 3 لاکھ 2 ہزار 200 کیوسک، تونسہ بیراج پر آمد 3 لاکھ 36 ہزار 500 کیوسک اور اخراج 3 لاکھ 15 ہزار 900 کیوسک جبکہ گدو بیراج پر آمد 3 لاکھ 7 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 68 ہزار 900 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ سکھر بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 22 ہزار 800 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 68 ہزار 900 کیوسک، کوٹری بیراج پر آمد ایک لاکھ 41 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 98 ہزار 900 کیوسک رہا۔ اس کے علاوہ تریموں کے مقام پر آمد 37 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 25 ہزار 100 کیوسک جبکہ پنجند پر آمد 45 ہزار 500 کیوسک اور اخراج 30 ہزار 900 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

آبی ذخائر (ڈیموں) میں پانی کی سطح کی صورتحال درج ذیل ہے:

تربیلا ڈیم اپنی انتہائی سطح 1550 فٹ تک بھر چکا ہے اور اس میں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 5.580 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ تربیلا کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ ہے۔ منگلا ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1213.15 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ اس کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050 فٹ اور انتہائی سطح 1242 فٹ ہے، جہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 5.105 ملین ایکڑ فٹ موجود ہے۔ اسی طرح چشمہ بیراج میں پانی کی موجودہ سطح 648.50 فٹ ہے (کم از کم لیول 638.15 فٹ اور انتہائی سطح 649 فٹ) اور یہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.285 ملین ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا۔

2027ء کے ایس سی او سربراہی اجلاس کی میزبانی: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی صدارت میں اعلیٰ سطح اجلاس، سی ڈی اے کو انتظامات وقت پر مکمل کرنے کی ہدایت

کاشف عباسی , August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سال 2027ء میں پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی ہے۔

دفترِ خارجہ کے مطابق اجلاس کے دوران چیئرمین کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے نائب وزیرِ اعظم کو دارالحکومت میں جاری مختلف بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) اور ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ اسحاق ڈار نے جاری تیاریوں کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو تمام تر انتظامات اور ترقیاتی کاموں کو مقررہ وقت پر مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان عالمی سطح کے اس اہم اجلاس کی کامیاب اور اعلیٰ ترین معیار پر میزبانی کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔

نائب وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سربراہی اجلاس کی کارروائی کو منظم، ہموار اور کامياب بنانے کے لیے تمام وزارتی و انتظامی اداروں کے درمیان مسلسل اور قریبی رابطہ ناگزیر ہے۔ اس اہم اجلاس میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ، سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ، سیکرٹری داخلہ احمد رضا سرور، چیئرمین سی ڈی اے، نیشنل کوآرڈینیٹر ایس سی او اور دیگر متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔

سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی نواز شریف اور وزیراعلیٰ مریم نواز سے الوداعی ملاقات، سفارتی خدمات کو خراجِ تحسین

منصور احمد, August 19,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے بدھ کے روز الوداعی ملاقات کی ہے۔ سعودی سفیر کے وزیرِ اعلیٰ آفس آمد پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

ترجمان وزیرِ اعلیٰ آفس کے مطابق ملاقات میں محمد نواز شریف اور مریم نواز نے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین برادرانہ تعلقات کے فروغ، استحکام اور معاشی و سفارتی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی خدمات کو شاندار الفاظ میں سراہا۔ اس موقع پر سعودی سفیر نے پاکستان میں اپنے سفارتی قیام کو یادگار قرار دیتے ہوئے پاکستان اور پنجاب میں ملنے والی پرخلوص میزبانی پر نواز شریف اور مریم نواز کا شکریہ ادا کیا۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

بلوچستان میں امن و ترقی کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں کا باہمی رابطہ ضروری ہے: صدر آصف علی زرداری

کاشف عباسی , August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں پائیدار امن، تیز رفتار ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر روابط اور یکجہتی کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ بدھ کے روز ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوانِ صدر اسلام آباد میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران کیا۔

ملاقات کے دوران صدرِ مملکت کو بلوچستان کی مجموعی امن و امان کی صورتحال اور صوبے بھر میں جاری مختلف عوامی و معاشی ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ صدر آصف علی زرداری نے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے ناطے بلوچستان خصوصی توجہ اور وسائل کا پورا حقدار ہے۔ انہوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں کی بلوچستان کی ترقی و خوشحالی میں رکاوٹ ڈالنے کی تمام تر ناپاک کوششوں کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے گا، اور وہ دن دور نہیں جب صوبے سے دہشت گردی کا مکمل جڑ سے خاتمہ ہو جائے گا۔

اس اہم ملاقات کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی خواتین ونگ کی صدر فریال تالپور اور بلوچستان کے سابق صوبائی وزیر میر علی حسن زہری بھی موجود تھے۔

انسانی ہمدردی کے عالمی دن پر دنیا بھر کے امدادی کارکنان کو خراجِ تحسین: وفاقی وزیرِ قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا اہم پیغام

منصور احمد, August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے انسانی ہمدردی کے عالمی دن کے موقع پر دنیا بھر اور بالخصوص پاکستان میں خدمات انجام دینے والے امدادی کارکنان کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اپنے ایک خصوصی پیغام میں انہوں نے کہا کہ سخت، مشکل اور انتہائی خطرناک حالات کے باوجود امدادی کارکنان کی خدمات بلا شبہ قابلِ تحسین ہیں، جو دنیا بھر میں انسانیت، باہمی ہمدردی اور بے لوث خدمت کی روشن ترین مثال قائم کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیرِ قانون نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی ہمدردی صرف کسی آفت کے وقت فوری امدادی سامان کی فراہمی کا نام نہیں ہے بلکہ یہ متاثرین کے وقار، مکمل تحفظ اور ان کے لیے انصاف کو یقینی بنانے کا بنیادی تقاضا بھی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات اور دیگر نادیدہ بحرانوں کے دوران متاثرہ افراد، بالخصوص خواتین، بچوں، معذور افراد اور دیگر معاشی یا سماجی طور پر کمزور طبقات کا تحفظ اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ ہنگامی اور ہنگامی نوعیت کے حالات میں ریاست کی بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تمام متاثرہ افراد کو بلا کسی امتیاز کے مکمل تحفظ اور بنیادی سہولیات فراہم کرے۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اپنے پیغام میں ریاستی اداروں، سول سوسائٹی کے تنظیموں، طبی عملے اور ہر سطح کے رضاکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ بحران کی اس گھڑی میں کوئی بھی انسان بے یارومددگار نہ رہے، یہ ہم سب کی اجتماعی اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ سے انسانی حقوق، احترامِ انسانیت اور قانون کی حکمرانی کے اعلیٰ اصولوں پر قائم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک مؤثر انسانی ہمدردی کے نظام میں محض فوری امداد کے ساتھ ساتھ متاثرین کی مکمل بحالی، انہیں عدل و انصاف اور تمام بنیادی زندگی کی سہولیات تک رسائی فراہم کرنا شامل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ انسانی ہمدردی عالمی سطح پر آپسی تعاون اور یکجہتی کا تقاضا کرتی ہے اور پاکستان مشکل کی ہر گھڑی میں تمام ضرورت مند انسانوں کے ساتھ کھڑا رہنے کے اپنے عزم پر سختی سے قائم ہے۔

سینیگال کے لیے آئی ایم ایف کا نیا قرض پروگرام: تکنیکی مذاکرات اور اصلاحات کے جائزہ کے لیے فنڈ کا مشن واشنگٹن سے روانہ

محمود احمد, August 19,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اعلان کیا ہے کہ اس کی عملہ ٹیم 19 اگست سے یکم ستمبر تک مغربی افریقی ملک سینیگال کا دو ہفتے طویل اہم دورہ کرے گی۔ اس دورے کے دوران آئی ایم ایف حکام سینیگال کے لیے ایک نئی مالیاتی قرض سہولت کے تحت ممکنہ طور پر معاونت حاصل کرنے والی پالیسیوں، معاشی اصلاحات اور مزید تکنیکی امور پر سینیگالی انتظامیہ کے ساتھ تفصیلی بات چیت جاری رکھیں گے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کی ٹیم کا یہ جامع دورہ سینیگال کے لیے ایک نئے معاشی پروگرام کی سمت اہم پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔ اس سے قبل 3 اگست کو آئی ایم ایف کے ترجمان نے واضح کیا تھا کہ فنڈ کا عملہ اس وقت تکنیکی سطح کے مذاکرات کے لیے بالکل تیار ہے جب سینیگال کے حکام خود کو اگلے مرحلے کی بات چیت کے لیے تیار قرار دیں گے۔

آئی ایم ایف کا یہ تازہ اقدام اور دو ہفتوں کا دورہ 2024ء میں سینیگال کی جانب سے قومی قرضوں کی غلط رپورٹنگ کے سامنے آنے والے معاملے کو بحسن و خوبی حل کرنے اور شفافیت قائم کرنے کی کوششوں کا اگلا مرحلہ ہے۔ یاد رہے کہ قرض کے ڈیٹا میں گڑبڑ اور غلط معلومات کی فراہمی کی وجہ سے آئی ایم ایف کا سابقہ قسط اور امدادی پروگرام روک دیا گیا تھا، جس کے بعد اب نئی اصلاحات کی روشنی میں نیا فریم ورک طے کیا جا رہا ہے۔