عوامی خدمت کے ایجنڈے کو مزید تیزی سے آگے بڑھایا جائے اور عوامی مسائل کا حل اولین ترجیح ہو، وزیراعظم محمد شہباز شریف

کاشف عباسی , JULY 02,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنی حکومت کے عوامی خدمت کے ایجنڈے کو مزید تیزی سے آگے بڑھانے اور عوام کے بنیادی مسائل کے فوری حل کو اولین ترجیح دینے کی سخت ہدایت کی ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، جنہوں نے جمعرات کے روز یہاں ان سے ایک مقتدر ملاقات کی ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق، وفاقی وزیر برائے پبلک افیئرز یونٹ رانا مبشر اقبال، وزیر مملکت برائے پاور عبدالرحمٰن خان کانجو اور وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طلحہٰ برکی بھی اس اعلیٰ سطحی تزویراتی ملاقات میں موجود تھے۔

ملاقات کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی و انتظامی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے واضح کیا کہ حکومتی اراکین اور وزراء عوامی خدمت کے مشن کو تیز کریں تاکہ عام آدمی کو براہِ راست ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے خصوصی طور پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی پائیدار ترقی، خوشحالی اور وہاں کے عوام کی سماجی فلاح و بہبود کے لیے وفاقی حکومت تمام دستیاب وسائل کو ہر ممکن طور پر بروئے کار لائے گی اور ان خطوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو شفافیت کے ساتھ مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے گا۔

کاہنہ ٹیوشن سینٹر سانحہ، شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل ٹربیونل کی تشکیل کا مطالبہ، گورنر اور وزیراعلیٰ پنجاب کو خط ارسال

کاشف عباسی , JULY 02,026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک غیر رجسٹرڈ ٹیوشن سینٹر کی عمارت کی چھت گرنے کے دلخراش سانحے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کے لیے جوڈیشل ٹربیونل تشکیل دینے کی باقاعدہ درخواست کرتے ہوئے گورنر پنجاب، وزیر اعلیٰ پنجاب اور دیگر متعلقہ مقتدر حکام کو ایک باضابطہ خط ارسال کر دیا گیا ہے۔ جوڈیشل ایکٹوزم پینل کے سربراہ محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی جانب سے ارسال کیے گئے اس خط میں پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ کاہنہ سانحے کی شفاف، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر ہائی کورٹ کے جج پر مشتمل جوڈیشل ٹربیونل قائم کیا جائے۔

خط کے تزویراتی متن کے مطابق، اس غیر رجسٹرڈ ٹیوشن سینٹر میں چھت گرنے کے نتیجے میں چودہ معصوم بچے موقع پر جاں بحق جبکہ ایک خاتون ٹیچر شدید زخمی ہوئیں۔ خط میں حکام سے مزید مطالبہ کیا گیا ہے کہ صوبے بھر میں کام کرنے والے تمام غیر رجسٹرڈ تعلیمی اداروں اور اکیڈمیوں کی فوری رجسٹریشن کو قانونی طور پر یقینی بنایا جائے، جبکہ ان عمارتوں کے حفاظتی ضوابط اور فٹنس سرٹیفکیٹس پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے کسی بھی افسوسناک اور لرزہ خیز واقعے کی روک تھام کو مستقل بنیادوں پر ممکن بنایا جا سکے۔ لاہور کے عوامی اور سماجی حلقوں نے بھی اس سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سیالکوٹ ریجن میں سمسٹر خزاں دو ہزار چھبیس کے داخلوں کا باقاعدہ آغاز


علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے تعلیمی سفر کے 50 سال مکمل: سلور جوبلی کا انعقاد۔

روزینہ اسماعیل, JULY 01,2026

سیالکوٹ (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں سمسٹر خزاں دو ہزار چھبیس کے تعلیمی داخلوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، لہٰذا تمام خواہشمند طلبہ و طالبات مقررہ آخری تاریخ سے قبل آن لائن درخواستیں جمع کرا کے اس تعلیمی موقع سے بھرپور استفادہ کریں۔ سیالکوٹ ریجنل کیمپس طلبہ کو داخلوں، امتحانات، اسائنمنٹس اور دیگر تمام تعلیمی امور میں ہر ممکنہ رہنمائی اور بہترین سہولت فراہم کر رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ریجنل ڈائریکٹر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سیالکوٹ ریجن چوہدری حسن صفتیں چیمہ نے اپنے آفس میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے مقتدر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے تفصیلاً بتایا کہ میٹرک، ایف اے، آئی کام، ایسوسی ایٹ ڈگری، بی ایس، بی بی اے، بی ایڈ، پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ، سرٹیفکیٹ، ایم بی اے، ایم فل، ایم ایس اور پی ایچ ڈی سمیت مختلف تدریسی پروگراموں میں داخلے جاری ہیں، اور طلبہ اپنی اہلیت کے مطابق پسندیدہ پروگرام کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

ریجنل ڈائریکٹر چوہدری حسن صفتین چیمہ نے داخلوں کے شیڈول کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ میٹرک، ایف اے، ایسوسی ایٹ ڈگری، بی ایس، بی ایڈ، پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ اور سرٹیفکیٹ پروگرامز میں داخلہ حاصل کرنے کی آخری تاریخ دس اگست دو ہزار چھبیس مقرر کی گئی ہے، جبکہ ایم فل، ایم ایس اور پی ایچ ڈی جیسے اعلیٰ تعلیمی پروگرامز کے لیے سترہ اگست دو ہزار چھبیس کی تاریخ طے ہے۔ اس کے علاوہ طلبہ اپنے مطلوبہ کورسز کا باقاعدہ اندراج چوبیس اگست دو ہزار چھبیس تک کرا سکتے ہیں۔ انہوں نے تمام طلبہ اور والدین سے پرزور اپیل کی کہ وہ داخلے کے محفوظ عمل کے لیے صرف یونیورسٹی کے آفیشل اور سرکاری پورٹل سے ہی رجوع کریں اور کسی بھی قسم کی رہنمائی یا معلومات کے لیے سیالکوٹ ریجنل کیمپس سے براہِ راست رابطہ کریں، جہاں طلبہ کی فوری سہولت اور کونسلنگ کے لیے ایک خصوصی فیسیلیٹیشن ڈیسک فعال کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کی اصل طاقت ایٹمی پروگرام نہیں بلکہ باصلاحیت نوجوان نسل ہے، وفاقی وزیر احسن اقبال

کاشف عباسی , JULY 01,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان کی اصل طاقت اس کا ایٹمی پروگرام نہیں بلکہ اس کی باصلاحیت نوجوان نسل ہے؛ قوموں کی حقیقی ترقی معدنی وسائل سے نہیں بلکہ انسانی وسائل، معیاری تعلیم، جدید مہارتوں اور پالیسیوں کے تسلسل سے وابستہ ہوتی ہے، اور مستقبل انہی قوموں کا ہوتا ہے جو اپنے نوجوانوں پر سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ انہوں نے یہ بات بدھ کے روز یہاں اڑان پاکستان “مٹی کی پکار” اوورسیز پاکستانیز سمر اسکالرز پروگرام دو ہزار چھبیس کی پروقار افتتاحی تقریب سے تزویراتی خطاب کرتے ہوئے کہی۔

وفاقی وزیر نے تفصیلاً بتایا کہ اس مقتدر پروگرام کے لیے دنیا کے چوون ممالک سے تقریباً دو ہزار درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے انتہائی شفاف اور میرٹ پر مبنی انتخابی عمل کے بعد دنیا کی ایک سو پچاس ممتاز جامعات سے تعلق رکھنے والے پینتالیس غیر معمولی اوورسیز پاکستانی طلبہ و طالبات کو منتخب کیا گیا۔ احسن اقبال نے منتخب اسکالرز کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ دو ماہ پر مشتمل یہ پروگرام اوورسیز پاکستانی طلبہ کو پاکستان کے مختلف قومی اداروں میں عملی تجربہ حاصل کرنے، پالیسی سازی کے عمل کو قریب سے سمجھنے اور ملکی ترقی میں اپنا تعمیری کردار ادا کرنے کا منفرد موقع فراہم کرے گا۔ اس سال پروگرام کی ایک اور منفرد خصوصیت یہ ہے کہ پاکستانی طلبہ کے ساتھ بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور قازقستان سے تعلق رکھنے والے تین غیر ملکی اسکالرز بھی شریک ہیں، جو اس اقدام کی بین الاقوامی اہمیت کا واضح ثبوت ہے۔ آئندہ چند ہفتوں کے دوران یہ نوجوان وزارتِ منصوبہ بندی کی سینئر قیادت کے ساتھ مل کر اڑان پاکستان کے فائیو ایز فریم ورک (یعنی برآمدات، توانائی، ماحولیات، ای پاکستان اور مساوات و بااختیار بنانا) کے تحت قومی ترقی کے مختلف شعبوں میں پالیسی سازی کو جدید خطوط پر استوار کریں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ جب بھی مسلم لیگ (ن) کو ملک کی خدمت کا موقع ملا، نوجوانوں کو جدید مہارتیں فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح رہی؛ ماضی میں حکومت نے ملک کو توانائی بحران اور دہشت گردی سے نکالا، جدید انفراسٹرکچر تعمیر کیا اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) جیسے تاریخی منصوبوں کا آغاز کیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ دو ہزار سترہ میں عالمی ادارے پرائس واٹر ہاؤس کوپرز نے پیش گوئی کی تھی کہ اگر پاکستان ترقی کی اسی رفتار سے آگے بڑھتا رہا تو دو ہزار تیس تک دنیا کی بیس بڑی معیشتوں میں شامل ہو جائے گا، لیکن بعد ازاں ایک مصنوعی سیاسی تبدیلی کے نتیجے میں ملک شدید معاشی بحران کا شکار ہوا اور ڈیفالٹ کے دہانے تک پہنچ گیا۔ دو ہزار بائیز میں جب موجودہ حکومت نے ذمہ داریاں سنبھالیں تو سخت ترین فیصلے کرتے ہوئے معیشت کو استحکام کی راہ پر گامزن کیا اور آج دنیا پاکستان کی معاشی بحالی کو سراہا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی تقریباً ساٹھ فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، اس لیے ریاست پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ انہیں معیاری تعلیم اور باعزت روزگار کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ اب سفارتی کامیابیوں کے بعد اصل معرکہ معاشی ترقی کا ہے جسے جیتنے کے لیے نوجوان نسل کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزارتِ منصوبہ بندی نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو بھی سفارشات ارسال کی ہیں تاکہ ملکی جامعات کے نصاب کو جدید دور کے تقاضوں، ٹیکنالوجی اور عالمی منڈی کی ضروریات سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔ انہوں نے اسکالرز کو تاکید کی کہ وہ ان چھ ہفتوں کو اپنی زندگی کا یادگار تجربہ بنائیں اور ہمیشہ مثبت سوچ کے ساتھ اپنے وطن کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔

بین الصوبائی تعاون کے فروغ سے عوامی مسائل کے حل اور ملکی استحکام کو مزید تقویت ملے گی، صدر آصف علی زرداری

منصور احمد, JULY 01,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کراچی میں ایک اعلیٰ سطحی اور مقتدر ملاقات کی ہے۔ ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے بدھ کے روز جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، اس اہم بیٹھک میں وفاقی حکومت سے متعلق بین الصوبائی امور، صوبوں کے مابین تعاون اور باہمی دلچسپی کے مختلف تزویراتی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاق اور صوبوں کے مابین مضبوط روابط کی ضرورت پر گہرا زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بین الصوبائی تعاون کے مؤثر فروغ سے نہ صرف عوام کے بنیادی مسائل کو مقامی اور صوبائی سطح پر حل کرنے میں مدد ملے گی، بلکہ ملکی ترقی، یکجہتی اور مجموعی استحکام کی جاری کوششوں کو بھی مزید تقویت حاصل ہوگی۔ ملاقات میں دونوں وزرائے اعلیٰ نے اپنے اپنے صوبوں کی ترقیاتی صورتحال اور وفاق کے ساتھ جاری پراجیکٹس کے حوالے سے صدرِ مملکت کو بریفنگ بھی دی۔

موسمی تغیرات کے خطرات سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی تعاون ناگزیر ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف

کاشف عباسی , JULY 01,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے موسمی تغیرات کے خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر موثر اور جامع تعاون کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے مون سون کی پیشگی تیاری کے لیے وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی اور چیئرمین این ڈی ایم اے کو تمام صوبوں بشمول آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کا ہنگامی دورہ کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت مون سون سیزن کی پیشگی تیاری اور موسمیاتی تغیر اور ماحولیاتی خطرات سے بچاؤ کے نظام پر ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس بدھ کے روز یہاں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس احمد لغاری، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ، وزیر مملکت خزانہ اظہر بلال کیانی، چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، چیئرمین واپڈا اور تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور دیگر متعلقہ سرکاری اداروں کے مقتدر عہدیداران نے شرکت کی۔

اجلاس سے تزویراتی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے، لہٰذا موسمی تغیرات کے قومی سطح کے خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر موثر اور جامع تعاون انتہائی ناگزیر ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی اور چیئرمین این ڈی ایم اے کو تمام صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا اسی ہفتے ہنگامی دورہ کرنے کی ہدایت کی تاکہ مون سون کی پیشگی تیاریوں کو حتمی شکل دی جا سکے۔ انہوں نے وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی کی زیر نگرانی این ڈی ایم اے اور دیگر متعلقہ وفاقی وزارتوں پر مشتمل ایک مقتدر ایمرجنسی رسپانس کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی جو متعلقہ صوبائی اداروں سے عملی تعاون کے لیے کام کرے گی۔ وزیراعظم کی ہدایت پر یہ ایمرجنسی رسپانس کمیٹی باقاعدگی سے ہفتہ وار ملاقاتیں کرے گی۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ وفاقی وزیر خزانہ اس کمیٹی میں مون سون کی ممکنہ تباہی کی صورت میں ہنگامی فنڈ کی تشکیل کے لیے پیشگی تیاری مکمل کریں۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ غیر ملکی اداروں کی مالی معاونت کے تحت چلنے والے منصوبے بھی قومی و مقامی اداروں کی استعداد بڑھانے کے لیے استعمال ہونے چاہئیں۔ وزیراعظم نے بتایا کہ قومی آبی تحفظ و سلامتی کے لیے وفاقی حکومت نے اس سال مالی بجٹ میں آبی منصوبوں کی جلد تکمیل کے لیے تین سو تیس ارب روپے کی خطیر اضافی رقم مختص کی ہے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں اس سال مون سون سیزن میں ممکنہ سیلابی صورتحال اور خطرات سے بچاؤ کے لیے اقدامات ایک جامع روڈ میپ کے تحت ترتیب دیے جائیں؛ تمام صوبے مقامی سطح پر خطرے سے دوچار اضلاع میں دریاؤں کی گزرگاہوں اور سیلاب کے ممکنہ راستوں میں تجاوزات اور دیگر مسائل کا پیشگی موثر حل یقینی بنائیں، جبکہ مون سون کے دوران تمام ادارے اپنی مکمل ادارہ جاری و تکنیکی استعداد کار کو عوام کی سہولت کے لیے بروئے کار لائیں۔ اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے نے رواں سال مون سون کی پیشگی تیاری، ممکنہ بارشوں، سیلابی صورتحال اور موسمیاتی تغیر کے رحجان پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں رواں سال گرمی کی شدید لہر اور غیر معمولی موسمیاتی تغیرات کے امکانات واضح ہیں؛ پاکستان میں بھی گرمی کی شدید لہر اور جولائی کے مہینے میں غیر معمولی بارشیں متوقع ہیں جن کے لیے مجوزہ حکمت عملی کے تحت تمام درکار انتظامات مقتدر سطح پر کیے جا رہے ہیں۔ اجلاس میں وزیراعظم نے موسمیاتی تغیر اور مون سون کی ممکنہ تباہی سے یقینی بچاؤ کے لیے تمام وفاقی اور صوبائی متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو مکمل ہم آہنگی کے ساتھ موثر تعاون اور جامع حکمت عملی کے تحت کام کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تغیرات جیسے قومی خطرات سے بطریق احسن نبرد آزما ہونے کے لیے باہمی تعاون اور ہنگامی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

’گلوبل لیڈرشپ ان کمیونیکیشن پروگرام‘ روایتی تربیت سے ہٹ کر ثقافتی ابلاغ اور سعودی عرب کے مثبت عالمی تشخص کو اجاگر کرنے پر مرکوز

محمود احمد, JULY 01,2026

ریاض/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

سعودی عرب کے سلام پراجیکٹ برائے ثقافتی رابطہ نے سعودی نوجوان مرد و خواتین کو علم، عملی مہارتوں اور قائدانہ صلاحیتوں سے آراستہ کرنے کا عمل تیز کر دیا ہے تاکہ وہ عالمی سطح پر مملکت سعودی عرب کی مؤثر نمائندگی کر سکیں اور بین الثقافتی مکالمے اور مہذب ابلاغ کے ذریعے سعودی عرب کے مثبت بین الاقوامی تشخص کو مزید مستحکم بنا سکیں۔ سلام پراجیکٹ برائے ثقافتی رابطہ کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر ابرار عبدالمنان بار نے الاخباریہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلوبل لیڈرشپ ان کمیونیکیشن پروگرام ایک منفرد قومی اقدام ہے، جو روایتی قائدانہ تربیت سے ہٹ کر ثقافتی ابلاغ، تہذیبی روابط اور عالمی سطح پر سعودی عرب کے مثبت تاثر کو اجاگر کرنے پر خصوصی توجہ دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام محض ایک تربیتی کورس نہیں بلکہ ایک جامع تعلیمی و عملی سفر ہے، جس میں شرکاء کو سب سے پہلے اپنے وطن سعودی عرب، اس کی ترقی، قومی کامیابیوں، تہذیبی و انسانی اقدار، ثقافتی شناخت اور عالمی کردار سے گہری آگاہی فراہم کی جاتی ہے، جس کے بعد انہیں وہ عملی مہارتیں سکھائی جاتی ہیں جو بین الاقوامی فورمز پر مملکت کی مؤثر، باوقار اور پیشہ ورانہ نمائندگی کے لیے ناگزیر ہیں۔

ڈاکٹر ابرار عبدالمنان بار کے مطابق، پروگرام کا بنیادی مقصد ایسے باصلاحیت نوجوان تیار کرنا ہے جو سعودی عرب کی حقیقی تصویر، اس کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار اور قومی تشخص کو اعتماد، فہم اور مہارت کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کر سکیں، جبکہ ان میں اپنی تہذیبی شناخت اور قومی ورثے سے وابستگی بھی مزید مضبوط ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں محض نظریاتی تعلیم پر اکتفا نہیں کیا جاتا بلکہ حقیقی زندگی کے عملی تجربات کو مرکزی حیثیت دی جاتی ہے۔ شرکاء کو تجربہ کار سفارت کاروں، مقامی و بین الاقوامی ماہرین اور ابلاغ عامہ کے متخصصین سے براہِ راست سیکھنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے، جس سے انہیں سفارت کاری، عالمی ابلاغ اور بین الثقافتی روابط کے عملی تقاضوں سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پروگرام میں خصوصی تعلیمی مواد، فکری و تربیتی نشستیں، مطالعاتی دورے اور عملی منصوبے بھی شامل ہیں، جن کے ذریعے شرکاء اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، خود اعتمادی اور مؤثر ابلاغ کی مہارتوں کو فروغ دیتے ہیں اور عالمی سطح پر سعودی عرب کے ذمہ دار نمائندے بننے کے لیے درکار تمام اوصاف حاصل کرتے ہیں۔ ڈاکٹر ابرار عبدالمنان بار نے کہا کہ پروگرام مکمل کرنے والے نوجوان نہ صرف جامع علمی و عملی تربیت حاصل کرتے ہیں بلکہ وہ ایسی قائدانہ اور ابلاغی صلاحیتوں سے بھی مزین ہوتے ہیں جو انہیں بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر سعودی عرب کی نمائندگی کرتے ہوئے مثبت، مؤثر اور دیرپا تاثر قائم کرنے کے قابل بناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سلام پراجیکٹ برائے ثقافتی رابطہ سعودی عرب کا ایک مقتدر قومی اقدام ہے، جس کا مقصد مختلف تہذیبوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دینا، اقوام کے درمیان باہمی احترام اور افہام و تفہیم کو مستحکم کرنا، اور سعودی نوجوانوں کو عالمی سطح پر تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے پراجیکٹ خصوصی تربیتی پروگراموں، عملی تجربات اور جدید ابلاغی مہارتوں کے ذریعے نوجوانوں کو مختلف ثقافتوں کے ساتھ مؤثر رابطہ استوار کرنے، بین الاقوامی فورمز میں فعال شرکت کرنے اور سعودی عرب کے مثبت عالمی تشخص کو مزید اجاگر کرنے کے قابل بناتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سلام پراجیکٹ سعودی وژن بیس تیس کے اہداف سے مکمل ہم آہنگ ہے، جس کے تحت مملکت کھلے پن، بقائے باہمی، ثقافتی تبادلوں اور تعمیری عالمی شراکت داری کو فروغ دیتے ہوئے باصلاحیت قومی افرادی قوت کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی مؤثر موجودگی کو مزید مستحکم کر رہی ہے۔

پاک بھارت قونصلر رسائی معاہدہ، دونوں ممالک کے مابین قیدیوں کی تازہ ترین فہرستوں کا تبادلہ

منصور احمد, JULY 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

پاکستان اور بھارت نے دوطرفہ قونصلر رسائی کے تاریخی معاہدے کے تحت روایتی سفارتی ذرائع سے ایک دوسرے کی تحویل میں موجود قیدیوں کی تازہ ترین فہرستوں کا باقاعدہ تبادلہ کیا ہے۔ بدھ کے روز دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، اکیس مئی دو ہزار آٹھ کو طے پانے والے دوطرفہ معاہدے کے تحت دونوں ممالک پابند ہیں کہ وہ ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو اپنی جیلوں میں بند قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کریں۔ اسی تزویراتی فریم ورک کے تحت، حکومتِ پاکستان نے اسلام آباد میں قائم بھارتی ہائی کمیشن کو اپنی تحویل میں موجود دو سو پچاس بھارتی قیدیوں کی سرکاری فہرست فراہم کی، جن میں باون سویلین قیدی اور ایک سو اٹھانوے ماہی گیر شامل ہیں۔ دوسری جانب، حکومتِ بھارت نے بھی نئی دہلی میں پاکستانی سفارت کاروں کو اپنی جیلوں میں موجود چار سو انتالیس پاکستانی یا بظاہر پاکستانی قیدیوں کی تازہ فہرست مقتدر ذرائع سے فراہم کی ہے، جن میں تین سو چھیاسی سویلین قیدی اور ترپن ماہی گیر شامل ہیں۔

دفتر خارجہ کے مقتدر ترجمان کے مطابق، پاکستان نے بھارتی حکومت پر کڑا زور دیا ہے کہ وہ اپنی جیلوں میں اپنی مقررہ سزا مکمل کرنے والے ستانوے پاکستانی قیدیوں، جن میں چونسٹھ سویلین قیدی اور تینتیس ماہی گیر شامل ہیں، کو فوری طور پر رہا کر کے باوقار طریقے سے وطن واپس بھیجے کیونکہ ان تمام قیدیوں کی پاکستانی شہریت کی حتمی تصدیق مکمل ہو چکی ہے۔ پاکستان نے اس موقع پر بھارت سے یہ اہم تزویراتی مطالبہ بھی کیا کہ رہائی اور اپنے وطن واپسی کے منتظر تمام معصوم پاکستانی اور بظاہر پاکستانی قیدیوں کی جیلوں کے اندر مکمل حفاظت، سلامتی اور سماجی فلاح و بہبود کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

آفیشل بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان نے بھارت سے ان تمام بظاہر پاکستانی قیدیوں کو بھی جلد سے جلد قونصلر رسائی فراہم کرنے کا مقتدر مطالبہ کیا ہے جن کے مقدمات ابھی زیرِ التوا ہیں، تاکہ ان کی اصل شہریت کی بروقت اور قانونی تصدیق کا عمل جلد مکمل کیا جا سکے۔ دفتر خارجہ کے مطابق، حکومتِ پاکستان بھارتی جیلوں میں اس وقت محبوس تمام معصوم پاکستانی قیدیوں کے قانونی حقوق کے تحفظ اور ان کی جلد از جلد وطن واپسی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکنہ تزویراتی و سفارتی کوششیں مسلسل جاری رکھے گی تاکہ وہ جلد اپنے خاندانوں سے مل سکیں۔

پاکستان میں موسمیاتی اور انسانی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے حکومت اور اقوامِ متحدہ کا باہمی اشتراک بڑھانے پر اتفاق

روزینہ اسماعیل, JULY 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک سے اسلام آباد میں اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امداد کے نو منتخب اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل برائے انسانی امور اور ڈپٹی ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ نے ایک اعلیٰ سطحی اور مقتدر ملاقات کی ہے۔ اس اہم بیٹھک کے موقع پر اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے اعلیٰ نمائندگان بھی موجود تھے۔ بدھ کے روز وزارتِ موسمیاتی تبدیلی سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق، ملاقات کے آغاز میں وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے محمد یحییٰ کو اقوامِ متحدہ میں اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل برائے انسانی امور اور ڈپٹی ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر کے باوقار عہدے پر تقرری پر دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے پاکستان میں اقوامِ متحدہ کے سابق ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر کی حیثیت سے محمد یحییٰ کی شاندار خدمات کو شاندار الفاظ میں سراہتے ہوئے پاکستان کے ساتھ ان کے مسلسل تزویراتی تعاون کی تعریف کی۔

ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی انسانی امداد سے متعلق خدمات اس عالمی ادارے کے سب سے اہم، قابلِ ستائش اور مؤثر ترین کرداروں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے دنیا بھر بالخصوص پاکستان میں قدرتی آفات، انسانی بحرانوں اور موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے سنگین تزویراتی چیلنجز سے نمٹنے میں اقوامِ متحدہ کی انتھک کاوشوں کا اعتراف کیا۔ اس مقتدر ملاقات کے دوران وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی اور اقوامِ متحدہ کے متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے مختلف تزویراتی امکانات پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا گیا، جس کے تحت موسمیاتی مزاحمت ، ناگہانی آفات سے نمٹنے کی پیشگی تیاری، پائیدار ترقی، اور انسانی امداد سے متعلق اہم شعبوں میں مشترکہ پراجیکٹس شروع کرنے پر غور کیا گیا۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے آئندہ برسوں میں مشترکہ تزویراتی تعاون کے لیے ترجیحی شعبوں کے حتمی تعین اور باہمی اشتراک پر مبنی دوررس منصوبہ بندی کے حوالے سے تفصیلی اتفاقِ رائے پیدا ہوا۔ دونوں مقتدر شخصیات نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے قریبی اشتراک سے ایسے تمام ماحولیاتی اقدامات کو عملی اور مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جائے گا، تاکہ پاکستان میں موسمیاتی موافقت اور انسانی ترقی کے اہداف کا بہتر، تیز رفتار اور پائیدار حصول ہر صورت ممکن بنایا جا سکے۔

آپریشن سندور میں ہلاک فوجیوں کی موت تیرہ مہینے چھپانے پر مودی حکومت کو شدید ہزیمت کا سامنا، بھارتی اپوزیشن اور میڈیا پھٹ پڑے

منصور احمد, JULY 01,2026

نئی دہلی/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

مودی حکومت نے اپنی سیاسی ہزیمت اور ناکامی کو چھپانے کے لیے “آپریشن سندور” میں ہلاک ہونے والے اپنے ہی فوجیوں کے ساتھ مقتدر غداری کر لی ہے، جس پر بھارت کے اندر سے ہی شدید ترین ردِعمل سامنے آیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں شروع کیا جانے والا “آپریشن سندور” دراصل مودی حکومت کی دم توڑتی اور گرتی ہوئی سیاست کو سہارا دینے کا ایک انتہائی ناکام تزویراتی حربہ تھا۔ معروف بھارتی جریدے “دی ہندو” کی ایک مقتدر رپورٹ کے مطابق، بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے آپریشن سندور کے سچ اور اس میں ہونے والے جانی نقصان کو پورے تیرہ مہینے تک دنیا اور عوام سے چھپا کر رکھا، جو کہ ان کے اپنے ہی فوجی جوانوں کی قربانی کا سرعام مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔

اس لرزہ خیز انکشاف پر بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کی سرکردہ رہنما سپریا شرینیت نے مودی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ جوانوں کی ہلاکت پر دانستہ جھوٹ بول کر ان کی قربانیوں کا سرعام مذاق اڑانے والے بزدل ثابت ہوئے ہیں۔ “دی ہندو” کی رپورٹ کے مطابق، ریٹائرڈ ونگ کمانڈر انوما آچاریہ نے بھی مودی حکومت کو سخت آڑے ہاتھوں لیا اور اسے اپنے سیاسی و انتخابی مفاد کے لیے معصوم فوجیوں کو دھوکہ دینے والی تاریخ کی بدترین اور نااہل حکومت قرار دیا۔ اسی طرح، سابق بھارتی فوجی افسر کرنل روہت چوہدری نے مودی حکومت کا کچا چٹھا کھولتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ مودی کی ہندوتوا پارٹی صرف الیکشن جیتنے کے لیے فوج کے مقدس نام پر سیاست چمکانے اور ووٹ بٹورنے کا مکروہ دھندا کرتی ہے؛ اس مقتدر جھوٹ اور فریب پر قائم مودی حکومت کو اب ایک لمحہ بھی اقتدار میں رہنے کا حق نہیں، لہٰذا اپوزیشن نے ان سے فوری استعفیٰ اور معافی کا مطالبہ کر دیا ہے۔

معروف اور مقتدر بھارتی صحافی سوجیت نائر نے اس تزویراتی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ مودی حکومت کے لیے نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے فوجی جوانوں کی جانیں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں، بلکہ وہ ان کے لیے صرف اقتدار کی کرسی حاصل کرنے اور اسے برقرار رکھنے کا ایک سستا ذریعہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آپریشن سندور میں بھارتی فوجی جوانوں کی المناک موت کو تیرہ ماہ تک چھپا کر رکھنا کسی طور پر بھی بی جے پی کی فتح نہیں، بلکہ یہ نریندر مودی کی بدترین شکست اور سیاسی ناکامی کا سب سے بڑا اعتراف ہے۔ اس اسکینڈل نے بین الاقوامی سطح پر بھی بھارت کے دفاعی اور سیاسی انتظام کے کھوکھلے پن کو بری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔

آٹھ بار کی ومبلڈن چیمپئن سیرینا ولیمز چار برس بعد ایونٹ میں واپسی پر پہلے ہی راؤنڈ میں شکست کھا گئیں، آسٹریلیا کی مایا جوائنٹ نے ہرا دیا

محمود احمد, JULY 01,2026

واشنگٹن: (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

آٹھ بار کی ومبلڈن ٹینس چیمپئن، امریکہ کی مایاناز کھلاڑی سیرینا ولیمز چار برس بعد اس باوقار ایونٹ میں اپنی واپسی کو خوشگوار بنانے میں ناکام رہیں اور انہیں پہلے ہی راؤنڈ میں اپ سیٹ شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لندن کے آل انگلینڈ کلب میں جاری سال کے تیسرے گرینڈ سلم ٹورنامنٹ کے ویمن ایونٹ میں دنیائے ٹینس کی مقتدر کھلاڑی سیرینا ولیمز کی کورٹ پر واپسی پورے چار سال بعد ہوئی تھی، مگر وہ پہلے راؤنڈ کا تزویراتی مرحلہ بھی عبور نہ کرسکیں۔ چوالیس سالہ سیرینا ولیمز نے آسٹریلیا کی مایا جوائنٹ کا پورے تین سیٹ تک بھرپور مقابلہ کیا۔ وہ پہلا سیٹ تین چھ کے اسکور سے ہار گئیں، تاہم انہوں نے شاندار کم بیک کرتے ہوئے دوسرا سیٹ ٹائی بریکر پر سات چھ سے اپنے نام کیا، لیکن تیسرے اور فیصلہ کن سیٹ میں وہ صرف تین گیمز جیت سکیں اور دو ایک کے مجموعی اسکور سے میچ ہار کر ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئیں۔

ٹورنامنٹ کے دیگر مقتدر مقابلوں میں ویمن ایونٹ کی نمبر آٹھ سیڈ یوکرین کی ایلینا سیوٹولینا بھی اپ سیٹ شکست کا شکار ہو کر ایونٹ سے باہر ہو گئیں، انہیں سنی گور نے دو سیدھے سیٹس میں سات پانچ اور چھ دو سے مات دی۔ دوسری جانب، نمبر دو سیڈ ایلینا ریبا کینا نے انتہائی دباؤ میں اپنا میچ جیت لیا، انہوں نے بوائسن کو چھ چار، ایک چھ اور چھ تین سے سخت مقابلے کے بعد شکست دی۔ اسی طرح نمبر تین سیڈ پولینڈ کی ایگا شیواٹک نے بھی اپنا میچ جیت کر اگلے راؤنڈ کے لیے کوالیفائی کر لیا، انہوں نے ٹاؤن سینڈ کو تین سیٹ کے دلچسپ مقابلے کے بعد چھ ایک، دو چھ اور چھ تین سے مات دی۔

مینز سنگلز کے مقتدر مقابلوں میں جرمنی کے نمبر دو سیڈ الیگزینڈر زیوریو نے چار سیٹ کے انتہائی دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد بیلجئم کے الیگزینڈر بلاگسک کو زیر کر کے اگلے مرحلے میں جگہ بنا لی۔ دوسری جانب سوئٹزرلینڈ کے مایہ ناز کھلاڑی اسٹین واورینکا کو پہلے ہی راؤنڈ میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، انہیں اٹلی کے میٹیو بیریٹینی نے چار سیٹ کے طویل اور اعصاب شکن مقابلے کے بعد چھ سات، سات چھ، سات چھ اور سات چھ کے اسکور سے شکست دے کر ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا۔

فرانسیسی اسٹار کایلیان ایم باپے نے جرمن فٹ بالر کلوزے کا ریکارڈ توڑ دیا، ورلڈ کپ تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے دوسرے کھلاڑی بن گئے

محمود احمد, JULY 01,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

دنیائے فٹ بال کے مقتدر اور مایہ ناز اسٹار کھلاڑی، فرانس کے کایلیان ایم باپے نے سوئیڈن کے خلاف میچ میں دو شاندار گول اسکور کر کے میگا ایونٹ کی تاریخ میں ایک نیا تزویراتی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ ان دو گولز کی بدولت وہ فٹ بال ورلڈ کپ کی تاریخ میں مجموعی طور پر سب سے زیادہ گول کرنے والے دنیا کے دوسرے کھلاڑی بن گئے ہیں، جہاں ان کے کل گولز کی تعداد اب اٹھارہ ہو گئی ہے۔ ایم باپے کے ان دو شاندار گولز نے انہیں فٹ بال کی دنیا کے منفرد ریکارڈز کا مالک بنا دیا ہے اور انہوں نے جرمنی کے سابق مقتدر فٹ بالر میروسلاو کلوزے کے سولہ گول کرنے کا دیرینہ ریکارڈ کامیابی سے توڑ دیا ہے۔

اس مقتدر ریکارڈ کے ساتھ اب وہ ارجنٹائن کے کپتان اور لیجنڈری فٹ بالر لیونل میسی سے صرف ایک گول پیچھے رہ گئے ہیں، جن کے ورلڈ کپ میں مجموعی گولوں کی تعداد انیس ہے۔ اس کے علاوہ فرانسیسی فارورڈ جاری ورلڈ کپ ٹورنامنٹ میں اب تک مجموعی طور پر چھ گول اسکور کر چکے ہیں، جس کے بعد وہ اس میگا ایونٹ میں چھ گول کرنے والے میسی کے برابر آ گئے ہیں اور ٹورنامنٹ کے سب سے باوقار انعام یعنی “گولڈن بوٹ” حاصل کرنے کی دوڑ میں مضبوط ترین امیدوار بن کر سامنے آئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق، ایم باپے ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کے انتہائی دباؤ والے ناک آؤٹ مرحلے میں بھی دنیا کے سب سے زیادہ گول کرنے والے مقتدر کھلاڑی بن گئے ہیں؛ میگا ایونٹس کے ناک آؤٹ راؤنڈز میں اب ان کے انفرادی گول کرنے کی کل تعداد دس ہو گئی ہے، جو ان کی شاندار تکنیکی مہارت اور تزویراتی کھیل کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ فرانسیسی عوامی اور اسپورٹس حلقوں نے ایم باپے کی اس تاریخی کارکردگی پر انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

دوحہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات جاری ہیں، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا انکشاف

https://images.openai.com/static-rsc-4/mGVmkBkIQMxRXU6ToycDTEhgT7R4tviSAkVn7rbNZbLjTo-SRX_tb4UAnw7qOSpmWVhIdqz9oaJwtiV3Q83onRWfDwj0zIqUJ0jla7S3gD_hhFVGEUVkSishwd48KYG-uOqWQzKIgutD2s2waUdOo4z507Wz8YUFBDpqrh-qbXWlo9LxEXn8hopltPTVoZQw?purpose=fullsize

محمود احمد, JULY 01,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے ملک اور ایران کے درمیان سفارتی و تکنیکی مذاکرات جاری ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے “بی بی سی” کے مطابق، امریکی نائب صدر نے واضح کیا ہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری ان اہم مذاکرات سے متعلق ایران کی عوامی سطح پر تردید دراصل ایک دانستہ “فارسی طرزِ مذاکرات” کا حصہ ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکی حکومت اور ایرانی حکومت کے درمیان پسِ پردہ تکنیکی سطح کی بات چیت مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔ “دی مائیکل نولز شو” کو دیے گئے اپنے ایک مقتدر انٹرویو میں جے ڈی وینس نے تصدیق کی کہ یہ مقررہ مذاکرات ہونے تھے، جو پہلے سے جاری سفارتی رابطوں اور بنیادی تزویراتی فریم ورک کے تحت یکم جولائی کو شیڈول کے مطابق ہو رہے ہیں۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے انٹرویو کے دوران کہا کہ تہران کے عوامی بیانات انہیں انتہائی دلچسپ اور کسی حد تک پریشان کن لگتے ہیں، کیونکہ ایرانی حکام ایک طرف کھلے عام امن مذاکرات کی تردید کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب اندرونی طور پر تکنیکی سطح کی بات چیت کو تسلیم بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایرانی کہتے ہیں کہ کوئی امن مذاکرات نہیں ہو رہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے مقتدر پہلوؤں پر تکنیکی مذاکرات جاری ہیں؛ یہ ایک خاص فارسی طرزِ مذاکرات اور بیانیہ ہے جسے سمجھنا عام طور پر مشکل ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، وائٹ ہاؤس کے مقتدر نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پیر کے روز اس وقت دوحہ کے لیے روانہ ہوئے تھے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باقاعدہ اعلان کیا تھا کہ ایران نے قطری دارالحکومت میں اعلیٰ سطح کی ملاقات کی باضابطہ درخواست کی ہے۔ اگرچہ ایران نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی براہِ راست ملاقات کی منصوبہ بندی کی سختی سے تردید کی ہے، تاہم ایرانی حکام نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے سفارتی مشاورت کا عمل مسلسل جاری ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کو کم کرنے کے لیے ایک اہم تزویراتی کوشش ہے۔

مسلح افواج کو عالمی معیار کے مطابق تیار کرنے کا عمل تیز کیا جائے گا، چینی صدر شی جن پنگ

کاشف عباسی , JULY 01,026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

چینی صدر شی جن پنگ نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ چین اپنی مسلح افواج کی عالمی معیار کے مطابق ترقی کو مزید تیز کرے گا اور مقررہ مدت کے اندر اپنے قومی دفاع اور فوج کی جدید کاری کا عمل ہر صورت مکمل کرے گا۔ روس کی مقتدر خبر رساں ایجنسی “تاس” کے مطابق، انہوں نے چینی کمیونسٹ پارٹی (سی پی سی) کے 105ویں یومِ تاسیس کی مناسبت سے منعقدہ ایک پروقار اور اعلیٰ سطحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں عالمی معیار کی چینی مسلح افواج کی ترقی کو تیز کرنا ہوگا، جبکہ فوج کے قیام کو 100 سال مکمل ہونے کے سلسلے میں طے شدہ تمام تزویراتی اہداف کو وقت پر حاصل کرنا ہوگا۔ چینی صدر نے زور دیا کہ ملک کی خودمختاری، قومی سلامتی اور اس کے ترقیاتی مفادات کا بھرپور دفاع کرنا چین کی اولین ترجیح ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے مقتدر خطاب میں اس بات پر گہرا زور دیا کہ ایک مضبوط ملک کی بقا اور خوشحالی کے لیے ایک مضبوط اور جدید فوج کا ہونا ناگزیر ہے، اور طاقتور مسلح افواج کے بغیر کسی بھی صورت قومی سلامتی کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین اپنی فوجی ترقی کے منفرد اور خودمختار راستے پر پوری ثابت قدمی سے گامزن رہے گا؛ اس مقصد کے لیے فوج کے سیاسی، تکنیکی، افرادی اور قانونی پہلوؤں کو مزید مربوط اور مضبوط بنایا جائے گا تاکہ چینی افواج نہ صرف اپنے ملک کا تزویراتی دفاع کر سکیں بلکہ عالمی امن، استحکام اور عالمی ترقی کے فروغ میں بھی دنیا بھر میں پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر اور کلیدی کردار ادا کر سکیں۔

ہیکرز نے اینڈرائیڈ و آئی او ایس ایپس سمیت آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کا کنٹرول سنبھال کر قرآنی آیت اور ویڈیو چلا دی؛ بھارت کے سائبر سیکیورٹی دعوؤں کا پول کھل گیا

محمود احمد, JULY 01,2026

نئی دہلی/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

نامعلوم ہیکرز کی جانب سے بھارتی ٹی وی چینلز پر تابڑ توڑ سائبر حملوں کا تزویراتی سلسلہ انتہائی شدت کے ساتھ جاری ہے، جس کے تحت ایک اور مقتدر بھارتی نیوز چینل کو کامیابی سے ہیک کر لیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، ہیکرز نے بھارت کے بڑے اور معروف نیوز چینل “اے بی پی نیوز” کو ہیک کر کے اس کی لائیو نشریات کو مکمل طور پر معطل کر دیا ہے۔ سائبر حملے کی زد میں صرف ٹی وی نشریات ہی نہیں آئیں بلکہ ہیکرز نے اے بی پی نیوز کے آفیشل اینڈرائیڈ اور آئی او ایس موبائل ایپلی کیشنز کو بھی مکمل طور پر ہیک کر کے اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔ ہیکنگ کے دوران ہیکرز نے اے بی پی کے آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارمز اور لائیو فیڈ پر قرآنی آیت اور خصوصی ویڈیو بھی دکھائی۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اے بی پی نیوز بھارت کا ایک انتہائی مقتدر اور بڑا میڈیا نیٹ ورک ہے، جس کے صرف یوٹیوب پر پندرہ ملین (ڈیڑھ کروڑ) سے زائد سبسکرائبرز ہیں جبکہ اس کی ماہانہ ویورشپ کا اندازہ تقریباً ایک سو چوبیس ملین (بارہ کروڑ چالیس لاکھ) سے زائد ہے۔ انیس سو اٹھانوے میں قائم ہونے والا یہ نیوز چینل ماضی میں “اسٹار نیوز” کے نام سے جانا جاتا تھا۔ سائبر سیکیورٹی کے مقتدر ماہرین کے مطابق، بھارت جو دنیا بھر میں آئی ٹی گرو ہونے کے بلند و بانگ دعوے کرتا ہے، اس کے بڑے میڈیا چینلز پر یکے بعد دیگرے ہونے والے ان کامیاب حملوں نے اس کے ڈیجیٹل دفاع اور سائبر سیکیورٹی کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیکنگ کے ان پے در پے لرزہ خیز واقعات نے بھارت کی سائبر سیکیورٹی، ڈیجیٹل تحفظ اور ڈیٹا انفراسٹرکچر کے دعوؤں پر سنگین تزویراتی سوالیہ نشانات لگا دیے ہیں۔ یہ تباہ کن سائبر حملے واضح طور پر ثابت کرتے ہیں کہ بھارت کی مجموعی سیکیورٹی، خصوصاً آئی ٹی کے شعبے کا انتظام انتہائی ناقص اور کمزور ہے، جو جدید دور کے سائبر خطرات کا مقابلہ کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔

خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کے خلاف سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ، اکہتر سال بعد دو بہنوں کو شرعی اور قانونی حصہ دینے کا حکم

منصور احمد, JULY 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے خواتین کو وراثتی جائیداد سے محروم کرنے کے خلاف ایک مقتدر اور تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے اکہتر سال بعد دو بہنوں کو قانون اور شریعت کے مطابق وراثت میں ان کا جائز حصہ دینے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے واضح طور پر قرار دیا ہے کہ زبانی ہبہ (تحفہ) ثابت کرنے کا تمام تر قانونی بوجھ ہمیشہ اس فریق پر ہوگا جو اس سے براہِ راست فائدہ اٹھا رہا ہو۔ جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے نور محمد کی اپیل منظور کرتے ہوئے چودہ صفحات پر مشتمل مقتدر تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے سول کورٹ، اپیلیٹ کورٹ اور ہائی کورٹ کے وہ تمام سابقہ فیصلے یکسر کالعدم قرار دے دیے جن میں زبانی ہبے کو درست تسلیم کر کے بہنوں اور والدہ کو وراثت سے محروم رکھا گیا تھا، جبکہ ریونیو حکام کو جائیداد کا تمام ریکارڈ قانون کے مطابق فوری درست کرنے کا حکم بھی جاری کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے مقتدر فیصلے میں تحریر کیا ہے کہ وراثت خاندان کے مرد افراد کی کوئی مہربانی، صوابدید یا تحفہ نہیں بلکہ یہ خواتین کا شرعی اور قانونی حق ہے، جو مورث کے انتقال کے ساتھ ہی خودبخود تمام جائز وارثوں کو منتقل ہو جاتا ہے۔ نجی معاہدوں، خاندانی دباؤ یا فرسودہ رسم و رواج کے ذریعے خواتین کو اس بنیادی حق سے کسی صورت محروم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالتِ عظمیٰ نے اپنے تزویراتی فیصلے میں قرار دیا کہ خواتین کو وراثت سے دور رکھنے کے لیے جعلی ہبہ، جائیداد کا جعلی انتقال یا کسی بھی قسم کی جعلسازی اور فراڈ عدالتوں میں ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا، جبکہ ماتحت عدالتوں کو ایسی ہر مشکوک ٹرانزیکشن کا انتہائی باریک بینی اور احتیاط سے جائزہ لینا چاہیے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ خواتین کے وراثتی حقوق علامتی یا اختیاری نہیں بلکہ لازمی حقوق ہیں اور انہیں صرف کاغذی حد تک نہیں بلکہ عملی طور پر بھی ان کا پورا حصہ ملنا چاہیے۔

مقتدر فیصلے کے مطابق ریکارڈ سے یہ ثابت ہوا کہ انیس سو پچپن میں والد کے انتقال کے بعد دونوں بھائیوں نے مبینہ زبانی ہبے کا موقف اختیار کرتے ہوئے پوری وراثتی جائیداد اپنے نام منتقل کرا لی تھی، جبکہ اپنی سگی والدہ اور بہنوں کو وراثت سے مکمل طور پر محروم کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگرچہ ماتحت عدالتوں نے اس زبانی ہبے کو درست تسلیم کیا، تاہم وہ بارِ ثبوت کے بنیادی قانونی اصول کو نظر انداز کر گئیں؛ کیونکہ زبانی ہبہ ثابت کرنے کی ذمہ داری ہمیشہ فائدہ حاصل کرنے والے فریق پر عائد ہوتی ہے، جبکہ ٹرائل کورٹ نے اس قانونی اصول کے بالکل برعکس خود ہبے کو ہی ثبوت تصور کر لیا، جو قانون کے منافی تھا۔ عدالتِ عظمیٰ نے کیس میں تاخیر سے دعویٰ دائر کرنے کا اعتراض بھی مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ محض اس ٹیکنیکل بنیاد پر خواتین کو ان کے ابدی قانونی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے اپیل منظور کرتے ہوئے تمام ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دے کر متعلقہ ریونیو حکام کو وراثتی ریکارڈ قانون کے مطابق درست کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

عالمی بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے پنجاب میں ڈیجیٹل ترقی کے لیے 7 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری دے دی

محمود احمد, JULY 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

عالمی بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے پنجاب میں ڈیجیٹل ترقی کو نئی رفتار دینے اور مقتدر انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے 7 کروڑ ڈالر کی خطیر مالی معاونت کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ یہ تزویراتی معاونت “کنیکٹڈ پنجاب پروگرام” کے تحت فراہم کی جائے گی، جس کا بنیادی مقصد صوبے بھر میں براڈبینڈ انٹرنیٹ کی رسائی کو بڑھانا، سرکاری خدمات کو جدید ترین ڈیجیٹل نظام سے ہم آہنگ کرنا اور روایتی نقد رقم کے بجائے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔ ورلڈ بینک کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، یہ پروگرام پاکستان کے قومی ڈیجیٹل وژن سے مکمل ہم آہنگ ہے اور وفاقی حکومت کے ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پراجیکٹ کے تحت تیار کیے جانے والے قومی ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کی تکمیل میں معاون ثابت ہوگا، جس کا مقصد وفاقی سطح پر کی جانے والی ڈیجیٹل سرمایہ کاری، پالیسیاں اور ٹیکنالوجی پنجاب کے شہریوں، کاروباری اداروں اور سرکاری محکموں تک مؤثر انداز میں پہنچانا ہے۔

عالمی بینک کے مطابق، اس منصوبے کے لیے فراہم کی جانے والی 7 کروڑ ڈالر کی آئی ڈی اے فنانسنگ پنجاب حکومت کے 20 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے مساوی شراکتی فنڈز کے ساتھ مل کر 27 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے مجموعی سرمایہ کاری پروگرام کا حصہ ہوگی۔ پاکستان میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازر نے اس حوالے سے بتایا کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل رابطہ محض ایک سہولت نہیں بلکہ پائیدار ترقی، روزگار اور مساوی مواقع کی مضبوط بنیاد بن چکا ہے؛ وفاقی حکومت نے پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے ایک جامع وژن پیش کیا ہے اور کنیکٹڈ پنجاب پروگرام اس وژن کو صوبے کے کروڑوں شہریوں کی دہلیز تک پہنچانے کا مقتدر ذریعہ بنے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ براڈبینڈ انفراسٹرکچر کی توسیع اور پنجاب کے ڈیجیٹل نظام کو مضبوط بنانے سے خصوصاً خواتین اور نوجوانوں کے لیے روزگار، کاروبار اور معیاری سرکاری خدمات تک رسائی کے نئے تزویراتی امکانات پیدا ہوں گے۔

عالمی بینک کے مطابق، پنجاب میں براڈبینڈ نیٹ ورک کی توسیع میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں ریگولیٹری پیچیدگیاں اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کے اخراجات شامل ہیں، اسی مقصد کے تحت یہ پروگرام رائٹ آف وے کے اجازت ناموں کے حصول کا عمل نمایاں طور پر آسان بنائے گا، جس کے تحت اجازت نامے جاری کرنے کا اوسط دورانیہ موجودہ 90 دن سے کم کر کے صرف 21 دن تک لایا جائے گا تاکہ نجی شعبے کی جانب سے فائبر آپٹک اور دیگر براڈبینڈ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔ پروگرام کے تزویراتی اہداف کے مطابق، جون 2031ء تک پنجاب میں فکسڈ براڈبینڈ کی رسائی 78 لاکھ افراد سے بڑھ کر 99 لاکھ افراد تک پہنچ جائے گی، جس کے نتیجے میں تقریباً 21 لاکھ نئے شہری پہلی مرتبہ تیز رفتار انٹرنیٹ سے مستفید ہو سکیں گے، جبکہ اسی عرصے میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں نجی شعبے کی جانب سے کم از کم 5 کروڑ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

منصوبے کا ایک اور اہم حصہ پنجاب کے سرکاری اداروں کی ڈیجیٹل صلاحیتوں میں اضافہ کرنا بھی ہے، جس کے لیے حکومت کے کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کو جدید بنایا جائے گا تاکہ مختلف سرکاری محکمے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی خدمات تیار کر سکیں اور انہیں بڑے پیمانے پر عوام تک پہنچا سکیں۔ عالمی بینک کے مطابق، اس اقدام سے جون 2031ء تک تقریباً 2 کروڑ 89 لاکھ افراد جدید ڈیجیٹل سرکاری خدمات سے فائدہ اٹھا سکیں گے، جبکہ پروگرام میں خواتین کی ڈیجیٹل شمولیت کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، صوبے میں نقد لین دین پر انحصار کم کرنے کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل انوائس مینجمنٹ سسٹم قائم کیا جائے گا، جو ادائیگیوں، انوائسز اور حکومتی رپورٹنگ کو ایک مربوط ادائیگی کے نظام کے تحت ایک دوسرے سے منسلک کر دے گا۔

شمالی علاقہ جات میں سیاحوں کا غیر معمولی رش، پی ٹی ڈی سی نے سیاحوں کے لیے اہم ٹریول ایڈوائزری جاری کر دی

منصور احمد, JULY 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن نے ذمہ دارانہ سیاحت آگاہی مہم کے تحت ملک کے مختلف حصوں بالخصوص شمالی علاقہ جات کی سیر کو جانے والے سیاحوں کے لیے ایک اہم اور مقتدر ٹریول ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ ٹریول ایڈوائزری کے مطابق، اس وقت ملک کے شمالی پہاڑی علاقوں میں سیاحوں کا غیر معمولی اور ریکارڈ رش دیکھا جا رہا ہے، جس کے پیشِ نظر تمام سیاحوں اور خاندانوں سے پرزور اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے سفر پر روانگی سے قبل متعلقہ مقامات پر ہوٹل یا رہائش کی پیشگی بکنگ لازمی طور پر یقینی بنائیں تاکہ وہاں پہنچ کر انہیں کسی بھی قسم کی دشواری، پریشانی یا تزویراتی مسئلے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

پی ٹی ڈی سی نے سیاحوں پر گہرا زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہمیشہ ایک منظم منصوبہ بندی اور مقتدر حکمتِ عملی کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز کریں تاکہ ان کا یہ سفر مکمل محفوظ اور خوشگوار رہ سکے۔ ٹریول ایڈوائزری میں سیاحوں کو سخت ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پہاڑی راستوں پر سفر کے دوران ٹریفک قوانین کا خاص خیال رکھیں، محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ موسم کی تازہ ترین صورتحال پر نظر رکھیں، اپنے ساتھ ضروری ادویات اور فرسٹ ایڈ کٹ لازمی رکھیں اور خوبصورت سیاحتی مقامات پر صفائی کا خاص خیال رکھتے ہوئے قدرتی ماحول کو آلودگی سے محفوظ بنانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔ پی ٹی ڈی سی نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی تزویراتی مسئلے یا ناگہانی ہنگامی صورتحال کی صورت میں سیاح فوری طور پر ٹورسٹ ہیلپ لائن چودہ بائیس پر رابطہ کر سکتے ہیں؛ ذمہ داری سے سفر کرنا اور ملک کے خوبصورت ماحول کا تحفظ کرنا ہر سیاح کی اجتماعی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

بیرون ملک مقیم پاکستانی قوم کا قیمتی اثاثہ ہیں، بہبود کے منصوبوں میں مزید تیزی لائی جائے، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی سخت ہدایت

کاشف عباسی , JULY 01,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بہبود اور ان کے مسائل کے فوری حل کے لیے جاری تمام تزویراتی منصوبوں اور اقدامات میں مزید تیزی لانے کی سخت ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی قوم کا انتہائی قیمتی اثاثہ ہیں جو دنیا بھر میں اپنی شبانہ روز محنت کی کمائی پاکستان بھیج کر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور معیشت کی مضبوطی میں اپنا مقتدر حصہ ڈالتے ہیں۔ بدھ کے روز وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے چیئرمین بورڈ آف گورنرز سید قمر رضا اور منیجنگ ڈائریکٹر او پی ایف افضال بھٹی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، جنہوں نے وزیراعظم ہاؤس میں ان سے ایک اعلیٰ سطحی تزویراتی ملاقات کی۔ اس مقتدر ملاقات کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو درپیش مختلف مسائل کے مستقل حل اور ان کی سہولت کے لیے فاؤنڈیشن کی جانب سے اٹھائے گئے حالیہ اقدامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

اس موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سماجی و معاشی بہبود اور ان کو ہر ممکنہ ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے او پی ایف کے مستقبل کے لائحہ عمل پر ایک تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ وزیراعظم نے اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے اب تک کے مقتدر اقدامات اور کارکردگی پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا اور اعلیٰ حکام کو ہدایت کی کہ تارکینِ وطن کے حقوق کے تحفظ اور سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنانے کے لیے ایک جامع اور فول پروف لائحہ عمل مرتب کر کے جلد از جلد پیش کیا جائے تاکہ اس پر فوری عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ ملاقات کے دوران چیئرمین بورڈ آف گورنرز سید قمر رضا اور ایم ڈی او پی ایف افضال بھٹی نے عالمی امن، علاقائی استحکام اور اوورسیز پاکستانیوں کے حقوق کے مقتدر تحفظ کے لیے وفاقی حکومت اور وزیراعظم شہباز شریف کی انتھک تزویراتی کاوشوں کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔

داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ نے ایک اور اہم تعمیراتی ہدف حاصل کر لیا، مین ڈیم پر فل سکیل آر سی سی ٹرائل کا باقاعدہ آغاز

منصور احمد, JULY 01,2026

داسو/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ نے تعمیراتی میدان میں ایک اور مقتدر اور اہم ترین سنگِ میل عبور کر لیا ہے، جس کے تحت پراجیکٹ پر فل سکیل رولر کمپیکٹڈ کنکریٹ (آر سی سی) ٹرائل کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ فل سکیل ٹرائل پراجیکٹ کے مین ڈیم پر آر سی سی ورکس کا باقاعدہ کام شروع کرنے سے پہلے ایک لازمی اور تزویراتی مرحلہ ہے۔ اس وقت انجینئرز اور تکنیکی ماہرین پر مشتمل مقتدر ٹیمیں مین ڈیم سائٹ کے بالکل قریب واقع مخصوص ٹرائل سیکشن میں آر سی سی بچھانے کے اس فل سکیل ٹرائل میں مصروف ہیں۔ اس اہم ترین مشق کا بنیادی مقصد تعمیراتی طریقہ کار کی گہرائی سے جانچ اور توثیق کرنا، ڈیم کی تعمیر کے یکساں اور اعلیٰ ترین معیار کو یقینی بنانا، لاجسٹک اور آپریشنل سسٹم کا تفصیلی جائزہ لینا، ممکنہ تکنیکی چیلنجز کی پیشگی نشاندہی کرنا اور پراجیکٹ پر موجود افرادی قوت کو جدید عملی تربیت فراہم کرنا ہے۔

مقتدر انجینئرز کے مطابق، ٹیسٹنگ سمیت یہ فل سکیل ٹرائلز مسلسل چار ماہ تک جاری رہیں گے، جس کے دوران کنٹریکٹر، کنسلٹنٹس اور واپڈا کی ماہر ٹیمیں ٹرائل کے تمام باریک تکنیکی پہلوؤں کا تفصیلی سائنسی تجزیہ کریں گی۔ اس ٹرائل کی کامیاب تکمیل کے بعد مین ڈیم پر آر سی سی ورکس کا باقاعدہ آغاز رواں سال کے آخر میں شیڈول ہے، تاہم مین ڈیم پر آر سی سی ورکس کا حتمی آغاز گنی ایریا سے درکار اہم تعمیراتی میٹریل پوزولان کی بروقت دستیابی پر منحصر ہے، کیونکہ گزشتہ دس سال پر محیط طویل کوششوں کے باوجود گنی ایریا کی قانونی تحویل اب تک واپڈا کو حاصل نہیں ہو پائی ہے۔ اس فل سکیل آر سی سی ٹرائل کے ساتھ ساتھ داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے تئیس مختلف ورک فرنٹس پر بھی تعمیراتی سرگرمیاں تیز رفتاری سے جاری ہیں، جن مقتدر ورک فرنٹس میں مین ڈیم کی بنیاد، زیرِ زمین پاور ہاؤس اور زیرِ زمین ٹرانسفارمر ہال کی تعمیر قابلِ ذکر ہے، جبکہ آر سی سی کی بڑے پیمانے پر تیاری کے لیے درکار کرشنگ اور بیچنگ پلانٹس کو بھی مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔

یہ امر انتہائی قابلِ ذکر ہے کہ بجلی کی سالانہ پیداوار کے لحاظ سے داسو پاکستان کا سب سے بڑا پن بجلی منصوبہ ہے، جو ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے نیشنل گرڈ کو ہر سال اکیس ارب یونٹ بجلی فراہم کرنے کی مقتدر صلاحیت رکھتا ہے۔ پراجیکٹ کی کل پیداواری صلاحیت چار ہزار تین سو بیس میگاواٹ ہے اور اسے دو تزویراتی مراحل میں تقسیم کر کے مکمل کیا جا رہا ہے، جہاں ہر مرحلے کی انفرادی پیداواری صلاحیت دو ہزار ایک سو ساٹھ میگاواٹ ہے۔ واپڈا اس وقت پراجیکٹ کے پہلے مرحلے پر انتہائی سرگرمی سے کام کر رہا ہے، جس کی کامیاب تکمیل کے بعد قومی گرڈ کو سالانہ بارہ ارب یونٹ صاف، ماحول دوست اور انتہائی کم لاگت پن بجلی فراہم کی جائے گی، جو ملک میں جاری توانائِی کے بحران پر قابو پانے کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگی۔