بین المسالک ہم آہنگی اور قومی سلامتی: حضرت امام حسینؓ کا اسوہ مسلمانوں کو امن، سلامتی اور رواداری کا پیغام دیتا ہے، حافظ طاہر اشرفی کا مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب

کاشف عباسی ,june 24,2026

لاہور ( نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا اسوہ حسنہ اور عظیم قربانی تمام مسلمانوں کو امن، سلامتی، اور مقتدر رواداری کا درس دیتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اور جید علماء کرام کی مشترکہ کمیٹی ملک بھر میں امن و امان کے قیام کے لیے دن رات کوشاں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز یہاں قومی و صوبائی پیغامِ امن کمیٹی کے ممبران اور تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے مقتدر علماء و مشائخ کے ہمراہ ایک اہم مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

حافظ طاہر اشرفی نے انکشاف کیا کہ آج کے مقتدر اجلاس میں ملکی تاریخ میں پہلی بار غیر مسلم کمیونٹی کے نمائندوں کو بھی اس اہم ترین کمیٹی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی صوبے کی تمام ذیلی کمیٹیوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور محرم الحرام کے مقدس مہینے میں ہم سب کو ایک دوسرے کا مقتدر معاون بننا ہوگا۔ انہوں نے تمام مکاتبِ فکر کے علماء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اب تک تمام مشائخ نے کمیٹی کے مرتب کردہ ضابطہ اخلاق کی بھرپور پاسداری کی ہے۔ انہوں نے یاد دہانی کروائی کہ اس بار 10 محرم الحرام کو جمعہ کا مقتدر دن ہے، جس میں ایک طرف مجالس اور دوسری طرف جمعہ کے بڑے اجتماعات ہوں گے، لہٰذا تمام خطباء اس جمعے کو اپنے خطبات میں امام عالی مقام کا پیغامِ امن و رواداری نمایاں کریں۔

عالمی و علاقائی سیاسی منظرنامے پر گفتگو کرتے ہوئے طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی حالیہ مفاہمتی یادداشت سے بھارت اور اسرائیل شدید تکلیف اور اضطراب میں مبتلا ہیں، کیونکہ دشمن قوتیں ہرگز نہیں چاہتیں کہ یہ تاریخی صلح ہو، مگر امن کا یہ مقتدر مشن ہر صورت مکمل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگایا جاتا تھا، مگر آج پاکستان کو دنیا بھر میں امن کی سرزمین کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔

اس موقع پر ممبر اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ضیاء اللہ شاہ بخاری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت عالمی سطح پر عظمت اور عزت کی بلند ترین پوزیشن پر فائز ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کامیاب اور مقتدر ثالثی کی بدولت ہی ایران اور امریکہ کے درمیان صلح ممکن ہو سکی ہے، اور یہ تمام کامیابیاں پاک فوج کی لازوال قربانیوں کی مرہونِ منت ہیں۔ مفتی شاہد عبید نے اپنے مقتدر خطاب میں محرم الحرام کی حرمت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس وقت عالمی حالات کے تناظر میں یہود و ہنود کا گٹھ جوڑ مسلمانوں کو آپس میں لڑانے اور فساد پھیلانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے، اور ہمیں متحد ہو کر اس بیرونی سازش کو نہ صرف محرم بلکہ سال کے بارہ مہینے ناکام بنانا ہو گا۔

نوجوانوں کے لیے مقتدر تعلیمی و معاشی انقلاب: ترسیلاتِ زر کا حجم بڑھانے کے لیے ہنرمند ورک فورس تیار کر رہے ہیں، پنجاب حکومت 5 لاکھ بچوں کو جدید ترین عالمی ٹریننگ دے رہی ہے، وزیرِ اعلیٰ مریم نواز شریف

روزینہ اسماعیل.june 24,2026

لاہور (خصوصی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے واضح کیا ہے کہ خلیجی ممالک سمیت دنیا بھر میں پاکستانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد روزگار کے لیے جاتی ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ان میں زیادہ شرح غیر ہنرمند (ان اسکلڈ) افراد کی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ترسیلاتِ زر (ریمی ٹینسز) کا حجم بڑھانے کے لیے مقتدر بنیادوں پر ہنرمند ورک فورس تیار کی جا رہی ہے، کیونکہ ہنرمند افراد کے بغیر عالمی مارکیٹ میں پاکستان کو کوئی عزت اور مقام نہیں ملے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ’پرواز کارڈ‘ اسکیم کے تحت اپنی تربیت مکمل کر کے بیرونِ ملک جانے والے نوجوانوں کے ایک مقتدر اور بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وزیرِ اعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ ’پرواز کارڈ‘ اسکیم کے تحت پہلے مرحلے میں 135 ہنرمند نوجوانوں کا مقتدر گروپ 28 جون کو بیرونِ ملک روانہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ چھوٹی عمر میں گھر کی ذمہ داری اٹھانا اور محنت کرنا انتہائی خوش آئند ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بیرونِ ملک جانے والی پاکستانی فورس میں غیر ہنرمند افراد کی تعداد 50 فیصد سے زائد ہے، جو باہر جا کر اکثر فراڈ کا شکار ہو جاتے ہیں اور انہیں عزت والا کام نہیں ملتا، اس شرح کو بدلنا ہمارا اولین مقتدر مشن ہے۔ پنجاب حکومت نے اس سلسلے میں کنسٹرکشن، ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس، ہاسپیٹلٹی، ہیلتھ اور انرجی سیکٹرز پر خصوصی فوکس کیا ہے اور جنوبی پنجاب سمیت پورے صوبے میں اسٹیٹ آف دی آرٹ ٹریننگ لیبز قائم کر دی ہیں جہاں 5 لاکھ بچوں کو جدید عالمی تقاضوں کے مطابق ٹریننگ دی جا رہی ہے۔

مریم نواز شریف نے اہم مقتدر مہم کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ نوجوانوں کے پاس ہنر ہوتا ہے لیکن وہ مہنگے پراسیس اور اخراجات کے باعث باہر نہیں جا پاتے۔ اب بیرونِ ملک جانے کا پورا مہنگا پراسیس اور اخراجات حکومتِ پنجاب نے اپنے ذمے لے لیے ہیں، جبکہ ’پرواز کارڈ‘ کے ذریعے نوجوانوں کو 3 لاکھ روپے تک کا بلا سود قرضہ بھی دیا جا رہا ہے، جس کی واپسی آسان قسطوں میں تین ماہ بعد شروع ہوگی۔ انہوں نے اسکیم پر بہترین کام کرنے پر عدنان چٹھہ اور سیکرٹری نادر چٹھہ کو مقتدر شاباش بھی دی۔

وزیرِ اعلیٰ نے پاکستان کی حالیہ خارجہ پالیسی کی مقتدر کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ”آپریشن بنیان مرصوص“ میں بہت بڑی فتح نصیب ہوئی ہے، جہاں ملک نے اپنی دانشمندانہ حکمتِ عملی سے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ رکوانے میں تاریخی کردار ادا کر کے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو تاکید کی کہ وہ بیرونِ ملک جا کر پاکستان کے مقتدر سفیر بنیں اور ملک کے وقار کو ہمیشہ مقدم رکھیں۔ خواتین کے تحفظ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اعادہ کیا کہ جس دن بھی ہراسمنٹ کا کوئی واقعہ ہو، جب تک ملزم پکڑا نہ جائے وہ آرام سے نہیں بیٹھتیں۔ انہوں نے دعا کی کہ یہ نوجوان بین الاقوامی سطح پر ملک و قوم کا نام روشن کریں۔

ملک بھر میں موسم کی صورتحال: آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان، بعض مقامات پر آندھی اور بارش کی پیشگوئی

روزینہ اسماعیل.june 24,2026

اسلام آباد (موسمیات رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں مجموعی طور پر موسم گرم اور خشک رہنے کی توقع ہے، تاہم بالائی خیبرپختونخوا، جنوبی و شمال مشرقی پنجاب، شمال مشرقی بلوچستان، کشمیر اور ان سے ملحقہ پہاڑی علاقوں میں تیز ہواؤں، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ چند مقامات پر بارش کا امکان ہے۔ مقتدر موسمیاتی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بھی ملک کے بیشتر حصوں میں موسم گرم اور خشک رہا، البتہ شمال مشرقی اور جنوبی پنجاب میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ چند مقامات پر ہلکی اور تیز بارش ریکارڈ کی گئی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ روز سب سے زیادہ بارش پنجاب کے دارالحکومت لاہور (ایئرپورٹ) پر 10 ملی میٹر، رحیم یار خان میں 9 ملی میٹر اور خانپور میں 1 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ بدھ کے روز ریکارڈ کیے گئے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کی مقتدر رپورٹ کے مطابق ملک کا گرم ترین علاقہ سبی رہا جہاں درجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ دادو اور دالبندین میں 45، اور بھکر، نوکنڈی اور اوکاڑہ میں 44 ڈگری سینٹی گریڈ برقرار رہا۔

محکمہ موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت بحیرہ عرب سے کمزور مرطوب ہوائیں ملک کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں داخل ہو رہی ہیں، جبکہ مغربی ہواؤں کا ایک کمزور سلسلہ اگلے چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک کے وسطی علاقوں کو اپنے لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، موسمی کم دباؤ کا ایک مقتدر نظام مغربی بلوچستان پر موجود ہے جس کے باعث موسم میں یہ تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔

آبی قلت سے نمٹنے کے لیے مقتدر پیش رفت: انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کا زیرِ زمین پانی کی بحالی اور بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے منصوبے کا میڈیا وزٹ، کچنار پارک میں جدید ٹیکنالوجی کا مظاہرہ

روزینہ اسماعیل.june 24,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ نے وفاقی دارالحکومت کے کچنار پارک میں زیرِ زمین پانی کی بحالی اور بارش کے پانی کو مصنوعی طریقوں سے ذخیرہ کرنے کے اپنے مقتدر منصوبے کے حوالے سے ایک خصوصی میڈیا ایکسپوژر وزٹ کا اہتمام کیا ہے۔ اس منصوبے کو ملک میں شہری سیلابی صورتحال سے نمٹنے اور تیزی سے کم ہوتے ہوئے زیرِ زمین آبی وسائل کی قدرتی بحالی کے لیے ایک منفرد اور مقتدر ترین ماحولیاتی حل قرار دیا جا رہا ہے۔

اس مقتدر موقع پر ملک کے مقتدر پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کے نمائندوں نے منصوبے کے مقام کا تفصیلی دورہ کیا اور شہری آبی نظم و نسق کو جدید خطوط پر استوار کرنے سمیت موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے مقابلے میں لچک پیدا کرنے کے لیے متعارف کرائے گئے جدید ترین سائنسی اقدامات کا بچشمِ خود مشاہدہ کیا۔ دورے کے دوران انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے اسٹریٹجک پروگرام ڈائریکٹر برائے واٹر، فوڈ اینڈ ایکو سسٹمز ڈاکٹر محسن حفیظ نے صحافیوں کے وفد کو منصوبے کے بنیادی مقاصد، عملی طریقہ کار اور پائیدار شہری آبی تحفظ میں اس کے کلیدی کردار کے بارے میں مقتدر بریفنگ دی۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر محسن حفیظ کا کہنا تھا کہ اس اہم منصوبے کا بنیادی مقصد برسات کے موسم میں بارش کے پانی کو ضائع ہونے سے بچا کر مقتدر تکنیک کے ذریعے براہِ راست زیرِ زمین آبی ذخائر تک پہنچانا ہے۔ اس عمل سے نہ صرف شہروں میں سڑکوں پر پانی کے سطحی بہاؤ اور سیلابی خطرات میں واضح کمی آئے گی بلکہ زیرِ زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح کو دوبارہ بحال کرنے میں بھی بھرپور مدد ملے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام قدرتی حل کے ذریعے موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ جدید ترین شہری انفراسٹرکچر کی ترقی کے وسیع تر قومی اقدامات کا ایک لازمی حصہ ہے۔

ڈاکٹر محسن حفیظ نے وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں پر سخت زور دیا کہ وہ ملک بھر کے بڑے شہروں میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے اور اسے زمین کا حصہ بنانے کے اس مقتدر نظام کو سرکاری سطح پر فروغ دیں اور اسے قانونی طور پر لازمی قرار دیں تاکہ پاکستان کو درپیش بڑھتی ہوئی آبی قلت اور پانی سے متعلق دیگر سنگین چیلنجز پر بروقت قابو پایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر خصوصی روشنی ڈالی کہ شدید موسمیاتی تبدیلیوں اور بڑھتی ہوئی شہری آبادی کے موجودہ تناظر میں پاکستان کے طویل المدتی آبی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایسے تمام پائیدار طریقوں کو قومی سطح پر اپنانا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان مقتدر اقدامات کے بارے میں عوامی آگاہی میں اضافہ پائیدار آبی نظم و نسق کے طریقوں کو پاکستان کے تمام شہری علاقوں میں زیادہ وسیع پیمانے پر اپنانے کی حوصلہ افزائی کرے گا۔

ملکی معیشت کے لیے بڑی عالمی کامیابی: بارکلیز کی رپورٹ سے عالمی سرمایہ کاروں کے پاکستان کی معاشی سمت پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی ہو رہی ہے، مشیرِ خزانہ خرم شہزاد

روزینہ اسماعیل.june 24,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

وفاقی وزیرِ خزانہ کے مقتدر مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ برطانیہ کے معروف بین الاقوامی مالیاتی ادارے بارکلیز نے پاکستان کے معاشی مستقبل پر گہرے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ملک کے خودمختار قرضوں کی درجہ بندی میں نمایاں بہتری کر دی ہے۔ بدھ کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کردہ اپنے ایک مقتدر پیغام میں انہوں نے بتایا کہ بارکلیز نے پاکستان کی معیشت کے حوالے سے ہونے والی مثبت اور تعمیری پیشرفت کو باقاعدہ تسلیم کرتے ہوئے ملک کے خودمختار قرضوں کی درجہ بندی کو بڑھا کر ‘اوور ویٹ’ کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس بڑے عالمی اقدام سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے پاکستان کی درست معاشی سمت پر بڑھتے ہوئے پختہ اعتماد کی واضح عکاسی ہو رہی ہے۔

بارکلیز کی جانب سے جاری کردہ اس تازہ ترین عالمی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی بیرونی مالی پوزیشن اور اندرونی مالیاتی نظم و ضبط میں حالیہ عرصے کے دوران نمایاں اور مقتدر بہتری آئی ہے، جس کے باعث ملک کے تمام اہم معاشی اشاریوں میں پائیدار استحکام دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مشیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں دوررس معاشی اصلاحات، فعال مالیاتی نظم و نسق اور بیرونی شعبے میں مقتدر بہتری کے ذریعے عالمی سرمایہ کاروں کا کھویا ہوا اعتماد بحال کرنے میں انتہائی اہم اور اسٹریٹجک پیشرفت کی ہے، جس کے مثبت نتائج اب سامنے آ رہے ہیں۔

خرم شہزاد نے مزید بتایا کہ اس مقتدر رپورٹ میں پاکستان کے جغرافیائی محلِ وقوع کو بھی غیر معمولی اور تزویراتی اہمیت دی گئی ہے۔ بارکلیز کے ماہرین کے مطابق، پاکستان اس وقت مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک انتہائی اہم تجارتی اور اقتصادی راہداری کی حیثیت رکھتا ہے، جو مستقبل قریب میں علاقائی تجارت، غیر ملکی سرمایہ کاری اور معاشی تعاون کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر پاکستان موجودہ معاشی اصلاحات، سخت مالیاتی نظم و ضبط اور استحکام کی پالیسیوں پر اسی طرح عمل جاری رکھتا ہے، تو مستقبل میں عالمی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے ملک کی کریڈٹ ریٹنگ میں مزید مقتدر بہتری کے قوی امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے اس کے دوررس فوائد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس عالمی پیشرفت کے نتیجے میں پاکستان کے لیے بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں سے نئے قرضوں کا حصول نسبتاً آسان اور انتہائی کم لاگت پر ممکن ہو سکتا ہے، جبکہ ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔ مشیرِ خزانہ نے تاکید کی کہ بارکلیز کی جانب سے پاکستان کے خودمختار قرضوں کی درجہ بندی میں یہ مقتدر بہتری اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان کی معاشی بنیادیں بتدریج مضبوط ہو رہی ہیں اور عالمی مالیاتی ادارے اور سرمایہ کار ملک کے معاشی امکانات کو زیادہ مثبت اور تزویراتی انداز میں دیکھ رہے ہیں۔ یہ عالمی رپورٹ ایک ایسے مقتدر وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان معاشی استحکام، مالیاتی اصلاحات اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مختلف اہم اقدامات پر سختی سے عمل پیرا ہے اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں ملک کی ساکھ میں بتدریج بہترین بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔

سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے بڑا فیصلہ: ایس ای سی پی اور نیب کا غیر قانونی سرمایہ کاری اسکیموں کے خلاف مشترکہ کارروائی کے لیے تعاون پر اتفاق، مفاہمتی یادداشت طے کرنے کا فیصلہ

منصور احمد june 24,2026

اسلام آباد (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) اور قومی احتساب بیورو (نیب) نے ملک بھر میں سرمایہ کاری کی غیر قانونی اسکیموں اور غیر قانونی ڈپازٹ ٹیکنگ کے خلاف گرینڈ آپریشن اور مؤثر کارروائی کرنے کے لیے باہمی تعاون کو مزید بڑھانے پر مکمل اتفاق کیا ہے۔ اس سلسلے میں چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نذیر احمد بٹ نے ایس ای سی پی ہیڈ آفس کا ایک اہم مقتدر دورہ کیا، جہاں انہوں نے چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو سے تفصیلی ملاقات کی۔ اس مقتدر ملاقات کے دوران غیر قانونی ڈپازٹ اسکیموں کے خلاف مشترکہ کارروائی، معلومات کے فوری تبادلے اور مربوط انفورسمنٹ کے لیے ایک باقاعدہ مفاہمتی یادداشت طے کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو کا کہنا تھا کہ غیر قانونی ڈپازٹ اسکیمیں غیر معمولی اور فرضی منافع کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے معصوم شہریوں کو اپنی جانب راغب کرتی ہیں اور بعد ازاں انہیں بھاری مالی نقصان پہنچاتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسی تخریبی سرگرمیاں ملک کے مجموعی مالیاتی نظام پر عوام کے اعتماد کو بری طرح مجروح کرتی ہیں اور قانونی کاروباری و مالیاتی اداروں کے لیے بھی شدید نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔ چیئرمین ایس ای سی پی نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ غیر قانونی ڈپازٹ اسکیموں میں ملوث عناصر کے خلاف بروقت اور سخت ترین قانونی کارروائی اب ناگزیر ہو چکی ہے۔ ملاقات میں طے پایا کہ دونوں مقتدر اداروں کے درمیان یہ مضبوط تعاون قانون شکن عناصر کے خلاف فوری کارروائی کو یقینی بنائے گا، قانون پر عمل درآمد کو مزید موثر بنائے گا اور متاثرہ شہریوں کو بروقت ریلیف فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نذیر احمد بٹ نے ملک سے مالی جرائم کے مکمل خاتمے اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے ایس ای سی پی کے حکام کو اپنے قریبی تعاون کا پختہ یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ اور تزویراتی اشتراک نفاذی صلاحیت میں بے پناہ اضافہ کرے گا، احتساب کے عمل کو پہلے سے زیادہ مؤثر بنائے گا اور غیر قانونی ڈپازٹ اسکیموں سمیت دیگر تمام مالیاتی فراڈ کی حوصلہ شکنی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

دوسری جانب ایس ای سی پی نے عوام الناس کی آگاہی کے لیے ایک بار پھر یہ واضح کیا ہے کہ کسی بھی کمپنی کی محض ایس ای سی پی میں رجسٹریشن یا اندراج اسے عوام سے سرمایہ اور ڈپازٹ جمع کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں دیتا۔ کمپنیز ایکٹ 2017ء کی دفعہ 84 کے تحت صرف بینکنگ کمپنیوں اور ایس ای سی پی سے باقاعدہ لائسنس یافتہ اداروں کو ہی یہ اجازت حاصل ہے، ان کے علاوہ کسی بھی دوسری کمپنی یا ادارے کے لیے عوام سے کسی بھی قسم کا ڈپازٹ وصول کرنا سراسر غیر قانونی اور ممنوع ہے، جس پر سخت سزا دی جا سکتی ہے۔

تاریخی علمی روایت سے دوری کا نقصان: فارسی زبان اور اس سے وابستہ علمی ورثے کی جانب دوبارہ رجوع ناگزیر ہے، ماہرینِ تعلیم و محققین کا بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں اہم مکالمہ

روزینہ اسماعیل.june 24,2026

اسلام آباد (علمی و ادبی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

ماہرینِ تعلیم اور مقتدر محققین نے اس اہم امر پر زور دیا ہے کہ جنوبی ایشیا کی علمی، فکری اور تہذیبی تاریخ کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے فارسی زبان اور اس سے وابستہ عظیم علمی ورثے کی جانب دوبارہ رجوع کرنا وقت کی اہم ضرورت اور ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے اسلامی تحقیقاتی ادارے کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک علمی لیکچر اور فکری مکالمے کے دوران کیا گیا، جس میں ملک بھر سے دانشوروں، مقتدر اساتذہ اور طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ لیکچر کے اختتام پر منعقدہ سوال و جواب کی خصوصی نشست میں شرکا نے جنوبی ایشیا میں فارسی خواندگی کے بتدریج زوال، مقامی علمی روایات سے دوری اور مقامی دانش کے نظاموں کی اہمیت پر تفصیلی گفتگو کی۔ مقتدر مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کے فکری ورثے سے موثر اور تزویراتی استفادہ اسی صورت ممکن ہے جب نئی نسل کو ان کی تاریخی علمی روایت سے دوبارہ جوڑا جائے۔

تقریب کے اختتامی کلمات پیش کرتے ہوئے اسلامی تحقیقاتی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم نے کہا کہ برصغیر کے تاریخی مدارس کا نصاب عربی اور فارسی دونوں علمی روایات پر استوار تھا، جس نے اصل متون، شروح اور حاشیوں کے مطالعے کی ایک مضبوط اور متحرک علمی ثقافت کو فروغ دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ علمی تسلسل اس روایتی تصور کی یکسر نفی کرتا ہے کہ مسلم معاشروں میں فکری زوال مکمل طور پر غالب آچکا تھا، بلکہ مسلم علمی روایت نے مختلف ادوار میں اپنی اندرونی قوت اور لچک کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوآبادیاتی دور میں پیدا ہونے والے شدید فکری اور مناظرانہ ماحول نے مسلم علماء کو اپنی ادبی اور علمی میراث کے مقتدر دفاع اور اس کی نئی تشریحات پیش کرنے پر مجبور کیا، جس کے نتیجے میں علمی مباحث اور فکری مکالمے کی نئی تزویراتی جہتیں سامنے آئیں۔

ڈاکٹر محمد اکرم نے کہا کہ مسلم علمی روایت کی تاریخ گہری تحقیق، تنقیدی مطالعے اور علمی تبادلہ خیال سے عبارت ہے، جس نے صدیوں تک علمی سرمائے کے تحفظ اور اس کی نئی نسلوں تک منتقلی کو یقینی بنایا۔ یہ تقریب بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے قائم مقام ریکٹر و صدر پروفیسر احمد سعد الاحمد کے اس مقتدر وژن کی بھی عکاسی کرتی ہے جس کے تحت تعلیمی معیار، بین الاقوامی تعاون اور تحقیق پر مبنی مکالمے کے فروغ کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ اسلامی تحقیقاتی ادارے نے اس مقتدر موقع پر اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مستقبل میں بھی اسی نوعیت کی علمی سرگرمیوں، تحقیقی مکالموں اور قومی و بین الاقوامی جامعات و محققین کے ساتھ تعاون کے ذریعے علم و تحقیق کے فروغ میں اپنا مقتدر کردار مستقل بنیادوں پر جاری رکھے گا۔

پاکستان میں ٹیلی کام خدمات کا جائزہ: پی ٹی اے کا سال 2026ء کی پہلی سہ ماہی کا کوالٹی آف سروس سروے جاری، ڈاؤن لوڈنگ اسپیڈ میں جاز اور ڈیٹا منتقلی میں زونگ نمایاں

منصور احمد june 24,2026

اسلام آباد (ٹیکنالوجی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

پاکستان بھر میں صارفین کو فراہم کی جانے والی ٹیلی کمیونیکیشن خدمات کی مجموعی کارکردگی اور معیار کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سال 2026ء کی پہلی سہ ماہی یعنی جنوری تا مارچ کے دوران ملک کے 18 اہم شہروں میں کوالٹی آف سروس (کیو او ایس) سروے منعقد کیا ہے۔ پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، اس سروے کے لیے خاص طور پر ایسے راستوں اور مقامات کا انتخاب کیا گیا تھا جو مختلف شہروں کی مرکزی شاہراہوں، سروس روڈز اور اہم ترین رہائشی و تجارتی علاقوں پر مشتمل تھے تاکہ انٹرنیٹ اور کالز کے معیار کا حقیقی پتا چلایا جا سکے۔

پی ٹی اے کی فیلڈ ٹیموں نے اس مقتدر مہم کے دوران جدید ترین خودکار کیو او ایس مانیٹرنگ اور بنچ مارکنگ ٹولز کی مدد سے، موبائل ہینڈ سیٹس کو آٹو ڈیٹیکٹ موڈ میں استعمال کرتے ہوئے وائس کالز، ایس ایم ایس اور موبائل براڈبینڈ و ڈیٹا سیشنز کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ اس پورے عمل کا بنیادی مقصد نیکسٹ جنریشن موبائل سروسز (این جی ایم ایس) لائسنسز اور سیلولر موبائل نیٹ ورک کیو او ایس ریگولیشنز 2021ء کے تحت مقررہ معیارِ خدمات کی تعمیل کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینا تھا۔ ان متعلقہ لائسنسز اور ضوابط میں مقرر کردہ حدود کے مقابلے میں ہر کلیدی کارکردگی اشاریے (کے پی آئیز) کی تعمیل کی سطح کو دیکھا گیا، اور اسی بنیاد پر سیلولر موبائل آپریٹرز (سی ایم اوز) کو موبائل نیٹ ورک کوریج، موبائل براڈبینڈ، وائس اور ایس ایم ایس سروسز کے شعبوں میں پہلی سے چوتھی پوزیشن تک باقاعدہ درجہ بندی دی گئی۔

سروے کے حتمی نتائج سے یہ مقتدر حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ مجموعی طور پر تمام سیلولر موبائل آپریٹرز ڈیٹا منتقلی کی رفتار یعنی ڈاؤن لوڈ اور اپ لوڈ اسپیڈ کے حوالے سے پی ٹی اے کے مقررہ معیارات پر پورا اتر رہے ہیں۔ انٹرنیٹ کی ڈاؤن لوڈ اسپیڈ کے شعبے میں جاز نیٹ ورک مسلسل نمایاں پوزیشن پر رہا جبکہ ڈیٹا منتقلی کی عمومی رفتار میں زونگ کی کارکردگی پہلے سے کافی بہتر ریکارڈ کی گئی۔ اس کے برعکس، سروے کے دوران بعض علاقوں میں وائس سروس اور لیٹنسی (انٹرنیٹ سگنل کی تاخیر) سے متعلق چند اہم ترین کے پی آئیز مقررہ لائسنس یافتہ حدود سے واضح طور پر کم پائے گئے، اور یہ کمی خصوصاً ٹیلی نار نیٹ ورک کے صارفین کے لیے دیکھی گئی۔ پی ٹی اے کے مطابق، ایل ٹی ای کیریئر ایگریگیشن اور وائس اوور ایل ٹی ای جیسی جدید ترین ٹیکنالوجیز کا استعمال کرنے والے موبائل آپریٹرز نے اپنے صارفین کو نسبتاً بہترین اور مقتدر معیارِ خدمات فراہم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

پارلیمانی کارکردگی کی بہترین مثال: عالیہ کامران دیگر ارکانِ اسمبلی کے لیے رول ماڈل ہیں، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا بجٹ اجلاس میں زبردست خراجِ تحسین

کاشف عباسی ,june 24,2026

اسلام آباد (پارلیمانی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے جمعیت علمائے اسلام (ف) سے تعلق رکھنے والی ممتاز رکنِ قومی اسمبلی عالیہ کامران کی ایوان کی اندرونی کارروائیوں میں انتہائی فعال شرکت اور موجودہ بجٹ اجلاس کے دوران بھرپور ہوم ورک و تیاری کے ساتھ اہم ضمنی سوالات اٹھانے پر ان کی زبردست الفاظ میں تعریف کی ہے۔ قومی اسمبلی کے مقتدر اجلاس کے دوران اسپیکر سردار ایاز صادق نے عالیہ کامران کی مجموعی پارلیمانی کارکردگی کو خصوصی طور پر سراہا اور کہا کہ انہوں نے جس مقتدر طریقے سے قومی اسمبلی کی کارروائی میں بھرپور حصہ لیا اور مکمل ریسرچ کے ساتھ ایوان میں عوامی نوعیت کے ضمنی سوالات اٹھائے، وہ بلاشبہ انتہائی قابلِ ستائش اور لائقِ تحسین ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے عالیہ کامران کی اس سنجیدگی اور پارلیمانی لگن کو ایوان کے دیگر تمام ارکان کے لیے ایک بہترین اور مقتدر مثال قرار دیا۔ انہوں نے قومی اسمبلی کے دیگر تمام اراکین پر زور دیا کہ انہیں بھی عالیہ کامران کی پیروی کرنی چاہیے اور اسی طرح مکمل تیاری، مطالعے اور گہری ریسرچ کے ساتھ اسمبلی کی روزمرہ کارروائی اور سوالات کے مقتدر سیشن میں حصہ لینا چاہیے، تاکہ عوام کے حقیقی مسائل کو زیادہ موثر اور تزویراتی انداز میں اجاگر کیا جا سکے اور ملک کے اس سب سے بڑے قانون ساز ادارے یعنی پارلیمان کا وقار عالمی سطح پر مزید بلند ہو۔

معاشی ترقی کی جانب مقتدر پیش رفت: ایس آئی ایف سی کی معاونت سے توانائی فراہمی اور ترسیل کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے تاریخی قدم، وائٹ آئل پائپ لائن منصوبے کی منظوری

کاشف عباسی ,june 24,2026

اسلام آباد (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کی مؤثر اور مقتدر سہولت کاری کے نتیجے میں پاکستان میں توانائی کے عالمی رابطوں اور تیل کی ترسیل کے مجموعی نظام کو مزید مستحکم اور مضبوط بنا دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایس آئی ایف سی کے مقتدر تعاون اور مشترکہ کاوشوں سے ماچھیکے-تھلیاں-تارو جبہ وائٹ آئل پائپ لائن منصوبے کی باقاعدہ منظوری عمل میں آ چکی ہے۔ یہ تزویراتی وائٹ آئل پائپ لائن منصوبہ ملک کے جنوبی اور شمالی حصوں کے درمیان پیٹرولیم مصنوعات اور تیل کی محفوظ ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم اور اسٹریٹجک راہداری فراہم کرے گا، جس سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

اس مقتدر منصوبے کے آغاز سے ملک بھر میں ایندھن کی بلا تعطل فراہمی کا نظام پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر اور تیز رفتار ہو جائے گا، جبکہ سڑکوں کے ذریعے تیل کی روایتی سپلائی کے مقابلے میں ترسیلی اخراجات میں بھی نمایاں کمی دیکھنے کو ملے گی۔ ماہرین کے مطابق ماچھیکے-تھلیاں-تارو جبہ وائٹ آئل پائپ لائن منصوبہ ملکی توانائی کے تحفظ کو ہر لحاظ سے مقتدر و مضبوط بنانے اور ملک میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کے فروغ میں کلیدی اور تاریخی کردار ادا کرے گا۔

اس مقتدر پائپ لائن منصوبے کی تعمیر اور آپریشنز کے باعث ملک میں انجینئرز اور دیگر شعبہ جات کے لیے روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا ہوں گے، جس سے مقامی معیشت کو سہارا ملے گا۔ اس کے ساتھ ہی، حکومتی سطح پر اس نوعیت کے بڑے منصوبوں کی کامیابی سے بین الاقوامی اور مقامی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مقتدر تقویت ملے گی۔ واضح رہے کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) اس وقت ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور قومی اہمیت کے حامل کلیدی انفراسٹرکچر منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے میں اپنا انتہائی فعال اور مقتدر ترین کردار ادا کر رہی ہے۔

سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: حقِ شفعہ کا دعویٰ مسترد، ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بحال، ہائی کورٹ اور اپیلیٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار

منصور احمد june 24,2026

اسلام آباد (قانونی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے حقِ شفعہ سے متعلق ایک انتہائی اہم اور مقتدر مقدمے میں بڑا اصول وضع کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ دعویٰ شفعہ میں طلبِ مواثبت کی تاریخ، وقت اور مقام کا واضح طور پر ذکر کرنا قانونی طور پر لازمی ہے، بصورتِ دیگر ایسا کوئی بھی دعویٰ برقرار نہیں رہ سکتا۔ عدالتِ عظمیٰ نے اس مقتدر قانونی نکتے پر پشاور ہائی کورٹ اور اپیلیٹ کورٹ کے سابقہ فیصلے یکسر کالعدم قرار دے دیے ہیں، جبکہ ٹرائل کورٹ کا دعویٰ مسترد کرنے کا ابتدائی فیصلہ مکمل طور پر بحال کر دیا ہے۔

تفصیلی تحریری فیصلے کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل تین رکنی مقتدر بنچ نے شیرزالی و دیگر بنام سعد اللہ خان مقدمے کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے، جسے جسٹس شاہد بلال حسن نے خود تحریر کیا ہے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق سعد اللہ خان نامی شہری نے کوہاٹ میں واقع چھ کنال اور آٹھ مرلہ اراضی کے انتقال کے خلاف حقِ شفعہ کا دعویٰ دائر کیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ زمین کی فروخت کی اطلاع ملنے پر انہوں نے فوری طور پر طلبِ مواثبت اور بعد ازاں طلبِ اشہاد کی تمام قانونی کارروائی مکمل کی تھی، تاہم ٹرائل کورٹ نے ان کا دعویٰ اس مقتدر بنیاد پر مسترد کر دیا تھا کہ اصل درخواست میں طلبِ مواثبت کی مخصوص تاریخ اور مقام کا ذکر سرے سے غائب تھا۔ بعد ازاں اپیلیٹ کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر دعویٰ منظور کر لیا تھا، جس کے خلاف متاثرہ فریق نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے اپنے مقتدر فیصلے میں واضح الفاظ میں قرار دیا کہ حقِ شفعہ ایک انتہائی کمزور اور نازک حق ہے، جس کے استعمال کے لیے قانون میں مقرر کردہ تمام تقاضوں کی سختی سے پابندی کرنا بے حد ضروری ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے ریمارکس دیے کہ طلبِ مواثبت دراصل دعویٰ شفعہ کی بنیادی جڑ ہے اور اس کے مقررہ وقت، تاریخ اور مقام کا واضح ذکر اور پختہ ثبوت فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ اگر یہ بنیادی قانونی تقاضا ہی پورا نہ ہو تو بعد میں کی جانے والی تمام کارروائیاں اپنی قانونی حیثیت مکمل طور پر کھو دیتی ہیں۔

عدالت نے متعدد سابقہ عدالتی نظائر اور فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے مزید قرار دیا کہ بنیادی درخواست میں طلبِ مواثبت کی لازمی تفصیلات شامل نہ ہونا پورے دعوے کے لیے ایک مہلک نقص ہے، اور بعد میں پیش کیا جانے والا کوئی بھی ثبوت یا گواہی اس ابتدائی کمی کو کسی صورت پورا نہیں کر سکتی۔ سپریم کورٹ نے فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ فروخت کی اطلاع ملنے کے ذرائع کی مکمل کڑی بھی ثابت نہیں کی جا سکی، جس سے طلبِ مواثبت کی قانونی حیثیت مزید مشکوک ہو جاتی ہے۔ عدالت نے نتیجتاً اپیل منظور کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ اور اپیلیٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے، اور ٹرائل کورٹ کا دعویٰ مسترد کرنے کا فیصلہ بحال کرتے ہوئے واضح کیا کہ حقِ شفعہ کے دعوؤں میں قانونی تقاضوں کی معمولی خلاف ورزی بھی دعویٰ کے مستقل خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔

خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری سے اقوام متحدہ کے وفد کی ملاقات، صحت، تعلیم اور موسمیاتی تبدیلی پر تعاون بڑھانے پر اتفاق

کاشف عباسی ,june 24,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

خاتونِ اول اور رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری سے ایوانِ صدر میں اقوامِ متحدہ کے پاکستان میں ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ اور عالمی ادارے کے مختلف ذیلی اداروں کے نمائندوں نے ایک مقتدر ملاقات کی ہے۔ ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، اس اہم ملاقات میں پاکستان اور اقوامِ متحدہ کے درمیان کثیرالجہتی تعاون، قومی ترقیاتی ترجیحات، موسمیاتی تبدیلی، تعلیم، سماجی تحفظ، صحت اور پائیدار ترقی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ خاتونِ اول نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور ملک بھر میں پائیدار ترقیاتی اہداف اور عوامی صحت کے شعبوں میں عالمی ادارے کے فنڈز اور پروگراموں کی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ دورانِ بریفنگ انہیں بتایا گیا کہ اقوامِ متحدہ 1947ء سے پاکستان میں فعال ہے اور اس وقت ملک بھر میں اس کے تقریباً چار ہزار ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ملاقات میں صحت عامہ بالخصوص انسدادِ پولیو مہم پر خصوصی گفتگو کی گئی، جہاں آصفہ بھٹو زرداری نے پولیو سے پاک پاکستان کے ہدف کے حصول کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ محمد یحییٰ نے پولیو کے خاتمے کے لیے خاتونِ اول کی مقتدر خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ آئندہ بارہ ماہ اس مقصد کے حصول کے لیے انتہائی تزویراتی اور اہم ہوں گے۔ خاتونِ اول نے صحت کے شعبے میں جدت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے تجویز پیش کی کہ مصنوعی ذہانت سمیت جدید ترین ٹیکنالوجیز کو بروئے کار لایا جانا چاہیے تاکہ پولیو ویکسین کی ہر گھر تک رسائی کو سوفیصد یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے خواتین اور بچوں کی فلاح کے لیے جاری ’’بینظیر نشوونما پروگرام‘‘ کی اہمیت کو اجاگر کیا، جبکہ اقوام متحدہ کے وفد نے مقتدر بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان میں تقریباً 41 فیصد بچے نشوونما کی کمی کا شکار ہیں جو دنیا میں بلند ترین شرحوں میں سے ایک ہے اور یہ غذائی قلت بچوں کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔

ملاقات کے دوران موسمیاتی چیلنجز اور حالیہ برسوں کے سیلابوں کا تذکرہ کرتے ہوئے آصفہ بھٹو زرداری نے آفات سے نمٹنے اور بحالی کی کوششوں میں اقوامِ متحدہ کے تعاون کی تعریف کی۔ انہوں نے ’’لیونگ انڈس‘‘ اور ’’ری چارج پاکستان‘‘ جیسے مقتدر منصوبوں کو موسمیاتی موافقت اور طویل مدتی استحکام کے لیے کلیدی قرار دیا۔ سندھ میں سیلاب کے بعد صوبائی حکومت کے وسیع پیمانے پر جاری ہاؤسنگ منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اسے پائیدار کمیونٹیز کی تعمیر کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا۔ خاتونِ اول نے اقوامِ متحدہ کے وفد کو یقین دلایا کہ بچوں کی صحت، غذائیت، تعلیم اور خواتین کو بااختیار بنانے کے مقتدر مشن میں ان کی آواز عالمی ادارے کے ساتھ ہے۔ اس مقتدر ملاقات میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا، رکن قومی اسمبلی شازیہ مری سمیت عالمی خوراک پروگرام، یونیسیف، عالمی ادارہ صحت، یو این ایف پی اے، یو این ایچ سی آر، آئی او ایم، یونیسکو اور یو این ویمن کے اعلیٰ نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ وفاق سے متعلق آڈٹ رپورٹس اسی مالی سال کے دوران پارلیمان میں پیش؛ گزشتہ ایک دہائی سے جاری تاخیر کے سلسلے کا خاتمہ، کاغذ سے پاک ماحول کی جانب مقتدر پیش رفت

کاشف عباسی ,june 24,2026

اسلام آباد (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے بدھ کے روز قومی اسمبلی کے مقتدر اجلاس میں ایک بڑی ادارہ جاتی کامیابی حاصل کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان کے مالی سال 2024-25 کے تخصیصی حسابات اور آڈیٹر جنرل پاکستان کی جانب سے وفاقی حسابات سے متعلق آڈٹ سال 2025-26 کی آڈٹ رپورٹس باقاعدہ طور پر پیش کر دی ہیں۔ یہ تمام رپورٹس آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آرٹیکل 171 کے تحت قومی اسمبلی کے سرکاری کاروبار کے ایک لازمی اور مقتدر جز کے طور پر ایوان کے سامنے رکھی گئیں، جسے پاکستان میں عوامی مالیاتی نظم و نسق اور احتسابی نظام کی مضبوطی کی جانب ایک اہم ترین تزویراتی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ منفرد اور مقتدر ریکارڈ قائم ہوا ہے کہ وفاق سے متعلق آڈٹ رپورٹس کو بالکل اسی مالی سال کے دوران پارلیمان میں پیش کیا گیا ہے جس سے متعلق آڈٹ کا یہ پورا عمل انجام دیا گیا ہے۔ اس مقتدر پیش رفت سے نہ صرف آڈٹ رپورٹنگ کے روایتی نظام کو بروقت اور تیز رفتار بنانے کے عمل کو فروغ ملا ہے، بلکہ عوامی اخراجات پر پارلیمانی نگرانی کو ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ موثر، فعال اور بامعنی بنانے میں بھی بھرپور مدد ملے گی۔ اس مقتدر موقع پر ایوان سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ آڈٹ رپورٹس کی یہ بروقت پیشکش وفاقی حکومت کے اس پختہ عزم کا مظہر ہے کہ عوامی مالیات کے انتظام میں شفافیت، جوابدہی اور پارلیمانی نگرانی کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے اس اہم امر پر زور دیا کہ آڈٹ مشاہدات اس وقت زیادہ موثر اور سود مند ثابت ہوتے ہیں جب وہ بغیر کسی تاخیر کے بروقت پارلیمان کے سامنے پیش کیے جائیں تاکہ ان کی روشنی میں اصلاحی اقدامات بروقت اختیار کیے جا سکیں۔

وفاقی وزیرِ خزانہ نے اس تاریخی اور مقتدر کامیابی پر آڈیٹر جنرل پاکستان اور ان کی پوری ٹیم کی شاندار پیشہ ورانہ صلاحیتوں، محنت اور لگن کو زبردست الفاظ میں سراہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران آڈٹ رپورٹس کی پیشکش میں ہونے والی طویل اور غیر ضروری تاخیر کے تناظر میں یہ پیش رفت ایک نمایاں ترین ادارہ جاتی کامیابی ہے، جو ملک میں عوامی احتساب کے نظام کو مزید موثر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

رواں سال ایک اور مقتدر اور اہم ترین پیش رفت یہ بھی دیکھی گئی کہ یہ آڈٹ رپورٹس پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کو جدید ڈیجیٹل ذرائع سے فراہم کی گئی ہیں، جس کے نتیجے میں معزز اراکینِ پارلیمان کو تمام تر رپورٹس بیک وقت الیکٹرانک صورت (ای فارم) میں دستیاب ہوئیں۔ یہ تزویراتی اقدام پارلیمانی امور میں ڈیجیٹلائزیشن، کارکردگی میں مقتدر بہتری اور کاغذ سے پاک ماحول کی جانب ایک انقلابی پیش رفت ہے جسے آئندہ بھی مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے گا۔ آڈٹ رپورٹس کی اس بروقت اور ڈیجیٹل فراہمی کو پاکستان میں مالیاتی شفافیت، موثر حکمرانی، ادارہ جاتی جوابدہی اور عوامی وسائل پر پارلیمان کی نگرانی کے نظام کو مزید مستحکم بنانے کی جانب ایک بڑا اور مقتدر قدم مانا جا رہا ہے۔

نوجوان انجینئرز کے لیے شاندار موقع: پاکستان آرمی میں کیپٹن رینک پر ڈائریکٹ شارٹ سروس کمیشن کے تحت بھرتیاں شروع، آن لائن رجسٹریشن کا آغاز

منصور احمد june 24,2026

راولپنڈی (صنعی و عسکری رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

پاکستان آرمی نے ملک بھر کے لائق اور باصلاحیت ایروناٹیکل انجینئرز کے لیے ڈائریکٹ شارٹ سروس کمیشن کے تحت کیپٹن کے عہدے پر باقاعدہ اور مقتدر بھرتیوں کا بڑا اعلان کر دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ بھرتی کے مطابق جوائن پاک آرمی کی آفیشل ویب سائٹ پر آن لائن درخواستوں کی وصولی کا مقتدر عمل شروع ہو چکا ہے، جو کہ جولائی کے وسط تک کامیابی سے جاری رہے گا۔ اطلاعات کے مطابق یہ اہم بھرتیاں پاکستان آرمی کی مقتدر اور معروف ‘کور آف الیکٹریکل اینڈ مکینیکل انجینئرز’ (ای ایم ای) کے لیے کی جا رہی ہیں، جس کے تحت نوجوان انجینئرز کو پاک فوج کا حصہ بن کر ملک و ملت کی خدمت کرنے کا سنہری موقع فراہم کیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں جاری کردہ مقتدر اشتہار کے تحت جن مخصوص فیلڈز اور شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے انجینئرز اپلائی کرنے کے مکمل اہل ہیں، ان میں ایوی ایشن / ایوی اونکس انجینئرنگ، ایرواسپیس انجینئرنگ، الیکٹریکل انجینئرنگ اور مکینیکل انجینئرنگ کے شعبے شامل ہیں۔ عسکری ذرائع سے بتایا گیا ہے کہ اس مقتدر بھرتی مہم کے لیے رجسٹریشن کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے آن لائن درخواستیں جمع کرانے کا سلسلہ 22 جون 2026ء سے شروع ہو چکا ہے، اور بھرتی کے خواہشمند تمام اہل امیدوار 12 جولائی 2026ء سے پہلے اپنی آن لائن درخواستیں اور تعلیمی اسناد لازمی جمع کرواسکتے ہیں۔ تمام اہل امیدوار گھر بیٹھے پاکستان آرمی کی آفیشل ویب سائٹ پر جا کر آن لائن فارم آسانی سے پُر کر سکتے ہیں۔

معلوم ہوا ہے کہ دور دراز علاقوں کے وہ امیدوار جن کے پاس انٹرنیٹ کی مناسب سہولت موجود نہیں ہے، ان کی سہولت کے لیے بھی مقتدر انتظامات کیے گئے ہیں۔ ایسے تمام امیدوار ملک بھر کے مختلف بڑے اور چھوٹے شہروں بشمول لاہور، کراچی، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ، ملتان اور فیصل آباد وغیرہ میں قائم اپنے قریبی ‘آرمی سلیکشن اینڈ ریکروٹمنٹ سینٹرز’ پر ذاتی طور پر تشریف لے جا کر بھی اپنی مقتدر رجسٹریشن کا عمل مکمل کروا سکتے ہیں۔ پاک فوج کے ان سلیکشن سینٹرز پر عملے کو امیدواروں کی رہنمائی کے لیے خصوصی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ رجسٹریشن کے عمل کو شفاف اور تیز رفتار بنایا جا سکے۔

کراچی میں وحشیانہ درندگی: 3 سالہ معصوم بچی مبینہ زیادتی اور بدترین تشدد کے بعد قتل، 8 گھنٹے بعد بوری بند لاش برآمد، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کی جانب سے اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی قائم

روزینہ اسماعیل.june 24,2026

کراچی (کرائم رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

روشنیوں کے شہر کراچی کے علاقے ملیر قائد آباد میں انسانیت سوز اور انتہائی دلخراش واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک 3 سالہ معصوم بچی کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی اور وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد انتہائی بے دردی سے قتل کر دیا گیا ہے۔ مقتولہ کے والد کی مدعیت میں تھانے میں واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے اس گھناؤنے معاملے کا سخت ترین نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کے پتے لگانے کے لیے ایک ہائی لیول انویسٹی گیشن کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ معصوم بچی گھر سے باہر کھیلنے کے لیے نکلی تھی لیکن طویل وقت گزرنے کے باوجود واپس نہ آئی۔ گمشدگی کے تقریباً 8 گھنٹے بعد تلاشی کے دوران اس کی شدید تشدد زدہ لاش ایک بوری میں بند ملی۔ مقتولہ کے غمزدہ والد کی مدعیت میں تھانے میں درج کیے گئے اس مقدمے میں اغواء، قتل، جنسی زیادتی، بدترین جسمانی تشدد اور دیگر سنگین قانونی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ آئی جی سندھ نے کیس کی فوری، غیر جانبدارانہ اور شفاف ترین تفتیش کو یقینی بنانے کے لیے ڈی آئی جی ایسٹ کو اس خصوصی تحقیقاتی کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا ہے۔

اس اعلیٰ سطح کی ٹیم میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مقتدر افسران کو شامل کیا گیا ہے، جن میں ڈی آئی جی ایسٹ (سربراہ کمیٹی)، ایس ایس پی ایس آئی یو، ایس ایس پی ملیر، ایس ایس پی اسپیشل برانچ انٹیلی جنس، ایس پی انویسٹی گیشن ملیر، متعلقہ ڈی ایس پی، ایس آئی او اور تفتیشی افسر شامل ہیں۔ یہ خصوصی کمیٹی بچی کے اغواء، اس پر کیے جانے والے بدترین تشدد، مبینہ زیادتی اور قتل کے تمام پہلوؤں کا جدید سائنسی، تکنیکی اور باریک بینی سے جائزہ لے گی، اور ملزمان کی فوری گرفتاری کو یقینی بنانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی تفتیشی پیشرفت سے آئی جی سندھ کو باقاعدگی سے آگاہ رکھنے کی پابند ہوگی۔

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے اس گھناؤنے واقعے پر شدید برہمی اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ماتحت افسران کو دوٹوک احکامات جاری کیے ہیں کہ ایک ننھی جان کے ساتھ یہ ظلم کرنے والے وحشی عناصر کسی بھی رعایت یا نرمی کے مستحق نہیں ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سفاک ملزمان کی جلد سے جلد گرفتاری کے لیے پولیس اپنے تمام دستیاب وسائل اور جدید ترین انویسٹی گیشن ٹولز بروئے کار لائے تاکہ مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کر کے سخت ترین سزا دلائی جا سکے، کیونکہ غمزدہ خاندان کو ہر صورت انصاف فراہم کرنا سندھ پولیس کی اولین ترجیح ہے۔

سرکاری نرخ 309 روپے، مارکیٹ میں ایل پی جی 600 روپے کلو سے زائد میں فروخت

کاشف عباسی ,june 24,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

پاکستان بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں میں بلیک مارکیٹنگ اور اوور چارجنگ نے گھریلو صارفین کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، جہاں گیس مقتدر سرکاری نرخوں سے تقریباً دوگنی قیمت پر کھلے عام فروخت ہو رہی ہے۔ توانائی کے اس سنگین بحران اور مافیا کی لوٹ مار پر سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بھی وفاقی حکومت کی انرجی پالیسی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کڑی تنقید کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے جون کے رواں مہینے کے لیے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 309 روپے فی کلو مقرر کر رکھی ہے، لیکن اس کے برعکس ملک بھر کے بازاروں اور دکانوں میں گھریلو صارفین سے 600 روپے فی کلو سے بھی زائد وصول کیے جا رہے ہیں، یعنی غریب عوام سے فی کلو گیس پر تقریباً 300 روپے اضافی بٹورے جا رہے ہیں۔

صنعتی و تجارتی ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس وقت ملک بھر میں روزانہ کی بنیاد پر ایل پی جی کی مجموعی کھپت 60 لاکھ کلو سے زائد ہے، جس کا مقتدر مطلب یہ ہے کہ ہول سیلرز اور منافع خور مافیا روزانہ کی بنیاد پر عوام کی جیبوں پر 1.8 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈال رہا ہے۔ انڈسٹری ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ مارکیٹ میں ایل پی جی کی سپلائی کی مبینہ کمی کا مصنوعی خوف پھیلا کر ہول سیلرز نے ملی بھگت سے قیمتوں میں یہ اندھا دھند اضافہ کیا ہے، جس کی وجہ سے اب تک پاکستانی صارفین کو مجموعی طور پر 60 سے 70 ارب روپے کا مقتدر اور بڑا ٹیکہ لگایا جا چکا ہے، جبکہ متعلقہ ریگولیٹری ادارے اس اوور چارجنگ کو روکنے میں بری طرح ناکام نظر آتے ہیں۔

ملک میں توانائی کے اس شدید بحران اور بے لگام مہنگائی پر سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے حکومت کو مقتدر انداز میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں گیس کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی کے باوجود پاکستان میں گیس کے نرخ کم نہیں کیے گئے، جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت گیس اور تیل پر بھاری ٹیکس لگا کر پیسے کمانے کا تزویراتی طریقہ بند کرے اور انرجی کی قیمتوں میں فوری طور پر نمایاں کمی لائے، تاکہ ملک میں انڈسٹری اور زراعت کا پہیہ تیزی سے چل سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب یہ دونوں پیداواری شعبے چلیں گے تو حکومت کو خود بخود ٹیکس بھی حاصل ہوگا اور ملک کے لاکھوں بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے مقتدر مواقع بھی میسر آئیں گے۔

شکیل نامی بچہ گزشتہ روز کھیلتے ہوئے غائب ہوا تھا جس کے اغوا کا مقدمہ درج تھا؛ سول ہسپتال میں گھنٹوں گزرنے کے باوجود پوسٹ مارٹم نہ ہونے پر لواحقین سڑکوں پر آ گئے، پولیس کی تمام پہلوؤں سے تفتیش جاری

کاشف عباسی ,june 24,2026

فیصل آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد کے علاقے ٹھیکری والا میں ایک انتہائی دلخراش اور اندوہناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں گزشتہ روز سے لاپتہ ہونے والے 8 سالہ معصوم بچے کی لاش ایک قریبی مکان کے واش روم سے برآمد ہوئی ہے۔ شکیل نامی یہ بچہ کل گھر کے باہر کھیلتے ہوئے اچانک غائب ہو گیا تھا، جس کے بعد لواحقین کی درخواست پر پولیس تھانے میں اس کے اغوا کا مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔ مقتول بچے کے غمزدہ خاندان نے سنگین اور مقتدر الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے معصوم بچے کو مبینہ طور پر وحشیانہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد انتہائی بیدردی سے موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے۔

متاثرہ خاندان اور لواحقین کی تکالیف اور غم و غصے میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب سول ہسپتال فیصل آباد کی شدید مقتدر انتظامی غفلت اور لاپرواہی سامنے آئی۔ معصوم بچے کی لاش کو ہسپتال لائے ہوئے کئی گھنٹے گزر جانے کے باوجود پوسٹ مارٹم کا عمل شروع نہیں کیا جا سکا، جس پر مقتول کے لواحقین، رشتہ داروں اور اہل علاقہ نے پوسٹ مارٹم میں مجرمانہ تاخیر اور ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کے خلاف سول ہسپتال کے باہر لاش سڑک پر رکھ کر شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مقتول کے غمزدہ والد اور رشتہ داروں نے روتے ہوئے فوری انصاف کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ہمارے معصوم بچے کو درندگی کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا ہے، ہم دو گھنٹے سے زائد وقت سے لاش لیے ہسپتال کے باہر خوار ہو رہے ہیں لیکن یہاں کوئی ڈاکٹر تک دستیاب نہیں ہے، ہمیں صرف اور صرف انصاف چاہیے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پولیس نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی فوری کارروائی کرتے ہوئے جائے وقوعہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے اور وہاں سے اہم فرانزک شواہد اور نمونے اکٹھے کر لیے ہیں۔ پولیس حکام نے واقعے کی تمام پہلوؤں سے تفصیلی اور تزویراتی تفتیش کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ مقامی کمیونٹی اور لواحقین کی جانب سے ملوث سفاک ملزمان کی فوری گرفتاری اور ہسپتال کے غافل عملے کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا مقتدر مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ پولیس انتظامیہ کا اس مقتدر واقعے پر کہنا ہے کہ بچے کے ساتھ زیادتی کی باضابطہ تصدیق اور موت کی اصل تکنیکی وجہ کا حتمی تعین تفصیلی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا، جس کے بعد ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔

آئی سی سی کی نئی رینکنگ جاری: ٹیسٹ بیٹرز میں بابر اعظم ایک درجہ تنزلی کے بعد 20ویں نمبر پر چلے گئے، جو روٹ دوبارہ نمبر ون بن گئے

محمود احمد june 24,2026

لاہور ( نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے کھلاڑیوں کی تازہ ترین عالمی رینکنگ جاری کر دی ہے، جس کے تحت ٹیسٹ فارمیٹ میں انگلینڈ کے اسٹار بیٹر جو روٹ دو درجے مقتدر بہتری کے ساتھ ایک بار پھر دنیا کے نمبر ون ٹیسٹ بیٹر بن گئے ہیں۔ ان کی اس ترقی کے نتیجے میں انگلینڈ کے ہی ہیری بروک ایک درجہ تنزلی کے بعد دوسرے اور آسٹریلیا کے ٹریوس ہیڈ بھی ایک درجہ پیچھے ہٹ کر تیسرے نمبر پر براجمان ہو گئے ہیں۔

پاکستانی بیٹرز کے لیے تازہ رینکنگ مایوس کن رہی جہاں قومی ٹیم کے مقتدر بلے باز محمد رضوان اور بابر اعظم ایک ایک درجہ تنزلی کا شکار ہو کر بالترتیب 19 ویں اور 20 ویں نمبر پر چلے گئے ہیں، البتہ سعود شکیل نے دو درجے ترقی پا کر 22 ویں پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ نیوزی لینڈ کے بیٹرز کے لیے یہ رینکنگ شاندار ثابت ہوئی؛ راچن رویندرا دو درجے ترقی کے ساتھ دسویں، ڈیرل مچل پانچ درجے چھلانگ لگا کر 16 ویں، گلین فلپس 8 درجے بہتری کے بعد 31 ویں اور ہنری نکولس 13 درجے کی طوفانی ترقی کے ساتھ 40 ویں نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔

🏏 ٹیسٹ بولرز اور آل راؤنڈرز رینکنگ

ٹیسٹ بولنگ کی دنیا میں ایک بڑا تلاطم دیکھا گیا ہے جہاں نیوزی لینڈ کے فاسٹ بولر میٹ ہنری 6 درجے کی مقتدر ترقی کے ساتھ دنیا کے نمبر ون ٹیسٹ بولر بن گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت کے جسپریت بمرا (جو نومبر 2024ء سے نمبر ون پوزیشن پر قابض تھے) اور میٹ ہنری کے رینکنگ پوائنٹس 870 پر بالکل برابر ہو چکے ہیں۔ ٹیسٹ آل راؤنڈرز میں بھارت کے رویندرا جڈیجا کی پہلی پوزیشن بدستور مقتدر اور برقرار ہے۔

📊 ون ڈے (ODI) رینکنگ کی صورتحال

ون ڈے فارمیٹ کی بات کی جائے تو بیٹرز میں نیوزی لینڈ کے ڈیرل مچل کی پہلی پوزیشن برقرار ہے، جبکہ بھارت کے شبمن گل تین درجے مقتدر بہتری کے ساتھ دوسرے نمبر پر پہنچ گئے ہیں، جس کے باعث ویرات کوہلی ایک درجہ تنزلی کے بعد تیسرے نمبر پر چلے گئے ہیں۔ اس فارمیٹ میں پاکستان کے بابر اعظم کی بدستور چھٹی پوزیشن برقرار ہے۔

ون ڈے بولرز: افغانستان کے لیگ اسپنر راشد خان کی پہلی پوزیشن قائم ہے۔ پاکستان کے مسٹری اسپنر ابرار احمد دوسری اور فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نویں پوزیشن پر مضبوطی سے برقرار ہیں۔ بھارت کے ارش دیپ سنگھ 16 درجے کی شاندار بہتری کے ساتھ 22 ویں اور بنگلادیش کے مستفیض الرحمٰن 23 ویں نمبر پر آ گئے ہیں۔
ون ڈے آل راؤنڈرز: افغانستان کے عظمت اللہ عمرزئی پہلے اور زمبابوے کے سکندر رضا دوسرے نمبر پر برقرار ہیں، جبکہ بنگلادیش کے مہدی حسن میراز ایک درجہ ترقی کے بعد تیسری مقتدر پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

سیاسی تہذیب کا جنازہ: عمران خان نے ہماری سیاست کو جتنا نقصان پہنچایا 78 سال میں کسی نے نہیں پہنچایا، وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں مقتدر خطاب

https://images.openai.com/static-rsc-4/kBaE8tfPIruAhvxerlL3nxnKUugXBJKztmiDdPjrdH0UWmLh4EVkzIcASfKHYiVcmCs9g5j4kjRF2Hybp0ne-MVBabgsfaGiK28hHHQynHLzxTLUVYb7uEQ04WB6aRBgJNYSl3KndapbUWyucvHNFMBHke5GruZGMzy_U97vU2gapfMeVNrCmlcdNm1R9g_G?purpose=fullsize

منصور احمد june 24,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

وفاقی وزیرِ دفاع اور مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما خواجہ محمد آصف نے قومی اسمبلی کے انتہائی اہم اور تندوتیز اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کے بانی عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے مقتدر الفاظ میں دعویٰ کیا کہ عمران خان نے ملکی سیاست، پارلیمانی نظام اور اخلاقی روایات کو جتنا نقصان پہنچایا ہے، پچھلے 78 سالہ ملکی تاریخ میں کسی اور شخصیت نے نہیں پہنچایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے اپنی حکومت کے دوران اپوزیشن کے خلاف انتقامی کارروائیوں کی بدترین مثالیں قائم کیں اور سیاست سے رواداری کا مکمل خاتمہ کر دیا۔

وزیرِ دفاع نے ماضی کے حکومتی رویوں کا ذکر کرتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ جب ہم اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے تھے، تو پی ٹی آئی کے وزراء اور ارکانِ اسمبلی ہم سے ہاتھ ملانے اور بات کرنے تک سے کتراتے تھے، انہیں صرف یہ خوف لاحق رہتا تھا کہ کہیں ان کی ہم سے بات چیت دیکھ کر عمران خان ناراض نہ ہو جائیں۔ اپوزیشن بینچوں پر موجود پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اور اپوزیشن الائنس کے رہنما کا حوالہ دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ محمود خان اچکزئی پی ٹی آئی کے ساتھ بیٹھے ہوئے بہت عجیب لگتے ہیں، کیونکہ محمود اچکزئی کی اپنی ایک طویل، محترم اور مقتدر جمہوری تاریخ ہے، جبکہ پی ٹی آئی کی ایسی کوئی سیاسی یا آئینی روایت سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان شدید ترین سیاسی دشمنی کے دور میں بھی یہ خوبصورت روایت قائم تھی کہ ہم دن بھر کے سیاسی اختلافات کے باوجود رات کو کھانا ایک ساتھ کھاتے تھے۔

ماضی کی تلخیاں بھلا کر ملکی بقا کے لیے آگے بڑھنے کا فارمولا پیش کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے اعتراف کیا کہ ماضی میں اسپیکر کی مقتدر کرسی پر بیٹھ کر بھی پارٹی مفادات کے تحت یکطرفہ فیصلے دیے گئے، لیکن بعد میں ن لیگ اور پی پی پی نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھا اور ملک کو ‘میثاقِ جمہوریت’ جیسا مقتدر تحفہ دیا۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں بالخصوص پی ٹی آئی کو ایک بار پھر دعوت دیتے ہوئے کہا کہ آئیں ہم سب مل کر ماضی کی غلطیوں کو درست کریں اور ملک کے استحکام کے لیے ایک نئے میثاقِ جمہوریت پر دستخط کریں، تاہم اس مقتدر اور سنجیدہ عمل کے لیے پی ٹی آئی کے ارکان کو بھی اپنے ماضی کے طرزِ عمل اور رویوں پر گہرائی سے نظرِ ثانی کرنی ہوگی۔

میڈیا بلیک آؤٹ: مولانا فضل الرحمان کے خطاب کے دوران پی ٹی وی اور لائیو اسٹریمنگ بند، اپوزیشن کا شدید احتجاج؛ عالمی سطح پر نیک نامی کمانے والی حکومت ملک کے اندر ساکھ گنوا رہی ہے، سربراہ جے یو آئی (ف)

https://images.openai.com/static-rsc-4/kRUjIXS1DgN4pIOmaZNFK1uOJTVtGr9zT5n-w0h8jyQV6cNLvo-zkxCF67NlUGBA5Siwbm8zn65tZymZXpjrF5Pquy1YDKsVSFI5sEGJFWYxjeT7z4s8br_WZZRy1ddTughjFU124BXUtxBHJT7zitX5-meXN9q7GJH-2D6UaVvbro6FLQp5YXq3VsuRealE?purpose=fullsize

منصور احمد june 24,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی کے انتہائی مقتدر اجلاس میں وفاقی حکومت، اسپیکر اور عسکری قیادت کے سیاسی کردار کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایوان میں ہلچل مچا دی ہے۔ تاہم، اس تندوتیز خطاب کے دوران ایک سنسنی خیز موڑ اس وقت آیا جب سرکاری ٹی وی کے چینل ‘پی ٹی وی پارلیمنٹ’ اور نیشنل اسمبلی کی آفیشل لائیو اسٹریمنگ کو اچانک اور مقتدر طور پر بند کر دیا گیا۔ ایوان کے اندر نصب اسکرینوں اور اسپیکرز پر بھی مولانا کی آواز کو دبا دیا گیا، جس پر اپوزیشن ارکان نے ڈیسک بجا کر شدید ترین احتجاج ریکارڈ کروایا۔

نشریات کی بندش سے قبل مولانا فضل الرحمان نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “جناب اسپیکر! کل آپ بھی ایوان میں ضرورت سے زیادہ بولے، کل آپ نے جو جذباتی گفتگو کی تھی، وہ آپ کے منصب کے شایانِ شان نہیں تھی اور آپ کو ایسی گفتگو سے گریز کرنا چاہئے تھا”۔ حکومتی بینچوں پر بیٹھی مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو ماضی کا آئینہ دکھاتے ہوئے امیر جے یو آئی (ف) نے کہا کہ جب میاں نواز شریف ہمارے ساتھ کنٹینر پر کھڑے ہوتے تھے، تو کیا وہ جلسوں میں آرمی چیف اور آئی ایس آئی کا نام نہیں لیتے تھے؟ کیا نواز شریف نے خود فوج کو ‘محکمہ زراعت’ کا مقتدر لقب نہیں دیا تھا؟ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت عالمی سطح پر (امریکا ایران معاہدے کے باعث) شاید نیک نامی کما رہی ہو، لیکن پاکستان کے اندر وہ اپنی تمام تر نیک نامی گنوا چکی ہے؛ پاکستان کی فوج کو سرحدوں کی حفاظت کرنی چاہئے، لیکن اسے ملک کے اندر سیاسی و انتظامی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

آزاد کشمیر کی حالیہ کشیدہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے عوامی ایکشن کمیٹی کے اس مقتدر فیصلے کا خیرمقدم کیا جس کے تحت انہوں نے مظفرآباد کی طرف اپنا لانگ مارچ فی الحال مؤخر کیا ہے۔ انہوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے شکوہ کیا کہ کل تک ہم عالمی فورمز پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا رونا روتے تھے، لیکن آج ہم خود اپنے آزاد کشمیر کے عوام کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں؟ وفاقی کابینہ کے رویے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایوان میں جو متنازع گفتگو کی، وہ ان کے منصب کے بالکل خلاف تھی۔ حکومت کی پالیسی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے مقتدر طنز کیا کہ آپ کی حکمتِ عملی سمجھ سے بالاتر ہے، کیونکہ آپ نے لڑائی کا ٹاسک خواجہ آصف کو اور صلح صفائی کا کام نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے حوالے کر رکھا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے اس مقتدر خطاب کو سنسر کیے جانے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر بھی سیاسی درجہ حرارت شدید بڑھ گیا ہے۔