لاہور (اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے ون ڈے کرکٹ کی تازہ ترین آفیشل پلیئرز رینکنگ جاری کر دی گئی ہے جس کے مطابق نیوزی لینڈ کے مایہ ناز بیٹر ڈیرل مچل بدستور بیٹنگ فہرست میں دنیا کے پہلے نمبر کے بیٹر بنے ہوئے ہیں، لاہور سے حاصل ہونے والی اسپورٹس تفصیلات کے مطابق آئی سی سی کی نئی رینکنگ کے تحت بھارتی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز بیٹر ویرات کوہلی دنیا کے دوسرے بہترین بیٹر کے طور پر اپنی پوزیشن پر مضبوطی سے براجمان ہیں جبکہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان بابر اعظم اس نئی ون ڈے رینکنگ میں چھٹے نمبر پر موجود ہیں، دوسری جانب اگر دنیا کے بہترین بولرز کی ون ڈے رینکنگ پر نظر ڈالی جائے تو وہاں افغانستان کے مایہ ناز لیگ اسپنر راشد خان نے شاندار انداز میں اپنی پہلی پوزیشن کو برقرار رکھا ہوا ہے جبکہ پاکستان کے جادوئی اسپنر ابرار احمد اپنی حالیہ بہترین کارکردگی کی بدولت عالمی بولرز کی فہرست میں دوسرے نمبر پر موجود ہیں، اسی طرح پاکستان کے مایہ ناز فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے بھی شاندار کارکردگی کے بل بوتے پر رینکنگ میں ایک درجہ ترقی حاصل کر لی ہے جس کے بعد وہ دنیا کے ٹاپ ٹین بولرز کی فہرست میں نویں پوزیشن سنبھالنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
ہیوسٹن، امریکہ (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء
فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے اپنے افتتاحی میچ میں پرتگال کی ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (ڈی آر کانگو) کے خلاف مایوس کن کارکردگی کے بعد مایہ ناز اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں اور کھیلوں کے ماہرین نے ان کی بڑھتی عمر اور ٹیم میں موجودہ کردار پر گہرے سوالات اٹھانا شروع کر دیے ہیں، امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں کھیلے گئے اس سنسنی خیز میچ میں پرتگال نے ابتدا میں جواؤ نیویس کے بہترین ہیڈر کی بدولت برتری حاصل کر لی تھی اور وٹینیا، برونو فرنینڈس اور برنارڈو سلوا پر مشتمل مضبوط پرتگالی مڈفیلڈ نے کھیل پر مکمل کنٹرول برقرار رکھتے ہوئے حریف کے مقابلے میں زیادہ پاسز بھی کیے مگر اس کے باوجود ٹیم کو حتمی گول کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا رہا، میچ میں ۴۱ سالہ رونالڈو بطور مین اسٹرائیکر بالکل غیر مؤثر ثابت ہوئے اور پورے میچ میں ان کے پاؤں سے صرف ۲۵ بار گیند ٹچ ہوئی جبکہ وہ حریف ٹیم کے نیٹ پر ایک بھی ہدف کے مطابق شاٹ لگانے میں بری طرح ناکام رہے جس کے باعث یہ اہم میچ ۱-۱ سے برابر ختم ہوا اور ڈی آر کانگو نے ورلڈکپ کا ایک قیمتی پوائنٹ حاصل کر لیا۔
اعداد و شمار کے لحاظ سے ڈی آر کانگو نے پرتگال کے مقابلے میں زیادہ شاٹس مارے اور بہتر گولز پوزیشنز پیدا کیں جس سے پرتگالی اٹیک کی سنگین کمزوری واضح ہو گئی، رونالڈو اس میچ میں ۴۱ سال اور ۱۳۲ دن کی عمر کے ساتھ ورلڈکپ کی تاریخ کے معمر ترین آؤٹ فیلڈ کھلاڑی بن گئے ہیں مگر ناقدین کا کہنا ہے کہ عمر کے اثرات اب ان کی کارکردگی پر واضح ہو چکے ہیں اور ماضی کا یہ برق رفتار ونگر اب صرف سینٹر فارورڈ تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، تشویشناک بات یہ ہے کہ رونالڈو اپنے حالیہ ورلڈکپس اور یورو کپ کے آخری میچز میں کوئی بھی گول اسکور نہیں کر سکے اور جب وہ الیون کا حصہ ہوتے ہیں تو پرتگال کی گول اوسط اوسطاً ۱.۹ ہوتی ہے جبکہ ان کی عدم موجودگی میں یہ اوسط بڑھ کر ۲.۸ گول تک پہنچ جاتی ہے، دوسری جانب پرتگال کے ہیڈ کوچ روبرٹو مارٹینز نے رونالڈو کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا کہ فٹبال کی تاریخ کے سب سے بڑے اسکورر کو کٹھن میچ میں فیلڈ سے باہر نکالنا عقلمندی نہیں ہے، تاہم اس خراب آغاز کے بعد فٹبال کی دنیا میں یہ بحث اب عروج پر پہنچ چکی ہے کہ آیا رونالڈو پرتگال کی موجودہ ورلڈکپ مہم میں ایک مضبوط طاقت ثابت ہوں گے یا پھر ٹیم کے لیے سب سے کمزور کڑی بن جائیں گے۔
دنیائے ٹینس کے سب سے معتبر اور رواں سال کے تیسرے بڑے گرینڈ سلام ومبلڈن اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کا ۱۳۹ واں ایڈیشن ۲۹ جون سے انگلینڈ کے تاریخی میدانوں میں شروع ہونے جا رہا ہے، لندن سے برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کے حوالے سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق ومبلڈن اوپن کی آرگنائزنگ کمیٹی نے تصدیق کی ہے کہ اس میگا ایونٹ کے کامیاب انعقاد کے لیے تمام تر تیاریاں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں اور یہ شاندار عالمی ٹورنامنٹ روایتی طور پر آل انگلینڈ لان ٹینس اور کروکٹ کلب ومبلڈن کے مشہورِ زمانہ گراس کورٹ (گھاس کے میدان) پر کھیلا جائے گا جس میں دنیا کے نامور اور مایہ ناز ٹینس اسٹارز ٹائٹل کے حصول کے لیے کورٹ میں آمنے سامنے ہوں گے، انتظامیہ کے مطابق اس بار میگا ایونٹ میں مینز سنگلز، ویمنز سنگلز، مینز ڈبلز، ویمنز ڈبلز اور مکسڈ ڈبلز کے زبردست مقابلے دیکھنے کو ملیں گے، اس بار اٹلی کے نامور ٹینس سٹار جینک سنر مینز سنگلز مقابلوں میں اپنے چیمپیئن ہونے کے اعزاز کا دفاع کریں گے جبکہ خواتین کے سنگلز مقابلوں میں پولینڈ کی مایہ ناز کھلاڑی آئیگا سویٹیک اپنے اعزاز کی بقا کے لیے کورٹ میں اتریں گی جنہوں نے ۲۰۲۵ء کا ویمنز سنگلز ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔
دوسری جانب اگر ڈبلز مقابلوں کی بات کی جائے تو مینز ڈبلز میں جولین کیش اور لائیڈ گلاسپول پر مشتمل برطانوی جوڑی ایک بار پھر ہوم گراؤنڈ پر اپنے اعزاز کے دفاع کے لیے بھرپور کوشش کرے گی جبکہ ویمنز ڈبلز مقابلوں میں روس کی نامور ٹینس کھلاڑی ویرونیکا کدرمیٹووا اور ان کی بیلجیم کی مضبوط جوڑی دار ایلیس مرٹینز اپنے عالمی ٹائٹل کو بچانے کے لیے حریف کھلاڑیوں کے خلاف پنجہ آزمائی کرتی دکھائی دیں گی، شیڈول کے مطابق رواں سال کا یہ تیسرا بڑا گرینڈ سلام میگا ایونٹ ۲۹ جون سے باقاعدہ شروع ہو کر مسلسل ۱۴ دن تک جاری رہنے کے بعد ۱۲ جولائی کو اپنے شاندار اختتام کو پہنچے گا، ومبلڈن ٹورنامنٹ کی انتظامیہ نے دنیا بھر کے کھلاڑیوں کے لیے ایک اور بڑی خوشخبری سناتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس بار ومبلڈن اوپن ٹینس کے لیے مجموعی طور پر ۶ کروڑ ۴۲ لاکھ پاؤنڈ کی خطیر انعامی رقم مختص کی گئی ہے جو کہ گزشتہ ۲۰۲۵ء کے ایڈیشن کے مقابلے میں پورے ۲۰ فیصد زیادہ ہے اور یہ خطیر رقم ٹورنامنٹ کی طویل تاریخ میں سال بہ سال ہونے والا سب سے بڑا اور تاریخی مالیاتی اضافہ ہے جس نے دنیا بھر کے کھلاڑیوں کا جوش و خروش مزید بڑھا دیا ہے۔
میامی، امریکہ (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء
جاری فٹبال ورلڈکپ ۲۰۲۶ء میں اپنی جاندار پرفارمنس کی بدولت راتوں رات شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے کیپ ورڈی کے مایہ ناز گول کیپر ”وزینا“ کی والدہ اب اپنے بیٹے کو ایکشن میں دیکھنے کے لیے امریکہ کے مشہورِ زمانہ میامی اسٹیڈیم میں موجود ہوں گی، اسپورٹس ذرائع کے مطابق وزینا کی والدہ اینا کانڈیڈہ بھاری امریکن ویزا فیس کی وجہ سے اب تک امریکہ نہیں جا سکی تھیں لیکن امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے خصوصی طور پر ان کی ویزا فیس معاف کر کے ان کے امریکہ پہنچنے کے ہنگامی انتظامات شروع کر دیے ہیں، یو ایس ہاؤس ڈیموکریٹک لیڈر حکیمی جیفریز نے سوشل میڈیا پر اس بڑی خوشخبری کو شیئر کرتے ہوئے دنیا کو بتایا کہ انہوں نے امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو سے اس اہم معاملے پر خصوصی بات چیت کی تھی کہ وہ اپنے صوابدیدی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے چالیس سالہ اسٹار گول کیپر کی بوڑھی والدہ کو میچ دیکھنے کے لیے امریکہ بلانے میں مدد کریں، حکیمی جیفریز کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ سرکاری اعلان کرتے ہوئے دلی خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ بھاری فیس کی وجہ سے رکی ہوئی وزینا کی والدہ اب اتوار کے روز کیپ ورڈی اور یوراگوئے کے مابین ہونے والا سنسنی خیز مقابلہ دیکھنے کے لیے میامی کے اسٹیڈیم میں موجود ہوں گی کیونکہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ان کا ویزا جاری کر کے ان کے فضائی سفر کے انتظامات بھی سنبھال لیے ہیں۔
امریکہ روانگی کی منظوری پر وزینا کی والدیہ اینا کانڈیڈہ نے گہرے جذباتی انداز میں خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت دنیا کی خوش قسمت ترین ماں ہیں اور اپنے بیٹے سے ملنے اور اسے اتنے بڑے عالمی اسٹیج پر کھیلتے ہوئے دیکھنے کے لیے شدید بے چین ہیں، واضح رہے کہ فٹبال ورلڈکپ ۲۰۲۶ء میں شریک کیپ ورڈی سمیت دنیا کے پانچ مخصوص ممالک کے شائقینِ فٹبال کے لیے سخت امریکی امیگریشن پالیسی کے تحت ناقابلِ واپسی ویزا فیس کی مد میں ۱۱ ہزار پاؤنڈ جمع کرانے کی کڑی شرط عائد تھی جو کہ رواں سال مئی کے مہینے میں تبدیل کی گئی تھی، اسی سخت قانون اور بھاری فیس کی وجہ سے وزینا کی فیملی امریکہ آنے سے قاصر تھی لیکن اب امریکی حکومت کے اس بڑے اور ہمدردانہ فیصلے کے بعد اسٹار گول کیپر کی والدہ اتوار کو اسٹیڈیم کے وی آئی پی اسٹینڈز میں بیٹھ کر اپنی ٹیم اور بیٹے کی حوصلہ افزائی کریں گی جس پر کیپ ورڈی کے فٹبال فینز نے امریکی حکام کا شکریہ ادا کیا ہے۔
ویانا (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء
بین الاقوامی فٹبال ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے ایک انتہائی اہم اور سنسنی خیز میچ میں آسٹریا نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اردن کی ٹیم کو ۱ کے مقابلے میں ۳ گول سے شکست دے دی ہے، ویانا سے حاصل ہونے والی اسپورٹس رپورٹس کے مطابق میچ کے آغاز سے ہی آسٹریا کے فارورڈز نے اردن کے دفاعی حصار پر تابڑ توڑ حملے کیے، آسٹریا کی جانب سے پہلا گول اسکمڈ نے اسکور کر کے ٹیم کو برتری دلائی جبکہ دوسرا گول یزان العرب اور تیسرا فیصلہ کن گول مارکو نے نیٹ میں پہنچا کر اپنی ٹیم کی جیت کو یقینی بنا دیا، دوسری طرف اردن کی فٹبال ٹیم میچ میں وہ جاندار کارکردگی نہ دکھا سکی جس کی ان سے امید تھی اور ان کی جانب سے میچ کا واحد اور تسلی بخش گول علی الوان نے اسکور کیا، آسٹریا کے مضبوط دفاع کے باعث اردن کے کھلاڑی مزید کوئی گول کرنے میں ناکام رہے اور یوں آسٹریا نے یہ میچ آسانی سے اپنے نام کر لیا۔
عالمی کپ کے سلسلے میں کھیلے گئے دیگر میچز کی تفصیلات کے مطابق فٹبال کی دنیا کی سب سے مقبول ٹیم ارجنٹینا نے اپنے ایک یکطرفہ مقابلے میں الجزائر کی ٹیم کو ۰-۳ کے واضح فرق سے دھول چٹا دی ہے، ارجنٹینا کی اس فتح میں ان کے مایہ ناز کپتان اور لیجنڈری فٹبالر لیونل میسی نے روایتی جادوئی کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے تینوں گول خود اسکور کیے اور میدان میں شاندار ہیٹرک مکمل کر کے اپنی ٹیم کو اہم کامیابی دلائی، اسی طرح ورلڈکپ کے ایک اور میچ میں ناروے کی ٹیم نے اسٹار فٹبالر ایرلنگ ہالینڈ کی طوفانی کارکردگی کی بدولت عراق کی ٹیم کو ۱ کے مقابلے میں ۴ گول کے بھاری مارجن سے عبرتناک شکست سے دوچار کیا ہے، ناروے کی اس بڑی جیت میں ایرلنگ ہالینڈ نے انفرادی طور پر ۲ شاندار گول داغ کر اپنی ٹیم کی پوزیشن کو مستحکم کیا جس کے سامنے عراقی دفاع بالکل ریت کی دیوار ثابت ہوا اور وہ پورے میچ میں صرف ایک ہی گول اسکور کر پائے۔
لاہور (اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء
پاکستان بلائنڈ کرکٹ کونسل (پی بی سی سی) کے زیرِ اہتمام ایبٹ آباد میں جاری نویں ٹی ٹونٹی بلائنڈ کرکٹ سپر لیگ کے تیسرے روز کھیلے گئے پانچویں اہم میچ میں خیبرپختونخوا نے سندھ کی ٹیم کو ۵۵ رنز سے عبرتناک شکست دے دی ہے، اسپورٹس ذرائع کے مطابق سندھ کی ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا جو کہ سودمند ثابت نہ ہوا اور خیبرپختونخوا نے مقررہ ۲۰ اوورز میں صرف ایک وکٹ کے نقصان پر ۲۷۹ رنز کا ہمالیہ جیسا بڑا اسکور کھڑا کر دیا، خیبرپختونخوا کی جانب سے بدر منیر نے شاندار اور طوفانی بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے محض ۶۷ گیندوں پر ۱۹ چوکوں اور ۵ چھکوں کی مدد سے ۱۴۷ رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی جبکہ اکمل حیات ناصر نے ۵۷ گیندوں پر ۷۷ رنز بنا کر ان کا بھرپور ساتھ دیا، ان دونوں اوپنرز نے پہلی وکٹ کی شراکت میں ۲۶۸ رنز کی ریکارڈ پارٹنرشپ قائم کی، ۲۸۰ رنز کے ہدف کے تعاقب میں سندھ کی ٹیم نے بھرپور مزاحمت تو کی لیکن وہ مقررہ ۲۰ اوورز میں ۶ وکٹوں پر ۲۲۴ رنز ہی بنا سکی، سندھ کی طرف سے محمد صفدر نے ۸۴ اور ظفر اقبال نے ۵۲ رنز کی اننگز کھیلی جبکہ خیبرپختونخوا کے بولر محمد ادریس سلیم نے ۳ اور جنید خان نے ۲ وکٹیں حاصل کیں، بدر منیر کو ان کی شاندار سنچری پر میچ کا بہترین کھلاڑی (پلیئر آف دی میچ) قرار دیا گیا۔
ایبٹ آباد میں کھیلے گئے دن کے دوسرے میچ میں پنجاب اور بلوچستان کے مابین سنسنی خیز مقابلہ شدید اور اچانک شروع ہونے والی بارش کے باعث بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا ہے، اس میچ میں بلوچستان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تھا جس پر پنجاب کی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ ۲۰ اوورز میں ۳ وکٹوں کے نقصان پر ۲۰۳ رنز کا جاندار اسکور بنایا، پنجاب کی جانب سے نثار علی نے ۵۸ گیندوں پر ۸۰ رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی جبکہ مطیع اللہ نے ۳۲ گیندوں پر ۶۳ رنز کی تیز رفتار اننگز سے ٹیم پوزیشن کو مضبوط کیا، بلوچستان کی طرف سے بولنگ میں محمد نعمان اور اسرار الحسن نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا، پنجاب کی اننگز جیسے ہی مکمل ہوئی تو ایبٹ آباد کا موسم اچانک تبدیل ہو گیا اور اتنی تیز موصلادھار بارش شروع ہو گئی کہ بلوچستان کی ٹیم اپنی اننگز کا آغاز بھی نہ کر سکی، کافی دیر انتظار کے بعد بھی جب موسم بہتر نہ ہوا اور گراؤنڈ کھیلنے کے قابل نہ رہا تو امپائرز نے میچ کو باقاعدہ منسوخ کرتے ہوئے ڈرا قرار دے دیا اور دونوں ٹیموں کو برابر پوائنٹس مل گئے۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے بدھ کے روز جاری کردہ تازہ ترین ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل رینکنگ میں پاکستانی کرکٹرز کو شدید تنزلی کا سامنا کرنا پڑا ہے، دبئی سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق بلے بازوں کی فہرست میں اوپنر صاحبزادہ فرحان ٹاپ تھری میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے والے واحد پاکستانی بلے باز ہیں جو بدستور تیسرے نمبر پر براجمان ہیں جبکہ ان کے علاوہ پاکستان کے باقی تمام نمایاں بلے بازوں کی رینکنگ گر گئی ہے، تازہ ترین اپ ڈیٹ کے مطابق صائم ایوب دو درجے گر کر ۳۶ ویں سے ۳۸ ویں نمبر پر پہنچ گئے ہیں، سابق کپتان بابر اعظم بھی تین درجے تنزلی کے بعد ۴۱ ویں نمبر پر چلے گئے ہیں جبکہ ٹی ٹونٹی ٹیم کے موجودہ کپتان سلمان علی آغا دو درجے گر کر ۴۳ ویں پوزیشن پر آ گئے ہیں، اسی طرح جارح مزاج بیٹر فخر زمان بھی ایک پوزیشن سے محروم ہو کر ۷۲ ویں نمبر پر چلے گئے ہیں، بیٹنگ رینکنگ میں بھارت کے ابھیشیک شرما پہلے اور ایشان کشن دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔
دوسری جانب اگر بولنگ رینکنگ کی بات کی جائے تو وہاں بھی زیادہ تر پاکستانی بولرز کا گراف نیچے گرا ہے، جہاں اسپنر محمد نواز ۱۱ ویں اور سلمان مرزا ۲۰ ویں نمبر پر برقرار ہیں، وہی مایہ ناز فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی ایک درجہ تنزلی کے بعد ۳۱ ویں پوزیشن پر چلے گئے ہیں، اسپنر عثمان طارق دو درجے گر کر ۶۱ ویں اور سفیان مقیم ایک درجہ تنزلی کے ساتھ ۶۸ ویں نمبر پر پہنچ گئے ہیں جبکہ صائم ایوب اور شاداب خان بالترتیب ۷۲ ویں اور ۷۴ ویں نمبر پر موجود ہیں، پاکستانی بولرز میں صرف حارث رؤف واحد کھلاڑی رہے جن کی رینکنگ میں بہتری آئی اور وہ ایک درجہ ترقی پا کر ۸۹ ویں نمبر پر پہنچ گئے ہیں، بولنگ کی عالمی رینکنگ میں افغانستان کے راشد خان پہلے اور بھارت کے ورون چکرا ورتھی دوسرے نمبر پر ہیں جبکہ پاکستان کے مسٹری اسپنر ابرار احمد بدستور تیسری پوزیشن پر مضبوطی سے براجمان ہیں۔
میامی، امریکہ (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء
بین الاقوامی فٹبال ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے میدانوں سے مسلم امہ اور دنیا بھر کے شائقین کے لیے ایک انتہائی خوبصورت اور ایمان افروز خبر سامنے آئی ہے جہاں فٹبال کی سب سے بڑی عالمی تنظیم (فیفا) نے کلمہ طیبہ کے غیر معمولی احترام اور تقدس کو مدنظر رکھتے ہوئے سعودی عرب کے قومی پرچم کے لیے اپنا دہائیوں پرانا روایتی پری میچ پروٹوکول یکسر تبدیل کر دیا ہے، امریکہ کے شہر میامی سے حاصل ہونے والی خصوصی کھیلوں کی تفصیلات کے مطابق فیفا فٹبال ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے گروپ میچز کے دوران سعودی عرب کے قومی پرچم کو دیگر تمام ممالک کے جھنڈوں کی طرح میچ شروع ہونے سے قبل اسٹیڈیم کے گراؤنڈ پر بچھانے یا پھیلانے کے بجائے خصوصی طور پر ایک انتہائی بلند اور محترم مقام پر آویزاں کیا گیا جس نے دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں اور کھیلوں کے شائقین کی توجہ اور دل جیت لیے ہیں، عام طور پر فیفا کے مروجہ انٹرنیشنل پری میچ پروٹوکول کے تحت میچ شروع ہونے سے قبل دونوں شریک ممالک کے دیو ہیکل پرچموں کو گراؤنڈ کی گھاس پر چٹائی کی طرح پھیلایا جاتا ہے تاہم سعودی عرب کے پرچم کے معاملے میں اس بار ایک بالکل منفرد، معزز اور مختلف طرزِ عمل اختیار کیا گیا جو کہ عالمی سطح پر مذہبی رواداری کی ایک بہترین مثال ہے۔
کھیلوں کے بین الاقوامی مبصرین کے مطابق فیفا کی جانب سے اس تاریخی تبدیلی کی بنیادی اور اصل وجہ سعودی عرب کے قومی پرچم پر درج مقدس ”کلمہ طیبہ“ ہے جو کہ دینِ اسلام کے بنیادی ترین عقیدے اور توحید و رسالت کی نمائندگی کرتا ہے، سعودی عرب کے ملکی قوانین، اسلامی شعائر اور دیرینہ مذہبی روایات کے مطابق کلمہ طیبہ والے اس قومی پرچم کو کسی بھی صورت زمین پر رکھنا، اس کے اوپر سے گزرنا، پاؤں لگانا یا اسے کسی بھی ایسے انداز میں استعمال کرنا جس سے ذرا سا بھی بے حرمتی یا بے توقیری کا تاثر پیدا ہو، انتہائی نامناسب اور سخت ممنوع سمجھا جاتا ہے، اسی شدید مذہبی حساسیت اور مسلمانوں کے پاک جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹورنامنٹ کی مرکزی انتظامیہ اور فیفا حکام نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سعودی پرچم کو زمین کی مٹی یا گھاس پر رکھنے کے بجائے اسٹیڈیم میں ایک مخصوص، معزز اور بلند مقام پر نصب کیا تاکہ اس کے تقدس، حرمت اور احترام کو سو فیصد برقرار رکھا جا سکے۔
دوسری جانب اگر میدان کے اندر کھیل کے مابین ہونے والے جوڑ کی بات کی جائے تو فیفا فٹبال ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے اس انتہائی اہم میچ میں سعودی عرب اور عالمی شہرت یافتہ ٹیم یوراگوئے کے درمیان کھیلا گیا معرکہ سخت مقابلے کے بعد ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ہی ڈرا ہو گیا ہے، امریکہ کے مشہورِ زمانہ میامی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے گروپ ”ایچ“ کے اس اعصاب شکن اور سنسنی خیز میچ میں یوراگوئے اور سعودی عرب کے کھلاڑیوں نے ایک دوسرے کے گول پوسٹ پر تابڑ توڑ حملے کیے تاہم مقررہ وقت کے خاتمے تک دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلہ ۱-۱ گول سے برابر رہا اور دونوں ممالک کو ایک ایک پوائنٹ پر ہی اکتفا کرنا پڑا، اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں تماشائیوں نے جہاں سعودی فٹبال ٹیم کی جاندار پرفارمنس کو سراہا، وہی پرچم کے احترام میں فیفا کے اس بڑے فیصلے کی بھی کھل کر تعریف کی ہے۔
لاہور (اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 14 جون 2026ء
پاکستان کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بیٹر خوشدل شاہ نے قومی ٹیم کے انتخابی معیار اور ڈومیسٹک کرکٹ کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر کھل کر گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ مایہ ناز بلے باز صاحبزادہ فرحان کئی برسوں سے ڈومیسٹک کرکٹ میں مسلسل اور غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے تھے، تاہم اس طویل عرصے کے دوران ان کی شاندار کارکردگی کو سلیکٹرز اور بورڈ کی جانب سے وہ توجہ اور اہمیت نہیں ملی جس کے وہ حقیقی طور پر مستحق تھے، میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے خوشدل شاہ نے ملکی کرکٹ کے انتخابی ڈھانچے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پہلے کرکٹ حلقوں میں یہ غلط تاثر دیا جا رہا تھا کہ صاحبزادہ فرحان کو ڈومیسٹک کرکٹ میں رنز کے پہاڑ کھڑے کرنے کی بنیاد پر فوری طور پر قومی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے، لیکن تلخ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے کیونکہ وہ گزشتہ چار سے پانچ سال سے فرسٹ کلاس اور ڈومیسٹک کرکٹ کے نمایاں ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے آ رہے تھے اور ہر سیزن میں مسلسل رنز بنا رہے تھے، اس کے باوجود ان کا نام قومی اسکواڈ کے لیے کبھی بھی سنجیدگی سے زیرِ غور نہیں لایا جا رہا تھا اور انہیں مستقل نظر انداز کیا جاتا رہا۔
خوشدل شاہ کا کہنا تھا کہ ڈومیسٹک کرکٹ کے ساتھ اس سوتیلی ماں جیسے سلوک کے بعد جب صاحبزادہ فرحان نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے چمکدمک والے اسٹیج پر اپنی عمدہ اور جارحانہ کارکردگی دکھائی، تو اچانک تمام حکام اور سلیکٹرز کی توجہ ان کی جانب مبذول ہو گئی اور انہیں راتوں رات قومی ٹیم کا حصہ بنا دیا گیا، انہوں نے بورڈ کی پالیسیوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صرف پی ایس ایل کی بنیاد پر فیصلے کرنے کے بجائے ڈومیسٹک کرکٹ میں سالہا سال مستقل مزاجی سے پرفارم کرنے والے محنتی کھلاڑیوں کو ہر حال میں بروقت بین الاقوامی مواقع ملنے چاہئیں تاکہ ان کی بے پناہ محنت، پسینے اور خداداد صلاحیتوں کا صحیح معنوں میں اعتراف ممکن ہو سکے، خوشدل شاہ کے اس دبنگ اور واضح بیان کے بعد ملک میں ایک بار پھر ڈومیسٹک کرکٹ کی افادیت اور قومی ٹیم کے انتخابی معیار پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جبکہ دوسری جانب کرکٹ شائقین اور ماہرین کا بھی یہی کہنا ہے کہ اگر پاکستانی کرکٹ کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے تو محض چند ٹی ٹوئنٹی میچز کے بجائے فرسٹ کلاس اور ڈومیسٹک کے تپتے ہوئے میدانوں میں مستقل کارکردگی دکھانے والے ہیروز کو قومی سطح پر پہلی ترجیح دینا ہو گی۔
لاہور (اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 14 جون 2026ء
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ملک میں کرکٹ کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور کھلاڑیوں کی کارکردگی کو نکھارنے کے لیے قومی کرکٹرز کی میچ فیس میں نمایاں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے سینٹرل کنٹریکٹ کے موجودہ نظام میں دور رس اور اہم ترین تبدیلیاں نافذ کر دی ہیں، قذافی اسٹیڈیم لاہور میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے کرکٹ بورڈ کے ان انقلابی فیصلوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ میچ فیس میں کیے جانے والے اس تاریخی اضافے کا باقاعدہ اطلاق ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی تینوں فارمیٹس پر یکساں ہو گا، تاہم اس کے ساتھ ہی بورڈ نے کھلاڑیوں کے لیے قانون سخت کرتے ہوئے یہ لازمی قرار دیا ہے کہ اب قومی ٹیم کے کسی بھی اسٹار کھلاڑی کے لیے مقامی ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنا سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے کی اولین اور بنیادی شرط ہو گی، انہوں نے دوٹوک الفاظ میں تنبیہ کی کہ آئندہ جو بھی نامور کھلاڑی بورڈ کی جانب سے مقرر کردہ سخت معیار، فٹنس ٹیسٹ اور گراؤنڈ کارکردگی پر پورا نہیں اترے گا اسے کسی بھی صورت سینٹرل کنٹریکٹ کی فہرست میں شامل نہیں کیا جائے گا چہ جائیکہ وہ کتنا ہی بڑا کھلاڑی کیوں نہ ہو، چیئرمین پی سی بی کے مطابق اب کھلاڑیوں کے لیے پانچ مختلف اور جدید کیٹیگریز متعارف کروائی جا رہی ہیں اور ٹیسٹ، ون ڈے سمیت ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے لیے الگ الگ عسکری نوعیت کی حکمتِ عملی مرتب کی گئی ہے تاکہ ہر فارمیٹ کی تکنیکی ضروریات کے مطابق بہترین اور موزوں ترین کھلاڑیوں کا انتخاب میرٹ پر ممکن بنایا جا سکے۔
محسن نقوی نے کرکٹ شائقین کو بڑی خوشخبری سناتے ہوئے بتایا کہ قومی ٹیم میں سفارشی کلچر کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرنے کے لیے سلیکشن کے پورے نظام کو زیادہ سے زیادہ جدید اور کمپیوٹرائزڈ کیا جا رہا ہے جس کے بعد اب ٹیم سلیکشن کے تقریباً ۸۵ فیصد فیصلے خالصتاً ڈیٹا، کھلاڑی کی فٹنس اور پچھلی کارکردگی کی بنیاد پر سافٹ ویئر کے ذریعے کیے جائیں گے جس سے ٹیم کے انتخاب میں سو فیصد شفافیت اور حقیقی میرٹ کو فروغ ملے گا، ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک اہم سوال کا جواب دیتے ہوئے چیئرمین پی سی بی نے واضح کیا کہ قیادت کے حوالے سے کوئی بھی حتمی فیصلہ کرنا میرا کام نہیں بلکہ یہ اختیار مکمل طور پر سلیکشن کمیٹی اور متعلقہ کرکٹ حکام کے پاس ہے، جبکہ آل راؤنڈر شاداب خان کی سفید گیند کی کرکٹ میں ممکنہ کپتانی سے متعلق خبروں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ فی الحال ایسی کسی بھی پیش رفت سے بالکل آگاہ نہیں ہیں، انہوں نے قومی ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز وکٹ کیپر بیٹر سرفراز احمد کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں پاکستانی کرکٹ کا ایک انتہائی قیمتی اور ناقابلِ فراموش اثاثہ قرار دیا اور کہا کہ سرفراز احمد کی ملکی کرکٹ کے لیے خدمات اور ان کے وسیع تجربے کو کرکٹ بورڈ ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھے گا، کرکٹ مبصرین اور سابق مائیہ ناز کھلاڑیوں نے پی سی بی کے ان نئے اور کڑے فیصلوں کو قومی کرکٹ میں میرٹ کی بالادستی، کارکردگی میں تسلسل اور زوال پذیر ڈومیسٹک نظام کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی جانب ایک انتہائی کلیدی اور جرات مندانہ قدم قرار دیا ہے۔
پاکستان سپر لیگ کے سال دو ہزار چھبیس میں ہونے والے شاندار ایڈیشن نے ملک میں کرکٹ کی تاریخ کے تمام سابقہ مالیاتی ریکارڈ پاش پاش کر دیے ہیں جہاں پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس مرتبہ سات ارب چوّن کروڑ روپے سے زائد کی ریکارڈ توڑ آمدنی اور منافع حاصل ہوا ہے جبکہ لیگ میں ٹیموں کی تعداد بڑھا کر آٹھ کرنے کے انقلابی اقدام کی بدولت بورڈ کا مجموعی منافع دو ارب روپے سے اچانک چھلانگ لگا کر ساڑھے سات ارب روپے کی خطیر رقم تک جا پہنچا ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاکستان سپر لیگ کے سال دو ہزار چھبیس کے تمام اخراجات، مجموعی آمدن اور خالص منافع کی باضابطہ اور تفصیلی رپورٹ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اہم اجلاس میں پیش کر دی ہے، سینیٹ کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی پی سی بی کی اس سرکاری رپورٹ کی تفصیلات کے مطابق اس سال پاکستان سپر لیگ کے کامیاب انعقاد پر مجموعی طور پر دو ارب چونسٹھ کروڑ چوّن لاکھ روپے سے زائد کے اخراجات آئے جبکہ اس کے مقابلے میں لیگ کے مختلف تجارتی و نشریاتی ذرائع سے ہونے والی مجموعی آمدن دس ارب انیس کروڑ باون لاکھ روپے سے زائد ریکارڈ کی گئی ہے، اس طرح تمام اخراجات نکالنے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کو ٹیکس کی ادائیگی سے قبل خالصتاً سات ارب چوّن کروڑ اٹھانوے لاکھ روپے سے زائد کا تاریخی منافع حاصل ہوا ہے جو کہ ایک نیا عالمی ریکارڈ ہے، کرکٹ بورڈ کے مالیاتی تقابل کے مطابق گزشتہ سال دو ہزار پچیس کے ایڈیشن کے دوران بورڈ کو محض دو ارب روپے کا منافع ہوا تھا جبکہ سال دو ہزار چوبیس کے ایڈیشن کے دوران پی سی بی کو دو ارب چھیالیس کروڑ روپے کا منافع حاصل ہوا تھا تاہم اس سال ٹیموں کی تعداد آٹھ تک بڑھانے اور سنسنی خیز مقابلوں کی بدولت منافع میں یہ بے پناہ اور تاریخی اضافہ ممکن ہوا ہے جس پر سینیٹ کمیٹی کے ارکان نے بھی بورڈ کی انتظامیہ کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔
پاکستان نے چوہتر سالوں میں پہلی مرتبہ کوئی بڑا بین الاقوامی فٹبال ٹورنامنٹ جیت کر کھیل کی دنیا میں ایک نیا اور سنہرا باب رقم کر دیا ہے جہاں ڈائمنڈ جوبلی بین الاقوامی فٹبال ٹورنامنٹ کے فائنل معرکے میں روایتی حریف افغانستان کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور پاکستان نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے حریف ٹیم کے خلاف دو گول داغ کر تاریخی فتح اپنے نام کر لی ہے، لاہور سے حاصل ہونے والی سنسنی خیز اور جشن سے بھرپور تفصیلات کے مطابق پاکستان ڈائمنڈ جوبلی انٹرنیشنل فٹبال ٹورنامنٹ کے فائنل میچ میں افغانستان کی مضبوط ٹیم کو دو صفر سے تاریخی شکست دے کر باقاعدہ طور پر ٹورنامنٹ کا نیا چیمپئن بن گیا ہے، اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں شائقین کی موجودگی میں کھیل کے دوران پاکستانی اسٹرائیکر شائق دوست نے ایک انتہائی خوبصورت اور شاندار اوور ہیڈ کک لگا کر گیند کو جال کی راہ دکھائی جس نے اسٹیڈیم میں موجود تماشائیوں کے لہو کو گرما دیا جبکہ میچ کے بالکل آخری لمحات میں جب اعصاب کی جنگ جاری تھی تو نامور فٹبالر ہارون حامد نے ایک اور بہترین اور فیصلہ کن گول کر کے اس یادگار رات کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ملکی تاریخ کا حصہ بنا دیا، فٹبال ماہرین کے مطابق پاکستان کی چوہتر سالہ کھیلوں کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ جب قومی فٹبال ٹیم نے کسی خودمختار انٹرنیشنل فٹبال ٹورنامنٹ کا فائنل میچ جیت کر ٹرافی اپنے نام کی ہے، اس تاریخی اور ناقابلِ یقین کامیابی کے بعد ملک بھر کے گلی کوچوں میں فٹبال کے دیوانے سڑکوں پر نکل آئے اور ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈال کر قومی ہیروز کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔
پاکستان ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کی قیادت اور کوچنگ سیٹ اپ کے حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے اندر اہم فیصلے تاحال زیرِ غور ہیں، تاہم کرکٹ بورڈ کے باوثوق ذرائع کے مطابق ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ سرفراز احمد کو فی الحال ان کی کوچنگ کی ذمہ داریوں کے حوالے سے بورڈ کی جانب سے گرین سگنل اور کلین چٹ مل گئی ہے، لاہور اور پی سی بی ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کے خلاف ہوم سیریز میں حالیہ بدترین ناکامیوں کے بعد قومی کرکٹ ٹیم کے کوچنگ سیٹ اپ میں بڑی اکھاڑ پچھاڑ اور تبدیلیوں کی افواہیں گرم تھیں، تاہم تمام تر قیاس آرائیوں کو دم توڑتے ہوئے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرفراز احمد بدستور پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کی حیثیت سے برقرار رہیں گے اور وہ آئندہ ہونے والے دورۂ ویسٹ انڈیز اور دورۂ انگلینڈ کے اہم ترین معرکوں میں بھی ٹیم کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے نظر آئیں گے، دوسری جانب ٹیسٹ کپتان شان مسعود کے مستقبل اور ان کی کپتانی کے حوالے سے تاحال شدید غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، ذرائع کے مطابق شان مسعود اپنی بہترین بیٹنگ فارم کی وجہ سے دونوں دوروں کے لیے بطور کھلاڑی ٹیم میں شامل ہونے کے انتہائی مضبوط امیدوار ہیں، تاہم ان کی کپتانی برقرار رکھنے یا اس منصب میں تبدیلی کرنے کے بارے میں حتمی فیصلہ بورڈ کی جانب سے تاحال التوا کا شکار ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر اب تک سولہ (۱۶) ٹیسٹ میچز میں قومی ٹیم کی قیادت کرنے والے شان مسعود کی کپتانی کے حوالے سے پی سی بی کی اعلیٰ قیادت کے حتمی گرین سگنل کا انتظار کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب پاکستان کی ٹی ٹونٹی ٹیم کے موجودہ کپتان سلمان علی آغا کو ٹیسٹ فارمیٹ کی کپتانی دلوانے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کے بعض انتہائی اہم اور بااثر حلقوں کی بھرپور تائید و حمایت حاصل ہو چکی ہے جس کے باعث کپتانی کے لیے ان کا نام مضبوطی سے ابھرا ہے، تاہم شان مسعود کے حق میں جو ایک سب سے اہم اور کلیدی نکتہ جا رہا ہے وہ ان کا انگلش کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے کا وسیع تر تجربہ ہے، جہاں وہ یارکشائر اور ڈربی شائر جیسی نامور کاؤنٹی ٹیموں کی باقاعدہ کامیاب قیادت بھی کر چکے ہیں، کرکٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ دورۂ انگلینڈ کے دوران شان مسعود کا یہ کاؤنٹی کا تجربہ اور وہاں کی کنڈیشنز سے واقفیت قومی ٹیم کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے، واضح رہے کہ شان مسعود پاکستان کی سات مختلف ٹیسٹ سیریز میں قومی ٹیم کی کپتانی کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں اور اس مختصر ترین عرصے کے دوران وہ مسلسل تبدیلیوں کے باعث پانچ مختلف کوچز کے ساتھ کام کرنے کا انوکھا تجربہ بھی رکھتے ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ پی سی بی انگلینڈ کے اہم ترین دورے سے قبل ٹیسٹ فارمیٹ کی باگ ڈور کس کے حوالے کرتا ہے۔
قومی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز اور جادوگر اسپنر ابرار احمد نے آسٹریلیا کے خلاف کھیلے گئے تیسرے اور فیصلہ کن ایک روزہ بین الاقوامی (ون ڈے) میچ میں انتہائی شاندار اور جادوئی باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے چالیس سال پرانا قومی ریکارڈ برابر کر دیا ہے، لاہور کے تاریخی قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس اعصاب شکن اور اہم ترین میچ میں ابرار احمد نے اپنے مقررہ دس اوورز میں انتہائی کفایتی اور نپی تلی باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف انیس رنز دیے اور کینگروز کی دو اہم وکٹیں حاصل کیں، اس شاندار اسپیل کے دوران ان کا اکانومی ریٹ محض ایک اعشاریہ نو صفر رہا جو کہ آسٹریلیا کے خلاف کسی بھی پاکستانی باؤلر کی جانب سے اب تک کے بہترین اور یادگار باؤلنگ اسپیلز میں شمار ہوتا ہے، اس بے مثال اور تاریخی کارکردگی کے ساتھ ہی ستائیس سالہ اسپنر ابرار احمد نے آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے کرکٹ میں پاکستانی باؤلرز کے کفایتی ترین باؤلنگ اسپیل کا دیرینہ قومی ریکارڈ باقاعدہ طور پر برابر کر دیا ہے، کرکٹ ریکارڈز کی تفصیلات کے مطابق اس سے قبل سابق نامور آف اسپنر توصیف احمد نے سال انیس سو چھیاسی میں آسٹریلیا کے خلاف دس اوورز میں انیس رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کی تھیں جبکہ جادوگر اسپنر سعید اجمل نے سال دو ہزار نو میں متحدہ عرب امارات کے شہر ابوظہبی میں کھیلے گئے ون ڈے میچ میں دس اوورز کے دوران انیس رنز دے کر دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا اور اب ابرار احمد نے بھی انیس رنز کے عوض دو شکار کر کے ان دونوں عظیم باؤلرز کا تاریخی اعزاز اپنے نام کر لیا ہے، میچ کے دوران ابرار احمد کی اس شاندار اور جکڑی ہوئی باؤلنگ نے مضبوط آسٹریلوی بیٹنگ لائن کو مسلسل شدید دباؤ میں رکھا جس نے میچ میں پاکستان کی شاندار کامیابی اور سیریز جیتنے میں سب سے اہم اور کلیدی کردار ادا کیا، یہی وجہ ہے کہ ان کی اس جرات مندانہ کارکردگی کو شائقینِ کرکٹ سمیت دنیا بھر کے نامور کرکٹ ماہرین کی جانب سے سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز پر بھرپور طریقے سے سراہا جا رہا ہے، واضح رہے کہ پاکستان نے اس تیسرے اور فیصلہ کن ون ڈے میچ میں آسٹریلیا کو عبرتناک شکست دے کر یہ ہوم سیریز باقاعدہ طور پر اپنے نام کر کے ملک کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔
قومی کرکٹ ٹیم نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے تیسرے اور فیصلہ کن ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں مہمان آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کو چار وکٹوں سے عبرتناک شکست دے دی ہے۔ اس فتح کے ساتھ ہی پاکستان نے تین میچوں پر مشتمل یہ اہم ترین بین الاقوامی سیریز ایک کے مقابلے میں دو میچوں سے اپنے نام کر کے ملک بھر کے شائقینِ کرکٹ کو جشن کا ایک شاندار تحفہ پیش کر دیا ہے۔
آسٹریلیا کی بیٹنگ لائن ریت کی دیوار ثابت، پوری ٹیم 157 پر ڈھیر لاہور کے تاریخی قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس معرکے میں آسٹریلوی کپتان جوش انگلس نے ٹاس جیت کر پہلے خود بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم پاکستانی بولرز کی تباہ کن اور منظم کارکردگی کے سامنے مہمان ٹیم کا کوئی بھی بڑا بلے باز جم کر نہ کھیل سکا اور پوری آسٹریلوی ٹیم محض 157 رنز پر ہی ڈھیر ہو گئی۔ آسٹریلیا کی جانب سے کپتان جوش انگلس 65 رنز بنا کر سب سے نمایاں رہے، جبکہ مارنس لبوشین اور الیکس کیری صرف 19، 19 رنز ہی جوڑ سکے۔
قومی بولرز کی نپی تلی اور تباہ کن بولنگ پاکستان کی جانب سے فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے حریف ٹیم کی بیٹنگ لائن کے پرخچے اڑاتے ہوئے 3 اہم وکٹیں حاصل کیں۔ ان کے ہمراہ اسپنر ابرار احمد اور شاداب خان نے بہترین تال میل کا مظاہرہ کرتے ہوئے 2، 2 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی، جبکہ حارث رؤف بھی 1 وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
ہدف کا کامیاب تعاقب اور فیصلہ کن شراکت داری آسٹریلیا کی جانب سے دیے گئے 158 رنز کے آسان ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی شروعات اگرچہ کچھ مشکلات کا شکار رہیں، تاہم قومی بلے بازوں نے ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے 42 ویں اوور میں 6 وکٹوں کے نقصان پر مطلوبہ ہدف حاصل کر لیا۔ پاکستان کی جانب سے مایہ ناز بلے باز بابر اعظم 40 رنز بنا کر نمایاں رہے جبکہ معاذ صداقت نے 27 رنز کی اننگز کھیلی۔ میچ کے نازک موڑ پر عبدالصمد اور شاداب خان نے شاندار اعصاب کا مظاہرہ کیا اور ساتویں وکٹ کے لیے 49 رنز کی انتہائی اہم اور ناقابلِ شکست شراکت قائم کر کے ٹیم کو فتح کی دہلیز تک پہنچایا۔
یادگار فتح اور اسٹیڈیم میں جشن کا سماں اس تزویراتی کامیابی کے بعد قذافی اسٹیڈیم لاہور میں موجود ہزاروں شائقینِ کرکٹ نے ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے اور قومی پرچم لہرا کر پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ مبصرین کے مطابق، قومی ٹیم کی اس تاریخی کامیابی میں بولرز کی غیر معمولی کارکردگی اور درمیانی لائن کے بلے بازوں کی ذمہ دارانہ بلے بازی نے سب سے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
سرزمینِ جاپان میں کھیلے جانے والے اٹھارہ سال سے کم عمر کھلاڑیوں کے ہاکی ایشیا کپ میں پاکستان نے انتہائی شاندار اور تاریخی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیمی فائنل مرحلے کے لیے کامیابی سے کوالیفائی کر لیا ہے۔ گروپ مرحلے کے ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن میچ میں پاکستان نے بنگلادیش کو دو کے مقابلے میں پانچ گول سے عبرتناک شکست دے کر ٹورنامنٹ میں اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔
پاکستانی ٹیم کا جارحانہ کھیل اور گولز کی تفصیل جاپان کے خوبصورت شہر کاکامیگاہارا میں کھیلے گئے اس سنسنی خیز میچ میں پاکستانی نوجوانوں نے کھیل کے آغاز ہی سے انتہائی جارحانہ انداز اپنایا اور حریف بنگلادیشی دفاعی لائن پر مسلسل دباؤ برقرار رکھا۔ پاکستان کی فتح میں عبداللہ نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے دو گول اسکور کیے، جبکہ عدیل، آسام اور محمد یحییٰ نے ایک ایک گول کر کے ٹیم کی پوزیشن کو ناقابلِ شکست بنا دیا۔ دوسری جانب بنگلادیش کی طرف سے تیرک اسلام اور منا اسلام ہی صرف ایک ایک گول اسکور کرنے میں کامیاب ہو سکے۔
میچ کا بہترین کھلاڑی اور ٹیم کی مجموعی کارکردگی پورے میچ کے دوران میدان میں غیر معمولی اور دلکش کھیل کا مظاہرہ کرنے پر نوجوان پاکستانی اسٹار محمد یحییٰ کو ‘میچ کا بہترین کھلاڑی’ قرار دیا گیا۔ مبصرین کے مطابق، پاکستانی فارورڈ لائن نے ملنے والے تمام مواقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا، جبکہ مڈفیلڈ اور دفاعی پوزیشن پر موجود کھلاڑیوں نے بھی بہترین تال میل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پورے کھیل کے دوران اپنی برتری کو کم نہیں ہونے دیا۔ اس فیصلہ کن کامیابی کے بعد پاکستان اب ٹورنامنٹ جیتنے کے لیے سب سے مضبوط امیدوار بن کر ابھرا ہے۔
سیمی فائنل میں روایتی حریف بھارت کا سامنا اب دنیا بھر کے ہاکی شائقین کی نظریں 5 جون کو ہونے والے سیمی فائنل پر جم گئی ہیں، جہاں پاکستان کا مقابلہ اپنے روایتی حریف بھارت سے ہوگا، جس کا شائقینِ کھیل بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر کی مبارکباد اور نیک تمنائیں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین احمد وانی نے قومی جونیئر ٹیم اور تمام انتظامیہ (مینجمنٹ) کو اس شاندار کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔ اپنے خصوصی پیغام میں انہوں نے کہا کہ یہ بڑی کامیابی تمام کھلاڑیوں، کوچز اور معاون عملے (سپورٹ اسٹاف) کی انتھک محنت اور لگن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے قومی ٹیم سے امید ظاہر کی کہ وہ سیمی فائنل کے اس بڑے معرکے میں بھی اپنی بہترین کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے فائنل تک رسائی حاصل کرے گی اور ملک میں ہاکی کے روشن مستقبل کی بنیاد کو مزید مضبوط بنائے گی۔
قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز بلے باز بابر اعظم نے بین الاقوامی کرکٹ میں ایک اور تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ وہ پاکستان کی جانب سے ایک روزہ میچوں (او ڈی آئی) کی تاریخ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے دس (10) چوٹی کے بلے بازوں کی باوقار فہرست میں شامل ہو گئے ہیں۔
سابق مایہ ناز بلے باز اعجاز احمد کا ریکارڈ توڑ دیا آسٹریلیا کے خلاف کھیلی گئی حالیہ سیریز کے دوران بابر اعظم نے شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے سابق نامور کھلاڑی اعجاز احمد کو رنز کی دوڑ میں پیچھے چھوڑا اور مایہ ناز دس کھلاڑیوں کی فہرست میں اپنی جگہ پکی کی۔ اعجاز احمد طویل عرصے سے اس فہرست کا حصہ تھے، جن کا ریکارڈ اب سابق کپتان نے اپنے نام کر لیا ہے۔
مستقل مزاجی اور عالمی معیار کا شاندار ریکارڈ بابر اعظم نے اب تک کھیلے گئے ایک سو بیالیس (142) ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں ترپن اعشاریہ چوون (53.54) کی شاندار اور جاندار اوسط کے ساتھ مجموعی طور پر چھ ہزار پانچ سو چھیاسی (6586) رنز اسکور کیے ہیں۔ ان کی ان یادگار اننگز میں بیس (20) شاندار سنچریاں (سو رنز) اور اڑتیس (38) نصف سنچریاں (پچاس رنز) شامل ہیں، جو عالمی کرکٹ میں ان کی لاجواب مستقل مزاجی اور بہترین تکنیک کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
انضمام الحق بدستور پہلے نمبر پر براجمان پاکستان کی جانب سے ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ورلڈ ریکارڈ اب بھی سابق جارح مزاج کپتان انضمام الحق کے پاس محفوظ ہے، جنہوں نے اپنے طویل دورِ کھیل میں گیارہ ہزار سات سو ایک (11701) رنز بنائے۔
پاکستان کے دیگر نامور بلے باز پاکستان کرکٹ کی تاریخ کے دیگر نمایاں اور مایہ ناز بلے بازوں میں محمد یوسف، سعید انور، شاہد آفریدی، شعیب ملک، جاوید میانداد، یونس خان، سلیم ملک اور محمد حفیظ شامل ہیں، جو طویل عرصے تک قومی ٹیم کی بلے بازی کی بنیادی ریڑھ کی ہڈی رہے ہیں اور اب بابر اعظم بھی اسی صفِ اول کے کھلاڑیوں میں شمار ہو چکے ہیں۔
کھیل کے ماہرین کی جانب سے بھرپور خراجِ تحسین کرکٹ کے ماہرین اور سابق کھلاڑیوں کے مطابق، بابر اعظم کا اتنی کم عمری اور کم میچوں میں یہ عظیم سنگِ میل عبور کرنا ان کے مستقل اعلیٰ معیار، محنت اور پاکستان کرکٹ میں ان کے مضبوط اور ناقابلِ تسخیر مقام کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ مستقبل میں پاکستان کے لیے مزید کئی بڑے ریکارڈز اپنے نام کریں گے۔
انگلینڈ کے مایہ ناز اور انتہائی تجربہ کار فٹبالر جیمز ملنر نے چوبیس طویل سیزنز پر محیط اپنے شاندار اور تاریخی پیشہ ورانہ سفر کے بعد فٹبال کی دنیا کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہنے (ریٹائرمنٹ) کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ چالیس سالہ مڈفیلڈر نے انگلش پریمیئر لیگ کی تاریخ میں سب سے زیادہ میچز کھیلنے والے کھلاڑی کے طور پر اپنے شاندار کیریئر کا اختتام کیا ہے۔
آخری سیزن اور میچز کا منفرد عالمی ریکارڈ جیمز ملنر نے اپنے فٹبال کیریئر کے آخری تین سیزن مشہور کلب ‘برائٹن اینڈ ہوو البیون’ کے ساتھ گزارے اور مجموعی طور پر چھ سو اٹھاون (658) لیگ میچز کھیل کر تاریخ کا ایک انتہائی منفرد اور ناقابلِ شکست ریکارڈ قائم کیا۔ انہوں نے رواں سال فروری کے مہینے میں سابق ریکارڈ ہولڈر گیرتھ بیری کا سب سے زیادہ میچز کھیلنے کا ریکارڈ توڑ کر یہ تاریخی اعزاز اپنے نام کیا تھا۔
سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام اور سفر کا آغاز سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے ایک انتہائی جذباتی پیغام میں جیمز ملنر نے کہا کہ انگلش پریمیئر لیگ میں چوبیس یادگار سیزن گزارنے کے بعد اب کھیل کو باوقار طریقے سے الوداع کہنے کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ محض سولہ برس کی عمر میں اپنے پسندیدہ کلب ‘لیڈز یونائیٹڈ’ کی نمائندگی کرتے ہوئے جس سفر کا آغاز انہوں نے کیا تھا، وہ ان کی ذاتی توقعات سے کہیں زیادہ کامیاب اور سنسنی خیز ثابت ہوا۔
مختلف نامور کلبز کی نمائندگی اور کامیابیاں اپنے طویل اور تاریخی کیریئر کے دوران انہوں نے دنیا کے مایہ ناز فٹبال کلبز جیسے کہ نیو کیسل یونائیٹڈ، ایسٹن ولا، مانچسٹر سٹی، لیورپول اور برائٹن کی کامیابی کے ساتھ نمائندگی کی۔ عسکری اور تزویراتی میدان کی طرح فٹبال میں بھی ان کا ‘مانچسٹر سٹی’ کے ساتھ دور سب سے زیادہ کامیاب رہا جہاں انہوں نے دو بڑے لیگ ٹائٹل جیتے، جبکہ ‘لیورپول’ کے ساتھ کھیلتے ہوئے بھی متعدد دیگر اہم عالمی اعزازات اپنے نام کیے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے اپنے ملک انگلینڈ کی قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے دو عالمی کپ (ورلڈ کپ) اور دو یورپی چیمپئن شپ مقابلوں میں بھی شرکت کا اعزاز حاصل کیا۔
فٹبال سے وابستہ یادیں اور عظیم کھلاڑیوں کی فہرست جیمز ملنر کا اپنے پیغام کے اختتام پر کہنا تھا کہ فٹبال کے اس کھیل نے انہیں زندگی میں ان کی سوچ اور توقعات سے کہیں زیادہ نوازا ہے۔ کھیل کے دوران بننے والی سچی دوستیوں، یادگار لمحات اور تاریخی کامیابیوں کو وہ ہمیشہ اپنے دل کے قریب رکھیں گے۔
واضح رہے کہ پریمیئر لیگ کی تاریخ میں چھ سو سے زائد میچز کھیلنے والے دنیا کے گنتی کے چند عظیم کھلاڑیوں میں جیمز ملنر کے علاوہ ریان گگز اور فرینک لیمپارڈ جیسے لیجنڈز بھی شامل ہیں۔ کھیلوں کے مبصرین کی جانب سے ان کی اس ریٹائرمنٹ کو انگلش فٹبال کے ایک سنہری اور یادگار دور کا اختتام قرار دیا جا رہا ہے۔
فٹبال کے سب سے بڑے عالمی مقابلے “فیفا عالمی کپ 2026” میں پہلی بار کئی اہم اور تاریخی تبدیلیاں متعارف کرائی جا رہی ہیں، جن کے باعث یہ ٹورنامنٹ عالمی کپ کی پوری تاریخ کا سب سے بڑا اور یادگار ایونٹ بن جائے گا۔
ٹیموں اور میچوں کی تعداد میں تاریخی اضافہ اس بار عالمی کپ میں شریک ٹیموں کی تعداد 32 سے بڑھا کر 48 کر دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں مقابلوں کی مجموعی تعداد بھی 64 سے بڑھ کر 104 ہو جائے گی۔ ٹورنامنٹ کے اس نئے فارمیٹ کے تحت اب کسی بھی ٹیم کو عالمی چیمپئن کا تاج اپنے سر سجانے کے لیے 7 کے بجائے 8 میچ کھیلنا ہوں گے۔
تین ممالک کی مشترکہ میزبانی اس عالمی کپ کی ایک اور سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ تین ممالک مشترکہ طور پر اس عظیم ایونٹ کی میزبانی کے فرائض سرانجام دیں گے۔ ان میزبان ممالک میں ریاستہائے متحدہ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو شامل ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس بار ایونٹ میں چار ایسی نئی قومی ٹیمیں بھی پہلی بار ایکشن میں نظر آئیں گی جو اس سے قبل کبھی بھی عالمی کپ کے فائنل مرحلے (مین راؤنڈ) تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں ہیں۔
کھلاڑیوں کے لیے طویل سفر کی تھکاوٹ کا چیلنج کھیلوں کے ماہرین کے مطابق، مختلف ممالک اور وقت کے الگ الگ خطوں (ٹائم زونز) میں میچز منعقد ہونے کے باعث کھلاڑیوں کو سفر کی اضافی تھکاوٹ اور موسم کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ گروپ مرحلے کے فوری بعد بعض ٹیموں کو اگلے میچ کے لیے پانچ ہزار کلومیٹر تک کا طویل فضائی سفر بھی کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے پیشِ نظر عالمی فٹبال انتظامیہ نے کھلاڑیوں کے لیے سفری اور شیڈولنگ کے خصوصی و آرام دہ انتظامات کیے ہیں۔
شائقینِ فٹبال کے لیے سفری ویزا کے مسائل دنیا بھر سے آنے والے شائقینِ فٹبال کو بھی تین مختلف ممالک میں جا کر میچز دیکھنے کے لیے بھاری سفری اخراجات، ویزا کے حصول اور وہاں رہائش کے حوالے سے اضافی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔
تاریخ کا پہلا ہاف ٹائم انٹرٹینمنٹ شو علاوہ ازیں، اطلاعات کے مطابق عالمی کپ کی تاریخ میں پہلی بار فائنل میچ کے وقفے کے دوران ایک خصوصی تفریحی پروگرام (ہاف ٹائم شو) منعقد کرنے کی شاندار منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے، جس میں دنیا کے نامور فنکار پرفارم کریں گے۔ اس اقدام سے فائنل مقابلے کی عالمی کشش اور مقبولیت میں مزید کئی گنا اضافے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
مجموعی طور پر فیفا عالمی کپ 2026 کو فٹبال کی تاریخ کا سب سے بڑا، طویل اور وسیع پیمانے پر منعقد ہونے والا سنسنی خیز ٹورنامنٹ قرار دیا جا رہا ہے، جس پر دنیا بھر کے کروڑوں شائقین کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔
انڈر 18 ایشیا ہاکی کپ 2026 میں پاکستان نے اپنے پہلے مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چین کو صفر کے مقابلے میں 3 گول سے شکست دے کر چیمپئن شپ کا فاتحانہ آغاز کر دیا۔
ایشیائی ہاکی فیڈریشن کے زیر اہتمام جاپان کے شہر کاکامیگاہارا میں جاری چیمپئن شپ میں قومی نوجوان کھلاڑیوں نے آغاز ہی سے جارحانہ کھیل پیش کیا اور پورے مقابلے کے دوران چینی ٹیم پر دباؤ برقرار رکھا۔
پاکستان کی جانب سے پہلا گول مقابلے کے چھٹے منٹ میں عثمان نے اسکور کیا، جس کے بعد گیارہویں منٹ میں عدیل نے دوسرا گول کرکے برتری کو مزید مستحکم بنا دیا۔ قومی ٹیم نے عمدہ دفاعی اور جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے حریف ٹیم کو واپسی کا کوئی موقع نہ دیا۔
مقابلے کے چھپن ویں منٹ میں یاسین نے تیسرا گول اسکور کرکے پاکستان کی فتح پر مہر ثبت کر دی۔ پاکستانی کھلاڑی اسنان کو شاندار کھیل پیش کرنے پر مقابلے کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔
اس کامیابی کے بعد قومی ٹیم اپنے اگلے مقابلے میں 31 مئی کو ملائیشیا کا سامنا کرے گی، جبکہ تیسرا میچ 3 جون کو بنگلہ دیش کے خلاف کھیلا جائے گا۔ دونوں مقابلے مقامی وقت کے مطابق سہ پہر تین بجے شروع ہوں گے۔
چیمپئن شپ کے ابتدائی مرحلے کے مقابلے یکم جون تک جاری رہیں گے، جس کے بعد آخری چار ٹیموں کے مرحلے اور درجہ بندی کے میچز کا آغاز ہوگا۔ آخری چار ٹیموں کے مقابلے 5 جون جبکہ فائنل اور تیسری پوزیشن کا مقابلہ 6 جون کو کھیلا جائے گا۔
پاکستانی شائقین ہاکی نے قومی نوجوان ٹیم کی شاندار فتح پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ گرین شرٹس پورے ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی کا سلسلہ برقرار رکھیں گے۔