ایران کا ٹرمپ پر سخت ردعمل، مذاکراتی عمل پر اعتماد متزلزل، آبنائے ہرمز پر مؤقف مزید واضح

کاشف عباسی ,May 30 ,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز۔ 30 مئی 2026ء)

— ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ سفارتی عمل میں مسلسل رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں اور تیسری مرتبہ مذاکراتی اعتماد کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے سامنے آنے والے غیر معمولی مطالبات نے ثابت کر دیا ہے کہ واشنگٹن کا مقصد صرف مذاکرات نہیں بلکہ دیگر سیاسی اور تزویراتی اہداف کا حصول بھی ہے۔

محسن رضائی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران ہمیشہ باعزت اور منصفانہ مذاکرات کا حامی رہا ہے، تاہم کسی بھی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کیا جائے گا جو ایرانی مفادات، خودمختاری اور قومی سلامتی کے خلاف ہو۔ ان کے مطابق حالیہ امریکی بیانات اور شرائط نے مذاکراتی فضا کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے مزید 24 بحری جہاز محفوظ طریقے سے گزرے ہیں اور تمام جہاز ایرانی نگرانی اور سکیورٹی انتظامات کے تحت اپنی منزلوں کی جانب روانہ ہوئے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا مؤثر کنٹرول برقرار ہے اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کا فیصلہ کن جواب دینے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔

ایران اور عمان کا آبنائے ہرمز پر مشاورت بڑھانے پر اتفاق

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عمان کے وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطے میں علاقائی صورتحال، جنگ بندی کی کوششوں اور آبنائے ہرمز کی سکیورٹی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز سے متعلق خودمختار اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق پالیسی سازی پر تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

عباس عراقچی نے کہا کہ ایران خطے کے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ مشاورت اور تعاون کا خیرمقدم کرتا ہے اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے تمام فیصلے بین الاقوامی قوانین اور علاقائی استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔ انہوں نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی بھی مذمت کی اور اسلامی تعاون تنظیم سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے پر غیر یقینی صورتحال برقرار

ادھر امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق واشنگٹن کو اب بھی امید ہے کہ ایران کے ساتھ کسی مفاہمتی معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے، تاہم متعدد اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔ ذرائع کے مطابق قطر میں منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ مذاکرات میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ بن چکا ہے۔

ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران اپنے منجمد اثاثوں میں سے 12 ارب ڈالر کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کر رہا ہے اور اس پیش رفت کے بغیر مذاکرات کے اگلے مرحلے میں جانے پر آمادہ نہیں۔ دوسری طرف امریکی حکام ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں سکیورٹی سے متعلق اپنی شرائط پر زور دے رہے ہیں۔

خطے میں کشیدگی برقرار، سفارتی کوششیں جاری

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ امریکہ ضرورت پڑنے پر خطے میں کارروائی کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ امریکی مرکزی کمان نے بھی اپنی افواج کی مکمل تیاری کی تصدیق کی ہے۔ اس کے برعکس ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا اور دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز، منجمد ایرانی اثاثوں اور جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کے باعث مذاکراتی عمل بدستور نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ خطے میں حالیہ فوجی کشیدگی نے سفارتی کوششوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے

امریکا۔ایران معاہدہ قریب، منجمد فنڈز اور جوہری تنازع اہم رکاوٹ بن گئے: نیویارک پوسٹ

محمود احمد May30,2026

(نیوز اینڈ نیوز۔ 30 مئی 2026ء):واشنگٹن

امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمتی معاہدے کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے، تاہم چند اہم اور حساس معاملات پر مذاکرات ابھی بھی جاری ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم ان کی انتظامیہ کو امید ہے کہ جاری سفارتی کوششیں مثبت نتائج کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں اعلیٰ سطحی مشاورت کے باوجود بعض بنیادی نکات پر اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکا۔

رپورٹس کے مطابق قطر میں منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ معاہدے میں تاخیر کی سب سے بڑی وجہ بن گیا ہے۔ ایران اپنے منجمد مالی اثاثوں کی فوری واپسی کا مطالبہ کر رہا ہے جبکہ امریکی حکام اس معاملے پر محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق تہران نے 12 ارب ڈالر کی فوری ادائیگی کو مذاکرات کی اہم شرط قرار دیا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں آزاد بحری آمدورفت اور خطے میں استحکام کو بھی کسی بھی ممکنہ معاہدے کا اہم حصہ قرار دیا۔

ادھر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکا ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی افواج خطے میں ہر ممکن ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

امریکی مرکزی کمان نے بھی تصدیق کی ہے کہ خطے میں تعینات امریکی فوجی دستے مکمل الرٹ ہیں اور کسی بھی ممکنہ پیش رفت پر فوری ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

دوسری جانب ایران نے امریکی بیانات پر محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کسی حتمی معاہدے پر اتفاق نہیں ہوا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے لیکن مذاکرات ابھی فیصلہ کن مرحلے میں داخل نہیں ہوئے۔

ایرانی ذرائع کے مطابق جنگ کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں، تاہم جوہری پروگرام، منجمد اثاثوں اور بعض سکیورٹی معاملات پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔

سیاسی و سفارتی مبصرین کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ تاہم موجودہ اختلافات کو دیکھتے ہوئے مذاکرات کا عمل ابھی مزید وقت لے سکتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کی لازوال خدمات، سفیر عاصم افتخار کا عالمی امن کے لیے عزم کا اعادہ

محمود احمد May29,2026

نیویارک/ اقوامِ متحدہ(نیوز اینڈ نیوز۔ 29 مئی 2026ء)

اقوامِ متحدہ کے امن کاروں کے عالمی دن کے موقع پر اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی امن، سلامتی اور استحکام کے قیام کے لیے اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں اپنی تاریخی اور نمایاں خدمات جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔

29 مئی کو جاری اپنے خصوصی پیغام میں سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر نیلے پرچم تلے خدمات انجام دینے والے تمام امن کاروں کی جرات، پیشہ ورانہ مہارت، لگن اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف تنازعات زدہ اور غیر مستحکم خطوں میں امن کے قیام کے لیے خدمات انجام دینے والے امن کار انسانیت کے حقیقی سفیر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں شرکت صرف ایک ذمہ داری نہیں بلکہ بین الاقوامی امن و سلامتی کے فروغ اور کثیرالجہتی تعاون سے وابستگی کا عملی اظہار ہے۔ پاکستان سن 1960 سے اب تک دنیا بھر میں اقوامِ متحدہ کے مختلف امن مشنز میں 2 لاکھ 70 ہزار سے زائد فوجی اور سویلین امن کار بھیج چکا ہے، جنہوں نے انتہائی مشکل اور خطرناک حالات میں اپنے فرائض انجام دیے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے ان 183 پاکستانی امن کاروں کو بھی زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ عظیم قربانیاں پاکستان کے عالمی امن کے لیے غیر متزلزل عزم کی روشن مثال ہیں اور پوری قوم اپنے شہداء پر فخر کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز دنیا میں امن قائم رکھنے کے لیے عالمی برادری کے پاس موجود سب سے مؤثر، عملی اور نسبتاً کم لاگت ذرائع میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ مشنز شہریوں کے تحفظ، جنگ بندی کی نگرانی، تشدد کی روک تھام، سیاسی عمل کی معاونت، انسانی امداد کی فراہمی اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

پاکستانی مندوب نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ دنیا کے مختلف حصوں میں امن کاروں کو بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اقوامِ متحدہ کے امن کاروں پر حملے ناقابلِ قبول ہیں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ایسے اقدامات جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ امن کاروں کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر کا احتساب یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن اور امن مشنز کے لیے بڑے فوجی دستے فراہم کرنے والے ملک کی حیثیت سے پاکستان امن کارروائیوں کو مزید مؤثر، محفوظ اور مستحکم بنانے کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان امن کاروں کی حفاظت، احتساب، بہتر کارکردگی اور پائیدار مالی معاونت کے حوالے سے جاری عالمی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے امن مشنز کے مستقبل اور ان کی افادیت کے جائزے کے عمل کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات کے تناظر میں امن کارروائیوں کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔

اپنے پیغام کے اختتام پر سفیر عاصم افتخار احمد نے دنیا بھر میں خدمات انجام دینے والے تمام امن کاروں کو سلام پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان عالمی امن، استحکام اور اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کے فروغ کے لیے اپنی تاریخی ذمہ داریاں مستقبل میں بھی پوری کرتا رہے گا۔

اسرائیل اور لبنان کے درمیان اہم مذاکرات آج واشنگٹن میں، جنگ بندی اور سرحدی کشیدگی پر بڑی پیش رفت متوقع

محمود احمد May29,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز۔ 29 مئی 2026ء)

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنوبی لبنان میں مسلسل اسرائیلی حملوں کے تناظر میں اسرائیلی اور لبنانی فوجی حکام کے درمیان آج واشنگٹن میں انتہائی اہم مذاکرات ہونے جا رہے ہیں، جنہیں خطے میں ممکنہ امن اور جنگ بندی کے لیے ایک بڑی سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق لبنانی اور اسرائیلی فوجی حکام امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں مذاکرات کے پہلے باضابطہ دور میں شرکت کریں گے، جہاں سرحدی کشیدگی، جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد، جنوبی لبنان کی صورتحال اور خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔

رپورٹس کے مطابق یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب اپریل کے وسط میں لبنان اور اسرائیل نے جنگ بندی میں توسیع پر رضامندی ظاہر کی تھی، تاہم اس کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور فضائی حملوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے باعث خطے میں ایک بار پھر شدید بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔

لبنانی وزیر اعظم نواف سلام نے اسرائیلی حملوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی لبنان پر جاری اسرائیلی حملوں کا کوئی جواز موجود نہیں، لبنان اپنی سرزمین کے مکمل تحفظ اور اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کے لیے ہر ممکن سفارتی اور سیاسی کوشش جاری رکھے گا۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں واضح کیا کہ لبنانی حکومت کا بنیادی مقصد اپنی تمام سرزمین پر ریاستی رٹ کو مضبوط بنانا اور خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل فوجی کارروائیاں نہ صرف جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہیں بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق واشنگٹن مذاکرات کو امریکا کی ایک اہم سفارتی کوشش سمجھا جا رہا ہے، جس کے ذریعے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے اور لبنان اسرائیل سرحد پر ممکنہ بڑے تصادم کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی حکام کی جانب سے تاحال مذاکرات کے ایجنڈے کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مذاکرات میں سرحدی سکیورٹی، جنگ بندی کی نگرانی، حزب اللہ کی سرگرمیوں اور علاقائی استحکام جیسے اہم معاملات زیر بحث آئیں گے۔

بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب رہے تو یہ نہ صرف لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں امن کی نئی راہیں بھی کھول سکتے ہیں۔

تعلیمی اداروں کے اطراف منشیات فروشوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 3 خواتین سمیت 10 ملزمان گرفتار

منصور احمد ,May 29,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز۔ 29 مئی 2026ء)

انسدادِ منشیات فورس (اے این ایف) نے ملک بھر میں منشیات سمگلنگ کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے 3 خواتین سمیت 10 ملزمان کو گرفتار کر لیا، جبکہ 21 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی تقریباً 15 کلوگرام منشیات برآمد کر لی گئی۔

ترجمان اے این ایف کے مطابق تعلیمی اداروں کے قرب و جوار اور مختلف شہروں میں مجموعی طور پر 6 کامیاب کارروائیاں کی گئیں، جن کے دوران 14.845 کلوگرام منشیات قبضے میں لی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کے طلبہ کو منشیات فراہم کرنے والے عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت آپریشن جاری رکھا جائے گا۔

راولپنڈی میں ایک یونیورسٹی کے قریب کارروائی کے دوران گاڑی سے 745 گرام آئس برآمد کر کے 3 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ اسی طرح رنگ روڈ پشاور کے قریب ایک خاتون کے قبضے سے 500 گرام آئس برآمد ہوئی، جس کے بعد ملزمہ کو حراست میں لے لیا گیا۔

اسلام آباد ٹول پلازہ کے قریب کارروائی کرتے ہوئے اے این ایف اہلکاروں نے ایک گاڑی سے 6 کلوگرام چرس برآمد کر کے ایک ملزم کو گرفتار کیا۔ ابتدائی تفتیش کے دوران گرفتار ملزمان نے تعلیمی اداروں کے طلبہ کو منشیات فروخت کرنے کا اعتراف بھی کیا ہے۔

دیگر کارروائیوں میں سرنان، ضلع پشین کے ایک ہوٹل کے قریب 2 خواتین کے قبضے سے 4 کلوگرام آئس برآمد کی گئی، جبکہ اٹک کے قریب ایک گاڑی سے 2.4 کلوگرام چرس برآمد کر کے 2 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

ایک اور کارروائی میں ریلوے لائن روڈ پشاور کے قریب ایک ملزم کے قبضے سے 1.2 کلوگرام چرس برآمد کی گئی۔

ترجمان اے این ایف کے مطابق تمام ملزمان کے خلاف انسدادِ منشیات ایکٹ 1997 کے تحت مقدمات درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ منشیات کے نیٹ ورک سے جڑے دیگر عناصر کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

اقوام متحدہ نے اسرائیل کو جنگی جنسی تشدد میں ملوث ممالک کی بلیک لسٹ میں شامل کر دیا

محمود احمد May29,2026

نیویارک/ اقوامِ متحدہ(نیوز اینڈ نیوز۔ 29 مئی 2026ء)

اقوام متحدہ نے اسرائیل کو جنگ کے دوران جنسی تشدد میں ملوث ممالک کی بلیک لسٹ میں شامل کر دیا ہے، جبکہ اس حوالے سے باقاعدہ تفصیلی رپورٹ جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

جرمن نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے سلامتی کونسل کو پیش کی جانے والی سالانہ رپورٹ میں اسرائیل اور روس کو پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا کہ انہیں ان ممالک اور فریقوں کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے جن پر جنگ کے دوران جنسی تشدد اور مخالفین کے ساتھ زیادتیوں کے قابلِ اعتبار الزامات موجود ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے اپنی رپورٹ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فوج اور سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے مبینہ زیادتیوں اور جنسی تشدد کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ مبینہ واقعات مختلف جیلوں، حراستی مراکز اور ایک فوجی اڈے پر پیش آئے۔

اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ برس اسرائیل کو جاری کیا گیا انتباہ ان شواہد کی بنیاد پر تھا جن میں بعض اقسام کے جنسی تشدد کے مسلسل واقعات پر سنگین خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے اس اقدام کو سیاسی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں اقوام متحدہ کی رپورٹ کو مسترد کر دیا۔

ادھر اسرائیلی وزارت خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش کے دفتر کے ساتھ تمام تعلقات ختم کر رہا ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کے مطابق سیکرٹری جنرل نے دیانت داری، غیر جانبداری اور پیشہ وارانہ اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے، اس لیے نئے سیکرٹری جنرل کی تقرری تک موجودہ دفتر سے روابط معطل رہیں گے۔

اس پر اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری جنرل کا دفتر اسرائیل سمیت تمام رکن ممالک کیلئے کھلا ہے اور اقوام متحدہ عالمی سفارتی روابط جاری رکھنے کیلئے پُرعزم ہے۔

فوجی طاقت دیرپا امن نہیں لا سکتی، پاکستان کا یوکرین جنگ پر فوری جنگ بندی اور مذاکرات کا مطالبہ

محمود احمد May29,2026

نیویارک/ اقوامِ متحدہ(نیوز اینڈ نیوز۔ 29 مئی 2026ء)

پاکستان نے یوکرین میں جاری جنگ کے فوری خاتمے کیلئے جنگ بندی، سفارت کاری اور مذاکراتی عمل کی بحالی پر زور دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فوجی ذرائع کسی بھی صورت دیرپا اور پائیدار امن کی ضمانت نہیں بن سکتے۔

تفصیلات کے مطابق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے یوکرین سے متعلق ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے حالیہ شدید جھڑپوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ مسلسل فوجی کشیدگی نہ صرف انسانی جانوں کیلئے خطرہ بن رہی ہے بلکہ علاقائی استحکام اور عالمی امن کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریقین بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پاسداری کو یقینی بنائیں، خصوصاً شہریوں اور سفارتی تنصیبات کے تحفظ کو ہر صورت مقدم رکھا جائے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ حالیہ صورتحال نے ایک مرتبہ پھر واضح کر دیا ہے کہ تنازعات کا پُرامن حل ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامع، مستقل اور باوقار امن کے حصول کیلئے سفارت کاری اور بامعنی مذاکرات ناگزیر ہیں۔

پاکستان نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں فوری اور مکمل جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگی کارروائیوں کے جاری رہنے کا ہر گزرتا دن عوام کی مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے اور فریقین کو امن سے مزید دور لے جا رہا ہے۔

پاکستانی مندوب نے تنازع کے مذاکراتی حل کیلئے پاکستان کی مسلسل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں اور تمام فریقین کے جائز سلامتی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکہ کی سہولت کاری میں جاری مذاکراتی عمل جلد دوبارہ بحال ہوگا تاکہ یوکرین تنازع کے پُرامن حل کیلئے پیش رفت ممکن بنائی جا سکے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے یاد دلایا کہ پاکستان نے گزشتہ برس سلامتی کونسل کی قرارداد 2774 کے حق میں ووٹ دیا تھا اور پاکستان آئندہ بھی یوکرین تنازع کے جامع، دیرپا اور پُرامن حل کیلئے عالمی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

نیٹو مشرقی خطے میں بڑے فوجی تصادم کی تیاریوں میں مصروف ہے، روسی انٹیلی جنس چیف

محمود احمد May28,2026

ماسکو (نیوز اینڈ نیوز۔ 28 مئی 2026ء)

روسی خفیہ ایجنسی ایس وی آر کے ڈائریکٹر سرگئی ناریشکن نے دعویٰ کیا ہے کہ نیٹو مشرقی خطے میں بڑے پیمانے پر مسلح تصادم کی عملی تیاریوں میں مصروف ہے، جس سے عالمی سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

روسی خبر رساں ادارے ٹی اے ایس ایس کے مطابق سرگئی ناریشکن نے یہ بیان روسی سکیورٹی کونسل کے زیر اہتمام منعقدہ پہلے بین الاقوامی سکیورٹی فورم کے موقع پر اعلیٰ سطحی سکیورٹی حکام کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔

انہوں نے کہا کہ نیٹو کی حالیہ سرگرمیاں، فوجی نقل و حرکت اور مشرقی یورپ میں بڑھتی ہوئی عسکری موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مغربی اتحاد خطے میں ایک بڑے فوجی تصادم کیلئے تیاری کر رہا ہے۔

سرگئی ناریشکن کا کہنا تھا کہ روس اپنی قومی سلامتی، علاقائی استحکام اور دفاعی مفادات کے تحفظ کیلئے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور بدلتی عالمی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

یہ اجلاس عالمی سکیورٹی چیلنجز، علاقائی تنازعات اور مختلف خطوں کو درپیش خطرات کے تناظر میں منعقد کیا گیا، جس میں مختلف ممالک کے اعلیٰ سطحی حکام اور سکیورٹی نمائندوں نے شرکت کی۔ روسی خبر رساں ادارہ ٹی اے ایس ایس اس فورم کا اطلاعاتی شراکت دار ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق روس اور نیٹو کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث یورپ اور مشرقی خطے کی سکیورٹی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنتی جا رہی ہے۔

لبیک اللّٰہم لبیک کی گونج؛ لاکھوں حجاج میدانِ عرفات میں رکنِ اعظم وقوفِ عرفہ ادا کرنے میں مصروف

روزینہ اسماعیل.May 26,2026

مکہ مکرمہ / نیوز اینڈ نیوز

مکہ مکرمہ: دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں فرزندانِ اسلام آج حج کے سب سے اہم اور مقدس رکن ’’وقوفِ عرفہ‘‘ کی ادائیگی کے لیے میدانِ عرفات میں جمع ہو گئے، جہاں فضا ’’لبیک اللّٰہم لبیک‘‘، ذکرِ الٰہی، توبہ و استغفار اور دعاؤں سے گونج اٹھی۔

حج کے روح پرور مناظر میں عازمینِ حج نے گزشتہ شب منیٰ کے خیموں میں قیام کیا، جہاں پوری رات عبادات، نوافل، تلاوتِ قرآن پاک، درود و اذکار اور استغفار میں گزاری گئی۔ صبح ہوتے ہی لاکھوں حجاج قافلوں کی صورت میں میدانِ عرفات کی جانب روانہ ہوئے، جہاں آج 9 ذوالحجہ کو رکنِ اعظم ادا کیا جا رہا ہے۔

حج کے موقع پر مسجد نمرہ سے خطبۂ حج دیا جا رہا ہے، جس میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، تقویٰ، صبر، بھائی چارے اور قرآن و سنت پر عمل کی تلقین کی گئی۔ خطبے کے بعد حجاج کرام ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ قصر کے ساتھ ادا کریں گے، جبکہ غروبِ آفتاب تک میدانِ عرفات میں دعاؤں اور مناجات کا سلسلہ جاری رہے گا۔

مذہبی ماہرین کے مطابق وقوفِ عرفہ حج کا بنیادی اور لازمی رکن ہے، جس کے بغیر حج مکمل نہیں ہوتا۔ اسی لیے لاکھوں حجاج آج اپنے رب کے حضور ہاتھ اٹھائے بخشش، رحمت اور مغفرت کی دعائیں مانگ رہے ہیں۔

غروبِ آفتاب کے بعد تمام حجاج بغیر مغرب ادا کیے مزدلفہ روانہ ہوں گے، جہاں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی جائیں گی اور رات کھلے آسمان تلے گزاری جائے گی۔ مزدلفہ ہی سے جمرات کے لیے کنکریاں بھی جمع کی جائیں گی۔

10 ذوالحجہ کو حجاج دوبارہ منیٰ پہنچ کر بڑے شیطان کو کنکریاں ماریں گے، قربانی ادا کریں گے، مرد حجاج سر منڈوائیں گے یا بال کٹوائیں گے، جس کے بعد احرام کھول دیا جائے گا۔ بعد ازاں حجاج مسجد الحرام میں طوافِ زیارت اور صفا و مروہ کی سعی ادا کریں گے۔

سعودی حکام نے اس سال شدید گرمی اور ہیٹ ویو کے خدشات کے پیشِ نظر حجاج کی سہولت کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ میدانِ عرفات، منیٰ اور دیگر مقدس مقامات پر جدید کولنگ سسٹمز، بڑے سایہ دار شیڈز، پانی کی پھوار چھوڑنے والے اسپرے سسٹمز، طبی کیمپس اور خصوصی پیدل راہداریاں قائم کی گئی ہیں تاکہ لاکھوں عازمین کو شدید گرمی میں زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔

اقوامِ متحدہ میں اسحاق ڈار کا مصروف سفارتی دن، عالمی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں شیڈول

محمود احمد May26,2026

نیو یارک / نیوز اینڈ نیوز

اقوامِ متحدہ: محمد اسحاق ڈار آج اقوامِ متحدہ میں انتہائی مصروف سفارتی دن گزاریں گے، جہاں وہ عالمی امن، سلامتی اور کثیرالجہتی تعاون سے متعلق اہم اجلاسوں اور دوطرفہ ملاقاتوں میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں چین کی صدارت میں منعقد ہونے والے سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی کھلے مباحثے میں شرکت کریں گے، جس کا عنوان “بین الاقوامی امن و سلامتی کا تحفظ: اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں کی پاسداری اور اقوامِ متحدہ پر مبنی بین الاقوامی نظام کو مضبوط بنانا” رکھا گیا ہے۔ اجلاس کی صدارت وانگ ای کریں گے جبکہ اسحاق ڈار مباحثے سے خصوصی خطاب بھی کریں گے۔

دفترِ خارجہ کے مطابق اس اہم سفارتی سرگرمی کے دوران اسحاق ڈار مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ قیادت سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں عالمی اور علاقائی صورتحال، دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون اور کثیرالجہتی سفارت کاری کے امور زیرِ بحث آئیں گے۔

ملاقات کرنے والی اہم شخصیات میں جیہون بایراموف، مینوئل تووار، ریبیکا گرینسپان، انتونیو گوتریس، عبداللطیف بن راشد الزیانی، برونو روڈریگیز پریلا، پیٹر ماچنکا اور روزا یولانڈا ویلاویسینسیو شامل ہیں۔

شام کے وقت نائب وزیرِ اعظم اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی جانب سے عرب، اسلامی اور یورپی ممالک کے سفیروں اور مستقل مندوبین کے اعزاز میں دیے جانے والے عشائیے میں بھی شرکت کریں گے، جہاں مختلف عالمی امور پر غیر رسمی مشاورت متوقع ہے۔

واضح رہے کہ محمد اسحاق ڈار گزشتہ شب 26 تا 28 مئی 2026 کے سرکاری دورے پر نیویارک پہنچے تھے، جہاں وہ پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کریں گے۔

حج کا عظیم اجتماع امتِ مسلمہ کے اتحاد کی علامت ہے، وزیراعظم شہباز شریف

کاشف عباسی ,May 26 ,2026

اسلام آباد / نیوز اینڈ نیوز

شہباز شریف نے حج کے روح پرور اور بابرکت موقع پر امتِ مسلمہ خصوصاً میدانِ عرفات میں موجود لاکھوں حجاجِ کرام کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حج کا عظیم اجتماع مسلمانوں کے اتحاد، بھائی چارے اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس کو دنیا بھر میں اجاگر کرتا ہے۔

اسلام آباد میں جاری اپنے خصوصی پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ حج کا یہ مبارک دن اللہ تعالیٰ کی رحمت، مغفرت اور قربت حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام عازمینِ حج کی عبادات، دعاؤں اور قربانیوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور پوری امتِ مسلمہ کو اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا کرے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حج ہمیں اخوت، صبر، ایثار، نظم و ضبط اور باہمی تعاون کا درس دیتا ہے، جبکہ یہی اوصاف کسی بھی قوم کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کی اصل بنیاد ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی کامیابی اتحاد، باہمی احترام اور مشترکہ ذمہ داری کے احساس میں پوشیدہ ہے۔

وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ ان مقدس اور بابرکت ساعتوں میں پاکستان دنیا بھر میں امن، سلامتی، استحکام اور انسانیت کی فلاح کیلئے خصوصی دعا گو ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر عدل، برداشت، رواداری اور بھائی چارے کے فروغ کی اشد ضرورت ہے تاکہ دنیا کو جنگوں، نفرتوں اور انتشار سے بچایا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن، استحکام اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا، جبکہ حج کا پیغام پوری انسانیت کیلئے محبت، مساوات اور خیر خواہی کا پیغام ہے۔

خلیجی ممالک اب امریکی فوجی اڈوں کیلئے ڈھال نہیں بنیں گے، مجتبیٰ خامنہ ای کا سخت پیغام

محمود احمد May26,2026

تہران/ نیوز اینڈ نیوز

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے یومِ عرفہ کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں امریکہ اور اسرائیل پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے اور خلیجی ممالک اب امریکی فوجی اڈوں کیلئے ڈھال کا کردار ادا نہیں کریں گے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے امتِ مسلمہ کے نام اپنے خطاب میں کہا کہ خطے کے حالات اب پہلے جیسے نہیں رہے اور وقت کی سوئی کسی صورت پیچھے نہیں جائے گی، اس لیے امریکہ پر انحصار کرنے والے ممالک کو اپنی پالیسیوں اور فیصلوں پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اب مشرقِ وسطیٰ میں سازشوں اور مداخلت کیلئے محفوظ ماحول حاصل نہیں کر سکے گا، جبکہ خطے کے ممالک کو اپنے مشترکہ مفادات کے تحفظ کیلئے باہمی اتحاد، تعاون اور آزاد علاقائی نظام کی تشکیل پر توجہ دینی چاہیے۔

ایرانی سپریم لیڈر نے اسرائیل کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل تیزی سے اپنے زوال کی طرف بڑھ رہا ہے اور اب کوئی طاقت اسے بچا نہیں سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل اسلامی اقوام کا ہے اور مسلم دنیا کو سیاسی، معاشی اور دفاعی میدان میں مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ امتِ مسلمہ کے ممالک کو بیرونی طاقتوں پر انحصار کم کرکے آپس میں دوستی، تعاون اور اتحاد کو فروغ دینا چاہیے تاکہ خطے میں پائیدار امن اور ترقی ممکن بنائی جا سکے۔

انہوں نے ایران کے خلاف ماضی میں ہونے والی کارروائیوں اور حالیہ کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم نے ایمان، استقامت اور اتحاد کے ذریعے تمام دباؤ کا مقابلہ کیا ہے۔ ان کے بقول دشمن ایران کو جھکانے اور ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے میں ناکام رہا۔

ایرانی سپریم لیڈر نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ ایران اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہے گا اور امریکی دباؤ یا دھمکیوں کے سامنے کسی قسم کی پسپائی اختیار نہیں کرے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ مسلم دنیا کو موجودہ عالمی حالات میں اتحاد اور خودمختاری کا راستہ اپنانا ہوگا۔

خطبہ حج میں اتحادِ امت، تقویٰ اور قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھامنے پر زور

روزینہ اسماعیل.May 26,2026

مکہ مکرمہ/ نیوز اینڈ نیوز

امامِ مسجد نبوی الشیخ علی الحذیفی نے خطبہ حج دیتے ہوئے امتِ مسلمہ پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے باہمی اختلافات ختم کرے، تقویٰ و پرہیزگاری کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے اور قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھام لے۔

مسجد نمرہ سے دیے گئے خطبہ حج میں الشیخ علی الحذیفی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ واحد معبود ہے اور اسی کی عبادت انسان کی نجات کا راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہل ایمان کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ توحید پر ثابت قدم رہیں اور دنیا کی عارضی زندگی کے بجائے آخرت کی تیاری کریں۔

انہوں نے کہا کہ قیامت برحق ہے اور ہر انسان کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا، اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نیک اعمال اختیار کریں، گناہوں اور برائیوں سے بچیں اور اپنی زندگی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کے مطابق گزاریں۔

خطبہ حج میں امامِ مسجد نبوی ﷺ نے کہا کہ تقویٰ اختیار کرنا ایمان والوں کی شان ہے، مسلمانوں کو ہمیشہ سچ بولنا چاہیے، وعدوں کی پاسداری کرنی چاہیے اور غلط بیانی و دھوکے سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کے آخری رسول اور خاتم النبیین ہیں، جبکہ سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔

الشیخ علی الحذیفی نے کہا کہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنا چاہیے اور آزمائشوں میں صبر سے کام لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم، ناشکری اور نافرمانی کرنے والی قوموں سے اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتیں واپس لے لیں۔

انہوں نے امت مسلمہ کو تلقین کی کہ ہر مشکل اور مصیبت میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کیلئے عظیم اجر کی بشارت دی ہے۔

خطیبِ حج نے مسلم امہ کے موجودہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج امت کو سب سے زیادہ ضرورت اتحاد، اخوت اور قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان آپس کے اختلافات اور انتشار کو ختم کریں اور اپنی زندگیوں میں تقویٰ، برداشت اور بھائی چارے کو فروغ دیں۔

انہوں نے حجاجِ کرام کو ہدایت کی کہ میدانِ عرفات میں عبادات اور دعاؤں پر توجہ دیں اور کسی بھی قسم کی سیاسی یا غیر متعلقہ سرگرمی سے گریز کریں تاکہ حج کا مقدس ماحول اور امن و سکون برقرار رہے۔

بیجنگ میں پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل، شہباز شریف اور ہان ژینگ کی خصوصی تقریب میں شرکت

منصور احمد ,May 26,2026

بیجنگ/ نیوز اینڈ نیوز

: پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر بیجنگ میں ایک خصوصی اور پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور چین کے نائب صدر ہان ژینگ نے شرکت کی اور پاک چین دوستی کے 75 برس مکمل ہونے پر یادگاری کیک کاٹا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ چین نے گزشتہ 75 برس کے دوران غیر معمولی ترقی کی اور آج دنیا کی بڑی معاشی طاقتوں میں شامل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ کی قیادت میں کروڑوں افراد غربت سے باہر آئے، جبکہ چین نے خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کیلئے قابلِ تحسین کردار ادا کیا۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین بہترین دوست، قریبی شراکت دار اور آزمودہ ساتھی ہیں، جو ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ ان کے بقول پاک چین تعلقات باہمی اعتماد، خلوص اور احترام پر مبنی ہیں، جنہیں وقت کے ساتھ مزید مضبوطی حاصل ہوئی ہے۔

شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ چین کی ترقی سخت محنت، مستقل مزاجی اور مؤثر حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے، اور پاکستان کو بھی چینی ترقیاتی ماڈل سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان چینی طرز کی معاشی ترقی، صنعتی پیش رفت اور جدید انفراسٹرکچر کے اہداف حاصل کرنے کیلئے پُرعزم ہے۔

وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ پاک چین دوستی کی جڑیں انتہائی مضبوط ہیں اور دونوں ممالک کی ذمہ داری ہے کہ آنے والی نسلوں کیلئے اس تاریخی تعلق کو مزید مستحکم اور مؤثر بنایا جائے۔

اس موقع پر چینی نائب صدر ہان ژینگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور چین جغرافیہ، تاریخ اور مشترکہ مستقبل کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ہر آزمائش اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، جبکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری پاک چین دوستی کی ایک مضبوط اور روشن علامت بن چکی ہے۔

تقریب میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام، سفارتکاروں، کاروباری شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی، جبکہ پاک چین دوستی اور دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔

“Latest News”

ڈونلڈ ٹرمپ کا سعودی عرب اور پاکستان سے اسرائیل کے ساتھ ابراہم معاہدے میں شمولیت کا مطالبہ

کاشف عباسی ,May 25 ,2026

واشنگٹن/ نیوز اینڈ نیوز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب، پاکستان اور دیگر مسلم ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کیلئے ابراہم معاہدوں میں شامل ہوں، جبکہ انہوں نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل کو بھی اسی تناظر میں جوڑ دیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر جاری اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی اور ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے بعد خطے کے ممالک کیلئے ابراہم معاہدوں میں شمولیت ایک ’’قدرتی اور ضروری اگلا مرحلہ‘‘ ہونا چاہیے۔

امریکی صدر کے مطابق انہوں نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب، پاکستان، قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین، مصر، ترکیہ اور دیگر ممالک کی قیادت سے رابطے کیے، جن میں خطے کی صورتحال اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی پر گفتگو ہوئی۔

انہوں نے خاص طور پر سعودی عرب اور قطر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کو فوری طور پر اسرائیل کے ساتھ ابراہم معاہدوں پر دستخط کے عمل کا آغاز کرنا چاہیے، جبکہ دیگر ممالک کو بھی ان کی پیروی کرنی چاہیے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر کوئی ملک ابراہم معاہدوں میں شامل ہونے کیلئے تیار نہیں، تو اسے ایران کے ساتھ مجوزہ امن ڈیل کے عمل میں بھی شامل نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اس سے ’’خراب نیت‘‘ ظاہر ہوتی ہے۔

انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر ایران امریکہ کے ساتھ معاہدہ کر لیتا ہے تو مستقبل میں ایران کا خود ابراہم معاہدوں میں شامل ہونا بھی ممکن ہو سکتا ہے، جو ان کے بقول مشرقِ وسطیٰ کو دنیا کا ’’سب سے زیادہ متحد، طاقتور اور معاشی طور پر مضبوط خطہ‘‘ بنا دے گا۔

امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ نے خطے میں ایک انتہائی پیچیدہ سفارتی بحران کو حل کرنے کیلئے غیر معمولی کوششیں کی ہیں، اس لیے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کو امن عمل کا حصہ سمجھا جانا چاہیے۔

انہوں نے ابراہم معاہدوں کے فوائد بیان کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان جیسے ممالک کو ان معاہدوں کے بعد معاشی، تجارتی اور سفارتی سطح پر نمایاں فوائد حاصل ہوئے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ خطے میں حالیہ کشیدگی اور ایران کے ساتھ جنگ جیسے حالات کے باوجود کسی بھی رکن ملک نے ابراہم معاہدوں سے علیحدگی یا ان کی معطلی کی بات نہیں کی، جو ان معاہدوں کی مضبوطی اور اہمیت کا ثبوت ہے۔

شی جن پنگ اور شہباز شریف کی اہم ملاقات، ’’پاک چین دوستی ہر آزمائش میں ناقابلِ شکست رہی‘‘

منصور احمد ,May 25,2026

بیجنگ/ نیوز اینڈ نیوز

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے دورۂ چین کے دوران چینی صدر شی جن پنگ سے اہم ملاقات کی، جس میں پاک چین تعلقات، خطے کی سکیورٹی صورتحال، اقتصادی تعاون اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی سمیت متعدد اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ دوطرفہ تعاون کو تجارت، سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی اور علاقائی استحکام کے شعبوں تک مزید وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

چینی صدر شی جن پنگ نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان کے ساتھ اپنی تاریخی اور برادرانہ دوستی کو ہمیشہ خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دے کر ایسی مضبوط اور ناقابلِ شکست دوستی قائم کی ہے جو عالمی سفارتکاری میں ایک منفرد مثال سمجھی جاتی ہے۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں علاقائی اور عالمی صورتحال، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امن و استحکام کی کوششوں پر بھی گہری گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر چینی صدر نے ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ کم کرنے کیلئے پاکستان کے سفارتی اور ثالثی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور مذاکرات کے فروغ کیلئے مثبت اور ذمہ دار کردار ادا کر رہا ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے چینی قیادت کی جانب سے پاکستان پر اعتماد اور مسلسل تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاک چین تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی دوستی صرف حکومتوں تک محدود نہیں بلکہ عوام کے دلوں میں رچی بسی ایک لازوال شراکت داری ہے۔

وزیرِ اعظم نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ پاکستان چین کے ساتھ اقتصادی تعاون، صنعتی ترقی، سی پیک کے دوسرے مرحلے، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور علاقائی رابطہ کاری کے منصوبوں کو مزید تیز رفتاری سے آگے بڑھائے گا۔

ملاقات کو دونوں ممالک کے تعلقات کیلئے انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ سفارتی حلقوں کے مطابق اس سے پاک چین تعاون کے نئے دروازے کھلنے اور خطے میں مشترکہ امن و ترقی کے وژن کو مزید تقویت ملنے کی توقع ہے۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا متحرک سفارتی کردار، اسحاق ڈار اہم عالمی اجلاسوں میں شرکت کیلئے نیویارک روانہ

محمود احمد May25,2026

اسلام آباد /نیویارک/ نیوز اینڈ نیوز

نیویارک: پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار چین کے دارالحکومت بیجنگ سے تین روزہ دورے پر نیویارک روانہ ہو رہے ہیں، جہاں وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاسوں اور عالمی گورننس سے متعلق اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار 26 سے 28 مئی تک نیویارک میں قیام کریں گے اور 26 مئی کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہونے والے اہم اوپن ڈیبیٹ میں شرکت کریں گے، جس کا موضوع ’’بین الاقوامی امن و سلامتی کا تحفظ، اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کا فروغ اور اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کو مضبوط بنانا‘‘ رکھا گیا ہے۔

یہ اہم اجلاس سلامتی کونسل کی مئی 2026 کی گردشی صدارت رکھنے والے چین کی جانب سے طلب کیا گیا ہے، جبکہ اجلاس کی صدارت چینی وزیر خارجہ وانگ یی کریں گے۔

پاکستان نے چین کے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے موجودہ عالمی حالات میں ایک بروقت اور اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان سمجھتا ہے کہ پیچیدہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے کثیرالجہتی تعاون، بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے مؤثر کردار کو مزید مضبوط بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

دورے کے دوران نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ 28 مئی کو ’’گروپ آف فرینڈز آن گلوبل گورننس‘‘ کے اجلاس میں بھی شرکت کریں گے، جس کا مرکزی موضوع ’’عالمی گورننس میں اصلاحات اور عالمی چیلنجز سے مشترکہ طور پر نمٹنا‘‘ ہوگا۔

ذرائع کے مطابق اسحاق ڈار اپنے دورہ نیویارک کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ، اعلیٰ سفارتی شخصیات اور اقوام متحدہ کے سینئر حکام سے بھی دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے، جن میں خطے کی صورتحال، عالمی امن، اقتصادی تعاون اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

پاکستان نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ عالمی امن، سلامتی، ترقی اور مؤثر کثیرالجہتی نظام کے فروغ کیلئے اپنا مثبت اور تعمیری کردار جاری رکھے گا۔

ایران نے امریکہ کے ساتھ اصولی فریم ورک کی تصدیق کر دی، حتمی معاہدہ ابھی دور ہے: ایرانی وزارتِ خارجہ

منصور احمد ,May 25,2026

تہران /نیوز اینڈ نیوز

ایران نے پہلی بار امریکہ کے ساتھ جاری پسِ پردہ مذاکرات کے حوالے سے باضابطہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم نکات پر ایک اصولی فریم ورک یا ابتدائی مفاہمت طے پا چکی ہے، تاہم حتمی امن معاہدہ تاحال مکمل طور پر قریب نہیں پہنچا۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ مذاکرات حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، لیکن اس وقت کسی بھی حتمی معاہدے کا اعلان قبل از وقت ہوگا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر مذاکرات کا محور جوہری پروگرام نہیں بلکہ خطے میں جاری کشیدگی، جنگ بندی اور امن کا قیام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم اس وقت جوہری مسئلے کی تفصیلات پر بات نہیں کر رہے، ہماری توجہ صرف جنگ کے خاتمے اور خطے میں پائیدار استحکام پر مرکوز ہے۔

ایرانی ترجمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور مغربی میڈیا کی رپورٹنگ پر بھی ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی سیاست میں دباؤ، دھمکیوں، میڈیا مہم اور نفسیاتی حربوں کو سیاسی کلچر کا حصہ سمجھا جاتا ہے، تاہم ایران ان حربوں سے متاثر نہیں ہوتا۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’’ہم کسی کے پروپیگنڈے یا سیاسی دباؤ سے مرعوب نہیں ہوتے۔ ایران زمینی حقائق اور عملی اقدامات کو اہمیت دیتا ہے۔ ہم بیانات سے زیادہ عمل پر یقین رکھتے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات، خودمختاری اور سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر فیصلہ انتہائی سوچ بچار اور قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کیا جائے گا۔

خطے کی حالیہ صورتحال اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی پر بات کرتے ہوئے ایرانی ترجمان نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران جلد بازی یا دباؤ میں کوئی اقدام نہیں کرے گا، تاہم اگر ضرورت پڑی تو مناسب اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایک ’’مہذب، باوقار اور طاقتور ملک‘‘ ہے اور وہ اپنے دشمنوں کے انداز کی نقل نہیں کرے گا بلکہ اپنی حکمتِ عملی کے مطابق ردعمل دے گا۔ ان کے مطابق ایران ماضی کی طرح مستقبل میں بھی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

چین میں پاکستان کے اربوں ڈالر کے معاہدے، وزیراعظم شہباز شریف بیجنگ پہنچ گئے

کاشف عباسی ,May 25 ,2026

بیجنگ / ہانگژو/نیوز اینڈ نیوز

وزیراعظم شہباز شریف چین کے اہم اقتصادی شہر ہانگژو میں مصروف سفارتی اور تجارتی سرگرمیوں کے بعد اتوار کو بیجنگ پہنچ گئے، جہاں وہ چینی قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کریں گے۔ دورے کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں اربوں ڈالر مالیت کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اپنے دورۂ بیجنگ کے دوران چینی صدر شی جن پنگ اور چینی وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں پاک چین اسٹریٹجک شراکت داری، سی پیک فیز ٹو، تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، صنعت، سائنس و ٹیکنالوجی اور عوامی روابط کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ہانگژو میں وزیراعظم نے تیسری پاکستان۔چین بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا، جس میں الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ انفراسٹرکچر، بیٹری انرجی اسٹوریج، سولر ٹیکنالوجی اور فارماسیوٹیکل شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی گئی۔

تقریب کے دوران پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان 7 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، جن کا مقصد مختلف صنعتی اور تجارتی شعبوں میں سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں صنعتیں منتقل کرنے کی دعوت دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاروں کو تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ چینی سرمایہ کاروں کو “ریڈ کارپٹ” خوش آمدید کہا جائے گا اور انہیں انتہائی پرکشش شرائط پر طویل المدتی لیز پر زمین فراہم کی جائے گی۔ وزیراعظم نے پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کے لیے چار اہم شعبوں — زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، خصوصی اقتصادی زونز اور معدنیات — کو مستقبل کی ترجیحات قرار دیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ چین ہر سال تقریباً 100 ارب ڈالر مالیت کی زرعی مصنوعات درآمد کرتا ہے، تاہم اس میں پاکستان کا حصہ نہایت کم ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چینی تعاون اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے آئندہ پانچ سے سات برسوں میں پاکستان اپنی زرعی برآمدات 10 ارب ڈالر تک بڑھا سکتا ہے۔

انہوں نے کراچی کے خصوصی اقتصادی زون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 6 ہزار ایکڑ پر مشتمل یہ زون چینی سرمایہ کاروں کے لیے غیرمعمولی مواقع فراہم کرتا ہے۔ وزیراعظم نے چینی صنعتکاروں کو کراچی آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے بہترین امکانات رکھتا ہے۔

دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے معروف چینی کمپنی علی بابا گروپ کی قیادت سے بھی ملاقات کی، جس میں ای کامرس، ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون سے متعلق متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

دوسری جانب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چینی سرمایہ کاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “پاکستان کاروبار کے لیے مکمل طور پر کھلا ہے” اور حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کر رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دورہ پاک چین اقتصادی تعاون کے نئے مرحلے کی بنیاد بن سکتا ہے، جس سے پاکستان میں صنعتی ترقی، روزگار کے مواقع اور برآمدات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا امریکہ۔ایران مذاکرات کے اگلے دور کی جلد اسلام آباد میں میزبانی کی امید کا اظہار

کاشف عباسی ,May 25 ,2026

اسلام آباد/نیوز اینڈ نیوز

وزیراعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات کا اگلا دور بہت جلد اسلام آباد میں منعقد ہو سکتا ہے، جبکہ پسِ پردہ سفارتی رابطوں میں بھی اہم پیش رفت کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کئی ہفتوں سے جاری کشیدگی اور جنگ بندی کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمت کی فضا مضبوط ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان ایک مرتبہ پھر اہم ثالثی کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

باخبر ذرائع نے بتایا کہ چین کے چار روزہ دورے پر موجود وزیراعظم شہباز شریف کو امریکہ اور ایران کی جانب سے اعلیٰ سطح کے وفود کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے “سنجیدہ اشارے” موصول ہوئے ہیں۔ ان اطلاعات کے مطابق پاکستان آئندہ مذاکراتی مرحلے کی میزبانی کے لیے زیر غور ہے۔

تاہم وزیراعظم آفس کے ایک سینئر ذریعے نے اس حوالے سے محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال اسلام آباد میں کسی بڑے سفارتی اجلاس کی عملی تیاریوں کا آغاز نہیں ہوا اور نہ ہی فوری طور پر مذاکرات کی تاریخ طے ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ رواں برس اپریل میں اسلام آباد امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا میزبان بن چکا ہے، جہاں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سمیت اعلیٰ شخصیات نے شرکت کی تھی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امن کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خطے میں امن کے قیام کے لیے غیرمعمولی کوششیں کیں۔ وزیراعظم نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکیہ، مصر، متحدہ عرب امارات اور اردن سمیت کئی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ایک اہم اور مفید ٹیلیفونک رابطہ کیا۔

وزیراعظم کے مطابق اس گفتگو میں پاکستان کی نمائندگی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کی، جن کی سفارتی کوششوں اور مسلسل رابطوں کو انہوں نے سراہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس رابطے کے دوران خطے کی موجودہ صورتحال اور امن عمل کو آگے بڑھانے کے طریقہ کار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں دیرپا امن، استحکام اور سفارتی حل کے لیے اپنی کوششیں پوری سنجیدگی سے جاری رکھے گا۔

دوسری جانب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی صدر ٹرمپ کی سفارتی حکمت عملی اور مذاکراتی عمل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ رابطہ خطے میں امن، استحکام اور جلد سفارتی حل کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

سفارتی مبصرین کے مطابق اگر امریکہ اور ایران کے درمیان ابتدائی مفاہمت حتمی شکل اختیار کرتی ہے تو اسلام آباد ایک مرتبہ پھر عالمی سفارتکاری کا اہم مرکز بن سکتا ہے۔