نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان کی آئندہ سفارتی سرگرمیوں، اعلیٰ سطح کے متوقع دوروں اور خطے و بین الاقوامی سطح پر ہونے والی اہم پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اجلاس کے دوران بالخصوص ناروے کے وزیر خارجہ کے اسلام آباد کے آنے والے اہم دورے کی تیاریوں اور انتظامات کا جامع جائزہ لیا گیا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ہدایت کی کہ آنے والی تمام سفارتی سرگرمیوں اور مذاکرات سے ملک کے لیے مثبت اور ٹھوس نتائج کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ شعبے موثر رابطہ کاری اور بھرپور تیاری کریں۔
اجلاس میں سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ سمیت وزارتِ خارجہ کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور پاکستان کی عالمی و علاقائی سفارتی حکمتِ عملی سے متعلق نائب وزیراعظم کو بریفنگ دی۔
براڈ پیک پر پیش آنے والے المناک حادثے میں جان کی بازی ہارنے والے غیر ملکی و مقامی کوہ پیماؤں کی میتیں اسکردو سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچا دی گئی ہیں۔ دشوار گزار اور شدید برفانی علاقے سے میتوں کو نکالنے کا پیچیدہ آپریشن پاک فوج کے ہیلی کاپٹروں، تجربہ کار پاکستانی کوہ پیماؤں اور نیپالی شیرپاز کی مشترکہ کوششوں سے کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ 30 جولائی کو براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے باعث 10 کوہ پیما جاں بحق ہو گئے تھے، جس کے بعد کئی روز تک شدید ترین موسمی حالات کے باوجود ریسکیو اور ریکوری آپریشن جاری رکھا گیا۔ ریکور کی جانے والی میتوں میں نیپال سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما نرمل پورجا سمیت متعدد غیر ملکی کوہ پیماؤں کی میتیں شامل ہیں۔
حکام اور سفارتی ذرائع کے مطابق کوہ پیماؤں کی میتیں اب ان کے آبا و اجداد کے ممالک میں روانگی کے لیے تیار ہیں۔ نرمل پورجا کی میت جلد برطانیہ روانہ کی جائے گی جہاں انہیں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا جائے گا۔ جبکہ چینی کوہ پیما کی میت چین اور نیپالی شیرپاز کی میتیں نیپال بھیجی جا رہی ہیں۔ اس سے قبل یکتا شیرپا کی میت نیپال اور عمانی خاتون کوہ پیما کی میت پہلے ہی عمان منتقل کی جا چکی ہے۔
حکام کا مزید کہنا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والے دیگر کوہ پیماؤں کے جسدِ خاکی کی منتقلی کے تمام قانونی اور سفارتی مراحل تیزی سے طے کیے جا رہے ہیں۔ تاھم اس المناک حادثے میں تین افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن میں پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی، ایک نیپالی شیرپا اور ایک امریکی خاتون کوہ پیما شامل ہیں، جن کی تلاش کا عمل جاری رکھا جائے گا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کی ممتاز اور خیبرپختونخوا سے تعاق رکھنے والی پہلی خاتون جج جسٹس مسرت ہلالی اپنی آئینی مدت پوری ہونے کے بعد عہدے سے ریٹائر ہو گئی ہیں۔ ان کے اعزاز میں سپریم کورٹ کے پرنسپل سیٹ اسلام آباد میں چیف جسٹس پاکستان کی زیرِ صدارت فل کورٹ ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔
اس تاریخی و وقار تقریب میں سپریم کورٹ کے ججز، لاء افسران اور وکلا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ریفرنس میں سپریم کورٹ کے 9 ججز نے اسلام آباد سے بالمشافہ شرکت کی جبکہ 4 ججز نے کراچی اور 3 ججز نے لاہور رجسٹری سے ویڈیو لنک کے ذریعے حصہ لیا۔
اپنے اعزاز میں منعقدہ فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس مسرت ہلالی جذبات سے مغلوب ہو گئیں اور اپنے مرحوم والدین کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے والدین کی بے حد مشکور ہیں جن کی تربیت، دعاؤں اور رہنمائی کی بدولت وہ اس اعلیٰ مقام تک پہنچیں۔ اپنے والد کا ذکر کرتے ہوئے ان کی آنکھیں نم ہو گئیں اور انہوں نے کہا کہ والد کے ساتھ کم وقت گزارنے کا موقع ملا لیکن زندگی کے اہم اسباق انہی سے سیکھے۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ جج مقرر ہوئیں تو اسی دوران ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا جس کا دکھ انہیں آج بھی ہے کہ وہ اپنی والدہ کو اس منصب پر فائز نہ دیکھ سکیں۔
جسٹس مسرت ہلالی نے چیف جسٹس پاکستان اور تمام ساتھی ججز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ججز کی دوستی، اعتماد اور تعاون نے ہر مرحلے پر ان کو حوصلہ دیا۔ اپنے عدالتی سفر کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ خیبرپختونخوا کی پہلی خاتون تھیں جنہوں نے بار کا انتخاب جیتا، جس کے بعد وہ پشاور ہائیکورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس اور پھر صوبے سے سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج بننے کے تاریخی اعزاز کی حامل رہیں۔
انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ججز آتے جاتے رہتے ہیں لیکن آئین اور انصاف کی حکمرانی ہمیشہ قائم رہنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مکمل اطمینان کے ساتھ ریٹائر ہو رہی ہیں کیونکہ جو کچھ بھی انہوں نے حاصل کیا وہ والدین کی دعاؤں، محنت اور ساتھی ججز کی حمایت سے ممکن ہوا۔
فل کورٹ ریفرنس کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کا خصوصی پیغام پڑھ کر سنایا جس میں جسٹس مسرت ہلالی کی قانون، عدالتی خدمات، اعلیٰ پیشہ ورانہ دیانت اور انصاف کی فراہمی کے لیے ان کے کلیدی کردار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان سول ایوارڈز کمیٹی نے آئینِ پاکستان اور مقررہ قانونی ضوابط کے مطابق سائنس، تعلیم، ادب، فن اور عوامی خدمت کے شعبوں میں غیر معمولی خدمات انجام دینے والی ممتاز شخصیات کی نامزدگیوں کا حتمی جائزہ لے لیا ہے۔
پاکستان سول ایوارڈز کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح خالص میرٹ کی بنیاد پر ان قومی ہیروز کو اعزازات سے نوازنا ہے جنہوں نے اپنی بے پناہ صلاحیتوں، انتھک محنت اور خدمات کے ذریعے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔
پروفیسر احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ جب کوئی قوم اپنے حقیقی معماروں اور محسنوں کی خدمات کا اعتراف کرتی ہے، تو یہی عزت و احترام آنے والی نسلوں کے لیے تحریک، حوصلہ اور وطنِ عزیز کی خدمت کے جذبے کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ بنتا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ سول ایوارڈز کی فراہمی کا عمل مکمل شفافیت، انصاف اور میرٹ پر استوار رکھا جائے گا تاکہ ملک کے حقیقی محسنوں کی پذیرائی ممکن ہو سکے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) نے کنگڈم ویلی پرائیویٹ لمیٹڈ اور دیگر کے خلاف عام شہریوں سے دھوکہ دہی کے ذریعے کروڑوں روپے ہتھیانے اور سنگین خرد برد کے الزامات پر باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
نیب کے ریجنل بیورو اسلام آباد/راولپنڈی کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق اس نجی ہاؤسنگ منصوبے کے متاثرین کو کہا گیا ہے کہ وہ ایک ماہ کے اندر اپنی تمام تر تحریری درخواستیں اور ثبوت نیب دفاتر میں جمع کروائیں۔
نیب حکام کے مطابق متاثرین اپنی درخواستوں کے ساتھ اپنے قومی شناختی کارڈ کی کاپی، بیانی حلفی، سرمایہ کاری کا باقاعدہ معاہدہ، اصل الاٹمنٹ لیٹر اور بینک ادائیگیوں کی تمام تر رسیدیں و ثبوت لازمی منسلک کریں۔ اس اقدام کا مقصد عوام الناس کی محنت کی کمائی کو فراڈ سے بچانا اور متاثرین کو انصاف فراہم کرنا ہے۔
وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے اسلام آباد میں زیرِ تعمیر ملک کے سب سے بڑے اور جدید ترین آئی ٹی پارک کا تفصیلی دورہ کیا اور جاری تعمیراتی کام کی پیشرفت کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران انہوں نے عمارت کے مختلف فلورز کا معائنہ کیا، جبکہ متعلقہ حکام نے انہیں منصوبے کی تکمیل، کام کی رفتار اور مختلف شعبہ جات کے حوالے سے جامع بریفنگ دی۔
وزارت آئی ٹی و ٹیلی کام سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر نے کام کے معیار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تعمیراتی اور تکمیلی امور کو مزید معیاری بنانے کے لیے خصوصی ہدایات جاری کیں۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ جدید ترین سہولیات سے آراستہ یہ آئی ٹی پارک وزیراعظم پاکستان کی جانب سے ملک کے ہونہار نوجوانوں کے لیے ایک عظیم تحفہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کے ذریعے پاکستانی جدید ٹیکنالوجی تک برابری کی رسائی حاصل کر کے عالمی سطح پر روزگار کے نئے مواقع تلاش کرے گی اور قومی معیشت کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
واضح رہے کہ اسلام آباد میں قائم ہونے والا یہ آئی ٹی پارک ملک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ، بین الاقوامی معیار کے انفراسٹرکچر اور روزگار کی فراہمی میں سنگِ میل ثابت ہوگا، اور اس اہم قومی منصوبے کا باقاعدہ افتتاح بہت جلد متوقع ہے۔
یوم استحصالِ کشمیر کے موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے غیر قانونی بھارتی تسلط اور 5 اگست 2019ء کے یکطرفہ اقدامات کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی ریلیوں، سیمینارز اور آگہی تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔ ان تقاریب میں شرکا نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے غیر قانونی اور جابرانہ اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور مظلوم کشمیریوں سے کامل یکجہتی کا اظہار کیا۔
آزاد کشمیر اور چاروں صوبوں میں اس روز کے حوالے سے بھرپور جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔ مظفر آباد میں بھارت کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف عوام کا سمندر سڑکوں پر نکل آیا جبکہ میرپور میں چوک شہیداں تک ایک شاندار اور بڑی ریلی نکالی گئی جس میں شہریوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں بیت المکرم سے شروع ہونے والی ریلی میں نوجوانوں اور بزرگوں نے بھرپور شرکت کی، جبکہ لاہور میں بھی سیمینارز اور ریلیوں کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کیا گیا۔
پنجاب کے دیگر اضلاع بالخصوص ڈسکہ اور حافظ آباد میں سرکاری و غیر سرکاری تنظیموں کے زیراہتمام ریلیاں نکالی گئیں جن میں شرکا نے پاکستان اور کشمیر کے پرچم اٹھا رکھے تھے۔ خیبرپختونخوا کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں مظاہرین نے عالمی برادری سے مقبوضہ وادی میں جاری بھارتی مظالم کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔
بلوچستان بھر میں بھی کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا گہرا اثر دیکھا گیا۔ واشک، جعفر آباد، ڈیرہ بگٹی، کوہلو اور حب کے غیور عوام سڑکوں پر نکل آئے اور کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ان ملک گیر مظاہروں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ پوری پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔