وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے انسانی ہمدردی کے عالمی دن کے موقع پر دنیا بھر اور بالخصوص پاکستان میں خدمات انجام دینے والے امدادی کارکنان کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اپنے ایک خصوصی پیغام میں انہوں نے کہا کہ سخت، مشکل اور انتہائی خطرناک حالات کے باوجود امدادی کارکنان کی خدمات بلا شبہ قابلِ تحسین ہیں، جو دنیا بھر میں انسانیت، باہمی ہمدردی اور بے لوث خدمت کی روشن ترین مثال قائم کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیرِ قانون نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی ہمدردی صرف کسی آفت کے وقت فوری امدادی سامان کی فراہمی کا نام نہیں ہے بلکہ یہ متاثرین کے وقار، مکمل تحفظ اور ان کے لیے انصاف کو یقینی بنانے کا بنیادی تقاضا بھی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات اور دیگر نادیدہ بحرانوں کے دوران متاثرہ افراد، بالخصوص خواتین، بچوں، معذور افراد اور دیگر معاشی یا سماجی طور پر کمزور طبقات کا تحفظ اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ ہنگامی اور ہنگامی نوعیت کے حالات میں ریاست کی بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تمام متاثرہ افراد کو بلا کسی امتیاز کے مکمل تحفظ اور بنیادی سہولیات فراہم کرے۔
سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اپنے پیغام میں ریاستی اداروں، سول سوسائٹی کے تنظیموں، طبی عملے اور ہر سطح کے رضاکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ بحران کی اس گھڑی میں کوئی بھی انسان بے یارومددگار نہ رہے، یہ ہم سب کی اجتماعی اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ سے انسانی حقوق، احترامِ انسانیت اور قانون کی حکمرانی کے اعلیٰ اصولوں پر قائم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک مؤثر انسانی ہمدردی کے نظام میں محض فوری امداد کے ساتھ ساتھ متاثرین کی مکمل بحالی، انہیں عدل و انصاف اور تمام بنیادی زندگی کی سہولیات تک رسائی فراہم کرنا شامل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ انسانی ہمدردی عالمی سطح پر آپسی تعاون اور یکجہتی کا تقاضا کرتی ہے اور پاکستان مشکل کی ہر گھڑی میں تمام ضرورت مند انسانوں کے ساتھ کھڑا رہنے کے اپنے عزم پر سختی سے قائم ہے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو سماجی اشاریوں میں کمزوری کے باعث قومی ترقی کے حوالے سے سنگین چیلنجز درپیش ہیں اور ماضی میں مختلف منصوبوں و اقدامات کے باوجود ملک تعلیم، صحت اور انسانی ترقی کے بنیادی شعبوں میں وہ فیصلہ کن پیش رفت حاصل نہیں کر سکا جو پائیدار قومی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اوورسیز سمر اسکالر انٹرن شپ اور وائی پی ڈی سی ریزیڈینڈینشل فیلوشپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے اس موقع پر ایک تاریخی اور منفرد منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ وزارتِ منصوبہ بندی ایک بڑا قومی پروگرام تیار کر رہی ہے جس کے تحت دس لاکھ پاکستانی نوجوانوں کو سماجی متحرک کار کے طور پر منظم کیا جائے گا تاکہ نچلی سطح پر عوامی شمولیت کے ذریعے تعلیمی اور صحتی اشاریوں میں بامعنی اور پائیدار بہتری لائی جا سکے۔
احسن اقبال نے بتایا کہ اس قومی اقدام کا باقاعدہ آغاز 9 نومبر کو کیا جائے گا اور وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف خود اس کا افتتاح کریں گے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد پاکستان کے اہم ترین سماجی مسائل سے نمٹنے کے لیے ملک کی نوجوان آبادی کی صلاحیتوں اور توانائیوں کو بروئے کار لانا ہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت ملک میں تقریباً ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں جنہیں تعلیم کے دائرے میں لانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس کے علاوہ شرح خواندگی میں اضافہ کرنا، بچوں میں غذائی قلت اور کم نشوونما جیسے خطرناک مسائل پر قابو پانا بھی اس پروگرام کا بنیادی حصہ ہے۔ وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں اس وقت تقریباً 40 فیصد بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں جو ہمارے انسانی وسائل کی معیاری ترقی کے لیے ایک بہت بڑا اور لمحہ فکریہ چیلنج ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ دس لاکھ نوجوان رضاکار اپنے اپنے علاقوں، محلو ں اور برادریوں میں جا کر نہ صرف اسکول سے باہر بچوں کی نشاندہی کریں گے بلکہ انہیں تعلیم کی طرف لانے، صحت بخش طرزِ زندگی کو فروغ دینے، منشیات اور تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے خلاف شعور اجاگر کرنے اور صحت و غذائیت سے متعلق آگاہی پھیلانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان نوجوانوں کو ماحولیاتی تحفظ کے لیے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر شجرکاری مہمات میں بھی متحرک کیا جائے گا تاکہ وہ قومی ترقی کی ترجیحات کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے ایک مضبوط پل کا کام کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور اس اتنی بڑی طاقت کو قومی تعمیر کے عمل میں فعال شراکت دار بنائے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔
اپنے خطاب میں معاشی سمت کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کا طویل مدتی ہدف صرف عارضی معاشی استحکام حاصل کرنا نہیں بلکہ سال 2035ء تک پاکستان کو ایک کھرب ڈالر یعنی ون ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانا ہے۔ انہوں نے ماضی کی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی ملک میں سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل رہا، پاکستان نے تیز رفتار ترقی کی۔ سن 2013ء میں ملک کو درپیش شدید توانائی بحران اور دہشت گردی کے باوجود 2017ء تک قومی بجلی کی پیداوار میں 11 ہزار میگاواٹ سے زائد کا اضافہ کیا گیا اور سی پیک کے تحت 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری لائی گئی جس سے بنیادی ڈھانچہ مضبوط ہوا۔ تاہم 2018ء کی سیاسی تبدیلی سے ترقی کا یہ سفر متاثر ہوا لیکن موجودہ حکومت دوبارہ سے شراکتی ماڈل کے تحت ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
وفاقی وزیر نے ملک کے دفاعی اور سفارتی محاذوں پر کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معرکہ حق کے دوران پاکستان نے اپنی قومی یکجہتی اور عزم کا بھرپور مظاہرہ کیا اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں مسلح افواج نے ملک کا کامیاب دفاع کیا۔ اس کے علاوہ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع میں جنگ بندی کے لیے تعمیمی سفارتی کردار ادا کیا جبکہ مکہ دفاعی معاہدے نے خطے میں پاکستان کو ایک ذمہ دار اور اہم ملک کے طور پر قائم کیا۔ احسن اقبال نے زور دیا کہ دفاع اور سفارت کاری میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اب ہمیں “معرکہ حق” کی کامیابی کو “معرکہ ترقی” میں تبدیل کرنا ہوگا اور اس مقصد کے لیے ملک میں سیاسی و سماجی استحکام اور امن کا قیام ناگزیر ہے کیونکہ اندرونی انتشار کا شکار کوئی بھی ملک پائیدار ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔
علامہ محمد اقبال کے تصورِ شاہین کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان شاہین کی مانند بلند ہمت، خوددار، جرات مند اور علم و عمل کی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں، اور انہیں اپنی اس قوت سے پاکستان کو دوبارہ سائنسی و فکری قیادت کی اس منزل پر پہنچانا ہے جو کبھی مسلم دنیا کا طرہ امتیاز تھی۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ وائی پی ڈی سی پروگرام کو دانستہ طور پر ہر قسم کی سیاسی تقسیم سے بالاتر رکھا گیا ہے تاکہ مختلف زبانوں، ثقافتوں، علاقوں اور نسلوں سے تعلق رکھنے والے تمام نوجوان صرف ایک مشترکہ قومی شناخت یعنی “پاکستانی” ہونے کے ناطے متحد ہو کر ملک کی سلامتی، اتحاد اور ترقی کے لیے اپنا متحرک کردار ادا کر سکیں۔
وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پبلک پروکیورمنٹ کے موجودہ قانونی فریم ورک میں مزید وضاحت، ذمہ داری اور جوابدہی کے موثر طریقہ کار کی اشد ضرورت ہے، جبکہ سرکاری خریداری کے عمل میں شفافیت اور ادارہ جاتی آزادی کو یقینی بنانا انتہائی اہم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں کابینہ کمیٹی برائے تصفیہ قانون سازی مقدمات (سی سی ایل سی) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
ترجمان وزارتِ قانون و انصاف کے مطابق اجلاس کے دوران پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) آرڈیننس 2002ء میں مجوزہ ترامیم اور پبلک پروکیورمنٹ رولز 2025ء کے مسودے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ نیشنل ٹیرف کمیشن ایکٹ 2015ء، سیف گارڈ اقدامات آرڈیننس 2002ء، متبادل ادویات و ہیلتھ پروڈکٹس رولز 2026ء اور بائیو سٹڈی رولز 2017ء میں ترامیم کا جائزہ بھی لیا گیا۔ کمیٹی نے تمام سرکاری تقرریوں میں میرٹ اور شفافیت پر زور دیا جبکہ پی پی آر اے کے اختیارات میں اضافے اور ای پروکیورمنٹ پلیٹ فارمز کے فروغ کے اقدامات پر بات چیت کی گئی۔
وفاقی وزیرِ قانون نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری خریداری میں شکایات کے آزادانہ ازالے، تھرڈ پارٹی جائزے اور مفادات کے ٹکرائو سے بچائو کے لیے ایک جامع اور موثر نظام بنانا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان قانونی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے نتیجے میں سرکاری خریداری کے نظام میں شفافیت، جوابدہی اور کارکردگی مزید بہتر ہوگی۔
اجلاس کے دوران ایوان کی کارروائی ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ کی زیرِ صدارت ہوئی۔ معمول کے ایجنڈے پر کارروائی مکمل ہونے کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس بدھ کی دوپہر 2 بج کر 30 منٹ تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔
قومی اسمبلی کی کارروائی کے دوران مختلف امور ایوان کے ایجنڈے کا حصہ رہے۔ اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی اسپیکر نے آئندہ نشست کے لیے مقررہ وقت کا اعلان کیا، جس کے بعد ایوان کی کارروائی ملتوی کر دی گئی۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کا دوبارہ انعقاد بدھ، 19 اگست 2026ء کو دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر ہوگا، جہاں ایوان کے معمول کے پارلیمانی امور اور دیگر اہم معاملات پر کارروائی جاری رہنے کا امکان ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: یہ خبر 18 اگست 2026ء کو قومی اسمبلی کی کارروائی کے اختتام اور اجلاس کے اگلے روز تک ملتوی کیے جانے سے متعلق ہے۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق معمول کا ایجنڈا مکمل ہونے کے بعد ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے اجلاس بدھ کی دوپہر اڑھائی بجے تک ملتوی کیا۔
ماخذ: قومی اسمبلی کی کارروائی، اے پی پی/اردو پوائنٹ
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہنر مند اور باصلاحیت نوجوانوں کو باعزت روزگار کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کے تحت ملک کے طول و عرض، بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے نوجوانوں اور خواتین کو روزگار کے نئے مواقع فراہم کرنے اور انہیں جدید فنی ہنر سے آراستہ کرنے کے لیے مربوط اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز اسلام آباد میں پالیسی پر عملدرآمد کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
وزیرِ اعظم نے اعلان کیا کہ نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی پر پیشرفت کا باقاعدگی سے جائزہ لینے کے لیے ہر ماہ اجلاس منعقد ہوگا تاکہ بین الوزارتی تعاون اور جامع حکمتِ عملی کے ذریعے اہداف کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ملکی ہنر مند افرادی قوت کو اندرون و بیرونِ ملک صنعتی اور کاروباری ضروریات کے مطابق ڈھالنے کے لیے نیوٹک اور سمیڈا میں بنیادی ادارہ جاتی اصلاحات کی گئی ہیں۔ وزیرِ اعظم نے نوجوانوں میں اس پالیسی سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لیے بھرپور آگاہی مہم چلانے کی بھی ہدایات جاری کیں۔
اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل یوتھ ہب کے ذریعے نوجوانوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر ملکی اور بین الاقوامی روزگار کے مواقع کی معلومات دی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ تمام تعلیمی اداروں میں “یوتھ ڈویلپمنٹ سیلز” قائم کیے جا رہے ہیں جو طلبہ کو کیریئر کونسلنگ اور ہنرمندی کے مواقع سے آگاہ کریں گے۔ اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احسن اقبال، احد چیمہ، عطا اللہ تارڑ، مصدق ملک، شزا فاطمہ خواجہ اور چیئرمین پی ایم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے چیف آرگنائزر عزیز احمد اعوان نے بھارتی وزیرِ داخلہ کے پاکستان پر لگائے گئے الزامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اپنے ایک اہم بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ بھارت نے ہمیشہ پاکستان پر بے بنیاد اور من گھڑت الزامات عائد کیے ہیں لیکن آج تک اپنے کسی ایک بھی دعوے کا کوئی ثبوت عالمی برادری کے سامنے پیش نہیں کر سکا۔ اس کے برعکس پاکستان نے ہمیشہ بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے ناقابلِ تردید شواہد دنیا کے سامنے رکھے ہیں۔
عزیز احمد اعوان نے بھارتی جاسوس اور دہشت گرد کلبھوشن یادیو کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ بھارتی ایجنٹ بلوچستان میں کیا کر رہا تھا؟ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان کا امن تباہ کرنے اور وہاں دہشت گردی کا جال پھیلانے میں براہِ راست بھارت کا ہاتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیرِ داخلہ کے تازہ ترین الزامات پاکستان کو بدنام کرنے کی ایک اور ناکام کوشش ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت اب خود بیرونِ ملک دہشت گردی برآمد کرنے اور عالمی سطح پر دہشت گردوں کی معاونت کرنے والے ملک کے طور پر سامنے آ چکا ہے۔
پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے چیف آرگنائزر نے مزید کہا کہ مودی سرکار پاکستان کے ہاتھوں ہونے والی اپنی بدترین شکست کو چھپانے کے لیے ایک بار پھر جھوٹے الزامات کا کھیل کھیل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ معرکہِ حق میں بھارت کا کیا حشر ہوا تھا اور اب وہ جھوٹی ڈاکومنٹریز بنا کر اپنی تاریخی عزیمت اور ناکامی کو نہیں چھپا سکتا۔ بھارت کے یہ بے بنیاد الزامات عالمی برادری کی توجہ اس کی اپنی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی سے ہرگز نہیں ہٹا سکتے۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے اسلام آباد میں اہم ملاقات کی، جس کے دوران انہوں نے وزیرِ اعظم کو آئندہ حج کی تیاریوں، انتظامی امور اور وزارت کی جانب سے اٹھائے گئے مختلف اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ملاقات کے دوران وفاقی وزیر نے حج انتظامات کی پیش رفت اور عازمینِ حج کو دی جانے والی سہولیات کے فریم ورک سے آگاہ کیا۔ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ہدایت کی کہ آئندہ حج کے موقع پر تمام پاکستانی عازمین کو بہترین اور معیار کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے تمام متعلقہ اداروں اور وزارتِ مذہبی امور کو تاکید کی کہ حج آپریشنز سے متعلق تمام ضروری اور انتظامی اقدامات کو وقت سے پہلے اور بااحسن طریقہ مکمل کیا جائے تاکہ عازمین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے پاکستان ریلوے کے فرنٹ لائن سٹاف، بالخصوص گارڈز اور لوکو پائلٹس کے لیے ایک اور اہم ریلیف کا اعلان کیا ہے۔ راولپنڈی کے بعد اب خانیوال میں بھی ریلوے گارڈز اور ڈرائیورز کے لیے جدید ترین سہولیات سے آراستہ “رننگ رومز” کی جامع اپ گریڈیشن اور تزئین و آرائش کا کام کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے۔
ترجمان ریلوے کے مطابق پاکستان ریلوے کی 79 سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ اپنے بنیادی فیلڈ سٹاف کے لیے اتنی وسیع اور جدید سطح پر ورکنگ کنڈیشنز اور رہائشی سہولیات میں بہتری لائی گئی ہے۔ خانیوال میں اپ گریڈ کیے گئے ان نئے رننگ رومز کا باضابطہ افتتاح 22 اگست کو کیا جائے گا۔
وزارتِ ریلوے کے حکام کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر محمد حنیف عباسی کی خصوصی دلچسپی اور ہدایت پر محکمے کے فرنٹ لائن ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے اس موقع پر اپنے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ ریلوے کے محنتی اور جفاکش ملازمین کو بہترین، آرام دہ اور باوقار ماحول کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے تاکہ وہ بغیر کسی ذہنی تناؤ کے اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکیں۔
وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اور انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے ایوانِ بالا (سینیٹ) کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین و قانون کی نظر میں ملک کا ہر شہری اور قیدی برابر ہے، لہٰذا بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے کسی بھی قسم کی خصوصی سہولت یا الگ قانون کا مطالبہ آئین کے خلاف ہے۔ سینیٹر اعظم سواتی کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ملک کا نظام قانون اور ضابطے کے تحت چلتا ہے اور کسی بھی فردِ واحد کے لیے الگ سے قوانین وضع نہیں کیے جا سکتے۔
وزیرِ قانون نے پارلیمانی قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جیل میں ملاقاتوں اور دیگر سہولیات کے لیے واضح قواعد و ضوابط موجود ہیں اور بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتوں کا معاملہ اس وقت سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں اوپن کورٹ سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے عدالت کے معاون کے طور پر جو رپورٹ پیش کی تھی، اس میں جیل کے اندر خوراک، صفائی، ورزش کے اوقات اور سیل کی سہولیات کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے آئین کے آرٹیکل 25 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب آئین تمام شہریوں کو برابر حقوق دیتا ہے تو پھر کسی ایک قیدی کو ایسی خصوصی سہولتیں کیسے دی جا سکتی ہیں جو عام قیدیوں کو میسر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی کو ان کی پسند کے ڈاکٹر سے علاج یا دیگر انفرادی مراعات دی گئیں تو یہی حق ملک کی جیلوں میں بند ہر عام قیدی کو دینا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو اصول اور قوانین عمران خان کے لیے ہیں، وہی نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری سمیت ہر سیاسی رہنما اور عام شہری کے لیے بھی یکساں ہیں۔ انہوں نے سینیٹرز اور قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ پہلے قوانین کا جائزہ لیں اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے بات کریں۔
پاکستان نے بجٹ شفافیت، مالیاتی معلومات تک عام شہریوں کی رسائی اور جوابدہی کے نظام میں زبردست اور نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے۔ انٹرنیشنل بجٹ پارٹنرشپ (آئی بی پی) کے جاری کردہ اوپن بجٹ سروے 2025ء کے مطابق پاکستان کا بجٹ شفافیت سکور سال 2023ء کے 30 پوائنٹس سے نمایاں طور پر بڑھ کر سال 2025ء میں 45 پوائنٹس تک جا پہنچا ہے، جو محض دو سال کے مختصر عرصے میں 50 فیصد کی ریکارڈ بہتری کی کھلی عکاسی کرتا ہے۔
مشیرِ وزیرِ خزانہ خرم شہزاد کے مطابق پاکستان کا موجودہ 45 پوائنٹس کا سکور اس وقت عالمی اوسط کے بالکل برابر آ چکا ہے، جبکہ جنوبی ایشیا اور دیگر اہم ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں بھی پاکستان کا گراف کافی بہتر رہا ہے۔ سروے کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق بھارت 44، سری لنکا 43، بنگلہ دیش 37، نائجیریا 24 اور چین 19 پوائنٹس کے ساتھ اس عالمی فہرست میں پاکستان سے پیچھے رہ گئے ہیں۔
اوپن بجٹ سروے کے مطابق پاکستان نے مالیاتی و بجٹ سازی کے متعدد اہم اور بنیادی شعبوں میں یہ پیش رفت حاصل کی ہے۔ ایگزیکٹو بجٹ پروپوزل کا سکور 43 سے بڑھ کر 57 پوائنٹس ہو گیا، منظور شدہ بجٹ کا سکور 33 سے بڑھ کر 50 پوائنٹس تک پہنچ گیا، جبکہ بجٹ سازی میں عام شہریوں کی شمولیت کا سکور 15 سے بڑھ کر 22 ہو گیا۔ اس کے علاوہ سالانہ اختتامی رپورٹ کی بروقت آن لائن اشاعت اور جامع معلومات کی فراہمی کا سکور 52 ریکارڈ کیا گیا۔
عوامی شرکت کے شعبے میں پاکستان کا حاصل کردہ 22 پوائنٹس کا سکور عالمی اوسط اور ایشیا پیسیفک خطے کی اوسط دونوں سے کہیں زیادہ ہے، جو بجٹ کے پورے عمل میں عوامی اور پارلیمانی شمولیت کو یقینی بنانے کی حکومتی پالیسی کا ثبوت ہے۔ انٹرنیشنل بجٹ پارٹنرشپ نے پاکستان کی جانب سے بروقت رپورٹس کی آن لائن دستیابی کو خصوصی طور پر سراہا ہے۔
علاوہ ازیں، امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے کی جانے والی تازہ ترین مالیاتی شفافیت کی تشخیص میں بھی پاکستانی مالیاتی نظام کی متعدد مثبت خصوصیات کا اعتراف کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں منظور شدہ بجٹ، سالانہ مالیاتی رپورٹس تک عام عوام کی رسائی، آمدن و اخراجات کی تفصیلات، خودمختار دولت فنڈ کے مضبوط قانونی فریم ورک اور سپریم آڈٹ ادارے کے آزادانہ کردار کو خصوصی طور پر سراہا گیا۔
حکومتِ پاکستان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ بجٹ شفافیت میں اس مسلسل بہتری کا مقصد صرف اعداد و شمار کی اشاعت نہیں، بلکہ عوام، پارلیمان، کاروباری برادری اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سرکاری وسائل، آمدن اور اخراجات کے بارے میں سچا، شفاف اور بروقت حساب فراہم کرنا ہے۔ شفافیت سے جوابدہی اور جوابدہی سے ادارہ جاتی ساکھ اور عوامی اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے مالیاتی اصلاحات کا یہ سفر آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے انڈونیشیا کے یومِ آزادی کے موقع پر انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو، وہاں کی حکومت اور عوام کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے۔ صدرِ مملکت نے اپنے تبریکی خط میں کہا کہ یہ تاریخی دن انڈونیشیا کے عوام کے عزم، ہمت اور آزادی کے لیے ان کے بانی رہنماؤں کی جدوجہد اور قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔
صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان مشترکہ تاریخ، باہمی اعتماد، ایک جیسے مذہبی اقدار اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر تعاون پر مبنی گہرے دوستانہ تعلقات قائم ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وقت کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، صحت، تعلیم اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون مسلسل فروغ پا رہا ہے۔ صدر مملکت نے امید ظاہر کی کہ انڈونیشیائی صدر پرابوو سبیانتو کے گزشتہ سال کے دورۂ پاکستان کے بعد پیدا ہونے والا یہ تعاون مزید مضبوط ہوگا، اور انہوں نے انڈونیشیا کے عوام کی مزید ترقی، امن اور خوشحالی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی حالیہ میڈیکل رپورٹ منظرِ عام پر آنے کے بعد حکومت سے ان کی قیدِ تنہائی فوری ختم کرنے اور انہیں ہسپتال منتقل کرنے کا زوردار مطالبہ کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں فواد چوہدری نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ کے بعد یہ بات انتہائی ضروری ہو چکی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو قیدِ تنہائی سے نکال کر علاج کی بہترین سہولیات کی فراہمی کے لیے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مقبول ترین لیڈر کو بنیادی طبی سہولیات سے محروم رکھنا اور قیدِ تنہائی میں رکھنا شدید قابلِ مذمت ہے، لہٰذا طبی ماہرین کی تجاویز کی روشنی میں کوئی تاخیر نہ کی جائے۔
دوسری جانب سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع کرائی گئی میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کا طبی معائنہ کرنے والے معالجین نے ان کی صحت، بے چینی اور بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے اہم سفارشات مرتب کی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جیل کے احاطے اور ماحول میں نرمی لائی جائے، انہیں روزانہ کم از کم ایک گھنٹے کی واک کی اجازت دی جائے اور ان کی ذہنی مصروفیت کے لیے کتب، اخبارات، میگزینز اور ٹی وی کی سہولت فراہم کی جائے۔ اس کے علاوہ میڈیکل بورڈ نے اہلیہ اور اہلخانہ سے ملاقاتوں کے وقت اور دورانیے میں اضافے کی بھی خصوصی سفارش کی ہے تاکہ ان کی صحت کو معمول پر لایا جا سکے۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے ذیلی ادارے نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن (این اے ایچ ای) نے ملک بھر کی سرکاری و نجی جامعات میں یورپی زبانیں پڑھانے والے تمام اساتذہ کو قومی فیکلٹی رجسٹر میں فوری رجسٹریشن کی باقاعدہ دعوت دی ہے۔ ایچ ای سی حکام کے مطابق اس قومی رجسٹر کی تشکیل کا بنیادی مقصد ملک میں جرمن، فرانسیسی، اطالوی، ہسپانوی اور دیگر اہم یورپی زبانوں کی تدریس سے وابستہ اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی، وسائل کے باہمی اشتراک اور مستقبل میں یورپی تعلیمی اداروں کے ساتھ تعاون کے مواقع کو مزید فروغ دینا ہے۔
ایچ ای سی نے تمام متعلقہ فیکلٹی ممبران سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے کوائف اس قومی ڈیٹا بیس کا حصہ بنائیں۔ تمام اہل اور دلچسپی رکھنے والے اساتذہ اپنی آن لائن رجسٹریشن کے لیے ایچ ای سی رجسٹریشن فارم پر اپنے معلومات جمع کرا سکتے ہیں۔
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ ریسرچ اینڈ انٹرپرائز، ایڈمنسٹریشن اینڈ فنانس، اور اکیڈمکس کے تین نائب صدور (نائب صدرین) کی تعیناتیوں کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں قانونی طور پر چیلنج کر دیا گیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ابتدائی سماعت کے بعد اسلامی یونیورسٹی کی انتظامیہ کو باقاعدہ نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر تفصیلی جواب جمع کرانے کی ہدایت جاری کی ہے۔
جسٹس ایاز شوکت نے شہری جاوید اختر کی جانب سے دائر کردہ آئینی درخواست پر سماعت کی، جبکہ درخواست گزار کی جانب سے وکیل آکاش تارا عدالتِ عالیہ میں پیش ہوئے۔ دورانِ سماعت وکیل صفائی نے موقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابقہ واضح احکامات کے مطابق اسلامی یونیورسٹی تمام اہم اعلیٰ عہدوں پر تعیناتیاں شفاف اور اوپن میرٹ پر کرنے کی پابند ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے قانونی عمل اور کھلے مقابلے (اوپن میرٹ) کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے ہی اندرونی فیکلٹی ممبران میں سے من پسند پروسیجر کے تحت تعیناتیاں کر ڈالیں۔
سماعت کے دوران جسٹس ایاز شوکت نے قانونی باریکیوں پر نکتہ اٹھاتے ہوئے ہدایت کی کہ یہ بات بھی قانون کے مطابق جانچ لی جائے کہ آیا یونیورسٹی کے بورڈ آف گورنرز (BoG) نے اپنا باقاعدہ اختیار تعیناتی کمیٹی کو تفویض کیا تھا یا نہیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی انتظامیہ کو آئندہ دو ہفتوں میں قانونی موقف اور تحریری جواب عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کی چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمان نے پلاسٹک کی بڑھتی ہوئی آلودگی کے خلاف حکومت، تعلیمی اداروں اور عام عوام کی جانب سے فوری اور اجتماعی اقدامات اٹھانے پر زور دیا ہے۔ ایک گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ ملک بھر کی جامعات اور کالجوں میں پلاسٹک کے مضمرات اور آلودگی کے حوالے سے خصوصی آگاہی سیمینارز منعقد کیے جانے چاہئیں تاکہ نوجوان نسل کو اس کے ماحولیاتی نقصان سے بروقت آراستہ کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایاکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پلاسٹک مخالف قانون پہلے ہی باقاعدہ طور پر متعارف کرایا جا چکا ہے۔
سینیٹر شیری رحمان نے واضح کیا کہ پلاسٹک کی بوتلیں اور شاپنگ بیگز ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کے سب سے بڑے عوامل میں سے ہیں، جن میں موجود مضر صحت کیمیکلز انسانی صحت اور قدرتی ماحول کے لیے شدید خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ اب پلاسٹک کے فضلے کو ٹھکانے لگانے اور استعمال کے بعد دوبارہ کارآمد بنانے کے لیے نئی اور جدید اختراعی کوششیں سامنے آ رہی ہیں۔ سینیٹر شیری رحمان نے اس موقع پر یونیورسٹی آف بلوچستان کے طلبہ کی جانب سے پلاسٹک آلودگی سے نمٹنے کے لیے پیش کردہ جدید خیالات اور عملی حل کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے دیگر تعلیمی اداروں کو بھی ان کی پیروی کرنے کی ہدایت کی۔
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے پاکستان کی یومِ آزادی کی تقریبات کے موقع پر اپنے “ریسرچ ایکسیلنس انسینٹو فریم ورک” کے تحت ایک بڑی علمی و تحقیقی کامیابی کا اعلان کیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق فریم ورک کے باقاعدہ اجرا کے صرف ایک سال کے اندر 105 پی ایچ ڈی اساتذہ نے سال دو ہزار پچیس کے دوران 331 اعلیٰ معیار اور عالمی رینکنگ سے متعلق تحقیقی مقالے تحریر کیے، جن سے قومی و بین الاقوامی سطح پر یونیورسٹی کی علمی ساکھ کو بے پناہ تقویت ملی ہے۔ اس منصوبے کا آغاز اگست دو ہزار پچیس میں صدرِ جامعہ پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد کے وژن کے تحت ہوا تھا، جس کے لیے مملکتِ سعودی عرب کے تعاون سے اڑتالیس لاکھ تیس ہزار روپے کے وسائل حاصل کیے گئے۔
فریم ورک کے تحت معیار کے مطابق تیار کیے گئے مقالوں کے لیے ایک سو امریکی ڈالر اور اسی امریکی ڈالر کے مساوی رقم بطور اعزازیہ مقرر کی گئی، جبکہ بہترین کارکردگی دکھانے والے محققین کے لیے ایک لاکھ پچاس ہزار روپے فی کس کا خصوصی انعام بھی مختص کیا گیا۔ یونیورسٹی کے 501 پی ایچ ڈی اساتذہ میں سے تقریباً 21 فیصد نے اس عالمی رینکنگ منصوبے میں حصہ لیا، جس میں فیکلٹی آف سائنسز 221 مقالوں کے ساتھ سرِفہرست رہی۔ جبکہ فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اور فیکلٹی آف سوشل سائنسز نے بھی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ صدرِ جامعہ پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے تمام کامیاب اساتذہ پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ خود ایک تقریب میں ان میں انعامات اور اعزازیے تقسیم کریں گے۔
خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں آخری امریکی قونصل جنرل تھامس ایکرٹ نے کہا ہے کہ پشاور میں امریکی قونصل خانہ بند کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ امریکہ کی خیبر پختونخوا کے خطے میں دلچسپی ختم ہو گئی ہے۔ اسلام آباد میں پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن اور انٹرنیشنل ریسرچ کونسل فار ریلیجئس افیئرز کی جانب سے منعقدہ ایک الوداعی تقریب اور ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قونصلر خدمات، تجارتی و کاروباری روابط کے فروغ، سیکیورٹی تعاون کی مضبوطی اور خیبر پختونخوا اور پورے پاکستان کے عوام کے ساتھ شراکت داری استوار کرنے کی سفارتی کوششیں مستقبل میں بھی بدستور جاری رہیں گی۔
پشاور میں امریکی قونصل خانے کی باقاعدہ بندش کے بعد اب خیبر پختونخوا کے ساتھ تمام سفارتی اور عوامی روابط کی ذمہ داریاں باقاعدہ طور پر اسلام آباد میں واقع امریکی سفارت خانے کو منتقل کر دی گئی ہیں۔ تھامس ایکرٹ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینئر اور تجربہ کار سفارت کار ہیں جو اپریل دو ہزار تین سے امریکی وزارتِ خارجہ سے وابستہ ہیں۔ اپنے بائیس سالہ سفارتی کیریئر کے دوران انہوں نے گبون، ویتنام، برما اور قبرص میں اہم خدمات انجام دی ہیں، جبکہ وہ دو مرتبہ بغداد (عراق) میں سیکیورٹی آپریشنز کی نگرانی اور بغداد ایمبیسی سیکیورٹی فورسز کی قیادت بھی کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے کابل (افغانستان) میں عارضی ڈیوٹی کے دوران اس وقت کے افغان صدر حامد کرزئی کی سیکیورٹی کی ذمہ داریاں بھی ادا کی تھیں۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ سزائے موت کے حساس مقدمات میں انصاف کی فراہمی کے دوران معمول سے بڑھ کر “سپر ڈیو پراسس” کے تمام آئینی اور قانونی تقاضے پورے کرنا انتہائی لازمی ہیں۔ عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ کسی بھی ملزم کو سنے بغیر سزا دینا یا اس کی نظرثانی درخواست مسترد کرنا اصولِ فطری انصاف، منصفانہ ٹرائل اور آئینی ضمانتوں کی صریح خلاف ورزی ہے، جبکہ انتظامی ہدایات یا فل کورٹ کے انتظامی فیصلے آئین اور قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتے۔
جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی سربراہی میں جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل تین رکنی بینچ نے ملزم شیر اعظم کی فوجداری نظرثانی درخواست کا تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کیا۔ سپریم کورٹ نے 26 اپریل 2012 کا وہ سابقہ حکم کالعدم قرار دے دیا جس کے ذریعے شیر اعظم کی پہلی نظرثانی درخواست ملزم اور اس کے وکیل کا موقف سنے بغیر چیمبر میں مسترد کی گئی تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ رولز میں ایسی کوئی شق موجود نہیں کہ سزائے موت پانے والے کی درخواست سنے بغیر مسترد کی جائے، لہٰذا سابقہ غیر قانونی حکم کے بعد دائر درخواست کو دوسری نظرثانی قرار دے کر ناقابلِ سماعت نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
جسٹس شکیل احمد نے اپنے اضافی نوٹ میں تحریر کیا کہ سزائے موت ایک ناقابلِ واپسی سزا ہے، اس لیے ایسے مقدمات میں آئین کے آرٹیکل 4، 9 اور 10 کے تحت طریقہ کار کی شفافیت محض رسمی معاملہ نہیں بلکہ بنیادی آئینی حق ہے۔ مقدمے کے حقائق کا جائزہ لیتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302(ب) کے تحت تھانہ غازی (ہری پور) کے مقدمے میں قتل کا واضح محرک ثابت نہیں ہوا تھا اور نہ ہی کوئی چشم دید گواہ موجود تھا۔ سپریم کورٹ نے نظرثانی درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے شیر اعظم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا جبکہ دو لاکھ روپے معاوضے اور دیگر سزاؤں کے احکامات برقرار رکھے۔
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے ماہِ ربیع الاول کی آمد کے بابرکت موقع پر پوری امتِ مسلمہ اور بالخصوص پاکستانی قوم کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ماہِ مقدس نبی کریم حضرت محمد مصطفٰے ﷺ کی ولادتِ باسعادت کا مہینہ ہے، جو پوری انسانیت کے لیے ہدایت، رحمت، امن اور رواداری کا پیغام لے کر آیا۔
ہفتے کے روز جاری کردہ اپنے خصوصی پیغام میں چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ سیرتِ طیبہ ﷺ زندگی کے ہر شعبے میں کامل رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ آپ ﷺ نے انسانیت کو عدل و انصاف، مساوات، صبر، بھائی چارے اور حقوق العباد کے احترام کا درس دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ ربیع الاول کا مہینہ ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کو اسوہ حسنہ کے سانچے میں ڈھالنے کے عہد کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔
سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ امتِ مسلمہ کو درپیش موجودہ چیلنجز کا واحد حل اتحاد، باہمی احترام، اور افہام و تفہیم پر مبنی حکمتِ عملی میں مضمر ہے۔ انہوں نے قوم پر زور دیا کہ اس مبارک مہینے میں غریب، نادار اور مستحق افراد کو اپنی خوشیوں میں شامل کریں۔ چیئرمین سینیٹ نے ملکی دفاع اور سلامتی کے لیے قربانیاں دینے والے شہدائے وطن کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی کی دعا کی اور التجا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو درپیش بحرانوں سے نجات اور پائیدار امن و خوشحالی عطا فرمائے۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اس کے خلاف مسلسل بلاجواز پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، جو ملکی جمہوریت اور سیاسی ماحول کے لیے کسی طور مناسب نہیں۔
ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر زور دیا کہ وہ بے بنیاد اور غلط معلومات پھیلانے کی سیاست ترک کر کے قومی مفاد کے اہم امور پر حکومت کے ساتھ سنجیدہ اور معنی خیز مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ منفی طرزِ عمل اور محاذ آرائی سے موجودہ سیاسی ماحول مزید پیچیدہ ہوگا، جبکہ درپیش قومی چیلنجز کے حل کے لیے سنجیدہ بات چیت ہی واحد حل ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے واضح کیا کہ جمہوری نظام کو غیر مستحکم کرنے یا مفلوج کرنے کی کوششوں سے کسی بھی فریق کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ملک کا وفاقی دارالحکومت ہے اور یہاں آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کسی کو بھی اپنی قانونی و سیاسی سرگرمیاں انجام دینے سے نہیں روکا جاتا۔ تاہم، سیاسی فائدے کے لیے معاشرے میں بے چینی، نفرت اور انارکی پھیلانا بلاشبہ ناقابلِ قبول اور ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔