ایران کے اہم ترین خام تیل برآمدی مرکز جزیرہ خارگ میں صورتحال بالکل معمول کے مطابق، محفوظ اور پرسکون ہے۔
ایرانی میڈیا اداروں کی جانب سے فراہم کردہ تازہ ترین تفصیلات کے مطابق اس سے قبل گردش کرنے والی ان رپورٹس کے بعد کہ امریکی فورسز نے جزیرہ خارگ کے قریب لنگر انداز ایک ایرانی آئل ٹینکر کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا ہے، اب صورتحال کی وضاحت کر دی گئی ہے۔ اس مبینہ واقعے پر نہ تو ایرانی حکومت و دفاعی حکام نے کوئی باضابطہ بیان جاری کیا ہے اور نہ ہی امریکی حکام نے کوئی تبصرہ کیا ہے۔
ایران کی طلبہ خبر رساں ایجنسی نے جزیرہ خارگ اور اس کے ارد گرد کے ساحلی علاقوں کی تازہ ترین تصاویر اور فوٹیج جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ علاقے میں کسی قسم کی آگ، تباہی یا دھوئیں کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیے اور تمام تر معاشی و آپریشنل سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔
ادھر نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق مبینہ حملے اور دھماکوں کے وقت ایرانی آئل ٹینکر جزیرہ خارگ کے ساحل سے تقریباً چھ میل (11 کلومیٹر) کے فاصلے پر کھلے سمندر میں موجود تھا، تاہم جزیرے کی تنصیبات اور مقامی حدود مکمل طور پر محفوظ اور بحال ہیں۔
یمن کے جنوب مغربی اور ساحلی علاقوں میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومتی فورسز اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان گھماسان کی جنگ چھڑ گئی ہے، جس کے نتیجے میں عام شہریوں سمیت 60 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ نے طبی اور عسکری ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ مسلسل کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے اس ہولناک تصادم میں یمنی حکومتی فورسز کے کم از کم 26 اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ انصار اللہ (حوثی) ذرائع نے اپنے 31 مسلح جنگجوؤں کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے۔
حکومت کے زیرِ انتظام اور محاصرے میں گھِرے شہر تعز میں طبی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ایک مسافر بس پر ناگہانی میزائل حملے کے نتیجے میں 6 عام شہری ہلاک اور 7 افراد شدید زخمی ہو گئے۔ اگرچہ اس ہولناک حملے کی ذمہ داری کے حوالے سے آزادانہ ذرائع سے فوری طور پر کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آ سکی ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ جنگ یمن کے مغربی اور جنوب مغربی پٹی پر بیک وقت کئی اہم محاذوں پر شدت اختیار کر چکی ہے۔ حوثی فورسز اس وقت ملک کے زیادہ تر شمالی علاقوں، دارالحکومت صنعاء اور بحیرۂ احمر کے مغربی ساحلی پٹی کے بڑے حصے پر قابض ہیں، جبکہ صدارتی لیڈرشپ کونسل کے زیرِ انتظام مشرقی اضلاع اور بندرگاہی شہر عدن سمیت جنوبی ساحلی علاقے شامل ہیں۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق یمنی حکومتی فورسز نے تعز کے مغربی علاقوں میں سخت جوابی کارروائی کرتے ہوئے بعض اہم پہاڑی مقامات پر دوبارہ اپنا کنٹرول قائم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ پہاڑی سلسلے باب المندب اور بحیرۂ احمر کی اہم عالمی بحری گزرگاہوں اور تجارتی راستوں کی نگہبانی کے حوالے سے انتہائی تزویراتی اور ملٹری اہمیت رکھتے ہیں۔
یوکرین میں کئی سالوں سے جاری خونریز جنگ اور عسکری بحران کے خاتمے کے لیے عالمی سفارتی کوششوں میں اس وقت ایک غیر معمولی پیش رفت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دو قریبی اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اہم مذاکرات کے لیے روسی دارالحکومت ماسکو پہنچ گئے ہیں۔
روسی اور امریکی سفارتی حکام کے مطابق دونوں اعلیٰ سطحی امریکی ایلچی ہفتے کے روز ماسکو پہنچے، جہاں ہوائی اڈے پر روسی صدارتی ایلچی کریل دمترییف نے ان کا باضابطہ استقبال کیا۔ ماسکو میں روسی حکام اور صدر ولادیمیر پیوٹن سے اہم بات چیت کے بعد، دونوں ایلچیوں کا اتوار کے روز یوکرین کے دارالحکومت کیئو روانہ ہونے کا قوی امکان ہے، جہاں وہ جاری جنگ کے بعد پہلی مرتبہ یوکرینی قیادت کے ساتھ براہِ راست اور آمنے سامنے مذاکرات کریں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ وٹکوف اور کشنر یوکرین جنگ کے پائیدار خاتمے اور فوری جنگ بندی کے لیے ایک بالکل نئی سٹریٹجک تجویز اپنے ساتھ لے کر گئے ہیں۔ اگرچہ امریکی صدر نے فی الوقت اس امن فارمولے کی باریک تفصیلات اور شرائط کو ظاہر کرنے سے گریز کیا ہے۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امریکی وفد کی اس سفارتی آمد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیئو حکومت ان سے تعمیری بات چیت کے لیے مکمل طور پر تیار ہے تاکہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک حقیقت پسندانہ، منصفانہ اور قابلِ عمل راستہ تلاش کیا جا سکے۔
یہ اہم سفارتی پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان سابقہ تمام امن مذاکرات طویل تعطل کا شکار ہیں اور دونوں جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں میں شدید تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ خطے میں جاری اس جنگ کے دوران سرحدی کنٹرول اور سیکیورٹی ضمانتوں پر دونوں ممالک کے درمیان شدید اختلافات برقرار ہیں، جس کے باعث عالمی برادری اس امریکی مشن کو جنگ بندی کی بحالی کے لیے انتہائی اہم اور آخری کوشش کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
ایران کے انتہائی اہم اور تزویراتی خام تیل کے برآمدی مرکز خارگ جزیرے کے قریب ہفتے کی صبح طاقتور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد ایرانی ذرائع ابلاغ نے ایک ایرانی آئل ٹینکر کو امریکی افواج کی جانب سے مبینہ طور پر میزائل حملے کا نشانہ بنائے جانے کی اطلاع دی ہے۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے ‘تسنیم’ کی رپورٹ کے مطابق خارگ جزیرے کے ساحل سے تقریباً 10 کلومیٹر کے فاصلے پر سمندر میں لنگر انداز ایک ایرانی آئل ٹینکر پر امریکی فورسز کی طرف سے چار میزائل داغے گئے۔ ابتدائی موصولہ اطلاعات کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں فی الحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے اور ٹینکر پر موجود تمام عملے کو باحفاظت نکالنے کا آپریشن ہنگامی بنیادوں پر شروع کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل ایرانی خبر رساں ادارے ‘فارس’ نے خارگ جزیرے کے ارد گرد سمندری حدود میں بیک وقت متعدد شدید دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی رپورٹ جاری کی تھی، تاہم شروعات میں دھماکوں کی حتمی وجہ اور نقصان کے بارے میں صورتحال واضح نہیں تھی اور نہ ہی ساحلی علاقے سے دھوئیں کے بادل دکھائی دیے تھے۔
واقعے کی سنگینی کے باوجود ایرانی انتظامیہ اور امریکی حکام کی جانب سے اس بابت ابھی تک کوئی باضابطہ تصدیقی یا تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا ہے، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی اس مبینہ کارروائی پر فوراً کسی قسم کے تبصرے سے گریز کیا ہے۔
خارگ جزیرے کی تزویراتی اور معاشی اہمیت:
خلیجِ فارس میں واقع خارگ جزیرہ ایران کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہاں ملک کا سب سے بڑا اور مرکزی خام تیل برآمدی ٹرمینل قائم ہے جہاں سے سمندری راستوں کے ذریعے عالمی منڈیوں کو تیل منتقل کیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حالیہ جنگ اور محاذ آرائی سے قبل ایران اپنی مجموعی خام تیل کی برآمدات کا تقریباً 90 فیصد حصہ اسی خارگ جزیرے کے ٹرمینل سے منتقل کرتا تھا، جس کے باعث اس تنصیب پر ہونے والا کوئی بھی حملہ نہ صرف ایرانی معیشت بلکہ عالمی توانائی کی رسد کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی شہریوں سے زوردار اپیل کی ہے کہ وہ اپنی حکومت کو اپنے وجود کو ایران کے ساتھ جاری فوجی محاذ آرائی میں ‘جنگ کا پیادہ’ بنانے کی ہرگز اجازت نہ دیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (ٹوئٹر) پر امریکی عوام کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ وہ خود کو ایک ایسی جنگ کا حصہ بنانے اور اس کے بھاری اخراجات ادا کرنے سے باز رہیں جس کا انہوں نے جمہوری طور پر کبھی انتخاب نہیں کیا تھا۔ انہوں نے امریکی شہریوں سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بچوں کو خطے میں بلاوجہ ‘کرائے کے سپاہی’ بننے سے روکیں۔
اسماعیل بقائی کے اس بیان کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائی کے واضح عندیے نے خطے میں جاری شدید کشیدگی کو ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچا دیا ہے۔
تازہ امریکی بیانات اور دھمکیوں میں صدر ٹرمپ نے ایران کے نطنز ایٹمی مرکز کے قریب واقع انتہائی محفوظ اور گہرے زیرِ زمین مقام ‘کوہِ کلنگ گاز لا’ کو نشانہ بنانے کا اشارہ دیا ہے۔ یہ مقام کئی سالوں سے تعمیر کیا جانے والا ایک انتہائی مضبوط اور بم پروف کمپلیکس ہے، جسے پہاڑوں کی گہرائی کے باعث روایتی فضائی حملوں سے تباہ کرنا ناممکن حد تک مشکل تصور کیا جاتا ہے۔
ایران اس مقام پر کسی بھی قسم کی خفیہ جوہری سرگرمیوں سے متعلق امریکی اور اسرائیلی دعوؤں اور الزامات کی مسلسل تردید کرتا آیا ہے۔ ایرانی ترجمان نے اپنے حالیہ بیان میں بھی واضح کیا کہ کوہِ کلنگ میں کوئی جوہری یا ایٹمی سرگرمی انجام نہیں دی جا رہی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری اس سنگین فوجی تنازع کو کم اہمیت دیتے ہوئے اسے ایک ‘چھوٹا معاملہ’ قرار دیا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کو مکمل جنگ کے بجائے ایک محدود ‘فوجی تصادم’ کہنا زیادہ مناسب ہوگا جو امریکہ کے لیے ایک محدود نوعیت کا آپریشن ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری ان حملوں اور جوابی کارروائیوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ اور غیر مستحکم بنی ہوئی ہے۔
نیویارک سٹی کے میئر زوہران ممدانی نے شہر کے تمام سرکاری سکولوں میں کم عمر اور چھوٹی جماعتوں کے طلبہ کے لیے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے استعمال پر ایک سال کی عارضی پابندی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
حکومت کی اس نئی اور جامع تعلیمی پالیسی کے تحت 2-K سے لے کر آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے کلاس رومز اور تعلیمی تدریس کے دوران استعمال ہونے والے تمام جنریٹو اے آئی ٹولز کے استعمال کو روک دیا گیا ہے۔ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے حکام کے مطابق اس فیصلے سے نیویارک سٹی کے تقریباً 6 لاکھ طالب علم براہِ راست متاثر ہوں گے۔
میئر زوہران ممدانی نے پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے بچوں کو سیکھنے، تربیت حاصل کرنے اور اپنی تخلیقی صلاحیتیں پروان چڑھانے کے لیے مصنوعی انٹیلی جنس کی بجائے اپنے اساتذہ، زبانی گفتگو اور براہِ راست انسانی تعلق کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹیکنالوجی کے ہر جگہ موجود ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اسے تعلیمی سفر کے ابتدائی اور حساس مرحلے میں بھی استعمال کیا جائے۔
نئی پالیسی کے تحت تمام جماعتوں کے طلبہ کے لیے ایسے اے آئی چیٹ بوٹس پر بھی سخت پابندی عائد کر دی گئی ہے جو دوست، ساتھی یا ذہنی معاونت کے طور پر کام کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں تیسری سے پانچویں جماعت کے لیے روزانہ زیادہ سے زیادہ 30 منٹ اور چھٹی سے آٹھویں جماعت کے لیے 45 منٹ اسکرین ٹائم کی حد مقرر کی گئی ہے۔
دوسری جانب ہائی سکول کے طلبہ کو اے آئی سے مکمل طور پر الگ نہیں رکھا جائے گا۔ انہیں سال میں دو مرتبہ ‘اے آئی لٹریسی’ کی تربیت دی جائے گی جس میں اس کے فوائد، تعصب اور غلط معلومات کے خطرات شامل ہوں گے۔ ہائی سکول سطح پر صرف پانچ منظور شدہ اے آئی پروگراموں کو استاد کی نگرانی میں ہفتے میں زیادہ سے زیادہ 45 منٹ کے لیے استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، جبکہ معیار پر پورا نہ اترنے والے 38 پروگراموں کے اے آئی فیچرز کو فوری بند کر دیا گیا ہے۔
نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے ہولناک واقعے کے بعد ٹریشولی 3ہائیڈرو پاور منصوبے کی زیرِ زمین سرنگ میں پھنسے دو افراد کو نو دن کی طویل اور کٹھن جدوجہد کے بعد معجزانہ طور پر زندہ نکال لیا گیا ہے، جسے عالمی و مقامی امدادی ٹیموں نے ایک غیر معمولی تاریخی کامیابی قرار دیا ہے۔
نیپالی سرکاری حکام کے مطابق سرنگ سے باحفاظت نکالے گئے دونوں افراد کی شناخت سنجے شاہ اور کبیر مہرجن کے نام سے ہوئی ہے جو مذکورہ ہائیڈرو پاور منصوبے کے ہی ملازم ہیں۔ دونوں افراد کو سرنگ سے نکالتے ہی فوری طبی امداد کی فراہمی کے لیے دارالحکومت کھٹمنڈو کے مرکزی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس پیچیدہ اور خطرناک امدادی کارروائی میں بھارت کے سرنگ حادثے میں شہرت پانے والے آسٹریلوی ماہرِ ارضیات اور عالمی ٹنلنگ انجینیئر آرنلڈ ڈکس نے انتہائی اہم تکنیکی رہنمائی فراہم کی۔ آرنلڈ ڈکس نے بتایا کہ ریسکیو عملے کے لیے سب سے بڑا چیلنج سرنگ کے اصل داخلی راستے کا تعین کرنا تھا، کیونکہ سیلاب کے ساتھ آنے والے دیوہیکل ملبے اور چٹانوں نے پورے علاقے کی جغرافیائی ساخت کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا تھا اور پرانا راستہ گہرے ملبے تلے دب چکا تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ امدادی ٹیموں نے پرانی انجینیئرنگ ڈرائنگز، لینڈ میپس، جدید سیٹلائٹ تصاویر اور ہیلی کاپٹروں سے لی گئی ڈرون ویڈیو فوٹیج کی مدد سے ممکنہ راستے کا سائنسی تخمینہ لگایا، جس کے بعد مسلسل کھدائی کر کے کاوشوں کو بارآور بنایا گیا۔
آرنلڈ ڈکس نے اس کامیاب ریسکیو کو “معجزوں پر معجزہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ زیرِ زمین پاور سٹیشن کے بعض حصوں میں ہوائی جیبیں موجود تھیں جنہوں نے آکسیجن اور زندگی کی رمق کو برقرار رکھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دیگر لاپتا افراد کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔
امریکی میجر لیگ ساکر کے مشہور اور معروف کلب انٹر میامی نے پیراگوئے سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی مڈفیلڈر میٹیاس گالارزا کو ارجنٹائن کے تاریخی کلب ریور پلیٹ سے قرض کی بنیاد پر حاصل کر کے اپنی ٹیم کا حصہ بنا لیا ہے۔
انٹر میامی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ تفصیلات کے مطابق چوبیس سالہ میٹیاس گالارزا کو 2026ء کے میجر لیگ ساکر سیزن کے اختتام تک کے لیے قرض پر ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کی ایک اہم شق یہ بھی ہے کہ قرض کی مقررہ مدت مکمل ہونے پر انٹر میامی کے پاس انہیں مستقل طور پر خریدنے کا اختیار بھی موجود رہے گا۔
میٹیاس گالارزا نے سال 2022ء میں پیراگوئے کی قومی فٹبال ٹیم کی جانب سے اپنے بین الاقوامی کیریئر کا باقاعدہ آغاز کیا تھا اور وہ اب تک اپنی قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے انیس بین الاقوامی میچز کھیل چکے ہیں۔ وہ سن دو ہزار چھبیس کے فیفا ورلڈ کپ کے عالمی مقابلے میں بھی پیراگوئے کی قومی ٹیم کے اہم رکن رہے، جہاں ان کی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے راؤنڈ آف سکسٹین تک رسائی حاصل کی تھی۔ اس عالمی ٹورنامنٹ کے دوران گالارزا نے ایک گول اسکور کیا جبکہ ایک گول میں اہم معاونت فراہم کی تھی۔
اپنے سابقہ کیریئر میں گالارزا ریور پلیٹ کے علاوہ ٹیلیرس اور امریکی کلب اٹلانٹا یونائیٹڈ کی جانب سے بھی میدان میں اتر چکے ہیں۔ انٹر میامی کے حکام کا کہنا ہے کہ گالارزا کی شمولیت سے ٹیم کے وسطی میدانی شعبے کو مزید مضبوطی اور تحرک حاصل ہوگا۔
انٹر میامی کی انتظامیہ نے یہ بات بھی واضح کی ہے کہ کھلاڑی کی اسکواڈ میں حتمی اور عملی شمولیت ان کے انٹرنیشنل ٹرانسفر سرٹیفکیٹ اور پی ون ویزا کی باضابطہ وصولی سے مشروط رہے گی۔
پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے دعویٰ کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں انٹیلی جنس معلومات پر مبنی وسیع پیمانے کی کارروائیوں کے دوران گزشتہ دو روز میں مجموعی طور پر 48 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق گزشتہ 12 سے 24 گھنٹوں میں سیکیورٹی فورسز نے مستونگ، کوئٹہ، قلات اور سبی کے اضلاع میں ‘فتنہ الخوارج’ (کالعدم تحریکِ طالبان) اور ‘فتنہ الہندوستان’ (بلوچ علیحدگی پسند گروپس) سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کے خلاف متعدد آپریشنز کیے۔ ان تازہ کارروائیوں میں 36 عسکریت پسند اور شدت پسند ہلاک کیے گئے۔
تفصیلات کے مطابق 4 ستمبر کو ضلع مستونگ میں ایک آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور فورسز کے ساتھ شدید فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں 6 عسکریت پسند ہلاک ہو گئے۔
ضلع قلات میں بھی انٹیلی جنس کی بنیاد پر ایک اور کامیاب آپریشن کیا گیا، جہاں فورسز نے شدت پسندوں کے خفیہ ٹھکانے پر چھاپہ مارا اور فائرنگ کے تبادلے میں 2 عسکریت پسندوں کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔
علاوہ ازیں ضلع سبی کے علاقے بھاگ میں سیکیورٹی فورسز نے مقامی آبادی کے تعاون سے فوری ردِعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس سٹیشن بھاگ پر دہشت گردوں کے حملے کی ایک بڑی کوشش کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔ اس کارروائی میں فائرنگ کے شدید تبادلے کے دوران 2 شدت پسند مارے گئے، جبکہ علاقے میں ممکنہ شرپسندوں کے خاتمے کے لیے سرچ آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔
کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کی عمارت میں فائر سیفٹی اور ہنگامی حفاظتی تدابیر کے حوالے سے ایک خصوصی موک ڈرل کا باقاعدہ انعقاد کیا گیا ہے۔
سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس عملی مشق کا بنیادی مقصد کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعہ یا آتشزدگی کی صورتحال میں فوری کارروائی، مؤثر حفاظتی اقدامات اور ہنگامی ردِعمل کے پورے نظام کی صلاحیتوں کو آزمائشی بنیادوں پر جانچنا اور مزید مضبوط بنانا تھا۔
موک ڈرل کے دوران پارلیمنٹ ہاؤس کی اہم عمارت میں آتشزدگی کی فرضی صورتحال پیدا کی گئی اور امدادی کارروائیوں کا عملًا معائنہ کیا گیا۔ اس موقع پر آگ لگنے کی صورت میں عمارت کے اندر موجود افراد کے محفوظ انخلا، ریسکیو اداروں کو بلا تاخیر اطلاع دینے، آگ پر قابو پانے اور ضروری طبی امداد کی فراہمی جیسے تمام مرحلہ وار طریقہ کار کی مشقیں انجام دی گئیں۔
مشق میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سینیئر افسران، ملازمین اور سی ڈی اے کی فائر فائٹنگ و ریسکیو ٹیموں نے مکمل ہم آہنگی اور تعاون کے ساتھ حصہ لیا۔
حکام نے اس موقع پر ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے موجود تمام موجودہ انتظامات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ سی ڈی اے حکام کے مطابق ایسی فرضی اور عملی مشقوں کا مقصد ادارہ جاتی تیاریوں کو ہر وقت فعال رکھنا ہے تاکہ کسی بھی واقعی ایمرجنسی میں قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ اور مالی نقصانات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کے روز سے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور تعز شہر کے قریب حوثی جنگجوؤں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی سرکاری افواج کے درمیان شدید اور خونریز جھڑپیں جاری ہیں، جن میں دونوں جانب سے کم از کم 81 فوجی اور جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔
بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں تعینات یمنی فوج کے ایک سینئر عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ حوثی حملوں کے خلاف لڑتے ہوئے ان کی فورسز کے 24 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ تعز کے محاذ پر موجود ایک اور فوجی حکمران نے مزید 15 یمنی اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے (اے ایف پی) نے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں طبی اور ہسپتال کے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ یمنی سرکاری افواج کی جوابی کارروائی میں حوثی مسلح گروہ کے کم از کم 42 ارکان بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ خونی لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب حوثی فورسز نے تعز کے علاقے اور بحیرہ احمر کی ساحلی پٹی کے آس پاس قائم سرکاری فوج کے مواضع پر راکٹوں اور جدید ڈرونز کی مدد سے اچانک شدید زمینی حملہ کر دیا۔ یمنی فوج نے حملے کو ناکام بنانے کے لیے جوابی کارروائی کی، جس کے بعد دونوں فریقین کے درمیان شدید گولا باری کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان کے ضلع قلات میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات پر مبنی ایک کامیاب کارروائی کے دوران 12 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے جمعے کے روز جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق یہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن 2 ستمبر کو قلات کے دشوار گزار علاقے میں انجام دیا گیا۔ آپریشن کے دوران عسکریت پسندوں کے ٹھکانے کی مسلسل نگرانی اور نشاندہی کے بعد فورسز کی جانب سے انتہائی مہارت سے فوری ‘سرجیکل ایکشن’ کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے اس حتمی اور موثر سرجیکل ایکشن کے نتیجے میں ٹھکانے پر موجود تمام 12 عسکریت پسند موقع پر ہی مارے گئے، جبکہ ان کی کمین گاہ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔
کارروائی کے دوران عسکریت پسندوں کے زیرِ استعمال بھاری مقدار میں جدید اسلحہ، گولا بارود اور دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) بنانے کے لیے رکھے گئے بارودی مواد کے بڑے ذخیرے کو بھی قبضے میں لے کر موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔ ترجمان کے مطابق علاقے میں عسکریت پسندوں کے مکمل خاتمے کے لیے آپریشن اور معائنہ کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اردن کے وزیرِ خارجہ کے حالیہ بیانات پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ ایران کو ایسے جارح کا جواب دینے کے لیے کب تک انتظار کرنا چاہیے جو نہ تو عرب ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور نہ ہی ایرانی سلامتی کا پاس رکھتا ہے۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک تفصیلی بیان میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اردنی وزیرِ خارجہ کو آڑے ہاتھوں لیا اور ان پر حقائق سے لاعلمی کا الزام عائد کیا۔ عباس عراقچی نے انکشاف کیا کہ ایران کے خلاف امریکہ کی جانب سے کیے گئے ابتدائی اور ابتدائی نوعیت کے حملوں کے دوران مختلف عرب ممالک کی فضائی، زمینی اور آبی حدود کا استعمال کیا گیا تھا۔
یہ سفارتی لفظی جنگ اس وقت شروع ہوئی جب اردن کی وزارتِ خارجہ نے کویت میں ایرانی کارروائیوں اور حملوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں “وحشیانہ” قرار دیا تھا۔ اردنی بیان میں کہا گیا تھا کہ یہ اقدام قومی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی، خطے کی سلامتی و استحکام کے لیے شدید خطرہ اور بین الاقوامی قوانین سمیت اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
دوسری جانب قطر کی وزارتِ خارجہ نے بھی کویت کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے باضابطہ بیان میں متنبہ کیا تھا کہ اس قسم کے حملے خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور امن و استحکام قائم کرنے کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے منگل کے روز ایران میں جاری امریکی فضائی حملوں کے دوران ایک شادی کی تقریب پر ہونے والی بمباری اور اس کے نتیجے میں متعدد عام شہریوں کی ہلاکت کی باضابطہ اور اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
امریکی جریدے ‘ایگزیوس’ کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے موقف اختیار کیا ہے کہ ابھی تک اس بات کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ یہ المناک واقعہ براہِ راست امریکی حملے کا نتیجہ تھا یا نہیں، تاہم اگر تحقیقات میں اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ چھ ماہ قبل امریکہ اور ایران کے درمیان شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے عام شہریوں کی ہلاکتوں کا سب سے بڑا واقعہ شمار ہوگا۔
ایگزیوس سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی حکام نے انکشاف کیا کہ سینٹکام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے بدھ کے روز اس واقعے کا فوری طور پر اندرونی جائزہ لینے کے سخت احکامات جاری کر دیے ہیں۔
یہ پیشرفت عالمی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کی اس رپورٹ کے فوراً بعد سامنے آئی ہے جس میں اسلحہ جات کے ماہرین کی تجزیاتی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ ایرانی شہر ‘کوہستک’ میں شادی کی تقریب پر ہونے والا ہولناک دھماکہ ممکنہ طور پر امریکی گائیڈڈ ہتھیار کے براہِ راست ٹکرانے کے باعث ہوا، اور یہ کسی ایرانی فضائی دفاعی میزائل کی غلط سمت یا بالواسطہ ٹکراؤ کا نتیجہ نہیں تھا۔
واضح رہے کہ اس چھ ماہ طویل جنگ کے دوران عام شہریوں کی ہلاکت کا سب سے بڑا اور ہولناک واقعہ جنگ کے بالکل پہلے دن پیش آیا تھا، جب ایرانی شہر کے ایک سکول پر امریکی فضائی حملے میں ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں بچوں کی اکثریت شامل تھی۔ امریکی فوجی حکام کے مطابق سکول پر ہونے والے اس حملے کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ بھی جلد مکمل کر کے عام کی جائے گی۔
عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی ممکنہ مسلح تنازعہ یا جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باعث بحری آمدورفت میں خلل کے اثرات صرف خلیجِ فارس تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں بڑھنے، پیداواری لاگت میں اضافے اور عالمی طلب میں شدید کمی کا خدشہ ہے۔
عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ جامع رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز خلیجِ فارس کو بحرِ ہند سے ملانے والی دنیا کی سب سے اہم اور حکمتِ عملی کے حامل آبی گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا بھر کے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کے سب سے بڑے حصے کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سپلائی چینز، بین الاقوامی تجارت، صنعت اور عالمی ملازمتوں کے شعبے کو تباہ کن حد تک متاثر کر سکتی ہے۔
دنیا کے 80 ممالک کے اعداد و شمار پر مبنی ایک حالیہ تجزیے کے مطابق اس جغرافیائی بحران کے نتیجے میں 61 ممالک میں 90 فیصد سے زیادہ محنت کشوں اور کارکنوں کی حقیقی آمدنی میں واضح کمی واقع ہوگی۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کمبوڈیا، یوکرین اور ویتنام ان ممالک میں شامل ہیں جہاں کے مزدوروں اور صنعتوں کو سب سے زیادہ مالی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔
اس کے برعکس تیل برآمد کرنے والے ممالک جن میں نائجیریا، انگولا، آسٹریلیا، برونائی دارالسلام، قازقستان، ناروے اور روس شامل ہیں، اس بحران کے اثرات سے نسبتاً محفوظ رہیں گے کیونکہ ان ممالک میں 20 فیصد سے بھی کم کارکنوں کی آمدنی متاثر ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
عالمی بینک کے تجزیے کے مطابق توانائی کی قیمتیں بڑھنے سے ٹیکسٹائل، زراعت اور پلاسٹک کے شعبے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، جبکہ خام تیل نکالنے کا شعبہ ان چند شعبوں میں شامل ہے جو بلند عالمی قیمتوں سے مستفید ہو سکتا ہے۔ چین کی الیکٹرانکس انڈسٹری اور زراعت کا شعبہ بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے کیونکہ کیمیائی کھادوں، زرعی ادویات، ایندھن اور نقل و حمل کی لاگت میں براہِ راست اضافہ ہو جائے گا۔
عالمی بینک نے دنیا بھر کی حکومتوں کو تجویز دی ہے کہ وہ مزدوروں کے روزگار کو بچانے کے لیے فنی تربیت اور دوبارہ مہارت حاصل کرنے کے پروگرامز شروع کریں، جبکہ خوراک درآمد کرنے والے کم آمدنی والے ممالک کو توانائی کی قیمتوں میں اچانک اضافے کی صورت میں فوری طور پر سبسڈی، نقد امداد اور سماجی تحفظ کے پروگرامز فعال کرنے کی تیاری رکھنی چاہیے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت منشیات کے خاتمے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے۔ نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سے محفوظ بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل اور سخت اقدامات بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کیے گئے اپنے ایک اہم بیان میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے بتایاکہ گزشتہ دو سال کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کامیاب اور موثر کارروائیوں کے نتیجے میں 133 ارب روپے سے زائد مالیت کی منشیات ضبط کر کے تلف کی جا چکی ہے، جو منشیات کے خلاف حکومت کے پختہ عزم اور اداروں کی بہترین کارکردگی کا واضح ثبوت ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں میں 1,638 کلوگرام آئس (کرسٹل) اور 620 کلوگرام چرس قبضہ میں لے کر تلف کی گئی، جبکہ دو سال کے عرصے میں 27 ہزار سے زائد غیر ملکی شراب اور بیئر کی بوتلیں اور کین بھی ضبط کر کے تلف کیے گئے۔
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ منشیات کے خلاف جاری یہ مہم محض ایک قانونی اقدام نہیں بلکہ بلوچستان کی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی ایک جامع اور منظم جدوجہد ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ منشیات کی ترسیل، فروخت اور استعمال میں ملوث تمام عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے گی تاکہ صوبے کو ایک محفوظ، صحت مند اور منشیات سے پاک معاشرہ بنایا جا سکے جہاں نوجوان اپنی توانائیاں تعلیم، ہنر، کھیل اور مثبت سرگرمیوں میں استعمال کر سکیں۔
وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال کے کارڈیک سنٹر کا دورہ کیا اور وہاں دل کے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔
اپنے دورے کے دوران وفاقی وزیر صحت نے کارڈیک سنٹر میں زیرِ علاج مریضوں اور ان کے لواحقین سے براہِ راست ملاقاتیں کیں اور علاج معالجے کے معیار، مفت ادویات کی دستیابی اور انتظامی امور سے متعلق درپیش مشکلات کے بارے میں دریافت کیا۔
مصطفیٰ کمال نے پمز ہسپتال میں قائم جدید ترین الیکٹرو فیزیالوجی کیتھ لیب کا بھی خصوصی معائنہ کیا جہاں انہوں نے دل کے امراض کے علاج کے لیے دستیاب جدید ترین آلات اور تکنیکی سہولیات کی صورتحال کا جائزہ لیا۔
اس موقع پر پمز انتظامیہ اور متعلقہ طبی حکام نے وفاقی وزیر صحت کو کیتھ لیب کی کل روزمرہ کی استعداد، جدید مشینری کے فعال ہونے اور آنے والے مریضوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
وفاقی وزیر صحت نے ہسپتال انتظامیہ کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو معیاری اور جدید ترین طبی سہولیات کی بلا تاخیر فراہمی یقینی بنائی جائے اور ہسپتال آنے والے ہر مریض کے مسئلے کے فوری حل کو انتظامیہ اپنی اولین ترجیح بنائے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اعادہ کیا ہے کہ پاکستان عالمی امور اور کثیرالجہتی نظام میں اقوام متحدہ کے موثر اور فعال کردار کی مسلسل حمایت جاری رکھے گا، جبکہ موجودہ پیچیدہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم اور بین الاقوامی تعاون کو مزید مستحکم بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جمعہ کے روز جاری کیے گئے باضابطہ بیان کے مطابق، ان خیالات کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کے امیدوار سفیر اولارا اوتونو سے ایک اعلیٰ سطح کی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر یوگنڈا کے صدر کے خصوصی ایلچی اور سابق وزیراعظم روہاکانا روگونڈا بھی ان کے ہمراہ تھے۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ نے بھی شرکت کی اور اہم سفارتی امور پر گفتگو کی گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے منشور، عالمی قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں کے احترام کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے بنیادی منشور سے مکمل وابستگی رکھتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ کے آئندہ منتخب ہونے والے سیکرٹری جنرل عالمی ادارے کے تینوں بنیادی ستونوں یعنی امن و سلامتی، اقتصادی و سماجی ترقی اور انسانی حقوق پر یکساں اور متوازن توجہ مرکوز کریں گے۔
سفیر اولارا اوتونو نے کثیرالجہتی نظام کے فروغ، اقوام متحدہ کے مشنز اور عالمی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کی دہائیوں پر محیط اور تاریخی خدمات کو زبردست الفاظ میں سراہا اور پاکستان کی فعال عالمی قیادت پر تشکر کا اظہار کیا۔
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق معاملے میں ہونے والی اہم اور مثبت پیش رفت کا پرجوش خیرمقدم کیا ہے اور شامی حکومت کی جانب سے اپنی سرزمین پر کیمیائی ہتھیاروں کی سرگرمیوں کا خاتمہ کرنے کے عزم کو سراہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان نے باقی ماندہ ستائیس میں سے انیس زیرِ التوا امور کے حل کے لیے فریقین کے درمیان مسلسل روابط اور باہمی تعاون کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص شام کے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق خصوصی بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے شامی عرب جمہوریہ کی جانب سے ارسال کردہ تازہ ترین مراسلات اور تعاون کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے بتایا کہ شامی حکومت نے کیمیائی ہتھیاروں کی سرگرمیوں سے وابستہ مختلف مقامات اور حال ہی میں ظاہر کی گئی دو اہم ذخیرہ گاہوں کے جائزوں سے متعلق اہم تفصیلات فراہم کی ہیں۔
سفیر عثمان جدون نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شامی حکومت کی جانب سے حاصل کی جانے والی پیش رفت تحسین اور حوصلہ افزائی کی مستحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو حتمی انجام تک پہنچانے کے لیے آگے بڑھنے کا واحد راستہ شام اور کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم کے ٹیکنیکل سیکریٹریٹ کے درمیان قائم تعاون، باہمی اعتماد اور شفافیت کی فضا کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
پاکستانی مندوب نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ضروری تکنیکی معاونت، ماہرانہ مشورے اور صلاحیتوں میں اضافے کے لیے شام کو تعاون فراہم کرے تا کہ باقی ماندہ امور جلد از جلد حل ہو سکیں۔ انہوں نے پاکستان کی طرف سے شام کی خودمختاری، قومی وحدت اور علاقائی سالمیت کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ بھی کیا۔
سفیر عثمان جدون نے پاکستان کا اصولی موقف دہرااتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی بھی فرد، تنظیم یا فریق کی جانب سے دنیا میں کسی بھی مقام پر اور کسی بھی حالت میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی سخت مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کا عالمی معاہدہ بین الاقوامی تخفیفِ اسلحہ اور عدمِ پھیلاؤ کے نظام کا بنیادی ستون ہے، اور پاکستان اس کے بلا تفریق اور مؤثر نفاذ کا حامی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ مسلسل تکنیکی تصدیق، آزادانہ جائزہ اور عالمی تعاون کے نتیجے میں تمام زیرِ التوا مسائل احسن طریقے سے حل ہو جائیں گے اور شام کا کیمیائی ہتھیاروں کا معاملہ کامیابی سے اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا۔
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے نامور کشمیری رہنما اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک نے سرینگر کی خصوص عدالت کے سامنے ایک انتہائی اہم اور تہلکہ خیز حلف نامہ پیش کرتے ہوئے اپنے خلاف قائم مقدمے کا مزید دفاع کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے اور عدالت سے استدعا کی ہے کہ انہیں فوری طور پر سزائے موت سنائی جائے۔
یہ غیر متوقع اور ڈرامائی پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی ریاستی تحقیقاتی ایجنسی نے اپنی جدید ترین فردِ جرم میں یاسین ملک کو سن 1990ء میں پیش آنے والے سرلا بھٹ قتل کیس کا مرکزی منصوبہ ساز قرار دیا۔ اس کیس میں یاسین ملک پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے اسپتال میں کام کرنے والی نرس کے قتل کا حکم جاری کیا تھا۔
یاسین ملک کے قانون دان ابو عادل پنڈت نے سرینگر میں متعلقہ عدالت کے جج کے سامنے یہ دستی حلف نامہ جمع کرایا۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ان کی حال ہی میں نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں یاسین ملک سے تفصیلی ملاقات ہوئی تھی جہاں قید کے دوران انہوں نے یہ تحریر لکھی اور اسے عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیا۔ اس قانونی دستاویز پر یاسین ملک کے انگوٹھے کے نشان کے ساتھ ساتھ تہاڑ جیل کے نائب ناظم کی باضابطہ مہر اور دستخط بھی ثبت ہیں، جبکہ بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی اور تہاڑ جیل کے حکام نے بھی اس تحریر کی مکمل تصدیق کی ہے۔
تہاڑ جیل سے بھیجے گئے اس طویل حلف نامے کو یاسین ملک نے عدالتی نظام کے سامنے اپنا حتمی اور آخری بیان قرار دیا ہے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ مذہبی استخارے، تلاوت اور اپنے موجودہ نامساعد حالات پر طویل غور و فکر کے بعد انہوں نے یہ حتمی فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے خلاف دائر کیے گئے اس مقدمے کی مزید کوئی قانونی پیروی یا دفاع نہیں کریں گے۔ انہوں نے عدالت پر واضح کیا کہ ان کے اس فیصلے کو کسی بھی صورت میں جرم کا اعتراف یا سرکاری و تحقیقاتی اداروں کے الزامات کی تسلیم سے تعبیر نہ کیا جائے، کیونکہ وہ اس قتل میں کسی بھی طور پر ملوث نہیں ہیں، بلکہ وہ اس نظامِ عدل سے مایوس ہو کر خود کے لیے سزائے موت کی مانگ کر رہے ہیں۔
اس حلف نامے کا ایک انتہائی دردناک اور سنسنی خیز پہلو یہ ہے کہ قیدِ تنہائی کاٹنے والے کشمیری رہنما نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مقیم اپنی اہلیہ مشال ملک کو بھی اس تحریر کے ذریعے نکاح سے آزاد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ وہ اپنی شریکِ حیات کو مزید کسی بندھن یا انتظار کی صعوبت میں نہیں رکھنا چاہتے، اس لیے وہ انہیں مکمل طور پر آزاد کرتے ہیں۔
حلف نامے کے متن کے مطابق بھارت کے تحقیقاتی افسران نے جون دو ہزار چھبیس کے پہلے ہفتے میں تہاڑ جیل میں یاسین ملک سے کئی گھنٹے تفتیش کی تھی۔ اس تفتیش کے دوران ان سے ایک ایسے دستی نوٹ کے بارے میں سوالات پوچھے گئے جو مبینہ طور پر دہائیوں قبل جائے وقوعہ سے ملا تھا اور جس کی بنیاد پر ان پر اس قتل کی ہدایت دینے کا الزام لگایا گیا۔ یاسین ملک نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد اور گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا اس واقعے سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔
حلف نامے میں یاسین ملک نے ماضی کے کئی پردے بھی چاک کیے ہیں اور بھارت کی سابق حکومتی قیادت کے ساتھ اپنے تعلقات کی تفصیلی معلومات فراہم کی ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سال دو ہزار میں جیل سے رہائی کے بعد اس وقت کی بھارتی حکومت نے ان کے ساتھ باقاعدہ بات چیت اور مذاکراتی عمل کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت کی بھارتی قیادت کے نمائندوں بشمول اجیت دوول اور دیگر اعلیٰ سلامتی و استخباراتی حکام نے ان سے متعدد ملاقاتیں کی تھیں اور انہی رابطوں کے نتیجے میں بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت کی راہ ہموار کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے امریکہ میں اپنے علاج و معالجے کے سلسلے میں بھارتی حکومت کی جانب سے کی جانے والی مالی امداد کی تفصیلات بھی اس حلف نامے میں درج کی ہیں۔
یاسین ملک کے اس قدم نے کشمیری سیاست اور قانون دانوں کے حلقوں میں ایک نیا زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک اہم رہنما کی طرف سے مقدمے کے دفاع سے انکار اور سزائے موت کا مطالبہ کرنا بھارت کے قضائی اور تحقیقاتی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ حریت پسند حلقوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ یاسین ملک کا یہ بیانیہ ان کی ثبات قدمی اور مسلسل جدوجہد کی علامت ہے۔
فی الوقت سرینگر کی عدالت اور بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی نے اس حلف نامے کو اپنے ریکارڈ کا حصہ بنا لیا ہے اور اس کیس کی اگلی سماعت پر اس قانونی نقطے کا جائزہ لیا جائے گا کہ جب ملزم خود اپنا دفاع کرنے سے انکار کر دے اور سزائے موت کی استدعا کرے تو ایسی صورت میں کارروائی کو کس سمت میں آگے بڑھایا جانا چاہیے۔