پاک فضائیہ کی خدمات، قربانیاں اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں قومی تاریخ کا ناقابلِ فراموش باب ہیں: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی

کاشف عباسی , September 07,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے 7 ستمبر ‘یومِ فضائیہ’ کے موقع پر پاک فضائیہ کے شاہینوں، عظیم شہداء اور جری غازیوں کو زبردست خراجِ تحسین اور سلام پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وطنِ عزیز کی فضائی حدود کے دفاع میں پاک فضائیہ کی تاریخی خدمات، بے مثال قربانیاں اور اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ صلاحیتیں قومی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش اور روشن باب ہیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق، کوئٹہ سے جاری کردہ اپنے خصوصی قومی پیغام میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ نشانِ حیدر پانے والے سب سے کم عمر ہیرو راشد منہاس شہید سمیت پاک فضائیہ کے تمام جانبازوں نے دفاعِ وطن کی خاطر جرات، شجاعت اور قربانی کی لازوال داستانیں رقم کی ہیں۔ ان بہادر سپوتوں کا عظیم ایثار اور خون آنے والی نسلوں کے لیے عزم، حوصلے اور حب الوطنی کا روشن استعارہ ہے۔

وزیراعلیٰ نے پاک فضائیہ کی تاریخی اور حالیہ پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاک فضائیہ کے شاہینوں نے ہر مشکل گھڑی میں اپنی غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت، جدید جنگی صلاحیت اور بے مثال جرات کا مظاہرہ کر کے ملکی فضائی حدود کے دفاع کی شاندار روایت کو مزید مضبوط کیا ہے۔ پاک فضائیہ کی اس مؤثر اور قابلِ تحسین کارکردگی نے پوری قوم کا سر دنیا میں فخر سے بلند کیا اور ایک بار پھر ثابت کیا کہ پاکستان کا فضائی دفاع مکمل طور پر محفوظ اور باصلاحیت ہاتھوں میں ہے۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ 7 ستمبر کا دن محض ایک روایتی قومی دن نہیں بلکہ یہ قومی اتحاد، غیر متزلزل عزم اور وطن سے بے لوث وفاداری کے جذبے کی تجدید کا ایک خاص موقع ہے۔ پوری پاکستانی قوم اپنے شاہینوں کی فرض شناسی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور پاک فضائیہ پر بے پناہ فخر کرتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ملکی دفاع کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے شہداء قوم کے حقیقی ہیروز ہیں۔ ان کی لازوال قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں اور پوری قوم ان کے سوگوار اہل خانہ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے دعائیہ کلمات ادا کرتے ہوئے شہداء کے درجات کی بلندی اور پاک فضائیہ کے غازیوں و موجودہ افسران و جوانوں کی مزید سربلندی اور کامرانی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

1965ء کی جنگ میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دشمن کا غرور خاک میں ملا دیا: یومِ فضائیہ پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا زبردست خراجِ تحسین

منصور احمد,September 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے داخلہ محسن نقوی نے 7 ستمبر ‘یومِ فضائیہ’ کے موقع پر پاک فضائیہ کے شجاع شہداء اور غازیوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 7 ستمبر 1965ء کا دن پاک فضائیہ کی غیر معمولی شجاعت، بے مثال جرات اور اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ مہارت کا ایک سنہری اور تاریخی دن ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق، یومِ فضائیہ کی مناسبت سے جاری کردہ اپنے خصوصی قومی پیغام میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران پاک فضائیہ کے شاہینوں نے جرات و بہادری کی ایسی تاریخ رقم کی جس نے دشمن کی تمام تر عددی اور تکنیکی برتری کا غرور خاک میں ملا دیا۔

وفاقی وزیر داخلہ نے فضائی معرکے کے عظیم قومی ہیرو سکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم (مرحوم) کو خصوصاً زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایم عالم کی شجاعت اور پیشہ ورانہ مہارت پاکستان کی عسکری تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش اور روشن باب ہے۔ ایم ایم عالم نے محض ایک منٹ کے قلیل وقت میں دشمن بھارت کے 5 جدید جیٹ جنگی طیارے مار گرائے، جو کہ ایک ایسا عالمی اور تاریخی کارنامہ ہے جس کی دنیا کی ہوا بازی میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔

محسن نقوی نے اپنے پیغام میں زور دیتے ہوئے کہا کہ یومِ فضائیہ ہمارے تمام غازیوں اور شہداء کی لازوال قربانیوں کی یاد تازہ کرتا ہے اور پوری پاکستانی قوم اپنے ان سرفروش ہیروز کی قربانیوں کو ہمیشہ احترام کے ساتھ یاد رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ وطنِ عزیز کی فضائی سرحدوں کے پاسبان ہمہ وقت بیدار، پرعزم اور مستعد ہیں، جبکہ شہداء اور غازیوں نے اپنے مقدس خون سے پاکستان کے دفاع کو ہمیشہ کے لیے ناقابلِ تسخیر بنا دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاک فضائیہ کے تمام افسران، انجینئرز اور جوانوں کا جذبۂ حب الوطنی اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں پورِی قوم کے لیے قابلِ تقلید ہیں۔ قوم کو پاکستان ایئر فورس کی اعلیٰ تزویراتی و عملیاتی صلاحیتوں پر ہمیشہ کی طرح آج بھی بے پناہ فخر ہے۔

نوشکی میں ٹارگٹ کلنگ کا افسوسناک واقعہ: بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے ضلعی صدر عبدالرحمان لانگو فائرنگ سے جاں بحق

منصور احمد,September 06,2026

نوشکی / کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

بلوچستان کے ضلع نوشکی میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے ایک افسوسناک واقعے میں بلوچستان عوامی پارٹی کے ضلعی صدر اور معروف سیاسی و سماجی شخصیت عبدالرحمان لانگو نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

پولیس و سیکیورٹی حکام کے مطابق، یہ ٹارگٹڈ حملہ اتوار کی شب نوشکی شہر کے جنوب مغرب میں واقع علاقے کلی بٹو میں پیش آیا، جہاں مسلح ملزمان نے عبدالرحمان لانگو کو ان کی رہائش گاہ کے بالکل باہر اندھا دھند فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ فائرنگ اتنی شدید تھی کہ وہ موقع پر ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے، جبکہ حملہ آور رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

نوشکی پولیس کے ایس ایچ او عبدالحئی پرکانی نے واقعے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو ضروری قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ٹارگٹ کلنگ کے اس واقعے کے مختلف پہلوؤں اور ممکنہ محرکات کو سامنے رکھتے ہوئے وسیع پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے کی ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ عبدالرحمان لانگو کا شمار نوشکی کی بااثر اور متحرک سیاسی و سماجی شخصیات میں ہوتا تھا۔ وہ بلوچستان عوامی پارٹی کے ضلعی صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں ادا کرنے کے علاوہ ماضی میں یونین کونسل باغک کے منتخب چیئرمین بھی رہ چکے تھے۔

واقعے کی خبر پھیلتے ہی نوشکی شہر اور گردونواح میں شدید تشویش، غم و غصے اور خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے۔ فی الوقت کسی بھی کالعدم عسکریت پسند تنظیم یا کالعدم گروپ نے اس ہائی پروفائل قتل کی ذمہ داری قبول کرنے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں سنسنی خیز واقعہ: کوئٹہ کراچی شاہراہ کے قریب سے 6 نامعلوم افراد کی لاشیں برآمد

کاشف عباسی , September 06,2026

مستونگ / کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

بلوچستان کے حساس اور مرکزی ضلع مستونگ سے اتوار کے روز 6 نامعلوم افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جس کے بعد علاقے میں شدید سنسنی، خوف اور تحفظات کی لہر دوڑ گئی ہے۔

حکومتی و سرکاری ذرائع نے واقعے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ لاشیں کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کے قریب دو الگ الگ مقامات سے ملی ہیں۔ محکمہ داخلہ حکومتِ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی سے رابطہ کرنے پر انہوں نے لاشوں کی برآمدگی کی تصدیق کی اور بتایا کہ اس سلسلے میں مستونگ پولیس نے باقاعدہ بیان جاری کیا ہے۔

مستونگ پولیس کے باضابطہ اعلامیے کے مطابق، کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ڈی سی ہاؤس کے قریب سے 1 لاش جبکہ دتو موڑ کے مقام سے 5 افراد کی لاشیں ملیں۔ ایس ایچ او سٹی عبدالرؤف بلوچ کی نگرانی میں پولیس کی نگران ٹیم نے لاشوں کو ضروری قانونی کارروائی اور شناخت کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔

تاہم، اس دردناک واقعے کے بعد مقامی رہائشیوں نے شدید تحفظات اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مستونگ کے مقامی رہائشی مالک بلوچ نے بتایا کہ لاشیں علی الصبح سڑک کے کنارے پھینکی گئی تھیں اور کافی دیر تک کھلے آسمان تلے سڑک کنارے پڑی رہیں۔

مقامی ذرائع نے یہ حیران کن انکشاف بھی کیا کہ پولیس اور ریسکیو اہلکار لاشوں کو اٹھا کر کوئٹہ منتقل کرنے کے لیے لے گئے تھے، لیکن پراسرار طور پر کچھ ہی دیر بعد انہیں دوبارہ لا کر مستونگ کی شاہراہ کے کنارے رکھ کر چھوڑ دیا گیا۔ شہریوں کے مطابق بعد ازاں ان لاشوں کو کسی سرکاری یا فلاحی ایمبولینس کے بجائے ایک زمیاد (Zamyad) گاڑی میں لاڈ کر کے نامعلوم جگہ منتقل کیا گیا۔

واقعے کے حقائق جاننے اور لاشوں کی منتقلی کے حوالے سے پیدا ہونے والے سوالات پر مستونگ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم انہوں نے نہ تو فون کالز کا جواب دیا اور نہ ہی پیغامات کا کوئی ردِعمل سامنے آیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

قانون کی حکمرانی اور قومی یکجہتی سے ہی پاکستان کا دفاع و استحکام ممکن ہے: یومِ دفاع پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا پیغام

منصور احمد,September 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے یومِ دفاع و شہداء کے موقع پر افواجِ پاکستان کے شہداء، غازیوں اور موجودہ عسکری قیادت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 6 ستمبر ہماری قومی و سیکیورٹی تاریخ کا وہ سنہری اور یادگار دن ہے جب پوری قوم نے سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر غیر متزلزل قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق، اپنے ایک اہم اور تفصیلی قومی بیان میں وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 1965ء کی جنگ کے دوران پاکستان کی مسلح افواج کے افسران اور جوانوں نے دشمن کی عددی برتری کے مقابلے میں جس غیر معمولی جرات، پیش ورانہ عزم اور شجاعت کا مظاہرہ کیا، وہ ملکی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش باب ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہداء کی پاکیزہ قربانیاں اور غازیوں کا جذبہ آج بھی قوم کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وفاقی وزیر نے شہداء کے سوگوار اہل خانہ کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے اپنے پیاروں کی قربانی کے بعد بے مثال صبر اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر کے قوم کے سر کو فخر سے بلند رکھا۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پاکستان بنیادی طور پر ایک امن پسند ملک ہے جو خطے میں پائیدار امن، خوشحالی اور استحکام کے لیے مذاکرات، بین الاقوامی قوانین اور سفارتی ذرائع پر کامل یقین رکھتا ہے؛ تاہم ملک کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پوری قوم ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے باہم متحد اور پرعزم ہے۔

وزیرِ قانون نے زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی یکجہتی، جمہوری اقدار کی پاسداری، آئین و قانون کی حکمرانی اور مضبوط ریاستی ادارے ہی کسی بھی ملک کی حقیقی دفاعی اور معاشی خودمختاری کی بنیادی ضمانت ہوتے ہیں۔ انہوں نے پوری قوم پر زور دیا کہ ہم شہداء کی قربانیوں سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے ایک پرامن، قانون کی بالادستی پر مبنی اور خوشحال پاکستان کی تعمیر میں اپنا فعال قومی کردار ادا کریں۔

جنگیں ہتھیاروں سے نہیں، ایمان اور عزمِ محکم سے جیتی جاتی ہیں: یومِ دفاع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا پاک افواج کو زبردست خراجِ تحسین

کاشف عباسی , September 06,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے یومِ دفاعِ پاکستان (6 ستمبر) کے تاریخی موقع پر اپنے خصوصی اور تفصیلی پیغام میں پاک فوج کے تمام افسران، بہادر جوانوں، عظیم شہداء اور غازیوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا دفاع مکمل طور پر ناقابلِ تسخیر ہے اور قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق، وزیراعلیٰ مریم نواز نے اپنے پیغام میں کہا کہ پوری پاکستانی قوم کو اپنی نڈر اور پیشہ ور پاک فوج، پاک فضائیہ اور پاکستان نیوی کے کردار پر بے حد فخر ہے۔ انہوں نے آپریشن ردالفساد، ضربِ عضب اور دہشت گردی کے خلاف دیگر داخلی سیکیورٹی معرکوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاک افواج نے وطنِ عزیز سے عسکریت پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پیشہ ورانہ مہارت اور قربانی کے بالکل نئے اور اعلیٰ معیار قائم کیے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ تمام عوام دہشت گردی کے خلاف جاری اس طویل جنگ میں اگلی صفوں پر لڑنے والے افسروں اور جوانوں کی سلامتی اور کامیابی کے لیے ہمہ وقت دعا گو ہیں۔ انہوں نے 1965ء کے معرکے کی تاریخی حقیقت کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ پاک افواج نے دشمن کے دانت کھٹے کر کے ہمیشہ کے لیے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جنگیں محض ہتھیاروں، بارود اور عددی برتری سے نہیں بلکہ غیر متزلزل ایمان، شجاعت اور پکے یقین و جذبے کے ساتھ جیتی جاتی ہیں۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج کا پاکستان ایک ناقابلِ تسخیر دفاعی صلاحیت رکھنے والی تسلیم شدہ ایٹمی طاقت ہے، اور ملک کے عوام اپنی افواج اور خودمختاری پر پہلے سے کہیں زیادہ پراعتماد ہیں۔ دھرتی کی دفاعی سرحدوں پر سینہ سپر بہادر سپوت ہی ہماری قومی سلامتی کا اصل اثاثہ اور فخر ہیں۔

انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں پاکستان کو درپیش جیو پولیٹیکل چیلنجز اور اندرونی و بیرونی خطرات قوم سے بے مثال اتحاد اور یکجہتی کا تقاضا کرتے ہیں۔ ملک میں عدم استحکام اور انتشار پیدا کرنے والی دشمن قوتوں کے تمام مذموم عزائم کو پوری قومی طاقت، عزم اور اتفاق کے ساتھ ہر محاذ پر ناکام بنانا ہو گا۔

جرمنی میں یومِ دفاع و شہداءِ پاکستان کا شاندار انعقاد: برلن اور ہیمبرگ میں دیس سے دور پاکستانی کمیونٹی کی زبردست تقاریب

منصور احمد,September 06,2026

برلن / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

یومِ دفاع و شہداءِ پاکستان کے عظیم قومی موقع پر جرمنی کے اہم ترین شہروں برلن اور ہیمبرگ میں دیارِ غیر میں مقیم پاکستانی برادری کی جانب سے پروقار اور پرجوش خصوص تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔ ان تقاریب میں جرمنی بھر سے پاکستانی تارکینِ وطن کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور 6 ستمبر 1965ء کی معرکہ آرائی میں سرحدوں کی حفاظت کرنے والے افواجِ پاکستان کے جری شہداء اور غازیوں کو عقیدت کے پھول پیش کیے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق، جرمنی کے دارالحکومت برلن میں مرکزی تقریب کا اہتمام پاکستان مسلم لیگ (ن) جرمنی کے جنرل سیکرٹری اور پی او ای ایف یورپ کے چیف آرگنائزر محمد انصر بٹ کی جانب سے کیا گیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے 6 ستمبر 1965ء کی تاریخی اور تزویراتی اہمیت پر روشنی ڈالی اور بھارتی جارحیت کے سامنے پاک افواج اور قوم کی بے مثال جرات اور استقامت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کل بھی اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑے تھے اور آج بھی ملک کے تمام ریاستی اداروں کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔

دوسری جانب، جرمنی کے صنعتی شہر ہیمبرگ میں پاکستان جرمن سوسائٹی کے نائب صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی جرمنی کے سیکرٹری اطلاعات فرید شاہ نے ایک الگ باوقار تقریب کا انعقاد کیا۔ اپنے خطاب میں فرید شاہ نے 1965ء کی جنگ کو قومی تاریخ کا ایک سدا بہار اور سنہری باب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معرکے نے قوم کے غیر متزلزل اتحاد کو ثابت کیا۔ انہوں نے عسکری و سیاسی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کی عظیم قربانیوں کو سلام پیش کیا۔

علاوہ ازیں، سینٹرل ملٹی کلچرل مسجد کے بانی صدر غضنفر الدین احمد کے زیراہتمام منعقدہ خصوصی تقریب میں شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے بالخصوص قرآنی خوانی اور دعائیں کی گئیں۔ غضنفر الدین احمد نے 1965ء کی جنگ کے دوران سابق صدر ایوب خان کے تاریخی قومی خطاب کا حوالہ دیا جس نے قوم میں دفاع کا بے مثال جذبہ بیدار کیا تھا۔ تقریب میں لاہور سے تعلق رکھنے والے معروف وی لاگر اور کالم نگار شاہ رخ محمود نے بھی شرکت کی اور 1965ء کے معرکے میں لاہور کے شہریوں کے تاریخی اور جری کردار کا احاطہ کیا۔

جرمنی میں منعقدہ ان تمام تقاریب کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ تارکینِ وطن اپنے دیس اور پاک سرزمین سے ہزاروں میل دور ہونے کے باوجود جذباتی، سیاسی اور دفاعی طور پر پاکستان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور افواجِ پاکستان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق، جبکہ دریائے سندھ میں کالاباغ اور تونسہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب

روزینہ اسماعیل, September 06,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

پنجاب کے زیادہ تر اہم دریاؤں میں پانی کی آمد و رفت اور بہاؤ اس وقت معمول کے مطابق ریکارڈ کیا جا رہا ہے، تاہم بالائی علاقوں میں بارشوں کے باعث دریائے سندھ میں دو مقامات پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے۔

پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پنجاب کے ترجمان کی جانب سے یکم اور 6 ستمبر کو جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، دریائے چناب، جہلم، راوی اور ستلج میں پانی کا بہاؤ بالکل نارمل ہے اور تمام تمام کنٹرول سٹرکچرز محفوظ ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیرہ غازی خان کی مختلف پہاڑی روڈ کوہیوں میں بھی فی الوقت پانی کی آمد اور بہاؤ معمول کے مطابق دیکھا جا رہا ہے۔

ترجمان پی ڈی ایم اے نے انکشاف کیا کہ دریائے سندھ میں کالاباغ اور تونسہ کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ کالاباغ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 72 ہزار کیوسک جبکہ تونسہ بیراج پر 3 لاکھ 6 ہزار کیوسک درج کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیالکوٹ اور نارووال کے قریب واقع برسات نالہ ڈیک (کنگرا کے مقام پر) بھی اس وقت نچلے درجے کی سیلابی کیفیت میں ہے۔ پانی کے ذخائر کی صورتحال کے مطابق تربیلا ڈیم اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق 100 فیصد جبکہ منگلا ڈیم 79 فیصد تک بھر چکا ہے۔

محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے کے ڈیٹا کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب کے بیشتر اضلاع بشمول لاہور، سرگودھا، شیخوپورہ، فیصل آباد، چکوال، راولپنڈی، حافظ آباد، جھنگ، سیالکوٹ، ساہیوال، قصور، گوجرانوالہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جوہر آباد، منڈی بہاؤالدین، گجرات، مری، نورپور تھل اور اٹک میں مون سون کی شدید بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے پنجاب، محمد سیف انور جپہ نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر سیلابی خطرے سے دوچار علاقوں میں فوری طور پر تمام سہولیات سے لیس فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں۔ ان کیمپس میں ممکنہ متاثرین کے لیے عارضی رہائش، پکا ہوا کھانا، پینے کا صاف پانی، ادویات، طبی ٹیمیں اور دیگر بنیادی ضروریات فراہم کی جا رہی ہیں۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موسم کی بدلتی صورتحال اور سیلابی خدشات کے پیشِ نظر مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ انہوں نے شہریوں کو خبردار کیا کہ وہ غیر ضروری طور پر دریاؤں، نہروں، برسات نالوں اور پانی کی گزرگاہوں پر سیر و تفریح یا پکنک سے سخت گریز کریں۔ خاص طور پر والدین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی سخت نگرانی کریں اور انہیں ہرگز ڈوبنے کے خطرے والی نہروں یا سیلابی نالوں میں نہانے کی اجازت نہ دیں۔ کسی بھی ہنگامی کیفیت میں ضلاعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 کی ہدایات پر فوری عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

یومِ دفاع و شہداءِ پاکستان: سی ڈی اے اور ایم سی آئی کا مسلح افواج اور شہداء کے اہل خانہ سے بھرپور یکجہتی اور عقیدت کا اظہار

منصور احمد,September 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد نے پوری پاکستانی قوم کے ساتھ مل کر 6 ستمبر ‘یومِ دفاع و شہداء’ کے تاریخی اور پروقار موقع پر پاکستان کی بہادر مسلح افواج، غازیوں اور شہداء کے لائقِ تحسین اہل خانہ کے ساتھ بھرپور عقیدت، احترام اور یکجہتی کا باضابطہ اظہار کیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ اور سی ڈی اے کی جانب سے اتوار کے روز جاری کردہ تفصیلی بیان کے مطابق، اس عظیم اور قابلِ فخر قومی دن کی مناسبت سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد بھر کو سبز و سفید قومی اور علامتی پرچموں سے سجا دیا گیا۔ شہر کی تمام اہم ترین شاہراہوں، چوراہوں، عوامی مقامات، قومی یادگاروں اور ریاستی عمارتوں—بالخصوص پارلیمنٹ ہاؤس—پر قومی پرچم پوری شان و شوکت کے ساتھ آویزاں کیے گئے، جس سے وفاقی دارالحکومت حب الوطنی، قومی یکجہتی اور شاندار قومی جذبوں کا مرکز بن گیا۔

سی ڈی اے اور ایم سی آئی نے اپنے مشترکہ پیغام میں کہا کہ یومِ دفاع محض ایک کیلنڈر کی تاریخ نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے شہداء کی یاد، ان کے عظیم ایثار پر تشکر اور تجدیدِ عہد کا ایک مقدس دن ہے۔ یہ دن ہمیں ان سرحدوں کے محافظوں کی غیر معمولی بہادری، جرات، اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے دی جانے والی بے مثال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اپنا آج ہمارے امن، وقار اور محفوظ کل پر قربان کر دیا۔

بیان میں شہداء کے سوگوار خاندانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہر شہید کے پیچھے ایک ایسا صابر خاندان ہے جس نے ملک و قوم کی خاطر ناقابلِ تصور جدائی اور نقصان برداشت کیا۔ کسی ماں باپ نے اپنا لختِ جگر کھویا، کسی بیوی نے سہاگ اور کسی بچے نے اپنے والد کا سایہ، مگر ان خاندانوں کا حوصلہ، صبر اور حب الوطنی پوری قوم کے لیے فخر، طاقت اور تحریک کا سرچشمہ ہے۔ قوم شہداء کے ان عظیم خاندانوں کے دکھ میں برابر کی شریک ہے اور ان کی احسان مند رہے گی۔

سی ڈی اے اور ایم سی آئی کی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہداء کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم سب مل کر ایک پُرامن، خوشحال، مضبوط، سرسبز اور متحد پاکستان کی تعمیر میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ شہری انتظامیہ نے واضح کیا کہ اسلام آباد پاکستان کے تمام محافظوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے اور ان کی یہ لازوال قربانیاں تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ زندہ و جاوید رہیں گی۔

نیپال میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ: وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پاکستان کی جانب سے 100 ٹن انسانی امداد کی ایمرجنسی کھیپ روانہ

کاشف عباسی , September 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر حکومتِ پاکستان نے حالیہ موصلادھار بارشوں، شدید سیلاب اور تباہ کن لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ دوست ملک نیپال کی امدادی و بحالی کی سرگرمیوں میں فوری معاونت کے لیے 100 ٹن سے زائد وزنی انسانی امدادی سامان کی بڑی کھیپ کھٹمنڈو روانہ کر دی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ اور وزارتِ خارجہ کی جانب سے اتوار کے روز جاری کردہ باضابطہ ہنگامی بیان کے مطابق، قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے کے اعلیٰ زیرِ اہتمام تیار کی گئی اس امدادی کھیپ کو خصوصی چارٹرڈ طیارے کے ذریعے اسلام آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو منتقل کیا گیا۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے امدادی سامان کی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اس ایمرجنسی ریلیف پیکج میں نیپال کے شدید متاثرہ علاقوں اور بے گھر ہونے والے لینڈ سلائیڈنگ و سیلاب متاثرین کے لیے واٹر پروف خیمے، گرم کمبل، فلور چٹائیاں، حفظانِ صحت کی ضروری کٹس، ایمرجنسی ادویات اور فرسٹ ایڈ کا ضروری سامان شامل کیا گیا ہے تاکہ متاثرین کی بنیادی ضروریات کو فوری طور پر پورا کیا جا سکے۔

اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امدادی سامان کی روانگی اور خصوصی چارٹرڈ فلائٹ کی منتقلی کے حوالے سے ایک وقار تقریب کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے حکومتِ پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر پاکستان میں تعیّنات نیپال کے سفیر، وزارتِ خارجہ، این ڈی ایم اے اور سول ایوی ایشن کے اعلیٰ ترین عسکری و سول حکام بھی موجود تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری اور حکام نے کہا کہ پاکستان اور نیپال کے درمیان گہرے دوستانہ اور تاریخی تعلقات قائم ہیں۔ مشکل اور آزمائش کی اس گھڑی میں 100 ٹن امدادی سامان کی فراہمی حکومت اور عوامِ پاکستان کی جانب سے نیپال کی حکومت اور اس کے مصیبت زدہ عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی، خیر سگالی اور انسانی ہمدردی کے غیر متزلزل عزم کا واضح ثبوت ہے۔

یومِ دفاعِ پاکستان پر وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ کا اہم پیغام؛ کسانوں، سائنسدانوں اور عسکری محافظوں کی مشترکہ محنت کو قومی مضبوطی کا ضامن قرار دیدیا

منصور احمد,September 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے یومِ دفاعِ پاکستان کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ 6 ستمبر کا تاریخی دن ہمیں یہ بنیادی سبق یاد دلاتا ہے کہ وطنِ عزیز کی دفاعی اور سیاسی حفاظت صرف جغرافیائی سرحدوں پر نبرد آزما ہونے تک محدود نہیں بلکہ یہ ملک کے ہر زرعی، معاشی اور انتظامی شعبے میں دیانت داری اور ذمہ داری کا تقاضا کرتی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق، وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ قومی پیغام میں وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ جن عظیم شہیدوں اور غازیوں نے وطن کی سلامتی کے لیے اپنا آج قربان کیا، ان کی لازوال جدوجہد ہی ہماری آنے والی نسلوں کے محفوظ، باوقار اور پرامن کل کی حتمی ضمانت ہے۔

رانا تنویر حسین نے ملک کو درپیش معاشی و غذائی درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی حقیقی خودمختاری کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ ہم عسکری دفاع کے ساتھ ساتھ اپنی بنیادی غذائی ضروریات میں بھی اپنے پاؤں پر مستقل بنیادوں پر کھڑے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی سیکیورٹی اور غذائی تحفظ ایک دوسرے سے گہرے جڑے ہوئے بنیادی قومی مفادات ہیں، جنہیں جدا نہیں کیا جا سکتا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے محنت کش کسان، زرعی سائنسدان، مزدور اور عسکری محافظ سب یکساں طور پر پاکستان کی دفاعی اور معاشی بنیادوں کو مضبوط بنانے میں اپنا تاریخی کردار ادا کر رہے ہیں۔ یومِ دفاع ہمیں اپنی تمام تر قومی صلاحیتوں اور قدرتی وسائل کو بروئے کار لا کر پاکستان کو مزید مضبوط اور خودکفیل بنانے کا درس دیتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جدید ترین دور میں قومی طاقت کا انحصار روایتی دفاع کے ساتھ ساتھ معاشی، زرعی، اور غذائی استحکام پر پنہاں ہے۔ موجودہ حکومت جہاں ایک طرف ملک کو خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے پرعزم ہے، وہاں دوسری طرف اسے زرعی طور پر مستحکم اور خودکفیل بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے یومِ دفاع پر پاکستان کی بہتری، خودکفالت اور قومی خدمت کا عزم بھی دہرایا۔

منشیات سازی اور اسمگلنگ کیس: مشہور مصری ٹی وی میزبان سارہ خلیفہ اور 11 دیگر افراد کو سزائے موت کا حکم

محمود احمد, September 06,2026

قاہرہ (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

مصر کے معروف سرکاری اخبار ’الاہرام‘ کے مطابق مصری عدالت نے ملک کی نامور اور معروف ٹیلی وژن اینکر سارہ خلیفہ اور ان کے 11 دیگر ساتھیوں کو منشیات کی خریدو فروخت اور سنگین جرائم سے متعلق الزامات ثابت ہونے پر باقاعدہ پھانسی (سزائے موت) کا حکم سنا دیا ہے۔

الاہرام کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق، سارہ خلیفہ اور ان کے دیگر مجرمانہ گروہ پر الزام تھا کہ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر منشیات کی تیاری میں استعمال ہونے والے کیمیکلز اور خام اجزاء کی غیر قانونی درآمد کی اور انہیں مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کا ایک منظم نیٹ ورک چلا رہے تھے۔ اس کے علاوہ ملزمان کے قبضے سے غیر قانونی آتشیں اسلحہ، جدید پسطول اور بھاری مقدار میں گولہ بارود بھی برآمد ہوا تھا۔

39 سالہ سارہ خلیفہ مصری میڈیا پر اپنے مقبول عام ٹی وی شو ’مشن امپاسبل‘ کی وجہ سے ملک گیر شہرت رکھتی ہیں، جس میں بنیادی طور پر سنسنی خیز جرائم اور ان کی تحقیقاتی رپورٹس پر بات کی جاتی تھی۔ سارہ خلیفہ اور ان کے مرکزی ساتھیوں نے عدالت کے سامنے اپنے اوپر عائد تمام سنگین الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے صحتِ جرم سے انکار کیا ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق اسی کیس میں شامل دیگر 9 ملزمان کو عمر قید (25 سال قیدِ با مشقت) کی سزا سنائی گئی ہے، جبکہ عدم ثبوت کی بنا پر 7 افراد کو مقدمے سے مکمل طور پر بری کر دیا گیا ہے۔ سارہ خلیفہ کے قانونی دفاعی وکیل نے میڈیا کو بتایا کہ وہ اعلیٰ عدالت میں اس سزائے موت کے خلاف فوری اپیل دائر کریں گے۔

واضح رہے کہ اس ہائی پروفائل کیس کے فیصلے کا ابتدائی اعلان گزشتہ ماہ کیا گیا تھا، تاہم مصری قانون کے تحت سزائے موت کی حتمی توثیق سے قبل تمام قانونی دستاویزات کو مصر کے گرینڈ مفتی کی شرعی و مذہبی رائے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ گرینڈ مفتی سے شرعی منظوری ملنے کے بعد اب عدالت نے سزا کی باضابطہ توثیق کر دی ہے۔

نئی دہلی میں 5 منزلہ ہاسٹل کی عمارت زمین بوس: درجنوں طلبہ ملبے تلے دب گئے، ایک ہلاک اور متعدد زخمی

کاشف عباسی , September 06,2026

نئی دہلی / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے جنوب مغربی علاقے ستیہ نکیتن میں اتوار کی دوپہر ایک خوفناک حادثہ پیش آیا ہے، جہاں دہلی یونیورسٹی کے قریب واقع ایک پانچ منزلہ رہائشی ہاسٹل کی عمارت اچانک زمین بوس ہو گئی۔ حادثے کے وقت عمارت میں درجنوں طلبہ اور مزدور موجود تھے، جن میں سے متعدد کے ملبے تلے دبے ہونے کا شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق یہ واقعہ اتوار کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر تقریباً 1:30 بجے پیش آیا۔ ‘ہاسٹل ڈیز’ نامی اس عمارت کے گرنے کے وقت اس میں اندازً 50 کے قریب افراد موجود تھے۔ چونکہ اتوار کے روز دہلی یونیورسٹی میں تعطیل تھی، اس لیے زیادہ تر طلبہ اپنے کمروں میں ہی موجود تھے۔

مقامی پولیس اور این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امدادی کارروائیوں کے دوران اب تک کم از کم 1 شخص کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 6 افراد کو شدید زخمی حالت میں ملبے سے نکال لیا گیا ہے، جن میں سے 2 کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ موقع پر موجود ایک مقامی رکنِ اسمبلی نے میڈیا کو بتایا کہ ملبے تلے محصور بعض طلبہ فون کالز کے ذریعے اپنی موجودگی اور مدد کے لیے رابطے کر رہے ہیں۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق عمارت کے گرنے کی بنیادی وجہ اس کے تہہ خانے میں جاری تعمیراتی اور کھدائی کا کام بنا۔ عمارت کے قریب موجود ایک دکاندار نے بھارتی خبر رساں ادارے ‘اے این آئی’ کو بتایا کہ عمارت کی آمدنی بڑھانے کے لیے لیز ہولڈر نے نیچے ستونوں کے پاس کھدائی کروائی تھی، جس سے بنیادیں کمزور ہو گئیں اور پوری عمارت بیٹھ گئی۔ حادثے کے نتیجے میں متصل واقع ایک اور عمارت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

دہلی کی وزیرِاعلیٰ ریکھا گپتا نے حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملبے میں پھنسے افراد کو بحفاظت نکالنے کے لیے ریسکیو ٹیمیں اور این ڈی آر ایف ہر ممکن کوششیں کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ احتیاطی تدابیر کے طور پر آس پاس کی دیگر تمام عمارتوں کو خالی کرا لیا گیا ہے۔

دوسری جانب نیشنل سٹوڈنٹس یونین آف انڈیا نے حادثے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات اور غفلت کے ذمہ دار بلڈنگ مالکان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق 40 سے 50 سال پرانی اس عمارت کے مالک اور ٹھیکیدار کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔

جنوب مغربی یمن میں حوثیوں اور حکومتی افواج کے درمیان خوفناک معرکہ آرائی: 140 سے زائد عسکری اہلکار ہلاک

محمود احمد, September 06,2026

تعز / عدن (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

یمن کے تزویراتی جنوب مغربی محاذوں پر ایران کے اتحادی حوثی جنگجوؤں اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومتی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی شدت میں ہولناک اضافہ ہو گیا ہے، جہاں ہفتے کی سہ پہر سے اتوار کی صبح کے درمیان ہونے والی خونریز لڑائی میں دونوں جانب سے 140 سے زائد فوجی اور عسکریت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق یمنی حکومت کے دو سینئر عسکری عہدیداروں نے تصدیق کی ہے کہ حوثیوں کے شدید میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں ان کی افواج کے کم از کم 84 اہلکار جاں بحق ہوئے ہیں۔ دوسری جانب حوثی تحریک (انصار اللہ) کے چار عسکری ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ اسی 24 گھنٹے کے عرصے کے دوران ان کے بھی 57 جنگجو مارے گئے ہیں۔

عسکری ماہرین کے مطابق بحیرہ احمر کے انتہائی اہم اور حساس داخلی راستے ‘آبنائے باب المندب’ اور اس سے ملحقہ ساحلی علاقوں پر مکمل سیکیورٹی اور ملٹری کنٹرول حاصل کرنے کے لیے جاری یہ جنگ گزشتہ دو ماہ کے دوران سب سے زیادہ مہلک اور خونی ثابت ہوئی ہے۔ یہ نیا خونریز مرحلہ 2022ء کے تاریخی جنگ بندی معاہدے کے حتمی طور پر ختم ہونے اور تعطل کا شکار ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی عسکریت پسندوں نے جمعرات کے روز ایک بڑے پیمانے پر جارحانہ عسکری آپریشن کا آغاز کیا تھا، جس کا بنیادی مقصد ‘موچا’ کی تاریخی و اہم بندرگاہ کے مواصلاتی و لوجسٹک رابطوں کو مکمل طور پر منقطع کرنا تھا۔ یہ بندرگاہ گزشتہ کئی ہفتوں سے مسلسل حملوں کی زد میں ہے اور حوثی فورسز آبنائے باب المندب کی جانب تیزی سے پیش قدمی کی کوشش کر رہی ہیں۔

مختلف عسکری اور طبی ذرائع کے فراہم کردہ مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق جمعرات سے شروع ہونے والے اس تازہ ترین معرکے میں اب تک مجموعی طور پر 300 سے زائد فوجی اور کئی عام شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھ ہیں، جبکہ درجنوں زخمی ہیں۔

خلیجِ فارس میں ‘آبنائے ہرمز’ کے ارد گرد بڑھتے ہوئے شدید جنگی خطرات اور ممکنہ بندش کے پیشِ نظر، دنیا میں خام تیل کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک سعودی عرب کی بحری برآمدات اور عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ‘آبنائے باب المندب’ کی تزویراتی اور معاشی اہمیت میں ریکارڈ اضافہ ہو چکا ہے۔

یاد رہے کہ خود کو ‘انصار اللہ’ کہلوانے والا حوثی گروپ اس وقت شمالی یمن، دارالحکومت صنعاء اور بحیرہ احمر کے مغربی ساحلی پٹی کے ایک بڑے رقبے پر قابض ہے، جبکہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ یمنی صدارتی لیڈرشپ کونسل ملک کے مشرقی علاقوں، جنوبی ساحل اور اہم بندرگاہی شہر ‘عدن’ پر کنٹرول رکھتی ہے۔

خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے تجارتی خسارے میں تاریخی کمی: درآمدات میں 44 فیصد کی ڈرامائی کیپنگ

منصور احمد, September 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

پاکستان کا مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کے ساتھ تجارتی خسارہ رواں مالی سال 2026-27 کے پہلے ماہ جولائی میں ڈرامائی اور نمایاں حد تک کم ہو گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ خلیجی ممالک سے پٹرولیم، گیس اور توانائی کی درآمدات میں ہونی والی بڑی کمی اور برآمدات میں معمولی بہتری ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعداد و شمار کے مطابق، جولائی 2026 کے دوران مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے لیے پاکستان کی مجموعی برآمدات 5.6 فیصد اضافے کے ساتھ 271.60 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں، جو گزشتہ مالی سال کے اسی ماہ (جولائی 2025) میں 257.16 ملین ڈالر تھیں۔ دوسری جانب، خطے کے ممالک سے پاکستان کی برآمدات (درآمدی حجم) میں 44.3 فیصد کی نمایاں اور حیران کن کمی دیکھی گئی اور یہ حجم 1.578 ارب ڈالر سے گھٹ کر صرف 879.98 ملین ڈالر پر آ گیا۔

درآمدات میں اس بڑی سیکیورنگ کی بدولت جولائی میں پاکستان کا مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ مجموعی تجارتی خسارہ سکڑ کر تقریباً 608.4 ملین ڈالر رہ گیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 1.32 ارب ڈالر سے زائد کا ایک بھاری تجارتی بوجھ تھا۔

اسٹیٹ بینک کے جزوی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات ، سعودی عرب اور اردن کے لیے پاکستانی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ قطر، کویت اور بحرین کے لیے پاکستانی برآمدی حجم میں کچھ کمی آئی۔ دوسری جانب درآمدی محاذ پر سب سے بڑا جھٹکا توانائی کی خرید کو لگا؛ بالخصوص متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر سے پٹرولیم مصنوعات اور مائع قدرتی گیس کی آمد میں شدید کمی دیکھی گئی، تاہم بحرین اور اردن سے معمولی اضافہ سامنے آیا۔

پاکستان اپنی قومی اور صنعتی توانائی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے خلیجی ممالک پر بری طرح انحصار کرتا ہے جہاں سے تیل، ایل این جی اور دیگر خام کیمیکلز درآمد کیے جاتے ہیں۔ گزشتہ مالی سال 2025-26 کے کل اعداد و شمار بھی بتاتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ سے پاکستان کی کل درآمدات 4 فیصد کمی کے ساتھ 16.413 ارب ڈالر رہی تھیں۔

توانائی کے معاشی و تکنیکی ماہر فرحان محمود نے اس پیش رفت کا تجزیہ کرتے ہوئے بتایا کہ خلیجی ممالک بالخصوص قطر سے گیس کی درآمد میں اچانک اور نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان ماضی میں قطر سے روزانہ تقریباً 700 ملین مکعب فٹ گیس درآمد کرتا تھا، جو کہ سپلائی چین کے درپیش مسائل اور علاقائی دباؤ کے باعث اب ڈرامائی طور پر کم ہو کر صرف 450 ملین مکعب فٹ پر آ گئی ہے۔

معاشی ماہرین اور انرجی اینالسٹس کا ماننا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید جغرافیائی و سیاسی کشیدگی ، سمندری راستوں کی ناکہ بندی، اور عالمی مارکیٹ میں توانائی کی قیمتوں کا اتار چڑھاؤ براہِ راست پاکستان کے تجارتی خسارے اور درآمدی بل پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

جنوبی لبنان میں اسرائیلی ایئر فورس کی شدید بمباری: 4 افراد جاں بحق، خواتین اور بچوں سمیت 20 زخمی

محمود احمد, September 06,2026

بیروت (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فضائیہ کے بمبار طیاروں نے ہولناک بمباری کی ہے، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 4 افراد ہلاک جبکہ 20 سے زائد شہری شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

لبنانی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں کا بنیادی نشانہ جنوبی لبنان کے تاریخی شہر نباتیہ اور عرب سلیم کے رہائشی علاقے بنے۔ وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق نباتیہ الفوقہ میں فضائی بمباری کے نتیجے میں دو افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوئے جبکہ عرب سلیم کے قریب ایک مکان پر حملے سے دو خواتین ہلاک ہو گئیں۔ زخمی ہونے والے 20 سے زائد افراد میں تین کمسن بچے اور کئی خواتین شامل ہیں جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

دوسری جانب، اسرائیلی فوج کے ترجمان نے فضائی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ کارروائی حزب اللہ کی جانب سے سرحد پار اسرائیلی عسکری اہلکاروں اور سیکیورٹی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے دو ہتھیار بردار ڈرون حملوں کا براہِ راست جواب ہے۔ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جنوبی لبنان میں بنیادی طور پر حزب اللہ کے عسکری مراکز اور زیرِ زمین ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

تاہم، لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے کارروائی سے قبل عرب سلیم کی ایک مخصوص عمارت کے آس پاس کے رہائشیوں کو ہنگامی بنیادوں پر علاقہ خالی کرنے کی تنبیہ جاری کی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ حزب اللہ اس عمارت کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی جنگی طیاروں نے انتباہی نوٹس میں بتائی گئی عمارت کے بجائے اس کے متصل واقع ایک اور رہائشی گھر کو بم سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہاں موجود دو بے گناہ خواتین جاں بحق ہو گئیں، جبکہ بعد ازاں وارننگ والی عمارت کو بھی تباہ کر دیا گیا۔

لبنانی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ اس بربرانہ بمباری کے دوران نباتیہ شہر میں واقع تاریخی ‘غنڈور ہسپتال’ کے ایک بڑے حصے کو بھی شدید نقصان پہنچا، اگرچہ یہ ہسپتال گزشتہ کئی برسوں سے غیر فعال تھا۔ علاوہ ازیں، نباتیہ میں ہونے والے فضائی حملوں کے باعث متعدد قدیم اور تاریخی عمارتوں سمیت سرکاری مالیاتی، ریونیو اور زرعی دفاتر کی عمارتیں تباہ ہو گئیں اور شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان یہ تازہ ترین اور خطرناک فوجی تصادم ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرحد کے دونوں اطراف کشیدگی عروج پر ہے اور فریقین کی جانب سے سابقہ سرحد پار سیکیورٹی معاہدوں اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات مسلسل عائد کیے جا رہے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں جنگی کارروائیوں کے بعد امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس ابراہم لنکن’ 5 روزہ قیام کے بعد تھائی لینڈ سے روانہ

محمود احمد, September 06,2026

بنکاک / واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

امریکی بحریہ کا جوہری توانائی سے چلنے والا دیوہیکل طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس ابراہم لنکن’ پانچ دنوں کے مسلسل قیام، آرام اور ضروری لاجسٹک سہولیات کی فراہمی کے بعد اتوار کے روز تھائی لینڈ سے واپس روانہ ہو گیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق، یو ایس ایس ابراہم لنکن بدھ کے روز تھائی لینڈ کے مشرقی ساحل پر واقع تزویراتی لیم چابانگ بندرگاہ پر پہنچا تھا، جہاں وہ عالمی سیاحتی مقام پٹایا کے سمندری ساحل کے قریب لنگر انداز رہا۔ اس اہم ساحلی قیام کا بنیادی مقصد جہاز پر موجود تقریباً 5 ہزار امریکی عسکری اہلکاروں کو مسلسل طویل جنگی خدمات کے بعد آرام، تفریح اور لاجسٹک سسٹمز کو بہتر بنانے کا موقع فراہم کرنا تھا۔

یو ایس ایس ابراہم لنکن کے کمانڈر کیپٹن ڈین کیلر نے تھائی لینڈ کی حکومت اور عوام کی جانب سے زبردست میزبانی اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تھائی لینڈ امریکی بحریہ کے لیے جنوب مشرقی ایشیاء میں ایک انتہائی اہم تزویراتی شراکت دار ہے، اور یہ حالیہ دورہ کسی مشترکہ فوجی مشق کے بجائے محض عملے کی بحالی اور ضروری لاجسٹک سہولیات کے حصول کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔

یہ سپر کیریئر جہاز تقریباً 286 دن کے تاریخی اور طویل ترین عرصے تک مسلسل کھلے سمندر میں رہنے کے بعد تھائی لینڈ پہنچا تھا۔ اس ریکارڈ سکیورٹی ڈیوٹی کے دوران ابراہم لنکن نے مشرقِ وسطیٰ کی سنگین صورتحال اور ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی کارروائیوں، فضائی حملوں اور سمندری ناکہ بندی سے متعلق اہم جنگی مشنز میں بنیادی اور مرکزی کردار ادا کیا ہے۔

عام حالات میں امریکی بحریہ کے طیارہ بردار بحری جہازوں کی معمول کی سمندری تعیناتی چھ سے نو ماہ پر محیط ہوتی ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں جنگی حالت اور کشیدگی کی بنا پر اس کی مدت میں ڈرامائی اضافہ کیا گیا تھا، جس کے باعث اسے دہائیوں کی طویل ترین مسلسل سمندری تعیناتیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب، اتنی طویل جنگی تعیناتی کے دوران جہاز پر موجود ہزاروں اہلکاروں کو درپیش سنگین مسائل اور نفسیاتی دباؤ کا معاملہ بھی امریکی ایوانوں میں گونج رہا ہے۔ امریکی کانگریس کے ارکان اور آزاد ذرائع نے جہاز پر خوراک کی کمی، صفائی ستھرائی کے ناکافی انتظامات اور مسلسل جنگی تناؤ کے باعث فوجیوں کی شدید ذہنی و نفسیاتی صحت پر گہرے تشویشناک اثرات کا اظہار کیا ہے۔ تھائی لینڈ میں مختصر وقفے کے بعد اب اس بحری جہاز اور اس کے عملے کو بالآخر وطن واپسی اور باقاعدہ بحالی کے مرحلے کا انتظار ہے۔

پنجاب کو بین الاقوامی سرحد سے زیادہ ہمسایہ صوبوں سے خطرہ ہے: وزیراعلیٰ مریم نواز کا انٹیلی جنس فیوژن سنٹر کے افتتاح پر بڑا اور متنازع بیانیہ

منصور احمد, September 05,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے داخلی سیکیورٹی اور دہشت گردی کے تناظر میں ایک انتہائی اہم اور بحث طلب بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کو بیرونی یا ہمسایہ ممالک کی نسبت اپنے ہی ہمسایہ صوبوں کی سرحدی حدود سے دہشت گردی اور امن و امان کا زیادہ بڑا خطرہ لاحق ہے۔

سنیچر کے روز صوبائی دارالحکومت لاہور میں جدید ترین ’پرووینشل انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سنٹر پنجاب‘ کی باضابطہ افتتاح تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کی سب سے بڑی ترجیح یہ ہے کہ پنجاب کے عوام کو مکمل تحفظ محسوس ہو اور وہ ایک محفوظ اور پائیدار ماحول میں زندگی بسر کریں۔

تقریب کے دوران سیکیورٹی چیلنجز پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے ٹرائی بارڈر علاقوں کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ پنجاب کو دہشت گردی اور سیکیورٹی تھریٹ کا جتنا سامنا اپنے پڑوسی ممالک سے ہے، اس سے کہیں زیادہ خطرہ ہمسایہ صوبوں سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہی سرحدی راستوں کو استعمال کرتے ہوئے عسکریت پسند اور دہشت گرد پنجاب کی حدود میں داخل ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ پنجاب کی جغرافیائی سرحدیں سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے ساتھ ساتھ مشرق میں بھارت سے ملتی ہیں۔

اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ پنجاب پر ہمیشہ سب کی نظریں ہوتی ہیں، تاہم تمام تر درپیش چیلنجز کے باوجود پنجاب ایک محفوظ صوبہ بن چکا ہے جہاں سیکیورٹی فورسز کی استعداد کار بڑھانے کے لیے جدید ترین مصنوعی ذہانت اور اربوں روپے کے ٹیکنالوجی پراجیکٹس پر کام کیا گیا ہے۔

انہوں نے ماضی کا موازنہ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ جب انہوں نے وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالا تو یہ تلخ حقیقت سامنے آئی کہ امن قائم کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں کے مقابلے میں شدت پسندوں کے پاس زیادہ جدید ٹیکنالوجی، ڈیوائسز اور نائٹ وژن گلاسز موجود ہوتے تھے اور وہ انتہائی باقاعدہ منصوبہ بندی سے حملے کرتے تھے۔ تاہم اب حکومت نے سیکیورٹی اداروں کو جدید ترین نظام، ڈرونز اور تھرمل کیمروں سے لیس کر دیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ شدت پسندوں کی جانب سے سی سی ٹی وی کیمروں کو نشانہ بنانے کی پالیسی کے پیش نظر اب کیمروں کی بلٹ پروفنگ کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پولیس اور لاء انفورسمنٹ ایجنسیز کی سرحدی چیک پوسٹوں کی کایا پلٹ دی گئی ہے؛ ماضی کی مٹی کی بوریوں کی عارضی دیواروں کی جگہ اب اونچی اور محفوظ ترین سیمنٹڈ کنکریٹ والز اور سیف رومز بنا دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی اچانک دہشت گردانہ حملے کی صورت میں اہلکار اپنی حفاظت یقینی بناتے ہوئے موثر جواب دے سکیں۔

پاک چین سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ: بیجنگ کی پیکنگ یونیورسٹی میں دو روزہ بین الاقوامی علمی سیمینار کا انعقاد

منصور احمد, September 05,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

اسلام آباد اور بیجنگ کے درمیان قائم لازوال اور تزویراتی سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے تاریخی اور پرمسرت موقع پر چین کے دارالحکومت بیجنگ کی قدیم و معروف پیکنگ یونیورسٹی میں دو روزہ بین الاقوامی علمی و تحقیقی سیمینار کا پروقار آغاز ہو گیا ہے۔ اس اعلیٰ سطحی کانفرنس کا بنیادی مقصد گزشتہ ساڑھے سات دہائیوں پر محیط ہمہ جہت شراکت داری کا احاطہ کرنا اور مستقبل کے تقاضوں کے مطابق دوطرفہ تعلقات کو مزید پائیدار اور مستحکم بنانا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی اور چینی ذرائع ابلاغ کی تفصیلی رپورٹس کے مطابق “ورثہ، جدت اور مشترکہ کامیابی” کے خصوصی موضوع کے تحت منعقد ہونے والے اس سیمینار کی میزبانی پیکنگ یونیورسٹی کے مرکز برائے مطالعاتِ پاکستان اور دیگر اعلیٰ چینی و پاکستانی فکری و تحقیقی اداروں نے مشترکہ طور پر کی ہے۔ سیمینار میں دونوں ممالک کے نامور ماہرین، پالیسی سازوں، سفارت کاروں اور تعلیمی شخصیات نے شرکت کر کے پاک چین لازوال دوستی کے 75 سالہ تاریخی سفر کے تمام سیاسی، معاشی اور دفاعی پہلوؤں کا تفصیلی احاطہ کیا ہے، جبکہ بدلتے ہوئے عالمی تناظر میں باہمی عملی تعاون کو مزید وسعت دینے کی حکمتِ عملی پر گہرا غور و خوض کیا جا رہا ہے۔

سیمینار کی مختلف علمی نشستوں کے دوران شرکا نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے اور جدید ترین فیز کے تحت زرعی اصلاحات و جدید کاری، سبز ترقی، ماحولیاتی پائیداری، صنعتی زونز و پارکس کے قیام، تیسرے فریق کے ساتھ مشترکہ مارکیٹنگ اور ہمہ گیر صنعتی تعاون جیسے اہم شعبوں میں نئی شراکت داریوں کے امکانات پر سیر حاصل گفتگو کی۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ سی پیک کا اگلا مرحلہ دونوں ممالک کے معاشی و صنعتی افق کو نئی بلندیوں پر لے جانے اور علاقائی تجارتی رابطوں کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

علاوہ ازیں، موجودہ پیچیدہ علاقائی اور عالمی جیو پولیٹیکل صورتحال، بحرانوں اور ابھرتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں اسلام آباد اور بیجنگ کے درمیان اعلیٰ ترین تزویراتی اعتماد کو برقرار رکھنے اور باہمی مفادات کے تحفظ کے لیے یکجہتی پر زور دیا گیا۔ سیمینار میں تعلیم، زبان، ادب، آرٹ اور ثقافت کے تبادلوں کے ذریعے عوامی روابط کو مزید گہرا بنانے کے راستوں کی نشان دہی بھی کی گئی۔

عصری تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، سیمینار میں مصنوعی ذہانت بگ ڈیٹا، سائبر ٹیکنالوجی اور جدید سائنسی علوم کے اس دور میں دونوں دوست ممالک کے درمیان تعلیمی و علمی اداروں کے ناطوں کو بالکل نئی جدید جہت دینے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ دونوں اقوام اس جدید تکنیکی انقلاب کے ثمرات سے یکساں طور پر مستفید ہو سکیں۔

یومِ دفاع و شہداء کے موقع پر افواجِ پاکستان کا ملک کی سلامتی، خودمختاری اور بقا کے لیے ہر قربانی دینے کے عزم کا اعادہ

منصور احمد, September 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

دفاعِ وطن، بقائے وطن اور پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ملک کی مسلح افواج ہر لمحہ اور ہر آن مکمل تیار ہیں۔ یومِ دفاع و شہداء کے تاریخی موقع پر افواجِ پاکستان نے ملک کی سلامتی، خودمختاری اور بقا کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق افواجِ پاکستان کے افسران اور جوانوں نے اپنے خصوصی اور جذباتی پغامات میں کہا ہے کہ پاک فوج کا ہر ایک جوان وطنِ عزیز کا حقیقی محافظ ہے اور ہم اس کی بقا اور سلامتی کے سچے امین ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ اس پاک سرزمین کی سرحدوں کی نگہبانی کے ساتھ ساتھ ملک کے حال اور روشن مستقبل کے خیرخواہ بھی ہیں۔

افواجِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی دشمن نے اس پاک دھرتی کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا، پاک افواج کے غازیوں اور شہیدوں نے سینہ سپر ہو کر ہمیشہ پاکستان کی حفاظت اور سلامتی کو سب سے مقدم رکھا ہے۔ وطن سے عشق کے جذبے کے تحت پاک فوج نے ہر آزمائش میں اپنی قومی ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھایا ہے اور ایک پاکستانی ہونے پر ہمیشہ دل سے فخر کیا ہے۔

مسلح افواج کے ترجمانوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاک افواج اور ملک کی غیرت مند عوام اس دھرتی کے خوابوں اور قوم کی امیدوں کو باہم متحد ہو کر آگے بڑھائیں گے۔ 6 ستمبر یومِ دفاع کے موقع پر وطن کے ان بے باک محافظوں نے مسلسل محنت، لگن اور مکمل اتحاد کے ساتھ پاکستان کو اس کی حقیقی منزلِ مقصود تک پہنچانے کے پختہ عزم کا اعادہ بھی کیا ہے۔