مصنوعی ذہانت کو محفوظ، منصفانہ اور اخلاقی اصولوں کے ہم آہنگ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے؛ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا افتتاحی اجلاس سے خطاب

محمود احمد, JULY 06,2026

جنیوا (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

سوئٹزرلینڈ کے خوبصورت اور تزویراتی شہر جنیوا میں پہلے دو روزہ عالمی سطح کے ’گلوبل اے آئی گورننس ڈائیلاگ‘ (مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے مکالمے) کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے۔ چینی میڈیا گروپ کے مطابق، اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس تاریخی اور مقتدر افتتاحی اجلاس سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ گلوبل اے آئی گورننس کے موضوع پر یہ دنیا کا پہلا ایسا مقتدر مکالمہ ہے جس میں بلا تفریق دنیا کے ہر چھوٹے بڑے ملک کو یکساں شرکت اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا سنہری موقع ملا ہے۔

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ اب یہ انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے کہ عالمی سطح پر ممالک کی اس شرکت کو فوری طور پر عملی اور ٹھوس اقدامات میں تبدیل کیا جائے، تاکہ ابھرتی ہوئی جدید ترین ٹیکنالوجی ’مصنوعی ذہانت‘ (اے آئی) کو عالمی سطح پر زیادہ محفوظ، زیادہ منصفانہ، زیادہ قابلِ رسائی اور مروجہ اخلاقی اصولوں سے مکمل طور پر ہم آہنگ بنایا جا سکے۔ اس منفرد اور تزویراتی دو روزہ بین الاقوامی اجلاس میں دنیا بھر سے تقریباً 1500 سے زائد مقتدر نمائندے، ٹیکنالوجی کے ماہرین اور پالیسی ساز اے آئی گورننس سے متعلق درپیش مختلف چیلنجز اور اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ جنیوا میں جاری اس اہم ترین عالمی مکالمے کا باقاعدہ انعقاد اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) کی جانب سے سال 2025ء میں کثرتِ رائے سے منظور کی گئی ایک تاریخی قرارداد کے مقتدر تحت کیا گیا ہے۔ اس اہم ترین قرار داد کا بنیادی اور بنیادی تزویراتی مقصد اقوامِ متحدہ کے تمام 193 رکن ممالک کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا ہے تاکہ مستقبل میں اے آئی گورننس کے لیے ایک جامع، مربوط اور متفقہ عالمی لائحہ عمل کی تشکیل پر بامقصد بات چیت کا موقع فراہم کیا جا سکے۔

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا ایکشن؛ بلوچستان اور پنجاب میں غیرملکی امداد سے جاری منصوبوں میں تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار

منصور احمد, JULY 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کی ذیلی کمیٹی نے بلوچستان اور پنجاب میں غیرملکی امداد سے جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں میں غیرمعمولی تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام منصوبوں کی بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنانے اور تاخیر کے باعث لاگت میں ہونے والے ہولناک اضافے کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لینے کی سخت ہدایت کی ہے۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، ذیلی کمیٹی کا ایک اہم اجلاس پیر کے روز اسلام آباد میں سینیٹر سید وقار مہدی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں پنجاب اور بلوچستان میں غیرملکی مالیاتی معاونت سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی اور سرسری جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران بلوچستان کے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ (پی اینڈ ڈی) کے اعلیٰ حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں غیرملکی امداد کی بدولت 11 مختلف اہم شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ انہوں نے مقتدر اراکین کو آگاہ کیا کہ سال 2015ء سے لے کر اب تک غیرملکی معاونت سے مجموعی طور پر 45 بڑے منصوبے شروع کیے گئے، جن میں سے اب تک صرف 14 مکمل ہو سکے ہیں جبکہ باقی ماندہ منصوبے تاحال مختلف تعطل اور مراحل کا شکار ہیں۔ سینیٹر سید وقار مہدی نے حکام سے استفسار کیا کہ ان اہم ترقیاتی منصوبوں میں اتنی طویل تاخیر کی بنیادی اور اصل وجوہات کیا ہیں؟ جس پر محکمہ پی اینڈ ڈی کے حکام نے بتایا کہ منصوبوں میں تاخیر کی پانچ بڑی وجوہات ہیں، جن میں بعض اوقات ڈونر ایجنسیوں سے متعلق پیچیدہ معاملات بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس موقع پر سینیٹر روبینہ خالد نے سخت سوال اٹھایا کہ کیا حکام کا مطلب یہ ہے کہ عالمی بینک (ورلڈ بینک) کی جانب سے منصوبوں میں تاخیر کی جاتی ہے؟ انہوں نے اپنے ذاتی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) میں ان کا تجربہ یہ رہا ہے کہ عالمی بینک کے مالی تعاون سے چلنے والے منصوبوں میں کبھی بھی کسی قسم کی تاخیر کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

بلوچستان کے ایڈیشنل سیکرٹری پلاننگ نے معاملے کی مقتدر وضاحت کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ اصل مسئلہ بیرونی ڈونر ایجنسیوں کا نہیں بلکہ خود ملکی سرکاری اداروں کی جانب سے خریداری (پروکیورمنٹ) کا عمل بروقت مکمل نہ ہونے کا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غیرملکی امداد سے چلنے والے منصوبوں میں بین الاقوامی سخت قواعد و ضوابط کے مطابق پروکیورمنٹ کا عمل درکار ہوتا ہے، جسے ہمارے متعلقہ محکمے اکثر مقررہ وقت میں مکمل کرنے سے قاصر رہتے ہیں، جس کے باعث پورے منصوبے تاخیر کی نذر ہو جاتے ہیں۔ سینیٹر سید وقار مہدی نے جب منصوبوں میں تاخیر کے باعث لاگت میں ہونے والے اضافے کا پوچھا تو حکام نے ایک حیران کن مثال دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں محض 24 کلومیٹر طویل ایک سڑک کے منصوبے کی ابتدائی لاگت 54 کروڑ روپے طے کی گئی تھی، جو محکموں کی سستی اور تاخیر کے باعث اب بڑھ کر 2 ارب روپے سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ ذیلی کمیٹی نے اس غیرمعمولی مالیاتی نقصان اور لاگت میں اضافے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو غیرملکی امداد سے جاری تمام منصوبوں پر عمل درآمد کی رفتار کو فوری بہتر بنانے، پروکیورمنٹ کے پورے نظام کو فول پروف و موثر بنانے اور عوامی وسائل کے مزید ضیاع کی روک تھام کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات اٹھانے کا مقتدر حکم جاری کیا۔

پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور پنجاب و خیبر پختونخوا کے نشیبی علاقے زیرِ آب آنے کا خدشہ؛ بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے مرطوب ہوائیں بالائی علاقوں میں داخل

کاشف عباسی , JULY 06,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں مون سون بارشوں کے تناظر میں ایک ہنگامی انتباہ جاری کیا ہے، جس کے مطابق پیر کی رات اور منگل کے روز متوقع موسلادھار بارشوں کے باعث بالائی خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے حساس پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا شدید خدشہ ہے۔ مقتدر الرٹ کے مطابق، ان شدید بارشوں کے نتیجے میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، سیالکوٹ، نارووال، گوجرانوالہ، لاہور اور فیصل آباد کے نشیبی و شہری علاقے زیرِ آب (اربن فلڈنگ) آ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ تیز آندھی، جھکڑ چلنے اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات خصوصاً سولر پینلز، بجلی کے کھمبوں اور بل بورڈز کو شدید نقصان پہنچنے کا بھی اندیشہ ہے۔

محکمہ موسمیات کے ماہرین کے مطابق، موجودہ موسمی صورتحال کے پیشِ نظر بحیرہ عرب سے نم آلود اور مرطوب ہوائیں مسلسل ملک کے بالائی علاقوں کا رخ کر رہی ہیں، جبکہ خلیجِ بنگال سے بھی مرطوب ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ آج رات سے شمال مشرقی علاقوں میں داخل ہونے کا واضح امکان ہے۔ اس کے ساتھ ہی مغربی ہواؤں کی ایک لہر ملک کے بالائی حصوں پر پہلے سے موجود ہے، جو کل سے وسطی علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر حصوں میں موسم شدید مرطوب رہنے کی توقع ہے، تاہم کشمیر، بالائی خیبرپختونخوا، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خطہ پوٹھوہار اور جنوب مشرقی سندھ میں چند مقامات پر تیز ہواؤں، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے، جبکہ اس دوران چند مقامات پر موسلادھار بارش اور ژالہ باری کی بھی پیشگوئی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق کل منگل کے روز کشمیر، خیبر پختونخوا، پنجاب، اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں کہیں کہیں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بادل برسیں گے، جبکہ ملک کے دیگر علاقوں میں موسم گرم اور حبس زدہ رہے گا، تاہم جنوبی اضلاع میں دن کے اوقات میں مقتدر حد تک شدید گرمی پڑے گی۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہا، تاہم شمال مشرقی پنجاب، کشمیر اور بالائی خیبر پختونخوا میں چند مقامات پر بارش ریکارڈ کی گئی۔ سب سے زیادہ بارش پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں 27، سیالکوٹ ایئرپورٹ پر 22، دیر میں 22، کاکول میں 16، پٹن میں 15 اور مظفر آباد سٹی میں 14 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ پیر کے روز ملک میں سب سے زیادہ درجہ حرارت سبی اور دادو میں 48 ڈگری سینٹی گریڈ، جبکہ جیکب آباد، نوکنڈی اور دالبندین میں 47 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا بڑا انقلابی قدم؛ پورٹل اور موبائل ایپ ’انویسٹ پاک‘ کا باضابطہ آغاز

کاشف عباسی , JULY 06,026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے پیر کے روز ایک خصوصی ویب پورٹل اور موبائل ایپلی کیشن ایکو سسٹم ’’انویسٹ پاک‘‘ کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ اس جدید ترین ڈیجیٹل پورٹل کو حکومتِ پاکستان کے تمسکات (سرکاری سیکیورٹیز) میں مکمل طور پر ڈیجیٹل انداز میں سرمایہ کاری کے لیے ریٹیل (انفرادی) اور کارپوریٹ صارفین کی ضروریات کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ پورٹل کے تزویراتی آغاز کے ساتھ ہی اسٹیٹ بینک نے ایک جامع ملک گیر میڈیا مہم کا بھی آغاز کیا ہے تاکہ ریاستی ڈیٹ مارکیٹ میں خوردہ صارفین کی وسیع تر شرکت کی حوصلہ افزائی کی جا سکے اور اس حوالے سے عوامی آگاہی کو بڑھایا جائے۔ اسٹیٹ بینک کے کراچی دفتر میں منعقدہ اس باوقار افتتاحی تقریب کی میزبانی گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کی جبکہ تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب تھے۔

افتتاحی تقریب میں اسٹیٹ بینک کی مقتدر سینئر قیادت، ملک بھر کے بینکوں کے صدور، ممتاز کارپوریٹ اداروں، سرمایہ کار کمپنیوں، میوچل فنڈز کے سربراہان اور بینکاری و مالیاتی صنعت کی نمایاں شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے وزیراعظم کے ڈیجیٹل لحاظ سے فعال اور مالی شمولیت پر مبنی معیشت کے وژن کو تیزی سے آگے بڑھانے کے لیے ٹیکنالوجی کے فروغ میں اسٹیٹ بینک کے سرگرم اور تزویراتی کردار کو بے حد سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ’انویسٹ پاک‘ پاکستان میں سرمایہ کاری کے مقتدر نظام کو جمہوری بنانے کی سمت میں ایک فیصلہ کن اقدام ہے جس کے ذریعے عام شہریوں، خصوصاً نوجوانوں، کارپوریٹ اور دیگر اداروں کو محفوظ ترین ریاستی سرمایہ کاری کے مواقع تک براہِ راست ڈیجیٹل رسائی فراہم کی گئی ہے۔ اس اقدام سے باضابطہ مالیاتی شعبے میں عوام کی شرکت زیادہ آسان، زیادہ شمولیتی اور معاشرے کے ہر طبقے کے لیے قابلِ رسائی ہو جائے گی۔ نجی شعبے کو قرض دینے پر اس اقدام کے مثبت اثرات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھنے سے بینکوں کو اپنی بنیادی ذمہ داری یعنی نجی شعبے کو قرضے دینے پر توجہ مرکوز کرنے اور پیداواری معاشی سرگرمیوں کی اعانت کرنے میں بھرپور مدد ملے گی۔

اپنے استقبالیہ خطاب میں گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ ’انویسٹ پاک‘ پاکستان کے مالیاتی منظرنامے کے ارتقاء میں ایک تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پلیٹ فارم اسٹیٹ بینک کے سٹریٹجک وژن 2028ء کے تحت ہر شخص تک مالی خدمات کو آسان، پائیدار اور ڈیجیٹل طریقے سے پہنچانے کے مقتدر عزم کی عکاس ہے۔ گورنر نے انویسٹ پاک کو محض ایک ٹیکنالوجی پلیٹ فارم نہیں بلکہ ایک دیرینہ خواب کی تعبیر قرار دیا جس کا مقصد سرکاری تمسکات کی ایک ایسی مارکیٹ کا قیام ہے جو جامع، موثر اور ہر چھوٹے بڑے سرمایہ کار کے لیے قابلِ رسائی ہو۔ انہوں نے کہا کہ انویسٹ پاک کا آغاز پاکستان بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے ڈیجیٹل رسائی اور انہیں مالی طور پر بااختیار بنانے کے ایک نئے دور کا نقطہ آغاز ثابت ہوگا۔ ملک گیر میڈیا مہم کے حوالے سے گورنر نے کہا کہ صرف ٹیکنالوجی سے رویوں میں تبدیلی نہیں آتی، بلکہ آگاہی اس تبدیلی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک پرنٹ میڈیا، سوشل میڈیا اور ایف ایم ریڈیو کے ذریعے ایک مربوط آگاہی مہم چلائے گا تاکہ سرکاری تمسکات میں سرمایہ کاری پر بات چیت گھر گھر میں ہونے لگے۔

گورنر نے اعادہ کیا کہ اسٹیٹ بینک خودکاریت، شفافیت اور بہترین بین الاقوامی روایات کو اپنا کر مارکیٹ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے عزم پر سختی سے قائم رہے گا۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ انویسٹ پاک کو ایک مشترکہ قومی اقدام کے طور پر اپنائیں۔ توقع ہے کہ اس پلیٹ فارم سے روایتی کاغذی کارروائی میں نمایاں کمی آئے گی، شفافیت میں اضافہ ہوگا اور گھروں و دفاتر سے سرکاری تمسکات تک بآسانی رسائی میں مدد ملے گی جس سے انفرادی سرمایہ کاروں، خواتین سرمایہ کاروں، چھوٹی بچت کرنے والوں اور کارپوریٹ اداروں کو یکساں فائدہ پہنچے گا۔ اس سسٹم میں شریک مالیاتی اداروں کو پاکستانی روپے اور آئی پی ایس کے متعدد اکاؤنٹس سنبھالنے کے لیے ایک ہمہ گیر انٹرفیس بھی فراہم کیا گیا ہے جس سے انہیں سہولت اور پورٹ فولیو کی بہتر وزیبیلیٹی دستیاب ہوگی۔ عوام میں اس کی قبولیت کو بڑھانے اور صارفین کے مسائل فوری حل کرنے کے لیے ویب پورٹل اور موبائل ایپ کے ساتھ ساتھ ایک خصوصی ’انویسٹ پاک کال سینٹر‘ اور آن لائن سپورٹ سسٹم بھی قائم کر دیا گیا ہے۔

وفاقی سروس ٹریبونل کا پورا نظام ڈیجیٹل؛ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ’ای-اپیل مینجمنٹ سسٹم‘ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا

روزینہ اسماعیل, JULY 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ وفاقی سروس ٹریبونل (ایف ایس ٹی) کی تزویراتی ڈیجیٹل تبدیلی سے عدالتی کارروائیوں میں روایتی تاخیر کا مکمل خاتمہ ہوگا، جس سے ملک میں انصاف کا مجموعی نظام مزید شفاف، موثر اور شہری دوست بن کر ابھرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز وفاقی سروس ٹریبونل کے لیے جدید ترین ’ای-اپیل مینجمنٹ سسٹم‘ (ای اے ایم ایس)، پبلک انٹرفیس، مینجمنٹ ڈیش بورڈ اور مقدمات کی آن لائن سماعت کے لیے ویڈیو لنک کی مقتدر سہولت کا باقاعدہ افتتاح کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے عزم دہرایا کہ موجودہ حکومت انصاف کی فوری فراہمی کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنانے کے لیے ہر ممکن عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔

وفاقی وزیر قانون نے اپنے خصوصی خطاب میں واضح کیا کہ عدالتی نظام کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن حکومت کے مقتدر اصلاحاتی ایجنڈے کا ایک انتہائی اہم حصہ ہے، جس کا بنیادی مقصد عام عوام کو تیز ترین اور موثر انصاف کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی سروس ٹریبونل میں اس جدید نظام کے نفاذ سے سائلین، قانون دانوں اور عدالتی عملے کو بہترین سہولیات میسر آئیں گی اور مقدمات کے مقتدر انتظام میں نمایاں بہتری دیکھنے کو ملے گی۔ وزارتِ قانون و انصاف کے ڈویلپمنٹ ونگ کی جانب سے تیار کردہ یہ ویب بیسڈ ڈیجیٹل سسٹم وفاقی سروس ٹریبونل کے چیئرمین جسٹس (ر) روح الامین خان کی براہِ راست نگرانی میں مکمل کیا گیا ہے، جسے اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ سمیت ٹریبونل کے تمام صوبائی بینچز پر بیک وقت نافذ العمل کر دیا گیا ہے۔

اس تزویراتی نظام کے تحت اب کسی بھی اپیل کو دائر کرنے سے لے کر اس کے حتمی فیصلے کے اجراء تک کے تمام پیچیدہ مراحل ایک ہی مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر شفاف طریقے سے انجام دیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ متعارف کرایا گیا پبلک انٹرفیس اور ڈیش بورڈ سائلین اور وکلاء کو ان کے مقدمات کی تازہ ترین معلومات تک فوری اور آسان رسائی فراہم کرے گا۔ مزید برآں، ٹریبونل کے تمام بینچز کو ہائی ٹیک ویڈیو لنک کی سہولت سے جوڑ دیا گیا ہے، جس کے ذریعے دور دراز علاقوں کے مقدمات کی آن لائن سماعت ممکن ہوگی۔ وزارتِ قانون کے مطابق، اس انقلابی اقدام سے سائلین کی سفری مشکلات اور عدالتی تاخیر میں واضح کمی آئے گی جبکہ وقت اور سرکاری وسائل کا زیادہ موثر استعمال ممکن ہو سکے گا۔ تقریب کے دوران ڈائریکٹر پلاننگ محمد جاوید نے سسٹم پر تفصیلی پریذنٹیشن دی، جبکہ تقریب میں ٹریبونل کے اراکین، جوائنٹ سیکرٹریز، ڈپٹی و اسسٹنٹ اٹارنی جنرلز اور وکلاء برادری کے مقتدر نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

بلدیہ ٹاؤن فیکٹری سانحہ؛ سپریم کورٹ نے محمد زبیر عرف چریا اور عبدالرحمان عرف بھولا کو بری کر دیا؛ فوجداری انصاف میں سزا محض قیاس آرائی یا شبہات پر نہیں دی جا سکتی

منصور احمد, JULY 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ایک مقتدر فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ملکی فوجداری نظامِ انصاف میں کسی بھی ملزم کو محض قیاس آرائی، عمومی قسم کے الزامات یا مضبوط شبہات کی بنیاد پر سزا نہیں دی جا سکتی، بلکہ استغاثہ پر قانونی طور پر لازم ہے کہ وہ مبینہ جرم کو ہر معقول شک سے بالاتر ہو کر قابلِ اعتماد اور ناقابلِ تردید شواہد سے ثابت کرے۔ عدالتی رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ مقتدر تحریری فیصلے کے مطابق، معزز جج جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نے کراچی کے مشہور بلدیہ ٹاؤن فیکٹری آتشزدگی کیس میں 39 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے مرکزی ملزمان محمد زبیر عرف چریا اور عبدالرحمان عرف بھولا کو تمام الزامات سے بری کر دیا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری سانحہ بلاشبہ ملکی تاریخ کے المناک ترین اور افسوسناک ترین واقعات میں سے ایک تھا، جس میں 264 قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور درجنوں معصوم افراد شدید زخمی ہوئے، تاہم ایسے حساس اور بڑے مقدمات میں بھی قانون کا بنیادی تقاضا یہی ہے کہ سزا صرف اور صرف مضبوط، ٹھوس اور قابلِ اعتماد ثبوتوں کی بنیاد پر ہی دی جائے۔ تحریری فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ واقعے کی ابتدائی معلوماتی رپورٹ (ایف آئی آر) میں فیکٹری مالکان اور انتظامیہ کو حفاظتی انتظامات میں مجرمانہ غفلت کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا، تاہم تقریباً اڑھائی سال کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھتہ نہ دینے پر فیکٹری کو جان بوجھ کر کیمیکل کی مدد سے آگ لگانے کی ایک بالکل نئی کہانی سامنے لائی گئی، جسے استغاثہ بعد میں معتبر عدالتی شواہد سے ثابت کرنے میں بری طرح ناکام رہا۔

سپریم کورٹ نے اپنے مقتدر فیصلے میں مزید قرار دیا کہ ملزم عبدالرحمان عرف بھولا کا بعد میں واپس لیا گیا عدالتی اعترافِ جرم کسی بھی آزاد اور مضبوط شہادت سے ثابت نہیں ہو سکا، جبکہ اس کا یہ بیان گرفتاری کے 9 روز بعد ریکارڈ کیا گیا تھا اور اس غیر معمولی تاخیر کی بھی کوئی قابلِ قبول قانونی وضاحت عدالت کے سامنے پیش نہیں کی گئی۔ عدالتِ عظمیٰ نے تکنیکی پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فرانزک شواہد سے بھی یہ ثابت نہیں ہو پایا کہ فیکٹری میں آگ لگانے کے لیے کسی مخصوص کیمیکل کا استعمال کیا گیا تھا۔ اسی طرح ہولناک سانحے میں معجزاتی طور پر زخمی ہونے والے عینی شاہدین نے بھی ملزمان کے خلاف عدالت میں کوئی براہِ راست بیان قلمبند نہیں کرایا، جبکہ فیکٹری میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی اصل ریکارڈنگ بھی عدالت کے سامنے پیش نہیں کی گئی، جو استغاثہ کے بنائے گئے مقدمے میں ایک بہت بڑا اور اہم ترین خلاء ہے۔

عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے میں دوٹوک الفاظ میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت یا کسی مخصوص طبقے کو عمومی الزامات یا محض مفروضوں کی بنیاد پر موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا، کیونکہ فوجداری مقدمات کا سنہری اصول ہے کہ ہر الزام کا ثبوت ٹھوس، قانونی طور پر قابلِ قبول اور مقررہ معیار پر پورا اترنے والے شواہد سے فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کے آخر میں قرار دیا کہ چونکہ استغاثہ ملزمان کے خلاف اپنا مقدمہ معقول شک سے بالاتر ہو کر ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے، لہٰذا مروجہ قانون کے مطابق دونوں ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے عزت کے ساتھ بری کیا جاتا ہے۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کی امیدوار ماریا فرنانڈا ایسپینوسا کی اہم ملاقات

منصور احمد, JULY 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے باوقار عہدے کی مضبوط امیدوار اور ایکواڈور کی سابق وزیرِ خارجہ ماریا فرنانڈا ایسپینوسا نے پیر کے روز یہاں اسلام آباد میں ایک اہم ملاقات کی ہے۔ دفترِ خارجہ کی طرف سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، ملاقات کے دوران نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے معزز مہمان کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور کثیرالجہتی تعاون کے فروغ سمیت عالمی امور میں اقوامِ متحدہ کے مرکزی کردار کو مستقبل میں مزید مضبوط اور فعال بنانے کے لیے پاکستان کی جانب سے بھرپور حمایت کا پختہ اعادہ کیا۔

سینیٹر اسحاق ڈار نے اس اہم موقع پر امید ظاہر کی کہ اقوامِ متحدہ کے آئندہ منتخب ہونے والے سیکرٹری جنرل عالمی ادارے کے ڈھانچے میں انتہائی ضروری اصلاحات متعارف کرائیں گے اور سلامتی کونسل کی دیرینہ التواء کا شکار قراردادوں، بالخصوص مظلوم فلسطین اور جموں و کشمیر سے متعلق مقتدر قراردادوں پر مؤثر و منصفانہ عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے، جو اس وقت مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے خطوں میں پائیدار عالمی امن کے قیام کے لیے نہایت ناگزیر ہیں۔

نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے ملکی عزم کو دہراتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے منشور کے بنیادی مقاصد اور زریں اصولوں کے فروغ، بین الاقوامی قانون اور سفارتی معاہدات کے مکمل احترام سمیت عالمی امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے لیے فعال بین الاقوامی تعاون کو آگے بڑھانے میں اپنا مثبت اور تاریخی کردار ہمیشہ کی طرح جاری رکھے گا۔ دونوں رہنماؤں نے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کا بڑا اقدام؛ پروٹیکٹریٹ آف امیگریشن کے پورے نظام کو ڈیجیٹل کرنے اور نوجوانوں کے لیے بیرونِ ملک روزگار کی تلاش تیز کرنے کی سخت ہدایت

کاشف عباسی , JULY 06,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پروٹیکٹریٹ آف امیگریشن کے تمام تر روایتی نظام کو فوری طور پر ڈیجیٹل کرنے اور بیرونِ ملک قائم پاکستانی سفارتخانوں کو بین الاقوامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع سے آگاہی فراہم کرنے کے لیے اقدامات تیز کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افرادی قوت انتہائی باصلاحیت ہے اور حکومت ان کو بین الاقوامی معیار کی فنی تعلیم اور عالمی مارکیٹ تک رسائی دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملکی نوجوانوں کو روزگار مہیا کرنے کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس پیر کے روز اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اس اعلیٰ سطح کے اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء ڈاکٹر مصدق ملک، عطاء اللہ تارڑ، چوہدری سالک حسین، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، چیئرمین نیوٹیک راجا قمر الاسلام، چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے سمندر پار پاکستانی سفارتخانوں کو ہدایت کی کہ وہ پاکستانی افرادی قوت کے لیے موزوں روزگار کے مواقع کی تلاش کے عمل میں تیزی لائیں، جبکہ افرادی قوت بالخصوص نوجوانوں کو سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت، نیوٹیک اور یوتھ پروگرام کے تحت مختلف اہم ہنر اور بین الاقوامی زبانوں کے کورسز مع تصدیق شدہ اسناد فراہم کرنا یقینی بنائیں۔ وزیراعظم نے پاکستانی اسناد کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مختلف ممالک سے روابط مضبوط کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جن ترقی یافتہ ممالک میں پاکستانی ہنرمند افراد کے لیے روزگار کی گنجائش موجود ہے، وہاں کی مقامی زبان کی تعلیم اور سرٹیفیکیشنز کو لازمی بنایا جائے۔ انہوں نے نیوٹیک کے تحت تکنیکی و فنی تربیت کے اداروں کی مجموعی کارکردگی اور مخصوص ممالک کے لیے قائم کیے جانے والے مراکز کی پیشرفت پر تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم کو افرادی قوت بالخصوص نوجوانوں کے لیے اندرون و بیرونِ ملک روزگار کے مواقع پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں حکام نے بتایا کہ حکومت کے ڈیجیٹل یوتھ ہب میں اب تک 8 لاکھ سے زائد نوجوان کامیابی سے رجسٹر ہو چکے ہیں۔ اس وقت بیرونِ ملک تعمیرات، زراعت، سیاحت، صحت، ٹرانسپورٹ، بائیوٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، نرسنگ، ادویہ سازی، اشیائے خوردونوش کی تیاری اور جہاز سازی کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع دستیاب ہیں۔ بریفنگ کے مطابق، ان تمام اہم شعبوں میں پاکستانیوں کو کھپانے کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام باقاعدگی سے جاری ہیں، جبکہ سمندر پار متعین پاکستانی سفارتخانے مختلف ممالک میں میسر ملازمتوں اور ان کے لیے درکار اہلیت کا تمام تر ڈیٹا ڈیجیٹل یوتھ ہب پورٹل پر باقاعدگی سے فراہم کریں گے تاکہ نوجوانوں کو براہِ راست رسائی حاصل ہو سکے۔

قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ بائیو کیمسٹری نے داخلوں کا اعلان کر دیا؛ بی ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگراموں کے لیے درخواستیں مطلوب

روزینہ اسماعیل, JULY 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

قائدِاعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ بائیو کیمسٹری نے تعلیمی سال دو ہزار چھبیس کے لیے بی ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگراموں میں نئے داخلوں کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر تعلیمی اعلامیہ کے مطابق، داخلوں کے خواہشمند تمام پاکستانی اور غیر ملکی طلبہ مقررہ تاریخ تک اپنی درخواستیں آن لائن پورٹل کے ذریعے جمع کرا سکتے ہیں۔

جامعہ انتظامیہ کے مطابق، تمام تعلیمی پروگراموں میں داخلہ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 10 اگست 2026ء مقرر کی گئی ہے۔ اس سال بی ایس پروگرام میں داخلے کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے تحت ہونے والے انڈر گریجویٹ اسٹڈیز ایڈمیشن ٹیسٹ کا پاس ہونا لازمی شرط قرار دیا گیا ہے۔ تمام امیدواروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس ٹیسٹ کی رجسٹریشن اور داخلہ فارم کے لیے ایچ ای سی کے ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل پورٹل سے فوری رجوع کریں۔

داخلوں کے خواہشمند طلبہ سے کہا گیا ہے کہ وہ تعلیمی اہلیت، داخلہ پالیسی، مطلوبہ دستاویزات کی فہرست اور درخواست کے تفصیلی طریقہ کار سمیت تمام مقتدر معلومات حاصل کرنے کے لیے قائدِاعظم یونیورسٹی کی دفتری ویب سائٹ اور ایچ ای سی کے کونسل پورٹل سے رہنمائی حاصل کریں۔ جامعہ انتظامیہ نے طلبہ کو مخلصانہ مشورہ دیا ہے کہ وہ آخری تاریخ کا انتظار کیے بغیر اپنی درخواستیں بروقت جمع کرائیں تاکہ آخری دنوں میں انٹرنیٹ یا کسی بھی قسم کی تکنیکی یا انتظامی دشواری سے بچا جا سکے۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اور حکومتِ خیبر پختونخوا کے محتسب سیکرٹریٹ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط

منصور احمد, JULY 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اور حکومتِ خیبر پختونخوا کے محتسب سیکرٹریٹ کے درمیان پیر کے روز ایک اہم اور تزویراتی مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط کیے گئے ہیں۔ اس تاریخی معاہدے کا بنیادی مقصد خواتین کے حقوق، خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ، پارلیمانی نظام میں ان کی موثر شمولیت کے فروغ، مقامِ کار پر خواتین کو ہراسگی سے تحفظ فراہم کرنے والے سال 2010ء کے قانون کے موثر نفاذ، جائے ملازمت پر تحفظ اور پارلیمانی روابط سے متعلق تمام اہم امور میں باہمی ادارہ جاتی تعاون، رابطہ کاری اور معلومات کے تبادلے کو فروغ دینا ہے۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، اس مفاہمتی یادداشت کے تحت معلومات کے تبادلے، ملازمین کی استعداد کار میں اضافے، باہمی مشاورت اور تکنیکی معاونت کے لیے ایک جامع مشترکہ فریم ورک وضع کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس امر کو بھی یقینی بنایا گیا ہے کہ دونوں مقتدر اداروں کے آئینی دائرہ اختیار، ادارہ جاتی خودمختاری اور پارلیمانی مراعات کا مکمل احترام ہر سطح پر برقرار رکھا جائے۔ اس اہم معاہدے کے تحت خواتین کی پارلیمانی کاکس کے ساتھ تعاون کے دائرے کو بھی مزید وسعت دی جائے گی تاکہ عوامی آگاہی میں اضافہ، قانون سازی پر موثر عمل درآمد اور باہمی مکالمے کے ذریعے خواتین کے حقوق کی نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ مفاہمتی یادداشت دونوں مقتدر اداروں کے اس مشترکہ عزم کی عکاس ہے کہ مربوط کوششوں کے ذریعے خواتین کے حقوق، بہتر طرزِ حکمرانی اور ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ اس مقتدر تقریب کے دوران قائم مقام سیکرٹری قومی اسمبلی سعید احمد اور محتسب حکومتِ خیبر پختونخوا بیرسٹر رباب مہدی نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ اس موقع پر سیکریٹری برائے خصوصی اقدامات سید شمعون ہاشمی، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اور صوبائی محتسب خیبر پختونخوا کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ؛ والدین کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی بیٹی کی درخواست ناقابلِ سماعت قرار دے کر مسترد

کاشف عباسی , JULY 06,026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

لاہور ہائیکورٹ نے والدین کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی ایک بیٹی کی درخواست کو قانونی طور پر ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مستقل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ عدالتِ عالیہ کے معزز جج جسٹس جواد ظفر نے درخواست گزار ایمان فاطمہ کی جانب سے دائر کردہ اپیل پر تفصیلی سماعت کی، جس میں تحفظِ امن کے عہدیدار (جسٹس آف پیس) کی جانب سے والدین پر مقدمے کے اندراج کی درخواست مسترد کیے جانے کے پرانے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔

مقتدر عدالتی کارروائی کے دوران درخواست گزار ایمان فاطمہ نے موقف اختیار کیا تھا کہ اپنے خاوند سے شدید ناچاقی اور لڑائی جھگڑے کے بعد وہ عارضی طور پر اپنے والدین کے گھر منتقل ہو گئی تھی اور اس کٹھن دورانئے میں اس نے اپنے شوہر سے جہیز اور قیمتی زیورات کی واپسی کے لیے فیملی کورٹ میں ایک مقدمہ بھی دائر کیا تھا۔ تاہم، بعد ازاں دونوں فریقین اور میاں بیوی میں باقاعدہ صلح ہو گئی، جس کے بعد وہ دوبارہ اپنے خاوند کے گھر جا کر ہنسی خوشی رہنے لگی۔ درخواست گزار کے مطابق اس صلح کے بعد جب وہ اپنے والدین کے گھر سے اپنے زیورات واپس لینے گئی تو انہوں نے زیورات لوٹانے سے صاف انکار کر دیا۔ اسی تنازع پر تحفظِ امن کے عہدیدار نے دس جون دو ہزار چھبیس کو والدین کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی بیٹی کی پہلی درخواست کو خارج کر دیا تھا۔ ہائیکورٹ میں دائر اس نئی درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ نچلی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر والدین کے خلاف چوری یا امانت میں خیانت کا مقدمہ درج کرنے کا مقتدر حکم جاری کیا جائے۔

لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج نے وکلاء کے تفصیلی دلائل سننے اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد درخواست گزار ایمان فاطمہ کی اپنے ہی والدین کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی اس استدعا کو قانون کے مقتدر اصولوں کے منافی اور ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا اور نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

چین اور روس کی مشترکہ بحری مشق ’’جوائنٹ سی-2026‘‘ کا باضابطہ آغاز

کاشف عباسی , JULY 06,026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

چین اور روس نے پیر کے روز مشرقی چین کے صوبہ شینڈونگ کے ساحلی شہر چنگ ڈاؤ میں واقع ایک تزویراتی فوجی بندرگاہ پر اپنی مشترکہ بحری مشق ’’جوائنٹ سی-2026‘‘ کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ چینی خبر رساں ادارے کے مطابق، اس اہم فوجی اقدام کے تحت دونوں ممالک کی بحری افواج پر مشتمل ایک مشترکہ کمان بھی تشکیل دی گئی ہے، جس میں دونوں دوست ممالک کی بحریہ کی مقتدر ٹاسک فورسز شامل ہیں۔ یہ مشترکہ مشقیں مجموعی طور پر تین مختلف اور اہم مراحل میں منعقد کی جائیں گی، جن میں افواج کی تزویراتی تعیناتی، بندرگاہ کے اندر جنگی منصوبہ بندی اور سمندر کی لہروں پر عملی حربی مشقیں شامل ہیں۔

افتتاحی تقریب کے فوراً بعد دونوں ممالک کی بحری افواج نے کمانڈ اور حربی ہم آہنگی کو بڑھانے سے متعلق مشترکہ مشقوں کا آغاز کیا، جبکہ نئی قائم شدہ مشترکہ کمان کے اعلیٰ حکام نے کھلے سمندر میں ہونے والی مشقوں کے اہم تزویراتی نکات پر تفصیلی تبادلہ خیال بھی کیا۔ طے شدہ مقتدر منصوبے کے مطابق، اگلے مرحلے میں مشقوں میں شریک دونوں ممالک کے جدید جنگی بحری جہاز چنگ ڈاؤ کے قریبی سمندری علاقے میں مشترکہ نگرانی، فضائی اور میزائل دفاع سمیت جدید ترین اسلحے کے عملی استعمال سے متعلق انتہائی اہم اور حساس مشقیں کریں گے، جس کا مقصد خطے میں مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

ٹور ڈی فرانس سائیکل ریس؛ میکسیکو کے آئزک ڈیل ٹورو نے دوسرا مرحلہ اپنے نام کر لیا

منصور احمد, JULY 06,2026

میڈرڈ (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

میکسیکو کے مایہ ناز سائیکل سوار آئزک ڈیل ٹورو نے دنیا کی سب سے بڑی اور مشہور ٹور ڈی فرانس سائیکل ریس کا دوسرا مرحلہ شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جیت لیا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق، اسپین کے تاریخی شہر بارسلونا سے ٹور ڈی فرانس سائیکل ریس کے 113 ویں ایڈیشن کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے، جس میں دنیا بھر سے سائیکلنگ کی 23 مقتدر ٹیموں کے نامور کھلاڑی ٹائٹل کے حصول کے لیے سڑکوں پر ایکشن میں دکھائی دے رہے ہیں۔ ریس کے دوسرے مرحلے میں تمام سائیکل سواروں نے اسپین کے علاقے تاراگونا سے بارسلونا تک کا 168.5 کلومیٹر طویل اور مشکل فاصلہ طے کرنا تھا۔

اس اہم مرحلے میں 22 سالہ میکسیکن سائیکل سوار آئزک ڈیل ٹورو نے انتہائی عمدہ اور تیز رفتار سائیکلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ فاصلہ محض 3 گھنٹے 40 منٹ اور 1 سیکنڈ میں طے کر کے پہلی پوزیشن اپنے نام کی اور اپنی ٹیم کے لیے قیمتی برتری حاصل کی۔ اسی مقابلے میں سلوسینیا سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ سائیکلسٹ تڈیج پوگاآر نے دوسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ بیلجیئم کے 26 سالہ سائیکل سوار ریمکو ایوینیپول تیسرے نمبر پر رہے۔ دوسری جانب، دفاعی چیمپئن اور ڈنمارک کے 29 سالہ مقتدر سائیکل سوار جوناس ونگگارڈ کی ریس کی سب سے معتبر پیلی جرسی پر حکمرانی اب بھی برقرار ہے۔

ٹور ڈی فرانس سائیکل ریس مجموعی طور پر 21 مختلف اور کٹھن مرحلوں پر محیط ہے، جس کے دوران دنیا کے یہ بہترین سائیکل سوار کل 3320.7 کلومیٹر کا انتہائی طویل سفر طے کریں گے۔ چوبیس روز تک جاری رہنے والا یہ عالمی میلہ مختلف شہروں اور پہاڑی راستوں سے گزرتا ہوا 26 جولائی کو اپنے انجام کو پہنچے گا۔ امسال متحدہ عرب امارات کی ایمرٹس ٹیم کی نمائندگی کرنے والے سلوسینیا کے تڈیج پوگاآر اپنے عالمی اعزاز کے دفاع کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اس تاریخی ریس کا پہلا ایڈیشن پہلی مرتبہ سال 1903ء میں منعقد ہوا تھا، جس میں فرانسیسی سائیکل سوار مورس فرانسس گارین نے پہلی تاریخی فتح حاصل کی تھی۔

ومبلڈن اوپن ٹینس؛ کیٹرینا سینیاکووا اور ٹیلر ٹاؤن سینڈ پر مشتمل ٹاپ سیڈڈ جوڑی خواتین کے ڈبلز مقابلوں کے پری کوارٹر فائنل میں داخل

محمود احمد, JULY 06,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

جمہوریہ چیک کی مایہ ناز ٹینس کھلاڑی کیٹرینا سینیاکووا اور ان کی امریکی جوڑی دار ٹیلر ٹاؤن سینڈ پر مشتمل ٹاپ سیڈڈ جوڑی نے رواں سال کے تیسرے گرینڈ سلام ومبلڈن اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کے خواتین کے ڈبلز مقابلوں میں اپنی فتوحات کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے کامیابی کے ساتھ پری کوارٹر فائنل راؤنڈ کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔ کھیلوں کے عالمی نشریاتی ادارے کے مطابق، اس عالمی نمبر ون جوڑی نے دوسرے راؤنڈ کے یکطرفہ مقابلے میں جمہوریہ چیک کی میری بوزکووا اور اسپین کی سارہ سوریبس ٹورمو پر مشتمل جوڑی کو اسٹریٹ سیٹس میں عبرتناک شکست سے دوچار کیا۔

انگلینڈ کے دارالحکومت لندن میں جاری ومبلڈن اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کے ویمنز ڈبلز کے دوسرے راؤنڈ میچ میں کیٹرینا سینیاکووا اور ٹیلر ٹاؤن سینڈ نے انتہائی جارحانہ اور شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا۔ ٹاپ سیڈڈ جوڑی نے اپنے بہترین تال میل اور زبردست سروسز کی بدولت حریف جوڑی کو کورٹ پر سنبھلنے کا کوئی موقع نہ دیا اور یہ اہم میچ محض دو سیٹس میں آسانی سے 2-6 اور 1-6 سے اپنے نام کر لیا۔ اس شاندار اور یکطرفہ فتح کے بعد دونوں کھلاڑیوں نے میگا ایونٹ کے اگلے مرحلے یعنی پری کوارٹر فائنل میں جگہ پکی کر لی ہے، جہاں ان کا مقابلہ مزید سخت حریفوں سے متوقع ہے۔

آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026ء؛ آسٹریلیا کی کپتان سوفی مولینو نے عالمی ٹائٹل جیتنے کے بعد اندرونی شکوک و شبہات کا اعتراف کر لیا

کاشف عباسی , JULY 06,026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

آسٹریلیا کی ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان سوفی مولینو نے اعتراف کیا ہے کہ کپتانی سنبھالنے کے بعد انہیں اندرونی اور بیرونی دونوں طرح کے شدید شکوک و شبہات کا سامنا تھا، لیکن انہوں نے خود پر اور اپنی ٹیم پر پختہ اعتماد برقرار رکھا، جس کا شاندار نتیجہ آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ دو ہزار چھبیس کا عالمی ٹائٹل جیتنے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ترجمان کے مطابق، 28 سالہ آل راؤنڈر سوفی مولینو کو سال 2026ء کے آغاز میں مایہ ناز کھلاڑی ایلیسا ہیلی کی ریٹائرمنٹ کے بعد آسٹریلوی ٹیم کی قیادت سونپی گئی تھی، تاہم کپتانی سنبھالتے ہی کمر کی شدید انجری کے باعث وہ بھارت کے خلاف سیریز کے آخری میچوں اور بعد ازاں ویسٹ انڈیز کے دورے کے کچھ اہم مقابلوں سے باہر ہو گئی تھیں۔

ان کی اس انجری اور غیر موجودگی کے باعث آسٹریلوی سلیکٹر شان فلیگلر نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ سوفی مولینو کو کپتان برقرار رکھنے کے فیصلے پر دوبارہ غور کیا جا سکتا ہے، جس سے ان کی قیادت پر سوالیہ نشان لگ گیا تھا۔ تاہم، سوفی مولینو نے ہمت نہ ہاری اور نہ صرف میدان میں بھرپور واپسی کی بلکہ بطور کپتان اور بہترین بالر کے طور پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو ایک بار پھر عالمی چیمپئن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ لارڈز کے تاریخی میدان پر تقریباً 30 ہزار تماشائیوں کے سامنے سنسنی خیز فائنل میچ جیتنے کے بعد سوفی مولینو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخی فتح ان کی زندگی کا یادگار ترین دن ہے۔

انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ کپتانی کے آغاز میں وہ خود کو شدید غیر یقینی صورتحال میں محسوس کر رہی تھیں، جبکہ کمر کی انجری نے انہیں ذہنی طور پر مزید مایوس کیا اور ایک وقت ایسا بھی آ گیا تھا جب انہیں لگا کہ شاید یہ بھاری ذمہ داری ان کے لیے کامیاب ثابت نہ ہو سکے۔ تاہم، انہوں نے کٹھن وقت میں خود پر یقین رکھا اور آسٹریلوی ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کے بھرپور تعاون نے انہیں بحالی اور میدان میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا، جس کی بدولت آج وہ ورلڈ کپ کی ٹرافی اٹھانے میں کامیاب ہوئیں۔

پاکستان ریلوے نے دو بڑے ٹرین حادثات کی تحقیقاتی رپورٹ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں پیش کر دی؛ نو ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز

منصور احمد, JULY 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

پاکستان ریلوے نے مارچ دو ہزار چھبیس میں ہونے والے دو بڑے ٹرین حادثات کی حتمی انکوائری رپورٹ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کے سامنے پیش کر دی ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں دونوں ہائی پروفائل حادثات کی بنیادی وجوہات انسانی غفلت اور تکنیکی خرابیوں کو قرار دیتے ہوئے مجموعی طور پر 9 ذمہ دار ملازمین کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق، ملک بھر میں ایک سال کے دوران مجموعی طور پر 135 چھوٹے بڑے ٹرین حادثات رپورٹ ہوئے، جن میں سے 34 حادثات ریلوے ٹریک کی سنگین خرابی کی وجہ سے پیش آئے جبکہ کل حادثات کا 35 فیصد حصہ بغیر عملے کے ریلوے کراسنگز پر ہونے والے حادثات پر مشتمل ہے۔

رپورٹ کے مقتدر مندرجات کے مطابق، مہراب پور کے مقام پر شالیمار ایکسپریس اور مال گاڑی میں ہونے والا ہولناک تصادم ڈرائیور کی سنگین غفلت اور سگنل توڑنے کے باعث ہوا، جس میں ایک ملازم جاں بحق اور متعدد بوگیاں الٹ گئیں۔ ریلوے حکام نے اس حادثے میں ڈرائیور فیاض محمد، اسسٹنٹ ڈرائیور آصف سعید، سینئر ٹرین ایگزامنرز آصف حسین اور ولی اللہ خان سمیت ہیڈ ٹرین ایگزامنر عمران نثار کو براہِ راست، جبکہ سٹیشن ماسٹر اسد اللہ کو بالواسطہ طور پر ذمہ دار نامزد کیا ہے۔ دوسری جانب، لودھراں-بہاولپور سیکشن پر تیزگام ایکسپریس کو پیش آنے والا دوسرا بڑا حادثہ تکنیکی مانیٹرنگ میں کوتاہی کا نتیجہ تھا، جہاں ڈائننگ کار کی فرنٹ ٹرالی میں نقص کے باعث ٹرین کی 8 کوچز پٹری سے اتریں اور متعدد مسافر زخمی ہوئے۔ اس فٹنس غفلت پر ثاقب غفور اور منہاس انور کو براہِ راست، جبکہ ہیڈ عمران شریف کو بالواسطہ ذمہ دار قرار دے کر ایکشن شروع کر دیا گیا ہے۔

قائمہ کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ کے دوران چیئرمین ریلوے مظہر علی شاہ نے بتایا کہ ملک میں سالانہ 35 سے 38 ہزار ٹرینوں کی آمدورفت ہوتی ہے جس سے حادثات کی شرح محض 0.02 فیصد بنتی ہے، اور ریلوے انتظامیہ محدود وسائل کے باوجود اپنے محنتی عملے کی مدد سے انجنوں، بوگیوں اور ٹریکس کی بحالی کا کام انجام دے رہی ہے۔ انہوں نے کمیٹی کو فراہم کردہ سالانہ اعداد و شمار کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ ٹریک کی خرابی اور بغیر عملے کے پھاٹکوں کے علاوہ، ریلوے سٹاف کی غفلت کے باعث 32 حادثات، رولنگ اسٹاک کی خرابیوں کی وجہ سے 30، تخریب کاری کے نتیجے میں 10، جبکہ باقی حادثات قدرتی آفات و دیگر وجوہات کے باعث پیش آئے۔ ریلوے انتظامیہ نے قائمہ کمیٹی کو پختہ یقین دہانی کرائی ہے کہ ان تمام حادثات پر قابو پانے اور مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تزویراتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

تربیلا اور منگلا ڈیموں میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ؛ بیراجوں پر پانی کے بہاؤ کی صورتحال مستحکم، مجموعی قابلِ استعمال ذخیرہ تسلی بخش

روزینہ اسماعیل, JULY 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے ملک کے مختلف دریاؤں، بیراجوں اور بڑے آبی ذخائر میں پانی کی آمد، اخراج اور ذخیرے کے تازہ ترین اعدادوشمار جاری کر دیے ہیں۔ پیر کے روز جاری کردہ سرکاری رپورٹ کے مطابق، دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 2 لاکھ 49 ہزار 700 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 57 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج 54 ہزار 600 کیوسک، جبکہ خیرآباد پل پر پانی کی آمد اور اخراج 2 لاکھ 18 ہزار کیوسک رہا۔ دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 39 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 20 ہزار کیوسک جبکہ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 70 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 41 ہزار 300 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ملک کے اہم بیراجوں کے اعدادوشمار کے مطابق، جناح بیراج میں پانی کی آمد 2 لاکھ 33 ہزار 900 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 26 ہزار 400 کیوسک، چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 2 لاکھ 33 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 3 ہزار کیوسک رہا۔ تونسہ بیراج میں پانی کی آمد ایک لاکھ 92 ہزار 900 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 70 ہزار 600 کیوسک، گدو بیراج میں پانی کی آمد ایک لاکھ 55 ہزار 400 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 14 ہزار 200 کیوسک، سکھر بیراج میں پانی کی آمد ایک لاکھ 6 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 53 ہزار 400 کیوسک، جبکہ کوٹری بیراج میں پانی کی آمد 38 ہزار کیوسک اور اخراج صفر ریکارڈ کیا گیا۔ تریموں بیراج میں پانی کی آمد 35 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 20 ہزار کیوسک جبکہ پنجند بیراج میں پانی کی آمد 14 ہزار 600 کیوسک اور اخراج صفر رہا۔

آبی ذخائر کی صورتحال کے مطابق، تربیلا ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1480.52 فٹ ہے، جبکہ اس کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ اور انتہائی سطح 1550 فٹ ہے؛ یہاں آج قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 2.101 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ منگلا ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1166.05 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ اس کا کم از کم لیول 1050 فٹ اور انتہائی سطح 1242 فٹ ہے؛ یہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 2.391 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ اسی طرح چشمہ بیراج کے ذخیرے میں پانی کی موجودہ سطح 646.40 فٹ ہے، جبکہ اس کا کم از کم لیول 638.15 فٹ اور انتہائی سطح 649 فٹ ہے؛ یہاں آج قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.189 ملین ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو زراعتی مقاصد کے لیے انتہائی معاون ہے۔

وینزویلا میں تباہ کن زلزلے؛ اموات کی ہولناک تعداد 3 ہزار 342 تک پہنچ گئی، زخمیوں کی تعداد 16 ہزار 740 سے تجاوز

منصور احمد, JULY 06,2026

کراکس (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

وینزویلا میں گزشتہ ماہ چوبیس جون کو آنے والے 7.2 اور 7.5 شدت کے دو انتہائی شدید اور تباہ کن زلزلوں کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال مزید مخدوش ہو گئی ہے، جہاں ملبے سے مزید لاشیں نکلنے کے بعد اموات کی مجموعی تعداد بڑھ کر 3 ہزار 342 ہو گئی ہے، جبکہ اس قدرتی آفت میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 16 ہزار 740 تک جا پہنچی ہے۔ چینی خبر رساں ادارے کے مطابق، وینزویلا کی قومی اسمبلی کے صدر جارج روڈریگیز نے سماجی رابطے کے مقتدر پلیٹ فارم پر جاری کردہ اپنے ایک ہنگامی بیان میں تفصیلات بتاتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ امدادی ٹیموں نے دن رات کام کرتے ہوئے اب تک ملبے تلے دبے اور متاثرہ علاقوں میں پھنسے ہوئے 6 ہزار 462 افراد کو بحفاظت نکال لیا ہے۔

سرکاری سطح پر جاری کردہ مقتدر ترین رپورٹ کے مطابق، ان ہولناک زلزلوں کے نتیجے میں ہزاروں عمارات اور رہائشی مکانات زمین بوس ہو چکے ہیں، جس کے باعث 17 ہزار 345 افراد مکمل طور پر بے گھر ہو کر کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ چوبیس جون کو آنے والے ان دو بڑے زلزلوں کے بعد سے لے کر اب تک ملک کے مختلف علاقوں میں 995 زلزلے کے بعد کے شدید جھٹکے محسوس کیے جا چکے ہیں، جس کی وجہ سے تباہ حال عمارتوں کے مزید گرنے کا خطرہ برقرار ہے اور شہریوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ متاثرہ شہروں میں ہنگامی حالت نافذ ہے اور بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جورجیا میلونی پر ایک بار پھر تنقید؛ سوشل میڈیا پر اطالوی وزیراعظم کی ترمیم شدہ تصویر شیئر کر دی

محمود احمد, JULY 06,2026

واشنگٹن/روم (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اٹلی کی وزیراعظم جورجیا میلونی کو شدید سیاسی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوشل میڈیا پر ان کی ایک بدلی ہوئی تصویر شیئر کی ہے، جس میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ اطالوی وزیراعظم ان میں غیر معمولی دلچسپی رکھتی ہیں۔ چینی خبر رساں ادارے کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ذاتی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک تصویر پوسٹ کی، جس میں جورجیا میلونی کو ٹرمپ کی جانب اوپر دیکھتے ہوئے دکھایا گیا تھا، جبکہ اس تصویر کے ساتھ تحریری عبارت درج تھی کہ ’’پابندی کا حکم درکار ہے‘‘۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ بھی یہ دعویٰ کیا تھا کہ فرانس میں ہونے والے سات بڑے صنعتی ممالک کے سربراہ اجلاس کے دوران جورجیا میلونی بار بار ان کے ساتھ تصاویر بنوانے کی شدید خواہاں تھیں اور امریکہ کے بارے میں ان کے سخت موقف کے باعث خود اٹلی کے اندر ان کی مقبولیت بری طرح متاثر ہوئی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اطالوی نشریاتی ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ “وہ میرے ساتھ تصویر بنوانے کی شدید خواہش مند تھیں؛ مجھے ان کے ساتھ بات کرنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں تھی، لیکن مجھے ان کی حالت پر ترس آ گیا”۔

دوسری جانب، اطالوی وزیراعظم جورجیا میلونی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے انہیں مکمل طور پر من گھڑت اور مضحکہ خیز قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ٹرمپ کی اس ذہنیت پر شدید حیران ہیں۔ وزیراعظم جورجیا میلونی نے امریکی صدر کو کرارا جواب دیتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ “ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ نہ میں ذاتی طور پر اور نہ ہی اٹلی بحیثیت قوم کبھی کسی کے سامنے درخواست کرتا ہے”۔ دونوں عالمی رہنماؤں کے درمیان اس لفظی جنگ کے باعث امریکہ اور اٹلی کے سفارتی حلقوں میں شدید تناؤ دیکھا جا رہا ہے۔

بنگلہ دیش کے شہر کاکس بازار میں شدید مون سون بارشیں؛ روہنگیا مہاجر کیمپوں میں لینڈ سلائیڈنگ سے بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

محمود احمد, JULY 06,2026

ڈھاکہ/کاکس بازار (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

بنگلہ دیش کے ساحلی شہر کاکس بازار میں شدید ترین مون سون بارشوں کی تباہ کاریوں کے باعث مختلف مقامات پر قائم روہنگیا مہاجر کیمپوں میں مقتدر لینڈ سلائیڈنگ کے دلدوز واقعات پیش آئے ہیں، جن کے نتیجے میں معصوم بچوں سمیت 8 روہنگیا مسلمان جاں بحق اور متعدد افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، مقتدر سرکاری حکام نے تصدیق کی ہے کہ کاکس بازار کے چار مختلف کیمپوں میں لینڈ سلائیڈنگ اس وقت ہوئی جب لوگ رات کے وقت گہری نیند سو رہے تھے اور پہاڑی مٹی کا بھاری ملبہ اچانک ان کی عارضی رہائشی جھونپڑیوں پر آ گرا۔ کاکس بازار پولیس کی مقتدر اہلکار تمپا داس نے میڈیا کو بتایا کہ ان افسوسناک واقعات میں اب تک 8 روہنگیا مہاجرین کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اسی دوران ایک الگ واقعے میں کاکس بازار ہی کے ایک مقامی علاقے میں پہاڑی کا ایک بڑا حصہ رہائشی مکان پر گرنے سے ایک بنگلہ دیشی شہری بھی جاں بحق جبکہ اس کے خاندان کے 2 افراد شدید زخمی ہوئے۔

روہنگیا مہاجرین کی امداد اور وطن واپسی کے امور کے مقتدر بنگلہ دیشی کمشنر محمد میزان الرحمٰن نے ہنگامی صورتحال کے حوالے سے بتایا کہ مسلسل اور طوفانی بارشوں کے باعث خطے میں مزید لینڈ سلائیڈنگ کا سنگین تزویراتی خطرہ برقرار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مزید جانی نقصان سے بچنے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے ہزاروں روہنگیا مہاجرین کو انتہائی خطرناک اور ڈھلوان علاقوں سے ہٹا کر فوری طور پر محفوظ مقامات اور عارضی کیمپوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، بنگلہ دیش کے محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز کے دوران ملک کے مختلف حصوں بالخصوص ساحلی پٹی پر مزید موسلا دھار بارشوں کی پیشنگوئی کی ہے۔ محکمہ موسمیات نے نئی لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلوں کے مقتدر خطرات کے پیش نظر تمام متعلقہ ریلیف اداروں اور مقامی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی سخت تزویراتی ہدایت جاری کر دی ہے۔