لوئر جنوبی وزیرستان: وانا کے مصروف رستم بازار میں پیر کی صبح ہونے والے بارودی دھماکے میں معروف قبائلی رہنما اور احمدزئی وزیر قبیلے کے سربراہ ملک طارق وزیر سمیت تین افراد جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
حکام کے مطابق دھماکہ گلشن پلازہ کے قریب اس وقت ہوا جب ملک طارق وزیر کی گاڑی بازار سے گزر رہی تھی۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد طاہر شاہ وزیر کے مطابق دھماکہ دیسی ساختہ بم (IED) کے ذریعے کیا گیا، جس کے نتیجے میں تین افراد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے جبکہ چار سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
ملک طارق وزیر کو لوئر جنوبی وزیرستان میں ایک بااثر قبائلی شخصیت کے طور پر جانا جاتا تھا، جو قبائلی تنازعات کے حل اور خطے میں امن کے قیام کے لیے جرگوں میں فعال کردار ادا کرتے رہے تھے۔
واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز، پولیس اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کیا گیا جبکہ زخمیوں اور جاں بحق افراد کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
حکام نے دھماکے کی نوعیت اور ذمہ دار عناصر کے تعین کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب باجوڑ میں پولیو ٹیموں کی سیکیورٹی پر مامور دو پولیس اہلکاروں کی شہادت کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس کے بعد صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
کوئٹہ: پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کوئٹہ گیریژن کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج میں افسران اور فیکلٹی سے خطاب کرتے ہوئے بدلتے جنگی ماحول اور جدید تقاضوں کے مطابق مسلسل پیشہ ورانہ تیاری کی ضرورت پر زور دیا۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کو اعلیٰ تربیتی معیار، فکری صلاحیت اور پیشہ ورانہ مہارت کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ افسران اور جوانوں کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، ملٹی ڈومین آپریشنز اور جدید جنگی حکمت عملی سے ہم آہنگ رہنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل تیاری اور برتری برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ افسران اور جوان بدلتے ہوئے جنگی ماحول کے مطابق خود کو مسلسل تیار رکھیں۔
بلوچستان میں تعینات افسران اور جوانوں سے ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل نے ان کے بلند حوصلے اور آپریشنل تیاری کو سراہا اور کہا کہ پاکستانی عوام کی غیر متزلزل حمایت سے مسلح افواج دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کا سفر پروپیگنڈے، جعلی خبروں یا بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی سے نہیں روکا جا سکتا۔ “پاکستان دنیا میں اپنا بلند مقام حاصل کر رہا ہے اور پراکسیز و پروپیگنڈے کے ذریعے اس کی پیشرفت روکنے کی تمام کوششیں ناکام ہوں گی۔”
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بلوچستان میں پائیدار امن و استحکام کے لیے عوامی فلاح، جامع ترقی اور بہتر طرزِ حکمرانی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے حکومت بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی اور عوامی بہبود کے لیے اقدامات کو سراہا۔
انہوں نے صوبے میں امن، استحکام اور ریاستی عملداری برقرار رکھنے میں سیکیورٹی فورسز کے کردار کی بھی تعریف کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کوئٹہ آمد پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا استقبال کمانڈر کوئٹہ کور نے کیا۔
کراچی / استنبول: معروف سماجی رہنما فیصل ایدھی کے صاحبزادے اور مرحوم عبدالستار ایدھی کے پوتے سعد ایدھی کو اسرائیلی فورسز نے غزہ جانے والے عالمی امدادی قافلے کے دیگر کارکنوں سمیت حراست میں لے لیا۔ اطلاعات کے مطابق مشرقی بحیرہ روم میں امدادی فلوٹیلا کے کم از کم 10 جہازوں کو روک کر کارروائی کی گئی۔
فلوٹیلا منتظمین کے مطابق اسرائیلی فورسز نے “گلوبل صمود فلوٹیلا” کے جہازوں کو بین الاقوامی سمندری حدود میں روکا، جبکہ مجموعی طور پر 23 کشتیوں سے رابطہ منقطع ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری بیان میں کہا کہ غزہ پر عائد “قانونی بحری ناکہ بندی” کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
دوسری جانب فیصل ایدھی نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ دوپہر تقریباً ایک بجے اسرائیلی فورسز نے قبرص کے قریب امدادی قافلے کو روک کر اس میں شامل افراد کو گرفتار کر لیا، جن میں ان کے صاحبزادے سعد ایدھی بھی شامل ہیں۔
انہوں نے پاکستانی دفتر خارجہ سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ “یہ گرفتاریاں بین الاقوامی پانیوں میں کی گئیں، جہاں اسرائیل کو کارروائی کا کوئی حق حاصل نہیں تھا۔ اسرائیلی فورسز نے غیر قانونی طور پر انہیں حراست میں لیا ہے اور ان کے مقام کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔”
فیصل ایدھی نے بتایا کہ سعد ایدھی بطور پاکستانی شہری غزہ کے جنگ متاثرہ عوام کے لیے خوراک اور ادویات لے کر جا رہے تھے، جبکہ قافلے میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 500 کارکن شریک تھے۔
انہوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ اسرائیلی کارروائی کے خلاف آواز اٹھائی جائے اور غزہ میں جاری “انسانی المیے” کو روکا جائے۔
قبل ازیں سعد ایدھی نے بھی غزہ صمود فلوٹیلا سے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا: “میں سعد ایدھی، ایک پاکستانی شہری ہوں۔ اگر آپ یہ ویڈیو دیکھ رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ مجھے روکا جا چکا ہے یا گرفتار کیا جا رہا ہے۔”
میڈیا رپورٹس کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں آئرلینڈ کے صدر کی بہن اور اٹلی کی ایک خاتون رکن پارلیمنٹ بھی شامل ہیں۔
انسانی حقوق کمیشن پاکستان (HRCP) نے اسرائیلی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے
تہران / واشنگٹن: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے باوجود خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں سفارتی رابطے جاری ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک کی درخواست پر ایران پر منگل کو متوقع حملہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ “سنجیدہ مذاکرات” جاری ہیں اور سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کو یقین ہے کہ کوئی معاہدہ ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر قابلِ قبول معاہدہ نہ ہوا تو امریکا “کسی بھی لمحے ایران پر مکمل اور بڑے پیمانے کے حملے” کے لیے تیار ہے۔
ٹرمپ کے مطابق خلیجی قیادت نے واشنگٹن کو فوجی کارروائی روکنے پر آمادہ کیا، جس کے بعد مجوزہ حملہ مؤخر کیا گیا۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی کہ ایران نے امریکی تجاویز پر اپنا جواب دے دیا ہے اور “پاکستانی ثالث کے ذریعے رابطے بدستور جاری ہیں”۔
انہوں نے تہران میں پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ایران نے اپنے تحفظات امریکا تک پہنچا دیے ہیں اور سفارتی تبادلے کا سلسلہ جاری ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن نے حالیہ مذاکرات میں کچھ “لچک” دکھائی ہے، تاہم اب بھی کئی اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔
ادھر چھ ہفتوں پر محیط جنگ کے بعد قائم ہونے والی نازک جنگ بندی خطرات سے دوچار دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان کی ثالثی میں شروع ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے بعد خطے میں دوبارہ فوجی نقل و حرکت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیل کو 6 ہزار 500 ٹن اسلحہ اور فوجی سازوسامان فراہم کیا، جبکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی عسکری موجودگی میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔
ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی نگرانی کے لیے “پرسین گلف اسٹریٹ اتھارٹی” کے قیام کا بھی اعلان کیا ہے، جسے عالمی توانائی سپلائی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی حکام نے عراق میں بعض مسلح گروہوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ سفارتی رابطے جاری ہیں، لیکن خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری تیاری اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں صورتحال دوبارہ بڑے تصادم کی طرف جا سکتی ہے۔
اسلام آباد: پاکستان نے مستقل ثالثی عدالت (Permanent Court of Arbitration) کے ضمنی فیصلے پر “مکمل اطمینان” کا اظہار کرتے ہوئے اسے سندھ طاس معاہدے کے تحت ایک اہم سفارتی اور قانونی کامیابی قرار دیا ہے، جس کے ذریعے مغربی دریاؤں پر بھارت کے آبی کنٹرول کی صلاحیت پر “نمایاں حدود” عائد کر دی گئی ہیں۔
حکومتی بیان کے مطابق یہ فیصلہ رَٹل اور کشن گنگا ہائیڈرو پاور منصوبوں کے ڈیزائن تنازعات سے متعلق تھا، جہاں “زیادہ سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش” (Maximum Pondage) کے معاملے پر پاکستان نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ بھارت معاہدے کی حدود سے تجاوز نہیں کر سکتا۔
بیان میں کہا گیا کہ 15 مئی کو جاری کیے گئے ضمنی ایوارڈ نے پاکستان کے قانونی مؤقف کی توثیق کی ہے، اگرچہ ثالثی عدالت نے تاحال مکمل فیصلہ عوامی سطح پر جاری نہیں کیا۔
دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ نے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے ایک بار پھر ثالثی عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ بھارت ماضی میں بھی عدالت کی تشکیل اور کارروائی پر اعتراضات اٹھاتا رہا ہے۔
واضح رہے کہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں ہونے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب پاکستان کے حصے میں جبکہ راوی، بیاس اور ستلج بھارت کے حصے میں دیے گئے تھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ فیصلہ پاکستان کے لیے نہ صرف قانونی بلکہ سفارتی سطح پر بھی اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے مقبوضہ کشمیر میں متنازع آبی منصوبوں پر بھارت کی صوابدیدی گنجائش محدود ہو سکتی ہے۔
اسلام آباد: پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ہونے والے ڈرون حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان اس مشکل گھڑی میں برادر ملک متحدہ عرب امارات کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔
ترجمان کے مطابق جوہری تنصیبات کو دانستہ طور پر نشانہ بنانا عالمی قوانین اور بین الاقوامی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، جبکہ کسی بھی صورت حال میں شہری جوہری تنصیبات کو حملوں کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
دفتر خارجہ نے خبردار کیا کہ اس قسم کی غیر ذمہ دارانہ کارروائیاں نہ صرف خطے کے امن و استحکام بلکہ عالمی ماحولیات اور انسانی سلامتی کے لیے بھی تباہ کن نتائج پیدا کر سکتی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ شہری جوہری انفراسٹرکچر کا تحفظ ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی اصول ہے اور تمام ممالک کو اس کی پاسداری یقینی بنانی چاہیے۔
پاکستان نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں اور مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کا واحد مؤثر راستہ بات چیت، سفارتی روابط اور باہمی تعاون ہے
اسلام آباد: پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے بھارتی آرمی چیف جنرل اپیندر دویدی کے حالیہ اشتعال انگیز بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بھارتی آرمی چیف نے ایک حالیہ انٹرویو میں پاکستان کے حوالے سے “تاریخ یا جغرافیہ کا حصہ بننے” جیسا اشتعال انگیز بیان دیا، جو نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ خطے میں کشیدگی بڑھانے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
پاک فوج کے ترجمان نے خبردار کیا کہ بھارت جنوبی ایشیا کو ایک اور تنازع کی طرف دھکیلنے سے باز رہے، کیونکہ کسی بھی نئی جنگ کے نتائج پورے خطے کے لیے “تباہ کن” ثابت ہو سکتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور ایٹمی صلاحیت رکھنے والا ملک ہے، جو ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور پُرامن بقائے باہمی کا خواہاں رہا ہے، تاہم ملکی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ہر ممکن صلاحیت رکھتا ہے۔
آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ بھارت آج تک پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کر سکا اور ہندوتوا سوچ نے جنوبی ایشیا کو بارہا جنگوں اور بحرانوں کی طرف دھکیلا ہے۔
بیان میں زور دیا گیا کہ “پاکستان کو جغرافیے سے مٹانے” جیسی دھمکیاں ذہنی دیوالیہ پن اور جنگی جنون کی عکاس ہیں، جبکہ ایک ایٹمی ہمسایہ ملک کے بارے میں اس قسم کی زبان انتہائی غیر ذمہ دارانہ طرزِ فکر کو ظاہر کرتی ہے۔
پاک فوج کے مطابق ذمہ دار ایٹمی ریاستیں تحمل، تدبر اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہیں، جبکہ بھارت ماضی میں خطے میں دہشتگردی، عدم استحکام اور پروپیگنڈے کا مرکز رہا ہے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ “معرکۂ حق” میں بھارت کی ناکامی دنیا کے سامنے آ چکی ہے اور نئی اشتعال انگیزی دراصل پاکستان کو نقصان پہنچانے میں ناکامی کا اظہار ہے۔
بیان میں بھارت پر زور دیا گیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کا راستہ اختیار کرے اور خطے کو کسی نئی جنگ یا بحران کی طرف دھکیلنے سے گریز کرے۔
اسلام آباد / تہران: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطے برقرار رکھنے کی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں، جبکہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی صدر اور پارلیمنٹ کے اسپیکر سے اہم ملاقاتیں کی ہیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ “وقت تیزی سے گزر رہا ہے” اور تہران کو جلد فیصلے کرنے ہوں گے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی، جو دو روزہ دورے پر تہران پہنچے تھے، نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق صدر پزشکیان کے ساتھ ان کی ون آن ون ملاقات تقریباً 90 منٹ جاری رہی، جو صدارتی محل میں منعقد ہوئی۔
ملاقات میں ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی موجود تھے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے اس موقع پر زور دیا کہ مسلم ممالک کو مذہبی، ثقافتی اور اسٹریٹجک مشترکات کی بنیاد پر ایک دوسرے کے قریب آنا چاہیے تاکہ “بالادست طاقتوں کی جارحیت” کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک جتنا زیادہ متحد ہوں گے، بیرونی مداخلت اور جارحیت کے امکانات اتنے ہی کم ہوں گے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خطے میں امریکی موجودگی کو عدم استحکام کی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی پالیسیاں خطے میں “عدم تحفظ” کو فروغ دے رہی ہیں۔
ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے بھی خطے کی صورتحال پر قطر کے وزیراعظم سے رابطہ کیا، جبکہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر کے وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان مسلسل علاقائی ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ایران اور امریکا کے درمیان نازک جنگ بندی کو برقرار رکھا جا سکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی پاکستان کی کوششوں سے ممکن ہوئی، جس کے بعد اسلام آباد خطے میں ایک اہم سفارتی ثالث کے طور پر متحرک دکھائی دے رہا ہے۔
دریں اثنا، ایرانی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کو دی گئی تازہ تجاویز میں کوئی “واضح رعایت” شامل نہیں، جس کے باعث مذاکراتی عمل اب بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔
جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا بازار کی گلشن مارکیٹ میں پیر کے روز ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 5 افراد زخمی ہوگئے۔ دھماکہ پٹرول پمپ کے قریب پیش آیا، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
ذرائع کے مطابق دھماکہ مبینہ طور پر آئی ای ڈی کے ذریعے کیا گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز، پولیس اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے میں چیف آف ملک طارق موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، جبکہ بعد ازاں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 3 ہوگئی۔ جاں بحق افراد کی شناخت ملک طارق ولد بسم اللہ خان، ملک سرفراز ولد غلام رسول اور عبدالجبار ولد بارات خان کے ناموں سے ہوئی ہے۔
زخمی ہونے والوں میں سعید انور ولد قدرت اللہ، عمر ولد تاج محمد، راشد خان ولد پائی محمد، میر حسن ولد امان اللہ خان اور صابر ولد کل بازار شامل ہیں۔ تمام زخمیوں اور جاں بحق افراد کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں جبکہ دھماکے کی نوعیت اور ذمہ دار عناصر کے تعین کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ واقعے کے بعد وانا بازار کے متعدد حصے عارضی طور پر بند کر دیے گئے جبکہ علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
مقامی عمائدین اور شہری حلقوں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور ملوث عناصر کو فوری گرفتار کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اسلام آباد / کراچی: وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کی جانب سے ووٹ ڈالنے کی کم از کم عمر 18 سے بڑھا کر 25 سال کرنے کی تجویز سامنے آنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں، قانونی ماہرین اور سول سوسائٹی کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ ناقدین نے اس تجویز کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے کروڑوں نوجوان ووٹرز حقِ رائے دہی سے محروم ہو سکتے ہیں۔
یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب رانا ثناء اللہ نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ممکنہ 28ویں آئینی ترمیم کے تحت ووٹنگ کی عمر بڑھانے کی تجویز زیر غور ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ انتخابات لڑنے کے لیے کم از کم عمر 25 سال مقرر ہے، اس لیے ووٹ ڈالنے کی عمر بھی اسی سطح پر لانے پر بحث ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا، “اگر کوئی شخص 25 سال سے پہلے الیکشن نہیں لڑ سکتا تو یا الیکشن لڑنے کی عمر 18 سال کی جائے یا پھر ووٹ ڈالنے کی عمر 25 سال ہونی چاہیے۔”
رانا ثناء اللہ کے مطابق 25 سال کی عمر کو سیاسی و سماجی بلوغت کی علامت سمجھا جاتا ہے اور نمائندگی اور ووٹ ڈالنا دونوں یکساں ذمہ داریاں ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ ابھی صرف ایک تجویز ہے اور اسے حکومت یا مسلم لیگ (ن) کی حتمی پالیسی نہ سمجھا جائے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اس تجویز کو “سیاسی گھبراہٹ” قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی۔ پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ حکومت 18 سال کے نوجوانوں کو فوج میں بھرتی ہونے، شادی کرنے اور معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے قابل تو سمجھتی ہے، مگر انہیں اپنی حکومت منتخب کرنے کے حق سے محروم کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، “یہ وہی نوجوان ہیں جنہیں ملک کے دفاع کے لیے بالغ سمجھا جاتا ہے، لیکن ووٹ دینے کے لیے اچانک نابالغ قرار دیا جا رہا ہے۔”
قانونی ماہرین نے بھی اس تجویز پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ووٹنگ کی عمر 25 سال کی گئی تو تقریباً 23.7 فیصد ووٹرز، یعنی لگ بھگ 3 کروڑ نوجوان، انتخابی عمل سے باہر ہو جائیں گے، جو جمہوری نمائندگی کے اصولوں کے خلاف ہوگا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی آئینی تبدیلی ملک میں سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پہلے ہی شدید اختلافات موجود ہیں
اسلام آباد: حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کے اندرونی ذرائع نے عندیہ دیا ہے کہ آنے والے دنوں میں اہم آئینی تبدیلیوں کے امکانات کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا، اگرچہ حکومت کی جانب سے باضابطہ طور پر ’’28ویں آئینی ترمیم‘‘ کی تردید کی جا رہی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حالیہ گفتگو میں کہا تھا کہ ان کی جماعت کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے کسی مجوزہ آئینی ترمیم کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا، جبکہ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی یقین دہانی کرائی کہ کسی بھی آئینی تبدیلی سے قبل اتحادی جماعتوں سے مشاورت کی جائے گی۔
تاہم، حکمران اتحاد کے اندر موجود ذرائع کے مطابق پس پردہ مختلف آئینی اور انتظامی امور پر غور جاری ہے، جنہیں باضابطہ ’’آئینی ترمیم‘‘ کے بجائے ایک وسیع ’’قانون سازی پیکج‘‘ کی شکل دی جا سکتی ہے۔
سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم سے متعلق بعض شعبے دوبارہ مرکز کے دائرہ اختیار میں لانے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ ان میں نصابِ تعلیم، آبادی بہبود، معدنیات و کان کنی اور بعض انتظامی شعبے شامل بتائے جا رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت بظاہر کسی بڑی آئینی تبدیلی کی تردید کر رہی ہے، تاہم پارٹی کے اندر یہ تاثر موجود ہے کہ ’’کچھ نہ کچھ ضرور پک رہا ہے‘‘۔
ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی قیادت اس معاملے کو محتاط انداز میں آگے بڑھانا چاہتی ہے تاکہ اتحادی جماعتوں خصوصاً پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان کے تحفظات کو مدنظر رکھا جا سکے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت واقعی کسی بڑے قانون سازی پیکج یا آئینی اصلاحات کی طرف بڑھتی ہے تو اس کے ملکی سیاست، وفاقی ڈھانچے اور صوبائی خودمختاری پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے عالمی یومِ ٹیلی مواصلات و انفارمیشن سوسائٹی کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ جدید دور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی مواصلات نے دنیا کو ایک گلوبل ویلج میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں معلومات تک بروقت رسائی، مؤثر رابطے اور ڈیجیٹل سہولیات ترقی اور عوامی فلاح کے لیے ناگزیر حیثیت اختیار کر چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہر سال 17 مئی کو منایا جانے والا یہ عالمی دن 1865 میں انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے قیام کی یاد دلاتا ہے، جبکہ اس دن کا مقصد دنیا بھر میں مواصلاتی ٹیکنالوجی، جدید رابطوں اور معلومات کی منتقلی کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے تعلیم، صحت، تجارت، پارلیمانی امور اور عوامی خدمات سمیت زندگی کے ہر شعبے میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان میں جدید مواصلاتی نظام اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کے ذریعے نوجوان نسل کو عالمی سطح پر ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔
سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل شمولیت، سائبر سیکیورٹی اور جدید ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی پارلیمنٹ اور ریاستی ادارے جدید انفارمیشن سسٹمز کے فروغ، ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال اور ڈیجیٹل ترقی کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان جدید مواصلاتی نظام، ڈیجیٹل اختراعات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کے ذریعے ایک ترقی یافتہ اور مربوط معاشرے کے قیام کی جانب اپنا سفر جاری رکھے گا۔
مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے پاکستان میں ذوالحجہ 1447 ہجری کا چاند نظر آنے کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں عید الاضحیٰ بدھ 27 مئی 2026 کو مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جائے گی۔
چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد نے کراچی میں اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کے مختلف حصوں سے چاند کی معتبر اور شرعی شہادتیں موصول ہوئیں، جن کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اتفاقِ رائے سے چاند نظر آنے کا فیصلہ کیا گیا۔
مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس محکمہ موسمیات کراچی کے دفتر میں منعقد ہوا، جس میں کمیٹی اراکین کے علاوہ محکمہ موسمیات اور سپارکو کے ماہرین نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں زونل رویت ہلال کمیٹیوں کی جانب سے موصول ہونے والی شہادتوں کا شرعی اور تکنیکی بنیادوں پر جائزہ لیا گیا۔
اعلان کے مطابق پاکستان میں یکم ذوالحجہ پیر 18 مئی 2026 کو ہوگی، جبکہ یومِ عرفہ 26 مئی بروز منگل ادا کیا جائے گا اور عید الاضحیٰ 27 مئی بروز بدھ منائی جائے گی۔
اس موقع پر مولانا عبدالخبیر آزاد نے پوری قوم کو عید الاضحیٰ کی مبارکباد دیتے ہوئے دعا کی کہ یہ بابرکت مہینہ پاکستان کے لیے امن، استحکام اور خوشحالی کا باعث بنے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں سے چاند کی رویت کی متعدد معتبر شہادتیں موصول ہوئی تھیں، جن کی بنیاد پر حتمی اعلان کیا گیا۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ معرکۂ حق کے دوران پاکستانی قوم کے اتحاد، سیاسی قیادت، سفارتی حکمت عملی اور مسلح افواج کے عزم نے پاکستان کی عسکری کامیابی کو ایک بڑی سفارتی اور سیاسی فتح میں تبدیل کر دیا۔
بروکلین میں معرکۂ حق کی یاد میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ قوموں کی اصل طاقت بحران کے وقت سامنے آتی ہے اور معرکۂ حق کے دوران پوری پاکستانی قوم بھارتی جارحیت کے خلاف اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی رہی۔
انہوں نے پاکستانی عوام، سیاسی و عسکری قیادت اور افواجِ پاکستان کے غیر متزلزل اتحاد اور قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر حقائق اور اصولوں پر مبنی مؤقف پیش کیا، جسے عالمی دارالحکومتوں اور بین الاقوامی میڈیا میں بھرپور پذیرائی ملی۔
تقریب ممتاز کمیونٹی رہنما ملک خالد اعوان کی جانب سے بروکلین میں منعقد کی گئی، جس میں پاکستانی کمیونٹی کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ تقریب سے سینیٹر رانا محمود الحسن نے بھی خطاب کیا۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے وزیر اعظم کی ہدایت پر بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں اقوام متحدہ آنے والے اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وفد نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، جنرل اسمبلی کے صدر، سلامتی کونسل کے نمائندوں اور اسلامی تعاون تنظیم کے سفیروں سمیت اہم عالمی شخصیات سے ملاقاتیں کیں اور پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس بھارتی وفد نے اقوام متحدہ میں مؤثر سفارتی روابط سے گریز کیا۔ ان کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ امن، مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت کی ہے، جبکہ تنازع کے باوجود پاکستان نے ذمہ دار ریاست ہونے کا ثبوت دیا۔
انہوں نے جولائی میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاکستان کی صدارت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے “تنازعات کے پُرامن حل” سے متعلق قرارداد کی منظوری میں کلیدی کردار ادا کیا، ایسے وقت میں جب سلامتی کونسل اہم عالمی معاملات پر شدید تقسیم کا شکار تھی۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ پاکستان امن پر یقین رکھتا ہے، لیکن اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کی جانب سے خطے میں کشیدگی بڑھانے کی کوششیں اب بھی جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون سمیت بین الاقوامی شراکت داریوں کا فروغ پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کا ثبوت ہے۔
اپنے خطاب میں سینیٹر رانا محمود الحسن نے کہا کہ معرکۂ حق جیسے لمحات اقوام کی تاریخ میں بہت کم آتے ہیں، جو ان کی تقدیر اور عالمی مقام کا تعین کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی، عسکری اور سفارتی قیادت نے اس نازک مرحلے پر قوم کی توقعات پر پورا اترتے ہوئے دشمن کے عزائم ناکام بنائے۔
انہوں نے پاکستانی سفارت کاروں، خصوصاً سفیر عاصم افتخار احمد، کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مؤقف کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنا ایک بڑی سفارتی کامیابی تھی۔
سینیٹر نے کہا کہ مسئلہ جموں و کشمیر جنوبی ایشیا میں کشیدگی کی بنیادی وجہ ہے اور پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔
تقریب سے ڈاکٹر غلام مجتبیٰ، عطیہ شیراز، جاوید چوہدری، روحیل ڈار، میاں عظیم، صفدر گجر، نگہت فاروق، عظریٰ ڈار اور اقبال کھوکھر سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔
اسلام آباد: پاکستان نے چین کی مقامی بانڈ مارکیٹ میں اپنا پہلا “پانڈا بانڈ” کامیابی سے جاری کرتے ہوئے ایک اہم مالیاتی سنگ میل عبور کر لیا ہے، جسے ماہرین نے نہ صرف بیرونی فنڈنگ کے نئے دروازے کھلنے بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کے بحال ہوتے اعتماد کی علامت بھی قرار دیا ہے۔
پاکستان نے اس بانڈ کے ذریعے 1 ارب 75 کروڑ رینمنبی (چینی کرنسی) حاصل کیے، جبکہ اس پر شرحِ منافع صرف 2.5 فیصد رکھی گئی، جو پاکستان کے روایتی بیرونی قرضوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ حکومتی حکام کے مطابق اس بانڈ کو سرمایہ کاروں کی جانب سے غیر معمولی پذیرائی ملی اور طلب مقررہ حجم سے پانچ گنا زیادہ رہی۔
وزارت خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا کہ اس تاریخی بانڈ کے اجرا سے 8 ارب 80 کروڑ رینمنبی سے زائد سرمایہ کاری کی پیشکش موصول ہوئی، جو پاکستان کے معاشی استحکام اور جاری اصلاحات پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے۔ ان کے مطابق پانڈا بانڈ پاکستان کی مالیاتی حکمتِ عملی میں ایک نئے دور کا آغاز ہے، جس کا مقصد قرضوں کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنا اور عالمی سرمایہ کاروں تک رسائی بڑھانا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کئی دہائیوں سے مغربی مالیاتی اداروں اور عالمی بانڈ مارکیٹوں پر انحصار کرتا رہا ہے، تاہم پانڈا بانڈ کے ذریعے اب چین کی دوسری بڑی عالمی بانڈ مارکیٹ تک رسائی حاصل ہو گئی ہے۔ مالیاتی امور کے ماہر عبدالرحمان وڑائچ کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کو چینی مالیاتی نظام کے ساتھ مزید مربوط کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس سے مستقبل میں نجی چینی سرمایہ کاری کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان معاشی استحکام اور اصلاحات کا تسلسل برقرار رکھتا ہے تو یہ بانڈ ملک کے لیے مزید سستی بیرونی فنانسنگ کے دروازے کھول سکتا ہے۔ ان کے مطابق عالمی بانڈ مارکیٹوں میں مستقل رسائی حکومتوں کو مالیاتی نظم و ضبط، شفافیت اور بہتر گورننس پر بھی مجبور کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق صرف دو سال قبل پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے دوچار تھا، زرمبادلہ کے ذخائر کم ترین سطح پر پہنچ چکے تھے اور عالمی سرمایہ کار پاکستان سے دور ہو رہے تھے، ایسے میں 2.5 فیصد شرح پر فنڈنگ حاصل کرنا غیر معمولی پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔
تاہم اقتصادی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کامیابی کے باوجود پاکستان کی بنیادی معاشی کمزوریاں اب بھی موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بانڈ کو ایشیائی ترقیاتی بینک اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی ضمانتوں کی وجہ سے بہتر ریٹنگ حاصل ہوئی، جس سے سرمایہ کاروں کے خدشات کم ہوئے۔ اگر یہ ضمانتیں نہ ہوتیں تو پاکستان کو کہیں زیادہ شرح سود پر قرض لینا پڑتا۔
ماہرین کے مطابق پانڈا بانڈ وقتی مالیاتی ریلیف ضرور فراہم کر سکتا ہے، لیکن پائیدار معاشی بہتری کے لیے ٹیکس اصلاحات، برآمدات میں اضافہ، مالیاتی نظم و ضبط اور سیاسی استحکام ناگزیر ہیں
پشاور: فیصل کریم کنڈی نے خیبرپختونخوا کابینہ میں توسیع کی سمری منظور کر لی، جس کے تحت صوبائی حکومت میں 6 نئے وزراء، 4 مشیر اور 8 معاونین خصوصی شامل کیے جائیں گے۔
رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے کابینہ میں توسیع کے لیے سمری گورنر ہاؤس بھجوائی گئی تھی، جسے گورنر فیصل کریم کنڈی نے باقاعدہ منظوری دے دی۔ نئے اراکین کی حلف برداری کی تقریب کل بروز اتوار گورنر ہاؤس پشاور میں منعقد ہوگی۔
کابینہ میں شامل کیے جانے والے نئے وزراء میں نذیر احمد عباسی، شکیل احمد، محمد عدنان قادری، محمد عارف احمدزئی، طارق محمود آریانی اور شفیع اللہ جان شامل ہیں۔ شفیع اللہ جان اس سے قبل معاونِ خصوصی برائے اطلاعات کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
چار نئے مشیروں میں پیر مصور خان، لیاقت علی خان، ہمایوں خان اور میاں محمد عمر شامل ہیں۔
اسی طرح 8 نئے معاونین خصوصی میں طارق سعید، محمد عثمان، طفیل انجم، افتخار اللہ جان، سمیع اللہ خان، ملک عدیل اقبال، محمد خورشید اور محمد اسرا کے نام شامل کیے گئے ہیں۔
خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے کابینہ میں یہ توسیع صوبے میں انتظامی امور کو مزید مؤثر بنانے اور مختلف محکموں کی کارکردگی بہتر بنانے کے مقصد سے کی جا رہی ہے۔
پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ پارٹی کے اندر رائے کا اختلاف ایک فطری سیاسی عمل ہے، اسے تقسیم یا دھڑوں کی سیاست سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف رہنماؤں کی آرا الگ ہو سکتی ہیں، تاہم جب بات عمران خان کی ہو تو پوری جماعت ایک صف میں کھڑی نظر آتی ہے۔۔
یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پارٹی کے اندر سے بعض رہنماؤں اور ذرائع کی جانب سے یہ دعوے سامنے آئے کہ عمران خان کی طویل جیل مہم کے دوران پی ٹی آئی اب تک ایک متفقہ سیاسی حکمت عملی ترتیب دینے میں مشکلات کا شکار ہے۔ ذرائع کے مطابق احتجاجی سیاست، پارلیمانی کردار، فیصلہ سازی اور پارٹی میں مختلف اثر و رسوخ رکھنے والے حلقوں کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔
پارٹی کے بعض اندرونی ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی میں اس وقت مختلف گروپس متحرک ہیں جن میں مرکزی قیادت، عمران خان کا خاندان، پارلیمانی پارٹی، خیبرپختونخوا حکومت اور بیرون ملک مقیم سوشل میڈیا کارکن شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان حلقوں کے درمیان مؤثر رابطے اور مشترکہ فیصلوں کا فقدان پایا جاتا ہے، جس کے باعث سیاسی حکمت عملی پر اتفاق رائے میں مشکلات سامنے آ رہی ہیں۔
ذرائع نے مزید دعویٰ کیا کہ پارٹی کی سابقہ پولیٹیکل کمیٹی کو ختم کرکے نئی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جہاں اہم فیصلوں پر بحث کی جاتی ہے، تاہم حساس معاملات اکثر عمران خان کو بھجوا دیے جاتے ہیں جس سے فیصلہ سازی کا عمل سست پڑ جاتا ہے۔
پارلیمانی کردار کے حوالے سے بھی بعض پی ٹی آئی اراکین نے تحفظات کا اظہار کیا۔ ایک رکنِ اسمبلی کے مطابق پارٹی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں موجود ہونے کے باوجود پارلیمانی کمیٹیوں میں مؤثر نمائندگی حاصل نہیں کر سکی، حالانکہ اصل قانون سازی انہی کمیٹیوں میں ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کو کمیٹیوں میں فعال کردار ملے تو وہ قانون سازی پر اثر انداز ہو سکتی ہے، بصورت دیگر اسمبلی میں موجودگی کا فائدہ محدود رہ جاتا ہے۔
پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ پارٹی کو سیاسی گنجائش بڑھانے کے لیے زیادہ منظم حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ ان کے مطابق احتجاجی سیاست اور سوشل میڈیا بیانیے میں توازن پیدا کیے بغیر مطلوبہ سیاسی نتائج حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
پارٹی کے اندر بعض حلقوں کی جانب سے یہ رائے بھی سامنے آئی کہ تجربہ کار سیاسی قیادت کو زیادہ فعال کردار دینا چاہیے۔ بعض رہنماؤں نے شاہ محمود قریشی کو عمران خان کے بعد ایک اہم سیاسی شخصیت قرار دیا، تاہم وہ اس وقت جیل میں ہیں
لاہور: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ فی الحال انہیں مستقبل قریب میں 28 ویں آئینی ترمیم متعارف کرائے جانے کے کوئی واضح آثار نظر نہیں آ رہے، تاہم اگر ایسی کوئی آئینی تبدیلی لائی گئی تو وہ اتحادی جماعتوں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور اتفاق رائے سے ہی ممکن ہوگی۔
اقلیتوں کے حقوق سے متعلق ایک کانفرنس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئینی ترامیم کسی ایک جماعت کی خواہش پر نہیں بلکہ سیاسی اتفاق رائے سے ہی منظور ہوتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اتحادی شراکت داروں کو اعتماد میں لیے بغیر کسی بھی آئینی ترمیم کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔
وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری ہے، جبکہ کئی آئینی اور گورننس سے متعلق امور اب بھی زیر بحث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض معاملات کے حل کے لیے آئینی اصلاحات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے، لیکن ہر قدم وسیع تر قومی اتفاق رائے کے تحت ہی اٹھایا جائے گا۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ قانون سازی ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے اور آئینی معاملات میں تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے 18 ویں آئینی ترمیم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی تمام سیاسی جماعتوں کے باہمی اتفاق اور مشاورت سے منظور ہوئی تھی۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر قانون نے بتایا کہ بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے، ہزارہ اور سرائیکی صوبوں کے قیام جیسے معاملات بھی مختلف حلقوں میں زیر بحث ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ طویل عرصے سے بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے کیلئے آئینی اصلاحات کا مطالبہ کرتی آ رہی ہے۔
انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اتحادی حکومت کو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف انتظامی اور گورننس چیلنجز کا سامنا رہا ہے، جن کے حل کیلئے سیاسی ہم آہنگی اور متفقہ اصلاحات ناگزیر ہیں۔
راولپنڈی: پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے بھارتی آرمی چیف کے حالیہ بیان کو اشتعال انگیز، غیر ذمہ دارانہ اور خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور ایٹمی صلاحیت رکھنے والی اہم ریاست ہے، جس کے خلاف دھمکی آمیز زبان ناقابل قبول ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت آج تک پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کر سکا، جبکہ ہندوتوا سوچ نے جنوبی ایشیا کو متعدد بار جنگوں، کشیدگی اور بحرانوں کی طرف دھکیلا ہے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان کو جغرافیے سے مٹانے جیسے بیانات ذہنی دیوالیہ پن، جنگی جنون اور غیر سنجیدہ سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ کسی ایٹمی ہمسائے کو ختم کرنے کی بات کرنا انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے، جبکہ ذمہ دار ایٹمی طاقتیں ہمیشہ تحمل، تدبر اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔
آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ بھارت خطے میں دہشتگردی، عدم استحکام اور پروپیگنڈے کا ایک بڑا مرکز رہا ہے، جبکہ پاکستان کے خلاف مسلسل جارحانہ زبان اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت اپنے مذموم عزائم میں ناکام رہا ہے۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق “معرکۂ حق” میں بھارت کی ناکامی دنیا کے سامنے واضح ہو چکی ہے اور اب بھارت کو خطے کو نئی جنگ یا کسی بڑے بحران کی طرف دھکیلنے سے باز رہنا چاہیے۔
آئی ایس پی آر نے خبردار کیا کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کے نتائج محدود نہیں رہیں گے۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بھارت کو پاکستان کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی، علاقائی استحکام اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل سیکھنا ہوگا