وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کوئٹہ کے نواحی علاقے سورنج میں کوئلے کی کان میں پیش آنے والے دلخراش اور المناک حادثے میں محنت کش مزدوروں کی اموات پر گہرے دکھ، صدمے اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم نے سورنج کی کان میں خطرناک گیس بھر جانے کے باعث ہونے والے اس حادثے کو انتہائی دردناک قرار دیتے ہوئے جاں بحق ہونے والے محنت کشوں کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی ہے۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جمعہ کے روز جاری ہونے والے باضابطہ بیانیے کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) اور بلوچستان کے تمام متعلقہ امدادی اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ریسکیو اور ریلیف کارروائیوں کو بلا تعطل اور انتہائی مستعد انداز میں جاری رکھیں۔ انہوں نے کان میں پھنسے اور زخمی ہونے والے تمام مزدوروں کو بحفاظت نکالنے اور انہیں فوری بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام تر وسائل بکارِ لانے کی بھی تاکید کی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے غمزدہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لینے والے محنت کش ہمارا انتہائی قیمتی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام اور انتظامیہ کو سخت ہدایت جاری کی کہ کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی قیمتی جانوں کو محفوظ بنانے کے لیے مستقل اور فول پروف حفاظتی اقدامات فوری طور پر نافذ کیے جائیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے دلخراش واقعات کا سدِباب ممکن ہو سکے۔
پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صوبے کے دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی موجودہ صورتحال سے متعلق تازہ ترین رپورٹ جاری کر دی ہے۔ ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبے کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق قائم ہے، تاہم دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب جبکہ وزیر آباد کے مقام پر نالہ پلکھو میں درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق دریائے چناب، جہلم، راوی اور ستلج میں پانی کا بہاؤ فی الوقت نارمل سطح پر برقرار ہے۔ دریائے سندھ میں کالاباغ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 63 ہزار کیوسک اور چشمہ کے مقام پر 2 لاکھ 94 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ ڈیرہ غازی خان کی رودکوہیوں میں صورتحال بالکل معمول کے مطابق ہے۔ اس کے علاوہ وزیر آباد کے نالہ پلکھو میں پانی کا بہاؤ 3 ہزار 600 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ نارووال کے نالہ بسنتر میں نچلے درجے کی سیلابی صورتحال پیش نظر ہے۔
ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا (یا سیف انور جپہ) نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مون سون بارشوں کا چوتھا طاقتور سلسلہ 5 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ بالائی کیچمنٹ ایریاز میں متوقع شدید بارشوں کے سبب مشرقی دریاؤں اور ان سے منسلک ندی نالوں میں طغیانی اور پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد اور ملتان میں شدید اربن فلڈنگ (شہری سیلاب) جبکہ مری، گلیات اور دیگر پہاڑی سلسلوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا شدید خطرہ موجود ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے دریاؤں اور ندی نالوں کے پاٹ میں مقیم تمام شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی سخت ہدایت جاری کی ہے اور بتایا ہے کہ حکومتِ پنجاب نے متاثرہ تمام علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے ہیں جہاں خوراک، ادویات اور پینے کا صاف پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں، دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب غیر ضروری سیر و تفریح سے گریز کریں اور بچوں کو ہرگز پانی میں نہانے نہ دیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار حادثے سے بچا جا سکے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی ہسپتال منتقلی سے متعلق درخواست پر رجسٹرار آفس کی جانب سے عائد کردہ تمام اعتراضات کے خلاف دائر کی گئی چیمبر اپیل منظور کر لی ہے۔ اعلیٰ عدالت نے رجسٹرار آفس کے ابتدائی اعتراضات کو مکمل طور پر کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست کو باضابطہ کیس نمبر الاٹ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے جمعہ کے روز اپنے چیمبر میں اس اہم اپیل کی باقاعدہ سماعت کی، جس کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل عذیر کرامت بھنڈاری عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے بانی پی ٹی آئی کے وکیل کو موکل کا دستخط شدہ قانونی وکالت نامہ جمع کرانے کی ہدایت جاری کی۔
سپریم کورٹ نے رجسٹرار آفس کو باضابطہ حکم دیا کہ بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی سے متعلق اس اپیل کو فوری طور پر نمبر الاٹ کیا جائے اور اسے پہلے سے زیرِ سماعت ‘عظمیٰ خان’ کے مقدمے کے ساتھ یکجا یعنی منسلک کر دیا جائے۔ مزید برآں، چیف جسٹس نے بانی پی ٹی آئی اور عظمیٰ خان کی درخواستوں کو اعلیٰ عدلیہ میں جلد از جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا بھی منظور کر لی ہے۔
بین الاقوامی فٹ بال کی گورننگ باڈی (فیفا) کی جانب سے اپنے عالمی کپ اور دیگر اہم ترین ٹورنامنٹس کے تجارتی حصص نجی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کی تجویز کے ردِعمل میں بڑا عالمی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ یورپی ممالک نے اس منصوبے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے آنے والے فیفا عالمی کپ مقابلوں کا مکمل بائیکاٹ کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ تاریخی اور حتمی فیصلہ یورپی فٹ بال تنظیم کی 55 رکن ایسوسی ایشنز کے ایک ہنگامی آن لائن اجلاس کے دوران کیا گیا۔ واضح رہے کہ آنے والے بڑے مقابلوں میں اگلے سال برازیل میں منعقد ہونے والا خواتین کا عالمی کپ اور 2030ء میں اسپین، پرتگال اور مراکش میں طے شدہ مردوں کا عالمی کپ شامل ہیں، جن پر اب بائیکاٹ کے گہرے بادل منڈلانے لگے ہیں۔
تنازع اس وقت شروع ہوا جب فیفا نے ایک نئی قائم کردہ تجارتی کمپنی میں اپنے اقلیتی حصص بیچنے کے منصوبے کی باضابطہ تصدیق کی۔ اس منصوبے کے تحت فیفا کا مقصد اپنے بڑے مقابلوں بشمول عالمی کپ اور کلب عالمی کپ کے تجارتی امور کو اس نئی کمپنی کے ذریعے چلانا اور 21 فیصد حصص کی فروخت کے ذریعے 4.2 ارب امریکی ڈالر اکٹھا کرنا ہے تاکہ یہ رقم رکن تنظیموں کو دستیاب کی جا سکے۔ اگرچہ فیفا نے واضح کیا کہ گورننگ باڈی کی حیثیت اور اکثریت کے حصص اسی کے پاس رہیں گے، تاہم اس تجویز کو شدید ترین عالمی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یورپی فٹ بال تنظیم نے موقف اپنایا ہے کہ یہ قدم اس سرخ لکیر کو عبور کرنے کے مترادف ہے جسے کھیل کے منتظم اداروں کو کبھی پار نہیں کرنا چاہیے۔
دیگر عالمی تنظیموں نے بھی فیفا کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ شمالی و وسطی امریکہ کی فٹ بال تنظیم نے قانونی اور شفاف طریقہ کار کی عدم موجودگی پر تشویش جتائی ہے جبکہ ایشیائی فٹ بال کنفیڈریشن نے مناسب مشاورت کے بغیر معاملے کے عام ہونے پر مایوسی ظاہر کی ہے۔ دوسری جانب افریقی فٹ بال کنفیڈریشن نے تجاویز کے مطالعے کی بات کی ہے۔ ان تمام تر اعتراضات کے باوجود فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو نے منصوبے کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے اسے جمہوری عمل اور تجارتی ترقی کا اگلا قدرتی قدم قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ یورپی ٹیمیں عالمی فٹ بال کی بڑی قوت ہیں، جنہوں نے 23 میں سے 13 عالمی کپ ٹائٹل جیتے ہیں جن میں حالیہ 19 جولائی 2026ء کو فائنل میں ارجنٹائن کو شکست دے کر چیمپئن بننے والی اسپین کی ٹیم بھی شامل ہے، جس کے بعد اس ممکنہ بائیکاٹ نے فیفا پر شدید معاشی و انتظامی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرولیم مصنوعات کی جدید قیمتوں کا تعین کرتے ہوئے جمعہ (31 جولائی) کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب اضافے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور معاشی اشاریوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جزوی ترمیم کی گئی ہے۔
پٹرولیم ڈویژن اور اوگرا کے جاری کردہ نئے نرخوں کے مطابق، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 42 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 393 روپے 04 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح موٹر اسپرٹ (پیٹرول) کی قیمت میں 1 روپے 09 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے تحت پیٹرول کی نئی قیمت 336 روپے 15 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ ان نئی اور ترمیم شدہ قیمتوں کا اطلاق آج یعنی جمعرات (30 اور 31 جولائی کی درمیانی شب) رات 12 بجے سے ملک بھر میں یکساں طور پر نافذ العمل ہو جائے گا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان کے ضلع خضدار میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے جانے والے کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن پر پاک فوج اور تمام متعلقہ اداروں کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ وزیراعظم نے بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد تنظیم ‘فتنہ الہندوستان’ کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ فورسز نے ایک بار پھر اپنی بے مثال صلاحیتوں اور دلیری سے ملک کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا ہے۔
پنجشنبہ (جمعرات) کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے آپریشن کے دوران 4 خطرناک دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے اور بارودی مواد سے لدی 2 گاڑیوں کو بروقت تباہ کر کے دشمن کا بڑا دہشت گردانہ منصوبہ ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کی اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور بروقت اقدام کی شدید پذیرائی کی۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ بیرونی ایما پر پاکستان کا امن و امان تباہ کرنے اور دہشت گردی پھیلانے کی ہر مذموم کوشش کو اسی طرح خاک میں ملا دیا جائے گا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے پیغام میں پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ارضِ پاک سے دہشت گردی اور غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی شرپسندی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا یہ بلاامتیاز آپریشن اور یکسو کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوری پاکستانی قوم اپنی بہادر سکیورٹی فورسز کے پیچھے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے اور وطنِ عزیز کے امن، استحکام، خودمختاری اور سلامتی کے لیے ان کے افسران و جوانوں کی لازوال قربانیوں کو بے حد قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع خضدار میں ایک بڑی اور تیز رفتار کارروائی انجام دیتے ہوئے بھارتی پراکسی ‘فتنہ الہندوستان’ سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے شوم منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے پنجشنبہ (جمعرات) کو جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، خضدار میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیے گئے اس خصوص آپریشن کے دوران بارودی مواد سے لدی دو گاڑیاں کامیابی سے تباہ کر دی گئیں جبکہ 4 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے ترجمان نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کو علاقے میں بارودی مواد سے بھری گاڑیوں کے ساتھ خطرناک خوارجی و بھارتی حمایت یافتہ عناصر کی نقل و حرکت کی مصدقہ اطلاع ملی تھی۔ فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان گاڑیوں کو روکنے کی کوشش کی اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں گاڑیوں سمیت ان کے ڈرائیورز اور ساتھی 4 دہشت گرد موقع پر ہی مارے گئے۔ سکیورٹی فورسز نے دونوں بارودی گاڑیوں کو بروقت نشانہ بنا کر کسی بھی بڑے تباہ کن حادثے اور ممکنہ نقصان سے علاقے کو محفوظ کر لیا ہے۔ فی الوقت علاقے میں چھپے کسی بھی دوسرے ہدف یا بھارتی سرپرستی میں فعال دہشت گرد کے مکمل خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشن پوری قوت سے جاری ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے اپنے بیان میں عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وفاقی ایپکس کمیٹی برائے نیشنل ایکشن پلان کی منظوری سے شروع کیے گئے وژن ‘عزمِ استحکام’ کے تحت پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک بھر سے بلاامتیاز دہشت گردی کے خلاف برسرِ پیکار رہیں گے۔ آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ بیرونِ ملک خصوصاً بھارت کی سرپرستی، معاونت اور مالی امداد سے پاکستان میں بے گناہ شہریوں اور سکیورٹی اداروں پر حملہ کرنے والے ان تمام عناصر اور ناسور کا مکمل قلع قمع کیا جائے گا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بیرونِ ملک مقیم تمام پاکستانیوں کو ملک کا انتہائی قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ انہیں سفارتخانوں اور کونصل خانوں میں تمام ممکنہ آسانیاں اور اعلیٰ ترین سہولیات کی فراہمی حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم نے تاکید کی ہے کہ کیو آر کوڈ کی مدد سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی تمام شکایات کے براہِ راست اندراج اور ڈیجیٹائزیشن کے حوالے سے وسیع پیمانے پر آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ تمام شہری اس جدید نظام سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے سفارتخانوں میں سہولیات کی فراہمی میں اضافے، تمام سرکاری و قانونی دستاویزات کی تصدیقی عمل کی ڈیجیٹائزیشن، شکایت کے طریقہ کار کو مزید آسان بنانے اور بیرونِ ملک سے پاکستان میں معاشی و دیگر ادائیگیوں کے لیے قائم جدید ڈیجیٹل نظام سے متعلق وزارتِ خارجہ کے ایک اعلیٰ سطحی بریفنگ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے پنجشنبہ (جمعرات) کو جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزرا احد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ، چوہدری سالک حسین، شزہ فاطمہ خواجہ، وزیرِ مملکت عون چوہدری، معاونِ خصوصی طارق باجوہ اور دنیا بھر میں قائم پاکستانی سفارتخانوں کے سفرائے کرام، وزارتِ داخلہ، ایف آئی اے، اور این آئی ٹی بی سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی آسانی کے لیے پاور آف اٹارنی، جائیدادوں کی خرید و فروخت کے معاملات اور اہم دستاویزات کی تصدیق کو آسان بنانے کے لیے کیو آر کوڈ سسٹم مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت دی کہ سفارتخانوں میں کیو آر کوڈز کو نمایاں جگہوں پر آویزاں کیا جائے اور خصوصی مہم کے ذریعے اس کی افادیت کو اجاگر کیا جائے۔
بریفنگ کے دوران وزیراعظم کو بتایا گیا کہ عوام الناس اور بیرونِ ملک جانے والے شہریوں کی سہولت کے پیشِ نظر وزارتِ خارجہ اسلام آباد کے مرکزی دفتر میں حال ہی میں شام کی شفٹ کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ آسان خدمت مرکز اسلام آباد میں بھی دستاویزات کی تصدیق کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کوریئر سروسز کے ذریعے تصدیقی عمل متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اس نظام کو ہائر ایجوکیشن کمیشن ، انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن ، نادرا اور نیشنل پولیس بیورو کے مرکزی ڈیٹا بیس سے منسلک کر دیا گیا ہے جس سے تصدیقی مراحل کی رفتار میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ حکام نے بتایا کہ اپوسٹائل کنونشن کے تحت دستاویزات کی تصدیق کو ‘ون سٹیپ’ کر دیا گیا ہے اور نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے ایک جدید موبائل ایپلی کیشن بھی تیار کی جا رہی ہے، جس کے ذریعے برتھ، ڈیتھ، میرج اور فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹس کی گھر بیٹھے ڈیجیٹل تصدیق ممکن ہو سکے گی۔
وفاقی آئینی عدالت نے ملک کے قانونی اور عدالتی نظام میں فیصلوں کے حتمی ہونے اور ملازمین کے بنیادی حقوق کے حوالے سے ایک انتہائی اہم، تاریخی اور سنگِ میل فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ چیف جسٹس آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان، جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل اعلیٰ سطحی تین رکنی بینچ نے ‘محمد اکرم بنام نیشنل بینک آف پاکستان’ کے اہم مقدمے کا محفوظ شدہ تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بینچ کا فیصلہ مکمل طور پر کالعدم قرار دے دیا ہے۔ وفاقی آئینی عدالت نے اپنے اس فیصلے میں صراحت کے ساتھ قرار دیا ہے کہ قانون کے تحت مقررہ مدت گزر جانے کے بعد دائر کی گئی نظرثانی درخواست کو بنیاد بنا کر کسی بھی حتمی عدالتی فیصلے کو بالواسطہ طور پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ قانون کسی بھی فریق کو اس بات کی اجازت ہرگز نہیں دیتا کہ وہ مقررہ وقت گزرنے کے بعد مختلف قانونی فورمز کے ذریعے کسی حتمی فیصلے کو غیر مؤثر بنانے یا ختم کرنے کی کوشش کرے۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلہ کن حکم میں واضح کیا کہ لیبر کورٹ کا 18 اپریل 2008ء کا فیصلہ حتمی قانونی حیثیت اختیار کر چکا ہے، اس لیے اس میں دی گئی تمام تر ہدایات کو دوبارہ کھولا یا چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ وفاقی آئینی عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں پنشن کے بنیادی حقوق پر انتہائی اہم قانون سازی و تشریح کرتے ہوئے قرار دیا کہ پنشن اور ریٹائرمنٹ کے تمام مالی فوائد کسی بھی ریٹائرڈ ملازم کا ایک مستحکم، باقاعدہ قابلِ نفاذ اور بنیادی قانونی حق ہیں جنہیں کسی مجاز عدالت کے واضح حکم کے بغیر ہرگز نہیں روکا جا سکتا۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پنشن کی ادائیگی میں کسی بھی قسم کی بلاجواز تاخیر یا غیر قانونی رکاوٹ ڈالنا نہ صرف ملازم کے قانونی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے بلکہ یہ اعلیٰ عدلیہ کے ثابت شدہ فیصلوں سے انحراف اور صریح توہینِ عدالت کے مترادف بھی ہو سکتی ہے۔
مقدمے کے قانونی حقائق کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کو 2008ء میں بحالی کا حکم دیا گیا تھا، تاہم اداروں کی جانب سے مختلف پیچیدہ قانونی کارروائیوں کے باعث وہ اپنے مکمل پنشن اور دیگر جائز ریٹائرمنٹ فوائد سے محروم رہا۔ عدالت نے تمام تر ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ درخواست گزار محمد اکرم کی 1992ء سے 2017ء تک کی تقریباً 25 سالہ طویل ملازمت پنشن کے لیے مکمل طور پر قابلِ شمار ہے اور اس کی سابقہ تمام سروس کو بھی پنشن کے حساب کتاب میں لازمی شامل کیا جائے گا۔ عدالت نے اہم قانونی اصول پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قانون کا مسلمہ اصول ہے کہ جو کام براہِ راست نہیں کیا جا سکتا، وہ بالواسطہ بھی نہیں کیا جا سکتا اور مقدمات و قانونی تنازعات کا کسی نہ کسی مرحلے پر اختتام پذیر ہونا قانون کا بنیادی مقصد ہے۔ وفاقی آئینی عدالت نے درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے اسے منظور کر لیا اور لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے لیبر کورٹ کے 2008ء کے فیصلے پر فوراً عملدرآمد کا حکم جاری کر دیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں پولیس چیک پوسٹ پر فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی جانب سے کیے جانے والے مذموم اور بزدلانہ حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وزیراعظم نے اس ناخوشگوار واقعے کے نتیجے میں فرض کی راہ میں جامِ شہادت نوش کرنے والے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) دیار خان سمیت تمام 9 پولیس اہلکاروں کی عظیم قربانی پر گہرے دکھ، صدمے اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے پنجشنبہ (جمعرات) کے روز جاری ہونے والے باضابطہ بیانیے کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے شہدائے پولیس کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی اور ان کے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے صبرِ جمیل کی التجا کی ہے۔ وزیراعظم نے اس حملے میں شدید زخمی ہونے والے دیگر پولیس اہلکاروں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے ان کی جلد اور مکمل صحت یابی کی بھی دعا کی ہے۔
حملے کے فوری بعد پولیس کی بروقت اور جرات مندانہ جوابی کارروائی پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خیبر پختونخوا پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بہادری کو شدید سراہا، جس کے نتیجے میں فتنہ الخوارج کے 15 سفاک دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک کر دیے گئے۔ وزیراعظم نے خیبر پختونخوا پولیس کے جوانوں کی شجاعت کی پذیرائی کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کی لعنت کے خلاف جنگ میں ہماری پولیس فورس نے ہمیشہ ہراول دستے کا تاریخی اور بے مثال کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام تر چیلنجز کے باوجود حکومت اور تمام قومی ادارے ملک عزیز سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل، حتمی اور جذری خاتمے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں اور شہدا کی یہ عظیم قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔
چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے پاکستان پیپلز پارٹی ضلع ہری پور کے سینئر نائب صدر گل حبیب خان کے ناگہانی انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ سینیٹر روبینہ خالد نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ گل حبیب خان کی وفات پارٹی کے لیے ایک بہت بڑا اور ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
پنجشنبہ (جمعرات) کو جاری کردہ اپنے باضابطہ تعزیتی پیغام میں سینیٹر روبینہ خالد نے مرحوم کی سیاسی و عوامی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ گل حبیب خان ایک مخلص، نظریاتی اور انتہائی وفادار جیالے تھے۔ انہوں نے اپنی تمام تر سیاسی زندگی پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور، نظریے اور کارکنوں کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی اور ان کی یہ شاندار خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
سینیٹر روبینہ خالد نے گل حبیب خان کی وفات پر ان کے غمزدہ اہلِ خانہ، عزیز و اقارب اور پاکستان پیپلز پارٹی کے تمام کارکنان سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو یہ صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے اور مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی کے ڈائریکٹوریٹ آف کوالٹی انہانسمنٹ کے زیرِ اہتمام ‘انسٹیٹیوشنل کوالٹی سرکل بورڈ’ کا پہلا باضابطہ اجلاس وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان کی زیرِ صدارت انعقاد پذیر ہوا۔ اس اہم انتظامی و تدریسی اجلاس میں یونیورسٹی کے تمام ڈینز، ڈائریکٹرز، مختلف شعبہ جات کے چیئرمینز، انتظامی سربراہان اور اکیڈمک و ایڈوانسڈ سٹڈیز کے نمائندگان نے شرکت کی۔
اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان نے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی معیار کے فروغ کے لیے مسلسل بہتری، شفافیت، کلیدی کارکردگی اشاریوں کے ذریعے کارکردگی کا مؤثر جائزہ، تحقیق، اختراع اور ادارہ جاتی اشتراک کا فروغ ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یونیورسٹی کو قومی و بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک مثالی اعلیٰ تعلیمی ادارہ بنانے کے لیے معیار کی بہتری کے تمام ضروری اقدامات کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔
اجلاس کے دوران تعلیمی و معیاری یقین دہانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے، تدریسی و انتظامی کارکردگی میں بہتری، تدریس و تعلیم کے نتائج کو مؤثر بنانے اور ہائر ایجوکیشن کمیشن سمیت دیگر منظور شدہ ایکریڈیٹیشن اداروں کے مقرر کردہ معیارات پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانے کے حوالے سے مختلف حکمت عملیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈائریکٹر کوالٹی انہانسمنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد جاوید اسد نے شرکاء کو اجلاس کے ایجنڈے پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس کے اختتام پر متعدد قابلِ عمل سفارشات کی منظوری دی گئی اور اقدامات کی مسلسل نگرانی کے لیے فالو اپ میکنزم بھی منظور کیا گیا۔
گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے درمیان مواصلاتی روابط اور سیاحت کو اہم فروغ دینے والی 153 کلومیٹر طویل چترال-بونی-مستوج-شندور شاہراہ (قومی شاہراہ N-140) کے تمام چاروں تعمیراتی پیکیجز کو دسمبر 2026ء تک مکمل کرنے کا نیا ہدف مقرر کر دیا گیا ہے۔ ‘ویلتھ پاکستان’ کو دستیاب ہونے والی اہم سرکاری دستاویزات کے مطابق، منصوبے کی بر وقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے مالی سال 2026-27 کے لیے مزید 4 ارب 20 کروڑ (4.2 ارب) روپے کی فنڈنگ درکار ہوگی۔ یاد رہے کہ مئی 2020ء میں اس سڑک کو وفاقی تحویل میں لے کر قومی شاہراہ این-140 کا درجہ دیا گیا تھا، جس کے بعد اس اہم شاہراہ کو چار مختلف تعمیراتی پیکیجز میں تقسیم کر کے باقاعدہ کام شروع کیا گیا۔ دستاویزات کے مطابق، اب تک اس بڑے ترقیاتی منصوبے پر مجموعی طور پر 6 ارب 59 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ مالی سال 2025-26 کے دوران 1.5 ارب روپے مختص کیے گئے تھے اور اسی سال 5.5 ارب روپے کی اضافی ضرورت بھی پیش آئی تھی۔
منصوبے کی انتظامی اور جسمانی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے تو ضلع لوئر چترال میں پریت سے بونی تک کا پیکیج 1 (38.965 کلومیٹر) چاروں حصوں میں سب سے آگے ہے، جس پر اب تک 47.54 فیصد تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے۔ نومبر 2021ء میں شروع ہونے والے اس حصے کی لاگت 2.67 ارب سے بڑھا کر 2.74 ارب روپے کر دی گئی ہے اور اس کا ہدف بھی اب دسمبر 2026ء ہے۔ اسی ضلع میں واقع پیکیج 2 (پریت تا بونی، 39.723 کلومیٹر) پر 34.77 فیصد کام مکمل ہوا ہے اور اس کی تعدیل شدہ لاگت 2.81 ارب روپے رکھی گئی ہے۔ دونوں پیکیجز کی ابتدائی تکمیل کی تاریخ نومبر 2023ء تھی، جسے فنڈز اور انتظامی توازن کی خاطر بڑھایا گیا ہے۔
ضلع اپر چترال کے پیکیجز کا احوال بھی دستاویزات میں واضح کیا گیا ہے۔ پیکیج 3 (بونی تا شیداس، 36.14 کلومیٹر) پر نومبر 2021ء سے جاری کام میں 38.16 فیصد جسمانی پیش رفت حاصل کی جا چکی ہے اور اس کی لاگت 2.61 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔ جبکہ آخری اور چوتھا پیکیج (شیداس تا شندور، 37.782 کلومیٹر) اگست 2022ء میں شروع ہوا تھا، جس پر اب تک 29.78 فیصد کام ہوا ہے اور اس کی لاگت 2.93 ارب روپے طے کی گئی ہے۔ شاہراہ این-140 کی دسمبر 2026ء تک حتمی تکمیل سے ناصرف چترال اور شندور کے دشوار گزار علاقوں میں سفر آسان اور محفوظ ہوگا بلکہ خطے میں سیاحت اور مقامی معیشت کو نئی جلا ملے گی۔
سعودی عرب میں باز پروری، روایتی کھیل اور فالکنری کی اعلیٰ ترین بین الاقوامی مارکیٹ کو مزید وسعت دینے کے لیے سعودی حکام اور ‘انٹرنیشنل فالکن بریڈرز آکشن’ نے اپنے 2026ء ایڈیشن کے لیے ایک جدید اور انقلابی پالیسی فریم ورک کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ نئے اور باضابطہ قواعد و ضوابط کے تحت، آئندہ صرف انہی بازوں (فالکنز) کو سعودی عرب میں منعقد ہونے والی مقامی اور بین الاقوامی فالکن چِک ریسنگ اور مختلف دیگر مقابلوں میں حصہ لینے کا قانونی اہل قرار دیا جائے گا جو اس رسمی نیلامی کے ذریعے خریدے گئے ہوں گے۔ اس دور رس اور منفرد اقدام کا بنیادی مقصد باز پالنے والوں (بریڈرز)، بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور خواہش مند خریداروں کے لیے مارکیٹ میں نئے معاشی مواقع پیدا کرنا اور خریداروں کی دلچسپی کو مزید بڑھا کر تجارتی سرگرمیوں کو تاریخی اوج پر پہنچانا ہے۔
نئے قوانین و قواعد کے طریقہ کار کے مطابق، انٹرنیشنل فالکن بریڈرز آکشن کی نیلامی کے ذریعے خریدا جانے والا ہر نیا پرندہ لاگو قوانین کے تحت تمام ریسنگ کیٹیگریز میں حصہ لینے کی سند اور اہلیت خود بخود حاصل کر لے گا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں اب شاہی مملکت کے اندر خرید و فروخت کے تمام معاشی فیصلے ‘نیشنل سینٹر فار فالکنز’ کے زیرِ اہتمام یا مشترکہ طور پر منعقد ہونے والے مقابلے اور ریسنگز کے ساتھ براہِ راست منسلک ہو چکے ہیں۔ واضح رہے کہ ان تمام اعلیٰ سطحی اور معتبر مقابلوں میں کل انعامی رقم کو تقریباً 13.33 ملین امریکی ڈالر تک بڑھا دیا گیا ہے، جو کہ دنیا بھر کے شائقین کے لیے ایک بے نظیر اور کشش کا باعث رقم ہے۔
اس نئی ترغیبی پالیسی کے نفاذ سے نیلامی میں سرمایہ کاروں اور خریداروں کا حجم اور تجارتی کشش انتہائی تیز رفتاری سے بڑھنے کی توقع ہے۔ صنعت کے ماہرین کا ماننا ہے کہ محض نسل، جینیاتی افزائش کے معیار اور پرندے کی ابتدائی قیمت کے علاوہ، اب ممکنہ خریدار فالکن کی بہترین ریسنگ صلاحیت، پرواز کی استعداد اور اس کی مخصوص نسل کی عمومی کارکردگی کا بھی گہرا جائزہ لیں گے۔ اس اقدام سے خصوصی طور پر ‘میلواہ ریسنگ’ کیٹیگری کے لیے موزوں اور سستے و معیاری فالکنز کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوگا۔ دوسری جانب اعلیٰ نسل اور تیز ترین رفتار کے حامل پرندوں کی افزائشِ نسل کو بین الاقوامی سطح پر فروغ ملے گا جو خطے میں فالکنری کی معاشی و ثقافتی صنعت کو ایک نیا نکتہِ عروج عطا کرے گا
اقوامِ متحدہ/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سلامتی کونسل میں بنیادی و ادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق جاری بین الحکومتی مذاکرات کے عمل کو آئندہ ستمبر میں شروع ہونے والے 81 ویں اجلاس کے دوران بھی تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے کا اہم، متفقہ اور حتمی فیصلہ صادر کر لیا ہے۔ پاکستان نے جنرل اسمبلی کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس اصلاحاتی عمل اور بین الحکومتی مذاکرات کو 15 رکنی سلامتی کونسل کو دنیا بھر کی زیادہ سے زیادہ اقوام کے لیے مؤثر، جمہوری اور حقیقی معنوں میں نمائندہ بنانے کے لیے “واحد بااعتماد اور جائز فورم” قرار دیا ہے اور تمام ارکان پر اپنے شدید ترین سیاسی اختلافات کو کم سے کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نو تعینات یا مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے 193 رکنی جنرل اسمبلی سے اپنا اہم خطاب پیش کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کا اصلاحاتی عمل اقوامِ متحدہ کے سامنے درپیش انتہائی اہم ترین اور حساس ادارہ جاتی اقدامات میں سے ایک ہے۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بغیر کسی ووٹنگ کے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ ستمبر 2026ء سے شروع ہونے والے 81 ویں اجلاس کے دوران اصلاحاتی بات چیت کا یہ عمل باقاعدگی سے جاری رہے گا۔ یاد رہے کہ اصلاحات اور مذاکرات کا یہ عمل اب اپنے 18 ویں سال میں باقاعدہ داخل ہو چکا ہے، جس کے دوران 17 طویل ادوار مکمل ہونے کے باوجود اصلاحات سے متعلق کئی بنیادی پہلوؤں پر تاحال کامل اتفاقِ رائے حاصل نہیں کیا جا سکا ہے۔ سلامتی کونسل کے تمام پانچ بنیادی شعبوں بشمول رکنیت کے زمرے، ویٹو کا طریقہ کار و استعمال، علاقائی متناسب نمائندگی، توسیع شدہ سلامتی کونسل کا حتمی سائز اور جنرل اسمبلی کے ساتھ کونسل کے تعلقات پر گہرا تبادلہِ خیال جاری ہے۔ اس وقت سلامتی کونسل 5 مستقل اور 10 غیر مستقل ارکان پر مشتمل ہے، جن میں تبدیلی اور توسیع پر مختلف ممالک کے واضح اور برعکس گروپس بنے ہوئے ہیں۔
اصلاحات کے اس عمل میں بھارت، برازیل، جرمنی اور جاپان پر مشتمل ‘گروپ آف فور’ سلامتی کونسل میں اپنے لیے نئی مستقل نشستوں کے حصول کا مطالبہ کرتے ہوئے کل 10 نئی نشستیں چاہتے ہیں۔ تاہم دوسری جانب اٹلی اور پاکستان کی بھرپور قیادت میں فعال ‘یونائٹنگ فار کنسنسس’ گروپ نے کسی بھی ملک کو اضافی مستقل نشستیں دینے کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے اور طویل المدت کے لیے منتخب ہونے والی ایسی نئی غیر مستقل نشستوں کا حل تجویز کیا ہے جن پر جمہوری طریقے سے دوبارہ انتخاب ممکن بنایا جا سکے۔ پاکستانی مندوب عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ اصلاحات کا مقصد خودمختار مساوات، جمہوریت اور احتساب ہونا چاہیے، نہ کہ ایک قسم کی اجارہ داری کو ختم کر کے دوسری قسم کی خصوصی مراعات پر مبنی اجارہ داری قائم کرنا۔ انہوں نے مذاکراتی شریک سربراہان (کویت اور نیدرلینڈز) کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے حتمی عزم دہرایا کہ پاکستان “سب کے لیے اصلاحات، کسی کے لیے خصوصی مراعات نہیں” کے رہنما اصول پر قائم رہے گا۔
پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی خصوصی ہدایات اور قیادت میں محکمہ تحفظِ جنگلی حیات و پارکس پنجاب نے صوبہ بھر میں تحویل اور تحفظ شدہ جنگلی جانوروں و پرندوں کی غیر قانونی خرید و فروخت اور ان کے ناجائز استعمال کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے۔ اس صوبائی کریک ڈاؤن کے دوران مختلف اضلاع میں کامیاب اور تیز رفتار عملی کارروائیاں انجام دی گئی ہیں، جن کے نتیجے میں لاہور کے علاقے سوئے آصل کے ایک نجی بریڈنگ فارم سے چیتے کا بچہ بحفاظت بازیاب کرایا گیا جبکہ نایاب پرندوں کی غیر قانونی تجارت اور شکار میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات درج کر کے متعدد ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق، پہلی بڑی اور اہم کارروائی لاہور کی تحصیل ماڈل ٹاؤن کے علاقے سوئے آصل میں کی گئی۔ ایک نجی بریڈنگ فارم میں چیتے کا کم سن بچہ غیر قانونی طور پر رکھنے کی باوثوق اطلاع ملنے پر ایڈیشنل چیف وائلڈ لائف رینجر سنٹرل زون مدثر حسن کی ہدایت پر کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ ڈپٹی چیف وائلڈ لائف رینجر لاہور ریجن سخی محمد جوئیہ کی سربراہی میں اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر لاہور محمد وسیم نے سفاری زو لاہور کی خصوصی ویٹرنری ٹیم کے ساتھ سرچ وارنٹ حاصل کرنے کے بعد نجی فارم پر چھاپہ مارا۔ چھاپے کے دوران غیر قانونی طور پر رکھا گیا چیتے کا بچہ بحفاظت تحویل میں لے کر فوری طبی نگہداشت کے لیے سفاری زو لاہور منتقل کر دیا گیا، جبکہ قانون کی خلاف ورزی پر ملزم کے خلاف تھانہ کاہنہ میں باقاعدہ ایف آئی آر درج کروا کر قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
محکمہ وائلڈ لائف نے دوسری کامیاب کارروائی ضلع سیالکوٹ میں انجام دی، جہاں اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر سیالکوٹ عقیل امجد نے اپنی ٹیم کے ہمراہ گانیدار طوطوں کی غیر قانونی تجارت اور بلیک مارکیٹنگ میں ملوث ایک ملزم کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ کارروائی کے دوران ملزم کے قبضے سے 5 عدد نایاب گانیدار طوطے برآمد کیے گئے۔ ملزم کے خلاف مقالمی تھانے میں مقدمہ درج کراتے ہوئے برآمد شدہ تمام طوطوں کو فوراً قدرتی ماحول میں آزاد کر دیا گیا۔ اسی طرح وہاڑی میں اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر کلیم سرفراز نے اپنی ٹیم کے ساتھ سائفن کے علاقے میں چھاپہ مار کر بٹیر کے غیر قانونی شکار کے لیے استعمال ہونے والے 2 عدد نیٹنگ گئیرز برآمد کر کے قبضے میں لے لیے اور قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا ہے۔ سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے تمام ٹیموں کی بروقت کارروائیوں کو سراہتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پنجاب میں جنگلی حیات کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے وزارتِ منصوبہ بندی کی ماہانہ ترقیاتی رپورٹ برائے جولائی 2026ء کے باضابطہ اجرا اور نئے مالی سال 2026-27 کے لیے اہداف و حکمتِ عملی کے آغاز پر میڈیا سے تفصیلی گفتگو کی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ غیر یقینی عالمی حالات، جغرافیائی کشیدگی، توانائی کی عالمی رسد میں رکاوٹوں اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود پاکستان معاشی استحکام کے سفر کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی اولین ترجیح مشکل فیصلوں سے حاصل ہونے والے معاشی استحکام کو ہر قیمت پر برقرار رکھتے ہوئے اسے پائیدار ترقی، سرمایہ کاری، روزگار اور عوامی خوشحالی میں تبدیل کرنا ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ معاشی استحکام عوام کی قربانیوں، بہتر مالی نظم و ضبط اور مؤثر معاشی فیصلوں کا نتیجہ ہے، اور “اڑان پاکستان” کے تحت اس معاشی استحکام کو مشترکہ خوشحالی میں تبدیل کرنے کی رفتار مزید تیز کی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے معاشی حقائق پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی معیشت نے مضبوط بحالی کا مظاہرہ کیا اور شرحِ نمو 3.2 فیصد سے بڑھ کر 3.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس دوران زرعی شعبے کی شرحِ نمو 2.9 فیصد، صنعتی شعبے کی 3.5 فیصد جبکہ خدمات کے شعبے کی شرحِ نمو 4.1 فیصد رہی، جس سے مجموعی معاشی سرگرمیوں میں نمایاں بہتری آئی۔ جولائی تا مئی لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں 5.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ 22 میں سے 16 بڑے صنعتی شعبوں نے مثبت ترقی دکھائی اور گاڑیوں کی صنعت میں 58.8 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی قیمتوں کے دباؤ کے باوجود مہنگائی کی شرح مقررہ ہدف سے کم رہی، جبکہ ترسیلاتِ زر 8.6 فیصد اضافے کے ساتھ 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اشیا و خدمات کی مجموعی برآمدات 40.9 ارب ڈالر رہیں اور جاری کھاتوں کا خسارہ صرف 139 ملین ڈالر تک محدود رہا۔ بین الاقوامی اداروں نے بھی پاکستان کی معاشی اصلاحات اور زرمبادلہ ذخائر میں بہتری کا اعتراف کیا ہے۔ مالی سال 2026-27 کے لیے شرحِ نمو کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ آئندہ معاشی ترقی کا انحصار پیداواری صلاحیت، برآمدات، سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور نجی شعبے کے فعال کردار پر ہوگا۔ حکومت قوتِ خرید کے تحفظ، غربت میں کمی، کمزور طبقات کی معاونت اور نوجوانوں کے لیے روزگار کی فراہمی کو اولیت دے رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اوگرا کی مقررہ قیمتوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا اور ناجائز منافع خوری و ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ مالیاتی محاذ پر ایف بی آر کی محصولات 11.7 کھرب روپے سے بڑھ کر 13 کھرب روپے ہو گئیں، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے 15.2 کھرب روپے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران سی ڈی ڈبلیو پی کے 21 اجلاسوں میں 192 منصوبوں کی منظوری دی گئی جبکہ 96 ایکنک کو بھیجے گئے، جن سے تقریباً 2 لاکھ 89 ہزار براہِ راست اور 4 لاکھ 24 ہزار بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور جائزہ کاری سے قومی خزانے کو 12.6 ارب روپے کی بچت ہوئی۔
تعلیم، نوجوانوں اور بین الاقوامی تعاون پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کو صنعتی انقلابات 4.0 اور 5.0 کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے نصاب کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور “یو ایس-پاکستان نالج کوریڈور” کو دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے۔ حالیہ دورۂ امریکہ کے دوران یونیورسٹی آف الینوائے نے پاکستان میں اپنا کیمپس قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “اڑان پاکستان” کے تحت 2029ء تک قومی برآمدات کو 63 ارب ڈالر تک لے جانے کے ہدف پر کام جاری ہے، جبکہ پاکستان نے ترکیہ، ازبکستان اور ڈنمارک کے ساتھ زراعت، تعلیم، تجارت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے اختتام پر کہا کہ جو معیشت چند برس قبل دیوالیہ پن کے دہانے پر تھی، وہ آج پائیدار بحالی اور استحکام کی راہ پر گامزن ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے ایک اعلیٰ سطحی اور اہم ملاقات کی، جس میں وزارتِ قومی صحت کے زیرِ انتظام چلنے والے مختلف ترقیاتی امور، عوامی بہتری کے پالیسی اقدامات اور درپیش چیلنجز پر تفصیل کے ساتھ گفتگو کی گئی۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے پنجشنبہ (جمعرات) کو جاری کردہ باضابطہ اور انتظامی اعلامیے کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران وفاقی وزیر برائے قومی صحت نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو وزارت کے تحت ملک بھر میں جاری صحت کے فلاحی و بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور عام شہریوں کو موثر طبی امداد کی فراہمی سے متعلق آگاہ کیا۔ ملاقات کے ماحول میں جہاں شعبہ صحت کی کارکردگی مرکزی نقطہ رہی، وہیں ملک کی مجموعی اور موجودہ سیاسی صورتِ حال اور حکومتی پالیسیوں پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی۔
ملاقات کے دوران وفاقی وزیر سید مصطفیٰ کمال نے وزیراعظم کو وزارتِ قومی صحت کی جانب سے ملک بھر میں مختلف وبائی و شدید بیماریوں کی روک تھام اور ان کے تدارک کے لیے اٹھائے گئے خصوصی اور ہنگامی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ پیش کی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ وفاقی سطح پر صحت کے نظام میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت، ہسپتالوں میں ادویات کی بلا تعطل فراہمی اور بنیادی مراکزی صحت کو بہتر بنانے کے لیے حکمتِ عملی پر کام جاری ہے۔ وزیراعظم نے ہیلتھ سیکٹر کی کارکردگی میں بہتری لانے اور بیماریوں کے کنٹرول کے لیے جاری اقدامات کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ عوام الناس کو معیاری، ارزاں اور جدید ترین طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کسر نہ چھوڑی جائے اور تمام جاری منصوبوں کو وقتِ مقررہ پر مکمل کیا جائے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملک کے فوجداری نظامِ عدل، تعزیراتِ پاکستان کی تشریح اور قتلِ عمد کے مقدمات کی درجہ بندی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم، دور رس اور جامع قانونی اصول قائم کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے سنگِ میل فیصلے میں صراحت کے ساتھ قرار دیا ہے کہ اگر کسی بھی قتل کا ناخوشگوار واقعہ فریقین کے درمیان کسی دیرینہ و طویل دشمنی، سابقہ منصوبہ بندی یا ثابت شدہ قانونی و حتمی محرک کے بغیر محض موقع پر اچانک پیدا ہونے والی شدید اشتعال انگیزی یا کشیدگی کی کیفیت میں پیش آئے، تو ایسے مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی سخت ترین دفعہ 302(بی) کے تحت سزا دینے کے بجائے نسبتاً معتدل اور حالات کی مطابقت رکھنے والی دفعہ 302(سی) کا قانونی اطلاق کیا جانا بالکل جائز اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس اہم طے شدہ قانونی اصول کا اطلاق کرتے ہوئے ایک نوعمر ملزم محمد ناصر حسین کی جانب سے دائر کردہ جیل پٹیشن کو باقاعدہ اپیل میں تبدیل کیا اور اسے جزوی طور پر منظور کر لیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے لاہور ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کی جانب سے ملزم کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کو باضابطہ طور پر منسوخ اور ختم کرتے ہوئے اسے 14 سال قید با مشقت کی سزا میں تبدیل کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فاضل جج جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی جانب سے تحریر کردہ اس اہم اور تفصیلی فیصلے میں کیس کے تمام شواہد، قانونی پہلوؤں اور استغاثہ کے دلائل کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے۔
مقدمے کے باقاعدہ ریکارڈ اور استغاثہ کے مطابق یہ ناخوشگوار واقعہ سال 2018ء میں خانیوال کی تحصیل میان چنوں کی حدود میں پیش آیا تھا، جہاں ایک شدید گھریلو تنازع اور تکرار کے دوران اس وقت کے نوعمر و نابالغ ملزم نے چاقو کے دو پے در پے وار کر کے مقتول ظہور احمد کو شدید زخمی کر دیا تھا جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا تھا۔ واقعے کے بعد مقامی ٹرائل کورٹ نے تمام تر سماعت کے بعد ملزم محمد ناصر حسین کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302(بی) کے تحت قصوروار ٹھہراتے ہوئے عمر قید اور دو لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں اپیل دائر کیے جانے پر لاہور ہائیکورٹ نے بھی ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو بالکل درست قرار دیتے ہوئے عمر قید کی اس سزا کو برقرار رکھا تھا، جس کے خلاف ملزم نے جیل کے ذریعے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے فیصلے میں تفصیلی تجزیہ پیش کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگرچہ عینی شاہدین کی گواہی اور طبی معائنے کی رپورٹس سے ملزم کی جانب سے چاقو کے مہلک وار کا ارتکاب ثابت ہوتا ہے، تاہم کیس کے مجموعی عدالتی ریکارڈ کا بغور مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں اور واضح ہے کہ فریقین کے مابین کوئی پرانی یا دیرینہ دشمنی سرے سے موجود ہی نہیں تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ استغاثہ اپنے پیش کردہ مبینہ محرک کو بھی معقول اور ٹھوس شواہد کے ذریعے ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے اور یہ واضح ہوتا ہے کہ پورا واقعہ اچانک پیدا ہونے والی شدید کشیدگی کے نتیجے میں رونما ہوا۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلہ کن مشاہدے میں لکھا کہ ملزم، جو کہ جرم کے ارتکاب کے وقت قانونی طور پر نابالغ اور کم عمر تھا، اپنی والدہ کو مقتول کے ساتھ تلخ کلامی اور جھگڑتے ہوئے دیکھ کر شدید جذباتی و نفسیاتی صدمے اور اچانک اشتعال کا شکار ہو گیا۔ ملزم نے اس لمحے اپنا آپے سے باہر ہو کر ذہنی توازن کھو دیا اور کسی سابقہ سوچ یا منصوبہ بندی کے بغیر فوراً چاقو سے حملہ کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ محض ایک اچانک حادثاتی کشیدگی کا نتیجہ ہے، لہٰذا یہ ‘قتلِ عمد’ کی وہ سخت ترین قانونی صورت نہیں بنتی جس پر دفعہ 302(بی) کا اطلاق کیا جا سکے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ یہ مقدمہ قانوناً دفعہ 302(سی) کی تمام تر چاروں حدود و قیود میں پورا اترتا ہے، اسی بنا پر ملزم کی عمر قید کی سزا ختم کر کے 14 سال قید بامشقت تجویز کی جاتی ہے، جبکہ دو لاکھ روپے ہرجانہ، عدم ادائیگی پر اضافی قید اور ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 382-بی (جس کے تحت جیل میں گزاری گئی سابقہ مدت سزا میں شمار ہوتی ہے) کا فائد بحال رکھا گیا ہے۔
پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صوبے بھر میں مون سون کے جاری نئے سلسلے سے متعلق تازہ ترین اطلاعات و احصائی اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں، جن کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ پنجاب کے بیشتر اضلاع میں تیز اور متعدل مون سون بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق صوبے بھر میں سب سے زیادہ بارش ضلع خوشاب کے علاقے نورپور تھل میں 52 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔ دوسری جانب صوبائی دارالحکومت لاہور کے مختلف علاقوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ مائل بہ کرم بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا، جس کے تحت تاج پورہ میں 28 ملی میٹر، جوہر ٹاؤن میں 24 ملی میٹر، پانی والا تالاب کے علاقے میں 20 ملی میٹر، لکشمی چوک میں 16 ملی میٹر جبکہ مناواں میں 12 ملی میٹر تک بارش باضابطہ طور پر ریکارڈ کی گئی، جس سے درجہ حرارت میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔
صوبے کے دیگر اضلاع اور شہروں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو سیالکوٹ ایئرپورٹ کے علاقے میں 26 ملی میٹر، گوجرانوالہ میں 21 ملی میٹر، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 15 ملی میٹر، ملک کے معروف پہاڑی تفریحی مقام مری میں 7 ملی میٹر، جڑواں شہر راولپنڈی میں 5 ملی میٹر، جبکہ صنعتی شہر فیصل آباد اور حافظ آباد میں 4, 4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ گجرات، جھنگ، ساہیوال، بھکر، شیخوپورہ اور جہلم کے اضلاع میں بھی ہلکی اور ٹریس (Trace) بارش کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ پی ڈی ایم اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جدید سائنسی اور موسمیاتی ماڈلز کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بھی پنجاب کے بیشتر اضلاع میں گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ مزید مون سون بارشوں کا قومی امکان موجود ہے، اور بارشوں کا یہ چوتھا طاقتور سلسلہ 5 اگست 2026ء تک وقفے وقفے کے ساتھ تسلسل سے جاری رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
بارشوں کے متوقع خطرات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے پنجاب محمد سیف انور جپہ نے اپنے ایک خصوصی بیان میں آگاہ کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی سخت اور واضح ہدایات کے پیشِ نظر تمام ڈویژنل کمشنرز، تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، ریسکیو 1122 اور متعلقہ بلدیاتی اداروں کو چوبیس گھنٹے ہائی الرٹ رہنے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ندی نالوں میں طغیانی اور شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام الناس سے پرزور اپیل کی ہے کہ شہری کچے، پرانے اور بوسیدہ مکانات و چھتوں کے نیچے ہرگز قیام نہ کریں۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ آسمانی بجلی، تیز گرج چمک اور طوفان کے دوران محفوظ مقامات پر رہیں اور بجلی کے کھمبوں و کھلے پانی سے دور رہیں۔ کسی بھی غیر متوقع یا ہنگامی صورتِ حال، ریسکیو یا امداد کے لیے شہری پی ڈی ایم اے کی کنٹرول روم ہیلپ لائن 1129 پر فوراً رابطہ کر سکتے ہیں۔