وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان سے گوجرانوالہ سمال چیمبر آف کامرس کے نمائندہ وفد کی اعلیٰ سطحی ملاقات: چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کی ترقی، برآمدات میں اضافے اور عالمی منڈیوں تک رسائی پر تفصیلی تبادلہِ خیال

کاشف عباسی , JULY 30,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان سے گوجرانوالہ سمال چیمبر آف کامرس کے ایک اعلیٰ سطحی نمائندہ وفد نے اہم ملاقات کی، جس میں پاکستان کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتی و تجارتی اداروں قومی برآمدات کے مسلسل فروغ، مقامی صنعت کی عالمی مسابقت، سستی فنانسنگ تک رسائی اور صنعتی شعبے کو درپیش ریگولیٹری چیلنجز پر انتہائی باریک بینی کے ساتھ تفصیلی تبادلہِ خیال کیا گیا۔ ترجمان وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری کردہ رسمی پریس ریلیز کے مطابق، وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایم ایز پاکستان کے مینوفیکچرنگ اور صنعتی شعبے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ ادارے ملک میں نہ صرف لاکھوں افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ صنعتی ترقی کی رفتار بڑھانے اور بیرونی ملک برآمدات میں خاطر خواہ اضافے کے لیے بھی ایک مرکزی عنصر ثابت ہو رہے ہیں۔ وزیرِ تجارت نے اس بات پر زور دیا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو ہر ممکن سطح پر مضبوط بنانا، ان کے مسائل حل کرنا اور ان کی سرپرستی کرنا موجودہ حکومت کی بنیادی معاشی ترجیحات میں شامل ہے۔

ملاقات کے دوران گوجرانوالہ سمال چیمبر آف کامرس کے وفد نے وفاقی وزیر کے سامنے افریقی براعظم کی ابھرتی ہوئی منڈیوں میں پاکستانی تاجروں کے لیے بزنس ٹو بزنس میٹنگز، روڈ شوز اور تجارتی وفود کے بھیجنے اور ان کے انعقاد کے لیے حکومتی تعاون کی باقاعدہ درخواست پیش کی تاکہ پاکستانی تاجروں اور صنعت کاروں کو بین الاقوامی سطح پر مضبوط تجارتی روابط قائم کرنے میں مدد مل سکے۔ اس پر وفاقی وزیرِ تجارت نے مثبت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افریقہ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور وہاں مسابقتی قیمت والی مصنوعات کی مسلسل طلب پاکستان کے مختلف شعبوں بالخصوص انجینئرنگ، میٹل انڈسٹری، گھریلو الیکٹرانک آلات اور لائٹ مینوفیکچرنگ کے لیے سنہری اور اہم تجارتی مواقع فراہم کرتی ہے۔ اس اجلاس کے دوران تاجروں کو درپیش کاروبار کی بلند لاگت توانائی کی بھاری قیمتوں، ٹیکسز کے ڈھانچے، سستی مالیات اور ورکنگ کیپیٹل تک دشوار رسائی اور دہائیوں پرانی صنعتی مشینری کو جدید ٹیکنالوجی سے بدلنے کے چیلنجز پر بھی انتہائی تعمیری اور مفید بات چیت ہوئی۔

جام کمال خان نے گوجرانوالہ سے آئے ہوئے صنعتی وفد کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک میں صنعتی مسابقت کو عالمی معیارات کے مطابق بنانے، ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن کو فروغ دینے اور فنانسنگ تک بہترین و آسان رسائی کے ذریعے صنعتوں کی جدید کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے جامع اصلاحات پر سرگرمی سے کام کر رہی ہے۔ ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیرِ تجارت نے بتایا کہ حکومت ملکی برآمد کنندگان کی سہولت، تجارتی خطرات کو کم کرنے اور برآمدی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے ایکسپورٹ فنانسنگ اور کریڈٹ گارنٹی کی سہولیات میں نمایاں تیزی لا رہی ہے۔ انہوں نے گوجرانوالہ کے تجارتی اور صنعتی اداروں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ایکسپورٹ امپورٹ بینک کی سپورٹ یافتہ فنانسنگ حاصل کرنے کے لیے تجارتی بینکوں سے فوری طور پر رجوع کریں اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ وزارتِ تجارت ان سہولیات اور فنانسنگ کے عمل میں برآمد کنندگان کو پیش آنے والے تمام حقیقی مسائل و رکاوٹوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کرے گی۔

ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کا مظفرآباد سینٹر کے امیدواروں کے لیے لاء ایڈمیشن ٹیسٹ کی نئی تاریخ کا باقاعدہ اعلان: پرچہ 9 اگست 2026ء کو منعقد ہو گا

روزینہ اسماعیل, JULY 30,2026

ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان نے آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کو اپنے امتحانی مرکز کے طور پر منتخب کرنے والے طلبہ و طالبات کے لیے لاء ایڈمیشن ٹیسٹ کے انعقاد کی نئی اور حتمی تاریخ کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ ایچ ای سی کے شعبہ امتحانات اور ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل کی جانب سے جاری کردہ رسمی اعلامیے کے مطابق، مظفرآباد میں منعقد ہونے والا لاء ایڈمیشن ٹیسٹ جو کہ پہلے معقول وجوہات اور انتظامی امور کے باعث 21 جون 2026ء بروز اتوار کو منعقد نہیں ہو سکا تھا، اب اس کا انعقاد 9 اگست 2026ء بروز اتوار کو کیا جائے گا۔ اس ٹیسٹ کے انعقاد سے آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں قانون کے ڈگری پروگرامز میں داخلے کے خواہش مند امیدوار اپنے تعلیمی سلسلے کو آگے بڑھا سکیں گے۔

ایچ ای سی ترجمان کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق مظفرآباد سینٹر کے تمام امیدواروں کی رول نمبر سلپس کل یعنی 31 جولائی 2026ء بروز جمعہ ایچ ای سی کی ٹیسٹنگ ایجنسی ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل کے رسمی آن لائن پورٹل پر اپ لوڈ کر دی جائیں گی۔ تمام متعلقہ امیدوار پورٹل پر جا کر اپنے متعلقہ آن لائن پروفائل میں لاگ ان ہو کر اپنی اپنی رول نمبر سلپس باآسانی ڈاؤن لوڈ کر سکیں گے، جن پر امتحانی مرکز کا مکمل پتہ، وقت اور دیگر ضروری ہدایات درج ہوں گی۔ ایچ ای سی نے تمام امیدواروں کو خصوصی ہدایت کی ہے کہ وہ امتحانی روز کسی بھی قسم کی زحمت اور پریشانی سے بچنے کے لیے امتحان کی مقررہ تاریخ سے قبل بروقت اپنی رول نمبر سلپس پرنٹ کر لیں اور کسی بھی نئی اطلاع، ہدایات یا جدول میں تبدیلی سے آگاہ رہنے کے لیے ای ٹی سی پورٹل کا باقاعدگی سے معائنہ کرتے رہیں۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی سرگودھا کی بڑی کارروائی: ساہیوال میں قائم غیر قانونی سلاٹر ہاؤس پکڑا گیا، 800 کلو گرام انتہائی غیر معیاری اور مضرِ صحت گوشت ڈمپنگ سائٹ پر تلف

منصور احمد, JULY 30,2026

سرگودھا (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

پنجاب فوڈ اتھارٹی (پی ایف اے) سرگودھا کی ٹیموں نے عوام الناس کو مضرِ صحت، بیماریوں سے آلودہ اور غیر معیاری خوراک و گوشت کی فراہمی کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے تحت ایک بڑی اور موثر کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی سلاٹر ہاؤس کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ فوڈ اتھارٹی کی خصوصی تفتیشی ٹیم نے خفیہ اطلاع ملنے پر انتہائی بروقت اور تندہی سے کارروائی کرتے ہوئے پنج پیر نہانگ، ساہیوال کے علاقے میں خفیہ طور پر قائم کیے گئے اس غیر قانونی سلاٹر ہاؤس پر چھاپہ مارا جہاں بغیر کسی قانونی اجازت، بغیر کسی طبی معائنے اور حفظانِ صحت کے بنیادی اصولوں کو یکسر نظر انداز کر کے جانوروں کی ذبح کاری کی جا رہی تھی۔ اس چھاپے کے دوران فوڈ اتھارٹی نے موقع پر موجود تقریباً 800 کلو گرام غیر معیاری اور ناقص گوشت کو اپنی تحویل میں لے کر فوری طور پر باقاعدہ ڈمپنگ سائٹ پر لے جا کر تلف کر دیا تاکہ اسے شہریوں تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔

کارروائی کے دوران پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ساتھ موجود ماہر ویٹرنری ڈاکٹر نے موقع پر ہی تمام برآمد شدہ گوشت کی سائنسی اور طبی جانچ کی، جس کے بعد انہوں نے اس گوشت کو انسانی استعمال کے لیے انتہائی مضرِ صحت، غیر معائنہ شدہ اور انسانی زندگی کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر پنجاب فوڈ اتھارٹی سرگودھا نے کہا کہ ضلع سرگودھا میں عوام کی صحت سے کھیلنے والے عناصر، غیر قانونی سلاٹرنگ میں ملوث افراد اور ملاوٹ مافیا کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا سلسلہ بلاامتیاز جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی شخص کو شہریوں کی زندگیوں اور صحت کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ایسے تمام عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ ڈپٹی ڈائریکٹر پی ایف اے نے عوام الناس سے اپیل کی کہ وہ اپنے ارد گرد معیاری خوراک اور گوشت کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ کا ساتھ دیں اور کسی بھی قسم کی شکایت، غیر قانونی سلاٹرنگ یا ملاوٹ کی اطلاع فوری طور پر پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ٹول فری ہیلپ لائن 1223 پر درج کروائیں۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے معروف عالمِ دین مفتی عبدالرحیم کی اہم ملاقات: صوبے میں پائیدار امن، تعلیمی ترقی اور بین المذاہب ہم آہنگی پر تفصیلی گفتگو

کاشف عباسی , JULY 30,026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

خيبر پختونخوا میں امن و امان کی مجموعی صورتِ حال کو بہتر بنانے، علمائے کرام اور تعلیمی اداروں کے ذریعے معاشرتی ہم آہنگی اور تعلیمی ترقی کو فروغ دینے کے لیے اہم اقدامات اور روابط کا سلسلہ تیز تر ہو گیا ہے۔ اسی سلسلے میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے معروف ممتاز عالمِ دین، الغزالی یونیورسٹی کراچی کے چانسلر اور جامعۃ الرشید کے مہتمم مفتی عبدالرحیم نے گورنر ہاؤس پشاور میں ایک اعلیٰ سطحی اور اہم ملاقات کی ہے۔ گورنر ہاؤس پشاور کے باضابطہ ترجمان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس اہم اور بابرکت ملاقات کے موقع پر ممبر بورڈ آف گورنرز الغزالی یونیورسٹی انجینئر مفتی عثمان یوسف بھی مفتی عبدالرحیم کے ہمراہ موجود تھے۔ ملاقات کے دوران خیبر پختونخوا میں امن و امان کے پائیدار قیام، معاشرے میں رواداری کو فروغ دینے اور نوجوانوں کو گمراہی سے بچا کر مثبت تعلیمی و فکری سرگرمیوں میں مصروف کرنے سے متعلق عملی اور ٹھوس اقدامات پر مفصل تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اس بات پر شدید زور دیا کہ خطے کی موجودہ جغرافیائی اور سیکیورٹی صورتِ حال کے تناظر میں خیبر پختونخوا کے اندر امن، بھائی چارے اور معاشی و سماجی استحکام کا قیام وقت کی سب سے بڑی اور عاجلانہ ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بالخصوص صوبے میں قیامِ امن کی جدوجہد میں دینی مدارس اور جید علمائے کرام کا کردار انتہائی مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ علمائے کرام اپنے جمعہ کے خطبات، دینی اجتماعات اور تعلیمی محافل کے ذریعے عوام میں اتحاد، یکجہتی، ملکی سلامتی اور قانون کی پاسداری کا شعور اجاگر کر سکتے ہیں۔ گورنر نے مفتی عبدالرحیم اور جامعۃ الرشید کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید عصری علوم کی ہم آہنگی وقت کا اہم تقاضا ہے تاکہ دینی و مذہبی اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ ملک و قوم کی ترقی اور معاشی دوڑ میں مؤثر اور مثبت کردار ادا کر سکیں۔

اسی طرح الغزالی یونیورسٹی کراچی کے چانسلر اور جامعۃ الرشید کے مہتمم مفتی عبدالرحیم نے گورنر فیصل کریم کنڈی کو صوبے میں تعلیم کے فروغ اور بالخصوص بین المذاہب و بین المسلمین ہم آہنگی کی فضا قائم کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں اور مختلف عملی تجویزات سے آراستہ کیا۔ مفتی عبدالرحیم نے کہا کہ پختونخوا کی سرزمیں تاریخی اعتبار سے امن و محبت کا گہوارہ رہی ہے اور تمام مکاتبِ فکر کو مل کر اس خطے کو دہشت گردی، شدت پسندی اور بدامنی کے سایوں سے پاک کرنے کے لیے اپنا قومی و دینی فریضہ نبھانا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ تعلیمی اداروں کا بنیادی مقصد ایسا باصلاحیت اور متوازن نوجوان طبقہ تیار کرنا ہے جو معاشرے کو جوڑنے اور ملکی سلامتی میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہے۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں قائدین نے صوبے کی تعمیر و ترقی، اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور پائیدار امن کے حصول کے لیے آئندہ بھی باہمی روابط اور مثبت مشاورت کے اس سلسلے کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

سپریم کورٹ کا تاریخی اور اہم قانونی فیصلہ: کوئی بھی عدالت یا ٹریبونل اپنے قانونی دائرۂ اختیار سے تجاوز کر کے ازخود (سوموٹو) کارروائی یا درخواست سے باہر کے امور پر فیصلے صادر نہیں کر سکتا

منصور احمد, JULY 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ایک انتہائی اہم، تاریخی اور آئینی اصولوں پر مبنی فیصلے میں واضح اور حتمی طور پر قرار دیا ہے کہ ملک کی کوئی بھی عدالت یا کوئی بھی قانونی ٹریبونل اپنے عطا کردہ قانونی و آئینی دائرۂ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے ازخود (سوموٹو) کارروائی کا آغاز نہیں کر سکتا اور نہ ہی زیرِ سماعت درخواست میں شامل نہ ہونے والے زائد معاملات پر اپنے فیصلے جاری کرنے کا مجاز ہے۔ اعلیٰ عدلیہ نے واضح کیا کہ آئین اور قانون کے دائرے سے باہر نکل کر فیصلے صادر کرنا قانون کی حکمرانی کو متاثر کرتا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کے فاضل جج جسٹس محمد علی مظہر اور فاضل خاتون جج جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے خیبر پختونخوا میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز (ایم ٹی آئی) اپیلیٹ ٹریبونل کے ایک متنازع فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تمام اپیلیں باقاعدہ منظور کرتے ہوئے یہ اہم اور آئینی فیصلہ صادر کیا۔ سپریم کورٹ نے اپنے جامع فیصلے میں صراحت کے ساتھ قرار دیا کہ ایم ٹی آئی اپیلیٹ ٹریبونل نے اپنے تفویض کردہ قانونی اختیارات اور حدود سے واضح تجاوز کیا ہے، کیونکہ قانون کے مطابق اس کے پاس ازخود (سوموٹو) اختیارات استعمال کرنے کا کوئی قانونی و انتظامی اختیار سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔

سپریم کورٹ نے اپنے اہم فیصلے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایم ٹی آئی اپیلیٹ ٹریبونل نے دو ڈاکٹروں کی جانب سے دائر کی گئی اپیلیں قانونی بنیادوں پر مسترد کر دینے کے باوجود ایک عجیب طریقہ اپنایا۔ ٹریبونل نے درخواستیں خارج کرنے کے ساتھ ہی 2015ء سے لے کر اب تک ہونے والی تمام تر ترقیوں (پروموشنز) کی تفصیلی جانچ پڑتال کرنے، متعدد دیرینہ ملازمین و افسران کو اچانک تنزلی (ڈیمووٹ) کرنے اور حکومت کی جانب سے ترمیم شدہ پروموشن پالیسی کو مکمل طور پر کالعدم قرار دینے جیسے انتہائی سنگین احکامات جاری کر دیے تھے۔ سپریم کورٹ نے اس پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ تمام تر معاملات اور پالیسی سے متعلقہ امور اصلاً اپیل کنندگان کی بنیادی درخواستوں کا حصہ ہی نہیں تھے اور نہ ہی متاثر ہونے والے درجنوں ملازمین کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ متاثرہ فریق کو سنے بغیر ان کے خلاف یکطرفہ فیصلہ سنانا آئین کے تحت منصفانہ ٹرائل، قدرتی انصاف اور انسان کے بنیادی حقوق کے شدید خلاف ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں آئینی شق کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 175(2) کے تحت کوئی بھی عدالت یا قانونی ٹریبونل صرف اور صرف وہی محدود اختیارات استعمال کرنے کی پابند ہے جو اسے آئین یا متعلقہ قانون و ایکٹ کے تحت فراہم کیے گئے ہوں۔ عدالت نے تشریح کی کہ پالیسی سازی، انتظامی ڈھانچہ تشکیل دینا اور اداروں کے اندرونی قواعد و ضوابط بنانا صرف اور صرف متعلقہ انتظامی اداروں اور حکومتی محکموں کا صوابدیدی اختیار ہے، جس میں ٹریبونلز کا بلا جواز مداخلا درست نہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپیلیٹ ٹریبونل کا 22 مئی 2025ء کو دیا گیا فیصلہ مکمل طور پر کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس واپس متعلقہ حکام کو بھیج دیا اور ہدایت کی کہ ڈاکٹر یاسر رحمان خٹک اور ڈاکٹر نسرین کشور اپنی ترقی کے لیے نئے سرے سے باقاعدہ درخواست دیں، جن پر متعلقہ ادارہ تمام قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بلا تاخیر قانون کے مطابق شفاف فیصلہ صادر کرے۔

بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی کی گرفتاری سے روکنے کی درخواست منظور: لاہور ہائیکورٹ نے این سی سی آئی اے کے مقدمے میں ایک ہفتے کی حفاظتی ضمانت دیدی

کاشف عباسی , JULY 30,026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

لاہور ہائیکورٹ نے بانی تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی بہن نورین نیازی کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے پیکا (پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز) ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں این سی سی آئی اے اور پولیس کی جانب سے حراست میں لیے جانے سے روکتے ہوئے ان کی ایک ہفتے کے لیے باضابطہ حفاظتی ضمانت منظور کر لی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے فاضل جج جسٹس سردار اکبر ڈوگر نے نورین نیازی کی جانب سے دائر کردہ حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالتِ عالیہ نے نورین نیازی کی استدعا کو قانونی اور آئینی حق مانتے ہوئے ان کی ضمانت قبول کی اور انہیں واضح اور سخت ہدایت جاری کی کہ وہ اس ایک ہفتے کے اندر متعلقہ متعلقہ اور مجاز عدالت سے باقاعدہ رجوع کر کے قانونی طریقہ کار مکمل کریں۔

سماعت کے دوران درخواست گزار نورین نیازی کے وکلا نے موقف اختیار کیا تھا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے درخواست گزار کے خلاف پیکا ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے اور ان کی گرفتاری کا قوی خدشہ موجود ہے۔ وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ متعلقہ قانون سازی کی روشنی میں اور متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کے لیے موقع فراہم کرتے ہوئے عبوری اور حفاظتی ضمانت دیں تاکہ وہ قانون کے مطابق اپنے دفاع کے لیے رجوع کر سکیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے دلائل مکمل ہونے پر نورین نیازی کی درخواست کو منظور کر لیا اور انہیں گرفتاری سے تحفظ دیتے ہوئے ایک ہفتے کے لیے تحفظ فراہم کر دیا۔ عدالتی فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کے وکلا اور خاندان نے اس اقدام کو ریلیف اور قانون کی پاسداری کا اہم قدم قرار دیا ہے۔

استحکامِ پاکستان پارٹی (آئی پی پی) آزاد کشمیر میں تیسری بڑی سیاسی قوت بن کر اقتدار کا حصہ بنے گی: سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس خان

کاشف عباسی , JULY 30,026

مظفرآباد/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

سابق وزیراعظم آزاد کشمیر اور استحکامِ پاکستان پارٹی آزاد جموں و کشمیر کے مرکزی صدر سردار تنویر الیاس خان نے دعویٰ کیا ہے کہ آئی پی پی خطے کے آئندہ الیکشن اور سیاسی منظرنامے میں ریاست کی تیسری سب سے بڑی اور مضبوط قوت بن کر ابھرے گی اور اقتدار کے ایوانوں میں شامل ہو کر عوام کے گوناگوں مسائل کو حل کرے گی۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ان کی جماعت اس وقت وفاق اور گلگت بلتستان کی حکومتوں میں بطور سیاسی اتحادی باوقار طریقے سے شامل ہے اور اب آزاد کشمیر کے اقتدار میں بھی عملی طور پر شریک ہونے جا رہی ہے۔ یہاں جاری ہونے والے ایک اہم پریس ریلیز اور باضابطہ سیاسی اعلامیے کے مطابق سردار تنویر الیاس خان نے آزاد کشمیر کے حلقہ ایل اے-25 کے آزاد امیدوارِ اسمبلی وقار انجم ایڈووکیٹ کی جانب سے یونین کونسل لوئر گریس کے خوبصورت گاؤں جندر سیری میں منعقدہ ایک بہت بڑے عوامی اور شمولیتی جلسے میں خصوصی شرکت کی، جہاں آئی پی پی کے سینئر رہنما کمانڈر شفیق الرحمٰن نے انہیں روایتی کشمیری چغہ اور ٹوپی کا تحفہ پیش کیا۔

عوامی تقریب کے دوران آزاد امیدوار وقار انجم ایڈووکیٹ نے سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان کو نیلم ویلی اور بالخصوص لوئر گریس کے عوام کو درپیش بنیادی سہولیات، سڑکوں، پانی اور صحت کے مسائل سے تفصیل کے ساتھ آراستہ کیا اور اپنی، اپنے خاندان، ہزاروں کارکنان اور حامیوں کی جانب سے سابق وزیراعظم کی قیادت اور ویژن پر کامل اور غیر متزلزل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن سے باضابطہ طور پر دستبردار ہونے اور استحکامِ پاکستان پارٹی میں شمولیت کا حتمی اعلان کر دیا۔ سردار تنویر الیاس خان نے وقار انجم ایڈووکیٹ اور ان کے تمام ساتھیوں کو آئی پی پی کا روایتی مفلر پہنا کر جماعت میں خوش آمدید کہا اور مبارکباد پیش کی۔

شمولیتی تقریب کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے افسوس کا اظہار کیا کہ وادیِ نیلم دنیا کی قدرتی ترین اور خوبصورت ترین وادی ہونے کے باوجود حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت کے باعث آج بھی بنیادی سہولیات کے معاملے میں دیگر اضلاع سے سو سال پیچھے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ انہوں نے جندر سیری کے عوام کے لیے فرسٹ ایڈ سینٹر، بڑے واٹر ٹینک اور مقامی مدرسے کو پانی کی بلا تعطل فراہمی کے تمام اخراجات اپنی ذاتی جیب اور ذاتی حیثیت سے ادا کرنے کا فوری اعلان کیا۔ سردار تنویر الیاس خان نے کہا کہ نیلم کے قدرتی اور سیاحتی وسائل صرف نیلم کے ہی عوام پر خرچ ہوں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی پارٹی مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مل کر مستقبل میں حکومت قائم کرے گی اور عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کیے جائیں گے۔ انہوں نے ووٹرز پر زور دیا کہ ووٹ ایک قومی اور شرعی امانت ہے جسے سوچ سمجھ کر استعمال کریں اور دعویٰ کیا کہ آنے والے دنوں میں آزاد کشمیر کے ہر ضلع اور ہر حلقے میں صرف آئی پی پی کا پرچم نظر آئے گا۔ تقریب میں پارٹی کے سینیئر رہنماؤں بشمول ڈاکٹر سردار ظفر اقبال، سردار امتیاز شاہین، چوہدری اختر ایوب، شفیق الرحمٰن، سدھیر مغل اور دیگر قائدین نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی اور کشمیری عوام کی فلاح کے لیے کام کرنے کے عزم کو دہرایا۔

نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیرِ خارجہ خاقان فدان کے درمیان اہم ٹیلیفونک رابطہ: غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی مظالم اور مسجدِ اقصی کی پامالی پر شدید تشویش کا اظہار

منصور احمد, JULY 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سنیر سینیٹر اسحاق ڈار اور ترکیہ کے وزیرِ خارجہ خاقان فدان کے درمیان آج ایک انتہائی اہم ٹیلیفونک رابطہ قائم ہوا، جس میں دونوں برادر اسلامی ممالک کی قیادت نے بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کی ابتر ہوتی ہوئی سیکیورٹی، خطے کی جغرافیائی و سیاسی صورتِ حال اور بین الاقوامی و علاقائی اہمیت کے دیگر تنازعات پر تفصیلی اور گہرا تبادلہ خیال کیا۔ ترجمان دفترِ خارجہ اسلام آباد کی جانب سے جاری کردہ رسمی بیان کے مطابق، دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی اس اہم گفتگو میں سرفہرست موضوعِ بحث مقبوضہ فلسطین بالخصوص پٹیِ غزہ اور مغربی کنارے کی خونریز صورتِ حال رہی۔ دونوں رہنماؤں نے غاصب اسرائیلی افواج کی جانب سے معصوم فلسطینی عوام، رہائشی علاقوں اور عام بنیادی ڈھانچے پر مسلسل جاری وحشیانہ فوجی کارروائیوں اور کارپٹ بمباری پر انتہائی رنج و غم، غصے اور گہری تشویش کا اظہار کیا۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید آگاہ کیا کہ گفتگو کے دوران پاکستان اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مشرقی یروشلم (القدس) میں قبلہِ اول یعنی تاریخی مسجدِ اقصی کی بار بار ہونے والی نجس پامالی، مقدس مقامات کی بے حرمتی اور مقبوضہ علاقوں میں دن بہ دن مزید تباہ کن شکل اختیار کرتی ہوئی انسانی بنیادوں پر غذائی و طبی صورتِ حال پر شدید ترین تحفظات کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے معاہدوں کی سنگین خلاف ورزیاں عالمی برادری کی جانب سے فوری عملی مداخلت کی تقاضا کرتی ہیں۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ان کے ترک ہم منصب خاقان فدان نے مظلوم فلسطینیوں کے دیرینہ، قانونی اور ناگزیر حقوق، بشمول آزاد اور خودمختار ریاستِ فلسطین کے قیام کی مکمل، واضح اور غیر متزلزل حمایت کا دلی عزم دہرایا۔

ٹیلی فون پر ہونے والی اس اعلیٰ سطحی گفتگو میں مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ بحران سے نمٹنے کے لیے ممکنہ سفارتی اور کثیرالجہتی اقدامات پر بھی پیش رفت کی گئی۔ ترجمان کے مطابق، پاکستان اور ترکیہ کی اعلیٰ قیادت نے فلسطین کے حوالے سے جاری بحران کا سیاسی و سفارتی حل تلاش کرنے اور صیہونی مظالم کو روکنے کے لیے عرب اور اسلامی ممالک کا ایک فوری اور ہنگامی مشترکہ اجلاس منعقد کرنے کے حوالے سے برادر ملک اردن کی جانب سے پیش کردہ تجویز کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا اور اس پر مفصل غور کیا۔ دونوں نے اتفاق کیا کہ امتِ مسلمہ اور بالخصوص مسلم اکثریتی ممالک کے وزرائے خارجہ کو ایک مشترکہ لائحہ عمل پر متفق ہو کر بین الاقوامی سطح پر اور اقوامِ متحدہ کے فورمز پر ایک موثر اور واحد آواز بن کر سامنے آنا چاہیے تاکہ مظلوم فلسطینی شہریوں کی نسل کشی کو فوری روکا جا سکے اور خطے میں پائیدار اور عادلانہ امن کا قیام ممکن ہو سکے۔

پاکستان میں آبی صورتِ حال کی تازہ ترین رپورٹ: واپڈا نے ملک کے اہم دریاؤں اور ڈیموں میں پانی کی آمد، اخراج اور مجموعی ذخائر کے اعداد و شمار جاری کر دیے

منصور احمد, JULY 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے ملک کے تمام اہم دریاؤں کی بہاؤ کی تازہ صورتِ حال اور تربیلا، منگلا اور چشمہ کے آبی ذخائر (ڈیموں) میں پانی کی موجودہ سطح کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر باضابطہ اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ ترجمان واپڈا کے مطابق ملک کے آبی بنیادی ڈھانچے اور دریاؤں میں پانی کی آمد و اخراج کے عمل کو متوازن انداز میں مانیٹر کیا جا رہا ہے تاکہ زراعت اور ایندھن کی پیداوار کی ضروریات کو احسن طریقے سے پورا کیا جا سکے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق ملک کے سب سے بڑے ڈیم تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد 2 لاکھ 43 ہزار 900 کیوسک جبکہ پانی کا اخراج 2 لاکھ 15 ہزار 200 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح دریائے سندھ پر قائم دوسرے اہم مقام یعنی چشمہ بیراج پر پانی کی مجموعی آمد 2 لاکھ 42 ہزار 900 کیوسک درج کی گئی ہے، جبکہ وہاں سے پانی کا اخراج 2 لاکھ 20 ہزار 400 کیوسک جاری ہے۔

دیگر اہم دریاؤں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں اس وقت پانی کی آمد 51 ہزار 700 کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ وہاں سے اخراج کو کنٹرول کرتے ہوئے محض 8 ہزار کیوسک رکھا گیا ہے تاکہ منگلا ریزروائر کو بھرنے کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔ سیالکوٹ کے قریب ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد 95 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 83 ہزار 300 کیوسک ریکارڈ ہوا ہے۔ مزید برآں، پختونخوا کے اہم ترین آبی گزرگاہ یعنی نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں پانی کی آمد اور اخراج یکساں طور پر 41 ہزار 700 کیوسک کی سطح پر برقرار ہے۔ تمام دریاؤں میں پانی کے اس مسلسل اور مستحکم بہاؤ سے ملک کے نہری نظام کو مسلسل پانی کی فراہمی ممکن بنائی جا رہی ہے، جس سے آنے والی فصلوں اور زراعت کے شعبے کو شدید فائدہ پہنچنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

واپڈا ترجمان کی جانب سے ملکی ڈیموں اور ریزروائرز میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کے متعلق بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تربیلا ریزروائر میں اس وقت پانی کی سطح 1535 فٹ تک پہنچ چکی ہے اور اس میں پانی کا مجموعی ذخیرہ 47 لاکھ 28 ہزار ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دوسرے بڑے ڈیم منگلا ریزروائر میں پانی کی سطح 1194.30 فٹ درج کی گئی ہے، جہاں پانی کی ذخیرہ شدہ مقدار 38 لاکھ 91 ہزار ایکڑ فٹ ہے، جبکہ چشمہ ریزروائر میں پانی کی سطح 648.50 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے اور وہاں 2 لاکھ 85 ہزار ایکڑ فٹ پانی کا ذخیرہ موجود ہے۔ ترجمان واپڈا نے واضح کیا کہ ان تینوں مرکزی آبی ذخائر میں اس وقت قابلِ استعمال پانی کا مجموعی ذخیرہ 89 لاکھ 4 ہزار ایکڑ فٹ ہو چکا ہے۔ آبی ماہرین کا ماننا ہے کہ مانسون کے موسم اور پگھلتے ہوئے گلیشیئرز کے باعث ڈیموں میں پانی کا یہ خاطر خواہ اضافہ ملک میں توانائی کی پیداوار اور زرعی پانی کے مسائل کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

تھانہ خرکی مردان پولیس کی بڑی کارروائی: علاقے میں فائرنگ کر کے خوف و ہراس پھیلانے والے دونوں فریقین کے 3 ملزمان گرفتار، بھاری مقدار میں اسلحہ و کارتوس برآمد

منصور احمد, JULY 28,2026

پشاور/مردان (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جولائی 2026ء

خیبر پختونخوا پولیس نے مردان میں امن و امان کی صورتِ حال کو برقرار رکھنے اور عوام الناس میں خوف و ہراس پھیلانے والے عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھتے ہوئے ایک اہم اور بروقت کامیابی حاصل کی ہے۔ تھانہ خرکی مردان پولیس نے منگل کے روز علاقے میں فوری اور تیز رفتار کارروائی کرتے ہوئے ایک ایک دوسرے پر سرِعام فائرنگ کرنے والے اور علاقے کا امن برباد کرنے والے دونوں فریقین سے تعلق رکھنے والے مجموعی طور پر تین مرکزی ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر کے ان کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ برآمد کر لیا ہے۔ پولیس کی اس بروقت کارروائی سے علاقے میں کوئی بڑا جانی نقصان ہونے سے بچ گیا اور صورتِ حال کو فوراً کنٹرول میں لے لیا گیا۔

ترجمان مردان پولیس کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، تھانہ خرکی کی حدود میں دو فریقین کے مابین تنازع کے باعث فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس سے مقامی رہائشیوں اور بازار میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس ٹیم نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لیا اور دونوں جانب سے فائرنگ میں ملوث افراد کو حراست میں لے لیا۔ گرفتار کیے گئے ملزمان میں سے پہلے فریق کا تعلق تازہ گرام کے رہائشی روزی شاہ ولد ہمیش گل اور اس کے بیٹے عبید ولد روزی شاہ سے ہے، جبکہ دوسرے فریق سے تازہ گرام ہی کا رہائشی گوہر ولد مکمل شاہ شامل ہے۔ پولیس نے موقع پر کارروائی کرتے ہوئے تینوں ملزمان کے قبضے سے 3 عدد جدید پستول اور 53 عدد زندہ کارتوس برآمد کر کے باضابطہ طور پر اپنی تحویل میں لے لیے ہیں۔

پولیس ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ گرفتار ہونے والے ملزمان کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت تھانہ خرکی میں مقدمات درج کر لیے گئے ہیں اور معاملے کی گہرائی سے مزید قانونی تفتیش و کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ مردان پولیس کی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ضلع بھر میں امن و امان کے قیام کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا اور ہوائی فائرنگ، باہمی تنازعات کی بنا پر قانون ہاتھ میں لینے اور عام شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والی کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پولیس ترجمان نے واضح کیا کہ قانون شکن عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور سخت ترین قانونی اقدامات کا سلسلہ آئندہ بھی بلا تعطل جاری رہے گا تاکہ شہری خود کو مکمل طور پر محفوظ محسوس کر سکیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا اہم اجلاس: پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 میں مجوزہ ترامیم کی باقاعدہ منظوری، ریفائنریز کی اپ گریڈیشن کو وقت کی عاجلانہ ضرورت قرار دے دیا گیا

کاشف عباسی , JULY 28,026

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا ایک انتہائی اعلیٰ سطحی اور اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کے توانائی کے شعبے کو جدید ترجیحات کے مطابق ڈھالنے کے لیے ‘پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023’ میں کی گئی اہم ترامیم کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی۔ وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہونے والے اس خصوصی اجلاس میں وفاقی وزرا احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، پروفیسراحسن اقبال کے علاوہ متعلقہ وزارتی وفاقی سیکرٹریز اور توانائی انڈسٹری کے اعلیٰ ترین سرکاری حکام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس میں ملک کے اندر آئل ریفائنریز کی موجودہ کارکردگی، توانائی کی پیداوری صلاحیت، براؤن فیلڈ ریفائنریز کے بنیادی ڈھانچے اور آئل سیکٹر میں متوقع عالمی سرمایہ کاری سے متعلق امور کا تفصیلی اور باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔

اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس بات پر شدید زور دیا کہ پاکستان میں موجود تمام آئل ریفائنریز کی جدید ترین تکنیکی بنیادوں پر اپ گریڈیشن اب کوئی اختیاری معاملہ نہیں بلکہ وقت کی شدید اور عاجلانہ ضرورت بن چکی ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ جدید تقاضوں اور عالمی معیار سے ہم آہنگ ریفائنریز پاکستان کے پائیدار توانائی تحفظ کے جامع نظام کا ایک مرکزی اور اہم ترین ستون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات پر مبنی یہ اقدام نہ صرف ملک کی مجموعی توانائی کی ضروریات کو زیادہ مؤثر، مستحکم اور بہتر انداز میں پورا کرے گا بلکہ گرانقدر غیر ملکی زرِ مبادلہ کا خرچ کم کر کے درآمدی ایندھن پر پاکستان کا انحصار نمایاں طور پر گھٹانے میں مدددگار ثابت ہوگا۔ مزید برآں، اس سے ملک بھر میں ماحول دوست اور اعلیٰ معیار کا صاف ایندھن فراہم کرنے کا دیرینہ مقصد بھی حاصل کیا جا سکے گا، جس سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

اجلاس میں شریک اعلیٰ حکام نے وزیراعظم اور کمیٹی کے دیگر اراکین کو پاکستان میں توانائی کی صورتِ حال پر تفصیلی بریفنگ پیش کی، جس میں بتایا گیا کہ ملک کی موجودہ ریفائنریز کی پیداواری گنجائش کو بڑھانے اور فرنس آئل جیسی کم معیار کی ایندھن مصنوعات کو بتدریج ختم کرنے کے لیے ان کی اپ گریڈیشن ناگزیر ہو چکی ہے۔ بریفنگ میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ ترامیم کے تحت اب یورو-4 اور بالخصوص اعلیٰ ترین یورو-5 معیار کے پٹرول اور ڈیزل کی مقامی سطح پر پیداوار کو یقینی بنایا جائے گا۔ یہ اقدام پاکستان کے عالمی ماحولیاتی معاہدوں اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق بین الاقوامی وعدوں کی تکمیل کے لیے انتہائی ضروری ہے، جس سے ملک میں جان لیوا اور شدید فضائی آلودگی میں نمایاں کمی لائی جا سکے گی اور عام عوام کو بین الاقوامی معیار کا ایندھن میسر آئے گا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے توانائی کے نگران ادارے اویل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی مجموعی کارکردگی کو بین الاقوامی سانچے میں ڈھالنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ کی فوری اور حقیقی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اوگرا میں بنیادی نوعیت کی انتظامی و قانونی اصلاحات متعارف کرائی جائیں۔ اس کا بنیادی مقصد آئل اینڈ گیس کے شعبے میں تجارتی مسابقت، شفافیت اور غیر ملکی و مقامی سرمایہ کاری کے لیے ماحول کو مکمل طور پر سازگار بنانا ہے۔ وزیراعظم نے واضح اور سخت احکامات جاری کیے کہ نئی آئل ریفائننگ پالیسی کی منظوری کے بعد اس کے ہر شق پر فوری، مؤثر اور طے شدہ وقت کے اندر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور اس سلسلے میں کسی بھی وزارت، ادارے یا انتظامی افسر کی طرف سے کسی بھی قسم کی غفلت، سستی یا تاخیر کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے تمام تمام سٹیک ہولڈرز کو قریبی رابطہ اور باہمی مشاورت کے ذریعے اصلاحاتی عمل تیز کرنے کا پابند کیا۔

مستقبل کی اسٹریٹجک ضروریات اور سرمایہ کاری کے حجم کو وسیع کرنے کے لیے، وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے براؤن فیلڈ ریفائنریز کے حوالے سے اس ترمیمی پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 کی تشہیر اور آگاہی کے لیے قطر، برادر اسلامی ملک سعودی عرب اور دیگر اہم خلیجی ممالک میں خصوصی روڈ شوز منعقد کرنے کے واضح احکامات دیے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر براؤن فیلڈ ریفائنریز میں معاشی و تکنیکی اصلاحات متعارف کروانے پر وفاقی وزیر برائے پٹرولیم اور ان کی پوری ماہر ٹیم کی دن رات کی محنت اور شاندار کارکردگی کو کھلے دل سے سراہا۔ اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے وزارتِ پٹرولیم اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ ہنگامی صورتِ حال یا عالمی بحران سے نمٹنے کے لیے ملک کے اندر پٹرولیم مصنوعات کے اسٹریٹجک ذخائر کا حجم جلد از جلد بڑھانے کے لیے جامع عمل درآمدی منصوبہ بندی تشکیل دیں تاکہ ملک کو توانائی کے کسی بھی غیر متوقع بحران سے محفوظ رکھا جا سکے۔

مشرقِ وسطیٰ کی عسکری کشیدگی عالمی مہنگائی کے لیے بڑا خطرہ، آسٹریلیا کا ایندھن کے ذخائر میں کمی پر شدید تشویش کا اظہار

محمود احمد, JULY 28,2026

کینبرا (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جولائی 2026ء

آسٹریلیا نے متنبہ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ شدت اختیار کرتی ہوئی کشیدگی اور عسکری بحران عالمی سطح پر مہنگائی کے لیے ایک نیا اور ہولناک خطرہ بن سکتا ہے۔ چینی خبر رساں ادارے ’شنہوا‘ کے مطابق یہ اہم ترین بیان آسٹریلیا کے وزیرِ خزانہ جم چالمرز نے وزارتِ خزانہ کی خصوصی بریفنگ کے دوران دیا ہے۔ انہوں نے دنیا کو خبردار کیا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی فراہمی کے متوقع بحران سے نمٹنے کے لیے دنیا کے پاس اس وقت پہلے جیسے مضبوط حفاظتی ذخائر موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ رواں سال فروری میں امریکہ-ایران جنگ کے ابتدائی مرحلے پر تیل کی قیمتوں میں آنے والے جھٹکے کو متبادل راستوں اور ہنگامی ذخائر سے قابو کر لیا گیا تھا، مگر اب وہ ذخائر نمایاں طور پر کم ہو چکے ہیں۔ جم چالمرز نے زور دیا کہ معاشی بنیادوں پر اس جنگ کا مستقل اور پائیدار خاتمہ جتنی جلد ممکن ہو اتنا ہی بہتر ہے۔ آسٹریلوی بجٹ 2026-27ء کے منفی تجزیے کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ مزید پھیلی تو ستمبر کی سہ ماہی تک خام تیل کی قیمت 200 امریکی ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہے، جس سے آسٹریلیا میں مہنگائی کی شرح 7.25 فیصد تک پہنچنے کا شدید خدشہ ہے۔

پاکستان کا یوکرین تنازع کے خاتمے کے لیے فوری جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کی بحالی پر زور؛ اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کا سلامتی کونسل سے خطاب

محمود احمد, JULY 28,2026

نیویارک/اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

پاکستان نے یوکرین میں جاری تصادم اور فوجی شدت میں مسلسل اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ عام شہریوں اور حیاتیاتی بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے حملے نہ صرف سنگین انسانی المیے کو جنم دے رہے ہیں بلکہ اس کے منفی اثرات عالمی سطح پر غذائی اور توانائی کی سیکیورٹی کو بھی شدید متاثر کر رہے ہیں، جس کا سب سے زیادہ خمیازہ غریب اور ترقی پذیر ممالک کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے شہریوں، شہری تنصیبات اور انسانی امداد فراہم کرنے والے والے اداروں پر ہونے والے اٹیکس کی شدید مذمت کی اور تمام متنازع فریقوں سے مطالبات کیے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین اور انسانی حقوق کی پاسداری کو ہر صورت یقینی بنائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس تنازع کا کوئی عسکری حل ممکن نہیں ہے اور پائیدار امن کی واحد راہ صرف اور صرف سنجیدہ، مسلسل اور باہمی سفارتی مذاکرات سے ہی نکل سکتی ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں اس بات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2774 کی منظوری کو 17 ماہ کا طویل عرصہ بیت جانے کے باوجود جنگ کے خاتمے اور پائیدار امن کی بحالی کے مقاصد حاصل نہیں کیے جا سکے۔ انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ قرارداد 2774 پر روح کے مطابق مکمل عمل درآمد کروایا جائے اور خطے میں فوری و بلا مشروط جنگ بندی کا نفاذ یقینی بنایا جائے تاکہ سفارت کاری، گفتگو اور سیاسی حل کے لیے سازگار اور پرامن ماحول میسر آ سکے۔ پاکستانی مندوب نے اس عزم کو دہرایا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور، تمام فریقین کے جائز سلامتی خدشات اور کثیرالجہتی بین الاقوامی معاہدوں سے ہم آہنگ حل ہی آگے بڑھنے کا واحد ذریعہ ہے، اور پاکستان اس تنازع کے ایک منصفانہ، جامع اور جامع پرامن تصفیے کے لیے کی جانے والی تمام عالمی کوششوں کی بلا مشروط حمایت جاری رکھے گا۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا گلستانِ جوہر میں خراب سڑکوں اور سیوریج کے مسائل کا سخت نوٹس؛ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کو فوری بحالی کی ہدایت

محمود احمد, JULY 27,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی کے اہم علاقے گلستانِ جوہر میں سڑکوں کی خستہ حالی اور سیوریج کے ابتر مسائل کا شدید نوٹس لیتے ہوئے میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کو ہنگامی بنیادوں پر مسائل حل کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ پیر کو وزیر اعلیٰ ہاؤس سے جاری ہونے والے باضابطہ اعلامیے کے مطابق، وزیر اعلیٰ سندھ نے علاقے کی تمام مرکزی شاہراہوں اور اندرونی سڑکوں کی فوری مرمت و بحالی کا حکم دیتے ہوئے میئر کراچی کو ہدایت کی ہے کہ وہ جاری ترقیاتی کاموں کی خود موقع پر جا کر نگرانی کریں۔ انہوں نے میئر کراچی سے سڑکوں کی پیش رفت، نکاسیِ آب کے انتظامات اور سیوریج لائنوں کی صفائی کے حوالے سے فوری اور جامع رپورٹ طلب کی ہے۔ مراد علی شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ تعمیراتی کاموں کے دوران شہریوں اور مسافروں کی آمدورفت میں کوئی خلل نہیں پڑنا چاہیے کیونکہ عوام کو صاف ستھرا ماحول اور جدید سفری سہولیات فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ترجیح ہے۔ انہوں نے گلستانِ جوہر کے رہائشیوں کو یقین دلایا کہ ان کے درپیش تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے اور کسی بھی محکمے کی جانب سے سستی یا غفلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

پیپلز پارٹی کے الزامات بے بنیاد اور سیاسی مایوسی کا مظہر ہیں: وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات بیرسٹر دانیال چوہدری

منصور احمد, JULY 27,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینئر رہنماؤں ندیم افضل چن اور سعید غنی کی مشترکہ پریس کانفرنس پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے اسے حقائق کے منافی، بے بنیاد الزامات اور سیاسی مایوسی کا مظہر قرار دیا ہے۔ اپنے اہم ترین سیاسی بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی وفاقی و صوبائی حکومتیں نعروں کے بجائے عوامی خدمت، بنیادی ترقیاتی منصوبوں اور پائیدار معاشی استحکام پر کامل یقین رکھتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ندیم افضل چن کی جانب سے حکومتی کارکردگی، گرین بس منصوبے، گندم کی خریدو فروخت اور مون سون بارشوں کے انتظامی امور پر لگائے گئے تمام تر الزامات محض سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا حصہ ہیں اور پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ اپنی مسلسل سیاسی ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کی بجائے اپنی کارکردگی کا خود جائزہ لے۔

بیرسٹر دانیال چوہدری نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے تناظر میں سعید غنی کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے ن لیگ کے امیدوار پر فائرنگ کے تمام دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا، تاہم انہوں نے کارکن مختیار یونس کے جاں بحق ہونے پر دلی افسوس کا اظہار کیا اور لواحقین سے تعزیت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں تمام تر انتخابات آئین اور قانون کے عین مطابق، بالکل آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انداز میں منعقد ہو رہے ہیں، اور ممکنہ شکست کے شدید خوف کے باعث قبل از وقت دھاندلی کا شور مچانا پیپلز پارٹی کی ہمیشہ سے پرانی روایت رہی ہے۔ وفاقی پارلیمانی سیکرٹری نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی شاندار کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ گرین بس منصوبہ صوبے کے شہریوں کو جدید، محفوظ، باوقار اور ماحول دوست سفری سہولیات فراہم کر رہا ہے جس سے روزانہ ہزاروں افراد مستفید ہو رہے ہیں، جبکہ سکولوں میں آئی ٹی لیبز، فرنیچر اور سمارٹ کلاس رومز کی فراہمی کے کام تیزی سے جاری ہیں۔

کسانوں اور زراعت کے حوالے سے ندیم افضل چن کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ پنجاب حکومت کے لیے زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود اولین ترجیح ہے اور گندم کی خریداری سمیت تمام قومی فیصلے مکمل شفافیت کے ساتھ کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مون سون بارشوں کے حوالے سے “آدھا پنجاب ڈوبنے” کی باتوں کو حقیقت کے برعکس قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی براہِ راست ہدایات پر انتظامیہ نے بروقت کارروائی کر کے محض دو سے تین گھنٹوں کے اندر تمام متاثرہ شہروں سے بارشی پانی کا مکمل انخلا یقینی بنایا۔ بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی بصیرت افروز قیادت میں وفاقی حکومت نے مہنگائی میں واضح کمی، سرمایہ کاری کے فروغ اور عوامی ریلیف کے لیے ٹھوس اور معاشی اقدامات کیے ہیں جن کے مثبت نتائج اب عوام کے سامنے آ رہے ہیں۔

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کا پمز ہسپتال کا دورہ: 200 بیڈز پر مشتمل زیرِ تکمیل جدید ایمرجنسی بلاک کا جائزہ، جلد فعال کرنے کا حکم

روزینہ اسماعیل, JULY 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسلام آباد کا دورہ کر کے وہاں 200 بیڈز پر مشتمل زیرِ تعمیر جدید اور سٹیٹ آف دی آرٹ ایمرجنسی سینٹر کے ترقیاتی کاموں کا تفصیلی معائنہ کیا، جو اس وقت اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ دورے کے دوران پمز ہسپتال کی سینئر انتظامیہ اور انجینئرنگ ٹیموں نے وفاقی وزیر کو منصوبے کی موجودہ پیش رفت، فنی امور، جدید طبی آلات اور دستیاب سہولیات پر مفصل بریفنگ دی۔ وفاقی وزیر صحت نے ہدایت کی کہ ایمرجنسی بلاک کی عمارت کی فنشنگ، صفائی ستھرائی اور تمام تر درپیش تکنیکی امور کو بین الاقوامی معیار کے مطابق جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ اسے عوام الناس کے علاج معالجے کے لیے بلا تاخیر کھولا جا سکے۔ انہوں نے انتظامیہ کو منصوبے کا پی سی-فور کا عمل بھی تیز کرنے کی سخت تاکید کی۔ سید مصطفیٰ کمال نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پمز پر جڑواں شہروں اور گردونواح کے اضلاع سے آنے والے مریضوں کا شدید بوجھ ہے، اس لیے اس جدید ایمرجنسی سینٹر کا فعال ہونا وقت کی سب سے بڑی اور عاجلانہ ضرورت ہے۔

بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر کو بتایا گیا کہ اس جدید ایمرجنسی بلاک میں شدید زخمی اور تشویشناک حالت کے مریضوں کے لیے 30 بیڈز پر مشتمل جدید ترین سرجیکل آئی سی یو10 بیڈز پر مشتمل میڈیکل آئی سی یو، دو بڑے اور جدید آپریشن تھیٹرز جبکہ دو مائنر آپریشن تھیٹرز قائم کیے گئے ہیں جو ہنگامی بنیادوں پر بہترین طبی نگہداشت فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ اس کے بعد وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے چائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے تعاون سے پمز میں قائم کردہ پیڈیاٹرک (بچوں کے) ایمرجنسی سینٹر کا بھی معائنہ کیا اور وہاں زیرِ علاج بچوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات، ادویات اور دیکھ بھال کے معیار کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ انہوں نے واضح اور سخت الفاظ میں ہدایت کی کہ معصوم بچوں کے علاج معالجے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور حکومت ہر ممکن وسائل فراہم کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر صحت نے اس عزم کو دہرایا کہ وزارتِ صحت تمام سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے تمام ضروری اقدامات مسلسل جاری رکھے گی۔

وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے امریکی کانگریسی وفد کی اعلیٰ سطحی ملاقات: سائبر سیکیورٹی، سٹیم اور تعلیمی تبادلوں کے فروغ کے لیے وسیع تر تعاون کا عزم

کاشف عباسی , JULY 27,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلیمی اور عسکری و ٹیکنالوجی روابط کو مزید مستحکم کرنے کی سمت ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے امریکہ کی ریاست واشنگٹن کے نمائندے کانگریس مین مائیکل جیمز بامگارٹنر اور ریاست مونٹانا سے منتخب ہونے والے سابق امریکی وزیرِ داخلہ و کانگریس مین ریان کیتھ زنکے سے ایک اعلیٰ سطحی دوطرفہ ملاقات کی ہے۔ اس موقع پر وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم وجیہہ قمر، چیئرمین نیوٹیک قمرالاسلام راجہ، سیکرٹری تعلیم اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ ملاقات میں سائبر سیکیورٹی، جدید تکنیکی مہارتوں اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے میدان میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی اور نتیجہ خیز تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں درپیش ڈیجیٹل سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستانی طلبہ اور پیشہ ور افراد کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کی ضرورت ہے، جس کے لیے سائبر سیکیورٹی کے خصوصی کورسز اور سرٹیفیکیشن پروگرامز فوری طور پر تیار کیے جائیں گے۔ دونوں فریقوں نے دونوں ممالک کے تعلیمی اداروں کے مابین جدید نصاب کی تیاری، مشترکہ تحقیق، فیکلٹی کے تبادلے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی و فن ٹیک کے شعبوں میں قریبی علمی شراکت داری استوار کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے امریکی کانگریسی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ پارلیمانی اور تعلیمی وفود کی اس طرح کی باقاعدہ آمد سے پاک امریکہ دیرینہ اور متعدد الجہتی تعلقات کو مزید تقویت ملے گی۔ حکومتِ پاکستان کے عزم کو دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مضبوط تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم اور کلیدی ستون ہیں اور دونوں ممالک کے روابط مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ اعلیٰ سطحی رابطوں کے تسلسل کو برقرار رکھا جائے گا تاکہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، معدنیات، صحت، زراعت اور تعلیم جیسے باہمی دلچسپی کے اہم شعبوں میں تعاو ن کی نئی راہداریاں کھولی جا سکیں۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے امریکی حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے فل برائٹ پروگرام اور دیگر تعلیمی تبادلے کے پروگراموں کے اثرات کو سراہتے ہوئے بتایا کہ اب تک 44 ہزار سے زائد پاکستانی ان میرٹ پر مبنی پروگراموں سے مستفید ہو چکے ہیں، جو انسانی وسائل کی تعمیر میں ایک عظیم سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے پاکستان کے تمام صوبوں سے ان توانائی، پانی، ماحولیات، صحت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے حیاتیاتی موضوعات پر ریسرچ میں شمولیت کی حوصلہ افزائی کی تاکہ مشترکہ چیلنجز سے احسن طریقے سے نمٹا جا سکے۔

اس اہم ملاقات کے دوران بین الاقوامی امیگریشن، ویزا پالیسیوں اور حساس ٹیکنالوجیز کے تحفظ کے موجودہ تناظر پر بھی تعمیری گفتگو ہوئی، جس پر وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ امریکی جامعات اور انڈسٹریز آج بھی عالمی سطح پر ‘سٹیم’ صلاحیتوں کی معترف ہیں اور پاکستان آئی ٹی، فن ٹیک، اور ایگری ٹیک کے میدان میں واشنگٹن کا ایک انتھائی قابلِ اعتماد، باصلاحیت اور متحرک شراکت دار بننے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ دونوں فریقین نے قلیل مدتی تحقیقی تبادلوں، ورچوئل لیبارٹریز، دوہری ڈگری پروگرامز اور اساتذہ کی تربیت کے لیے مشترکہ مراکز کے قیام کے امکانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ دونوں ممالک کے نمائندوں نے اس بات پر حتمی اتفاق کیا کہ تعلیم، تحقیقی ویزہ سہولیات اور تکنیکی جدت طرازی ہی وہ بنیادی ذرائع ہیں جو دونوں اقوام کے درمیان اعتماد، افہام و تفہیم اور معاشی خوشحالی کو طویل عرصے تک یقینی بنا سکتے ہیں، جبکہ وفاقی وزارتِ تعلیم نے اس اہم شراکت داری کو مزید نئی بلندیوں تک لے جانے کے اپنے اٹل عزم کا اعادہ کیا۔

چینی سپلائی چین کمپنی کا آئی سی سی آئی کا دورہ، فارما اور ہیلتھ کیئر شعبوں میں سرمایہ کاری پر اتفاقِ رائے

منصور احمد, JULY 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

چین کی معروف اور پیش رو سپلائی چین کمپنی ‘یوزونگھے (ہوبئی)’ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ونس ما کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی اور کثیر الجہتی چینی تاجر وفد نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کا باضابطہ دورہ کیا، جس کا بنیادی مقصد پاکستان میں فارماسیوٹیکل، ہیلتھ کیئر، میڈیکل ٹیکنالوجی اور سپلائی چین کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع اور نئے مواقع کا گہرائی سے جائزہ لینا تھا تاکہ دونوں دوست ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارتی و صنعتی تعاون کو مزید بلندیوں تک پہنچایا جا سکے۔ دورے کے دوران ہونے والے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چینی وفد کے قائد ونس ما نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی کمپنی اور چینی سرمایہ کار پاکستان کو ایک ابھرتی ہوئی، متحرک اور انتہائی پرکشش مارکیٹ کی نظر سے دیکھتے ہیں اور وہ یہاں محض تجارت ہی نہیں بلکہ براہِ راست سرمایہ کاری، جدید چینی ٹیکنالوجی کی پاکستان منتقل اور مقامی کمپنیوں کے ساتھ مل کر جوائنٹ وینچرز (مشترکہ منصوبے) قائم کرنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ چینی اور پاکستانی کمپنیوں کے درمیان یہ قریبی اور مضبوط صنعتی تعاون جہاں ایک طرف پاکستان میں صحت کی بنیادی سہولیات کے معیار کو بلند کرنے اور فارماسیوٹیکل سپلائی چین کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے میں مددگار ثابت ہوگا، وہی دوسری جانب جدید ترین ٹیکنالوجی، مہارت اور تحقیق کے تبادلے سے دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے لیے تجارت اور سرمائے کے نئے افق کھولے گا۔ ونس ما نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ اسلام آباد چیمبر میں ہونے والی بی ٹو بی یعنی تاجر سے تاجر کی سطح پر مذاکراتی ملاقاتیں دونوں ممالک کی تجارتی برادری کے درمیان دیرپا اور پائیدار معاشی تعلقات کی مضبوط بنیاد ثابت ہوں گی۔

چینی وفد کا گرمجوشی سے پرخلوص خیرمقدم کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ اس اعلیٰ سطحی چینی وفد کا دورہ پاکستان اور چین کے درمیان تیزی سے فروغ پاتے ہوئے معاشی اور صنعتی تعلقات کا ایک روشن مظہر ہے، جو خاص طور پر دواسازی، صحتِ عامہ اور سپلائی چین مینجمنٹ کے شعبوں میں ایک نئے سنہری باب کا آغاز ثابت ہوگا۔ انہوں نے وفد کو بتایا کہ اسلام آباد اور اس کے گردونواح کے تمام تر صنعتی خطے کو پاکستان کا سب سے اہم فارماسیوٹیکل، سرجیکل اور ہیلتھ کیئر حب تسلیم کیا جاتا ہے، جہاں چینی کمپنیاں مشترکہ منصوبوں، نجی سرمائے کی فراہمی، پروسیسنگ ٹیکنالوجی اور صنعتی سہولیات کے ذریعے وسیع فائس حاصل کر سکتی ہیں۔ انہوں نے آئی سی سی آئی کی طرف سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ چیمبر چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں قابلِ اعتماد اور بااعتماد تجارتی شراکت داروں سے جوڑنے اور تمام تر درکار سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنا فعال اور کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا۔

تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر طاہر ایوب نے دونوں ممالک کے جیو پولیٹیکل اور اقتصادی پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ فارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ، بائیوٹیکنالوجی، ہیلتھ کیئر میں ہونے والی جدید جدت طرازیوں اور جدید ترین سپلائی چین کے شعبوں میں چین کی عالمی سطح پر مسلمہ مہارت اور دوسری طرف پاکستان کی اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت و روز بروز پھیلتی ہوئی صارفین کی مارکیٹ، دونوں اقوام کے لیے باہمی مفاد پر مبنی معاشی تعاون کا ایک مثالی ماحول فراہم کرتی ہیں۔ مزید برآں، آئی سی سی آئی کے نائب صدر محمد عرفان چوہدری نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان تعمری ملاقاتوں سے پاکستان کی دواسازی کی صنعت کو چین کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی ملے گی اور نئی تجارتی راہداریاں کھلیں گی۔ اس اہم موقع پر چینی وفد کے دیگر ارکان جن میں لیو ہی شامل تھے، کے ساتھ ساتھ اسلام آباد چیمبر کے ایگزیکٹو ممبران ذوالقرنین عباسی، وسیم چوہدری، عمران منہاس، روحیل انور بٹ، سابق سینئر نائب صدر خالد چوہدری، اور آئی سی سی آئی کے دیگر اراکین اسرار مشوانی، عظمیٰ شیراز اور وفاقی دارالحکومت کی جید کاروباری و صنعتی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور دوطرفہ اقتصادی روابط کو جلد از جلد عملی شکل دینے کے عزم کو دہرایا۔

سی پیک یونیورسٹی کنسورشیم: ایچ ای سی نے پاکستانی اور آزاد کشمیر کے ایم ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی سکالرز کے لیے چین میں 6 ماہ کی ریسرچ فیلوشپ کا اعلان کر دیا

روزینہ اسماعیل, JULY 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) یونیورسٹی کنسورشیم کے فریم ورک کے تحت پاکستان اور آزاد کشمیر کی تسلیم شدہ جامعات میں زیرِ تعلیم ایم ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی سکالرز کے لیے چین کی بہترین جامعات و تحقیقاتی اداروں میں چھ ماہ کی باوقار تحقیقی فیلوشپ کے لیے آن لائن درخواستیں طلب کر لی ہیں۔ ایچ ای سی کے سرکاری بیان کے مطابق، اس فلیگ شپ پروگرام کا بنیادی مقصد پاکستان اور چین کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے درمیان دیرپا تعلیمی و سائنسی تعاون کو استوار کرنا، مشترکہ تحقیق کے دائرہ کار کو وسعت دینا اور قومی ترجیحات سے منسلک جدید ترین موضوعات پر اعلیٰ معیار کی تحقیق کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اس فیلوشپ کے تحت پاکستانی محققین کو چین کے جدید ترین لیبارٹری انفراسٹرکچر، ماہرین کی سرپرستی اور عالمی معیار کے تحقیقاتی ماحول سے استفادہ کرنے کا موقع ملے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیانی تعلیمی اور معاشی روابط مزید مضبوط ہوں گے۔

کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اہلیت کے معیار کے مطابق، اس فیلوشپ پروگرام کے لیے صرف وہی پاکستانی یا آزاد کشمیر کے شہری اپلائی کر سکتے ہیں جو کسی بھی منظور شدہ پاکستانی جامعہ میں کل وقتی ایم ایس، ایم فل یا پی ایچ ڈی کے طالب علم ہوں اور سلیکشن کے وقت بھی انہی ڈگری پروگرامز میں باقاعدہ رجسٹرڈ ہوں۔ پی ایچ ڈی کے امیدواروں کے لیے لازمی ہے کہ انہوں نے اپنا کورس ورک مکمل کر لیا ہو، ان کی رجسٹریشن کو کم از کم 18 ماہ ہو چکے ہوں اور ان کا تحقیقی پروپوزل باضابطہ طور پر منظور شدہ ہو۔ اسی طرح ایم ایس اور ایم فل کے طلبا کے لیے کم از کم 18 کریڈٹ آورز کی تکمیل اور تھیسز یا تحقیقی مرحلے میں داخل ہونا بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔ مزید برآں، امیدواروں کا مجوزہ تحقیقی منصوبہ ایسا ہونا چاہیے جو چین میں زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت میں مکمل کیا جا سکے اور اس کا براہِ راست تعلق ان کے بنیادی تھیسز سے ہو، جبکہ چین کی جس میزبان جامعہ یا لیب کا قبولیت نامہ پیش کیا جائے، اس کا سی پیک یونیورسٹی کنسورشیم کا باقاعدہ رکن ہونا ضروری ہے۔

یہ فیلوشپ پروگرام وقت کی جدید ضروریات اور پاکستان کے قومی و اقتصادی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ ایچ ای سی کے مطابق اس پروگرام میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس ، مشین لرننگ، سائبر سکیورٹی، روبوٹکس، قابلِ تجدید توانائی، گرین ٹیکنالوجی، زراعت، غذائی تحفظ، بائیوٹیکنالوجی، واٹر مینجمنٹ، ماحولیاتی سائنسز اور موسمیاتی تبدیلی جیسے جدید سائنسی شعبوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹیشن، صحتِ عامہ، بائیو میڈیکل سائنسز، معاشیات، عالمی تجارت اور سی پیک سٹڈیز جیسے اسٹریٹجک موضوعات پر تحقیق کرنے والے سکالرز بھی اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ایچ ای سی نے تمام اہل اور پرعزم سکالرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ مکمل دستاویزات کے ساتھ اپنے آن لائن فارمز ایچ ای سی کے پورٹل پر جمع کروائیں، جس کے لیے آخری تاریخ 14 اگست 2026ء مقرر کی گئی ہے۔

یورپی یونین کا روس پر پابندیوں کا طریقہ کار تبدیل کرنے پر غور؛ فنانشل ٹائمز کا انکشاف

محمود احمد, JULY 27,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

یورپی یونین روس کے خلاف اقتصادی و سیاسی پابندیاں عائد کرنے کے اپنے برسوں پرانے اور روایتی فریم ورک میں بنیادی تبدیلیوں پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ برطانوی اخبار ’فنانشل ٹائمز‘ کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق، برسلز میں پالیسی ساز اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پابندیوں کی منظوری کے موجودہ نظام میں اہم اصلاحات کی شدید ضرورت ہے۔ یہ صورتِ حال اور پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب یونان نے روس کے خلاف پابندیوں کے حالیہ اور انتہائی اہم پیکج کی منظوری کو مسلسل کئی ہفتوں تک روکے رکھا اور بلاآخر اپنی معیشت اور نجی شعبے کی بقا کی خاطر ایک بڑی کامیابی حاصل کی۔ رپورٹس کے مطابق، یونانی حکومت نے یورپی یونین کے اجلاسوں میں اس وقت تک نئے پابندیوں کے مسودے کی تائید اور توثیق سے صاف انکار کر دیا تھا جب تک کہ دیگر تمام یورپی ممبر ممالک نے یونان کی ایک معروف اور بڑی شپنگ کمپنی ’ڈائنا گیس‘ کو روس کے ساتھ تجارت کے حوالے سے خصوصی استثنا دینے پر مکمل رضامندی ظاہر نہیں کی۔

فنانشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ یونان کا بنیادی مقصد اپنی کمپنی کے بحری جہازوں کو اس بات کی قانونی اجازت دلوانا تھا کہ وہ یورپی یونین کی حد سے باہر کے تیسرے ممالک تک روسی مائع قدرتی گیس کی تجارتی ترسیل بلا تعطل جاری رکھ سکیں۔ یونانی حکام کا موقف تھا کہ اگر ان کی شپنگ انڈسٹری پر یہ یکطرفہ پابندیاں نافذ کی گئیں تو اس سے نہ صرف یونانی معیشت کو اربوں ڈالر کا ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا بلکہ عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی چین بھی شدید متاثر ہوگی۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق، یہ یورپی یونین کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ روس کے خلاف اجتماعی اور متفقہ اقتصادی پابندیوں کے فریم ورک کے دوران کسی مخصوص ملک کی درخواست پر ایک خاص تجارتی کمپنی کو یوں واضح اور بڑی نرمی دی گئی ہے۔ اس واقعے نے بلاواسطہ طور پر اس حقیقت کو بھی طشت از بام کر دیا ہے کہ ماسکو کے خلاف برسلز کی جانب سے عائد کی جانے والی اقتصادی پابندیوں کے اثرات اور نقصانات یورپی یونین کے تمام 27 رکن ممالک پر ایک جیسے مرتب نہیں ہوتے، بلکہ ساحلی اور تجارتی لحاظ سے متحرک ممالک کو اس کا زیادہ معاشی خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔

یونان کی جانب سے ملنے والی اس کامیابی اور مسلسل تاخیر کے بعد، اب برسلز کے اعلیٰ حکام اور یورپی کمیشن میں اس بنیادی نقطے پر گہرا غور و خوض جاری ہے کہ مستقبل میں روس یا کسی بھی دیگر ملک کے خلاف پابندیوں کا منظوری کا عمل کس طرح پیش کیا جائے۔ یورپی سفارت کاروں کے مطابق، اب یہ تجویز زیرِ غور ہے کہ آئندہ ایک ہی بڑا، پیچیدہ اور جامع پابندیوں کا پیکج لانے کے بجائے چھوٹے، انفرادی اور مخصوص موضوعاتی پیکجز تیار کر کے انہیں مرحلہ وار منظور کروایا جائے۔ اس نئی مجوزہ حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اگر مستقبل میں کسی ایک یا دو رکن ممالک کو کسی مخصوص شعبے پر تحفظات ہوں یا وہ اپنے قومی معاشی مفادات کی خاطر ویٹو پاور کا استعمال یا فیصلے میں تاخیر کریں، تو اس کے باعث پورے پابندیوں کے پلان اور دیگر اہم شقوں کی منظوری بالکل معطل نہ ہو جائے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یورپی یونین اس نئے طریقہ کار کو اپناتی ہے تو یہ یورپی اتحاد کی خارجہ پالیسی اور فیصلوں کی رفتار کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ روسی توانائی پر یورپی ممالک کا انحصار اور معاشی ترجیحات اب بھی اتحاد کی یکجہتی پر حاوی دکھائی دیتی ہیں۔