وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کا دورۂ ترکیہ: ‘ٹراسا’ اور ‘اسیلسن’ کا دورہ، ریلوے کی جدید کاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر اتفاق

منصور احمد, August 01,2026

انقرہ/ترکیہ (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی نے ترکیہ کے اپنے دو روزہ سرکاری دورے کے دوسرے روز ترکیہ کی معروف ریلوے مینوفیکچرنگ کمپنی ‘ٹراسا’ اور عالمی شہرت یافتہ دفاعی و ہائی ٹیکنالوجی کمپنی ‘اسیلسن’ کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر پاکستان ریلوے کی جامع جدید کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، مشترکہ مینوفیکچرنگ اور ڈیجیٹل ریلوے نظام کے فروغ پر دونوں ممالک کے حکام کے درمیان اہم اور تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزارتِ ریلوے کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر نے اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد کے ہمراہ جدید ریلوے ٹیکنالوجی، مسافر کوچز، ریلوے انجن، الیکٹرک اور ڈیزل ملٹی پل یونٹس فریٹ ویگنز، جدید پیداواری نظام، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ اور کوالٹی کنٹرول کے مختلف شعبوں کا بچشمِ خود معائنہ کیا۔ دورے کے دوران ترک نائب وزیر ٹرانسپورٹ عثمان بویراز، ٹراسا کے ڈائریکٹر جنرل سلیم کوچبائے، ٹی سی ڈی ڈی تاشیماجیلک کے ڈائریکٹر جنرل اوفوک یالچن، ڈپٹی گورنر ساکاریا اور اسیلسن کے اعلیٰ حکام نے پاکستانی وفد کو ترکیہ کے جدید ریلوے آپریشنز، سگنلنگ، مواصلاتی نظام، سائبر سکیورٹی اور اسمارٹ ٹرانسپورٹ ٹیکنالوجیز پر تفصیلی بریفنگ دی۔

مذاکرات کے دوران پاکستان ریلوے، ٹراسا اور اسیلسن کے درمیان ٹیکنالوجی ٹرانسفر، مشترکہ مینوفیکچرنگ، رولنگ اسٹاک کی جدید کاری، جدید سگنلنگ، ٹیلی کمیونیکیشن، خودکار ٹرین کنٹرول ، سائبر سکیورٹی اور ذہین ریلوے نظام میں آئندہ کے لیے وسیع تعاون کے امکانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ مزید برآں، کیرج فیکٹری اسلام آباد اور پاکستان ریلوے کی دیگر مرکزی ورکشاپس کو جدید ترک ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے اور مقامی سطح پر ریلوے آلات کی تیاری کے امکانات پر بھی فریقین کے مابین کامل اتفاقِ رائے پایا گیا۔

وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ریلوے کی مکمل ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، جدید ٹریفک مینجمنٹ، فائبر آپٹک مواصلاتی نظام اور محفوظ ریلوے آپریشنز موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایم ایل-1 (ML-1)، ایم ایل-3 (ML-3) اور اہم ترین ‘اسلام آباد-تہران-استنبول’ فریٹ کوریڈور کی کامیابی کے لیے جدید ریلوے ٹیکنالوجی کو اپنانا نہایت ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معیار کے سگنلنگ اور مواصلاتی نظام کی بدولت علاقائی روابط اور فریٹ آپریشنز مزید مستحکم اور منافع بخش ہوں گے۔

رکنِ قومی اسمبلی ملک محمد اقبال چنڑ کے انتقال پر چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

کاشف عباسی , August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے رکنِ قومی اسمبلی ملک محمد اقبال چنڑ کے ناگہانی انتقال پر گہرے دکھ، رنج اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی طویل پارلیمانی، سیاسی اور عوامی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے ہفتہ کے روز جاری کردہ ایک رسمی تعزیتی بیانیے میں چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ملک محمد اقبال چنڑ کے انتقال سے ملک و قوم ایک مخلص، دردِ دل رکھنے والے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے کوشاں سچے نمائندے سے محروم ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم نے اپنے پورے سیاسی و پارلیمانی کیریئر میں جمہوری اقدار کے فروغ، پارلیمنٹ کی توقیر اور عوام کی خدمت کے لیے گراں قدر اور ناقابلِ فراموش خدمات سرانجام دیں۔

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ سے ان کے والدِ گرامی کے انتقال پر دلی تعزیت اور سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے غم اور مشکل کی اس گھڑی میں سوگواران کے ساتھ کامل یکجہتی کا یقین دلایا۔

چیئرمین سینیٹ نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی روح کو جوارِ رحمت میں جگہ دے، ان کے درجات بلند فرمائے اور سوگوار خاندان کو یہ ناقابلِ تلافی نقصان اور عظیم صدمہ صبرِ جمیل کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

ریٹائر ہونے والے ملازمین کو پنشنری مراعات ریٹائرمنٹ کے وقت ہی فراہم کی جائیں: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیٰ آفریدی کی سخت ہدایت

منصور احمد, August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیٰ آفریدی نے سپریم کورٹ سمیت تمام متعلقہ شعبوں کو بروقت پنشنری مراعات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ریٹائر ہونے والے ملازمین کو ان کے تمام تر پنشنی حقوق ریٹائرمنٹ کے دن ہی فراہم کر دیے جانے چاہئیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ اپنی تمام تر زندگی ادارے کے لیے وقف کرنے والے افسران و ملازمین کو ان کے قانونی و آئینی حقوق بلا تاخیر اور بغیر کسی دشواری کے ملنے چاہئیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سپریم کورٹ کے ریٹائر ہونے والے سینئر اسسٹنٹ رجسٹرار حفظ الرحمٰن کے اعزاز میں منعقدہ ایک پروقار الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تقریب کے دوران چیف جسٹس یحیٰ آفریدی نے حفظ الرحمٰن کو ان کی تمام پنشنری مراعات کا چیک موقع پر ہی پیش کیا اور اسٹیبلشمنٹ برانچ کو آئندہ کے لیے بھی پنشن سے متعلق تمام ضروری کاغذی و انتظامی کارروائیاں ملازم کی ریٹائرمنٹ سے قبل مکمل کرنے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس نے زور دے کر کہا کہ سپریم کورٹ اپنے ملازمین کی فلاح و بہبود، ان کے حقوق کے تحفظ اور ایک مؤثر و شفاف انتظامی نظام کے فروغ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ انتظامیہ ریٹائر ہونے والے ملازمین کے وقار اور ان کے حقوق کے بروقت تحفظ کو ہر صورت یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ تقریب میں رجسٹرار سپریم کورٹ، دیگر اعلیٰ افسران اور عملے نے بھی شرکت کی اور ریٹائر ہونے والے سینئر اسسٹنٹ رجسٹرار حفظ الرحمٰن کی ادارے کے لیے پیش کردہ طویل و پرخلوص خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء نے حفظ الرحمٰن کے لیے صحت مند، خوشحال اور پرسکون ریٹائرڈ زندگی کے لیے نیک خواہشات اور تمناؤں کا اظہار کیا۔

ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کا روات میں چھاپہ: غیر قانونی فارماسیوٹیکل فیکٹری اور اسٹوریج سیل

کاشف عباسی , August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے مین جی ٹی روڈ، روات میں واقع کھوکھر پلازہ کے مقابل ایک بڑی اور غیر قانونی فارماسیوٹیکل پروڈکشن اور اسٹوریج فیکلٹی پر اچانک چھاپہ مار کر احاطے کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے۔

ترجمان ایف آئی اے کے مطابق یہ کارروائی خفیہ اطلاع پر عمل میں لائی گئی۔ چھاپے کے دوران موقع سے 14,961 مختلف اقسام کی گولیاں، 500 انجیکشنز، مختلف برانڈز کے 20,900 سیرپ اور 4,630 مختلف کریمز برآمد کی گئیں۔ اس کے علاوہ غیر قانونی تیاری میں استعمال ہونے والے 15 لاکھ خالی ہارڈ جیلاٹن کیپسول شیلز، 1,072 کلوگرام خام مال، 66,258 خالی بوتلیں، ایکٹو فارماسیوٹیکل انگریڈیئنٹس ، نیوٹراسیوٹیکل خام مال، پیکنگ میٹریل، فزیشن سیمپلز اور دوا سازی کی جدید مینوفیکچرنگ و پیکنگ مشینری بھی بحقِ سرکار ضبط کر لی گئی۔

تفتیشی ٹیم کے موقع پر معائنے سے انکشاف ہوا کہ اس غیر قانونی فیکٹری میں ڈرگ ریگولیٹری قواعد و ضوابط، گڈ سٹوریج پریکٹسز اور گڈ ڈسٹری بیوشن پریکٹسز کی سنگین ورزیاں کی جا رہی تھیں۔ ادویات کی معیار، حفاظت اور افادیت کے لیے قانون کے مطابق درکار درجہ حرارت اور دیگر ضروری تکنیکی شرائط کا سرے سے کوئی اہتمام نہیں کیا گیا تھا۔

کارروائی کے دوران موجود فیڈرل ڈرگ انسپکٹر نے ڈرگ ایکٹ کے تحت موقع سے ادویات اور خام مال کے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری تجزیے کے لیے ارسال کر دیے ہیں، جس کی حتمی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ملوث ملزمان کے خلاف ایف آئی اے کے ذریعے مزید قانونی اور سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ایف آئی اے حکام نے واضح کیا ہے کہ عوام الناس کی زندگیوں اور صحت سے کھیلنے والے جعلی ادویات کے مافیا کے خلاف اینٹی کرپشن سرکل کا بلاامتیاز کریک ڈاؤن آئندہ بھی بلا تعطل جاری رہے گا۔

رکنِ قومی اسمبلی ملک محمد اقبال چنڑ کے انتقال پر وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا گہرے دکھ کا اظہار

کاشف عباسی , August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی ملک محمد اقبال چنڑ کے ناگہانی انتقال پر گہرے دکھ، رنج اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے تعزیتی بیانیے میں وفاقی وزیر نے کہا کہ مرحوم نے اپنی پوری سیاسی زندگی میں بے لوث عوامی خدمت، پاکستان مسلم لیگ (ن) سے لازوال وفاداری اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے انتہائی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک محمد اقبال چنڑ کا انتقال پارٹی بالخصوص ملکی سیاست کے لیے ایک بہت بڑا نا وہ پورا ہونے والا نقصان ہے۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اپنی پوسٹ کے ذریعے مرحوم کے سوگوار اہلِ خانہ، بالخصوص ان کے صاحبزادے اور ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک ظہیر اقبال چنڑ اور تمام متعلقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے ربّ العزت کے حضور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے بلند درجات فرمائے، ان کی مغفرت کرے اور لواحقین کو یہ صدمہ صبر و حوصلے سے برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔

رکنِ قومی اسمبلی ملک اقبال چنڑ کے انتقال پر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

منصور احمد, August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے سینئر سیاستدان، رکنِ قومی اسمبلی ملک اقبال چنڑ کے ناگہانی انتقال پر گہرے رنج و غم اور دلی افسوس کا اظہار کیا ہے۔ مرحوم، پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ کے والدِ گرامی تھے۔

ہفتہ کے روز جاری کردہ اپنے ایک خصوصی تعزیتی بیانیے میں گورنر خیبرپختونخوا نے مرحوم ملک اقبال چنڑ کی سیاسی، سماجی اور طویل عوامی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ مرحوم نے جمہوری اقدار کی پاسداری اور عوامی خدمت کے میدان میں انتہائی گراں قدر خدمات انجام دیں، جنہیں سیاسی و سماجی حلقوں میں ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا اور یاد رکھا جائے گا۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک ظہیر اقبال چنڑ، ان کے سوگوار خاندان اور تمام پسماندگان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ ملک اقبال چنڑ کی کامل مغفرت فرمائے، انہیں جوارِ رحمت اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور تمام لواحقین کو اس ناگہانی و عظیم صدمے کو صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے۔

سیلاب متاثرین کی امداد کے دوران جامِ شہادت نوش کرنے والے 6 شہداء کی عظیم قربانی؛ پاک فوج عوام کی خدمت اور دفاعِ وطن کے لیے ہمیشہ پیش پیش

کاشف عباسی , August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

پاک فوج کی عوام کے لیے کی جانے والی بے لوث خدمات سے تاریخ بھری پڑی ہے، چاہے جنگ کی صورتحال ہو یا ناگہانی آفت، مسلح افواج نے قوم کو کبھی مایوس کیا اور نہ ہی تنہا چھوڑا ہے۔ عوامی خدمت کی ایسی ہی لازوال اور بے لوث مثال 2022ء کی تباہ کن سیلابی صورتحال کے دوران قائم کی گئی تھی۔

آج یکم اگست 2026ء کو کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی شہید اور ان کے ساتھیوں کی چوتھی برسی منائی جا رہی ہے۔ یکم اگست 2022ء کو لسبیلہ میں سیلاب متاثرین کی امدادی سرگرمیوں کا خود جائزہ لینے کے لیے ریسکیو مشن کی قیادت کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہو گیا تھا، جس میں انہوں نے اپنے دیگر 5 رفقائے کار کے ساتھ جامِ شہادت نوش کیا۔

اس المناک حادثے میں بریگیڈیئر امجد حنیف (جو حادثے سے کچھ عرصہ قبل ہی میجر جنرل کے عہدے پر ترقی پا چکے تھے)، بریگیڈیئر محمد خالد، پائلٹ میجر سعید احمد، میجر محمد طلحہ اور نائیک مدثر فیاض بھی ملک و قوم کی خدمت کرتے ہوئے شہید ہو گئے تھے۔ اس دردناک حادثے نے پوری قوم کی آنکھیں اشکبار کر دی تھیں اور ملک کی فضا کئی روز تک شدید سوگوار رہی۔

کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی شہید ایک انتہائی پیشہ ور، باصلاحیت اور نڈر آفیسر تھے جنہوں نے پاک فوج میں اہم ترین عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ انہیں نومبر 2020ء میں تھری سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی جبکہ دسمبر 2020ء میں انہیں کور کمانڈر کوئٹہ تعینات کیا گیا تھا۔ پاک فوج ہر مشکل گھڑی میں اپنے ہم وطنوں کی مدد اور ملک و قوم کے دفاع کے لیے ہمیشہ تپش و قربانی کے جذبے سے شارشار رہی ہے اور آئندہ بھی کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے دوسرے مرحلے کے انتخابات: مظفرآباد ڈویژن میں پولنگ کل ہوگی

کاشف عباسی , August 01,2026

مظفرآباد/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

آزاد جموں و کشمیر میں عام انتخابات کے دوسرے مرحلے کے تحت مظفرآباد ڈویژن میں پولنگ کا معرکہ کل، 2 اگست بروز اتوار سجنے جا رہا ہے۔ اس مرحلے کے دوران مظفرآباد ڈویژن کے تمام عام انتخابی حلقوں کے ساتھ ساتھ مقیم پاکستان مہاجرین جموں و کشمیر کی 12 مخصوص نشستوں پر بھی کل ہی ووٹنگ کے ذریعے نمائندوں کا انتخاب کیا جائے گا۔

انتخابات کے موقع پر کالعدم ایکشن کمیٹی کے کور ممبر راجہ سعید امجد نے اپنے ایک خصوصی ویڈیو پیغام کے ذریعے مظفرآباد ڈویژن کی عوام سے انتخابی عمل میں بھرپور حصہ لینے کی اپیل کی ہے۔ راجہ سعید امجد کا اپنے ویڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ وہ مظفرآباد ڈویژن کے غیرت مند عوام سے مخاطب ہیں کہ وہ 2 اگست کو پولنگ کے عمل میں بلا خوف و خطر اور بھرپور انداز میں حصہ لے کر اس اہم جمہوری عمل کا لازمی حصہ بنیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح میرپور ڈویژن کے غیور عوام نے پہلے مرحلے میں اپنا جمہوری حق استعمال کیا، بالکل اسی طرح مظفرآباد ڈویژن کے عوام بھی باہر نکلیں اور اپنے ووٹ کی طاقت سے اپنے نمائندوں کو منتخب کریں۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں عوام کی ریکارڈ اور پرجوش شرکت اس بات کی واضح عکاس ہے کہ باشعور اور غیور کشمیری اپنے حقوق کے حصول کے لیے پرامن جمہوری عمل پر کامل یقین رکھتے ہیں۔

راولپنڈی اور اسلام آباد میں موسلادھار بارش سے نشیبی علاقے زیرِ آب، بہارہ کہو ڈوب گیا؛ نالہ لئی میں پانی کی سطح بلند، راولپنڈی میں پری الرٹ نافذ

منصور احمد, August 01,2026

راولپنڈی/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں موسلادھار بارشوں کے بعد شدید طغیانی اور ندی نالوں میں ابال آنے سے بیشتر نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔ اسلام آباد کا مضافاتی علاقہ بہارہ کہو بارشی پانی میں مکمل ڈوب گیا ہے، جبکہ راولپنڈی کے متعدد تجارتی و رہائشی علاقوں میں ندی نالوں کا پانی جمع ہونے سے شہریوں اور تاجروں کو شدید مشکلات اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بہارہ کہو میں نکاسیِ آب کا موثر اور بروقت انتظام نہ ہونے کے باعث بارشی پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہو گیا جس سے شہریوں کا قیمتی سامان تباہ ہو گیا اور تمام اہم شاہراہیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگی ہیں۔ دوسری جانب راولپنڈی کی مصریال روڈ فرینڈز کالونی میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک بچہ تیز بارشی پانی میں ڈوب گیا۔ اس کے علاوہ راولپنڈی کے مشہور راجہ بازار کے ماڈل بازار میں پانی جمع ہو گیا اور دکانوں کے اندر پانی داخل ہونے سے تاجر برادری کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

نالہ لئی میں پانی کی سطح میں مسلسل اور تیز رفتاری سے اضافہ ہو رہا ہے۔ فلڈ کنٹرول روم کی رپورٹ کے مطابق راولپنڈی کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 10 فٹ جبکہ گوالمنڈی کے مقام پر 9 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث گوالمنڈی کے مقام پر باقاعدہ ‘پری الرٹ’ (Pre-Alert) نافذ کر دیا گیا ہے، واضح رہے کہ کٹاریاں پر پری الرٹ لیول 11.4 فٹ مقرر ہے۔

محکمہ موسمیات اور فلڈ کنٹرول روم کے مطابق نالہ لئی بیسن میں اوسط بارش 54.51 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔ سب سے زیادہ بارش کچہری چکلالہ میں 103 ملی میٹر ریکارڈ ہوئی، جبکہ شمس آباد میں 71، سیدپور ویلیج میں 67، پی ایم ڈی (ایچ ایٹ) میں 63، پیرودھائی میں 60، نیو کٹاریاں میں 58، گولڑہ میں 51 اور بوکھڑا کے مقام پر 41 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ متعلقہ انتظامیہ اور ریسکیو ادارے نالہ لئی اور تمام حساس نشیبی علاقوں میں صورتحال کی 24 گھنٹے مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔

وفاقی دارالحکومت میں موسلادھار بارشیں: پانی کی سطح 1748.30 فٹ تک پہنچنے پر راول ڈیم کے سپل ویز کھول دیے گئے

منصور احمد, August 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اگست 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور ملحقہ علاقوں میں جاری موسلادھار بارشوں کے بعد راول ڈیم میں پانی کی آمد میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے پیشِ نظر ڈیم کی انتظامیہ نے راول ڈیم کے سپل ویز باقاعدہ طور پر کھول دیے ہیں۔ ڈیم میں پانی کی سطح خطرناک حد کے قریب یعنی 1748.30 فٹ تک پہنچنے کے بعد یہ اقدام اٹھایا گیا۔

تفصیلات کے مطابق آج صبح 6 بجے راول ڈیم اسلام آباد کے سپل ویز کھولے گئے تاکہ ڈیم میں پانی کی سطح کو کنٹرول کرتے ہوئے 1748.30 فٹ سے کم کر کے محفوظ سطح یعنی 1747 فٹ پر لایا جا سکے۔ سپل ویز کھولنے سے قبل باقاعدہ سائرن بجا کر ڈیم کے اطراف اور نچلی آبادیوں کو الرٹ کیا گیا۔ ڈیم کے سب ڈویژنل آفیسر اعجاز احمد کھٹانہ کے مطابق سپل ویز کے ذریعے 6 ہزار 283 کیوسک پانی ڈیم سے خارج کیا گیا ہے، جس سے پانی کی سطح میں 2 فٹ تک کمی لائی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سپل ویز کھولنے کے اس آپریشن سے پہلے ہی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے تمام متعلقہ اداروں اور انتظامیہ کو پیشگی اطلاع فراہم کر دی تھی۔

کورنگ نالے میں پانی کے تیز بہاؤ اور طغیانی کے خدشے کے پیشِ نظر ملحقہ آبادیوں کے مکینوں کو انتہائی محتاط رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ انتظامیہ نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کورنگ نالے اور اس پر بنے عارضی پلوں کو پار کرنے سے مکمل گریز کریں۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور ضلعی انتظامیہ نے تمام متعلقہ اداروں اور ریسکیو سروسز کو 24 گھنٹے ہائی الرٹ رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت رسپانس یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔ ڈی سی اسلام آباد نے شہریوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ بارشوں کے دوران ندی نالوں، برساتی نالوں اور پانی کے تیز بہاؤ والی جگہوں سے دور رہیں اور غیر ضروری طور پر ڈیم یا نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں۔ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے یا ہنگامی مدد کی صورت میں فوری طور پر ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن یا ریسکیو اداروں سے رابطہ قائم کریں۔

اقوامِ متحدہ: پاکستان کا نوجوانوں پر امن اور کثیرالجہتی نظام کے فروغ میں قائدانہ کردار ادا کرنے پر زور

محمود احمد, August 01,2026

اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

پاکستان نے دنیا بھر کے نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ عالمی امن کے فروغ، کثیرالجہتی نظام کے استحکام اور عالمی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے میں اپنا متحرک اور قائدانہ کردار ادا کریں۔

اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں “فیوچر وی وانٹ: گلوبل انیشی ایٹو فار ینگ لیڈرز” کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، جو “نوجوانوں کو کثیرالجہتی نظام کے استحکام کے لیے بااختیار بنانا” کے عنوان کے تحت منعقد ہوا، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ پاکستان کی تقریباً 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس امر پر پختہ یقین رکھتا ہے کہ نوجوان زیادہ پُرامن، منصفانہ اور جامع مستقبل کی تعمیر میں سب سے اہم شراکت دار ہیں۔ انہوں نے دنیا بھر سے نوجوان رہنماؤں کو یکجا کرنے پر اٹلی کے مستقل مشن اور اطالوی ڈپلومیٹک اکیڈمی کا شکریہ ادا کیا۔

مستقل مندوب نے اپنے خطاب میں کہا کہ اقوامِ متحدہ کا قیام آنے والی نسلوں کو جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے عمل میں آیا تھا، اور امن، انسانی حقوق اور پائیدار ترقی آج بھی اقوامِ متحدہ کے نظام کے تین بنیادی اور باہم مربوط ستون ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امن صرف جنگ یا تنازع کے نہ ہونے کا نام نہیں، بلکہ یہ انصاف، مکالمے، باہمی احترام اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں کی پاسداری پر استوار ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کی دنیا مسلح تنازعات، غیر ملکی قبضے اور بڑھتی ہوئی تقسیم کا سامنا کر رہی ہے، جس کے باعث مؤثر کثیرالجہتی تعاون کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے کیونکہ کوئی بھی ملک تنہا ان باہم مربوط عالمی چیلنجز سے نہیں نمٹ سکتا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کی بین الاقوامی سفارت کاری میں خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے یاد دلایا کہ سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 (2025) متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی، جس میں مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے پُرامن حل کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ انہوں نے مغربی ایشیا میں حالیہ تنازع کے دوران تحمل، مکالمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کے مضبوط موقف اور ان سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا جو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی صورت میں نتیجہ خیز ثابت ہوئیں۔

نوجوان شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امن کا قیام صرف کانفرنس ہالوں یا مذاکراتی کمروں تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ اس کی بنیاد تعلیمی اداروں، جامعات، مقامی برادریوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر رکھی جاتی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو تلقین کی کہ وہ باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دیں، تنوع کو اپنائیں، عدم برداشت اور گمراہ کن معلومات کا مقابلہ کریں، اور مختلف ثقافتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کریں۔ اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر عاصم افتخار احمد نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تقسیم کے بجائے تعاون، محاذ آرائی کے بجائے مکالمے اور خوف کے بجائے امید کا راستہ اختیار کریں۔

اقوامِ متحدہ کی بریفنگ: پاکستان کا جامع، انسان دوست اور شمولیتی عالمی مصنوعی ذہانت حکمرانی کے عزم کا اعادہ

محمود احمد, August 01,2026

اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ 2026ء ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس اور عالمی مصنوعی ذہانت حکمرانی پر اعلیٰ سطحی اجلاس سے متعلق بریفنگ کے دوران ایک جامع، انسان دوست اور ترقی پر مبنی مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے اپنے مکمل عزم کا اعادہ کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کا باضابطہ موقف پیش کرتے ہوئے اس بین الاقوامی کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر چین کو مبارکباد پیش کی اور ‘ورلڈ اے آئی کوآپریشن آرگنائزیشن’ کے تاریخی قیام کا پرزور خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اس کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کی، جبکہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے مئی 2026ء میں اپنے دورۂ چین کے دوران اس اہم بین الاقوامی اقدام کی مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ پاکستان اس نئی عالمی تنظیم کے بانی ارکان میں شامل ہے۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے زور دے کر کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو عالمی مصنوعی ذہانت کی جدید معیشت میں مؤثر اور بامعنی شرکت کے لیے ڈیٹا، کمپیوٹنگ صلاحیت، ماڈلز، ضروری آلات اور جدید تکنیکی مہارت تک مساوی و منصفانہ رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ انہوں نے کانفرنس کے نتائج کو عالمی ٹیکنالوجی تعاون کے فروغ کے لیے ایک عملی اور مؤثر لائحۂ عمل قرار دیا۔

انہوں نے مستقبل کے تکنیکی تعاون کے لیے تین اہم ترجیحات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے اور صلاحیتوں کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ صحت، تعلیم، زراعت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے پائیدار ترقی کے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کا عملی استعمال بڑھایا جائے اور بین الاقوامی معیارات، ڈیجیٹل تحفظ اور ضوابط کے حوالے سے بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ذمہ دارانہ عالمی حکمرانی کو فروغ دیا جائے۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان، چین اور دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا تاکہ مصنوعی ذہانت کو تمام انسانیت کی مشترکہ خوشحالی اور پائیدار ترقی کا ضامن بنایا جا سکے۔

مون سون بارشوں کے پیشِ نظر راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ میں ہائی الرٹ جاری: ایمرجنسی اسٹاف کی تمام چھٹیاں منسوخ

کاشف عباسی , JULY 31,026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

مون سون کی متوقع شدید بارشوں اور ندی نالوں میں طغیانی کے ممکنہ خطرات کو مدِنظر رکھتے ہوئے راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ نے کنٹونمنٹ کے تمام علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ایگزیکٹو آفیسر عامر رشید کی خصوصی ہدایت پر ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی اسٹاف اور صفائی کے عملے کی تمام تعطیلات فوری طور پر منسوخ کر دی گئی ہیں، جبکہ نالوں کے قریب اور نشیبی علاقوں میں مقیم شہریوں کو بھی آگاہی اور الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

ترجمان راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے مطابق بارشوں کے دوران پانی کی فوری اور موثر نکاسی کو یقینی بنانے کے لیے فیلڈ افسران، آپریشنل مشینری اور عملہ مکمل طور پر مستعد ہے۔ مون سون سیزن کے آغاز سے قبل شروع کی گئی خصوصی صفائی مہم کے تحت ٹینچ بھاٹہ، جان کالونی، اسلم مارکیٹ، حبیب کالونی، فرینڈز کالونی، شالے ویلی، رینج روڈ، رینج روڈ کالونی، ڈھوک بنارس، غازی آباد، کامران مارکیٹ، فیصل کالونی اور آڈرا 22 نمبر جیسے تمام حساس اور اہم نالوں کی صفائی کا کام تقریباً مکمل کیا جا چکا ہے اور ان مقامات کی چوبیس گھنٹے نگرانی کی جا رہی ہے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری اور موثر انداز میں نمٹنے کے لیے بھاری اور ہلکی مشینری (بشمول سیکشن پمپنگ مشینری) کو ہائی الرٹ اور فیلڈ کے لیے تیار رکھا گیا ہے۔ کنٹونمنٹ انتظامیہ نے شہریوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ نالوں اور نالیوں میں کچرا، ملبہ یا دیگر فضلا ہرگز نہ پھینکیں کیونکہ اس سے پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ شہریوں سے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرنے اور کسی بھی شکایت یا ہنگامی مدد کی صورت میں فوری متعلقہ حکام سے رابطے کی استدعا کی گئی ہے۔

آرٹیکل 370 اور 35 کی منسوخی کے 7 سال: مقبوضہ کشمیر میں امن و ترقی کے بھارتی دعوے زمینی حقائق کے برعکس نکلے

منصور احمد, JULY 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

غیر قانونی زیرِ تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر میں اگست 2019ء کے دوران بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35کی یکطرفہ و غیر قانونی منسوخی کے بعد سے اب تک وادی میں امن، ترقی اور خوشحالی سے متعلق بھارتی حکومت کے تمام تر ادعا اور دعوے مکمل طور پر کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔ سیاسی اور دفاعی تجزیہ کاروں کی جانب سے پیش کردہ ایک جامع رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سات سال کے دوران مقبوضہ خطے کو معاشی تباہی، سیاسی بے چینی اور انسانی حقوق کے شدید ترین چیلنجز کا سامنا رہا ہے جو نئی دہلی کے سرکاری بیانیے کو بے نقاب کرتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت نے آئینی حیثیت کے خاتمے کو وادی کے انضمام اور ترقی کے منصوبے کے طور پر پیش کیا تھا، تاہم سات سال کے بعد بھی بے روزگاری، شدید عسکریت، جبری نظر بندیاں اور آبادی کی تناسب کو بدلنے کی ناپاک کوششیں عروج پر ہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بھارتی حکومت سیاحوں کی تعداد کو معمول کی زندگی کا ثبوت بنا کر پیش کرتی ہے، تاہم 2019ء کی پابندیوں اور 2025ء کے پہلگام حملے کے بعد وادی کا شعبۂ سیاحت مکمل طور پر سیکورٹی فورسز کے رحم و کرم پر ہے جس سے مقامی ہاتھ کے کاریگر، تاجر اور سیاحت سے وابستہ ہزاروں کشمیری شدید معاشی بحران کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ سیب کی صنعت، باغبانی اور درمیانے درجے کے تمام کاروبار نئے ٹیکسوں، متنازعہ زمینی پالیسیوں اور کاروباری بندشوں کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق تعلیم کا شعبہ مسلسل انٹرنیٹ کی بندش، طویل سیکورٹی پابندیوں اور اساتذہ کی شدید کمی سے متاثر ہے، جس سے پوری وادی کے نوجوان خوف، شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال میں مبتلا ہیں۔ دوسری جانب زمین، ڈومیسائل اور انتظامی قوانین میں جابرانہ ترمیم کے ذریعے مقبوضہ وادی کی مسلم اکثریتی آبادیاتی ساخت کو ہندو اکثریت میں بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی ورزی ہے۔ مذہبی قیادت پر پابندیوں اور اسلامی اداروں میں مداخلت نے کشمیریوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔

جولائی 2026ء میں وادی کے اندر ‘ریاستی حیثیت کی بحالی’ کی تحریک نے مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور مذہبی قیادت کو ایک بار پھر ایک پیج پر متحد کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئینی حقوق کی بحالی، تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی اور سچی جمہوریت کا قیام ہی حل ہے۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ وادی میں پائیدار امن تبھی ممکن ہے جب جموں و کشمیر کے تنازع کو بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات و امنگوں کے مطابق حل کیا جائے۔

ایک لاکھ کشمیری پاک فوج کا حصہ ہیں، قربانی دینے والوں کو قابض کہنا زیادتی ہے؛ 25 کروڑ آبادی کی ضروریات کے لیے انتظامی ری سیٹ پر عوام اور حکومت غور کریں، اہم پریس کانفرنس

منصور احمد, JULY 31,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے راولپنڈی میں اہم ترین میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر اور پاکستان کی سلامتی و انتظامی ڈھانچے پر پاک فوج کا موقف بالکل واضح اور قطعی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے زور دے کر کہا کہ “پاکستان کا سب سے لاڈلہ بچہ کشمیر ہے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا، ہمارے بچے بڑے ہوں گے تو ان کی بھی یہی ایک آواز رہے گی کہ کشمیر بنے گا پاکستان۔”

ترجمان پاک فوج نے مقبوضہ و آزاد کشمیر کی صورتحال اور پاک فوج پر بلاجواز تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ “ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے اور کشمیر بھی ہمارا ہے، مگر دوسری جانب تقاریر میں پاکستان کی فوج کو قابض کہا جا رہا ہے۔ یہ بتائیں کہ اسی پاک فوج میں کم از کم ایک لاکھ کشمیری جوان شامل ہیں، اور کتنے ہی پاکستانی مجاہدین و افواج کے افسران نے کشمیر کی آزادی کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔ انہیں قابض کہنا کسی صورت درست نہیں۔” انہوں نے واضح کیا کہ فوج کا سیاسی یا مقامی انتظامی امور سے کوئی لینا دینا نہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے ملک میں قومی سلامتی، گڈ گورننس اور انتظامی اصلاحات کے باہمی تعلق پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی قومی سلامتی، گڈ گورننس اور عوامی فلاح و بہبود ایک دوسرے سے گہرے جڑے ہوئے ہیں۔ اس لیے بدلتے ہوئے عالمی و علاقائی حالات کے مطابق ملک کے انتظامی ڈھانچے اور حکمرانی کے نظام پر سنجیدگی سے غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اچھی حکمرانی کے بغیر درپیش چیلنجز کا موثر حل ممکن نہیں۔

ترجمان پاک فوج نے مزید اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ 1972ء میں پاکستان کی کل آبادی محض 7 سے 8 کروڑ تھی جو آج بڑھ کر تقریباً 25 کروڑ تک جا پہنچی ہے، جس کی وجہ سے عوامی ضروریات اور مسائل کا حجم بھی یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ اگر ملک میں بہتر حکمرانی اور عوام کی سہولت کے لیے کسی ‘انتظامی ری سیٹ’ کی ضرورت ہے تو اس پر ضرور غور ہونا چاہیے، تاہم چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام یا نیا فریم ورک بنانے کا حتمی اختیارات صرف عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کے پاس ہے۔

ملتان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ‘اسکول آف نرسنگ’ کا افتتاح: وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کی عالمی معیار کی سہولیات کی فراہمی پر انتظامیہ کو مبارکباد

روزینہ اسماعیل, JULY 31,2026

ملتان (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ملتان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں عالمی معیار کی سہولیات، جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق پر مبنی بہترین تعلیمی ماحول انتہائی قابلِ تحسین ہے، ایسے ہی معیاری ادارے ملک میں مایوسی کے خاتمے اور نوجوان نسل میں امید کی نئی کرن پیدا کرنے کا بنیادی ذریعہ بنتے ہیں۔

یہ بات انہوں نے ملتان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ‘اسکول آف نرسنگ اینڈ الائیڈ ہیلتھ سائنسز’ کی پروقار افتتاحی تقریب سے بحیثیتِ مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وفاقی وزیر صحت نے یونیورسٹی انتظامیہ کو جدید شعبے کا کامیاب آغاز کرنے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اپنے منصب کی بدولت انہیں ملک بھر سے روزانہ مختلف معلومات موصول ہوتی رہتی ہیں، مگر جب کبھی ملک میں مایوسی کا تاثر ابھرے تو اس یونیورسٹی جیسے اداروں کا رخ کرنا چاہیے جہاں مثبت سوچ، محنت اور روشن مستقبل کا وژن صاف نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معیار کا ایسا شاندار انسٹیٹیوٹ قائم کرنے کے لیے غیر معمولی جنون اور نیت کی سچائی درکار ہوتی ہے۔

سید مصطفیٰ کمال نے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہیلتھ کیئر کا حقیقی مقصد صرف ہسپتالوں کی عمارتیں بنانا نہیں بلکہ انسانوں کو بیمار ہونے سے بچانا اور پیشگی علاج یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے ملک میں صحت کی تشویشناک صورتحال پر اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 6.7 ملین (67 لاکھ) بچوں کی پیدائش ہوتی ہے، جبکہ زچگی اور دورانِ حمل کی پیچیدگیوں کے باعث سالانہ تقریباً 11 ہزار خواتین جان کی بازی ہار جاتی ہیں، اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات بھی ہمارے لیے بڑا چیلنج ہیں۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ ان کا محکمہ ایسی حکمتِ عملی پر کاربند ہے جس سے بیماریوں کی بروقت تشخیص اور بہتر طبی سہولیات عام شہری تک پہنچ سکیں۔

وفاقی وزیر صحت نے طلبہ و طالبات پر زور دیا کہ وہ یہاں سے محض کاغذی ڈگری لے کر نہ نکلیں بلکہ اپنے شعبے کے باصلاحیت اور ماہر پروفیشنل بن کر ملک کی خدمت کریں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دیگر متعلقہ حکام اور اعلیٰ شخصیات کو بھی ملتان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے دورے کی ترغیب دیں گے تاکہ ملک بھر کی دیگر جامعات بھی اس ماڈل کو اپناتے ہوئے اپنے تعلیمی اور طبی معیار کو بلند کر سکیں۔

مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کے 133ویں یومِ پیدائش پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا شاندار خراجِ عقیدت

کاشف عباسی , JULY 31,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کو ان کے 133ویں یومِ پیدائش کے پروقار موقع پر شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ صدرِ مملکت نے اپنے پیغام میں انہیں تحریکِ آزادی کی عظیم رہنما اور بانیِ پاکستان کی انتہائی بااعتماد ساتھی قرار دیا ہے۔

ایوانِ صدر کی جانب سے جمعہ کے روز جاری ہونے والے باضابطہ اعلامیے کے مطابق، صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح قائدِاعظم محمد علی جناح کی نہ صرف بااعتماد رفیقِ کار تھیں بلکہ وہ تحریکِ پاکستان کی ایک ممتاز رہنما اور عظیم جمہوری اقدار کی توانا علمبردار بھی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ مادرِ ملت نے برصغیر کی خواتین کو قومی زندگی اور تحریکِ آزادی کی جدوجہد میں اپنا مؤثر اور بھرپور کردار ادا کرنے کی ترغیب دی، جس کی بدولت ان کی یہ عظیم جدوجہد آج بھی پوری پاکستانی قوم بالخصوص خواتین کے لیے ایک روشن مشعلِ راہ ہے۔

صدرِ مملکت نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پوری قوم مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی عظیم قومی، سیاسی، جمہوری اور بے لوث سماجی خدمات کو ہمیشہ انتہائی قدر اور گہرے احترام کی نگاہ سے یاد رکھے گی۔ انہوں نے اپنے پیغام کے اختتام پر خصوصی دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کے درجات بلند فرمائے اور انہیں اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ و ارفع مقام عطا فرمائے۔

چاروں صوبوں کو نارتھ ، سینٹرل اور ساؤتھ کے نام سے مزید 3، 3 انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے کی تجویز: عبدالعلیم خان کی انتظامی اصلاحات کی پرزور حمایت

منصور احمد, JULY 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے مواصلات اور استحکامِ پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے صدر عبدالعلیم خان نے ملک میں وسیع پیمانے پر انتظامی اصلاحات کی پرزور حمایت کرتے ہوئے پاکستان کے چاروں صوبوں کو مزید تین تین نئے صوبائی و انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے کی ایک بڑی اور اہم تجویز پیش کر دی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے اہم بیانیے میں عبدالعلیم خان نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے انتظامی اصلاحات سے متعلق کی گئی باتیں انتہائی غور طلب اور وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور جدید انتظامی ضروریات کے پیشِ نظر اب چاروں صوبوں—پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان—کو ‘نارتھ’ (شمالی)، ‘سینٹرل’ (مرکزی) اور ‘ساؤتھ’ (جنوبی) کے نام سے تین تین حصوں میں تقسیم کر دینا چاہیے تاکہ کل 12 انتظامی یونٹس قائم ہو سکیں۔

صدر آئی پی پی عبدالعلیم خان نے وضاحت کی کہ اس جغرافیائی و انتظامی فریم ورک کی بدولت کسی بھی صوبے کا نام تبدیل کرنے کی ضرورت پیش آئے گی اور نہ ہی علاقوں کی تاریخی یا ثقافتی شناخت متاثر ہوگی، بلکہ تمام خطوں کی ثقافتی پہچان مکمل طور پر برقرار رہے گی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ موجودہ نظام کے تحت عام شہریوں کو اپنے بنیادی مسائل اور چھوٹے کاموں کے لیے بھی سینکڑوں کلومیٹر کا طویل و دشوار سفر طے کر کے صوبائی دارالحکومتوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر مسائل عوام کی دہلیز پر حل ہوں اور نئے صوبے بن جائیں تو اس سے براہِ راست عوام کا فائدہ ہوگا، تاہم اگر اس اقدام سے کسی کی ذاتی یا سیاسی ‘بادشاہت’ پر حرف آتا ہے تو وہ الگ بات ہے، کیونکہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں بادشاہت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ کئی دہائیوں سے نئے صوبوں کی تشکیل کی باتیں محض سیاسی نعروں اور بیانات تک محدود رہیں لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی قیادت بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک پیج پر آئے اور اس وژن کو عملی شکل دے۔ انہوں نے زور دیا کہ نئے صوبوں کی تشکیل سے ملک میں چیف سیکرٹریز، آئی جیز اور ہائی کورٹس عوام کو زیادہ مؤثر اور فوری خدمات فراہم کر سکیں گے جس سے معیشت مستحکم، ترقی متوازن اور قومی یکجہتی مزید مضبوط ہوگی۔

کوئٹہ کے علاقے سورنج میں کوئلہ کان حادثہ: صدر آصف علی زرداری کا قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار

کاشف عباسی , JULY 31,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کوئٹہ کے نواحی علاقے سورنج میں کوئلے کی کان میں پیش آنے والے افسوسناک حادثے پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ صدر مملکت نے حادثے کے نتیجے میں ہونے والے قیمتی جانی ضیاع پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

ایوانِ صدر کے پریس ونگ کی جانب سے جمعہ کے روز جاری ہونے والے باضابطہ بیانیے کے مطابق، صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے مرحومین کی مغفرت، ان کے درجات کی بلندی اور غمزدہ لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی خصوصی دعا کی۔ انہوں نے متعلقہ اداروں اور ریسکیو حکام کو ہدایت کی کہ کان میں پھنسے تمام مزدوروں تک جلد از جلد رسائی کو یقینی بنایا جائے اور تمام زخمیوں کو فوری طور پر بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

صدرِ مملکت نے اس بات پر شدید زور دیا کہ کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی جانوں کے تحفظ کے لیے مقررہ حفاظتی ضوابط پر بلاامتیاز اور سختی سے عمل درآمد کروایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے دلخراش اور افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ وطنِ عزیز کی تعمیر و ترقی میں محنت کش طبقے کا کردار بے حد قابلِ قدر ہے اور ان کی جان و مال کی مکمل حفاظت کرنا ریاست کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

این سی سی آئی اے کا پنجاب بھر میں اوڈ گینگ کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن: مالیاتی سائبر فراڈ میں ملوث 27 ملزمان گرفتار

محمود احمد, JULY 31,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے پنجاب بھر میں مالیاتی سائبر فراڈ، آن لائن ڈکیتیوں اور جعلی شناختی بھیس بدل کر شہریوں کو لوٹنے والے خطرناک ‘اوڈ گینگ’ کے خلاف وسیع پیمانے پر بڑا کریک ڈاؤن کیا ہے۔ اس کامیابی کے دوران ایجنسی نے لاہور، ملتان اور فیصل آباد سے مجموعی طور پر 27 ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے پاس سے بھاری تعداد میں سمارٹ فونز، غیر قانونی فعال سمیں اور دیگر ڈیجیٹل شواہد برآمد کر لیے ہیں۔

ترجمان این سی سی آئی اے کے مطابق گرفتار ملزمان انتہائی منظم انداز میں خود کو بینک افسران، کسٹمز، پولیس اہلکار، خیراتی اداروں کے نمائندے، ٹی سی ایس رائیڈر اور جعلی سرمایہ کاری کمپنیوں کے نمائندے ظاہر کر کے شہریوں کو چکمہ دیتے تھے۔ ملزمان سادہ لوح شہریوں سے ون ٹائم پاس ورڈ بینکنگ تفصیلات اور پاس ورڈز حاصل کر کے ان کے تمام جمع شدہ سرمائے کا صفایا کر دیتے تھے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں این سی سی آئی اے کی ٹیموں نے دو مختلف تابڑ توڑ کارروائیوں کے دوران 13 ملزمان کو گرفتار کیا جن میں محمد عرفان، محمد دانش، نبیل اختر، بدر الرحمن، محمد عدنان، ندیم عباس، اللہ رکھا، محمد عاطف اور محمد وسیم شامل ہیں۔ ملزمان کے قبضہ سے 13 موبائل فونز، 25 جعلی ایکٹیو سمیں اور اہم ترین ڈیجیٹل ثبوت ملے۔ اسی طرح ملتان میں چار مختلف آپریشنز کے دوران گینگ کے مزید 13 ملزمان گرفتار کیے گئے جن میں محمد عاصم بلوچ، محمد عثمان، خالد بلوچ، عبدالغفار اور اوڈ برادری سے تعلق رکھنے والے محمد جبران، محمد شان، محمد وقاص، محمد الیاس، محمد اقبال، محمد شفیق، محمد یوسف اور محمد نعیم اوڈ شامل ہیں۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملتان گینگ جعلی واٹس ایپ اور فرضی ویب سائٹس کے ذریعے لاکھوں روپے بٹور رہا تھا۔

فیصل آباد میں ایجنسی نے ایک اور اہم کارروائی کرتے ہوئے ملزم ناصر علی کو گرفتار کیا جو شہریوں کے بینک اکاؤنٹس ہیک کر کے رقوم کو جعلی جاز کیش اور ایزی پیسہ اکاؤنٹس میں منتقل کرتا تھا، جس کے قبضے سے 1 اینڈرائیڈ فون، 6 کی پیڈ فونز اور 23 جعلی سمیں برآمد کی گئیں۔ این سی سی آئی اے کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ سائبر کرائمز اور منظم گینگز کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ عوام الناس کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ اپنا او ٹی پی، شناختی کوائف یا بینکاری معلومات کسی بھی غیر متعلقہ فرد کے ساتھ ہرگز شیئر نہ کریں۔