مون سون کے خطرات سے نمٹنے کے لیے فعال منصوبہ بندی اور بروقت پیشگی انتباہ ناگزیر ہے، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک

روزینہ اسماعیل.june 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے مون سون کے متوقع سیزن کے تناظر میں بروقت پیشگی انتباہات، مؤثر بین الادارتی رابطہ کاری اور فعال پیشگی منصوبہ بندی کی اہمیت پر مقتدر زور دیا ہے، جبکہ تمام وفاقی، صوبائی اور ضلعی اداروں نے مون سون کے دوران مشترکہ اقدامات اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت ریسپانس یقینی بنانے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔ منگل کے روز این ڈی ایم اے کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، این ڈی ایم اے ہیڈکوارٹرز میں قائم نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این سی او سی) میں ایک اعلیٰ سطحی “قومی مون سون کوآرڈینیشن کانفرنس” کا انعقاد کیا گیا، جس میں وفاقی وزارتوں، صوبائی و ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم ایز اور ڈی ڈی ایم ایز)، فلاحی تنظیموں اور دیگر متعلقہ اداروں کے مقتدر حکام نے شرکت کی۔

کانفرنس کے دوران مون سون سیزن کے دوران ملک کو درپیش ممکنہ خطرات بشمول گلیشئیر پگھلنے، طغیانی و سیلابی صورتحال، پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور شہری سیلاب ) جیسے تزویراتی چیلنجز پر تفصیلی غور کیا گیا۔ چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے تمام اداروں کو ہدایت کی کہ وہ جدید انتباہی نظام خطرات سے قبل از وقت آگاہی، ہمہ وقت نگرانی اور مستند معلومات پر مبنی فیصلہ سازی کو اپنا شعار بنائیں۔ اجلاس میں وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح پر فوری معلومات کے تبادلے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے امدادی وسائل کی بروقت فراہمی کا تزویراتی فریم ورک بھی طے پایا۔

شرکاء کو این ڈی ایم اے کے مربوط رابطہ کاری فریم ورک، فلڈ مانیٹرنگ اور ایمرجنسی رسپانس پلاننگ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر سیلاب سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے اضلاع، گلیشیائی جھیل پھٹنے کے خطرات سے دوچار حساس علاقوں، انخلاء کے تزویراتی منصوبوں، عوامی آگاہی مہموں اور لائف سیونگ آلات کی دستیابی کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ کانفرنس کے اختتام پر این ڈی ایم اے نے عام شہریوں سے مخلصانہ اپیل کی کہ وہ متوقع موسم اور خطرات کے حوالے سے سوشل میڈیا کی افواہوں کے بجائے صرف مستند سرکاری ذرائع سے حاصل کردہ معلومات پر بھروسہ کریں اور مقامی انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ بھارتی معطلی غیر قانونی اور خطے کے لیے تزویراتی تباہی کا سبب بن سکتی ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا سیمینار سے مقتدر خطاب

منصور احمد june 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ (انڈس واٹرز ٹریٹی) کو غیر قانونی طور پر معطل کر کے نہ صرف بین الاقوامی قانونی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے بلکہ پورے خطے کو ایک ہولناک تنازعے کے خطرے سے بھی دوچار کر دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز وفاقی دارالحکومت میں انسٹیٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز (آئی آر ایس) کی جانب سے وزارتِ اطلاعات و نشریات کے خصوصی اشتراک سے منعقدہ بین الاقوامی سیمینار ’’سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ایک ذریعہ‘‘ کی اختتامی اور مقتدر نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ ٹرانس باؤنڈری دریا ممالک کے مابین فاصلے بڑھانے کے بجائے انہیں قریب لانے کا تزویراتی ذریعہ ہونے چاہئیں؛ پاکستان نے اسی مثبت جذبے کے تحت ماضی میں بڑی رعایتیں دے کر یہ معاہدہ کیا تھا تاکہ خطے میں طویل المدتی استحکام فراہم ہو سکے، تاہم بھارت کی جانب سے معاہدے کی معطلی اور مشترکہ آبی وسائل پر پاکستان کے ساتھ تعاون سے انکار انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ نئی دہلی کو پانی بطور ہتھیار استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہ دے۔

سیمینار کے مختلف سیشنز سے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی و سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وفاقی وزیرِ موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک اور سابق سینیئر وزراء نے بھی مقتدر خطاب کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے بھارت کے تزویراتی عزائم کو بے نقاب کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں مطالبہ کیا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی میں بھارت کے ہر غیر قانونی اقدام کو پاکستان کے خلاف “جنگی اقدام” (Act of War) تصور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کی بندش کے ساتھ دنیا میں امن کا تصور ممکن نہیں تو سندھ طاس کی معطلی پر خطے میں پائیدار امن کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ انہوں نے پانی سمیت عالمی مشترکہ وسائل کو عسکری و سیاسی مقاصد کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف ایک نئے بین الاقوامی کنونشن کا مطالبہ بھی کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ دریائے سندھ پر پاکستانیوں کا ناقابلِ تنسیخ حق ہے اور بھارت کی غیر قانونی کوششوں سے عالمی سطح پر خود اس کی سبکی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے اسے صرف پانی کا نہیں بلکہ “انصاف کا بحران” قرار دیا جس سے پاکستان میں موسمیاتی چیلنجز سنگین ہو رہے ہیں۔

سیمینار کے دوران سابق وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر نے بھارت کی جانب سے بگلیہار اور سلال ڈیموں کے گیٹ بند کرنے اور مغربی دریاؤں پر آبی منصوبوں کی تیز رفتار غیر قانونی تعمیر کی تفصیلات پیش کیں۔ سابق وزیر مملکت خارجہ حنا ربانی کھر نے واضح کیا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کا فائدہ اٹھا کر بھارت اس مقتدر پابندِ معاہدہ سے بچ نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ معروف قانون دان احمر بلال صوفی نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت بھارت پانی پر ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور اس کی جانب سے معطلی کا اعلان خود معاہدے کی خلاف ورزی کا کھلا اعتراف ہے جس پر پاکستان کو تزویراتی جواب کا پورا حق حاصل ہے۔ سابق صدر این ڈی یو لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض اور پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ نے مقتدر شواہد پیش کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت آرٹیکل IX کے تنازعات کے حل کے طریقہ کار کو ہوا میں اڑا کر ڈیٹا کی فراہمی معطل کر چکا ہے۔

بین الاقوامی ماہرین نے بھی اس موقع پر پاکستانی موقف کی بھرپور تائید کی۔ بیجنگ سے آئے سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن کے نائب صدر پروفیسر وکٹر گا نے سندھ طاس کی معطلی کو “انسانیت کے خلاف جرم” قرار دیتے ہوئے یاد دلایا کہ بھارت خود چین کے لیے زیریں کنارے کا ملک ہے؛ اگر بھارت نے پاکستان پر پانی روکنے کا تزویراتی دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تو چین بالائی کنارے کا ملک ہونے کے ناطے بھارتی عزائم کو مؤثر طریقے سے روک سکتا ہے۔ یونیورسٹی آف ورلڈ سولائزیشنز ماسکو کی ڈاکٹر روکسلانا زیگون نے بھارتی اشتعال انگیزی کے سامنے پاکستانی پالیسی سازوں کے مقتدر اور ذمہ دارانہ رویے کو سراہا۔ امریکی ماہر لاری واٹکنز نے بھی ڈیٹا روکنے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ آئی آر ایس کے صدر جوہر سلیم نے اپنے اختتامی کلمات میں واضح کیا کہ آگے بڑھنے کا واحد مقتدر راستہ سندھ طاس معاہدے پر اس کے متن اور روح کے مطابق مکمل عمل درآمد میں ہی مضمر ہے۔

وسائل اور آبادی میں توازن ہی پائیدار ترقی کی ضمانت ہے، بڑھتی آبادی قومی ترقی کے لیے بڑا چیلنج ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف

کاشف عباسی ,june 30,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بہبودِ آبادی کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی تزویراتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قومی وسائل اور آبادی کے مابین کامل توازن ہی ملک کی پائیدار ترقی اور معاشی بقا کی اصل ضمانت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث قومی وسائل پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے، جو پاکستان کی مجموعی ترقی اور استحکام کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ منگل کے روز وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وزیراعظم نے زور دیا کہ آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی، معاشی استحکام اور انسانی وسائل کی بہتری کے ساتھ فوری طور پر ہم آہنگ کرنے کی تزویراتی ضرورت ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے “نیشنل پاپولیشن کونسل” کا افتتاحی اجلاس جلد از جلد بلانے اور قومی سطح پر مربوط پالیسی سازی کے لیے کونسل کا تنظیمی ڈھانچہ فوری طور پر مرتب کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ اس مقتدر کونسل کی سربراہی خود وزیراعظم کریں گے، جبکہ اس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور دیگر اہم ترین اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے گا۔ اجلاس کے دوران ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی پر کنٹرول اور بہبود کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ مستقبل میں سماجی تحفظ کے پروگراموں (جیسے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام وغیرہ) کو خاندانی منصوبہ بندی سے جوڑا جائے گا، جبکہ خواتین کی تعلیم اور انہیں معاشی طور پر بااختیار بنانا اس قومی حکمتِ عملی کا کلیدی جزو ہوگا۔

اجلاس کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ آبادی میں توازن کے حوالے سے ملک بھر میں ایک مؤثر آگاہی مہم چلائی جائے گی، اور اس ضمن میں برادر اسلامی ممالک بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور ایران کے آبادی پر قابو پانے کے کامیاب ترین ماڈلز سے استفادہ کیا جائے گا۔ نیشنل پاپولیشن کونسل کا مرکزی سیکریٹریٹ وزارتِ منصوبہ بندی و ترقی میں قائم ہوگا جو صوبائی حکومتوں کے تعاون سے اس مہم کو تزویراتی طور پر آگے بڑھائے گا۔ اس اہم ترین اور مقتدر اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور دیگر اعلیٰ ترین عسکری و سرکاری حکام نے شرکت کی۔

بھارت کی جانب سے آبی اعدادوشمار روکنا اور پاکستانی خطوط کا جواب نہ دینا بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی ہے، امریکی ماہر لاری واٹکنز

منصور احمد june 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

امریکی مصنفہ و عالمی پالیسی ماہر لاری واٹکنز نے واضح کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے دریائوں کے بہائو سے متعلق اہم ترین تزویراتی اعدادوشمار کو روکنا اور پاکستان کی باضابطہ تحریری مراسلت کا جواب نہ دینا بین الاقوامی قانون کے مسلمہ اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے، کیونکہ کوئی بھی ریاست کسی معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل قرار دے کر اپنی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں سے دستبردار نہیں ہو سکتی۔ منگل کے روز وفاقی دارالحکومت کے جناح کنونشن سینٹر میں انسٹیٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز (آئی آر ایس) کے زیرِ اہتمام ’’سندھ طاس معاہدہ، امن اور علاقائی استحکام کا اہم ذریعہ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے مقتدر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ (انڈس واٹرز ٹریٹی) بین الاقوامی سفارت کاری کی حقیقی و تاریخی کامیابیوں میں سے ایک ہے جو 60 برس سے زائد عرصے تک مؤثر انداز میں کام کرتا رہا ہے۔

لاری واٹکنز نے اپنے خطاب میں تزویراتی نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں دریائوں سے متعلق بین الاقوامی معاہدے بنیادی طور پر تنازعات کو روکنے کے لیے تشکیل دیے جاتے ہیں جبکہ اس ضمن میں قائم “مستقل انڈس کمیشن” عالمی معیار کے مطابق ایک غیر معمولی اور انتہائی قابلِ قدر ادارہ ہے، جس کے تحت مشترکہ معائنے اور تنازعات کے حل کا ایک مربوط، مرحلہ وار اور مقتدر نظام مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے حقائق کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں بھارت کو دریائے چناب کے پانی کے بہائو کے بارے میں متعدد باضابطہ خطوط ارسال کیے، تاہم بھارت نے دریائوں کے غیر مستقل بہائو کے بارے میں ضروری معلومات اور اعدادوشمار فراہم نہیں کیے اور پاکستان کی تحریری مراسلت کا کوئی جواب بھی نہیں دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ محض ایک روایتی، انتظامی یا تکنیکی شکایت نہیں ہے بلکہ دنیا کے دریائی نظاموں کا تجزیہ یہی بتاتا ہے کہ ایسی صورتحال انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ جب آبی معلومات کا تبادلہ رک جائے تو فریقین کے مابین شدید بداعتمادی، غلط اندازے اور بالآخر عسکری و سیاسی کشیدگی جنم لیتی ہے۔

عالمی پالیسی ماہر نے زور دیا کہ کسی بھی بین الاقوامی آبی معاہدے کی اصل طاقت اور پائیداری رابطوں کے مستقل تسلسل میں مضمر ہوتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ بھارت نے چالبازی دکھاتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل قرار دیا ہے، تاہم اس کے باوجود دریائوں کے بہائو سے متعلق معلومات روکنا اور پڑوسی ملک کے مقتدر خطوط کا جواب نہ دینا بین الاقوامی عرفی قانون کے اصولوں کے یکسر خلاف ہے۔ لاری واٹکنز نے بین الاقوامی قوانین کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ “ویانا کنونشن برائے قانون معاہدات” کے مطابق تمام عالمی معاہدوں پر دستخط کنندگان کی جانب سے ہمیشہ نیک نیتی کے ساتھ عمل کیا جانا چاہیے، لہٰذا بھارت پر لازم ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احترام کرے تاکہ خطے کا امن اور تزویراتی استحکام برقرار رہ سکے۔

معرکہ حق اور سفارت کاری کے بعد اب معرکہ معیشت جیتنا ہے، برآمدات کو ایٹمی پروگرام کے مساوی قومی اہمیت دینا ہوگی، وفاقی وزیر احسن اقبال

کاشف عباسی ,june 30,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن احسن اقبال نے واضح کیا ہے کہ حکومت نے معرکہ حق اور معرکہ سفارت کاری میں مقتدر کامیابیاں حاصل کر لی ہیں اور اب پاکستان کو ہر صورت معرکہ معیشت جیتنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملکی برآمدات کو اب ایٹمی پروگرام کے مساوی قومی اہمیت دینا ہوگی اور معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے وفاق اور صوبے مل کر سماجی شعبے کو قومی ایمرجنسی کے طور پر آگے بڑھائیں گے۔ وہ منگل کے روز وزارتِ منصوبہ بندی کی ماہانہ ترقیاتی رپورٹ کے اجراء کے موقع پر میڈیا نمائندگان سے مقتدر خطاب کر رہے تھے۔

احسن اقبال نے معاشی صورتحال کی تشریح کرتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران سیلاب، عالمی تجارتی کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ کے بحران جیسے بیرونی چیلنجز کے باوجود ملکی معیشت تزویراتی استحکام کی راہ پر گامزن رہی۔ انہوں نے بتایا کہ سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باوجود شرح نمو 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جو گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین شرح ہے۔ معیشت میں زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، خدمات کی 4.1 فیصد جبکہ صنعتی شعبے کی شرح نمو 3.5 فیصد رہی۔ لارج سکیل مینوفیکچرنگ میں دو سال بعد نمایاں بحالی آئی اور اس شعبے نے 6.4 فیصد کی مقتدر نمو ریکارڈ کی، جس میں آٹو موبائل، الیکٹریکل آلات اور گارمنٹس کے شعبے نمایاں رہے۔ انہوں نے کہا کہ عیدالاضحیٰ 2026 کے دوران ملک میں تقریباً 1.7 کھرب روپے کی معاشی سرگرمیاں ریکارڈ کی گئیں جس نے لیدر، ٹرانسپورٹ اور مویشی منڈیوں کو مقتدر فائدہ پہنچایا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ بیرونی شعبہ مستحکم رہا اور جولائی تا مئی ترسیلاتِ زر 9.2 فیصد اضافے کے ساتھ 38.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ مئی میں 4.3 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات موصول ہوئیں۔ خدمات کی برآمدات میں 17.4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ آئی ٹی برآمدات نے کرنٹ اکاؤنٹ کو مضبوط بنیاد فراہم کی اور ایف بی آر کے محصولات 11.2 کھرب روپے تک پہنچ گئے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی اقتصادی کونسل نے مالی سال 2026-27 کے لیے 4 فیصد معاشی شرح نمو کا ہدف اور 3.675 کھرب روپے کے قومی ترقیاتی پروگرام کی منظوری دی ہے، جس میں سے وفاقی پی ایس ڈی پی کے لیے ایک کھرب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان ترقیاتی منصوبوں سے تقریباً 10 ہزار براہِ راست اور 45 ہزار سے زائد بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ موثر منصوبہ بندی کے باعث قومی خزانے کو پہلے ہی 12.1 ارب روپے کی مقتدر بچت ہو چکی ہے۔

احسن اقبال نے بڑھتی ہوئی آبادی کو پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اڑان پاکستان‘ کے تحت خواتین کی مالی شمولیت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بلوچستان کو سی پیک کے دوسرے مرحلے کا ابھرتا ہوا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئے مالی سال میں کراچی-حیدرآباد ایم-9 کی توسیع، سکھر-حیدرآباد ایم-6 موٹر وے، اور سی پیک کے مقتدر ایم ایل ون منصوبے پر پیش رفت کی جائے گی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ دیامر بھاشا ڈیم کے باعث متاثر ہونے والی قراقرم ہائی وے کے متبادل کے طور پر “قراقرم ہائی وے ٹو” منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے تاکہ پاک چین بلا تعطل تجارتی رابطہ قائم رہے، جبکہ اسلام آباد میں “کوانٹم ویلی” بھی قائم کی جائے گی۔ اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کو ملک بھر کی جامعات کا سات نکاتی پرفارمنس آڈٹ کرنے کی مقتدر ہدایت کر دی گئی ہے جس کی رپورٹ آئندہ چند ہفتوں میں پیش کر کے جامع اصلاحات نافذ کی جائیں گی۔

چودہ سیکشنز کے چھ سو سے زائد طلبہ نے معاشی تصورات پر مختصر فلمیں تیار کیں؛ ججز اور میڈیا ماہرین کی جانب سے روایتی تعلیم سے ہٹ کر بصری ماڈل اپنانے کی تعریف

روزینہ اسماعیل.june 30,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

اقراء یونیورسٹی بزنس اسکول کے زیرِ اہتمام معاشیات کے مضمون کو روایتی کلاس رومز سے نکال کر تخلیقی، بصری اور عملی انداز میں پیش کرنے کے لیے ایک منفرد تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ مین کیمپس کراچی کے ای ڈی سی منی آڈیٹوریم میں ہونے والے اس ایونٹ کا عنوان “ایکون فلیمورا 11.0۔ معاشیات کے تصورات کی بصری عکاسی” تھا، جس کا بنیادی مقصد بصری صداکاری اور مختصر فلموں کے ذریعے پیچیدہ معاشی نظریات کو زیادہ مؤثر، دلچسپ اور قابلِ فہم بنانا تھا۔ تقریب میں طلبہ، فیکلٹی ممبران، معزز اساتذہ اور کارپوریٹ و میڈیا انڈسٹری سے وابستہ ججز نے شرکت کی، جہاں طلبہ کی تحقیق، ٹیم ورک اور ابلاغی مہارتوں کا عملی اظہار دیکھنے کو ملا۔

اس سال ہونے والے مقابلے میں یونیورسٹی کے 14 مختلف سیکشنز سے تعلق رکھنے والے 600 سے زائد طلبہ نے ٹیموں کی صورت میں کاروباری معاشیات کے متنوع موضوعات پر مختصر دستاویزی ویڈیوز تیار کیں۔ ابتدائی اسکریننگ کے بعد شارٹ لسٹ کی گئی 24 بہترین ویڈیوز کو حاضرین کے سامنے پیش کیا گیا، جنہیں طلبہ، اساتذہ اور مہمانوں نے بے حد پسند کیا۔ اس تزویراتی ایونٹ کی صدارت ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر عمار احمد صدیقی نے کی جبکہ محترمہ نرگس نعمان (لیکچرر) نے بطور شریک نگران اپنے فرائض انجام دیے۔ تقریب میں سینئر میڈیا پرسن اور پی آر پروفیشنل نعمان شبیر کے علاوہ ٹر توصیف شاہ، شان ایوان، ڈاکٹر عفت مغل اور مرزا نوید بیگ نے بطور ججز شرکت کر کے طلبہ کی تجزیاتی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت کو مقتدر سطح پر سراہا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سینئر میڈیا ماہر نعمان شبیر نے کہا کہ طلبہ کو مختصر فلموں کے ذریعے معاشی چیلنجز پیش کرتے دیکھنا انتہائی حوصلہ افزا ہے، کیونکہ اس مقتدر تصور نے ایک خشک سمجھے جانے والے مضمون کو نہ صرف قابلِ فہم بنایا بلکہ طلبہ کے لیے ایک بہترین عملی تجربہ بھی فراہم کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کی دیگر جامعات کو بھی اس طرز کے تعلیمی ماڈلز اپنانے چاہئیں۔ ججز کی جانب سے تفصیلی جائزے کے بعد بہترین پریذنٹیشن اور نظریاتی وضاحت کی بنیاد پر “ایگرگیٹ ڈیمانڈ گروپ” نے پہلی پوزیشن کے ساتھ 30 ہزار روپے کا نقد انعام جیتا۔ “مارکیٹ پاور گروپ” نے دوسری پوزیشن حاصل کر کے 20 ہزار روپے جبکہ “ایکسپورٹس گروپ” نے تیسرے نمبر پر رہتے ہوئے 10 ہزار روپے کا نقد انعام اپنے نام کیا۔ فیکلٹی ممبران نے اختتام پر واضح کیا کہ یہ کامیابی اقراء یونیورسٹی کے اعلیٰ تعلیمی معیار، جدید تعلیمی ماڈلز اور طلبہ کو حقیقی دنیا کے چیلنجز کے لیے تیار کرنے کے مقتدر عزم کی عکاس ہے۔

آئی جی پنجاب عبدالکریم کی سنٹرل پولیس آفس میں ملازمین اور اہلخانہ سے ملاقات، ویلفیئر، ترقیوں اور تبادلوں کے مسائل سن کر فوری ریلیف فراہم کرنے کے احکامات جاری

کاشف عباسی ,june 30,026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب عبدالکریم نے سنٹرل پولیس آفس (سی پی او) میں پولیس ملازمین اور ان کے اہلخانہ سے تفصیلی ملاقات کی اور ان کے دیرینہ پیش آمدہ مسائل سن کر موقع پر ہی فوری تدارک اور ریلیف کی فراہمی کے مقتدر احکامات جاری کیے۔ پنجاب پولیس کے آفیشل ترجمان کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، آئی جی پنجاب نے جونیئر کلرک شمشاد اکبر کی جانب سے پیش کی جانے والی ٹرانسفر (تبادلے) کی درخواست پر تزویراتی ایکشن لیتے ہوئے اے آئی جی ایڈمن اینڈ سکیورٹی کو ضابطے کے تحت ضروری ریلیف فراہم کرنے کی مقتدر ہدایت کی۔

اسی طرح، ہیڈ کانسٹیبلز محمد شاہد، محمد عامر اور اللہ دتہ کی پروموشن (ترقی) سے متعلق الگ الگ درخواستوں کو ترجیحی بنیادوں پر زیرِ غور لانے اور سنیارٹی رولز کے مطابق فیصلہ کرنے کے لیے ایڈیشنل آئی جی پنجاب کو احکامات جاری کیے گئے۔ ملاقات کے دوران محکمہ کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرنے والے شہید کانسٹیبل محمد ارسلان کے بیٹے کی جانب سے ایک ریکوری سے متعلق پیش کی جانے والی درخواست پر آئی جی پنجاب عبدالکریم نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او شیخوپورہ کو مقتدر ہدایت کی کہ وہ ذاتی نگرانی میں اس معاملے پر قانون کے مطابق ضروری کارروائی یقینی بنائیں۔ اس کے ساتھ ہی، لیڈی جونیئر کلرک صبا پروین کی تبادلے کی درخواست پر بھی مقتدر افسر نے اے آئی جی ایڈمن اینڈ سکیورٹی کو ہمدردانہ غور کر کے ریلیف فراہم کرنے کا حکم دیا۔

ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق، سنٹرل پولیس آفس میں ہونے والی اس اوپن ڈور ملاقات کے دوران آئی جی پنجاب نے محکمے کے اندرونی ڈسپلن، انتظامی امور، ترقیوں، فورس کی ویلفیئر اور دیگر اہم ترین ذاتی و پیشہ ورانہ معاملات سے متعلق موصول ہونے والی تمام بقیہ درخواستوں پر بھی تزویراتی احکامات جاری کیے۔ انہوں نے موقع پر موجود تمام متعلقہ ونگز کے افسران کو سخت تاکید کی کہ وہ ان احکامات پر دی گئی معینہ مدت کے اندر فوری کارروائی اور عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنائیں تاکہ فورس کے جوانوں اور شہداء کے اہلخانہ کو کسی بھی قسم کی انتظامی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اوگرا ترمیمی آرڈیننس دو ہزار چھبیس نافذ: صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے آفیشل دستاویز پر دستخط کر دیے

منصور احمد june 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ایک مقتدر تزویراتی اقدام کے تحت آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) ترمیمی آرڈیننس 2026 پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد یہ ملک بھر میں فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔ ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے منگل کے روز جاری کردہ ایک اعلیٰ سطحی سرکاری بیان کے مطابق، صدرِ مملکت نے وزیراعظم پاکستان کے مقتدر مشورے اور سمری پر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس 2002 کی بنیادی دفعات 2 اور 3 میں ترامیم سے متعلق نئے آرڈیننس کی باضابطہ منظوری دیتے ہوئے اسے جاری کرنے کے احکامات صادر کیے۔

اس نئے ترمیمی آرڈیننس کا بنیادی مقصد اوگرا کے انتظامی ڈھانچے، دائرہ اختیار اور ریگولیٹری امور کو موجودہ معاشی و تزویراتی تقاضوں کے مطابق زیادہ فعال اور مؤثر بنانا ہے۔ وزارتِ پٹرولیم اور متعلقہ حکام کے مطابق، دفعات دو اور تین میں کی جانے والی ان مقتدر ترامیم سے ملک میں تیل و گیس کے شعبے کی نگرانی، لائسنسنگ کے عمل اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اتھارٹی کے قانونی اختیارات کو مزید تقویت ملے گی۔ ایوانِ صدر کے مطابق آرڈیننس پر صدرِ مملکت کے دستخط کے بعد وزارتِ قانون و انصاف کی جانب سے اس کا باقاعدہ گزٹ نوٹیفکیشن بھی جلد جاری کر دیا جائے گا۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ کی 187ویں برسی کی مقتدر تقاریب اختتام پذیر، بھارتی سکھ یاتری پاکستان سے امن، محبت اور بین المذاہب ہم آہنگی کا پیغام لے کر وطن واپس روانہ

روزینہ اسماعیل.june 30,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے زیرِ اہتمام مہاراجہ رنجیت سنگھ کی 187ویں برسی کی مرکزی اور مقتدر تقاریب باقاعدہ اختتام پذیر ہو گئی ہیں، جس کے بعد بھارتی سکھ یاتری پاکستان سے امن، بے لوث محبت، مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کا مقتدر پیغام لے کر واپس اپنے وطن روانہ ہو گئے۔ واہگہ بارڈر پر صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور و پردھان پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی (پی ایس جی پی سی) سردار رمیش سنگھ اروڑہ، پی ایس جی پی سی کے معزز ممبران اور سیکرٹری متروکہ وقف املاک بورڈ ناصر مشتاق نے بھارتی سکھ یاتریوں کو روایتی مقتدر انداز میں الوداع کیا۔

پاکستان سے رخصتی کے موقع پر سکھ یاتریوں نے یہاں ملنے والی بے پناہ محبت، مقتدر عزت اور تاریخی مہمان نوازی پر والہانہ اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں قیام کے دوران انہیں بالکل اپنے گھر جیسا پرامن ماحول میسر آیا۔ انہوں نے گوردواروں کے بہترین اور جدید انتظامات، مثالی صفائی ستھرائی، تزئین و آرائش اور دیگر سفری و مذہبی سہولیات کو مقتدر سطح پر سراہا۔ یاتریوں نے متروکہ وقف املاک بورڈ کی جانب سے یاتریوں کی دن رات خدمت اور رہائش، لنگر، ٹرانسپورٹ، طبی سہولیات اور سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات فراہم کرنے پر حکومتِ پاکستان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس گوردوارے مکمل محفوظ، انتہائی خوبصورت اور بہترین تزویراتی انداز میں سنبھالے جا رہے ہیں؛ دنیا بھر کے سکھ پاکستان کے ان مقدس مقامات کی یاترا کے مقتدر خواہشمند ہیں اور وہ یہاں سے واپس جا کر محبت، بھائی چارے اور بین المذاہب رواداری کا یہ سچا پیغام پوری دنیا میں پھیلائیں گے۔

صوبائی وزیر سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سکھ یاتری پاکستان سے محبت اور عقیدت کا مقتدر پیغام لے کر جا رہے ہیں جو دونوں ممالک کے عوام کے درمیان مثبت سفارت کاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حکومتِ پاکستان کے مقتدر وژن کے تحت اس وقت ملک بھر میں پچاس اہم گوردواروں کو تزئین و آرائش کے بعد اصل حالت میں بحال کیا جا رہا ہے، اور وہ ان تمام تعمیری معاملات میں بھرپور اور مخلصانہ تعاون پر چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ قمر الزمان اور ان کی پوری ٹیم کے بے حد شکر گزار ہیں۔

سیکرٹری بورڈ ناصر مشتاق نے الوداعی تقریب کے دوران بتایا کہ چیئرمین قمر الزمان کی خصوصی اور مقتدر ہدایات کی روشنی میں یاتریوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی گئی، جبکہ غیر معمولی گرمی کی شدت سے بچاؤ کے لیے راستوں میں خصوصی “ہیٹ سینٹرز” قائم کیے گئے اور واہگہ بارڈر پر بھارتی سکھ یاتریوں کی آمد و روانگی کے وقت ٹھنڈا منرل واٹر اور جوسز بھی وافر مقدار میں فراہم کیے گئے۔ انہوں نے عزم کا اعادہ کیا کہ حکومتِ پاکستان مذہبی سیاحت کے فروغ اور اقلیتوں کے مقدس مقامات کے مستقل تحفظ کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، اور دنیا بھر میں بسنے والے سکھ جب بھی چاہیں پاکستان آئیں، ہم ان کی مقتدر مہمان نوازی کے لیے ہمیشہ تیار ہیں۔ آج تمام سکھ یاتری انتہائی خوشگوار یادوں اور نیک تمناؤں کے ساتھ مقتدر طور پر اپنے وطن روانہ ہو گئے۔

شہید ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کو آئینی حقوق کا راستہ دکھایا، محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے جمہوریت کے لیے بے مثال قربانیاں دیں؛ مضبوط پارلیمان ہی عوامی امنگوں کی حقیقی ترجمان ہے

admin, Author at Pakistan Peoples Party Parliamentarians - Page 12 of 19

کاشف عباسی ,june 30,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

نائب صدر پاکستان پیپلز پارٹی، سینیٹر شیری رحمان نے “عالمی یومِ پارلیمان” کے مقتدر موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں واضح کیا ہے کہ یہ اہم دن جمہوری اداروں کی پائیدار مضبوطی، آئینی بالادستی اور عوامی نمائندگی کے مخلصانہ عزم کی تجدید کا دن ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے ملکی تاریخ کے ہر دور میں پارلیمنٹ کی خودمختاری اور جمہوری تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے ہمیشہ تاریخی اور مقتدر کردار ادا کیا ہے۔

منگل کے روز عالمی یومِ پارلیمان پر وفاقی دارالحکومت سے جاری کردہ اپنے ایک اعلیٰ سطحی بیان میں سینیٹر شیری رحمان نے پیپلز پارٹی کی مقتدر قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کے غیور عوام کو حقیقی سیاسی شعور، بنیادی آئینی حقوق اور پارلیمانی بالادستی کا روشن راستہ دکھایا، جبکہ ان کے بعد محترمہ شہید بینظیر بھٹو نے بھی ملک میں جمہوریت کی بحالی، آئین کی بقا اور عوام کے مقتدر حقِ حکمرانی کے لیے ایسی بے مثال قربانیاں دیں جن کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی۔

انہوں نے تزویراتی نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک مضبوط اور خودمختار پارلیمان ہی عوامی امنگوں اور فلاح و بہبود کو مؤثر قانون سازی اور قومی پالیسی کے سانچے میں ڈھالنے کی حقیقی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر گہرا زور دیا کہ پارلیمان کے اندر اور باہر اختلافِ رائے کا دل سے احترام کرنا، بامقصد مکالمے کو فروغ دینا اور ہمیشہ آئینی راستہ اختیار کرنا ہی پائیدار جمہوری معاشروں کی اصل قوت اور پہچان ہوا کرتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں خواتین، نوجوانوں اور معاشرے کے دیگر تمام محروم طبقات کی پارلیمان کے اندر بامعنی شمولیت سے ہی ہمارا مجموعی جمہوری نظام مزید مستحکم اور فعال ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی عوامی حقوق، آئین کی سربلندی اور جمہوری اقدار کے مستقل فروغ کے اپنے اصولی عزم پر ہمیشہ ثابت قدم رہے گی۔ شیری رحمان نے بین الاقوامی روابط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر مختلف ممالک کے پارلیمانوں کے مابین تزویراتی تعاون، باہمی احترام اور مشترکہ کاوشیں ہی دنیا بھر میں پائیدار امن، ترقی اور افہام و تفہیم کی اصل بنیاد ہیں۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا یوکرین تنازع میں کشیدگی کے بڑھتے خطرات پر انتباہ، مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل پر زور

محمود احمد june 30,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

پاکستان نے یوکرین تنازع کے عالمی اور انسانی اثرات کو وسیع پیمانے پر انتہائی تباہ کن قرار دیتے ہوئے سخت خبردار کیا ہے کہ خطے میں غلط اندازوں اور عسکری کشیدگی میں مسلسل اضافے کا تزویراتی خطرہ بڑھتا جا رہا ہے، اور یہ خطرناک رجحان اب پہلے سے کہیں زیادہ واضح اور زیادہ تواتر کے ساتھ دنیا کے سامنے آ رہا ہے۔ بیلاروس کی خصوصی درخواست پر شہریوں پر مبینہ یوکرینی ڈرون حملوں کے مقتدر معاملے پر بلائے گئے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں پاکستان کا باقاعدہ قومی بیان پیش کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے مسلح ڈرونز کے مسلسل اور بلا جھجک استعمال سے پیدا ہونے والے سیکیورٹی خطرات اور ان جدید عسکری ٹیکنالوجیز سے وابستہ انسانی چیلنجز کو مقتدر انداز میں اجاگر کیا۔

پاکستان کے روایتی اور غیر متزلزل اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے سفیر عثمان جدون نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ کسی بھی استثنا یا تفریق کے بغیر بین الاقوامی انسانی قوانین کے مسلمہ اصولوں کی سختی سے پابندی کریں۔ انہوں نے عالمی برادری پر واضح کیا کہ اس خونی تنازع کے حتمی خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کا واحد قابلِ عمل راستہ صرف اور صرف سفارت کاری اور بامقصد مذاکرات کی میز سے ہو کر گزرتا ہے۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ پاکستان فوری اور مکمل جنگ بندی کی ناگزیر ضرورت پر مقتدر زور دیتا ہے اور تمام فریقوں سے مخلصانہ اپیل کرتا ہے کہ وہ ہٹ دھرمی چھوڑ کر سنجیدگی کے ساتھ دوبارہ سیاسی مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔

نائب مستقل مندوب نے مزید تشریح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی نظر میں اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد اور بنیادی اصولوں، تمام فریقوں کے جائز سلامتی مفادات اور متعلقہ کثیرالجہتی معاہدوں سے ہم آہنگ، باہمی طور پر قابلِ قبول پُرامن تصفیہ ہی دیرپا امن کی جانب واحد تزویراتی راستہ ہے، اور پاکستان اس تنازع کے جامع، دیرپا اور پُرامن حل کے لیے کی جانے والی تمام بین الاقوامی سفارتی کوششوں کی حمایت مستقل جاری رکھے گا۔ انہوں نے بیلاروس میں شہری جانوں کے مبینہ ضیاع پر حکومتِ پاکستان اور عوام کی جانب سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ اس طویل تنازع کی وجہ سے بے گناہ شہری آج بھی شدید جسمانی اور نفسیاتی اذیت کا سامنا کر رہے ہیں، جسے فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔

سندھ طاس کوئی عام دستاویز نہیں بلکہ چوبیس کروڑ پاکستانیوں کی لائف لائن اور بقا کا معاہدہ ہے، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا دوٹوک اعلان

منصور احمد june 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے سندھ طاس معاہدے (انڈس واٹرز ٹریٹی) کے حوالے سے پاکستان کے مقتدر اور غیر متزلزل موقف کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سندھ طاس محض ایک روایتی کاغذ کا ٹکڑا یا عام معاہدہ نہیں بلکہ یہ ملک کے چوبیس کروڑ عوام کی لائف لائن اور ہماری قومی زندگیوں کی بقا کا ضامن ہے۔ اسلام آباد میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی تزویراتی سیمینار سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی پوری شناخت، تمدن اور تاریخ دریائے سندھ کے پانیوں سے وابستہ ہے، ہمیں اپنی اس تاریخی شناخت پر دلی فخر ہے اور حکومت اس کے تحفظ کو ہر صورت برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

عطاء اللہ تارڑ نے معاہدے کے تاریخی پسِ منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تقریباً چھ دہائیاں قبل خطے کے دو ممالک نے ایک غیر معمولی اور دور اندیش تزویراتی فیصلہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں دنیا کے چند پائیدار ترین آبی معاہدوں میں سے ایک وجود میں آیا۔ انہوں نے بھارت کو سخت پیغام دیتے ہوئے واضح کیا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت دو ممالک کے درمیان طے پانے والے ایسے مقتدر معاہدے کو کوئی بھی ایک فریق اپنی مرضی سے یکطرفہ طور پر معطل یا منسوخ کرنے کا کوئی مجاز نہیں رکھتا۔ پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی فورمز پر پُرامن روابط، تعمیری مذاکرات اور معاہدے کی روح پر مخلصانہ عملدرآمد کے پختہ عزم کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم اس سفارتی شرافت کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔

انہوں نے دوٹوک الفاظ میں قومی قیادت کا مقتدر عزم دہراتے ہوئے انتباہ کیا کہ اگر بالائی کنارے کی جانب سے پاکستان کا پانی روکنے یا اس کے قدرتی بہاؤ میں کسی بھی قسم کی تزویراتی دست برد کی کوشش کی گئی، تو ملک کی تمام سیاسی و عسکری قیادت پاکستان کے غیور عوام کا آبی حق بحال کرانے اور اس جارحیت کا انتہائی مؤثر، فوری اور دندان شکن جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے اپنے خطاب کے اختتام پر عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان عالمی برادری کے سامنے اپنا مقدمہ مضبوطی سے لڑتے ہوئے ہر صورت اس تاریخی معاہدے کے تقدس اور ملکی سالمیت کا تحفظ کرے گا اور آنے والی نسلوں کے حقوق پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔

قیدی وین سے حوالاتیوں کے فرار کیس میں تفتش تیز، سیکیورٹی پر تعینات سب انسپکٹر سمیت پانچ پولیس اہلکار حراست میں لے لیے گئے

منصور احمد june 30,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

چکیاں پوسٹ کے قریب قیدی وین سے خطرناک حوالاتیوں کے فرار ہونے کے سنسنی خیز واقعے کی تحقیقات میں مقتدر پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں غفلت برتنے اور مبینہ سہولت کاری کے شبہے میں سیکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات پانچ پولیس اہلکاروں کو باقاعدہ حراست میں لے لیا گیا ہے۔ تزویراتی ذرائع کے مطابق زیرِ حراست اہلکاروں میں سب انسپکٹر امتیاز، ہیڈ کانسٹیبل یاسر، کانسٹیبل محرم اور کانسٹیبل عزیر سمیت ڈیوٹی پر موجود دیگر اہلکار شامل ہیں، جنہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر کے واقعے کے مختلف محرکات پر تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

تحقیقاتی مقتدرہ کے مطابق، معاملے کی کڑی نگرانی کرتے ہوئے اڈیالہ گارڈ کے سیکیورٹی اہلکاروں کے موبائل فونز قبضے میں لے کر ان کے کال ریکارڈ کا فرانزک جائزہ شروع کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی اندرونی رابطے کا سراغ لگایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، فرار ہونے والے ملزمان سے عدالت میں پیشی کے دوران ملاقات کرنے والے مشکوک افراد اور ان کے لواحقین کی تمام تر تفصیلات بھی حاصل کر لی گئی ہیں تاکہ بیرونی سہولت کاروں کے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکے۔ دوسری جانب، فرار کے فوری بعد ناکہ بندی کے دوران دوبارہ گرفتار کیے جانے والے چار ملزمان کو مزید قانونی کارروائی اور تفتیش کے لیے سہالہ پولیس کے مقتدر حوالے کر دیا گیا ہے، تاہم پولیس تاحال فرار ہونے والے بقیہ دس مقتدر حوالاتیوں میں سے کسی ایک کو بھی دوبارہ پکڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

یاد رہے کہ گزشتہ شام کہوٹہ کچہری سے قانونی پیشی بھگتانے کے بعد اڈیالہ جیل منتقل کیے جانے والے قیدی چکیاں پوسٹ کے قریب اس وقت وین سے فرار ہو گئے تھے جب انہوں نے سوچی سمجھی تزویراتی منصوبہ بندی کے تحت وین کے اندر تعینات ایک سیکیورٹی اہلکار کی آنکھوں میں مرچیں پھینکیں اور افراتفری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہتھکڑیوں سمیت موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ اس سنگین ترین واقعے کے فوری بعد راولپنڈی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی جانب سے مضافاتی علاقوں، جنگلات اور ممکنہ ٹھکانوں پر فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن اور چھاپہ مار کارروائیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی جواز بینک اکاؤنٹس بلاک یا فریز کرنے سے روک دیا

منصور احمد june 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں ملک بھر کے تمام کمرشل اور شیڈولڈ بینکوں کے لیے مقتدر اور اہم ہدایات جاری کر دی ہیں، جس کے تحت اب کسی بھی بینک اکاؤنٹ کو بغیر قانونی جواز، مجاز اتھارٹی کی باقاعدہ منظوری اور مناسب تصدیق کے بلاک، فریز یا اس پر کسی بھی قسم کی آپریشنل پابندی عائد نہیں کی جا سکے گی۔ مرکزی بینک نے واضح کیا ہے کہ غیر ارادی، عجلت پسندی یا محض احتیاطی پابندیوں کے نتیجے میں اکاؤنٹ ہولڈرز کو پہنچنے والے کسی بھی قسم کے مالی یا قانونی نقصان کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یقینی بنایا جائے کہ کسی بھی شہری کے بینک اکاؤنٹ پر ڈیبٹ بلاک یا فریزنگ کا اقدام صرف اور صرف مروجہ قانون کے مطابق ہو۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے نئے ہدایت نامے کے مطابق، ہر قسم کی ڈیبٹ بلاکنگ یا اکاؤنٹ فریزنگ اب صرف متعلقہ قانون کے دائرہ کار اور مجاز ادارے کے حتمی اختیار کے تحت ہی عمل میں لائی جا سکے گی۔ کسی بھی شہری کے اکاؤنٹ کے خلاف کوئی بھی تادیبی کارروائی کرنے سے پہلے بینک انتظامیہ پر قانونی اختیار اور متعلقہ دستاویزات کی مکمل اور جامع تصدیق کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ مرکزی بینک نے تمام بینکوں کو سخت پابند کیا ہے کہ وہ اپنے اداروں میں ایک ایسا جدید اور مؤثر اندرونی نظام تشکیل دیں جو اس بات کی مکمل ضمانت دے کہ کسی بھی کھاتہ دار پر محض شک یا احتیاطی بنیادوں پر ایسی پابندیاں عائد نہ ہوں جن سے اسے غیر ضروری مالی تنگی یا قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑے۔

یہ اہم ترین ہدایات اسلام آباد ہائیکورٹ کے مقتدر فیصلے کی روشنی میں جاری کی گئی ہیں، جہاں جسٹس ارباب محمد طاہر نے ایک کیس کی سماعت کے دوران اسٹیٹ بینک کو بینک اکاؤنٹس بلاک کرنے کے حوالے سے ایک واضح، شفاف اور مربوط اندرونی طریقہ کار مرتب کرنے اور ملک بھر کے تمام بینکوں کو اس پر سختی سے عمل درآمد کروانے کا حکم دیا تھا۔ اسٹیٹ بینک نے عدالتی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنی جامع رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ہے، جس میں نئے وضع کردہ ایس او پیز اور بینکوں کے لیے جاری کردہ تازہ ترین ہدایات کی مکمل تفصیلات سے عدالتِ عالیہ کو باقاعدہ آگاہ کر دیا گیا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے سندھ حکومت کی اٹھارہ اپیلیں مسترد کرتے ہوئے سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھ دیا؛ حکومت محض سنیارٹی کے تنازعات میں خود کو متاثرہ فریق قرار نہیں دے سکتی، منصف اور غیر جانبدار آجر کا کردار ادا کرے

کاشف عباسی ,june 29,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 29 جون 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک تاریخی اور مقتدر فیصلے میں قرار دیا ہے کہ سرکاری ملازمین کی بین السنیارٹی (باہمی سینیارٹی) کا حتمی تعین قانون اور مروجہ قواعد کے مطابق ہی کیا جائے گا، جبکہ حکومت محض سینیارٹی کے تنازعے میں خود کو متاثرہ فریق قرار دے کر مقدمہ بازی نہیں کر سکتی۔ رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری اور تفصیلی فیصلے کے مطابق، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس محمد شفیع صدیقی پر مشتمل عدالتِ عظمیٰ کے تین رکنی مقتدر بنچ نے سندھ حکومت کی جانب سے دائر کردہ 18 سول پٹیشنز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے سندھ سروس ٹربیونل کا دو جون دو ہزار پچیس کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ “سندھ سول سرونٹس رولز 1975” کے رول 11 کے تحت پہلی سلیکشن میں منتخب ہونے والا ملازم بعد میں منتخب ہونے والے ملازم پر قانونی طور پر سینیارٹی کا برحق حق رکھتا ہے اور مشترکہ سینیارٹی لسٹ تیار کرتے وقت بھی اس بنیادی اصول کو کسی طور نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

مقدمے کے پسِ منظر کے مطابق، کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سندھ نے سال دو ہزار بارہ میں تیئس مختلف مضامین کے لیکچررز کی بھرتی کے لیے اشتہار دیا تھا، تاہم سندھ پبلک سروس کمیشن نے مختلف مضامین کے امیدواروں کی سفارشات انتظامی وجوہات کی بنا پر مختلف اوقات میں ارسال کیں۔ بعد ازاں، محکمہ تعلیم کی جانب سے بعض امیدواروں کی اصل سلیکشن تاریخ کو سینیارٹی لسٹ میں مدنظر نہ رکھنے پر متاثرہ ملازمین نے سندھ سروس ٹربیونل سے رجوع کیا تھا جس نے ان کے حق میں فیصلہ دیا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں آبزرویشن دی کہ انگریزی کے لیکچررز کے معاملے میں صوبائی محکمہ نے پہلے سلیکشن کی بنیاد پر سینیارٹی درست طے کی، لیکن دیگر مضامین کے لیکچررز کو اسی یکساں قانونی اصول سے محروم رکھنا واضح طور پر امتیازی سلوک اور قواعد کے یکسر منافی تھا۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے مقتدر فیصلے میں مزید ریمارکس دیے کہ اگر کوئی متعلقہ ملازم ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف خود اپیل دائر نہیں کرتا، تو حکومت کو ایک “منصف اور غیر جانبدار آجر کے طور پر ٹربیونل کے فیصلے پر فوری عملدرآمد کرنا چاہیے، نہ کہ ایک حریف ملازم کی طرح عدالتوں میں مقدمہ بازی کو بلاوجہ طول دینا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے پر (متاثرہ فریق کے بغیر اپیل نہیں) کا مقتدر اصول پوری طرح لاگو ہوتا ہے، کیونکہ عدالت سے رجوع کرنے کا حق صرف اسی شخص کو ہے جس کے قانونی حقوق براہِ راست متاثر ہوئے ہوں۔ سپریم کورٹ نے “پروونس آف پنجاب بنام ڈاکٹر محمد افضل” کیس کے عدالتی نظیر کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دہانی کرائی کہ حکومت کو ملازمین کے مابین تنازعات میں مدِ مقابل فریق بننے سے گریز کرنا چاہیے۔ عدالت نے قرار دیا کہ سندھ سروس ٹربیونل کے فیصلے میں کوئی قانونی سقم، بے ضابطگی یا خلافِ قانون پہلو موجود نہیں، لہٰذا سندھ حکومت کی تمام درخواستیں خارج کی جاتی ہیں۔

عالمی یومِ پارلیمنٹیرین: پارلیمان جمہوری ملک کا بنیادی ستون اور عوامی امنگوں کی حقیقی ترجمان ہے، سپیکر سردار ایاز صادق

منصور احمد june 29,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 29 جون 2026ء

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے واضح کیا ہے کہ پارلیمان کسی بھی جمہوری ریاست کا بنیادی ستون اور عوامی امنگوں کی حقیقی ترجمان ہوتی ہے، جبکہ اس کی بالادستی ہی آئینی نظام کے استحکام، قانون کی حکمرانی اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کی واحد ضامن ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار “عالمی یومِ پارلیمنٹیرین” کے موقع پر جاری اپنے ایک مقتدر بیان میں کیا، جو اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام ہر سال تیس جون کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ سپیکر نے زور دیا کہ ایک فعال، شفاف اور مؤثر پارلیمان ہی ملک کو درپیش عوامی مسائل کے پائیدار حل اور طویل المدتی قومی ترقی کی مضبوط بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔

سردار ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان کی قومی اسمبلی جمہوری اقدار کے تحفظ، آئینی بالادستی، شفاف ترین قانون سازی اور مؤثر احتساب کے فروغ کے لیے اپنی تمام تر آئینی ذمہ داریوں کو تندہی سے انجام دے رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون سازی کا بنیادی مقصد محض نئے قوانین کی منظوری دینا نہیں بلکہ ایک ایسا جامع، پائیدار اور عوام دوست قانونی فریم ورک تشکیل دینا ہے جو عام آدمی کی فلاح و بہبود، سماجی انصاف کی فراہمی، معاشی ترقی اور قومی یکجہتی کو فروغ دے سکے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی اسمبلی کے اندر قانون سازی کے اس پورے عمل کو مزید نتیجہ خیز بنانے کے لیے پارلیمانی کمیٹیوں کے تزویراتی کردار کو پہلے سے زیادہ مضبوط کیا جا رہا ہے، جبکہ بدلتے ہوئے عالمی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، ڈیجیٹل نظام اور پارلیمانی اراکین کی استعدادِ کار میں اضافے کے ذریعے قانون سازی کے معیار کو بہتر بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔

سپیکر قومی اسمبلی نے سیاسی و جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے عوام اور مقننہ کے مابین مؤثر ترین رابطے اور عوامی شمولیت کو ناگزیر قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ قانون سازی کے ساتھ ساتھ پارلیمان کی یہ بھی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ انتظامیہ کی مؤثر جواب طلبی کو یقینی بنائے اور اپنے حلقہ ہائے انتخاب کی بھرپور اور برحق نمائندگی کا فریضہ سر انجام دے۔ انہوں نے ملک کی تمام سیاسی قوتوں پر مقتدر زور دیا کہ وہ اعلیٰ قومی مفاد، جمہوری تسلسل اور پارلیمان کی مضبوطی کے لیے اپنے تمام تر باہمی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر برداشت، باہمی تعاون اور مثبت سیاسی مکالمے کے کلچر کو فروغ دیں، کیونکہ ایک مضبوط پارلیمان ہی مستحکم اور خوشحال پاکستان کی واحد ضمانت ہے۔ انہوں نے عالمی سطح پر ملکی کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی قومی اسمبلی “بین الپارلیمانی یونین” (آئی پی یو) کی ایک سرگرم رکن کی حیثیت سے جمہوریت، انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، اور خواتین و نوجوانوں کی سیاسی عمل میں شمولیت کے لیے مؤثر پارلیمانی سفارت کاری کا استعمال کر رہی ہے اور عالمی امن و پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے بین الاقوامی فورمز کے ساتھ اشتراکِ عمل جاری رکھا جائے گا۔

سندھ طاس معاہدہ دوطرفہ تنازع نہیں بلکہ عالمی انصاف اور انسانی حقوق کا معاملہ ہے، وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کی تزویراتی پریس کانفرنس

منصور احمد june 29,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 29 جون 2026ء

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے (انڈس واٹرز ٹریٹی) کے معاملے کو صرف پاکستان اور بھارت کے مابین دوطرفہ تنازع کے طور پر نہیں بلکہ عالمی انصاف، بنیادی انسانی حقوق اور زیریں کنارے واقع ممالک کے پانی تک رسائی کے برحق اصول کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ پاکستان کی معیشت، روزگار اور غذائی تحفظ کا بنیادی انحصار پانی اور زراعت پر ہے، اس لیے ملک اپنے مقتدر آبی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ پیر کے روز وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے یہ اہم معاملہ اقوامِ متحدہ، اس کے ذیلی اداروں اور بین الاقوامی ثالثی کے فورمز پر مؤثر انداز میں اٹھایا ہے جہاں ملکی موقف کی تائید کی گئی ہے، جبکہ آئندہ عالمی کانفرنس میں بھی انڈس واٹر ٹریٹی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت زیریں علاقوں کے آبی حقوق کا مقدمہ بھرپور انداز میں لڑا جائے گا۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے سندھ اور بلوچستان کے سرحدی علاقے کے ایک متاثرہ کسان اقبال سولنگی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس کا پورا گاؤں سال دو ہزار دس، دو ہزار بارہ اور دو ہزار بائیس کے تباہ کن سیلابوں سے شدید متاثر ہوا جبکہ دیگر اوقات میں زمین اس قدر خشک ہو جاتی ہے کہ وہاں کاشتکاری ناممکن ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات کی بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ ساتھ بالائی کنارے سے پانی کے بہاؤ کا غیر منصفانہ کنٹرول بھی ہے۔ وفاق وزیر نے بتایا کہ پاکستان کی چالیس سے پچاس فیصد آبادی کا ذریعہ معاش زراعت ہے، قومی معیشت کا بیس سے پچیس فیصد حصہ اسی شعبے سے وابستہ ہے اور ملک کی غذائی سلامتی کا انحصار بھی پانی کی باقاعدہ دستیابی پر ہے۔ لہٰذا، یہ فیصلہ کسی دوسرے ملک کے ہاتھ میں نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان کو پانی کب اور کتنا ملے۔ انہوں نے برسلز سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر اٹھائے گئے اپنے سوالات کو دہراتے ہوئے کہا کہ اگر بالائی کنارے پر واقع ممالک کو یہ اختیار دے دیا جائے کہ وہ زیریں کنارے والے ممالک کا پانی روک سکیں تو دنیا بھر کے سرحد پار دریا خطرے میں پڑ جائیں گے، کیونکہ یورپ یا دنیا کے دیگر خطوں میں مشترکہ دریاؤں پر قائم ممالک نے کبھی زیریں ممالک کا پانی اس طرح نہیں روکا۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو پہلے ہی شدید خدشات تھے کہ بھارت رن آف دی ریور ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کے ذریعے فصلوں کے اہم ترین موسم میں محدود مدت کے لیے پانی روک کر پاکستان کی زرعی پیداوار کو مقتدر نقصان پہنچا سکتا ہے، اور حالیہ واقعات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ مختصر مدت کے لیے بھی پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ زرعی سرگرمیوں کو شدید متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ڈیم صرف پانی ذخیرہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ پانی کی بروقت تقسیم اور زرعی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی ناگزیر ہیں کیونکہ سیلاب کے دوران منگلا اور تربیلا جیسے کئی ڈیموں کے برابر پانی سمندر میں ضائع ہو جاتا ہے جبکہ بوائی کے موسم میں کسان پانی کی قلت کا سامنا کرتے ہیں۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ پانی ذخیرہ کرنے اور آبی وسائل کے انتظام کے منصوبوں پر سیاست سے بالاتر ہو کر ایک مقتدر قومی اتفاقِ رائے پیدا کریں۔ دیامر بھاشا اور داسو ڈیم منصوبوں سے متعلق انہوں نے واضح کیا کہ اگر بین الاقوامی قرضے یا امداد نہ بھی ملی تو بھی حکومت اپنے وسائل سے ان کی تکمیل کے لیے پرعزم ہے، جس کے لیے وفاقی ترقیاتی بجٹ کا بڑا حصہ آبی منصوبوں کے لیے مختص کیا گیا ہے اور پانی سے متعلق امور پر تمام سیاسی جماعتوں سے تزویراتی مشاورت کا عمل مزید تیز کیا جائے گا۔

ریئل ٹائم ڈیٹا رپورٹنگ کے لیے الیکٹرانک کلائنٹ ریکارڈ سسٹم متعارف؛ دو سو تیرہ سروس فراہم کنندگان کی تربیت مکمل، سال دو ہزار چھبیس کے اختتام تک سو فیصد ڈیٹا کی فوری مانیٹرنگ کا ہدف

روزینہ اسماعیل.june 29,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 29 جون 2026ء

حکومت نے ملک بھر میں خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت کی خدمات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک جامع تزویراتی ڈیجیٹلائزیشن پروگرام کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس مقتدر اقدام کے تحت ریئل ٹائم ڈیٹا رپورٹنگ سسٹمز، فیلڈ عملے کی استعدادِ کار میں اضافے اور انقلابی قانونی اصلاحات متعارف کرانے کے عمل کو تیز کر دیا گیا ہے تاکہ صحتِ عامہ کی خدمات کی فراہمی اور نظام میں شفافیت کو مقتدر طور پر بہتر بنایا جا سکے۔ دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق، آبادی کی بہبود کے لیے “الیکٹرانک کلائنٹ ریکارڈ” (ای سی آر) سسٹم کا نفاذ روایتی کاغذی نظام کو جدید ڈیجیٹل مانیٹرنگ میں تبدیل کرنے کی جانب ایک بڑا سنگِ میل ہے۔

نئے مانیٹرنگ نظام کے تحت اب تک مجموعی طور پر 213 سروس فراہم کنندگان کو جدید سافٹ ویئر اور ای سی آر سسٹم کے استعمال پر تفصیلی تربیت دی جا چکی ہے، جو اب فیلڈ سے خدمات کی فراہمی سے متعلق تمام تر ڈیٹا ریئل ٹائم میں براہِ راست مرکزی سسٹم کو رپورٹ کر رہے ہیں۔ اس مقتدر اقدام کا بنیادی مقصد ڈیٹا کی درستگی کو یقینی بنانا، انتظامی شفافیت کو مضبوط کرنا اور تولیدی صحت کے پروگراموں کی مؤثر ترین نگرانی ممکن بنانا ہے۔ روایتی رپورٹنگ سے ڈیجیٹل ریکارڈ کی جانب یہ منتقلی پروگرام کے انتظام میں ایک بڑی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے، جس سے متعلقہ ادارے کارکردگی کا فوری جائزہ لے کر خدمات کی فراہمی میں موجود خامیوں کی بروقت نشاندہی اور تدارک کر سکیں گے۔ رپورٹ کے مطابق، حکومت کو قوی توقع ہے کہ رواں سال 2026 کے اختتام تک اس ای سی آر سسٹم کے ذریعے خدمات سے متعلق 100 فیصد ڈیٹا ریئل ٹائم میں منتقل ہو رہا ہوگا۔

دستاویزات میں یہ اعتراف بھی کیا گیا ہے کہ ڈیجیٹلائزیشن کے آغاز میں فیلڈ عملے کو سافٹ ویئر کے استعمال اور تفہیم کے حوالے سے بعض تکنیکی مشکلات کا سامنا رہا، تاہم اس منتقلی کو آسان اور بلا تعطل بنانے کے لیے مسلسل ریفریشر تربیتی پروگرام اور تیکنیکی معاونت کا ایک مضبوط نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ جیسے جیسے پالیسی ساز اب آبادی کے مسائل کے حل کے لیے شواہد پر مبنی حکمتِ عملی اختیار کر رہے ہیں، ڈیٹا مینجمنٹ کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ ڈیجیٹل اصلاحات کے ساتھ ساتھ حکومت تولیدی صحت کے حقوق کے تحفظ کے لیے “ری پروڈکٹیو ہیلتھ بل” بھی لا رہی ہے، جسے صوبائی کابینہ سے منظوری مل چکی ہے اور جلد ہی اسے حتمی قانون سازی کے لیے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ اس مجوزہ قانون کا مقصد شہریوں کی رازداری، ذاتی معلومات کے تحفظ، باخبر انتخاب اور معیاری ادویات کی دستیابی جیسے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، عوامی آگاہی کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، سوشل میڈیا اور سرکاری ویب سائٹس کا مؤثر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ پالیسی سازوں اور عوام کے درمیان رابطے کو تیز کر کے ابھرتے ہوئے مسائل پر فوری تزویراتی فیصلے کیے جا سکیں۔

پنجاب میں مون سون بارشوں کا الرٹ: یکم سے چھ جولائی تک بیشتر اضلاع میں تیز آندھی اور ژالہ باری کی پیشگوئی، اربن فلڈنگ کا خطرہ

روزینہ اسماعیل.june 29,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 29 جون 2026ء

پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے یکم جولائی سے چھ جولائی تک صوبے کے بیشتر اضلاع میں تیز آندھی، گرج چمک اور ژالہ باری کے ساتھ موسلا دھار بارشوں کا باقاعدہ الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ترجمان پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، مون سون کے اس نئے سلسلے کے تحت یکم جولائی سے صوبائی دارالحکومت لاہور، راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، فیصل آباد، خوشاب، سرگودھا، شیخوپورہ اور نارووال میں بادل برسنے کا امکان ہے۔ جبکہ تین سے چھ جولائی کے دوران ساہیوال، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، پاکپتن، ننکانہ صاحب، اوکاڑہ، قصور، نورپور تھل، بھکر، لیہ، میانوالی، بہاولپور، ڈی جی خان، ملتان، خانیوال اور لودھراں سمیت مضافاتی علاقوں میں بجلیاں چمکنے اور تیز آندھی چلنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

ترجمان نے تزویراتی الرٹ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس شدید بارش کے نتیجے میں راولپنڈی، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، لاہور اور فیصل آباد جیسے بڑے شہروں کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ (شہری سیلاب) کا مقتدر خطرہ موجود ہے، جس کے لیے تمام محکموں کو پیشگی اقدامات مکمل کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عمر جاوید کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی اور مقتدر ہدایات کی روشنی میں صوبے بھر کے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہائی الرٹ مکتوب ارسال کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے شہریوں کو مقتدر ہدایت کی ہے کہ وہ آسمانی بجلی اور تیز آندھی سے بچاؤ کے لیے گرج چمک کے دوران کھلے مقامات، درختوں یا بجلی کے کھمبوں کے نیچے جانے سے ہرگز گریز کریں اور محفوظ چھتوں تلے پناہ لیں۔ انہوں نے کسانوں کو بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی فصلوں اور مویشیوں کے حوالے سے تمام تر حفاظتی انتظامات موجودہ موسمی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کریں، جبکہ شمالی علاقہ جات کا رخ کرنے والے سیاحوں کو دورانِ سفر مقتدر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اتھارٹی کے مطابق کسی بھی قسم کی سیلابی یا ہنگامی صورتحال میں شہری فوری رہنمائی اور مدد کے لیے پی ڈی ایم اے کی آفیشل ہیلپ لائن گیارہ انتیس پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

سندھ میں انسدادِ پولیو مہم کی مقتدر کامیابی: انتیس میں سے اٹھائیس ماحولیاتی نمونے منفی رپورٹ، وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کا بڑا اعلان

روزینہ اسماعیل.june 29,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 29 جون 2026ء

ملک سے پولیو وائرس کے جڑ سے خاتمے کی حکومتی کوششوں کے دوران صوبہ سندھ سے ایک مقتدر اور انتہائی حوصلہ افزا پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں حالیہ ماحولیاتی نمونوں کے نتائج نے انسدادِ پولیو کی مؤثر حکمتِ عملی پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے۔ وفاقی وزیر برائے صحت سید مصطفیٰ کمال نے وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلیٰ سطحی بیان میں تصدیق کی ہے کہ سندھ بھر سے حاصل کیے گئے کل انتیس ماحولیاتی نمونوں میں سے اٹھائیس نمونے مکمل طور پر منفی رپورٹ ہوئے ہیں، جو کہ اگست دو ہزار تئیس کے بعد سے اب تک صوبے میں منفی ماحولیاتی نمونوں کی ریکارڈ کی جانے والی سب سے بڑی اور مقتدر تعداد ہے۔

وفاقی وزیر صحت کے مطابق کراچی ڈویژن میں پولیو وائرس کی پھیلاؤ کی شرح میں تاریخی کمی دیکھنے میں آئی ہے جہاں پہلی مرتبہ بارہ میں سے گیارہ ماحولیاتی نمونے یکسر منفی رپورٹ ہوئے ہیں۔ اسی طرح خوش آئند بات یہ ہے کہ سندھ کے دیگر تمام ڈویژنز سے حاصل کیے گئے تمام سترہ کے سترہ ماحولیاتی نمونے بھی مکمل طور پر منفی آئے ہیں جو کہ انسدادِ پولیو اقدامات کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سید مصطفیٰ کمال نے تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ قمبر اور کشمور جیسے دور دراز اضلاع میں ایک طویل عرصے کے بعد پولیو وائرس کی گردش کا تھم جانا اور بدین و میرپورخاص میں مسلسل دوسرے مہینے بھی ماحولیاتی نمونوں کا منفی آنا ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔

انہوں نے اپنے مقتدر عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان کو پولیو سے پاک کرنے کے لیے تمام ملکی وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور اس سلسلے میں وفاقی و صوبائی اداروں، شراکت دار بین الاقوامی تنظیموں اور تمام متعلقہ فریقین کے باہمی اشتراک سے جامع مہمات چلائی جا رہی ہیں۔ وزیر صحت نے بتایا کہ رواں سال دو ہزار چھبیس کے دوران ملک میں دو قومی اور ایک ذیلی انسدادِ پولیو مہمات کامیابی سے مکمل کی جا چکی ہیں، جبکہ وائرس کی باقی ماندہ منتقلی کا جڑ سے خاتمہ یقینی بنانے کے لیے آئندہ ماہ جولائی دو ہزار چھبیس میں کراچی بھر میں ایک خصوصی انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پولیو فری پاکستان موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور ملک کے ہر بچے کو اس معذوری سے تحفظ فراہم کرنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔