بلوچستان کے اضلاع خاران، چاغی، قلات اور مستونگ میں شدت پسندوں کے حملے، سیکیورٹی فورسز سے جھڑپیں اور انفراسٹرکچر کو نقصان

کاشف عباسی , August 26,2026

خاران/کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

بلوچستان کے شہر خاران میں نامعلوم مسلح افراد اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں جبکہ صوبے کے دیگر تین اضلاع چاغی، قلات اور مستونگ میں مال بردار گاڑیوں کو فائرنگ سے نقصان پہنچانے اور ایک رابطہ پل کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کے ناخوشگوار واقعات سامنے آئے ہیں۔ محکمہ داخلہ حکومتِ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے تفصیلا ت بتاتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ شب کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے شدت پسند عناصر نے خاران شہر میں اندر آنے اور باہر جانے والے راستوں پر ناکہ بندی کی کوشش کی اور پولیس کی ایک گاڑی کو آگ لگا کر نذرِ آتش کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور ہائی الرٹ جوابی کارروائی کے باعث حملہ آور اپنے مذموم مقاصد میں ناکام ہو کر فرار ہونے پر مجبور ہو گئے، جبکہ جوابی فائرنگ سے حملہ آوروں کو بھی بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا ہے۔ خاران کے مقامی ذرائع اور پولیس اہلکار کے مطابق رات دس بجے کے بعد شہر میں سنگین فائرنگ اور دھماکوں کی آوازوں سے خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ مسلح افراد نے بیسیمہ پولیس چوکی کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کیا اور وہاں سے چار پولیس اہلکاروں کو اغوا کرنے کے بعد بلا کسی نقصان کے چھوڑ دیا۔

خاران میں ناکام حملے کے علاوہ صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی تخریب کاری کی کارروائیاں کی گئی ہیں۔ ضلع چاغی کے علاقے چہتر میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے چار مال بردار گاڑیوں کو نقصان پہنچایا، جبکہ ضلع قلات میں بھی مسلح عناصر نے سیمنٹ سے لدی دو مال بردار گاڑیوں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا جس سے ان کے ٹائر برباد ہو گئے، تاہم قلات پولیس کے سربراہ زاہد شاہ کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی فوری کارروائی کے بعد حملہ آور پہاڑوں کی جانب فرار ہو گئے۔ دوسری جانب کوئٹہ سے متصل ضلع مستونگ میں کوئٹہ کراچی شاہراہ پر چوتو کے مقام پر قائم ایک اہم پل کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کی کوشش کی گئی جس سے پل کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے، مگر شاہراہ پر ٹریفک کی روانی متاثر نہیں ہوئی۔ بلوچستان بھر میں ان پے در پے واقعات کے بعد سیکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور حساس علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان کے صاحبزادوں قاسم اور سلیمان خان کی آن لائن پریس کانفرنس: والد سے رابطے پر پابندی اور صحت پر شدید تشویش کا اظہار

کاشف عباسی , August 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے صاحبزادے سلیمان خان اور قاسم خان نے ایک بین الاقوامی آن لائن نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اُنھیں اپنے والد سے ملے ہوئے کئی برس بیت چکے ہیں جبکہ گذشتہ چھ ماہ سے اُن کی فون پر بھی کوئی بات نہیں کروائی گئی۔ آن لائن نیوز کانفرنس کے دوران عمران خان کے دونوں صاحبزادوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے والد اس وقت جن کٹھن اور سخت حالات سے گزر رہے ہیں وہ بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ سلیمان خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے واضح احکامات جاری کیے جا چکے ہیں کہ عمران خان کی ان کے بچوں سے ٹیلی فون پر بات کروائی جائے لیکن اس کے باوجود حکام نے تاحال ان کے اس بنیادی حق کی اجازت نہیں دی اور مسلسل لعل و گوہر سے کام لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستانی حکام انہیں اپنے والد سے ملنے کے لیے ویزے جاری کرنے سے بھی مسلسل گریز کر رہے ہیں۔ نیوز کانفرنس کے دوران قاسم خان کا کہنا تھا کہ ان کے والد بے حد مضبوط اعصاب کے مالک شخص ہیں لیکن 73 سال کی عمر میں ان کے ساتھ جیل میں جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے اس کے ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ قاسم خان نے مزید بتایا کہ ان کے والد گزشتہ تین برسوں سے عملاً قیدِ تنہائی کا سامنا کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے سیاسی موقف اور نظریے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ یاد رہے کہ عمران خان کے بیٹوں کی جانب سے یہ ہنگامی پریس کانفرنس ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سابق وزیرِ اعظم کو 20 اگست کی شب راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے پمز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کے طبی معائنے کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ سابق وزیرِ اعظم کو علاج کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے لیکن حکومت نے سکیورٹی خدشات کا عذر پیش کرتے ہوئے انہیں پمز منتقل کیا تھا اور یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ معائنے کے بعد وہ بالکل صحت مند پائے گئے ہیں۔ تاہم پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے اس عمل کو عدالتی حکم کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی ہے جبکہ دوسری جانب حکومت نے بھی سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر نظرثانی درخواست جمع کروائی ہوئی ہے۔

بھارت میں نظامِ صحت کی بدحالی: ضلعی ہسپتالوں میں گردوں کے ماہرین ناپید، رپورٹ نے بھانڈہ پھوڑ دیا

منصور احمد, August 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

بھارت میں نریندر مودی حکومت کی پالیسیوں کے باعث جہاں معیشت زوال پذیر ہے، وہی ملک کا پورا نظامِ صحت بھی سنگین بحران کا شکار ہو چکا ہے اور عوام علاج معالجے کے لیے در بدر ہونے پر مجبور ہیں۔

بھارتی جریدے ‘دی وائر’ میں شائع ہونے والی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق، بھارت کی کم از کم 29 ریاستوں اور وفاقی علاقوں کے کسی بھی ضلعی ہسپتال میں ماہرِ امراضِ گردہ (نیفرولوجسٹ) موجود ہی نہیں ہے۔ متعدد ریاستوں میں ڈائیلاسز ٹیکنیشنز اور یورولوجسٹ کی شدید قلت ہے جبکہ کئی جگہوں پر گردوں کے علاج کے لیے طبی عملے کی آسامیاں تک منظور نہیں کی گئیں۔ ‘انڈین ایکسپریس’ میں شائع ‘لانسیٹ کمیشن’ کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی نظامِ صحت غیر مساوی معیار، وسائل کے غلط استعمال اور مالی تحفظ کی عدم دستیابی کا شکار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی 13 سے 16 فیصد نوجوان آبادی گردوں کے امراض میں مبتلا ہے، مگر مودی سرکار نے عوام کی صحت و تعلیم پر توجہ دینے کے بجائے تمام تر توانائی ہندوتوا اور اقتدار کو مضبوط کرنے پر مرکوز کر رکھی ہے۔

شاہدرہ میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کا بڑا ایکشن: معروف آئسکریم برانڈ کی ڈسٹری بیوشن سیل، 10 لاکھ روپے جرمانہ

محمود احمد, August 25,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

پنجاب فوڈ اتھارٹی (PFA) کے ڈائریکٹر جنرل راجہ منصور احمد کی ہدایت پر شاہدرہ میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے معروف آئسکریم برانڈ کی ڈسٹری بیوشن کو فوری طور پر بند کر دیا گیا ہے اور مالک پر 10 لاکھ روپے کا بھاری جرمانہ عائد کر دیا گیا ہے۔

کارروائی کے دوران ‘فور سٹار ڈسٹری بیوشن’ سے 3 ہزار کلو گرام ایکسپائرڈ (انقضائے المیعاد) آئسکریم برآمد کی گئی جسے موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔ ڈی جی فوڈ اتھارٹی کے مطابق تلف کی گئی آئسکریم گزشتہ سال نومبر میں ہی ایکسپائر ہو چکی تھی، جسے منفی 22 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت پر بالکل تازہ اسٹاک کے ساتھ چھپا کر رکھا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ زہریلی اور ناقص آئسکریم تازہ اسٹاک کی آڑ میں مختلف شہروں کی مارکیٹوں میں سپلائی کی جانی تھی۔

ڈی جی فوڈ اتھارٹی راجہ منصور احمد نے اس موقع پر سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ عوام خصوصاً بچوں کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں اور ادارے کی جانب سے ان کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب بھر میں ناقص، سڑی ہوئی یا ایکسپائرڈ اشیائے خورونوش کی فروخت کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں ایس آئی یو ٹی کے قیام کی کاوشیں قابلِ تحسین: رجب علی شیخ کی گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات

محمود احمد, August 25,2026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رجب علی شیخ نے گورنر ہاؤس پشاور میں اہم ملاقات کی، جس کے دوران ڈیرہ اسماعیل خان کی علاقائی ترقی اور عوامی بہبود کے مختلف منصوبوں پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

گورنر ہاؤس پشاور کے ترجمان کے مطابق، ملاقات میں رجب علی شیخ نے ڈیرہ اسماعیل خان میں سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (SIUT) کے قیام کے لیے گورنر فیصل کریم کنڈی کی انتھک کاوشوں کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی یو ٹی کا قیام نہ صرف ڈیرہ اسماعیل خان بلکہ خیبر پختونخوا کے ساتھ ساتھ پنجاب اور بلوچستان کے ملحقہ اضلاع کے عوام کے لیے بھی صحت کے شعبے میں ایک عظیم تحفہ ثابت ہو گا۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے اس موقع پر اعادہ کیا کہ صوبے خصوصاً پسماندہ اضلاع میں معیاری طبی سہولیات اور انفراسٹرکچر کی فراہم حکومت اور ان کی ترجیحات میں شامل ہے تا کہ عوام کو ان کی دہلیز پر بنیادی سہولیات میسر آ سکیں۔

مالی سال 2026ء میں پاکستان کے گلابی نمک کی برآمدات 3 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں: برآمدی حجم 1.48 لاکھ ٹن سے متجاوز

منصور احمد, August 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

حکومتِ پاکستان کی جانب سے قدرتی وسائل کی عالمی تشہیر، جغرافیائی شناخت اور ویلیو ایڈیشن پر خصوصی توجہ کے نتیجے میں مالی سال 2026ء کے دوران پاکستان کے گلابی نمک کی برآمدات 3 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جبکہ برآمدی حجم 1 لاکھ 48 ہزار 71 ٹن سے تجاوز کر گیا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق مالی سال 2025ء میں پنک سالٹ کی برآمدات 3 کروڑ 50 لاکھ ڈالر (1,27,924 ٹن) تھیں، جس میں واضح اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے مطابق ملک میں چٹانی نمک کے تخمینہ ذخائر 6 کروڑ 50 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد ہیں جن میں 99 فیصد تک خالصیت پائی جاتی ہے۔ حکومت نے اس کی عالمی شناخت مضبوط بنانے کے لیے ‘کھیوڑہ پنک راک سالٹ’ کے نام سے جغرافیائی اشاریہ (GI) رجسٹر کروایا ہے جس کے بین الاقوامی اندارج پر بھی کام جاری ہے۔ برآمدات کی شفافیت کے لیے کسٹمز میں مخصوص ایچ ایس کوڈ (2501.0021) متعارف کروایا گیا ہے جبکہ انڈر انوائسنگ روکنے کے لیے کم از کم برآمدی قیمت 130 ڈالر فی میٹرک ٹن مقرر کی گئی ہے۔

ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) نے ورلڈ ایکسپو 2025ء اوساکا سمیت گلف فوڈ یو اے ای، انوگا جرمنی اور سیال فرانس جیسی بین الاقوامی نمائشوں میں پاکستانی پنک سالٹ کی بھرپور برانڈنگ کی ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان کے اس منفرد قدرتی ورثے اور معاشی صلاحیت کو اجاگر کرنا ہے۔

ایم 6 موٹروے سکھر۔حیدرآباد سیکشن: 40 ارب روپے کے فنڈز جاری کیے جائیں، رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی کا مطالبہ

کاشف عباسی , August 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینئر رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے سکھر۔حیدرآباد ایم 6 موٹروے (M-6 کی عدم تکمیل اور فنڈز کی قلت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ منصوبے کے لیے درکار بقایا 40 ارب روپے فوری طور پر مہیا کیے جائیں۔

منگل کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران نکتۂ اعتراض پر گفتگو کرتے ہوئے شرمیلا فاروقی نے کہا کہ ایم 6 موٹروے ایک انتہائی اہم اور سٹریٹیجک نوعیت کا قومی منصوبہ ہے جس کی تکمیل میں بلاوجہ تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ اس منصوبے کی مجموعی لاگت 70 ارب روپے میں سے صرف 30 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں جبکہ بقیہ فنڈز کے لیے وسائل کی عدم دستیابی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا عذر پیش کیا جا رہا ہے۔

شرمیلا فاروقی نے سندھ کے ساتھ عدم مساوات کا گلہ کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ ایک طرف ایم 6 کو فنڈز نہیں دیے جا رہے، جبکہ دوسری طرف حال ہی میں ایکنک نے پنجاب میں ایک موٹروے کی منظوری دے کر اس کے لیے 49 ارب روپے کے فنڈز جاری بھی کر دیے ہیں۔ انہوں نے سپیکر سے درخواست کی کہ سندھ کے اس انتہائی اہم بنیادی ڈھانچے کے معاملے کو فوری طور پر متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے تا کہ ایم 6 کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جا سکے۔

پاکستان اور قطر کے درمیان مضبوط اور برادرانہ تعلقات ہیں: قطری وفد سے ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف کی گفتگو

کاشف عباسی , August 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور قطر کے درمیان دیرینہ، مضبوط اور لازوال برادرانہ تعلقات قائم ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار چیئرمین رطاج گروپ و تمیم ہولڈنگز شیخ نائف بن عید آل ثانی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، جنہوں نے اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ ان سے ملاقات کی۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری اعلامیے کے مطابق، اس اہم اجلاس میں وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک، مشیرِ وزیراعظم ہارون اختر، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے قطری وفد کا گرمجوشی سے خیرمقدم کیا اور امیرِ قطر کے والد کے انتقال پر اپنے تعزیتی دورۂ قطر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے متوقع دورۂ پاکستان کا شدت سے منتظر ہے۔

ملاقات کے دوران قطری وفد کے سربراہ شیخ نائف بن عید آل ثانی نے پاکستان کی جانب سے بہترین اور شاندار مہمان نوازی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پاکستان کے معاشی و تجارتی شعبوں، خصوصاً انرژی اور ریئل اسٹیٹ میں قطری سرمایہ کاری کو مزید وسعت دینے اور دوطرفہ اقتصادی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

کویٹہ میں سیف سٹی اتھارٹی کا اہم اجلاس: وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی کا سیکیورٹی اور ٹیکنالوجی کی بہتری کے لیے پنجاب سے تعاون حاصل کرنے کا اعلان

محمود احمد, August 24,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی صدارت میں بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں امن و امان، جرائم کی روک تھام اور ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ سیف سٹی اتھارٹی امن و امان کے قیام، جرائم کی سرکوبی اور شہریوں کے تحفظ میں انتہائی مؤثر کردار ادا کر رہی ہے۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے آئی جی پولیس محمد طاہر خان نے بتایا کہ سیف سٹی کے نگرانی کے جدید نظام کی مدد سے ملک بھر سے چوری کی گئی 138 گاڑیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ 9 مشکوک سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی کے ذریعے دہشت گردی کی بڑی کارروائیوں کو ناکام بنایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اتھارٹی نے مختلف جرائم کے مقامات سے متعلق پولیس کو 631 اہم شواہد فراہم کیے جن سے ملزمان کی گرفتاری ممکن ہوئی۔ اس کے علاوہ 15 مددگار ایمرجنسی رسپانس سروس کو سی ٹی ڈی سے منسلک کر دیا گیا ہے تا کہ ہنگامی حالات میں بروقت ایکشن لیا جا سکے۔

وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے سیف سٹی اتھارٹی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اعلان کیا کہ بلوچستان میں اس نظام کی استعداد کار بڑھانے کے لیے پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے تجربات اور تکنیکی مہارت سے استفادہ کیا جائے گا، جس کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب کو باضابطہ مراسلہ بھیجا جا رہا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سیکیورٹی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے صوبے کے دیگر اضلاع تک وسعت دی جائے تاکہ عوامی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: انتظامی تاخیر ملازمین کا قانونی حق ختم نہیں کر سکتی

منصور احمد, August 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی سے متعلق ایک اہم اور تاریخی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر کسی قانون میں “تصور کیے جانے کی شق موجود ہو، تو مقررہ شرائط پوری کرنے والے تمام کنٹریکٹ ملازمین قانون کے عمل سے خود بخود مستقل ملازم کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ متعلقہ سرکاری یا خود مختار محکمہ مستقلی کے عمل میں انتظامی تاخیر کر کے ملازمین کا قانونی حق متاثر نہیں کر سکتا۔

جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کمیونٹی آف اوپتھلمولوجی (پیکو) پشاور کے ڈین کی جانب سے دائر کردہ سول پٹیشن کو خارج کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز اپیلیٹ ٹربیونل کے فیصلے کو مکمل طور پر برقرار رکھا۔ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سال 2006ء کی ترمیمی قانون سازی کا مقصد اصلاحی اور فائدہ مند تھا، اور فائدہ مند قانون کی تشریح بھی اس انداز میں ہونی چاہیے جس سے ملازمین کو سہولت ملے، نہ کہ محدود تشریح سے ان کا حق ختم کر دیا جائے۔

عدالت نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 4، 3 اور 38 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین قانون کی حکمرانی، ہر قسم کے استحصال کے خاتمے اور آجر و ملازم کے حقوق میں منصفانہ توازن قائم کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔ اعلیٰ ترین عدالت نے قرار دیا کہ سال 2001ء سے مسلسل فرائض انجام دینے والے ملازمین کو 2006ء کی ترمیم کے تحت قانون کی رو سے مستقل تصور کیا جا چکا تھا، اور محکمے کی جانب سے مستقلی کا عمل مصنوعی طور پر مؤخر کرنا آئین و قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی ملاقات: صوبائی ترقیاتی منصوبوں اور سیاسی امور پر اہم مشاورت

کاشف عباسی , August 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وفاقی دارالحکومت میں اہم ملاقات کی، جس میں صوبہ سندھ کے عمومی امور اور وفاق کے زیرِ اہتمام جاری اہم ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر احد خان چیمہ، شزہ فاطمہ خواجہ اور علی پرویز ملک بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران صوبے کی معاشی و انتظامی صورتحال، وفاق اور صوبے کے باہمی تعلقات اور ملک کی مجموعی سیاسی فضا پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔

اجلاس میں دونوں رہنماؤ ں کی جانب سے ملک میں سیاسی رواداری کو فروغ دینے اور باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ وفاقی و صوبائی معاملوں کو آگے بڑھانے پر کامل اتفاق کیا گیا۔ رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ میں عوامی فلاح کے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ صوبے کی معاشی ترقی کو مزید رفتار مل سکے۔

سیرتِ مصطفیٰﷺ ہی حقیقی فلاح کا راستہ ہے: جامع القادسیہ لاہور میں عظیم الشان سیرت النبیﷺ کانفرنس کا انعقاد

Screenshot

کاشف عباسی , August 24,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

پاکستان مرکزی مسلم لیگ لاہور کے زیرِ اہتمام جامع القادسیہ میں ایک پروقار اور عظیم الشان ‘سیرت النبیﷺ کانفرنس’ کا انعقاد کیا گیا، جس میں جید علماءِ کرام، مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں، کارکنان اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں درپیش تمام تر قومی و اجتماعی بحرانوں کا واحد حل اور حقیقی فلاح کا راستہ سیرتِ مصطفیٰﷺ پر سچے دل سے عمل پیرا ہونے میں پنہاں ہے۔

کانفرنس سے مرکزی مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری سیف اللہ قصوری، مدیر شعبہ دعوت و اصلاح حافظ عبدالروف، چیئرمین رابطہ علماء مشائخ قاری محمد یعقوب شیخ، مفتی محمد یوسف طیبی، شیخ الحدیث احسان الحق شہباز، مفتی عبداللطیف، نائب سیکرٹری جنرل خالد نیک گجر، صدر لاہور انجینئر عادل خلیق، جنرل سیکرٹری لاہور چوہدری حمید الحسن گجر، ڈاکٹر بلال شفیق، مولانا ادریس فاروقی، عمر فاروق گجر اور حافظ راشد سندھو سمیت دیگر اہم مذہبی و سیاسی شخصیات نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ سیرتِ طیبہﷺ صرف محض عقیدت اور محبت کا نام نہیں بلکہ یہ زندگی کے تمام شعبوں، قانون، معیشت اور سیاست کے لیے ایک مکمل اور جامع رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

اپنے خطاب میں سیف اللہ قصوری اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ پاکستان میں عدل، اخوت، خدمت اور فلاح پر مبنی معاشرے کے قیام کے لیے محض نعروں کی نہیں بلکہ اسوۂ حسنہﷺ کی روشنی میں عملی کردار، دیانت اور انصاف کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیرتِ رسولﷺ کو صرف سننے اور بیان کرنے تک محدود رکھنے کے بجائے اپنی انفرادی و اجتماعی زندگیوں میں نافذ کرنا ہوگا تاکہ کمزور کو انصاف ملے اور شہریوں کی جان و مال محفوظ ہو۔ کانفرنس کے اختتام پر ملک و قوم کے استحکام، امتِ مسلمہ کی سلامتی اور مظلوم مسلمانوں کی نصرت کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی کا لاہور میں بڑا کریک ڈاؤن: 8 فوڈ پوائنٹس کی تلاشی، معروف نان شاپ سیل جبکہ 7 یونٹس کو جرمانہ

منصور احمد, August 24,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے بھر میں ملاوٹ مافیا اور معیارِ خوراک سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن مسلسل جاری ہے۔ اسی سلسلے میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کی فوڈ سیفٹی ٹیموں نے لاہور کے معروف علاقوں مسلم ٹاؤن اور اچھرہ میں بڑی کارروائیاں کرتے ہوئے مجموعی طور پر 8 فوڈ پوائنٹس اور پروسیسنگ یونٹس کا اِنسپیکشن کیا۔

ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) پنجاب فوڈ اتھارٹی راجہ منصور احمد کی براہِ راست ہدایت پر کی جانے والی اس کارروائی کے دوران سابقہ ہدایات اور صفائی کے جاری کردہ قواعد و ضوابط پر عمل نہ کرنے پر ایک نامور نان شاپ کو فوری طور پر سیل کر دیا گیا، جبکہ شدید بے قاعدگیوں پر 7 دیگر فوڈ پوائنٹس کو مجموعی طور پر 1 لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔ ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے بتایا کہ تلاشی کے دوران مذکورہ نان شاپ پر ملازمین کے لازمی میڈیکل اور ٹریننگ سرٹیفکیٹس غائب پائے گئے جبکہ پروسیسنگ ایریا میں صفائی کے ناقص انتظامات، چوہوں اور حشرات کی موجودگی، تعفن زدہ ماحول، کھلی نالیاں اور زنگ آلود مشینری جیسی سنگین خلاف ورزیاں بھی سامنے آئیں۔

ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی راجہ منصور احمد نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پنجاب میں خوراک کا کاروبار کرنے والے تمام افراد کے لیے فوڈ سیفٹی قوانین کی پاسداری لازمی ہے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ عوام کی صحت اور معیاری خوراک کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف بغیر کسی رعایت کے سخت ترین قانونی کارروائی جاری رہے گی۔

’پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے‘: پشاور ورکرز کنونشن میں مولانا فضل الرحمان کا شدید خطاب، مقتدرہ اور حکومت پر کڑی تنقید

کاشف عباسی , August 23,2026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اگست 2026ء

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اداروں کو اپنے آئینی دائرہ کار میں رہنے کی سخت ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں صرف اور صرف پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے، لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ جو اختیارات منتخب پارلیمنٹ کے پاس ہونے چاہئیں تھے وہ مقتدرہ کے ایک فرد واحد کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔ پشاور میں منعقدہ جے یو آئی (ف) کے بڑے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ملک کی موجودہ سیاسی و آئینی صورت حال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ ہمیں اس بات پر ہرگز کوئی اعتراض نہیں کہ کوئی آرمی چیف بنے، چیف آف ڈیفنس فورسز یا فیلڈ مارشل کا عہدہ سنبھالے، لیکن فیصلے کرنے کا اصل دائرہ اختیار پارلیمنٹ کا ہی ہونا چاہیے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اہم ترین قومی و آئینی فیصلوں کی منظوری کو وفاقی حکومت سے مشروط کر کے پارلیمنٹ کو عملی طور پر فیصلوں کے عمل سے بالکل باہر نکال دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدل و انصاف کے ساتھ کافر کی حکومت تو قائم رہ سکتی ہے لیکن ظلم، نا انصافی اور جبر کے ساتھ کسی مسلمان کی حکومت بھی زیادہ دیر تک نہیں چل سکتی۔ انہوں نے راولاکوٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں عوام تین ماہ سے سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں مگر انتظامیہ اور حکمران ان سے بات تک کرنے کو تیار نہیں۔

نئے صوبوں کے قیام سے متعلق ملک میں جاری بحث پر گفتگو کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں نئے صوبے بنانے کی نہ تو کوئی سیاسی و انتظامی تیاری ہے اور نہ ہی ویسا سازگار ماحول موجود ہے، بلکہ ایک مخصوص ادارے کی خواہش کو زبردستی قوم پر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ملک میں اقلیتی حکومت کی حکمرانی کا الزام عائد کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف جب بھی بیرونِ ملک دوروں پر جاتے ہیں تو آرمی چیف کو لازمی ساتھ لے کر جاتے ہیں، کیونکہ اگر وہ ساتھ نہ ہوں تو عالمی سطح پر ان کی بات کوئی سننے کو تیار نہیں۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی صدارت میں ‘ایکنک’ کا اہم اجلاس: تربیلا ففتھ ایکسٹینشن اور بشام ایکسپریس وے سمیت اہم قومی منصوبوں کی منظوری و جائزہ

منصور احمد, August 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 اگست 2026ء

نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک بھر میں بنیادی ڈھانچے، توانائی کی منتقلی اور سماجی و اقتصادی ترقی سے متعلق متعدد اربوں روپے کے قومی منصوبوں کا جامع جائزہ لیا گیا اور کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ نائب وزیراعظم کے آفس کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں وفاقی و صوبائی سطح کے جاری اور نظرثانی شدہ منصوبوں کو ملک کی پائیدار اقتصادی ترقی کے ایجنڈے کے مطابق جلد از جلد مکمل کرنے اور فنڈز کے شفاف اور مؤثر استعمال کی حکمتِ عملی پر مفصل غور کیا گیا۔

اجلاس میں منظور اور زیرِ بحث آنے والے نمایاں منصوبوں میں خوازہ خیلہ-بشام ایکسپریس وے کی تعمیر شامل ہے، جو شمالی علاقہ جات میں باہمی ربط اور سیاحت و تجارت کی فروغ کے لیے انتہائی اہم ترین شاہراہ تصور کی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں، ملک میں بجلی کے ترسیلی نظام کو جدید بنانے کے لیے ڈسٹری بیوشن کمپنیوں لیسکو ، حیسکو اور پیسکو میں سسٹم کی استعداد کار بڑھانے اور لائن لاسز کو کم کرنے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں قومی اہمیت کے حامل تربیلا ڈیم کے پانچویں توسیعی پن بجلی منصوبے کی پیش رفت کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا، تاکہ کم لاگت اور ماحول دوست بجلی کی پیداوار کو ملکی گرڈ میں شامل کیا جا سکے۔

ایکنک اجلاس کے دوران عوامی فلاح و بہبود اور تعلیمی میدان سے متعلق جنوبی پنجاب میں غربت میں کمی کے منصوبے سمیت اعلیٰ تعلیم کے لیے فل برائٹ اسکالرشپ سپورٹ پروگرام کی منظوری بھی شامل تھی۔ نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تمام متعلقہ وفاقی ڈویژنز اور صوبائی حکام کو واضح ہدایات جاری کیں کہ وہ ان منصوبوں کی وقت پر تکمیل کے لیے آپس میں قریبی رابطہ اور بروقت اقدامات کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کا مقصد اقتصادی استحکام کو مضبوط کرنا اور عوامی بنیادی ڈھانچے کو جدید ترین تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ اس اہم اجلاس میں وفاقی وزیر برائے خزانہ، وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ اور وفاقی و صوبائی سیکرٹریز سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف کا پمز ہسپتال میں سی ٹی کورونری اینجیوگرافی کی سہولت غیر فعال ہونے پر سخت نوٹس، اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی قائم

کاشف عباسی , August 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 اگست 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں انتہائی اہم طبی سہولت ‘سی ٹی کورونری اینجیوگرافی’ کی عدم دستیابی اور مشین کے طویل عرصے سے غیر فعال ہونے کے شدید معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی قائم کر دی ہے۔ وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ رسمی بیان کے مطابق وزیرِ اعظم نے سخت ہدایت جاری کی ہے کہ کمیٹی معاملے کے تمام فنی، انتظامی اور مالیاتی پہلوؤں کا بلاامتیاز جائزہ لے کر حقائق پر مبنی رپورٹ، ذمہ داران کا تعین اور اپنی سفارشات جلد از جلد ان کے سامنے پیش کرے۔

وزیرِ اعظم کے حکم پر تشکیل دی گئی اس بااختیار انکوائری کمیٹی کے چیئرمین سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ہوں گے، جبکہ دیگر اراکین میں سیکرٹری نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈویژن کے علاوہ مسلح افواج کے نامور طبی ماہرین اور سینئر ڈاکٹرز کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ کمیٹی کے اراکین میں آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (AFIC) سے بریگیڈیئر ڈاکٹر جہانزیب علی، ڈاکٹر نصرت اللہ چوہدری، پروفیسر ڈاکٹر ندیم حیات ملک، پمز سے بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) ڈاکٹر عظمت حیات اور اے ایف آئی سی سے ہی سی ٹی اینجیو ٹیکنیشن عمر فاروق شامل ہیں۔ انکوائری کمیٹی کو یہ مکمل اختیار اور آزادی دی گئی ہے کہ وہ اپنی تحقیقاتی ضرورت کے مطابق کسی بھی دوسرے فنی و انتظامی ماہر یا افسر کو بحیثیت رکن کمیٹی میں شامل کر سکتی ہے۔

یہ انکوائری کمیٹی بنیادی طور پر اس امر کا تفصیلی تکنیکی جائزہ لے گی کہ آیا پمز ہسپتال میں سال 2022ء سے سی ٹی کورونری اینجیوگرام کرنے کی فنی صلاحیت موجود تھی یا نہیں، اور اگر تکنیکی صلاحیت موجود تھی تو اس کے لیے ضروری و مطلوبہ انسانی وسائل، اینجیوگرافی سافٹ ویئر، اور دیگر متعلقہ طبی سہولیات کس حد تک دستیاب تھیں۔ اس کے ساتھ ہی کمیٹی 2022ء سے لے کر اب تک پمز میں کیے گئے سی ٹی کورونری اینجیوگرام کے کل طریقہ کار، ان کے کیسز کی کل تعداد، ٹیسٹ کی تاریخوں اور اس کی نوعیت کا بھی گہرائی سے معائنہ کرے گی، جس کے لیے ہسپتال انتظامیہ کے مکمل آن ریکارڈ شواہد اور دستاویزی ثبوتوں کو بھی جانچا جائے گا۔

علاوہ ازیں، کمیٹی کا ایک اہم مقصد ہسپتال کے اندر کارڈیالوجی (امراضِ قلب) اور ریڈیالوجی کے شعبوں کے درمیان سی ٹی کورونری اینجیوگرافی کے ٹیسٹس کے لیے کسی باقاعدہ ریفرل میکنزم، دونوں شعبوں کے درمیان باہمی رابطے اور انتظامیہ کے مجموعی کردار کا جائزہ لینا بھی ہے۔ کمیٹی اس خاص پہلو کی بھی مکمل چھان بین کرے گی کہ آیا کارڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں آنے والے دل کے مریضوں کو معمول کے مطابق اور دیدہ و دانستہ طور پر سی ٹی کورونری اینجیوگرام کے لیے نجی لیبارٹریوں یا پرائیویٹ طبی مراکز میں ریفر کیا جاتا رہا، اور اگر ایسا کیا گیا تو کیا کسی خاص نجی ادارے کو فائدہ پہنچانے کے لیے ترجیح دی گئی؟ اس عمل کے نتیجے میں سرکاری ہسپتال سے کتنے مالیاتی کاروبار اور کروڑوں روپے کے مالي وسائل کا رخ نجی شعبے کی جانب موڑا گیا، اس کا تخمینہ بھی لگایا جائے گا۔

وزیرِ اعظم نے کمیٹی کو واضح ہدایت دی ہے کہ وہ پمز کے کارڈیالوجی اور ریڈیالوجی شعبوں کے درمیان کسی بھی قسم کے عدم تعاون، انتظامی بدنظمی، باہمی غلط فہمی یا مفادات کے ٹکراؤ کے باعث عوامی مفاد اور غریب مریضوں کو پہنچنے والے مالی و طبی نقصان کا بھی باریک بینی سے تعین کرے اور اس غفلت میں ملوث ذمہ دار افسران یا دفاتر کی نشان دہی کرے۔ نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈویژن اس انکوائری کے تمام مرحلوں میں کمیٹی کو درکار ہر قسم کی انتظامی و دستاویزی معاونت فراہم کرے گا تاکہ تمام حقائق شفاف انداز میں سامنے لائے جا سکیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔

پاکستان ریلوے کی آمدن میں تاریخی اضافہ: وفاقی وزیرِ ریلوے حنیف عباسی کا ملتان میں پریس کانفرنس اور ملتان کینٹ ریلوے اسٹیشن کے دورے کے موقع پر بڑا اعلان

کاشف عباسی , August 22,2026

ملتان (نیوز اینڈ نیوز) — 22 اگست 2026ء

وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان ریلوے میں جاری جامع اصلاحات اور سخت انتظامی اقدامات کے نتیجے میں ادارے کی مالی کارکردگی میں تاریخی اور نمایاں بہتری آئی ہے، جس کے باعث گزشتہ مالی سال کے دوران ریلوے کی مجموعی سالانہ آمدن 88 ارب روپے سے نمایاں طور پر بڑھ کر 115 ارب روپے کی حد تک پہنچ چکی ہے جبکہ مال گاڑیوں کی فریٹ آمدن میں بھی 28 فیصد کا زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ملتان میں پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے اور بعد ازاں ملتان کینٹ ریلوے اسٹیشن کے دورے کے موقع پر انہوں نے بتایا کہ جب ڈیڑھ سال قبل پاکستان ریلوے کی باقاعدہ ذمہ داری سنبھالی گئی تو ادارے میں متعدد انتظامی و مالی خامیاں موجود تھیں، جنہیں دور کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کیے گئے۔ انہی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ ریلوے کی آمدن میں 27 ارب روپے کے ریکارڈ اضافے کی سٹیٹ بینک اور اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ سے بھی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے۔

وفاقی وزیرِ ریلوے نے اراضی کی لیز اور ٹرینوں کی اپ گریڈیشن سے متعلق اہم پالیسیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم پاکستان کی خصوصی ہدایت پر ریلوے کی قیمتی اراضی اور دیگر جائیدادوں کو مکمل شفافیت اور اوپن آکشن کے ذریعے لیز پر دینے کی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ اس نئی پالیسی کے نتیجے میں ریلوے کی اراضی سے حاصل ہونے والی سالانہ آمدن 8 ارب روپے سے دوگنی ہو کر 16 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے اور آئندہ عرصے میں مجموعی آمدن میں مزید 50 سے 60 ارب روپے کے اضافے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ طویل عرصے سے لوکوموٹیوز اور کوچز کی دیکھ بھال میں عدم توجہی کے باعث مسائل پیدا ہوئے تھے لیکن اب مرحلہ وار بنیادوں پر ٹرینوں کے ایئر کنڈیشننگ سسٹم اور کوچز کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ عوام ایکسپریس، شالیمار ایکسپریس، ہزارہ ایکسپریس، بزنس ٹرین اور سکھر ایکسپریس کی کوچز کی بہتری کے بعد اب تیزگام، پاکستان ایکسپریس اور رحمان بابا ایکسپریس کی اپ گریڈیشن پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔

وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے ریلوے آپریشنز کو جدید بنانے کے سخت ڈیڈ لائنز کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 15 ستمبر کے بعد اپ گریڈ کی گئی کسی بھی ہائی پروفائل ٹرین کے ریک میں پرانی کوچز کو شامل کرنے کی بالکل اجازت نہیں ہوگی اور نہ ہی ایسی آمیزش قبول کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ریلوے میں بجلی اور ایئر کنڈیشننگ کے نظام کو ہموار بنانے کے لیے 30 ستمبر تک بیڑے میں 30 نويں پاور وینز شامل کر دی جائیں گی، جبکہ 31 دسمبر تک مزید 16 اور 23 مارچ تک باقی 40 پاور وینز کی خریداری و شمولیت کا عمل مکمل کر لیا جائے گا جس کے بعد ملک میں پاور وینز کی کمی کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ 31 دسمبر تک تمام ڈمی ویگنز کے خاتمے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور 15 ستمبر تک روزانہ کی بنیاد پر چلنے والی فریٹ ٹرینوں کی تعداد کو 9 سے بڑھا کر 12 اور پھر دسمبر تک 15 تک پہنچایا جائے گا۔

ملکی بنیادی ڈھانچے اور میگا ریل منصوبوں پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ 70 سالہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ریلوے ٹریکس پر موجود 177 خطرناک مقامات کو ختم کرنے کا ایک بڑا منصوبہ تیار کیا گیا ہے، جس کی بہتری کے لیے وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے 10 ارب روپے کے فنڈز مختص کیے ہیں اور ایک ارب روپے کی پہلی قسط جاری کر دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ روہڑی کراچی ریلوے ٹریک کی مکمل اپ گریڈیشن کے لیے ایشین ڈویلپمنٹ بینک (ADB) کے ساتھ 2.5 ارب ڈالر کا معاہدہ طے پا چکا ہے جس کے تحت ٹریک کی بہتری کے بعد کراچی اور روہڑی کے درمیان ٹرینوں کا سفری دورانیہ تقریباً 5 گھنٹے کم ہو جائے گا۔ اس اہم منصوبے کا سنگِ بنیاد جنوری کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں رکھا جائے گا جبکہ موجودہ حکومت کی مدت کے اختتام تک اس منصوبے کا 50 سے 60 فیصد کام مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ اس کے علاوہ تھرکول کو ریلوے نیٹ ورک سے منسلک کرنے کے لیے 105 کلومیٹر طویل نیا ٹریک بچھانے کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے، جس کی مکمل کے بعد مقامی کوئلے کی ترسیل سے پاکستان کو سالانہ 2 ارب ڈالر کے مبادلہ کی بچت ہوگی۔

پریس کانفرنس کے بعد وفاقی وزیرِ ریلوے نے ملتان کینٹ ریلوے اسٹیشن کا تفصیلی دورہ کیا جہاں انہوں نے پلیٹ فارمز، پولیس ہیلپ لائن ڈیسک اور مسافر سہولت مراکز کا معائنہ کیا اور شہریوں سے راست گفتگو کر کے سہولیات سے متعلق ان کے خدشات اور آراء معلوم کیں۔ انہوں نے ملتان کینٹ ریلوے اسٹیشن پر جدید کنٹرول روم کا باقاعدہ افتتاح کیا اور ریلوے آپریشنز کی نگرانی کے لیے قائم ڈیجیٹل ڈیش بورڈز کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور، راولپنڈی اور ٹیکسلا کے تاریخی ریلوے سائٹس کو محکمہ آثارِ قدیمہ کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ لاہور میں شاہدرہ سے رائیونڈ تک 41 ریلوے پارکس بنائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ گارڈز اور ڈرائیورز کے رننگ رومز کی بہتری اور ملازمین کی رہائشی کالونیوں کی چھتوں و سیوریج کا کام ترجیحی بنیادوں پر جاری ہے تاکہ عملے کو بھی بہترین ماحول فراہم کیا جا سکے۔

جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے قائم مقام چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کا حلف اٹھا لیا

منصور احمد, August 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اگست 2026ء

جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے قائم مقام چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

شعبہ تعلقاتِ عامہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کے بیرونِ ملک دورے کے باعث جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے قائم مقام چیف جسٹس کی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔ وفاقی آئینی عدالت پاکستان میں منعقدہ ایک پروقار تقریبِ حلف برداری کے دوران جسٹس عامر فاروق نے ان سے قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لیا۔ تقریب میں وفاقی آئینی عدالت کے معزز ججز، رجسٹرار، وزارتِ قانون، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار کونسل کے نمائندگان اور عہدیداران نے شرکت کی۔

اعلامیے کے مطابق اس تقرری کا بنیادی مقصد عدالتی و انتظامی امور میں تسلسل برقرار رکھنا اور آئینی انصاف کی بلا تعطل و مؤثر فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ عدالت کے ترجمان نے اعادہ کیا کہ یہ انتظام ادارہ جاتی تسلسل اور قانون کی حکمرانی کا مظہر ہے اور وفاقی آئینی عدالت آئین کی بالادستی کے لیے اپنی ذمہ داریاں بدستور ادا کرتی رہے گی۔

پنجاب میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 1305 ٹریفک حادثات، 16 افراد جاں بحق اور 1500 سے زائد زخمی

کاشف عباسی , August 21,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اگست 2026ء

پنجاب بھر میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران پیش آنے والے 1305 ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 16 افراد جاں بحق جبکہ 1514 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

ایمرجنسی سروسز ڈیپارٹمنٹ (ریسکیو 1122) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ریسکیو ٹیموں نے صوبے بھر میں 1305 حادثات پر بروقت ریسپانس کیا۔ حادثات میں شدید زخمی ہونے والے 690 افراد کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے مختلف ضلعی و تحصیل ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا، جبکہ معمولی زخمیوں کو موقع پر ہی فرسٹ ایڈ فراہم کی گئی۔

اعداد و شمار کے مطابق صوبائی دارالحکومت لاہور میں سب سے زیادہ 231 حادثات پیش آئے جن میں 282 افراد متاثر ہوئے اور لاہور فہرست میں پہلے نمبر پر رہا۔ ملتان 83 حادثات اور 89 متاثرین کے ساتھ دوسرے، جبکہ فیصل آباد 74 حادثات اور 84 متاثرین کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔

پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو 30 ارب ڈالر تک پہنچانے کے لیے حکومتِ پاکستان اور گوگل کے درمیان تاریخی معاہدہ طے پا گیا

منصور احمد, August 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اگست 2026ء

پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کرنے، ڈیجیٹل مہارتوں کو فروغ دینے اور مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھانے کے لیے حکومتِ پاکستان اور عالمی ٹیکنالوجی ادارے گوگل کے درمیان ایک اہم مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہو گئے ہیں۔ اس تعاون کا بنیادی مقصد 2030ء تک پاکستان کی آئی ٹی برآمدات اور ڈیجیٹل معیشت کو 30 ارب ڈالر کے حجم تک پہنچانا ہے۔

وزیرِ اعظم آفس میں منعقدہ اس پروقار تقریب کی صدارت وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کی، جبکہ وفاقی وزیرِ آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، اور گوگل کی اعلیٰ قیادت کے وفد نے بھی شرکت کی۔ معاہدے پر سیکرٹری آئی ٹی ضرار ہاشم خان اور گوگل سائوتھ و سائوتھ ایسٹ ایشیا پبلک پالیسی کے سربراہ ڈیوڈ ویلر نے دستخط کیے۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی سے نوجوانوں کو بااختیار بنانا حکومت کی ترجیح ہے اور نوجوان نسل ملک کی تقدیر بدلنے میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے۔

معاہدے کے تحت گوگل 2026ء میں پاکستانی نوجوانوں کو 150,000 گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس فراہم کرے گا تاکہ وہ جدید ترین تکنیکی مہارتیں حاصل کر سکیں۔ اس کے علاوہ طلبا کے لیے گوگل پلس اور جیمینائی نوٹ بک تک ایک سال کی مفت رسائی کے امکانات پر کام کیا جائے گا۔ اسلام آباد میں ایک خصوصی “اے آئی سینٹر آف ایکسی لینس” بھی قائم کیا جائے گا، جبکہ کی اصلاحات، زراعت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، گیمنگ اسٹوڈیوز اور چھوٹے کاروباروں کو عالمی منڈی سے جوڑنے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔