وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بہبود اور ان کے مسائل کے فوری حل کے لیے جاری تمام تزویراتی منصوبوں اور اقدامات میں مزید تیزی لانے کی سخت ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی قوم کا انتہائی قیمتی اثاثہ ہیں جو دنیا بھر میں اپنی شبانہ روز محنت کی کمائی پاکستان بھیج کر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور معیشت کی مضبوطی میں اپنا مقتدر حصہ ڈالتے ہیں۔ بدھ کے روز وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے چیئرمین بورڈ آف گورنرز سید قمر رضا اور منیجنگ ڈائریکٹر او پی ایف افضال بھٹی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، جنہوں نے وزیراعظم ہاؤس میں ان سے ایک اعلیٰ سطحی تزویراتی ملاقات کی۔ اس مقتدر ملاقات کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو درپیش مختلف مسائل کے مستقل حل اور ان کی سہولت کے لیے فاؤنڈیشن کی جانب سے اٹھائے گئے حالیہ اقدامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
اس موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سماجی و معاشی بہبود اور ان کو ہر ممکنہ ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے او پی ایف کے مستقبل کے لائحہ عمل پر ایک تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ وزیراعظم نے اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے اب تک کے مقتدر اقدامات اور کارکردگی پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا اور اعلیٰ حکام کو ہدایت کی کہ تارکینِ وطن کے حقوق کے تحفظ اور سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنانے کے لیے ایک جامع اور فول پروف لائحہ عمل مرتب کر کے جلد از جلد پیش کیا جائے تاکہ اس پر فوری عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ ملاقات کے دوران چیئرمین بورڈ آف گورنرز سید قمر رضا اور ایم ڈی او پی ایف افضال بھٹی نے عالمی امن، علاقائی استحکام اور اوورسیز پاکستانیوں کے حقوق کے مقتدر تحفظ کے لیے وفاقی حکومت اور وزیراعظم شہباز شریف کی انتھک تزویراتی کاوشوں کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔
داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ نے تعمیراتی میدان میں ایک اور مقتدر اور اہم ترین سنگِ میل عبور کر لیا ہے، جس کے تحت پراجیکٹ پر فل سکیل رولر کمپیکٹڈ کنکریٹ (آر سی سی) ٹرائل کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ فل سکیل ٹرائل پراجیکٹ کے مین ڈیم پر آر سی سی ورکس کا باقاعدہ کام شروع کرنے سے پہلے ایک لازمی اور تزویراتی مرحلہ ہے۔ اس وقت انجینئرز اور تکنیکی ماہرین پر مشتمل مقتدر ٹیمیں مین ڈیم سائٹ کے بالکل قریب واقع مخصوص ٹرائل سیکشن میں آر سی سی بچھانے کے اس فل سکیل ٹرائل میں مصروف ہیں۔ اس اہم ترین مشق کا بنیادی مقصد تعمیراتی طریقہ کار کی گہرائی سے جانچ اور توثیق کرنا، ڈیم کی تعمیر کے یکساں اور اعلیٰ ترین معیار کو یقینی بنانا، لاجسٹک اور آپریشنل سسٹم کا تفصیلی جائزہ لینا، ممکنہ تکنیکی چیلنجز کی پیشگی نشاندہی کرنا اور پراجیکٹ پر موجود افرادی قوت کو جدید عملی تربیت فراہم کرنا ہے۔
مقتدر انجینئرز کے مطابق، ٹیسٹنگ سمیت یہ فل سکیل ٹرائلز مسلسل چار ماہ تک جاری رہیں گے، جس کے دوران کنٹریکٹر، کنسلٹنٹس اور واپڈا کی ماہر ٹیمیں ٹرائل کے تمام باریک تکنیکی پہلوؤں کا تفصیلی سائنسی تجزیہ کریں گی۔ اس ٹرائل کی کامیاب تکمیل کے بعد مین ڈیم پر آر سی سی ورکس کا باقاعدہ آغاز رواں سال کے آخر میں شیڈول ہے، تاہم مین ڈیم پر آر سی سی ورکس کا حتمی آغاز گنی ایریا سے درکار اہم تعمیراتی میٹریل پوزولان کی بروقت دستیابی پر منحصر ہے، کیونکہ گزشتہ دس سال پر محیط طویل کوششوں کے باوجود گنی ایریا کی قانونی تحویل اب تک واپڈا کو حاصل نہیں ہو پائی ہے۔ اس فل سکیل آر سی سی ٹرائل کے ساتھ ساتھ داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے تئیس مختلف ورک فرنٹس پر بھی تعمیراتی سرگرمیاں تیز رفتاری سے جاری ہیں، جن مقتدر ورک فرنٹس میں مین ڈیم کی بنیاد، زیرِ زمین پاور ہاؤس اور زیرِ زمین ٹرانسفارمر ہال کی تعمیر قابلِ ذکر ہے، جبکہ آر سی سی کی بڑے پیمانے پر تیاری کے لیے درکار کرشنگ اور بیچنگ پلانٹس کو بھی مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔
یہ امر انتہائی قابلِ ذکر ہے کہ بجلی کی سالانہ پیداوار کے لحاظ سے داسو پاکستان کا سب سے بڑا پن بجلی منصوبہ ہے، جو ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے نیشنل گرڈ کو ہر سال اکیس ارب یونٹ بجلی فراہم کرنے کی مقتدر صلاحیت رکھتا ہے۔ پراجیکٹ کی کل پیداواری صلاحیت چار ہزار تین سو بیس میگاواٹ ہے اور اسے دو تزویراتی مراحل میں تقسیم کر کے مکمل کیا جا رہا ہے، جہاں ہر مرحلے کی انفرادی پیداواری صلاحیت دو ہزار ایک سو ساٹھ میگاواٹ ہے۔ واپڈا اس وقت پراجیکٹ کے پہلے مرحلے پر انتہائی سرگرمی سے کام کر رہا ہے، جس کی کامیاب تکمیل کے بعد قومی گرڈ کو سالانہ بارہ ارب یونٹ صاف، ماحول دوست اور انتہائی کم لاگت پن بجلی فراہم کی جائے گی، جو ملک میں جاری توانائِی کے بحران پر قابو پانے کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگی۔
اقوامِ متحدہ/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء
پاکستان نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے امدادی و تعمیرِ نو کے ادارے (یو این آر ڈبلیو اے) کے تزویراتی مینڈیٹ کے تحفظ اور اسے مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس مقتدر ادارے کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنے کے لیے خاطر خواہ، مستقل اور قابلِ پیش گوئی مالی وسائل فراہم کیے جائیں۔ پاکستان نے یو این آر ڈبلیو اے کو نشانہ بنانے والی یکطرفہ اسرائیلی قانون سازی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کے سراسر منافی قرار دیا اور اس کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔ پاکستان نے یو این آر ڈبلیو اے کے دفاتر پر اسرائیلی چھاپوں اور ان پر زبردستی قبضے کے اقدامات کی بھی سخت مذمت کرتے ہوئے ادارے کے مینڈیٹ اور اس کی عملی خودمختاری کو کمزور کرنے کی ہر مذموم کوشش کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں یو این آر ڈبلیو اے کی تزویراتی معاونت کے لیے منعقدہ مقتدر پلجنگ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے بین الاقوامی قانون کے تحت یو این آر ڈبلیو اے کو حاصل تمام مراعات اور استثنیٰ کا مکمل احترام یقینی بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے گزشتہ سات دہائیوں کے دوران یو این آر ڈبلیو اے کی مقتدر خدمات کو شاندار خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ لاکھوں معصوم فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے ایک ناگزیر سہارا ہے، جو انتہائی دشوار اور جنگی حالات میں انہیں تعلیم، صحت، امداد، تحفظ اور پناہ جیسی بنیادی خدمات فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ یو این آر ڈبلیو اے محض ایک انسانی امدادی ادارہ نہیں بلکہ فلسطینی پناہ گزینوں کے حوالے سے منصفانہ اور پائیدار سیاسی حل تک بین الاقوامی برادری کی اجتماعی ذمہ داری کا عملی مظہر ہے۔
سفیر عثمان جدون نے اپنے تزویراتی خطاب میں اس بات پر گہرا زور دیا کہ جانیں بچانے والی امدادی خدمات انجام دینے والے انسانی ہمدردی کے کارکنوں کو کبھی بھی تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے موجودہ تنازع کے آغاز سے اب تک اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے والے تین سو بانوے یو این آر ڈبلیو اے اہلکاروں کی ہلاکتوں کا عالمی سطح پر احتساب کرنے کا مقتدر مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یو این آر ڈبلیو اے کے مینڈیٹ کو فلسطینی پناہ گزینوں کے حتمی سیاسی تصفیے کے مسئلے سے کسی صورت الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق مسئلے کا حل ادارے کو ختم کرنا نہیں بلکہ غاصب اسرائیلی قبضے کا فوری خاتمہ، بین الاقوامی قانون اور متعلقہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کو ممکن بنانا، اور انیس سو سڑسٹھ سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر دو ریاستی حل کو عملی شکل دینا ہے، جس میں القدس الشریف ایک آزاد اور خودمختار ریاستِ فلسطین کا مستقل دارالحکومت ہو۔
سفیر عثمان جدون نے عالمی برادری کو مقتدر حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ یو این آر ڈبلیو اے اس وقت تقریباً بائیس کروڑ امریکی ڈالر کے سنگین بجٹ خسارے کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث لاکھوں ضرورت مند فلسطینی پناہ گزینوں کو بنیادی خدمات کی فراہمی شدید خطرے سے دوچار ہو چکی ہے۔ انہوں نے یو این آر ڈبلیو اے کے عملے کی پیشہ ورانہ صلاحیت، غیر متزلزل عزم اور انتھک خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارے کے لیے مستقل، پائیدار اور بڑھتی ہوئی مالی معاونت محض ایک ضرورت نہیں بلکہ بین الاقوامی برادری کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری ہے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر عثمان جدون نے پاکستان کی جانب سے ایک بڑے تزویراتی اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان رواں سال یو این آر ڈبلیو اے کے لیے اپنی مالی معاونت میں مقتدر اضافہ کرے گا اور انہوں نے تمام رکن ممالک پر بھی زور دیا کہ وہ اپنی موجودہ مالی معاونت کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اسے مزید بڑھائیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین تزویراتی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پیش آنے والے کسی بھی افسوسناک واقعے کو سوشل میڈیا پر حقائق کے برعکس پیش کرنا نہ صرف معصوم عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے بلکہ اس سے صوبے کے بارے میں ایک منفی تاثر بھی جنم لیتا ہے جس کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ منگل کے روز وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی خصوصی طور پر کراچی پہنچے اور دشت کے علاقے میں افسوسناک حادثے کا شکار ہو کر جاں بحق ہونے والے تاجر مرحوم علی مرتضیٰ کی رہائش گاہ گئے، جہاں انہوں نے سوگوار اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا، مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی کی اور پسماندگان کو صبرِ جمیل کی تلقین کی۔
اس مقتدر موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے اور اس حوالے سے کسی بھی سطح پر کوئی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے تزویراتی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد عناصر اب اپنی آخری سانسیں لے رہے ہیں اور ریاست ان کے ناپاک عزائم کے خلاف پوری قوت اور عزم کے ساتھ برسرپیکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن جب سامنے ہو تو اس کا مقابلہ کرنا آسان ہوتا ہے تاہم گرے زونز میں کارروائی کرنا ہمیشہ ایک مشکل کام ہوتا ہے، لیکن ہماری سیکیورٹی فورسز اور ریاست ہر قسم کے چیلنج سے نمٹنے کی بھرپور اور کامل صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ دشت میں پیش آنے والے انفرادی واقعے کو سوشل میڈیا پر توڑ مروڑ کر اور حقائق کے برعکس پیش کیا جا رہا ہے، ایسے گمراہ کن بیانیے کو روکنا اور سچ کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے واضح کیا کہ صوبے کی تمام بڑی شاہراہوں پر روزانہ ہزاروں کلومیٹر کا سفر کرنے والے لاکھوں شہری مکمل محفوظ انداز میں اپنی منزلوں تک پہنچتے ہیں، لہٰذا ایک انفرادی واقعے کو بنیاد بنا کر پورے صوبے کی امن و امان کی صورتحال کو خراب دکھانا سراسر ناانصافی ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے مرحوم علی مرتضیٰ کے غمزدہ اہل خانہ کو یقین دلایا کہ بلوچستان حکومت اس مشکل گھڑی میں انہیں کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے ایک بڑے ہمدردانہ اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم تاجر کی معصوم بچیوں کی مکمل کفالت اور ان کی اعلیٰ تعلیم و تربیت کی تمام تر مالی ذمہ داری بلوچستان حکومت اٹھائے گی تاکہ متاثرہ خاندان کو معاشی و سماجی طور پر ایک مضبوط سہارا فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ حکومت امن و امان کے مستقل قیام اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے اپنی مقتدر کوششیں مزید مؤثر انداز میں جاری رکھے گی۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے منگل کے روز وفاقی دارالحکومت میں “سینٹر آف ایکسی لینس فار آٹزم” کے ایڈوائزری بورڈ کے ایک اعلیٰ سطحی اور مقتدر اجلاس کی صدارت کی ہے، جس میں ادارے کی اب تک کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر سے متاثرہ معصوم بچوں کے لیے جامع تعلیم، ابتدائی طبی و نفسیاتی مداخلت اور دیگر معاون خدمات کو مزید مؤثر و فعال بنانے کے تزویراتی اقدامات پر غور کیا گیا۔ دفترِ خارجہ سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، اس اہم بیٹھک کے موقع پر حکومتِ پاکستان کے اس پختہ عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ملک میں آٹزم کے حامل تمام افراد کے لیے ایک جامع، ہمدردانہ اور مؤثر معاون ماحول فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ معاشرے کا مفید شہری بن سکیں۔
اجلاس کے دوران وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے مقتدر حکام نے کمیٹی کو اسلام آباد میں آٹزم سے متاثرہ بچوں کے لیے قائم کیے جانے والے اس جدید ترین سینٹر آف ایکسی لینس کے سلسلے میں اب تک کیے گئے عملی اقدامات اور تزویراتی تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر آٹزم کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ملک کے معروف ترین طبی و تعلیمی ماہرین کی قیمتی آراء اور تجاویز بھی طلب کی گئیں تاکہ سینٹر کے ڈھانچے کو بین الاقوامی معیارات کے مطابق استوار کیا جا سکے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے متعلقہ وفاقی اداروں کو سخت ہدایت جاری کی کہ ان خصوصی بچوں کی نازک ضروریات کے مطابق معیاری تعلیم، جدید تھراپی اور دیگر ضروری خدمات کی فراہمی کے لیے دنیا بھر میں رائج بہترین تزویراتی طریقہ کار کو اپنایا جائے اور حکومت کے اس مخلصانہ عزم پر تیز رفتاری سے عمل درآمد کرتے ہوئے اس اسٹیٹ آف دی آرٹ سینٹر آف ایکسی لینس کو جلد از جلد فعال کیا جائے۔ اس مقتدر اجلاس میں وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ، وفاقی سیکریٹریز برائے تعلیم و صحت اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ ترین حکام نے بھی شرکت کی۔
وزارتِ خزانہ نے ملکی معیشت کے حوالے سے مقتدر اور انتہائی مثبت اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے اختتام پر پاکستان کی معیشت نے گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین شرح نمو حاصل کرتے ہوئے تین اعشاریہ سات فیصد کی رفتار سے ترقی کی ہے، جبکہ ملکی معیشت کا مجموعی حجم بڑھ کر چار سو باون اعشاریہ ایک ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ جون 2026ء کی ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق، سال کے آغاز میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور عالمی مارکیٹ میں اجناس کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے باوجود حکومت نے بہترین تزویراتی حکمتِ عملی سے معاشی استحکام برقرار رکھا، جس کی بدولت زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں مجموعی طور پر شاندار ترقی کا رجحان دیکھنے میں آیا اور ملک کی اوسط مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں رہتے ہوئے مقررہ ہدف کے اندر برقرار رہی۔
رپورٹ کے مطابق جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران سخت مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں ریکارڈ اضافے اور صوبائی سرپلس کی بدولت مالیاتی خسارے میں واضح کمی آئی، جبکہ بنیادی مالیاتی سرپلس جی ڈی پی کے تین اعشاریہ پانچ فیصد تک پہنچ گیا۔ وزارتِ خزانہ نے بتایا کہ بیرونی شعبے کی کارکردگی بھی انتہائی مستحکم رہی جس میں سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر، آئی ٹی برآمدات، مستحکم شرح مبادلہ اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری نے کلیدی کردار ادا کیا، جس کے باعث جولائی تا مئی مالی سال 2025-26 کے دوران ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ دو سو پچپن ملین ڈالر سرپلس میں رہا۔ رپورٹ کے مطابق حکومت کے عالمی مالیاتی ادارے کے پروگراموں پر کامیاب عمل درآمد، اور عالمی ریٹنگ ایجنسیوں فچ اور موڈیز کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں مقتدر بہتری کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بے پناہ اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں پاکستان نے چار سال بعد کامیاب یورو بانڈ جاری کیا، پانڈا بانڈ متعارف کرایا جبکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا کے ایس ای-100 انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو کر ایشیا کی تیز ترین ترقی کرتی ہوئی مارکیٹوں میں شامل ہو گیا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ زرعی شعبے نے سیلاب کے شدید نقصانات کے باوجود مالی سال 2025-26 میں دو اعشاریہ نو فیصد ترقی کی جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے اس شعبے کی شرح نمو کا تزویراتی ہدف تین اعشاریہ چھ فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ دوسری جانب بڑے پیمانے کی صنعت نے جولائی تا اپریل کے دوران چھ اعشاریہ چار فیصد کی شاندار ترقی ریکارڈ کی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں اس شعبے میں ایک اعشاریہ پانچ فیصد کی منفی کمی ہوئی تھی۔ مہنگائی کے حوالے سے بتایا گیا کہ مئی 2026ء میں مہنگائی کی سالانہ شرح گیارہ اعشاریہ سات فیصد رہی جبکہ جولائی تا مئی کے دوران اوسط مہنگائی محض چھ اعشاریہ سات فیصد ریکارڈ کی گئی۔ وفاقی محصولات جولائی تا اپریل کے دوران پانچ اعشاریہ اٹھ فیصد اضافے کے ساتھ آٹھ ہزار چھ سو ایک ارب روپے تک پہنچ گئے جبکہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں جولائی تا مئی کے دوران نو اعشاریہ سات فیصد اضافے سے گیارہ ہزار دو سو اٹھائیس اعشاریہ اٹھ ارب روپے رہیں۔ اسی عرصے میں مجموعی حکومتی اخراجات میں نو اعشاریہ نو فیصد کی نمایاں کمی آئی جس کی بڑی وجہ سود کی ادائیگیوں میں اکیس اعشاریہ نو فیصد کی ریکارڈ کمی تھی۔
وزارتِ خزانہ کے مقتدر تجزیے کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں جاری امن کوششوں کے باعث جغرافیائی کشیدگی میں کمی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نرمی سے درآمدی مہنگائی اور تیل کے درآمدی بل میں واضح کمی آئے گی، جبکہ جون 2026ء کے دوران مہنگائی گیارہ سے بارہ فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ وزارتِ خزانہ نے پرامید انداز میں واضح کیا ہے کہ پاکستان کی معیشت آئندہ بھی ترقی کی یہ شاندار رفتار برقرار رکھنے کی بھرپور تزویراتی صلاحیت رکھتی ہے؛ بڑے پیمانے کی صنعت، زرعی شعبے کی جاندار کارکردگی، مضبوط بیرونی کھاتوں، سخت مالیاتی نظم و ضبط اور بہتر معاشی اشاریوں کے باعث ملک کا معاشی استحکام مستقبل میں مزید مضبوط اور پائیدار ہوگا۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے جولائی کے مہینے کے لیے ایل پی جی کی سرکاری قیمتوں میں اڑسٹھ روپے فی کلو گرام کی مقتدر کمی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے جس کے بعد نئی سرکاری قیمت دو سو اکیانوے روپے فی کلو مقرر کر دی گئی ہے، تاہم اس تزویراتی ریلیف کے برعکس ملک بھر اور خاص طور پر پنجاب میں کہیں بھی سرکاری قیمت پر ایل پی جی دستیاب نہیں ہے۔ مارکیٹ میں ایل پی جی مافیا اور دکانداروں نے قیمتوں میں خودساختہ اور بے تحاشہ اضافہ کر کے سرکاری نرخنامے کی دھجیاں اڑا دی ہیں، جس نے غریب اور متوسط طبقے کے گھریلو صارفین کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ گیس مافیا ضلعی انتظامیہ کی ناک کے نیچے شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف ہے اور پبلک کو منافع خوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
مارکیٹ ذرائع سے حاصل ہونے والی مقتدر معلومات کے مطابق، اس سرکاری قیمت کے برعکس صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت پنجاب کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں دکاندار ایل پی جی چار سو اسی روپے سے لے کر پانچ سو روپے فی کلو تک کی ہوشربا اور غیر قانونی قیمت پر فروخت کر رہے ہیں۔ مقتدر ذرائع کا کہنا ہے کہ گیس مافیا اور دکانداروں کو پوچھنے والا کوئی ادارہ موجود نہیں ہے، جس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ منافع خور اپنی مرضی سے روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں دس سے بیس روپے فی کلو تک کا خودساختہ اضافہ کر دیتے ہیں۔ گیس کی قیمتوں میں اس من مانے اور غیر قانونی اضافے کی وجہ سے گھریلو صارفین کو شدید ترین معاشی مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ مہنگائی کے اس دور میں اب غریب آدمی کے لیے گیس سلنڈر بھروانا پہنچ سے بالکل باہر ہوتا جا رہا ہے۔
اس مقتدر صورتحال پر شدید احتجاج کرتے ہوئے شہریوں اور گھریلو صارفین کا کہنا ہے کہ ایک طرف سوئی گیس کی بدترین لوڈ شیڈنگ نے جینا محال کر رکھا ہے اور دوسری طرف ایل پی جی مافیا نے اوپن مارکیٹ میں لوٹ مار مچا رکھی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اوگرا کے سرکاری نرخ صرف کاغذوں اور نوٹی فکیشن کی حد تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ مقتدر عوامی حلقوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور تمام اضلاع کی ضلعی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ان بے لگام منافع خوروں اور گیس مافیا کے خلاف فوری طور پر سخت ترین تزویراتی کریک ڈاؤن کیا جائے، دکانوں پر چھاپے مار کر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں اور اوگرا کی مقرر کردہ سرکاری قیمت پر ایل پی جی کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے افسوسناک حادثے کے نتیجے میں ہونے والے قیمتی جانی نقصان پر انتہائی گہرے دکھ، رنج اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ منگل کے روز وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس ناگہانی حادثے میں معصوم بچوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں اور لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کی ہے، جبکہ جاں بحق ہونے والے بچوں کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی مخلصانہ دعا کی ہے۔ وزیراعظم نے انتظامیہ کو سخت ہدایت جاری کی ہے کہ حادثے میں زخمی ہونے والے تمام بچوں اور افراد کی جلد صحت یابی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں اور انہیں ہسپتالوں میں ہر ممکن اور بہترین طبی امداد فوری طور پر فراہم کی جائے۔
چیئریٹر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے یو این ویمن کی ڈپٹی کنٹری نمائندہ فہمیدہ خان سے ایک اعلیٰ سطحی اور مقتدر ملاقات کی ہے، جس میں پاکستان کے اندر مستحق خواتین کو بااختیار بنانے اور سماجی تحفظ کے موجودہ اقدامات کو مزید سہل، شفاف اور تزویراتی طور پر مؤثر بنانے کے لیے باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ منگل کے روز جاری کردہ آفیشل اعلامیے کے مطابق، اس اہم بیٹھک کے دوران بینظیر ہنرمند پروگرام کے تحت بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والی خواتین کے لیے جدید ہنر مندی اور مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق تربیت کے مواقع فراہم کرنے پر بات چیت کی گئی، جبکہ بینظیر نشوونما پروگرام کے تحت ماں اور بچے کی صحت سے متعلق آگاہی کے فروغ کے لیے خصوصی خواتین بینیفشری کونسلز کے قیام، کاروباری مواقع کی فراہمی کے ذریعے خواتین کی معاشی خودمختاری کو فروغ دینے اور اس کے ساتھ ساتھ معاشرے کے پسماندہ طبقات بشمول خواجہ سراؤں اور غیر شادی شدہ مستحق خواتین کے لیے معاون اقدامات اٹھانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے حالیہ ورلڈ بینک کی تزویراتی تحقیق کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے وفد کو بتایا کہ بی آئی ایس پی کے ذریعے فراہم کی جانے والی مالی معاونت نہ صرف غریب خاندانوں کو سہارا دے رہی ہے بلکہ یہ مقامی معیشت کو مقتدر سطح پر مضبوط بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ اس عالمی تحقیق کے مطابق، بی آئی ایس پی کے ذریعے مستحقین کو منتقل کیے جانے والے ہر ایک روپے کے بدلے مقامی مارکیٹ اور معیشت میں تقریباً دو اعشاریہ چوتیس روپے کی حقیقی آمدن پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے سماجی تحفظ کے شعبے میں بین الاقوامی اداروں کے ساتھ باہمی اشتراک، تجربات کے تبادلے اور ایک دوسرے کے کامیاب ماڈلز سے سیکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مستحق خواتین تک مؤثر رسائی اور زیادہ مثبت نتائج حاصل کرنے کے لیے ڈیجیٹل اور روایتی آگاہی مہمات کو مزید مقتدر اور مضبوط بنانے کی شدید ضرورت ہے۔
سینیٹر روبینہ خالد نے ایک بڑے تزویراتی اقدام کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ بی آئی ایس پی اس وقت ایک کروڑ سے زائد مستحق خواتین کے لیے ڈیجیٹل سوشل پروٹیکشن والٹس کے جدید نظام کی جانب تیزی سے منتقل ہو رہا ہے، جو کہ ملک میں مالی شمولیت کے حوالے سے اپنی نوعیت کے سب سے بڑے تزویراتی اقدامات میں سے ایک ہے اور جس کا بنیادی مقصد خواتین کو محفوظ، مکمل شفاف اور انتہائی باوقار انداز میں مالی سہولیات اور وظائف تک براہِ راست رسائی فراہم کرنا ہے۔ یو این ویمن کی ڈپٹی کنٹری نمائندہ فہمیدہ خان نے خواتین کی معاشی بااختیاری کے لیے بی آئی ایس پی کے ان مقتدر اقدامات کو بھرپور انداز میں سراہا اور اس پروگرام کو ایک کامیاب اور مؤثر ماڈل قرار دیا جو پاکستان میں پسماندہ خواتین کی زندگیوں میں مثبت اور دیرپا تبدیلی لانے میں سماجی تحفظ کے حقیقی کردار کو واضح طور پر اجاگر کرتا ہے۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے مشترکہ وسائل کے فروغ، تکنیکی سطح پر باقاعدہ مشاورت کے تسلسل اور آئندہ کے تزویراتی لائحہ عمل کی تیاری کے لیے باہمی تعاون کو مزید مضبوط کرنے پر کامل اتفاق کیا۔
پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت، وفاقی وزراء، بین الاقوامی قانونی ماہرین اور عالمی پالیسی تجزیہ کاروں نے بھارت کی جانب سے تاریخی سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر معطل کرنے کے فیصلے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سخت خبردار کیا ہے کہ نئی دہلی کے یہ جارحانہ اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قانونی نظام کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں، بلکہ جنوبی ایشیا میں ایک ہولناک تزویراتی تصادم اور جنگ کے خطرات کو بھی ہوا دے رہے ہیں۔ منگل کے روز وفاقی دارالحکومت میں انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز کے زیرِ اہتمام وزارتِ اطلاعات و نشریات کے خصوصی اشتراک سے ’’سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ایک ذریعہ‘‘ کے عنوان سے ایک مقتدر بین الاقوامی سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں متفقہ طور پر واضح کیا گیا کہ 1960ء کا یہ معتبر معاہدہ ایک بین الاقوامی طور پر پابند تصفیہ ہے، جسے کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر معطل، منسوخ یا تبدیل کرنے کا قانونی اختیار نہیں رکھتا۔ سیمینار کے مختلف فیزز سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ عالمی موسمیاتی بحران کے اس نازک دور میں بھارت کی جانب سے معاہدے کے تحت لازمی آبی ڈیٹا کی فراہمی روکنا اور معائنہ جاتی سرگرمیوں کو التواء میں ڈالنا درحقیقت پانی کو بطور عسکری ہتھیار استعمال کرنے کی ایک مذموم اور خطرناک کوشش ہے، جو پاکستان کے چوبیس کروڑ سے زائد عوام کی زندگیوں، غذائی تحفظ اور روزگار کے لیے براہِ راست وجودی خطرہ ہے۔ ماہرین نے یاد دلایا کہ پاکستان کی اسی فیصد سے زائد قابلِ کاشت اراضی اور زرعی معیشت کا انحصار دریائے سندھ کے نظام پر ہے، اس لیے ڈیٹا کا تبادلہ اور معمول کے طریقہ کار انسانی سلامتی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہیں۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اپنے مقتدر خطاب میں کہا کہ بھارت نے اس تاریخی معاہدے کو معطل کر کے خطے کو ایک بڑے تنازعے کی بھٹی میں جھونک دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد پار دریا ممالک کو دور کرنے کے بجائے قریب لانے کا ذریعہ ہوتے ہیں، اور پاکستان نے اسی جذبے کے تحت ماضی میں نمایاں رعایتیں دے کر یہ معاہدہ برقرار رکھا تاکہ طویل المدتی پیش بینی اور استحکام میسر آ سکے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کے اس غیر ذمہ دارانہ رویے کا سختی سے نوٹس لے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ پاکستان کی قدیم تہذیب اور شناخت کی بنیاد ہے اور پاکستانیوں کو اس کے پانیوں پر ناقابلِ تنسیخ حق حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا موقف بالکل واضح ہے کہ اس معاہدے میں کسی قسم کی یکطرفہ ترمیم ممکن نہیں؛ یہ باہمی رضامندی سے وجود میں آیا تھا اور اس میں تبدیلی کے لیے بھی باہمی رضامندی ہی درکار ہے۔ اگر پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش کی گئی تو ہماری قومی قیادت اور مسلح افواج عوام کے حق کے تحفظ کے لیے مؤثر اور دندان شکن جواب دینے کا کامل عزم رکھتی ہیں۔ یکطرفہ معطلی کی ناکام کوششوں سے بھارت کو خود عالمی فورمز پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بھارت کے ان غیر قانونی اقدامات کو پاکستان کے خلاف باقاعدہ جنگی اقدام تصور کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے تزویراتی موازنہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کی بندش کے ساتھ دنیا میں امن کا تصور ممکن نہیں، تو کوئی یہ کیسے توقع کر سکتا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے باوجود خطے میں امن اور استحکام قائم رہے گا؛ بھارت نے ہماری شہ رگ پر وار کر کے پانی کو ہتھیار بنایا ہے، جو کہ ایک وجودی حملہ ہے؛ پاکستان جنگ نہیں چاہتا، لیکن ہماری دفاعی صلاحیت کا مقصد ہی ایسے وجودی خطرات کو کچلنا ہے۔ انہوں نے پانی سمیت عالمی مشترکہ وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف ایک نئے بین الاقوامی کنونشن کا بھی پرزور مطالبہ کیا۔ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے اس بحران کو انصاف کا بحران قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت واضح کر چکی ہے کہ بھارت پاکستان کے مغربی دریاؤں پر یکطرفہ آبی ذخائر نہیں بنا سکتا، لیکن نئی دہلی عدالت کے فیصلوں کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے؛ اگر یہ مضبوط ترین معاہدہ، جو تین جنگوں میں بھی قائم رہا، سبوتاژ ہو گیا تو دنیا کا کوئی بھی آبی معاہدہ محفوظ نہیں رہے گا۔
پاکستان کے انڈس واٹرز کمشنر سید مہر علی شاہ نے کہا کہ معاہدے کا آرٹیکل نو تنازعات کے حل کا واضح طریقہ کار دیتا ہے اور بھارت کا ڈیٹا روکنا خود اس کے اپنے دستخطوں کی توہین ہے۔ سابق وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان نے بھارت کی عسکری چالوں کو بے نقاب کرتے ہوئے بگلیہار اور سلال ڈیموں کے گیٹ بند کرنے اور مغربی دریاؤں پر آبی منصوبوں کی تیز رفتار غیر قانونی تعمیر کی تفصیلات پیش کیں۔ سابق نگراں وفاقی وزیر قانون احمر بلال صوفی نے بین الاقوامی قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سرحدی دریا عالمی اثاثے ہیں، بھارت ان پر ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور اس کی جانب سے معطلی کا اعلان خود اس کے جرم کا اعتراف ہے، جس پر پاکستان کو تزویراتی جواب کا پورا قانونی حق حاصل ہے۔ سابق وزیر مملکت خارجہ حنا ربانی کھر نے آرٹیکل بارہ کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ معاہدے میں کسی بھی تبدیلی کا طریقہ کار طے ہے، بھارت عالمی غیر یقینی صورتحال کا فائدہ اٹھا کر مکر رہا ہے، لہٰذا پاکستان کو عالمی سفارت کاری کے تمام قانونی ذرائع بروئے کار لانے چاہئیں۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے سابق صدر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عامر ریاض نے نئی دہلی کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے ایک پنج نکاتی حکمتِ عملی پیش کی، جس میں قانونی و سفارتی طریقہ کار، تکنیکی و آپریشنل تیاری، ڈومیسٹک واٹر مینجمنٹ سسٹم کی پائیداری، اپنی ریڈ لائنز کی واضح تعریف اور مربوط ڈیٹرنس یعنی مضبوط دفاعی ردِعمل کو بروئے کار لانا شامل ہے؛ کیونکہ بھارت دریائے سندھ پر دو، جہلم پر پانچ بشمول کشن گنگا اور چناب پر متعدد ڈیمز بنا کر پاکستان کو تنہا اور کمزور کرنے کی مسلسل کوشش کر رہا ہے۔
سیمینار میں عالمی طاقتوں کے ماہرین نے بھی بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کے موقف کی کھل کر تائید کی۔ بیجنگ میں سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن کے نائب صدر پروفیسر وکٹر گائو نے بھارتی معطلی کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا اور تجویز دی کہ چین کو اس معاہدے کا حصہ بنا کر اسے سہ فریقی فریم ورک دیا جائے۔ انہوں نے بھارت کو یاد دلایا کہ وہ خود چین کے لیے زیریں کنارے کا ملک ہے؛ اگر بھارت نے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے پانی روکا، تو چین بالائی کنارے کا ملک ہونے کے ناطے بھارتی عزائم کا راستہ روک سکتا ہے۔ انہوں نے خطے میں امن کے لیے پاکستانی وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی کوششوں کو سراہتے ہوئے انہیں نوبل امن انعام کا مضبوط امیدوار قرار دیا۔ روسی ماہر ڈاکٹر روکسولانا زیگون نے بالائی علاقوں میں بھارتی ڈیموں کی تعمیر کو خطے کے عدم استحکام کی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے، اشتعال انگیز بیانات کے باوجود پاکستانی پالیسی سازوں کے مقتدر اور ذمہ دارانہ رویے کی تعریف کی۔ امریکہ سے تعلق رکھنے والی مصنفہ اور عالمی پالیسی ماہر لاری واٹکنز نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ پاکستان کے خطوط کا جواب نہ دینا اور ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا روکنا بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور ویانا کنونشن کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اپنے اختتامی کلمات میں آئی آر ایس کے صدر جوہر سلیم نے واضح کیا کہ پائیدار امن صرف بین الاقوامی قوانین کے احترام اور اداروں کی قدر سے ہی ممکن ہے؛ دیرپا آبی تحفظ کا انحصار شفافیت اور پیش بینی پر ہے، اور آگے بڑھنے کا واحد مقتدر راستہ یہی ہے کہ سندھ طاس معاہدے پر اس کے متن اور روح دونوں کے مطابق مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
استنبول/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء
وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے ترکیہ کے تاریخی شہر استنبول میں منعقدہ “ترکیہ ایجوکیشن ٹیکنالوجیز سمٹ اینڈ فیئر ( 2026)” کے مقتدر موقع پر ترکیہ کے وزیرِ قومی تعلیم یوسف تکین سے ایک اعلیٰ سطحی اور تزویراتی ملاقات کی، جس میں دونوں برادر ممالک کے مابین تعلیم، ہنرمندی، پیشہ ورانہ تربیت، تعلیمی ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کی استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں باہمی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر کامل اتفاق کیا گیا۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلیمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم، زبانوں کی تدریس، ڈیجیٹل لرننگ، ثقافتی روابط اور دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان فعال اشتراکِ عمل کو فروغ دینے کے تمام تزویراتی پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
اس مقتدر ملاقات کے دوران ایک جامع تعلیمی تعاون کے معاہدے پر دستخط کرنے، تیز رفتار پیش رفت کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس قائم کرنے اور دونوں ممالک کے اہم تعلیمی اداروں کے مابین مؤثر و براہِ راست روابط کو فروغ دینے کا تزویراتی فیصلہ کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے جدید دنیا کے تقاضوں کے مطابق تعلیم میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار، خصوصاً زبانوں کی تدریس کے شعبے میں تعاون کے وسیع امکانات پر گہری گفتگو کی۔ اس ضمن میں پاکستان میں ترک زبان اور ترکیہ میں اردو زبان کی ترویج و تدریس کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ترین ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی مشترکہ تیاری اور منصوبوں پر فوری کام شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا تاکہ عوامی روابط اور ثقافتی ہم آہنگی کو مزید مقتدر بنایا جا سکے۔
وزیرِ مملکت وجیہہ قمر نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان ترکیہ کے ساتھ اپنے تاریخی، برادرانہ اور دیرینہ تعلقات کو انتہائی مقتدر اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے مابین پہلے سے موجود معاہدوں پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے اور جدید دور کے مطابق نئے تزویراتی فریم ورک تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، ہنرمندی، ڈیجیٹل لرننگ، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت اور تعلیمی جدت کے شعبوں میں یہ مشترکہ اقدامات دونوں ممالک کے نوجوانوں کے روشن مستقبل اور پائیدار ترقی میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
ترکیہ کے وزیرِ قومی تعلیم یوسف تکین نے پاکستان کے ساتھ تعلیمی تعاون کو غیر مشروط طور پر مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان گہرے تاریخی و تمدنی تعلقات کو مشترکہ تعلیمی منصوبوں، علمی روابط اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی اسٹریٹجک شراکت داری کے ذریعے مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔ اس مقتدر ملاقات میں پاکستان میں ترکیہ کے تعلیمی قونصلر، وزارتِ قومی تعلیم ترکیہ کے ڈائریکٹر جنرل برائے یورپی یونین و خارجہ امور سمیت دونوں ممالک کے اعلیٰ ترین حکام بھی موجود تھے۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مشترکہ تعلیمی اہداف کے حصول کے لیے قریبی و مسلسل رابطہ برقرار رکھا جائے گا اور طے شدہ تزویراتی اقدامات کو جلد از جلد عملی شکل دی جائے گی۔
چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے مون سون کے متوقع سیزن کے تناظر میں بروقت پیشگی انتباہات، مؤثر بین الادارتی رابطہ کاری اور فعال پیشگی منصوبہ بندی کی اہمیت پر مقتدر زور دیا ہے، جبکہ تمام وفاقی، صوبائی اور ضلعی اداروں نے مون سون کے دوران مشترکہ اقدامات اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت ریسپانس یقینی بنانے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔ منگل کے روز این ڈی ایم اے کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، این ڈی ایم اے ہیڈکوارٹرز میں قائم نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این سی او سی) میں ایک اعلیٰ سطحی “قومی مون سون کوآرڈینیشن کانفرنس” کا انعقاد کیا گیا، جس میں وفاقی وزارتوں، صوبائی و ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم ایز اور ڈی ڈی ایم ایز)، فلاحی تنظیموں اور دیگر متعلقہ اداروں کے مقتدر حکام نے شرکت کی۔
کانفرنس کے دوران مون سون سیزن کے دوران ملک کو درپیش ممکنہ خطرات بشمول گلیشئیر پگھلنے، طغیانی و سیلابی صورتحال، پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور شہری سیلاب ) جیسے تزویراتی چیلنجز پر تفصیلی غور کیا گیا۔ چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے تمام اداروں کو ہدایت کی کہ وہ جدید انتباہی نظام خطرات سے قبل از وقت آگاہی، ہمہ وقت نگرانی اور مستند معلومات پر مبنی فیصلہ سازی کو اپنا شعار بنائیں۔ اجلاس میں وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح پر فوری معلومات کے تبادلے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے امدادی وسائل کی بروقت فراہمی کا تزویراتی فریم ورک بھی طے پایا۔
شرکاء کو این ڈی ایم اے کے مربوط رابطہ کاری فریم ورک، فلڈ مانیٹرنگ اور ایمرجنسی رسپانس پلاننگ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر سیلاب سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے اضلاع، گلیشیائی جھیل پھٹنے کے خطرات سے دوچار حساس علاقوں، انخلاء کے تزویراتی منصوبوں، عوامی آگاہی مہموں اور لائف سیونگ آلات کی دستیابی کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ کانفرنس کے اختتام پر این ڈی ایم اے نے عام شہریوں سے مخلصانہ اپیل کی کہ وہ متوقع موسم اور خطرات کے حوالے سے سوشل میڈیا کی افواہوں کے بجائے صرف مستند سرکاری ذرائع سے حاصل کردہ معلومات پر بھروسہ کریں اور مقامی انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ (انڈس واٹرز ٹریٹی) کو غیر قانونی طور پر معطل کر کے نہ صرف بین الاقوامی قانونی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے بلکہ پورے خطے کو ایک ہولناک تنازعے کے خطرے سے بھی دوچار کر دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز وفاقی دارالحکومت میں انسٹیٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز (آئی آر ایس) کی جانب سے وزارتِ اطلاعات و نشریات کے خصوصی اشتراک سے منعقدہ بین الاقوامی سیمینار ’’سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ایک ذریعہ‘‘ کی اختتامی اور مقتدر نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ ٹرانس باؤنڈری دریا ممالک کے مابین فاصلے بڑھانے کے بجائے انہیں قریب لانے کا تزویراتی ذریعہ ہونے چاہئیں؛ پاکستان نے اسی مثبت جذبے کے تحت ماضی میں بڑی رعایتیں دے کر یہ معاہدہ کیا تھا تاکہ خطے میں طویل المدتی استحکام فراہم ہو سکے، تاہم بھارت کی جانب سے معاہدے کی معطلی اور مشترکہ آبی وسائل پر پاکستان کے ساتھ تعاون سے انکار انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ نئی دہلی کو پانی بطور ہتھیار استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہ دے۔
سیمینار کے مختلف سیشنز سے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی و سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وفاقی وزیرِ موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک اور سابق سینیئر وزراء نے بھی مقتدر خطاب کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے بھارت کے تزویراتی عزائم کو بے نقاب کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں مطالبہ کیا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی میں بھارت کے ہر غیر قانونی اقدام کو پاکستان کے خلاف “جنگی اقدام” (Act of War) تصور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کی بندش کے ساتھ دنیا میں امن کا تصور ممکن نہیں تو سندھ طاس کی معطلی پر خطے میں پائیدار امن کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ انہوں نے پانی سمیت عالمی مشترکہ وسائل کو عسکری و سیاسی مقاصد کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف ایک نئے بین الاقوامی کنونشن کا مطالبہ بھی کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ دریائے سندھ پر پاکستانیوں کا ناقابلِ تنسیخ حق ہے اور بھارت کی غیر قانونی کوششوں سے عالمی سطح پر خود اس کی سبکی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے اسے صرف پانی کا نہیں بلکہ “انصاف کا بحران” قرار دیا جس سے پاکستان میں موسمیاتی چیلنجز سنگین ہو رہے ہیں۔
سیمینار کے دوران سابق وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر نے بھارت کی جانب سے بگلیہار اور سلال ڈیموں کے گیٹ بند کرنے اور مغربی دریاؤں پر آبی منصوبوں کی تیز رفتار غیر قانونی تعمیر کی تفصیلات پیش کیں۔ سابق وزیر مملکت خارجہ حنا ربانی کھر نے واضح کیا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کا فائدہ اٹھا کر بھارت اس مقتدر پابندِ معاہدہ سے بچ نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ معروف قانون دان احمر بلال صوفی نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت بھارت پانی پر ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور اس کی جانب سے معطلی کا اعلان خود معاہدے کی خلاف ورزی کا کھلا اعتراف ہے جس پر پاکستان کو تزویراتی جواب کا پورا حق حاصل ہے۔ سابق صدر این ڈی یو لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض اور پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ نے مقتدر شواہد پیش کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت آرٹیکل IX کے تنازعات کے حل کے طریقہ کار کو ہوا میں اڑا کر ڈیٹا کی فراہمی معطل کر چکا ہے۔
بین الاقوامی ماہرین نے بھی اس موقع پر پاکستانی موقف کی بھرپور تائید کی۔ بیجنگ سے آئے سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن کے نائب صدر پروفیسر وکٹر گا نے سندھ طاس کی معطلی کو “انسانیت کے خلاف جرم” قرار دیتے ہوئے یاد دلایا کہ بھارت خود چین کے لیے زیریں کنارے کا ملک ہے؛ اگر بھارت نے پاکستان پر پانی روکنے کا تزویراتی دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تو چین بالائی کنارے کا ملک ہونے کے ناطے بھارتی عزائم کو مؤثر طریقے سے روک سکتا ہے۔ یونیورسٹی آف ورلڈ سولائزیشنز ماسکو کی ڈاکٹر روکسلانا زیگون نے بھارتی اشتعال انگیزی کے سامنے پاکستانی پالیسی سازوں کے مقتدر اور ذمہ دارانہ رویے کو سراہا۔ امریکی ماہر لاری واٹکنز نے بھی ڈیٹا روکنے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ آئی آر ایس کے صدر جوہر سلیم نے اپنے اختتامی کلمات میں واضح کیا کہ آگے بڑھنے کا واحد مقتدر راستہ سندھ طاس معاہدے پر اس کے متن اور روح کے مطابق مکمل عمل درآمد میں ہی مضمر ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بہبودِ آبادی کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی تزویراتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قومی وسائل اور آبادی کے مابین کامل توازن ہی ملک کی پائیدار ترقی اور معاشی بقا کی اصل ضمانت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث قومی وسائل پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے، جو پاکستان کی مجموعی ترقی اور استحکام کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ منگل کے روز وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وزیراعظم نے زور دیا کہ آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی، معاشی استحکام اور انسانی وسائل کی بہتری کے ساتھ فوری طور پر ہم آہنگ کرنے کی تزویراتی ضرورت ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے “نیشنل پاپولیشن کونسل” کا افتتاحی اجلاس جلد از جلد بلانے اور قومی سطح پر مربوط پالیسی سازی کے لیے کونسل کا تنظیمی ڈھانچہ فوری طور پر مرتب کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ اس مقتدر کونسل کی سربراہی خود وزیراعظم کریں گے، جبکہ اس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور دیگر اہم ترین اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے گا۔ اجلاس کے دوران ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی پر کنٹرول اور بہبود کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ مستقبل میں سماجی تحفظ کے پروگراموں (جیسے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام وغیرہ) کو خاندانی منصوبہ بندی سے جوڑا جائے گا، جبکہ خواتین کی تعلیم اور انہیں معاشی طور پر بااختیار بنانا اس قومی حکمتِ عملی کا کلیدی جزو ہوگا۔
اجلاس کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ آبادی میں توازن کے حوالے سے ملک بھر میں ایک مؤثر آگاہی مہم چلائی جائے گی، اور اس ضمن میں برادر اسلامی ممالک بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور ایران کے آبادی پر قابو پانے کے کامیاب ترین ماڈلز سے استفادہ کیا جائے گا۔ نیشنل پاپولیشن کونسل کا مرکزی سیکریٹریٹ وزارتِ منصوبہ بندی و ترقی میں قائم ہوگا جو صوبائی حکومتوں کے تعاون سے اس مہم کو تزویراتی طور پر آگے بڑھائے گا۔ اس اہم ترین اور مقتدر اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور دیگر اعلیٰ ترین عسکری و سرکاری حکام نے شرکت کی۔
امریکی مصنفہ و عالمی پالیسی ماہر لاری واٹکنز نے واضح کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے دریائوں کے بہائو سے متعلق اہم ترین تزویراتی اعدادوشمار کو روکنا اور پاکستان کی باضابطہ تحریری مراسلت کا جواب نہ دینا بین الاقوامی قانون کے مسلمہ اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے، کیونکہ کوئی بھی ریاست کسی معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل قرار دے کر اپنی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں سے دستبردار نہیں ہو سکتی۔ منگل کے روز وفاقی دارالحکومت کے جناح کنونشن سینٹر میں انسٹیٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز (آئی آر ایس) کے زیرِ اہتمام ’’سندھ طاس معاہدہ، امن اور علاقائی استحکام کا اہم ذریعہ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے مقتدر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ (انڈس واٹرز ٹریٹی) بین الاقوامی سفارت کاری کی حقیقی و تاریخی کامیابیوں میں سے ایک ہے جو 60 برس سے زائد عرصے تک مؤثر انداز میں کام کرتا رہا ہے۔
لاری واٹکنز نے اپنے خطاب میں تزویراتی نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں دریائوں سے متعلق بین الاقوامی معاہدے بنیادی طور پر تنازعات کو روکنے کے لیے تشکیل دیے جاتے ہیں جبکہ اس ضمن میں قائم “مستقل انڈس کمیشن” عالمی معیار کے مطابق ایک غیر معمولی اور انتہائی قابلِ قدر ادارہ ہے، جس کے تحت مشترکہ معائنے اور تنازعات کے حل کا ایک مربوط، مرحلہ وار اور مقتدر نظام مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے حقائق کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں بھارت کو دریائے چناب کے پانی کے بہائو کے بارے میں متعدد باضابطہ خطوط ارسال کیے، تاہم بھارت نے دریائوں کے غیر مستقل بہائو کے بارے میں ضروری معلومات اور اعدادوشمار فراہم نہیں کیے اور پاکستان کی تحریری مراسلت کا کوئی جواب بھی نہیں دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ محض ایک روایتی، انتظامی یا تکنیکی شکایت نہیں ہے بلکہ دنیا کے دریائی نظاموں کا تجزیہ یہی بتاتا ہے کہ ایسی صورتحال انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ جب آبی معلومات کا تبادلہ رک جائے تو فریقین کے مابین شدید بداعتمادی، غلط اندازے اور بالآخر عسکری و سیاسی کشیدگی جنم لیتی ہے۔
عالمی پالیسی ماہر نے زور دیا کہ کسی بھی بین الاقوامی آبی معاہدے کی اصل طاقت اور پائیداری رابطوں کے مستقل تسلسل میں مضمر ہوتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ بھارت نے چالبازی دکھاتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل قرار دیا ہے، تاہم اس کے باوجود دریائوں کے بہائو سے متعلق معلومات روکنا اور پڑوسی ملک کے مقتدر خطوط کا جواب نہ دینا بین الاقوامی عرفی قانون کے اصولوں کے یکسر خلاف ہے۔ لاری واٹکنز نے بین الاقوامی قوانین کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ “ویانا کنونشن برائے قانون معاہدات” کے مطابق تمام عالمی معاہدوں پر دستخط کنندگان کی جانب سے ہمیشہ نیک نیتی کے ساتھ عمل کیا جانا چاہیے، لہٰذا بھارت پر لازم ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احترام کرے تاکہ خطے کا امن اور تزویراتی استحکام برقرار رہ سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن احسن اقبال نے واضح کیا ہے کہ حکومت نے معرکہ حق اور معرکہ سفارت کاری میں مقتدر کامیابیاں حاصل کر لی ہیں اور اب پاکستان کو ہر صورت معرکہ معیشت جیتنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملکی برآمدات کو اب ایٹمی پروگرام کے مساوی قومی اہمیت دینا ہوگی اور معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے وفاق اور صوبے مل کر سماجی شعبے کو قومی ایمرجنسی کے طور پر آگے بڑھائیں گے۔ وہ منگل کے روز وزارتِ منصوبہ بندی کی ماہانہ ترقیاتی رپورٹ کے اجراء کے موقع پر میڈیا نمائندگان سے مقتدر خطاب کر رہے تھے۔
احسن اقبال نے معاشی صورتحال کی تشریح کرتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران سیلاب، عالمی تجارتی کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ کے بحران جیسے بیرونی چیلنجز کے باوجود ملکی معیشت تزویراتی استحکام کی راہ پر گامزن رہی۔ انہوں نے بتایا کہ سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باوجود شرح نمو 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جو گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین شرح ہے۔ معیشت میں زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، خدمات کی 4.1 فیصد جبکہ صنعتی شعبے کی شرح نمو 3.5 فیصد رہی۔ لارج سکیل مینوفیکچرنگ میں دو سال بعد نمایاں بحالی آئی اور اس شعبے نے 6.4 فیصد کی مقتدر نمو ریکارڈ کی، جس میں آٹو موبائل، الیکٹریکل آلات اور گارمنٹس کے شعبے نمایاں رہے۔ انہوں نے کہا کہ عیدالاضحیٰ 2026 کے دوران ملک میں تقریباً 1.7 کھرب روپے کی معاشی سرگرمیاں ریکارڈ کی گئیں جس نے لیدر، ٹرانسپورٹ اور مویشی منڈیوں کو مقتدر فائدہ پہنچایا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ بیرونی شعبہ مستحکم رہا اور جولائی تا مئی ترسیلاتِ زر 9.2 فیصد اضافے کے ساتھ 38.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ مئی میں 4.3 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات موصول ہوئیں۔ خدمات کی برآمدات میں 17.4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ آئی ٹی برآمدات نے کرنٹ اکاؤنٹ کو مضبوط بنیاد فراہم کی اور ایف بی آر کے محصولات 11.2 کھرب روپے تک پہنچ گئے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی اقتصادی کونسل نے مالی سال 2026-27 کے لیے 4 فیصد معاشی شرح نمو کا ہدف اور 3.675 کھرب روپے کے قومی ترقیاتی پروگرام کی منظوری دی ہے، جس میں سے وفاقی پی ایس ڈی پی کے لیے ایک کھرب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان ترقیاتی منصوبوں سے تقریباً 10 ہزار براہِ راست اور 45 ہزار سے زائد بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ موثر منصوبہ بندی کے باعث قومی خزانے کو پہلے ہی 12.1 ارب روپے کی مقتدر بچت ہو چکی ہے۔
احسن اقبال نے بڑھتی ہوئی آبادی کو پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اڑان پاکستان‘ کے تحت خواتین کی مالی شمولیت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بلوچستان کو سی پیک کے دوسرے مرحلے کا ابھرتا ہوا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئے مالی سال میں کراچی-حیدرآباد ایم-9 کی توسیع، سکھر-حیدرآباد ایم-6 موٹر وے، اور سی پیک کے مقتدر ایم ایل ون منصوبے پر پیش رفت کی جائے گی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ دیامر بھاشا ڈیم کے باعث متاثر ہونے والی قراقرم ہائی وے کے متبادل کے طور پر “قراقرم ہائی وے ٹو” منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے تاکہ پاک چین بلا تعطل تجارتی رابطہ قائم رہے، جبکہ اسلام آباد میں “کوانٹم ویلی” بھی قائم کی جائے گی۔ اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کو ملک بھر کی جامعات کا سات نکاتی پرفارمنس آڈٹ کرنے کی مقتدر ہدایت کر دی گئی ہے جس کی رپورٹ آئندہ چند ہفتوں میں پیش کر کے جامع اصلاحات نافذ کی جائیں گی۔
اقراء یونیورسٹی بزنس اسکول کے زیرِ اہتمام معاشیات کے مضمون کو روایتی کلاس رومز سے نکال کر تخلیقی، بصری اور عملی انداز میں پیش کرنے کے لیے ایک منفرد تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ مین کیمپس کراچی کے ای ڈی سی منی آڈیٹوریم میں ہونے والے اس ایونٹ کا عنوان “ایکون فلیمورا 11.0۔ معاشیات کے تصورات کی بصری عکاسی” تھا، جس کا بنیادی مقصد بصری صداکاری اور مختصر فلموں کے ذریعے پیچیدہ معاشی نظریات کو زیادہ مؤثر، دلچسپ اور قابلِ فہم بنانا تھا۔ تقریب میں طلبہ، فیکلٹی ممبران، معزز اساتذہ اور کارپوریٹ و میڈیا انڈسٹری سے وابستہ ججز نے شرکت کی، جہاں طلبہ کی تحقیق، ٹیم ورک اور ابلاغی مہارتوں کا عملی اظہار دیکھنے کو ملا۔
اس سال ہونے والے مقابلے میں یونیورسٹی کے 14 مختلف سیکشنز سے تعلق رکھنے والے 600 سے زائد طلبہ نے ٹیموں کی صورت میں کاروباری معاشیات کے متنوع موضوعات پر مختصر دستاویزی ویڈیوز تیار کیں۔ ابتدائی اسکریننگ کے بعد شارٹ لسٹ کی گئی 24 بہترین ویڈیوز کو حاضرین کے سامنے پیش کیا گیا، جنہیں طلبہ، اساتذہ اور مہمانوں نے بے حد پسند کیا۔ اس تزویراتی ایونٹ کی صدارت ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر عمار احمد صدیقی نے کی جبکہ محترمہ نرگس نعمان (لیکچرر) نے بطور شریک نگران اپنے فرائض انجام دیے۔ تقریب میں سینئر میڈیا پرسن اور پی آر پروفیشنل نعمان شبیر کے علاوہ ٹر توصیف شاہ، شان ایوان، ڈاکٹر عفت مغل اور مرزا نوید بیگ نے بطور ججز شرکت کر کے طلبہ کی تجزیاتی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت کو مقتدر سطح پر سراہا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سینئر میڈیا ماہر نعمان شبیر نے کہا کہ طلبہ کو مختصر فلموں کے ذریعے معاشی چیلنجز پیش کرتے دیکھنا انتہائی حوصلہ افزا ہے، کیونکہ اس مقتدر تصور نے ایک خشک سمجھے جانے والے مضمون کو نہ صرف قابلِ فہم بنایا بلکہ طلبہ کے لیے ایک بہترین عملی تجربہ بھی فراہم کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کی دیگر جامعات کو بھی اس طرز کے تعلیمی ماڈلز اپنانے چاہئیں۔ ججز کی جانب سے تفصیلی جائزے کے بعد بہترین پریذنٹیشن اور نظریاتی وضاحت کی بنیاد پر “ایگرگیٹ ڈیمانڈ گروپ” نے پہلی پوزیشن کے ساتھ 30 ہزار روپے کا نقد انعام جیتا۔ “مارکیٹ پاور گروپ” نے دوسری پوزیشن حاصل کر کے 20 ہزار روپے جبکہ “ایکسپورٹس گروپ” نے تیسرے نمبر پر رہتے ہوئے 10 ہزار روپے کا نقد انعام اپنے نام کیا۔ فیکلٹی ممبران نے اختتام پر واضح کیا کہ یہ کامیابی اقراء یونیورسٹی کے اعلیٰ تعلیمی معیار، جدید تعلیمی ماڈلز اور طلبہ کو حقیقی دنیا کے چیلنجز کے لیے تیار کرنے کے مقتدر عزم کی عکاس ہے۔
انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب عبدالکریم نے سنٹرل پولیس آفس (سی پی او) میں پولیس ملازمین اور ان کے اہلخانہ سے تفصیلی ملاقات کی اور ان کے دیرینہ پیش آمدہ مسائل سن کر موقع پر ہی فوری تدارک اور ریلیف کی فراہمی کے مقتدر احکامات جاری کیے۔ پنجاب پولیس کے آفیشل ترجمان کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، آئی جی پنجاب نے جونیئر کلرک شمشاد اکبر کی جانب سے پیش کی جانے والی ٹرانسفر (تبادلے) کی درخواست پر تزویراتی ایکشن لیتے ہوئے اے آئی جی ایڈمن اینڈ سکیورٹی کو ضابطے کے تحت ضروری ریلیف فراہم کرنے کی مقتدر ہدایت کی۔
اسی طرح، ہیڈ کانسٹیبلز محمد شاہد، محمد عامر اور اللہ دتہ کی پروموشن (ترقی) سے متعلق الگ الگ درخواستوں کو ترجیحی بنیادوں پر زیرِ غور لانے اور سنیارٹی رولز کے مطابق فیصلہ کرنے کے لیے ایڈیشنل آئی جی پنجاب کو احکامات جاری کیے گئے۔ ملاقات کے دوران محکمہ کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرنے والے شہید کانسٹیبل محمد ارسلان کے بیٹے کی جانب سے ایک ریکوری سے متعلق پیش کی جانے والی درخواست پر آئی جی پنجاب عبدالکریم نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او شیخوپورہ کو مقتدر ہدایت کی کہ وہ ذاتی نگرانی میں اس معاملے پر قانون کے مطابق ضروری کارروائی یقینی بنائیں۔ اس کے ساتھ ہی، لیڈی جونیئر کلرک صبا پروین کی تبادلے کی درخواست پر بھی مقتدر افسر نے اے آئی جی ایڈمن اینڈ سکیورٹی کو ہمدردانہ غور کر کے ریلیف فراہم کرنے کا حکم دیا۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق، سنٹرل پولیس آفس میں ہونے والی اس اوپن ڈور ملاقات کے دوران آئی جی پنجاب نے محکمے کے اندرونی ڈسپلن، انتظامی امور، ترقیوں، فورس کی ویلفیئر اور دیگر اہم ترین ذاتی و پیشہ ورانہ معاملات سے متعلق موصول ہونے والی تمام بقیہ درخواستوں پر بھی تزویراتی احکامات جاری کیے۔ انہوں نے موقع پر موجود تمام متعلقہ ونگز کے افسران کو سخت تاکید کی کہ وہ ان احکامات پر دی گئی معینہ مدت کے اندر فوری کارروائی اور عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنائیں تاکہ فورس کے جوانوں اور شہداء کے اہلخانہ کو کسی بھی قسم کی انتظامی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ایک مقتدر تزویراتی اقدام کے تحت آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) ترمیمی آرڈیننس 2026 پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد یہ ملک بھر میں فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔ ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے منگل کے روز جاری کردہ ایک اعلیٰ سطحی سرکاری بیان کے مطابق، صدرِ مملکت نے وزیراعظم پاکستان کے مقتدر مشورے اور سمری پر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس 2002 کی بنیادی دفعات 2 اور 3 میں ترامیم سے متعلق نئے آرڈیننس کی باضابطہ منظوری دیتے ہوئے اسے جاری کرنے کے احکامات صادر کیے۔
اس نئے ترمیمی آرڈیننس کا بنیادی مقصد اوگرا کے انتظامی ڈھانچے، دائرہ اختیار اور ریگولیٹری امور کو موجودہ معاشی و تزویراتی تقاضوں کے مطابق زیادہ فعال اور مؤثر بنانا ہے۔ وزارتِ پٹرولیم اور متعلقہ حکام کے مطابق، دفعات دو اور تین میں کی جانے والی ان مقتدر ترامیم سے ملک میں تیل و گیس کے شعبے کی نگرانی، لائسنسنگ کے عمل اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اتھارٹی کے قانونی اختیارات کو مزید تقویت ملے گی۔ ایوانِ صدر کے مطابق آرڈیننس پر صدرِ مملکت کے دستخط کے بعد وزارتِ قانون و انصاف کی جانب سے اس کا باقاعدہ گزٹ نوٹیفکیشن بھی جلد جاری کر دیا جائے گا۔
وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے زیرِ اہتمام مہاراجہ رنجیت سنگھ کی 187ویں برسی کی مرکزی اور مقتدر تقاریب باقاعدہ اختتام پذیر ہو گئی ہیں، جس کے بعد بھارتی سکھ یاتری پاکستان سے امن، بے لوث محبت، مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کا مقتدر پیغام لے کر واپس اپنے وطن روانہ ہو گئے۔ واہگہ بارڈر پر صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور و پردھان پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی (پی ایس جی پی سی) سردار رمیش سنگھ اروڑہ، پی ایس جی پی سی کے معزز ممبران اور سیکرٹری متروکہ وقف املاک بورڈ ناصر مشتاق نے بھارتی سکھ یاتریوں کو روایتی مقتدر انداز میں الوداع کیا۔
پاکستان سے رخصتی کے موقع پر سکھ یاتریوں نے یہاں ملنے والی بے پناہ محبت، مقتدر عزت اور تاریخی مہمان نوازی پر والہانہ اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں قیام کے دوران انہیں بالکل اپنے گھر جیسا پرامن ماحول میسر آیا۔ انہوں نے گوردواروں کے بہترین اور جدید انتظامات، مثالی صفائی ستھرائی، تزئین و آرائش اور دیگر سفری و مذہبی سہولیات کو مقتدر سطح پر سراہا۔ یاتریوں نے متروکہ وقف املاک بورڈ کی جانب سے یاتریوں کی دن رات خدمت اور رہائش، لنگر، ٹرانسپورٹ، طبی سہولیات اور سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات فراہم کرنے پر حکومتِ پاکستان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس گوردوارے مکمل محفوظ، انتہائی خوبصورت اور بہترین تزویراتی انداز میں سنبھالے جا رہے ہیں؛ دنیا بھر کے سکھ پاکستان کے ان مقدس مقامات کی یاترا کے مقتدر خواہشمند ہیں اور وہ یہاں سے واپس جا کر محبت، بھائی چارے اور بین المذاہب رواداری کا یہ سچا پیغام پوری دنیا میں پھیلائیں گے۔
صوبائی وزیر سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سکھ یاتری پاکستان سے محبت اور عقیدت کا مقتدر پیغام لے کر جا رہے ہیں جو دونوں ممالک کے عوام کے درمیان مثبت سفارت کاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حکومتِ پاکستان کے مقتدر وژن کے تحت اس وقت ملک بھر میں پچاس اہم گوردواروں کو تزئین و آرائش کے بعد اصل حالت میں بحال کیا جا رہا ہے، اور وہ ان تمام تعمیری معاملات میں بھرپور اور مخلصانہ تعاون پر چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ قمر الزمان اور ان کی پوری ٹیم کے بے حد شکر گزار ہیں۔
سیکرٹری بورڈ ناصر مشتاق نے الوداعی تقریب کے دوران بتایا کہ چیئرمین قمر الزمان کی خصوصی اور مقتدر ہدایات کی روشنی میں یاتریوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی گئی، جبکہ غیر معمولی گرمی کی شدت سے بچاؤ کے لیے راستوں میں خصوصی “ہیٹ سینٹرز” قائم کیے گئے اور واہگہ بارڈر پر بھارتی سکھ یاتریوں کی آمد و روانگی کے وقت ٹھنڈا منرل واٹر اور جوسز بھی وافر مقدار میں فراہم کیے گئے۔ انہوں نے عزم کا اعادہ کیا کہ حکومتِ پاکستان مذہبی سیاحت کے فروغ اور اقلیتوں کے مقدس مقامات کے مستقل تحفظ کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، اور دنیا بھر میں بسنے والے سکھ جب بھی چاہیں پاکستان آئیں، ہم ان کی مقتدر مہمان نوازی کے لیے ہمیشہ تیار ہیں۔ آج تمام سکھ یاتری انتہائی خوشگوار یادوں اور نیک تمناؤں کے ساتھ مقتدر طور پر اپنے وطن روانہ ہو گئے۔