روسی خفیہ ایجنسی ایس وی آر کے ڈائریکٹر سرگئی ناریشکن نے دعویٰ کیا ہے کہ نیٹو مشرقی خطے میں بڑے پیمانے پر مسلح تصادم کی عملی تیاریوں میں مصروف ہے، جس سے عالمی سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
روسی خبر رساں ادارے ٹی اے ایس ایس کے مطابق سرگئی ناریشکن نے یہ بیان روسی سکیورٹی کونسل کے زیر اہتمام منعقدہ پہلے بین الاقوامی سکیورٹی فورم کے موقع پر اعلیٰ سطحی سکیورٹی حکام کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔
انہوں نے کہا کہ نیٹو کی حالیہ سرگرمیاں، فوجی نقل و حرکت اور مشرقی یورپ میں بڑھتی ہوئی عسکری موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مغربی اتحاد خطے میں ایک بڑے فوجی تصادم کیلئے تیاری کر رہا ہے۔
سرگئی ناریشکن کا کہنا تھا کہ روس اپنی قومی سلامتی، علاقائی استحکام اور دفاعی مفادات کے تحفظ کیلئے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور بدلتی عالمی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
یہ اجلاس عالمی سکیورٹی چیلنجز، علاقائی تنازعات اور مختلف خطوں کو درپیش خطرات کے تناظر میں منعقد کیا گیا، جس میں مختلف ممالک کے اعلیٰ سطحی حکام اور سکیورٹی نمائندوں نے شرکت کی۔ روسی خبر رساں ادارہ ٹی اے ایس ایس اس فورم کا اطلاعاتی شراکت دار ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق روس اور نیٹو کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث یورپ اور مشرقی خطے کی سکیورٹی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنتی جا رہی ہے۔
پاکستان کی مسلح افواج نے یومِ تکبیر کی 28ویں سالگرہ کے موقع پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے پاکستان کے ایٹمی عزم، قومی سلامتی اور دفاع کے تحفظ کیلئے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نشانِ امتیاز (ملٹری) ہلالِ جرات، نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نشانِ امتیاز (ملٹری) تمغۂ بسالت اور پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نشانِ امتیاز (ملٹری) ہلالِ جرات نے یومِ تکبیر کے موقع پر پاکستانی قوم کو دلی مبارکباد پیش کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یومِ تکبیر 28 مئی 1998ء کے اس تاریخی دن کی یاد میں منایا جاتا ہے جب پاکستان ایٹمی قوت بن کر ابھرا اور جنوبی ایشیا میں طاقت کا تزویراتی توازن بحال ہوا۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ تاریخی سنگِ میل پاکستانی قوم کے اتحاد، عزم، قربانی اور اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی وقار کے دفاع کیلئے غیر متزلزل ارادے کی علامت ہے۔
مسلح افواج کے سربراہان نے اس موقع پر پاکستان کے سائنسدانوں، انجینئرز، دفاعی ماہرین اور افواجِ پاکستان کی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت قوم کی ایک مقدس امانت ہے، جو خطے میں امن، استحکام اور قابلِ اعتماد دفاعی توازن کی ضامن ہے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ عظیم کامیابی دور اندیش قیادت، قومی یکجہتی، سائنسدانوں کی شبانہ روز محنت اور پاکستانی عوام و مسلح افواج کی بے مثال قربانیوں کا عملی ثبوت ہے۔ پاکستان کی دفاعی صلاحیت ہر قسم کے خطرات کے خلاف قومی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے مکمل طور پر تیار اور مضبوط ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کی مسلح افواج مادرِ وطن کے دفاع، قومی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کیلئے اپنے عزم پر قائم ہیں اور ہر قسم کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یومِ تکبیر کے موقع پر پوری قوم اللہ تعالیٰ کے حضور شکر گزار ہے اور ایک مضبوط، متحد، مستحکم اور خوشحال پاکستان کیلئے اپنے اتحاد، چوکسی، قربانی اور قومی خدمت کے عہد کی تجدید کرتی ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ 28 مئی 1998ء پاکستان کی قومی تاریخ کا ایک فیصلہ کن اور تاریخی لمحہ تھا، جب پاکستان نے پوری دنیا پر واضح کر دیا کہ وہ اپنی خودمختاری، سلامتی، وقار اور دفاع کے حق پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
یومِ تکبیر کے موقع پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے خصوصی پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج قوم یومِ تکبیر منا رہی ہے تو اس موقع پر شہید ذوالفقار علی بھٹو کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے، جنہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی اور ملک کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کا خواب دیکھا۔
وزیراعظم نے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جراتمندانہ، دلیرانہ اور پُرعزم قیادت نے مئی 1998ء میں شدید عالمی دباؤ کے باوجود قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا تاریخی فیصلہ کیا، جس نے ملک کے دفاع کو ہمیشہ کیلئے مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔
محمد شہباز شریف نے پاکستان کے ممتاز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر ثمر مبارک مند، انجینئرز، سائنسدانوں، افواجِ پاکستان کے افسران و جوانوں اور ایٹمی پروگرام سے وابستہ تمام افراد کی خدمات کو بھی زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان عظیم شخصیات کی محنت، قربانی، لگن اور غیر متزلزل عزم نے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یومِ تکبیر قومی اتحاد، غیر متزلزل عزم اور اجتماعی قومی طاقت کی علامت ہے، جو نہ صرف پاکستان کی آزادی اور خودمختاری کے تحفظ کی عکاسی کرتا ہے بلکہ خطے میں امن اور تزویراتی استحکام کے قیام کے عزم کا بھی مظہر ہے۔
انہوں نے قوم پر زور دیا کہ اس تاریخی دن کے موقع پر ایک مضبوط، خوشحال، متحد اور خودانحصار پاکستان کی تعمیر کے عہد کی تجدید کی جائے، ایسا پاکستان جو قائداعظم محمد علی جناح کے سنہری اصولوں ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط پر قائم ہو۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ عیدالاضحیٰ ہمیں قربانی، ایثار، بھائی چارے اور قومی یکجہتی کا درس دیتی ہے، موجودہ حالات میں ان اقدار کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ بلوچستان کو امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔
تفصیلات کے مطابق عیدالاضحیٰ کے پرمسرت موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے اراکینِ صوبائی اسمبلی، اعلیٰ سرکاری حکام، قبائلی عمائدین، سیاسی و سماجی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے ملاقات کی اور انہیں عید کی مبارکباد پیش کی۔
ملاقاتوں کے دوران شرکاء نے وزیراعلیٰ بلوچستان کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے صوبے میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح و بہبود کیلئے حکومت کی کوششوں کو سراہا۔ اس موقع پر بلوچستان کی مجموعی صورتحال، سکیورٹی، جاری ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مسائل کے حل سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان عوامی خدمت، شفاف طرزِ حکمرانی، پائیدار امن اور صوبے کی ہمہ جہت ترقی کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے ہر مشکل وقت میں صبر، حوصلے اور استقامت کی روشن مثال قائم کی ہے اور حکومت عوام کے اعتماد پر پورا اترنے کیلئے عملی اور نتیجہ خیز اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے میں امن و امان کے قیام، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور عوامی مسائل کے مستقل حل کیلئے تمام ادارے بھرپور انداز میں متحرک ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ حکومت کا وژن ایک پُرامن، خوشحال اور ترقی یافتہ بلوچستان ہے، جس کے حصول کیلئے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔
میر سرفراز بگٹی نے عوام پر زور دیا کہ وہ عیدالاضحیٰ کے اس بابرکت موقع پر محبت، رواداری، بھائی چارے اور قومی اتحاد کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ معاشرے میں ہم آہنگی اور استحکام کو مزید تقویت مل سکے
سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے فروغ کیلئے اہم اور مؤثر کردار ادا کیا ہے، جبکہ معاشرے میں نفرتوں کے خاتمے اور رواداری کے فروغ کی اشد ضرورت ہے۔
حیدرآباد کے علاقے راول ہاؤس ٹنڈوجام میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر تمام حجاج کرام اور عالمِ اسلام کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانی انسانیت کو ایثار، قربانی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے ہر شے قربان کرنے کا درس دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عیدالاضحیٰ محبت، بھائی چارے اور اتحاد کا پیغام دیتی ہے، اس لیے تمام اختلافات بھلا کر خوشیوں کو مل جل کر منانا چاہیے۔
شرجیل انعام میمن نے سیاسی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 28ویں آئینی ترمیم سے متعلق گردش کرنے والی خبریں محض قیاس آرائیاں ہیں، حکومت سے اس حوالے سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کراچی ہمیشہ سندھ کا حصہ تھا، ہے اور رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ختم نہیں ہوگا کیونکہ یہ پروگرام غریب اور مستحق خواتین کی مالی معاونت کا اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ عیدالاضحیٰ کے فوراً بعد حیدرآباد میں لطیف آباد تا حیدر چوک روٹ کا باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا۔
پانی کے مسائل سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کیلئے مقامی انتظامیہ بھرپور اقدامات کر رہی ہے، جبکہ ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے پر بھی مسلسل کام جاری ہے۔ ان کے مطابق منصوبے کا آغاز حکومت سندھ نے کیا تھا اور وزیراعلیٰ سندھ سمیت متعلقہ حکام ہر ہفتے ترقیاتی کاموں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اشیائے ضروریہ اور تعمیراتی لاگت میں اضافے کے باعث بعض مشکلات ضرور پیش آئیں، تاہم حکومت نے منصوبے کی بروقت تکمیل کیلئے کنٹریکٹر کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی۔
منشیات کے خلاف جاری مہم کے حوالے سے شرجیل میمن نے کہا کہ منشیات ایک خطرناک ناسور ہے جو نوجوان نسل اور پورے خاندان کو تباہ کر دیتا ہے، اسی لیے پولیس منشیات فروش عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں کر رہی ہے۔ انہوں نے میڈیا پر بھی زور دیا کہ وہ اس سماجی برائی کے خاتمے کیلئے حکومت کا ساتھ دے۔
خواتین کو بااختیار بنانے کے اقدامات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ خواتین کو پنک اسکوٹیز فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ڈرائیونگ ٹریننگ اور لائسنس کی سہولیات بھی مہیا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اس اسکیم سے قبل صرف 150 خواتین کے پاس ڈرائیونگ لائسنس تھا، جبکہ اب 25 ہزار خواتین لائسنس کیلئے درخواستیں دے چکی ہیں۔
شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ غیر قانونی تجاوزات کے باعث ٹریفک کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے، ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر ترقیاتی منصوبوں کے مخالف ہیں، تاہم حکومت سندھ عوامی فلاح اور ترقی کے سفر کو ہر صورت جاری رکھے گی۔
گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد، باہمی یکجہتی اور مشترکہ قومی سوچ کو مزید مضبوط بنانے کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ دہشتگردی اور ملک دشمن سازشوں کا مقابلہ صرف متحد قوم ہی کر سکتی ہے۔
عیدالاضحیٰ کے موقع پر گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے گورنر ہاؤس کوئٹہ کی مسجد میں نمازِ عید ادا کی، اس موقع پر صوبائی وزیر محمد خان لہڑی، صوبائی سیکرٹریز، ایڈووکیٹ جنرل عدنان اور دیگر اعلیٰ حکام بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ نمازِ عید کے بعد امتِ مسلمہ، پاکستان کی سلامتی، ترقی، استحکام اور قومی اتحاد کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
بعدازاں گورنر بلوچستان نے اراکینِ پارلیمنٹ، سرکاری افسران اور عوام الناس سے ملاقات کی اور انہیں عیدالاضحیٰ کی مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عید قربان ہمیں ایثار، قربانی، بھائی چارے اور اتحاد کا درس دیتی ہے، یہی جذبہ آج کے حالات میں قومی ضرورت بن چکا ہے۔
جعفر خان مندوخیل نے کوئٹہ کے علاقے چمن پھاٹک میں ہونے والے دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں نے وطنِ عزیز پاکستان کے دفاع، امن اور سالمیت کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔
گورنر بلوچستان نے کہا کہ دہشتگرد عناصر پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں، تاہم پوری قوم اپنی بہادر افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں سیاسی، سماجی اور قومی سطح پر اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے عوام محبِ وطن ہیں اور صوبے میں امن، ترقی اور خوشحالی کیلئے حکومت تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ عوام کو محفوظ اور پُرامن ماحول فراہم کیا جا سکے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے سے متعلق حتمی فیصلہ وفاقی حکومت سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا، جبکہ حکومت کی پوری کوشش ہے کہ مہنگائی کے موجودہ دباؤ میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔
عیدالاضحیٰ کے موقع پر اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت ایک عوام دوست بجٹ پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جس میں غریب اور متوسط طبقے کے مسائل کو مدنظر رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا ہے، اسی لیے حکومت کی ترجیح ہے کہ عام شہری پر کم سے کم مالی بوجھ ڈالا جائے۔
سید مراد علی شاہ نے 28ویں آئینی ترمیم سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے زیر گردش تمام باتیں صرف میڈیا کی حد تک ہیں، نہ کوئی باضابطہ مجوزہ ترمیم سامنے آئی ہے اور نہ ہی صوبوں یا شہروں کی تقسیم سے متعلق کوئی سنجیدہ تجویز زیر غور ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ میں نئے اضلاع بنانے کا بھی کوئی منصوبہ نہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی شفاف اور معیاری تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے سیوھن بیوٹیفکیشن پلان میں ناقص میٹریل کے استعمال کا سخت نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری سندھ کو تمام ترقیاتی منصوبوں کی خود نگرانی کی ہدایت جاری کی ہے تاکہ عوامی وسائل کا ضیاع روکا جا سکے اور منصوبے بہتر معیار کے مطابق مکمل ہوں۔
منچھر جھیل کی بحالی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ محکمہ آبپاشی اس اہم منصوبے پر متحرک ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ جھیل کو دوبارہ اس کی اصل حالت میں بحال کیا جائے، تاکہ ماحولیاتی بہتری کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کو بھی فائدہ پہنچ سکے۔
بلوچستان میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ملک دشمن قوتیں پاکستان کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد عناصر بیرونی سرپرستی میں کارروائیاں کر رہے ہیں اور ان کا مقصد ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے، تاہم پوری قوم اور سیکیورٹی ادارے ان سازشوں کا مقابلہ کرنے کیلئے متحد ہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ حکومت عوامی فلاح، ترقیاتی منصوبوں کی شفاف تکمیل اور صوبے میں امن و استحکام کے فروغ کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
مکہ مکرمہ: دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں فرزندانِ اسلام آج حج کے سب سے اہم اور مقدس رکن ’’وقوفِ عرفہ‘‘ کی ادائیگی کے لیے میدانِ عرفات میں جمع ہو گئے، جہاں فضا ’’لبیک اللّٰہم لبیک‘‘، ذکرِ الٰہی، توبہ و استغفار اور دعاؤں سے گونج اٹھی۔
حج کے روح پرور مناظر میں عازمینِ حج نے گزشتہ شب منیٰ کے خیموں میں قیام کیا، جہاں پوری رات عبادات، نوافل، تلاوتِ قرآن پاک، درود و اذکار اور استغفار میں گزاری گئی۔ صبح ہوتے ہی لاکھوں حجاج قافلوں کی صورت میں میدانِ عرفات کی جانب روانہ ہوئے، جہاں آج 9 ذوالحجہ کو رکنِ اعظم ادا کیا جا رہا ہے۔
حج کے موقع پر مسجد نمرہ سے خطبۂ حج دیا جا رہا ہے، جس میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، تقویٰ، صبر، بھائی چارے اور قرآن و سنت پر عمل کی تلقین کی گئی۔ خطبے کے بعد حجاج کرام ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ قصر کے ساتھ ادا کریں گے، جبکہ غروبِ آفتاب تک میدانِ عرفات میں دعاؤں اور مناجات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
مذہبی ماہرین کے مطابق وقوفِ عرفہ حج کا بنیادی اور لازمی رکن ہے، جس کے بغیر حج مکمل نہیں ہوتا۔ اسی لیے لاکھوں حجاج آج اپنے رب کے حضور ہاتھ اٹھائے بخشش، رحمت اور مغفرت کی دعائیں مانگ رہے ہیں۔
غروبِ آفتاب کے بعد تمام حجاج بغیر مغرب ادا کیے مزدلفہ روانہ ہوں گے، جہاں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی جائیں گی اور رات کھلے آسمان تلے گزاری جائے گی۔ مزدلفہ ہی سے جمرات کے لیے کنکریاں بھی جمع کی جائیں گی۔
10 ذوالحجہ کو حجاج دوبارہ منیٰ پہنچ کر بڑے شیطان کو کنکریاں ماریں گے، قربانی ادا کریں گے، مرد حجاج سر منڈوائیں گے یا بال کٹوائیں گے، جس کے بعد احرام کھول دیا جائے گا۔ بعد ازاں حجاج مسجد الحرام میں طوافِ زیارت اور صفا و مروہ کی سعی ادا کریں گے۔
سعودی حکام نے اس سال شدید گرمی اور ہیٹ ویو کے خدشات کے پیشِ نظر حجاج کی سہولت کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ میدانِ عرفات، منیٰ اور دیگر مقدس مقامات پر جدید کولنگ سسٹمز، بڑے سایہ دار شیڈز، پانی کی پھوار چھوڑنے والے اسپرے سسٹمز، طبی کیمپس اور خصوصی پیدل راہداریاں قائم کی گئی ہیں تاکہ لاکھوں عازمین کو شدید گرمی میں زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔
اقوامِ متحدہ: محمد اسحاق ڈار آج اقوامِ متحدہ میں انتہائی مصروف سفارتی دن گزاریں گے، جہاں وہ عالمی امن، سلامتی اور کثیرالجہتی تعاون سے متعلق اہم اجلاسوں اور دوطرفہ ملاقاتوں میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں چین کی صدارت میں منعقد ہونے والے سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی کھلے مباحثے میں شرکت کریں گے، جس کا عنوان “بین الاقوامی امن و سلامتی کا تحفظ: اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں کی پاسداری اور اقوامِ متحدہ پر مبنی بین الاقوامی نظام کو مضبوط بنانا” رکھا گیا ہے۔ اجلاس کی صدارت وانگ ای کریں گے جبکہ اسحاق ڈار مباحثے سے خصوصی خطاب بھی کریں گے۔
دفترِ خارجہ کے مطابق اس اہم سفارتی سرگرمی کے دوران اسحاق ڈار مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ قیادت سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں عالمی اور علاقائی صورتحال، دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون اور کثیرالجہتی سفارت کاری کے امور زیرِ بحث آئیں گے۔
ملاقات کرنے والی اہم شخصیات میں جیہون بایراموف، مینوئل تووار، ریبیکا گرینسپان، انتونیو گوتریس، عبداللطیف بن راشد الزیانی، برونو روڈریگیز پریلا، پیٹر ماچنکا اور روزا یولانڈا ویلاویسینسیو شامل ہیں۔
شام کے وقت نائب وزیرِ اعظم اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی جانب سے عرب، اسلامی اور یورپی ممالک کے سفیروں اور مستقل مندوبین کے اعزاز میں دیے جانے والے عشائیے میں بھی شرکت کریں گے، جہاں مختلف عالمی امور پر غیر رسمی مشاورت متوقع ہے۔
واضح رہے کہ محمد اسحاق ڈار گزشتہ شب 26 تا 28 مئی 2026 کے سرکاری دورے پر نیویارک پہنچے تھے، جہاں وہ پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کریں گے۔
واشنگٹن: فیفا نے ایرانی قومی فٹبال ٹیم کو ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے امریکی ویزے جاری کیے جانے کی یقین دہانی کرا دی، جس کے بعد ایران کی ٹورنامنٹ میں شرکت سے متعلق پیدا ہونے والے خدشات میں نمایاں کمی آ گئی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق فیفا کے صدر نے واضح کیا ہے کہ عالمی کپ میں شریک تمام ٹیموں کو میزبان ممالک میں داخلے کی مکمل سہولت فراہم کی جائے گی اور ایرانی کھلاڑیوں، کوچنگ اسٹاف اور آفیشلز کو بھی امریکا میں داخلے کے ویزے جاری کیے جائیں گے۔
احمد دنیا مالی نے اس حوالے سے کہا کہ ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے والے ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام شریک ٹیموں کو بلاامتیاز ویزے فراہم کریں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایرانی ٹیم سیاسی کشیدگی سے بالاتر ہو کر پُرامن ماحول میں ٹورنامنٹ میں شرکت کرے گی۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے سفری اور سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر امریکا کے بجائے میکسیکو کے سرحدی شہر تیخوانا میں اپنا بیس کیمپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کھلاڑیوں کو ویزا اور آمدورفت کے مسائل سے بچایا جا سکے۔
کلاڈیا شینبام نے بھی ایرانی ٹیم کو میکسیکو میں قیام کی اجازت دیے جانے کی تصدیق کر دی ہے، جبکہ ایرانی اسکواڈ اس وقت ترکیہ کے شہر انطالیہ میں تربیتی کیمپ جاری رکھے ہوئے ہے۔ ذرائع کے مطابق بعض ایرانی کھلاڑیوں نے انقرہ میں امریکی ویزوں کے لیے درخواستیں بھی جمع کرا دی ہیں۔
واضح رہے کہ فیفا ورلڈ کپ 2026 کا آغاز 11 جون سے ہوگا، جہاں ایران گروپ جی میں نیوزی لینڈ، بیلجیم اور مصر کے خلاف اپنے میچز کھیلے گا
شہباز شریف نے حج کے روح پرور اور بابرکت موقع پر امتِ مسلمہ خصوصاً میدانِ عرفات میں موجود لاکھوں حجاجِ کرام کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حج کا عظیم اجتماع مسلمانوں کے اتحاد، بھائی چارے اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس کو دنیا بھر میں اجاگر کرتا ہے۔
اسلام آباد میں جاری اپنے خصوصی پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ حج کا یہ مبارک دن اللہ تعالیٰ کی رحمت، مغفرت اور قربت حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام عازمینِ حج کی عبادات، دعاؤں اور قربانیوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور پوری امتِ مسلمہ کو اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا کرے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حج ہمیں اخوت، صبر، ایثار، نظم و ضبط اور باہمی تعاون کا درس دیتا ہے، جبکہ یہی اوصاف کسی بھی قوم کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کی اصل بنیاد ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی کامیابی اتحاد، باہمی احترام اور مشترکہ ذمہ داری کے احساس میں پوشیدہ ہے۔
وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ ان مقدس اور بابرکت ساعتوں میں پاکستان دنیا بھر میں امن، سلامتی، استحکام اور انسانیت کی فلاح کیلئے خصوصی دعا گو ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر عدل، برداشت، رواداری اور بھائی چارے کے فروغ کی اشد ضرورت ہے تاکہ دنیا کو جنگوں، نفرتوں اور انتشار سے بچایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن، استحکام اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا، جبکہ حج کا پیغام پوری انسانیت کیلئے محبت، مساوات اور خیر خواہی کا پیغام ہے۔
لینڈ سلائیڈنگ اور گلیشیئرز سے متاثرہ راستے کی بحالی کیلئے بھاری مشینری متحرک، عیدالاضحیٰ سے قبل روڈ کھولنے کی ہدایت
کالام: معروف سیاحتی مقام اندراب جھیل جانے والے جیپ ایبل ٹریک کی بحالی کا کام تیسرے روز بھی تیزی کے ساتھ جاری ہے، جہاں حالیہ لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی گلیشیئرز کے باعث آمدورفت شدید متاثر ہوگئی تھی۔
اپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی (یو ایس ڈی اے) کے ترجمان کے مطابق سیکرٹری سیاحت خیبرپختونخوا سعادت حسن اور ڈائریکٹر جنرل اپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی شوذب عباس کی خصوصی ہدایات پر بحالی آپریشن مسلسل جاری ہے، جبکہ ادارے کی بھاری مشینری مختلف مقامات پر پتھر، ملبہ اور برفانی گلیشیئرز ہٹانے میں مصروف ہے۔
ترجمان سعید الرحمان نے بتایا کہ تقریباً 27 کلومیٹر طویل جیپ ایبل روڈ متعدد مقامات پر متاثر ہوئی تھی، جس کے باعث سیاحوں کی آمدورفت معطل ہوگئی تھی۔ تاہم بحالی ٹیمیں دن رات کام کر رہی ہیں تاکہ راستے کو جلد از جلد بحال کیا جا سکے۔
ڈی جی یو ایس ڈی اے شوذب عباس نے کہا کہ اندراب جھیل سوات کے خوبصورت اور اہم سیاحتی مقامات میں شمار ہوتی ہے، اس لیے عیدالاضحیٰ اور آنے والے سیاحتی سیزن سے قبل روڈ کی مکمل بحالی کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ بحالی کے کام میں مزید تیزی لائی جائے تاکہ سیاحوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی گڈ گورننس پالیسی کے تحت سیاحتی مقامات تک محفوظ اور بہتر رسائی فراہم کرنے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، جبکہ علاقے میں سیاحت کے فروغ اور مقامی معیشت کی بہتری کیلئے بھی اقدامات جاری ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے یومِ عرفہ کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں امریکہ اور اسرائیل پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے اور خلیجی ممالک اب امریکی فوجی اڈوں کیلئے ڈھال کا کردار ادا نہیں کریں گے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے امتِ مسلمہ کے نام اپنے خطاب میں کہا کہ خطے کے حالات اب پہلے جیسے نہیں رہے اور وقت کی سوئی کسی صورت پیچھے نہیں جائے گی، اس لیے امریکہ پر انحصار کرنے والے ممالک کو اپنی پالیسیوں اور فیصلوں پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اب مشرقِ وسطیٰ میں سازشوں اور مداخلت کیلئے محفوظ ماحول حاصل نہیں کر سکے گا، جبکہ خطے کے ممالک کو اپنے مشترکہ مفادات کے تحفظ کیلئے باہمی اتحاد، تعاون اور آزاد علاقائی نظام کی تشکیل پر توجہ دینی چاہیے۔
ایرانی سپریم لیڈر نے اسرائیل کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل تیزی سے اپنے زوال کی طرف بڑھ رہا ہے اور اب کوئی طاقت اسے بچا نہیں سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل اسلامی اقوام کا ہے اور مسلم دنیا کو سیاسی، معاشی اور دفاعی میدان میں مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ امتِ مسلمہ کے ممالک کو بیرونی طاقتوں پر انحصار کم کرکے آپس میں دوستی، تعاون اور اتحاد کو فروغ دینا چاہیے تاکہ خطے میں پائیدار امن اور ترقی ممکن بنائی جا سکے۔
انہوں نے ایران کے خلاف ماضی میں ہونے والی کارروائیوں اور حالیہ کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم نے ایمان، استقامت اور اتحاد کے ذریعے تمام دباؤ کا مقابلہ کیا ہے۔ ان کے بقول دشمن ایران کو جھکانے اور ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے میں ناکام رہا۔
ایرانی سپریم لیڈر نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ ایران اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہے گا اور امریکی دباؤ یا دھمکیوں کے سامنے کسی قسم کی پسپائی اختیار نہیں کرے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ مسلم دنیا کو موجودہ عالمی حالات میں اتحاد اور خودمختاری کا راستہ اپنانا ہوگا۔
امامِ مسجد نبوی الشیخ علی الحذیفی نے خطبہ حج دیتے ہوئے امتِ مسلمہ پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے باہمی اختلافات ختم کرے، تقویٰ و پرہیزگاری کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے اور قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھام لے۔
مسجد نمرہ سے دیے گئے خطبہ حج میں الشیخ علی الحذیفی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ واحد معبود ہے اور اسی کی عبادت انسان کی نجات کا راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہل ایمان کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ توحید پر ثابت قدم رہیں اور دنیا کی عارضی زندگی کے بجائے آخرت کی تیاری کریں۔
انہوں نے کہا کہ قیامت برحق ہے اور ہر انسان کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا، اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نیک اعمال اختیار کریں، گناہوں اور برائیوں سے بچیں اور اپنی زندگی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کے مطابق گزاریں۔
خطبہ حج میں امامِ مسجد نبوی ﷺ نے کہا کہ تقویٰ اختیار کرنا ایمان والوں کی شان ہے، مسلمانوں کو ہمیشہ سچ بولنا چاہیے، وعدوں کی پاسداری کرنی چاہیے اور غلط بیانی و دھوکے سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کے آخری رسول اور خاتم النبیین ہیں، جبکہ سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔
الشیخ علی الحذیفی نے کہا کہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنا چاہیے اور آزمائشوں میں صبر سے کام لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم، ناشکری اور نافرمانی کرنے والی قوموں سے اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتیں واپس لے لیں۔
انہوں نے امت مسلمہ کو تلقین کی کہ ہر مشکل اور مصیبت میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کیلئے عظیم اجر کی بشارت دی ہے۔
خطیبِ حج نے مسلم امہ کے موجودہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج امت کو سب سے زیادہ ضرورت اتحاد، اخوت اور قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان آپس کے اختلافات اور انتشار کو ختم کریں اور اپنی زندگیوں میں تقویٰ، برداشت اور بھائی چارے کو فروغ دیں۔
انہوں نے حجاجِ کرام کو ہدایت کی کہ میدانِ عرفات میں عبادات اور دعاؤں پر توجہ دیں اور کسی بھی قسم کی سیاسی یا غیر متعلقہ سرگرمی سے گریز کریں تاکہ حج کا مقدس ماحول اور امن و سکون برقرار رہے۔
ملک بھر میں شدید گرمی کی لہر برقرار ہے جبکہ سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے کئی اضلاع میں درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں گرمی کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے اور عیدالاضحیٰ کے دوران بھی ہیٹ ویو برقرار رہنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں سورج آگ برسا رہا ہے، جس کے باعث شہری شدید حبس اور گرمی سے پریشان ہیں۔ سندھ کے اضلاع دادو اور شہید بینظیر آباد میں سب سے زیادہ گرمی ریکارڈ کی گئی جہاں درجہ حرارت 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔
اسی طرح لاڑکانہ، نوابشاہ اور جیکب آباد میں بھی پارہ 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کی پیشگوئی کی گئی ہے، جبکہ پنجاب کے مختلف شہروں فیصل آباد، لاہور، ملتان، رحیم یار خان، بہاولپور اور بہاولنگر میں بھی شدید گرم اور خشک موسم برقرار ہے
دوسری جانب محکمہ موسمیات نے گلگت بلتستان اور کشمیر کے مختلف علاقوں میں مطلع جزوی طور پر ابر آلود رہنے، تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔ مری، گلیات اور گردونواح میں بھی موسم نسبتاً بہتر رہنے کی توقع ہے جہاں وقفے وقفے سے بادل چھائے رہ سکتے ہیں۔
ماہرین موسمیات کے مطابق موجودہ گرمی کی لہر کے باعث ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی کے خدشات بڑھ گئے ہیں، خصوصاً بزرگ افراد، بچوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔
محکمہ موسمیات نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، زیادہ پانی پئیں، ہلکے رنگ کے کپڑے استعمال کریں اور دوپہر کے اوقات میں خاص احتیاط برتیں تاکہ شدید گرمی کے منفی اثرات سے محفوظ رہا جا سکے۔
: عیدالاضحیٰ کے موقع پر ملک بھر کے گھریلو صارفین کیلئے خوشخبری سامنے آگئی، کیونکہ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی نے عید کے تینوں دن گیس فراہمی کے خصوصی شیڈول کا اعلان کرتے ہوئے لوڈشیڈنگ میں بڑی نرمی کر دی ہے۔
گیس کمپنیوں کے مطابق عید قربان کے دوران شہریوں کو کھانا پکانے، قربانی کے گوشت کی تیاری اور مہمان داری میں سہولت فراہم کرنے کیلئے گیس کی سپلائی طویل اوقات تک بحال رکھی جائے گی۔
سوئی ناردرن گیس کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق پنجاب، خیبرپختونخوا اور اسلام آباد کے صارفین کو عید کے پہلے، دوسرے اور تیسرے دن صبح 6 بجے سے رات 11 بجے تک مسلسل گیس فراہم کی جائے گی۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد عید کے دنوں میں گھریلو صارفین کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا ہے۔
دوسری جانب سندھ اور بلوچستان میں گیس سپلائی کرنے والی سوئی سدرن گیس کمپنی نے بھی خصوصی پلان ترتیب دیا ہے۔ کمپنی ذرائع کے مطابق عید کے پہلے اور دوسرے دن صبح ساڑھے 7 بجے سے رات 12 بجے تک گیس کی فراہمی جاری رہے گی، جبکہ تیسرے روز صبح ساڑھے 7 بجے سے رات 10 بجے تک سپلائی بحال رکھی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے دوران گیس کی طلب میں غیر معمولی اضافے کے باوجود سپلائی سسٹم کو مستحکم رکھنے کیلئے خصوصی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جبکہ مختلف علاقوں میں پریشر برقرار رکھنے کیلئے تکنیکی ٹیمیں بھی ہائی الرٹ رہیں گی۔
گیس کمپنیوں نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ گیس کا غیر ضروری استعمال نہ کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ تمام علاقوں میں بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
: پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر بیجنگ میں ایک خصوصی اور پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور چین کے نائب صدر ہان ژینگ نے شرکت کی اور پاک چین دوستی کے 75 برس مکمل ہونے پر یادگاری کیک کاٹا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ چین نے گزشتہ 75 برس کے دوران غیر معمولی ترقی کی اور آج دنیا کی بڑی معاشی طاقتوں میں شامل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ کی قیادت میں کروڑوں افراد غربت سے باہر آئے، جبکہ چین نے خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کیلئے قابلِ تحسین کردار ادا کیا۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین بہترین دوست، قریبی شراکت دار اور آزمودہ ساتھی ہیں، جو ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ ان کے بقول پاک چین تعلقات باہمی اعتماد، خلوص اور احترام پر مبنی ہیں، جنہیں وقت کے ساتھ مزید مضبوطی حاصل ہوئی ہے۔
شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ چین کی ترقی سخت محنت، مستقل مزاجی اور مؤثر حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے، اور پاکستان کو بھی چینی ترقیاتی ماڈل سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان چینی طرز کی معاشی ترقی، صنعتی پیش رفت اور جدید انفراسٹرکچر کے اہداف حاصل کرنے کیلئے پُرعزم ہے۔
وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ پاک چین دوستی کی جڑیں انتہائی مضبوط ہیں اور دونوں ممالک کی ذمہ داری ہے کہ آنے والی نسلوں کیلئے اس تاریخی تعلق کو مزید مستحکم اور مؤثر بنایا جائے۔
اس موقع پر چینی نائب صدر ہان ژینگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور چین جغرافیہ، تاریخ اور مشترکہ مستقبل کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ہر آزمائش اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، جبکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری پاک چین دوستی کی ایک مضبوط اور روشن علامت بن چکی ہے۔
تقریب میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام، سفارتکاروں، کاروباری شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی، جبکہ پاک چین دوستی اور دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔
چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے تربیلا ڈیم کا تفصیلی دورہ کیا جہاں انہیں زیرِ تعمیر تربیلا ففتھ ایکسٹینشن ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی، جبکہ انہوں نے تربیلا فورth ایکسٹینشن منصوبے کے لو لیول آؤٹ لیٹ (ایل ایل او) کی ٹیسٹنگ اور کمیشننگ کا بھی مشاہدہ کیا۔
دورے کے دوران چیئرمین ارسا امجد سعید، ارسا ٹیکنیکل کمیٹی کے اراکین، واپڈا کے ممبر واٹر اور ممبر پاور بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
چیئرمین واپڈا کو تربیلا ففتھ ایکسٹینشن ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے مختلف حصوں پر ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کیا گیا، جن میں انٹیک اسٹرکچر، کنیکٹنگ ٹنل، پین اسٹاک، لو لیول آؤٹ لیٹ، پاور ہاؤس، ٹیل ریس کلورٹ، ٹیل ریس کینال اور سوئچ یارڈ شامل ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کے تمام حصوں پر تیز رفتاری سے کام جاری ہے تاکہ مقررہ مدت میں منصوبہ مکمل کیا جا سکے۔
چیئرمین واپڈا نے منصوبے پر کام کرنے والی ٹیم، کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹرز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ کام کے معیار اور حفاظتی اصولوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بناتے ہوئے منصوبے کو جلد مکمل کیا جائے۔
حکام کے مطابق تربیلا ففتھ ایکسٹینشن منصوبے کی پیداواری صلاحیت 1530 میگاواٹ ہے، جبکہ اس منصوبے کیلئے ورلڈ بینک 390 ملین امریکی ڈالر اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک 300 ملین امریکی ڈالر فراہم کر رہے ہیں۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد تربیلا ڈیم کی مجموعی بجلی پیداوار 4888 میگاواٹ سے بڑھ کر 6418 میگاواٹ ہو جائے گی۔
اس سے قبل چیئرمین واپڈا نے تربیلا فورth ایکسٹینشن منصوبے کے لو لیول آؤٹ لیٹ کی ٹیسٹنگ اور کمیشننگ کا جائزہ لیا، جس کا مقصد خریف سیزن میں ارسا کی جانب سے پانی کی فراہمی کی ضروریات پوری کرنا ہے۔
دورے کے دوران چیئرمین کو بتایا گیا کہ تربیلا فورth ایکسٹینشن منصوبہ، جو ورلڈ بینک کی مالی معاونت سے مکمل کیا گیا، مارچ 2018 میں بجلی کی پیداوار شروع کر چکا ہے اور اب تک قومی گرڈ کو 33.254 ارب یونٹس بجلی فراہم کر چکا ہے۔
بعد ازاں چیئرمین واپڈا کو تربیلا ڈیم اور خانپور ڈیم کے آپریشن اور مینٹیننس کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام کے مطابق تربیلا ڈیم اب تک زرعی شعبے کیلئے 419 ملین ایکڑ فٹ سے زائد ذخیرہ شدہ پانی فراہم کر چکا ہے، جبکہ قومی گرڈ کو 586 ارب یونٹس کم لاگت، ماحول دوست اور صاف توانائی بھی مہیا کی جا چکی ہے۔
واپڈا کے مطابق تربیلا ڈیم نے 1974 سے اب تک پاکستان کو تقریباً 460 ارب امریکی ڈالر کے معاشی فوائد فراہم کیے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا سعودی عرب اور پاکستان سے اسرائیل کے ساتھ ابراہم معاہدے میں شمولیت کا مطالبہ
کاشف عباسی ,May 25 ,2026
واشنگٹن/ نیوز اینڈ نیوز
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب، پاکستان اور دیگر مسلم ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کیلئے ابراہم معاہدوں میں شامل ہوں، جبکہ انہوں نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل کو بھی اسی تناظر میں جوڑ دیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر جاری اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی اور ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے بعد خطے کے ممالک کیلئے ابراہم معاہدوں میں شمولیت ایک ’’قدرتی اور ضروری اگلا مرحلہ‘‘ ہونا چاہیے۔
امریکی صدر کے مطابق انہوں نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب، پاکستان، قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین، مصر، ترکیہ اور دیگر ممالک کی قیادت سے رابطے کیے، جن میں خطے کی صورتحال اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی پر گفتگو ہوئی۔
انہوں نے خاص طور پر سعودی عرب اور قطر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کو فوری طور پر اسرائیل کے ساتھ ابراہم معاہدوں پر دستخط کے عمل کا آغاز کرنا چاہیے، جبکہ دیگر ممالک کو بھی ان کی پیروی کرنی چاہیے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر کوئی ملک ابراہم معاہدوں میں شامل ہونے کیلئے تیار نہیں، تو اسے ایران کے ساتھ مجوزہ امن ڈیل کے عمل میں بھی شامل نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اس سے ’’خراب نیت‘‘ ظاہر ہوتی ہے۔
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر ایران امریکہ کے ساتھ معاہدہ کر لیتا ہے تو مستقبل میں ایران کا خود ابراہم معاہدوں میں شامل ہونا بھی ممکن ہو سکتا ہے، جو ان کے بقول مشرقِ وسطیٰ کو دنیا کا ’’سب سے زیادہ متحد، طاقتور اور معاشی طور پر مضبوط خطہ‘‘ بنا دے گا۔
امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ نے خطے میں ایک انتہائی پیچیدہ سفارتی بحران کو حل کرنے کیلئے غیر معمولی کوششیں کی ہیں، اس لیے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کو امن عمل کا حصہ سمجھا جانا چاہیے۔
انہوں نے ابراہم معاہدوں کے فوائد بیان کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان جیسے ممالک کو ان معاہدوں کے بعد معاشی، تجارتی اور سفارتی سطح پر نمایاں فوائد حاصل ہوئے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ خطے میں حالیہ کشیدگی اور ایران کے ساتھ جنگ جیسے حالات کے باوجود کسی بھی رکن ملک نے ابراہم معاہدوں سے علیحدگی یا ان کی معطلی کی بات نہیں کی، جو ان معاہدوں کی مضبوطی اور اہمیت کا ثبوت ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے دورۂ چین کے دوران چینی صدر شی جن پنگ سے اہم ملاقات کی، جس میں پاک چین تعلقات، خطے کی سکیورٹی صورتحال، اقتصادی تعاون اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی سمیت متعدد اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ دوطرفہ تعاون کو تجارت، سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی اور علاقائی استحکام کے شعبوں تک مزید وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
چینی صدر شی جن پنگ نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان کے ساتھ اپنی تاریخی اور برادرانہ دوستی کو ہمیشہ خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دے کر ایسی مضبوط اور ناقابلِ شکست دوستی قائم کی ہے جو عالمی سفارتکاری میں ایک منفرد مثال سمجھی جاتی ہے۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں علاقائی اور عالمی صورتحال، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امن و استحکام کی کوششوں پر بھی گہری گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر چینی صدر نے ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ کم کرنے کیلئے پاکستان کے سفارتی اور ثالثی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور مذاکرات کے فروغ کیلئے مثبت اور ذمہ دار کردار ادا کر رہا ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے چینی قیادت کی جانب سے پاکستان پر اعتماد اور مسلسل تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاک چین تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی دوستی صرف حکومتوں تک محدود نہیں بلکہ عوام کے دلوں میں رچی بسی ایک لازوال شراکت داری ہے۔
وزیرِ اعظم نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ پاکستان چین کے ساتھ اقتصادی تعاون، صنعتی ترقی، سی پیک کے دوسرے مرحلے، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور علاقائی رابطہ کاری کے منصوبوں کو مزید تیز رفتاری سے آگے بڑھائے گا۔
ملاقات کو دونوں ممالک کے تعلقات کیلئے انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ سفارتی حلقوں کے مطابق اس سے پاک چین تعاون کے نئے دروازے کھلنے اور خطے میں مشترکہ امن و ترقی کے وژن کو مزید تقویت ملنے کی توقع ہے۔