بنگلہ دیشی پاسپورٹ پر ‘سوائے اسرائیل’ کے الفاظ کی بحالی کا باضابطہ فیصلہ؛ رواں ماہ سے نئے پاسپورٹس کی چھپائی کا آغاز

محمود احمد, JULY 21,2026

ڈھاکہ (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

بنگلہ دیش کی وزارتِ داخلہ نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ رواں ماہ سے ایسے نئے پاسپورٹس کی چھپائی شروع کی جا رہی ہے جن پر ماضی کی طرح یہ عبارت دوبارہ درج ہوگی کہ “یہ پاسپورٹ سوائے اسرائیل کے دنیا کے تمام ممالک کے لیے مؤثر ہے”۔

‘عرب نیوز’ کے مطابق، بنگلہ دیشی وزارتِ داخلہ کے ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹر ضیاء الدین احمد نے بتایا کہ اس فیصلے کے اطلاق کے لیے سرکاری حکم نامہ جاری کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ نئے پاسپورٹس کی چھپائی رواں جولائی کے مہینے سے شروع کر دی جائے گی اور شہریوں کو ان کا باضابطہ اجرا رواں سال اکتوبر سے متوقع ہے۔

وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ پاسپورٹ پر کی جانے والی یہ بنیادی تبدیلی حکومتِ بنگلہ دیش کے سیاسی موقف کی عکاسی کرتی ہے، جو دنیا بھر کو یہ واضح پیغام دیتی ہے کہ بنگلہ دیشی قوم اپنے مظلوم فلسطینی بہن بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام عوامی جذبات اور خواہشات کی حقیقی ترجمانی ہے۔

واضح رہے کہ سال 2021ء تک بنگلہ دیشی پاسپورٹ پر یہ تاریخی عبارت درج تھی، تاہم سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت نے ای-پاسپورٹ متعارف کراتے وقت اس شق کو خاموشی سے حذف کر دیا تھا۔ اکتوبر 2023ء میں غزہ میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے بنگلہ دیشی عوام کی جانب سے اس شق کی فوری بحالی کے مطالبات میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، جس پر موجودہ حکومت نے عملدرآمد یقینی بنایا ہے۔

کویت میں امریکی فوج کے ریڈار سسٹمز اور راکٹ لانچنگ تنصیبات پر حملہ؛ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ

کاشف عباسی , JULY 21,026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے منگل کی صبح ایک جاری بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کویت میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر کارروائی کرتے ہوئے اہم ریڈار سسٹمز اور دفاعی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘بی بی سی’ کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ کویت کے احمد الجابر ایئر بیس پر کیے گئے اس حملے میں امریکی فوج کے وہ اہم ریڈار اور دفاعی نظام تباہ کر دیے گئے ہیں جو کسی بھی فضائی حملے کی پیشگی اطلاع دینے اور ان کا تدارک کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ ایرانی فورسز کے مطابق، ان دفاعی سسٹمز کو ناکارہ بنانے کے بعد ایران کے مزید ڈرونز اور میزائل حملوں کے لیے راستہ صاف ہو گیا ہے۔

اس کے علاوہ، ایرانی فوج کے بری دستوں نے ‘آپریشن صاعقہ’ کے 18 ویں مرحلے کے تحت زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے کویت کے عارف جان اڈے کو بھی نشانہ بنایا۔ اس کارروائی میں وہاں تعینات امریکی فوج کے جدید اور متحرک راکٹ لانچنگ سسٹم (ایچ آئی ایم اے آر ایس) کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ایرانی فوج کی جانب سے اس کارروائی کے ثبوت کے طور پر میزائلوں کے برسات کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے۔

دوسری جانب، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) اور کویتی حکام کی طرف سے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ان ادعاؤں پر فی الحال کوئی رسمی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

قابلِ تجدید توانائی، سیاحت، صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے وفاق کا تعاون جاری رہے گا؛ 100 میگاواٹ سولر منصوبے، دانش اسکولز اور آسان خدمت سینٹر کے قیام کا اعلان

کاشف عباسی , JULY 21,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان میں قابلِ تجدید توانائی، سیاحت، بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر)، صحت، تعلیم اور دیگر اہم شعبوں میں مسلسل ترقیاتی اقدامات اٹھا رہی ہے اور خطے کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے نو منتخب صوبائی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کے لیے پرعزم ہے۔

وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے گلگت بلتستان کے نو منتخب وزیرِ اعلیٰ امجد حسین نے اسلام آباد میں اہم ملاقات کی۔ وزیرِ اعظم نے امجد حسین کو وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ملاقات میں گلگت بلتستان کے انتظامی و ترقیاتی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت کے جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں میں 100 میگاواٹ شمسی توانائی کا منصوبہ اور دانش اسکولز کا قیام سرِ فہرست ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان کے شہریوں کی سہولت اور تمام اداریاتی خدمات کی ایک ہی چھت تلے فراہمی کے لیے گلگت میں ‘پاکستان آسان خدمت سینٹر’ قائم کرنے کی بھی باقاعدہ منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

ملاقات کے دوران نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ بھی موجود تھے۔

دریائے چناب اور جہلم میں اونچے درجے کے سیلاب کا امکان؛ شمالی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ جبکہ بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ کا شدید خطرہ، تمام امدادی ادارے ہائی الرٹ

منصور احمد, JULY 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک بھر میں مون سون کے شدید اسپیل کے پیشِ نظر 24 جولائی تک سیلابی صورتِ حال، طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ کا ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ این ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق، شمالی علاقوں کے ندی نالوں میں طغیانی، پہاڑی شاہراہوں پر لینڈ سلائیڈنگ، پنجاب کے دریاؤں میں اونچے درجے کے سیلاب اور بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ کا شدید خطرہ موجود ہے۔

این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ الرٹ کے مطابق، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے دریاؤں اور مقامی ندی نالوں میں طغیانی کے علاوہ اچانک سیلابی ریلوں کا شدید خدشہ ہے۔ 21 سے 23 جولائی کے دوران چترال، ہنزہ، نگر اور اسکردو روڈ سمیت شمالی علاقوں کی اہم ترین اور تزویراتی شاہراہوں پر لینڈ سلائیڈنگ اور پہاڑوں سے پتھر گرنے کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں، جس سے مواصلاتی نظام متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔

آبی صورتِ حال کی تفصیلات بتاتے ہوئے این ڈی ایم اے نے انتباہ کیا ہے کہ دریائے چناب اور دریائے جہلم میں اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے، جبکہ بھارت کے ڈیموں سے اضافی پانی چھوڑے جانے کے پیشِ نظر دریائے راوی اور دریائے ستلج میں بھی پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔ مزید برآں، راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ سمیت پنجاب کے اہم بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ ڈیرہ غازی خان اور بلوچستان کے برساتی نالوں میں بھی طغیانی کا شدید اندیشہ ہے۔

این ڈی ایم اے نے کسی بھی ناگہانی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے ملک بھر کی تمام ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اداروں اور متعلقہ شعبوں کو ہمہ وقت ہائی الرٹ رہنے کی سخت ہدایت کی ہے اور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور ندی نالوں کے قریب جانے میں احتیاط برتیں۔

پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ نارمل، کالا باغ اور خانکی کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب

روزینہ اسماعیل, JULY 21,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صوبے کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کے حوالے سے تازہ ترین صورتِ حال جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ فی الوقت نارمل ہے، تاہم دریائے سندھ میں کالا باغ اور دریائے چناب میں خانکی کے مقام پر نچلے درجے کی سیلابی صورتِ حال درج کی گئی ہے۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق، دریائے سندھ میں کالا باغ کے مقام پر پانی کی آمد دو لاکھ 69 ہزار کیوسک اور اخراج دو لاکھ 62 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح دریائے چناب میں خانکی کے مقام پر پانی کی آمد ایک لاکھ 13 ہزار کیوسک اور اخراج ایک لاکھ six ہزار کیوسک ہے، جبکہ تربیلا، تونسہ اور چشمہ کے مقامات پر پانی کا بہاؤ مکمل طور پر نارمل سطح پر ہے۔ دریائے چناب میں مرالہ، تریموں، پنجند اور قادر آباد کے مقامات پر بھی بہاؤ فی الحال نارمل ہے۔ اس کے علاوہ دریائے راوی میں جسڑ، شاہدرہ، ہیڈ سدھنائی اور بلوکی، جبکہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا، سلیمانکی اور ہیڈ اسلام پر بھی صورتِ حال کنٹرول میں ہے۔ تاہم، دریائے راوی اور چناب سے ملحقہ قدرتی نالوں بشمول بسنتر، ڈیک، ایک، پلکھو، بھمبر، ہلسی اور ڈورا میں سیلاب کا خطرہ موجود ہے اور وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ ڈیرہ غازی خان کی رودکوہیوں میں فی الحال پانی کا بہاؤ نارمل ہے، لیکن ناگہانی سیلاب (فلیش فلڈنگ) کا خطرہ بدستور موجود ہے۔

پی ڈی ایم اے کی رپورٹ میں انتباہ جاری کیا گیا ہے کہ 24 جولائی تک پنجاب کے مختلف دریاؤں میں پانی کی سطح میں مزید اضافے کا امکان ہے، جبکہ لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، سرگودھا، اوکاڑہ، ساہیوال، بہاولنگر اور راولپنڈی ڈویژن کے شہری علاقوں میں بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے۔

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ نے دریاؤں کے کچے کے علاقوں اور پاٹ میں مقیم شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومتِ پنجاب کی جانب سے ممکنہ متاثرہ علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپس فعال کر دیے گئے ہیں جہاں تمام بنیادی سہولیات، خوراک اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ خراب موسم اور سیلابی صورتِ حال کے پیشِ نظر تمام احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔

پورٹس اور بندرگاہوں کی جدید کاری حکومت کی اولین ترجیح؛ چینی سرمایہ کاروں کو میری ٹائم، لاجسٹکس اور گرین شپنگ میں سرمایہ کاری کی باضابطہ دعوت

منصور احمد, JULY 21,2026

بیجنگ/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری نے چین کے دارالحکومت بیجنگ میں منعقدہ مقتدر “ریجنل ٹرانزٹ ٹریڈ ہب انیشی ایٹو” سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو علاقائی تجارت اور لاجسٹکس کا انتہائی اہم مرکز قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے تزویراتی خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان جغرافیائی اور اقتصادی طور پر خطے کا سب سے بڑا تجارتی راہداری کا مرکز بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

بیجنگ میں تقریب سے خطاب کے دوران وفاقی وزیر جنید انوار چوہدری نے زور دے کر کہا کہ گوادر پورٹ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا سب سے اہم اور بنیادی اقتصادی محور ہے، جبکہ حکومتِ پاکستان اس وقت ملکی تمام بندرگاہوں کی جدید کاری اور ڈیجیٹلائزیشن کو اپنی اولین اور تادیبی ترجیح بنا چکی ہے۔ انہوں نے چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے میری ٹائم اور لاجسٹکس کے شعبوں میں کھل کر سرمایہ کاری کرنے کی باضابطہ دعوت دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ حکومت تمام غیر ملکی اور بالخصوص چینی سرمایہ کاروں کو مکمل شفاف، محفوظ اور سرمایہ کار دوست ماحول فراہم کر رہی ہے۔

وفاقی وزیرِ بحری امور نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ لاجسٹکس، ڈیجیٹل تجارت اور گرین شپنگ جیسے جدید شعبوں میں دونوں ممالک کے مابین باہمی تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک-چین تزویراتی شراکت داری اب ایک بالکل نئے معاشی و اقتصادی دور میں داخل ہو چکی ہے، جو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے میں پائیدار خوشحالی، باہمی تجارت اور مواصلاتی رابطہ سازی کو نچلی سطح تک فروغ دینے میں اہم ترین کردار ادا کرے گی۔

ہیٹی میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کے لیے ہیٹی کی قیادت میں تمام تر اقدامات کی حمایت پر زور؛ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کا اہم اور مقتدر بیان

محمود احمد, JULY 20,2026

نیویارک، اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

پاکستان نے ہیٹی کو درپیش سنگین اور کثیرالجہتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہیٹی کی اپنی قیادت اور ملکیت پر مبنی جامع تزویراتی حکمتِ عملی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام صرف سیاسی اتفاقِ رائے، مضبوط قومی سلامتی کے اداروں اور مربوط علاقائی و بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس میں ہیٹی سے متعلق بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ملک میں دیرپا استحکام کا تمام تر انحصار ہیٹی کے تمام متعلقہ فریقوں کی جانب سے دانشمندانہ سیاسی اور طرزِ حکمرانی سے متعلق تادیبی فیصلوں پر ہے۔ انہوں نے اس بات پر شدید زور دیا کہ متفقہ اور مقررہ مدت کے اندر آزادانہ، شفاف اور جامع انتخابات کے انعقاد کے لیے سازگار اور امن پسند ماحول پیدا کرنا انتہائی ناگزیر ہے۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے اپنے مقتدر خطاب میں ہیٹی میں امن و امان کی فوری بحالی، روز بروز بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال، خصوصاً خواتین اور بچوں پر مسلح گینگ تشدد کے تباہ کن اثرات سے نمٹنے کی تزویراتی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے ہتھیار پھینکنے، غیر مسلح کرنے، سابق جنگجوؤں کی بحالی اور انہیں معاشرے کے دھارے میں دوبارہ شامل کرنے کے عمل کو تیز کرنے کے ساتھ ساتھ اقوامِ متحدہ کے پابندیوں کے نظام پر مؤثر عملدرآمد کے ذریعے ہیٹی میں غیر قانونی ہتھیاروں اور بارود کی ترسیل کو فوری طور پر روکنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

پاکستانی وپاد کی جانب سے ہیٹی کے عوام اور حکومت کے لیے اپنی مکمل سفارتی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے صائب الفاظ میں کہا کہ کسی بھی دیرپا حل کے لیے ہیٹی کی اپنی قیادت پر مبنی عمل ہی ناگزیر ہے، جو باہمی مکالمے، تعاون اور مؤثر علاقائی و بین الاقوامی معاونت پر استوار ہو۔ انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر اس عزم کو دہرایا کہ پاکستان ہیٹی میں پائیدار امن، ترقی اور عوام کی خوشحالی کے قیام کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر اپنی تعمیری اور تادیبی معاونت جاری رکھے گا۔

پاک-کینیڈا تاریخی مشترکہ اعلامیہ جاری؛ تجارت، صاف توانائی، کان کنی اور زراعت میں تزویراتی تعاون کے فروغ پر مکمل اتفاق

محمود احمد, JULY 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

پاکستان اور کینیڈا نے دوطرفہ سفارتی، معاشی اور عوامی روابط میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کے مابین شراکت داری کو نئی تزویراتی بلندیوں پر لے جانے کے پختہ عزم کا اظہار کیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی مشترکہ اعلامیے کے مطابق، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی خصوصی دعوت پر کینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند نے ۲۰ جولائی ۲۰۲۶ء کو پاکستان کا اہم سرکاری دورہ کیا، جو کہ ان کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلا باضابطہ دورۂ پاکستان ہے۔ وزارتِ خارجہ میں دونوں رہنماؤں کے مابین ون آن ون ملاقات اور وفود کی سطح پر تفصیلی مذاکرات ہوئے جس میں دوطرفہ تعلقات اور عالمی و علاقائی امور کا احاطہ کیا گیا۔

مشترکہ اعلامیے کے مطابق، نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کینیڈین ہم منصب کو خطے میں جاری تنازعات کے حل کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں سے آگاہ کیا۔ وزیرِ خارجہ انیتا آنند نے پاکستان کے اس سفارتی کردار کو سراہا جس کے نتیجے میں تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت طے پائی۔ دونوں وزراء نے پائیدار جنگ بندی اور اس یادداشت کے تحت کیے گئے تمام وعدوں پر عمل درآمد پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے فروری ۲۰۲۶ء میں منعقد ہونے والے دوطرفہ مشاورتی اجلاس کے چھٹے دور کو انتہائی کامیاب قرار دیتے ہوئے تزویراتی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔ ملاقات میں کینیڈا میں مقیم ۳ لاکھ سے زائد پاکستانی نژاد افراد اور ۹ ہزار سے زائد پاکستانی طلبہ کی گراں قدر خدمات کو سراہتے ہوئے پارلیمانی، ثقافتی اور عوامی روابط کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

معاشی اور تجارتی شعبے میں دونوں وزراء نے غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ و فروغ کے معاہدے پر ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور مذاکرات جلد مکمل کرنے کے لیے باقاعدہ رابطے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا، جبکہ پاک-کینیڈا مشترکہ ورکنگ گروپ برائے تجارت و سرمایہ کاری کو بھی دوبارہ فعال کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ توانائی کے شعبے میں کینیڈین کمپنی جے سی ایم پاور کے ۲۴۰ میگاواٹ دھابیجی ہائبرڈ ونڈ سولر منصوبے کو تمام ضروری ریگولیٹری منظوری ملنے کا خیرمقدم کیا گیا، جو کے الیکٹرک کے اشتراک سے پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی کی فراہمی میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔ غذائی تحفظ کے حوالے سے دونوں رہنماؤں نے کینیڈین کینولا کی درآمد کے لیے نباتاتی صحت کی شرائط پر مبنی ایک نئے پروٹوکول پر دستخط کیے، جبکہ پاکستان کی نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی، ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اور کینیڈین فوڈ انسپیکشن ایجنسی کے مابین تکنیکی تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔

اعلامیے کے آخر میں واضح کیا گیا کہ فریقین نے عالمی سپلائی چینز میں اہم معدنیات کی تزویراتی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کان کنی کے شعبے اور معدنی تلاش میں کینیڈا کی مہارت سے فائدہ اٹھانے پر اتفاق کیا، جس کے تحت وزیرِ خارجہ انیتا آنند نے سینیٹر اسحاق ڈار کو ۲۰۲۷ء میں کینیڈا میں منعقد ہونے والی پی ڈی اے سی کانفرنس میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی۔ علاقائی امن و سلامتی، خاص طور پر افغانستان کی صورتحال اور دہشت گردی کے خطرات پر تبادلۂ خیال کرتے ہوئے کینیڈین وزیرِ خارجہ نے اعلان کیا کہ کینیڈا اقوامِ متحدہ اور انٹرپول کے ذریعے پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ تعلیم، صحت اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے نئے ترقیاتی منصوبوں کی معاونت بھی کی جائے گی۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک-کینیڈا تعلقات اب ایک بالکل نئے اور مستحکم دور میں داخل ہو چکے ہیں۔

امریکا سے جنگ کا خاتمہ صرف عسکری فتح یا برتری پر مبنی مذاکرات سے ہی ممکن ہے؛ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا مقتدر انتباہ

کاشف عباسی , JULY 20,026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید ترین عسکری تصادم کے مقتدر تناظر میں ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے تہران اور واشنگٹن کے مابین جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم تزویراتی موقف سامنے رکھا ہے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ امریکا کے ساتھ جاری یہ جنگ صرف اسی صورت میں ختم ہو گی جب ایران کو میدانِ جنگ میں واضح برتری حاصل ہو گی، کیونکہ جنگ کا خاتمہ یا تو مکمل عسکری فتح کے ذریعے ممکن ہوتا ہے یا پھر برابری اور برتری کی بنیاد پر ہونے والے مذاکرات کے ذریعے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سفارتی مذاکرات کا درست وقت تب ہی ہوتا ہے جب آپ فوجی محاذ پر ٹھوس میدانی اور تزویراتی کامیابیاں حاصل کر چکے ہوں۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے ملکی قیادت کی حکمتِ عملی کی تادیبی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی زندگیوں اور ملک کے مستقبل کے معاملے میں کوئی خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا، اور تمام فیصلے درست اور مکمل حساب کتاب کی بنیاد پر کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت کو ہر وقت یہ تزویراتی جائزہ لینا چاہیے کہ جنگ جاری رکھنے سے ملک کو فائدہ ہو گا یا اس کی قیمت زیادہ بھاری پڑے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ نقصانات کے باوجود اس جنگ میں ایران ایک مؤثر بین الاقوامی طاقت کے طور پر ابھرا ہے اور اس نے دنیا پر اپنے نظام کی مضبوطی کو ثابت کیا ہے۔ دوسری جانب، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے واشنگٹن کا موقف دہراتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کے ساتھ تنازع کو حل کرنے کے لیے ماضی میں کئی بار مذاکرات کی کوشش کی ہے اور وہ اب بھی اس سفارتی راستے کو کھلا رکھنے کے حق میں ہیں۔

ادھر جنگ کے مقتدر محاذ پر ایرانی فوج کے ترجمان نے ایک انتہائی سخت تادیبی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دشمن کو سخت اور مکمل سبق نہ دیا گیا تو وہ دوبارہ حملہ کرے گا۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ ایران کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی دشمن جنگی سامان آبنائے ہرمز کے ذریعے لانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی، اور امریکا کے ساتھ عسکری معاونت کرنے والے تمام ممالک کو آبنائے ہرمز کے بحری راستے کو استعمال کرنے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا ہو گا۔ یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کی شب مسلسل نویں رات بھی ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں کی گئیں، جن میں ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، بحری صلاحیتوں اور میزائل و ڈرون لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔

اس کے جواب میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے ایک مقتدر تزویراتی کارروائی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اردن کے عقبہ ایئرپورٹ پر موجود امریکی فوج کے بھاری ٹرانسپورٹ طیاروں اور نگرانی کرنے والے طیاروں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد طیاروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایرانی نشریاتی اداروں کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب نے اردن کے موفق السلطی ایئر بیس پر امریکی افواج کے زیرِ استعمال 20 ہینگرز کو بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ایک اور تادیبی بیان میں کویت کے علی السالم ایئر بیس پر موجود امریکی فوجی تنصیبات کو بھی کامیابی سے نشانہ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے، جس سے خطے میں جنگ کے مزید پھیلنے کے شدید خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔

برطانیہ میں نئے سیاسی و معاشی دور کا آغاز؛ نو منتخب وزیرِ اعظم اینڈی برنہم کا حکومت بنانے کی دعوت قبول کرنے کے بعد قوم سے پہلا مقتدر خطاب

محمود احمد, JULY 20,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

برطانیہ کے نو منتخب وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے باقاعدہ طور پر حکومت بنانے کی شاہی دعوت قبول کر لی ہے اور ۱۰ ڈاؤننگ اسٹریٹ میں داخل ہوتے ہی اپنے پہلے مقتدر خطاب میں ملک کے لیے ایک بالکل نئے سیاسی و معاشی ماڈل کا اعلان کر دیا ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق، نئے برطانوی وزیرِ اعظم نے قوم سے پختہ وعدہ کیا ہے کہ ان کی حکومت کی پہلی، بنیادی اور تزویراتی ترجیح صرف اور صرف عوام کی فلاح و بہبود ہو گی۔

وزیرِ اعظم کی سرکاری رہائش گاہ میں قدم رکھتے ہی اینڈی برنہم نے اپنے تادیبی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے حکومت بنانے کی دعوت قبول کر لی ہے اور اب ہمیں پوری دنیا کو یہ دکھانے کی ضرورت ہے کہ ہم برطانیہ میں سیاسی و معاشی استحکام واپس لا سکتے ہیں۔ انہوں نے صائب الفاظ میں کہا کہ یہ لمحات برطانیہ کی تاریخ میں ایک سرکٹ بریکر ثابت ہوں گے؛ ماضی میں ہم اتنے اچھے ثابت نہیں ہو سکے، لیکن اب ہمیں خود کو بہتر بنانا ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ لمحہ تدبر، کڑے خود احتسابی اور ایک نئے تزویراتی عزم کا ہے تاکہ برطانیہ اپنا کھویا ہوا عالمی وقار دوبارہ حاصل کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی رواں سال کے آخر میں ملک کے لیے ایک جامع ۱۰ سالہ ترقیاتی منصوبہ پیش کرے گی، جبکہ عوام کو مہنگائی اور زندگی کے بھاری اخراجات کے بوجھ سے فوری نجات دلانے کے لیے پہلے ہی مرحلے میں ہنگامی اقدامات کا اعلان کیا جائے گا۔

برطانوی وزیرِ اعظم نے اپنے انقلابی اور فلاحی ایجنڈے کو واضح کرتے ہوئے اعلان کیا کہ دفتر سنبھالتے ہی ان کی پہلی ہدایت یہ ہو گی کہ ملک میں سڑکوں اور کھلے آسمان تلے سونے والے بے گھر افراد کے سنگین مسئلے کا مستقل بنیادوں پر خاتمہ کیا جائے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ غریب عوام کی دیکھ بھال کو حکومت کے دل میں رکھا جائے گا، اور اس مقصد کے لیے حکومت غریب اور کم آمدن والے طبقات کے لیے بڑی تعداد میں نجی و سرکاری کونسل ہاؤسز تعمیر کرے گی تاکہ ملک کے ہر ضرورت مند شہری کو چھت میسر آ سکے اور برطانیہ کو ایک حقیقی فلاحی ریاست بنایا جا سکے۔

فرانس کے کیلین ایمباپے نے نئی تاریخ رقم کر دی؛ دو بار عالمی کپ کا گولڈن بوٹ ایوارڈ جیتنے والے دنیا کے پہلے فٹ بالر بن گئے

محمود احمد, JULY 20,2026

ایسٹ ردرفورڈ، نیوجرسی (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

فرانس کے مایہ ناز فٹ بالر اور قومی ٹیم کے کپتان کیلین ایمباپے نے ایک سے زائد بار عالمی کپ کا ‘گولڈن بوٹ’ ایوارڈ حاصل کرنے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی بن کر فٹ بال کی تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف سے لکھوا دیا ہے۔ کیلین ایمباپے فٹ بال ورلڈ کپ کی تاریخ کے وہ پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں جنہوں نے دو مختلف ٹورنامنٹس میں سب سے زیادہ گول اسکور کرنے کا مقتدر اعزاز اپنے نام کیا ہے۔

چینی خبر رساں ادارے ‘شنہوا’ کے مطابق، 23 ویں فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں اسپین کے ہاتھوں ارجنٹائن کی 1-0 سے شکست کے بعد کیلین ایمباپے کی یہ تاریخی کامیابی باضابطہ طور پر سامنے آئی، کیونکہ فائنل معرکے میں ارجنٹائن کے اسٹار کھلاڑی لیونل میسی کوئی گول اسکور نہ کر سکے۔ چار سال قبل قطر میں کھیلے گئے ورلڈ کپ میں 8 گولز کے ساتھ یہ مقتدر اعزاز جیتنے والے کیلین ایمباپے نے اس بار امریکی سرزمین پر کھیلے گئے ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے اکیلے 10 گول داغے اور مزید 4 گول کرنے میں اپنے ساتھی کھلاڑیوں کی معاونت کی۔ فرانس کی ٹیم اس میگا ایونٹ میں چوتھی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔

دوسری جانب، ارجنٹائن کے مقتدر کپتان لیونل میسی کا اس ورلڈ کپ میں سفر 8 گول اور 4 گول اسسٹ کے ساتھ ختم ہوا۔ اگرچہ ارجنٹائن کو فائنل میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، لیکن 39 سالہ لیونل میسی اب بھی عالمی کپ کے بہترین کھلاڑی کو دیے جانے والے ‘گولڈن بال’ ایوارڈ کی دوڑ میں سب سے اہم نام سمجھے جا رہے ہیں۔ لیونل میسی پہلے ہی فٹ بال کی تاریخ میں 1978ء سے شروع ہونے والے اس مقتدر گولڈن بال ایوارڈ کو ایک سے زائد بار جیتنے والے دنیا کے واحد کھلاڑی ہیں اور اس بار بھی وہ اس اعزاز کو حاصل کرنے کے مضبوط امیدوار ہیں۔

سنگین مقدمات کی تفتیش اور اشتہاری مجرمان کے خلاف بلاامتیاز کارروائیوں کی ہدایت؛ سیف سٹی اور جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال یقینی بنانے کا حکم

منصور احمد, JULY 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد پولیس سید علی ناصر رضوی کی زیرِ صدارت پیر کے روز ایک مقتدر اور اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔ اس تزویراتی اجلاس میں ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز محمد عتیق طاہر، ڈی جی سیف سٹی محمد ہارون جوئیہ، ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق، ڈی آئی جی سکیورٹی رانا عمر فاروق اور دیگر سینئر پولیس افسران نے شرکت کی۔

ترجمان اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری کردہ آفیشل اعلامیے کے مطابق، اجلاس کے دوران وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کے قیام، جرائم کے خاتمے کے لیے جاری اقدامات، سنگین مقدمات میں تفتیشی پیش رفت، اشتہاری و عادی مجرمان کے خلاف جاری تادیبی کارروائیوں، خفیہ اطلاعات پر مبنی پولیسنگ، جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال، سیف سٹی کیمروں کے ذریعے نگرانی کے نظام، فوری جوابی کارروائی، مختلف شعبوں کے مابین رابطہ کاری اور شہریوں کو بروقت خدمات کی فراہمی جیسے اہم امور کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پر آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے تمام افسران کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کا امن ہر صورت برقرار رکھا جائے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں میں مزید تیزی لائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اشتہاری مجرمان اور عادی ملزمان کے خلاف بلاامتیاز تادیبی کارروائیاں کی جائیں، اور تمام زیرِ تفتیش مقدمات کو مکمل طور پر میرٹ پر یکسو کرتے ہوئے مضبوط شواہد کے ساتھ چالان عدالتوں میں پیش کیے جائیں تاکہ ملزمان کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلائی جا سکے۔ انہوں نے مزید تاکید کی کہ جدید ٹیکنالوجی اور سیف سٹی کے جدید نگرانی کے نظام سے بھرپور فائدہ اٹھا کر جرائم کی روک تھام کو یقینی بنایا جائے۔ آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ شفاف تحقیقات، مؤثر پولیسنگ، کڑا احتساب، قانون کی بلاامتیاز عملداری اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اسلام آباد پولیس کی اولین اور مقتدر ترجیحات میں شامل ہے۔

فیکٹری کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سیمنٹ اور اسٹیل پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ غیر قانونی؛ سپریم کورٹ نے محکمہ ان لینڈ ریونیو کی اپیل منظور کر لی

کاشف عباسی , JULY 20,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ٹیکس قوانین کے حوالے سے ایک انتہائی مقتدر اور تزویراتی فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ فیکٹری یا کسی بھی صنعتی ڈھانچے کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سیمنٹ اور اسٹیل پر ٹیکس کی واپسی یا ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ قانون کے مطابق بالکل قابلِ قبول نہیں ہے، جبکہ سیلز ٹیکس قوانین کی تشریح سے متعلق معاملات محض حقائق کا تنازع نہیں بلکہ انتہائی اہم اور بنیادی قانونی سوالات ہیں۔ عدالتِ عظمیٰ نے محکمہ ان لینڈ ریونیو کی اپیل منظور کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ اور اپیلیٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو کے سابقہ فیصلوں کو سراسر کالعدم قرار دے کر محکمے کا اصل فیصلہ بحال کر دیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل تین رکنی مقتدر بینچ نے کمشنر ان لینڈ ریونیو زون ٹو، لارج ٹیکس پیئرز یونٹ کراچی کی جانب سے باوانی شوگر ملز لمیٹڈ کے خلاف دائر سول اپیل کا تفصیلی محفوظ فیصلہ جاری کیا۔ جسٹس عرفان سعادت خان کی جانب سے تحریر کردہ 12 صفحات پر مشتمل اس تزویراتی فیصلے کے مطابق، ٹیکس دہندہ کمپنی نے جولائی سے دسمبر 2013ء کے دوران اپنی فیکٹری کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سیمنٹ اور اسٹیل پر ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ کیا تھا، جسے محکمہ ان لینڈ ریونیو نے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء اور متعلقہ سرکاری نوٹیفیکیشنز کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا؛ تاہم بعد میں اپیلیٹ ٹریبونل اور سندھ ہائی کورٹ نے محکمے کے خلاف کمپنی کے حق میں فیصلے دیے تھے جنہیں اب سپریم کورٹ نے تادیبی طور پر معطل کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے مقتدر فیصلے میں اہم قانونی نکات واضح کرتے ہوئے قرار دیا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء کی متعلقہ دفعہ بنیادی طور پر صرف قابلِ ٹیکس اشیاء کی فراہمی پر لاگو ہوتی ہے، جبکہ فیکٹریوں اور دیگر غیر منقولہ تعمیرات کو کسی صورت قابلِ ٹیکس اشیاء قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے صائب الفاظ میں کہا کہ قانون کے تحت تعمیراتی سامان، خصوصاً سیمنٹ اور اسٹیل پر ٹیکس کی واپسی کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی کیونکہ یہ سامان مستقل طور پر غیر منقولہ جائیداد کا حصہ بن جاتا ہے۔ مزید برآں، عدالت نے واضح کیا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت ٹیکس کے دعوے کے لیے تمام کاروباری ادائیگیاں مقررہ بینکنگ چینل کے ذریعے ہونا ایک لازمی اور تادیبی شرط ہے، اور اس شرط پر عمل نہ ہونے کی صورت میں ٹیکس کا دعویٰ خود بخود خارج ہو جاتا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے یہ مقتدر قانونی اصول بھی دہرایا کہ قانون کے کسی نکتے پر فریق یا اس کے وکیل کی جانب سے نادانی میں کیا گیا اعتراف عدالت کو پابند نہیں کرتا کیونکہ قانون کے خلاف کوئی عذر قبول نہیں ہو سکتا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کی درست اور شفاف تشریح کرنا عدالت کی آئینی ذمہ داری ہے، اس لیے کسی سرکاری نمائندے کی قانونی رعایت کو بنیاد بنا کر آئین و قانون سے انحراف نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے رولنگ دی کہ سندھ ہائی کورٹ اور اپیلیٹ ٹریبونل نے معاملے کو محض حقائق کا تنازع قرار دے کر فاش غلطی کی، چنانچہ دونوں بنیادی قانونی سوالات محکمہ ان لینڈ ریونیو کے حق میں اور ٹیکس دہندہ شوگر مل کے خلاف طے کرتے ہوئے کمپنی کا دعویٰ مستقل طور پر مسترد کر دیا گیا ہے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کا وسطی ایشیائی اور دوست ممالک کے طلبہ کے لیے علامہ محمد اقبال اسکالرشپ پروگرام کا مقتدر اعلان

روزینہ اسماعیل, JULY 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے پاکستان کے تزویراتی سفارتی و تعلیمی روابط کو فروغ دینے کے لیے وسطی ایشیائی اور دیگر دوست ممالک کے بین الاقوامی طلبہ کے لیے “علامہ محمد اقبال اسکالرشپ پروگرام” کے تحت پاکستان میں مکمل مالی معاونت کے ساتھ چار سالہ بی ایس ڈگری پروگرام میں داخلوں کے لیے باضابطہ مقتدر درخواستیں طلب کر لی ہیں. یہ اسکالرشپ پاکستان کی مقتدر اور عالمی معیار کی جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند غیر ملکی طلبہ کو فراہم کی جائے گی.

ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ تادیبی تفصیلات کے مطابق، اس اسکالرشپ کے تحت انجینئرنگ و ٹیکنالوجی، کمپیوٹر سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی، معاون طبی علوم ، کاروبار و معاشیات، زراعت، سماجی علوم، غذائی تحفظ ، بین الاقوامی تعلقات ، ذرائع ابلاغ اور مختلف زبانوں سمیت متعدد اہم شعبوں میں تعلیم کے وسیع مواقع دستیاب ہوں گے. اسکالرشپ پیکیج کے مقتدر نکات کے مطابق منتخب طلبہ کی مکمل ٹیوشن فیس، ہاسٹل میں رہائش، ماہانہ معقول وظیفہ، ڈگری پروگرام کے دوران ایک مرتبہ اپنے ملک سے پاکستان آمد و رفت کے ہوائی سفر کے اخراجات اور پاکستان میں ابتدائی آباد کاری کے لیے خصوصی یکمشت مالی معاونت شامل ہے.

اہلیت کے مروجہ معیار کے مطابق، بین الاقوامی امیدواروں کے لیے اے لیول یا اس کے مساوی تعلیمی قابلیت میں کم از کم 60 فیصد نمبر ہونا لازمی ہے، جبکہ انجینئرنگ پروگراموں میں داخلے کے خواہشمند طلبہ کے لیے 65 فیصد نمبروں کی تادیبی شرط رکھی گئی ہے. اس کے علاوہ منتخب امیدواروں کو پاکستان پہنچنے کے بعد انٹر بورڈ کمیٹی آف چیئرمینز (آئی بی سی سی) سے اپنی تعلیمی مساواتی سند بھی لازمی طور پر حاصل کرنا ہوگی. ہائر ایجوکیشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ اس مقتدر بین الاقوامی اسکالرشپ پروگرام کے لیے آن لائن درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 10 اگست 2026ء مقرر کی گئی ہے.

حفظِ مراتب (وارنٹ آف پریسیڈنس) میں ترامیم کے لیے وزیرِ اعظم کی جانب سے اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل؛ وفاقی وزیرِ قانون کمیٹی کے چیئرمین مقرر

منصور احمد, JULY 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

وزیرِ اعظم پاکستان نے ملک میں سرکاری و آئینی عہدوں کے حفظِ مراتب (وارنٹ آف پریسیڈنس) میں مجوزہ ترامیم پر تفصیلی غور و خوض کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی مقتدر کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق، وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کو اس اہم تزویراتی کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ اس کمیٹی کو بنیادی طور پر یہ مقتدر مینڈیٹ تفویض کیا گیا ہے کہ وہ وارنٹ آف پریسیڈنس کی موجودہ قانونی حیثیت کا گہرائی سے جائزہ لے اور سپریم کورٹ کے تاریخی ’مصطفیٰ امپیکس کیس‘ کے فیصلے کی روشنی میں ترامیم کے لیے مجاز اتھارٹی کا تعین کرے۔

اس اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کے ڈھانچے میں وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور، وفاقی وزیر برائے قومی صحت و خدمات اور مشیرِ وزیرِ اعظم برائے پی ایم او کو بطور ارکان شامل کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ انتظامی امور کو منظم کرنے کے لیے سیکریٹری کیبنٹ ڈویژن کمیٹی کے رکن اور سیکریٹری ہوں گے جبکہ سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن بھی اس کمیٹی کا حصہ ہیں۔ کمیٹی کو یہ خصوصی اور تادیبی اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ اپنی قانونی، آئینی اور انتظامی معاونت کے لیے کسی بھی وفاقی وزارت، ڈویژن یا ریاستی ادارے کے اعلیٰ افسر یا متعلقہ قانونی ماہر کو کمیٹی میں شامل کر سکتی ہے۔

کمیٹی کے تزویراتی دائرہ کار میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکریٹریٹ اور اس کے چیئرمین کی جانب سے دی گئی سابقہ سفارشات پر تفصیلی نظرثانی کرنا بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ کمیٹی ایسے ٹھوس اور شفاف قواعد و ضوابط تیار کرے گی جن کے تحت مستقبل میں کسی بھی سرکاری یا آئینی عہدے کو اس مقتدر لسٹ میں شامل، تبدیل یا حذف کیا جا سکے اور وارنٹ آف پریسیڈنس کو وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ کرنے کے لیے ایک مستقل اور خودکار طریقہ کار بھی تجویز کیا جائے گا۔ نوٹیفکیشن کے تحت کیبنٹ ڈویژن اس کمیٹی کو تمام سیکریٹریٹ سپورٹ فراہم کرے گی، جبکہ کمیٹی کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ملکی نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے ہر صورت 14 روز کے اندر اپنی حتمی سفارشات اور ترمیمی مسودہ وزیرِ اعظم کو پیش کرے۔

پاکستان میں صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کا عزم؛ وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ سے اقوامِ متحدہ کے وفد کی مقتدر ملاقات

منصور احمد, JULY 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

وفاقی وزیرِ قانون، انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے اقوامِ متحدہ کی خواتین کی تنظیم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے چیف آف اسٹاف محمد نصیری نے ایک مقتدر تزویراتی ملاقات کی ہے۔ وزارتِ قانون و انسانی حقوق میں ہونے والی اس ہائی پروفائل ملاقات میں حکومتِ پاکستان اور یو این ویمن کے مابین خواتین کے حقوق، صنفی مساوات، بچیوں کو بااختیار بنانے اور ملکی طرزِ حکمرانی میں خواتین کی شمولیت کے جاری منصوبوں کو مزید مستحکم کرنے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

جاری کردہ آفیشل پریس ریلیز کے مطابق، اقوامِ متحدہ کے اس اعلیٰ سطح کے وفد میں پاکستان کے لیے یو این ویمن کے کنٹری نمائندے جمشید ایم قاضی اور ڈپٹی کنٹری نمائندہ فہمیدہ اقبال خان بھی شامل تھے۔ وفد کا گرمجوشی سے خیرمقدم کرتے ہوئے وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے پاکستان کے سماجی شعبے میں اقوامِ متحدہ کے مسلسل تعاون کو سراہا اور خواتین کے حقوق کے تحفظ، انصاف تک رسائی کو بہتر بنانے اور مؤثر ترین تادیبی پالیسی سازی کے لیے وزارتِ انسانی حقوق اور یو این ویمن کے مابین قریبی شراکت داری پر روشنی ڈالی۔

ملاقات کے دوران خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کے خاتمے سے متعلق زیرِ غور ‘قومی پالیسی’ پر ہونے والی پیش رفت کا جامع جائزہ لیا گیا، جسے یو این ویمن کی تکنیکی معاونت سے صوبائی حکومتوں، سول سوسائٹی اور ماہرینِ تعلیم سے وسیع مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے اس جامع قومی پالیسی کو جلد حتمی شکل دینے اور اس پر مؤثر عمل درآمد کے لیے حکومت کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ فریقین نے آئندہ منعقد ہونے والی سارک کانفرنس پر بھی تبادلۂ خیال کیا اور اسے جنوبی ایشیا میں صنفی مساوات اور علاقائی تعاون کا ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔ اس کے علاوہ، پاکستان کے جینڈر ڈیٹا سسٹم کو مضبوط بنانے، بین الاقوامی کنونشن اور بیجنگ ڈیکلریشن کے تحت رپورٹنگ کو مؤثر بنانے سمیت خواتین کی ڈیجیٹل شمولیت، معاشی خود مختاری اور ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت کے فروغ پر بھی بات چیت کی گئی، تاکہ ٹیکنالوجی کے ذریعے خواتین کے خلاف ہونے والے آن لائن تشدد کا تدارک کیا جا سکے۔

ملاقات کے دوران محمد نصیری نے یو این ویمن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی جانب سے وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ کو ایک مقتدر تعریفی خط پیش کیا، جس میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کے کامیاب انعقاد اور آئندہ دو برس کے لیے کانفرنس کی چیئرمین شپ سنبھالنے پر پاکستان کے قائدانہ کردار کی زبردست تحسین کی گئی۔ محمد نصیری نے وزارتِ انسانی حقوق کے ساتھ مستقبل میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ وفاقی وزیر نے اعادہ کیا کہ پاکستان جامع و پائیدار ترقی کے حصول کے لیے یو این ویمن کے ساتھ اپنے تزویراتی اشتراک کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لیے مکمل تیار ہے۔

زیرِ تعمیر جوہری بجلی گھر پر امریکی حملہ؛ خطے میں پیدا ہونے والے عدم استحکام کی تمام تر ذمہ داری واشنگٹن پر عائد ہوتی ہے، ایران کا مقتدر انتباہ

محمود احمد, JULY 20,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے دارخوین میں زیرِ تعمیر جوہری بجلی گھر پر حالیہ امریکی حملے پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے واشنگٹن کو ایک مقتدر اور تزویراتی انتباہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ اس جارحیت اور عدم استحکام کے نتیجے میں خطے میں پیدا ہونے والی انتہائی سنگین صورتحال کی تمام تر ذمہ داری براہِ راست امریکی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے ‘بی بی سی’ کی عالمی رپورٹ کے مطابق، کاظم غریب آبادی نے اپنے تادیبی بیان میں کہا کہ دارخوین میں زیرِ تعمیر جوہری بجلی گھر پر امریکی حملہ دراصل ایران کے توانائی کے پُرامن انفراسٹرکچر پر ایک انتہائی خطرناک اور بلاجواز حملہ ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر جاری کردہ اپنے باضابطہ بیان میں ایرانی نائب وزیرِ خارجہ نے خبردار کیا کہ بڑھتی ہوئی علاقائی بدامنی کے اسباب صرف اور صرف امریکی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے صائب الفاظ میں کہا کہ تہران اس ننگی جارحیت کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور اپنے قومی مفادات، سالمیت اور علاقائی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ممکن اور مناسب تزویراتی اقدامات اٹھانے کا مکمل قانونی و ریاستی حق محفوظ رکھتا ہے۔

دوسری جانب، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے گزشتہ روز اپنے ایک مقتدر اعلامیے میں اعلان کیا تھا کہ اس نے دارخوین میں زیرِ تعمیر جوہری بجلی گھر کی تعمیراتی سائٹ پر ہونے والے مبینہ امریکی حملے کی رپورٹس کا باقاعدہ اور تادیبی جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ آئی اے ای اے کی جانب سے جاری بیان میں زمینی حقائق واضح کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ جوہری تنصیب ابھی تعمیر کے بالکل ابتدائی مراحل میں ہے اور ایجنسی کے آخری معائنے کے وقت وہاں کوئی بھی جوہری مواد سرے سے موجود نہیں تھا۔ ادارے نے عالمی برادری کو اطمینان دلایا ہے کہ اس مبینہ حملے سے کسی بھی قسم کی تابکاری پھیلنے کا کوئی امکان یا خطرہ نہیں ہے۔ دریں اثنا، آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رفائیل ماریانو گروسی نے تمام فریقین سے اپنی اس اپیل کا سختی سے اعادہ کیا ہے کہ دنیا بھر میں تمام جوہری تنصیبات کے قرب و جوار میں کسی بھی قسم کی فوجی کارروائیوں سے مکمل گریز کیا جائے اور انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا جائے۔

امریکہ صرف ان ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے جہاں سے عالمی تجارتی جہازوں پر حملے کیے جاتے ہیں؛ واشنگٹن اب بھی سفارتی حل کے لیے تیار ہے

محمود احمد, JULY 20,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

مشرقِ وسطیٰ اور آبنائے ہرمز میں جاری شدید ترین بحری و عسکری کشیدگی کے مقتدر تناظر میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا ایک اہم تزویراتی بیان سامنے آیا ہے. ‘انڈیپنڈنٹ اردو’ کی عالمی رپورٹ کے مطابق، امریکی وزیرِ خارجہ نے آسیان وزرائے خارجہ کے اہم ترین اجلاس میں شرکت کے لیے پیر کے روز فلپائن روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دنیا بھر کے دیگر مقتدر ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانے اور اس اہم ترین بحری راستے کو کھلا رکھنے کے لیے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں مخلصانہ طور پر ادا کریں.

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے پریس بریفنگ کے دوران واشنگٹن کی عسکری پالیسی کی تادیبی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج خلیج میں صرف اور صرف ان ایرانی فوجی تنصیبات، ٹھکانوں اور مقامات کو نشانہ بنا رہی ہیں جو عالمی تجارتی جہازوں پر میزائلوں اور خودکش ڈرونز کے ذریعے حملوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں. انہوں نے صائب الفاظ میں واضح کیا کہ آبنائے ہرمز ایک مکمل طور پر بین الاقوامی آبی راستہ ہے، لیکن تہران انتظامیہ مسلسل عالمی قوانین کو پامال کرتے ہوئے اسی آبی گزرگاہ میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف جارحانہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے. مارکو روبیو نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز کو عالمی معیشت کی بقا کے لیے ہر صورت آزاد، محفوظ اور ہر قسم کی رکاوٹ یا حملوں سے پاک رہنا چاہیے، اور اگر ایران جہاز رانی سے متعلق کسی بھی سابقہ مروجہ مفاہمتی انتظام یا بین الاقوامی معاہدے کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے، تو ایسے کسی بھی امن انتظام کا برقرار رہنا ناممکن ہو جاتا ہے.

تزویراتی تناؤ کو کم کرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ امریکہ خطے میں جنگ نہیں چاہتا اور اب بھی اس سنگین معاملے کے مقتدر سفارتی حل کے لیے مکمل تیار ہے. انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ہمیشہ سفارتی راستے کو ترجیح دی ہے اور ہم نے ایران کے ساتھ اس تنازع کو پرامن طور پر حل کرنے کی متعدد بار تادیبی کوششیں کی ہیں؛ چنانچہ اگر تہران کی جانب سے بامقصد مذاکرات کا دروازہ دوبارہ کھلتا ہے تو واشنگٹن اس کا بھرپور خیرمقدم کرے گا. مارکو روبیو نے ایران کی داخلی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس وقت تہران کو شدید ترین معاشی پابندیوں اور اندرونی و خارجی چیلنجز کا سامنا ہے، اور ان نازک حالات میں مزید عسکری محاذ آرائی کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کرنا ہی خود ایران اور پورے خطے کے بہترین مفاد میں ہے.

مسجدِ اقصی پر یہودی آباد کاروں کا ایک اور مقتدر دھاوا؛ قابض اسرائیلی افواج کی فلسطینیوں کے گھر مسمار کرنے کی دھمکیاں اور گرفتاریاں

محمود احمد, JULY 20,2026

مقبوضہ بیت المقدس (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

مقبوضہ بیت المقدس اور مسلمانوں کے قبلۂ اول مسجدِ اقصی پر صہیونی جارحیت کا سلسلہ بدستور تیز ہو گیا ہے. مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق، قابض اسرائیلی فورسز کی سخت سکیورٹی میں اتوار کے روز 214 انتہا پسند یہودی آباد کاروں نے مسجدِ اقصی پر ایک بار پھر تزویراتی دھاوا بولا. اس اشتعال انگیز کارروائی کے ساتھ ہی قابض اسرائیلی حکام کی جانب سے مسجد کی انتظامیہ کے ارکان کی جبری بیدخلی، فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری کے یکطرفہ نوٹسز اور شہر کے مختلف علاقوں میں مقتدر چھاپوں کا تادیبی سلسلہ بھی تیز کر دیا گیا ہے.

القدس گورنریٹ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیانیے کے مطابق، 214 یہودی آباد کاروں نے صبح اور دوپہر کے بعد دو مختلف اوقات میں منظم گروپس کی شکل میں مسجدِ اقصی کے تقدس کو پامال کیا، جو کہ یہاں بار بار ہونے والے صہیونی حملوں کا مقتدر تسلسل ہے. وادی حلوہ انفارمیشن سینٹر کے تادیبی اعداد و شمار کے مطابق، صرف گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مسجدِ اقصی پر دھاوا بولنے والے انتہا پسند یہودی آباد کاروں کی مجموعی تعداد 1639 تک پہنچ چکی ہے. مزید برآں، قابض حکام نے مقبوضہ بیت المقدس میں ہیئتِ عملِ قومی کے ممتاز رکن اور سرگرم سیاسی کارکن احمد الصفدی اور ناصر الہدمی سمیت کئی دیگر اہم مسلم شخصیات کو مسجدِ اقصی کی حدود سے جبری طور پر بیدخل کرنے کا مقتدر حکم نامہ جاری کیا ہے.

دوسری جانب، فلسطینی آبادی کو ہجرت پر مجبور کرنے کی تزویراتی پالیسی کے تحت قابض اسرائیلی افواج نے مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع قصبے کفر عقب میں 22 مکانات کے مالکان کو گھر خالی کرنے کے حتمی نوٹسز تھمائے ہیں، جنہیں مسماری کے لیے صرف ایک ہفتے کی مہلت دی گئی ہے؛ یہ مکانات ان 30 گھروں کا حصہ ہیں جن کے خلاف پہلے ہی انہدام کے احکامات جاری ہو چکے ہیں. اسی مقتدر کارروائی کے دوران اسرائیلی فورسز نے قلندیا کیمپ پر چھاپہ مار کر شہریوں کے گھروں میں توڑ پھوڑ کی اور ایک فلسطینی کو گرفتار کر لیا. گورنریٹ کے مطابق، قابض فوج نے قلندیا کیمپ میں پاپولر کمیٹی کی مقتدر عمارت اور خود القدس گورنریٹ کے سرکاری دفتر پر وحشیانہ قبضہ کر لیا اور احتجاج کرنے والے نہتے فلسطینیوں پر اندھا دھند آنسو گیس کے گولے اور ساؤنڈ بم برسائے، جبکہ بیت عنان اور بیت لقیا کو ملانے والی سڑک پر مستقل فوجی گیٹ کی تنصیب کے لیے سیمنٹ کے بھاری بلاکس رکھ کر راستے بلاک کر دیے ہیں.

اتر پردیش کے ضلع مظفر نگر میں افسوسناک واقعہ؛ زخمی ہسپتال منتقل، شمالی اور شمال مشرقی ریاستوں میں مزید بارشوں کا الرٹ جاری

کاشف عباسی , JULY 20,026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش میں مون سون کی شدید اور تباہ کن بارشوں کے باعث ایک مقتدر مکان کی چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے 5 افراد ہلاک اور 2 شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ چینی خبر رساں ادارے ‘شنہوا’ کے مطابق یہ انتہائی افسوسناک اور دلخراش واقعہ گزشتہ رات اتر پردیش کے ضلع مظفر نگر کے نواحی گاؤں حبیب پور میں پیش آیا، جہاں خستہ حال مکان موسلا دھار بارشوں کا دباؤ برداشت نہ کر سکا۔

مقامی پولیس حکام نے تادیبی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ملبے تلے دب کر ہلاک ہونے والوں میں بدقسمت خاندان کے 4 معصوم بچے بھی شامل ہیں، جن کی لاشیں ریسکیو اداروں نے نکال لی ہیں۔ واقعے میں شدید زخمی ہونے والے دیگر 2 افراد کو فوری طور پر قریبی مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا طبی علاج جاری ہے۔ مقتدر بھارتی محکمۂ موسمیات اور سول انتظامیہ نے صورتحال کی سنگینی کے پیشِ نظر آئندہ چند روز کے دوران ملک کے شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں مزید طوفانی اور شدید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے اور شہریوں کو مخدوش مکانات سے دور رہنے کی تادیبی ہدایات دی ہیں۔