پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی کینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند نے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے وزارتِ خارجہ میں ایک اعلیٰ سطح کی مقتدر اور تزویراتی ملاقات کی ہے۔ کینیڈین وزیرِ خارجہ کا منصب سنبھالنے کے بعد ان کا یہ پہلا باضابطہ دورۂ پاکستان دونوں ممالک کے مابین سفارتی و معاشی تعلقات کو نئی جہت دینے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
پیر کے روز وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ آفیشل اعلامیے کے مطابق، اس ہائی پروفائل ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے پاکستان اور کینیڈا کے دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کا جامع تادیبی جائزہ لیا، جبکہ موجودہ بدلتے ہوئے علاقائی ماحول اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاک-کینیڈا باہمی مفاد اور مشترکہ اقدار پر مبنی طویل مدتی شراکت داری کو مزید مستحکم اور مضبوط بنانے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقات میں دونوں وزرائے خارجہ نے تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، آئی ٹی اور عوامی روابط جیسے ترجیحی شعبوں میں باہمی تعاون کا دائرہ کار مزید وسعت دینے پر مکمل اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کے مابین طے پانے والے متفقہ مشترکہ اعلامیے کے مقتدر نکات پر عمل درآمد کی رفتار اور اب تک کی پیش رفت کا مسلسل جائزہ لینے کے لیے ہر سال باقاعدگی کے ساتھ اعلیٰ سطح کا سالانہ اجلاس منعقد کرنے کا ایک اہم تزویراتی فیصلہ بھی کیا گیا، جس سے دونوں ممالک کے مابین ادارہ جاتی روابط مزید منظم ہوں گے۔
پاکستان بھر میں جاری حالیہ شدید بارشوں، شمالی علاقوں میں برف پگھلنے کی رفتار تیز ہونے اور بھارت کی جانب سے روایتی آبی جارحیت کے تحت ڈیموں کے اسپل ویز کھولے جانے کے باعث ملک کے تمام بڑے دریاؤں میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہونے لگی ہے. متعلقہ تزویراتی اداروں اور واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کی جانب سے صورتحال کی مسلسل کڑی نگرانی کی جا رہی ہے، جبکہ دریاؤں میں پانی کا مجموعی بہاؤ اس وقت 4 لاکھ 54 ہزار کیوسک تک پہنچ چکا ہے.
ملکی سیلابی صورتحال کے تادیبی حقائق کے مطابق، مودی حکومت نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر قائم کیے گئے ڈیموں کے اسپل ویز کھول دیے ہیں، جس کے باعث دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک بڑھنا شروع ہو گیا ہے اور اس وقت وہاں ایک لاکھ 30 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے. دوسری جانب، دریائے سندھ میں بھی پانی کی آمد میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں تربیلا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 32 ہزار کیوسک، کالا باغ پر 2 لاکھ 43 ہزار کیوسک، چشمہ بیراج پر 2… لاکھ 47 ہزار کیوسک، تونسہ بیراج پر 2 لاکھ 10… لاکھ کیوسک، گڈو بیراج پر 1 لاکھ 64 ہزار کیوسک اور سکھر بیراج کے مقام پر 1 لاکھ 10… لاکھ کیوسک پانی کا بہاؤ ریکارڈ کیا گیا ہے. اس کے علاوہ دریائے جہلم میں بھی پانی کی آمد میں تیزی آئی ہے اور منگلا ڈیم پر پانی کا بہاؤ 57 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے، جبکہ ملکی ڈیموں میں پانی کا مجموعی ذخیرہ اس وقت 61 لاکھ ایکڑ فٹ تک جا پہنچا ہے.
ادھر اسکردو اور گلگت بلتستان کے دیگر شمالی علاقوں میں شدید گرمی کے باعث گلیشیئرز اور برف پگھلنے کا عمل انتہائی تیزی سے جاری ہے. اسکردو میں غیر معمولی گرمی کی وجہ سے درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث خطے میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور شدید لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں. اس ہنگامی صورتحال اور ممکنہ سیلابی خطرات کے پیشِ نظر دریائے سندھ میں تربیلا ڈیم کے اسپل ویز کو باقاعدہ کھول دیا گیا ہے اور متعلقہ حکام نے تزویراتی فیصلہ کیا ہے کہ شمالی علاقوں سے آنے والے تمام بڑے سیلابی ریلوں کو محفوظ اور تادیبی انداز میں تربیلا ڈیم میں ذخیرہ کیا جائے گا تاکہ ڈاؤن اسٹریم کے میدانی علاقوں کو ممکنہ تباہی اور سیلابی نقصانات سے ہر صورت محفوظ رکھا جا سکے.
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے زیرِ اہتمام پاکستان بھر کے طلبہ و طالبات کے لیے منعقدہ “سمر کیمپ 2026ء” کے شرکاء کے ساتھ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ایک انتہائی اہم اور مقتدر خصوصی نشست منعقد ہوئی۔ آئی ایس پی آر کے اس تزویراتی سمر کیمپ میں ملک بھر کے 18 سے زائد مختلف اسٹیشنز سے 4 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات نے بھرپور شرکت کی، جس کا بنیادی مقصد نوجوانوں میں قومی ہم آہنگی اور یکجہتی کے شعور کو بیدار کرنا تھا۔
خصوصی نشست سے خطاب اور طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ملکی سلامتی کو درپیش چیلنجز، ‘فتنہ الہندوستان’ اور ان کی مقامی پراکسیز کے حوالے سے تفصیلی تادیبی گفتگو کی۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں انکشاف کیا کہ بلوچستان میں بدامنی پھیلانے والی ان دہشت گرد تنظیموں کو بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ کی مکمل مالی و لاجسٹک پشت پناہی حاصل ہے۔ انہوں نے ہمسایہ ملک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان نے پاکستان کی جانب سے متعدد تنبیہات اور بین الاقوامی دوحہ معاہدے کے باوجود اپنی سرزمیں پر موجود ان دہشت گرد عناصر کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی، جو انتہائی تشویشناک ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے پختہ عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ قائم رہنے کے لیے بنا ہے، اور قومی اتحاد، یکجہتی، باہمی اعتماد اور ہمارے نوجوانوں کی مثبت سوچ ہی ایک مضبوط، مستحکم اور پرامن ملک کی اصل ضمانت ہے۔
اس مقتدر مکالمے کے دوران ملک بھر سے آئے ہوئے طلبہ و طالبات نے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سے صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے، سی پیک و دیگر شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری، افغان سرحد پر اسمگلنگ کی روک تھام اور سوشل میڈیا پر جاری منفی پروپیگنڈے سمیت دیگر اہم قومی امور پر کھل کر تیکھے سوالات کیے۔ سمر کیمپ کے شرکاء کا کہنا تھا کہ انہیں بلوچستان کی اصل صورتحال اور مختلف سوالات کے حقائق پر مبنی انتہائی مدلل جوابات موصول ہوئے ہیں۔ طلبہ نے آئی ایس پی آر کی اس تزویراتی کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ قومی ہم آہنگی، باہمی یکجہتی کے فروغ اور نوجوانوں کو ملکی دھارے میں شامل رکھنے کے لیے مستقبل میں بھی ایسے مقتدر مکالموں کا انعقاد انتہائی ضروری ہے۔
اسپین کی قومی فٹ بال ٹیم نے فیفا ورلڈ کپ 2026ء کے سنسنی خیز اور تزویراتی فائنل معرکے میں دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کو 1-0 سے شکست دے کر تاریخ کا ایک اور مقتدر عالمی اعزاز اپنے نام کر لیا ہے. امریکہ کی ریاست نیو جرسی کے تاریخی میٹ لائف اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل میچ میں ہسپانوی ٹیم نے کھیل کے پہلے منٹ سے لے کر اختتامی سیٹی بجنے تک میچ پر اپنا مکمل کنٹرول برقرار رکھا اور شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا.
ورلڈ کپ کے اس تاریخی فائنل میں اسپین نے اپنی روایتی اور منظم حکمتِ عملی کے تحت میچ کے آغاز سے ہی ارجنٹائن پر شدید دباؤ بنائے رکھا. اسپین کی ٹیم پورے میچ میں مسلسل اور جارحانہ حملے کرتی رہی، تاہم ارجنٹائن کے گول کیپر نے انتہائی شاندار اور غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسپین کے کئی یقینی گولز کو ناکام بنایا اور ارجنٹائن کو بڑے نقصان سے بچائے رکھا. دوسری جانب، دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کی ٹیم فائنل کے اس اہم ترین معرکے میں اپنی وہ روایتی اور مقتدر فارم نہ دکھا سکی جس کے لیے وہ دنیا بھر میں جانی جاتی ہے اور ہسپانوی اٹیک کے سامنے بے بس نظر آئی.
میچ کے پہلے ہاف میں ارجنٹائن کے گول کیپر کے بہترین دفاع کی بدولت مقابلہ بغیر کسی گول کے برابر رہا، تاہم دوسرے ہاف میں اسپین نے شاندار اور مربوط کمبینیشن پلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے بالاآخر ارجنٹائن کے دفاع کو توڑ ہی دیا اور فیصلہ کن گول اسکور کر دیا، جو میچ کے آخر تک فاتح گول ثابت ہوا. ارجنٹائن کی ٹیم نے آخری لمحات میں میچ برابر کرنے کی کوشش ضرور کی لیکن اسپین کے مضبوط دفاع نے ان کا کوئی بھی تادیبی حربہ چلنے نہ دیا. شاندار فتح کا مقتدر سائرن بجتے ہی اسپین کے کھلاڑی اور مداح جشن میں ڈوب گئے.
فیفا کی جانب سے مقررہ مروجہ انعامی رقم کے مطابق ورلڈ کپ 2026ء کی فاتح ٹیم اسپین کو 5 کروڑ امریکی ڈالر جبکہ رنر اپ رہنے والی ارجنٹائن کی ٹیم کو 3 کروڑ 30 لاکھ امریکی ڈالر کی بھاری انعامی رقم دی جائے گی. اسی طرح تیسری پوزیشن حاصل کرنے پر انگلینڈ کو 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالر اور چوتھی پوزیشن پر فرانس کو 2 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے انعامات دیے جائیں گے. اس عالمی تاریخی فتح کے بعد اسپین نے ایک بار پھر دنیا کی بہترین فٹ بال ٹیم ہونے کا مقتدر تاج سر پر سجا لیا ہے، جبکہ ارجنٹائن کا مسلسل دوسری بار عالمی چیمپئن بننے کا تزویراتی خواب ادھورا رہ گیا.
سابق وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی۔ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ سخت مقتدر خطاب اور ملک کے موجودہ سنگین سیاسی و آئینی بحران پر اپنے گہرے تزویراتی ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ملک کے فیصلہ سازوں اور مقتدر حلقوں کو موجودہ صورتحال کی سنگینی سے سخت خبردار کرتے ہوئے شدید تحمل، بردباری اور ٹھنڈے دماغ سے فیصلے کرنے کا مخلصانہ مشورہ دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک اہم تادیبی پیغام میں فواد چوہدری نے جمعیت لائر فورم کے کنونشن میں مولانا فضل الرحمان کی جانب سے مقتدر حلقوں کے خلاف کیے گئے سخت ترین خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی کے سربراہ کے اس حالیہ بیان اور دوٹوک مؤقف سے ملک کے مجموعی سیاسی ماحول کی تلخیوں میں پہلے سے کہیں زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ اس انتہائی نازک اور حساس وقت میں ملک مزید تلخیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا، بلکہ اس وقت شدید تحمل اور سیاسی بردباری کا مظاہرہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
ملک کے مقتدر حلقوں اور مقتدر فیصلہ سازوں کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ اس وقت مقتدر اشرافیہ کو بالکل ٹھنڈے دماغ کے ساتھ ملکی بقا کی خاطر سوچنا چاہیے۔ انہوں نے گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اس وقت سیاسی پارہ اس قدر ہائی کر دیا گیا ہے کہ ہر عقل، دانش اور آئین پسندی کی بات کرنے والے کو ‘بھسم’ کرنا یا سائیڈ لائن کرنا ہی مروجہ ریاستی حکمتِ عملی مان لیا گیا ہے، جو کہ ملکی مستقبل کے لیے انتہائی افسوسناک اور نقصان دہ ہے۔
موجودہ حکومتی اتحاد اور دیگر وفاقی سیاسی جماعتوں کے غیر سنجیدہ رویے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے فواد چوہدری نے مزید کہا کہ اس وقت ملک کی تمام نام نہاد وفاقی جماعتیں اس جاری سیاسی و آئینی جنگ کو صرف اور صرف اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر چھوڑ کر خود بالکل سائیڈ پر ہو چکی ہیں اور تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے تادیبی انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملک پہلے ہی تاریخ کے بدترین کثیر الجہتی بحرانوں کی زد میں ہے، لہٰذا اس تلخ اور کشیدہ سیاسی ماحول میں اب مزید کسی بھی قسم کا تادیبی اضافہ یا محاذ آرائی ریاست کے لیے بہت بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی۔ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے موجودہ سیاسی و مقتدر نظام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کھلا دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ انتخابات میں بدترین دھاندلی کے ذریعے پارلیمنٹ اور آئین کو یرغمال بنایا گیا ہے۔ اسلام آباد میں جمعیت لائر فورم کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک مقتدر اور بڑے وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ مقتدر حلقے ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور انہیں بلوچستان حکومت میں شمولیت سمیت خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت گرا کر جے یو آئی کی حکومت بنانے کی پیشکش کی گئی تھی، جسے انہوں نے صاف مسترد کر دیا۔ انہوں نے صائب الفاظ میں کہا کہ وہ لوٹوں کے سہارے اور مقتدر بیساکھیوں پر بیٹھ کر اس گھوڑے پر سوار ہونے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے اپنے خلاف جاری پروپیگنڈے پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ دائرہ اختیار اور غلط پالیسیوں سے اختلاف کرنے پر ان کی کردار کشی کی مہم چلائی جا رہی ہے، لیکن وہ کسی کے سامنے سرنڈر کرنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جس افسر کے آفس سے ان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا وہ فوری معافی مانگے۔ جے یو آئی کے سربراہ نے دل گرفتہ انداز میں کہا کہ انہوں نے باجوڑ دھماکوں سمیت اپنے علماء، اساتذہ اور 100 سے زائد کارکنوں کے جنازے اٹھائے ہیں، لیکن مقتدر حلقے کبھی ان کے جنازوں پر نہیں روئے، جبکہ وہ فوج کے ہر جنازے پر روئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ملک میں عدم اعتماد کی فضا خود مقتدر حلقوں کی غلط پالیسیوں نے پیدا کی ہے، جس کے باعث بنوں، لکی مروت اور ٹانک میں پولیس فورسز اور عوام کے اندر شدید ترین خلیج اور دوریاں جنم لے چکی ہیں۔
انہوں نے ماضی کے تزویراتی حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) میں بھی عوام سے البدر اور الشمس جیسے لشکر بنوائے گئے جس کے تلخ نتائج تاریخ کا حصہ ہیں، اور اب دوبارہ مقتدر حلقے عوام کو لشکر بنانے پر مجبور کر کے نئے دشمن پیدا کر رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے افسوس کا اظہار کیا کہ موجودہ خوشامدی حکمرانوں نے اپنے رویوں سے عوام، پارلیمنٹ اور آئین کو کمزور جبکہ اسٹیبلشمنٹ کو مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے تادیبی طور پر واضح کیا کہ اس وقت ریاست کی ساری توانائیاں عوامی فلاح کے بجائے صرف اور صرف اپنی سیاسی گرفت مضبوط کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں اور مقتدر طبقہ اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے شہدا کے خون کو بطور ایندھن استعمال کر رہا ہے۔
وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان نے بین الاقوامی آئینی عدالتی برادری میں ایک انتہائی مقتدر اور تزویراتی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ پاکستان کی نو تشکیل شدہ وفاقی آئینی عدالت کو “ترک دنیا کی آئینی عدالتوں کی کانفرنس میں متفقہ طور پر مبصر کی حیثیت سے مستقل رکنیت دے دی گئی ہے، جو کہ عالمی سطح پر ملکی عدالتی برادری کے بڑھتے ہوئے کردار اور مؤثر ترین روابط کا واضح ثبوت ہے۔
اتوار کے روز وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ آفیشل پریس ریلیز کے مطابق، ترک دنیا کی آئینی عدالتوں کی کانفرنس کا تزویراتی قیام 27 اپریل 2022ء کو استنبول (ترکیہ) میں عمل میں آیا تھا، جس کا بنیادی مقصد ترک ممالک کے مابین آئینی انصاف، قانون کی حکمرانی کو مستحکم کرنا اور عدالتی تجربات و بہترین آئینی فقہ کے تبادلے کو فروغ دینا ہے۔ اس اہم تنظیم کے مستقل اور مکمل ارکان میں ترکیہ، آذربائیجان، قازقستان، کرغزستان اور ازبکستان کی سپریم و آئینی عدالتیں شامل ہیں۔
ترک تنظیم کی جانب سے پاکستان کو مبصر کی حیثیت سے شامل کرنے کے اس مقتدر فیصلے سے متعلق جمہوریہ آذربائیجان کی آئینی عدالت کے چیئرمین اور کے موجودہ ٹرم صدر فرہاد عبداللایف نے وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کے چیف جسٹس امین الدین خان کے نام ایک باضابطہ مکتوب ارسال کیا۔ اس خط میں تصدیق کی گئی کہ تنظیم کے دستور کے آرٹیکل 10.4 کے تحت تمام رکن ممالک کی عدالتوں نے پاکستان کی شمولیت کی متفقہ منظوری دی ہے۔ فرہاد عبداللایف نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی ممتاز آئینی مہارت اور اعلیٰ ساکھ تنظیم کی سرگرمیوں میں مثبت کردار ادا کرے گی اور یہ شمولیت ادارہ جاتی روابط کو مزید مضبوط کرے گی۔
وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کے چیف جسٹس امین الدین خان نے اس مقتدر اور تاریخی پیش رفت کا شاندار خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان کی آئینی عدالتی روایت اور وفاقی آئینی عدالت پر بین الاقوامی برادری کے غیر متزلزل اعتماد کا مظہر قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے تادیبی بیان میں کہا کہ یہ رکنیت وفاقی آئینی عدالت کے قانون کی حکمرانی اور آئینی طرزِ حکمرانی کے فروغ کے عزم کی عکاس ہے۔ اس شمولیت سے پاکستان کو ترک دنیا کی عدالتوں کے ساتھ قریبی روابط استوار کرنے، علمی و ادارہ جاتی مکالمے میں شرکت اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے آئینی بالادستی اور بنیادی حقوق کے مؤثر تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے وسیع مواقع میسر آئیں گے۔
پاکستان اور کینیڈا کے مابین سفارتی و اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی خصوصی دعوت پر کینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند کل (20 جولائی) کو پاکستان کا اپنا پہلا مقتدر سرکاری دورہ کریں گی۔ وزارتِ خارجہ کا منصب سنبھالنے کے بعد انیتا آنند کا یہ دورۂ پاکستان دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔
اتوار کے روز دفترِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ آفیشل پریس ریلیز کے مطابق، اس ہائی پروفائل دورے کے دوران نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور کینیڈین وزیرِ خارجہ کے مابین اعلیٰ سطح کے دوطرفہ مقتدر مذاکرات ہوں گے۔ ان تزویراتی مذاکرات میں پاکستان اور کینیڈا کے باہمی تعلقات کے تمام سفارتی، سیاسی اور معاشی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، جبکہ دونوں رہنما تجارت، دوطرفہ سرمایہ کاری، اعلیٰ تعلیم، ہنر مند افرادی قوت کی منتقلی اور عوامی روابط کے کلیدی شعبوں میں تعاون کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لیے تادیبی روڈ میپ پر تبادلۂ خیال کریں گے۔ اس کے علاوہ باہمی دلچسپی کی موجودہ علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی دونوں وزرائے خارجہ اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ کینیڈا کی وزیرِ خارجہ اپنے قیام کے دوران ملکی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے بھی مقتدر ملاقاتیں کریں گی۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے دونوں ممالک کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان اور کینیڈا کے مابین ہمیشہ سے انتہائی خوشگوار اور مخلصانہ دوطرفہ تعلقات قائم رہے ہیں، جن کی اصل اور مضبوط ترین بنیاد کینیڈا میں مقیم لاکھوں افراد پر مشتمل متحرک اور محنتی پاکستانی کمیونٹی ہے جو دونوں ممالک کو جوڑنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ کینیڈین وزیرِ خارجہ کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے اور شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے مشترکہ تزویراتی عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بین الاقوامی میڈیا اور غیر ملکی صحافیوں کے لیے امریکی ‘آئی’ ویزا سے متعلق مروجہ قوانین میں ایک بہت بڑی اور تزویراتی تبدیلی کو حتمی شکل دے دی ہے. نئے منظور شدہ ضابطے کے تحت امریکہ میں برسوں سے رائج روایتی “ڈیوریشن آف اسٹیٹس” نظام کو باقاعدہ طور پر ختم کر دیا گیا ہے اور اس کی جگہ اب ایک مقررہ مدت پر مبنی داخلے اور قیام کا بالکل نیا نظام نافذ کیا جا رہا ہے، جس سے غیر ملکی میڈیا ہاؤسز کے کام کا طریقہ کار براہِ راست متاثر ہوگا.
امریکی محکمہ داخلی سلامتی کی جانب سے جاری کردہ تادیبی دستاویزات کے مطابق، نئے ضوابط کے تحت عام غیر ملکی صحافیوں کو اب امریکہ میں داخلے کے بعد ‘آئی’ ویزا پر زیادہ سے زیادہ صرف 240 دن تک قیام کرنے کی قانونی اجازت ہوگی. دوسری جانب، بیجنگ اور واشنگٹن کے مابین جاری تزویراتی کشیدگی کے تناظر میں چینی صحافیوں کے لیے اس ویزا پر قیام کی انتہائی حد کو مزید سخت کرتے ہوئے صرف 90 دن مقرر کر دیا گیا ہے.
واضح رہے کہ اس مقتدر تبدیلی سے قبل، امریکی امیگریشن قوانین کے مطابق ‘آئی’ ویزا ہولڈرز کو مروجہ سہولت حاصل تھی، جس کے تحت وہ اس وقت تک بغیر کسی رکاوٹ کے امریکہ میں قیام پذیر رہ سکتے تھے جب تک وہ اپنے متعلقہ بین الاقوامی میڈیا ادارے کے لیے تسلیم شدہ صحافتی ذمہ داریاں انجام دیتے رہتے تھے. تاہم، اب اس نئے تادیبی ضابطے کے بعد تمام غیر ملکی صحافیوں کو تفویض کردہ مقررہ مدت ختم ہونے سے پہلے یا تو لازمی طور پر امریکہ چھوڑنا ہوگا یا پھر اپنے قیام میں قانونی توسیع کے لیے بیوروکریسی کے مروجہ طریقہ کار کے مطابق باقاعدہ درخواست دائر کرنا ہوگی.
امریکی امیگریشن حکام نے اس مقتدر فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ویزا قوانین میں اس تبدیلی کا بنیادی مقصد ملکی امیگریشن نظام میں یکسانیت لانا، غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کی نگرانی کو مزید مؤثر بنانا اور امریکی قومی سلامتی کے تقاضوں کو پہلے سے زیادہ مضبوط کرنا ہے. بین الاقوامی میڈیا اور امیگریشن ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی اس نئی سخت پالیسی سے دنیا بھر کے غیر ملکی میڈیا اداروں، بالخصوص امریکہ میں طویل مدتی اسائنمنٹس اور بیوروز قائم کر کے کام کرنے والے مستقل صحافیوں کو اپنے ویزا اسٹیٹس، ٹیکسز اور ویزا کی بروقت توسیع کے معاملات کو پہلے سے کہیں زیادہ احتیاط اور تندہی کے ساتھ ترتیب دینا ہوں گے. یہ نئی ویزا پالیسی فوری طور پر نافذ العمل ہو چکی ہے جس کے امریکہ میں کام کرنے والے صحافیوں کی رپورٹنگ پر گہرے اثرات متوقع ہیں.
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے خیبر پختونخوا کے غیرت مند عوام پر زور دیا ہے کہ وہ ملکی بقا اور حقیقی آزادی کی اس جاری تحریک میں فرنٹ لائن پر مزاحمت کریں اور پنجاب کے عوام کو بھی اپنے ساتھ لے کر آگے بڑھیں. انہوں نے واضح کیا کہ اب گھروں میں بیٹھنے کا نہیں بلکہ سڑکوں پر نکلنے کا وقت آ گیا ہے کیونکہ موجودہ قابض حکمرانوں نے تحریک انصاف کی 100 سے زائد انتخابی سیٹیں دانستہ چوری کی ہیں. سوات کے علاقے کبل چوک میں ایک مقتدر اور بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے صائب الفاظ میں کہا کہ جب بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان بدترین حالات میں جیل میں ہونے کے باوجود سرنڈر کرنے کو تیار نہیں ہیں، تو پاکستان کے عوام بھی ان ظالموں کے سامنے کبھی اپنا سر نہیں جھکائیں گے.
علیمہ خان نے دورانِ خطاب انکشاف کیا کہ گزشتہ سال 2 دسمبر کو عمران خان نے جیل سے میری بہن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارا نصب العین ‘آزادی یا موت’ ہے. انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ عمران خان نے آزادی یا موت کی بات کی تھی لیکن میں آج اس مقتدر اسٹیج سے کہتی ہوں کہ ہمارا عزم ‘آزادی یا شہادت’ ہے. ہم بہنیں اب اپنے گھروں سے یہ حتمی اور تزویراتی فیصلہ کر کے نکل چکی ہیں کہ اگر اس حقیقی آزادی کی جدوجہد میں ہم مارے بھی گئے، تو اللہ تعالیٰ ہماری شہادت قبول فرمائے، لیکن ہم پیچھے نہیں ہٹیں گی. انہوں نے عوام کو مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایران کی قیادت اور عوام سے سیکھنا چاہیے، ایران کے لیڈروں نے ملک و قوم کی خاطر بڑی سے بڑی شہادتیں دی ہیں اور اپنے عوام کو ہمیشہ فرنٹ سے لیڈ کیا ہے کیونکہ ان کے لیڈر مخلص تھے اور حق کے لیے کھڑے ہیں.
انہوں نے کبل چوک کے اجتماع سے اپیل کی کہ پاکستان میں بھی اب فیصلہ کن تحریک شروع کی جائے، اور یہ تحریک ابھی اسی وقت شروع کی جائے، کیونکہ عوام اور ہم سب یہی چاہتے ہیں. عمران خان جیسے عظیم لیڈر کو، جو صرف قوم کی خاطر لازوال قربانیاں دے رہا ہے، انہوں نے ناحق اور جھوٹے مقدمات میں جیل میں قید کر رکھا ہے. علیمہ خان نے تادیبی حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ہم سڑکوں پر نکل کر ان مقتدر حلقوں اور حکومت پر دباؤ نہیں ڈالیں گے، تب تک یہ نہ تو عمران خان کا کوئی طبی علاج کروائیں گے اور نہ ہی ان کی قیدِ تنہائی کی مروجہ سختیوں کو ختم کریں گے. انہوں نے خطاب کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اپنے اور پاکستان کے مستقبل کے لیے نکلیں، کیونکہ اب بس بہت ہو چکا ہے، عمران خان نے بھی جیل سے یہی پیغام دیا ہے کہ جب تک آپ لوگ اپنی حقیقی آزادی کے لیے خود گھروں سے باہر نہیں نکلیں گے، تب تک آپ کو غلامی سے آزادی نہیں مل سکتی.
مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید ترین جنگی کشیدگی کے دوران ایران اور امریکہ کے مابین مقتدر عسکری ٹکراؤ نے ہولناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ امریکی جریدے “نیویارک ٹائمز” نے سینئر امریکی حکام کے حوالے سے تزویراتی انکشاف کیا ہے کہ اردن اور کویت میں واقع امریکی عسکری اڈوں پر ایران کے حالیہ بیلسٹک میزائل اور خودکش ڈرون حملوں میں دو امریکی فوجی ہلاک، ایک لاپتا اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ ان حملوں میں امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں کے پورے اسکواڈرن، فائٹر جیٹس، بنکرز اور پیٹریاٹ ریڈار سسٹمز کو شدید ترین نقصان پہنچا ہے۔ امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ یہ مسلسل تتابعی حملے اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ ایرانی افواج کے پاس نہ صرف میزائلوں کا وافر ذخیرہ موجود ہے، بلکہ امریکی فضائی دفاعی نظام کو چکما دینے کی اس کی صلاحیت میں بھی مقتدر اضافہ ہو چکا ہے۔
امریکی عسکری حکام کی جاری کردہ تادیبی تفصیلات کے مطابق، گزشتہ 5 دنوں کے دوران ایرانی میزائلوں نے سب سے پہلے سعودی عرب میں واقع کنگ فیصل ایئر بیس کی رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا جس میں 5 امریکی اہلکار زخمی ہوئے۔ دوسرے حملے میں مشرقی اردن کے ایک خفیہ اڈے کو نشانہ بنا کر وہاں موجود بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز کے کئی اسکواڈرنز کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ اس کے بعد اردن کے موافق السلط ایئر بیس (ازرق) پر ایرانی بیلسٹک میزائلوں کی بارش کی گئی جس کے نتیجے میں بنکروں میں پناہ لینے والے 20 امریکی فوجی زخمی ہوئے، جبکہ اسی اڈے پر دوبارہ ہونے والے حملے میں 2 امریکی فوجی ہلاک اور 4 زخمی ہو گئے۔ امریکی عسکری کمانڈ “سینٹکام” نے 17 جولائی کو اردن میں ہونے والے ان حملوں میں اپنے 2 فوجیوں کی ہلاکت اور ایک اہلکار کے لاپتا ہونے کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے۔ دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے الازرق ایئر بیس پر 2 فائٹر جیٹس، 3 امریکی طیارے، پارکنگ ریمپ اور جیٹ شیلٹرز کو کامیابی سے تباہ کیا ہے۔
ایرانی مسلح افواج نے مزید بتایا کہ انہوں نے امریکی بمباری کے جارحانہ جواب میں کویت میں موجود دو بڑے امریکی اڈوں کو بھی خودکش ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق، ان حملوں میں کویت کے الادیراع اڈے پر موجود امریکی فوج کے مرکزی اسلحہ ڈپو اور علی السالم ایئر بیس پر نصب پیٹریاٹ ریڈار سسٹم اور ایئر سرویلنس ریڈار کو براہِ راست ہٹ کیا گیا ہے۔ کویتی فوج نے اگرچہ کچھ حملوں کو ناکام بنانے کی تصدیق کی ہے، تاہم جمعہ اور ہفتے کو ہونے والے ان حملوں سے کویت کے دو بجلی گھر اور تیل کی اہم تنصیبات شدید متاثر ہوئی ہیں، جس پر خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے ان حملوں کو “جنگی جرائم” قرار دیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی یہ تازہ ترین صورتحال اپریل میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد اب تک کی بلند ترین اور خطرناک ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ کو “ناقابلِ فراموش سبق” سکھانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ “شیطانِ بزرگ” (امریکہ) کی جانب سے 17 جون کو ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان طے شدہ مفاہمت کی یادداشت کے حوالے سے کی جانے والی وعدہ شکنی نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکی صدر کے دستخط کی کوئی ساکھ نہیں ہے۔ اس تزویراتی یادداشت کا مقصد ایرانی سرزمین پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کو روکنا اور 60 دنوں کے اندر حتمی امن معاہدے تک پہنچنا تھا، تاہم امریکہ کی وعدہ شکنی کے بعد ایران نے کویت، اردن اور بحرین میں امریکی تنصیبات پر حملوں کا آغاز کیا۔ اس عسکری بمباری کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا نظام مکمل طور پر معطل ہو چکا ہے، جس کے جواب میں امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر دوبارہ سخت ترین بحری ناکہ بندی عائد کر دی ہے۔
پنجاب بار کونسل نے لا ڈگریوں کی تصدیق کے معاملے پر قانون کی بالادستی کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی اور مقتدر کارروائی عمل میں لائی ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن سے اپنی تعلیمی ڈگریوں کی تصدیق نہ کرانے والے 1133 وکلا کے لائسنس فوری طور پر معطل کر دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ شاہ عبداللطیف بھٹائی یونیورسٹی خیرپور سے ڈگریاں حاصل کرنے والے مزید 62 وکلا کے لائسنس بھی معطلی کی زد میں آئے ہیں۔ یہ مقتدر کارروائی چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل فخر حیات اعوان کی باضابطہ منظوری سے کی گئی ہے۔
پنجاب بار کونسل کے سیکرٹری کی جانب سے جاری کردہ تادیبی اعلامیے کے مطابق، جنرل ہاؤس کے فیصلوں کی روشنی میں مختلف جامعات سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے والے وکلا کو ایچ ای سی سے تصدیق شدہ دستاویزات جمع کرانے کے لیے نوٹسز جاری کیے گئے تھے اور انہیں 15 جولائی 2026ء تک کی آخری مہلت بھی دی گئی تھی۔ تاہم، مقررہ مدت گزرنے کے باوجود 1133 وکلا مطلوبہ تصدیق فراہم کرنے میں ناکام رہے، جس کے بعد ان کے لائسنس معطل کر دیے گئے۔ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ صرف 29 وکلا نے مقررہ وقت کے اندر اپنی ایچ ای سی سے تصدیق شدہ ڈگریاں جمع کروائیں، جبکہ 32 دیگر کیسز لائسنس کی بحالی کے لیے ایگزیکٹو کمیٹی کو بھجوا دیے گئے ہیں۔
پنجاب بار کونسل نے شاہ عبداللطیف بھٹائی یونیورسٹی خیرپور (سندھ) سے متعلق جاری کڑی جانچ پڑتال کے دوران مزید 62 وکلا کے لائسنس معطل کیے ہیں، جبکہ گزشتہ ہفتے بھی اسی یونیورسٹی سے متعلقہ 125 وکلا کے لائسنس معطل کیے گئے تھے۔ اسی یونیورسٹی کی بنیاد پر پنجاب بار کونسل میں انٹی میشن جمع کرانے والے 128 افراد کو آخری موقع دیتے ہوئے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ 25 جولائی 2026ء کو اصل تعلیمی دستاویزات، متعلقہ ثبوت اور سے تصدیق شدہ ڈگری کے ساتھ ذاتی طور پر پیش ہوں۔ مقررہ تاریخ پر ثبوت پیش نہ کرنے والوں کے خلاف مقدمات کے اندراج سمیت سخت قانون کارروائی کی جائے گی۔
چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی فخر حیات اعوان نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی وکیل نے جعلی یا بوگس تصدیقی سرٹیفکیٹ یا کوئی بھی غلط دستاویز پیش کی تو مروجہ قانون کے تحت سخت ترین تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جن وکلا کے لائسنس معطل ہوئے ہیں، وہ ایچ ای سی سے اپنی تصدیق کا عمل مکمل کرانے کے بعد ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل سے رجوع کر سکتے ہیں، جہاں ان کے کیسز کو میرٹ اور قانون کے مطابق نمٹایا جائے گا۔ فخر حیات اعوان کا کہنا تھا کہ اس تزویراتی کارروائی کا بنیادی مقصد وکالت کے مقدس شعبے میں مکمل شفافیت، اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار اور عدالتی نظام پر عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنا ہے، اور ڈگریوں کی جانچ پڑتال کا یہ عمل آئندہ بھی بلاتعطل جاری رہے گا۔
چینی صدر شی جن پنگ کے “2026ء عالمی اے آئی کانفرنس اور عالمی اے آئی گورننس اعلیٰ سطحی اجلاس” کی افتتاحی تقریب سے کیے گئے کلیدی خطاب پر دنیا بھر کے متعدد ممالک کی مقتدر اور اہم سیاسی و سماجی شخصیات کا زبردست ردِعمل سامنے آیا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین اور ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر شی جن پنگ کے خطاب میں وسیع تر بین الاقوامی تعاون کی ضرورت اور ڈیجیٹل و ذہین ٹیکنالوجی کے فرق کو کم کرنے پر جو تزویراتی زور دیا گیا ہے، وہ عالمی سطح پر انتہائی دُور رس اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دانشمندانہ خیالات مشترکہ طور پر ایک منصفانہ، متوازن اور معقول عالمی اے آئی گورننس سسٹم کی تشکیل کے لیے کلیدی اور اہم رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد کے مقتدر محقق حارث ملک نے چینی صدر کے وژن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ صدر شی جن پنگ کا یہ مؤقف انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ چین مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہمیشہ عالمی عوامی مفاد کے لیے اپنی خدمات اور وسائل فراہم کرنے کا حقیقی خواہاں رہا ہے۔ انہوں نے تادیبی طور پر واضح کیا کہ اس خطاب سے دنیا کو یہ واضح پیغام ملتا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی پر صرف چند امیر، ترقی یافتہ یا بڑے ممالک کی اجارہ داری قائم نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اس سائنسی ترقی کے حقیقی فوائد پوری انسانیت اور دنیا کے تمام چھوٹے بڑے ممالک، بالخصوص “گلوبل ساؤتھ” کے پسماندہ طبقات تک لازمی پہنچنے چاہئیں۔
برازیل سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی سیاسی معیشت کے ممتاز ماہر ایلان کاموسا نے چینی صدر کے بیانیے کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا میں گلوبل ساؤتھ اور گلوبل نارتھ کے درمیان شدید معاشی و تکنیکی عدم توازن پایا جاتا ہے، خصوصاً مصنوعی ذہانت کی ترقی اور اس کی ریگولیشن کے میدان میں یہ واضح عدم توازن موجود ہے۔ ان کے مطابق گلوبل ساؤتھ کے ممالک اہم معدنیات، سستی توانائی اور خام ڈیٹا تو فراہم کرتے ہیں لیکن بین الاقوامی قواعد و ضوابط کی تشکیل کے مقتدر عمل میں انہیں اب بھی بڑی حد تک نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ صدر شی جن پنگ کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے میدان میں جاری ان ناانصافیوں سے بچنے اور مساوی حقوق کی بات دراصل اسی دیرینہ مسئلے کی درست نشاندہی کرتی ہے، جو کہ ایک انتہائی منصفانہ مؤقف ہے اور عین وقت پر سامنے آیا ہے۔
آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کی جانب سے 19 جولائی 1947ء کو ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے مطالبے کی تاریخی اور تزویراتی قرارداد کی یاد میں اتوار کے روز ملک بھر سمیت دنیا بھر میں 78 واں “یومِ الحاقِ کشمیر” مقتدر انداز میں منایا گیا ہے۔ پاکستان، آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) اور دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم کشمیری تارکینِ وطن نے اس اہم دن کے موقع پر حقِ خودارادیت اور الحاقِ کشمیر کے حوالے سے اپنے دیرینہ و اصولی مؤقف کا بھرپور اعادہ کیا۔
اس تاریخی دن کی مناسبت سے جڑواں شہروں سمیت ملک بھر میں مختلف خصوصی تقریبات، عوامی ریلیوں، تزویراتی سیمینارز، کانفرنسوں اور بڑے عوامی اجتماعات کا انعقاد کیا گیا۔ تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں کو پاکستان اور کشمیر کے خوبصورت پرچموں سے سجایا گیا تھا، جبکہ سیاسی و مذہبی جماعتوں، سول سوسائٹی اور طلبہ تنظیموں نے 1947ء کی اصل قرارداد اور جموں و کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر مکمل عمل درآمد کے عزم کا اعادہ کیا۔ ان یادگاری تقریبات میں مقررین نے تحریکِ آزادی میں 1947ء کی قرارداد کی کلیدی اہمیت پر روشنی ڈالی اور اس بات پر سخت زور دیا کہ تنازعہ کشمیر کا پرامن حل صرف اور صرف وہاں کے غیور عوام کی امنگوں اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہی ممکن ہے۔
واضح رہے کہ 1947ء میں سرینگر میں غازیٔ ملت سردار محمد ابراہیم خان کی رہائش گاہ پر منعقدہ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے اجلاس میں یہ تاریخی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی۔ الحاقِ پاکستان کی اس مقتدر قرارداد کی مضبوط تزویراتی دلیل یہ ہے کہ جموں و کشمیر کی مسلم اکثریتی آبادی کا جغرافیائی تسلسل، پاکستان کے ساتھ مشترکہ ثقافتی، لسانی، نسلی و اقتصادی تعلقات اور پنجاب کی طرف بہنے والے دریاؤں کا رخ فطری طور پر پاکستان سے الحاق کا متقاضی ہے۔ اس تاریخی دستاویز میں بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت پر غیر متزلزل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اس وقت کے ڈوگرا حکمران مہاراجہ ہری سنگھ پر زور دیا گیا تھا کہ وہ 14 اگست 1947ء کو قیامِ پاکستان سے قبل ہی باقاعدہ پاکستان سے الحاق کا مقتدر اعلان کرے۔
پاکستان کا ہمیشہ سے یہ اصولی و قانونی مؤقف رہا ہے کہ جموں و کشمیر کی حتمی حیثیت کا تعین کشمیری عوام کی آزادانہ مرضی سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں (بشمول قرارداد نمبر 47 مجریہ 1948ء) کے تحت ایک غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے کے ذریعے ہونا چاہیے۔ پاکستان اس تنازعے کے حل کے لیے 1948ء اور 1949ء کی یو این سی آئی پی کی مقتدر قراردادوں کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ فریم ورک قرار دیتا ہے۔ اگست 2019ء میں مودی حکومت کی جانب سے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کی غیر قانونی منسوخی کے بعد پاکستان نے مقبوضہ وادی میں بڑھتی ہوئی پابندیوں، حراستوں اور آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنے کی بھارتی کوششوں پر عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انسانی حقوق کی مقتدر بین الاقوامی تنظیموں بشمول ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور خود اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے اپنی رپورٹس میں بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی ہولناک انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، شہری آزادیوں پر سفاکانہ پابندیوں اور من مانی نظر بندیوں کو دستاویزی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ پاکستان ہمیشہ بین الاقوامی فورمز پر مہاتما گاندھی اور جواہر لعل نہرو کے ان تاریخی بیانات کا حوالہ بھی دیتا ہے جس میں انہوں نے کشمیریوں کو جمہوری عمل کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ برٹرینڈ رسل، نیلسن منڈیلا، بل کلنٹن اور میری رابنسن جیسی عظیم عالمی شخصیات نے بھی ہمیشہ کشمیر کے پرامن حل اور وہاں انسانی حقوق کے تحفظ پر زور دیا ہے۔
اسلام آباد/گلگت (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء
وزیرِ اعظم پاکستان کی خصوصی ہدایات پر ملک بھر میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے مقتدر قومی ادارے ‘نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی’ (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین نے گلگت بلتستان کا اہم دورہ کیا ہے، جہاں انہوں نے گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (جی بی ڈی ایم اے) کے ہیڈکوارٹرز میں مون سون 2026ء کی پیشگی تیاریوں کا ایک اعلیٰ سطح کا جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ اتوار کے روز این ڈی ایم اے کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ آفیشل پریس ریلیز کے مطابق، اس تزویراتی اجلاس کے دوران گلگت بلتستان کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے حکام نے مون سون کے متوقع سیزن سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی تمام پیشگی تیاریوں، ہنگامی تادیبی منصوبہ بندی اور ریلیف کے لیے وسائل کی دستیابی پر تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس کے دوران گلگت بلتستان کے جغرافیائی حالات کے پیشِ نظر ممکنہ سیلابی صورتحال، شدید بارشوں کے باعث شہری و دریائی سیلاب، پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ (پہاڑ کھسکنے) اور گلوبل وارمنگ کی وجہ سے گلیشائی جھیلوں کے پھٹنے سے پیدا ہونے والے سیلاب جیسے سنگین خطرات سے نمٹنے کے لیے کیے گئے مقتدر اقدامات کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین این ڈی ایم اے نے خطے کے تمام متعلقہ انتظامی و حفاظتی اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹنے کے لیے مقامی سطح پر آپسی کوآرڈینیشن اور رابطوں کو مزید مؤثر اور تیز بنانے کی سخت ہدایت جاری کیں۔
جائزہ اجلاس میں اس بات پر خصوصی طور پر زور دیا گیا کہ مون سون کے اس حساس سیزن کے دوران گلگت بلتستان آنے والے ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے لیے محفوظ سیاحت کے فروغ اور ان کی سفری سہولیات کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ وہ کسی ناگہانی آفت کا شکار نہ ہوں۔ اس کے ساتھ ہی، چیئرمین این ڈی ایم اے نے ممکنہ موسمی خطرات اور نقصانات سے بچاؤ کے لیے مقامی آبادی اور مسافروں کے لیے وسیع پیمانے پر عوامی آگاہی مہم چلانے کی ضرورت پر بھی سخت زور دیا تاکہ بروقت حفاظتی اقدامات کی بدولت جانی و مالی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔
ملک میں ٹیکنالوجی اور نالج اکانومی کے مقتدر فروغ کے لیے پاک چین تعاون کے حوالے سے ایک انتہائی تزویراتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے انکشاف کیا ہے کہ دوست ملک چین ہر سال 3 لاکھ پاکستانی نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل اسکلز کی بین الاقوامی معیار کی تربیت فراہم کرے گا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیرِ اہتمام منعقدہ “تیسرے آئی ٹی فری لانسنگ ایوارڈز 2026ء” کی مقتدر تقریب کے دوران صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمٰن سہگل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس باوقار تقریب میں پنجاب کے وزیرِ خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن سمیت آئی ٹی شعبے کی مقتدر شخصیات نے شرکت کی۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اس وقت فری لانسنگ کے شعبے میں دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن چکا ہے اور ہمارے نوجوانوں کی ہنرمندی ملکی ڈیجیٹل معیشت اور برآمدات میں اضافے کا سب سے اہم تادیبی ذریعہ ہے۔ انہوں نے فری لانسرز اور آئی ٹی پروفیشنلز پر زور دیا کہ وہ عالمی منڈی میں اپنی مسابقت برقرار رکھنے کے لیے خود کو مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجیز سے ہم آہنگ کریں کیونکہ جدید دور میں کامیابی کے لیے بڑے دفاتر نہیں بلکہ علم اور ہنر ہی اصل سرمایہ ہے۔ اس موقع پر صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا کہ حکومت اور نجی شعبہ باہمی اشتراک سے پاکستان کو خطے کا مضبوط ڈیجیٹل اکانومی ہب بنا سکتے ہیں اور “اڑان پاکستان” وژن کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ہمارے فری لانسرز مقتدر صلاحیت رکھتے ہیں۔
پنجاب کے وزیرِ خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے اپنے خطاب میں لاہور چیمبر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ فری لانسنگ اب متبادل پیشہ نہیں بلکہ پاکستان کی ڈیجیٹل اکانومی کا ایک مضبوط اور اہم ستون بن چکی ہے، جو ہر سال کروڑوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ ملک میں لا کر قومی معیشت کو مستحکم کر رہی ہے۔ انہوں نے فری لانسرز کو ملک کا “ڈیجیٹل سفیر” قرار دیا۔ صوبائی وزیرِ خزانہ نے مقتدر یقین دہانی کرائی کہ پنجاب حکومت فری لانسرز کو بین الاقوامی ادائیگیوں میں درپیش رکاوٹیں دور کرنے اور عالمی معیار کا ادائیگی نظام فراہم کرنے کے لیے وفاق اور اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی متحرک قیادت میں صوبے میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی پارکس اور آئی ٹی زونز کے قیام پر بھرپور سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ پنجاب پاکستان کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جس نے بڑے پیمانے پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس اقدامات کا آغاز کیا ہے تاکہ نوجوانوں کو صرف فری لانسر نہیں بلکہ اے آئی ڈویلپرز اور عالمی سطح کے ٹیکنالوجی لیڈرز بنایا جا سکے۔
مانسون کی حالیہ مقتدر لہر کے پیشِ نظر پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے صوبے کے مختلف دریاؤں، ندی نالوں اور بڑے شہروں کے لیے سیلاب کی ہنگامی وارننگ جاری کر دی ہے. ترجمان پی ڈی ایم اے کی جانب سے اتوار کے روز جاری کردہ الرٹ کے مطابق، 20 سے 24 جولائی کے دوران پنجاب کے تمام بڑے دریاؤں میں پانی کی سطح اور صورتحال میں شدید اضافے کا تزویراتی خدشہ ہے، جس کے باعث متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے کے احکامات دیے گئے ہیں.
آفیشل اعلامیے کے مطابق، دریائے راوی اور دریائے چناب سے ملحقہ برساتی نالوں بشمول بہیں، بسنتر، ڈیک، ایک، پلکھو، بھمبر، ہلسی اور ڈورا میں طغیانی اور سیلاب کی وارننگ جاری کی گئی ہے. اسی طرح دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر بھی پانی کے بڑے ریلے کے پیشِ نظر سیلابی الرٹ جاری کیا گیا ہے. ترجمان نے مزید بتایا کہ ڈیرہ غازی خان کے کوہِ سلیمان سے نکلنے والی رود کوہیوں میں بھی فلیش فلڈنگ (ایک دم آنے والے سیلاب) کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے، جبکہ لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، سرگودھا، اوکاڑہ، ساہیوال، بہاولنگر اور راولپنڈی ڈویژن کے شہری علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ (شہری سیلاب) کا قوی امکان ہے. اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے صوبہ بھر کے مقتدر کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، واسا حکام، ریسکیو 1122، لوکل گورنمنٹ، اور محکمہ آبپاشی، صحت، لائیو اسٹاک و ٹرانسپورٹ کو ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں.
ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ نے تمام اضلاع کی انتظامیہ کو ہنگامی طور پر متحرک رہنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ضلعی ایمرجنسی کنٹرول رومز میں عملے کی 24 گھنٹے حاضری کو یقینی بنایا جائے. انہوں نے خصوصی تادیبی احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ریسکیو 1122 کی ڈیزاسٹر رسپانس ٹیموں کے پاس پٹرول اور ڈیزل کا اسٹاک وافر مقدار میں ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی آپریشن میں تاخیر نہ ہو. ڈی جی نے انتظامیہ کو پابند کیا کہ دریاؤں کے پاٹ (کچے کے علاقوں) میں موجود انسانی بستیوں اور مال مویشیوں کے فوری و محفوظ انخلا کو یقینی بنایا جائے اور فلڈ ریلیف کیمپوں میں خوراک، ادویات اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے. انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سرکاری احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں اور کسی بھی ہنگامی مدد یا اطلاع کے لیے پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر فوری رابطہ کریں.
ملک میں اعلیٰ معیاری تحقیقی کلچر کے فروغ اور باصلاحیت نوجوان محققین کی تزویراتی حوصلہ افزائی کے لیے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے ایک بڑا مقتدر قدم اٹھایا ہے. یونیورسٹی انتظامیہ نے پی ایچ ڈی کے ہونہار طلبہ کے لیے میرٹ پر مبنی مکمل فنڈڈ اسکالرشپ پروگرام کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے. اتوار کے روز یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس انقلابی اقدام کا بنیادی مقصد مستحق اور قابل ترین طلبہ کو مالی مشکلات اور فیسوں کے بوجھ سے مکمل طور پر بے نیاز کرنا ہے تاکہ انہیں عالمی معیار کی جدید تحقیق کے لیے ایک بہترین اور سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے.
اس مقتدر پروگرام کے تحت منتخب ہونے والے پی ایچ ڈی سکالرز کو یونیورسٹی پالیسی کے مطابق ماہانہ معقول وظیفہ، مکمل ٹیوشن فیس کی معافی اور دیگر تمام منظور شدہ تعلیمی و تحقیقی اخراجات کی بھرپور مالی معاونت فراہم کی جائے گی، تاکہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں اور توجہ صرف اور صرف معیاری تحقیق اور علمی سرگرمیوں پر مرکوز رکھ سکیں. مزید برآں، اس اسکالرشپ پروگرام کے تحت محققین کو یونیورسٹی میں تدریسی تحقیقی اور دیگر علمی پراجیکٹس میں عملی طور پر حصہ لینے کے بہترین مواقع بھی دیے جائیں گے، جس سے انہیں مستقبل کے لیے عملی تدریسی تجربہ، جدید تحقیقی مہارت اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو عالمی معیار کے مطابق نکھارنے کا موقع ملے گا.
یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے اس اسکالرشپ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں اعلیٰ تحقیقی کلچر کا فروغ ان کی اولین ترین ترجیحات میں شامل ہے. انہوں نے واضح کیا کہ ایک مضبوط تحقیقی بنیاد ہی کسی بھی ملک کی پائیدار ترقی، نئی اختراعات اور علم پر مبنی معیشت کی حقیقی ضامن ہوتی ہے، اسی لیے یونیورسٹی نوجوانوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کر رہی ہے. انہوں نے مزید کہا کہ یہ فنڈڈ پروگرام محققین کو قومی ترقی، سماجی مسائل کے عملی حل اور جدید سائنسی تحقیق کے میدان میں مؤثر ترین کردار ادا کرنے کے قابل بنائے گا. وائس چانسلر نے خواہشمند طلبہ پر زور دیا کہ وہ اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے فوری درخواست دیں. اسکالرشپ کے اہلیت کا معیار اور درخواست جمع کرانے کی تمام تر تفصیلات یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی گئی ہیں.
پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان تمام خبروں اور افواہوں کی سختی سے تردید کر دی ہے جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ فیڈریشن نے موجودہ سلیکشن کمیٹی کو تحلیل کر کے تمام اختیارات غیر ملکی یا مقامی کوچز کے سپرد کر دیے ہیں۔ پی ایچ ایف کے آفیشل اعلامیے کے مطابق، موجودہ سلیکشن کمیٹی مکمل طور پر بااختیار ہے اور میرٹ کی بنیاد پر اپنے فرائض انجام دیتی رہے گی۔ ترجمان پی ایچ ایف نے واضح کیا کہ صدر محی الدین احمد وانی کی مقتدر کاوشوں سے بین الاقوامی کوچنگ پینل اس وقت پاکستان میں موجود ہے، جو جدید جی پی ایس سسٹم کے ذریعے کھلاڑیوں کی فٹنس اور کارکردگی کا تفصیلی و تزویراتی جائزہ لے رہا ہے۔
اعلامیے کے مطابق، اس بین الاقوامی کوچنگ پینل کی جانب سے تیار کی جانے والی تمام ڈیجیٹل اور تکنیکی رپورٹس باقاعدگی سے سلیکشن کمیٹی کو فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ کھلاڑیوں کے انتخاب کے عمل کو مزید شفاف، غیر جانبدار اور مؤثر بنایا جا سکے۔ ہاکی لیجنڈز پر مشتمل یہ مقتدر سلیکشن کمیٹی ان سائنسی رپورٹس اور پروفیشنل ڈویلپمنٹ کمیٹی کی اہم سفارشات کی روشنی میں خالصتاً میرٹ پر قومی ٹیم کا انتخاب کرے گی، جبکہ ٹیم کا حتمی اعلان روایتی طور پر پاکستان ہاکی فیڈریشن کے آفیشل پلیٹ فارم سے ہی کیا جائے گا۔ فیڈریشن نے واضح کیا کہ سلیکشن کمیٹی کو ختم نہیں کیا گیا بلکہ سلیکشن کے مجموعی نظام کو جدید بین الاقوامی معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا گیا ہے۔
پی ایچ ایف کی انتظامیہ نے تادیبی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ اس تزویراتی اقدام کا مقصد سلیکشن کمیٹی کو کمزور کرنا یا سائیڈ لائن کرنا نہیں بلکہ اسے ڈیٹا کی مدد سے مزید مضبوط، مؤثر اور فعال بنانا ہے۔ ترجمان نے پریس ریلیز میں مزید دہرایا کہ بین الاقوامی کوچز کو کھلاڑیوں کے انتخاب کا کوئی تنہا یا مکمل اختیار نہیں دیا جا رہا۔ ان کا کردار صرف اور صرف سلیکشن کمیٹی کو تکنیکی معاونت، ڈیٹا اور مشاورت فراہم کرنے تک محدود رہے گا، جبکہ قومی ہاکی ٹیم کے حتمی انتخاب کا آخری اور قانونی اختیار بدستور سلیکشن کمیٹی کے پاس ہی محفوظ رہے گا۔
وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے واضح کیا ہے کہ آزاد کشمیر کے موجودہ انتخابات ایک نئی تاریخ رقم کریں گے کیونکہ یہ کشمیر کاز کے ساتھ سچی محبت، کشمیری شہدا کے خون کا حق مانگنے اور ان کے حقوق کی حفاظت کا الیکشن ہے. سیالکوٹ میں ایل اے 36 جموں 3 کے انتخابی کارکنوں کے ایک مقتدر اور بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس سیاسی و علاقائی پس منظر میں آج یہ الیکشن ہو رہے ہیں، اس سے قبل تاریخ میں کبھی ایسے ماحول میں الیکشن نہیں ہوئے، کیونکہ اس وقت پاکستان اور کشمیر کے لازوال رشتے کو منظم سازش کے تحت چیلنج کیا جا رہا ہے.
وزیرِ دفاع نے اپنی کشمیری شناخت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بنیادی طور پر کشمیری ہیں لیکن جنہوں نے آزادی کے لیے دو لاکھ جانوں کے نذرانے دیے، وہ ان کی خاک کے برابر بھی نہیں ہیں. انہوں نے وادی کے غیور عوام کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ ویلی میں جو کشمیری اپنے ہاتھوں میں پاکستان کا پرچم اٹھا کر نعرے لگا رہے ہیں، انہیں بخوبی اندازہ ہے کہ اس کی کیا سنگین قیمت ادا کرنا پڑتی ہے. یہی وجہ ہے کہ وہ جیلوں میں کٹھن زندگی گزار رہے ہیں اور کشمیری خواتین قید و بند کی صعوبتیں کاٹ رہی ہیں. خواجہ آصف نے تزویراتی حقائق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ کسی کو خوش کرنے کے لیے جھوٹ نہیں بولتے، سرحد پر بیٹھا جموں کا مہاجر لندن میں بیٹھ کر پاکستان اور پاک افواج کو گالیاں دینے والے بعض کشمیریوں سے کہیں بہتر ہے. انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ جو سینہ تان کر پاکستان کی حفاظت کرتا ہے، اس کی عزت کی جائے.
پاک فوج کی قربانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے کہا کہ ہماری بہادر عسکری فورسز کو دانستہ نشانہ بنایا جاتا ہے جس نے گزشتہ دو چار سالوں میں وطنِ عزیز کے دفاع کے لیے چار ہزار سے زائد مقتدر قربانیاں دی ہیں. انہوں نے ملکی خارجہ پالیسی کے باوقار کردار کا ذکر کرتے ہوئے تادیبی طور پر بتایا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ شدید جنگ اور سفارتی کشیدگی میں پاکستان کا نام ایک معتبر ثالث کی حیثیت سے بین الاقوامی میڈیا اور ٹی وی پر مسلسل نظر آ رہا ہے، جو پاکستان کے باوقار کردار کا عکاس ہے. خواجہ آصف نے بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمان کو دہراتے ہوئے اپنے خطاب کا اختتام کیا کہ “کشمیر ہماری شہ رگ ہے” محض ایک نعرہ نہیں بلکہ یہ ہمارے دو قومی نظریے کی تزویراتی بنیاد ہے.