اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا متحرک سفارتی کردار، اسحاق ڈار اہم عالمی اجلاسوں میں شرکت کیلئے نیویارک روانہ

محمود احمد May25,2026

اسلام آباد /نیویارک/ نیوز اینڈ نیوز

نیویارک: پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار چین کے دارالحکومت بیجنگ سے تین روزہ دورے پر نیویارک روانہ ہو رہے ہیں، جہاں وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاسوں اور عالمی گورننس سے متعلق اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار 26 سے 28 مئی تک نیویارک میں قیام کریں گے اور 26 مئی کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہونے والے اہم اوپن ڈیبیٹ میں شرکت کریں گے، جس کا موضوع ’’بین الاقوامی امن و سلامتی کا تحفظ، اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کا فروغ اور اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کو مضبوط بنانا‘‘ رکھا گیا ہے۔

یہ اہم اجلاس سلامتی کونسل کی مئی 2026 کی گردشی صدارت رکھنے والے چین کی جانب سے طلب کیا گیا ہے، جبکہ اجلاس کی صدارت چینی وزیر خارجہ وانگ یی کریں گے۔

پاکستان نے چین کے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے موجودہ عالمی حالات میں ایک بروقت اور اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان سمجھتا ہے کہ پیچیدہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے کثیرالجہتی تعاون، بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے مؤثر کردار کو مزید مضبوط بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

دورے کے دوران نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ 28 مئی کو ’’گروپ آف فرینڈز آن گلوبل گورننس‘‘ کے اجلاس میں بھی شرکت کریں گے، جس کا مرکزی موضوع ’’عالمی گورننس میں اصلاحات اور عالمی چیلنجز سے مشترکہ طور پر نمٹنا‘‘ ہوگا۔

ذرائع کے مطابق اسحاق ڈار اپنے دورہ نیویارک کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ، اعلیٰ سفارتی شخصیات اور اقوام متحدہ کے سینئر حکام سے بھی دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے، جن میں خطے کی صورتحال، عالمی امن، اقتصادی تعاون اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

پاکستان نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ عالمی امن، سلامتی، ترقی اور مؤثر کثیرالجہتی نظام کے فروغ کیلئے اپنا مثبت اور تعمیری کردار جاری رکھے گا۔

سوات ایکسپریس وے پر خوفناک حادثہ، 16 افراد جاں بحق، 6 زخمی

منصور احمد ,May 25,2026

مردان/نیوز اینڈ نیوز

سوات ایکسپریس وے پر پیش آنے والے ہولناک ٹریفک حادثے میں کم از کم 16 افراد جاں بحق جبکہ 6 افراد زخمی ہو گئے۔ حادثہ ایک مسافر وین اور سڑک کنارے کھڑی بس کے درمیان پیش آیا، جس کے بعد علاقے میں شدید افسوس اور خوف و ہراس پھیل گیا۔

ترجمان نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے مطابق حادثے کی اطلاع ملتے ہی موٹروے پولیس اور امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور ریسکیو کارروائیاں شروع کر دیں۔

حکام کے مطابق تمام جاں بحق افراد کی لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر مردان میڈیکل کمپلیکس منتقل کر دیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثہ وین ڈرائیور کی غفلت اور تیز رفتاری کے باعث پیش آیا۔ بتایا گیا ہے کہ وین پیچھے سے آ کر سڑک کے کنارے کھڑی بس سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں شدید جانی نقصان ہوا۔

موٹروے پولیس کے مطابق بس کراچی سے بونیر جا رہی تھی جبکہ مسافر وین راولپنڈی سے دیر کی جانب رواں دواں تھی۔ حادثے کے بعد سوات ایکسپریس وے پر ٹریفک کی روانی بھی کچھ دیر متاثر رہی۔

ذرائع کے مطابق موٹروے نارتھ زون کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) بھی صورتحال کا جائزہ لینے اور زخمیوں کی عیادت کے لیے ہسپتال پہنچ گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور حادثے کی مکمل رپورٹ جلد مرتب کی جائے گی۔

ایران نے امریکہ کے ساتھ اصولی فریم ورک کی تصدیق کر دی، حتمی معاہدہ ابھی دور ہے: ایرانی وزارتِ خارجہ

منصور احمد ,May 25,2026

تہران /نیوز اینڈ نیوز

ایران نے پہلی بار امریکہ کے ساتھ جاری پسِ پردہ مذاکرات کے حوالے سے باضابطہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم نکات پر ایک اصولی فریم ورک یا ابتدائی مفاہمت طے پا چکی ہے، تاہم حتمی امن معاہدہ تاحال مکمل طور پر قریب نہیں پہنچا۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ مذاکرات حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، لیکن اس وقت کسی بھی حتمی معاہدے کا اعلان قبل از وقت ہوگا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر مذاکرات کا محور جوہری پروگرام نہیں بلکہ خطے میں جاری کشیدگی، جنگ بندی اور امن کا قیام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم اس وقت جوہری مسئلے کی تفصیلات پر بات نہیں کر رہے، ہماری توجہ صرف جنگ کے خاتمے اور خطے میں پائیدار استحکام پر مرکوز ہے۔

ایرانی ترجمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور مغربی میڈیا کی رپورٹنگ پر بھی ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی سیاست میں دباؤ، دھمکیوں، میڈیا مہم اور نفسیاتی حربوں کو سیاسی کلچر کا حصہ سمجھا جاتا ہے، تاہم ایران ان حربوں سے متاثر نہیں ہوتا۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’’ہم کسی کے پروپیگنڈے یا سیاسی دباؤ سے مرعوب نہیں ہوتے۔ ایران زمینی حقائق اور عملی اقدامات کو اہمیت دیتا ہے۔ ہم بیانات سے زیادہ عمل پر یقین رکھتے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات، خودمختاری اور سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر فیصلہ انتہائی سوچ بچار اور قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کیا جائے گا۔

خطے کی حالیہ صورتحال اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی پر بات کرتے ہوئے ایرانی ترجمان نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران جلد بازی یا دباؤ میں کوئی اقدام نہیں کرے گا، تاہم اگر ضرورت پڑی تو مناسب اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایک ’’مہذب، باوقار اور طاقتور ملک‘‘ ہے اور وہ اپنے دشمنوں کے انداز کی نقل نہیں کرے گا بلکہ اپنی حکمتِ عملی کے مطابق ردعمل دے گا۔ ان کے مطابق ایران ماضی کی طرح مستقبل میں بھی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

حکومت کا واپڈا سکیورٹی فورس بنانے کا فیصلہ، چینی ماہرین اور آبی منصوبوں کو خصوصی تحفظ فراہم کیا جائے گا

کاشف عباسی ,May 25 ,2026

اسلام آباد /نیوز اینڈ نیوز

وفاقی حکومت نے ملک بھر میں اہم آبی منصوبوں، ڈیمز، پاور پلانٹس اور ان منصوبوں پر کام کرنے والے انجینئرز و عملے، خصوصاً چینی ماہرین کی سکیورٹی مزید مؤثر بنانے کے لیے نئی ’’واپڈا سکیورٹی فورس‘‘ قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ’’واپڈا سکیورٹی فورس ایکٹ 2026ء‘‘ پارلیمنٹ کو منظوری کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق نئی فورس کا بنیادی مقصد واپڈا کے زیرِ انتظام اہم آبی و توانائی منصوبوں، تنصیبات اور حساس انفراسٹرکچر کو محفوظ بنانا ہے تاکہ قومی ترقیاتی منصوبوں پر بلا تعطل کام جاری رکھا جا سکے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ خصوصاً داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد کیا گیا، جہاں نومبر 2021ء اور مارچ 2024ء میں ہونے والے حملوں میں متعدد پاکستانی اور چینی انجینئرز و کارکنان جاں بحق ہوئے تھے۔ ان حملوں کے بعد منصوبے پر کام ایک طویل عرصے تک معطل بھی رہا تھا۔

حکام کے مطابق ماضی میں چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک سے منسلک منصوبوں کی سکیورٹی کے لیے پاک فوج کی خصوصی سکیورٹی ڈویژنز تعینات کی گئی تھیں، تاہم واپڈا کے تمام منصوبے اس دائرہ کار میں شامل نہیں تھے، جس کے باعث الگ سکیورٹی نظام کی ضرورت محسوس کی گئی۔

ذرائع نے بتایا کہ نئی واپڈا سکیورٹی فورس ڈیمز، ہائیڈرو پاور پلانٹس، تعمیراتی مقامات، حساس تنصیبات اور منصوبوں پر کام کرنے والے ملکی و غیر ملکی ماہرین کی حفاظت کی ذمہ داری سنبھالے گی۔ اس فورس کو جدید تربیت، اسلحہ اور نگرانی کے نظام سے بھی لیس کیا جائے گا۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں جاری بڑے آبی اور توانائی منصوبے ملکی معیشت، بجلی کی پیداوار اور مستقبل کی صنعتی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہیں، اس لیے ان کی سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

سرکاری حلقوں کے مطابق نئی فورس کے قیام سے نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ پاکستان اور چین کے درمیان جاری اقتصادی و توانائی تعاون کو بھی مزید استحکام ملے گا۔

کوئٹہ میں ہولناک خودکش حملہ، شٹل ٹرین کو نشانہ بنایا گیا، 14 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

کاشف عباسی ,May 25 ,2026

کوئٹہ/نیوز اینڈ نیوز

: صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک اور ہولناک دہشت گرد حملے نے شہر کو دہلا کر رکھ دیا، جہاں اتوار کے روز ایک خودکش بمبار نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی شٹل ٹرین سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 14 افراد جاں بحق جبکہ 20 سے زائد زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

پولیس اور سکیورٹی حکام کے مطابق حملہ چمن ریلوے کراسنگ کے قریب اس وقت کیا گیا جب شٹل ٹرین 350 سے زائد مسافروں کو لے کر کوئٹہ ریلوے اسٹیشن جا رہی تھی، جہاں سے مسافروں نے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس میں سفر کرنا تھا۔

دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ ٹرین کی کئی بوگیاں پٹری سے اتر گئیں جبکہ اردگرد کھڑی متعدد گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ دھماکے کے مقام پر ایک بڑا گڑھا پڑ گیا اور قریبی رہائشی علاقوں میں بھی شدید نقصان پہنچا۔ کئی گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ بعض عمارتوں میں آگ بھڑک اٹھی۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے فوراً بعد ہر طرف دھواں، چیخ و پکار اور بھگدڑ مچ گئی۔ ریسکیو اہلکاروں اور شہریوں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ کئی افراد کو ملبے اور تباہ شدہ بوگیوں سے نکالنے کے لیے بھاری مشینری استعمال کی گئی۔

اس افسوسناک حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم سکیورٹی ادارے واقعے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں۔

حکام کے مطابق دھماکے کے بعد شہر بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے جبکہ ریلوے اسٹیشن، اہم شاہراہوں اور حساس تنصیبات کے اطراف اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب ملک بھر کی سیاسی و سماجی شخصیات نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی اور حملے میں ملوث عناصر کو انجام تک پہنچایا جائے گا۔

چین میں پاکستان کے اربوں ڈالر کے معاہدے، وزیراعظم شہباز شریف بیجنگ پہنچ گئے

کاشف عباسی ,May 25 ,2026

بیجنگ / ہانگژو/نیوز اینڈ نیوز

وزیراعظم شہباز شریف چین کے اہم اقتصادی شہر ہانگژو میں مصروف سفارتی اور تجارتی سرگرمیوں کے بعد اتوار کو بیجنگ پہنچ گئے، جہاں وہ چینی قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کریں گے۔ دورے کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں اربوں ڈالر مالیت کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اپنے دورۂ بیجنگ کے دوران چینی صدر شی جن پنگ اور چینی وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں پاک چین اسٹریٹجک شراکت داری، سی پیک فیز ٹو، تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، صنعت، سائنس و ٹیکنالوجی اور عوامی روابط کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ہانگژو میں وزیراعظم نے تیسری پاکستان۔چین بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا، جس میں الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ انفراسٹرکچر، بیٹری انرجی اسٹوریج، سولر ٹیکنالوجی اور فارماسیوٹیکل شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی گئی۔

تقریب کے دوران پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان 7 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، جن کا مقصد مختلف صنعتی اور تجارتی شعبوں میں سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں صنعتیں منتقل کرنے کی دعوت دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاروں کو تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ چینی سرمایہ کاروں کو “ریڈ کارپٹ” خوش آمدید کہا جائے گا اور انہیں انتہائی پرکشش شرائط پر طویل المدتی لیز پر زمین فراہم کی جائے گی۔ وزیراعظم نے پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کے لیے چار اہم شعبوں — زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، خصوصی اقتصادی زونز اور معدنیات — کو مستقبل کی ترجیحات قرار دیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ چین ہر سال تقریباً 100 ارب ڈالر مالیت کی زرعی مصنوعات درآمد کرتا ہے، تاہم اس میں پاکستان کا حصہ نہایت کم ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چینی تعاون اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے آئندہ پانچ سے سات برسوں میں پاکستان اپنی زرعی برآمدات 10 ارب ڈالر تک بڑھا سکتا ہے۔

انہوں نے کراچی کے خصوصی اقتصادی زون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 6 ہزار ایکڑ پر مشتمل یہ زون چینی سرمایہ کاروں کے لیے غیرمعمولی مواقع فراہم کرتا ہے۔ وزیراعظم نے چینی صنعتکاروں کو کراچی آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے بہترین امکانات رکھتا ہے۔

دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے معروف چینی کمپنی علی بابا گروپ کی قیادت سے بھی ملاقات کی، جس میں ای کامرس، ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون سے متعلق متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

دوسری جانب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چینی سرمایہ کاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “پاکستان کاروبار کے لیے مکمل طور پر کھلا ہے” اور حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کر رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دورہ پاک چین اقتصادی تعاون کے نئے مرحلے کی بنیاد بن سکتا ہے، جس سے پاکستان میں صنعتی ترقی، روزگار کے مواقع اور برآمدات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا امریکہ۔ایران مذاکرات کے اگلے دور کی جلد اسلام آباد میں میزبانی کی امید کا اظہار

کاشف عباسی ,May 25 ,2026

اسلام آباد/نیوز اینڈ نیوز

وزیراعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات کا اگلا دور بہت جلد اسلام آباد میں منعقد ہو سکتا ہے، جبکہ پسِ پردہ سفارتی رابطوں میں بھی اہم پیش رفت کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کئی ہفتوں سے جاری کشیدگی اور جنگ بندی کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمت کی فضا مضبوط ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان ایک مرتبہ پھر اہم ثالثی کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

باخبر ذرائع نے بتایا کہ چین کے چار روزہ دورے پر موجود وزیراعظم شہباز شریف کو امریکہ اور ایران کی جانب سے اعلیٰ سطح کے وفود کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے “سنجیدہ اشارے” موصول ہوئے ہیں۔ ان اطلاعات کے مطابق پاکستان آئندہ مذاکراتی مرحلے کی میزبانی کے لیے زیر غور ہے۔

تاہم وزیراعظم آفس کے ایک سینئر ذریعے نے اس حوالے سے محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال اسلام آباد میں کسی بڑے سفارتی اجلاس کی عملی تیاریوں کا آغاز نہیں ہوا اور نہ ہی فوری طور پر مذاکرات کی تاریخ طے ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ رواں برس اپریل میں اسلام آباد امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا میزبان بن چکا ہے، جہاں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سمیت اعلیٰ شخصیات نے شرکت کی تھی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امن کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خطے میں امن کے قیام کے لیے غیرمعمولی کوششیں کیں۔ وزیراعظم نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکیہ، مصر، متحدہ عرب امارات اور اردن سمیت کئی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ایک اہم اور مفید ٹیلیفونک رابطہ کیا۔

وزیراعظم کے مطابق اس گفتگو میں پاکستان کی نمائندگی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کی، جن کی سفارتی کوششوں اور مسلسل رابطوں کو انہوں نے سراہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس رابطے کے دوران خطے کی موجودہ صورتحال اور امن عمل کو آگے بڑھانے کے طریقہ کار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں دیرپا امن، استحکام اور سفارتی حل کے لیے اپنی کوششیں پوری سنجیدگی سے جاری رکھے گا۔

دوسری جانب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی صدر ٹرمپ کی سفارتی حکمت عملی اور مذاکراتی عمل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ رابطہ خطے میں امن، استحکام اور جلد سفارتی حل کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

سفارتی مبصرین کے مطابق اگر امریکہ اور ایران کے درمیان ابتدائی مفاہمت حتمی شکل اختیار کرتی ہے تو اسلام آباد ایک مرتبہ پھر عالمی سفارتکاری کا اہم مرکز بن سکتا ہے۔

مناسکِ حج کا آغاز، لاکھوں فرزندانِ اسلام کی ’لبیک اللھم لبیک‘ کی صداؤں میں منیٰ روانگی

روزینہ اسماعیل.May 25,2026

مکہ مکرمہ: دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں عازمینِ حج نے روح پرور اور ایمان افروز ماحول میں مناسکِ حج کا باقاعدہ آغاز کر دیا، جہاں ’’لبیک اللھم لبیک‘‘ کی گونج کے ساتھ حجاجِ کرام خیموں کے شہر منیٰ کی جانب روانہ ہو گئے۔

رپورٹس کے مطابق بیرونِ ممالک سے آنے والے عازمین سمیت مجموعی طور پر 15 لاکھ سے زائد حجاج اس وقت مکہ مکرمہ میں موجود ہیں، جہاں سے قافلوں کی صورت میں منیٰ روانگی کا سلسلہ جاری ہے۔ احرام میں ملبوس فرزندانِ اسلام کی بڑی تعداد عبادات، تلبیہ اور دعاؤں میں مصروف دکھائی دے رہی ہے۔

عازمین آج کی رات منیٰ میں قیام کریں گے، جہاں وہ عبادات، ذکر و اذکار اور استغفار میں مشغول رہیں گے۔ کل 9 ذوالحجہ کو نمازِ فجر کے بعد تمام حجاج رکنِ اعظم وقوفِ عرفات کی ادائیگی کے لیے میدان عرفات روانہ ہوں گے، جہاں خطبۂ حج کے بعد ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی جائیں گی۔

سورج غروب ہونے کے بعد حجاج بغیر مغرب ادا کیے مزدلفہ روانہ ہوں گے، جہاں مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کرکے ادا کی جائیں گی اور رات کھلے آسمان تلے گزاری جائے گی۔

سعودی محکمہ موسمیات نے حج کے دوران شدید گرمی کے پیشِ نظر خصوصی الرٹ جاری کیا ہے۔ حکام کے مطابق مکہ مکرمہ، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں درجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ ہوا میں نمی کے باعث حبس کی کیفیت بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ گرد آلود ہواؤں کے امکانات کے باعث حجاج کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

سعودی حکام کی جانب سے عازمین کی سہولت کے لیے وسیع انتظامات کیے گئے ہیں، جن میں کولنگ فینز، سایہ دار راستے، پانی کے اسپرے سسٹمز، طبی مراکز اور ہنگامی امدادی ٹیمیں شامل ہیں۔ حکام کے مطابق اس سال تقریباً 30 فیصد حجاج ’’مکہ روٹ انیشی ایٹو‘‘ کے تحت جدید امیگریشن نظام کے ذریعے براہِ راست اور آسان طریقے سے سعودی عرب پہنچے۔

حج کے روحانی مناظر، دنیا بھر سے آئے مسلمانوں کا اتحاد اور مقدس مقامات پر عبادات کا یہ عظیم اجتماع امتِ مسلمہ کے اتحاد، امن اور بھائی چارے کی ایک خوبصورت تصویر پیش کر رہا ہے۔

ایران معاہدے پر جلد مثبت پیش رفت ہوگی، امریکہ کمزور ڈیل نہیں کرے گا: ڈونلڈ ٹرمپ

محمود احمد May25,2026

واشنگٹن/نیوز اینڈ نیوز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متعلق آئندہ دنوں میں مثبت خبر سامنے آنے کی توقع ہے، جبکہ امریکہ کسی بھی ایسی ڈیل پر آمادہ نہیں ہوگا جو اس کے مفادات کے خلاف ہو۔

امریکی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ زیرِ غور معاہدہ ابھی مکمل طور پر حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا، تاہم یہ معاہدہ ماضی کی پالیسیوں سے مختلف اور امریکہ کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہوگا۔

انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین اور معاہدے پر تنقید کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ بغیر حقائق جانے سوشل میڈیا اور میڈیا پر بے بنیاد تبصرے کر رہے ہیں، حالانکہ ابھی تک کسی نے اس مجوزہ معاہدے کی تفصیلات نہیں دیکھیں۔ ان کے مطابق ایسے عناصر صرف سیاسی مقاصد کے لیے تنقید کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے سابق امریکی حکومتوں کی خارجہ پالیسی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ باراک اوباما اور جو بائیڈن کی انتظامیہ اس معاملے کو بروقت حل کرنے میں ناکام رہی، جس کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت امریکی مفادات کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ریکارڈ اس بات کا گواہ ہے کہ وہ کبھی کمزور یا نقصان دہ معاہدے نہیں کرتے۔ ان کے بقول ایران سے متعلق معاملات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور اب یہ فیصلہ بڑی حد تک ایران کے طرزِ عمل اور آئندہ اقدامات پر منحصر ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ جاری سفارتی کوششیں خطے میں استحکام اور کشیدگی میں کمی کا سبب بن سکتی ہیں، تاہم امریکہ اپنے قومی مفادات اور سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا

گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر سمیت تمام مغوی افراد باحفاظت بازیاب

روزینہ اسماعیل.May 24,2026

گوادر /نیوز اینڈ نیوز

یونیورسٹی آف گوادر کے وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر سمیت یونیورسٹی کی اعلیٰ انتظامیہ اور عملے کے تمام مغوی افراد کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا، جس کے بعد وہ اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔ اس پیش رفت پر تعلیمی حلقوں، اساتذہ برادری اور طلبہ میں اطمینان اور خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

تفصیلات کے مطابق ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر سید منظور احمد، ڈاکٹر ارشاد بلیدی اور ان کے ڈرائیور حاتم بدل کی بحفاظت بازیابی پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے اس کامیاب کارروائی کو صوبائی حکومت، سیکیورٹی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ اداروں نے مربوط حکمت عملی، سنجیدہ کوششوں اور بروقت اقدامات کے ذریعے اس حساس معاملے کو کامیابی سے حل کیا۔

ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے اپنے بیان میں بلوچستان کی صوبائی حکومت، گورنر و وزیر اعلیٰ بلوچستان، وفاقی وزارت داخلہ، سول انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے کردار کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل مشن کی کامیابی تمام اداروں کے باہمی تعاون اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظہر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی آف گوادر کی اعلیٰ انتظامیہ کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات کے بعد ملک بھر کی جامعات اور اساتذہ برادری میں شدید تشویش پائی جاتی تھی، تاہم ان کی بحفاظت واپسی ایک خوش آئند اور حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔

چیئرمین ایچ ای سی نے اپنے پیغام میں دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ملک کے اساتذہ، محققین اور تعلیمی عملے کو ہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھے اور پاکستان کو امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن رکھے۔

فیفا نے ایران کی درخواست منظور کر لی، قومی فٹبال ٹیم کا ورلڈ کپ بیس کیمپ امریکہ سے میکسیکو منتقل

محمود احمد May24,2026

نیویارک/نیوز اینڈ نیوز

عالمی فٹبال تنظیم فیفا نے ایران کی درخواست منظور کرتے ہوئے ایرانی قومی فٹبال ٹیم کا ورلڈ کپ بیس کیمپ امریکہ کے بجائے میکسیکو منتقل کرنے کی اجازت دے دی۔ ایرانی فٹبال حکام کے مطابق ٹیم اب اپنی تیاریوں کیلئے میکسیکو کے سرحدی شہر تیخوانا میں قیام کرے گی، جو بحرالکاہل کے قریب اور امریکی سرحد سے متصل اہم شہر سمجھا جاتا ہے۔

ایران فٹبال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج نے ایرانی میڈیا کو بتایا کہ فیفا نے باضابطہ طور پر ایران کی درخواست منظور کر لی ہے، جس کے بعد قومی ٹیم کا پری ورلڈ کپ کیمپ اب امریکہ کے بجائے میکسیکو میں لگایا جائے گا۔ ان کے مطابق تیخوانا میں کیمپ قائم کرنے کا مقصد کھلاڑیوں کو بہتر اور نسبتاً پُرسکون ماحول فراہم کرنا ہے تاکہ ٹیم عالمی کپ کی تیاری مکمل توجہ کے ساتھ کر سکے۔

رپورٹس کے مطابق ایران کو گزشتہ کئی ماہ سے امریکہ میں سکیورٹی، سفری سہولیات اور ویزا معاملات کے حوالے سے مشکلات کا سامنا تھا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ رواں ماہ تک بھی متعدد کھلاڑیوں اور آفیشلز کو امریکی ویزے جاری نہیں کیے گئے تھے، جس کے باعث ٹیم انتظامیہ شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار تھی۔

واضح رہے کہ آئندہ فٹبال ورلڈ کپ 11 جون سے 19 جولائی تک امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں منعقد ہوگا۔ یہ تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ تین ممالک مشترکہ طور پر فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کریں گے۔

فٹبال مبصرین کے مطابق ایران کا کیمپ میکسیکو منتقل ہونا ٹیم کیلئے ایک اہم انتظامی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس فیصلے سے کھلاڑیوں کی نقل و حرکت، تربیتی شیڈول اور میچ تیاریوں میں آسانی پیدا ہوگی۔ دوسری جانب ایرانی شائقین بھی امید ظاہر کر رہے ہیں کہ ٹیم سیاسی اور سفری مسائل سے ہٹ کر مکمل توجہ کھیل پر مرکوز رکھ سکے گی

علیمہ خان نے محسن نقوی اور پی ٹی آئی قیادت کی خفیہ ملاقات کی تصدیق کر دی، فیملی لاعلم رہی

اسلام آباد/نیوز اینڈ نیوز

پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے پارٹی کی موجودہ قیادت اور وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے درمیان ہونے والی مبینہ خفیہ ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اہم ملاقات کے بارے میں خان خاندان کو مکمل طور پر لاعلم رکھا گیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں علیمہ خان نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور سہیل آفریدی کی وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے ملاقات سے متعلق نہ تو فیملی کو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی اس حوالے سے کسی قسم کی پیشگی اطلاع دی گئی۔

انہوں نے اس تاثر کو بھی سختی سے مسترد کیا کہ ملاقات میں عمران خان کے خاندان کا کوئی فرد شریک تھا۔ علیمہ خان کے مطابق اس ملاقات میں خان فیملی کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا اور نہ ہی خاندان کی جانب سے کسی کو اس کیلئے اختیار دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس تمام معاملے سے متعلق سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں مختلف چہ مگوئیاں کی جا رہی ہیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ خاندان کو اس ملاقات کے بارے میں مکمل بے خبری میں رکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حساس معاملات میں شفافیت اور اعتماد ضروری ہے، خاص طور پر جب معاملہ پارٹی قیادت اور حکومتی شخصیات کے درمیان رابطوں کا ہو۔

سیاسی مبصرین کے مطابق علیمہ خان کے اس بیان کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کے اندرونی معاملات اور پارٹی قیادت کے حکومتی رابطوں سے متعلق نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ بعض حلقے اس ملاقات کو سیاسی کشیدگی میں کمی لانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے اس پر تحفظات کا اظہار بھی سامنے آ رہا ہے۔

تاحال بیرسٹر گوہر، سہیل آفریدی یا وزارتِ داخلہ کی جانب سے اس ملاقات کی تفصیلات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔

بنوں میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں میں شدید جھڑپ، 25 دہشت گرد ہلاک، 4 افراد شہید

کاشف عباسی ,May 24 ,2026

بنوں/نیوز اینڈ نیوز

خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں کی تحصیل میریان کے علاقے براکزئی اخوند خیل میں ہفتہ کے روز پولیس، امن کمیٹی اور دہشت گردوں کے درمیان ہونے والی شدید جھڑپ میں کم از کم 25 دہشت گرد مارے گئے جبکہ متعدد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ کارروائی کے دوران دو پولیس اہلکاروں اور دو شہریوں نے جامِ شہادت نوش کیا جبکہ سات پولیس اہلکار اور تین شہری زخمی ہوگئے۔

پولیس حکام کے مطابق کارروائی اس وقت شروع کی گئی جب امن کمیٹی کو علاقے میں بڑی تعداد میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملی۔ اطلاع ملتے ہی بنوں پولیس نے فوری طور پر آپریشن شروع کیا جبکہ لکی مروت کی امن کمیٹی نے بھی پولیس کی مدد کیلئے علاقے میں پہنچ کر کارروائی میں حصہ لیا۔

ضلعی پولیس افسر یاسر آفریدی کے مطابق دہشت گردوں نے مختلف مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کر رکھی تھیں، تاہم پولیس نے شدید مزاحمت کے باوجود پیش قدمی جاری رکھی اور علاقے کا کنٹرول حاصل کرلیا۔ فائرنگ کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا جس کے دوران دو اہم دہشت گرد کمانڈر، زمری نور اور عبداللہ بھی مارے گئے۔

شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی شناخت وحید خان اور نور اللہ کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ شہید شہریوں میں ریٹائرڈ ایف سی اہلکار رئیب خان اور ناصر خان شامل ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق علاقے میں اب بھی بعض دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں جس کے باعث سیکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن جاری رکھا ہوا ہے جبکہ علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔

دوسری جانب بنوں پولیس نے ایک بڑی دہشت گردی کی کوشش بھی ناکام بنا دی۔ پولیس کے مطابق بنوں۔میرانشاہ روڈ پر ماما خیل کے قریب گل زمان مسجد کے نزدیک نصب 10 کلو وزنی ریموٹ کنٹرول بم کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکارہ بنا دیا گیا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے موقع پر پہنچ کر دھماکا خیز مواد کو محفوظ طریقے سے تلف کیا۔

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی اور علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

متعدد قتل کے مقدمات میں مسلسل عمر قید کی سزائیں برقرار، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

کاشف عباسی ,May 24 ,2026

اسلام آباد/نیوز اینڈ نیوز

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ایک سے زائد افراد کے قتل کے مقدمات میں عمر قید کی سزاؤں کو بیک وقت چلانا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے، کیونکہ اس سے متعدد جانیں لینے کے جرم کی سنگینی کم ہو جاتی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایک شخص اور کئی افراد کے قتل کو ایک ہی نوعیت کا جرم تصور نہیں کیا جا سکتا۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جسٹس محمد ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں مقدمے کی سماعت کی، جبکہ بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔ عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کے اُس فیصلے کو برقرار رکھا جس میں قیدی قیصر عباس کو دو خواتین کے قتل کے جرم میں دو الگ الگ عمر قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں اور حکم دیا گیا تھا کہ دونوں سزائیں یکے بعد دیگرے پوری کی جائیں گی۔

مقدمے کے مطابق قیصر عباس پر الزام تھا کہ اس نے جون 2011 میں لاہور کے علاقے علامہ اقبال ٹاؤن میں فائزہ بی بی اور ابیہ کو قتل کیا۔ پراسیکیوشن کے مطابق وقوعے سے ایک ماہ قبل مقتولہ فائزہ بی بی اور ملزم کی بہن کے درمیان جھگڑا ہوا تھا، جس کی رنجش پر یہ قتل کیے گئے۔

ٹرائل کورٹ نے شواہد اور گواہوں کی بنیاد پر ملزم کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302(b) کے تحت دو مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے بھی سزا برقرار رکھی، جس کے خلاف ملزم نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔

سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا مؤکل سزا کے خلاف نہیں بلکہ صرف اس بات کا خواہاں ہے کہ دونوں عمر قید کی سزائیں ایک ساتھ چلائی جائیں۔ وکیل نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 35(a) اور ماضی کے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک مقدمے میں ایک سے زیادہ عمر قید کی سزائیں مسلسل نہیں چل سکتیں۔

دوسری جانب سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جرم انتہائی سنگین اور سفاکانہ نوعیت کا تھا، اس لیے کسی رعایت کی گنجائش موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر متعدد قتل کے مقدمات میں سزائیں بیک وقت چلائی جائیں تو اس سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی اور جرم کی شدت کم محسوس ہوگی۔

اپنے تفصیلی فیصلے میں جسٹس محمد ہاشم کاکڑ نے قرار دیا کہ قانون کا بنیادی مقصد نہ صرف جرم کی سزا دینا بلکہ معاشرے میں انصاف اور توازن برقرار رکھنا بھی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر کئی افراد کے قتل پر صرف ایک ہی سزا مؤثر رہ جائے تو یہ اضافی جرائم کی اہمیت کو ختم کرنے کے مترادف ہوگا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ ہر انسانی جان کی الگ حیثیت اور وقعت ہے، لہٰذا متعدد قتل کے مقدمات میں ہر جرم کی سزا کو الگ انداز میں نافذ ہونا چاہیے تاکہ قانون کی عملداری اور انصاف کا تقاضا پورا ہو سکے۔

ایران جنگ میں امریکہ کو بڑا نقصان، 42 جنگی طیارے اور ڈرون تباہ یا متاثر ہونے کا انکشاف

کاشف عباسی ,May 24 ,2026

واشنگٹن /نیوز اینڈ نیوز

واشنگٹن: ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی “آپریشن ایپک فیوری” کے دوران امریکہ کو فضائی محاذ پر بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ امریکی کانگریس سے وابستہ غیرجانبدار تحقیقی ادارے کانگریشنل ریسرچ سروس (سی آر ایس) کی نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 40 روزہ جنگی مہم کے دوران امریکی فضائیہ کے 42 طیارے اور ڈرون تباہ، گر کر تباہ یا شدید متاثر ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق یہ فوجی مہم 28 فروری 2026 کو شروع ہوئی تھی اور اس دوران لڑاکا طیاروں، نگرانی کرنے والے جہازوں، ایندھن بردار طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور جدید ڈرونز کو مختلف نوعیت کے نقصانات پہنچے۔ امریکی محکمہ دفاع نے اب تک نقصانات کی مکمل سرکاری تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم سی آر ایس کی رپورٹ کو اب تک کی سب سے جامع عوامی دستاویز قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی میڈیا، دفاعی جریدوں اور عسکری مبصرین کے مطابق رپورٹ میں شامل معلومات پینٹاگون کے بیانات، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی تفصیلات اور مختلف جنگی رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہیں۔ رپورٹ کو امریکی کانگریس میں بھی خاص توجہ حاصل ہوئی ہے کیونکہ اس میں پہلی مرتبہ جنگی اخراجات اور نقصانات کی تفصیلی تصویر سامنے آئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کے جدید ترین ایف 15 ای اسٹرائیک ایگل لڑاکا طیاروں میں سے چار شدید متاثر ہوئے۔ ان میں سے تین طیارے مبینہ طور پر کویت کی فضائی حدود میں “فرینڈلی فائر” کا نشانہ بنے، جبکہ ایک ایف 15 ای ایران کے اندر جنگی کارروائی کے دوران تباہ ہوا۔ خوش قسمتی سے ان تمام واقعات میں پائلٹس نے بروقت ایجیکٹ کر کے جان بچالی۔

اسی طرح ایک جدید ایف 35 اے اسٹیلتھ فائٹر جیٹ کو بھی ایرانی زمینی دفاعی نظام سے نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی فضائیہ کا اے 10 تھنڈربولٹ حملہ آور طیارہ 3 اپریل کو دشمن کی فائرنگ کے باعث تباہ ہوا، تاہم اس کا پائلٹ محفوظ رہا۔

امریکی حکام کے مطابق جنگی اخراجات میں غیرمعمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پینٹاگون کے قائم مقام کمپٹرولر جولز ڈبلیو ہرسٹ نے کانگریس میں بریفنگ کے دوران بتایا کہ ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں پر اب تک تقریباً 29 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جن میں بڑی رقم تباہ یا متاثر ہونے والے عسکری سازوسامان کی مرمت اور تبدیلی پر خرچ کی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ ایران کے دفاعی نظام نے امریکی فضائی آپریشنز کیلئے غیر متوقع چیلنجز پیدا کیے۔ ایرانی میزائل سسٹمز، ڈرون حملوں اور فضائی نگرانی کے جدید نیٹ ورک نے کئی مواقع پر امریکی کارروائیوں کو متاثر کیا، جس کے باعث امریکی فوج کو اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلیاں کرنا پڑیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ جنگ جدید فضائی جنگی حکمتِ عملی، ڈرون ٹیکنالوجی اور میزائل دفاعی نظام کے حوالے سے ایک اہم موڑ ثابت ہو رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ کو عسکری برتری حاصل رہی، لیکن ایران نے محدود وسائل کے باوجود سخت مزاحمت کر کے واشنگٹن کو بھاری مالی اور تکنیکی نقصان پہنچایا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس رپورٹ کے بعد امریکی کانگریس میں جنگی اخراجات، مشرقِ وسطیٰ کی پالیسی اور فوجی مداخلتوں پر نئی بحث شروع ہونے کا امکان ہے، جبکہ امریکی عوام میں بھی اس جنگ کی قیمت اور نتائج پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایران کا اہم دورہ مکمل، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی کوششوں میں پیش رفت

منصور احمد ,May 24,2026

راولپنڈی/نیوز اینڈ نیوز

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران کا مختصر مگر انتہائی اہم اور نتیجہ خیز سرکاری دورہ مکمل کر لیا، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں۔ یہ دورہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور جاری سفارتی ثالثی کی کوششوں کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی، جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والے چیلنجز اور امن کے قیام کیلئے جاری سفارتی عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ملاقاتوں میں اس بات پر زور دیا گیا کہ خطے میں پائیدار امن، سفارتی رابطوں، مذاکرات اور باہمی اعتماد کے فروغ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ فریقین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ کسی بھی نئی محاذ آرائی سے پورے خطے کے امن و استحکام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اس لیے تمام تنازعات کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی قیادت سے ہونے والی بات چیت مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئی، جس نے جاری ثالثی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ہونے والی مشاورت کو انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق مذاکرات اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے، آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی برقرار رکھنے اور ایران و امریکہ کے درمیان کسی ممکنہ تصادم کو روکنے کیلئے سرگرم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان مختلف علاقائی اور عالمی فریقین سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

ایرانی قیادت نے بھی پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے خطے میں امن کے فروغ کیلئے اسلام آباد کے کردار کو اہم قرار دیا۔ ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، سرحدی تعاون، علاقائی سلامتی، اقتصادی روابط اور مشترکہ مفادات کے دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ دورہ نہ صرف پاکستان اور ایران کے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا بلکہ خطے میں جاری سفارتی کوششوں کو بھی نئی سمت فراہم کرے گا۔

ایک روز میں 274 کوہ پیماؤں نے ماؤنٹ ایورسٹ سر کر کے نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا

کٹھمنڈو/ نیوز اینڈ نیوز
نیپال میں موسم سازگار ہوتے ہی دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ پر غیر معمولی سرگرمی دیکھنے میں آئی، جہاں صرف ایک ہی روز میں 274 کوہ پیماؤں نے کامیابی کے ساتھ چوٹی سر کر کے عالمی ریکارڈ قائم کر دیا۔ یہ نیا ریکارڈ اس سے قبل 2019 میں قائم ہونے والے ریکارڈ سے بھی آگے نکل گیا، جب ایک دن میں 223 کوہ پیما ایورسٹ کی چوٹی تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

نیپالی حکام اور ایکسپیڈیشن کمپنیوں کے مطابق رواں سیزن میں حکومتِ نیپال کی جانب سے تقریباً 500 کلائمبنگ پرمٹ جاری کیے گئے، جس کے باعث ایورسٹ پر دنیا بھر سے آنے والے کوہ پیماؤں کا بڑا رش دیکھنے میں آیا۔ بلند ترین حصوں، خصوصاً 8 ہزار میٹر سے اوپر کے خطرناک “ڈیتھ زون” میں بھی کوہ پیماؤں کی طویل قطاریں دیکھی گئیں، جہاں آکسیجن کی شدید کمی کے باعث ہر قدم انتہائی خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم کی مختصر سازگار ونڈو کے دوران زیادہ سے زیادہ ٹیمیں چوٹی سر کرنے کی کوشش کرتی ہیں، اسی وجہ سے ایک ہی دن میں اتنی بڑی تعداد میں کوہ پیماؤں نے ایورسٹ کی جانب پیش قدمی کی۔ اگرچہ یہ ریکارڈ کوہ پیمائی کی تاریخ میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین نے بڑھتے ہوئے رش، ماحولیاتی دباؤ اور حفاظتی خدشات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

رواں سیزن کے دوران کئی انفرادی ریکارڈز بھی قائم ہوئے۔ معروف نیپالی شیرپا گائیڈ کیمی ریتا شیرپا نے 32ویں بار ماؤنٹ ایورسٹ سر کر کے اپنا ہی عالمی ریکارڈ مزید بہتر بنا لیا۔ انہیں دنیا میں سب سے زیادہ مرتبہ ایورسٹ سر کرنے والا کوہ پیما سمجھا جاتا ہے، اور ان کی کامیابی کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔

اسی طرح 52 سالہ لکھپا شیرپا نے 11ویں مرتبہ ایورسٹ سر کر کے خواتین کے زمرے میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ ان کی کامیابی کو خواتین کوہ پیماؤں کے لیے ایک بڑی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب روس سے تعلق رکھنے والے دونوں ٹانگوں سے محروم کوہ پیما رستم نبیئیف نے بھی غیر معمولی جرات اور عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف ہاتھوں کے سہارے ماؤنٹ ایورسٹ سر کر لیا۔ ان کی یہ کامیابی دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بن گئی ہے اور سوشل میڈیا پر لاکھوں افراد ان کی ہمت کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔

نیپال کی سیاحت کی صنعت کے لیے ایورسٹ سیزن انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ہر سال ہزاروں غیر ملکی سیاح اور کوہ پیما یہاں آتے ہیں، جس سے ملکی معیشت کو کروڑوں ڈالر کا فائدہ ہوتا ہے۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث مستقبل میں حفاظتی اقدامات کو مزید سخت بنانے کی ضرورت ہوگی تاکہ انسانی جانوں کو لاحق خطرات کم کیے جا سکیں۔

ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے 2 بھارتی کوہ پیما واپسی پر جان کی بازی ہار گئے

محمود احمد May23,2026

کٹھمنڈو/ نیوز اینڈ نیوز
دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے دو بھارتی کوہ پیما واپسی کے دوران ہلاک ہو گئے، جبکہ رواں سیزن میں ایورسٹ پر بڑھتی سرگرمیوں کے باعث کوہ پیماؤں کی حفاظت سے متعلق خدشات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔

نیپالی حکام کے مطابق بھارتی کوہ پیما ارون تیواری اور سندیپ آرے نے کامیابی کے ساتھ ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی سر کی، تاہم واپسی کے سفر میں شدید تھکن، خراب موسمی حالات اور جسمانی کمزوری کے باعث دونوں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

ایکسپیڈیشن آپریٹرز ایسوسی ایشن نیپال کے سیکریٹری جنرل رشی بھنڈاری کے مطابق سندیپ آرے کو “بالکونی” کے مقام سے “ساؤتھ کول” تک منتقل کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن وہ راستے میں دم توڑ گئے۔ دوسری جانب ارون تیواری “ہلیری اسٹیپ” کے قریب شدید جسمانی تھکن کا شکار ہوئے، جہاں موجود چار شیرپا گائیڈز نے انہیں بچانے کی بھرپور کوشش کی، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔

ماہرین کے مطابق ماؤنٹ ایورسٹ پر واپسی کا مرحلہ سب سے زیادہ خطرناک تصور کیا جاتا ہے کیونکہ چوٹی سر کرنے کے بعد آکسیجن کی کمی، سخت موسم اور جسمانی توانائی ختم ہونے کے باعث حادثات کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔

نیپال کی سیاحتی اتھارٹی کے مطابق رواں سال ایورسٹ سر کرنے کے لیے غیر معمولی تعداد میں اجازت نامے جاری کیے گئے ہیں۔ صرف ایک روز میں ریکارڈ 274 کوہ پیما دنیا کی بلند ترین چوٹی تک پہنچنے میں کامیاب رہے، جبکہ مجموعی طور پر اس سال تقریباً 500 پرمٹ جاری کیے گئے، جو 1953 کے بعد بلند ترین تعداد قرار دی جا رہی ہے۔

کوہ پیمائی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایورسٹ پر بڑھتی ہوئی رش، محدود موسمی وقت اور بلند مقامات پر انسانی دباؤ مستقبل میں مزید خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔ انہوں نے نیپالی حکام پر زور دیا ہے کہ کوہ پیماؤں کی تعداد، حفاظتی اقدامات اور ریسکیو سہولیات کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ انسانی جانوں کے ضیاع سے بچا جا سکے۔

ایران سے معاہدے یا دوبارہ جنگ؟ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار تک فیصلہ کرنے کا عندیہ دے دیا

محمود احمد May23,2026

واشنگٹن / نیوز اینڈ نیوز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے امکانات “ففٹی ففٹی” ہیں اور آئندہ چند روز میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ سفارتی راستہ اختیار کیا جائے یا دوبارہ سخت فوجی کارروائی کی جانب بڑھا جائے۔

امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ایک انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور وہ اپنی ٹیم کے ساتھ مشاورت کے بعد اتوار تک اہم فیصلہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں دو ہی امکانات موجود ہیں، یا ایک مضبوط اور مؤثر معاہدہ طے پا جائے گا یا پھر خطے میں شدید کشیدگی اور ممکنہ بمباری کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ صرف ایسے معاہدے کو قبول کرے گا جس میں ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام اور ذخائر سے متعلق تمام معاملات مکمل طور پر طے کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نہیں ہوگا جس سے ایران کو مستقبل میں جوہری صلاحیت بڑھانے کا موقع ملے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی مذاکراتی ٹیم اور قریبی مشیروں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں تاکہ ایران کی حالیہ تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق امریکہ اس وقت سفارتی حل کو ترجیح دے رہا ہے، تاہم تمام آپشنز بدستور میز پر موجود ہیں۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کی عسکری صلاحیت پہلے کے مقابلے میں کمزور ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کی گئی بعض پوسٹس بھی عالمی توجہ کا مرکز بن گئیں۔ صدر ٹرمپ نے امریکی پرچم کے رنگوں سے مزین ایران کا ایک نقشہ شیئر کیا، جس پر “یونائیٹڈ اسٹیٹس آف مڈل ایسٹ” کا جملہ تحریر تھا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس پوسٹ کو خطے میں جاری سفارتی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

اسی دوران ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے عالمی سطح پر قیاس آرائیاں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ خلیجی ممالک، یورپی سفارتی حلقے اور کئی بین الاقوامی طاقتیں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ آبنائے ہرمز اور مشرقِ وسطیٰ میں کسی بڑے فوجی تصادم سے بچا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے چند روز امریکہ اور ایران تعلقات کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو خطے میں ایک نئی کشیدگی جنم لینے کا خدشہ موجود ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

پاکستانی ثالثی کوششوں پر قطر اور امریکہ میں اہم مشاورت، امیرِ قطر اور صدر ٹرمپ کا خطے میں کشیدگی کم کرنے پر زور

محمود احمد May23,2026

دوحہ / نیوز اینڈ نیوز

دوحہ: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی تناؤ اور خلیجی خطے کی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، عالمی تجارتی راستوں کے تحفظ اور پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی و ثالثی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

قطری وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کو کسی بڑے تصادم سے بچانے، سفارتی رابطوں کو مؤثر بنانے اور خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر پاکستان کی قیادت میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری بیک ڈور سفارت کاری اور اعتماد سازی کی کوششوں کو بھی خاص اہمیت دی گئی۔

ذرائع کے مطابق امیرِ قطر اور امریکی صدر نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ حالات میں جنگ یا عسکری محاذ آرائی کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں، اس لیے مسائل کا حل مذاکرات، سفارت کاری اور مسلسل رابطوں کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ دونوں رہنماؤں نے اس امر پر زور دیا کہ خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان سمیت دیگر دوست ممالک کے کردار کو مزید فعال اور مؤثر بنایا جائے۔

ٹیلیفونک گفتگو میں ایران اور امریکہ کے درمیان پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خلیجی سمندری راستوں کی سیکیورٹی پر بھی تفصیلی مشاورت کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ عالمی تجارت، تیل و گیس کی ترسیل اور بین الاقوامی بحری سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے ضروری ہے کہ خطے میں استحکام برقرار رکھا جائے اور کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی سے گریز کیا جائے۔

امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے اس موقع پر کہا کہ قطر ہمیشہ سے تنازعات کے سیاسی اور پرامن حل پر یقین رکھتا آیا ہے اور موجودہ صورتحال میں بھی دوحہ خطے کے امن کے لیے ہر ممکن سفارتی کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد سازی کی کوششوں کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے کے استحکام کے لیے تمام ذمہ دار ممالک کو مشترکہ حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔

اعلامیے کے مطابق گفتگو میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ آبنائے ہرمز سمیت تمام اہم بحری راستوں پر تجارتی اور غیر فوجی جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنایا جائے تاکہ عالمی معیشت متاثر نہ ہو۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تناؤ کے باعث قطر، پاکستان، چین اور دیگر علاقائی ممالک مسلسل سفارتی رابطوں میں مصروف ہیں تاکہ کسی ممکنہ بحران کو روکنے کے لیے قابلِ عمل راستہ نکالا جا سکے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کی ایران اور دیگر خلیجی ممالک سے ملاقاتوں کو بھی اسی سفارتی کوشش کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

امیرِ قطر اور صدر ٹرمپ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خطے میں پائیدار امن، اقتصادی استحکام اور عالمی تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھی جائیں گی اور تمام تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی حمایت کی جائے گی۔