ضلع کشتواڑ کے اتھولی تھانے کی چاردیواری پھلانگ کر راشٹریہ رائفلز کے اہلکاروں کا لاٹھیوں اور اسلحے سے دھاوا؛ مودی حکومت میں ریاستی اداروں کے مابین بڑھتی ہوئی اندرونی کشیدگی اور کمزور انتظامی کنٹرول آشکار

محمود احمد june 29,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 29 جون 2026ء

بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں قابض مودی حکومت کے ریاستی ادارے آپس میں ہی دست و گریباں ہو گئے ہیں جہاں بھارتی فوج اور مقامی پولیس کے مابین شدید تصادم کی مقتدر رپورٹ سامنے آئی ہے۔ بھارتی جریدے ‘دی ہندو’ کی تفصیلات کے مطابق، یہ غیر معمولی واقعہ ضلع کشتواڑ کے علاقے اتھولی میں پیش آیا جہاں انتہا پسند مودی سرکار کے ناقص انتظامی کنٹرول کے باعث شکست خوردہ بھارتی فوج کے مسلح اہلکار تھانے کے اندر ہی غنڈہ گردی اور بربریت پر اتر آئے۔

مقدمے کی تفصیلات کے مطابق، سترہ راشٹریہ رائفلز کے لگ بھگ چالیس سے زائد فوجی اہلکار اتھولی تھانے کی باقاعدہ چار دیواری اور مرکزی دروازہ پھلانگ کر اندر داخل ہوئے، جہاں انہوں نے اسلحہ، لوہے کی سلاخوں اور لاٹھیوں کا آزادانہ استعمال کرتے ہوئے ڈیوٹی پر موجود پولیس افسران کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور سرکاری املاک کو شدید نقصان پہنچایا۔ مقامی پولیس نے اس مجرمانہ حملے کے بعد اپنے ہی محکمے کے اعلیٰ افسران پر تشدد اور تھانے میں توڑ پھوڑ کے جرم میں بھارتی فوج کے یونٹ کمانڈنگ آفیسر یعنی کرنل، میجر اور نائب صوبیدار سمیت درجنوں فوجی اہلکاروں کے خلاف اقدامِ قتل اور سنگین حملے کی باقاعدہ ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ درج کردہ رپورٹ کے مطابق، فوجی اہلکاروں کا یہ حملہ پہلے سے طے شدہ تزویراتی منصوبہ بندی کا حصہ تھا جس کا بنیادی مقصد ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کو جانی نقصان پہنچانا تھا۔

واضح رہے کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں قابض فوج اور مقامی پولیس یا پیراملٹری فورسز کے مابین تصادم کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ ماضی قریب میں بھی ایسے متعدد واقعات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ تزویراتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج اور پولیس کے مابین بڑھتا ہوا یہ تصادم مقبوضہ علاقے میں تعینات قابض فورسز کے اندرونی عدم استحکام، مقتدر دباؤ اور باہمی کشیدگی کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔ دوسری جانب، بھارتی فوج کی طرف سے وادی کشمیر اور مضافاتی اضلاع میں کی جانے والی یہ کھلی غنڈہ گردی اس بات کی پختہ دلیل ہے کہ مودی حکومت اپنے ہی ریاستی اور حفاظتی اداروں پر مکمل کنٹرول کھو چکی ہے جس سے پورے ملک کا انتظامی ڈھانچہ اندرونی طور پر کھوکھلا ہو رہا ہے۔

سندھ میں انسدادِ پولیو مہم کی مقتدر کامیابی: انتیس میں سے اٹھائیس ماحولیاتی نمونے منفی رپورٹ، وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کا بڑا اعلان

روزینہ اسماعیل.june 29,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 29 جون 2026ء

ملک سے پولیو وائرس کے جڑ سے خاتمے کی حکومتی کوششوں کے دوران صوبہ سندھ سے ایک مقتدر اور انتہائی حوصلہ افزا پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں حالیہ ماحولیاتی نمونوں کے نتائج نے انسدادِ پولیو کی مؤثر حکمتِ عملی پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے۔ وفاقی وزیر برائے صحت سید مصطفیٰ کمال نے وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلیٰ سطحی بیان میں تصدیق کی ہے کہ سندھ بھر سے حاصل کیے گئے کل انتیس ماحولیاتی نمونوں میں سے اٹھائیس نمونے مکمل طور پر منفی رپورٹ ہوئے ہیں، جو کہ اگست دو ہزار تئیس کے بعد سے اب تک صوبے میں منفی ماحولیاتی نمونوں کی ریکارڈ کی جانے والی سب سے بڑی اور مقتدر تعداد ہے۔

وفاقی وزیر صحت کے مطابق کراچی ڈویژن میں پولیو وائرس کی پھیلاؤ کی شرح میں تاریخی کمی دیکھنے میں آئی ہے جہاں پہلی مرتبہ بارہ میں سے گیارہ ماحولیاتی نمونے یکسر منفی رپورٹ ہوئے ہیں۔ اسی طرح خوش آئند بات یہ ہے کہ سندھ کے دیگر تمام ڈویژنز سے حاصل کیے گئے تمام سترہ کے سترہ ماحولیاتی نمونے بھی مکمل طور پر منفی آئے ہیں جو کہ انسدادِ پولیو اقدامات کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سید مصطفیٰ کمال نے تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ قمبر اور کشمور جیسے دور دراز اضلاع میں ایک طویل عرصے کے بعد پولیو وائرس کی گردش کا تھم جانا اور بدین و میرپورخاص میں مسلسل دوسرے مہینے بھی ماحولیاتی نمونوں کا منفی آنا ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔

انہوں نے اپنے مقتدر عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان کو پولیو سے پاک کرنے کے لیے تمام ملکی وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور اس سلسلے میں وفاقی و صوبائی اداروں، شراکت دار بین الاقوامی تنظیموں اور تمام متعلقہ فریقین کے باہمی اشتراک سے جامع مہمات چلائی جا رہی ہیں۔ وزیر صحت نے بتایا کہ رواں سال دو ہزار چھبیس کے دوران ملک میں دو قومی اور ایک ذیلی انسدادِ پولیو مہمات کامیابی سے مکمل کی جا چکی ہیں، جبکہ وائرس کی باقی ماندہ منتقلی کا جڑ سے خاتمہ یقینی بنانے کے لیے آئندہ ماہ جولائی دو ہزار چھبیس میں کراچی بھر میں ایک خصوصی انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پولیو فری پاکستان موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور ملک کے ہر بچے کو اس معذوری سے تحفظ فراہم کرنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

گلستانِ جوہر میں پاکستان رینجرز کے دفتر پر بزدلانہ حملہ ناکام بنانے پر وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کا جوانوں کو زبردست خراجِ تحسین

محمود احمد june 28,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے صوبائی دارالحکومت کے علاقے گلستانِ جوہر میں پاکستان رینجرز کے دفتر پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کو سراہا ہے۔ اتوار کے روز کراچی سے جاری کردہ اپنے مقتدر بیان میں انہوں نے پاکستان رینجرز کے ان بہادر جوانوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ آور دہشت گردوں کو موقع پر ہی جہنم واصل کر کے ان کی بڑی تخریب کاری کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔

سید مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ پاکستان رینجرز اور دیگر تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اعلیٰ پیشہ ورانہ استعداد اور بہادری پر پوری قوم کو ہمیشہ فخر رہے گا، کیونکہ یہ بزدل عناصر ایسی شرمناک کارروائیوں کے ذریعے ملک کا پائیدار امن سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ ریاست دشمن عناصر کے ایسے ناپاک عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا اور پوری پاکستانی قوم افواجِ پاکستان سمیت تمام حفاظتی اداروں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔ وفاقی وزیر صحت نے اپنے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ ملک سے دہشت گردی کے اس ناسور کے مکمل اور حتمی خاتمے تک ریاستی اداروں کی ہر سطح پر ممکنہ حمایت اور سرپرستی کا یہ سلسلہ مستقل جاری رہے گا تاکہ امن و امان کی صورتحال پر کوئی آنچ نہ آئے۔

پاک سعودی وزرائے خارجہ کا رابطہ: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سعودی ہم منصب سے گفتگو، ہیلی کاپٹر حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

محمود احمد june 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور برادر ملک میں پیش آنے والے حالیہ ہیلی کاپٹر حادثے کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم کی طرف سے اس المکفوف واقعے میں چودہ قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی تعزیت پیش کی۔ دفترِ خارجہ کی طرف سے سامنے آنے والے مقتدر بیان کے مطابق، سعودی وزیرِ خارجہ نے اس کڑے وقت میں پاکستانی قیادت اور عوام کے مخلصانہ اور برادرانہ جذبات کو مقتدر طور پر سراہا اور نائب وزیرِ اعظم کا شکریہ ادا کیا۔

ٹیلی فونک گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے میں رونما ہونے والی حالیہ تزویراتی پیش رفت پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا اور ارد گرد کی ابھرتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اس موقع پر سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پاکستان کے اس پختہ عزم کو دہرایا کہ ملک اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے طے شدہ اصولوں کے تحت خطے میں پائیدار امن کے قیام اور استحکام کے لیے اپنا مثبت اور تعمیری کردار مسلسل ادا کرتا رہے گا۔ رابطے کے دوران سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے یہ خواہش بھی ظاہر کی کہ وہ باہمی طور پر طے پانے والی مناسب تواریخ پر بہت جلد پاکستان کا باقاعدہ دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس کا نائب وزیرِ اعظم نے گرمجوشی سے خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ اعلیٰ سطحی دورہ جلد عملی شکل اختیار کرے گا جس سے دونوں برادر ممالک کے مابین تعلقات کے نئے باب کا آغاز ہوگا۔

برادر ملک کے ساتھ معاشی روابط میں مقتدر پیش رفت: پاکستان نے سال دو ہزار تیس تک سعودی عرب میں دس لاکھ افرادی قوت بھیجنے کا ہدف مقرر کر دیا

منصور احمد june 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

پاکستان نے برادر ملک کے ساتھ لیبر موبیلٹی، انسانی سرمائے کی ترقی اور باہمی معاشی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے سال دو ہزار تیس تک سعودی عرب میں ریکارڈ دس لاکھ افرادی قوت بھیجنے کا تزویراتی ہدف مقرر کر دیا ہے، جو کہ ایک طویل المدتی افرادی قوت کی ترقی کی حکمتِ عملی کا کلیدی حصہ ہے۔ دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ تاریخی ہدف دونوں ممالک کے معاشی تعاون کے فریم ورک کے تحت تیار کردہ پندرہ سالہ ہیومن ریسورس ڈیپلائیمنٹ پلان کا حصہ ہے، جو پاکستانی افرادی قوت کو سعودی عرب کے وژن دو ہزار تیس کی جدید ضروریات کے مطابق مؤثر طریقے سے منظم کرتا ہے۔ اس جامع منصوبے کے تحت سالانہ بیرونِ ملک بھیجے جانے والے کارکنوں کی مجموعی تعداد کو سال دو ہزار انتالیس تک بڑھا کر پندرہ لاکھ دس ہزار تک پہنچانے کا مقتدر ہدف رکھا گیا ہے، جس کے لیے اعلیٰ تعلیم یافتہ، ہنرمند اور نیم ہنرمند افرادی قوت کی ایک منظم پائپ لائن تیار کی جائے گی، جبکہ اس عمل میں تعمیرات، ہوٹلنگ، سیاحت، صحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ایوی ایشن اور انفراسٹرکچر کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

سعودی عرب طویل عرصے سے پاکستانی محنت کشوں کا سب سے بڑا مرکز رہا ہے اور بیورو آف امیگریشن کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے دوران بیرونِ ملک روزگار کے لیے رجسٹرڈ ہونے والے سات لاکھ باسٹھ ہزار سے زائد ملکی کارکنوں میں سے پانچ لاکھ تیس ہزار سے زائد یعنی تقریباً ستر فیصد افراد نے روزگار کے لیے سعودی عرب کا رخ کیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جانے والے پاکستانیوں کی تعداد کل افرادی قوت کا چھیانوے فیصد بنتی ہے۔ سعودی عرب کے وژن دو ہزار تیس کے تحت شروع ہونے والے میگا اور گیگا پروجیکٹس کی بدولت وہاں تعمیرات اور سروسز کے شعبوں میں روزگار کے بے پناہ نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں، جنہیں پورا کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی قومی حکمتِ عملی کو سعودی مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق ڈھال لیا ہے، جس کے تحت نیوٹیک اور سعودی عرب کے فنی اداروں کے مابین کوالیفیکیشن کو ہم آہنگ کیا جا رہا ہے اور ڈیجیٹل لیبر مارکیٹ انٹیگریشن سمیت آجر سے منسلک بھرتی کے ماڈلز متعارف کرائے جا رہے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق پاکستان نے اس ڈیمانڈ ڈریون تربیتی انفراسٹرکچر، اسکل سٹیز اور مشترکہ تعلیمی اداروں کے قیام کے لیے سعودی عرب کی شراکت داری سے اڑتیس ارب ڈالر کا ایک بڑا سرمایہ کاری فریم ورک بھی تجویز کیا ہے، جس میں ستائیس ارب ڈالر تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم اور دس ارب ڈالر اعلیٰ تعلیم کے شعبے کے لیے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ حالیہ عرصے میں اس تزویراتی اقدام کے تحت ستر سے زائد مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے جا چکے ہیں اور انسانی وسائل کی نمائش کے بعد چار ہزار سات سو سے زائد کارکنوں کی فوری تعیناتی سمیت سعودی تکامل اور مساند جیسے مقتدر اداروں کے ساتھ تعاون بڑھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان مستقبل کے بین الاقوامی مواقع بالخصوص فیفا ورلڈ کپ دو ہزار چونتیس کی تیاریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی افرادی قوت کی طویل المدتی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جس کے تحت سال دو ہزار چھبیس سے دو ہزار چونتیس کے درمیان انفراسٹرکچر، ہوا بازی، سیاحت اور متعلقہ شعبوں کے لیے تین سے چار لاکھ مقتدر کارکنوں کی خصوصی تربیت اور تعیناتی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے تاکہ پاکستان کی ترجیحی ورک فورس پارٹنر کی حیثیت برقرار رہے اور ملک کو زیادہ ترسیلاتِ زر حاصل ہو سکیں۔

عالمی مالیاتی ادارے پر انحصار ختم کرنے کے لیے ملکی برآمدات اور جدید تیکنیک کا فروغ ناگزیر ہے، وفاقی وزیر احسن اقبال

https://images.openai.com/static-rsc-4/9FH5xvDeYcPCfTKKZ96popFSxOjP8d34PbdXMf1x8myQdEpO6ofrSxNOmJuDF8-auksXU2CMI8qnSBCrsB3dLMh8hhdaiWWUnLM_92gHZGGvpnt5R1kX4sf4SEmarOYCjVJiIfb0VnoIcY9L1dBVavhxJMcBobUldwpL1Pygno8aXWzBV9mAGggzPdQN1hmZ?purpose=fullsize

کاشف عباسی ,june 28,026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی خودمختاری، بقا اور تعمیر و ترقی کا حتمی فیصلہ اب معاشی محاذ، جدید تیکنیک اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں کامیابی سے مشروط ہے کیونکہ بیرونی قرضوں اور عالمی مالیاتی ادارے کے چنگل سے مستقل آزادی صرف برآمدات میں اضافے سے ہی ممکن ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور کے ایک تربیتی مرکز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران کیا جہاں ارکانِ قومی اسمبلی، سیاسی رہنما اور ادارے کے اعلیٰ حکام موجود تھے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت اپنے اڑان پاکستان پروگرام کے ذریعے نوجوان نسل کو جدید ترین انٹرنیٹ مہارتوں اور مصنوعی ذہانت سے آراستہ کر رہی ہے تاکہ عالمی معیشت میں ملک کا ایک منفرد مقام بنایا جا سکے۔ انہوں نے ملکی دفاعی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے حالیہ سفارتی کامیابیوں کا سہرا وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے سر باندھا جن کی تزویراتی قیادت میں پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کیا۔

امریکہ اور ایران کے مابین حالیہ تنازع کا ذکر کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ اگر یہ معرکہ طول پکڑ جاتا تو پوری دنیا شدید ترین معاشی بحران، ایندھن کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے اور عالمی مہنگائی کی لپیٹ میں آ جاتی، مگر پاکستان نے اپنی مؤثر اور مقتدر سفارت کاری کے ذریعے عالمی امن قائم کرنے میں ایک تاریخی کردار ادا کیا جس کا اعتراف اب پوری دنیا کر رہی ہے۔ انہوں نے ماضی کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ سال دو ہزار تیرہ میں مسلم لیگ (ن) کو دہشت گردی اور لوڈشیڈنگ جیسے سنگین مسائل ورثے میں ملے تھے جن پر میاں نواز شریف کی قیادت میں قابو پایا گیا اور سال دو ہزار سترہ میں دنیا پاکستان کو بیس بڑی معیشتوں میں شامل دیکھ رہی تھی مگر بعد میں آنے والی حکومت نے ملکی ترقی کے اس سفر کو شدید نقصان پہنچایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیفالٹ کے سائے منڈلانے کے باوجود حکومت نے سیاست کے بجائے ریاست کو ترجیح دی جس کے نتیجے میں اڑتیس فیصد کی ریکارڈ مہنگائی اب محض چھ فیصد پر آ چکی ہے جبکہ بینکوں کی پالیسی شرح سود بھی تئیس فیصد سے کم ہو کر دس فیصد کی سطح پر آ گئی ہے، جو معاشی بحالی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے بیرونی ملک مقیم نوے لاکھ پاکستانیوں کی جانب سے سالانہ چالیس ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر بھیجنے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ مایوسی اور انتہا پسندی کا راستہ چھوڑ کر جدید مہارتیں سیکھیں کیونکہ ملکی ترقی کا راز پالیسیوں کے تسلسل اور محنت میں پنہاں ہے۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے تصدیق کی کہ امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ ہو چکا ہے اور بھارت پاکستان کے حصے کا پانی روکنے کی جرات نہیں کر سکتا کیونکہ عالمی برادری بھی اس معاملے پر اس پر دباؤ ڈال رہی ہے۔

مراکش کے اسماعیل صیباری سمیت متعدد مسلم کھلاڑیوں کو شراب کی برانڈنگ کے بغیر خصوصی ٹرافی اور بیک ڈراپ پیش؛ فیفا کی جانب سے کھلاڑیوں کے عقائد اور قانونی عمر کے احترام میں مقتدر پالیسی نافذ

محمود احمد june 28,2026

میامی (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا نے سال دو ہزار چھبیس کے جاری فیفا ورلڈ کپ کے دوران مسلم کھلاڑیوں کے مذہبی عقائد اور ثقافتی حساسیت کا مقتدر احترام کرتے ہوئے پلے آف دی میچ کی تقریب اور ٹرافی میں ایک انتہائی اہم اور تاریخی تبدیلی متعارف کرا دی ہے۔ اس نئی اور وضع کردہ پالیسی کے تحت منتخب مسلم اور مخصوص کھلاڑیوں کے لیے شراب کی برانڈنگ کے بغیر ایک بالکل الگ اور غیر جانبدار بیک ڈراپ اور خصوصی ٹرافی پیش کی جا رہی ہے۔ یہ بڑی تبدیلی اس وقت عالمی میڈیا کے سامنے نمایاں ہوئی جب مراکش کے اسٹار کھلاڑی اسماعیل صیباری نے اسکاٹ لینڈ کے خلاف کھیلے گئے میچ میں ٹورنامنٹ کا تیز ترین پہلا گول اسکور کر کے مین آف دی میچ کا مقتدر اعزاز حاصل کیا۔

ایوارڈ کی اس مخصوص تقریب کے دوران عام طور پر پسِ منظر میں موجود بیئر برانڈ کی تشہیر کو مکمل طور پر ہٹا کر اس کی جگہ ایک غیر جانبدار سپیریئر پلیئر آف دی میچ ڈیزائن اور فیفا ورلڈ کپ کی باقاعدہ برانڈنگ استعمال کی گئی۔ عالمی رپورٹس کے مطابق مراکش کے اسماعیل صیباری کے علاوہ مصر کے امام عاشور، اردن کے علی علوان، ایران کے رامین رضائیان، قطر کے مقتدر گول کیپر محمود ابو ندا اور آئیوری کوسٹ کے یان دیومانڈے کو بھی ان کے میچز میں شاندار کارکردگی پر اسی طرز کا غیر برانڈڈ ایوارڈ فراہم کیا گیا ہے۔

فیفا کے ترجمان نے اس حوالے سے باقاعدہ وضاحت جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کسی بھی منتخب کھلاڑی کی ذاتی درخواست پر بغیر برانڈنگ والا ایوارڈ اور پینل بیک ڈراپ فراہم کیا جا سکتا ہے۔ ترجمان کے مطابق اسی یکساں پالیسی کا برحق اطلاق ان نوجوان کھلاڑیوں پر بھی سختی سے ہوتا ہے جو قانونی طور پر اپنے ممالک یا میزبان ملک میں شراب نوشی کی مقررہ عمر کو نہیں پہنچے ہوتے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل سال دو ہزار اٹھارہ کے ورلڈ کپ میں مصر کے مقتدر گول کیپر محمد الشناوی نے بھی شراب کی اسپانسرشپ سے منسلک پلیئر آف دی میچ ایوارڈ کو قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا جس کے بعد مسلم کھلاڑیوں کے حقوق اور عقائد کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر ایک بڑی مہم نے توجہ حاصل کی تھی۔

ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے قریبی اہم ترین تیل مرکز راس تنورہ کے علاقے میں کریش ہوا؛ حادثہ ایسے وقت پیش آیا جب چار ماہ کی معطلی کے بعد حال ہی میں تیل کی بین الاقوامی سپلائی دوبارہ بحال کی گئی تھی

محمود احمد june 28,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کا ایک ہیلی کاپٹر ساحلی علاقے کے قریب گر کر تباہ ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر میں سوار تمام چودہ افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جبکہ یہ افسوسناک واقعہ ایک ایسے حساس وقت پر پیش آیا ہے جب سعودی عرب نے حال ہی میں خطے سے اپنے آئل ٹینکرز کی سپلائی دوبارہ بحال کی تھی۔ عالمی میڈیا کے مطابق آرامکو کمپنی کا یہ ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے قریبی اور اہم ترین تیل مرکز راس تنورہ کے علاقے میں ساحلِ سمندر کے قریب کریش ہوا، جس کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر میں سوار عملے کے ارکان اور آرامکو کے ملازمین سمیت تمام چودہ افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ سکیورٹی اور ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔

معلوم ہوا ہے کہ یہ حادثہ سٹریٹجک لحاظ سے انتہائی اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ سعودی عرب نے طویل عرصے یعنی تقریباً چار ماہ کی معطلی کے بعد ابھی حال ہی میں راس تنورہ کے ساحل سے اپنے آئل ٹینکرز کے ذریعے تیل کی بین الاقوامی سپلائی دوبارہ بحال کی تھی، جبکہ آرامکو حکام اور سعودی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ہیلی کاپٹر گرنے کی وجوہات اور اسباب کی جانچ پڑتال کے لیے اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے اور ماہرین اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ حادثہ کسی تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا یا اس کے پیچھے خطے کی موجودہ بحری کشیدگی کا کوئی عنصر شامل ہے۔

ملتان اور مضافات میں شدید گرمی کی لہر، پارہ 42 ڈگری سے تجاوز کر گیا، آئندہ چوبیس گھنٹوں میں گرد آلود ہوائیں چلنے کا امکان

کاشف عباسی ,june 28,026

ملتان (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

ملتان اور اس کے مضافاتی علاقوں میں شدید گرمی کی لہر برقرار ہے جہاں پارہ بیالیس ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا ہے، جبکہ محکمہ موسمیات نے آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسم خشک رہنے اور تیز گرد آلود ہوائیں چلنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مقتدر حکام کی جانب سے اتوار کے روز جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملتان شہر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت بیالیس اعشاریہ ایک اور کم سے کم بتیس اعشاریہ دو سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ موسم کی دیگر تفصیلات کے مطابق صبح آٹھ بجے ہوا میں نمی کا تناسب چوان فیصد جبکہ شام پانچ بجے یہ تناسب اڑتیس فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے گرمی کی شدت زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔ کل بروز سوموار کے روز شہرِ اولیاء میں طلوعِ آفتاب صبح پانچ بجکر تیرہ منٹ پر ہوگا جبکہ غروبِ آفتاب شام سات بجکر اکیس منٹ پر ہوگا۔

عدالت نے بریت کے فیصلے کو دوہرے قرینہ بے گناہی کا حامل قرار دے کر سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم کر دیا؛ استغاثہ جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا، محض فضائی ٹکٹ جاری کرنا مجرمانہ سازش کا ثبوت نہیں

کاشف عباسی ,june 28,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ایک اہم تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ کسی بھی ملزم کی بریت کا فیصلہ دوہرے قرینہ بے گناہی کا حامل ہوتا ہے، اس لیے اپیل کے دوران ایسے فیصلے کو صرف اسی صورت میں کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے جب قانون یا دستیاب شواہد کی کوئی واضح اور سنگین غلطی ثابت ہو۔ عدالت عظمیٰ نے اسی بنیادی اصول کی بنیاد پر جعلی پاسپورٹ اور سفری دستاویزات کے کیس میں نامزد ملزم الطاف یوسف کی بریت کو مستقل طور پر بحال کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا پرانا فیصلہ یکسر کالعدم قرار دے دیا ہے۔ رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلے کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل عدالت عظمیٰ کے دو رکنی بینچ نے تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ فوجداری نظامِ انصاف کا بنیادی ترین اصول یہی ہے کہ جرم ثابت ہونے تک ہر شخص بے گناہ تصور کیا جاتا ہے، جبکہ استغاثہ پر یہ بھاری ذمہ داری لازم ہے کہ وہ ملزم کے خلاف عائد تمام الزامات کو ہر قسم کے شک و شبہے سے بالاتر ہو کر ثابت کرے۔

عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ اس مخصوص مقدمے میں استغاثہ یہ ثابت کرنے میں مکمل ناکام رہا کہ ملزم کو ان جعلی سفری دستاویزات کے بارے میں پہلے سے کوئی علم تھا یا اس نے دھوکہ دہی اور اس جعل سازی کے عمل میں جان بوجھ کر کوئی معاونت فراہم کی تھی۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ملزم کی جانب سے بطور ٹریول ایجنٹ صرف فضائی ٹکٹ جاری کرنا کسی بھی صورت کسی مجرمانہ سازش یا فراڈ میں ملوث ہونے کا حتمی ثبوت نہیں بنتا۔ سپریم کورٹ نے قانونِ شہادت کی تشریح کرتے ہوئے مزید کہا کہ شریک ملزم کا پولیس کے سامنے دیا گیا کوئی بھی بیان قانون کی نظر میں قابلِ قبول نہیں ہوتا، جبکہ اس شریک ملزم کا بیان ضابطۂ فوجداری کی دفعہ ایک سو چونسٹھ کے تحت کسی مجسٹریٹ کے سامنے بھی ریکارڈ نہیں کرایا گیا تھا، اس لیے ایسے کسی بیان کو ملزم کے خلاف ثبوت کے طور پر ہرگز استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے اپنی آبزرویشن میں واضح کیا کہ سندھ ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے بریت کے فیصلے کو کالعدم کرتے وقت کوئی بھی مضبوط قانونی یا حقائق پر مبنی وجہ بیان نہیں کی تھی اور نہ ہی دستیاب شواہد کا کوئی آزادانہ جائزہ لیا تھا۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ نے ریکارڈ کا بالکل درست تجزیہ کرتے ہوئے ملزم کو بری کیا تھا، اس لیے اس مقتدر فیصلے میں مداخلت کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں تھی۔ عدالت نے اپنے مختصر حکم کی وجوہات بیان کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا سترہ اکتوبر دو ہزار بائیز کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر کراچی کی جانب سے اکیس جون دو ہزار چھ کو دیا گیا ملزم الطاف یوسف کی بریت کا اصل فیصلہ بحال کر دیا ہے۔

جنوبی پنجاب کے عوام کے لیے بڑی خوشخبری: چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے ملتان لودھراں ڈوئل کیرج وے منصوبے کی باقاعدہ منظوری حاصل کر لی

منصور احمد june 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

جنوبی پنجاب کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے ایک مقتدر پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے ملتان لودھراں شاہراہ کو دو رویہ (ڈوئل کیرج وے) کرنے کی باقاعدہ تزویراتی منظوری حاصل کر لی ہے اور اس اہم ترین منصوبے کے لیے فنڈز بھی فوری طور پر جاری کر دیے گئے ہیں۔ یہ اہم منظوری وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان نے چیئرمین سینیٹ کی خصوصی درخواست پر دی ہے جس کے تحت اس بڑے منصوبے کی تمام تر مالی اعانت روڈ مینٹیننس اکاؤنٹ فنڈ کے ذریعے کی جائے گی۔ مجموعی طور پر باٹھ کلومیٹر طویل اس سڑک کی تعمیرِ نو اور توسیع کے منصوبے پر چار ارب ساٹھ کروڑ روپے کی لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے اور امید ظاہر کی گئی ہے کہ یہ منصوبہ ایک سال کے قلیل عرصے میں مکمل کر لیا جائے گا جبکہ اس کا باقاعدہ تعمیراتی کام آئندہ ماہ سے شروع ہونے کا قوی امکان ہے۔

تکنیکی تفصیلات کے مطابق اس منصوبے کے تحت چوالیس اعشاریہ آٹھ کلومیٹر موجودہ خستہ حال سڑک کو جدید خطوط پر دو رویہ تعمیر کیا جائے گا جس سے شاہراہ پر سڑک کی حفاظت اور ٹریفک کے بہاؤ کو مقتدر طور پر بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ واضح رہے کہ ملتان لودھراں روڈ برسوں سے شدید خستہ حالی کا شکار ہے جس کی وجہ سے مسافروں، تجارتی ٹرانسپورٹرز اور مقامی مکینوں کو شدید سفری مشکلات اور حادثات کا سامنا رہتا ہے، تاہم اس تزویراتی منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف سفر کے وقت میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ سڑک کی حفاظت اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات بین الاقوامی معیار کے مطابق استوار ہو جائیں گی۔ اس تاریخی منظوری پر گہرے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ملتان اور لودھراں کے عوام سے کیا گیا ایک اور اہم وعدہ آج پورا ہو رہا ہے جس سے عوام کو محفوظ، تیز اور بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی۔ انہوں نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ جنوبی پنجاب کے دیرینہ مسائل کو پائیدار ترقی کے ذریعے حل کرنا ہمیشہ ان کی اولین ترجیحات میں شامل رہا ہے اور انہیں پورا یقین ہے کہ یہ منصوبہ مقررہ مدت کے اندر کامیابی سے مکمل کر کے خطے میں معاشی ترقی اور عوامی معیارِ زندگی کو مقتدر طور پر بلند کیا جائے گا۔

عدالت عظمیٰ نے محکمہ ریونیو سندھ کے مختیارکاروں کی سینیارٹی سے متعلق سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے تمام درخواستیں مسترد کر دیں؛ پچاس فیصد براہ راست بھرتی اور پچاس فیصد ترقی کے مقررہ کوٹے پر سختی سے عمل درآمد کا حکم

Woman's inheritance can only be claimed in her lifetime: SC - Pakistan - Aaj English TV

کاشف عباسی ,june 28,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ایک اہم اور تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ کسی بھی سرکاری ملازم کو صرف اس وقت ترقی اور سینیارٹی کا حق حاصل ہوگا جب اس کے مقررہ کوٹے میں باقاعدہ خالی آسامی موجود ہو جبکہ قواعد کے برخلاف یا خالی آسامی کے بغیر دی گئی کسی بھی ترقی کی بنیاد پر سابقہ تاریخ سے سینیارٹی کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلے کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس محمد شفیع صدیقی پر مشتمل عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے محکمہ ریونیو سندھ کے مختیارکاروں کی سینیارٹی سے متعلق مقدمے میں سندھ سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے دائر کردہ تمام سول پٹیشنز کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں تزویراتی اور قانونی باریکیوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ڈیفرمنٹ اور سپرسیشن دو بالکل الگ قانونی تصورات ہیں جن میں ڈیفرمنٹ کسی ملازم کی ذاتی نااہلی کو ظاہر نہیں کرتی بلکہ محض انتظامی وجوہات کی بنا پر ترقی کے عمل میں ایک عارضی تاخیر ہوتی ہے جبکہ اس کے برعکس سپرسیشن اس وقت ہوتی ہے جب کسی افسر کو اس کی اہلیت، کارکردگی یا دیگر ٹھوس قانونی وجوہات کی بنیاد پر ترقی کے لیے موزوں نہ سمجھا جائے۔ سپریم کورٹ نے اپنے مقتدر فیصلے میں اس بات پر سخت زور دیا کہ پچاس فیصد براہِ راست بھرتی اور پچاس فیصد ترقی کے مقررہ کوٹے پر ہر حال میں سختی سے عمل درآمد کیا جانا ضروری ہے اور کسی بھی صورت میں کراس کوٹہ ترقی یا مقررہ منظور شدہ آسامیوں سے زیادہ ترقیاں نہیں دی جا سکتیں۔ عدالت عالیہ نے مزید واضح کیا کہ محکمہ ریونیو سندھ نے سپریم کورٹ کے سال دو ہزار اکیس کے فیصلے کی روشنی میں ہی نئی سینیارٹی لسٹ مرتب کی ہے جس میں سندھ سول سرونٹس ایکٹ انیس سو تہتر اور سندھ سول سرونٹس رولز انیس سو پچہتر کے طے شدہ قوانین کے مطابق سینیارٹی کا درست تعین کیا گیا ہے لہٰذا سندھ سروس ٹربیونل کے جاری کردہ فیصلے میں مداخلت کی کوئی بھی قانونی یا آئینی وجہ موجود نہیں ہے۔

ٹاپ 50 امریکی یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے والے اسکالرز کو سالانہ 19 ہزار 200 ڈالر وظیفہ اور ہیلتھ انشورنس ملے گی؛ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے کارکردگی اور بین الاقوامی رینکنگ کے لحاظ سے دو مقتدر زمرے متعارف کروا دیے

روزینہ اسماعیل.june 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے اڑان پاکستان کے اعلیٰ اشتراک سے ملکی تاریخ کے ایک بڑے تزویراتی تعلیمی منصوبے یو ایس پاکستان نالج کوریڈور کے تحت امریکہ کی چوٹی کی سو نامور اور مقتدر یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی اسکالرشپ کے لیے باقاعدہ داخلوں کا اعلان کر دیا ہے۔ کمیشن کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی پریس ریلیز کے مطابق، یہ اسکالرشپ پروگرام خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر اعلیٰ تعلیم اور بین الاقوامی تحقیق کے فروغ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس کا مقصد پاکستان میں اعلیٰ پائے کے محققین اور ماہرین تیار کرنا ہے۔ کوالیفائی کرنے والے ہونہار طالب علموں کی مالی معاونت اور تعلیمی اخراجات کو سہل بنانے کے لیے کمیشن نے بین الاقوامی رینکنگ کے لحاظ سے دو مقتدر کیٹیگریز مقرر کی ہیں، جن کی تفصیلات کے مطابق درجہ اول کے تحت امریکہ کی ٹاپ پچاس عالمی جامعات میں براہِ راست پی ایچ ڈی میں داخلہ حاصل کرنے والے پاکستانی طالب علموں کو سالانہ انیس ہزار دو سو امریکی ڈالر کا بھاری وظیفہ دیا جائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ اسکالرز کی طبی سہولیات کو یقینی بنانے کے لیے دو ہزار امریکی ڈالر سالانہ کی ہیلتھ انشورنس بھی فراہم کی جائے گی، جبکہ درجہ دوم میں عالمی درجہ بندی میں اکیاون سے لے کر سو نمبر پر آنے والی نامور امریکی جامعات شامل ہیں جس کے تحت منتخب ہونے والے اسکالرز کے لیے بارہ ہزار امریکی ڈالر سالانہ ٹیوشن فیس کی مد میں، بارہ ہزار امریکی ڈالر سالانہ وظیفہ، اور صحت کے تحفظ کے لیے دو ہزار امریکی ڈالر سالانہ ہیلتھ انشورنس مختص کی گئی ہے۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے مقتدر ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام پاکستان اور امریکہ کے مابین تعلیمی و تحقیقی روابط کو مزید پائیدار اور مستحکم بنانے میں اہم تزویراتی کردار ادا کرے گا اور اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ملک بھر کے باصلاحیت اور اہل طلبہ و طالبات کو مقررہ ضوابط کے تحت جلد سے جلد درخواستیں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ تعلیمی و صنعتی شعبے میں عالمی معیار کی لیڈرشپ پیدا کی جا سکے۔

حرمین شریفین کی انتظامیہ کے مطابق غسلِ کعبہ کا متبرک عمل بروز منگل بمطابق 30 جون 2026ء کو نمازِ فجر کے فوراً بعد ادا کیا جائے گا؛ خادم الحرمین الشریفین کے خصوصی نمائندے اور مکہ مکرمہ کے گورنر بھی شریک ہوں گے

محمود احمد june 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

مکہ مکرمہ سے موصول ہونے والی معتبر اطلاعات کے مطابق، خانہ کعبہ کو غسل دینے کی روح پرور اور انتہائی باوقار تقریب 15 محرم الحرام 1448 ہجری، بروز منگل بمطابق 30 جون 2026ء کو علی الصبح نمازِ فجر کے فوراً بعد منعقد ہوگی۔ حرمین شریفین کی انتظامیہ نے اس متبرک اور تاریخی تقریب کے شیڈول کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے، جس کی تیاریاں مکہ مکرمہ میں حرمین انتظامیہ کی نگرانی میں عروج پر ہیں۔

اس انتہائی باوقار اور تاریخی تقریب میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے خصوصی نمائندے، مکہ مکرمہ کے گورنر، حرمین شریفین کے ائمہ کرام، مسلم ممالک کے اعلیٰ سفارتکار اور متعدد ملکی و غیر ملکی اہم شخصیات شرکت اور کعبہ شریف کو غسل دینے کی سعادت حاصل کریں گی۔ سعودی میڈیا کے مطابق، غسلِ کعبہ کا یہ متبرک عمل صدیوں پرانی اسلامی روایات، طے شدہ شرعی اصولوں اور جدید سائنسی و انتظامی پروٹوکولز کے تحت انتہائی عقیدت، احترام اور سخت سیکیورٹی کے حصار میں انجام دیا جاتا ہے، جس کے لیے خاص طور پر آبِ زم زم، خالص عرقِ گلاب اور قیمتی عود کی آمیزش تیار کی جاتی ہے۔

ملک میں موتیا کے مریضوں کی تعداد موجودہ نظامِ صحت کی استعداد سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے؛ پاکستان میں 5 لاکھ 70 ہزار افراد موتیا کے باعث نابینا، مالی مشکلات، ذیابیطس اور ماہرینِ چشم کی کمی بڑے چیلنجز، سرکاری شعبے کو فعال کرنے کی ضرورت پر زور.

Indian surgeon Dr. Sunita Agarwal (C) is

منصور احمد june 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

الشفاء ٹرسٹ آئی ہاسپٹل کے شعبہ موتیا کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر صبیح الدین احمد نے ملک میں بڑھتی ہوئی قابلِ علاج نابینائی کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں موتیا کے مریضوں کی تعداد موجودہ نظامِ صحت کی استعداد سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ ملکی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے سال 2030ء تک پاکستان میں ہر سال کم از کم 18 لاکھ 40 ہزار موتیا کے آپریشن درکار ہوں گے، جس کے لیے سرکاری شعبے کو ہنگامی بنیادوں پر فعال کرنا ناگزیر ہو چکا ہے کیونکہ اس وقت زیادہ تر غریب مریض فلاحی اداروں اور نجی اسپتالوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر صبیح الدین احمد نے بتایا کہ الشفاء ٹرسٹ اپنے مختلف اسپتالوں اور آؤٹ ریچ کیمپس کے ذریعے ہر سال تقریباً 60 ہزار موتیا کے آپریشن کرتا ہے، تاہم مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مقابلے میں یہ استعداد ناکافی ہے۔ انہوں نے اہم ترین طبی اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ پاکستان میں اس وقت اندازاً 5 لاکھ 70 ہزار بالغ افراد موتیا کے باعث بینائی سے محروم ہو چکے ہیں جبکہ 35 لاکھ 60 ہزار افراد بینائی کی شدید کمزوری کا شکار ہیں۔ ملک میں موتیا کے ہونے والے کل آپریشنز میں سے 42.4 فیصد نجی اسپتالوں، 39.9 فیصد غیر سرکاری تنظیموں جبکہ صرف 17.7 فیصد سرکاری اسپتالوں میں کیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے کم آمدنی والے مریض فلاحی اداروں کے رحم و کرم پر ہیں۔

انہوں نے نظام پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی ایک بڑی وجہ ماہر امراضِ چشم کی شدید ترین کمی کو قرار دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں 10 لاکھ کی آبادی کے لیے صرف 15 ماہرینِ چشم موجود ہیں جو ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں انتہائی تشویشناک حد تک کم ہیں۔ الشفاء ٹرسٹ ہر سال تقریباً 20 نئے ماہرین کو تربیت فراہم کرتا ہے لیکن ملک کی مجموعی ضرورت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ، ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی ذیابیطس بھی موتیا کی ایک بڑی وجہ بن رہی ہے، کیونکہ پاکستان میں اس وقت 3 کروڑ 45 لاکھ بالغ افراد ذیابیطس کا شکار ہیں جن میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ڈاکٹر صبیح الدین احمد نے واضح کیا کہ علاج کی بھاری لاگت ملکی سطح پر ایک بڑی رکاوٹ ہے، جہاں 76.1 فیصد مریضوں نے مالی مشکلات کو ہی اپنے آپریشن میں تاخیر کی بنیادی وجہ قرار دیا۔ اس صورتحال سے خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں کیونکہ نقل و حرکت کی پابندیاں، مالی فیصلوں میں اختیار نہ ہونا اور علاج تک دیر سے رسائی ان کی بینائی کے ضیاع کا سبب بنتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ سرکاری اسپتالوں میں آنکھوں کے معمول کے معائنے اور ذیابیطس کے مریضوں کے لیے موتیا کی باقاعدہ اسکریننگ کو لازمی قرار دیا جائے، بصورتِ دیگر قابلِ علاج نابینائی کا شکار افراد کا بوجھ ملکی معیشت اور معاشرے پر مسلسل بڑھتا رہے گا۔

اسلام آباد ویمن چیمبر کے اشتراک سے خواتین کاروباری افراد کی معاونت کے لیے مزید عملی اقدامات کیے جائیں گے: چیئرمین سی ڈی اے

منصور احمد june 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ (ر) سہیل اشرف نے خواتین کی معاشی خودمختاری اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ادارے کے بھرپور تعاون کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی ڈبلیو سی سی آئی) کے اشتراک سے خواتین کاروباری افراد کی معاونت کے لیے مزید عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ یہ یقین دہانی انہوں نے آئی ڈبلیو سی سی آئی کی صدر ثمینہ فاضل کی قیادت میں ایک مقتدر وفد سے ملاقات کے دوران کرائی، جس میں اسلام آباد کے پہلے خصوصی ویمن انٹرپرائز مارکیٹ کے کامیاب آغاز، خواتین کے لیے کاروباری مواقع میں اضافے اور مستقبل میں باہمی تعاون کے مختلف تزویراتی پہلوؤں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں شریک کاروباری خواتین نے ویمن انٹرپرائز مارکیٹ کے قیام میں چیئرمین سی ڈی اے لیفٹیننٹ (ر) سہیل اشرف اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) کی ڈائریکٹر ڈاکٹر انعم فاطمہ کے کلیدی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مخصوص تجارتی جگہ کی فراہمی اس منصوبے کی کامیابی میں بنیادی عنصر ثابت ہوئی۔ آئی ڈبلیو سی سی آئی کی صدر ثمینہ فاضل نے منصوبے کی کامیابی میں سی ڈی اے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، ایم سی آئی اور جاز کیش کے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جی-11 میں قائم ویمن انٹرپرائز مارکیٹ اسلام آباد کی تاریخ کا پہلا خصوصی تجارتی مرکز ہے جو خواتین کی زیرِ قیادت کاروباری اداروں کے لیے مختص کیا گیا ہے اور یہ خواتین کی معاشی شمولیت کے فروغ کی جانب ایک تاریخی پیش رفت ہے۔

چیئرمین سی ڈی اے نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی معاشی ترقی میں خواتین کا فعال کردار ناگزیر ہے اور سی ڈی اے خواتین کاروباری افراد کے لیے مزید منظم اور مؤثر پروگرام متعارف کرانے کے لیے آئی ڈبلیو سی سی آئی کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دے گا۔ دوسری جانب، ڈاکٹر انعم فاطمہ نے واضح کیا کہ شہری انتظامیہ خواتین کے لیے محفوظ، آسان رسائی والی اور کاروبار دوست جگہیں فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے، جبکہ کم لاگت کاروباری ماڈلز کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے تاکہ انہیں دارالحکومت کے دیگر مقتدر علاقوں میں بھی کامیابی سے دہرایا جا سکے۔

ملاقات کے دوران آئی ڈبلیو سی سی آئی کی نمائندہ نعیمہ انصاری نے اہم ترین معاشی اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں موجود 50 لاکھ سے زائد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) میں خواتین کی ملکیت صرف تقریباً 8 فیصد ہے، جبکہ ایس ایم ای سیکٹر کے لیے فراہم کی جانے والی مجموعی مالی معاونت میں خواتین کی زیرِ قیادت کاروباروں کا حصہ محض 3.2 فیصد ہے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ خواتین کی کاروباری سرگرمیوں میں یہ کم شمولیت قومی اقتصادی ترقی میں ان کے ممکنہ کردار کو محدود کر رہی ہے۔ ملاقات کے اختتام پر شہری اداروں اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کے نئے امکانات پر بھی غور کیا گیا اور صدر آئی ڈبلیو سی سی آئی نے ملک بھر کی بلدیاتی انتظامیہ اور چیمبرز آف کامرس پر زور دیا کہ وہ خواتین کی قیادت میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے عملی اقدامات اور مخصوص کاروباری مقامات کی فراہمی کو ہر قیمت پر یقینی بنائیں۔

اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایف آئی اے کی بڑی کارروائی: متعدد شناختوں پر روس جانے کی کوشش کرنے والے دو مسافر آف لوڈ، موبائل فونز سے پاکستانی شناختی کارڈ اور افغان پاسپورٹ برآمد

منصور احمد june 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) امیگریشن اسلام آباد زون نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک مہم جوئی اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے امیگریشن کلیئرنس کے دوران متعدد جعلی شناختوں اور مشکوک سفری دستاویزات کا پتہ لگا کر روس جانے کی کوشش کرنے والے دو مسافروں کو آف لوڈ کر دیا ہے۔ ایف آئی اے حکام کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، یہ مسافر ازبکستان ایئرویز کی پرواز کے ذریعے روس جانے کے لیے ایئرپورٹ پہنچے تھے، جہاں کاؤنٹر پر موجود امیگریشن حکام نے سفری دستاویزات کو مشکوک قرار دیتے ہوئے انہیں سیکنڈری اسکریننگ کے لیے روک لیا۔

حکام نے بتایا کہ جب ان مشکوک مسافروں کی تفصیلی اور تکنیکی جانچ پڑتال کی گئی تو ان کی شناخت اور سفری دستاویزات میں واضح تضادات کا انکشاف ہوا۔ شک کی بنیاد پر جب ملزمان کے موبائل فونز کی فرانزک جانچ کی گئی تو اس کے نتیجے میں متعدد افغان پاسپورٹ، ایک افغانی تذکرہ (شناختی کارڈ)، ایک پاکستانی کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ اور ایک روسی سفری دستاویز برآمد ہوئی۔ ایف آئی اے کے مطابق، برآمد ہونے والی ان متعدد دستاویزات میں مختلف نام اور شناختیں درج تھیں، لیکن حیران کن طور پر ان سب پر تصویر ایک ہی فرد کی لگی ہوئی تھی، جس سے یہ واضح ہو گیا کہ ملزمان غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک امیگریشن کے لیے متعدد شناختوں کا منظم استعمال کر رہے تھے۔

ابتدائی تفتيش کے دوران یہ سنسنی خیز انکشاف بھی ہوا ہے کہ ملنے والا ایک افغان تذکرہ دوسرے مسافر کے نام پر جاری کیا گیا تھا، جبکہ بقیہ تمام دستاویزات کو مبینہ طور پر دھوکہ دہی اور جعل سازی کے ذریعے بیرونِ ملک فرار ہونے کی کوشش میں استعمال کیا جا رہا تھا۔ ایف آئی اے امیگریشن حکام نے دونوں مسافروں کو فوری طور پر طیارے سے آف لوڈ کر دیا اور ایئرپورٹ پر ہی تحویل میں لے کر مزید گہری قانونی کارروائی اور پسِ پردہ نیٹ ورک کی تفتیش کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد کے حوالے کر دیا ہے، جہاں ان سے انسانی اسمگلنگ کے پہلو پر گہرائی سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

شمالی علاقوں، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے ندی نالوں میں پانی کی سطح تیز رفتاری سے بڑھنے کا خدشہ؛ سیاحوں اور مقامی آبادی کو دریاؤں اور پہاڑی راستوں پر غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی سخت تاکید، پی ڈی ایم ایز ہائی الرٹ.

کاشف عباسی ,june 28,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ملک بھر میں موسمِ سرما اور گرمی کے بعد پری مون سون بارشوں کے باقاعدہ آغاز کے پیشِ نظر ایک مقتدر اور ہائی پروفائل ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے شہریوں اور سیاحوں کو انتہائی محتاط رہنے کی سخت ہدایت کی ہے۔ این ڈی ایم اے کے مقتدر حکام کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، ملک بھر میں 28 جون سے 3 جولائی تک وقفے وقفے سے گرج چمک کے ساتھ پری مون سون بارشیں متوقع ہیں، جس کے باعث شمالی و پہاڑی علاقوں میں گلیشیئر پگھلنے کی رفتار تیز ہونے، اچانک سیلاب اور خطرناک لینڈ سلائیڈنگ کے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

این ڈی ایم اے کے حکام نے میڈیا چینلز سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ حالیہ شدید گرمی اور متوقع مقتدر بارشوں کے خطرناک امتزاج کی وجہ سے گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد جموں و کشمیر کے دریاؤں، ندی نالوں اور مقامی آبشاروں میں پانی کے بہاؤ میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر متنبہ کیا کہ پہاڑی خطوں کے غیر مستحکم اور تیزی سے بدلتے ہوئے موسم کی وجہ سے برفانی جھیلیں پھٹنے کے واقعات اور تودے گرنے کے مقتدر خطرات لاحق ہیں۔ اتھارٹی نے ہنزہ، نگر، غذر، اسکردو، شگر، گھانچے، کھرمنگ، استور، دیامر، بالائی و زیریں چترال اور سوات سمیت ہائی رسک والے اضلاع کے مکینوں، مسافروں اور بالخصوص عید و موسمِ گرما کی تعطیلات کے سیاحوں کو انتہائی احتیاط کا مشورہ دیا ہے، کیونکہ موسم کی یہ اچانک تبدیلی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

ایڈوائزری میں عوام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ دریاؤں، ندی نالوں اور خطرناک پہاڑی راستوں کے قریب غیر ضروری نقل و حرکت سے مکمل طور پر گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی یا غیر معمولی صورتحال کی صورت میں مقامی انتظامیہ کو فوراً مقتدر اطلاع دیں۔ کسی بھی ممکنہ آفت یا نقصان سے نمٹنے کے لیے تمام صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز ) کو سخت ترین ہدایات کے ساتھ ہائی الرٹ پر رکھ دیا گیا ہے تاکہ ہر سطح پر ہنگامی تیاریوں، تیز رفتار ردِعمل کی صلاحیت اور مربوط مقتدر کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ این ڈی ایم اے نے اصرار کیا ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ اور املاک کے نقصان کو کم سے کم کرنے کے لیے بروقت احتیاط اور سرکاری حفاظتی مشوروں پر سختی سے عمل درآمد ناگزیر ہے۔

مشعال ملک کی کراچی رینجرز کیمپ پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت، جامِ شہادت نوش کرنے والے جوانوں کو شاندار خراجِ عقیدت

منصور احمد june 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ اور ممتاز سماجی و سیاسی رہنما مشعال ملک نے کراچی میں پاکستان رینجرز (سندھ) کے کیمپ پر ہونے والے بزدلانہ دہشت گرد حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اسلام آباد سے جاری کردہ اپنے ایک مقتدر بیان میں انہوں نے رینجرز کیمپ کے مین گیٹ پر ہونے والے دھماکے اور فائرنگ کے شدید تبادلے کے دوران دہشت گردوں کا جوانمردی سے مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے والے دھرتی کے 3 بہادر بیٹوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ پوری پاکستانی قوم اپنے ان جان نثاروں کی قربانی کو سلام پیش کرتی ہے۔

مشعال ملک نے اپنے مقتدر بیان میں سیکیورٹی فورسز کے فوری ہنگامی ردِعمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان رینجرز سندھ کے چوکس دستوں نے انتہائی پیشہ ورانہ اور بروقت تزویراتی کارروائی عمل میں لا کر بزدل حملہ آوروں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا اور ملک دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو مٹی میں ملا دیا۔ انہوں نے اصرار کیا کہ وطنِ عزیز کے امن و استحکام کی خاطر اپنی جانیں نچھاور کرنے والے یہ مقتدر شہداء پوری قوم کا فخر اور پاکستان کے حقیقی ہیرو ہیں، جن کی یہ عظیم اور لازوال قربانیاں تاریخ کے سنہری حروف میں لکھی جائیں گی اور انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے حملے میں زخمی ہونے والے رینجرز کے دیگر جوانوں کی جلد اور مکمل صحتیابی کے لیے بھی خصوصی دعا کی اور شہداء کے سوگوار خاندانوں سے گہری ہمدردی اور مقتدر یکجہتی کا اظہار کیا۔

کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے کی شدید مذمت: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو شاندار خراجِ تحسین، شہداء کے لواحقین سے دلی تعزیت

محمود احمد june 28,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں پاکستان رینجرز (سندھ) کے کیمپ پر بھارتی اسپانسرڈ خوارج دہشت گردوں کے بزدلانہ اور ناکام حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اسلام آباد میں میڈیا ونگ سے جاری کردہ اپنے ایک مقتدر اور اہم پالیسی بیان میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے رینجرز کیمپ پر حملہ کرنے والے بزدل دہشت گردوں کو فوری طور پر جہنم واصل کرنے اور ان کے تزویراتی عزائم کو مٹی میں ملانے پر سیکیورٹی فورسز کی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور فوری ہنگامی ردِعمل کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی رینجرز کیمپ کے گیٹ پر ہونے والے دھماکے اور فائرنگ کے شدید تبادلے کے دوران دھرتی کے 3 بہادر رینجرز اہلکاروں کی فرض کی راہ میں لازوال شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے وطنِ عزیز کے امن و امان کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے ان مقتدر شہداء کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے سوگوار لواحقین سے دلی تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کیا، اور حملے میں زخمی ہونے والے جوانوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔

دہشت گردی کے خلاف برسرِپیکار سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے مقتدر اداروں کے ساتھ اپنی پارٹی کی جانب سے مکمل اور غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے تزویراتی نقطہ نظر سے واضح کیا کہ دشمن کا یہ بزدلانہ فعل اس امر کا کھلا ثبوت ہے کہ عالمی سطح پر، اور خصوصاً حالیہ سفارتی محاذ پر پاکستان کو جو تاریخی پذیرائی اور کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں، وہ ملک دشمن عناصر اور غیر ملکی آقاوں سے ہضم نہیں ہو رہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پوری پاکستانی قوم اپنے وطن کی جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں کی حفاظت، اور دشمن کے تمام تر مذموم و تزویراتی عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور انتہا پسندی کے مکمل خاتمے تک یہ عزم برقرار رہے گا۔