سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا بجلی کے بلوں میں شامل فکسڈ چارجز کے خلاف سخت ایکشن، فکسڈ چارجز کو غریب عوام کے لیے عذابِ الٰہی قرار دے کر فوری ختم کرنے کا بڑا مطالبہ، پارلیمنٹ لاجز میں اصل بجلی چھ ہزار جبکہ فکسڈ چارجز سات ہزار روپے لگانے پر سینیٹر کامل علی آغا پھٹ پڑے، اگلی اہم بیٹھک میں وزارتِ توانائی کے اعلیٰ حکام طلب، نئے بجٹ میں درآمدی ڈیوٹیز میں کمی سے حکومت کو ۱۴۳ ارب روپے کے ریونیو نقصان کا انکشاف

منصور احمد june 17,2026

اسلام آباد (پولیٹیکل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے بجلی کے ماہانہ بلوں میں شامل ظالمانہ فکسڈ چارجز کو غریب عوام کے لیے ایک بہت بڑا عذاب قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر یکمشت ختم کرنے کا بڑا مطالبہ کر دیا ہے، سینیٹ کمیٹی نے اس سنگین معاملے کا سخت ترین نوٹس لیتے ہوئے فکسڈ چارجز کے فوری خاتمے کے یک نکاتی ایجنڈے پر اگلی ہی ہٹنگ میں وزارتِ توانائی کے تمام اعلیٰ حکام اور مقتدر افسران کو جواب دہی کے لیے طلب کر لیا ہے، وفاقِ دارالحکومت اسلام آباد سے حاصل ہونے والی پارلیمانی تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا ایک اہم ترین اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں بجلی کے بلوں میں ہونے والی اندھا دھند اوور بلنگ، نت نئے فکسڈ ٹیکسز اور آئندہ مالی سال کے نئے بجٹ میں کسٹمز ڈیوٹیز کے حوالے سے متعلقہ محکموں کی جانب سے تفصیلی بریفنگز دی گئیں، اجلاس کے دوران بجلی کے بلوں میں لگے انوکھے فکسڈ چارجز کا معاملہ اٹھاتے ہوئے سینیٹر کامل علی آغا شدید غصے میں پھٹ پڑے اور انہوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والا سچا واقعہ پورے ایوان کے سامنے رکھ کر حکومتی کارکردگی کا پول کھول دیا۔

سینیٹر کامل علی آغا نے کمیٹی کو بتایا کہ بجلی کے بلوں پر عائد فکسڈ چارجز اس وقت ملک کی غریب اور سفید پوش عوام کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں ہیں، انہوں نے انکشاف کیا کہ میرے اپنے پارلیمنٹ لاجز کے بل میں استعمال ہونے والے بجلی کے یونٹس کی اصل قیمت صرف ۶ ہزار ۲۰۰ روپے ہے لیکن اس بل کے اوپر حکومت نے ۶ ہزار ۸۰۰ روپے کے اضافی فکسڈ چارجز لگا دیے ہیں یعنی اصل استعمال شدہ بجلی کی قیمت سے بھی زیادہ ٹیکسز زبردستی وصول کیے جا رہے ہیں، انہوں نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ اس ظالمانہ نظام کی وجہ سے جو غریب بندہ پورے مہینے میں صرف ۱۰۰ یونٹس استعمال کر رہا ہے اسے ان فکسڈ چارجز کی وجہ سے مجبوراً ۴۰۰ یونٹ کے برابر بھاری رقم ادا کرنی پڑ رہی ہے جو غریب عوام کا معاشی قتل ہے، اجلاس کے دوسرے حصے میں سیکرٹری تجارت جواد پال نے کمیٹی کو نئے وفاقی بجٹ میں کسٹمز اور امپورٹ ڈیوٹیز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں درآمدی ٹیرف میں نمایاں کمی کی تجویز دی گئی ہے اور ڈیوٹیز میں اس بڑی کمی کی وجہ سے حکومت کو مجموعی طور پر ۱۴۳ ارب روپے سے زائد کا خطیر ریونیو نقصان خود برداشت کرنا پڑے گا۔

سیکرٹری تجارت نے بجٹ میں امپورٹڈ اشیاء پر ٹیکسوں کی نئی شرح کی تفصیلات بتاتے ہوئے سینیٹ کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ۲۰ فیصد سے زائد کسٹمز ڈیوٹی والی اشیاء پر زیادہ سے زیادہ شرح کو ۵0 فیصد تک ہی محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ اضافی کسٹمز ڈیوٹی میں مرحلہ وار کمی کی تجویز دی گئی ہے جس کے تحت اضافی کسٹمز ڈیوٹی کی شرح کو پہلے ۶ فیصد سے کم کر کے ۴ فیصد، پھر ۴ سے کم کر کے ۲ فیصد اور آخر میں ۲ فیصد سے بھی کم کر کے بالکل صفر یعنی ختم کر دیا جائے گا، تاہم ملکی صنعت کے تحفظ کے لیے بعض مخصوص امپورٹڈ اشیاء پر ۲ فیصد اضافی کسٹمز ڈیوٹی بدستور برقرار رہے گی، سینیٹ کمیٹی نے بجلی کے بلوں پر عوامی شکایات کو دور کرنے کے لیے اگلے اجلاس میں کڑی پوچھ گچھ کا فیصلہ کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر اکثر سرخیوں میں رہنے والے مفتی عبدالقوی کی نئی ویڈیو وائرل، ڈیجیٹل کنٹینٹ کریئٹر فریحہ فرخ کو اپنی پوتی قرار دے دیا، نازیبا کمنٹس اور تنقید کرنے والوں کو سخت وارننگ، میلی نگاہ ڈالنے والوں کو مفتی عبدالقوی کے سائے کا خوف دلا دیا، نوجوان نسل کو زبان میٹھی اور ذہن مثبت رکھنے کی نصیحت

کاشف عباسی ,june 17,2026

لاہور (ویب ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

سوشل میڈیا پر اپنے اچھوتے انداز، متنازعہ بیانات اور مختلف ویڈیوز کے باعث اکثر و بیشتر سرخیوں اور خبروں کی زینت بنے رہنے والے معروف مذہبی سکالر مفتی عبدالقوی کی سوشل میڈیا کی مشہور انفلواینسر فریحہ فرخ کے ساتھ ایک بالکل نئی اور اچھوتی ویڈیو وائرل ہو گئی ہے جس نے ڈیجیٹل صارفین کی تمام تر توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے، لاہور سے حاصل ہونے والی سوشل میڈیا تفصیلات کے مطابق معروف ڈیجیٹل کنٹینٹ کریئٹر فریحہ فرخ کے ساتھ بنائی گئی اس نئی ویڈیو میں مفتی عبدالقوی نے انہیں اپنی سگی ”پوتی“ قرار دے دیا ہے، اس وائرل ویڈیو میں انہوں نے فریحہ فرخ پر بلاوجہ تنقید کرنے والوں اور سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر نازیبا کمنٹس اور جملے کسنے والے صارفین کو سخت الفاظ میں ٹوکتے ہوئے کڑی وارننگ جاری کر دی ہے، مفتی عبدالقوی نے ویڈیو میں اپنے مخصوص اندازِ گفتگو میں واشگاف الفاظ میں کہا کہ یہ فریحہ میری پوتی ہے اور آج کے بعد اگر کسی بھی شخص نے میری اس پیاری پوتی پر ذرا سی بھی میلی نگاہ ڈالی تو وہ یہ بات اچھی طرح اپنے ذہن میں یاد رکھے کہ اب فریحہ کے سر پر سایہ ان کے دادا قبلہ مفتی عبدالقوی صاحب کا ہے اس لیے کوئی ان کی طرف دیکھ بھی نہیں سکتا۔

انہوں نے کیمرے کے سامنے سوشل میڈیا صارفین کو کڑی تنبیہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ آج کے بعد میری اس پوتی کے لیے آپ میں سے کسی نے بھی اگر کوئی بھی غلط، نازیبا یا گھٹیا لفظ بولا یا کمنٹس میں لکھا تو یاد رکھیں مفتی عبدالقوی زندہ باد اور پوتی پائندہ باد، سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں اپنے روایتی اور دھیمے انداز میں بات کو آگے بڑھاتے ہوئے مفتی عبدالقوی نے ملک بھر کے نوجوانوں کو ایک اہم نصیحت بھی کی، ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو ہر حال میں اپنے ذہنوں کو صاف، نیک اور مثبت رکھنا چاہیے، آج کی بھٹکی ہوئی نوجوان نسل کے لیے میرا صرف ایک ہی مخلصانہ پیغام ہے کہ اپنا ذہن ہر معاملے میں مثبت رکھیں اور اپنی زبان کو ہمیشہ دوسروں کے لیے میٹھا بنائیں، مفتی عبدالقوی اور فریحہ فرخ کی اس نئی ویڈیو پر انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے ملے جلے ردعمل، طنز اور دلچسپ تبصروں کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔

ڈی پی او حافظ آباد کا تبادلہ خالصتاً انتظامی فیصلہ ہے، گیٹ لاسٹ معاملے پر آئی جی پنجاب کی بڑی وضاحت، تبادلے اور تعیناتیاں پولیس ایڈمنسٹریشن کا معمول کا حصہ ہیں، پنجاب پولیس غیر جانبدارانہ کارروائیوں، سخت ڈسپلن اور عوامی خدمت پر فوکس برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے، افواہیں دم توڑ گئیں

کاشف عباسی ,june 17,2026

لاہور (بیورو رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

پنجاب پولیس کے محکمے میں اعلیٰ سطح پر ہونے والے حالیہ تبادلوں اور تعیناتیوں کے حوالے سے آئی جی پنجاب عبد الکریم کا ایک انتہائی اہم اور وضاحتی بیان سامنے آیا ہے، سوشل میڈیا، عوامی اور سیاسی حلقوں میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) حافظ آباد کے اچانک تبادلے کو لے کر کی جانے والی تیز چہ مگوئیوں، گیٹ لاسٹ معاملے اور مختلف قیاس آرائیوں کے بعد آئی جی پنجاب نے اس بڑے فیصلے کے اصل پسِ منظر کو مکمل طور پر واضح کر دیا ہے، لاہور سے حاصل ہونے والی دفتری تفصیلات کے مطابق انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب راؤ عبد الکریم نے ڈی پی او حافظ آباد کے حالیہ تبادلے کے حوالے سے پیدا ہونے والے تمام تر ابہام اور غلط فہمیوں کو دور کرتے ہوئے ایک باقاعدہ وضاحتی بیان جاری کیا ہے، اس سلسلے میں سینٹرل پولیس آفس سے جاری کردہ سرکاری اعلامیہ میں آئی جی پنجاب نے اپنے بیان میں دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ڈی پی او حافظ آباد کا تبادلہ کسی بھی قسم کے بیرونی دباؤ، اثر و رسوخ یا سیاسی محرک کا نتیجہ ہرگز نہیں ہے، بلکہ یہ خالصتاً پولیس ڈیپارٹمنٹ کا اپنا ایک اندرونی انتظامی فیصلہ ہے، یہ تبدیلی محکمہ پولیس کی اندرونی تنظیمی ضروریات، محکمانہ قواعد و ضوابط اور بہترین حکمتِ عملی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے عمل میں لائی گئی ہے جس کا کسی بیرونی واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

پولیس فورس کے اندرونی نظم و نسق، چین آف کمانڈ اور ڈسپلن کے حوالے سے تفصیل سے بات کرتے ہوئے آئی جی پنجاب راؤ عبد الکریم کا کہنا تھا کہ پولیس ایڈمنسٹریشن کے اندر افسران کے ایک جگہ سے دوسری جگہ تبادلے اور نئی تعیناتیاں کرنا سروس کا ایک مستقل اور معمول کا حصہ ہیں، جن کا واحد مقصد فیلڈ میں پولیس کی مجموعی کارکردگی کو مزید بہتر اور فعال بنانا ہوتا ہے، انہوں نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب پولیس کا تمام تر فوکس اور توجہ مکمل طور پر غیر جانبدارانہ پولیسنگ، فورس کے اندر سخت ترین ڈسپلن کی برقرار سازی اور مظلوم شہریوں کو فوری انصاف و عوامی خدمت کی فراہمی پر مرکوز ہے، اور محکمہ ان بنیادی اصولوں پر ہمیشہ سختی سے کاربند رہے گا، پولیس ماہرین کے مطابق آئی جی پنجاب کے اس واشگاف اور بروقت بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ڈی پی او حافظ آباد کے تبادلے کے حوالے سے چلنے والی تمام من گھڑت افواہیں اور منفی پروپیگنڈا مکمل طور پر دم توڑ گیا ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے ٹیلی کام کمپنیوں کو شہریوں کی نجی املاک پر زبردستی ٹاورز اور مشینری لگانے کے غیرمعمولی اختیارات دینے کی تیاری، انکار یا رکاوٹ ڈالنے پر شہریوں کو ۵ کروڑ روپے تک کے بھاری جرمانے کا سنسنی خیز انکشاف، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں بل پیش ہونے پر حکومتی و اپوزیشن سینیٹرز شدید حیران اور تشویش کا شکار، پلوشہ خان، افنان اللہ اور سعدیہ عباسی کے سخت اعتراضات کے بعد بل کی منظوری مؤخر

منصور احمد june 17,2026

اسلام آباد (پولیٹیکل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

وفاقی حکومت کی جانب سے ملک میں موبائل کمپنیوں کو مضبوط بنانے کے لیے ایک ایسا حیران کن ترمیمی بل متعارف کروایا گیا ہے جس کے تحت اب ٹیلی کیمونیکیشن کمپنیاں کسی بھی شہری کی ذاتی جائیداد، گھر، دکان، پلاٹ یا جگہ کو محض ۳۰ دن کے مختصر نوٹس پر خالی کروا کر وہاں اپنے ٹاورز اور بھاری مشینری نصب کر سکیں گی اور اس قانون کی خلاف ورزی، انکار یا رکاوٹ ڈالنے پر عام پاکستانی شہریوں کو ۵ کروڑ روپے تک کا بھاری فائن اور جرمانہ بھگتنا ہو گا، وفاقِ دارالحکومت اسلام آباد سے حاصل ہونے والی سنسنی خیز پارلیمانی تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ کی جانب سے سینیٹ کے جاری سیشن میں ”پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) (ترمیمی) بل ۲۰۲۶“ پیش کیا گیا ہے، یہ بل قومی اسمبلی سے پہلے ہی کثرتِ رائے سے پاس ہو چکا ہے، تاہم جیسے ہی یہ بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی و ٹیلی کام کے سپرد کیا گیا تو سینیٹر پلوشہ خان کی زیرِ صدارت منعقدہ اجلاس کے دوران اس کی ہوش رُبا شقوں پر حکومتی اور اپوزیشن ارکانِ کمیٹی دنگ رہ گئے اور انہوں نے اس پر شدید ترین تحفظات کا اظہار کر دیا۔

معلوم ہوا ہے کہ اس متنازع ترمیمی بل میں ایک بالکل نئی شق ”سیکشن ۲۷ بی“ شامل کی گئی ہے جس کے تحت اگر کوئی بھی غریب یا امیر مالکِ مکان، دکاندار، کرایہ دار، زمیندار یا کوئی نجی ادارہ ٹیلی کام کمپنیوں کو تیز انٹرنیٹ کی فائبر کیبل بچھانے یا موبائل ٹاورز و دیگر الیکٹرانک مشینری لگانے کے لیے حقوقِ راہداری دینے سے صاف انکار کرے گا، یا اس کام میں کسی بھی قسم کی تاخیر یا قانونی رکاوٹ کا سبب بنے گا، تو حکومتِ وقت اس عام شہری پر ۵ کروڑ روپے تک کا کمر توڑ جرمانہ عائد کرنے کی مجاز ہو گی، سینیٹر پلوشہ خان کی سربراہی میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں مسلم لیگ ن کے سینیٹر افنان اللہ، پیپلز پارٹی کی سینیٹر سعدیہ عباسی اور دیگر تمام اراکین نے بل کی سخت زبان اور شہریوں کی نجی املاک کے بنیادی حقوق پر گہرے اور تیکھے سوالات اٹھائے، سینیٹرز نے سخت مؤقف اپنایا کہ قانون کی آڑ میں کسی بھی پاکستانی شہری کو اس بات پر ہرگز مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپنی نجی جائیداد، چھت یا گھر پر خطرناک شعاعیں خارج کرنے والے ٹیلی کام ٹاورز لگانے کی زبردستی اجازت دے، جب تک شہریوں کے حقوق کا واضح تحفظ اور باہمی رضامندی کا کوئی سو فیصد شفاف طریقہ کار سامنے نہیں لایا جاتا تب تک ایسی مبہم اور صوابدیدی شقوں کو ہرگز تسلیم نہیں کیا جائے گا جن سے عوام کا استحصال ہو۔

کمیٹی میں سینیٹرز کے اس شدید اور تگڑے احتجاج کے بعد وزارتِ آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے اعلیٰ حکام نے گھبرا کر بل کے مقاصد پر وضاحتیں پیش کیں اور اراکین کو یقین دہانی کرائی کہ اس نئے قانون کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ شہریوں کی نجی املاک پر زبردستی قبضہ کیا جائے یا ان کی اراضی چھینی جائے، ٹاورز اور فائبر کی تنصیب مروجہ ملکی قوانین اور باہمی تجارتی معاہدوں کے تحت ہی ہو گی، حکام نے عذر پیش کیا کہ اس بل کا بنیادی مقصد ملک میں انٹرنیٹ کی سست رفتار کو تیز کرنا، فائیو جی انٹرنیٹ سروسز کے لیے موبائل ٹاورز کی فائبر ائزیشن کا کام تیز کرنا اور وفاقی و صوبائی محکموں کے درمیان جاری روٹ کے دیرینہ تنازعات کو ختم کرنا ہے تاکہ ڈیجیٹل پاکستان کے اہداف حاصل کیے جا سکیں، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے معاملے کی سنگینی، عوامی حقوق اور حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے بل پر مزید غور کرنے اور اس کا شق وار باریک بینی سے جائزہ لینے کے لیے اس کی منظوری کو اگلے اجلاس تک مستقل مؤخر کر دیا ہے تاکہ مبہم الفاظ کو تبدیل کر کے شہریوں کی نجی املاک کے تحفظ کو سو فیصد یقینی بنایا جا سکے۔

لاہور کے علاقے سندر میں انتطامیہ کی مجرمانہ غفلت کا ہولناک نتیجہ، سڑک پر کھلا مین ہول پانچ سالہ معصوم حسن کی زندگی نگل گیا، ریسکیو کی لاش نکالنے کی تصدیق، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا سخت نوٹس اور ہنگامی رپورٹ طلب، ضلعی انتطامیہ کے خلاف کارروائی کا حکم

منصور احمد june 16,2026

لاہور (بیورو رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 16 جون 2026ء

صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے سندر میں انتظامیہ کی شدید لاپرواہی اور مجرمانہ غفلت کے باعث ایک اور دلخراش اور انتہائی افسوسناک حادثہ پیش آیا ہے جہاں ایک کھلا مین ہول معصوم بچے کی زندگی نگل گیا، حاصل ہونے والی لرزہ خیز تفصیلات کے مطابق پانچ سالہ معصوم بچہ حسن سڑک کنارے کھیلتے ہوئے اچانک بغیر ڈھکن کے کھلے ہوئے گہرے مین ہول میں جا گرا، واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو الیون ٹو ٹو کی ٹیمیں اور مقامی پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور امدادی آپریشن شروع کیا، ریسکیو اہلکاروں نے سخت تگ و دو کے بعد معصوم بچے حسن کو مین ہول کے گندے پانی سے باہر نکال لیا، تاہم وہ ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ چکا تھا اور جانبر نہ ہو سکا، معصوم بچے کی موت کی خبر گھر پہنچتے ہی کہرام مچ گیا اور پورے علاقے میں سوگ کی لہر دوڑ گئی۔

واقعے کے فوراً بعد مقامی پولیس نے موقع پر پہنچ کر واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات اور ضروری قانونی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، پولیس کی ابتدائی تفتیشی رپورٹ کے مطابق واسا اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مین ہول کا ڈھکن غائب ہونے اور اسے کھلا چھوڑنے کے باعث ہی یہ پُردرد حادثہ پیش آیا ہے، دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سندر میں معصوم بچے کے جاں بحق ہونے کے اس ہولناک واقعے کا سخت ترین نوٹس لیتے ہوئے کمشنر لاہور اور واسا حکام سے فوری طور پر تفصیلی اور ہنگامی رپورٹ طلب کر لی ہے، وزیراعلیٰ نے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس سنگین غفلت کے ذمہ دار افسران اور اہلکاروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور ان کے خلاف سخت قانونی ایکشن لیا جائے گا۔

شہری اور سماجی حلقوں نے اس دردناک واقعے پر واسا اور لاہور انتظامیہ کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک حادثہ نہیں بلکہ انتظامیہ کی جانب سے کیا گیا قتل قرار دیا ہے، شہریوں کا پرزور مطالبہ ہے کہ لاہور بھر میں موجود تمام کھلے مین ہولز اور دیگر خطرناک گٹروں کی فوری نشاندہی کر کے وہاں نئے ڈھکن لگائے جائیں اور غفلت برتنے والے ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور غریب کا معصوم بچہ اس طرح کے المناک اور اندوہناک واقعات کا شکار ہونے سے ہمیشہ کے لیے محفوظ رہ سکے۔

اقوامِ متحدہ کا آبنائے ہرمز میں فوری انسانی امدادی راہداری کھولنے کا پرزور مطالبہ، بحری نقل و حمل میں رکاوٹوں سے عالمی سطح پر خوراک، ایندھن اور کھاد کی سپلائی شدید متاثر، یو این ہائی کمشنر وولکر ترک اور سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی جانب سے امریکہ ایران امن معاہدے اور جنگ بندی کا شاندار خیرمقدم

محمود احمد june 16,2026

اقوامِ متحدہ (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 16 جون 2026ء

عالمی سلامتی اور معیشت کے حوالے سے اقوامِ متحدہ نے ایک انتہائی اہم اور ہنگامی بیان جاری کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں فوری طور پر ایک محفوظ انسانی امدادی راہداری کھولنے کا پرزور مطالبہ کر دیا ہے تاکہ دنیا بھر میں خوراک، ایندھن اور دیگر تمام ضروری اشیاء کی معطل شدہ ترسیل کو فوری بحال کر کے ممکنہ ہولناک عالمی غذائی بحران کا رستہ روکا جا سکے، اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق خطے میں جاری حالیہ جنگ اور بحری نقل و حمل میں حائل رکاوٹوں نے عالمی سطح پر توانائی، خوراک کی منڈیوں اور انسانی امداد کی بین الاقوامی فراہمی کو شدید ترین نقصان پہنچایا ہے، اسی حساس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی نائب ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق ایوا ڈیبو نے پوری دنیا کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز جیسی حساس ترین گزرگاہ کی مکمل بندش یا اس کی محدود فعالیت دنیا کی پہلے سے پسماندہ اور کمزور معیشتوں کو ناقابلِ تلافی مالی نقصان پہنچا سکتی ہے، جس کے براہِ راست نتیجے کے طور پر عالمی سطح پر غربت، افلاس اور بھوک کے مہیب سائے مزید گہرے ہو جائیں گے۔

دوسری جانب اس بحران کے بیچ اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے عالمی طاقت امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان طے پانے والے نئے امن معاہدے اور مستقل جنگ بندی کا کھلے دل سے خیرمقدم کیا ہے اور تمام متعلقہ فریقین پر سخت زور دیا ہے کہ وہ خطے میں اب مکمل تحمل کا مظاہرہ کریں اور اس عارضی پیش رفت کو مستقل امن میں بدلنے کے لیے مخلصانہ کوششیں تیز کریں، اسی اثناء میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اپنے ایک تہنیتی بیان میں امریکہ ایران امن معاہدے کو مشرقِ وسطیٰ کے طویل تنازعے کے خاتمے کی جانب ایک انتہائی کلیدی اور تاریخی قدم قرار دیتے ہوئے تجارتی مقاصد کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے کے فیصلے کی بھرپور حمایت کی ہے، اقوامِ متحدہ اور اس کے تمام ذیلی امدادی اداروں نے متفقہ طور پر دنیا کو یہ خطرے کی گھنٹی سنائی ہے کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی حالیہ رکاوٹوں کے باعث خوراک، فصلوں کے لیے ضروری کھاد اور خام تیل (ایندھن) کی عالمی سپلائی چین بری طرح مفلوج ہو کر رہ گئی ہے، جس کے سنگین اثرات اب صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے بلکہ اس کے جھٹکے سرحدوں سے باہر پوری دنیا میں واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔

عالمی سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے حالیہ تاریخی امن فریم ورک کے مسودے میں آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے اور خطے میں جاری جنگ بندی کو مستقل قانونی شکل دینے کی کڑی شقیں شامل کی گئی ہیں، تاہم اس پورے فریم ورک کے سو فیصد نفاذ اور زمین پر اس کی عملی شکل دیکھنے کے لیے فریقین کے مابین ابھی مزید چند اعلیٰ سطح کے مذاکرات درکار ہوں گے، بین الاقوامی دفاعی اور معاشی ماہرین کے مطابق یہ حالیہ سفارتی پیش رفت اس وقت عالمی معیشت کو سہارا دینے، تیل کی بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں کے استحکام اور غریب ممالک کو خوراک کی بلاتعطل فراہمی کے لیے نہایت اہم اور ریڑھ کی ہڈی سمجھی جا رہی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم اور بڑی بحری تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے روزانہ کروڑوں بیرل تیل دنیا بھر میں سپلائی کیا جاتا ہے۔

”جب آپ بہت زیادہ امیر ہوں تو پھر لمبی باتیں بھی کر سکتے ہیں“، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید سے انتہائی دلچسپ اور طنزیہ مکالمہ، جی سیون سمٹ کے دوران دونوں رہنماؤں کی ملاقات کی اندرونی کہانی میڈیا پر وائرل، وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ کا ایران کے خلاف امریکی بحریہ کے تاریخی محاصرے کی کامیابی کا دعویٰ، آبنائے ہرمز جمعے تک عالمی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھول دی جائے گی، ابراہام اکارڈز کی توسیع کی راہ ہموار

President Trump Makes First Middle East Trip Of His Second Term

کاشف عباسی ,june 16,2026

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 16 جون 2026ء

عالمی سیاست کے افق سے ایک انتہائی سنسنی خیز اور دلچسپ سفارتی خبر سامنے آئی ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جی سیون سمٹ کے مصروف ترین موقع پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کے ساتھ ایک اہم دوطرفہ ملاقات کے دوران اپنے مخصوص اور روایتی طنزیہ انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’جب آپ بہت زیادہ امیر ہوں تو پھر آپ لمبی لمبی باتیں بھی کر سکتے ہیں‘‘، واشنگٹن کے سفارتی ذرائع سے حاصل ہونے والی اندرونی کہانی کے مطابق اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے اختتام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسکراتے ہوئے اماراتی صدر کو مخاطب کیا اور چٹکلا چھوڑا کہ جب کوئی شخص یا ریاست اتنی زیادہ دولت مند اور امیر ہو تو وہ طویل گفتگو کرنے کا بھی باآسانی متحمل ہو سکتا ہے، صدر ٹرمپ کے اس برجستہ جملے پر کمرے میں موجود دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام اور سفارتکاروں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھر گئی اور محفل کا ماحول انتہائی خوشگوار اور دوستانہ ہو گیا۔

اس اہم ترین ملاقات کے فوراً بعد امریکی دارالحکومت واشنگٹن پہنچنے پر وائٹ ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں سے ایک کڑک اور تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے امریکی خارجہ پالیسی کا بھانڈا پھوڑتے ہوئے کہا کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کا سب سے پہلا اور بنیادی مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کو کسی بھی قیمت پر جوہری ہتھیار (ایٹم بم) حاصل کرنے سے روکنا تھا اور ہم نے اپنی سخت ترین حکمتِ عملی کی بدولت اس مقصد میں تاریخی کامیابی حاصل کر لی ہے، امریکی صدر نے عالمی میڈیا کے سامنے ایک بہت بڑا دعویٰ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی سب سے اہم ترین سمندری گزرگاہ ”آبنائے ہرمز“ کو رواں ہفتے جمعے کے دن تک بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر دوبارہ کھول دیا جائے گا کیونکہ ایران اب امریکی دباؤ کے بعد عالمی برادری کے ساتھ اپنے معمول کے سفارتی و تجارتی تعلقات قائم کرنے کا شدید خواہاں ہے، صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت خود مجبور ہو کر مذاکرات کی میز کی طرف آئی ہے تاکہ دنیا میں اپنے خلاف قائم سخت تاثر کو بدل کر ایک پرامن ریاست کے طور پر اپنی حیثیت کو دوبارہ مستحکم کر سکے، انہوں نے خلیج عمان اور بحیرہ عرب میں ایرانی بحری ناکہ بندی کرنے پر امریکی بحریہ کی جارحانہ اور کامیاب کارروائیوں کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے کہا کہ ایران کا عسکری محاصرہ سو فیصد کامیاب رہا اور اس شاندار کامیابی پر امریکی بحریہ کے تمام کمانڈرز اور جوان پوری دنیا کی جانب سے مبارکباد کے مستحق ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی نقشے پر بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایران ماضی کے دوران عرب ممالک اور اسرائیل کے مابین ہونے والے تاریخی ”ابراہام اکارڈز“ کی توسیع اور امن عمل میں سب سے بڑی اور خطرناک رکاوٹ بنا ہوا تھا، تاہم اب اس تاریخی محاصرے اور نئی ڈیل کے بعد یہ قوی توقع پیدا ہو گئی ہے کہ خطے کے مزید اہم اسلامی اور عرب ممالک بھی بہت جلد اس امن اور سفارتی معاہداتی عمل کا باقاعدہ حصہ بنیں گے، صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والی اس نئی اور مجوزہ مفاہمتی یادداشت کی تمام تر باریک اور حساس تفصیلات بہت جلد پوری دنیا اور امریکی عوام کے سامنے پبلک کر دی جائیں گی، انہوں نے ایک بڑا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس سلسلے میں ایک خصوصی اور بڑی لائیو پریس کانفرنس کا انعقاد کرنے جا رہے ہیں جس میں وہ ایران کے ساتھ ہونے والے اس نئے تاریخی معاہدے کو میڈیا کے سامنے ”لفظ بہ لفظ“ خود پڑھ کر سنائیں گے تاکہ عالمی میڈیا، امریکی کانگریس اور عوام اس کے مندرجات اور کڑی شرائط کو بالکل درست اور واضح انداز میں سمجھ سکیں اور کسی قسم کا کوئی ابہام باقی نہ رہے، اس موقع پر سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں ایران کے ساتھ کیے جانے والے پرانے جوہری معاہدے پر شدید ترین تنقید کے تیر چلاتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اوباما کا وہ ناقص معاہدہ پورے خطے اور عالمی سلامتی کے لیے انتہائی نقصان دہ اور تباہ کن ثابت ہو سکتا تھا کیونکہ اس میں ایران کو چھوٹ دی گئی تھی، جبکہ اس کے برعکس میرا موجودہ معاہدہ ایران کے لیے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی تمام تر چوراہوں اور راہوں کو ہمیشہ کے لیے بند کرنے کے خلاف دنیا کی ایک سب سے مضبوط اور ناقابلِ تسخیر عسکری و سفارتی رکاوٹ ثابت ہو گا، انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایران کے ساتھ ان کڑے مذاکرات کا دوسرا اہم مرحلہ بھی جلد ہی کامیابی سے مکمل ہو جائے گا جس کے بعد پورے مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن، پائیدار سلامتی اور تجارتی استحکام کے نئے اور روشن امکانات پیدا ہوں گے۔

وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان کا ”فیوچر یوتھ لیڈرز کانفرنس 2026“ سے انقلابی خطاب، 68 فیصد نوجوان آبادی کو پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ اور ایٹمی طاقت سے بڑی قوت قرار دے دیا، رواں سال 21 لاکھ نوجوانوں کو بااختیار بنانے کا ہدف، ڈیجیٹل یوتھ ہب کے ذریعے میرٹ پر روزگار اور تربیت فراہم کرنے کا تاریخی عزم

منصور احمد june 16,2026

فیصل آباد (ایجوکیشن اینڈ یوتھ ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 16 جون 2026ء

چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے باصلاحیت نوجوان اس ملک کی سب سے بڑی طاقت، چمکتا ہوا اثاثہ اور روشن مستقبل کی اصل ضمانت ہیں جنہیں جدید علوم، آرٹیفیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت)، ڈیجیٹل معیشت اور بین الاقوامی مارکیٹ کے مواقع سے جوڑ کر قومی ترقی کا حقیقی معمار بنایا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے نوجوان سچے عزم، جدید مہارت اور مستقل مزاجی کو اپنا شعار بنا لیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں عالمی قیادت حاصل کرنے سے نہیں روک سکتی اور وہ نہ صرف اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں بلکہ پاکستان کو بھی دنیا کے امیر اور ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لا کھڑا کر سکتے ہیں، صنعتی شہر فیصل آباد میں والنٹیئر فورس پاکستان کے زیرِ اہتمام منعقدہ شاندار اور تاریخی ”فیوچر یوتھ لیڈرز کانفرنس 2026“ سے بطور مہمانِ خصوصی اپنے ولولہ انگیز خطاب میں رانا مشہود احمد خان کا کہنا تھا کہ پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کا اصل مقصد ملک کے نوجوانوں کو مروجہ روایتی تعلیم سے ہٹ کر جدید قیادت، مضبوط کردار سازی اور بے لوث قومی خدمت کے لیے تیار کرنا ہے کیونکہ کامیابی کا سفر ہمیشہ کڑی محنت، خود احتسابی اور مستقل مزاجی سے ہی شروع ہوتا ہے۔

چیئرمین یوتھ پروگرام نے عالمی مارکیٹ کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا کہ موجودہ دنیا اب روایتی معیشت سے نکل کر تیزی سے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹلائزیشن کے دور میں داخل ہو رہی ہے اور حکومتِ پاکستان بھی ان اہم ترین شعبوں میں جدید پالیسی سازی اور انقلابی عملی اقدامات کے ذریعے اپنے نوجوانوں کو عالمی معیار کی ہائی ٹیک مہارتیں فراہم کرنے پر پوری توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا کام نوجوانوں کو بہترین مواقع، چمکتے ہوئے پلیٹ فارم اور اربوں روپے کے وسائل فراہم کرنا ہے، تاہم ان سنہرے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا اب نوجوانوں کی اپنی اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے، رانا مشہود احمد خان نے کانفرنس کے شرکاء کو بڑی خوشخبری سناتے ہوئے اہم انکشاف کیا کہ حکومت نے رواں سال 21 لاکھ نوجوانوں کو مختلف سرکاری پروگراموں، بلاسود قرضوں اور لیپ ٹاپ اسکیموں کے ذریعے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کا بڑا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ تقریباً ۲۰ لاکھ نوجوانوں کو آئی ٹی اور جدید ڈیجیٹل مہارتوں کی مفت بین الاقوامی تربیت فراہم کرنے اور لاکھوں افراد کے لیے باعزت روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے منصوبوں پر بھی دن رات کام جاری ہے۔

انہوں نے کلائمیٹ چینج (موسمیاتی تبدیلی) کو اس وقت کا سب سے بڑا اور خطرناک عالمی چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ گرین اکانومی، ماحولیاتی تحفظ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور پائیدار ترقی جیسے جدید شعبوں میں اب پاکستانی نوجوانوں کے لیے ملکی و بین الاقوامی سطح پر روزگار کے بے شمار مواقع موجود ہیں جنہیں حاصل کرنے کی ضرورت ہے، رانا مشہود احمد خان نے کانفرنس میں موجود طلبہ اور نوجوانوں پر سخت زور دیا کہ وہ فوری طور پر حکومت کے آفیشل ”ڈیجیٹل یوتھ ہب“ پر اپنی آن لائن رجسٹریشن مکمل کریں تاکہ انہیں اعلیٰ تعلیم، بہترین انٹرن شپس، روزگار اور جدید ترین ٹیکنیکل ٹریننگ تک رسائی کسی بھی سفارش کے بغیر خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر حاصل ہو سکے، انہوں نے عزم دہرایا کہ موجودہ حکومت ملک کے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت تمام پسماندہ علاقوں اور غریب طبقات سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو یکساں تعلیمی و معاشی مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ کوئی بھی ہونہار نوجوان وسائل کی کمی کی وجہ سے ترقی کے اس قومی سفر سے پیچھے نہ رہ جائے، انہوں نے اپنے خطاب کا اختتام اس جملے پر کیا کہ پاکستان کا حال اور مستقبل اب مکمل طور پر نوجوانوں کے مضبوط ہاتھوں میں ہے، اس لیے یہ وقت رونے کا نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے، جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہونے اور تعمیرِ وطن میں اپنا خون پسینہ بہانے کا ہے

امریکا اور ایران کے مابین تاریخی امن معاہدے کی دستخطی تقریب کا مقام اچانک تبدیل، جنیوا کے بجائے اب سوئٹزرلینڈ کے مشہور ’برجن اسٹاک ریزورٹ‘ میں عالمی رہنما سر جوڑیں گے، دستخط جمعہ 19 جون کو ہوں گے، وزیراعظم شہباز شریف کی میزبانی اور کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں مستقل جنگ بندی کی راہ ہموار

محمود احمد june 16,2026

اسلام آباد / برن (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 16 جون 2026ء

امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان طویل ترین مذاکرات کے بعد طے پانے والے انتہائی حساس اور مجوزہ تاریخی امن معاہدے کی باضابطہ دستخطی تقریب کے مقام میں سیکیورٹی اور سفارتی وجوہات کی بنا پر اچانک بڑی تبدیلی کر دی گئی ہے، سوئٹزرلینڈ کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ ہنگامی بیان کے مطابق اس تاریخی امن معاہدے پر اب سابقہ طے شدہ مقام جنیوا کے بجائے سوئٹزرلینڈ کے دنیا بھر میں مشہور اور جھیل کے کنارے واقع پرسکون ’برجن اسٹاک ریزورٹ‘ میں دستخط کیے جائیں گے، جبکہ یہ تاریخی اور عالمی تقریب رواں ہفتے جمعہ ۱۹ جون کو منعقد ہو گی، سوئس سفارتی حکام کا کہنا ہے کہ برجن اسٹاک ریزورٹ کو اس کی غیر معمولی سیکیورٹی اور اعلیٰ سطحی بین الاقوامی سفارتی سرگرمیوں کے شاندار ٹریک ریکارڈ کی بدولت منتخب کیا گیا ہے جہاں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ ترین نمائندے اور وزرائے خارجہ اس حتمی امن معاہدے پر دستخط کر کے خطے میں جاری ہولناک کشیدگی کے خاتمے اور سفارتی تعلقات کی بحالی کا ایک نیا باب شروع کریں گے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے عالمی میڈیا کے سامنے یہ بڑا اور تاریخی اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اس تاریخی امن معاہدے کی دستخطی تقریب جنیوا میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خصوصی میزبانی اور ثالثی کے تحت منعقد ہو گی، وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے تہنیتی بیان میں واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ یہ معاہدہ صرف دو بڑے ممالک کے مابین روایتی مفاہمت یا ناکہ بندی کا خاتمہ نہیں ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر پاکستان کی غیر جانبدار سفارت کاری، باہمی مکالمے اور مستقل امن کی جیت کی ایک عظیم علامت ہے، وزیراعظم کے مطابق دونوں ممالک نے پسِ پردہ طویل اور کٹھن مذاکرات کے بعد لبنان سمیت مشرقِ وسطیٰ کے مختلف گرم محاذوں پر جاری تمام فوجی کارروائیوں اور بمباری کے فوری اور مستقل خاتمے پر مکمل اتفاق کر لیا ہے اور یہ امن معاہدہ پورے خطے میں پائیدار استحکام، تجارتی ترقی اور اعتماد سازی کے ایک نئے سنہرے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں میڈیا کو بتایا تھا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اس امن معاہدے کے حتمی مسودے کے حوالے سے دونوں طاقتوں کے درمیان انتہائی اہم اور مثبت پیش رفت ہوئی ہے، ان کے مطابق ایرانی حکومت اور اعلیٰ قیادت دستخطی تقریب کے باقاعدہ انعقاد سے قبل اپنے تمام پڑوسی مسلم ممالک اور برادر خطوں کو مکمل طور پر اعتماد میں لینے کے لیے سفارتی رابطے تیزی سے جاری رکھے ہوئے ہے، بین الاقوامی سفارتی ذرائع کے مطابق اس مجوزہ معاہدے کے اہم ترین نکات میں لبنان اور شام میں فوری جنگ بندی، امریکہ اور مغربی ممالک کی جانب سے منجمد کیے گئے اربوں ڈالرز کے ایرانی اثاثوں کی فوری بحالی اور بعض دیگر پیچیدہ مالی و سفارتی پابندیوں کے مستقل حل سے متعلق امور شامل ہیں، عالمی سیاسی مبصرین اور دفاعی ماہرین اس معاہدے کو رواں صدی میں مشرقِ وسطیٰ کے امن، سلامتی اور پائیدار استحکام کے لیے اب تک کی سب سے بڑی اور کامیاب ترین سفارتی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

پنجاب کا مالی سال 27-2026 کا بجٹ صوبائی اسمبلی میں پیش، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اور پنشنرز کے لیے 3.5 فیصد اضافے کا بڑا اعلان، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی موجودگی میں اپوزیشن کا شدید ہنگامہ اور ”جعلی بجٹ نامنظور“ کے نعرے، محصولات کے اہداف میں 42 فیصد سے زائد کے ریکارڈ اضافے کی تجویز

منصور احمد june 16,2026

لاہور (بیورو رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 16 جون 2026ء

پنجاب حکومت نے مالی سال 27-2026 کا سالانہ بجٹ صوبائی اسمبلی کے ایوان میں پیش کر دیا ہے جس میں مہنگائی کے مارے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ۷ فیصد جبکہ بزرگ پنشنرز کی پنشن میں ۳.۵ فیصد اضافے کا باقاعدہ اعلان کیا گیا ہے، لاہور سے حاصل ہونے والی سنسنی خیز سیاسی اور معاشی تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کا یہ اہم ترین بجٹ اجلاس اسپیکر ملک محمد احمد خان کی زیرِ صدارت مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ چالیس منٹ کی غیر معمولی تاخیر سے شروع ہوا جس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھی خصوصی شرکت کی، بجٹ اجلاس کا آغاز ہوتے ہی ایوان میں اپوزیشن ارکان نے شدید ترین ہنگامہ آرائی کی اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی فوری رہائی کے حق میں فلک شگاف نعرے بازی شروع کر دی، جیسے ہی وزیرِ خزانہ نے بجٹ تقریر پڑھنا شروع کی تو اپوزیشن کے احتجاج میں مزید شدت اور تلخی آگئی اور اپوزیشن ارکان غصے میں اپنی نشستوں سے اٹھ کر اسپیکر ڈائس کے بالکل قریب جمع ہو گئے، اس دوران ”جعلی بجٹ نامنظور“ اور ”خان کو رہا کرو“ کے شدید نعرے پورے ایوان میں گونجتے رہے جبکہ کئی مشتعل اپوزیشن ارکان نے احتجاجاً بجٹ دستاویزات اور سرکاری کاغذات پھاڑ کر اسپیکر ڈائس کی فضا میں اچھال دیے جس سے ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا۔

بجٹ کے پسِ منظر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پنجاب کابینہ نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس بجٹ کی باقاعدہ حتمی منظوری دی تھی، نئے بجٹ میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے ریلیف اقدامات کے علاوہ صوبے کے مالیاتی و ریونیو اہداف میں بھی انتہائی نمایاں اور تاریخی اضافہ کیا گیا ہے، حکومت نے صوبائی خزانہ بھرنے کے لیے بورڈ آف ریونیو کے اہداف میں ۲۵ فیصد جبکہ محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول کے ریونیو اہداف میں ۷۷ فیصد اضافے کی کڑی تجویز دی ہے، سرکاری بجٹ دستاویزات کے مطابق پنجاب کے اپنے محصولات (ٹیکسز) کے مجموعی اہداف میں ۴۲.۷ فیصد کا بڑا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ صوبائی حکومت کا سخت مؤقف ہے کہ یہ بجٹ عوام پر اضافی بوجھ ڈالے بغیر ترقیاتی منصوبوں کی جلد تکمیل، عوامی فلاح و بہبود اور سخت مالی نظم و ضبط کو مدنظر رکھتے ہوئے بڑی محنت سے تیار کیا گیا ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن لیڈر اور متحدہ اپوزیشن نے حکومت کے اس بجٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے عوامی توقعات کے برعکس اور غریب کش قرار دیا ہے، سیاسی مبصرین کے مطابق پنجاب اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے پہلے ہی روز ہونے والا یہ شدید ہنگامہ اور ہولناک احتجاج آئندہ دنوں میں صوبائی سیاست کے درجہ حرارت اور ماحول کو مزید گرم کر سکتا ہے، جبکہ بجٹ تجاویز اور مختلف محکموں کے مطالباتِ زر پر تفصیلی اور گرما گرم بحث آئندہ آنے والے روزانہ کے اجلاسوں میں باقاعدہ جاری رہے گی۔

پاکستان اور ایتھوپیا کے مابین اعلیٰ تعلیم اور سائنسی تحقیق کے فروغ کے لیے تاریخی ”مشترکہ ریکٹرز فورم“ قائم، کامسٹیک کی سہولت کاری سے دونوں ممالک کے سرکردہ جامعاتی ادارے ایک پیج پر آ گئے، کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کا ایتھوپیا کے ہونہار طلبہ کے لیے 25 خصوصی اسکالرشپس کا بڑا اعلان

منصور احمد june 16,2026

اسلام آباد (ایجوکیشن ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 16 جون 2026ء

اسلامی تعاون تنظیم ( کی قائمہ کمیٹی برائے سائنسی و تکنیکی تعاون (کامسٹیک) کی مخلصانہ سہولت کاری اور کوششوں سے پاکستان اور افریقی ملک ایتھوپیا کے درمیان اعلیٰ تعلیم، سائنسی تحقیق اور جدید تکنیکی تعاون کے فروغ کے لیے ایک تاریخی اور انقلابی ”مشترکہ ریکٹرز فورم“ باقاعدہ طور پر قائم کر دیا گیا ہے، وفاقِ دارالحکومت اسلام آباد سے حاصل ہونے والی تعلیمی تفصیلات کے مطابق اس سائنسی فورم میں دونوں برادر ممالک کے پانچ پانچ ممتاز ترین تعلیمی، طبی اور تحقیقی ادارے شامل کیے گئے ہیں اور اس کا بنیادی مقصد پاک ایتھوپیا تعلیمی روابط کو مضبوط بنانا، سائنس دانوں کے مابین مشترکہ تحقیق کو فروغ دینا اور عصرِ حاضر کے جدید سائنسی شعبوں میں تعاون کو وسعت دینا ہے، اس عظیم الشان فورم کے قیام کا باضابطہ اور باہم اعلان او آئی سی-کامسٹیک، پاکستان اور ایتھوپیا کے اعلیٰ حکام کے درمیان منعقدہ ایک اہم مشترکہ ورچوئل (آن لائن) اجلاس کے دوران کیا گیا۔

کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے اس اعلیٰ سطحی اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ یہ نو منتخب فورم دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ تعلیم، جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی، صحتِ عامہ (پبلک ہیلتھ)، سائنسی ریسرچ اور افرادی قوت کی استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں باہمی تعاون کو ایک نئی اور مضبوط جہت فراہم کرے گا، اس موقع پر پاکستان میں تعینات ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے اپنے ملک کی علم پر مبنی جدید معیشت، سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ اور تحقیق پر مبنی تعلیمی پالیسیوں کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی و سفارتی روابط کو مزید مستحکم کرنے کی اشد ضرورت پر زور دیا، تعلیمی ماہرین کے مطابق اس فورم کے تحت ایتھوپیا کی معروف جامعات اور ریسرچ اداروں کے ساتھ پاکستان کی ممتاز ترین یونیورسٹیوں کے درمیان طلبہ و اساتذہ کے تبادلے، مشترکہ سائنسی و طبی تحقیقی منصوبوں اور ادارہ جاتی اشتراک کو تیزی سے فروغ دیا جائے گا جبکہ اس پاک افریقہ مشن کو عملی شکل دینے کے لیے ایک مشترکہ تکنیکی کمیٹی بھی قائم کی جائے گی جو آئندہ کے تمام پروگراموں اور سرگرمیوں کی نگرانی اور رہنمائی کرے گی۔

اجلاس کے دوران پاکستان کی جانب سے خیر سگالی کے ایک بڑے جذبے کے طور پر کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کی انتظامیہ نے ایتھوپیا کے ہونہار طلبہ کے لیے ۲۵ بڑی اسکالرشپس کا باقاعدہ اعلان بھی کیا جس کا ایتھوپیا کے سفیر نے کھلے دل سے خیرمقدم کیا، جبکہ دوسری طرف کامسٹیک نے ایتھوپیا کی ان ممتاز جامعات کے ریکٹرز اور نمائندوں کو بہت جلد اسلام آباد کا سرکاری دورہ کرنے کی باضابطہ دعوت دی ہے تاکہ دوطرفہ تعلیمی و تحقیقی تعاون کو مزید وسعت دی جا سکے، ملکی و بین الاقوامی تعلیمی ماہرین کے مطابق پاکستان کا یہ جرات مندانہ اقدام افریقہ کے ساتھ پاکستان کے علمی، تحقیقی اور سائنسی تعلقات کو ایک نئی بلندی پر لے جانے کی جانب ایک انتہائی اہم اور کلیدی پیش رفت ثابت ہو گا۔

پی ٹی آئی اور اپوزیشن اتحاد کا 16 جون کو اڈیالہ جیل کے باہر پاور شو کا فیصلہ، علیمہ خان نے احتجاجی اجتماع کا باقاعدہ شیڈول جاری کر دیا، بانی چیئرمین عمران خان کے طبی معائنے اور بنیادی حقوق کے لیے ۱۰ ہزار سے زائد کارکنان جمع کرنے کا ہدف، محمود خان اچکزئی کی مشاورت سے پروگرام حتمی قرار

کاشف عباسی ,june 14,2026

راولپنڈی (پولیٹیکل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 14 جون 2026ء

پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے اڈیالہ جیل راولپنڈی کے باہر ایک بہت بڑے احتجاجی اجتماع کے شیڈول کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف اور متحدہ اپوزیشن اتحاد کے زیرِ اہتمام سولہ جون بروز منگل جیل کے باہر ایک تاریخی اور بڑا عوامی پاور شو منعقد کیا جائے گا، راولپنڈی سے حاصل ہونے والی سیاسی تفصیلات کے مطابق میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے واضح کیا کہ یہ بڑا احتجاجی اجتماع خالصتاً عمران خان کے قانونی، آئینی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کیا جا رہا ہے اور اس کا بنیادی مقصد جیل میں ان کی صحت، فیملی و وکلاء سے ملاقاتوں پر عائد حالیہ پابندیوں اور دیگر بنیادی انسانی سہولیات سے متعلق مطالبات کو عالمی و قومی سطح پر اجاگر کرنا ہے، انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت نے تحریک کے سربراہ اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے ساتھ طویل مشاورت اور سیاسی جوڑ توڑ کے بعد اس احتجاجی پروگرام کو حتمی شکل دی ہے اور پارٹی کو یہ ہدف دیا گیا ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر ہر حال میں دس ہزار سے زائد پرجوش کارکنوں اور خان کے حامیوں کو جمع کیا جائے۔

جاری کردہ شیڈول کے مطابق یہ سیاسی احتجاج منگل کے روز دوپہر تین بجے سے شروع ہو کر شام سات بجے تک مسلسل جاری رہے گا، علیمہ خان کا کہنا تھا کہ یہ عوامی اجتماع سو فیصد پرامن ہو گا اور اس کا مقصد سڑکوں پر کسی قسم کی توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ یا انتظامیہ کے ساتھ تصادم کرنا ہرگز نہیں بلکہ صرف اپنے قائد کے آئینی اور قانونی مطالبات کے حق میں پرامن آواز بلند کرنا ہے، انہوں نے ایک مرتبہ پھر بانی پی ٹی آئی کی جیل میں صحت کے حوالے سے خطرناک انکشافات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی صحت خصوصاً ان کی آنکھوں کی موجودہ حالت انتہائی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے اور ان کا فوری اور تفصیلی طبی معائنہ کروانا اشد ضروری ہو چکا ہے، ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی یہ مخلصانہ مانگ ہے کہ عمران خان کا مکمل طبی معائنہ سرکاری ڈاکٹروں کے بجائے ان کے ذاتی اور ملک کے نامور ماہر ڈاکٹروں کی خصوصی نگرانی میں فی الفور کیا جائے، علیمہ خان نے ملکی اعلیٰ عدالتوں، بین الاقوامی و قومی انسانی حقوق کی تنظیموں اور تمام متعلقہ مقتدر اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ سابق وزیراعظم کے بنیادی حقوق، زندگی کے تحفظ اور صحت کے ان سنگین معاملات پر فوری توجہ دی جائے، دوسری جانب وفاقی یا صوبائی حکومت اور جیل انتظامیہ کی طرف سے علیمہ خان کے ان سنگین دعوؤں اور مطالبات پر تاحال کوئی باضابطہ یا سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم راولپنڈی کے سکیورٹی اداروں کی جانب سے اس ممکنہ بڑے احتجاج کے پیشِ نظر اڈیالہ جیل کے اردگرد صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور اضافی نفری تعینات کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

قومی بیٹر خوشدل شاہ کا پاکستان کرکٹ کے انتخابی نظام پر بڑا یوٹرن، صاحبزادہ فرحان کی مثال دے کر ڈومیسٹک کرکٹ کی عدم توجہی کا پول کھول دیا، پی ایس ایل میں پرفارم کرنے کے بعد ہی قومی ٹیم کے دروازے کھلنے کا انکشاف، ڈومیسٹک کے مستقل مزاج کھلاڑیوں کو بروقت مواقع دینے کا زوردار مطالبہ



محمود احمد june 14,2026

لاہور (اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 14 جون 2026ء

پاکستان کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بیٹر خوشدل شاہ نے قومی ٹیم کے انتخابی معیار اور ڈومیسٹک کرکٹ کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر کھل کر گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ مایہ ناز بلے باز صاحبزادہ فرحان کئی برسوں سے ڈومیسٹک کرکٹ میں مسلسل اور غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے تھے، تاہم اس طویل عرصے کے دوران ان کی شاندار کارکردگی کو سلیکٹرز اور بورڈ کی جانب سے وہ توجہ اور اہمیت نہیں ملی جس کے وہ حقیقی طور پر مستحق تھے، میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے خوشدل شاہ نے ملکی کرکٹ کے انتخابی ڈھانچے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پہلے کرکٹ حلقوں میں یہ غلط تاثر دیا جا رہا تھا کہ صاحبزادہ فرحان کو ڈومیسٹک کرکٹ میں رنز کے پہاڑ کھڑے کرنے کی بنیاد پر فوری طور پر قومی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے، لیکن تلخ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے کیونکہ وہ گزشتہ چار سے پانچ سال سے فرسٹ کلاس اور ڈومیسٹک کرکٹ کے نمایاں ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے آ رہے تھے اور ہر سیزن میں مسلسل رنز بنا رہے تھے، اس کے باوجود ان کا نام قومی اسکواڈ کے لیے کبھی بھی سنجیدگی سے زیرِ غور نہیں لایا جا رہا تھا اور انہیں مستقل نظر انداز کیا جاتا رہا۔

خوشدل شاہ کا کہنا تھا کہ ڈومیسٹک کرکٹ کے ساتھ اس سوتیلی ماں جیسے سلوک کے بعد جب صاحبزادہ فرحان نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے چمکدمک والے اسٹیج پر اپنی عمدہ اور جارحانہ کارکردگی دکھائی، تو اچانک تمام حکام اور سلیکٹرز کی توجہ ان کی جانب مبذول ہو گئی اور انہیں راتوں رات قومی ٹیم کا حصہ بنا دیا گیا، انہوں نے بورڈ کی پالیسیوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صرف پی ایس ایل کی بنیاد پر فیصلے کرنے کے بجائے ڈومیسٹک کرکٹ میں سالہا سال مستقل مزاجی سے پرفارم کرنے والے محنتی کھلاڑیوں کو ہر حال میں بروقت بین الاقوامی مواقع ملنے چاہئیں تاکہ ان کی بے پناہ محنت، پسینے اور خداداد صلاحیتوں کا صحیح معنوں میں اعتراف ممکن ہو سکے، خوشدل شاہ کے اس دبنگ اور واضح بیان کے بعد ملک میں ایک بار پھر ڈومیسٹک کرکٹ کی افادیت اور قومی ٹیم کے انتخابی معیار پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جبکہ دوسری جانب کرکٹ شائقین اور ماہرین کا بھی یہی کہنا ہے کہ اگر پاکستانی کرکٹ کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے تو محض چند ٹی ٹوئنٹی میچز کے بجائے فرسٹ کلاس اور ڈومیسٹک کے تپتے ہوئے میدانوں میں مستقل کارکردگی دکھانے والے ہیروز کو قومی سطح پر پہلی ترجیح دینا ہو گی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کا قومی کھلاڑیوں کی میچ فیسوں میں بھاری اضافے کا بڑا فیصلہ، سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے کے لیے اب ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنا لازمی شرط قرار، چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے میرٹ کی بالادستی کے لیے 85 فیصد کمپیوٹرائزڈ اور ڈیٹا بیسڈ سلیکشن کا انقلابی نظام متعارف کروا دیا، سابق کپتان سرفراز احمد ملکی کرکٹ کا قیمتی اثاثہ ہیں

محمود احمد june 14,2026

لاہور (اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 14 جون 2026ء

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ملک میں کرکٹ کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور کھلاڑیوں کی کارکردگی کو نکھارنے کے لیے قومی کرکٹرز کی میچ فیس میں نمایاں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے سینٹرل کنٹریکٹ کے موجودہ نظام میں دور رس اور اہم ترین تبدیلیاں نافذ کر دی ہیں، قذافی اسٹیڈیم لاہور میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے کرکٹ بورڈ کے ان انقلابی فیصلوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ میچ فیس میں کیے جانے والے اس تاریخی اضافے کا باقاعدہ اطلاق ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی تینوں فارمیٹس پر یکساں ہو گا، تاہم اس کے ساتھ ہی بورڈ نے کھلاڑیوں کے لیے قانون سخت کرتے ہوئے یہ لازمی قرار دیا ہے کہ اب قومی ٹیم کے کسی بھی اسٹار کھلاڑی کے لیے مقامی ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنا سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے کی اولین اور بنیادی شرط ہو گی، انہوں نے دوٹوک الفاظ میں تنبیہ کی کہ آئندہ جو بھی نامور کھلاڑی بورڈ کی جانب سے مقرر کردہ سخت معیار، فٹنس ٹیسٹ اور گراؤنڈ کارکردگی پر پورا نہیں اترے گا اسے کسی بھی صورت سینٹرل کنٹریکٹ کی فہرست میں شامل نہیں کیا جائے گا چہ جائیکہ وہ کتنا ہی بڑا کھلاڑی کیوں نہ ہو، چیئرمین پی سی بی کے مطابق اب کھلاڑیوں کے لیے پانچ مختلف اور جدید کیٹیگریز متعارف کروائی جا رہی ہیں اور ٹیسٹ، ون ڈے سمیت ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے لیے الگ الگ عسکری نوعیت کی حکمتِ عملی مرتب کی گئی ہے تاکہ ہر فارمیٹ کی تکنیکی ضروریات کے مطابق بہترین اور موزوں ترین کھلاڑیوں کا انتخاب میرٹ پر ممکن بنایا جا سکے۔

محسن نقوی نے کرکٹ شائقین کو بڑی خوشخبری سناتے ہوئے بتایا کہ قومی ٹیم میں سفارشی کلچر کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرنے کے لیے سلیکشن کے پورے نظام کو زیادہ سے زیادہ جدید اور کمپیوٹرائزڈ کیا جا رہا ہے جس کے بعد اب ٹیم سلیکشن کے تقریباً ۸۵ فیصد فیصلے خالصتاً ڈیٹا، کھلاڑی کی فٹنس اور پچھلی کارکردگی کی بنیاد پر سافٹ ویئر کے ذریعے کیے جائیں گے جس سے ٹیم کے انتخاب میں سو فیصد شفافیت اور حقیقی میرٹ کو فروغ ملے گا، ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک اہم سوال کا جواب دیتے ہوئے چیئرمین پی سی بی نے واضح کیا کہ قیادت کے حوالے سے کوئی بھی حتمی فیصلہ کرنا میرا کام نہیں بلکہ یہ اختیار مکمل طور پر سلیکشن کمیٹی اور متعلقہ کرکٹ حکام کے پاس ہے، جبکہ آل راؤنڈر شاداب خان کی سفید گیند کی کرکٹ میں ممکنہ کپتانی سے متعلق خبروں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ فی الحال ایسی کسی بھی پیش رفت سے بالکل آگاہ نہیں ہیں، انہوں نے قومی ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز وکٹ کیپر بیٹر سرفراز احمد کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں پاکستانی کرکٹ کا ایک انتہائی قیمتی اور ناقابلِ فراموش اثاثہ قرار دیا اور کہا کہ سرفراز احمد کی ملکی کرکٹ کے لیے خدمات اور ان کے وسیع تجربے کو کرکٹ بورڈ ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھے گا، کرکٹ مبصرین اور سابق مائیہ ناز کھلاڑیوں نے پی سی بی کے ان نئے اور کڑے فیصلوں کو قومی کرکٹ میں میرٹ کی بالادستی، کارکردگی میں تسلسل اور زوال پذیر ڈومیسٹک نظام کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی جانب ایک انتہائی کلیدی اور جرات مندانہ قدم قرار دیا ہے۔

چکوال میں افسوسناک واقعہ: حج سے لوٹنے والے آسٹریلوی نژاد پاکستانی خاندان پر فائرنگ، 9 سالہ بچی جاں بحق، سی سی ڈی اہلکار گرفتار

منصور احمد june 14,2026

چکوال(نیوز اینڈ نیوز) —14جون 2026ء

ضلع چکوال کی حدود میں پیش آنے والے ایک انتہائی دلدوز اور المناک واقعے نے نہ صرف ملک بھر بلکہ آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی برادری کو بھی شدید غم و اندوہ میں مبتلا کر دیا ہے جہاں آسٹریلیا میں مستقل رہائش پذیر پاکستانی شہری عدیل احمد اپنی اہلیہ ڈاکٹر سدرہ، بیٹے عفان اور 9 سالہ معصوم بیٹی ہانیہ احمد کے ہمراہ فریضۂ حج کی مقدس سعادت حاصل کرنے کے فوراً بعد محض دو روز قبل ہی پاکستان پہنچے تھے لیکن چکوال کے علاقے میں ان کی گاڑی کو مبینہ طور پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے اہلکاروں کی جانب سے فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں گاڑی میں موجود 9 سالہ معصوم ہانیہ احمد شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گئیں جبکہ ان کے والد عدیل احمد اور بھائی عفان گولیوں کی زد میں آکر شدید زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے، اس ہولناک واقعے کی اطلاع ملتے ہی آسٹریلیا میں آباد پاکستانی کمیونٹی میں شدید غم و غصہ اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور ذرائع کے مطابق آسٹریلوی حکام نے بھی واقعے کی سنگینی کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطح پر پاکستانی حکام سے رابطہ قائم کر کے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے جبکہ مقامی پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے اور واقعے میں ملوث ایک سی سی ڈی اہلکار کو گرفتار کر کے حراست میں لے لیا ہے جس سے تفتیش جاری ہے، دوسری جانب ڈی پی او چکوال نے اس پورے واقعے کو انتہائی افسوسناک اور ناقابل تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے میڈیا کو یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ملوث پائے جانے والے تمام ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی کوتاہی یا رعایت ہرگز نہیں برتی جائے گی جبکہ شہریوں، سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے بھی اس اندوہناک واقعے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ معصوم بچی کے خون سے انصاف کیا جائے اور مستقبل میں ایسے سنگین و المناک سانحات کے مستقل سدباب کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے طریقہ کار پر نظرثانی کی جائے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا بچوں سے مشقت کے خلاف عالمی دن پر بڑا پیغام، ہر بچے کو استحصال سے پاک اور تعلیم سے آراستہ کرنے کے قومی عزم کا اعادہ، دنیا بھر میں ۱۳ کروڑ ۸۰ لاکھ بچوں کی مزدوری پر تشویش کا اظہار، بینظیر انکم سپورٹ، بیت المال اور دانش اسکولز کے ذریعے مستحق بچوں کی کفالت کا اعلان

منصور احمد june 12,2026

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 12 جون 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوامِ عالم کے ساتھ مل کر ہر بچے کو استحصال سے پاک اور تعلیم سے آراستہ تابناک مستقبل کی فراہمی کے لیے ہرممکن اقدامات کرنے کے پکے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پاکستان بچوں سے مشقت و مزدوری کے مکمل خاتمے کے لیے ایک انتہائی جامع اور مؤثر حکمتِ عملی پر پوری تندہی سے عمل پیرا ہے کیونکہ بچے ہمارے ملک کے مستقبل کے حقیقی معمار ہیں اور ان کے تابندہ مستقبل کے تحفظ اور صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے سرکاری سطح پر تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں، اسلام آباد سے وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے بچوں سے مشقت کے خلاف عالمی دن (World Day Against Child Labour) کے موقع پر جاری کیے گئے خصوصی اور مخلصانہ پیغام میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ آج کے دن پاکستان دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ مل کر اس عہد کو دہراتا ہے کہ معصوم بچوں کے حقوق کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا، انہوں نے بتایا کہ اس سال عالمی سطح پر یہ اہم دن ”بچوں سے مشقت ناقابلِ قبول: بچوں کے لیے منصفانہ مواقع، نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار“ کے خوبصورت عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے، وزیراعظم نے بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا کہ آج کے اس جدید دور میں بھی دنیا بھر کے اندر تقریباً ۱۳ کروڑ ۸۰ لاکھ معصوم بچے مزدوری اور مشقت کرنے پر مجبور ہیں جن میں سے ۵ کروڑ ۴۰ لاکھ سے زائد بچے انتہائی خطرناک نوعیت کے کاموں میں مصروف ہیں جو کہ عالمی برادری کے لیے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے، ان کا کہنا تھا کہ بچوں سے مشقت و مزدوری کا مکمل سدِ باب ہماری قومی معاشی و سماجی ترقی اور معاشرتی انصاف کے لیے ناگزیر ہے کیونکہ قوموں کی حقیقی ترقی ان کی مستقبل کی افرادی قوت اور بچوں کی ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کے بہترین استعمال پر ہی منحصر ہوتی ہے۔

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی اس مقصد سے سچی وابستگی کا واضح ثبوت یہ ہے کہ ہم نے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے متعلقہ کنونشنز کی باقاعدہ توثیق کر رکھی ہے جو ملازمت کی کم سے کم عمر اور بچوں سے مشقت کی بدترین اقسام کے خاتمے کے لیے بنائے گئے ہیں، اس وقت ملک کے اندر بچوں سے متعلق قانونی اصلاحات، قوانین کے مؤثر نفاذ، سماجی تحفظ، معیاری تعلیم اور غریب خاندانوں کی معاشی آسودگی جیسے پہلوؤں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ بچوں سے مشقت کی بنیادی جڑوں اور وجوہات کا ہمیشہ کے لیے تدارک کیا جا سکے، انہوں نے قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال (NCRC) کے کلیدی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ بچوں کے حقوق کی نگرانی اور اس حوالے سے قومی و بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عملدرآمد کے فروغ میں مصروفِ عمل ہے جبکہ وفاقی سطح پر چائلڈ پروٹیکشن انسٹیٹیوٹ اور صوبائی سطح پر چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹیز، ویلفیئر بیوروز اور چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کے ذریعے کمزور، یتیم اور محروم بچوں کو مکمل تحفظ، مالی معاونت اور معاشرے میں باعزت بحالی کے شاندار مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، وزیراعظم نے تمام صوبائی حکومتوں کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں نے بچوں سے مشقت کے تدارک کے لیے نمایاں قانونی اور انتظامی اقدامات کیے ہیں اور تمام صوبوں میں جبری مشقت کے قوانین کے تحت ضلعی نگرانی کمیٹیاں اور خصوصی یونٹس قائم کیے جا چکے ہیں جو لائقِ ستائش ہیں۔

وزیراعظم نے اپنے پیغام میں اس حقیقت کا مخلصانہ اعتراف کیا کہ ملک میں جاری غربت ہی بچوں سے مشقت کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ ہے، اسی لیے حکومت باعزت روزگار کے مواقع کی فراہمی سمیت معاونت کے سماجی تحفظ کے پروگرامز اور تعلیمی وظائف کی اسکیموں کو وسائل کی شدید کمی کے باوجود انتہائی مؤثر انداز میں چلا رہی ہے جن میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا ”وسیلہ تعلیم“ اقدام اور پاکستان بیت المال کے قائم کردہ ”چائلڈ لیبر اسکولز“ غریب بچوں کے لیے قابلِ ذکر خدمات سر انجام دے رہے ہیں، اس کے ساتھ ہی انہوں نے ”دانش اسکولز“ کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان ورلڈ کلاس اسکولوں کے ذریعے ملک کے طول و عرض میں ہزاروں مستحق اور یتیم بچے اعلیٰ تعلیم کے زیور سے بالکل مفت آراستہ ہو کر اپنے روشن مستقبل کی جانب تیزی سے پیش قدمی کر رہے ہیں، انہوں نے آئی ایل او، یونیسیف، یورپی یونین اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا جن کے مسلسل تعاون سے ملک میں لیبر گورننس کی جانب پیش رفت تیز ہو رہی ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے خطاب کے آخر میں ملک کے تمام آجروں، محنت کشوں، والدین، اساتذہ، سول سوسائٹی کی تنظیموں، مذہبی رہنماؤں، نجی شعبے اور بالخصوص ذرائع ابلاغ (میڈیا) سے پرزور اپیل کی کہ وہ معصوم بچوں کو ہر قسم کے استحصال سے محفوظ رکھنے کے اس عظیم اور مقدس قومی مقصد میں حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں کیونکہ یہ ہم سب کی مشترکہ سماجی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، انہوں نے کہا کہ آئیے ہم سب مل کر ایک ایسے پڑھتے لکھتے پاکستان کی تعمیر کریں جہاں ہر بچہ تعلیم یافتہ، محفوظ اور بااختیار ہو اور اسے قومی ترقی اور خوشحالی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے مساوی اور بہترین مواقع میسر آ سکیں۔

پاکستان کی مسقط پلان آف ایکشن کی بھرپور حمایت، نفرت انگیز تقاریر، نسل کشی پر اکسانے اور سنگین جرائم کے خاتمے کے لیے مؤثر اور اختراعی عالمی فریم ورک قرار، اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا افتتاحی تقریب سے دبنگ خطاب، سلطنتِ عمان اور عالمی برادری کو کامیاب تکمیل پر مبارکباد

محمود احمد june 12,2026

اقوام متحدہ، نیویارک(نیوز اینڈ نیوز) —12جون 2026ء

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے مسقط پلان آف ایکشن کی بھرپور اور غیر مشروط حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اسے دنیا بھر میں نفرت انگیز تقاریر، نسل کشی پر اکسانے اور دیگر سنگین ترین انسانی جرائم کی روک تھام کے لیے ایک انتہائی مؤثر اور اختراعی عالمی فریم ورک قرار دیا ہے، اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں مسقط پلان آف ایکشن کی پروقار اور اعلیٰ سطح کی افتتاحی تقریب سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ یہ عظیم الشان منصوبہ دنیا بھر کی روایتی اور مقامی برادریوں کے رہنماؤں کی سماجی ساکھ، اخلاقی حیثیت اور عوامی اعتماد کو بہترین طریقے سے بروئے کار لا کر امن، باہمی مکالمے اور مصالحتی عمل کو فروغ دیتا ہے، پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ قبائلی عمائدین، روایتی سردار اور مقامی برادریوں کے رہنما تاریخی طور پر تنازعات کے حل، منصفانہ مصالحت اور مقامی نظم و نسق کو برقرار رکھنے میں ہمیشہ کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں اور آج کے اس جدید دور میں بھی یہ مقتدر شخصیات امن سازی، تنازعات کے پرامن خاتمے اور انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں میں صفِ اول کا کردار ادا کر رہی ہیں، انہوں نے دنیا بھر میں عدم برداشت، امتیازی رویوں اور نفرت انگیز تقاریر میں ہونے والے ہولناک اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس عالمی چیلنج کے تدارک کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی اور مخلصانہ عالمی تعاون کی اشد ضرورت ہے کیونکہ نفرت انگیز تقاریر اور نسل کشی جیسے بھیانک جرائم کے محرکات انتہائی پیچیدہ نوعیت کے ہیں، لہٰذا ان کے مؤثر سدباب کے لیے اب قومی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مربوط اور یکجا اقدامات کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

واضح رہے کہ مسقط پلان آف ایکشن اقوامِ متحدہ کی سرپرستی اور سلطنتِ عمان کی خصوصی کاوشوں سے تیار کیا گیا ایک ایسا بین الاقوامی فریم ورک ہے جس کا بنیادی مقصد روایتی اور مقامی آبادیوں کے بااثر رہنماؤں کے کردار کو عالمی سطح پر مضبوط بنا کر نفرت انگیز تقاریر اور نسل کشی کی روک تھام کو عملی طور پر ممکن بنانا ہے، اس تاریخی منصوبے کی افتتاحی تقریب میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سمیت متعدد عالمی رہنماؤں، سربراہان اور نامور سفارتکاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، تقریب کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب نے ملک کی خارجہ پالیسی کو پیش کرتے ہوئے عزم دہرایا کہ پاکستان اپنے تمام بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر نفرت انگیز نظریات کے خاتمے، مستقل امن کے فروغ اور مساوات پر مبنی پُر امن معاشروں کے قیام کے لیے اپنا تعمیری کام ہمیشہ جاری رکھے گا، سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب کے آخر میں سلطنتِ عمان کی اعلیٰ قیادت، اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسدادِ نسل کشی اور پیس میکرز نیٹ ورک کی انتظامیہ کو مسقط پلان آف ایکشن کی شاندار تیاری اور اس کی کامیاب تکمیل پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد بھی پیش کی۔

پاکستان اور چائلڈ مائنڈ انسٹی ٹیوٹ کے درمیان بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کے شعبے میں اسٹریٹجک شراکت داری پر اتفاق، نیویارک میں اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران ذہنی صحت کے قومی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ تعاون پر اہم پیش رفت، وفاقی وزیرِ مملکت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ کی عالمی ماہرین کو اکتوبر میں اسلام آباد آمد کی باضابطہ دعوت

منصور احمد june 12,2026

نیویارک(نیوز اینڈ نیوز) —12جون 2026ء

پاکستان اور چائلڈ مائنڈ انسٹی ٹیوٹ کے تحت قائم ایس این ایف گلوبل سینٹر فار چائلڈ اینڈ ایڈولیسنٹ مینٹل ہیلتھ نے بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کے شعبے میں اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینے پر باقاعدہ اتفاق کر لیا ہے جس کے تحت ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ نوجوان نسل کے نفسیاتی و ذہنی مسائل کے حل کے لیے عالمی معیار کے ماڈلز متعارف کروائے جائیں گے، نیویارک سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق یہ اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے قومی صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ نے امریکہ کے سرکاری دورے کے دوران نیویارک میں واقع ایس این ایف گلوبل سینٹر کا تفصیلی دورہ کیا جہاں ان کے ہمراہ وزارتِ قومی صحت کے سینئر مشیر ڈاکٹر ملک محمد صافی اور ڈاکٹر سید عثمان ہمدانی بھی موجود تھے، دورے کے دوران پاکستانی وفد نے بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کے لیے عالمی سطح پر اپنائے جانے والے کامیاب ترین ماڈلز کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور اس بات پر تفصیلی غور کیا کہ ان بین الاقوامی تجربات کو پاکستان میں کس طرح مؤثر انداز میں نافذ کیا جا سکتا ہے جبکہ وفد کو ایس این ایف گلوبل سینٹر کے اعلیٰ ماہرین نے ادارے کے تحقیقی، تربیتی اور ڈیجیٹل پروگراموں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی جن کا بنیادی مقصد کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں ذہنی صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔

پاکستانی وفد اور عالمی ماہرین کے مابین ہونے والی اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں چند اہم ترین شعبوں میں مشترکہ تعاون کو فوری طور پر آگے بڑھانے پر بات چیت ہوئی جن کے تحت اب دونوں فریقین مل کر بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت سے متعلق مشترکہ تحقیق کریں گے، ملک میں ذہنی صحت کے قومی ڈیٹا سسٹمز کی بہتری کے لیے اقدامات کیے جائیں گے اور جدید ترین ڈیجیٹل ذہنی صحت پروگرامز تیار کیے جائیں گے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر کے اسکولوں اور بنیادی صحت کے مراکز میں ذہنی صحت کی خدمات کا انضمام کیا جائے گا تاکہ نچلی سطح پر بچوں کی کونسلنگ کی جا سکے اور پاکستانی ماہرین سمیت نوجوان محققین کے لیے عالمی فیلوشپ پروگرامز، خصوصی تربیت، رہنمائی اور افرادی قوت کی استعداد میں اضافے کے منصوبے شروع کیے جائیں گے، ملاقات کے دوران پاکستانی وفد نے عالمی ادارے کو بتایا کہ یہ جدید ماڈل پاکستان کی مجوزہ قومی ذہنی صحت پالیسی، نیشنل ہب آف ایکسیلنس فار مینٹل ہیلتھ اور ملک بھر میں بچوں اور نوجوانوں کے لیے ذہنی صحت کی خدمات کے فروغ کے سرکاری منصوبوں سے مکمل مطابقت رکھتا ہے جس پر دونوں فریقوں نے اتفاق کیا کہ اس ابتدائی رابطے کو فوری عملی شکل دینے کے لیے ایک باضابطہ ادارہ جاتی معاہدے کی جانب پیش رفت کی جائے گی جس کے تحت تحقیق، تربیت، پالیسی سازی اور اختراعات میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا، وفاقی وزیرِ مملکت برائے صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ نے چائلڈ مائنڈ انسٹی ٹیوٹ، ایس این ایف گلوبل سینٹر اور انٹرنیشنل ایسوسی ایشن فار چائلڈ اینڈ ایڈولیسنٹ سائکیاٹری اینڈ الائیڈ پروفیشنز کے نمائندوں کو رواں سال یکم اور دو اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد ہونے والی عالمی یومِ ذہنی صحت کی بڑی تقریب میں شرکت کی باضابطہ دعوت بھی دی تاکہ اس شراکت داری کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کا تھیلیسیمیا کے خلاف تاریخی اور انقلابی اقدام، شادی سے پہلے خون کا ٹیسٹ لازمی قرار دینے پر شدید زور، قومی اسمبلی سے لازمی اسکریننگ بل بھاری اکثریت سے پاس، نوزائیدہ بچوں کو موذی مرض سے بچانے کے لیے ملک کی پہلی موبائل وین کا باقاعدہ افتتاح

منصور احمد june 11,2026

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 11 جون 2026ء

پاکستان میں معصوم بچوں کو تھیلیسیمیا جیسے جان لیوا اور موذی مرض سے مستقل نجات دلانے کے لیے وفاقی حکومت نے ایک بہت بڑا اور تاریخی فیصلہ کر لیا ہے جس کے تحت وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے ملک میں تھیلیسیمیا کے مسلسل بڑھتے ہوئے کیسز پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شادی سے قبل اسکریننگ ٹیسٹ کو قانونی طور پر لازمی قرار دینے پر سب سے زیادہ زور دیا ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان کی تاریخ کی پہلی ”تھیلیسیمیا موبائل وین“ کی پروقار افتتاحی تقریب سے مخلصانہ خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ پاکستان میں اس وقت تھیلیسیمیا کے کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد انتہائی خطرناک اور تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے اور حکومت سمیت پورے معاشرے کی مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے ہر سال معصوم بچے اس دردناک بیماری کے ساتھ پیدا ہو رہے ہیں، انہوں نے اصرار کیا کہ شادی سے پہلے کا یہ لازمی ٹیسٹ کم از کم مردوں کے لیے فوری طور پر قانونی شکل میں نافذ ہونا چاہیے کیونکہ جب دو کیریئرز یعنی اس بیماری کے جراثیم رکھنے والے مرد اور عورت کی آپس میں شادی ہوتی ہے تو ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچے میں تھیلیسیمیا میجر کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے، اسی طرح قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اہم اجلاس میں خصوصی شرکت کے دوران وفاقی وزیر نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کمپلسری تھیلیسیمیا اسکریننگ بل کی مکمل اور غیر مشروط حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وزارت اس بل کو ملک بھر میں نافذ کرنے کے لیے تیار ہے اور قانون میں یہ شق لازمی شامل ہونی چاہیے کہ شادی کے بندھن میں بندھنے والے ہر دلہے کا تھیلیسیمیا ٹیسٹ ہو اور اگر دلہا پازیٹو آ جائے تو دلہن کا بھی فوری ٹیسٹ کروایا جائے کیونکہ ہم صرف اور صرف اس سخت قانون سازی کے ذریعے ہی اپنی آنے والی نسلوں اور معصوم بچوں کو تھیلیسیمیا کی معذوری سے بچا سکتے ہیں، اس کے ساتھ ہی انہوں نے مریضوں کی سہولت کے لیے ایک اور بڑا اعلان کیا کہ اب بون میرو ٹرانسپلانٹ جیسے مہنگے اور پیچیدہ علاج سے پہلے لی جانے والی تمام سرکاری منظوریاں اور شرطیں فوری ختم کر دی گئی ہیں تاکہ بچوں کا بروقت علاج ممکن ہو سکے۔

طبی ماہرین اور وزارتِ صحت کے ذرائع کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت کی انتھک کوششوں کے بعد اب نیشنل اسمبلی نے اس تاریخی بل کو باقاعدہ پاس کر دیا ہے جس کے بعد اب اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کمپلسری تھیلیسیمیا اسکریننگ ایکٹ کے تحت چند انتہائی اہم اور سخت ترین قوانین لاگو کر دیے گئے ہیں جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں: ۱۔ اب وفاقی دارالحکومت میں شادی سے پہلے دلہا اور دلہن دونوں کے لیے تھیلیسیمیا کی بلڈ اسکریننگ کروانا قانونی طور پر لازمی ہو گا۔ ۲۔ تھیلیسیمیا کے موجودہ مریضوں کے تمام خون کے قریبی رشتہ داروں کو باقاعدہ طبی کونسلنگ کے ذریعے مشورہ دیا جائے گا کہ وہ بھی شادی سے قبل اپنا بلڈ ٹیسٹ لازمی کروائیں۔ ۳۔ ایسی تمام حاملہ خواتین جو اس مرض کی کیریئر ہیں اور ان کے شوہر بھی کیریئر پائے گئے ہیں تو اس جوڑے کی باقاعدہ اجازت کے ساتھ حمل کے دوران ہی اینٹینٹل ٹیسٹ کیا جائے گا تاکہ بچے کی صحت کا قبل از وقت پتہ چل سکے۔ ۴۔ ملک بھر میں ہونے والے ان تمام ٹیسٹوں کے نتائج کو ایک مرکزی ڈیٹا بینک میں رجسٹر کیا جائے گا تاکہ ملک میں تمام کیریئرز کا ایک باقاعدہ اور محفوظ ریکارڈ موجود رہے۔ ۵۔ تمام غیر سرکاری اداروں اور تھیلیسیمیا سینٹرز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے مجموعی بجٹ کا کم از کم دس فیصد حصہ لازمی طور پر پیدائش سے پہلے کی تشخیص یعنی پری نیٹل ڈائیگنوسس کی جدید سہولیات پر خرچ کریں گے۔

طبی مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق تھیلیسیمیا بنیادی طور پر خون کی ایک موروثی اور خطرناک بیماری ہے جس کی تین بڑی اقسام مائنر، میجر اور انٹرمیڈیا ہیں، جن میں سے میجر کی قسم میں مبتلا معصوم بچوں کو زندہ رہنے کے لیے زندگی بھر مہینے میں ایک سے دو بار باہر سے نیا خون لگوانا پڑتا ہے جس پر ہزاروں روپے کی مہنگی ادویات کا ماہانہ خرچہ آتا ہے جبکہ اس بیماری کی تشخیص محض ایک انتہائی سادہ اور سستے خون کے ٹیسٹ سی بی سی اور ایچ بی اے ٹو لیول کے ذریعے باآسانی ہو جاتی ہے، اس بیماری کا مستقل علاج صرف خون کی منتقلی اور بون میرو ٹرانسپلانٹ ہے لیکن بدقسمتی سے اس کے لیے ڈونر ملنا انتہائی مشکل عمل ہے کیونکہ پچاس ہزار افراد میں سے محض ایک شخص کا بون میرو میچ کرتا ہے، اسی حساس صورتحال کے پیشِ نظر وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے ملک بھر کے والدین کے نام اپنے ایک اہم ترین پیغام میں اپیل کی ہے کہ یہ تمام والدین کی اولین اور بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی شادیوں سے قبل یہ ٹیسٹ کروا کر اپنے بچوں کو تھیلیسیمیا جیسی عمر بھر کی اذیت سے بچائیں کیونکہ یہ اب صرف صحت کا ایک عام مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ہمارے پورے خاندان، آنے والی نسلوں اور پورے معاشرے کی بقا اور حفاظت کا انتہائی سنگین معاملہ ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی ڈائمنڈ جوبلی انٹرنیشنل فٹبال ٹورنامنٹ کی چیمپئن بننے پر پاکستان فٹبال ٹیم، کوچز اور انتظامیہ کو دلی مبارکباد، افغانستان کو فائنل میں دھول چٹانے پر قومی کھلاڑیوں کو زبردست خراجِ تحسین، تاریخی فتح کو ملک میں کھیلوں کے فروغ کے لیے اہم سنگِ میل قرار دے دیا

کاشف عباسی ,june 11,2026

اسلام آباد(نیوز اینڈ نیوز) —11 جون 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سال دو ہزار چھبیس کے ڈائمنڈ جوبلی انٹرنیشنل فٹبال ٹورنامنٹ کے سنسنی خیز فائنل معرکے میں روایتی حریف افغانستان کو عبرتناک شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کرنے پر پاکستان فٹبال ٹیم، تمام غیر ملکی و ملکی کوچز اور فٹبال انتظامیہ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے، وفاق دارالحکومت اسلام آباد میں وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری ہونے والے باضابطہ اور خصوصی بیان کے مطابق قومی فٹبال ٹیم کے نام بھیجے گئے اپنے تہنیتی پیغام میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ چوہتر سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ حاصل ہونے والی یہ تاریخی اور لاجواب کامیابی اس وقت پوری پاکستانی قوم کے لیے ایک بہت بڑا باعثِ فخر اور عید کا تحفہ ہے کیونکہ پاکستان کی فٹبال ٹیم نے فائنل میچ کے دوران انتہائی شاندار کھیل، مضبوط عزم اور بہترین ٹیم ورک کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف روایتی حریف کو شکست دی بلکہ بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام بھی فخر سے بلند کر دیا ہے، وزیراعظم نے اس فتح کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مزید کہا کہ یہ پاکستان کی پوری فٹبال تاریخ کا پہلا باضابطہ اور خودمختار بین الاقوامی فٹبال ٹورنامنٹ کا ٹائٹل ہے جو کہ مستقبل میں قومی کھیلوں کے فروغ، میدانوں کی آبادی اور ہمارے باصلاحیت نوجوان کھلاڑیوں کے حوصلے بڑھانے کے لیے ایک انتہائی اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قومی ہیروز کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے اس قوی امید کا اعتراف کیا کہ ہماری یہ جوان بخت فٹبال ٹیم آئندہ بھی اسی سچے جذبوں، لگن اور سخت محنت کے ساتھ عالمی میدانوں میں کامیابیاں سمیٹتے ہوئے دنیا بھر میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم ہمیشہ بلند رکھے گی اور حکومتِ پاکستان ان باصلاحیت کھلاڑیوں کی ہر سطح پر سرپرستی جاری رکھے گی۔