وزیراعظم شہباز شریف کی ڈائمنڈ جوبلی انٹرنیشنل فٹبال ٹورنامنٹ کی چیمپئن بننے پر پاکستان فٹبال ٹیم، کوچز اور انتظامیہ کو دلی مبارکباد، افغانستان کو فائنل میں دھول چٹانے پر قومی کھلاڑیوں کو زبردست خراجِ تحسین، تاریخی فتح کو ملک میں کھیلوں کے فروغ کے لیے اہم سنگِ میل قرار دے دیا

کاشف عباسی ,june 11,2026

اسلام آباد(نیوز اینڈ نیوز) —11 جون 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سال دو ہزار چھبیس کے ڈائمنڈ جوبلی انٹرنیشنل فٹبال ٹورنامنٹ کے سنسنی خیز فائنل معرکے میں روایتی حریف افغانستان کو عبرتناک شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کرنے پر پاکستان فٹبال ٹیم، تمام غیر ملکی و ملکی کوچز اور فٹبال انتظامیہ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے، وفاق دارالحکومت اسلام آباد میں وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری ہونے والے باضابطہ اور خصوصی بیان کے مطابق قومی فٹبال ٹیم کے نام بھیجے گئے اپنے تہنیتی پیغام میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ چوہتر سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ حاصل ہونے والی یہ تاریخی اور لاجواب کامیابی اس وقت پوری پاکستانی قوم کے لیے ایک بہت بڑا باعثِ فخر اور عید کا تحفہ ہے کیونکہ پاکستان کی فٹبال ٹیم نے فائنل میچ کے دوران انتہائی شاندار کھیل، مضبوط عزم اور بہترین ٹیم ورک کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف روایتی حریف کو شکست دی بلکہ بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام بھی فخر سے بلند کر دیا ہے، وزیراعظم نے اس فتح کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مزید کہا کہ یہ پاکستان کی پوری فٹبال تاریخ کا پہلا باضابطہ اور خودمختار بین الاقوامی فٹبال ٹورنامنٹ کا ٹائٹل ہے جو کہ مستقبل میں قومی کھیلوں کے فروغ، میدانوں کی آبادی اور ہمارے باصلاحیت نوجوان کھلاڑیوں کے حوصلے بڑھانے کے لیے ایک انتہائی اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قومی ہیروز کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے اس قوی امید کا اعتراف کیا کہ ہماری یہ جوان بخت فٹبال ٹیم آئندہ بھی اسی سچے جذبوں، لگن اور سخت محنت کے ساتھ عالمی میدانوں میں کامیابیاں سمیٹتے ہوئے دنیا بھر میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم ہمیشہ بلند رکھے گی اور حکومتِ پاکستان ان باصلاحیت کھلاڑیوں کی ہر سطح پر سرپرستی جاری رکھے گی۔

عمان کے ساحل پر آئل ٹینکر پر امریکی فوج کی ہلاکت خیز کارروائی، دو بھارتی ملاح جاں بحق اور ایک لاپتہ، نئی دہلی کا شدید ترین احتجاج، بھارت نے امریکی سفارت خانے کے قائم مقام سربراہ کو طلب کر لیا، خلیج عمان میں تجارتی جہازوں پر حملوں سے عالمی سطح پر شدید کشیدگی

محمود احمد june 11,2026

نئی دہلی / مسقط(نیوز اینڈ نیوز) —11 جون 2026ء

عمان کے ساحل کے قریب خام تیل لے جانے والے ایک بڑے آئل ٹینکر پر امریکی فوج کی جانب سے کی جانے والی ہلاکت خیز کارروائی کے نتیجے میں دو بھارتی ملاحوں کی افسوسناک ہلاکت اور ایک ملاح کے سمندر میں لاپتہ ہونے پر بھارت میں شدید غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور بھارت نے اس واقعے پر انتہائی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے نئی دہلی میں تعینات امریکی سفارت خانے کے قائم مقام سربراہ کو وزارتِ خارجہ طلب کر کے شدید ترین سفارتی احتجاج ریکارڈ کرایا ہے، نئی دہلی اور مسقط کے سفارتی و عسکری ذرائع سے حاصل ہونے والی سنسنی خیز تفصیلات کے مطابق عمان کے سمندری ساحل کے قریب سیٹبیلو نامی آئل ٹینکر پر ہونے والے اس ہولناک حملے کے بعد جہاز کے عملے میں شامل متعدد افراد بری طرح متاثر ہوئے ہیں تاہم امدادی کارروائی کے دوران اکیس ملاحوں کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے اور اس واقعے کے فوراً بعد بھارتی حکومت نے اپنے معصوم شہریوں کی ہلاکت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی حکومت سے اس پورے واقعے کی اعلیٰ سطح پر مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے، دوسری جانب اس خونریز کارروائی پر اپنا باضابطہ عسکری موقف پیش کرتے ہوئے یونائیٹڈ اسٹیٹس سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ آئل ٹینکر برادر ملک ایران سے خام تیل لے جا رہا تھا اور مبینہ طور پر خطے میں عائد بین الاقوامی پابندیوں اور امریکی ناکہ بندی کی کھلی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا تھا اس لیے امریکی فوج کے سرکاری بیان کے مطابق اس مشکوک بحری جہاز کو رکنے کے لیے متعدد بار وائرلیس پر سخت وارننگ دی گئی تاہم جہاز کے عملے کی جانب سے امریکی ہدایات پر عمل نہ کرنے اور جہاز کی رفتار تیز کرنے کے بعد مجبورا ایک امریکی جنگی طیارے نے کارروائی کرتے ہوئے جہاز کے مرکزی انجن کو نشانہ بنایا جس کے بعد وہاں ہلاکتیں ہوئیں، اس کارروائی کے ردعمل میں بھارت کی وزارتِ خارجہ نے سخت ترین تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی سفیر کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے اور بھارتی حکام نے سمندر میں لاپتہ ہونے والے ملاح کی فوری تلاش اور متاثرہ خاندانوں کو تمام ضروری معلومات فراہم کرنے کا بھی دبنگ مطالبہ کیا ہے، واضح رہے کہ یہ خطرناک واقعہ ایک ایسے نازک وقت میں پیش آیا ہے جب چند روز قبل ہی عمان کے ساحل کے قریب ایک اور آئل ٹینکر میریویکس کو بھی اسی طرح نشانہ بنایا گیا تھا تاہم خوش قسمتی سے اس جہاز پر موجود چوبیس بھارتی ملاحوں کو بعد میں محفوظ طریقے سے نکال لیا گیا تھا، بحری امور کے ماہرین کے مطابق خلیج عمان اور بحیرہ عرب کے ان انتہائی اہم ترین عالمی تجارتی راستوں پر حالیہ دنوں میں بڑھنے والی عسکری کشیدگی اب عالمی تجارت اور دنیا بھر میں توانائی کی ترسیل کے لیے نئے اور ہولناک خطرات پیدا کر رہی ہے جبکہ سمندری راستوں پر بڑھتے ہوئے ان فوجی اقدامات نے بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں اور بڑے تجارتی اداروں کو بھی شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی فضائی کمپنی اتحاد ایئر ویز کا کابل کے لیے پروازیں دگنی کرنے کا بڑا اعلان، پندرہ جولائی سے ابوظبی اور افغانستان کے درمیان روزانہ اضافی پروازیں چلیں گی، زاید انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ذریعے یورپ جانے والے مسافروں کو شاندار سفری سہولیات کی فراہمی

منصور احمد june 11,2026

متحدہ عرب امارات کی نامور اور سرکاری فضائی کمپنی اتحاد ایئر ویز نے پندرہ جولائی دو ہزار چھبیس سے اپنے مرکزی ہیڈ کوارٹر ابوظبی اور افغان دارالحکومت کابل کے درمیان مسافر پروازوں کی تعداد میں بڑا اضافہ کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان فضائی آپریشن کو مزید وسیع کیا جائے گا، اماراتی نیوز ایجنسی کے مطابق اتحاد ایئرلائن نے مسافروں کے بے پناہ رش کے پیشِ نظر پروازوں کی موجودہ تعداد کو اب باقاعدہ طور پر دگنی کر دیا ہے اور اس نئے شیڈول کے تحت اب یومیہ ایک اضافی پرواز مستقل طور پر چلائی جائے گی، فضائی کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ پروازوں کے دائرہ کار میں یہ نئی توسیع افغانستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان براہِ راست سفر کرنے والے تجارتی مسافروں اور بالخصوص ابوظبی کے جدید ترین زاید انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے راستے یورپ، امریکہ اور دنیا کے دیگر بڑے ممالک کا سفر کرنے والے بین الاقوامی مسافروں کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد کو مدنظر رکھ کر کی گئی ہے کیونکہ کابل سے چلنے والی یہ پروازیں زاید ایئرپورٹ کو ایک بڑے فضائی مرکز کے طور پر استعمال کریں گی، ایئرلائن کی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اس اہم روٹ پر مسافروں کے آرام و آسائش کو برقرار رکھنے کے لیے جدید ترین ایئربس اے تین سو بیس طیارے استعمال کیے جا رہے ہیں جن کے اندر آٹھ بزنس کلاس اور ایک سو پچاس اکانومی کلاس کی نشستیں موجود ہیں، اس اقدام سے دونوں خطوں کے مابین فضائی روابط اور تجارتی سرگرمیوں میں مزید تیزی آئے گی۔

پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن نے کرکٹ تاریخ کے تمام مالیاتی ریکارڈ پاش پاش کر دیے، پاکستان کرکٹ بورڈ کو ساڑھے سات ارب روپے سے زائد کا تاریخی منافع، ٹیموں کی تعداد آٹھ کرنے کا فیصلہ ترین فیصلہ ثابت ہوا، پی سی بی نے سینیٹ کمیٹی میں باقاعدہ تفصیلات پیش کر دیں

کاشف عباسی ,june 11,2026

اسلام آباد(نیوز اینڈ نیوز) —11 جون 2026ء

پاکستان سپر لیگ کے سال دو ہزار چھبیس میں ہونے والے شاندار ایڈیشن نے ملک میں کرکٹ کی تاریخ کے تمام سابقہ مالیاتی ریکارڈ پاش پاش کر دیے ہیں جہاں پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس مرتبہ سات ارب چوّن کروڑ روپے سے زائد کی ریکارڈ توڑ آمدنی اور منافع حاصل ہوا ہے جبکہ لیگ میں ٹیموں کی تعداد بڑھا کر آٹھ کرنے کے انقلابی اقدام کی بدولت بورڈ کا مجموعی منافع دو ارب روپے سے اچانک چھلانگ لگا کر ساڑھے سات ارب روپے کی خطیر رقم تک جا پہنچا ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاکستان سپر لیگ کے سال دو ہزار چھبیس کے تمام اخراجات، مجموعی آمدن اور خالص منافع کی باضابطہ اور تفصیلی رپورٹ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اہم اجلاس میں پیش کر دی ہے، سینیٹ کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی پی سی بی کی اس سرکاری رپورٹ کی تفصیلات کے مطابق اس سال پاکستان سپر لیگ کے کامیاب انعقاد پر مجموعی طور پر دو ارب چونسٹھ کروڑ چوّن لاکھ روپے سے زائد کے اخراجات آئے جبکہ اس کے مقابلے میں لیگ کے مختلف تجارتی و نشریاتی ذرائع سے ہونے والی مجموعی آمدن دس ارب انیس کروڑ باون لاکھ روپے سے زائد ریکارڈ کی گئی ہے، اس طرح تمام اخراجات نکالنے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کو ٹیکس کی ادائیگی سے قبل خالصتاً سات ارب چوّن کروڑ اٹھانوے لاکھ روپے سے زائد کا تاریخی منافع حاصل ہوا ہے جو کہ ایک نیا عالمی ریکارڈ ہے، کرکٹ بورڈ کے مالیاتی تقابل کے مطابق گزشتہ سال دو ہزار پچیس کے ایڈیشن کے دوران بورڈ کو محض دو ارب روپے کا منافع ہوا تھا جبکہ سال دو ہزار چوبیس کے ایڈیشن کے دوران پی سی بی کو دو ارب چھیالیس کروڑ روپے کا منافع حاصل ہوا تھا تاہم اس سال ٹیموں کی تعداد آٹھ تک بڑھانے اور سنسنی خیز مقابلوں کی بدولت منافع میں یہ بے پناہ اور تاریخی اضافہ ممکن ہوا ہے جس پر سینیٹ کمیٹی کے ارکان نے بھی بورڈ کی انتظامیہ کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔

پاکستان نے 74 سال کی فٹبال تاریخ کا سب سے بڑا معجزہ کر دکھایا، ڈائمنڈ جوبلی انٹرنیشنل ٹورنامنٹ کے فائنل میں روایتی حریف افغانستان کو دھول چٹا کر پہلی مرتبہ عالمی ٹائٹل اپنے نام کر لیا، شائق دوست کی شاندار کک اور ہارون حامد کے جادوئی گول نے پاکستان کو عالمی چیمپئن بنا دیا

محمود احمد june 11,2026

لاہور(نیوز اینڈ نیوز) —11 جون 2026ء

پاکستان نے چوہتر سالوں میں پہلی مرتبہ کوئی بڑا بین الاقوامی فٹبال ٹورنامنٹ جیت کر کھیل کی دنیا میں ایک نیا اور سنہرا باب رقم کر دیا ہے جہاں ڈائمنڈ جوبلی بین الاقوامی فٹبال ٹورنامنٹ کے فائنل معرکے میں روایتی حریف افغانستان کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور پاکستان نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے حریف ٹیم کے خلاف دو گول داغ کر تاریخی فتح اپنے نام کر لی ہے، لاہور سے حاصل ہونے والی سنسنی خیز اور جشن سے بھرپور تفصیلات کے مطابق پاکستان ڈائمنڈ جوبلی انٹرنیشنل فٹبال ٹورنامنٹ کے فائنل میچ میں افغانستان کی مضبوط ٹیم کو دو صفر سے تاریخی شکست دے کر باقاعدہ طور پر ٹورنامنٹ کا نیا چیمپئن بن گیا ہے، اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں شائقین کی موجودگی میں کھیل کے دوران پاکستانی اسٹرائیکر شائق دوست نے ایک انتہائی خوبصورت اور شاندار اوور ہیڈ کک لگا کر گیند کو جال کی راہ دکھائی جس نے اسٹیڈیم میں موجود تماشائیوں کے لہو کو گرما دیا جبکہ میچ کے بالکل آخری لمحات میں جب اعصاب کی جنگ جاری تھی تو نامور فٹبالر ہارون حامد نے ایک اور بہترین اور فیصلہ کن گول کر کے اس یادگار رات کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ملکی تاریخ کا حصہ بنا دیا، فٹبال ماہرین کے مطابق پاکستان کی چوہتر سالہ کھیلوں کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ جب قومی فٹبال ٹیم نے کسی خودمختار انٹرنیشنل فٹبال ٹورنامنٹ کا فائنل میچ جیت کر ٹرافی اپنے نام کی ہے، اس تاریخی اور ناقابلِ یقین کامیابی کے بعد ملک بھر کے گلی کوچوں میں فٹبال کے دیوانے سڑکوں پر نکل آئے اور ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈال کر قومی ہیروز کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان نے بین تہذیبی مکالمے کو عصرِ حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کی کلید قرار دے دیا، باہمی تعاون اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری ہی مؤثر ترین ذرائع ہیں، مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا چین کے زیرِ اہتمام اعلیٰ سطحی تقریب سے خطاب

محمود احمد june 11,2026

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اختلافات سے بالاتر ہو کر باہمی افہام و تفہیم، تعاون اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کو مؤثر ترین ذرائع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ کے اس نازک مرحلے پر جب عالمی امن اور ہم آہنگی کو متعدد چیلنجز درپیش ہیں بین تہذیبی مکالمے کی اہمیت کو کسی بھی طور کم نہیں سمجھا جا سکتا، چین کے مستقل مشن کے زیرِ اہتمام اقوامِ متحدہ میں بین تہذیبی مکالمے کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ اعلیٰ سطحی تقریب سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ مکالمے کی روح ہی وہ قوت ہے جس نے انسانی تہذیب کو باہمی احترام، اعتماد کے فروغ اور مشترکہ ترقی و پیش رفت کی راہ متعین کرنے کے قابل بنایا ہے، انہوں نے عالمی برادری کو بتایا کہ پاکستان جو مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مغربی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے صدیوں سے مختلف تہذیبوں، ثقافتوں اور مذاہب کے امتزاج اور باہمی تعامل کا مرکز رہا ہے اس لیے بین المذاہب ہم آہنگی، پُرامن بقائے باہمی، تنوع، تکثیریت اور مکالمے کی اقدار نہ صرف پاکستانی تہذیب کی نمایاں خصوصیات ہیں بلکہ یہی اقدار ہماری خارجہ پالیسی کی رہنمائی بھی کرتی ہیں، مستقل مندوب نے سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کے ارکان کو یاد دلایا کہ اسی جذبے کے تحت پاکستان نے فلپائن کے ساتھ مل کر امن کے لیے بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمے، افہام و تفہیم اور تعاون کے فروغ سے متعلق ایک اہم قرارداد کا معاون پیش کنندہ بننے کا اعزاز حاصل کیا جسے حال ہی میں بیس مئی کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اتفاقِ رائے سے منظور کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والی اقوامِ متحدہ ہمیشہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ رہی ہے کہ بین الاقوامی امن اور تہذیبوں کے درمیان مکالمہ ایک دوسرے سے گہرا اور اٹوٹ تعلق رکھتے ہیں، سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے اختتامی کلمات میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک پُرعزم شراکت دار کے طور پر اقوامِ متحدہ اور تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر تہذیبوں، ثقافتوں اور مذاہب کے درمیان مکالمے کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں مستقل جاری رکھے گا تاکہ عالمی امن، ہم آہنگی اور خوشحالی کے مشترکہ مقاصد کو کامیابی سے آگے بڑھایا جا سکے، انہوں نے اس موقع پر چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، جنرل اسمبلی کے صدر اور اقوامِ متحدہ کے اتحادِ تہذیبوں کے اعلیٰ نمائندے جناب میگوئل اینخیل موراتینوس کے تعریفی پیغامات کو بھی سراہا جبکہ جمہوریہ کولمبیا کے صدر جناب گستاوو پیٹرو کے خطاب کا بھی والہانہ خیرمقدم کرتے ہوئے ان کے خیالات کو دنیا کے لیے قابلِ قدر قرار دیا۔

مشرقِ وسطیٰ کے نازک حالات پر سلامتی کونسل میں پاکستان کا بڑا بیان، سفیر عاصم افتخار احمد کا کثیرالجہتی سفارت کاری، ثالثی اور فوری جنگ بندی پر زور، غزہ میں تین برس سے جاری اسرائیلی جارحیت اور تباہی پر شدید تشویش، امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی ثالثی کوششیں تاحال جاری رکھنے کا اعلان

محمود احمد june 11,2026

اقوام متحدہ، نیویارک(نیوز اینڈ نیوز) —11جون 2026ء

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی حل کے فروغ اور ثالثی کے موضوع پر منعقدہ کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خطے کی صورتحال کو نہایت نازک اور مسلسل غیر یقینی قرار دیا ہے، انہوں نے سلامتی کونسل کے ارکان کو بتایا کہ پورے خطے میں حل طلب تنازعات طویل المدتی کشمکش کی صورت اختیار کر چکے ہیں جبکہ تشدد کے مسلسل ادوار اب معمول بنتے جا رہے ہیں کیونکہ بین الاقوامی قانون کی مسلسل خلاف ورزی، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد میں ناکامی اور حقیقی سیاسی عمل کے فقدان نے پائیدار امن، استحکام اور سلامتی کے حصول کے امکانات کو شدید نقصان پہنچایا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ایسے نازک مرحلے پر سیاسی حل کے فروغ اور پیش رفت کو یقینی بنانا اقوام متحدہ کے منشور کے تحت ہماری بنیادی ذمہ داری ہے کیونکہ عرب اسرائیل تنازع سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود قدیم ترین اور اہم ترین مسائل میں سے ایک ہے، انہوں نے زمینی صورتحال کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں تقریباً تین برس سے جاری تباہ کن جنگ اور اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں انسانی المیہ انتہائی ہولناک صورت اختیار کر چکا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ کی مربوط سفارتی کاوشوں اور پاکستان سمیت آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے گروپ کی حمایت سے غزہ امن منصوبہ اور سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر دو ہزار آٹھ سو تین وجود میں آئے تھے، تاہم جنگ بندی کے باوجود فلسطینیوں کے خلاف خلاف ورزیاں اور ہلاکتیں بدستور جاری ہیں جبکہ دوسری جانب مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے غیر قانونی پھیلاؤ اور یکطرفہ اقدامات پر مبنی ایک منظم پالیسی دو ریاستی حل کے امکانات کو مسلسل کمزور کر رہی ہے، پاکستانی سفیر نے لبنان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں جنگ بندی کے خاتمے سے متعلق فریم ورک اور سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر سترہ سو ایک کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں اور اسرائیل کی بے دریغ بمباری کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ افراد جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں جبکہ جنوبی لبنان پر غیر قانونی قبضے کا دائرہ مسلسل وسیع ہوتا جا رہا ہے، اس کے علاوہ شام اپنی نئی قیادت اور جرات مندانہ سیاسی فیصلوں کے ذریعے بتدریج استحکام کی جانب پیش رفت کی کوشش کر رہا ہے تاہم اسے اب بھی اپنے جنوبی علاقوں میں جاری قبضے جیسے چیلنجز کا سامنا ہے جبکہ یمن کی صورتحال بھی عالمی برادری کی سنجیدہ توجہ کی متقاضی ہے کیونکہ اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ایک جامع اور یمنی قیادت پر مبنی سیاسی عمل ہی وہاں پائیدار امن قائم کر سکتا ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ پاکستان مغربی ایشیا اور وسیع تر خلیجی خطے میں حالیہ پیش رفت کو انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے کیونکہ اس جنگ کے علاقائی اور عالمی امن سمیت بین الاقوامی معیشت بالخصوص توانائی اور غذائی تحفظ پر مرتب ہونے والے اثرات بالکل واضح ہیں، انہوں نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ جنگ بندی کے حصول اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے پاکستان نے ترکیہ، مصر، سعودی عرب اور دیگر شراکت داروں بالخصوص قطر اور چین کے ساتھ مل کر بھرپور سفارتی اور ثالثی کوششیں کیں اور ہماری فوری ترجیح سفارت کاری کے عمل کو جاری رکھنا، مکمل جنگ بندی کو یقینی بنانا اور آبنائے ہرمز میں معمول کی صورتحال کی بحالی ہونی چاہیے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے کے تمام برادر ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور ان مشکل حالات میں پاکستان نے خلیج تعاون کونسل کے برادر رکن ممالک کے ساتھ اپنی مسلسل اور غیر متزلزل حمایت اور مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے، انہوں نے کونسل کے سامنے پاکستان کے اصولی موقف کو پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تنازعات کی بنیادی وجوہات کا مؤثر اور منصفانہ حل تلاش نہ کیا جائے کیونکہ مسئلۂ فلسطین خطے میں دیرپا امن کے قیام کی تمام کوششوں کا مرکزی محور ہے اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی بنیاد پر ایک وقت کے تعین کے ساتھ ناقابلِ واپسی سیاسی عمل کو آگے بڑھایا جانا چاہیے جو انیس سو سڑسٹھ سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک خودمختار، آزاد اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام پر منتج ہو جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، عاصم افتخار احمد نے مزید انکشاف کیا کہ پاکستان کی امن کے لیے طویل المدتی وابستگی عملی اقدامات کی صورت میں عیاں ہے اور پاکستان غزہ امن منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوششوں میں مسلسل سرگرم عمل ہے جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور مکالمے کے فروغ کے لیے ثالثی اور سہولت کاری کی مخلصانہ کوششوں میں بھی معاونت کر رہا ہے اور یہ سفارتی کوششیں آج بھی پوری تندہی سے جاری ہیں، انہوں نے اپنے خطاب کے آخر میں کونسل پر زور دیا کہ آج مشرقِ وسطیٰ کو امن کی جتنی ضرورت ہے اتنی ہی ضرورت باقی دنیا کو بھی ہے اس لیے سفارت کاری کو محاذ آرائی پر، مکالمے کو تقسیم پر اور بین الاقوامی قانون کو وقتی مفادات پر ہر صورت ترجیح دی جائے کیونکہ یہی دیرپا امن کا واحد راستہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو فوری طور پر جوہری معاہدے پر دستخط کرنے کا مشورہ، ایرانیوں کی جانب سے امریکی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنانے اور بم برآمد ہونے کا سنسنی خیز دعویٰ، سیکیور امریکہ ایکٹ منظور جبکہ ایران کے خلاف کارروائیوں میں پاکستان کی درخواست پر وقفہ دینے کا اعتراف

محمود احمد june 10,2026

واشنگٹن(نیوز اینڈ نیوز) — 10جون 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ایک سنسنی خیز عسکری دعویٰ کیا ہے کہ ایرانیوں نے حال ہی میں ایک امریکی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنا کر مار گرایا ہے جبکہ تہران کو عقل کے ناخن لیتے ہوئے فوری طور پر نئے جوہری معاہدے پر دستخط کر دینے چاہئیں کیونکہ یہ خود اس کے اپنے مفاد میں ہے، واشنگٹن ڈی سی میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا اور موجودہ مجوزہ معاہدہ ایرانی حکومت کے لیے ایک آخری اور بہتر موقع ہے، پریس بریفنگ کے دوران ہیلی کاپٹر حملے سے متعلق اہم عسکری تفصیلات بتاتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایرانیوں نے جس امریکی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا اس کے اندر ایک انتہائی بڑا بم موجود تھا اور یہ محض خوش قسمتی تھی کہ تباہی کے بعد وہ بم دھماکے سے نہیں پھٹا ورنہ خطے میں صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین اور قابو سے باہر ہو سکتی تھی، انہوں نے واضح کیا کہ امریکی عسکری اثاثے پر ہونے والے اس حملے کے بعد ایران کے خلاف سخت ترین جوابی کارروائی کرنا ناگزیر اور ضروری سمجھا گیا تھا، اس موقع پر امریکی صدر نے ملک کے اندرونی تحفظ کے حوالے سے سیکیور امریکہ ایکٹ پر باقاعدہ دستخط کرنے کا بھی بڑا اعلان کیا اور کہا کہ اس نئے قانون کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سرحدی سیکیورٹی فورسز کو مزید جدید وسائل اور فنڈز فراہم کیے جائیں گے کیونکہ ان کی حکومت امیگریشن اور بارڈر سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنا رہی ہے اور سرحدی نگرانی سخت کر کے غیر قانونی داخلوں کی مکمل روک تھام کی گئی ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی اس اہم گفتگو کے دوران پاکستان کا خاص طور پر حوالہ دیتے ہوئے ایک اور بڑا انکشاف کیا اور دعویٰ کیا کہ بعض نازک مواقع پر پاکستان کی اعلیٰ قیادت کی خصوصی درخواست پر ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں کچھ دیر کے لیے وقفہ دیا گیا تھا جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھنے والی شدید عسکری کشیدگی کے دوران جنگ بندی کروانے اور امن قائم کرنے کی کوششوں میں بھی امریکی کردار انتہائی کلیدی رہا ہے، امریکی صدر نے آخر میں اپنے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے حوالے سے اپنے اصولی موقف پر سختی سے قائم ہے اور ایران کو کسی بڑے نقصان سے بچنے کے لیے اب مخلصانہ طور پر سفارتی حل کی طرف بڑھنا چاہیے۔

عدم پھیلاؤ سے متعلق سلامتی کونسل کے اہم اجلاس میں سفیر عاصم افتخار احمد کا بڑا بیان، مشرقِ وسطیٰ کی ابھرتی ہوئی صورتحال اور نئے تناؤ پر گہری تشویش کا اظہار، تہران اور واشنگٹن کے درمیان چار دہائیوں بعد اعلیٰ ترین سطح کے براہِ راست ”اسلام آباد مذاکرات“ کا انکشاف، پاکستان کی جانب سے دونوں فریقین کو تحمل اور ضبط کا مظاہرہ کرنے کی مخلصانہ اپیل

محمود احمد june 10,2026

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں عدم پھیلاؤ اور 1737 کمیٹی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خطے میں جاری نازک صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جو نئے سرے سے شروع ہونے والی کشیدگی اور بڑھتے ہوئے شدید تناؤ سے عبارت ہے، انہوں نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ گزشتہ چند روز کے واقعات نے واضح طور پر اس صورتحال کی سنگینی، مزید عسکری کشیدگی کے خطرات اور اس امر کی فوری ضرورت کو اجاگر کیا ہے کہ سفارتی کوششیں جلد از جلد نتیجہ خیز ثابت ہوں کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ تشدد میں اضافہ اس حقیقت کی ایک واضح یاد دہانی ہے کہ کمزور اور غیر مستحکم جنگ بندی کس قدر سنگین خطرات اور ناقابلِ برداشت نتائج کو جنم دے سکتی ہے، پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ علاقائی اور بین الاقوامی امن، سلامتی اور خوشحالی کے مفاد میں تشدد اور عدم استحکام کے اس جاری سلسلے کا خاتمہ اب ناگزیر ہو چکا ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ سفارت کاری کے تعطل اور دشمنی کے آغاز نے ایرانی جوہری معاملے پر جاری غور و خوض کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے جس کے نتیجے میں اس پیچیدہ مسئلے پر فریقین کے درمیان فاصلے مزید بڑھ گئے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے اہم تصدیقی مینڈیٹ میں بھی خلل پیدا ہوا ہے، انہوں نے تمام تصفیہ طلب مسائل بشمول ایرانی جوہری معاملے کے پُرامن حل کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا پختہ یقین ہے کہ سفارتی روابط اور مسلسل مکالمہ ہی ایسے بنیادی اصول ہونے چاہییں جن کی رہنمائی میں تمام متنازع امور کا باہمی مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کیا جائے اور یہ عمل متعلقہ فریقوں کے حقوق اور ذمہ داریوں کے مطابق آگے بڑھایا جائے، سفیر عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے سامنے یہ اہم انکشاف کیا کہ پاکستان نے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر جنگ کے خاتمے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے بڑی سفارتی کوششوں کا آغاز کیا ہے اور ہم کشیدگی میں کمی، جنگ بندی کے قیام اور خطے میں وسیع تر استحکام کے فروغ کے لیے تعمیری سفارتی روابط جاری رکھے ہوئے ہیں، انہوں نے دونوں فریقوں کی جانب سے پاکستان پر بھرپور اعتماد کے اظہار کو سراہا جنہوں نے جنگ بندی کے حصول کے لیے مذاکرات میں شرکت کی اور ”اسلام آباد مذاکرات“ کا حصہ بنے جو کہ امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ چار دہائیوں سے زائد عرصے میں اعلیٰ ترین سطح کا پہلا براہِ راست رابطہ اور تاریخی مکالمہ تھا، پاکستانی سفیر نے واضح کیا کہ واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ قیادت کی سطح پر مسلسل روابط کے ذریعے نیز خطے اور اس سے باہر موجود اپنے دیگر اہم شراکت داروں بالخصوص سعودی عرب، مصر، ترکیہ، قطر اور چین سمیت دیگر ممالک کے ساتھ مسلسل مشاورت کے ذریعے اسلام آباد نے ہمیشہ مکالمے کی حوصلہ افزائی کی ہے اور پیغامات کے تبادلے میں سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بامعنی مذاکرات کے لیے سازگار ماحول اور ضروری مواقع پیدا کرنے کی مخلصانہ کوشش کی ہے، عاصم افتخار احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ان مخلصانہ کوششوں کا واحد مقصد دشمنی کی شدت کو کم کرنا، معصوم انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنانا اور سفارت کاری کو کامیاب ہونے کا موقع فراہم کرنا ہے کیونکہ ہمارا یہ طرزِ عمل علاقائی استحکام اور بین الاقوامی امن کے لیے پاکستان کے مستقل عزم کا مظہر ہے جو اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان جغرافیائی و سیاسی چیلنجز سے نمٹنے اور پیچیدہ تنازعات کے حل کے لیے اصولی، مکالمہ پر مبنی اور تعمیری سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے، انہوں نے اپنے خطاب کے آخر میں سلامتی کونسل کے ارکان کو بتایا کہ جب ہم اپنے دوستوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس تنازع کے پُرامن اور سفارتی حل کی تلاش کے لیے خلوصِ نیت اور انتھک محنت سے کوشاں ہیں اور بالخصوص جب حتمی مقصد کے حصول کا مرحلہ قریب دکھائی دے رہا ہے تو ہم تمام فریقوں سے مخلصانہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ تحمل اور ضبط کا مظاہرہ کریں اور امن کو مزید ایک موقع دیں، لہذا آئیے ہم سب امن اور سفارت کاری کے راستے پر گامزن رہیں کیونکہ اسی راستے میں کامیابی کے روشن امکانات موجود ہیں اور یہی وہ واحد امید ہے جس سے بین الاقوامی برادری وابستہ ہے۔

سلامتی کونسل میں پاکستان کا یوکرین تنازع کے حل کے لیے سفارت کاری اور جنگ بندی پر زور، عسکری ذرائع دیرپا امن کی ضمانت نہیں دے سکتے، زاپوریژژیا جوہری بجلی گھر کے اطراف حملوں پر شدید تشویش کا اظہار، اقوام متحدہ کے منشور کی پاسداری کا مطالبہ

محمود احمد june 10,2026

اقوام متحدہ، نیویارک(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے یوکرین تنازع میں بڑھتی ہوئی ہولناک کشیدگی اور جنگی محاذ کے خطرناک پھیلاؤ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ پائیدار امن کے قیام کے لیے سفارت کاری، مکالمہ اور باہمی مذاکرات ہی واحد اور مؤثر ترین راستہ ہیں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے یوکرین سے متعلق منعقدہ ہنگامی اجلاس میں پاکستان کی جانب سے مخلصانہ خطاب کرتے ہوئے عثمان جدون نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ عسکری ذرائع اور جنگی ہتھیار کبھی بھی دنیا میں دیرپا امن کی ضمانت نہیں دے سکتے بلکہ اس مہم جوئی سے صرف اور صرف معصوم انسانی جانوں کے ضیاع اور متاثرہ شہری آبادی کے مصائب و مشکلات میں مزید خوفناک اضافہ ہوتا ہے، انہوں نے خطے میں امن و استحکام کے فوری قیام کے لیے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ فوری اور مکمل جنگ بندی پر اتفاق کریں تاکہ سفارت کاری کو مؤثر انداز میں آگے بڑھنے کا پورا موقع مل سکے، پاکستان کے نائب مستقل مندوب نے امید ظاہر کی کہ تمام متعلقہ فریق جلد از جلد امریکہ کی سہولت کاری میں جاری مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کریں گے اور انتہائی تعمیری انداز میں اس امن عمل کا حصہ بنیں گے کیونکہ پاکستان شروع سے ہی یوکرین تنازع کے پُرامن حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی غیر جانبدارانہ حمایت کرتا آیا ہے اور آئندہ بھی اسی اصولی مؤقف پر سختی سے قائم رہے گا، سفیر عثمان جدون نے کہا کہ امن کی جانب حقیقی پیش رفت کے لیے یہ بات سب سے زیادہ ضروری ہے کہ تمام فریق اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں اور مقاصد کی مکمل پاسداری کریں اور ایک ایسا عالمی سطح پر قابلِ قبول حل تلاش کریں جو تمام فریقوں کے جائز سلامتی مفادات کو مدنظر رکھتا ہو، انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ حملوں اور جوابی عسکری کارروائیوں کے تسلسل نے تنازع زدہ علاقوں میں مزید تباہی اور انسانی مشکلات کو جنم دیا ہے جبکہ بے گناہ شہری آبادی اور بنیادی ڈھانچہ اس جنگ سے سب سے زیادہ بری طرح متاثر ہو رہے ہیں، اس موقع پر پاکستان نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی حالیہ رپورٹ پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا جس میں زاپوریژژیا جوہری بجلی گھر کے اطراف ہونے والے حالیہ حملوں اور اس کی سلامتی کو لاحق سنگین ایٹمی خطرات کی واضح نشاندہی کی گئی ہے، سفیر عثمان جدون نے امید ظاہر کی کہ تمام فریقین زاپوریژژیا نیوکلیئر پاور پلانٹ کے گرد موجود جنگ بندی اور حفاظتی انتظامات سے متعلق ہونے والی مفاہمت پر مکمل اور ذمہ دارانہ عمل درآمد جاری رکھیں گے، پاکستان نے تمام فریقین پر دوبارہ زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور خصوصاً بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی عالمی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں اور ایسے تمام اقدامات سے سختی سے گریز کریں جو شہری آبادی اور اہم ترین جوہری تنصیبات کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں کیونکہ عالمی برادری بارہا انسانی قوانین کے احترام کا مطالبہ کر چکی ہے اور موجودہ صورتحال میں ان اصولوں کی پابندی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکی ہے، پاکستان نے ایک بار پھر عالمی فورم پر واضح کیا کہ یوکرین تنازع کا پائیدار حل میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ صرف مذاکرات کی میز پر ہی ممکن ہے اور عالمی امن کے لیے سفارت کاری کو ہر ممکن موقع دیا جانا چاہیے۔

روس-یوکرین تنازع پر پاکستان کا مؤقف انتہائی ذمہ دارانہ اور قابلِ تحسین ہے، روسی سفیر البرٹ پی خوریف کی اسلام آباد میں اہم پریس بریفنگ، یوکرین پر نیوکلیئر پاور پلانٹ، زچگی ہسپتال اور مسافر بس پر ہولناک حملوں کے سنگین الزامات

منصور احمد june 10,2026

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

اس وقت روس اور یوکرین کے درمیان جاری خونی جنگ اپنے خطرناک ترین اور وحشیانہ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں پاکستان میں تعینات روس کے سفیر البرٹ پی خوریف نے وفاق دارالحکومت اسلام آباد میں ایک ہنگامی پریس بریفنگ کے دوران یوکرین کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مغربی دنیا اور یوکرینی حکومت پر سنگین الزامات کی بوچھاڑ کر دی ہے جبکہ دوسری جانب انہوں نے روس اور یوکرین کے اس شدید تنازع پر پاکستان کی ریاست کے اب تک کے اسٹریٹجک اور سفارتی کردار کی کھل کر تعریف کی ہے، روسی سفیر کا کہنا تھا کہ اس جنگ کے آغاز ہی سے پاکستان کا موقف ہمیشہ انتہائی متوازن، تعمیری، حقیقت پسندانہ اور ذمہ دارانہ رہا ہے جسے ماسکو کی اعلیٰ قیادت انتہائی قابلِ تحسین اور قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے کیونکہ پاکستان نے مغربی ممالک کے شدید دباؤ کے باوجود بین الاقوامی سطح پر جس بہترین غیر جانبدارانہ اور سنجیدہ حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا ہے وہ عالمی امن کے لیے ایک بہترین مثال ہے، روسی سفیر نے پریس بریفنگ کے دوران یوکرین کی عسکری کارروائیوں کا کچا چٹھا کھولتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دنوں کے دوران یوکرینی افواج کی جانب سے سویلین آبادی پر وحشیانہ گولہ باری کی گئی جس کے تحت پُر امن شہری علاقوں کو بلا اشتعال نشانہ بنایا گیا اور دنیا کے حساس ترین نیوکلیئر پاور پلانٹ کے بالکل قریب قائم رہائشی علاقوں، بچوں کے اسکولوں اور ایک زچگی ہسپتال پر دانستہ طور پر راکٹ برسائے گئے جبکہ نیوکلیئر پاور یونٹ پر ایک خطرناک خودکش ڈرون حملہ بھی کیا گیا جس کے نتیجے میں پلانٹ کے انتہائی اہم مشین ہال کی بیرونی کنکریٹ کی دیوار میں تقریباً تیس سینٹی میٹر کا گہرا سوراخ ہو گیا تاہم خوش قسمتی سے کوئی بڑا جانی یا تابکاری کا نقصان نہیں ہوا لیکن روس نے ان واقعات کو اقوامِ متحدہ کے سامنے انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یوکرین کی یہ بزدلانہ عسکری مہم جوئی کسی بھی وقت دنیا میں ایک بہت بڑے اور ناقابلِ تلافی ایٹمی حادثے کا سبب بن سکتی ہے، روسی سفیر نے بریفنگ میں دیگر دلدوز واقعات کا ذکر کرتے ہوئے یوکرینی حکومت پر سویلین ہلاکتوں کے مزید الزامات عائد کیے اور بتایا کہ ایک علاقے میں یوکرینی ڈرون حملے کی زد میں آ کر ایک معصوم پانچ سالہ بچہ بے دردی سے ہلاک ہو گیا جبکہ ایک دوسرے مقام پر مسافروں سے بھری ایک پبلک بس کو راکٹ کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں بس میں سوار سات عام شہری موقع پر ہی جاں بحق اور گیارہ افراد شدید زخمی ہو گئے جبکہ اس سے قبل ایک تعلیمی ادارے پر ہونے والے ڈرون حملے میں گریجویشن کے آخری مرحلے کے اکیس معصوم طلبا بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں اٹھارہ نوجوان لڑکیاں شامل تھیں، روس نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ اب یہ جنگ ایک بالکل نئے اور تباہ کن فوجی مرحلے میں داخل ہو رہی ہے اور روسی افواج کی کارروائیاں اب مزید وسیع اور بے رحم ہوں گی جس کے تحت یوکرین کے تمام فوجی صنعتی کمپلیکس اور اسلحہ خانوں پر حملے شروع کر دیے گئے ہیں اور اب روس یوکرین کے دارالحکومت کے اندر قائم مرکزی کمانڈ کنٹرول اور اعلیٰ فیصلہ سازی کے صدارتی و عسکری مراکز کو براہِ راست نشانہ بنا کر تباہ کر دے گا اور ان فضائی حملوں میں روس نے اپنے جدید ترین اور ہائپر سونک میزائل سسٹمز کا بے دریغ استعمال شروع کر دیا ہے جنہیں روکنے میں یوکرینی فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا ہے، روسی سفیر نے امریکہ اور نیٹو سمیت تمام مغربی ممالک پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ عالمی برادری یوکرین کی اس بربریت اور معصوم بچوں کے قتلِ عام کو دیدہ و دانستہ نظر انداز کر رہی ہے اور الٹا یوکرین کو مزید خطرناک فوجی امداد فراہم کر کے جلتی پر تیل کا کام کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک امن مذاکرات کی تمام کوششوں کو خود اپنے ہاتھوں سے مٹی میں ملا رہے ہیں جبکہ یوکرینی اور مغربی میڈیا ہاؤسز اس اندوہناک واقعے پر غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور انہوں نے حقیقت دیکھنے کے لیے جائے وقوعہ کا دورہ کرنے سے بھی صاف انکار کر دیا ہے، روسی سفیر کا کہنا تھا کہ ماسکو نے پاکستان سمیت دنیا کے تمام دوست ممالک کو سفارتی روابط کے ذریعے ان تمام تر زمینی حقائق اور یوکرینی جارحیت سے تفصیلی طور پر آگاہ کر دیا ہے تاکہ عالمی سطح پر سچائی سامنے آ سکے۔

روس کا یوکرین پر ہولناک الزامات کے ساتھ بڑے عسکری حملوں کا اعلان، سٹاروبیلسک یونیورسٹی پر ڈرون حملے میں ۲۱ طلبا جاں بحق، کییف میں فیصلہ سازی کے مراکز کو اڑانے کی دھمکی، زرکون اور کنژال میزائلوں کا استعمال

منصور احمد june 10,2026

ماسکو(خصوصی رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

روس اور یوکرین کے درمیان جاری خونی جنگ اب اپنے خطرناک ترین اور وحشیانہ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں پاکستان میں تعینات روس کے سفیر البرٹ پی خوریف نے یوکرین کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال پر ایک ہنگامی پریس بریفنگ دیتے ہوئے سٹاروبیلسک کے علاقے میں ہونے والے حالیہ ہولناک ڈرون حملے اور اس کے بعد کی روسی عسکری جوابی کارروائیوں پر شدید ترین ردِعمل کا اظہار کیا ہے اور مغربی دنیا سمیت یوکرینی حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں، ماسکو اور بین الاقوامی میڈیا مانیٹرنگ ڈیسک سے حاصل ہونے والی سنسنی خیز تفصیلات کے مطابق روسی سفیر نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ماہ ۲۲ مئی کو سٹاروبیلسک کے پُر امن علاقے میں یوکرین کی مسلح افواج (AFU) نے ایک بزدلانہ ڈرون حملہ کر کے وہاں قائم ایک معصوم تعلیمی ادارے کو براہِ راست نشانہ بنایا، جسے انہوں نے صریحاً بین الاقوامی ”دہشت گردی“ قرار دیا ہے، روسی سفیر کی جانب سے پریس بریفنگ میں فراہم کردہ دلدوز تفصیلات کے مطابق:
یوکرینی حملے میں تدریسی یونیورسٹی کے ۲۱ زیرِ تعلیم طلبا موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔
ملبے تلے دب جانے اور دھماکے کی زد میں آنے سے ۶۰ سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے۔
جاں بحق ہونے والے مظلوم طلبا میں ۱۸ نوجوان لڑکیاں اور ۳ لڑکے شامل تھے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ تمام جاں بحق و متاثرہ طلبا کی عمریں ۲۳ سال سے کم تھیں۔
یہ تمام نوجوان طلبا مذکورہ تدریسی یونیورسٹی کے گریجویشن کے آخری مرحلے سے منسلک تھے اور اپنا مستقبل بنانے کے سفر پر تھے۔
روسی سفیر البرٹ پی خوریف نے کریملن کا دوٹوک موقف دہراتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران شہری آبادی اور تعلیمی اداروں کو وحشیانہ انداز میں نشانہ بنانا تمام بین الاقوامی قوانین اور جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے، انہوں نے یوکرین کے اس اقدام کو روس کی جانب سے طے کردہ ”ریڈ لائن عبور کرنے“ کے مترادف قرار دیتے ہوئے انتہائی خوفناک ردِعمل کا واضح عندیہ دیا ہے، روسی سفیر نے واشنگاف الفاظ میں اعلان کیا کہ اب یہ جنگ ایک بالکل نئے اور تباہ کن فوجی مرحلے میں داخل ہو رہی ہے اور روسی افواج کی کارروائیاں اب مزید وسیع اور بے رحم ہو سکتی ہیں، اسی تناظر میں روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ جنگی بیانات کے مطابق:
۱۔ یوکرین کے تمام فوجی صنعتی کمپلیکس، اسلحہ خانوں اور توانائی کے مراکز پر مرحلہ وار تباہ کن حملے شروع کر دیے گئے ہیں۔
۲۔ روس اب یوکرین کے دارالحکومت کییف کے اندر قائم مرکزی کمانڈ کنٹرول اور اعلیٰ فیصلہ سازی کے صدارتی و عسکری مراکز کو براہِ راست نشانہ بنا کر تباہ کر سکتا ہے۔
۳۔ ان فضائی حملوں میں روس نے اپنے جدید ترین اور ناقابلِ شکست ہائپر سونک میزائل سسٹمز جیسے کہ اسکندر ، کنژال ، اور زرکون سمیت دیگر جدید ترین ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال شروع کر دیا ہے۔
روسی حکومت کے دعوے کے مطابق مغربی ممالک کی جانب سے فراہم کردہ یوکرینی فضائی دفاعی نظام روس کے ان مہلک ہائپر سونک میزائلوں کے متعدد حملوں کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا ہے، روسی سفیر نے امریکہ اور نیٹو سمیت تمام مغربی ممالک پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ عالمی برادری یوکرین کی اس بربریت اور معصوم طلبا کے قتلِ عام کو دیدہ و دانستہ نظر انداز کر رہی ہے اور الٹا یوکرین کو مزید خطرناک فوجی امداد فراہم کر کے جلتی پر تیل کا کام کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک امن مذاکرات کی تمام کوششوں کو خود اپنے ہاتھوں سے مٹی میں ملا رہے ہیں جبکہ یوکرینی اور بعض مغربی میڈیا ہاؤسز اس اندوہناک واقعے پر غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں، روسی حکام کے مطابق عالمی برادری کے سامنے سچ لانے کے لیے مختلف ممالک کے صحافیوں کو خود سٹاروبیلسک کی تباہ شدہ یونیورسٹی کا دورہ کروایا گیا ہے، جس میں تقریباً ۲۰ ممالک کے ۵۱ غیر ملکی صحافی شریک تھے، تاہم بعض بڑے مغربی میڈیا ہاؤسز نے تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سچائی کو دیکھنے اور دورے میں شرکت کرنے سے صاف انکار کر دیا۔
ادارتی نوٹ: یہ ہنگامی رپورٹ خالصتاً روسی سفیر اور ماسکو کے باضابطہ بیانات، دعوؤں اور الزامات پر مبنی ہے، جبکہ آزاد بین الاقوامی ذرائع اور یوکرینی حکام کی جانب سے ان دعوؤں کی مکمل تصدیق یا موقف اس سے مختلف ہو سکتا ہے۔

وزیراعظم کے ’ڈیجیٹل پاکستان وژن‘ کے تحت بڑا انقلابی قدم، شادی رجسٹریشن کا روایتی نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل ماڈل میں تبدیل، نادرا اور ڈی سی آفس کا ریکارڈ منسلک، ایک ہی چھت تلے تمام سہولیات مفت دستیاب

منصور احمد june 10,2026

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

حکومتِ پاکستان نے ملک کو جدید ٹیکنالوجی سے ہمکنار کرنے اور عوامی سہولت کے لیے ایک اور سنگِ میل عبور کر لیا ہے، جہاں وزیراعظم کے ڈیجیٹل پاکستان وژن کے تحت شادی رجسٹریشن کے دہائیوں پرانے روایتی و پیچیدہ نظام کو مستقل طور پر ایک جدید ترین ڈیجیٹل سروس ماڈل میں تبدیل کر دیا گیا ہے، اس انقلابی اقدام کا بنیادی مقصد شہریوں کو خوار کیے بغیر انتہائی تیز رفتار، آسان اور ایک ہی جگہ پر تمام قانونی سہولیات فراہم کرنا ہے، وفاقی دارالحکومت سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (NITB) نے شادی رجسٹریشن کے عمل کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے ایک نیا اور اچھوتا ماڈل متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت اب نکاح خوانی سے لے کر باقاعدہ میرج رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کے حصول تک کی تمام تر قانونی خدمات ایک ہی مرکز پر یکجا کر دی گئی ہیں، اس سلسلے میں اسلام آباد کے معروف ”پاکستان آسان خدمت مرکز“ میں باقاعدہ طور پر ایک سٹیٹ آف دی آرٹ اور بالکل مفت ”میرج رجسٹریشن لاؤنج“ قائم کر دیا گیا ہے، جہاں شہری اب مختلف سرکاری دفاتر اور کونسلوں کے چکر کاٹے بغیر چند ہی منٹوں میں اپنی رجسٹریشن کا عمل آسانی سے مکمل کر سکیں گے۔

ایک ہی چھت تلے دستیاب ہونے والی سہولیات: نئے اور خودکار نظام کے تحت دارالحکومت کے شہریوں کو اب درج ذیل اہم ترین قانونی سہولیات ایک ہی جگہ پر فراہم کی جا رہی ہیں:

نکاح رجسٹرار (سرکاری طور پر تصدیق شدہ) کی فوری سہولت۔
نادرا کے مرکزی ڈیٹابیس سے ریکارڈ کی فوری اور خودکار اپڈیٹ۔
ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) آفس سے متعلقہ تمام ضروری قانونی کاغذی کارروائی۔
شادی کی مکمل رجسٹریشن کا پیپر لیس اور سو فیصد ڈیجیٹل پراسیس۔

وزارتِ داخلہ اور آئی ٹی حکام کے مطابق نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی اور دیگر تمام متعلقہ ضلعی اداروں کے ساتھ درخواست گزار کا ڈیٹا کمپیوٹرائزڈ لنک کے ذریعے فوری طور پر منسلک کر دیا جائے گا، جس کے بعد پرانے کاغذی فارمز، فائلوں کے کلچر، رشوت ستانی اور مہینوں کی تاخیر میں واضح طور پر بڑی کمی واقع ہوگی، اس اہم پیش رفت پر نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تاریخی اقدام پاکستان میں ڈیجیٹل گورننس کے فروغ اور عوام کو کم لاگت، باوقار اور تیز رفتار خدمات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے حکومتی عزم کا آئینہ دار ہے، حکام نے واضح کیا کہ: ۱۔ اس اسمارٹ سسٹم کے بعد اب شہریوں کو مختلف دور دراز دفاتر کے ذلت آمیز چکر لگانے سے ہمیشہ کے لیے نجات مل جائے گی۔ ۲۔ شادی کے تمام قانونی اور شرعی مراحل اب ایک ہی چھت کے نیچے ایک ہی دن میں مکمل ہوں گے۔ ۳۔ پورے نظام کو ای-گورننس کے ذریعے انتہائی شفاف اور تیز ترین بنا دیا گیا ہے تاکہ انسانی مداخلت اور غلطی کا امکان ختم ہو سکے۔

منصوبے کا اصل مقصد: آئی ٹی ماہرین اور سماجی حلقوں نے حکومت کے اس اقدام کو خوب سراہا ہے، حکام کے مطابق یہ منصوبہ بالخصوص غریب اور کم آمدن والے خاندانوں کے لیے ایک بہت بڑی اور سستی ترین سہولت ثابت ہوگا، تاکہ نکاح اور سرکاری میرج سرٹیفکیٹ کی رجسٹریشن کے عمل میں غریب عوام کو ایجنٹ مافیا سے بچا کر مکمل آسانیاں اور شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔

مری ایکسپریس وے پر قیامت خیز منظر، سیاحوں کی تیز رفتار وین دیوار سے ٹکرا کر خوفناک آگ کی لپیٹ میں آ گئی، ۱۰ مسافر زندہ جھلس کر جاں بحق، متعدد زخمی، ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ

کاشف عباسی ,june 10,2026

مری(خصوصی رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

ملکہ کوہسار مری کی خوبصورت وادی کو غمی میں ڈوبو دینے والا ایک انتہائی ہولناک اور دلخراش ٹریفک حادثہ پیش آیا ہے، جہاں مری ایکسپریس وے پر پی ٹی ڈی سی ٹورسٹ اسپاٹ کے قریب سیاحوں کی مسافر وین میں خوفناک آگ لگنے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے بدقسمت افراد کی تعداد دس (10) تک پہنچ گئی ہے جبکہ متعدد دیگر مسافر شدید طور پر زخمی اور جھلس گئے ہیں، مری اور ریسکیو ذرائع سے حاصل ہونے والی سنسنی خیز اور افسوسناک تفصیلات کے مطابق یہ قیامت خیز حادثہ اس وقت پیش آیا جب خوبصورت موسم کا لطف اٹھانے کے لیے آنے والے سیاحوں سے بھری ایک ہائی ایس وین انتہائی تیز رفتاری کے باعث موڑ کاٹتے ہوئے بے قابو ہو گئی اور سڑک کی حفاظتی دیوار سے زوردار طریقے سے جا ٹکرائی، عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس شدید ترین ٹکر کے نتیجے میں گاڑی کا فیول ٹینک دھماکے سے پھٹ گیا اور پیٹرول لیک ہونے کے باعث پوری وین نے چند ہی سیکنڈز کے اندر ایک ہولناک آگ کے گولے کی شکل اختیار کر لی، ذرائع کے مطابق آگ اس قدر اچانک، تیز اور خوفناک تھی کہ وین کے اندر پھنسے ہوئے معصوم مسافروں کو باہر نکلنے کا معمولی سا موقع بھی نہ مل سکا اور وہ گاڑی کے اندر ہی زندہ جھلس گئے، جس کے باعث جانی نقصان میں انتہائی دردناک اضافہ ہوا، مری ایکسپریس وے پر لگی اس ہولناک آگ کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں ہنگامی بنیادوں پر سائرن بجاتی ہوئی فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، جن میں ریسکیو 1122 ، موٹروے پولیس کے چاک و چوبند دستے اور فائر بریگیڈ کی متعدد گاڑیاں شامل تھیں، فائر فائٹرز نے سخت جدوجہد کے بعد مسافر وین میں لگی بے قابو آگ پر قابو پایا اور ریسکیو اہلکاروں نے جلی ہوئی گاڑی کا ملبہ کاٹ کر لاشوں اور تڑپتے ہوئے زخمیوں کو نکال کر فوری طور پر قریبی سرکاری اسپتالوں میں منتقل کیا، جہاں زخمیوں کی نازک حالت کے پیشِ نظر ڈاکٹروں کی چھٹیاں منسوخ کر کے ہسپتال میں ہنگامی حالت (ایمرجنسی) نافذ کر دی گئی ہے، دوسری جانب نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس (NHMP) کے اعلیٰ حکام کے مطابق اگرچہ بظاہر حادثہ فیول ٹینک پھٹنے سے ہوا ہے، تاہم ابتدائی طور پر آگ لگنے کی دیگر ممکنہ وجوہات میں گاڑی کے انجن میں شارٹ سرکٹ یا مسافر گاڑیوں میں مروجہ قانون کے خلاف رکھے جانے والے غیر قانونی گیس سلنڈر کی موجودگی کو بھی خاص طور پر مدنظر رکھا جا رہا ہے، موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ حادثے کی سو فیصد اصل وجہ جاننے کے لیے ہائی لیول کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، واضح رہے کہ اس المناک اور بڑے حادثے کے باعث مری ایکسپریس وے پر گاڑیوں کی آمد و رفت اور ٹریفک کی روانی شدید طور پر متاثر ہوئی ہے جبکہ سیاحوں اور مقامی گاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں لگ گئی ہیں جنہیں موٹروے پولیس متبادل راستوں پر منتقل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

مظفرآباد کے قریب پاک فوج کا ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، پرواز کے دوران اچانک تکنیکی خرابی حادثے کا سبب بنی، آئی ایس پی آر کی جانب سے جانی نقصان کی تصدیق، پاک فوج کا اعلیٰ سطح کا انکوائری بورڈ تشکیل

کاشف عباسی ,june 10,2026

مظفرآباد(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے فضائی علاقے میں پاک فوج کا ایک بڑا ملٹری ہیلی کاپٹر افسوسناک حادثے کا شکار ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں جانی نقصان کی انتہائی دردناک اطلاعات سامنے آئی ہیں، پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اور ہنگامی اعلامیے کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے نواحی علاقے کے قریب پاک فوج کا ایک ایم آئی-17 (Mi-17) ملٹری ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوا، آئی ایس پی آر کے مطابق ابتدائی موصول ہونے والی اطلاعات سے پتہ چلا ہے کہ یہ ہیلی کاپٹر اپنی معمول کی پرواز پر تھا کہ اچانک فضا میں ہی اس کے اندر شدید ترین تکنیکی خرابی پیدا ہو گئی، جس پر پائلٹس نے قابو پانے کی بھرپور کوشش کی تاہم ہیلی کاپٹر زمین دوز ہو گیا، مظفرآباد اور عسکری ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق اس ہولناک واقعے کے فوراً بعد پاک فوج کی خصوصی ریسکیو ٹیموں، آرمی ایوی ایشن کے ماہرین اور مقامی امدادی اداروں نے بغیر کوئی وقت گنوائے جائے وقوعہ پر پہنچ کر بڑے پیمانے پر امدادی آپریشن کا آغاز کر دیا ہے اور متاثرہ ملبے سے اہلکاروں کو نکالنے کا عمل تیزی سے جاری ہے، آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ ملٹری ہیلی کاپٹر کے اس دلخراش حادثے کی اصل اور حتمی وجوہات کا درست تعین کرنے کے لیے جی ایچ کیو کی ہدایت پر فوری طور پر ایک اعلیٰ سطحی انکوائری بورڈ تشکیل دے دیا گیا ہے، جو حادثے کے تمام تزویراتی و تکنیکی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے کر اور تفصیلی تحقیقات مکمل کر کے اپنی حتمی رپورٹ جلد ہی عسکری قیادت کو پیش کرے گا، دوسری جانب پاک فوج کی اعلیٰ قیادت نے ہیلی کاپٹر حادثے پر گہرے دکھ، صدمے اور شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وطنِ عزیز کے لیے فرائض انجام دینے والے متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے، عسکری حکام کے مطابق جائے وقوعہ پر ابھی بھی امدادی کارروائیاں اور تحقیقات کا ابتدائی عمل پوری تندہی سے جاری ہے۔

راولپنڈی کی تحصیل گوجرخان میں تیزاب گردی کی ہولناک واردات، طلاق کی کارروائی کے دوران طیش میں آ کر بیوی نے شوہر پر تیزاب پھینک دیا، جھلس جانے والا شخص تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل، سفاک خاتون موقع سے گرفتار

منصور احمد june 10,2026

گوجرخان(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

ضلع راولپنڈی کی تحصیل گوجرخان میں تیزاب گردی کا ایک انتہائی افسوسناک اور ہولناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں مبینہ طور پر طلاق اور علیحدگی کے معاملے پر ایک خاتون نے غصے اور طیش میں آ کر اپنے ہی شوہر پر تیزاب پھینک دیا، جس کے نتیجے میں وہ بری طرح جھلس کر شدید زخمی ہو گیا، راولپنڈی پولیس اور گوجرخان کے مقامی ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق متاثرہ شخص، جس کی شناخت کامران حسین کے نام سے ہوئی ہے، اپنی اہلیہ کے ساتھ گھریلو ناچاقی کے باعث علیحدگی اور طلاق کی باقاعدہ قانونی کارروائی کے سلسلے میں مقامی یونین کونسل کے دفتر آیا ہوا تھا، عینی شاہدین اور ابتدائی معلومات کے مطابق یونین کونسل کے اندر طلاق کی دفتری کارروائی مکمل ہونے کے بعد جیسے ہی کامران حسین دفتر کی عمارت سے باہر نکلا، تو وہاں پہلے سے گھات لگائے بیٹھی اس کی بدبخت اہلیہ نے مبینہ طور پر اچانک اس پر تیزاب سے حملہ کر دیا، اس اچانک حملے کے نتیجے میں تیزاب پڑنے سے کامران حسین کا جسم بری طرح جھلس گیا اور وہ درد سے چیلاتا ہوا زمین پر گر کر شدید زخمی ہو گیا، آس پاس موجود لوگوں نے خونخوار خاتون کو قابو کیا اور متاثرہ شخص کو فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹر (ٹی ایچ کیو) ہسپتال گوجرخان منتقل کیا، جہاں ڈاکٹرز کے مطابق اس کی حالت تشویشناک ہے اور اسے طبی امداد دی جا رہی ہے، دوسری جانب واقعے کی اطلاع ملتے ہی گوجرخان پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور موقع کا فائدہ اٹھا کر فرار ہونے کی کوشش کرنے والی سنگدل خاتون کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا، پولیس نے واقعے کا باقاعدہ ہنگامی مقدمہ درج کر کے ملزمہ کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، گوجرخان پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ اس گھناؤنے واقعے کے تمام پہلوؤں اور پسِ پردہ محرکات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق ملزمہ کو سخت سے سخت سزا دلوانے کے لیے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے۔

جھنگ میں فرسٹ ایئر کی طالبہ سے اجتماعی زیادتی کے کیس میں سنسنی خیز موڑ، واردات کے بعد ملزمان کے سابق ایم پی اے کے ڈیرے پر پناہ لینے کا انکشاف، سی سی ٹی وی فوٹیج منظرِ عام پر آنے اور عوامی دباؤ کے بعد ملزمان پولیس کے حوالے، سہولت کاروں کے خلاف بھی گھیرا تنگ

منصور احمد june 10,2026

جھنگ(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

پنجاب کے شہر جھنگ میں فرسٹ ایئر کی معصوم طالبہ ایشال فاطمہ کے اغواء اور اس کے ساتھ ہونے والی بدترین اجتماعی زیادتی کے ہولناک مقدمے میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، جہاں پولیس کی جاری تحقیقات کے دوران یہ افسوسناک پیش رفت ہوئی ہے کہ واردات انجام دینے کے بعد سفاک ملزمان نے قانون کی گرفت اور فوری گرفتاری سے بچنے کے لیے علاقے کے ایک بااثر سابق رکنِ صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) کے پاس باقاعدہ پناہ حاصل کر رکھی تھی، جھنگ پولیس اور باوثوق تفتیشی ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق پولیس کی جے آئی ٹی اور سائنسی بنیادوں پر ہونے والی تحقیقات سمیت ہسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے باریک بینی سے جائزے سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ملزمان متاثرہ طالبہ ایشال فاطمہ کو درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد انتہائی تشویشناک اور نیم مردہ حالت میں خاموشی سے ہسپتال لے کر آئے اور وہاں بدنامی اور پکڑے جانے کے خوف سے لڑکی کو تڑپتا ہوا چھوڑ کر موقع سے فرار ہو گئے، بعد ازاں پولیس کی چھاپہ مار کارروائیوں سے بچنے کے لیے ان سنگدل ملزمان نے مبینہ طور پر جھنگ کی ایک بااثر اور نامور سیاسی شخصیت (سابق ایم پی اے) کی چھتری تلے پناہ لی، ذرائع کا کہنا ہے کہ جب یہ ہولناک معاملہ حد سے زیادہ سنگین نوعیت اختیار کر گیا اور ہسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ملک بھر میں شدید عوامی ردِعمل اور غصے کی لہر دوڑی، تو چاروں طرف سے بڑھتے ہوئے شدید دباؤ کے باعث مذکورہ سابق ایم پی اے نے بدنامی کے ڈر سے مبینہ طور پر ملزمان کو خود پولیس کے حوالے کر دیا، تاہم اس سنسنی خیز انکشاف کے بعد جھنگ کے شہری، مختلف سماجی تنظیموں اور عوامی حلقوں کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے اور مقتدر حلقوں پر یہ سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ صریحاً جرم ثابت ہونے کے باوجود ان درندوں کو فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کرنے کے بجائے اپنے پاس پناہ کیوں دی گئی؟ دوسری جانب جھنگ پولیس کے اعلیٰ حکام کا اس حساس معاملے پر کہنا ہے کہ کیس کی سنگینی کے پیشِ نظر تمام زاویوں اور پہلوؤں سے میرٹ پر تفتیش جاری ہے اور اگر اس گھناؤنے جرم میں مذکورہ سابق ایم پی اے یا کسی بھی دوسری بااثر شخصیت کے براہِ راست یا بالواسطہ ملزمان کے سہولت کار ہونے کے ناقابلِ تردید شواہد سامنے آئے، تو قانون کی بالادستی قائم رکھتے ہوئے ان کے خلاف بھی سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، پولیس حکام کے مطابق تفتیش کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا گیا ہے اور اس بھیانک واردات کے پورے نیٹ ورک سمیت تمام ممکنہ پسِ پردہ سہولت کاروں کے مکروہ کردار کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ مظلوم طالبہ ایشال فاطمہ کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔

قومی ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ سرفراز احمد پر پی سی بی کا بھرپور اعتماد، ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے اہم دوروں کے لیے کلین چٹ مل گئی، ٹیسٹ کپتان شان مسعود کی قیادت کے مستقبل پر فیصلہ تاحال پینڈنگ، سلمان علی آغا مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آ گئے

کاشف عباسی ,june 10,2026

لاہور(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

پاکستان ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کی قیادت اور کوچنگ سیٹ اپ کے حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے اندر اہم فیصلے تاحال زیرِ غور ہیں، تاہم کرکٹ بورڈ کے باوثوق ذرائع کے مطابق ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ سرفراز احمد کو فی الحال ان کی کوچنگ کی ذمہ داریوں کے حوالے سے بورڈ کی جانب سے گرین سگنل اور کلین چٹ مل گئی ہے، لاہور اور پی سی بی ذرائع سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کے خلاف ہوم سیریز میں حالیہ بدترین ناکامیوں کے بعد قومی کرکٹ ٹیم کے کوچنگ سیٹ اپ میں بڑی اکھاڑ پچھاڑ اور تبدیلیوں کی افواہیں گرم تھیں، تاہم تمام تر قیاس آرائیوں کو دم توڑتے ہوئے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرفراز احمد بدستور پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کی حیثیت سے برقرار رہیں گے اور وہ آئندہ ہونے والے دورۂ ویسٹ انڈیز اور دورۂ انگلینڈ کے اہم ترین معرکوں میں بھی ٹیم کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے نظر آئیں گے، دوسری جانب ٹیسٹ کپتان شان مسعود کے مستقبل اور ان کی کپتانی کے حوالے سے تاحال شدید غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، ذرائع کے مطابق شان مسعود اپنی بہترین بیٹنگ فارم کی وجہ سے دونوں دوروں کے لیے بطور کھلاڑی ٹیم میں شامل ہونے کے انتہائی مضبوط امیدوار ہیں، تاہم ان کی کپتانی برقرار رکھنے یا اس منصب میں تبدیلی کرنے کے بارے میں حتمی فیصلہ بورڈ کی جانب سے تاحال التوا کا شکار ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر اب تک سولہ (۱۶) ٹیسٹ میچز میں قومی ٹیم کی قیادت کرنے والے شان مسعود کی کپتانی کے حوالے سے پی سی بی کی اعلیٰ قیادت کے حتمی گرین سگنل کا انتظار کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب پاکستان کی ٹی ٹونٹی ٹیم کے موجودہ کپتان سلمان علی آغا کو ٹیسٹ فارمیٹ کی کپتانی دلوانے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کے بعض انتہائی اہم اور بااثر حلقوں کی بھرپور تائید و حمایت حاصل ہو چکی ہے جس کے باعث کپتانی کے لیے ان کا نام مضبوطی سے ابھرا ہے، تاہم شان مسعود کے حق میں جو ایک سب سے اہم اور کلیدی نکتہ جا رہا ہے وہ ان کا انگلش کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے کا وسیع تر تجربہ ہے، جہاں وہ یارکشائر اور ڈربی شائر جیسی نامور کاؤنٹی ٹیموں کی باقاعدہ کامیاب قیادت بھی کر چکے ہیں، کرکٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ دورۂ انگلینڈ کے دوران شان مسعود کا یہ کاؤنٹی کا تجربہ اور وہاں کی کنڈیشنز سے واقفیت قومی ٹیم کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے، واضح رہے کہ شان مسعود پاکستان کی سات مختلف ٹیسٹ سیریز میں قومی ٹیم کی کپتانی کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں اور اس مختصر ترین عرصے کے دوران وہ مسلسل تبدیلیوں کے باعث پانچ مختلف کوچز کے ساتھ کام کرنے کا انوکھا تجربہ بھی رکھتے ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ پی سی بی انگلینڈ کے اہم ترین دورے سے قبل ٹیسٹ فارمیٹ کی باگ ڈور کس کے حوالے کرتا ہے۔

حب میں پاکستان کی پہلی جدید گرین فیلڈ ریفائنری کا قیام، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے سپیک ریفائنری کے وفد کی اہم ملاقات، ایف بی آر امور اور ریگولیٹری منظوریوں کو جلد مکمل کرنے کی درخواست، ۲ ہزار ملازمتیں پیدا ہوں گی

منصور احمد june 10,2026

اسلام آباد(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

پاکستان کو توانائی کے شعبے میں خود کفیل بنانے اور صنعتی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے کے لیے بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں ملک کی پہلی ڈیپ کنورژن گرین فیلڈ ریفائنری لگانے کے منصوبے پر پیش رفت تیز ہو گئی ہے، وفاقی دارالحکومت سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے سپیک ریفائنری پرائیویٹ لمیٹڈ کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے خصوصی ملاقات کی، جس کی قیادت کمپنی کے مخلص اور سینیئر چیئرمین ظفر شیخ کر رہے تھے، اس اہم بیٹھک میں حب، بلوچستان میں پاکستان کی اس پہلی ڈیپ کنورژن گرین فیلڈ ریفائنری کے میگا منصوبے کے خدوخال اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات کے دوران وفد نے وفاقی وزیر تجارت کو منصوبے کی اب تک کی پیش رفت سے تفصیلی طور پر آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ مجوزہ ریفائنری دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہوگی، جو ہر قسم کے خام تیل (Crude Oil) کو کامیابی سے پراسیس کر کے ملکی ضرورت کے مطابق اعلیٰ ترین معیار کی پیٹرولیم مصنوعات تیار کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، کمپنی کے چیئرمین ظفر شیخ اور وفد نے وفاقی حکومت سے مخلصانہ درخواست کی کہ گرین فیلڈ ریفائنری پالیسی کے تحت منصوبے کے لیے درکار تمام ریگولیٹری منظوریوں، بالخصوص فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے متعلقہ ٹیکس و کسٹمز کے دیرینہ امور کو جلد از جلد مکمل اور کلیئر کیا جائے تاکہ اس بڑے منصوبے کی بروقت تکمیل کو ہر صورت ممکن بنایا جا سکے، وفد کے مطابق اس گرین فیلڈ ریفائنری کے قیام سے حب اور اس کے گردونواح کے پسماندہ علاقوں میں رہنے والے مقامی نوجوانوں کے لیے تقریباً دو ہزار (2,000) سے زائد براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے شاندار مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ یہ منصوبہ مقامی صنعت کی ترقی، نوجوانوں کی مہارتوں میں اضافے، جدید ٹیکنالوجی کی پاکستان منتقلی اور علاقائی سطح پر معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرے گا، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے اس بڑی سرمایہ کاری کا کھلے دل سے خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی بہترین اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت، آبادی کے لحاظ سے بڑی مقامی مارکیٹ اور علاقائی تجارتی راہداریوں (سی پیک وغیرہ) کی بدولت توانائی اور صنعتی شعبوں میں سرمایہ کاری کے بے شمار اور پرکشش مواقع فراہم کرتا ہے، انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ حب ریفائنری جیسے بڑے اور جدید منصوبے پاکستان کے پائیدار توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے، مہنگے درآمدی ایندھن پر ملکی انحصار کو کم کرنے، صنعتی انقلاب کو فروغ دینے اور مستقبل میں مزید ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے، سپیک ریفائنری کے وفد نے وفاقی وزیر کو مستقبل میں پیٹروکیمیکل صنعتوں کے باقاعدہ قیام اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی مقامی سطح پر تیاری سے متعلق اپنے وسیع وژن اور ماسٹر پلان سے بھی آگاہ کیا، جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے پاکستان کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو نئی جلا ملے گی اور ملکی برآمدات میں اربوں ڈالر کے اضافے کی نئی راہیں کھلیں گی۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست اتار چڑھاؤ، ابتدائی بدترین مندی کے بعد تیز ترین بحالی، ہنڈرڈ انڈیکس سرخ زون سے نکل کر مثبت زون میں داخل، سرمایہ کاروں کی اربوں روپے کی نئی خریداری

کاشف عباسی ,june 10,2026

اسلام آباد(نیوز اینڈ نیوز) — 10 جون 2026ء

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروباری ہفتے کے تیسرے روز یعنی بدھ کو ٹریڈنگ کے دوران زبردست اتھل پتھل اور سنسنی خیز اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جہاں مارکیٹ ابتدائی اوقات میں شدید منفی رجحان اور مندی کا شکار ہوئی، تاہم بعد ازاں سرمایہ کاروں کی جانب سے مارکیٹ میں کیے جانے والے بھرپور اعتماد اور بڑے پیمانے پر خریداری کے باعث مارکیٹ نے ایک بار پھر نمایاں اور تیز ترین بحالی دکھائی، جس کی بدولت ہنڈرڈ انڈیکس دوبارہ مثبت زون میں داخل ہو گیا، اسلام آباد اور کراچی کے مالیاتی ذرائع سے حاصل ہونے والی کاروباری تفصیلات کے مطابق آج صبح کاروبار کے آغاز پر کے ایس ای-100 انڈیکس میں شدید مندی دیکھی گئی اور انڈیکس ۵۰ سے زائد پوائنٹس کی فوری کمی کے ساتھ ۱ لاکھ ۷۰ ہزار ۲ سو اسی (170,280) پوائنٹس کی نچلی سطح تک گر گیا تھا، جس سے سرمایہ کاروں میں کچھ دیر کے لیے تشویش کی لہر دوڑ گئی، تاہم ٹریڈنگ کے باقاعدہ آغاز اور دن گزرنے کے ساتھ ہی مارکیٹ کے مختلف منافع بخش شعبوں میں نئی سرمایہ کاری بڑھنے سے صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی اور مارکیٹ میں تیز ترین خریداری کا ایک بڑا رجحان پیدا ہوا، جس کے بعد کے ایس ای-100 انڈیکس نے اپنی پرانی پوزیشن کو ناصرف بحال کیا بلکہ ۳۰۰ سے زائد پوائنٹس کے شاندار اضافے کے ساتھ ۱ لاکھ ۷۰ ہزار ۷ سو انتیس (170,729) پوائنٹس کی بلند سطح تک پہنچ گیا، جو مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے بحال ہوتے ہوئے مضبوط اعتماد اور مثبت تزویراتی رجحان کی واضح عکاسی کرتا ہے، مارکیٹ کے معاشی ماہرین اور اسٹاک تجزیہ کاروں کے مطابق سرمایہ کاروں کی جانب سے ملک کے بڑے تجارتی بینکنگ، توانائی، آئل اینڈ گیس اور صنعتی شعبوں کے سستے شیئرز میں اچانک بڑی خریداری کی گئی، جس کے باعث ہنڈرڈ انڈیکس نے مندی کے جھٹکے سے نکل کر انتہائی تیزی سے بحالی دکھائی اور اس کے نتیجے میں مارکیٹ کی مجموعی کاروباری فضا دن کے اختتام تک مکمل طور پر مثبت اور منافع بخش رہی، واضح رہے کہ گزشتہ کاروباری روز کے اختتام پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا کے ایس ای-100 انڈیکس ۱ لاکھ ۷۰ ہزار ۳ سو تیس (170,330) پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا، جس کے مقابلے میں آج کی یہ بحالی ملکی معیشت اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک خوش آئند لہر ثابت ہوئی ہے۔