عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جیل سہولیات کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ کا اڈیالہ جیل انتظامیہ کو قیدِ تنہائی ختم کرنے کا بڑا حکم

کاشف عباسی , September 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

اسلام آباد ہائیکورٹ کے محترم جسٹس خادم حسین سومرو نے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جیل سہولیات اور بنیادی حقوق سے متعلق دائر درخواستوں پر اہم اور تفصیلی فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت عالیہ نے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو واضح حکم جاری کیا ہے کہ دونوں شخصیات کو کسی بھی صورت قیدِ تنہائی میں نہ رکھا جائے اور آئین و قانون کے مطابق تمام قانونی و بنیادی حقوق اور انسانی سہولیات بلا تاخیر فراہم کی جائیں۔

عدالتی فیصلے کے مطابق اڈیالہ جیل انتظامیہ کو باقاعدہ ہدایت کی گئی ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپس میں باقاعدہ ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ ان کے اپنے اپنے اہل خانہ، وکلاء اور عزیز و اقارب سے جیل قوانین کے مطابق تمام ملاقاتیں یقینی بنائی جائیں۔ اس کے علاوہ مطالعے کے لیے کتابیں، روزنامچے اور ٹیلی ویژن کی سہولت فوری طور پر بحال کرنے کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ عدالت نے یہ حکم بھی دیا کہ عمران خان کو جیل احاطے میں روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ ایسی کھلی جگہ پر واک اور قدم زنی کی اجازت دی جائے جہاں معمول کا انسانی میل جول ممکن ہو، جبکہ ان سے ملنے والے تمام افراد کا باقاعدہ اندراج اور ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔

عمران خان کے لیگل کونسل خالد یوسف چوہدری نے عدالتی فیصلے کی تفصیلات ذرائع ابلاغ کو بتاتے ہوئے تصدیق کی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے تحت سابق وزیراعظم کو بیرونِ ملک مقیم اپنے بیٹوں سے آڈیو، ویڈیو اور واٹس ایپ کالز کے ذریعے مسلسل رابطے میں رہنے کی اجازت مل گئی ہے۔ تاہم، عدالت عالیہ نے فیصلے میں ایک اہم مشروط شق بھی شامل کی ہے کہ اگر ان ٹیلی فونک یا ویڈیو کالز کو ریکارڈ کر کے بعد میں کسی بھی قسم کے سیاسی مقاصد یا مہم جوئی کے لیے استعمال کیا گیا تو جیل حکام کے پاس یہ سہولت واپس لینے کا قانونی اختیار ہو گا۔

ہائیکورٹ نے اپنے جامع فیصلے میں اس قانونی نقطے کو بھی نمایاں کیا ہے کہ اگر جیل انتظامیہ عمران خان یا بشریٰ بی بی کو قانون یا عدالت کے تحت حاصل کسی بھی ریلیف یا سہولت سے محروم کرتی ہے، تو انتظامیہ کو اس محرومی کی باقاعدہ تحریری وجوہات اور قانونی جواز فراہم کرنا ہوں گے۔ عدالت عالیہ نے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو پابند کیا ہے کہ وہ آئندہ 15 روز کے اندر ان تمام عدالتی احکامات پر عملدرآمد کی پیش رفت رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔

پبلک سروس گاڑیوں میں اوور لوڈنگ، زائد کرائے اور خطرناک ڈرائیونگ پر کیو آر کوڈ کے ذریعے فوری رپورٹنگ کی سہولت متعارف

منصور احمد, August 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس نے شاہراہوں پر محفوظ سفر کو یقینی بنانے اور عوامی تعاون کے فروغ کے لیے ایک جدید اور اہم مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس مہم کا بنیادی مقصد شہریوں کو موٹرویز اور قومی شاہراہوں پر ٹریفک قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے میں ایک مؤثر اور ذمہ دار شراکت دار بنانا ہے۔

اس مہم کے تحت دورانِ سفر عام شہری کسی بھی قسم کی ٹریفک خلاف ورزی، بالخصوص پبلک سروس گاڑیوں (بَسوں اور ویگنوں) میں گنجائش سے زائد مسافر یا سامان بھرنے (اوور لوڈنگ)، مسافروں سے مقررہ نرخوں سے زائد کرایہ وصول کرنے، تیز رفتاری اور خطرناک یا غیر محتاط ڈرائیونگ کی فوری اطلاع موٹروے پولیس کو دے سکیں گے۔

نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے حکام کے مطابق شہریوں کے لیے شکایت درج کروانے کے عمل کو انتہائی آسان اور فوری بنایا گیا ہے۔ شاہراہوں پر سفر کرنے والے مسافر اور شہری پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں پر چسپاں موٹروے پولیس کے خصوصی اسٹیکرز پر درج ‘کیو آر کوڈ’ کو اپنے موبائل فون سے اسکین کر کے فوری طور پر متعلقہ پورٹل تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور ثبوت کے ساتھ اپنی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔

موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ شہریوں کی بروقت اور ذمہ دارانہ اطلاع ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کی فوری روک تھام، موٹرویز پر ہونے والے خوفناک حادثات میں کمی اور قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ ترجمان موٹروے پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ایک بہتر ٹریفک نظام اور شاہراہوں پر قانون کی عملداری کے لیے مہم کا فعال حصہ بنیں اور سفر کے دوران نظر آنے والی کسی بھی خلاف ورزی کو نظر انداز کرنے کے بجائے فوری رپورٹ کریں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ: نجی ہسپتال میں علاج کے لیے دائر اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی درخواستیں مسترد

منصور احمد, August 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نجی ہسپتال میں علاج معالجے کی سہولت حاصل کرنے اور جیل سے بیرونِ ملک ٹیلی فونک رابطوں کی اجازت کے لیے دائر کی گئی اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی درخواستوں کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے نامور جج جسٹس محمد آصف نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد محفوظ کیا گیا اہم فیصلہ جاری کیا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق قیدیوں کو قانون اور جیل مینول کے مطابق ہی طبی و دیگر سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں، جس کے تحت نجی ہسپتال منتقل کرنے کا کوئی قانونی جواز فراہم نہیں کیا گیا۔

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ان تینوں قیدیوں نے اپنے وکلاء کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں آئینی درخواستیں دائر کی تھیں، جن میں استدعا کی گئی تھی کہ انہیں علاج معالجے کے لیے جیل سے باہر کسی نجی ہسپتال منتقل کیا جائے اور بیرونِ ملک مقیم اپنے اہلخانہ یا متعلقہ افراد سے ٹیلی فون پر بات چیت کرنے کی خصوصی سہولت فراہم کی جائے۔ تاہم، عدالتِ عالیہ نے ان تمام استدعاؤں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے درخواستوں کو باقاعدہ ڈسمس (مسترد) کر دیا۔

پاکستان اور ایتھوپیا کے بڑھتے ہوئے تعلقات: اسلام آباد میں پہلے ’ایتھوپیئن کافی کیفے‘ کا باقاعدہ افتتاح

منصور احمد, August 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

پاکستان اور ایتھوپیا کے مابین تجارتی، ثقافتی اور عوامی روابط کے فروغ میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے گزشتہ روز اسلام آباد میں ملک کے پہلے اختصاصی ’ایتھوپیئن کافی کیفے‘ کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ دونوں برادر ممالک کے بڑھتے ہوئے دوطرفہ سفارتی تعلقات کے تناظر میں اسے ثقافتی پل کی تعمیر کی جانب ایک غیر معمولی اور اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

افتتاحی تقریب کے بعد روایتی ایتھوپیئن کافی کی مخصوص اور خوبصورت رسم بھی منعقد کی گئی، جس میں پاکستان میں مقیم ایتھوپیئن کمیونٹی، سفارتخانے کے اعلیٰ عملے، ممتاز شخصیات اور میڈیا کے نمائندگان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے کہا کہ اس کیفے کا افتتاح پاکستان میں ایتھوپیئن کافی اور اس کی عظیم تاریخ کے باقاعدہ تعارف کی علامت ہے، جبکہ جڑواں شہروں (اسلام آباد و راولپنڈی) کی سطح پر یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور منفرد ایتھوپیئن کافی ہاؤس ہے۔ انہوں نے اجاگر کیا کہ ایتھوپیا کو انسانیت کی جائے پیدائش اور دنیا کی بہترین ‘عربیکا کافی’ کا اصل وطن ہونے کے باعث بجا طور پر “لینڈ آف اوریجنز” کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

ایتھوپیئن سفیر نے مزید بتایا کہ اس کیفے کا قیام اور اس کی ملکیت ایک ایتھوپیئن-پاکستانی جوڑے کے پاس ہونا اس اقدام کو عوامی سطح پر مزید دوآتشہ اور اہم بناتا ہے، جو دونوں ممالک کے عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت اور برادری کی روشن عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کیفے کا باضابطہ نام “حبیشہ” رکھا گیا ہے، جو کہ ایتھوپیا کا قدیم اور تاریخی نام ہے۔ یہ نام پاکستانی عوام کے لیے بھی خاص روحانی و تاریخی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ مسلمان حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ اور حبشہ کے منصف مزاج بادشاہ نجاشی سے گہری اور تاریخی عقیدت رکھتے ہیں، جنہوں نے ہجرتِ حبشہ کے کٹھن وقت میں ابتدائی مسلمانوں کو اپنے ملک میں پناہ فراہم کی تھی۔ سفیر نے دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ثقافتی تبادلوں میں اضافے پر زور دیا۔

کیفے کے مالکان میں شامل نعیم ہاشمی نے تقریب کے موقع پر میڈیا کو بتایا کہ “حبیشہ کیفے” کے قیام کا بنیادی مقصد پاکستان اور ایتھوپیا کو ایک دوسرے کے مزید قریب لانے کے لیے ایک ایسا فعال پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں دونوں ممالک کے لوگ ایک دوسرے کے آرٹ، ثقافت، روایتی موسیقی، رسم و رواج اور سیاحتی مقاصد سے آگاہی حاصل کر سکیں اور ان کا آزادانہ تبادلہ کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کیفے محض بہترین کافی پیش کرنے کا مرکز نہیں، بلکہ پاکستان اور ایتھوپیا کے درمیان مضبوط ثقافتی اور عوامی روابط کے فروغ کا ایک اہم زریعہ ثابت ہو گا۔

وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک کی قدرتی آفات اور گلوبل وارمنگ کے خطرات پر اہم گفتگو: پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے مربوط پالیسیوں اور بین الاقوامی معاونت پر زور

کاشف عباسی , August 29,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے پاکستان کو لاحق موسمیاتی تبدیلی، شدید موسموں اور قدرتی آفات کے درپیش خطرات کے حوالے سے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اس وقت پاکستان کی پائیدار بقا، زراعت اور قومی معیشت کے لیے ایک سب سے بڑا اور سنگین چیلنج بن چکی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو بار بار آنے والے تباہ کن سیلابوں، گلیشیئرز پگھلنے کے واقعات، اور خشکسالی جیسے خطرات سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر ایک جامع، مربوط اور طویل المدتی حکمتِ عملی نافذ کرنا ہوگی۔

ہفتے کے روز دارالحکومت اسلام آباد میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے اپنے صدارتی خطاب کے دوران وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے پاکستان کی جغرافیائی نازکی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ گرین ہاؤس گیسوں کے عالمی اخراج میں پاکستان کا حصہ انتہائی معمولی اور 1 فیصد سے بھی کم ہے، تاہم اس کے باوجود پاکستان عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں نمایا ں اور پیش پیش ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس سنگین اور تباہ کن چیلنج سے نمٹنے کے لیے نہ صرف پاکستان کے اندر تمام متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کو قریبی اور باہم مربوط طریقے سے کام کرنا ہوگا، بلکہ اس مقصد کے لیے عالمی تعاون، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مالی وسائل کی ہنگامی فراہمی بھی بے حد ضروری ہے۔

وفاقی وزیر نے دنیا کے ترقی یافتہ اور باوسائل ممالک پر اپنے اخلاقی و عالمی فرائض کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے ہولناک اثرات کو کم کرنے اور ان سے بچاؤ کے لیے اجتماعی اور عالمی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جن عالمی طاقتوں اور خطوں کے پاس اس قدرتی بحران سے نمٹنے کی مالی صلاحیت، جدید انفراسٹرکچر اور وسائل موجود ہیں، انہیں عالمی ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے پاکستان جیسے متاثرہ ممالک کا ساتھ دینا چاہیے اور اس حوالے سے اپنا عملی کردار بلاتاخیر ادا کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان عالمی سفارتی محاذ پر “موسمیاتی انصاف” کے حصول کے لیے اپنا مقدمہ انتہائی بھرپور، مضبوط اور دلائل کے ساتھ پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسماتی آفات کے نتیجے میں کھربوں روپے کے معاشی اور جانی نقصانات اٹھانے والے دنیا کے ترقی پذیر ممالک کو عالمی برادری، اقوام متحدہ اور عالمی مالیاتی اداروں کی بھرپور اور بلا مشروط مالی و تکنیکی معاونت درکار ہے تاکہ وہ قدرتی آفات کی شدت اور تباہ کاریوں سے اپنے بنیادی انفراسٹرکچر کا پائیدار تحفظ کر سکیں۔

اپنے خطاب کے دوران ڈاکٹر مصدق ملک نے ملک کے اندر ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی موافقت کو یقینی بنانے کے لیے ہمہ گیر مربوط پالیسیوں کی فوری تشکیل پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کے بعد ہونے والے تباہ کن نقصانات میں کمی لانے کے لیے مقامی دیہی و شہری آبادیوں کی استعداد کار کو بڑھانا ہوگا، جبکہ آفت آنے سے قبل ہی پیشگی اطلاع کے جدید نظام اور باقاعدہ پیشگی تیاری و منصوبہ بندی کو قومی ترجیحات میں شامل کرنا اور یقینی بنانا ناگزیر ہے تاکہ معصوم انسانی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔

وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے اپنے بیان کا اختتام اس عزم اور پیغام کے ساتھ کیا کہ موسمیاتی تبدیلی محض کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک مشترکہ اور انتہائی ہنگامی عالمی چیلنج ہے۔ اس خطرے پر قابو پانے کے لیے جہاں پاکستان کی سطح پر اندرونی طور پر ہنگامی بنیادوں پر اداروں کی اصلاحات اور شجرکاری جیسے اقدامات ضروری ہیں، وہی عالمی سطح پر بین الاقوامی تعاون، مالی وسائل کا تبادلہ اور اقوامِ عالم کی مشترکہ و مخلصانہ کوششوں کو فروغ دینا وقت کی سب سے بڑی اور اہم ضرورت ہے۔

شاہراہوں پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا نفاذ: ایکسل لوڈ کی خلاف ورزی پر فیکٹریوں کو جرمانے اور قوانین میں ایک ہفتے میں ترمیم کا حکم

منصور احمد, August 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان نے ملک بھر میں ایکسل لوڈ کنٹرول رجیم کے مستقل اور پائیدار حل کے لیے حائل تمام قانونی اور آپریشنل رکاوٹیں دور کرنے کی غرض سے این ایچ اے (نیشنل ہائی وے اتھارٹی) کے قانونی فریم ورک میں ایک ہفتے کے اندر ضروری ترامیم لانے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ اسلام آباد میں ایکسل لوڈ کنٹرول رجیم سے متعلق ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ قومی شاہراہوں اور موٹرویز کو زیادہ وزن لادنے کی وجہ سے ہونے والی تباہی سے بچانے کے لیے فیکٹریوں پر بھاری جرمانوں کا نفاذ کیا جائے گا، جبکہ جدید ترین کیمروں اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے مکمل خودکار (آٹومیٹڈ) نظام نافذ کیا جائے گا۔ اس اجلاس میں وفاقی سیکرٹری مواصلات، چیئرمین این ایچ اے، آئی جی موٹروے پولیس، ڈی جی این ایل سی اور ڈی جی ایف ڈبلیو او سمیت تمام متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور روڈ انفراسٹرکچر کی تحفظ سے متعلق بریفنگ پیش کی۔

وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے واضح کیا کہ ٹرکوں پر حد سے زیادہ سامان اور وزن لادنے کا سبب بننے والی صنعتی فیکٹریوں کی باقاعدہ نشاندہی کر کے اب ان پر بھی سخت قانونی کارروائی اور جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ انہوں نے ٹرانسپورٹرز کو گاڑیوں کے باڈی سٹرکچر پر واضح رہنمائی فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ٹرکوں اور مال بردار گاڑیوں پر ایسے غیر ضروری و بھاری آرائشی سامان کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی جائے جو گاڑی کا بنیادی وزن بڑھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ملک بھر کے تمام وے سٹیشنز کو 100 فیصد خودکار بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ تمام مال بردار گاڑیوں کا ان کاٹا پوائنٹس سے گزرنا لازمی ہوگا تاکہ گاڑیوں کی قطاروں اور ٹرانسپورٹرز کے وقت کے ضیاع کو روکا جا سکے، جبکہ موٹرویز کی طرز پر جی ٹی روڈز پر بھی نئے جدید وے سٹیشنز قائم کیے جائیں گے۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر نے کراچی پورٹ پر این ایچ اے، این ایل سی اور ایف ڈبلیو او کو مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے اور خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کی آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور کیمروں کے ذریعے ٹریکنگ کا نظام بنانے کا حکم دیا۔ بریفنگ میں حکام نے انکشاف کیا کہ اسلام آباد کے قریب سنگجانی کے مقام پر بین الاقوامی معیار کا جدید ماڈل وے اسٹیشن جلد مکمل کر لیا جائے گا، جبکہ گزشتہ 6 ماہ میں ایکسل لوڈ کی 30 ہزار سے زائد سنگین خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں جن کے باعث قومی سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو اربوں روپے کا شدید نقصان پہنچا۔ عبدالعلیم خان نے ہدایت کی کہ ہر منصوبہ آئندہ 20 سال کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر بنایا جائے اور اعلان کیا کہ وہ ایکسل لوڈ رجیم کے عملی نفاذ کا خود معائنہ کرنے کے لیے موٹرویز کے 10 مختلف پوائنٹس کا سرپرائز ہنگامی دورہ کریں گے۔

نیپال سیلاب پر پاکستان دفترِ خارجہ کا اظہارِ افسوس: صدر، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم کی جانب سے تعزیتی پیغامات

NEPAL-WEATHER-LANDSLIDE-FLOOD

منصور احمد, August 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 اگست 2026ء

پاکستان کے دفتر خارجہ نے نیپال اور تبت کے سرحدی علاقوں میں آنے والے حالیہ ہولناک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہونے والے قیمتی جانوں کے ضیاع، بڑے پیمانے پر ہلاکتوں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی پر شدید رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران نیپالی عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیپال میں بدھ کے روز آنے والے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے جنم لینے والی انسانی صورتحال، ہلاکتوں اور مالی نقصان پر پاکستان کی حکومت اور عوام کو گہرا دکھ پہنچا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے صدر، وزیرِ اعظم اور نائب وزیرِ اعظم نے اپنے علیحدہ تعزیتی پیغامات کے ذریعے نیپالی حکومت، لواحقین اور متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس کٹھن اور مشکل وقت میں پوری پاکستانی قوم نیپال میں موجود اپنے بھائیوں اور بہنوں کے غم اور مشکلات میں برابر کی شریک ہے۔ پاکستان کی جانب سے اس قدرتی آفت کے تناظر میں نیپال کے ساتھ ہر ممکن تعزیت اور یکجہتی کے عزم کو دہرایا گیا ہے اور ریسکیو و ریلیف کی کوششوں کی کامرانی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا ہے۔

سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کوئٹہ سے ٹرین سروس مسلسل دوسرے روز بھی معطل، مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا

منصور احمد, August 26,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے ملک کے دیگر صوبوں کو جانے والی ٹرین سروس سیکیورٹی کے پیشِ نظر بدھ کے روز مسلسل دوسرے دن بھی مکمل طور پر معطل رہی۔ کوئٹہ میں پاکستان ریلوے کے ایک نمائندے اور ذمہ دار اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سیکیورٹی خدشات اور امن و امان کی صورتِ حال کو مدِنظر رکھتے ہوئے ریلوے انتظامیہ نے منگل کے روز سے ٹرین آپریشنز کو دو دنوں کے لیے معطل کرنے کا ہنگامی فیصلہ کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق نواب اکبر خان بگٹی کی برسی کے موقع پر کوئٹہ شہر سمیت صوبہ بلوچستان کے مختلف اور حساس اضلاع میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔ واضح رہے کہ رواں ماہ کے دوران بھی سیکیورٹی خدشات اور خطرات کی وجہ سے کوئٹہ کی اہم ترین اور مقبول جعفر ایکسپریس کی سروس کو دو سے تین مرتبہ عارضی طور پر معطل کیا جا چکا ہے۔ جعفر ایکسپریس کوئٹہ سے پشاور تک روزانہ کی بنیاد پر چلنے والی واحد اور مرکزی ٹرین ہے جو سندھ اور پنجاب کے درجنوں بڑے اور چھوٹے شہروں سے گزرتی ہوئی پشاور پہنچتی ہے، جس کے باعث یہ غریب، کم آمدنی والے طبقے، مزدوروں اور عام شہریوں کے لیے سستے اور آسان سفر کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔ اچانک اور مسلسل ٹرین سروس کی معطلی کے باعث کوئٹہ ریلوے اسٹیشن اور ارد گرد کے علاقوں میں مسافروں اور ان کے اہل خانہ کو شدید پریشانی، خواری اور سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پمز ہسپتال میں آتشزدگی سانحہ: انتظامی غفلت، فائر سیفٹی اور ٹریننگ کے فقدان پر سنسنی خیز انکشافات

منصور احمد, August 26,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے چلڈرن وارڈ میں پیش آنے والے انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والے آتشزدگی کے واقعے کے بعد انتظامی غفلت، فائر سیفٹی اور ہنگامی حفاظتی انتظامات کے حوالے سے سنسنی خیز اور سنگین انکشافات منظرِ عام پر آ گئے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت کے سینئر صحافتی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق پمز ہسپتال میں گزشتہ کئی سالوں سے کسی قسم کی ایمرجنسی فائر ڈرل یا موک ایکسرسائز کی مشق ہی نہیں کروائی گئی تھی، جس کے باعث ہسپتال کا طبی و انتظامی عملہ ہنگامی صورتحال میں اپنی اور زیرِ علاج مریضوں کی جان بچانے کی بنیادی عملی تربیت سے مکمل طور پر محروم تھا۔ بین الاقوامی قوانین اور طبی ضوابط کے مطابق کسی بھی ہسپتال میں عملے کے لیے ہر چھ ماہ بعد فائر سیفٹی اور ایمرجنسی رسپانس کی باقاعدہ ٹریننگ کروانا لازمی اور فلو چارٹ کا حصہ ہوتا ہے، جس میں آگ لگنے کی صورت میں فوری ردِعمل، مریضوں کو بحفاظت نکالنے (ایویکویشن) اور آگ پر قابو پانے کی عملی مشقیں شامل ہوتی ہیں، تاہم پمز میں ان قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی کی جا رہی تھی۔

صحافتی ذرائع کا مزید سنسنی خیز انکشاف یہ بھی ہے کہ آتشزدگی کے وقت وارڈ میں موجود آکسیجن سلنڈرز اور آکسیجن پائپ لائنز بھی آگ کی شدت میں تیزی سے اضافے کا بنیادی باعث بنے، جنہوں نے نرسری کے پورے ماحول کو منٹوں میں جہنم کا منظر بنا دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ دل دہلا دینے والی حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ حادثے کے وقت ہسپتال کے ایمرجنسی ایگزٹ (نہایت ضروری راستے) اور ہنگامی نُکاس کے دروازے بند رکھے گئے تھے، جس کی وجہ سے مریضوں، والدین اور عملے کو نکلنے میں شدید مشکلات پیش آئیں۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جب نرسری میں آگ بھڑکی تو ہسپتال کا خودکار الارم سسٹم بھی بروقت فعال اور سائرن بجانے میں ناکام رہا، جس نے انتظامی غفلت کی حد کر دی ہے۔ اسلام آباد کے سب سے بڑے ہسپتال میں ہر وقت سینکڑوں کی تعداد میں شدید بیمار مریض زیرِ علاج رہتے ہیں، لیکن ہنگامی انخلا کے لیے کسی مربوط اور مؤثر سیفٹی پلان کا نہ ہونا مریضوں اور ان کے لواحقین کے لیے سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ اس سانحے کے بعد ماہرین نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ تمام سرکاری ہسپتالوں کے فائر سیفٹی سسٹمز، ایمرجنسی راستوں اور عملے کی ٹریننگ کا بلا تاخیر ازسرِنو تفصیلی جائزہ لیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے کسی ہولناک سانحے کو دوہرانے سے روکا جا سکے۔

پمز ہسپتال سانحہ: متاثرہ والدین کے سنگین الزامات، عملہ غائب تھا، 9 بچوں کی میتیں حوالے کر دی گئیں

منصور احمد, August 26,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں پیش آنے والے دل دہلا دینے والے آتشزدگی کے سانحے کے بعد متاثرہ والدین نے ہسپتال انتظامیہ اور طبی عملے پر مجرمانہ غفلت اور عدم موجودگی کے شدید اور سنگین الزامات عائد کر دیے ہیں۔ میڈیا اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آتشزدگی سے متاثرہ ایک خاتون نے رقت انگیز انداز میں بتایا کہ جس وقت نرسری اور وارڈ میں آگ لگی اور دھواں پھیلا، اس وقت ہسپتال کا عملہ بالکل غائب تھا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ واقعے کے وقت صرف وہ اور چند دیگر بچوں کے والدین ہی وہاں موجود تھے جبکہ موقع پر نہ تو کوئی گائنی ڈاکٹر موجود تھی اور نہ ہی نرسنگ سٹاف کا کوئی اہلکار بچوں کی مدد کے لیے وہاں موجود تھا، جس کی وجہ سے نومولود بچوں کو بروقت باہر نکالنا ممکن نہ ہو سکا۔

دوسری جانب ہسپتال انتظامیہ کے تازہ ترین بیان کے مطابق، جاں بحق ہونے والے 14 بچوں میں سے نو نومولود بچوں کی لاشیں ابتدائی کارروائی کے بعد ان کے لواحقین اور غمزدہ خاندانوں کے حوالے کر دی گئی ہیں، جبکہ باقی بچوں کی شناخت کو یقینی بنانے کے لیے لاشوں اور والدین کا ڈی این اے (DNA) ٹیسٹ کروایا جا رہا ہے۔ ہسپتال کے باوثوق ذرائع نے واقعے کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ نرسری میں اتنی بڑی تعداد میں بچوں کی اموات کی بنیادی وجہ محض آگ سے جھلسنا نہیں بلکہ شارٹ سرکٹ کے بعد ایئر کنڈیشنر اور آکسیجن پائپ لائن کے باعث وارڈ میں تیزی سے زہریلا دھواں بھر جانا تھا، جس سے نوزائیدہ بچوں کا دم گھٹ گیا اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ انتظامیہ کے مطابق واقعے کی تحقیقاتی کمیٹی والدین کے الزامات کو بھی انکوائری کا حصہ بنا رہی ہے اور غفلت برتنے والے عملے کا تعین کر کے ان کے خلاف قانونی اور محکماتی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں خوفناک آتشزدگی: 14 نومولود بچے جاں بحق، وزیراعظم کا تحقیقات کا حکم

محمود احمد, August 26,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے چلڈرن وارڈ میں اچانک آتشزدگی کا انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جس کے نتیجے میں وارڈ میں داخل 14 نومولود بچے مکمل طور پر جھلس کر جاں بحق ہو گئے۔ پمز ہسپتال کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر عمران سکندر نے نومولود بچوں کی ہلاکت کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے۔ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق آگ پمز ہسپتال کی مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی تیسری منزل پر واقع نرسری میں شام چھ بج کر 45 منٹ پر لگی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے وارڈ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ بھڑکنے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 اور فائر برگیڈ کی چھ گاڑیوں اور چار ایمبولینسوں نے موقع پر پہنچ کر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور آگ پر قابو پانے کے بعد دیگر بچوں کو آئی سی یو میں منتقل کیا۔

ہسپتال انتظامیہ کے ابتدائی بیان میں ترجمان ڈاکٹر انیزہ جلیل کا کہنا تھا کہ آگ نرسری کے ایئر کنڈیشنر یونٹ میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگی اور وارڈ میں موجود آکسیجن کی پائپ لائنز کے باعث منٹوں میں تیز رفتاری سے بھڑک اٹھی۔ حادثے کے وقت نرسری اور وارڈ میں مجموعی طور پر 15 بچے زیرِ علاج تھے۔ واقعے کی خبر ملتے ہی چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد پولیس نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو سیل کر دیا گیا۔ دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے اس دردناک حادثے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے حکام کو فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ وزیراعظم آفس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نومولود بچوں کا یوں ہلاک ہونا ایک ناقابلِ تلافی اور انتہائی المناک صدمہ ہے، اس لیے واقعے کے تمام محرکات اور مجرمانہ غفلت کا جائزہ لے کر ذمہ داران کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے۔

ضلعی انتظامیہ نے واقعے کی شفاف انکوائری کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو حادثے کی وجوہات اور سیکیورٹی تدابیر کا جائزہ لے گی۔ دوسری جانب جائے وقوعہ پر شدید غم و غصے کی لہر پھیلی ہوئی ہے اور جاں بحق بچوں کے غمزدہ والدین اور متاثرہ خاندان ہسپتال کے باہر احتجاج کرتے ہوئے اپنے بچوں کی میتیں حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ نرسری میں آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ تمام 14 بچے مکمل طور پر جھلس چکے ہیں جس کی وجہ سے ان کی شناخت فی الحال ممکن نہیں ہے۔ پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ ہلاک ہونے والے بچوں اور ان کے والدین کے ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج آنے کے بعد ہی قانونی کارروائی مکمل کر کے لاشیں ورثاء کے حوالے کی جائیں گی تا کہ شناخت میں کوئی غلطی نہ ہو۔

اقلیتوں کے حقوق اور کرسچن پرسنل لاء پر پیش رفت جاری رہے گی: وفاقی وزیر سینیٹر اعظم نذیر تارڑ

منصور احمد, August 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے متعلقہ برادریوں کے نمائندگان کے ساتھ مشاورت سے تمام قانونی و پالیسی امور پر عملدرآمد جاری رکھے گی۔

نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن برائے اقلیتی حقوق کے وفد سے ملاقات کے دوران کرسچن میرج اینڈ ڈیوورس بل، کرسچن پرسنل لاء، تعلیمی و روزگار کے مساوی مواقع، اور اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے خاتمے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد نے مسیحی خواتین کے شادی و طلاق سے متعلق حقوق کے تحفظ کے لیے موثر قانونی فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا جس پر وفاقی وزیر نے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے وفد کو ‘نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز رائٹس’ کے قیام سے متعلق جاری قانون سازی اور پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ حکومت کی ترجیح ہے اور اس سلسلے میں تمام نمائندگان کی تجاویز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔

عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر سپیکر اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کے پیغامات: اتحاد، رواداری اور اسوۂ حسنہ کی پیروی پر زور

منصور احمد, August 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے عید میلاد النبی ﷺ کے مبارک موقع پر امتِ مسلمہ بالخصوص پاکستانی قوم کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادت باسعادت پوری انسانیت کے لیے باعثِ رحمت ہے اور آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ تمام انسانوں کے لیے محبت، عدل، برداشت اور حسنِ اخلاق کا کامل نمونہ ہے۔

اپنے پیغام میں سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ یہ دن محض عقیدت کا اظہار نہیں بلکہ خود احتسابی، اصلاحِ نفس اور سیرتِ نبوی ﷺ کی سچی اتباع کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ نے انسانوں کو رنگ، نسل اور مذہب کے امتیاز کے بغیر عدل اور احترام کا عالمی درس دیا۔ انہوں نے علماء، مشائخ اور نجی و سرکاری اداروں پر زور دیا کہ وہ بین المسالک ہم آہنگی کو فروغ دیں اور نوجوانوں کو اسوۂ حسنہ سے روشناس کروائیں۔ اس کے علاوہ، انہوں نے خواتین اور بچوں کے حقوق اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سیرتِ نبوی ﷺ کے اصولوں کو اپنانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔

ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے اپنے مبارکبادی پیغام میں کہا کہ نبی کریم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ رشد و ہدایت کا دائمی سرچشمہ ہے۔ انہوں نے فرقہ واریت اور باہمی تعصبات کو ختم کر کے ملک میں اتحاد، برداشت اور یکجہتی کے فروغ پر زور دیا۔ دونوں راہنماؤں نے اللہ تعالیٰ سے ملک اور امتِ مسلمہ میں امن، خوشحالی اور استحکام کے لیے خاص دعائیں بھی کیں۔

گھریلو چوری کی واردات میں ملوث ملزم گرفتار: بنی گالا پولیس نے 6 لاکھ روپے سے زائد کا مالِ مسروقہ برآمد کر لیا

منصور احمد, August 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

اسلام آباد کے تھانہ بنی گالا پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گھریلو چوری کی واردات میں ملوث ملزم کو گرفتار کر کے اس کے قبضے سے 6 لاکھ روپے سے زائد مالیت کا چوری شدہ سامان برآمد کر لیا ہے۔

ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق، ملزم ایک گھر میں غیر قانونی طور پر داخل ہو کر لیپ ٹاپ، طلائی زیورات، قیمتی گھڑیاں اور دیگر اشیاء چوری کر کے فرار ہو گیا تھا۔ بنی گالا پولیس ٹیم نے سائنسی و تفتیشی بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو ٹریس کر کے گرفتار کیا۔ گرفتار ملزم کی شناخت ‘حبیب’ کے نام سے ہوئی ہے۔

ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد، قاضی علی رضا نے بتایا کہ گرفتار ملزم سے برآمد کیے گئے مالِ مسروقہ میں 6 لاکھ روپے سے زائد کی قیمتی گھڑیاں، لیپ ٹاپ اور طلائی زیورات شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد پولیس شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح بناتے ہوئے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلا امتیاز بڑے پیمانے پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

حنا جاوید قتل کیس: قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا ایوان کو یقین دہانی

منصور احمد, August 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

وفاقی وزیرِ قانون و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے راولپنڈی میں حنا جاوید کے وحشیانہ قتل کے واقعے پر قومی اسمبلی میں اہم پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملزمان کو سخت ترین سزا دلا کر کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا اور حکومت اس کیس کی قانونی پیروی خود کرے گی۔

قومی اسمبلی میں تفصیلی بیان دیتے ہوئے وزیرِ قانون نے بتایا کہ مقتولہ حنا جاوید قومی اسمبلی میں فرائض انجام دیتی رہی ہیں، اس لیے اس دلخراش واقعے پر فوری ایکشن لیتے ہوئے پنجاب حکومت، ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) اور سی پی او راولپنڈی سے فوری رابطہ قائم کیا گیا۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دو بنیادی ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جو فی الوقت تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے مزید بتایا کہ پنجاب کے پراسیکیوٹر جنرل کو خصوصی ہدایت جاری کر دی گئی ہے، جنہوں نے کیس کی شفاف اور مضبوط تفتیش کے لیے ایک مخصوص پراسیکیوشن ٹیم تشکیل دی ہے جو معاملے کی خود نگرانی کر رہی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ اور ویمن کاکس کو وزارتِ قانون و انسانی حقوق کی جانب سے تمام تر مطلوبہ قانونی و انتظامی معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ مظلوم خاندان کو بلا تاخیر انصاف کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔

انصاف کی تیز تر فراہمی کے لیے بنچ اور بار میں مسلسل تعاون ضروری ہے: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

منصور احمد, August 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عوام کو مؤثر اور تیز تر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بنچ اور بار کے درمیان مسلسل تعاون، یکجہتی اور تعمیری روابط ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء اور بار ایسوسی ایشنز ملک کے نظامِ انصاف کا اہم ترین سٹیک ہولڈر ہیں۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنز ملتان، خانیوال، بہاولپور، اور سرگودھا کے علاوہ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشنز بنوں اور بہاولپور کے نمائندہ وفود نے سپریم کورٹ اسلام آباد میں ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران بار وفود نے عدالتی انفراسٹرکچر، بار رومز، ڈیجیٹل رابطے، صاف پینے کے پانی کی عدم دستیابی، ای فائلنگ اور وکلاء کی پیشہ ورانہ تربیت جیسے درپیش اہم مسائل اور چیلنجز سے چیف جسٹس کو تفصیل سے آگاہ کیا۔

چیف جسٹس نے جاری عدالتی اصلاحات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ اور قومی جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی انصاف تک رسائی آسان بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہیں۔ انہوں نے ‘ایکسیس ٹو جسٹس ڈویلپمنٹ فنڈ’ کے ذریعے عدالتوں کی سولرائزیشن، بلاتعطل بجلی، خواتین کے لیے خصوصی سہولتی مراکز، ای لائبریریوں کے قیام اور دور دراز علاقوں کے جوڈیشل کمپلیکسز کو جدید سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ چیف جسٹس نے بار نمائندگان کو ان کے مطالبات کے جلد اور مربوط ازالے کی کامل یقین دہانی کروائی۔

راولپنڈی میں حنا جاوید کے وحشیانہ قتل کا معاملہ قومی اسمبلی پہنچ گیا: سپیکر نے کیس قائمہ کمیٹی اور ویمن کاکس کے سپرد کر دیا

منصور احمد, August 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

راولپنڈی میں انتہائی بے دردی سے قتل کی جانے والی خاتون حنا جاوید کے وحشیانہ قتل کے معاملے پر قومی اسمبلی میں شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اس دلخراش واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کیس کو فوری طور پر قائمہ کمیٹی برائے داخلہ اور ویمن پارلیمانی کاکس کے حوالے کر دیا ہے، جبکہ ایوان میں مرحولہ کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سپیکر سردار ایاز صادق نے بتایا کہ اگرچہ یہ صوبائی دائرہ اختیار کا معاملہ ہے، لیکن حنا جاوید نے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی جانب سے دسمبر 2019ء سے جون 2026ء تک قومی اسمبلی میں اٹیچمنٹ پر اپنے فرائض سرانجام دیے تھے اور پروگرام کے اختتام پر واپس گئی تھیں۔ انہوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس وحشیانہ انداز میں یہ قتل اور تشدد کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، وہ پورے معاشرے اور ایوان کے لیے باعثِ پریشانی ہیں۔

سپیکر نے ویمن پارلیمانی کاکس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ویمن کاکس اور قائمہ کمیٹی برائے داخلہ باہمی کوآرڈینیشن کو بہتر بنا کر اس کیس پر پیش رفت کریں، اور واضح کیا کہ قومی اسمبلی اس معاملے میں ہر ممکن مدد اور معاونت فراہم کرے گی۔ بعد ازاں سپیکر کی ہدایت پر رکن قومی اسمبلی سائرہ افضل تارڑ نے ایوان میں مقتولہ حنا جاوید کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کروائی۔

تربیلا ڈیم مکمل بھر گیا: واپڈا نے ملک بھر کے دریاؤں، ڈیموں اور بیراجوں میں پانی کی آمد و اخراج کے اعداد و شمار جاری کر دیے

منصور احمد, August 23,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اگست 2026ء

واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے ملک کے مختلف دریاؤں، آبی ذخائر اور بیراجوں میں پانی کی آمد و اخراج کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں، جن کے مطابق تربیلا ڈیم اپنی انتہائی گنجائش 1550 فٹ تک مکمل طور پر بھر چکا ہے۔

واپڈا کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 2 لاکھ 68 ہزار 900 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 59 ہزار 900 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر آمد اور اخراج 36 ہزار 500 کیوسک جبکہ خیرآباد پل پر آمد و اخراج 2 لاکھ 93 ہزار 200 کیوسک رہا۔ علاوہ ازیں، دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 29 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 7 ہزار کیوسک جبکہ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر آمد 39 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 25 ہزار 200 کیوسک درج کیا گیا۔

بیراجوں کی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے تو جناح بیراج میں آمد 4 لاکھ 6 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 3 لاکھ 98 ہزار 400 کیوسک رہا۔ چشمہ بیراج میں آمد 3 لاکھ 71 ہزار 200 اور اخراج 3 لاکھ 60 ہزار 600 کیوسک، تونسہ بیراج میں آمد 3 لاکھ 69 ہزار 300 اور اخراج 3 لاکھ 48 ہزار 400 کیوسک، گدو بیراج میں آمد 3 لاکھ ایک ہزار 300 اور اخراج 2 لاکھ 66 ہزار 600 کیوسک، سکھر بیراج میں آمد 2 لاکھ 63 ہزار 700 اور اخراج 2 لاکھ 9 ہزار 800 کیوسک جبکہ کوٹری بیراج پر آمد 1 لاکھ 34 ہزار 400 کیوسک اور اخراج 91 ہزار 300 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ تریموں بیراج میں آمد 77 ہزار 200 اور اخراج 66 ہزار 100 کیوسک جبکہ پنجند بیراج پر آمد 31 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 16 ہزار 500 کیوسک رہا۔

آبی ذخائر (ڈیموں) کی تازہ صورت حال کے مطابق تربیلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ ہے اور اس میں پانی کی موجودہ سطح اپنی آخری حد 1550 فٹ تک پہنچ چکی ہے، جہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 5.580 ملین ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا۔ منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1216.35 فٹ درج کی گئی (جبکہ اس کی انتہائی سطح 1242 فٹ ہے) اور یہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 5.328 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ اسی طرح چشمہ بیراج پر پانی کی موجودہ سطح 647.00 فٹ ریکارڈ کی گئی (جبکہ اس کی انتہائی سطح 649 فٹ ہے) اور یہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.212 ملین ایکڑ فٹ ہے۔

سی ڈی اے کا بڑا اقدام: دارالحکومت میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے 23 کمرشل بلڈنگ پلانز کی منظوری، بائی لاز میں آسانیاں لانے کی تیاری

منصور احمد, August 23,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اگست 2026ء

کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی ڈیزائن ویٹنگ کمیٹی کے گزشتہ چار اجلاسوں میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے سلسلے میں کمرشل بلڈنگ پلانز کے مجموعی طور پر 23 کیسز کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی ہے۔ سی ڈی اے حکام کے مطابق، وزیراعظم، وزیرِ داخلہ اور چیئرمین سی ڈی اے کی خصوصی ہدایات پر کاروبار اور تعمیراتی عمل میں حائل رکاوٹوں کو ختم کیا جا رہا ہے تاکہ وفاقی دارالحکومت میں تجارتی و معاشی مواقع میں اضافہ ممکن ہو سکے۔

سی ڈی اے کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی بیان کے مطابق، 4 جون، 16 جون، 30 جولائی اور 20 اگست 2026ء کو منعقد ہونے والے ڈیزائن ویٹنگ کمیٹی کے گزشتہ چاروں اجلاسوں میں مجموعی طور پر 40 کمرشل بلڈنگ پلانز کے مختلف کیسز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ان 40 کیسز میں سے 8 کیسز ضروری دستاویزات اور تکنیکی تقاضے پورے نہ ہونے کے باعث متعلقہ آرکیٹیکٹس اور سپانسرز نے اجلاس سے قبل ازخود واپس لے لیے تھے۔ بعد ازاں کمیٹی کے سامنے پیش کیے گئے 32 کیسز میں سے تمام ریگولیٹری تقاضے پورے کرنے والے 23 کیسز کی منظوری دی گئی، جبکہ بنیادی پارکنگ، ڈیزائننگ اور دیگر ضروری پیرامیٹرز کی کمی کے سبب باقی کیسز کو وقت طور پر ملتوی کر دیا گیا، جنہیں ضروری اصلاحات کے بعد دوبارہ پیش کیا جائے گا۔

تعمیراتی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سی ڈی اے نے آرکیٹیکٹس، کنسلٹنٹس اور عمارتوں کے مالکان کے لیے نئی اور سخت ذمہ داریاں بھی عائد کر دی ہیں۔ اب ڈی وی سی کی حتمی منظوری کے خط پر مالک اور آرکیٹیکٹ کا نام درج ہونے کے ساتھ ساتھ زیرِ تعمیر سائٹس پر بھی تمام ذمہ داران کے نام بورڈز پر آویزاں کرنا لازمی ہوگا۔ منظور شدہ ڈیزائن میں کسی بھی قسم کی غیر قانونی تبدیلی یا بائی لاز کی خلاف ورزی کی صورت میں مالکان اور کنسلٹنٹس دونوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ موجودہ بائی لاز میں موجود پیچیدگیوں کو ختم کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی افسران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے تاکہ پارکنگ اور کمرشل قوانین کا جائزہ لے کر مزید آسانیاں پیدا کی جا سکیں۔ شہری اور سرمایہ کار اپنے کیسز کا جائزہ آن لائن پورٹل کے ذریعے بھی لے سکتے ہیں۔

عمران خان کی شفاء ہسپتال منتقلی کا کیس: چیف کمشنر اسلام آباد کی سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست کی جلد سماعت کی اپیل

کاشف عباسی , August 23,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اگست 2026ء

چیف کمشنر اسلام آباد نے بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفاء ہسپتال منتقل کرنے اور مخصوص میڈیکل بورڈ کے ذریعے معائنے سے متعلق اعلیٰ ترین عدالت کے 18 اگست کے حکم کے خلاف دائر کردہ ریویو پٹیشن کی جلد از جلد اور بلا تاخیر سماعت کے لیے سپریم کورٹ میں باقاعدہ متفرق درخواست دائر کر دی ہے۔ دائر کی گئی اس ہنگامی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ 18 اگست کے اپنے عدالتی حکم پر نظرثانی کرے، اس میں مناسب قانونی ترامیم لائے یا پھر اس فیصلے کو مکمل طور پر واپس لے۔

چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے ریویو پٹیشن میں یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا یہ معاملہ صرف قیدی کو طبی سہولیات کی فراہمی تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ متعلقہ قانونی، انتظامی اور آئینی دائرہ اختیار سے بھی براہِ راست منسلک ہے۔ پٹیشن میں آئین کی 27ویں ترمیم کے بعد اعلیٰ عدلیہ کے دائرہ اختیار، آرٹیکل 175 (2) اور جیل قوانین سے متعلق کئی اہم اور پیچیدہ قانونی و آئینی سوالات اٹھائے گئے ہیں، جن پر باریک بینی سے غور کرنا ناگزیر ہے۔

درخواست گزار نے سپریم کورٹ کے سامنے یہ نقطہ بھی رکھا ہے کہ چونکہ 18 اگست کا عدالتی حکم وقت کی پابندی اور مخصوص ڈیڈ لائن پر مبنی تھا، اس لیے آئینی، قانونی اور انتظامی تنازعات کے فوری حل کے لیے اس ریویو پٹیشن کو بلا تاخیر اور ہنگامی بنیادوں پر سماعت کے لیے مقرر کیا جائے تاکہ تمام متعلقہ اداروں کے تحفظات کو قانونی دائرہ کار میں لایا جا سکے۔