ٹاپ 50 امریکی یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے والے اسکالرز کو سالانہ 19 ہزار 200 ڈالر وظیفہ اور ہیلتھ انشورنس ملے گی؛ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے کارکردگی اور بین الاقوامی رینکنگ کے لحاظ سے دو مقتدر زمرے متعارف کروا دیے

روزینہ اسماعیل.june 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے اڑان پاکستان کے اعلیٰ اشتراک سے ملکی تاریخ کے ایک بڑے تزویراتی تعلیمی منصوبے یو ایس پاکستان نالج کوریڈور کے تحت امریکہ کی چوٹی کی سو نامور اور مقتدر یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی اسکالرشپ کے لیے باقاعدہ داخلوں کا اعلان کر دیا ہے۔ کمیشن کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی پریس ریلیز کے مطابق، یہ اسکالرشپ پروگرام خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر اعلیٰ تعلیم اور بین الاقوامی تحقیق کے فروغ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس کا مقصد پاکستان میں اعلیٰ پائے کے محققین اور ماہرین تیار کرنا ہے۔ کوالیفائی کرنے والے ہونہار طالب علموں کی مالی معاونت اور تعلیمی اخراجات کو سہل بنانے کے لیے کمیشن نے بین الاقوامی رینکنگ کے لحاظ سے دو مقتدر کیٹیگریز مقرر کی ہیں، جن کی تفصیلات کے مطابق درجہ اول کے تحت امریکہ کی ٹاپ پچاس عالمی جامعات میں براہِ راست پی ایچ ڈی میں داخلہ حاصل کرنے والے پاکستانی طالب علموں کو سالانہ انیس ہزار دو سو امریکی ڈالر کا بھاری وظیفہ دیا جائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ اسکالرز کی طبی سہولیات کو یقینی بنانے کے لیے دو ہزار امریکی ڈالر سالانہ کی ہیلتھ انشورنس بھی فراہم کی جائے گی، جبکہ درجہ دوم میں عالمی درجہ بندی میں اکیاون سے لے کر سو نمبر پر آنے والی نامور امریکی جامعات شامل ہیں جس کے تحت منتخب ہونے والے اسکالرز کے لیے بارہ ہزار امریکی ڈالر سالانہ ٹیوشن فیس کی مد میں، بارہ ہزار امریکی ڈالر سالانہ وظیفہ، اور صحت کے تحفظ کے لیے دو ہزار امریکی ڈالر سالانہ ہیلتھ انشورنس مختص کی گئی ہے۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے مقتدر ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام پاکستان اور امریکہ کے مابین تعلیمی و تحقیقی روابط کو مزید پائیدار اور مستحکم بنانے میں اہم تزویراتی کردار ادا کرے گا اور اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ملک بھر کے باصلاحیت اور اہل طلبہ و طالبات کو مقررہ ضوابط کے تحت جلد سے جلد درخواستیں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ تعلیمی و صنعتی شعبے میں عالمی معیار کی لیڈرشپ پیدا کی جا سکے۔

ملک میں موتیا کے مریضوں کی تعداد موجودہ نظامِ صحت کی استعداد سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے؛ پاکستان میں 5 لاکھ 70 ہزار افراد موتیا کے باعث نابینا، مالی مشکلات، ذیابیطس اور ماہرینِ چشم کی کمی بڑے چیلنجز، سرکاری شعبے کو فعال کرنے کی ضرورت پر زور.

Indian surgeon Dr. Sunita Agarwal (C) is

منصور احمد june 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

الشفاء ٹرسٹ آئی ہاسپٹل کے شعبہ موتیا کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر صبیح الدین احمد نے ملک میں بڑھتی ہوئی قابلِ علاج نابینائی کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں موتیا کے مریضوں کی تعداد موجودہ نظامِ صحت کی استعداد سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ ملکی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے سال 2030ء تک پاکستان میں ہر سال کم از کم 18 لاکھ 40 ہزار موتیا کے آپریشن درکار ہوں گے، جس کے لیے سرکاری شعبے کو ہنگامی بنیادوں پر فعال کرنا ناگزیر ہو چکا ہے کیونکہ اس وقت زیادہ تر غریب مریض فلاحی اداروں اور نجی اسپتالوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر صبیح الدین احمد نے بتایا کہ الشفاء ٹرسٹ اپنے مختلف اسپتالوں اور آؤٹ ریچ کیمپس کے ذریعے ہر سال تقریباً 60 ہزار موتیا کے آپریشن کرتا ہے، تاہم مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مقابلے میں یہ استعداد ناکافی ہے۔ انہوں نے اہم ترین طبی اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ پاکستان میں اس وقت اندازاً 5 لاکھ 70 ہزار بالغ افراد موتیا کے باعث بینائی سے محروم ہو چکے ہیں جبکہ 35 لاکھ 60 ہزار افراد بینائی کی شدید کمزوری کا شکار ہیں۔ ملک میں موتیا کے ہونے والے کل آپریشنز میں سے 42.4 فیصد نجی اسپتالوں، 39.9 فیصد غیر سرکاری تنظیموں جبکہ صرف 17.7 فیصد سرکاری اسپتالوں میں کیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے کم آمدنی والے مریض فلاحی اداروں کے رحم و کرم پر ہیں۔

انہوں نے نظام پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی ایک بڑی وجہ ماہر امراضِ چشم کی شدید ترین کمی کو قرار دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں 10 لاکھ کی آبادی کے لیے صرف 15 ماہرینِ چشم موجود ہیں جو ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں انتہائی تشویشناک حد تک کم ہیں۔ الشفاء ٹرسٹ ہر سال تقریباً 20 نئے ماہرین کو تربیت فراہم کرتا ہے لیکن ملک کی مجموعی ضرورت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ، ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی ذیابیطس بھی موتیا کی ایک بڑی وجہ بن رہی ہے، کیونکہ پاکستان میں اس وقت 3 کروڑ 45 لاکھ بالغ افراد ذیابیطس کا شکار ہیں جن میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ڈاکٹر صبیح الدین احمد نے واضح کیا کہ علاج کی بھاری لاگت ملکی سطح پر ایک بڑی رکاوٹ ہے، جہاں 76.1 فیصد مریضوں نے مالی مشکلات کو ہی اپنے آپریشن میں تاخیر کی بنیادی وجہ قرار دیا۔ اس صورتحال سے خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں کیونکہ نقل و حرکت کی پابندیاں، مالی فیصلوں میں اختیار نہ ہونا اور علاج تک دیر سے رسائی ان کی بینائی کے ضیاع کا سبب بنتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ سرکاری اسپتالوں میں آنکھوں کے معمول کے معائنے اور ذیابیطس کے مریضوں کے لیے موتیا کی باقاعدہ اسکریننگ کو لازمی قرار دیا جائے، بصورتِ دیگر قابلِ علاج نابینائی کا شکار افراد کا بوجھ ملکی معیشت اور معاشرے پر مسلسل بڑھتا رہے گا۔

اسلام آباد ویمن چیمبر کے اشتراک سے خواتین کاروباری افراد کی معاونت کے لیے مزید عملی اقدامات کیے جائیں گے: چیئرمین سی ڈی اے

منصور احمد june 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ (ر) سہیل اشرف نے خواتین کی معاشی خودمختاری اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ادارے کے بھرپور تعاون کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی ڈبلیو سی سی آئی) کے اشتراک سے خواتین کاروباری افراد کی معاونت کے لیے مزید عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ یہ یقین دہانی انہوں نے آئی ڈبلیو سی سی آئی کی صدر ثمینہ فاضل کی قیادت میں ایک مقتدر وفد سے ملاقات کے دوران کرائی، جس میں اسلام آباد کے پہلے خصوصی ویمن انٹرپرائز مارکیٹ کے کامیاب آغاز، خواتین کے لیے کاروباری مواقع میں اضافے اور مستقبل میں باہمی تعاون کے مختلف تزویراتی پہلوؤں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں شریک کاروباری خواتین نے ویمن انٹرپرائز مارکیٹ کے قیام میں چیئرمین سی ڈی اے لیفٹیننٹ (ر) سہیل اشرف اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) کی ڈائریکٹر ڈاکٹر انعم فاطمہ کے کلیدی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مخصوص تجارتی جگہ کی فراہمی اس منصوبے کی کامیابی میں بنیادی عنصر ثابت ہوئی۔ آئی ڈبلیو سی سی آئی کی صدر ثمینہ فاضل نے منصوبے کی کامیابی میں سی ڈی اے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، ایم سی آئی اور جاز کیش کے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جی-11 میں قائم ویمن انٹرپرائز مارکیٹ اسلام آباد کی تاریخ کا پہلا خصوصی تجارتی مرکز ہے جو خواتین کی زیرِ قیادت کاروباری اداروں کے لیے مختص کیا گیا ہے اور یہ خواتین کی معاشی شمولیت کے فروغ کی جانب ایک تاریخی پیش رفت ہے۔

چیئرمین سی ڈی اے نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی معاشی ترقی میں خواتین کا فعال کردار ناگزیر ہے اور سی ڈی اے خواتین کاروباری افراد کے لیے مزید منظم اور مؤثر پروگرام متعارف کرانے کے لیے آئی ڈبلیو سی سی آئی کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دے گا۔ دوسری جانب، ڈاکٹر انعم فاطمہ نے واضح کیا کہ شہری انتظامیہ خواتین کے لیے محفوظ، آسان رسائی والی اور کاروبار دوست جگہیں فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے، جبکہ کم لاگت کاروباری ماڈلز کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے تاکہ انہیں دارالحکومت کے دیگر مقتدر علاقوں میں بھی کامیابی سے دہرایا جا سکے۔

ملاقات کے دوران آئی ڈبلیو سی سی آئی کی نمائندہ نعیمہ انصاری نے اہم ترین معاشی اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں موجود 50 لاکھ سے زائد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) میں خواتین کی ملکیت صرف تقریباً 8 فیصد ہے، جبکہ ایس ایم ای سیکٹر کے لیے فراہم کی جانے والی مجموعی مالی معاونت میں خواتین کی زیرِ قیادت کاروباروں کا حصہ محض 3.2 فیصد ہے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ خواتین کی کاروباری سرگرمیوں میں یہ کم شمولیت قومی اقتصادی ترقی میں ان کے ممکنہ کردار کو محدود کر رہی ہے۔ ملاقات کے اختتام پر شہری اداروں اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کے نئے امکانات پر بھی غور کیا گیا اور صدر آئی ڈبلیو سی سی آئی نے ملک بھر کی بلدیاتی انتظامیہ اور چیمبرز آف کامرس پر زور دیا کہ وہ خواتین کی قیادت میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے عملی اقدامات اور مخصوص کاروباری مقامات کی فراہمی کو ہر قیمت پر یقینی بنائیں۔

اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایف آئی اے کی بڑی کارروائی: متعدد شناختوں پر روس جانے کی کوشش کرنے والے دو مسافر آف لوڈ، موبائل فونز سے پاکستانی شناختی کارڈ اور افغان پاسپورٹ برآمد

منصور احمد june 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) امیگریشن اسلام آباد زون نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک مہم جوئی اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے امیگریشن کلیئرنس کے دوران متعدد جعلی شناختوں اور مشکوک سفری دستاویزات کا پتہ لگا کر روس جانے کی کوشش کرنے والے دو مسافروں کو آف لوڈ کر دیا ہے۔ ایف آئی اے حکام کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، یہ مسافر ازبکستان ایئرویز کی پرواز کے ذریعے روس جانے کے لیے ایئرپورٹ پہنچے تھے، جہاں کاؤنٹر پر موجود امیگریشن حکام نے سفری دستاویزات کو مشکوک قرار دیتے ہوئے انہیں سیکنڈری اسکریننگ کے لیے روک لیا۔

حکام نے بتایا کہ جب ان مشکوک مسافروں کی تفصیلی اور تکنیکی جانچ پڑتال کی گئی تو ان کی شناخت اور سفری دستاویزات میں واضح تضادات کا انکشاف ہوا۔ شک کی بنیاد پر جب ملزمان کے موبائل فونز کی فرانزک جانچ کی گئی تو اس کے نتیجے میں متعدد افغان پاسپورٹ، ایک افغانی تذکرہ (شناختی کارڈ)، ایک پاکستانی کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ اور ایک روسی سفری دستاویز برآمد ہوئی۔ ایف آئی اے کے مطابق، برآمد ہونے والی ان متعدد دستاویزات میں مختلف نام اور شناختیں درج تھیں، لیکن حیران کن طور پر ان سب پر تصویر ایک ہی فرد کی لگی ہوئی تھی، جس سے یہ واضح ہو گیا کہ ملزمان غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک امیگریشن کے لیے متعدد شناختوں کا منظم استعمال کر رہے تھے۔

ابتدائی تفتيش کے دوران یہ سنسنی خیز انکشاف بھی ہوا ہے کہ ملنے والا ایک افغان تذکرہ دوسرے مسافر کے نام پر جاری کیا گیا تھا، جبکہ بقیہ تمام دستاویزات کو مبینہ طور پر دھوکہ دہی اور جعل سازی کے ذریعے بیرونِ ملک فرار ہونے کی کوشش میں استعمال کیا جا رہا تھا۔ ایف آئی اے امیگریشن حکام نے دونوں مسافروں کو فوری طور پر طیارے سے آف لوڈ کر دیا اور ایئرپورٹ پر ہی تحویل میں لے کر مزید گہری قانونی کارروائی اور پسِ پردہ نیٹ ورک کی تفتیش کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد کے حوالے کر دیا ہے، جہاں ان سے انسانی اسمگلنگ کے پہلو پر گہرائی سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

شمالی علاقوں، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے ندی نالوں میں پانی کی سطح تیز رفتاری سے بڑھنے کا خدشہ؛ سیاحوں اور مقامی آبادی کو دریاؤں اور پہاڑی راستوں پر غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی سخت تاکید، پی ڈی ایم ایز ہائی الرٹ.

کاشف عباسی ,june 28,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ملک بھر میں موسمِ سرما اور گرمی کے بعد پری مون سون بارشوں کے باقاعدہ آغاز کے پیشِ نظر ایک مقتدر اور ہائی پروفائل ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے شہریوں اور سیاحوں کو انتہائی محتاط رہنے کی سخت ہدایت کی ہے۔ این ڈی ایم اے کے مقتدر حکام کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، ملک بھر میں 28 جون سے 3 جولائی تک وقفے وقفے سے گرج چمک کے ساتھ پری مون سون بارشیں متوقع ہیں، جس کے باعث شمالی و پہاڑی علاقوں میں گلیشیئر پگھلنے کی رفتار تیز ہونے، اچانک سیلاب اور خطرناک لینڈ سلائیڈنگ کے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

این ڈی ایم اے کے حکام نے میڈیا چینلز سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ حالیہ شدید گرمی اور متوقع مقتدر بارشوں کے خطرناک امتزاج کی وجہ سے گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد جموں و کشمیر کے دریاؤں، ندی نالوں اور مقامی آبشاروں میں پانی کے بہاؤ میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر متنبہ کیا کہ پہاڑی خطوں کے غیر مستحکم اور تیزی سے بدلتے ہوئے موسم کی وجہ سے برفانی جھیلیں پھٹنے کے واقعات اور تودے گرنے کے مقتدر خطرات لاحق ہیں۔ اتھارٹی نے ہنزہ، نگر، غذر، اسکردو، شگر، گھانچے، کھرمنگ، استور، دیامر، بالائی و زیریں چترال اور سوات سمیت ہائی رسک والے اضلاع کے مکینوں، مسافروں اور بالخصوص عید و موسمِ گرما کی تعطیلات کے سیاحوں کو انتہائی احتیاط کا مشورہ دیا ہے، کیونکہ موسم کی یہ اچانک تبدیلی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

ایڈوائزری میں عوام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ دریاؤں، ندی نالوں اور خطرناک پہاڑی راستوں کے قریب غیر ضروری نقل و حرکت سے مکمل طور پر گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی یا غیر معمولی صورتحال کی صورت میں مقامی انتظامیہ کو فوراً مقتدر اطلاع دیں۔ کسی بھی ممکنہ آفت یا نقصان سے نمٹنے کے لیے تمام صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز ) کو سخت ترین ہدایات کے ساتھ ہائی الرٹ پر رکھ دیا گیا ہے تاکہ ہر سطح پر ہنگامی تیاریوں، تیز رفتار ردِعمل کی صلاحیت اور مربوط مقتدر کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ این ڈی ایم اے نے اصرار کیا ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ اور املاک کے نقصان کو کم سے کم کرنے کے لیے بروقت احتیاط اور سرکاری حفاظتی مشوروں پر سختی سے عمل درآمد ناگزیر ہے۔

مشعال ملک کی کراچی رینجرز کیمپ پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت، جامِ شہادت نوش کرنے والے جوانوں کو شاندار خراجِ عقیدت

منصور احمد june 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ اور ممتاز سماجی و سیاسی رہنما مشعال ملک نے کراچی میں پاکستان رینجرز (سندھ) کے کیمپ پر ہونے والے بزدلانہ دہشت گرد حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اسلام آباد سے جاری کردہ اپنے ایک مقتدر بیان میں انہوں نے رینجرز کیمپ کے مین گیٹ پر ہونے والے دھماکے اور فائرنگ کے شدید تبادلے کے دوران دہشت گردوں کا جوانمردی سے مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے والے دھرتی کے 3 بہادر بیٹوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ پوری پاکستانی قوم اپنے ان جان نثاروں کی قربانی کو سلام پیش کرتی ہے۔

مشعال ملک نے اپنے مقتدر بیان میں سیکیورٹی فورسز کے فوری ہنگامی ردِعمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان رینجرز سندھ کے چوکس دستوں نے انتہائی پیشہ ورانہ اور بروقت تزویراتی کارروائی عمل میں لا کر بزدل حملہ آوروں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا اور ملک دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو مٹی میں ملا دیا۔ انہوں نے اصرار کیا کہ وطنِ عزیز کے امن و استحکام کی خاطر اپنی جانیں نچھاور کرنے والے یہ مقتدر شہداء پوری قوم کا فخر اور پاکستان کے حقیقی ہیرو ہیں، جن کی یہ عظیم اور لازوال قربانیاں تاریخ کے سنہری حروف میں لکھی جائیں گی اور انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے حملے میں زخمی ہونے والے رینجرز کے دیگر جوانوں کی جلد اور مکمل صحتیابی کے لیے بھی خصوصی دعا کی اور شہداء کے سوگوار خاندانوں سے گہری ہمدردی اور مقتدر یکجہتی کا اظہار کیا۔

انسانی اعضاء کی غیر قانونی اسمگلنگ کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب: 3 غیر ملکیوں سمیت 5 ملزمان عدالت میں پیش، 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

منصور احمد june 26,2026

اسلام آباد (کرائم رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی اور ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی نے ایک مشترکہ اور بڑی تزویراتی کارروائی کے دوران انسانی اعضاء کی مبینہ اسمگلنگ میں ملوث ایک بین الاقوامی منظم گروہ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ نیٹ ورک کے خلاف درج مقدمے کی ابتدائی کارروائی کے طور پر، تین غیر ملکی شہریوں اور دو پاکستانی ملزمان کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں معزز عدالت نے ملزمان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں مزید تفتیش کے لیے ایف آئی اے کے مقتدر حکام کے حوالے کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، کیس کی مقتدر سماعت کے دوران ملزمان کو ڈیوٹی جج میاں اظہر ندیم کے سامنے پیش کیا گیا۔ ان ملزمان کو ایف آئی اے اور ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کی ٹیموں نے ایک خفیہ اطلاع پر اسلام آباد کے مقتدر سیکٹر ایف سیون میں مشترکہ چھاپہ مار کارروائی کے دوران حراست میں لیا تھا۔ تفتیش کاروں نے عدالت کو بتایا کہ گرفتار افراد میں تین غیر ملکی اور دو مقامی سہولت کار شامل ہیں۔ حکام کے مطابق، چھاپے کے دوران جائے وقوعہ سے مختلف شکلوں میں محفوظ کی گئی انسانی پلاسنٹا (آنول) کی ایک بہت بڑی مقدار برآمد ہوئی ہے، جس میں تازہ، کیمیکل زدہ، خشک اور باقاعدہ پروسیس شدہ مواد شامل تھا۔ حکام نے برآمد شدہ تمام اسٹاک کو مزید لیبارٹری معائنے اور قانونی شواہد کے لیے اپنی مقتدر تحویل میں لے لیا ہے۔

ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے عدالت کو مقتدر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ گروہ مبینہ طور پر پشاور، راولپنڈی اور لاہور کے مختلف سرکاری و نجی اسپتالوں اور میٹرنٹی ہومز سے غیر قانونی طور پر انسانی پلاسنٹا حاصل کرنے کے مکروہ دھندے میں ملوث تھا۔ تفتیش کاروں کا پختہ یقین ہے کہ یہ قیمتی بائیولوجیکل مواد ایک باقاعدہ منظم نیٹ ورک کے ذریعے اکٹھا کیا جاتا تھا اور بعد میں اسے خفیہ مقامات پر پروسیس کر کے بین الاقوامی مارکیٹ میں برآمدگی کے لیے تیار کیا جاتا تھا۔ حکام نے عدالت کے سامنے سنگین الزام عائد کیا کہ ملزمان اس پروسیس شدہ انسانی پلاسنٹا کے کارگو کو کسٹم دستاویزات میں جعلی طور پر “بھیڑ کے اعضاء” قرار دے کر بیرونِ ملک اسمگل کر رہے تھے۔

ایف آئی اے کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی کہ اس گھناؤنے جرم کے پسِ پردہ موجود دیگر مقامی سہولت کاروں، اسپتال انتظامیہ کے ملوث عناصر کی نشاندہی اور بیرونِ ملک برآمدگی کے اصل مطلوبہ مقامات کا سراغ لگانے کے لیے ملزمان سے تفصیلی پوچھ گچھ ناگزیر ہے۔ عدالت نے ایف آئی اے کی درخواست کا مقتدر جائزہ لینے کے بعد پانچوں ملزمان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔ عدالت نے تفتیشی ٹیم کو سخت ہدایت جاری کی کہ ریمانڈ کی مدت مکمل ہونے کے بعد تمام ملزمان کو ٹھوس پیش رفت رپورٹ کے ہمراہ دوبارہ عدالت کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ آئندہ کی مقتدر قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، چکوال اور جہلم سرکلز کے متعدد فیڈرز پر سپلائی معطل رہے گی؛ مقررہ وقت سے پہلے کام مکمل ہونے پر بجلی شیڈول سے قبل بھی بحال کی جا سکتی ہے، آئیسکو انتظامیہ کی معذرت،

منصور احمد june 26,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) نے ریجن کے مختلف اضلاع میں ضروری سالانہ سسٹم مینٹیننس، ڈویلپمنٹ ورکس اور جدید اے ایم آئی میٹرز کی تنصیب کے مقتدر کاموں کے باعث بجلی کی عارضی بندش کا تفصیلی شیڈول جاری کر دیا ہے۔ آئیسکو کے مقتدر ترجمان کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، کمپنی کے دائرہ اختیار میں آنے والے تمام بڑے سرکلز کے مخصوص فیڈرز اور گرڈ اسٹیشنز پر درج ذیل تزویراتی شیڈول کے مطابق بجلی کی سپلائی عارضی طور پر معطل رکھی جائے گی تاکہ تکنیکی ٹیمیں بغیر کسی تعطل کے کام سرانجام دے سکیں۔

مقتدر شیڈول کے مطابق ہفتہ 27 جون 2026ء کو راولپنڈی کینٹ سرکل میں صبح 6:00 بجے سے دن 10:00 بجے تک جاپان روڈ اور جھنڈالہ فیڈرز سے منسلک علاقوں کی بجلی بند رہے گی۔ اسی طرح جی ایس او سرکل میں صبح 8:00 بجے سے شام 4:00 بجے تک 132 کے وی نیو واہ تا پی او ایف لائن پر کام کیا جائے گا۔ مزید برآں، صبح 8:00 بجے سے شام 6:00 بجے تک 132 کے وی چکوال–بھگوال–تلہ گنگ لائن، 132 کے وی کہوٹہ سٹی–پلندری لائن، اور 132 کے وی نیو واہ–بہترموڑ لائن سمیت ان کے تمام مقتدر ملحقہ علاقوں میں بھی بجلی کی فراہمی مکمل طور پر معطل رہے گی۔

آئیسکو انتظامیہ نے اس مقتدر عارضی بندش کے باعث اپنے تمام معزز صارفین کو پہنچنے والی زحمت اور متبادل انتظامات کی ضرورت پر پیشگی معذرت کا اظہار کیا ہے۔ پریس ریلیز میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر تکنیکی ٹیموں نے ترقیاتی اور مرمتی کام مقررہ وقت سے پہلے کامیابی سے مکمل کر لیا، تو صارفین کی مقتدر سہولت کے لیے بجلی کی فراہمی شیڈول وقت سے پہلے بھی بحال کی جا سکتی ہے، لہٰذا صارفین متبادل ضروریات کے لیے وقت کا مقتدر تعین پہلے سے کر لیں۔

وفاقی دارالحکومت میں عاشورہ سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات: 4 ہزار سے زائد پولیس افسران اور اہلکار فیلڈ میں تعینات، آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کی ذاتی نگرانی

کاشف عباسی ,june 26,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

یومِ عاشور کے مقتدر اور حساس موقع پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امن و امان کی فضاء کو برقرار رکھنے اور عزاداروں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) پولیس کے 4 ہزار سے زائد افسران اور جوانوں کو الرٹ کر کے فیلڈ میں تعینات کر دیا گیا ہے. اس سلسلے میں آئی سی ٹی پولیس کے مقتدر سینئر افسران نے سیکیورٹی اور ٹریفک کے کثیر الجہتی انتظامات کی ذاتی طور پر مانیٹرنگ اور نگرانی کرنے کے لیے شہر کی مختلف امام بارگاہوں اور جلوس کے روایتی راستوں کا تفصیلی دورہ کیا ہے.

پولیس کے مقتدر اہلکار نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ڈی آئی جی سیف سٹی/ٹریفک محمد ہارون جوئیہ، ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق اور ڈی آئی جی سکیورٹی رانا عمر فاروق نے سیکیورٹی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے مختلف امام بارگاہوں کے مقتدر دورے کیے۔ ان کے ہمراہ اے آئی جی لاجسٹکس عبدالحق عمرانی، ایس ایس پی آپریشنز قاضی علی رضا اور چیف ٹریفک آفیسر کائنات اظہر خان نے بھی فیلڈ میں فرنٹ لائن پر رہ کر تمام تر سیکیورٹی انتظامات اور روٹ ڈائیورژنز کی نگرانی کی۔ اسلام آباد پولیس کے ان سینئر مقتدر افسران نے امام بارگاہوں، مرکزی جلوس کے راستوں اور سیکیورٹی تعیناتی پوائنٹس کا معائنہ کیا تاکہ آپریشنل تیاریوں کو حتمی شکل دی جا سکے اور عاشورہ کے جامع سیکیورٹی پلان پر سو فیصد مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) اسلام آباد، سید علی ناصر رضوی نے ذاتی طور پر یومِ عاشور کے لیے تمام سیکیورٹی انتظامات، کلوز سرکٹ مانیٹرنگ اور آپریشنل فورس کی تعیناتیوں کی کمانڈ سنبھالی اور نگرانی کی، جبکہ تمام زونل ایس پیز اور دیگر مقتدر سینئر افسران بھی فیلڈ میں مسلسل پٹرولنگ کرتے رہے۔ مقتدر اہلکار کے مطابق، دارالحکومت بھر میں محرم الحرام کے مرکزی ماتمی جلوسوں، مجالس، ریلیوں اور مساجد کی فول پروف سیکیورٹی کے لیے 4 ہزار سے زائد پولیس افسران اور اہلکار شفٹوں میں ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔ آئی جی پی سید علی ناصر رضوی نے تمام افسران اور جوانوں کو سخت اور مقتدر ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ پورے محرم الحرام میں اپنے فرائض انتہائی ایمانداری، اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت اور گہرے احساسِ ذمہ داری کے ساتھ ادا کریں۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ اسلام آباد پولیس شہریوں کے لیے ایک پرامن اور محفوظ ماحول کو یقینی بناتے ہوئے بین المسالک ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دینے کے لیے اپنے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔

حق و حریت کا ابدی بیانیہ: کربلا ناانصافی کے خلاف پکار رہا ہے، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق اور امن کے لیے موثر اقدامات اٹھائے، مشعال حسین ملک

منصور احمد june 26,2026

اسلام آباد (کشمیر امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

جیل میں بند مقتدر حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ اور ممتاز کشمیری رہنما مشعال حسین ملک نے عالمی برادری پر پرزور انداز میں دباؤ ڈالتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر قانونی بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے، انصاف کی فراہمی اور دیرپا امن کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر بامعنی اور موثر اقدامات اٹھائے۔ محرم الحرام کے مقتدر موقع پر جاری کیے گئے اپنے ایک خصوصی ویڈیو پیغام میں انہوں نے واضح کیا کہ کربلا کا لازوال پیغام پوری دنیا میں جاری ظلم و جبر کے خلاف ڈٹ جانے اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کا ابدی درس دیتا ہے۔

مشعال حسین ملک نے معرکہ کربلا کے نظریاتی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظیم قربانی سچائی، انصاف، صبر اور استقامت کی ایک ایسی لازوال علامت ہے جو دنیا بھر میں اپنے وقار اور آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والی مظلوم قوموں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سید الشہداء کی یہ بے مثال قربانی جرات، صداقت اور مقتدر انصاف کے لیے غیر متزلزل عزم کے اعلیٰ ترین انسانی نظریات کی نمائندگی کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کربلا کا پیغام وقت اور جغرافیائی حدود سے بالاتر ہے، جو محکوم اور مظلوم قوموں کو امید، حوصلہ اور طاقت دیتا ہے اور انسانیت کو یہ سکھاتا ہے کہ کس طرح پورے وقار اور استقامت کے ساتھ ظلم کا مقابلہ کیا جاتا ہے۔

انہوں نے مقبوضہ وادی کی مقتدر صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے نہتے لوگ کئی دہائیوں سے اپنے بنیادی حقوق اور انصاف کے حصول کے لیے بے پناہ مشکلات، مظالم اور لازوال قربانیوں کو برداشت کرتے ہوئے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ مشعال حسین ملک نے اصرار کیا کہ محرم الحرام کا یہ مقدس مہینہ امتِ مسلمہ سمیت وسیع تر عالمی برادری کو اس مقتدر ذمہ داری کی یاد دلاتا ہے کہ وہ ہر حال میں مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوں، آپس میں اتحاد، رواداری اور ہمدردی کو فروغ دیں اور معاشرے میں انصاف کے اصولوں کو برقرار رکھیں۔ انہوں نے عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ غاصبانہ طاقت ہمیشہ عارضی ہوتی ہے جبکہ سچائی، الٰہی قربانی اور اصولوں کی غیر متزلزل عملداری ہمیشہ ابدی رہتی ہے اور دنیا بھر کی آنے والی نسلوں کو حق پر جینے کا حوصلہ دیتی رہے گی۔

اسلام آباد میں انسانی اعضاء کا غیر قانونی بین الاقوامی نیٹ ورک بے نقاب: ایف آئی اے کی بڑی کارروائی، 5 ملزمان گرفتار، پروسیسنگ مشینیں اور بھاری مواد برآمد

محمود احمد june 26,2026

اسلام آباد (کرائم رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) اسلام آباد زون نے وفاقی دارالحکومت میں ایک انتہائی ہائی پروفائل کارروائی کرتے ہوئے انسانی اعضاء اور حیاتیاتی مواد کی غیر قانونی پروسیسنگ میں ملوث دو خفیہ تنصیبات کا پردہ فاش کر دیا ہے۔ ایف آئی اے کے مقتدر ترجمان کے مطابق، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران اسلام آباد کے پوش سیکٹرز میں بیک وقت چھاپے مار کر اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث 5 خطرناک مشتبہ ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ایف آئی اے کے مقتدر اہلکار نے تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ یہ چھاپے مصدقہ اور مقتدر خفیہ اطلاعات پر مارے گئے، جس کے نتیجے میں انسانی اعضاء کی غیر قانونی پروسیسنگ کرنے والے ان دو بڑے مراکز کو سیل کیا گیا۔ تفتیش کے دوران یہ سنسنی خیز حقیقت سامنے آئی ہے کہ گرفتار ملزمان ان انسانی اعضاء اور مواد کو بیرونِ ملک، خاص طور پر ویتنام اسمگل اور برآمد کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ عالمی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچنے کے لیے ملزمان اس پروسیس شدہ انسانی مواد پر “شیپ پلاسینٹا” کا جھوٹا اور مقتدر فرضی لیبل لگا رہے تھے تاکہ اسے بھیڑ کا بائیولوجیکل مواد ظاہر کر کے کلیئر کروایا جا سکے۔

ایف آئی اے کی مقتدر ٹیموں نے کارروائی کے دوران ان مراکز سے جدید پروسیسنگ مشینری، سرجیکل آلات اور تیار شدہ پراسیسڈ انسانی مواد کی ایک بہت بڑی مقدار بھی اپنے قبضے میں لے لی ہے۔ گرفتار ہونے والے تمام مشتبہ افراد کو جائے وقوعہ سے مقتدر تحویل میں لے کر تھانے منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹیشن ایکٹ 2010 کے تحت مقتدر مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ اس بین الاقوامی نیٹ ورک کی جڑیں تلاش کرنے اور اس جرم میں ملوث دیگر ملکی و غیر ملکی سہولت کاروں کی شناخت کے لیے مزید تفتیش انتہائی تندہی سے جاری ہے، اور انسانی اعضاء کی اسمگلنگ میں ملوث کسی بھی عنصر کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

حق و صداقت کا ابدی معیار: واقعہ کربلا اصلاحِ امت، احیائے سنتِ نبوی ﷺ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے عظیم مقصد کے لیے قربانی کا نام ہے، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف

کاشف عباسی ,june 25,2026

اسلام آباد (قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے یومِ عاشور (10 محرم الحرام) کے مقتدر اور فکر انگیز موقع پر امتِ مسلمہ اور پاکستانی قوم کے نام اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ معرکہ کربلا دراصل اصلاحِ امت، احیائے سنتِ نبوی ﷺ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے عظیم و آفاقی مقصد کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کا نام ہے۔ وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، انہوں نے واضح کیا کہ نواسہ رسول ﷺ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے جانثار رفقاء کی یہ عظیم قربانی نوعِ انسانی کو ایمان، صبر و استقامت، ایثار، حق پسندی اور اصلاحِ معاشرہ کے بے مثال اسباق سے روشناس کراتی ہے، جو ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں عدل و انصاف، صبر و برداشت اور ذمہ داری کے اوصاف کو ہر ممکن فروغ دیں۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے مقتدر پیغام میں تاریخی و اخلاقی حقائق کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اصولوں اور مقتدر اقدار کی پاسداری ہی کسی بھی باوقار اور مہذب معاشرے کی مضبوط بنیاد ہوتی ہے۔ سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بے مثل طرزِ عمل سے کائنات کے سامنے یہ ثابت کر دیا کہ حق و صداقت، عدل و انصاف اور انسانی عظمت کے تحفظ کے لیے میدانِ جنگ میں کٹ جانا درحقیقت ظلم و جبر، ناانصافی اور باطل کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے کہیں زیادہ افضل اور اعلیٰ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ دور میں اختلافات، نفرت اور انتشار کے فرسودہ رویوں کے بجائے باہمی احترام، بین المسالک رواداری اور یکجہتی جیسی مقتدر اقدار کی مضبوطی ہی ہمارا اولین قومی پیشِ نظر ہونا چاہیے۔

اپنے مقتدر خطاب میں وزیرِ اعظم نے ملک بھر کے جید علماء کرام، مشائخ عظام، ذاکرین، ذرائع ابلاغ (میڈیا) اور نوجوان نسل سے پرزور اپیل کی کہ وہ یومِ عاشور کے حقیقی اور تزویراتی پیغام کو علمی بنیادوں پر اجاگر کریں، معاشرے میں بین المسالک احترام و ہم آہنگی کی فضاء کو برقرار رکھیں اور ہر قسم کی اشتعال انگیزی اور نفرت آمیز بیانیے کا سدِباب کریں۔ انہوں نے قوم کو عہد کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ آئیے آج یہ پختہ عزم کریں کہ شہدائے کربلا کی مقتدر قربانی کی روشنی میں حق و انصاف کے ساتھ اپنی وابستگی کو مزید مضبوط کریں گے، معاشرے کے کمزور و محروم طبقات کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے اور اپنے کردار و عمل سے ایک مضبوط، متحد اور پرامن قوم کی تعمیر میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ وزیرِ اعظم نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ دنیا بھر میں امن و استحکام اور پوری امتِ مسلمہ کو اتحاد، اتفاق اور خیر و برکت سے نوازے۔

حق و باطل کا تزویراتی معرکہ: یومِ عاشور ہمیں صبر، استقامت، ایثار، حق گوئی اور اصولوں پر ثابت قدم رہنے کا درس دیتا ہے، واقعہ کربلا ایک زندہ درسگاہ ہے، صدر مملکت آصف علی زرداری

کاشف عباسی ,june 25,2026

اسلام آباد (قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے یومِ عاشور کے مقتدر اور تاریخی موقع پر امتِ مسلمہ اور پاکستانی قوم کے نام اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ عاشورہ کا دن اسلامی تاریخ کا ایک عظیم، جرات مندانہ اور انتہائی بامعنی دن ہے، جو ہمیں صبر، استقامت، ایثار، حق گوئی اور اصولوں پر ثابت قدم رہنے کا ابدی درس دیتا ہے۔ ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے جاری کردہ مقتدر پیغام کے مطابق، صدرِ مملکت نے واضح کیا کہ اگرچہ یہ دن کئی اہم تاریخی واقعات کی یاد تازہ کرتا ہے، تاہم تاریخِ اسلام میں اس کی سب سے نمایاں اور مقتدر نسبت نواسہ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اہل بیتِ اطہار اور ان کے رفقائے وفا کی اس لازوال قربانی سے ہے جو 61 ہجری میں میدانِ کربلا میں پیش آئی۔

صدر آصف علی زرداری نے واقعہ کربلا کے تزویراتی اور نظریاتی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ معرکہ کربلا محض کوئی روایتی تاریخی سانحہ نہیں بلکہ انسانیت کے لیے ایک دائمی پیغام اور ایک زندہ درسگاہ ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے مقتدر عمل سے امتِ مسلمہ کو یہ ابدی تعلیم دی کہ حق، عدل، دیانت اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے اپنے پورے خاندان سمیت ہر قسم کی قربانی تو دی جا سکتی ہے لیکن باطل، ظلم، جابرانہ ملوکیت اور ناانصافی کے سامنے کبھی سر تسلیم خم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سید الشہداء کی اس بے مثال جدوجہد کا اصل مقصد امت کی اصلاح اور دینِ محمدی ﷺ کی حقیقی و اخلاقی اقدار کا تحفظ کرنا تھا۔

صدرِ مملکت نے قوم پر زور دیا کہ آج ہمیں بطور قوم یہ مقتدر عہد کرنا چاہیے کہ ہم حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اسوۂ حسنہ اور سیرت سے حق پسندی، اخلاقی جرأت، صبر و تحمل، اعلیٰ ترین ایثار اور خدمتِ خلق کے اوصاف کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کا لازمی حصہ بنائیں۔ انہوں نے تمام پاکستانیوں سے پرزور مقتدر اپیل کی کہ وہ عاشورہ کے ان مقدس ایام میں ملک بھر میں امن، رواداری، بین المسالک احترام اور بھائی چارے کی فضاء کو ہر ممکن فروغ دیں، کسی بھی قسم کی افواہوں اور اشتعال انگیز رویوں سے مکمل اجتناب برتیں اور قومی وحدت و یکجہتی کے استحکام کے لیے اپنا مثبت اور فعال کردار ادا کریں۔ اپنے پیغام کے اختتام پر صدرِ مملکت نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں واقعہ کربلا کے حقیقی و تزویراتی پیغام کو سمجھنے، اس سے رہنمائی حاصل کرنے اور اپنی زندگیوں کو حق، عدل، صبر اور تقویٰ کے اصولوں کے مطابق استوار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

ڈیجیٹل چیلنجز اور نسلِ نو کا تحفظ: منشیات کی بدلتی نوعیت کے مطابق ہمارا ردِعمل بھی تبدیل ہونا چاہیے، سوشل میڈیا اور کرپٹو کرنسی کا استعمال تشویشناک ہے، صدر مملکت آصف علی زرداری

کاشف عباسی ,june 25,2026

اسلام آباد (قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے منشیات کے استعمال اور اس کی غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن کے مقتدر موقع پر دنیا بھر اور بالخصوص پاکستان میں منشیات کے پھیلتے ہوئے جدید اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ منشیات کے خطرات کی بدلتی نوعیت کے پیشِ نظر اب ریاست اور معاشرے کے ردِعمل اور تزویراتی حکمتِ عملی کو بھی تبدیل ہونا پڑے گا۔ ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے جاری کردہ مقتدر پیغام میں صدرِ مملکت نے کہا کہ روایتی منشیات کے ساتھ ساتھ اب مارکیٹ میں انتہائی خطرناک مصنوعی منشیات کی نئی اقسام سامنے آ چکی ہیں، جو ہماری نوجوان نسل کے لیے ایک بڑا اور سنجیدہ عالمی مسئلہ بن چکی ہیں۔

صدر آصف علی زرداری نے جرائم پیشہ عناصر کے جدید طریقوں کو بے نقاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ بین الاقوامی اسمگلرز اور مقامی ڈیلرز جدید مواصلاتی ٹیکنالوجیز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو منشیات کی تشہیر، ترویج اور اسے ایک معمول کی بات بنا کر پیش کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ ان غیر قانونی سرگرمیوں کی مالی معاونت اب روایتی مالیاتی نظام سے ہٹ کر کرپٹو کرنسیوں اور پوشیدہ ڈیجیٹل ادائیگی کے ذرائع سے کی جا رہی ہے، جس کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچنا آسان ہو جاتا ہے۔ صدرِ مملکت نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے منشیات کے استعمال کو فیشن، جدیدیت، مرتبے یا بے ضرر تفریح کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ یہ تصورات نہایت خطرناک اور گمراہ کن ہیں کیونکہ انسانی صلاحیتوں کی تباہی میں کوئی ترقی پسندی نہیں ہو سکتی۔

صدرِ مملکت نے مسئلہ کے انسانی پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ منشیات کا اثر صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس سے پورا خاندان، برادریاں اور تعلیمی نظام متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ اسمگلنگ اور تقسیم کاروں کے خلاف مقتدر قانونی کارروائی ناگزیر ہے، لیکن صرف قانون نافذ کرنے کے اقدامات اس ناسور کا مکمل حل نہیں ہیں؛ ہمیں انسداد، تعلیم، عوامی آگاہی اور بحالی کے اقدامات کو بیک وقت مضبوط بنانا ہوگا۔ انہوں نے اس سال کے عالمی موضوع کا حوالہ دیتے ہوئے اپیل کی کہ پارلیمان، انتظامیہ، علمائے کرام، میڈیا، کمیونٹی رہنما اور والدین مل کر ایسا سماجی و ثقافتی ماحول تشکیل دیں جو نوجوانوں کو مثبت مواقع کی طرف راغب کرے۔ اپنے پیغام کے اختتام پر صدر آصف علی زرداری نے اس جنگ میں صفِ اول میں خدمات انجام دینے والے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مقتدر اہلکاروں، طبی ماہرین، اساتذہ اور سول سوسائٹی کے اراکین کی فرض شناسی کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی ہائی الرٹ: نویں محرم الحرام کا مرکزی ماتمی جلوس، ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن سمیت تمام اسسٹنٹ کمشنرز اور مجسٹریٹس روٹس پر لائیو مانیٹرنگ کے لیے تعینات

منصور احمد june 25,2026

اسلام آباد (سیکیورٹی و انتظامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نویں محرم الحرام کے مرکزی ماتمی جلوس کے مقتدر موقع پر ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی اور انتظامات کو انتہائی سخت کر دیا گیا ہے۔ جمعرات کے روز نویں محرم الحرام کے روایتی جلوس کے دوران ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) اسلام آباد عرفان نواز میمن سمیت ضلعی انتظامیہ کے تمام اسسٹنٹ کمشنرز اور مقتدر افسران جلوس کے حساس ترین راستوں پر خود موجود رہے اور تمام تر انتظامات کی نگرانی کی۔

ترجمان ضلعی انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ مقتدر پریس ریلیز کے مطابق، ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن نے جلوس کے مختلف راستوں پر کیے گئے انتظامی اقدامات کا تفصیلی معائنہ کیا اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس اسلام آباد کے ہمراہ مرکزی امام بارگاہ کے اطراف فول پروف سیکیورٹی امور کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا۔ سیکیورٹی اور لائیو مانیٹرنگ کے نظام کو مزید مقتدر بنانے کے لیے ڈی سی اسلام آباد نے اسلام آباد پولیس کے جدید کنٹرول سینٹر کا بھی دورہ کیا، جہاں سی سی ٹی وی اور ڈیجیٹل کیمروں کے ذریعے جلوس کی نقل و حرکت کا جائزہ لیا گیا۔

اس مقتدر موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن نے واضح کیا کہ تمام اسسٹنٹ کمشنرز اور ضلعی انتظامیہ کے نامزد کردہ مجسٹریٹس جلوس کے مختلف راستوں پر اس کے آغاز سے لے کر پرامن اختتام تک فیلڈ میں ہمہ وقت موجود رہیں گے۔ انہوں نے تاکید کی کہ مجسٹریٹس اپنی اپنی ڈیوٹی پوائنٹس پر الرٹ رہیں گے تاکہ عزاداروں کو کسی قسم کی تنگی کا سامنا نہ ہو اور وفاقی دارالحکومت میں بین المسالک ہم آہنگی اور امن و امان کی مقتدر فضاء کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جا سکے۔

محرم الحرام کے محفوظ جلوسوں کا انعقاد: پرامن ماحول کے لیے عوامی نظم و ضبط اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون ناگزیر ہے، چیف ٹریفک آفیسر اسلام آباد کائنات اظہر خان کی اپیل

کاشف عباسی ,june 25,2026

اسلام آباد (سیکیورٹی و ٹریفک رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) اسلام آباد کائنات اظہر خان نے وفاقی دارالحکومت میں محرم الحرام کے مقتدر اجتماعات اور جلوسوں کے دوران ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے عوامی نظم و ضبط کو کلیدی قرار دیا ہے۔ جمعرات کی صبح انہوں نے اسلام آباد کے سیکٹر G-6 میں مرکزی محرم کے جلوس کے روٹ کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹریفک کے تزویراتی انتظامات کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور سیکیورٹی سے متعلق کیے گئے مقتدر اقدامات کی خود نگرانی کی۔ اپنے اس دورے کے دوران میڈیا چینلز کے نمائندوں سے مقتدر گفتگو کرتے ہوئے، سی ٹی او کائنات اظہر خان نے مختلف پوائنٹس پر ٹریفک اہلکاروں کی تعیناتی کا معائنہ کیا، گاڑیوں کے بہاؤ کی نگرانی کی اور جلوس کے روٹ پر الرٹ کھڑے ڈیوٹی افسران کو موقع پر ضروری ہدایات بھی جاری کیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ جلوس کے شرکاء (عزاداروں) اور عام شہریوں کی سیکیورٹی کو ہر قیمت پر یقینی بناتے ہوئے متبادل راستوں پر ٹریفک کی ہموار نقل و حرکت کو برقرار رکھنا اسلام آباد ٹریفک پولیس کی اولین ترجیح ہے۔ سی ٹی او کائنات اظہر خان نے جلوس کے شرکاء اور وفاقی دارالحکومت کے رہائشیوں پر زور دیا کہ وہ ان مقتدر دنوں میں اعلیٰ درجے کے نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں، پولیس کی طرف سے جاری کردہ آفیشل ٹریفک ایڈوائزری پر سختی سے عمل کریں اور شاہراہوں پر تعینات پولیس اہلکاروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ انہوں نے شہریوں سے مقتدر اپیل کی کہ وہ اپنی گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں جلوس کے راستوں پر کھڑی کرنے کے بجائے صرف اور صرف مخصوص کردہ پارکنگ ایریاز میں ہی پارک کریں، تاکہ شہر میں کسی بھی جگہ رش یا بھیڑ پیدا نہ ہو اور کسی بھی ناگہانی صورتحال میں ہنگامی رسائی کے لیے راستے بالکل صاف رہیں۔

اسلام آباد ٹریفک پولیس کے مقتدر ترجمان کے مطابق، مرکزی محرم کے جلوس کے دوران ٹریفک کے فول پروف انتظام اور سڑکوں پر موجود مسافروں کی فوری مدد کے لیے 350 سے زائد ہائی وے اور ٹریفک اہلکار خصوصی طور پر تعینات کیے گئے ہیں۔ مسافروں کی سفری مشکلات کو کم سے کم کرنے اور متاثرہ بند حصوں کے ارد گرد منظم و محفوظ نقل و حرکت کو برقرار رکھنے کے لیے مقتدر ڈائیورشن پلانز ترتیب دیے گئے ہیں۔ سی ٹی او نے اپنے مقتدر بیان کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ ان مذہبی تقریبات کے پرامن اور مقتدر انعقاد کے لیے شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان لائیو اور موثر ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے، اس لیے تمام سڑک استعمال کرنے والے شہری صبر و تحمل سے کام لیں اور دن بھر ٹریفک حکام کی طرف سے جاری کردہ ڈیجیٹل ہدایات پر عمل پیرا رہیں۔

وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کا قیام: محرم الحرام کے دوران فول پروف سیکیورٹی انتظامات کیے جاتے ہیں، ایس پی سٹی زون ڈاکٹر ایاز حسین کی ‘سائیلنٹ شیلڈ’ میں گفتگو

منصور احمد june 25,2026

اسلام آباد (سیکیورٹی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) سٹی زون اسلام آباد ڈاکٹر ایاز حسین نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں محرم الحرام کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ کے لیے پولیس نے ایک جامع اور فول پروف سیکیورٹی حکمت عملی وضع کر لی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مقتدر ڈیجیٹل میڈیا پروگرام “سائیلنٹ شیلڈ” کی خصوصی محرم نشریات میں اینکر پرسن اور تحقیقاتی رپورٹر سید بلال عزت نقوی کے ساتھ ایک مقتدر انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ایس پی سٹی نے واضح کیا کہ محرم الحرام محض کوئی روایتی یا سالانہ سیکیورٹی مشق نہیں ہے، بلکہ یہ ایک گہرا جذباتی، روحانی اور تاریخی موقع ہے جس کے تقدس اور عزاداروں کی حفاظت کے لیے اسلام آباد پولیس کی ذمہ داریاں دوگنی ہو جاتی ہیں۔

ڈاکٹر ایاز حسین نے مقتدر حفاظتی انتظامات کے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا کہ سیکیورٹی پلاننگ کا عمل کئی ہفتے قبل شروع کر دیا گیا تھا، جس کے تحت تمام امام بارگاہوں اور مجالس کے مقامات کی باقاعدہ جیو ٹیگنگ مکمل کر لی گئی ہے۔ حالیہ سیکیورٹی پلان کے مطابق، مخصوص زونز سے مجموعی طور پر 95 جلوس برآمد کیے جائیں گے، جن میں سے 14 انتہائی حساس جلوسوں کو سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کے تحت ‘اے’ کیٹیگری میں برقرار رکھا گیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ صرف یومِ عاشور کے مقتدر موقع پر 4,000 سے زائد پولیس افسران و جوان ڈیوٹی کے فرائض سرانجام دیں گے، جبکہ 300 سے زائد ٹریفک پولیس اہلکار شہر بھر میں قائم 57 سیکیورٹی چیک پوسٹس پر ٹریفک کی روانی کو مقتدر بنائیں گے۔ اس پورے حفاظتی نظام کو پاک فوج، رینجرز اور خفیہ اداروں کی معاونت حاصل ہوگی اور سیف سٹی کیمروں، ڈرونز اور باڈی وارن کیمروں کے ذریعے لائیو مانیٹرنگ کی جائے گی۔

ایس پی سٹی نے اپنے دائرہ اختیار کے حساس ترین روٹس کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ جی 9/4 جامعہ المرتضیٰ سے شروع ہو کر کشمیر ہائی وے پر پی ڈبلیو ڈی چوک تک جانے والا مرکزی جلوس اور جی 6/2 امام بارگاہ اثنا عشری سے برآمد ہونے والا روایتی جلوس بڑے اجتماعات میں شامل ہیں، جس کے باعث عاشورہ کے دن صبح 8 بجے سے رات 8 بجے تک فضلِ حق روڈ، پولی کلینک روڈ اور میونسپل روڈ عام ٹریفک کے لیے مکمل بند رہیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ اسلام آباد پولیس کا کردار محض لاٹھی لے کر کھڑے ہونا نہیں بلکہ مختلف مکاتبِ فکر کے مابین ایک مقتدر پل کا کردار ادا کرنا ہے، جس کے لیے شیعہ اور سنی علماء کرام کو ایک میز پر لا کر امن کا باہمی عہد لیا گیا ہے۔ انٹرویو کے اختتام پر انہوں نے سخت موسم میں 16 سے 18 گھنٹے طویل ڈیوٹی دینے والے پولیس جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلانے سے گریز کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری پولیس کو دیں۔

سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے بڑا فیصلہ: ایس ای سی پی اور نیب کا غیر قانونی سرمایہ کاری اسکیموں کے خلاف مشترکہ کارروائی کے لیے تعاون پر اتفاق، مفاہمتی یادداشت طے کرنے کا فیصلہ

منصور احمد june 24,2026

اسلام آباد (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) اور قومی احتساب بیورو (نیب) نے ملک بھر میں سرمایہ کاری کی غیر قانونی اسکیموں اور غیر قانونی ڈپازٹ ٹیکنگ کے خلاف گرینڈ آپریشن اور مؤثر کارروائی کرنے کے لیے باہمی تعاون کو مزید بڑھانے پر مکمل اتفاق کیا ہے۔ اس سلسلے میں چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نذیر احمد بٹ نے ایس ای سی پی ہیڈ آفس کا ایک اہم مقتدر دورہ کیا، جہاں انہوں نے چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو سے تفصیلی ملاقات کی۔ اس مقتدر ملاقات کے دوران غیر قانونی ڈپازٹ اسکیموں کے خلاف مشترکہ کارروائی، معلومات کے فوری تبادلے اور مربوط انفورسمنٹ کے لیے ایک باقاعدہ مفاہمتی یادداشت طے کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو کا کہنا تھا کہ غیر قانونی ڈپازٹ اسکیمیں غیر معمولی اور فرضی منافع کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے معصوم شہریوں کو اپنی جانب راغب کرتی ہیں اور بعد ازاں انہیں بھاری مالی نقصان پہنچاتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسی تخریبی سرگرمیاں ملک کے مجموعی مالیاتی نظام پر عوام کے اعتماد کو بری طرح مجروح کرتی ہیں اور قانونی کاروباری و مالیاتی اداروں کے لیے بھی شدید نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔ چیئرمین ایس ای سی پی نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ غیر قانونی ڈپازٹ اسکیموں میں ملوث عناصر کے خلاف بروقت اور سخت ترین قانونی کارروائی اب ناگزیر ہو چکی ہے۔ ملاقات میں طے پایا کہ دونوں مقتدر اداروں کے درمیان یہ مضبوط تعاون قانون شکن عناصر کے خلاف فوری کارروائی کو یقینی بنائے گا، قانون پر عمل درآمد کو مزید موثر بنائے گا اور متاثرہ شہریوں کو بروقت ریلیف فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نذیر احمد بٹ نے ملک سے مالی جرائم کے مکمل خاتمے اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے ایس ای سی پی کے حکام کو اپنے قریبی تعاون کا پختہ یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ اور تزویراتی اشتراک نفاذی صلاحیت میں بے پناہ اضافہ کرے گا، احتساب کے عمل کو پہلے سے زیادہ مؤثر بنائے گا اور غیر قانونی ڈپازٹ اسکیموں سمیت دیگر تمام مالیاتی فراڈ کی حوصلہ شکنی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

دوسری جانب ایس ای سی پی نے عوام الناس کی آگاہی کے لیے ایک بار پھر یہ واضح کیا ہے کہ کسی بھی کمپنی کی محض ایس ای سی پی میں رجسٹریشن یا اندراج اسے عوام سے سرمایہ اور ڈپازٹ جمع کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں دیتا۔ کمپنیز ایکٹ 2017ء کی دفعہ 84 کے تحت صرف بینکنگ کمپنیوں اور ایس ای سی پی سے باقاعدہ لائسنس یافتہ اداروں کو ہی یہ اجازت حاصل ہے، ان کے علاوہ کسی بھی دوسری کمپنی یا ادارے کے لیے عوام سے کسی بھی قسم کا ڈپازٹ وصول کرنا سراسر غیر قانونی اور ممنوع ہے، جس پر سخت سزا دی جا سکتی ہے۔

تاریخی علمی روایت سے دوری کا نقصان: فارسی زبان اور اس سے وابستہ علمی ورثے کی جانب دوبارہ رجوع ناگزیر ہے، ماہرینِ تعلیم و محققین کا بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں اہم مکالمہ

روزینہ اسماعیل.june 24,2026

اسلام آباد (علمی و ادبی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

ماہرینِ تعلیم اور مقتدر محققین نے اس اہم امر پر زور دیا ہے کہ جنوبی ایشیا کی علمی، فکری اور تہذیبی تاریخ کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے فارسی زبان اور اس سے وابستہ عظیم علمی ورثے کی جانب دوبارہ رجوع کرنا وقت کی اہم ضرورت اور ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے اسلامی تحقیقاتی ادارے کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک علمی لیکچر اور فکری مکالمے کے دوران کیا گیا، جس میں ملک بھر سے دانشوروں، مقتدر اساتذہ اور طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ لیکچر کے اختتام پر منعقدہ سوال و جواب کی خصوصی نشست میں شرکا نے جنوبی ایشیا میں فارسی خواندگی کے بتدریج زوال، مقامی علمی روایات سے دوری اور مقامی دانش کے نظاموں کی اہمیت پر تفصیلی گفتگو کی۔ مقتدر مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کے فکری ورثے سے موثر اور تزویراتی استفادہ اسی صورت ممکن ہے جب نئی نسل کو ان کی تاریخی علمی روایت سے دوبارہ جوڑا جائے۔

تقریب کے اختتامی کلمات پیش کرتے ہوئے اسلامی تحقیقاتی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم نے کہا کہ برصغیر کے تاریخی مدارس کا نصاب عربی اور فارسی دونوں علمی روایات پر استوار تھا، جس نے اصل متون، شروح اور حاشیوں کے مطالعے کی ایک مضبوط اور متحرک علمی ثقافت کو فروغ دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ علمی تسلسل اس روایتی تصور کی یکسر نفی کرتا ہے کہ مسلم معاشروں میں فکری زوال مکمل طور پر غالب آچکا تھا، بلکہ مسلم علمی روایت نے مختلف ادوار میں اپنی اندرونی قوت اور لچک کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوآبادیاتی دور میں پیدا ہونے والے شدید فکری اور مناظرانہ ماحول نے مسلم علماء کو اپنی ادبی اور علمی میراث کے مقتدر دفاع اور اس کی نئی تشریحات پیش کرنے پر مجبور کیا، جس کے نتیجے میں علمی مباحث اور فکری مکالمے کی نئی تزویراتی جہتیں سامنے آئیں۔

ڈاکٹر محمد اکرم نے کہا کہ مسلم علمی روایت کی تاریخ گہری تحقیق، تنقیدی مطالعے اور علمی تبادلہ خیال سے عبارت ہے، جس نے صدیوں تک علمی سرمائے کے تحفظ اور اس کی نئی نسلوں تک منتقلی کو یقینی بنایا۔ یہ تقریب بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے قائم مقام ریکٹر و صدر پروفیسر احمد سعد الاحمد کے اس مقتدر وژن کی بھی عکاسی کرتی ہے جس کے تحت تعلیمی معیار، بین الاقوامی تعاون اور تحقیق پر مبنی مکالمے کے فروغ کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ اسلامی تحقیقاتی ادارے نے اس مقتدر موقع پر اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مستقبل میں بھی اسی نوعیت کی علمی سرگرمیوں، تحقیقی مکالموں اور قومی و بین الاقوامی جامعات و محققین کے ساتھ تعاون کے ذریعے علم و تحقیق کے فروغ میں اپنا مقتدر کردار مستقل بنیادوں پر جاری رکھے گا۔

پاکستان میں ٹیلی کام خدمات کا جائزہ: پی ٹی اے کا سال 2026ء کی پہلی سہ ماہی کا کوالٹی آف سروس سروے جاری، ڈاؤن لوڈنگ اسپیڈ میں جاز اور ڈیٹا منتقلی میں زونگ نمایاں

منصور احمد june 24,2026

اسلام آباد (ٹیکنالوجی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

پاکستان بھر میں صارفین کو فراہم کی جانے والی ٹیلی کمیونیکیشن خدمات کی مجموعی کارکردگی اور معیار کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سال 2026ء کی پہلی سہ ماہی یعنی جنوری تا مارچ کے دوران ملک کے 18 اہم شہروں میں کوالٹی آف سروس (کیو او ایس) سروے منعقد کیا ہے۔ پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، اس سروے کے لیے خاص طور پر ایسے راستوں اور مقامات کا انتخاب کیا گیا تھا جو مختلف شہروں کی مرکزی شاہراہوں، سروس روڈز اور اہم ترین رہائشی و تجارتی علاقوں پر مشتمل تھے تاکہ انٹرنیٹ اور کالز کے معیار کا حقیقی پتا چلایا جا سکے۔

پی ٹی اے کی فیلڈ ٹیموں نے اس مقتدر مہم کے دوران جدید ترین خودکار کیو او ایس مانیٹرنگ اور بنچ مارکنگ ٹولز کی مدد سے، موبائل ہینڈ سیٹس کو آٹو ڈیٹیکٹ موڈ میں استعمال کرتے ہوئے وائس کالز، ایس ایم ایس اور موبائل براڈبینڈ و ڈیٹا سیشنز کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ اس پورے عمل کا بنیادی مقصد نیکسٹ جنریشن موبائل سروسز (این جی ایم ایس) لائسنسز اور سیلولر موبائل نیٹ ورک کیو او ایس ریگولیشنز 2021ء کے تحت مقررہ معیارِ خدمات کی تعمیل کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینا تھا۔ ان متعلقہ لائسنسز اور ضوابط میں مقرر کردہ حدود کے مقابلے میں ہر کلیدی کارکردگی اشاریے (کے پی آئیز) کی تعمیل کی سطح کو دیکھا گیا، اور اسی بنیاد پر سیلولر موبائل آپریٹرز (سی ایم اوز) کو موبائل نیٹ ورک کوریج، موبائل براڈبینڈ، وائس اور ایس ایم ایس سروسز کے شعبوں میں پہلی سے چوتھی پوزیشن تک باقاعدہ درجہ بندی دی گئی۔

سروے کے حتمی نتائج سے یہ مقتدر حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ مجموعی طور پر تمام سیلولر موبائل آپریٹرز ڈیٹا منتقلی کی رفتار یعنی ڈاؤن لوڈ اور اپ لوڈ اسپیڈ کے حوالے سے پی ٹی اے کے مقررہ معیارات پر پورا اتر رہے ہیں۔ انٹرنیٹ کی ڈاؤن لوڈ اسپیڈ کے شعبے میں جاز نیٹ ورک مسلسل نمایاں پوزیشن پر رہا جبکہ ڈیٹا منتقلی کی عمومی رفتار میں زونگ کی کارکردگی پہلے سے کافی بہتر ریکارڈ کی گئی۔ اس کے برعکس، سروے کے دوران بعض علاقوں میں وائس سروس اور لیٹنسی (انٹرنیٹ سگنل کی تاخیر) سے متعلق چند اہم ترین کے پی آئیز مقررہ لائسنس یافتہ حدود سے واضح طور پر کم پائے گئے، اور یہ کمی خصوصاً ٹیلی نار نیٹ ورک کے صارفین کے لیے دیکھی گئی۔ پی ٹی اے کے مطابق، ایل ٹی ای کیریئر ایگریگیشن اور وائس اوور ایل ٹی ای جیسی جدید ترین ٹیکنالوجیز کا استعمال کرنے والے موبائل آپریٹرز نے اپنے صارفین کو نسبتاً بہترین اور مقتدر معیارِ خدمات فراہم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔