پاکستان میں توانائی، معدنیات، آئی ٹی اور زراعت کے شعبوں میں امریکی سرمایہ کاری کی خواہش؛ وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی واشنگٹن میں ڈی ایف سی کے حکام سے ملاقات

محمود احمد, JULY 22,2026

اسلام آباد/واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقیاتی مالیات (ڈی ایف سی) کے اعلیٰ سطح کے نمائندوں سے اہم ملاقات کی، جس دوران پاکستان کے توانائی، معلومات و مواصلات (آئی ٹی)، بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر)، معدنیات، خوراک اور زراعت جیسے اہم ترین ترجیحی شعبوں میں ادارے کے بھرپور تعاون اور شراکت داری کی خواہش کا اظہار کیا۔

فنانس ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، ملاقات کے دوران وزیرِ خزانہ نے کہا کہ حکومت پاکستان ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے ان تمام شعبوں کو خصوصی اہمیت دے رہی ہے۔ انہوں نے امریکی ادارے کی جانب سے بندرگاہوں، مواصلات، آئی ٹی، توانائی، معدنیات، ادویات سازی، صنعتی پیداوار اور فراہمی کا نظام (سپلائی چین) بہتر بنانے جیسے اہم شعبوں پر خصوصی توجہ دینے کے اقدام کا پرخلوص خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ امریکی ادارے کا یہ عمل حکومتِ پاکستان کی قومی ترقیاتی ترجیحات سے کامل مطابقت رکھتا ہے۔

وزیرِ خزانہ نے ڈی ایف سی کی ماہرین پر مشتمل ٹیم کو باقاعدہ دورۂ پاکستان کی دعوت دی تاکہ ملک میں فوری سرمایہ کاری کے قابل عملی منصوبوں کی نشاندہی کی جا سکے اور مقامی و بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر تجارتی بنیادوں پر کام شروع کیا جا سکے۔

ملاقات کے دوران پاکستان کے اندر امریکی ادارے ڈی ایف سی کا مستقل نمائندہ دفتر قائم کرنے کے امکانات اور مستقبل میں امریکی کانگریس کے اعلیٰ سطح کے وفود کے ساتھ دوطرفہ معاشی روابط کو مزید وسعت دینے سے متعلق اہم امور پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

پاک ایران ریلوے تعاون اور باہمی تجارت کے فروغ کا عزم؛ اسلام آباد، تہران، استنبول مال بردار ٹرین سروس کی بحالی پر تبادلۂ خیال

منصور احمد, JULY 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی سے ایران کے وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی نے ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ اہم ملاقات کی، جس میں پاکستان میں ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران دونوں برادر ممالک کے درمیان ریلوے تعاون، سرحد پار رابطوں اور باہمی تجارت کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر ‘اسلام آباد-تہران-استنبول’ مال بردار ٹرین سروس کی بحالی پر گفتگو کے ساتھ ساتھ 1959ء کے دوطرفہ ریلوے معاہدے اور 2025ء کے تعاون کے فریم ورک کے تحت تکنیکی و تجارتی روابط کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

وفاقی وزیرِ ریلوے حنیف عباسی نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ‘مین لائن تھری’ پاکستان اور ایران کے درمیان ریلوے رابطے کا بنیادی کوریڈور ہے۔ اس اہم ریلوے لائن کی اپ گریڈیشن کا کام اسی مالی سال کے دوران شروع ہونے کی توقع ہے جو دسمبر 2029ء تک مکمل ہوگا، جس سے علاقائی تجارت کو غیر معمولی فروغ حاصل ہوگا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایرانی ریلوے کی درخواست پر تفتان ریلوے اسٹیشن کو باقاعدہ طور پر ‘کسٹمز کلیئرنس اسٹیشن’ کا درجہ دے دیا گیا ہے تاکہ سرحد پار مال برداری کا عمل آسان بنایا جا سکے۔

حنیف عباسی نے زاہدان سے تفتان کے ریلوے سیکشن کی بحالی پر ایرانی اقدامات کو سراہا اور حالیہ چیلنجز کے دوران ایرانی قوم اور قیادت کی استقامت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی نے گرمجوش میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاک ایران تعلقات تاریخی، مضبوط اور انتہائی گہرے ہیں جو گزشتہ دو سالوں میں مثالی سطح تک پہنچے ہیں۔ انہوں نے حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کی غیر متزلزل حمایت، بالخصوص وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مؤثر سفارتی کاوشوں اور مخلصانہ کوششوں کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ ایرانی وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ مشکل وقت میں پاکستان کے اس برادرانہ اور مخلصانہ کردار کو ایرانی قوم ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھے گی اور یاد رکھے گی۔

پاکستان کا شام میں شامی قیادت میں عبوری انصاف اور قومی مفاہمت کی حمایت کا اعادہ

محمود احمد, JULY 22,2026

اقوامِ متحدہ/نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

پاکستان نے شام میں عبوری انصاف کے لیے شامی قیادت اور شامی ملکیت پر مبنی عمل کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ قومی ملکیت، مفاہمت اور جامع ادارے ہی شام میں پائیدار امن و استحکام کے قیام کی اصل بنیاد ہیں۔

شام میں عبوری انصاف اور لاپتا افراد سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے شامی حکومت کی جانب سے عبوری انصاف اور لاپتا افراد سے متعلق قومی کمیشنوں کے قیام اور عبوری انصاف سے متعلق مجوزہ قانون کی تیاری جیسے مثبت اقدامات کا خیرمقدم کیا۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ شامی قومی اداروں اور متعلقہ بین الاقوامی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون، شامی قیادت میں جاری کوششوں کا مددگار ہونا چاہیے، جبکہ شام کی خودمختاری اور قومی ملکیت کا مکمل احترام بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عبوری انصاف قومی مفاہمت کے فروغ، باہمی اعتماد کی بحالی، سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے اور متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ کی جائز توقعات پوری کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے شام کے لیے پاکستان کی مستقل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو شامی حکومت اور عوام کی دیرپا امن، استحکام، قومی مفاہمت اور تعمیرِ نو کی کوششوں میں بھرپور معاونت فراہم کرنی چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ایک پرامن اور خوشحال مستقبل کے حصول کے لیے شام کی حکومت اور عوام کے ساتھ اپنی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔

فلائی دبئی نے شام کے تاریخی شہر حلب کے لیے روزانہ براہِ راست پروازوں کا آغاز کر دیا

محمود احمد, JULY 21,2026

ابوظہبی/دبئی (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

متحدہ عرب امارات کی معروف عالمی فضائی کمپنی ‘فلائی دبئی’ نے شام کے دوسرے بڑے اور تاریخی شہر ‘حلب’ کے لیے روزانہ کی بنیاد پر براہِ راست پروازیں شروع کر دی ہیں۔ دمشق کے بعد حلب، شام کے اندر ایئرلائن کی دوسری مرکزی منزل بن گئی ہے۔

اماراتی نیوز ایجنسی ‘وام’ کے مطابق، فلائی دبئی کے چیف کمرشل آفیسر حمد عبیداللہ نے تفصیلات بتاتے ہوئے بتایا کہ افتتاحی پرواز پیر کے روز دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 سے باقاعدہ روانہ ہوئی۔ حلب انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر طیارے کے اترتے ہی اسے روایتی ‘واٹر کینن’ سے سلامی دی گئی اور مقامی حکام نے مسافروں کا پرُتپاک استقبال کیا۔

ایئرلائن حکام کے مطابق، یہ نئی فلائٹ سروس متحدہ عرب امارات اور شام کے درمیان معاشی و تجارتی رابطوں کو مزید مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ کاروباری شخصیات، سیاحوں اور تارکینِ وطن کو بہترین سہولیات فراہم کرے گی۔ خاص طور پر موسمِ گرما کے دوران خلیجی ممالک (جی سی سی) میں مقیم شامی برادری کو اپنے وطن جانے کے لیے ایک آسان اور بااعتماد ذریعہ میسر آئے گا۔ حلب کے لیے یہ نئی فلائٹ ڈائریکٹ سروس دمشق کے لیے فلائی دبئی کی پہلے سے جاری یومیہ تین پروازوں کے علاوہ ہوگی۔

حمد عبیداللہ نے مزید بتایا کہ حلب کے لیے پروازیں ‘فلائی دبئی’ اور ‘ایمریٹس’ کے مشترکہ کوڈ شیئر معاہدے کے تحت چلائی جا رہی ہیں اور تمام پروازیں روزانہ کی بنیاد پر دبئی کے ٹرمینل 3 سے آپریشنل ہوں گی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایئرلائن اپنے عالمی نیٹ ورک کو تیزی سے وسعت دے رہی ہے؛ بنکاک اور لیبیا کے شہر بن غازی کے بعد حلب کا اضافہ اسی سلسلے کی کڑی ہے، جبکہ 23 ستمبر 2026ء سے نیپال کے شہر پوکھرا کے لیے بھی فلائی دبئی کی نئی پروازوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا۔

چینی کوسٹ گارڈ پر حملہ اور خطرناک انداز میں جہاز ٹکرانے کی کوشش سنگین حرکت ہے؛ چین اپنی علاقائی خودمختاری کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گا، چینی وزارتِ خارجہ، پریس ریلیز

منصور احمد, JULY 21,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

چین نے جنوبی چین کے سمندر میں واقع ‘رینائی ریف’ کے قریب فلپائن کی جانب سے کی جانے والی دانستہ عسکری اشتعال انگیزی اور چینی کوسٹ گارڈ کے اہلکاروں پر حملے کے شدید واقعے پر فلپائن کے سفیر کو وزارتِ خارجہ طلب کر کے سخت ترین احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

چائنا گلوبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک (‘سی جی ٹی این’) کے مطابق، چین کی وزارتِ خارجہ کے شعبہ برائے سرحدی و بحری امور کے اعلیٰ عہدیدار نے منگل کے روز موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ رینائی ریف، چین کے نانشا جزائر کا نکھرتا حصہ اور چینی سرزمین ہے۔ اس تناظر میں چینی کوسٹ گارڈ کا رینائی ریف کے ملحقہ سمندری حدود میں قانون نافذ کرنا بالکل جائز، قانونی اور آئینی حق ہے۔

چینی حکام نے واقعے کی تفاصیل بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ فلپائن کے غیر قانونی طور پر رینائی ریف میں “گراؤنڈ شدہ” (پھنسے ہوئے) جنگی جہاز سے دو ربڑ کی کشتیاں اتاری گئیں، جنہوں نے انتہائی خطرناک اور جارحانہ انداز میں چینی کوسٹ گارڈ کے جہازوں کے قریب آ کر ان سے ٹکرانے کی ناپاک کوشش کی۔ اس دوران فلپائنی اہلکاروں نے چینی قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو جان بوجھ کر ہراساں کیا اور ان پر حملہ آور ہوئے، جس سے چینی اہلکاروں کی سلامتی اور جانوں کو شدید خطرات لاحق ہوئے۔

چینی وزارتِ خارجہ نے فلپائن کے اس اقدام کو انتہائی تشویشناک اور سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اشتعال انگیزی کا آغاز فلپائن کی جانب سے کیا گیا، لیکن بعد میں فلپائنی حکام نے الٹا حقائق کو مسخ کرتے ہوئے چین پر بے بنیاد الزامات عائد کیے اور معاملے کو میڈیا میں بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی ناکام کوشش کی، جس پر بیجنگ شدید عدم اطمینان کا اظہار کرتا ہے۔

چینی عہدیدار نے فلپائن سے حتمی مطالبہ کیا ہے کہ وہ بحری سرحدوں پر فوری طور پر تمام تر اشتعال انگیز اقدامات، کشیدگی بڑھانے والی سرگرمیاں اور بے بنیاد پراپیگنڈا بند کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ چین اپنی اقلیمی و علاقائی خودمختاری اور سمندری حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے تمام تر ضروری اور تادیبی اقدامات بلا جھجھک جاری رکھے گا۔

غزہ شہر میں اسرائیلی فضائی حملہ: ایک ہی خاندان کے 6 افراد بشمول 4 معصوم بچے شہید

محمود احمد, JULY 21,2026

غزہ (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

اسرائیلی فوج نے جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے منگل کو فجر کے وقت غزہ شہر پر ایک اور وحشیانہ فضائی حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد بشمول میاں، بیوی اور ان کے چار معصوم بچے موقع پر ہی شہید ہو گئے۔

‘مرکزِ اطلاعاتِ فلسطین’ کے مطابق، اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ شہر کے علاقے ‘حی الصبرہ’ میں واقع ایک رہائشی مکان کو نشانہ بنایا۔ اس اندوہناک حملے کے نتیجے میں فراس أحمد المصری، ان کی اہلیہ سلسبيل محمد علی المصری اور ان کے چار معصوم بچے نعيم، فريال، سلمى اور أميرہ جامِ شہادت نوش کر گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق، بمباری سے گھر میں ہولناک آگ بھڑک اٹھی جس کی وجہ سے سول ڈیفنس اور ریسکیو ٹیموں کو لاشیں نکالنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں فائر فائٹنگ کی ٹیموں نے غزہ میونسپلٹی کے عملے کے تعاون سے آگ پر قابو پا کر شعلوں کو قریبی مکانات تک پھیلنے سے روکا۔

دریں اثنا، اسرائیلی فورسز نے جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے مشرقی علاقوں میں شدید فائرنگ کے ساتھ ساتھ توپ خانے سے گولہ باری کی۔ منگل کی صبح خان یونس کے علاقے مواصی میں بئر 19 کے قریب اسرائیلی فائرنگ سے ایک شہری شدید زخمی بھی ہوا۔ علاوہ ازیں، گزشتہ رات شمالی غزہ کے جبالیا کیمپ میں واقع ‘یمن السعيد ہسپتال’ کی پہلی منزل پر صیہونی ڈرون حملے میں 4 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔

فلسطینی وزارتِ صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ سال 10 اکتوبر کو طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے آغاز سے لے کر اب تک اسرائیلی عسکری کارروائیوں اور خلاف ورزیوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 1,169 تک جا پہنچی ہے، جبکہ 3,756 افراد زخمی ہوئے ہیں اور تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے 802 شہدا کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔

آئی ایم ایف نے نئے توسیعی پروگرام کے تحت یوکرین کے لیے 690 ملین ڈالر کی فوری قسط کی منظوری دے دی

محمود احمد, JULY 21,2026

واشنگٹن ڈی سی (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے توسیعی فنڈ سہولت کے تحت یوکرین کے لیے 690 ملین امریکی ڈالر کا نیا قرضہ فراہم کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

روس کی خبر رساں ایجنسی ‘تاس’ کے مطابق، اس اہم مالیاتی قسط کی فراہمی کا ابتدائی معاہدہ 12 جون کو فریقین کے مابین طے پایا تھا۔ آئی ایم ایف کی پریس سروس کی جانب سے جاری کردہ رسمی بیان میں بتایا گیا کہ فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ نے یوکرین کے لیے نئے قرضہ امدادی پروگرام کے تحت 690 ملین ڈالر کی اس نئی قسط کی حتمی منظوری دے دی ہے۔

آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ اور ماہرین کی ٹیم نے یوکرین کے 8.1 بلین ڈالر مالیت کے چار سالہ (48 ماہ) توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کا پہلا کامیابی سے جائزہ مکمل کیا۔ جاری کردہ سرکاری دستاویز کے مطابق، آئی ایم ایف کے وضع کردہ اہداف اور اصلاحات کے تناظر میں یوکرین کی مجموعی کارکردگی بڑے پیمانے پر تسلی بخش رہی ہے، جس کے باعث 690 ملین ڈالر کی رقم فوری طور پر یوکرین کو منتقل کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد اضافی سنگین محصولات؛ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈا کے خلاف تعزیری اقدام

محمود احمد, JULY 21,2026

واشنگٹن ڈی سی (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے امریکا درآمد کی جانے والی درجنوں اشیائے ضروریات پر 50 فیصد کے بھاری محصولات (ٹیرفس) عائد کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جس سے دونوں اتحادی ممالک کے درمیان ایک نئی اور شدید عالمی تجارتی جنگ چھڑنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

‘رائٹرز’ کی عالمی رپورٹ کے مطابق، امریکی انتظامیہ نے اس سخت ترین اقدام کو جواز بناتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کی حکومت امریکی ساختہ گاڑیوں، الکحل اور دودھ (ڈیری) کی مصنوعات کے ساتھ مسلسل غیر منصفانہ اور امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔ شراب، سیمنٹ، سوئمنگ پولز، فرنیچر، کپڑوں، بیجوں سے لے کر آئس ہاکی کے سامان تک پر یہ تعزیری ٹیکس لاگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 1930ء کے تاریخی ٹیرف ایکٹ کے سیکشن 338 کا سہارا لیا ہے۔ یہ قانون امریکی صدر کو یہ خصوصی اختیارات دیتا ہے کہ وہ امریکی تجارتی مفادات اور اشیاء کے خلاف امتیازی سلوک کرنے والے ممالک پر 50 فیصد تک تعزیری محصولات عائد کر سکے۔ واضح رہے کہ امریکی تاریخ میں اس قانون کا استعمال تقریباً ایک صدی بعد پہلی بار کیا گیا ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے مطابق، یہ نئے ٹیرفس اگلے 30 دنوں میں باضابطہ لاگو ہوں گے جس سے کینیڈا سے امریکا آنے والی تقریباً 20 ارب ڈالر کی برآمدات براہِ راست متاثر ہوں گی۔ امریکی مردم شماری بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق یہ کینیڈا سے امریکا درآمد کی جانے والی مجموعی مصنوعات کا تقریباً 5.2 فیصد بنتا ہے۔

دوسری جانب، کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے امریکی اقدام پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایک رسمی بیان میں کہا کہ ان کی حکومت نے امریکا کے ساتھ تمام تجارتی تحفظات اور تنازعات کو دور کرنے کے لیے انتہائی جامع اور معقول تجاویز پیش کی تھیں، لیکن اس کے باوجود امریکی صدر کی جانب سے عائد کیے جانے والے یہ یکطرفہ محصولات شمالی امریکا کے آزاد تجارتی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں ایرانی حملوں میں 100 سے زائد امریکی فوجی زخمی؛ پینٹاگون نے تصدیق کر دی

منصور احمد, JULY 21,2026

واشنگٹن ڈی سی (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

امریکی وزارتِ دفاع (پینٹاگون) نے باضابطہ تصدیق کی ہے کہ رواں ماہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے متعدد فضائی اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں تقریباً 100 امریکی فوجی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

پینٹاگون کے مرکزی ترجمان سین پارنیل نے ذرائع ابلاغ کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 7 جولائی 2026ء کے بعد سے شروع ہونے والی ایرانی حملوں کی نئی لہر میں 100 کے قریب امریکی فوجیوں کو مختلف نوعیت کے زخم آئے ہیں۔ تاہم ترجمان نے واضح کیا کہ ان میں سے 96 فیصد اہلکار معمولی زخمی تھے، جو ابتدائی طبی امداد کے بعد دوبارہ اپنے فرائضِ منصبی کی ادائیگی کے لیے ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔

گزشتہ ہفتے کے اختتام پر امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے جاری کردہ تشویشناک رپورٹس کے مطابق اردن میں ایک امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 2 امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ ایک لاپتہ فوجی اہلکار کے مقام سے نامعلوم باقیات ملی ہیں۔ اس کے علاوہ عراق میں ایرانی خودکش ڈرون کے باقی ماندہ دھماکا خیز مواد کو کنٹرولڈ طریقے سے تباہ کرنے کے دوران ایک اور امریکی فوجی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ پینٹاگون نے فی الحال تازہ ترین حملوں کے مکمل نقصانات اور زخمیوں کی حتمی فہرست کو بوجوہ عام نہیں کیا۔

امریکی فوج کے ہلاک اور زخمی اہلکاروں کا مکمل ریکارڈ رکھنے والے ادارے ‘ڈیفنس کیژولٹی اینالیسس سسٹم’ کے مطابق، امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ عسکری تصادم کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 413 سے زائد امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں (جس میں جاری جولائی کے مہینے کے زخمی شامل نہیں ہیں)۔ اعداد و شمار کی الگ رپورٹ کے مطابق زخمیوں کی یہ تعداد 427 تک جا پہنچتی ہے، جبکہ اردن اور عراق میں ہونے والی تازہ ہلاکتوں کو شامل کرنے کے بعد اس تصادم میں اب تک ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی کل تعداد 17 ہو گئی ہے۔

بنگلہ دیشی پاسپورٹ پر ‘سوائے اسرائیل’ کے الفاظ کی بحالی کا باضابطہ فیصلہ؛ رواں ماہ سے نئے پاسپورٹس کی چھپائی کا آغاز

محمود احمد, JULY 21,2026

ڈھاکہ (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

بنگلہ دیش کی وزارتِ داخلہ نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ رواں ماہ سے ایسے نئے پاسپورٹس کی چھپائی شروع کی جا رہی ہے جن پر ماضی کی طرح یہ عبارت دوبارہ درج ہوگی کہ “یہ پاسپورٹ سوائے اسرائیل کے دنیا کے تمام ممالک کے لیے مؤثر ہے”۔

‘عرب نیوز’ کے مطابق، بنگلہ دیشی وزارتِ داخلہ کے ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹر ضیاء الدین احمد نے بتایا کہ اس فیصلے کے اطلاق کے لیے سرکاری حکم نامہ جاری کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ نئے پاسپورٹس کی چھپائی رواں جولائی کے مہینے سے شروع کر دی جائے گی اور شہریوں کو ان کا باضابطہ اجرا رواں سال اکتوبر سے متوقع ہے۔

وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ پاسپورٹ پر کی جانے والی یہ بنیادی تبدیلی حکومتِ بنگلہ دیش کے سیاسی موقف کی عکاسی کرتی ہے، جو دنیا بھر کو یہ واضح پیغام دیتی ہے کہ بنگلہ دیشی قوم اپنے مظلوم فلسطینی بہن بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام عوامی جذبات اور خواہشات کی حقیقی ترجمانی ہے۔

واضح رہے کہ سال 2021ء تک بنگلہ دیشی پاسپورٹ پر یہ تاریخی عبارت درج تھی، تاہم سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت نے ای-پاسپورٹ متعارف کراتے وقت اس شق کو خاموشی سے حذف کر دیا تھا۔ اکتوبر 2023ء میں غزہ میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے بنگلہ دیشی عوام کی جانب سے اس شق کی فوری بحالی کے مطالبات میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، جس پر موجودہ حکومت نے عملدرآمد یقینی بنایا ہے۔

کویت میں امریکی فوج کے ریڈار سسٹمز اور راکٹ لانچنگ تنصیبات پر حملہ؛ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ

کاشف عباسی , JULY 21,026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے منگل کی صبح ایک جاری بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کویت میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر کارروائی کرتے ہوئے اہم ریڈار سسٹمز اور دفاعی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘بی بی سی’ کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ کویت کے احمد الجابر ایئر بیس پر کیے گئے اس حملے میں امریکی فوج کے وہ اہم ریڈار اور دفاعی نظام تباہ کر دیے گئے ہیں جو کسی بھی فضائی حملے کی پیشگی اطلاع دینے اور ان کا تدارک کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ ایرانی فورسز کے مطابق، ان دفاعی سسٹمز کو ناکارہ بنانے کے بعد ایران کے مزید ڈرونز اور میزائل حملوں کے لیے راستہ صاف ہو گیا ہے۔

اس کے علاوہ، ایرانی فوج کے بری دستوں نے ‘آپریشن صاعقہ’ کے 18 ویں مرحلے کے تحت زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے کویت کے عارف جان اڈے کو بھی نشانہ بنایا۔ اس کارروائی میں وہاں تعینات امریکی فوج کے جدید اور متحرک راکٹ لانچنگ سسٹم (ایچ آئی ایم اے آر ایس) کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ایرانی فوج کی جانب سے اس کارروائی کے ثبوت کے طور پر میزائلوں کے برسات کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے۔

دوسری جانب، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) اور کویتی حکام کی طرف سے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ان ادعاؤں پر فی الحال کوئی رسمی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

پورٹس اور بندرگاہوں کی جدید کاری حکومت کی اولین ترجیح؛ چینی سرمایہ کاروں کو میری ٹائم، لاجسٹکس اور گرین شپنگ میں سرمایہ کاری کی باضابطہ دعوت

منصور احمد, JULY 21,2026

بیجنگ/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری نے چین کے دارالحکومت بیجنگ میں منعقدہ مقتدر “ریجنل ٹرانزٹ ٹریڈ ہب انیشی ایٹو” سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو علاقائی تجارت اور لاجسٹکس کا انتہائی اہم مرکز قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے تزویراتی خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان جغرافیائی اور اقتصادی طور پر خطے کا سب سے بڑا تجارتی راہداری کا مرکز بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

بیجنگ میں تقریب سے خطاب کے دوران وفاقی وزیر جنید انوار چوہدری نے زور دے کر کہا کہ گوادر پورٹ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا سب سے اہم اور بنیادی اقتصادی محور ہے، جبکہ حکومتِ پاکستان اس وقت ملکی تمام بندرگاہوں کی جدید کاری اور ڈیجیٹلائزیشن کو اپنی اولین اور تادیبی ترجیح بنا چکی ہے۔ انہوں نے چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے میری ٹائم اور لاجسٹکس کے شعبوں میں کھل کر سرمایہ کاری کرنے کی باضابطہ دعوت دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ حکومت تمام غیر ملکی اور بالخصوص چینی سرمایہ کاروں کو مکمل شفاف، محفوظ اور سرمایہ کار دوست ماحول فراہم کر رہی ہے۔

وفاقی وزیرِ بحری امور نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ لاجسٹکس، ڈیجیٹل تجارت اور گرین شپنگ جیسے جدید شعبوں میں دونوں ممالک کے مابین باہمی تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک-چین تزویراتی شراکت داری اب ایک بالکل نئے معاشی و اقتصادی دور میں داخل ہو چکی ہے، جو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے میں پائیدار خوشحالی، باہمی تجارت اور مواصلاتی رابطہ سازی کو نچلی سطح تک فروغ دینے میں اہم ترین کردار ادا کرے گی۔

ہیٹی میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کے لیے ہیٹی کی قیادت میں تمام تر اقدامات کی حمایت پر زور؛ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کا اہم اور مقتدر بیان

محمود احمد, JULY 20,2026

نیویارک، اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

پاکستان نے ہیٹی کو درپیش سنگین اور کثیرالجہتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہیٹی کی اپنی قیادت اور ملکیت پر مبنی جامع تزویراتی حکمتِ عملی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام صرف سیاسی اتفاقِ رائے، مضبوط قومی سلامتی کے اداروں اور مربوط علاقائی و بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس میں ہیٹی سے متعلق بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ملک میں دیرپا استحکام کا تمام تر انحصار ہیٹی کے تمام متعلقہ فریقوں کی جانب سے دانشمندانہ سیاسی اور طرزِ حکمرانی سے متعلق تادیبی فیصلوں پر ہے۔ انہوں نے اس بات پر شدید زور دیا کہ متفقہ اور مقررہ مدت کے اندر آزادانہ، شفاف اور جامع انتخابات کے انعقاد کے لیے سازگار اور امن پسند ماحول پیدا کرنا انتہائی ناگزیر ہے۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے اپنے مقتدر خطاب میں ہیٹی میں امن و امان کی فوری بحالی، روز بروز بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال، خصوصاً خواتین اور بچوں پر مسلح گینگ تشدد کے تباہ کن اثرات سے نمٹنے کی تزویراتی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے ہتھیار پھینکنے، غیر مسلح کرنے، سابق جنگجوؤں کی بحالی اور انہیں معاشرے کے دھارے میں دوبارہ شامل کرنے کے عمل کو تیز کرنے کے ساتھ ساتھ اقوامِ متحدہ کے پابندیوں کے نظام پر مؤثر عملدرآمد کے ذریعے ہیٹی میں غیر قانونی ہتھیاروں اور بارود کی ترسیل کو فوری طور پر روکنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

پاکستانی وپاد کی جانب سے ہیٹی کے عوام اور حکومت کے لیے اپنی مکمل سفارتی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے صائب الفاظ میں کہا کہ کسی بھی دیرپا حل کے لیے ہیٹی کی اپنی قیادت پر مبنی عمل ہی ناگزیر ہے، جو باہمی مکالمے، تعاون اور مؤثر علاقائی و بین الاقوامی معاونت پر استوار ہو۔ انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر اس عزم کو دہرایا کہ پاکستان ہیٹی میں پائیدار امن، ترقی اور عوام کی خوشحالی کے قیام کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر اپنی تعمیری اور تادیبی معاونت جاری رکھے گا۔

پاک-کینیڈا تاریخی مشترکہ اعلامیہ جاری؛ تجارت، صاف توانائی، کان کنی اور زراعت میں تزویراتی تعاون کے فروغ پر مکمل اتفاق

محمود احمد, JULY 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

پاکستان اور کینیڈا نے دوطرفہ سفارتی، معاشی اور عوامی روابط میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کے مابین شراکت داری کو نئی تزویراتی بلندیوں پر لے جانے کے پختہ عزم کا اظہار کیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی مشترکہ اعلامیے کے مطابق، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی خصوصی دعوت پر کینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند نے ۲۰ جولائی ۲۰۲۶ء کو پاکستان کا اہم سرکاری دورہ کیا، جو کہ ان کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلا باضابطہ دورۂ پاکستان ہے۔ وزارتِ خارجہ میں دونوں رہنماؤں کے مابین ون آن ون ملاقات اور وفود کی سطح پر تفصیلی مذاکرات ہوئے جس میں دوطرفہ تعلقات اور عالمی و علاقائی امور کا احاطہ کیا گیا۔

مشترکہ اعلامیے کے مطابق، نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کینیڈین ہم منصب کو خطے میں جاری تنازعات کے حل کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں سے آگاہ کیا۔ وزیرِ خارجہ انیتا آنند نے پاکستان کے اس سفارتی کردار کو سراہا جس کے نتیجے میں تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت طے پائی۔ دونوں وزراء نے پائیدار جنگ بندی اور اس یادداشت کے تحت کیے گئے تمام وعدوں پر عمل درآمد پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے فروری ۲۰۲۶ء میں منعقد ہونے والے دوطرفہ مشاورتی اجلاس کے چھٹے دور کو انتہائی کامیاب قرار دیتے ہوئے تزویراتی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔ ملاقات میں کینیڈا میں مقیم ۳ لاکھ سے زائد پاکستانی نژاد افراد اور ۹ ہزار سے زائد پاکستانی طلبہ کی گراں قدر خدمات کو سراہتے ہوئے پارلیمانی، ثقافتی اور عوامی روابط کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

معاشی اور تجارتی شعبے میں دونوں وزراء نے غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ و فروغ کے معاہدے پر ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور مذاکرات جلد مکمل کرنے کے لیے باقاعدہ رابطے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا، جبکہ پاک-کینیڈا مشترکہ ورکنگ گروپ برائے تجارت و سرمایہ کاری کو بھی دوبارہ فعال کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ توانائی کے شعبے میں کینیڈین کمپنی جے سی ایم پاور کے ۲۴۰ میگاواٹ دھابیجی ہائبرڈ ونڈ سولر منصوبے کو تمام ضروری ریگولیٹری منظوری ملنے کا خیرمقدم کیا گیا، جو کے الیکٹرک کے اشتراک سے پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی کی فراہمی میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔ غذائی تحفظ کے حوالے سے دونوں رہنماؤں نے کینیڈین کینولا کی درآمد کے لیے نباتاتی صحت کی شرائط پر مبنی ایک نئے پروٹوکول پر دستخط کیے، جبکہ پاکستان کی نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی، ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اور کینیڈین فوڈ انسپیکشن ایجنسی کے مابین تکنیکی تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔

اعلامیے کے آخر میں واضح کیا گیا کہ فریقین نے عالمی سپلائی چینز میں اہم معدنیات کی تزویراتی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کان کنی کے شعبے اور معدنی تلاش میں کینیڈا کی مہارت سے فائدہ اٹھانے پر اتفاق کیا، جس کے تحت وزیرِ خارجہ انیتا آنند نے سینیٹر اسحاق ڈار کو ۲۰۲۷ء میں کینیڈا میں منعقد ہونے والی پی ڈی اے سی کانفرنس میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی۔ علاقائی امن و سلامتی، خاص طور پر افغانستان کی صورتحال اور دہشت گردی کے خطرات پر تبادلۂ خیال کرتے ہوئے کینیڈین وزیرِ خارجہ نے اعلان کیا کہ کینیڈا اقوامِ متحدہ اور انٹرپول کے ذریعے پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ تعلیم، صحت اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے نئے ترقیاتی منصوبوں کی معاونت بھی کی جائے گی۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک-کینیڈا تعلقات اب ایک بالکل نئے اور مستحکم دور میں داخل ہو چکے ہیں۔

امریکا سے جنگ کا خاتمہ صرف عسکری فتح یا برتری پر مبنی مذاکرات سے ہی ممکن ہے؛ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا مقتدر انتباہ

کاشف عباسی , JULY 20,026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید ترین عسکری تصادم کے مقتدر تناظر میں ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے تہران اور واشنگٹن کے مابین جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم تزویراتی موقف سامنے رکھا ہے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ امریکا کے ساتھ جاری یہ جنگ صرف اسی صورت میں ختم ہو گی جب ایران کو میدانِ جنگ میں واضح برتری حاصل ہو گی، کیونکہ جنگ کا خاتمہ یا تو مکمل عسکری فتح کے ذریعے ممکن ہوتا ہے یا پھر برابری اور برتری کی بنیاد پر ہونے والے مذاکرات کے ذریعے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سفارتی مذاکرات کا درست وقت تب ہی ہوتا ہے جب آپ فوجی محاذ پر ٹھوس میدانی اور تزویراتی کامیابیاں حاصل کر چکے ہوں۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے ملکی قیادت کی حکمتِ عملی کی تادیبی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی زندگیوں اور ملک کے مستقبل کے معاملے میں کوئی خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا، اور تمام فیصلے درست اور مکمل حساب کتاب کی بنیاد پر کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت کو ہر وقت یہ تزویراتی جائزہ لینا چاہیے کہ جنگ جاری رکھنے سے ملک کو فائدہ ہو گا یا اس کی قیمت زیادہ بھاری پڑے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ نقصانات کے باوجود اس جنگ میں ایران ایک مؤثر بین الاقوامی طاقت کے طور پر ابھرا ہے اور اس نے دنیا پر اپنے نظام کی مضبوطی کو ثابت کیا ہے۔ دوسری جانب، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے واشنگٹن کا موقف دہراتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کے ساتھ تنازع کو حل کرنے کے لیے ماضی میں کئی بار مذاکرات کی کوشش کی ہے اور وہ اب بھی اس سفارتی راستے کو کھلا رکھنے کے حق میں ہیں۔

ادھر جنگ کے مقتدر محاذ پر ایرانی فوج کے ترجمان نے ایک انتہائی سخت تادیبی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دشمن کو سخت اور مکمل سبق نہ دیا گیا تو وہ دوبارہ حملہ کرے گا۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ ایران کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی دشمن جنگی سامان آبنائے ہرمز کے ذریعے لانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی، اور امریکا کے ساتھ عسکری معاونت کرنے والے تمام ممالک کو آبنائے ہرمز کے بحری راستے کو استعمال کرنے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا ہو گا۔ یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کی شب مسلسل نویں رات بھی ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں کی گئیں، جن میں ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، بحری صلاحیتوں اور میزائل و ڈرون لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔

اس کے جواب میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے ایک مقتدر تزویراتی کارروائی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اردن کے عقبہ ایئرپورٹ پر موجود امریکی فوج کے بھاری ٹرانسپورٹ طیاروں اور نگرانی کرنے والے طیاروں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد طیاروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایرانی نشریاتی اداروں کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب نے اردن کے موفق السلطی ایئر بیس پر امریکی افواج کے زیرِ استعمال 20 ہینگرز کو بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ایک اور تادیبی بیان میں کویت کے علی السالم ایئر بیس پر موجود امریکی فوجی تنصیبات کو بھی کامیابی سے نشانہ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے، جس سے خطے میں جنگ کے مزید پھیلنے کے شدید خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔

برطانیہ میں نئے سیاسی و معاشی دور کا آغاز؛ نو منتخب وزیرِ اعظم اینڈی برنہم کا حکومت بنانے کی دعوت قبول کرنے کے بعد قوم سے پہلا مقتدر خطاب

محمود احمد, JULY 20,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

برطانیہ کے نو منتخب وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے باقاعدہ طور پر حکومت بنانے کی شاہی دعوت قبول کر لی ہے اور ۱۰ ڈاؤننگ اسٹریٹ میں داخل ہوتے ہی اپنے پہلے مقتدر خطاب میں ملک کے لیے ایک بالکل نئے سیاسی و معاشی ماڈل کا اعلان کر دیا ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق، نئے برطانوی وزیرِ اعظم نے قوم سے پختہ وعدہ کیا ہے کہ ان کی حکومت کی پہلی، بنیادی اور تزویراتی ترجیح صرف اور صرف عوام کی فلاح و بہبود ہو گی۔

وزیرِ اعظم کی سرکاری رہائش گاہ میں قدم رکھتے ہی اینڈی برنہم نے اپنے تادیبی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے حکومت بنانے کی دعوت قبول کر لی ہے اور اب ہمیں پوری دنیا کو یہ دکھانے کی ضرورت ہے کہ ہم برطانیہ میں سیاسی و معاشی استحکام واپس لا سکتے ہیں۔ انہوں نے صائب الفاظ میں کہا کہ یہ لمحات برطانیہ کی تاریخ میں ایک سرکٹ بریکر ثابت ہوں گے؛ ماضی میں ہم اتنے اچھے ثابت نہیں ہو سکے، لیکن اب ہمیں خود کو بہتر بنانا ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ لمحہ تدبر، کڑے خود احتسابی اور ایک نئے تزویراتی عزم کا ہے تاکہ برطانیہ اپنا کھویا ہوا عالمی وقار دوبارہ حاصل کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی رواں سال کے آخر میں ملک کے لیے ایک جامع ۱۰ سالہ ترقیاتی منصوبہ پیش کرے گی، جبکہ عوام کو مہنگائی اور زندگی کے بھاری اخراجات کے بوجھ سے فوری نجات دلانے کے لیے پہلے ہی مرحلے میں ہنگامی اقدامات کا اعلان کیا جائے گا۔

برطانوی وزیرِ اعظم نے اپنے انقلابی اور فلاحی ایجنڈے کو واضح کرتے ہوئے اعلان کیا کہ دفتر سنبھالتے ہی ان کی پہلی ہدایت یہ ہو گی کہ ملک میں سڑکوں اور کھلے آسمان تلے سونے والے بے گھر افراد کے سنگین مسئلے کا مستقل بنیادوں پر خاتمہ کیا جائے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ غریب عوام کی دیکھ بھال کو حکومت کے دل میں رکھا جائے گا، اور اس مقصد کے لیے حکومت غریب اور کم آمدن والے طبقات کے لیے بڑی تعداد میں نجی و سرکاری کونسل ہاؤسز تعمیر کرے گی تاکہ ملک کے ہر ضرورت مند شہری کو چھت میسر آ سکے اور برطانیہ کو ایک حقیقی فلاحی ریاست بنایا جا سکے۔

فرانس کے کیلین ایمباپے نے نئی تاریخ رقم کر دی؛ دو بار عالمی کپ کا گولڈن بوٹ ایوارڈ جیتنے والے دنیا کے پہلے فٹ بالر بن گئے

محمود احمد, JULY 20,2026

ایسٹ ردرفورڈ، نیوجرسی (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

فرانس کے مایہ ناز فٹ بالر اور قومی ٹیم کے کپتان کیلین ایمباپے نے ایک سے زائد بار عالمی کپ کا ‘گولڈن بوٹ’ ایوارڈ حاصل کرنے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی بن کر فٹ بال کی تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف سے لکھوا دیا ہے۔ کیلین ایمباپے فٹ بال ورلڈ کپ کی تاریخ کے وہ پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں جنہوں نے دو مختلف ٹورنامنٹس میں سب سے زیادہ گول اسکور کرنے کا مقتدر اعزاز اپنے نام کیا ہے۔

چینی خبر رساں ادارے ‘شنہوا’ کے مطابق، 23 ویں فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں اسپین کے ہاتھوں ارجنٹائن کی 1-0 سے شکست کے بعد کیلین ایمباپے کی یہ تاریخی کامیابی باضابطہ طور پر سامنے آئی، کیونکہ فائنل معرکے میں ارجنٹائن کے اسٹار کھلاڑی لیونل میسی کوئی گول اسکور نہ کر سکے۔ چار سال قبل قطر میں کھیلے گئے ورلڈ کپ میں 8 گولز کے ساتھ یہ مقتدر اعزاز جیتنے والے کیلین ایمباپے نے اس بار امریکی سرزمین پر کھیلے گئے ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے اکیلے 10 گول داغے اور مزید 4 گول کرنے میں اپنے ساتھی کھلاڑیوں کی معاونت کی۔ فرانس کی ٹیم اس میگا ایونٹ میں چوتھی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔

دوسری جانب، ارجنٹائن کے مقتدر کپتان لیونل میسی کا اس ورلڈ کپ میں سفر 8 گول اور 4 گول اسسٹ کے ساتھ ختم ہوا۔ اگرچہ ارجنٹائن کو فائنل میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، لیکن 39 سالہ لیونل میسی اب بھی عالمی کپ کے بہترین کھلاڑی کو دیے جانے والے ‘گولڈن بال’ ایوارڈ کی دوڑ میں سب سے اہم نام سمجھے جا رہے ہیں۔ لیونل میسی پہلے ہی فٹ بال کی تاریخ میں 1978ء سے شروع ہونے والے اس مقتدر گولڈن بال ایوارڈ کو ایک سے زائد بار جیتنے والے دنیا کے واحد کھلاڑی ہیں اور اس بار بھی وہ اس اعزاز کو حاصل کرنے کے مضبوط امیدوار ہیں۔

پاکستان میں صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کا عزم؛ وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ سے اقوامِ متحدہ کے وفد کی مقتدر ملاقات

منصور احمد, JULY 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

وفاقی وزیرِ قانون، انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے اقوامِ متحدہ کی خواتین کی تنظیم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے چیف آف اسٹاف محمد نصیری نے ایک مقتدر تزویراتی ملاقات کی ہے۔ وزارتِ قانون و انسانی حقوق میں ہونے والی اس ہائی پروفائل ملاقات میں حکومتِ پاکستان اور یو این ویمن کے مابین خواتین کے حقوق، صنفی مساوات، بچیوں کو بااختیار بنانے اور ملکی طرزِ حکمرانی میں خواتین کی شمولیت کے جاری منصوبوں کو مزید مستحکم کرنے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

جاری کردہ آفیشل پریس ریلیز کے مطابق، اقوامِ متحدہ کے اس اعلیٰ سطح کے وفد میں پاکستان کے لیے یو این ویمن کے کنٹری نمائندے جمشید ایم قاضی اور ڈپٹی کنٹری نمائندہ فہمیدہ اقبال خان بھی شامل تھے۔ وفد کا گرمجوشی سے خیرمقدم کرتے ہوئے وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے پاکستان کے سماجی شعبے میں اقوامِ متحدہ کے مسلسل تعاون کو سراہا اور خواتین کے حقوق کے تحفظ، انصاف تک رسائی کو بہتر بنانے اور مؤثر ترین تادیبی پالیسی سازی کے لیے وزارتِ انسانی حقوق اور یو این ویمن کے مابین قریبی شراکت داری پر روشنی ڈالی۔

ملاقات کے دوران خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کے خاتمے سے متعلق زیرِ غور ‘قومی پالیسی’ پر ہونے والی پیش رفت کا جامع جائزہ لیا گیا، جسے یو این ویمن کی تکنیکی معاونت سے صوبائی حکومتوں، سول سوسائٹی اور ماہرینِ تعلیم سے وسیع مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے اس جامع قومی پالیسی کو جلد حتمی شکل دینے اور اس پر مؤثر عمل درآمد کے لیے حکومت کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ فریقین نے آئندہ منعقد ہونے والی سارک کانفرنس پر بھی تبادلۂ خیال کیا اور اسے جنوبی ایشیا میں صنفی مساوات اور علاقائی تعاون کا ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔ اس کے علاوہ، پاکستان کے جینڈر ڈیٹا سسٹم کو مضبوط بنانے، بین الاقوامی کنونشن اور بیجنگ ڈیکلریشن کے تحت رپورٹنگ کو مؤثر بنانے سمیت خواتین کی ڈیجیٹل شمولیت، معاشی خود مختاری اور ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت کے فروغ پر بھی بات چیت کی گئی، تاکہ ٹیکنالوجی کے ذریعے خواتین کے خلاف ہونے والے آن لائن تشدد کا تدارک کیا جا سکے۔

ملاقات کے دوران محمد نصیری نے یو این ویمن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی جانب سے وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ کو ایک مقتدر تعریفی خط پیش کیا، جس میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کے کامیاب انعقاد اور آئندہ دو برس کے لیے کانفرنس کی چیئرمین شپ سنبھالنے پر پاکستان کے قائدانہ کردار کی زبردست تحسین کی گئی۔ محمد نصیری نے وزارتِ انسانی حقوق کے ساتھ مستقبل میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ وفاقی وزیر نے اعادہ کیا کہ پاکستان جامع و پائیدار ترقی کے حصول کے لیے یو این ویمن کے ساتھ اپنے تزویراتی اشتراک کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لیے مکمل تیار ہے۔

زیرِ تعمیر جوہری بجلی گھر پر امریکی حملہ؛ خطے میں پیدا ہونے والے عدم استحکام کی تمام تر ذمہ داری واشنگٹن پر عائد ہوتی ہے، ایران کا مقتدر انتباہ

محمود احمد, JULY 20,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے دارخوین میں زیرِ تعمیر جوہری بجلی گھر پر حالیہ امریکی حملے پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے واشنگٹن کو ایک مقتدر اور تزویراتی انتباہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ اس جارحیت اور عدم استحکام کے نتیجے میں خطے میں پیدا ہونے والی انتہائی سنگین صورتحال کی تمام تر ذمہ داری براہِ راست امریکی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے ‘بی بی سی’ کی عالمی رپورٹ کے مطابق، کاظم غریب آبادی نے اپنے تادیبی بیان میں کہا کہ دارخوین میں زیرِ تعمیر جوہری بجلی گھر پر امریکی حملہ دراصل ایران کے توانائی کے پُرامن انفراسٹرکچر پر ایک انتہائی خطرناک اور بلاجواز حملہ ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر جاری کردہ اپنے باضابطہ بیان میں ایرانی نائب وزیرِ خارجہ نے خبردار کیا کہ بڑھتی ہوئی علاقائی بدامنی کے اسباب صرف اور صرف امریکی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے صائب الفاظ میں کہا کہ تہران اس ننگی جارحیت کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور اپنے قومی مفادات، سالمیت اور علاقائی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ممکن اور مناسب تزویراتی اقدامات اٹھانے کا مکمل قانونی و ریاستی حق محفوظ رکھتا ہے۔

دوسری جانب، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے گزشتہ روز اپنے ایک مقتدر اعلامیے میں اعلان کیا تھا کہ اس نے دارخوین میں زیرِ تعمیر جوہری بجلی گھر کی تعمیراتی سائٹ پر ہونے والے مبینہ امریکی حملے کی رپورٹس کا باقاعدہ اور تادیبی جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ آئی اے ای اے کی جانب سے جاری بیان میں زمینی حقائق واضح کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ جوہری تنصیب ابھی تعمیر کے بالکل ابتدائی مراحل میں ہے اور ایجنسی کے آخری معائنے کے وقت وہاں کوئی بھی جوہری مواد سرے سے موجود نہیں تھا۔ ادارے نے عالمی برادری کو اطمینان دلایا ہے کہ اس مبینہ حملے سے کسی بھی قسم کی تابکاری پھیلنے کا کوئی امکان یا خطرہ نہیں ہے۔ دریں اثنا، آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رفائیل ماریانو گروسی نے تمام فریقین سے اپنی اس اپیل کا سختی سے اعادہ کیا ہے کہ دنیا بھر میں تمام جوہری تنصیبات کے قرب و جوار میں کسی بھی قسم کی فوجی کارروائیوں سے مکمل گریز کیا جائے اور انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا جائے۔

امریکہ صرف ان ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے جہاں سے عالمی تجارتی جہازوں پر حملے کیے جاتے ہیں؛ واشنگٹن اب بھی سفارتی حل کے لیے تیار ہے

محمود احمد, JULY 20,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

مشرقِ وسطیٰ اور آبنائے ہرمز میں جاری شدید ترین بحری و عسکری کشیدگی کے مقتدر تناظر میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا ایک اہم تزویراتی بیان سامنے آیا ہے. ‘انڈیپنڈنٹ اردو’ کی عالمی رپورٹ کے مطابق، امریکی وزیرِ خارجہ نے آسیان وزرائے خارجہ کے اہم ترین اجلاس میں شرکت کے لیے پیر کے روز فلپائن روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دنیا بھر کے دیگر مقتدر ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانے اور اس اہم ترین بحری راستے کو کھلا رکھنے کے لیے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں مخلصانہ طور پر ادا کریں.

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے پریس بریفنگ کے دوران واشنگٹن کی عسکری پالیسی کی تادیبی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج خلیج میں صرف اور صرف ان ایرانی فوجی تنصیبات، ٹھکانوں اور مقامات کو نشانہ بنا رہی ہیں جو عالمی تجارتی جہازوں پر میزائلوں اور خودکش ڈرونز کے ذریعے حملوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں. انہوں نے صائب الفاظ میں واضح کیا کہ آبنائے ہرمز ایک مکمل طور پر بین الاقوامی آبی راستہ ہے، لیکن تہران انتظامیہ مسلسل عالمی قوانین کو پامال کرتے ہوئے اسی آبی گزرگاہ میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف جارحانہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے. مارکو روبیو نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز کو عالمی معیشت کی بقا کے لیے ہر صورت آزاد، محفوظ اور ہر قسم کی رکاوٹ یا حملوں سے پاک رہنا چاہیے، اور اگر ایران جہاز رانی سے متعلق کسی بھی سابقہ مروجہ مفاہمتی انتظام یا بین الاقوامی معاہدے کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے، تو ایسے کسی بھی امن انتظام کا برقرار رہنا ناممکن ہو جاتا ہے.

تزویراتی تناؤ کو کم کرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ امریکہ خطے میں جنگ نہیں چاہتا اور اب بھی اس سنگین معاملے کے مقتدر سفارتی حل کے لیے مکمل تیار ہے. انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ہمیشہ سفارتی راستے کو ترجیح دی ہے اور ہم نے ایران کے ساتھ اس تنازع کو پرامن طور پر حل کرنے کی متعدد بار تادیبی کوششیں کی ہیں؛ چنانچہ اگر تہران کی جانب سے بامقصد مذاکرات کا دروازہ دوبارہ کھلتا ہے تو واشنگٹن اس کا بھرپور خیرمقدم کرے گا. مارکو روبیو نے ایران کی داخلی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس وقت تہران کو شدید ترین معاشی پابندیوں اور اندرونی و خارجی چیلنجز کا سامنا ہے، اور ان نازک حالات میں مزید عسکری محاذ آرائی کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کرنا ہی خود ایران اور پورے خطے کے بہترین مفاد میں ہے.