اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا یمن کے حوالے سے سلامتی کونسل سے خطاب: بحیرہ احمر میں پاکستانی عملے کی ہلاکت اور تجارتی جہاز پر حوثی حملے کی شدید مذمت

محمود احمد, August 14,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 13 اگست 2026ء

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے بریفنگ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یمن کی بدلتی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے میں پاکستانی شہریوں کی شہادت کی شدید مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی بحری حدود کی سلامتی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کے دوران پاکستانی مندوب نے 11 اگست کو تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس المناک کارروائی کے نتیجے میں 3 پاکستانی اور 1 انڈونیشیائی شہری جاں بحق جبکہ 7 دیگر افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی جہاز رانی پر اس نوعیت کے حملے عالمی تجارت، آزادیٔ جہاز رانی اور علاقائی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہیں، لہٰذا بین الاقوامی قانون کے تحت سمندری کارکنوں کے تحفظ اور بحری امور کے احترام کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے یمن میں اپریل 2022ء کی جنگ بندی کے بعد قائم ہونے والے نسبتاً پُرسکون ماحول کو درپیش خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشیدگی میں کمی اور اقوامِ متحدہ کی سرپرستی میں ایک قابلِ اعتماد سیاسی عمل کی بحالی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے حوثیوں کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں، انسانی ہمدردی کا کام کرنے والے کارکنوں اور سفارتی عملے کی من مانی حراست کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور ان کی فوری و غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔

پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ یمن کا پائیدار، جامع اور پرامن حل صرف یمنی قیادت کی ملکیت پر مبنی سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے جو ملک کے اتحاد، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر استوار ہو۔ انہوں نے عالمی برادری اور تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ یمن کے عوام کو تشدد کے ایک اور تباہ کن دور سے بچایا جا سکے اور انسانی بحران کے حل کے لیے مالی وسائل کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

یوتھ اینڈ اے آئی سمٹ: اقوام متحدہ میں گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل کا جامع اور نوجوانوں پر مرکوز مصنوعی ذہانت کی حکمرانی پر زور

محمود احمد, August 13,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 13 اگست 2026ء

گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے زیادہ جامع، اخلاقی اور انسان مرکز نقطۂ نظر اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت کے مستقبل اور اس کی عالمی حکمرانی کی تشکیل میں بامعنی اور فعال کردار دیا جانا چاہیے۔

انٹرنیشنل یوتھ ڈے 2026ء کے موقع پر اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں منعقدہ ‘یوتھ اینڈ اے آئی سمٹ’ سے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان نے پاکستان کے روشن مستقبل میں نوجوانوں کی اہمیت اجاگر کی اور بتایا کہ ملک کی تقریباً 70 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نیشنل اے آئی پالیسی علم پر مبنی معیشت کے فروغ کے لیے ایک جامع لائحۂ عمل فراہم کرتی ہے، جس کے تحت سال 2030ء تک 10 لاکھ مصنوعی ذہانت کے ماہرین کی تربیت، اے آئی تعلیم و تحقیق کے فروغ اور حکومت، تعلیمی اداروں و صنعت کے درمیان تعاون کو وسعت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

ڈیجیٹل تبدیلی کی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے گورنر مندوخیل نے کہا کہ مصنوعی ذہانت جغرافیائی فاصلوں کو کم کرتے ہوئے بلوچستان جیسے پسماندہ اور دور دراز علاقوں کے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے، تاہم یہ اسی وقت ممکن ہے جب ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے اور مہارتوں تک مساوی رسائی حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی تعلیم، صحت، موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے اور عوامی خدمات کو بہتر بنانے کا ذریعہ ہے، لیکن بین الاقوامی تعاون کے بغیر یہ انقلاب ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان عدم مساوات کو بڑھا سکتا ہے۔

نوجوان شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے گورنر مندوخیل نے زور دیا کہ اے آئی کا مستقبل محض نئی نسل پر مسلط نہیں ہونا چاہیے بلکہ انہیں خود اس کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان مصنوعی ذہانت کو زیادہ مواقع، شمولیت اور انسانی فلاح و بہبود کا ذریعہ بنانے کے لیے اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کا مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر دبنگ مؤقف: سلامتی کونسل سے غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی مظالم اور غیر قانونی بستیوں کی توسیع کے خلاف فوری اور عملی اقدامات کا مطالبہ

محمود احمد, August 12,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے مشرقِ وسطیٰ کی تشویشناک اور نازک صورتِ حال پر سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بڑھتے ہوئے اسرائیلی مظالم، غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور شدت اختیار کرتے ہوئے انسانی بحران پر عالمی برادری اور سلامتی کونسل سے فوری و سخت عملی اقدامات کا مطالبات کیا ہے۔ سلامتی کونسل کے اس اہم اور ہنگامی اجلاس کے دوران اپنے مفصل اور جامع خطاب میں پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کے نمائندوں کی جانب سے کونسل کو فراہم کی گئی بریفنگز محض لفظی کارروائی یا کارروائی کا حصہ نہیں بلکہ فوری اور عملی اقدامات کا بین الاقوامی تقاضا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے اور غزة میں پیش آنے والے واقعات کو الگ تھلگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ یہ ایک طے شدہ، باہم مربوط اور دہائیوں پر محیط غاصبانہ قبضے کا نتیجہ ہیں جس کا بنیادی مقصد دو ریاستی حل کے تمام امکانات کو یکسر اور ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے مغربی کنارے میں بستیوں کی مسلسل توسیع بالخصوص ‘کرمسن تھریڈ’ منصوبے اور ای ون علاقے میں آبادکاری پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں 1967ء کے بعد سے فلسطین میں بے دخلی کا سب سے بڑا بحران جنم لے چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے زمینوں کی رجسٹریشن اور انتظامی اختیارات پر ناجائز قبضہ درحقیقت عملاً الحاق کے عمل کو آگے بڑھا رہا ہے جو سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں اور عالمی عدالتِ انصاف کی واضح مشاورتی آراء کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینیوں کے ٹیکس اور ریونیو کے اربوں روپے کی مسلسل روک تھام فلسطینی اداروں کو معاشی طور پر مفلوج کرنے کی ایک منظم سازش ہے، لہٰذا یہ رقم بغیر کسی تاخیر کے فوری اور مکمل طور پر جاری کی جانی چاہیے۔

مسجدِ اقصیٰ اور الحرم الشریف کی مقدس صورتحال پر بات کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے کہا کہ اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے مسلمانوں کی مقدس ترین جگہ پر مسلسل دھاوے اور اشتعال انگیز کارروائیاں پورے خطے کی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ انہوں نے 24 جولائی اور 6 اگست کو پاکستان سمیت آٹھ اہم عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غزہ پر اسرائیلی حملوں اور مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد کو الگ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ تمام تر اقدامات طاقت کے زور پر ایک نئی جغرافیائی صورتحال مسلط کرنے کی پالیسی کا حصہ ہیں۔

غزہ کی انسانی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ جامع منصوبے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 نے انسانی تکالیف کو کم کرنے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کیا تھا، تاہم اسرائیل کی جانب سے مسلسل فوجی کشیدگی اور روڈ میپ کو مسترد کرنا عالمی سفارتی کاوشوں کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس سلسلے میں امریکہ، مصر، قطر اور ترکیہ کی جانب سے جاری مسلسل سفارتی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے واضح مطالبات پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قابض طاقت اسرائیل تمام تر غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیاں فوری طور پر روکے اور بین الاقوامی قوانین بالخصوص سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 پر مکمل عمل پیرا ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کو فی الفور بند کرایا جائے اور جرم کے مرتکب افراد کا کڑا احتساب کیا جائے۔ انہوں نے فلسطینی صدر کے مطالبے کے مطابق فلسطینی عوام کو عالمی تحفظ فراہم کرنے اور بچوں کی حفاظت سے متعلق یونیسیف کی سفارشات پر فوراً عمل درآمد کرنے پر بھی زور دیا۔

پاکستانی مندوب نے مطالبہ کیا کہ مسجدِ اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنایا جائے اور تمام اشتعال انگیز اقدامات کو فوری روکا جائے۔ انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ قرارداد 2803 اور جامع امن منصوبے پر بغیر کسی حیل و حجت کے مکمل اور نیک نیتی سے عمل درآمد کرایا جائے اور اس کے راستے میں حائل رکاوٹوں کا سختی سے سدباب کیا جائے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے انتباہ جاری کیا کہ اگر اسرائیل کی ان جارحانہ پالیسیوں کی سمت کو فوری نہ بدلا گیا تو پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے اس کے نتائج انتہائی تباہ کن ہوں گے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا واحد راستہ 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ایک خودمختار، آزاد اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کا قیام ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

یومِ استحصال کی 7 ویں برسی: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی تقریب، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ

محمود احمد, August 06,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 06 اگست 2026ء

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن نے نیویارک میں پاکستان کے قونصل جنرل کے دفتر کے اشتراک سے چانسلری بلڈنگ میں یومِ استحصال کی ساتویں برسی کی مناسبت سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا۔ تقریب میں پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کے اراکین، سفارت کاروں، ماہرینِ تعلیم، طلبہ اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔ مقررین نے جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کا عالمی مطالبہ دہرایا جن میں کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کی ضمانت دی گئی ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خود ارادیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے 5 اگست 2019ء کے غیر قانونی و یکطرفہ بھارتی اقدامات کو دہائیوں پر محیط جبر کو گہرا کرنے والا موڑ قرار دیا اور واضح کیا کہ تنازعے کی قانونی بنیاد اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت آج بھی برقرار ہے۔ سفیر عاصم افتخار نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے 8 اگست 2019ء کے بیان اور حالیہ موقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز اٹھائی ہے اور یہ ملک کی ایک مقدس ذمہ داری ہے۔

افتتاحی کلمات میں پاکستان کے قونصل جنرل نیویارک عامر احمد اتوزئی نے کہا کہ تنازعے کا منصفانہ اور دیرپا حل سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے۔ ڈاکٹر غلام نبی فائی (سیکریٹری جنرل کشمیر آگاہی فورم) نے مقبوضہ وادی میں آبادیاتی تبدیلیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ 47 لاکھ سے زائد غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹس کا اجرا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ انہوں نے مرحوم سید علی گیلانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر ماہرِ تعلیم شاہل کھوسو، کشمیری رہنما تاج خان اور سردار سوار خان نے بھی عالمی علمی اور پالیسی مباحث میں کشمیر کا مقدمہ مؤثر انداز میں پیش کرنے اور یکجہتی برقرار رکھنے پر زور دیا۔

تقریب کے دوران صدر، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ پاکستان کے یومِ استحصال کے موقع پر جاری کردہ خصوص پیغامات پڑھ کر سنائے گئے جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مبنی ایک دستاویزی فلم بھی نمائش کے لیے پیش کی گئی۔

یومِ استحصالِ کشمیر: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا سلامتی کونسل کی صدر کو خط، 5 اگست 2019ء کے اقدامات واپس لینے کا مطالبہ

محمود احمد, August 06,2026

اقوامِ متحدہ / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 اگست 2026ء

پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے 5 اگست 2019ء کو بھارت کی جانب سے کیے گئے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کی ساتویں برسی کے موقع پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدر اور ڈنمارک کی مستقل مندوب عزت مآب کرسٹینا مارکس لاسن کو ایک اہم اور تفصیلی خط ارسال کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے یہ خط رسمی طور پر سلامتی کونسل کی صدر کے حوالے کیا۔ خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بھارت کے 5 اگست 2019ء کے اقدامات سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جن کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو ختم کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔

نائب وزیراعظم نے خط میں سلامتی کونسل کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ بھارت مقبوضہ وادی کی آبادیاتی (ڈیموگرافک)، سیاسی اور ثقافتی شناخت کو مسخ کرنے کی منظم سازش کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ڈومیسائل قوانین اور اراضی کی ملکیت کے ضوابط بدل کر تقریباً 34 لاکھ غیر مقامی افراد کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔

خط میں مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی زبوں حالی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا، جس میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، من مانی گرفتاریوں اور پبلک سیفٹی ایکٹ ، آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون جیسے کاالے قوانین کے نفاذ کا حوالہ دیا گیا۔ علاوہ ازیں، شبیر احمد شاہ، یاسین ملک اور آسیہ اندرابی سمیت ممتاز حریت قیادت کی قید اور 16 سیاسی تنظیموں پر عائد پابندیوں کو اجاگر کیا گیا۔

مذہبی آزادی کی پامالی کا ذکر کرتے ہوئے خط میں جامع مسجد سری نگر میں نماز پر پابندی، دینی مدارس کی بندش، کمیونٹی کے 215 اسکولوں کی سرکاری تحویل اور وقف (ترمیمی) قانون کے منفی اثرات کا بھی احاطہ کیا گیا۔

نائب وزیراعظم نے متنبہ کیا کہ مقبوضہ وادی میں 7 سے 9 لاکھ بھارتی فوجیوں کی موجودگی، بھارتی قیادت کے اشتعال انگیز بیانات اور سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی سے جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

پاکستان نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت پر 5 اگست 2019ء کے اقدامات کی واپسی، ڈیموگرافی کی تبدیلی کی روک تھام اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق مذاکراتی عمل شروع کرنے کے لیے دباؤ ڈالے۔ ساتھ ہی اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مساعیٔ جمیلہ کو بروئے کار لاتے ہوئے تنازع کشمیر کے پائیدار حل میں اپنا مرکزی کردار ادا کریں۔

یومِ استحصالِ کشمیر: اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کا پیغام، حقِ خودارادیت کی غیر مشروط حمایت کا اعادہ

محمود احمد, August 05,2026

نیویارک / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ان کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے لیے پاکستان کی غیر مشروط اور مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کے یکطرفہ اور غیر قانونی بھارتی اقدامات کو سات برس مکمل ہونے کے باوجود بھارتی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال بدستور شدید تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے نشاندہی کی کہ بنیادی انسانی حقوق اور آزادیوں کی مسلسل پامالی، طویل پابندیاں، آبادی کے تناسب (ڈیموگرافی) میں تبدیلی کی غیر قانونی کوششیں اور زمینی حقائق کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کے بھارتی اقدامات نہ تو جموں و کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو ختم کر سکتے ہیں اور نہ ہی کشمیری عوام کی بھارتی تسلط سے آزادی کی جائز خواہش کو دبا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے منشور، سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پُرامن حل کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری اور بالخصوص اقوامِ متحدہ پر پرزور انداز میں زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے احترام کو یقینی بنانے، مقبوضہ وادی کے عوام کے انسانی حقوق کے تحفظ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے اپنے تمام مؤثر اور عملی اقدامات کو آگے بڑھائے۔

پاکستانی مندوب نے کشمیری عوام کی استقامت، بہادری اور بے مثال قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہائیوں پر محیط مظالم کے باوجود ان کی جدوجہدِ آزادی ثابت قدمی سے جاری ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پاکستان اپنے کشمیری بہن بھائیوں کی مکمل حمایت اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک انہیں ان کا حقِ خودارادیت نہیں مل جاتا۔

یومِ استحصالِ کشمیر: چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا کشمیری عوام کے ساتھ غیر متزلزل حمایت کا اعادہ

کاشف عباسی , August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کے غیور عوام کے ساتھ پاکستان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کے غیر متزلزل، اصولی اور تاریخی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 5 اگست 2019ء کو بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کی صریح خلاف ورزی تھے۔

سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر جاری کردہ اپنے خصوصی پیغام میں چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ یومِ استحصالِ کشمیر بھارتی تسلط میں محصور کشمیری عوام کی مسلسل قربانیوں، مصائب اور ثابت قدمی کی یاد دلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن عالمی برادری کے ضمیر کو بھی جھنجھوڑتا ہے کہ وہ مقبوضہ علاقے میں ڈھائے جانے والے سنگین بھارتی مظالم کا فوری نوٹس لے اور انصاف کے قیام اور خطے میں پائیدار امن کے لیے اپنی عالمی ذمہ داریاں پوری کرے۔

سید یوسف رضا گیلانی نے نشاندہی کی کہ 5 اگست 2019ء کے بعد سے بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے، اس کی منفرد شناخت کو مسخ کرنے، حقیقی سیاسی قیادت کو دبانے، بنیادی آزادیوں کو سلب کرنے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں مزید شدت پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جبر، ریاستی تشدد اور ظلم کا کوئی بھی ہتھکنڈا کشمیری عوام کی آزادی، وقار اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت کے حصول کی جائز خواہش کو ہرگز ختم نہیں کر سکتا۔

چیئرمین سینیٹ نے اس عزم کو دہرایا کہ پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیری عوام کی منصفانہ جدوجہد کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کا پائیدار اور منصفانہ حل صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہی ممکن ہے تاکہ وہ آزادانہ طور پر اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہی منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں دیرپا امن، سلامتی اور خوشحالی کی اصل ضمانت ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے اقوام متحدہ، عالمی برادری، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور بااثر عالمی اداروں سے زوردار مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں جاری مظالم کا فوری نوٹس لیں اور بھارت کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کا پابند بنانے کے لیے اپنا موثر کردار ادا کریں۔

آرٹیکل 370 اور 35 کی منسوخی کے 7 سال: مقبوضہ کشمیر میں امن و ترقی کے بھارتی دعوے زمینی حقائق کے برعکس نکلے

منصور احمد, JULY 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

غیر قانونی زیرِ تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر میں اگست 2019ء کے دوران بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35کی یکطرفہ و غیر قانونی منسوخی کے بعد سے اب تک وادی میں امن، ترقی اور خوشحالی سے متعلق بھارتی حکومت کے تمام تر ادعا اور دعوے مکمل طور پر کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔ سیاسی اور دفاعی تجزیہ کاروں کی جانب سے پیش کردہ ایک جامع رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سات سال کے دوران مقبوضہ خطے کو معاشی تباہی، سیاسی بے چینی اور انسانی حقوق کے شدید ترین چیلنجز کا سامنا رہا ہے جو نئی دہلی کے سرکاری بیانیے کو بے نقاب کرتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت نے آئینی حیثیت کے خاتمے کو وادی کے انضمام اور ترقی کے منصوبے کے طور پر پیش کیا تھا، تاہم سات سال کے بعد بھی بے روزگاری، شدید عسکریت، جبری نظر بندیاں اور آبادی کی تناسب کو بدلنے کی ناپاک کوششیں عروج پر ہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بھارتی حکومت سیاحوں کی تعداد کو معمول کی زندگی کا ثبوت بنا کر پیش کرتی ہے، تاہم 2019ء کی پابندیوں اور 2025ء کے پہلگام حملے کے بعد وادی کا شعبۂ سیاحت مکمل طور پر سیکورٹی فورسز کے رحم و کرم پر ہے جس سے مقامی ہاتھ کے کاریگر، تاجر اور سیاحت سے وابستہ ہزاروں کشمیری شدید معاشی بحران کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ سیب کی صنعت، باغبانی اور درمیانے درجے کے تمام کاروبار نئے ٹیکسوں، متنازعہ زمینی پالیسیوں اور کاروباری بندشوں کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق تعلیم کا شعبہ مسلسل انٹرنیٹ کی بندش، طویل سیکورٹی پابندیوں اور اساتذہ کی شدید کمی سے متاثر ہے، جس سے پوری وادی کے نوجوان خوف، شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال میں مبتلا ہیں۔ دوسری جانب زمین، ڈومیسائل اور انتظامی قوانین میں جابرانہ ترمیم کے ذریعے مقبوضہ وادی کی مسلم اکثریتی آبادیاتی ساخت کو ہندو اکثریت میں بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی ورزی ہے۔ مذہبی قیادت پر پابندیوں اور اسلامی اداروں میں مداخلت نے کشمیریوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔

جولائی 2026ء میں وادی کے اندر ‘ریاستی حیثیت کی بحالی’ کی تحریک نے مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور مذہبی قیادت کو ایک بار پھر ایک پیج پر متحد کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئینی حقوق کی بحالی، تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی اور سچی جمہوریت کا قیام ہی حل ہے۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ وادی میں پائیدار امن تبھی ممکن ہے جب جموں و کشمیر کے تنازع کو بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات و امنگوں کے مطابق حل کیا جائے۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سلامتی کونسل اصلاحاتی مذاکرات 81 ویں اجلاس تک جاری رکھنے کا اہم فیصلہ: پاکستان نے اختلافات مٹانے اور سب کے لیے برابر نمائندگی پر زور دے دیا

محمود احمد, JULY 30,2026

اقوامِ متحدہ/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سلامتی کونسل میں بنیادی و ادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق جاری بین الحکومتی مذاکرات کے عمل کو آئندہ ستمبر میں شروع ہونے والے 81 ویں اجلاس کے دوران بھی تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے کا اہم، متفقہ اور حتمی فیصلہ صادر کر لیا ہے۔ پاکستان نے جنرل اسمبلی کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس اصلاحاتی عمل اور بین الحکومتی مذاکرات کو 15 رکنی سلامتی کونسل کو دنیا بھر کی زیادہ سے زیادہ اقوام کے لیے مؤثر، جمہوری اور حقیقی معنوں میں نمائندہ بنانے کے لیے “واحد بااعتماد اور جائز فورم” قرار دیا ہے اور تمام ارکان پر اپنے شدید ترین سیاسی اختلافات کو کم سے کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نو تعینات یا مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے 193 رکنی جنرل اسمبلی سے اپنا اہم خطاب پیش کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کا اصلاحاتی عمل اقوامِ متحدہ کے سامنے درپیش انتہائی اہم ترین اور حساس ادارہ جاتی اقدامات میں سے ایک ہے۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بغیر کسی ووٹنگ کے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ ستمبر 2026ء سے شروع ہونے والے 81 ویں اجلاس کے دوران اصلاحاتی بات چیت کا یہ عمل باقاعدگی سے جاری رہے گا۔ یاد رہے کہ اصلاحات اور مذاکرات کا یہ عمل اب اپنے 18 ویں سال میں باقاعدہ داخل ہو چکا ہے، جس کے دوران 17 طویل ادوار مکمل ہونے کے باوجود اصلاحات سے متعلق کئی بنیادی پہلوؤں پر تاحال کامل اتفاقِ رائے حاصل نہیں کیا جا سکا ہے۔ سلامتی کونسل کے تمام پانچ بنیادی شعبوں بشمول رکنیت کے زمرے، ویٹو کا طریقہ کار و استعمال، علاقائی متناسب نمائندگی، توسیع شدہ سلامتی کونسل کا حتمی سائز اور جنرل اسمبلی کے ساتھ کونسل کے تعلقات پر گہرا تبادلہِ خیال جاری ہے۔ اس وقت سلامتی کونسل 5 مستقل اور 10 غیر مستقل ارکان پر مشتمل ہے، جن میں تبدیلی اور توسیع پر مختلف ممالک کے واضح اور برعکس گروپس بنے ہوئے ہیں۔

اصلاحات کے اس عمل میں بھارت، برازیل، جرمنی اور جاپان پر مشتمل ‘گروپ آف فور’ سلامتی کونسل میں اپنے لیے نئی مستقل نشستوں کے حصول کا مطالبہ کرتے ہوئے کل 10 نئی نشستیں چاہتے ہیں۔ تاہم دوسری جانب اٹلی اور پاکستان کی بھرپور قیادت میں فعال ‘یونائٹنگ فار کنسنسس’ گروپ نے کسی بھی ملک کو اضافی مستقل نشستیں دینے کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے اور طویل المدت کے لیے منتخب ہونے والی ایسی نئی غیر مستقل نشستوں کا حل تجویز کیا ہے جن پر جمہوری طریقے سے دوبارہ انتخاب ممکن بنایا جا سکے۔ پاکستانی مندوب عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ اصلاحات کا مقصد خودمختار مساوات، جمہوریت اور احتساب ہونا چاہیے، نہ کہ ایک قسم کی اجارہ داری کو ختم کر کے دوسری قسم کی خصوصی مراعات پر مبنی اجارہ داری قائم کرنا۔ انہوں نے مذاکراتی شریک سربراہان (کویت اور نیدرلینڈز) کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے حتمی عزم دہرایا کہ پاکستان “سب کے لیے اصلاحات، کسی کے لیے خصوصی مراعات نہیں” کے رہنما اصول پر قائم رہے گا۔