وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں مون سون 2026ء کے دوران ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے اور ادارہ جاتی تیاریوں کو حتمی شکل دینے کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) میں ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا تیسرا اہم ترین اجلاس منعقد ہوا ہے۔ جمعہ کے روز این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کی، جبکہ اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک، مختلف وفاقی وزارتوں کے سیکرٹریز اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ نمائندگان نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران ملک بھر کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم ایز) کی آپریشنل تیاریوں، ہنگامی ریلیف کی منصوبہ بندی، ریسکیو کے لیے ضروری وسائل کی دستیابی اور ضلعی انتظامیہ کو متحرک کرنے پر خصوصی زور دیا گیا۔ اس تزویراتی بیٹھک میں عوام کے لیے آگاہی مہمات چلانے، متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی بروقت ترسیل، محفوظ مقامات پر انخلاء کے ہنگامی منصوبوں اور تمام اداروں کے مابین بہترین ورکنگ ریلیشن شپ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے وفاقی وزیر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ این ای او سی کا مانیٹرنگ سیل 24 گھنٹے موسمیاتی تبدیلیوں کی نگرانی کر رہا ہے اور تمام صوبوں کو ابتدائی انتباہی نظام (ارلی وارننگ سسٹم) کے ذریعے الرٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس میں وزارتِ مواصلات، وزارتِ توانائی اور واپڈا کے حکام نے بھی مون سون کے دوران اپنے اپنے محکموں کے اقدامات پر بریفنگ دی۔ کمیٹی نے بارشوں کے دوران اہم شاہراہوں کی فوری بحالی، بجلی کی بلاتعطل فراہمی کے تسلسل، ڈیموں کے پانی کے انتظام اور دریاؤں میں آبی صورتحال کی نگرانی کے تزویراتی منصوبوں کی منظوری دی۔ وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ انسانی جانوں، عوام کے روزگار اور قومی انفراسٹرکچر کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس لیے تمام محکمے کاغذی کارروائی کے بجائے زمین پر مربوط اور موثر ترین ردعمل کو یقینی بنائیں۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے عالمی صنعتی انقلاب 5.0 کے ابھرتے ہوئے تقاضوں سے ہم آہنگ اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے ملک بھر کی جامعات کو باقاعدہ ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنے تمام ڈگری پروگراموں اور نصاب کا ازسرِ نو جامع جائزہ لے کر انہیں جدید ترین خطوط پر ڈھالیں۔ ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل اعلامیہ کے مطابق، اس تزویراتی اقدام کا بنیادی مقصد ملکی اعلیٰ تعلیمی نظام کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق بنانا، طلبہ کو جدید ترین ٹیکنالوجیکل مہارتوں سے آراستہ کرنا اور پاکستان کو گرین، ڈیجیٹل اور ایک جامع علمی معیشت کی جانب منتقلی میں بھرپور معاونت فراہم کرنا ہے۔
اعلامیہ میں ملک بھر کے وائس چانسلرز اور تعلیمی سربراہان پر زور دیا گیا ہے کہ جامعات اپنے نصاب کو مستقبل کی افرادی قوت کی حقیقی ضروریات کے مطابق ترتیب دیں، جبکہ مصنوعی ذہانت ، ڈیجیٹل اسکلز اور دیگر ابھرتی ہوئی جدید ٹیکنالوجیز کو تمام مروجہ تعلیمی پروگراموں کا لازمی حصہ بنائیں۔ اس کے ساتھ ہی، صنعتی شعبوں اور جامعات کے مابین روابط کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط کرنے اور طلبہ کے لیے عملی تعلیم کے مواقع بڑھانے پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ مارکیٹ کے مطابق افرادی قوت پیدا کی جا سکے۔ ایچ ای سی نے واضح کیا ہے کہ اس تعلیمی اصلاحات کے عمل میں طلبہ کے اندر تنقیدی سوچ، اختراع اور کاروباری صلاحیتوں کے فروغ پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مطابق، اس بڑے پیمانے پر شروع کیے جانے والے قومی تبدیلی کے عمل میں جامعات، قومی نصاب جائزہ کمیٹیاں، ڈگریوں کی منظوری دینے والے مقتدر ادارے، صنعتی شعبے کے نمائندے اور مختلف مضامین کے نامور ماہرین مشترکہ طور پر حصہ لے رہے ہیں، جبکہ یہ تمام سرگرمیاں ایک خصوصی قومی ٹاسک فورس کی براہِ راست نگرانی اور رہنمائی میں انجام دی جا رہی ہیں۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ جامعات کو نئے اور ابھرتے ہوئے تعلیمی شعبہ جات کی فوری نشاندہی کرنے، موجودہ پروگراموں کو اپ گریڈ کرنے اور ایسے قابلِ فخر فارغ التحصیل نوجوان تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جو صنعتی انقلاب 5.0 کے مواقع سے ملکی معیشت کے لیے بھرپور فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ایچ ای سی کا کہنا ہے کہ یہ تزویراتی اقدام پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی شعبے کو عالمی رجحانات کے مطابق بنانے اور قومی اقتصادی ترقی میں جامعات کے تعمیری کردار کو مزید مؤثر اور فعال بنانے کی جانب ایک اہم ترین پیشرفت ثابت ہوگا۔
پاکستان اور چین کے مابین معاشی و تزویراتی تعلقات میں ایک اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وفاقی دارالحکومت میں “پاکستان چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس” کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس مقتدر دو روزہ کانفرنس کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ یہ اہم ترین کانفرنس وزارتِ قومی صحت، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ)، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کے مشترکہ اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے، جس میں تین سو سے زائد پاکستانی اور ایک سو پچاس معروف چینی صنعتی اداروں سمیت ساڑھے چار سو سے زائد کمپنیاں حصہ لے رہی ہیں۔ افتتاحی تقریب سے قبل وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کانفرنس کے تزویراتی خدوخال پر تفصیلی بریفنگ دی۔
وفاقی وزیرِ صحت نے چینی وفد کو آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان آپ کا دوسرا گھر ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ پاک چین ‘آہنی بھائی چارے’ کو مشترکہ صنعتوں، کارخانوں کے قیام اور ٹیکنالوجی کی باقاعدہ منتقلی کے ذریعے زمین پر حقیقت کا روپ دیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو ماہ کی مشترکہ کوششوں کے بعد سرمایہ کاری کے لیے سات اہم شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں ایکٹو فارماسیوٹیکل اجزاء، جدید طبی آلات، ویکسین اور بائیولوجکس شامل ہیں۔ تقریب کے دوران دونوں ممالک کی مقتدر کمپنیوں کے مابین مجموعی طور پر 446 ملین امریکی ڈالر مالیت کے نو تاریخی تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جو مقامی مینوفیکچرنگ اور برآمدی استعداد میں انسدادِ تفاوت کا باعث بنیں گے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ نے کہا کہ چین اور پاکستان کی ہر موسم کی تزویراتی شراکت داری ناقابلِ شکست ہے اور چین سی پیک فیز 2.0 کے تحت اپنی جدید ترین ہیلتھ ٹیکنالوجی پاکستان کو منتقل کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
ان تزویراتی معاہدوں کے تحت لائب ڈائیگنوسٹک سسٹمز اور سائنو ویک ہولڈنگ گروپ کے درمیان ویکسینز کی رجسٹریشن اور مرحلہ وار مقامی مینوفیکچرنگ کے لیے دوسو ملین ڈالر کا سب سے بڑا منصوبہ طے پایا۔ اس کے ساتھ ہی او بی ایس اور کین سائنو بائیولوجکس کے مابین پاکستان میں نمونیا ویکسین کی مقامی تیاری کے لیے پچاس ملین ڈالر جبکہ اے جی پی اور شنگھائی یونائیٹڈ سیل بائیوٹیک کے درمیان گروتھ ہارمون اور ہیضہ ویکسین کی تیاری کا پچاس ملین ڈالر کا مشترکہ منصوبہ دستخط کیا گیا۔ تقریب میں او بی ایس فارما اور لیاؤننگ لوڈان فارما کے مابین مانع حمل امپلانٹس کی مقامی پیداوار کے لیے پچاس ملین ڈالر اور جینکسا فارما کا چینی بائیوٹیک اداروں کے ساتھ بائیو فارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ پلیٹ فارم کے لیے تئیس ملین ڈالر کا معاہدہ بھی ہوا جہاں انسولین اور دیگر حیاتیاتی ادویات تیار ہوں گی۔ علاوہ ازیں چونگ چنگ لیان نکسن کے ساتھ پچیس ملین ڈالر کی لاگت سے گلوکوز مانیٹرنگ مصنوعات کی اسمبلنگ، تیان یوآن فارما کے ساتھ پچیس ملین ڈالر سے جدید ترین ذیابیطس ادویات کی مینوفیکچرنگ، لکی کور انڈسٹریز کا تیرہ ملین ڈالر کا معاہدہ برائے ہیپاٹائٹس ڈیلٹا ادویات اور سٹی فارما کا یانگسی ریور فارماسیوٹیکل کے ساتھ دس ملین ڈالر کا ٹیکنالوجی منتقلی کا معاہدہ بھی حتمی شکل پا گیا۔
تقریب سے وزیراعظم کے معاونِ خصوص برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے بھی خطاب کیا۔ افتتاح کے فوراً بعد باقاعدہ بی ٹو بی میچ میکنگ سیشن شروع ہوا، جبکہ پنڈال میں ڈریپ، بورڈ آف انویسٹمنٹ اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے خصوصی ڈیسک قائم کیے گئے ہیں تاکہ سرمایہ کاروں کو فوری لائسنسنگ اور ریگولیٹری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ کانفرنس کے دوسرے اور آخری روز ڈریپ کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کے معیارات اور پاکستان سنگل ونڈو کے ساتھ انضمام پر تکنیکی سیشن منعقد کیا جائے گا، جس کے بعد مزید کارپوریٹ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط متوقع ہیں۔
شنگھائی/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء
نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے شنگھائی میں منعقدہ عالمی نمائش ‘ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کانفرنس’ کے مقتدر موقع پر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ایک اعلیٰ سطحی تزویراتی ملاقات کی ہے۔ نائب وزیراعظم نے اس سفارتی ملاقات پر گہرے اطمینان اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں جانب سے عالمی امور پر ہم آہنگی بڑھانے کا ایک بہترین ذریعہ قرار دیا ہے۔
جمعہ کے روز سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر جاری اپنے ایک آفیشل پیغام میں سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ شنگھائی میں ہونے والی یہ ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کانفرنس درحقیقت جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک انتہائی اہم اور نیا بین الاقوامی پلیٹ فارم بن کر ابھرا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اقوامِ متحدہ کے فورمز پر ہونے والی اپنی حالیہ ملاقاتوں اور ٹیلیفونک رابطوں کو خوشگوار انداز میں یاد کیا، اور اس تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے خطے سمیت دنیا بھر میں ہونے والی تازہ ترین سیاسی و سیکیورٹی پیش رفت پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا۔
نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ کے مطابق، ملاقات میں مشترکہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے، دنیا بھر میں پائیدار امن کے فروغ، اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کی منصفانہ حاصلات اور تمام ترقی پذیر ممالک کے لیے مساوی و جامع معاشی پیش رفت کو آگے بڑھانے کے لیے کثیرالجہتی سفارتی تعاون کی اہمیت پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان مصنوعی ذہانت جیسی جدید ٹیکنالوجیز تک دنیا کے تمام خطوں کی یکساں رسائی کے لیے اقوامِ متحدہ کے وژن کا مکمل حامی ہے اور عالمی چیلنجز کے حل کے لیے کثیرالجہتی فورمز پر اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
وزیراعظم کی قائم کردہ خصوصی ٹاسک فورس کی براہِ راست ہدایات پر کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) نے سرکاری اراضی پر قائم غیر قانونی تجاوزات کے خلاف اب تک کا سب سے بڑا اور فیصلہ کن مشترکہ آپریشن کرتے ہوئے کروڑوں روپے مالیت کی 19 ایکڑ تزویراتی اراضی قبضہ مافیا سے واگزار کرا لی ہے۔ اس گرینڈ آپریشن کو کامیاب بنانے کے لیے پاکستان رینجرز، سندھ پولیس، اینٹی انکروچمنٹ فورس اور کے پی ٹی کے مختلف فعال شعبوں نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بھرپور تعاون اور کے پی ٹی کے عملے کی مربوط حکمتِ عملی کے تحت غیر قانونی قابضین کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی گئی، جس کے نتیجے میں نہ صرف 19 ایکڑ وسیع و عریض رقبہ آزاد کرایا گیا بلکہ دو اہم پلاٹس بھی واپس اپنے قبضے میں لے لیے گئے ہیں۔
کے پی ٹی حکام کے مطابق، اس کثیر الجہتی انسدادِ تجاوزات مہم کے دوران کراچی کے اہم ساحلی اور صنعتی زونز، بالخصوص سینڈز پٹ، گلشنِ سکندر آباد، سستی بستی اور ویسٹ وارف میں قائم غیر قانونی تعمیرات کو مکمل طور پر زمین بوس کیا گیا۔ آپریشن کے دوران بھاری مشینری کا استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی کچی جھونپڑیاں، پکی چار دیواریاں، غیر قانونی پتھریلی بنیادیں اور قائم کیے گئے مویشی فارمز مسمار کر دیے گئے۔ اس کے ساتھ ہی، عدالتی احکامات کی روشنی میں ویسٹ وارف کے دو اہم پلاٹس کو بھی غیر قانونی تسلط سے کامیابی سے واگزار کروا کر مستقل بنیادوں پر کے پی ٹی کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
وزیراعظم کی ٹاسک فورس کے تحت کراچی میں جاری انسدادِ تجاوزات مہم کو مزید تیز اور سخت کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ترجمان نے عزم کا اظہار کیا ہے کہ پورٹ کی حدود اور اس کے ملحقہ علاقوں میں سرکاری اراضی پر کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی یا قبضے کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، اور قیمتی اراضی کے تحفظ اور قبضہ مافیا کے مکمل خاتمے کے لیے رینجرز اور پولیس کے اشتراک سے یہ تزویراتی مہم آئندہ بھی پوری قوت کے ساتھ جاری رکھی جائے گی۔
ملک کے بالائی علاقوں میں گرمی کی شدت بڑھنے کے باعث گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور حالیہ بارشوں کے نتیجے میں تربیلا ڈیم میں پانی کی آمد میں غیر معمولی اضافہ درج کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیم انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات کے تحت سپل ویز کو باقاعدہ طور پر کھول دیا ہے۔ سپل ویز کھولے جانے کے باعث دریائے سندھ کے نشیبی علاقوں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس کے پیشِ نظر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ہنگامی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے دریائے سندھ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں ہر قسم کی سیاحتی سرگرمیوں سے فوری اور مکمل گریز کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔
تربیلا ڈیم انتظامیہ نے اس حوالے سے باقاعدہ الرٹ جاری کرتے ہوئے مقامی آبادی اور سیاحوں پر زور دیا ہے کہ وہ تیز بہاؤ کے دوران آبی گزرگاہوں اور دریا کے کناروں سے دور رہیں۔ انتظامیہ کے مطابق بالخصوص لیہ، بھکر اور میانوالی کے نشیبی علاقوں میں پانی کا انتہائی تیز بہاؤ متوقع ہے جس سے دریا کے قریبی علاقوں اور کچے کی آبادیوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اس نازک صورتحال کے پیشِ نظر این ڈی ایم اے ممکنہ خطرات کی مسلسل مانیٹرنگ اور پیشگی تشخیص کر رہا ہے تاکہ متعلقہ ضلعی انتظامی اداروں، ریسکیو ٹیموں اور عام عوام کو بروقت ضروری معلومات فراہم کر کے کسی بھی ممکنہ جانی و مالی نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔
پاکستان کی بحری تجارت کی تاریخ میں ایک نیا اور انقلابی تزویراتی باب رقم ہو گیا ہے، جہاں ملک کی پہلی رورو (رول آن/رول آف) شپمنٹ کے ذریعے 2 ہزار سے زائد جدید الیکٹرک گاڑیاں کامیابی کے ساتھ کراچی پہنچ گئی ہیں۔ وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری نے اس مقتدر کامیابی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کو لے کر آنے والا وشال تجارتی بحری جہاز “ایم وی گرینڈے شنگھائی” کراچی پورٹ کے کے جی ٹی ایم ایل ٹرمینل پر کامیابی سے لنگرانداز ہو گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے اس اہم پیش رفت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ رورو جہاز کے ذریعے پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں الیکٹرک گاڑیوں کی محفوظ درآمد پاکستان کی بحری تجارت اور معیشت میں ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے رورو ٹیکنالوجی کے فوائد کا تذکرہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان مخصوص جہازوں میں تمام گاڑیوں کو روایتی کرینوں کے بجائے براہِ راست چلا کر لوڈ اور اَن لوڈ کیا جاتا ہے، جس کی بدولت قیمتی وقت کی بچت کے ساتھ ساتھ بندرگاہی اخراجات میں بھی نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔
وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے پختہ عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ ان جدید بندرگاہی سہولیات کے باعث ملک کی مجموعی تجارتی صلاحیت پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور مستحکم ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی پورٹ اب روایتی طریقوں سے نکل کر عالمی معیار کی جدید ترین شپنگ خدمات اور ماحول دوست ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کی جانب تیزی سے گامزن ہے، جس کے دور رس نتائج ملکی معیشت پر مرتب ہوں گے۔
وزیراعظم یوتھ پروگرام نے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کے اشتراک سے نیویارک میں واقع پاکستان مشن میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران انقلابی “پیووٹ” پروگرام کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ “کنکشن ٹو کنٹری بیوشن پاکستانی یوتھ ڈائسپورا کنیکٹ” کے عنوان سے منعقدہ اس مقتدر تقریب میں امریکہ بھر سے تعلق رکھنے والے ممتاز پاکستانی نوجوان پیشہ ور افراد، نامور کاروباری شخصیات، محققین، طلبہ اور کمیونٹی رہنماؤں نے شرکت کی اور پاکستان کے نوجوانوں کی رہنمائی اور علمی شراکت داری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ اس جدید پروگرام کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں مقیم پاکستانی نوجوانوں کو وطنِ عزیز کے نوجوان طبقے کے ساتھ مینٹورشپ، علم و تجربے کے تبادلے، پیشہ ورانہ روابط، ٹیکنالوجی اور تعلیم کے شعبوں میں باقاعدہ طور پر منسلک کرنا ہے۔
تقریب سے اپنے کلیدی خطاب میں چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ “پیووٹ” کا آغاز پاکستان اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانی نوجوانوں کے مابین ایک شاندار تزویراتی باب کا آغاز ہے۔ انہوں نے اوورسیز نوجوانوں کو “پاکستان اور مستقبل کے درمیان ایک زندہ پل” قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ پلیٹ فارم خیرات کا نہیں بلکہ باہمی شراکت داری کا ایک فعال تصور ہے جس کا مقصد بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے عالمی تجربات سے فائدہ اٹھا کر ملک میں جدت طرازی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں یوتھ پروگرام تعلیم، روزگار، شمولیت اور ماحولیات جیسے بنیادی ستونوں پر کام کر رہا ہے اور پاکستانی نوجوانوں کو اقوامِ متحدہ سمیت عالمی اداروں میں نمائندگی کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے استقبالیہ خطاب میں پاکستان کے نوجوانوں اور تارکینِ وطن کو قومی ترقی کے دو سب سے اہم ستون قرار دیا۔ انہوں نے “پیووٹ” کے آغاز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ تزویراتی شراکت داری قومی معیشت کو نئی رفتار دے گی اور پاکستان کا مستقل مشن نوجوانوں کی عالمی سفارت کاری میں بااعتماد شرکت کو یقینی بناتا رہے گا۔ تقریب کے دوران وزیراعظم یوتھ پروگرام کی فوکل پرسن برائے یو این امور محترمہ بسمہ قمر نے “پیووٹ” کا تعارفی خاکہ پیش کیا جبکہ فوکل پرسن برائے تعلیم محترمہ سدرا قمر نے پروگرام کا جامع جائزہ پیش کیا اور کونسلر صائمہ سلیم نے تقریب کی نظامت کے فرائض انجام دیے۔
پاکستان نے سوڈان کے شورش زدہ علاقے دارفور میں ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کی جانب سے نہتے شہریوں پر وحشیانہ حملوں، نسلی بنیادوں پر قتلِ عام، جنسی تشدد، جبری بے دخلی اور سویلین تنصیبات کی دانستہ تباہی سمیت دیگر سنگین مظالم کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں دارفور کی سنگین صورتحال سے متعلق بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی رپورٹ پر ہونے والی بریفنگ کے دوران پاکستان کے کونسلر اور پولیٹیکل کوآرڈینیٹر گل قیصر سَرْوانی نے وہاں کی بگڑتی ہوئی انسانی و سیکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے عالمی برادری کو سخت خبردار کیا کہ اگر آر ایس ایف نے العبید کے علاقے پر حملہ کیا تو اس سے مزید سنگین نوعیت کے بین الاقوامی انسانی جرائم کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
گل قیصر سَرْوانی نے تزویراتی نکتہ اجاگر کرتے ہوئے زور دیا کہ انسانیت کے خلاف ان سنگین جرائم کے اصل ذمہ دار عناصر کے ساتھ ساتھ ایسے جرائم کی مالی معاونت، سہولت کاری یا کسی بھی دوسرے طریقے سے مدد کرنے والے کرداروں کا بھی بلاتفریق اور مؤثر احتساب ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ احتساب کا کوئی بھی عمل تکمیلیت، قومی خودمختاری اور سوڈانی قیادت کی اپنی ملکیت کے اصولوں کے عین مطابق ہونا چاہیے، جبکہ پائیدار اور قابلِ اعتماد انصاف کے حصول کے لیے سوڈان کے اپنے قومی عدالتی اداروں کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔
انہوں نے سوڈان کی خودمختاری، قومی اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیرمتزلزل سفارتی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سوڈان کے برادر عوام امن، انصاف اور ایک باوقار زندگی گزارنے کے مستحق ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی سخت زور دیا کہ بین الاقوامی انصاف کو ہر معاملے میں بلاامتیاز، مکمل طور پر غیرجانبدارانہ اور دوہرے معیار کے بغیر نافذ کیا جانا چاہیے، کیونکہ کسی بھی قانون کی ساکھ اس کے مساوی اور یکساں اطلاق پر ہی منحصر ہوتی ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا میں اعلیٰ تعلیم یافتہ (ایم اے پاس) شخص کو سوئیپر کی حیثیت سے ملازمت پر برقرار رکھنے کے خلاف صوبائی حکومت کی جانب سے دائر اپیل کو مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے کیس کی سماعت کے دوران صوبائی حکومت کو سخت مقتدر ہدایات جاری کی ہیں کہ شکایت کنندہ کو اس کی تعلیمی قابلیت کے مطابق کسی دوسری مناسب جگہ پر فوری ملازمت فراہم کی جائے۔
تزویراتی تفصیلات کے مطابق، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی معزز بینچ نے جمعرات کے روز اس حساس کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران فاضل جج نے ملک میں تعلیم اور روزگار کے گرتے ہوئے معیار پر گہرے دکھ اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کیا اب ہمارے ملک میں ایم اے پاس کرنے والا شخص سوئیپر کا کام کرے گا؟ انہوں نے واضح کیا کہ چونکہ مذکورہ ملازم گزشتہ دس سال سے فرائض انجام دے رہا ہے، اس لیے اب اس مرحلے پر اسے ملازمت سے نکالنا سراسر ناانصافی ہوگی، لہٰذا صوبائی حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ اسے کسی دوسری باوقار آسامی پر تعینات کرے۔
دورانِ سماعت جب ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت صوبے میں سوئیپر کی کوئی آسامی خالی نہیں ہے، تو جسٹس حسن اظہر رضوی نے طنزیہ استفسار کیا کہ کیا خیبرپختونخوا اب اتنا صاف ستھرا ہو گیا ہے کہ وہاں سوئیپر کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی؟ انہوں نے مزید ریمارکس دیئے کہ صاف ستھرا ہونے کا شہرہ تو ہم نے کسی اور صوبے کا سنا تھا۔ عدالت نے ایم اے پاس شہری سے صفائی ستھرائی کا کام لینے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے نظام کو تو شاباش دینی چاہیے جو پڑھے لکھے نوجوانوں سے یہ کام کروا رہا ہے، اور ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص کا سوئیپر کی نوکری کرنا ہمارے پورے معاشرے کے لیے ایک المیہ ہے۔
کیس کی کارروائی کے دوران ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (ڈی ای او) بھی ذاتی حیثیت میں عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ معزز عدالت کے پوچھنے پر انہوں نے تصدیق کی کہ متعلقہ ملازم کی بنیادی ذمہ داری اسکول میں جھاڑو لگانا اور صفائی کرنا ہے۔ اس پر ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس حسن اظہر رضوی نے انتہائی دردمندی سے پوچھا کہ کیا ایک ایم اے پاس نوجوان کے ہاتھوں میں جھاڑو دیکھ کر کسی کو شرم نہیں آتی؟ بعد ازاں، وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا حکومت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل کو خارج کر دیا اور نوجوان ملازم کو دوسری مناسب جگہ ایڈجسٹ کرنے کا حکم دے دیا۔
پاکستان نے ایران اور امریکہ کے مابین جاری امن کوششوں سے پیچھے ہٹنے یا دستبردار ہونے کے تمام تر تاثرات اور افواہوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فریقین کے درمیان ثالثی اور سفارتی رابطوں کا عمل بدستور جاری ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران میڈیا کو بتایا کہ پاکستان خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور باہمی مذاکرات کے فروغ کے لیے اپنا متحرک اور اصولی کردار مستقل بنیادوں پر ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ تناؤ عارضی نوعیت کا ہے جبکہ پائیدار امن اور سنجیدہ مذاکرات ہی تمام تصفیہ طلب مسائل کا واحد حل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت آج بھی ایک مؤثر فریم ورک کے طور پر موجود ہے اور فریقین جب بھی مذاکرات کی راہ پر آئیں گے، اسی دستاویزی فریم ورک کی بنیاد پر امن کی بحالی ممکن ہو سکے گی۔
ترجمان کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی سطح پر خودمختاری، علاقائی سالمیت اور تمام تنازعات کے پرامن سفارتی حل کی بھرپور حمایت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان اور قطر کے مشترکہ اعلامیے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تکنیکی سطح پر مذاکرات کی فوری بحالی انتہائی ضروری ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی توانائی کے عالمی بحران، بین الاقوامی تجارت اور غذائی تحفظ کو بری طرح متاثر کر رہی ہے، جس کے پیشِ نظر آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی معمول کے مطابق بحالی ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان خطے کی صورتحال کو پرامن بنانے کے لیے تمام اہم ممالک سے قریبی رابطے میں ہے، اور حال ہی میں وزیراعظم پاکستان کی امیرِ قطر اور ایرانی صدر سے ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو میں بھی سفارتی تحمل اور امن کی فوری بحالی پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔
ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان اور امریکہ کے مابین ہونے والے تجارتی مذاکرات میں اہم اور مثبت پیش رفت کی بھی باقاعدہ تصدیق کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام دوطرفہ تجارتی حجم کو بڑھانے، عالمی مارکیٹ میں پاکستانی برآمدات میں تنوع لانے اور باہمی معاشی و تجارتی امور پر پائے جانے والے اختلافی نکات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کے لیے مسلسل تزویراتی رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں جس کے جلد ہی مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے حوالے سے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ ہر ایسے اقدام سے مکمل گریز کریں جس سے خطے کے حالات مزید خراب ہوں۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سفارت کاری ہی واحد مؤثر راستہ ہے اور ‘اسلام آباد مفاہمت نامہ’ اس خطے میں امن کی حقیقی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام فریقین باہمی مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے اس سنگین تنازع کا پرامن حل تلاش کر لیں گے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ غیر یقینی صورتحال کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں، اور پاکستان اس حوالے سے اہم عالمی ثالثوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان نے ایرانی صدر سے ٹیلی فونک گفتگو میں انتہائی ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا، جس پر ایرانی صدر نے پاکستان کے اس تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے عزم کو دہرایا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 1540 پر اپنی تفصیلی عملدرآمد رپورٹ جمع کرا دی ہے، جو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (ڈبلیو ایم ڈی) پر سخت کنٹرول سے متعلق ہے۔ پاکستان گزشتہ 22 برسوں سے ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق اپنی تمام بین الاقوامی ذمہ داریاں نہایت سنجیدگی سے پوری کر رہا ہے اور اس سلسلے میں اوسطاً ہر 3 سال بعد باقاعدگی سے اپنی رپورٹ پیش کرتا ہے۔ اس موقع پر طاہر اندرابی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی حریت قیادت کے خلاف دہائیوں پرانے واقعے پر دائر کی گئی حالیہ چارج شیٹ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان بھارتی ہتھکنڈوں کا واحد مقصد کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقِ خود ارادیت سے محروم کرنا ہے، اور یہ چارج شیٹ واضح کرتی ہے کہ بھارتی ریاستی ادارے محض اپنے سیاسی ایجنڈے کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بھارت کے یہ یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات مقبوضہ جموں و کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو ہرگز تبدیل نہیں کر سکتے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت کے پاکستان مخالف کردار کو بے نقاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ بھارت بلوچستان میں کھلم کھلا دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے، اور بلوچستان میں بے گناہ پاکستانیوں کی شہادتوں پر بھارتی میڈیا کا ہنسنا، قہقہے لگانا اور تالیاں بجانا ان کے انتہا پسندانہ عزائم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پاک افغان تعلقات کے حوالے سے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان اور افغان طالبان رجیم کے مابین سفارتی تعلقات میں اب تک کوئی تعطل دور (آئس بریک) نہیں ہوا ہے، اور جب تک کابل حکومت پاکستان مخالف دہشت گردوں کے خلاف عملی اور مؤثر کارروائی نہیں کرتی، تب تک کوئی پیش رفت ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا باقاعدہ رکن بننے کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان کے تنظیم کے دیگر تمام رکن ممالک کے ساتھ خوشگوار سفارتی تعلقات قائم ہوں۔ پریس بریفنگ کے اختتام پر ترجمان نے برادر ملک سعودی عرب کے حوالے سے پاکستان کے اصولی موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان برادر اسلامی ملک سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی غیر مشروط اور مکمل حمایت کرتا ہے اور ریاض کے ساتھ طے پانے والے تمام دوطرفہ معاہدوں پر من و عن عملدرآمد کا پختہ عزم رکھتا ہے۔
واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے ملک بھر کے بڑے دریاؤں اور اہم آبی ذخائر میں پانی کی آمد اور اخراج کے تازہ ترین تزویراتی اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ جمعرات کے روز جاری ہونے والی باقاعدہ رپورٹ کے مطابق، ملک کے سب سے بڑے پانی کے ذخیرے تربیلا ڈیم میں پانی کی آمد اور اخراج میں توازن دیکھا گیا ہے، جبکہ دیگر دریاؤں میں بھی بہاؤ معمول کے مطابق ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ملک کے اہم آبی مقامات پر پانی کی صورتحال کی تفصیلات بتاتے ہوئے رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 1 لاکھ 88 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 60 ہزار 300 کیوسک رہا، جبکہ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج یکساں طور پر 33 ہزار 300 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح، خیرآباد پل کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج 1 لاکھ 92 ہزار 200 کیوسک رہا، دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 24 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 17 ہزار کیوسک درج کیا گیا، اور دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 50 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 21 ہزار 100 کیوسک ریکارڈ ہوا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ جناح بیراج میں پانی کی آمد 2 لاکھ 14 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 6 ہزار 600 کیوسک، چشمہ بیراج میں آمد 2 لاکھ 10 ہزار 500 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 25 ہزار کیوسک، جبکہ تونسہ بیراج میں آمد 2 لاکھ 1 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 79 ہزار 800 کیوسک درج کیا گیا۔ زیریں سندھ میں گدو بیراج کے مقام پر آمد 1 لاکھ 65 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 31 ہزار 300 کیوسک، سکھر بیراج میں آمد 1 لاکھ 23 ہزار کیوسک اور اخراج 66 ہزار 300 کیوسک، جبکہ کوٹری بیراج میں آمد 41 ہزار 200 کیوسک اور اخراج صفر کیوسک ریکارڈ ہوا۔ تریموں کے مقام پر پانی کی آمد 22 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 8 ہزار 400 کیوسک، جبکہ پنجند میں آمد 12 ہزار کیوسک اور اخراج صفر رہا۔
آبی ذخائر کی سطح کے حوالے سے بتایا گیا کہ تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1504.31 فٹ ہے اور یہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 3.166 ملین ایکڑ فٹ ہے، منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1173.20 فٹ اور ذخیرہ 2.736 ملین ایکڑ فٹ ہے، جبکہ چشمہ بیراج میں پانی کی موجودہ سطح 646.80 فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.204 ملین ایکڑ فٹ دستیاب ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے کمرشل بینکنگ سرکل اسلام آباد نے ایک انتہائی مؤثر اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے ایک شہری کے بینک اکاؤنٹ سے اس کی اجازت کے بغیر نکالی گئی 28 لاکھ روپے سے زائد کی خطیر رقم واپس دلوا دی ہے۔ وفاقی ادارے نے تزویراتی تحقیقات کے بعد اس سنگین معاملے میں سیکیورٹی خامیوں کا ذمہ دار بینک انتظامیہ کو قرار دیا ہے، جس کے بعد بینک نے پوری رقم دوبارہ متاثرہ شہری کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دی ہے۔
موقر تفصیلات کے مطابق، ایک شہری نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کو شکایت درج کروائی تھی کہ الائیڈ بینک کی افشاں کالونی برانچ راولپنڈی میں موجود ان کے اکاؤنٹ سے گزشتہ سال 15 اور 16 نومبر کی درمیانی رات ڈیجیٹل فنڈز ٹرانسفر اور ‘راست’ کے تیز رفتار نظام کے ذریعے 28 لاکھ 39 ہزار 500 روپے ان کی مرضی اور علم کے بغیر نکال لیے گئے۔ متاثرہ شہری کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی رقم کی منتقلی کے باوجود ان کے موبائل فون پر الرٹ کا کوئی بھی معلوماتی پیغام موصول نہیں ہوا، جس کے باعث وہ بروقت اس دھوکہ دہی سے آگاہ نہ ہو سکے۔
شکایت ملنے پر وفاقی ایجنسی کے کمرشل بینکنگ سرکل نے فوری طور پر باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کیا اور متعلقہ بینک کے حکام سے تمام تر ضروری ریکارڈ اور دستاویزات طلب کیے۔ تفصیلی شواہد اور گہری چھان بین کے بعد بینک کے حفاظتی نظام میں موجود کمزوریوں کو اس نقصان کی اصل وجہ قرار دیا گیا، جس پر بینک انتظامیہ نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے متاثرہ شہری کی پوری رقم بازیاب کروا کر ان کے اکاؤنٹ میں بحال کر دی۔ اس موقع پر وفاقی ادارے نے عام شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی بینکاری اور مالیاتی سرگرمیوں کے حوالے سے انتہائی ہوشیار رہیں اور کسی بھی مشکوک ٹرانزیکشن کی صورت میں فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ قائم کریں۔
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان کے عظیم اور تاریخی صوفیانہ ورثے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوفیائے کرام کی تعلیمات معاشرے میں رواداری، باہمی مکالمے اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عصرِ حاضر میں بڑھتی ہوئی سماجی تقسیم، عدم برداشت اور انتہاپسندی جیسے سنگین چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے صوفیانہ اقدار ہمیں بہترین اور قیمتی رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس (پی این سی اے) اسلام آباد میں ممتاز فنکاروں رومی اور ایمن کی تخلیق کردہ خصوصی آرٹ نمائش “تصوف اور ثقافت” کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے اس شاندار نمائش کے انعقاد پر انتظامیہ کو مبارکباد دی اور فنکاروں کے مقتدر کام کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم دنیا کی چند نمایاں ترین صوفیانہ روایات کا امین ہے، جنہوں نے خطے کی شاعری، موسیقی، فنِ تعمیر، زبانوں اور لوک ثقافت پر صدیوں گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ تصوف کا اصل پیغام احترام، محبت، ہمدردی اور پرامن بقائے باہمی پر مبنی ہے، جن کی آج کی دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
سید یوسف رضا گیلانی نے تزویراتی نکتہ اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ صوفیائے کرام نے ہمیشہ یہ درس دیا ہے کہ احترام کا جذبہ نفرت سے زیادہ طاقتور ہے، مکالمہ تصادم سے زیادہ دیرپا نتائج دیتا ہے اور بقائے باہمی تفریق سے کہیں زیادہ سودمند ہے۔ یہی وہ آفاقی اصول ہیں جو ایک پرامن، جامع اور مضبوط معاشرے کی بنیاد رکھتے ہیں۔ انہوں نے دونوں فنکاروں کے کام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کا فن نئی نسل کو اپنی روحانی اور ثقافتی اقدار سے جوڑنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ اس مقتدر تقریب میں سینیٹر مولانا عطا الرحمان، سینیٹر عبدالقادر، سینیٹر دلاور خان، سینیٹر عطاء الحق درویش سمیت فنونِ لطیفہ کے ماہرین، ممتاز سفارت کاروں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی مقتدر شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں پائیدار ترقی سے متعلق اعلیٰ سطحی سیاسی فورم کے موقع پر “مصنوعی ذہانت اور پائیدار ترقی کا مستقبل: جدت، شمولیت اور لچک” کے عنوان سے ایک مقتدر اعلیٰ سطحی مباحثے کا انعقاد کیا گیا۔ اس اہم ترین تقریب کا مشترکہ اہتمام پاکستان اور تاجکستان کے مستقل مشنز اور پاکستان کے وزیرِاعظم یوتھ پروگرام نے کیا۔ تقریب میں مختلف ممالک کے سفارت کاروں، اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ حکام، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ممتاز ماہرین، ماہرینِ تعلیم اور نوجوانوں کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اس امر پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے انقلابی فوائد دنیا بھر کے تمام انسانوں کے لیے یکساں طور پر قابلِ رسائی ہونے چاہئیں۔
مباحثے سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے چیئرمین وزیرِاعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی ترقی کو تیز کرنے کے لیے پاکستان کے انقلابی اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ حکومتِ پاکستان نے مالی سال 2026-27 کے دوران وزیرِاعظم یوتھ پروگرام کے لیے 40.58 ارب روپے کے خطیر فنڈز مختص کیے ہیں تاکہ نئی نسل کو جدید معاشی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک ملک بھر کے ہونہار طلبہ میں 6 لاکھ سے زائد لیپ ٹاپ تقسیم کیے جا چکے ہیں، 73 ہزار نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت، بلاک چین اور ڈیٹا سائنس کی جدید ترین تربیت دی جا چکی ہے، جبکہ 2 لاکھ 17 ہزار سے زائد تکنیکی مہارت کے وظائف فراہم کیے گئے ہیں۔
رانا مشہود احمد خان نے پاکستان کے طویل المدتی تزویراتی وژن کا تذکرہ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ قومی مصنوعی ذہانت پالیسی کے تحت سال 2030ء تک 10 لاکھ ماہرین اور 10 ہزار اساتذہ (ٹرینرز) تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مہارتوں کی ترقی میں سرمایہ کاری کر کے عالمی تفاوت کو ختم کرے۔ اس موقع پر جمہوریہ تاجکستان کے وزیر برائے اقتصادی ترقی و تجارت عالی جناب عبدالرحمن عبدالرحمن زادہ نے بھی خطاب کیا اور پائیدار ترقی میں مصنوعی ذہانت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ تاجکستان وسطی ایشیا کا پہلا ملک ہے جس نے 2040ء تک کے لیے قومی مصنوعی ذہانت حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔
تقریب کے پینل مباحثے میں اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی ماہر جینیفر لوئی، گوگل کے نمائندے ہاشم سید اور یوتھ ڈیلیگیٹ بسمہ قمر نے حصہ لیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ جہاں یہ ٹیکنالوجی ترقی کے بے پناہ مواقع فراہم کرتی ہے، وہیں سائبر سیکیورٹی جیسے ابھرتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر ضابطہ کار بھی ناگزیر ہے۔
اپنے اختتامی خطاب میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اس بات پر سخت زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کا مستقبل محض ٹیکنالوجی کی ترقی نہیں بلکہ انسانیت کی فلاح کو تشکیل دینا ہونا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی کو یقینی نہ بنایا گیا تو یہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے مابین ڈیجیٹل خلیج کو مزید وسیع کر دے گی۔ سفیر عاصم افتخار نے کثیرالجہتی نظام کے تحت چار بنیادی ترجیحات پیش کیں، جن میں عالمی تفاوت کا خاتمہ، مواقع کو مساوی معاشی نتائج میں تبدیل کرنا، نوجوانوں کو تخلیق کار تسلیم کرنا اور مصنوعی ذہانت کو مکمل طور پر انسان دوست، اخلاقی، محفوظ اور جوابدہ بنانا شامل ہے۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے رن وے کی تعمیرِ نو کا انتہائی پیچیدہ اور اہم ترین منصوبہ محض 18 ماہ کی مقررہ مدت میں کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ اس مقتدر کامیابی اور تزویراتی مہارت کا باقاعدہ اعتراف تھائی لینڈ کے شہر بینکاک میں منعقدہ اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے ‘انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن’ (آئی سی اے او) کے تحت ایشیا پیسیفک ریجنل ایوی ایشن سیفٹی ٹیم کے پچیسویں اہم اجلاس کے دوران کیا گیا، جہاں پاکستانی وفد نے ملک کی مقتدر نمائندگی کی۔
ترجمان پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، بینکاک میں ہونے والے اس بین الاقوامی اجلاس میں شریک پاکستانی وفد میں پراجیکٹ ڈائریکٹر جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ انجینئر حافظ زاہد اسحاق، سینئر ڈپٹی ڈائریکٹر انجینئر منیب احمد خان اور سینئر ڈپٹی ڈائریکٹر سول ایوی ایشن اتھارٹی ماہ رخ ایم حسین شامل تھے۔ اجلاس کے دوران انجینئر حافظ زاہد اسحاق نے پاکستان کی ہوا بازی کی تاریخ کے اس منفرد منصوبے پر ایک تکنیکی ورکنگ پیپر پیش کیا، جس میں لائیو ایئرپورٹ آپریشنز کے دوران مکمل حفاظتی انتظامات کے ساتھ رن وے کی تعمیرِ نو کے مراحل کو تفصیلاً اجاگر کیا گیا۔
عالمی فورم کو دی جانے والی پریزنٹیشن میں تزویراتی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ رن وے کی تعمیرِ نو کے دوران ایئرپورٹ کے آپریشنز کو ایک لمحے کے لیے بھی بند نہیں کیا گیا، بلکہ اس دوران تقریباً 60 ہزار فضائی پروازوں کو مکمل طور پر محفوظ انداز میں سہولت فراہم کی گئی اور ایک کروڑ کے قریب مسافروں کو سفری خدمات دی گئیں، جبکہ پورے منصوبے کے دوران کوئی ایک بھی ناخوشگوار واقعہ یا حادثہ پیش نہیں آیا۔ رن وے کی مکمل اور معیاری تعمیر کے بعد اسے تجارتی پروازوں کے لیے باقاعدہ طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔ اجلاس میں موجود امریکہ اور تھائی لینڈ کی ہوا بازی کے مقتدر اداروں نے پاکستان کے اس بہترین سیفٹی فریم ورک اور مختلف اداروں کے مابین شاندار تعاون کو بے حد سراہا اور اسے پورے ایشیا پیسیفک خطے کے لیے ایک بہترین اور قابلِ تقلید مثال قرار دیا۔
پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ موجودہ اور ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کا واحد راستہ کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے پاکستان نے ایک ایسے مؤثر، نمائندہ، جمہوری، جوابدہ اور منصفانہ عالمی نظام اور اداروں کی تشکیل پر زور دیا ہے جو دنیا کے معاشی و سلامتی کے مسائل کا پائیدار حل فراہم کر سکیں۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے غیر رسمی اجلاس بعنوان “پیکٹ فار دی فیوچر کا جائزہ: مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کثیرالجہتی نظام” سے خطاب کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے ‘پیکٹ فار دی فیوچر’ کے تحت کیے گئے عالمی وعدوں پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے مقتدر خطاب میں واضح کیا کہ ایک فعال اور مضبوط جنرل اسمبلی ہی دراصل ایک مؤثر اقوامِ متحدہ کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت بین الاقوامی امن و سلامتی کے فروغ میں جنرل اسمبلی کے کلیدی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کے ساتھ ساتھ جنرل اسمبلی کو مصنوعی ذہانت ، خلائی سرگرمیوں اور عالمی مشترکہ وسائل جیسے جدید ترین اور ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجز سے نمٹنے میں بھی مرکزی اور تزویراتی کردار ادا کرنا چاہیے۔
بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مستقل مندوب نے ایک منصفانہ اور جمہوری عالمی اقتصادی نظم و نسق کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ترقی پذیر ممالک کے لیے رعایتی مالی وسائل تک آسان رسائی، قرضوں کے بوجھ میں بامعنی ریلیف اور عالمی برادری کے کیے گئے وعدوں پر مؤثر عمل درآمد کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ‘بورورز پلیٹ فارم’ کے قیام میں پاکستان کی بطور نائب چیئرمین خدمات کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے بین الاقوامی اقتصادی تعاون اور ہم آہنگی کے فروغ میں ای سی او ایس او سی کے چارٹر کے تحت حاصل اختیارات سے بھرپور استفادہ کرنے پر زور دیا۔
سلامتی کونسل میں اصلاحات کے حساس معاملے پر سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کے اصولی اور روایتی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کونسل کو زیادہ نمائندہ، جمہوری، شفاف، جوابدہ اور مؤثر بنانے کے لیے جامع اصلاحات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ مستقل نشستوں میں اضافہ نہ تو سلامتی کونسل کو درپیش بنیادی مسائل کا حل ہے اور نہ ہی اسے اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کی وسیع حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اصلاحات کا مقصد بالخصوص ترقی پذیر اور چھوٹے ممالک سمیت پوری رکنیت کے اجتماعی مفادات کی بہتر عکاسی ہونا چاہیے، اور اس سلسلے میں بین الحکومتی مذاکرات ہی مناسب اور متفقہ فورم ہے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ اصل کامیابی کا معیار یہ ہوگا کہ آیا اقوامِ متحدہ کے ادارے مستقبل میں واقعی زیادہ نمائندہ، جوابدہ اور منصفانہ بن کر تمام رکن ممالک کی ضروریات پر پورا اترتے ہیں یا نہیں۔
پاکستان نے مغربی افریقہ اور ساحل خطے میں دیرپا امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے اپنی مضبوط اور اصولی حمایت کا صریح اعادہ کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مغربی افریقہ اور ساحل کے لیے اقوامِ متحدہ کے دفتر کی کارکردگی پر منعقدہ ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ خطے کو درپیش پیچیدہ سیاسی، سلامتی، انسانی اور سماجی و اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی ملکیت، مضبوط علاقائی تعاون اور مستقل بین الاقوامی مالی و سیاسی حمایت ناگزیر ہے۔ انہوں نے یو این او واس کے خصوصی نمائندے کی جامع بریفنگ کی تعریف کی اور خطے میں احتیاطی سفارت کاری، جامع سیاسی مکالمے اور باہمی تعاون کے فروغ میں ادارے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس کے آئندہ آزادانہ اسٹریٹجک جائزے کا خیرمقدم کیا۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے خطے کے تمام ممالک کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل اور تاریخی عزم کو دہراتے ہوئے ریاستوں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے بنیادی اصول پر سختی سے زور دیا۔ افریقہ کے ساتھ پاکستان کے گہرے تعلقات کا تزویراتی تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے فخر سے اجاگر کیا کہ پاکستانی امن دستوں نے پورے افریقی براعظم میں اقوامِ متحدہ کے پرچم تلے امن قائم کرنے اور امن کے استحکام کی مقتدر کوششوں میں ہمیشہ نمایاں اور امتیازی خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے کہا، “افریقہ کے ساتھ ہماری شراکت داری دیرینہ، مضبوط اور ہمہ جہت ہے اور پاکستان اس براعظم کی خوشحالی کو اپنی ترجیحات میں شامل سمجھتا ہے۔”
پاکستانی مستقل مندوب نے مغربی افریقہ اور ساحل کے علاقوں میں دہشت گردی اور پُرتشدد انتہا پسندی کے مسلسل بڑھتے ہوئے خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس لعنت کے مؤثر تدارک کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ محض عسکری کارروائیاں کافی نہیں، بلکہ اس مقصد کے لیے ایک ایسی جامع حکمتِ عملی درکار ہے جو مؤثر سکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ دہشت گردی اور انتہا پسندی کو جنم دینے والی بنیادی وجوہات اور معاشی محرومیوں کے خاتمے پر بھی یکساں توجہ دے۔ انہوں نے علاقائی تعاون کے فروغ کی اہمیت کے ضمن میں ایکوواس اور کنفیڈریشن آف ساحل اسٹیٹس کے درمیان جاری روابط کا خیرمقدم کیا اور باہمی اعتماد کی بحالی کے لیے مسلسل مکالمے کی حوصلہ افزائی کی۔
اپنے مقتدر خطاب کے آخر میں سفیر عاصم افتخار احمد نے امن، سلامتی اور پائیدار ترقی کے باہمی گہرے تعلق کو اجاگر کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے کو درپیش انسانی اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنی امداد اور سرمایہ کاری کی حمایت جاری رکھے، بالخصوص انسانی امدادی سرگرمیوں کے لیے درکار عالمی مالی وسائل کی مسلسل کمی کا فوری نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ “دیرپا امن اور سلامتی کا انحصار پائیدار ترقی، مضبوط اداروں اور نوجوانوں کے لیے بہتر معاشی مواقع کی فراہمی پر ہے”۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن، معاشی استحکام اور تعمیرِ نو کے فروغ کے لیے تمام مخلصانہ عالمی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔
وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے انڈس بلائنڈ ڈولفن (اندھی ڈولفن) کی بقا اور تحفظ کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں سمیت تمام شراکت داروں کے مابین مربوط اور اجتماعی اقدامات پر زور دیا ہے۔ اسلام آباد میں ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک مقتدر تقریب کے دوران انہوں نے جدید ترین ‘انڈس ڈولفن ریسکیو ایمبولینس’ کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ معدومیت کے شدید خطرے سے دوچار اس نایاب نسل کو بچانے کے لیے وفاقی حکومت، حکومتِ سندھ، حکومتِ پنجاب اور ڈبلیو ڈبلیو ایف نے مل کر غیر معمولی کام کیا ہے، جس کی بدولت اب تک دریا کے مختلف حصوں میں پھنس جانے والی 220 نایاب ڈولفنز کو کامیابی سے ریسکیو کیا جا چکا ہے۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے انڈس بلائنڈ ڈولفن کی تاریخی و ماحولیاتی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ منفرد آبی حیات دریائے سندھ کی قدیم ترین تاریخ کا حصہ ہے، جو یہاں آباد ہونے والی انسانی تہذیبوں سے بھی پہلے سے اس دریا کا مسکن ہے۔ انہوں نے اس غلط فہمی کو دور کیا کہ یہ ڈولفن کسی بیماری یا حادثے کی وجہ سے نابینا ہے، بلکہ قدرتی ارتقائی عمل کے تحت اس کی آنکھیں فعال نہیں ہیں اور یہ پانی میں راستہ تلاش کرنے اور شکار کرنے کے لیے آواز کی لہروں (ایکو لوکیشن) کا استعمال کرتی ہے۔ وفاقی وزیر نے اصرار کیا کہ یہ نایاب ڈولفن محض ایک جاندار نہیں بلکہ دریائے سندھ کے پورے ماحولیاتی نظام اور وادی سندھ کی عظیم تہذیبی وراثت کی ایک مقتدر علامت ہے۔
وفاقی وزیر نے ماضی کی سنگین صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ 1970ء کی دہائی میں انڈس ڈولفن کی تعداد تشویشناک حد تک کم ہو کر صرف 1200 کے لگ بھگ رہ گئی تھی، تاہم مشترکہ مہم اور بروقت تزویراتی فیصلوں نے اسے معدوم ہونے سے بچا لیا۔ انہوں نے چین کے دریائے یانگ زی کی ناپید ہو جانے والی ‘بائیجی ڈولفن’ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک نسل کو بچایا نہ جا سکا، مگر پاکستان نے اجتماعی عزم کا مظاہرہ کر کے اپنی نایاب ڈولفن کا تحفظ یقینی بنایا ہے۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے اعلان کیا کہ نو متعارف کرائی گئی جدید ریسکیو ایمبولینس دریائے سندھ کے تقریباً 200 کلومیٹر کے طویل ماحولیاتی علاقے میں چوبیس گھنٹے ہنگامی خدمات انجام دے گی، جبکہ اس پورے مشن میں دریا کے کناروں پر آباد 1500 سے زائد مقامی ماہی گیروں اور خاندانوں کو بھی شراکت دار بنایا جا رہا ہے۔
اپنے خطاب کے آخر میں ڈاکٹر مصدق ملک نے موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج، درجہ حرارت میں اضافہ اور گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا محض تقدیر کا فیصلہ نہیں بلکہ ہمارے اپنے فیصلوں کا نتیجہ ہیں، جس کی وجہ سے حالیہ برسوں کے تباہ کن سیلابوں میں 4 کروڑ سے زائد افراد متاثر اور ہزاروں لقمہ اجل بنے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ حکومت دریائے سندھ کو ‘لیونگ انڈس’ (زندہ دریائے سندھ) کے طور پر محفوظ رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور عوام کو بھی اپنی قدرتی وراثت اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے اپنی اجتماعی ذمہ داریاں نبھانی ہوں گی۔
محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم شدید گرم اور حبس زدہ رہنے کی پیشگوئی کی ہے۔ تاہم، شام یا رات کے اوقات میں کشمیر، بالائی خیبرپختونخوا، شمال مشرقی پنجاب اور گلگت بلتستان میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ مقتدر موسمیاتی رپورٹ کے مطابق، موجودہ موسمی صورتحال کے پیشِ نظر بحیرۂ عرب سے مرطوب ہوائیں ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں داخل ہو رہی ہیں، جبکہ کمزور مغربی ہواؤں کا ایک سلسلہ ملک کے شمالی علاقوں پر موجود ہے۔ فی الوقت کسی قسم کا الرٹ یا انتباہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے محکمہ موسمیات نے واضح کیا کہ ملک کے بیشتر حصوں میں موسم گرم اور مرطوب رہا، تاہم اسلام آباد، خطہ پوٹھوہار، جنوبی پنجاب، شمالی بلوچستان، بالائی خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بادل برسے۔ گزشتہ روز سب سے زیادہ بارش پنجاب میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد (ایئرپورٹ 69 ملی میٹر) میں ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ جوہرآباد میں 56، ملتان (ایئرپورٹ 49، سٹی 17)، قصور 40، سرگودھا سٹی 36، ڈیرہ غازی خان 20، کوٹ ادو 12، بہاولپور سٹی 03، منڈی بہاؤالدین 02، جبکہ چکوال، خانیوال اور بہاولپور ایئرپورٹ پر 01 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ بلوچستان کے علاقے بارکھان میں 04، گلگت بلتستان کے علاقے گوپس میں 03، جبکہ خیبر پختونخوا کے تفریحی مقامات کالام اور کاکول میں 01 ملی میٹر بارش ہوئی۔
منگل کے روز ملک بھر میں ریکارڈ کیے گئے درجہ حرارت کے مطابق صوبہ بلوچستان کا شہر سبی 46 ڈگری سینٹی گریڈ کے ساتھ گرم ترین علاقہ رہا۔ اس کے علاوہ نوکنڈی اور دالبندین میں 44 ڈگری، جبکہ تربت، نور پور تھل، بھکر اور دادو میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ شہریوں کو شدید حبس اور گرمی کی لہر کے پیشِ نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور پانی کا استعمال زیادہ رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔