عمران خان کئی ماہ سے قیدِ تنہائی میں ہیں، کسی قسم کی کوئی ‘ڈیل’ نہیں ہو رہی: علیمہ خان کا راولپنڈی میں بڑا دعویٰ

کاشف عباسی ,june 02,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جون 2026ء

پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے مروجہ سیاسی افواہوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیراعظم کو گزشتہ کئی ماہ سے جیل میں سخت قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے حوالے سے میڈیا اور سیاسی حلقوں میں گردش کرنے والی خفیہ ‘ڈیل’ کی تمام خبریں اور دعوے بالکل بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔

حکومتی دباؤ اور ڈیل کی افواہوں کا حقیقت سے موازنہ راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ جب بھی موجودہ حکومت کو عوامی ردعمل اور اپوزیشن کا سیاسی دباؤ بڑھتا ہوا محسوس ہوتا ہے، تو وہ عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے مختلف افواہیں اور ڈیل سے متعلق جھوٹی خبریں مارکیٹ میں لے آتی ہے، تاہم حقیقت میں پسِ پردہ ایسی کوئی بات نہیں ہو رہی۔

فیملی کی طرف سے کسی سیاسی ریلیف یا رعایت کا مطالبہ نہیں انہوں نے میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو ان سے سوالات کرنے کے بجائے مقتدر اور متعلقہ حکام سے یہ پوچھنا چاہیے کہ عمران خان کو اتنے طویل عرصے سے قیدِ تنہائی میں کیوں بند رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے خاندان کی جانب سے حکومت یا مقتدر حلقوں سے کسی بھی قسم کے سیاسی ریلیف، این آر او یا رعایت کا مطالبہ نہیں کیا جا رہا، بلکہ فیملی صرف اور صرف ان کے بنیادی قانونی، آئینی اور انسانی حقوق کی فوری فراہمی کا مطالبہ کر رہی ہے۔

عمران خان پر ذہنی دباؤ اور آنکھوں کے علاج کا ہنگامی مطالبہ علیمہ خان نے انتظامیہ پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو کئی ماہ سے مسلسل شدید ذہنی اور جسمانی دباؤ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ اور متعلقہ اداروں سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مطالبہ کیا کہ عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور ان کے مکمل تفصیلی طبی معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر جیل سے کسی مستند اور بڑے طبی ادارے (ہسپتال) میں منتقل کیا جائے، تاکہ ملک کے ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں ان کا باقاعدہ معائنہ اور علاج ممکن بنایا جا سکے۔

ملاقاتوں کی تردید اور پارٹی قیادت کا دوٹوک موقف انہوں نے بعض مخصوص سیاسی شخصیات کی جانب سے پھیلائی جانے والی افواہوں کی سخت تردید کرتے ہوئے کہا کہ مقتدر حلقوں اور عمران خان کے درمیان حالیہ دنوں میں کسی بھی ملاقات سے متعلق گردش کرنے والی خبریں سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں۔ ان کے بقول، تحریک انصاف کی مرکزی قیادت بھی ان تمام خبروں کو سرکاری طور پر مسترد کر چکی ہے اور ڈیل سے متعلق کیے جانے والے تمام دعوے عوام کو گمراہ کرنے کی ایک ناکام کوشش ہیں۔

عوامی ووٹ کا احترام اور گلگت بلتستان کا تذکرہ علیمہ خان نے اپنے بیان میں ملکی سیاست پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے ڈالے گئے ووٹ کا غیر مشروط احترام ہی کسی بھی حقیقی جمہوری نظام کی اصل بنیاد ہوتا ہے۔ اگر عوام کو ایک بار یہ احساس دلا دیا جائے کہ ان کے ووٹ کی کوئی قانونی اہمیت یا حیثیت ختم ہو گئی ہے، تو اس کے ملک پر انتہائی ہولناک اور منفی اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔ انہوں نے ملک کے بالائی خطے گلگت بلتستان کے موجودہ سیاسی ماحول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی شفاف اور آزادانہ سیاسی سرگرمیوں کے انعقاد کے لیے ایک سازگار اور پرامن ماحول فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں سے یکجہتی کی اپیل انہوں نے تحریک انصاف کے تمام منتخب رہنماؤں، اراکینِ اسمبلی اور سینیٹرز سے پرزور اپیل کی کہ وہ اس مشکل وقت میں اپنے لاکھوں مخلص کارکنوں اور بانی عمران خان کے اصولی مؤقف کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہوں اور ملکی سیاست میں اپنا فعال اور انقلابی کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے تمام منتخب نمائندوں اور اعلیٰ قیادت کو ہر حال میں ورکرز کی توقعات پر پورا اترنا ہو گا۔

علیمہ خان نے پریس کانفرنس کے آخر میں اس پختہ عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے بھائی عمران خان کے قانونی، آئینی، طبی اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہیں گی اور اس کڑے وقت میں اپنی یہ قانونی و سیاسی جدوجہد آخری حد تک جاری رکھیں گی۔

بجلی کی سبسڈی ختم نہیں ہو رہی، مستحق صارفین کو ریلیف ملتا رہے گا: وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری

منصور احمد june 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جون 2026ء

وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے بجلی کے بلوں سے پریشان عوام کے لیے بڑا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت دو سو (200) یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے تحفظ یافتہ (پروٹیکٹڈ) صارفین کی سبسڈی کسی صورت ختم نہیں کر رہی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ملک کے غریب اور مستحق صارفین کو بدستور ریلیف فراہم کیا جاتا رہے گا۔

سبسڈی کے خاتمے کی افواہیں گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہیں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں جاری حالیہ اصلاحات کا بنیادی مقصد غریب صارفین کو زیادہ سے زیادہ معاشی سہولت اور ریلیف فراہم کرنا ہے، جبکہ بعض سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے سبسڈی کے خاتمے سے متعلق پھیلائی جانے والی تمام رپورٹس حقائق کے بالکل منافی اور سراسر گمراہ کن ہیں۔

سبسڈی حاصل کرنے والے صارفین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ وفاقی وزیر نے پریس کانفرنس کے دوران اہم اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران سرکاری سبسڈی حاصل کرنے والے گھریلو صارفین کی تعداد میں ریکارڈ اور نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق، اس ریلیف سے مستفید ہونے والے صارفین کی تعداد پچانوے (95) لاکھ سے بڑھ کر اب دو کروڑ پندرہ لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ملک بھر کے تقریباً چھیاسی (86) فیصد گھریلو صارفین اس وقت حکومت کی جانب سے کسی نہ کسی صورت میں سستی بجلی یا سبسڈی حاصل کر رہے ہیں۔

مستحقین کے لیے جدید بائیو میٹرک اور تصویری رجسٹریشن کا نظام وفاقی وزیر نے کہا کہ سبسڈی کے اس پورے نظام کو مزید شفاف، منصفانہ اور مؤثر بنانے کے لیے ایک جدید تصویری اور رمزی کوڈ (کیو آر کوڈ) پر مبنی ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس نئے انتظامی اقدام کا اصل مقصد ملک کے حقیقی مستحق صارفین کا سو فیصد درست ڈیٹا مرتب کرنا اور سبسڈی کی فراہمی کو مزید منظم بنانا ہے۔ اس سلسلے میں ملک بھر میں نئی رجسٹریشن کا آغاز کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے صارفین سے ان کی بنیادی معلومات حاصل کی جائیں گی۔

بجلی کے بلوں پر کسی نئے ٹیکس کے نفاذ کی تردید سردار اویس لغاری نے عوام کو خوشخبری سناتے ہوئے واشنگٹن یا آئی ایم ایف کے دباؤ کے حوالے سے واضح کیا کہ بجلی کے بلوں پر کسی بھی نئے ٹیکس کے نفاذ کی کوئی تجویز اس وقت حکومت کے زیرِ غور نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور پوری کابینہ بجلی کے نرخوں میں بتدریج کمی لانے اور صارفین کو براہِ راست ریلیف فراہم کرنے کے اپنے تحریری وعدے پر قائم ہے اور توانائی کے شعبے میں کی جانے والی اصلاحات کے مثبت نتائج اب سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

نجی بجلی گھروں سے معاہدوں پر نظرثانی اور ساڑھے تین کھرب روپے کی بچت انہوں نے بتایا کہ ملک کے آزاد بجلی پیدا کرنے والے نجی کارخانوں (آئی پی پیز) کے ساتھ ماضی کے معاہدوں پر کامیاب نظرثانی کے نتیجے میں قومی خزانے کو تقریباً ساڑھے تین کھرب روپے کی خطیر بچت ممکن ہوئی ہے۔ اسی طرح، بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے انتظامی نقصانات اور بجلی چوری میں نمایاں کمی لا کر ایک سو تریانوے (193) ارب روپے کی بچت حاصل کی گئی ہے، جبکہ مالی سال 2024-25 کے دوران ملک کے مجموعی گردشی قرضے میں سات سو اسی (780) ارب روپے کی تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

شمسی توانائی اور نیٹ میٹرنگ کے حوالے سے حکومتی پالیسی وفاقی وزیر توانائی نے شمسی توانائی (سولر سسٹم) کے حوالے سے جاری افواہوں کو رد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک میں شمسی توانائی کے فروغ کی مکمل اور اصولی حمایت کرتی ہے اور عوام میں سولر نظام اپنانے کی ہرگز حوصلہ شکنی نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ گھروں کی بجلی واپس گرڈ کو بیچنے کا نظام (نیٹ میٹرنگ) اپنے اصل قانون کے ساتھ مکمل برقرار ہے، صرف بلنگ کے طریقہ کار کو پہلے سے زیادہ شفاف اور پائیدار بنایا جا رہا ہے تاکہ امیر اور غریب تمام صارفین کو منصفانہ معاشی سہولت فراہم کی جا سکے۔

انہوں نے آخر میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ موجودہ حکومت توانائی کے شعبے میں کڑے احتساب اور اصلاحات کا یہ عمل مستقبل میں بھی جاری رکھے گی تاکہ پاکستان کے بجلی کے نظام کو معاشی طور پر مستحکم، شفاف، چوری سے پاک اور مکمل طور پر عوام دوست بنایا جا سکے۔

خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات پر عید کے دوران سیاحوں کی آمد توقع سے کم، ماہرین کا سہولیات کی کمی پر تشویش کا اظہار

کاشف عباسی ,june 01,2026

پشاور(نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

عیدالاضحیٰ کی طویل تعطیلات کے دوران خیبرپختونخوا کے معروف اور خوبصورت سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی آمد توقعات سے نمایاں طور پر کم رہی ہے۔ سرکاری طور پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، گلیات، سوات، کالام، کمراٹ، کاغان اور ناران سمیت صوبے کے مختلف تفریحی علاقوں میں مجموعی طور پر گیارہ لاکھ چونسٹھ ہزار سے زائد افراد نے سفر کیا، جبکہ اس پورے سیزن کے دوران غیر ملکی سیاحوں کی تعداد انتہائی مایوس کن یعنی ایک سو سے بھی کم ریکارڈ کی گئی ہے۔

مختلف وادیوں میں سیاحوں کی آمد کے سرکاری اعداد و شمار صوبائی سیاحتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق، عید کے دنوں میں سب سے زیادہ سیاحوں نے وادی سوات کا رخ کیا جہاں تین لاکھ تینتیس ہزار سے زائد افراد تفریح کے لیے پہنچے۔ اس کے علاوہ سابق قبائلی اضلاع (ضم شدہ اضلاع) میں تین لاکھ چورانوے ہزار، وادی ناران میں ایک لاکھ دس ہزار، جبکہ مری کے قریب واقع گلیات کے مختلف خوبصورت علاقوں میں بھی ایک لاکھ دس ہزار سے زائد افراد نے سیاحت کی۔

سرکاری اعداد و شمار پر ماہرین کے تحفظات سیاحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے ان سرکاری اعداد و شمار پر تفصیلی تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جاری کیے گئے ان اعداد و شمار میں وہاں کی مقامی آبادی اور عید کی تعطیلات گزارنے کے لیے اپنے آبائی گھروں کو جانے والے افراد کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ اس خلط ملط کی وجہ سے اصل سیاحوں (تفریح کی غرض سے آنے والوں) کی اصل تعداد کا درست اور شفاف اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

انتظامی کمزوریاں اور مری سے موازنہ ماہرین کے مطابق، گلیات سمیت خیبرپختونخوا کے دیگر سیاحتی علاقوں میں بیک وقت لاکھوں افراد کو ٹھہرانے کی وسیع گنجائش موجود ہے، تاہم جدید سہولیات کی شدید کمی، ناقص طویل المدتی منصوبہ بندی، انتظامی کمزوریوں اور بنیادی ڈھانچے (سڑکوں وغیرہ) کی خرابی کے باعث یہ خوبصورت علاقے اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ ماہرین نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ عید کے دوران مری میں ہوٹلوں اور رہائشی مقامات پر شدید رش رہا اور بہت سے سیاحوں کو مجبورا اپنی گاڑیوں میں راتیں گزارنا پڑیں، لیکن اس کے باوجود بڑی تعداد میں لوگوں نے قریبی گلیات کا رخ کرنے کے بجائے مری ہی میں مقیم رہنے کو ترجیح دی۔ ماہرین کے نزدیک اس کی بنیادی وجہ گلیات میں مناسب، فیملی کے لیے محفوظ اور سستی رہائش گاہوں کی شدید کمی اور بنیادی سیاحتی سہولیات کا فقدان ہے۔

سیاحت کے سنہری دور کا خاتمہ اور بند منصوبے سیاحتی ماہرین نے افسوس کے ساتھ نشاندہی کی کہ اب سے کئی برس قبل خیبرپختونخوا کے ان سیاحتی مقامات پر سیاحوں کا رش موجودہ صورتحال سے کہیں زیادہ ہوا کرتا تھا؛ ماضی میں عید کے موقع پر وادی سوات، کالام اور گلیات کے ہوٹلوں میں کمرے ملنا ناممکن ہو جاتا تھا، لیکن اب صورتحال اس کے بالکل برعکس نظر آتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے کے اہم ترین تفریحی منصوبے، جیسے کہ ‘ایوبیہ کی چیئر لفٹ’، طویل عرصے سے بند پڑی ہے جبکہ متعدد دیگر تفریحی منصوبے بھی حکومت کی عدم توجہ کا شکار ہیں، جس سے صوبائی سیاحت کے فروغ پر انتہائی منفی اور گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

حکومت سے اصلاحات اور خصوصی تربیت کا مطالبہ ماہرین نے صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ سیاحت کے شعبے میں وسیع تجربہ اور وژن رکھنے والے پیشہ ور افراد کو محکمہ سیاحت میں اہم ذمہ داریاں سونپی جائیں۔ اس کے ساتھ ہی، مقامی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے افسران کو سیاحت اور مہمان نوازی (ہوسپیٹلٹی) کے شعبے کی خصوصی تربیت دی جائے اور تمام سیاحتی مقامات پر پینے کے صاف پانی، سستی رہائش اور اچھے راستوں جیسی بنیادی سہولیات کو ہنگامی بنیادوں پر بہتر بنایا جائے تاکہ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں دوبارہ اضافہ ہو سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مؤثر منصوبہ بندی، جدید ڈیجیٹل سہولیات اور بہتر سکیورٹی انتظامات فراہم کیے جائیں، تو خیبرپختونخوا کا یہ سیاحتی شعبہ صوبے کی معیشت کے لیے ایک انتہائی مضبوط، مستقل اور پائیدار ذریعہ آمدن بن سکتا ہے۔

گلگت بلتستان میں شفاف انتخابات کا مطالبہ، فارم 45 کے تحفظ پر زور

کاشف عباسی ,june 01,2026

شگر (نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شگر میں ایک بڑے اور عوامی انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے گلگت بلتستان میں صاف اور شفاف انتخابات کرانے کا زوردار مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں پر خصوصی زور دیا ہے کہ وہ ووٹنگ کے پورے عمل کی خود نگرانی کریں اور انتخابی نتائج سے متعلق تمام ضروری دستاویزات کو محفوظ بنائیں۔

پیپلز پارٹی سے گلگت بلتستان کے عوام کا دیرینہ رشتہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ گلگت بلتستان کے غیور عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان پیپلز پارٹی کا مخلصانہ ساتھ دیتے آرہے ہیں اور یہی عوامی محبت و وفاداری ان کی سیاسی طاقت کا اصل سرچشمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کی جرات کی بدولت وہ آج بھی فخر کے ساتھ ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘ کا تاریخی نعرہ بلند کرتے ہیں۔

گزشتہ انتخابی نتائج پر تحفظات اور دھاندلی کے الزامات انہوں نے مخالفین پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی متعدد جیتی ہوئی نشستیں زبردستی چھینی گئیں، اسی لیے یہ اب بے حد ضروری ہو چکا ہے کہ آئندہ انتخابات مکمل طور پر آزاد، منصفانہ اور شفاف ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام اس بار اپنے ووٹ کی خود حفاظت کریں اور انتخابی عمل پر دائرے کی طرح گہری نظر رکھیں تاکہ کسی بھی قسم کی انتظامی بے ضابطگی کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔

عوامی مینڈیٹ کا احترام اور کارکنوں سے اپیل چیئرمین پیپلز پارٹی نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ اس بار عوامی مینڈیٹ کا ہر حال میں احترام کیا جائے گا اور اب کسی بھی دوسری سیاسی جماعت کو عوام کا ووٹ چوری کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔ انہوں نے کارکنوں سے پرجوش اپیل کی کہ وہ انتخابی دن بھرپور انداز میں پولنگ اسٹیشنز پر متحرک رہیں اور ہر مرحلے پر عوام کے ڈالے گئے ووٹ کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔

قائدین کی قربانیوں اور نظریے کا تذکرہ اپنے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے محترمہ بینظیر بھٹو اور قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو کی لازوال سیاسی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان عظیم رہنماؤں نے پاکستان کے پسے ہوئے عوام کو آئینی حقوق، جمہوری شعور اور بین الاقوامی سطح پر ایک نئی شناخت فراہم کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی ترقی، جمہوریت کی بقا اور قومی وقار کے لیے پیپلز پارٹی کی دی گئی قربانیاں ملکی تاریخ کا ایک روشن اور اہم حصہ ہیں۔

جلسے کے اختتام پر انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ وہ آنے والے ان اہم انتخابات میں بھرپور طریقے سے حصہ لیں اور اپنے ووٹ کی طاقت کا صحیح استعمال کر کے علاقے کی ترقی، خوشحالی اور اپنے بنیادی عوامی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

کراچی میں چپس اور پاپڑ کے پیکٹوں میں کوکین سپلائی کرنے والے نیٹ ورک کا انکشاف

کاشف عباسی ,june 01,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

صوبائی دارالحکومت کراچی میں منشیات فروشی کے ایک انتہائی خطرناک، اچھوتے اور حیران کن طریقۂ کار کا انکشاف ہوا ہے۔ جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے مبینہ طور پر مہنگی ترین منشیات ‘کوکین’ کو معصوم بچوں کے کھانے والے چپس اور پاپڑ کے پیکٹوں میں چھپا کر شہر کے مختلف حصوں میں سپلائی کیا جا رہا ہے۔ تحقیقاتی اداروں کے مطابق، گروہ کی مبینہ مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی کی گرفتاری کے باوجود اس کا یہ نیٹ ورک اب بھی پسِ پردہ مکمل طور پر سرگرم ہے اور شہر کے مختلف علاقوں میں اپنی مکروہ کارروائیاں بلاخوف جاری رکھے ہوئے ہے۔

مرکزی ملزمہ کی گرفتاری اور نیٹ ورک کا تحرک رپورٹس کے مطابق، کراچی پولیس اور سویلین انٹیلی جنس اداروں نے ایک مشترکہ اور کامیاب کارروائی کے دوران سنگین منشیات فروشی اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے متعدد مقدمات میں مطلوب اہم ملزمہ انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا تھا۔ تاہم، ملزمہ سے ہونے والی بعد ازاں تفتیش اور تحقیقات میں یہ ہولناک انکشاف ہوا کہ اس خطرناک نیٹ ورک کے دیگر مفرور ارکان اب بھی شہر میں پوری طرح متحرک ہیں اور قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے منشیات کی ترسیل کے نت نئے خفیہ طریقے اختیار کر رہے ہیں۔

پوش علاقوں اور ریسٹورنٹس میں خفیہ سپلائی کا طریقہ حساس تحقیقاتی ذرائع کے مطابق، ان منشیات فروشوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سخت نگرانی اور ناکہ بندیوں سے بچنے کے لیے کوکین کو عام چپس اور پاپڑ کے سیل بند پیکٹوں میں چھپانے کا طریقہ اپنایا ہے۔ یہ سپلائرز ان پیکٹوں کو باآسانی گھروں، شہر کے پوش علاقوں، بڑے بڑے بنگلوں اور بعض معروف ریسٹورنٹس و ہوٹلوں تک پہنچا رہے ہیں تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔

مبینہ آڈیو ریکارڈنگ اور ڈیلیوری کا طریقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران ایک مبینہ آڈیو گفتگو بھی سامنے آئی ہے جس میں ایک سپلائر نے اپنے گاہک کو کوڈ ورڈز میں بتایا کہ ڈیلیوری کے دوران اسے چپس کے متعدد عام پیکٹ بھیجے جائیں گے، جن میں سے کسی ایک مخصوص پیکٹ کے اندر کوکین رکھی گئی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی، قانون کی نظروں سے اوجھل رہنے کے لیے اس نیٹ ورک نے مالی لین دین (پیسوں کی ادائیگی) کے طریقے بھی مکمل طور پر تبدیل کر دیے ہیں۔

ڈیجیٹل والٹس اور عارضی بینک اکاؤنٹس کا استعمال حالیہ تحقیقات کے مطابق، منشیات کی اس خرید و فروخت کے لیے اب نقد رقم کے بجائے عارضی بینک اکاؤنٹس، موبائل ڈیجیٹل والٹس اور صرف ایک بار استعمال ہونے والے آن لائن ادائیگی کے نظام (ون ٹائم پیمنٹ سسٹم) کا سہارا لیا جا رہا ہے، تاکہ بینکنگ چینلز کے ذریعے رقم کی منتقلی اور اس کے اصل مالک کا سراغ لگانا ناممکن بنایا جا سکے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ اس منظم نیٹ ورک کے باقی تمام مفرور ارکان، ان کی بین الاقوامی سپلائی چین اور مالی معاونت کرنے والے پوشیدہ ذرائع تک پہنچنے کے لیے تفتیش کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق، ہماری نوجوان نسل اور بچوں کے مستقبل کو نشانہ بنانے والے ایسے سنگین اور قبیح جرائم کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کیا جائے گا تاکہ روشنیوں کے شہر میں منشیات کی ترسیل کے اس خطرناک رجحان کا جڑ سے خاتمہ کیا جا سکے۔

پنجاب میں سولر اور نجی بجلی پیدا کرنے والے بڑے صنعتی و تجارتی یونٹس پر نئی الیکٹرسٹی ڈیوٹی عائد کرنے کی تیاری

منصور احمد june 01,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

پنجاب حکومت نے صوبے میں نجی طور پر اپنی بجلی خود پیدا کرنے والے بڑے صنعتی اور تجارتی اداروں پر نئی الیکٹرسٹی ڈیوٹی عائد کرنے کا ایک بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس نئے حکومتی اقدام کے تحت اب سولر پاور سسٹمز (سولر پینلز) اور نجی جنریٹرز کے ذریعے بجلی پیدا کرنے والے تمام کمرشل اور صنعتی یونٹس سے بھی باقاعدہ سرکاری ڈیوٹی وصول کی جائے گی۔

باقاعدہ فریم ورک تیار اور فی یونٹ ڈیوٹی کا تعین سرکاری ذرائع کے مطابق، حکومتِ پنجاب نے اس مقصد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک باقاعدہ اور جامع فریم ورک تیار کر لیا ہے۔ اس فریم ورک کے تحت اپنی مدد آپ کے تحت بجلی پیدا کرنے والے بڑے کاروباری اور صنعتی اداروں پر “فی یونٹ 4 پیسے” کے حساب سے الیکٹرسٹی ڈیوٹی نافذ کی جائے گی، جو ان کے پیداواری بلوں میں شامل ہوگی۔

گیارہ سو سے زائد صنعتی و تجارتی مقامات دائرہ کار میں شامل حکومتی منصوبے کے مطابق، صوبے بھر میں قائم تقریباً ایک ہزار ایک سو ستتر (1177) بڑے صنعتی اور تجارتی مقامات کو اس نئی ڈیوٹی کے دائرہ کار میں لایا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد نجی سطح پر پیدا ہونے والی بجلی کا مکمل اور شفاف ریکارڈ مرتب کرنا اور صوبے میں توانائی کے شعبے میں نگرانی کے نظام کو پہلے سے زیادہ مؤثر بنانا ہے۔

سولر اور سیلف جنریشن سسٹمز کو دستاویزی بنانے کا فیصلہ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ حکومت نے سولر توانائی سمیت تمام بڑے سیلف جنریشن سسٹمز کو مکمل طور پر دستاویزی (ڈاکیومنٹڈ) نظام میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نجی طور پر پیدا کی جانے والی بجلی کے درست اعداد و شمار کو سرکاری سطح پر باقاعدہ طور پر محفوظ رکھنا اور صوبائی ریونیو (آمدن) کی وصولی کے نظام کو مزید وسعت دینا ہے۔

صنعتی لاگت میں اضافے کا خدشہ اور کاروباری حلقوں کی تشویش اقتصادی اور توانائی کے ماہرین کے مطابق، اس فیصلے سے پنجاب حکومت کی سرکاری آمدنی میں تو یقیناً اضافہ متوقع ہے، تاہم دوسری جانب صنعتی اور تجارتی شعبے میں بجلی کی مجموعی لاگت مزید بڑھنے کا واضح امکان پیدا ہو گیا ہے۔ کاروباری اور تاجر حلقوں نے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سولر توانائی اور نجی بجلی پیدا کرنے کے نظام پر اس قسم کے اضافی مالی بوجھ سے کارخانوں کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے منفی اثرات مارکیٹ کے مختلف دیگر شعبوں پر بھی مرتب ہونے کا شدید خدشہ ہے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے اس مجوزہ ڈیوٹی کے باقاعدہ نفاذ، تاریخ اور وصولی کے طریقہ کار سے متعلق مزید تفصیلی گائیڈ لائنز جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

پی ٹی آئی میں فارورڈ بلاک کی خبروں کی تردید، تمام ارکان متحد اور وزیراعلیٰ کے ساتھ ہیں: بیرسٹر گوہر

کاشف عباسی ,june 01,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے پارٹی کے اندر کسی بھی قسم کے فارورڈ بلاک کی تشکیل یا اندرونی اختلافات کی تمام خبروں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ تحریک انصاف سیاسی طور پر مکمل طور پر متحد ہے اور تمام قائدین و اراکینِ اسمبلی بانی چیئرمین کی قیادت اور وژن پر کامل اعتماد رکھتے ہیں۔

جمہوری روایات اور فیصلوں میں اتفاقِ رائے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے اندر اعلیٰ جمہوری روایات موجود ہیں جہاں ہر رکن کو اپنی آزادانہ رائے دینے کا پورا حق حاصل ہے، تاہم تمام اہم فیصلے ہمیشہ باہمی مشاورت اور اتفاقِ رائے سے ہی کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے سختی سے واضح کیا کہ پارٹی صفوں میں کسی بھی قسم کی تقسیم، دھڑے بندی یا گروپ بندی موجود نہیں ہے اور تمام اراکین ایک ہی بیانیے اور مؤقف پر متحد کھڑے ہیں۔

پارٹی اجلاس اور اراکین کی سو فیصد حاضری چیئرمین تحریک انصاف نے حالیہ اندرونی اجلاسوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پارٹی کے حالیہ اہم اجلاس میں تقریباً تمام اراکین نے بھرپور شرکت کی، اور صرف وہی گنتی کے چند رہنما موجود نہیں تھے جو اس وقت ملک سے باہر یعنی بیرونِ ملک مقیم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کی مرکزی و صوبائی قیادت اور تمام منتخب نمائندے تنظیمی اور سیاسی معاملات پر ایک پیج پر ہیں اور ان میں کوئی اختلاف نہیں۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر بھرپور اعتماد کا اظہار انہوں نے پریس کو بتایا کہ یہ کسی ایک فرد کی حکومت نہیں بلکہ بانی چیئرمین کے وژن اور اصولی پالیسیوں کے تحت چلنے والا ایک منظم نظام ہے۔ بیرسٹر گوہر خان نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر اپنی قیادت کے مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بانی چیئرمین کی بھرپور اور غیر مشروط حمایت حاصل ہے، اور صوبے کے تمام اراکینِ اسمبلی ان کی کارکردگی سے مطمئن اور ان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔

افواہوں کی تردید اور عوامی خدمت کا ایجنڈا بیرسٹر گوہر خان نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کے تمام اراکینِ اسمبلی اور پارٹی کے دیگر سینیئر رہنما صوبائی حکومت کی مضبوطی، ملک میں سیاسی استحکام اور عوامی خدمت کے بنیادی ایجنڈے پر کاربند ہیں، جبکہ پارٹی کو کمزور دکھانے کے لیے پھیلائی جانے والی تمام افواہوں اور من گھڑت خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا یہ وضاحتی بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میڈیا اور سیاسی حلقوں میں پارٹی کے اندرونی اختلافات اور مبینہ فارورڈ بلاک سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں تیزی سے گردش کر رہی تھیں، تاہم پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے ان خبروں کو مسلسل مسترد کر کے ان افواہوں کا دم توڑ دیا ہے۔

او جی ڈی سی ایل کی بڑی کامیابی، تین برس میں تیل و گیس کے 19 نئے ذخائر دریافت

کاشف عباسی ,May 31 ,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء:

آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے ملک میں توانائی کے شدید بحران سے نمٹنے کے لیے ایک اور تاریخی اور بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ کمپنی نے گزشتہ تین برسوں (2023ء سے اب تک) کے دوران ملک بھر کے تین بڑے صوبوں سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تیل و گیس کے 19 نئے ذخائر دریافت کر لیے ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ دریافتیں پاکستان کی مجموعی توانائی ضروریات پوری کرنے، مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور قیمتی زرِ مبادلہ کی بچت میں انتہائی کلیدی کردار ادا کریں گی۔

اربوں روپے کی روزانہ بچت اور پیداواری صلاحیت سرکاری دستاویزات سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق، ان نئی دریافتوں سے مجموعی طور پر یومیہ تقریباً 17 ہزار 123 بیرل تیل اور 151 ملین معیاری مکعب فٹ گیس حاصل ہونے کی قوی توقع ہے، جس کے نتیجے میں درآمدی ایندھن کے متبادل کے طور پر قومی خزانے کو روزانہ تقریباً ایک ارب 20 کروڑ روپے تک کی خطیر بچت ممکن ہو سکے گی۔

تین سالہ کارکردگی کا تفصیلی جائزہ دستاویزات کے مطابق کمپنی کی سالانہ کارکردگی درج ذیل رہی ہے:مالی سال 2023-24: اس عرصے کے دوران ملک میں پانچ نئے ذخائر دریافت کیے گئے جن سے یومیہ 481 بیرل تیل اور 29.66 ملین معیاری مکعب فٹ گیس حاصل ہونے کی صلاحیت سامنے آئی۔مالی سال 2024-25: اگلے مالی سال میں مزید پانچ بڑی دریافتیں ہوئیں، جس سے ملکی پیداوار میں 947 بیرل یومیہ تیل اور 34.49 ملین معیاری مکعب فٹ یومیہ گیس کی اضافی صلاحیت کا اضافہ ہوا۔مالی سال 2025-26 (ابتدائی نو ماہ): رواں مالی سال کے دوران کمپنی نے زمین سے توانائی کے وسائل تلاش کرنے کی سرگرمیوں میں ریکارڈ تیزی لاتے ہوئے محض نو ماہ میں نو نئے ذخائر دریافت کیے، جن سے 15 ہزار 695 بیرل یومیہ تیل اور 86.95 ملین معیاری مکعب فٹ یومیہ گیس حاصل ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

‘باراغزئی ایکس-01′ کی سب سے نمایاں دریافت کمپنی کی حالیہ کامیابیوں میں خیبر پختونخوا کے علاقے میں ‘باراغزئی ایکس-01’ کی دریافت کو تزویراتی طور پر خاص اہمیت حاصل ہے، جہاں ابتدائی آزمائشی پیداوار کے دوران ہی تقریباً 15 ہزار بیرل یومیہ تیل اور 45.36 ملین معیاری مکعب فٹ یومیہ گیس کی ریکارڈ پیداواری صلاحیت سامنے آئی ہے۔

ذخائر کی تجدید اور ملکی وسائل کی مدت میں اضافہ او جی ڈی سی ایل نے اپنے زیرِ زمین محفوظ ذخائر کی تجدید کی شرح (ریزرو بدلنے کی شرح) میں بھی غیر معمولی بہتری ریکارڈ کی ہے۔ کمپنی کی ذخائر تجدید شرح مالی سال 2023-24 میں 56 فیصد تھی جو اگلے ہی سال بڑھ کر 167 فیصد کی تاریخی سطح تک پہنچ گئی، جبکہ رواں مالی سال کے ابتدائی نو ماہ میں بھی یہ شرح 153 فیصد پر مضبوطی سے برقرار رہی۔ ان شاندار کوششوں کے باعث 31 مارچ 2026ء تک کمپنی کے تیل و گیس ذخائر کی متوقع لائف لائن (مدت) 14 سال سے بڑھ کر اب 17 سال ہو گئی ہے، جس سے قومی توانائی وسائل کی پائیداری کو زبردست استحکام ملا ہے۔

نئے کنوؤں کی سسٹم میں شمولیت اور بحالی کے اقدامات کمپنی نے ان دریافت شدہ ذخائر کو فوری طور پر تجارتی بنیادوں پر ملکی استعمال میں لانے کے لیے 34 نئے کنوؤں اور فیلڈز کو قومی پیداواری نیٹ ورک کا حصہ بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف پرانی فیلڈز میں 65 سے زائد بڑے تکنیکی آپریشنز اور 295 سے زیادہ بحالی (Workover) کے اقدامات کے ذریعے پہلے سے جاری پیداوار میں یومیہ تقریباً 17 ہزار بیرل اضافی تیل اور 90 ملین معیاری مکعب فٹ اضافی گیس شامل کر کے ملکی سپلائی کو بہتر بنایا گیا ہے۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ او جی ڈی سی ایل کی یہ نئی دریافتیں نہ صرف ملکی توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنائیں گی بلکہ درآمدی بل میں واضح کمی، مقامی صنعتی سرگرمیوں کے فروغ اور ڈگمگاتی قومی معیشت کے طویل مدتی استحکام میں بھی اہم ترین سنگِ میل ثابت ہوں گی۔

جی پی آئی کے تحت کسانوں کی سہولت کاری، زرعی خود کفالت اور دیہی ترقی کی نئی راہیں ہموار

منصور احمد ,May 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء

گرین پاکستان انیشی ایٹو (جی پی آئی) کے تحت ملک بھر میں زرعی شعبے کی انقلابی ترقی، کسانوں کی خصوصی سہولت کاری اور جدید کاشتکاری کے فروغ کے لیے کیے گئے حالیہ اقدامات سامنے آئے ہیں۔ ان اقدامات کو ملک میں زرعی خود کفالت کے حصول اور دیہی معیشت کے پائیدار استحکام کے لیے ایک تاریخی اور انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

جدید ٹیکنالوجی اور سمارٹ فارمنگ کا آغاز ملک کے زرعی شعبے میں جدید ترین ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل نگرانی، سمارٹ فارمنگ اور جدید تحقیقی نظام متعارف کرانے سے روایتی کاشتکاروں کو اب بہتر رہنمائی اور عالمی معیار کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ زرعی ماہرین کے مطابق، اس جدید زرعی معلوماتی نظام، سیٹلائٹ نگرانی اور ٹیکنالوجی پر مبنی بروقت زرعی مشاورت کے ذریعے فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار اور کاشتکاروں کی کام کرنے کی استعداد میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔

بنجر زمینوں کی بحالی اور معاشی منصوبے گرین پاکستان انیشی ایٹو کے تحت ملک بھر کی لاکھوں ایکڑ بنجر زمینوں کی بحالی، زرعی شعبے میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور زرعی مصنوعات کے برآمدی مواقع میں اضافے کے لیے مختلف بڑے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ ان تمام اقدامات کا بنیادی مقصد پاکستان کے زرعی شعبے کو جدید ترین خطوط پر استوار کرنا اور دور دراز کے دیہی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کو بڑھا کر غربت کا خاتمہ کرنا ہے۔

گرین ایگری مالز کا قیام اور کسانوں کا اعتماد ملک بھر کے کاشتکاروں نے حکومت کی جانب سے ‘گرین ایگری مالز’ کے قیام کو بے حد خوش آئند اور کسان دوست اقدام قرار دیا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ معیاری بیج، کھاد، زرعی ادویات اور جدید ترین زرعی مشینری اب ایک ہی چھت تلے نسبتاً انتہائی آسان اور سستے داموں دستیاب ہو رہی ہے، جس سے ان کے قیمتی وقت اور سفری اخراجات دونوں میں واضح کمی آئی ہے۔

پنجگور سمیت دور دراز علاقوں میں ترقی مقامی کسانوں کے مطابق، ان جدید زرعی منصوبوں کی بدولت بلوچستان کے ضلع پنجگور سمیت دیگر دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں بنیادی زرعی سہولیات، روزگار کے نئے مواقع اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ پنجگور جیسے علاقوں میں اب زرخیز زمینوں سے بہتر پیداوار حاصل کرنے کے امکانات روشن ہو چکے ہیں، جبکہ بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لیے شمسی توانائی (سولر سسٹم) اور جدید آبپاشی (ڈریپ اریگیشن) کے منصوبے بھی کسانوں کے لیے لائف لائن ثابت ہو رہے ہیں۔

خوراک کی فراہمی اور برآمدات میں اضافہ ماہرینِ زراعت کا کہنا ہے کہ اگر ان جدید زرعی اصلاحات، ٹیکنالوجی کے وسیع استعمال اور کسان دوست پالیسیوں کا تسلسل اسی طرح برقرار رہا، تو پاکستان بہت جلد نہ صرف اپنی زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ کرنے میں کامیاب ہو جائے گا، بلکہ خوراک کے شعبے میں مکمل خود کفالت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ قیمتی زرِ مبادلہ کمانے کے لیے برآمدات میں بھی خاطر خواہ بہتری لا سکے گا۔

گلگت بلتستان انتخابات: سکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات، پنجاب پولیس کے 5 ہزار اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ

کاشف عباسی ,May 31 ,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز۔ 3١ مئی 2026ء)

گلگت بلتستان میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات کے پُرامن، شفاف اور محفوظ انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے سکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے پنجاب پولیس کے 5 ہزار اہلکاروں پر مشتمل خصوصی نفری گلگت بلتستان بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق انتخابات کے دوران حساس پولنگ اسٹیشنوں، اہم سرکاری تنصیبات اور عوامی اجتماعات کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے پنجاب پولیس کے مختلف شعبوں سے اہلکاروں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اس نفری میں رائٹ مینجمنٹ فورس، پنجاب ہائی وے پٹرول اور پنجاب کانسٹیبلری کے تربیت یافتہ جوان شامل ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق رائٹ مینجمنٹ فورس کے ایک ہزار پانچ سو اہلکار انتخابی سکیورٹی پر مامور ہوں گے جبکہ پنجاب ہائی وے پٹرول کے ایک ہزار نو سو اٹھاون جوان بھی ڈیوٹی سرانجام دیں گے۔ اسی طرح پنجاب کانسٹیبلری کے ایک ہزار دو سو بیالیس اہلکار سکیورٹی پلان کا حصہ ہوں گے، جبکہ لاہور سے تین سو پولیس اہلکار خصوصی طور پر گلگت بلتستان روانہ کیے جائیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل کے دوران امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے، حساس علاقوں کی نگرانی اور ہنگامی حالات میں فوری ردعمل کے لیے جامع سکیورٹی حکمت عملی مرتب کی گئی ہے۔ پولیس کی اضافی نفری مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر فرائض انجام دے گی تاکہ ووٹرز کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔

اس سلسلے میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آپریشنز کی جانب سے سینئر سپرنٹنڈنٹ موٹر ٹرانسپورٹ کو باقاعدہ مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے، جس میں اہلکاروں کی بروقت اور محفوظ منتقلی کے لیے مناسب ٹرانسپورٹ کے انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

حکام کے مطابق تمام اضلاع سے طلب کی گئی نفری کی تفصیلات اور سفری انتظامات کی رپورٹ مرکزی پولیس دفتر کو ارسال کی جا رہی ہے تاکہ سکیورٹی منصوبے پر مؤثر نگرانی اور بروقت عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات کے دوران امن، شفافیت اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے، جس کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔

گوادر پورٹ پر 53 ہزار میٹرک ٹن کارگو کی کامیاب ہینڈلنگ، علاقائی تجارت میں نیا سنگِ میل عبور

منصور احمد ,May 31,2026

گوادر (نیوز اینڈ نیوز۔ 3١ مئی 2026ء)

پاکستان کی تزویراتی اور اقتصادی اہمیت کی حامل گوادر گہرے پانی کی بندرگاہ نے علاقائی اور بین الاقوامی تجارت کے فروغ کی جانب ایک اور تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ گوادر پورٹ پر حالیہ آپریشنز کے دوران مجموعی طور پر 53 ہزار 277 میٹرک ٹن سے زائد مختلف نوعیت کے کارگو کی کامیاب ہینڈلنگ مکمل کر لی گئی ہے، جو بندرگاہ کی روز بروز بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں اور جدید آپریشنل صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔

تفصیلات کے مطابق، دوست ملک چین سے آنے والے ایک بڑے تجارتی بحری جہاز “ایم وی بی جیا شان” کو انتہائی کامیابی اور مہارت کے ساتھ گوادر پورٹ پر لنگر انداز کیا گیا۔ اس جہاز پر موجود تقریباً 20 ہزار 669 میٹرک ٹن وزنی اسٹیل بلٹس کو جدید ترین کرینوں اور لائفٹ سسٹم کے ذریعے محفوظ اور مؤثر انداز میں اتارا گیا۔ بندرگاہی حکام اور چائنا اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی کے مطابق، تمام آپریشنز کو بین الاقوامی بحری قوانین اور مقررہ معیارات کے مطابق وقت پر مکمل کیا گیا۔

اسی دوران، گوادر پورٹ کی ٹرانس شپمنٹ صلاحیتوں کا مظاہرہ اس وقت دیکھنے کو ملا جب سلطنت عمان کی مشہور بندرگاہ “صحار” جانے والے ایک اور بحری جہاز کو ٹرانس شپمنٹ آپریشنز کے لیے گوادر منتقل کیا گیا۔ اس کامیاب آپریشن سے گوادر پورٹ کی خلیج فارس اور بحیرہ عرب کے خطے میں ابھرتی ہوئی تجارتی اور لاجسٹک حیثیت مزید مستحکم ہو گئی ہے۔

بندرگاہ کے تزویراتی امور کے ماہرین کے مطابق، 12 اعشاریہ 8 میٹر ڈرافٹ کے حامل اتنے بڑے بحری جہاز کی محفوظ برتھنگ اس بات کا عملی مظہر ہے کہ گوادر پورٹ دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ گوادر پورٹ اب نہ صرف پاکستان بلکہ وسطی ایشیائی ریاستوں اور پورے خطے کے لیے ایک اہم ترین اور سستا تجارتی مرکز بن کر ابھر رہی ہے۔ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کے تحت گوادر پورٹ کو جو مرکزی حیثیت حاصل ہے، یہ تجارتی سرگرمیاں اسی وژن کو سچ ثابت کر رہی ہیں۔

بندرگاہی حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ گوادر پورٹ کو عالمی معیار کی اسمارٹ پورٹ بنانے کے لیے انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل سسٹم میں مزید سرمایہ کاری کی جا رہی ہے تاکہ علاقائی اور عالمی تجارتی ضروریات کو تیز ترین وقت میں پورا کیا جا سکے۔ کارگو ہینڈلنگ میں یہ حالیہ ریکارڈ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ گوادر آنے والے دنوں میں عالمی بحری تجارت، ٹرانزٹ روٹس اور علاقائی اقتصادی روابط کا سب سے بڑا مرکز بننے جا رہا ہے۔

سگی بیٹی سے زیادتی کے الزام میں گرفتار ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک، گوجرانوالہ میں سنسنی

منصور احمد ,May 30,2026

گوجرانوالہ (نیوز اینڈ نیوز) – 30 مئی 2026ء
گوجرانوالہ کے علاقے لدھیوالہ وڑائچ میں سگی بیٹی سے مبینہ جنسی زیادتی کے سنگین مقدمے میں گرفتار مرکزی ملزم پولیس مقابلے کے دوران ہلاک ہو گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم کو تفتیش اور واقعے سے متعلق برآمدگی کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ راستے میں نامعلوم مسلح افراد نے اسے چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اچانک ہونے والی فائرنگ کے بعد اہلکاروں نے اپنی جانوں کے تحفظ اور ملزم کو فرار ہونے سے روکنے کے لیے جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران مرکزی ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گیا اور موقع پر ہی دم توڑ گیا، جبکہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والا ملزم اپنی 13 سالہ سگی بیٹی کے ساتھ مبینہ زیادتی کے مقدمے میں گرفتار تھا۔ واقعے نے علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی اور شہری ملزم کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات بھی جاری ہیں۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ مقدمے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

ترجمان پولیس کے مطابق بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم ناقابلِ برداشت ہیں اور ایسے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندان کو قانونی اور دیگر ضروری معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کے خلاف جنسی جرائم معاشرے کے لیے انتہائی سنگین خطرہ ہیں اور ان کے خاتمے کے لیے والدین، تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ ایسے جرائم یا مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔

بجٹ 2026-27: سولر پینلز، برقی اور ہائبرڈ گاڑیوں پر مجوزہ ٹیکسوں سے مہنگائی کا نیا خدشہ

کاشف عباسی ,May 30 ,2026

اسلام آباد: (نیوز اینڈ نیوز۔ 30 مئی 2026ء)

آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی تیاریوں کے دوران مختلف شعبوں پر نئے ٹیکسوں کی تجاویز زیر غور ہیں، جن کے باعث سولر پینلز، برقی گاڑیوں اور ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے پر زور دیے جانے کے بعد حکومت مختلف شعبوں میں ٹیکس شرحوں پر نظرثانی کر رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق بجٹ تجاویز میں ماحول دوست ٹیکنالوجی اور متبادل توانائی کے شعبے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ مجوزہ منصوبے کے تحت برقی گاڑیوں پر عائد کم شرح کے ٹیکس میں اضافہ جبکہ ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ ٹیکس شرح کو مزید بڑھانے کی تجویز زیر غور ہے۔ اگر ان تجاویز کی منظوری دی گئی تو برقی کاروں، موٹر سائیکلوں، رکشوں، بسوں، ٹرکوں اور دیگر گاڑیوں کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔

اسی طرح سولر پینلز پر بھی ٹیکس کی شرح بڑھانے کی تجویز سامنے آئی ہے، جس سے متبادل توانائی کے منصوبوں کی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ملک میں بڑھتی ہوئی گرمی، بجلی کی بلند قیمتوں اور لوڈ مینجمنٹ کے مسائل کے باعث بڑی تعداد میں شہری شمسی توانائی کی جانب راغب ہو رہے ہیں، تاہم نئے ٹیکس نافذ ہونے کی صورت میں سولر نظام کی تنصیب مزید مہنگی ہو جائے گی۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت محصولات میں اضافے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، تاہم ماحول دوست توانائی اور جدید ٹرانسپورٹ کے شعبوں پر اضافی بوجھ سے ان شعبوں کی ترقی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ برقی اور ہائبرڈ گاڑیوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ شمسی توانائی کی حوصلہ افزائی ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور توانائی کے بحران سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق بجٹ کی حتمی منظوری اور ٹیکس شرحوں کا اعلان وفاقی بجٹ پیش کیے جانے کے بعد ہی سامنے آئے گا، تاہم مجوزہ اقدامات نے عوام اور کاروباری حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی ریلیف اور محصولات کے اہداف کے درمیان توازن برقرار رکھنا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

مریم نواز کا ستھرا پنجاب کے کارکنوں کیلئے بڑا اعزاز، فی کارکن 10 ہزار روپے انعام کا اعلان

محمود احمد May30,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز۔ 30 مئی 2026ء)

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے عیدالاضحیٰ کے دوران شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ستھرا پنجاب پروگرام کے کارکنوں کے لیے فی کس 10 ہزار روپے انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔

اپنے بیان میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب بھر میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر صفائی کا خصوصی آپریشن کامیابی سے مکمل کیا گیا، جس کے دوران ستھرا پنجاب کے کارکنوں نے دن رات محنت کرتے ہوئے قربانی کے جانوروں کی 3 لاکھ 60 ہزار ٹن سے زائد آلائشیں محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگائیں۔

انہوں نے بتایا کہ صوبہ بھر میں جاری صفائی مہم میں ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد کارکنوں نے حصہ لیا جبکہ 60 ہزار گاڑیاں اور مشینری آپریشن میں مصروف رہیں۔ قربانی کی آلائشیں اٹھانے والی گاڑیوں نے مجموعی طور پر 60 لاکھ کلومیٹر سے زائد فاصلہ طے کیا۔

وزیر اطلاعات کے مطابق لاہور سے اٹک، ملتان، رحیم یار خان اور صادق آباد سمیت پنجاب کے تمام بڑے اور چھوٹے شہروں میں بلا تعطل صفائی آپریشن جاری رکھا گیا۔ شہریوں کو تعفن اور ماحولیاتی آلودگی سے محفوظ رکھنے کے لیے عرقِ گلاب، فینائل اور چونے کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا گیا جبکہ پنجاب کی چار ہزار سے زائد سڑکوں کو عرقِ گلاب سے دھویا گیا۔

عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صفائی آپریشن کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کی اور بہترین کارکردگی پر ستھرا پنجاب کے کارکنوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے خصوصی نقد انعامات کا اعلان کیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ستھرا پنجاب کی ٹیموں نے عید کے موقع پر 60 ہزار سے زائد مساجد، امام بارگاہوں اور عید گاہوں کی صفائی بھی یقینی بنائی، جبکہ ہیلپ لائن پر موصول ہونے والی تمام شکایات کا بروقت ازالہ کیا گیا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ صفائی آپریشن کی کامیابی پر پنجاب کے شہریوں نے بھی اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا ہے، جبکہ حکومت صوبے کو صاف، سرسبز اور صحت مند بنانے کے مشن پر پوری سنجیدگی سے عمل پیرا ہے۔

عید پر عوام کیلئے بڑا تحفہ: پٹرول اور ڈیزل 22، 22 روپے سستا کرنے کا اعلان

کاشف عباسی ,May 29 ,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز۔ 29 مئی 2026ء)

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے عید کے تیسرے روز عوام کے لیے اہم ریلیف پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی منظوری دی۔ حکومت کے اس فیصلے سے لاکھوں گاڑی مالکان، موٹر سائیکل سواروں، ٹرانسپورٹ سیکٹر اور عام صارفین کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ جیسے ہی مالی گنجائش پیدا ہوگی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرکے اس کا فائدہ براہ راست عوام تک پہنچایا جائے گا۔ آج حکومت نے اپنے اسی وعدے پر مکمل عمل کرتے ہوئے عوام کو عید کا تحفہ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف دینا حکومت کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے اور یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ہفتے بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی گئی تھی۔ حکومت مستقبل میں بھی عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے اقدامات جاری رکھے گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے مشکل معاشی حالات کے باوجود عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی پالیسی برقرار رکھی۔ پبلک ٹرانسپورٹ، مال بردار گاڑیوں، موٹر سائیکل اور رکشہ استعمال کرنے والے شہریوں کے لیے ایندھن پر خصوصی سبسڈی بھی فراہم کی گئی تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں تیل کے بحران کے دوران عوام کو ایندھن کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم پاکستان میں بروقت حکومتی اقدامات کے باعث پٹرول اور ڈیزل کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی گئی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باوجود حکومت نے عوام پر اضافی بوجھ منتقل کرنے کے بجائے 130 روپے فی لیٹر سے زائد سبسڈی برداشت کی اور قیمتوں کو کنٹرول میں رکھا۔

حکومت کے اس تازہ فیصلے کو عوامی ریلیف کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ اشیائے ضروریہ کی ترسیل پر پڑنے والے اخراجات بھی کم ہونے کی توقع ہے، جس کا مثبت اثر عام صارفین تک پہنچ سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ کمی کو عیدالاضحیٰ کے موقع پر عوام کے لیے ایک اہم معاشی ریلیف قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ حکومت نے آئندہ بھی عوامی سہولت کے لیے ایسے اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

عید تعطیلات میں مری میں فوڈ اتھارٹی کا بڑا ایکشن، 98 فوڈ پوائنٹس کی چیکنگ، جرمانے اور دکانیں سیل

کاشف عباسی ,May 29 ,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز۔ 29 مئی 2026ء)

عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران مری میں سیاحوں کے غیر معمولی رش کے پیش نظر پنجاب فوڈ اتھارٹی نے سیاحتی مقامات پر خوراک کے معیار اور صفائی کی صورتحال چیک کرنے کیلئے خصوصی آپریشن کرتے ہوئے 98 فوڈ پوائنٹس کی تفصیلی انسپکشن کی، جبکہ متعدد ہوٹلوں اور فوڈ پوائنٹس کے خلاف سخت کارروائی بھی عمل میں لائی گئی۔

ترجمان پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مطابق مری، نیو مری، پتریاٹہ، مال روڈ اور مری ایکسپریس وے سمیت مختلف اہم سیاحتی علاقوں میں خصوصی مانیٹرنگ ٹیموں نے کارروائیاں کیں۔ معائنوں کے دوران صفائی کے ناقص انتظامات، غیر معیاری خوراک، زائد المعیاد اشیاء کے استعمال اور حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزیوں پر 11 فوڈ پوائنٹس کو مجموعی طور پر ایک لاکھ 53 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

حکام کے مطابق انتہائی ناقص صفائی اور غیر تسلی بخش صورتحال پر 2 فوڈ پوائنٹس کو عارضی طور پر بند بھی کر دیا گیا، جبکہ بڑی مقدار میں ایکسپائرڈ کولڈ ڈرنکس، مضر صحت مصالحہ جات اور دیگر غیر معیاری اشیائے خورونوش تلف کر دی گئیں تاکہ سیاحوں کی صحت کو ہر ممکن تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ عید کی تعطیلات میں مری آنے والے سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافے کے باعث خصوصی انسپکشن ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو مختلف علاقوں میں مسلسل نگرانی اور چیکنگ کر رہی ہیں تاکہ عوام کو معیاری اور محفوظ خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

اتھارٹی حکام نے فوڈ بزنس مالکان کو سختی سے ہدایت جاری کی ہے کہ وہ صفائی، معیاری خوراک اور حفظان صحت کے اصولوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں، بصورت دیگر قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

ترجمان نے شہریوں اور سیاحوں سے اپیل کی کہ اگر کہیں ناقص خوراک، گندگی یا غیر معیاری اشیاء فروخت ہوتی نظر آئیں تو فوری طور پر پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ہیلپ لائن 1223 پر شکایت درج کروائیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔

ستھرا پنجاب ایجنسی راولپنڈی کا مثالی عید صفائی آپریشن، 12 ہزار ٹن آلائشیں ٹھکانے

منصور احمد ,May 29,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز۔ 29 مئی 2026ء)

عیدالاضحیٰ 2026ء کے موقع پر ستھرا پنجاب ایجنسی راولپنڈی نے ضلع بھر میں صفائی کا بڑا اور کامیاب آپریشن مکمل کرتے ہوئے 12 ہزار ٹن سے زائد آلائشیں ٹھکانے لگا دیں، جبکہ شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی تمام 1500 شکایات کا فوری ازالہ بھی یقینی بنایا گیا۔

عید سے ایک رات قبل شروع ہونے والا یہ خصوصی صفائی آپریشن مسلسل چار روز تک جاری رہا، جس میں شہر بھر کے مختلف علاقوں، گلی محلوں، ٹرانسفر اسٹیشنز اور ڈمپنگ پوائنٹس پر آلائشیں اٹھانے، صفائی اور جراثیم کش اسپرے کا عمل بلا تعطل جاری رکھا گیا۔ آپریشن مکمل ہونے کے بعد تمام عارضی ٹرانسفر اسٹیشنز کو عرقِ گلاب سے دھویا گیا جبکہ تعفن اور جراثیم کے خاتمے کیلئے بھاری مقدار میں چونے کا چھڑکاؤ بھی کیا گیا۔

ستھرا پنجاب ایجنسی کے مطابق ڈمپنگ سائٹس پر کھودے گئے گڑھوں کو دوبارہ مٹی سے بھر کر وہاں بھی جراثیم کش اقدامات کیے گئے تاکہ ماحول کو آلودگی اور بدبو سے محفوظ رکھا جا سکے۔

عید کے تیسرے روز ایم ڈی ستھرا پنجاب ایجنسی راولپنڈی رانا ساجد صفدر نے شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور صفائی ورکرز سے ملاقات کرکے ان میں مٹھائی تقسیم کی۔ اس موقع پر رکن قومی اسمبلی طاہرہ اورنگزیب نے عید صفائی آپریشن کو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے “ستھرا پنجاب وژن” کا عملی نمونہ قرار دیتے ہوئے پوری ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔

کمشنر راولپنڈی ڈویژن عامر خٹک نے کہا کہ موثر مانیٹرنگ، فوری رسپانس اور جدید ویسٹ مینجمنٹ حکمتِ عملی کے ذریعے شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کیا گیا۔
ڈی سی راولپنڈی و چیئرمین ستھرا پنجاب ایجنسی ڈاکٹر حسن وقار چیمہ نے کہا کہ کسی بھی علاقے میں آلائشیں موجود نہیں رہنے دی گئیں اور ہر شکایت کا بروقت ازالہ کیا گیا۔

ایم ڈی ستھرا پنجاب ایجنسی رانا ساجد صفدر کے مطابق اس بڑے صفائی پلان میں 6 ہزار 340 سے زائد ورکرز اور 1066 گاڑیاں و مشینری حصہ لیتی رہیں، جبکہ تمام عملے کی چھٹیاں منسوخ کرکے ہنگامی بنیادوں پر صفائی مہم جاری رکھی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ادارے کے افسران، فیلڈ ٹیموں اور ورکرز نے دن رات محنت کرکے راولپنڈی کو عید کے دنوں میں صاف ستھرا رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، جس پر پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔

یومِ تکبیر کی 28ویں سالگرہ؛ مسلح افواج کا قومی سلامتی کیلئے ہر قربانی دینے کے عزم کا اعادہ

منصور احمد ,May 282026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز۔ 28 مئی 2026ء)

پاکستان کی مسلح افواج نے یومِ تکبیر کی 28ویں سالگرہ کے موقع پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے پاکستان کے ایٹمی عزم، قومی سلامتی اور دفاع کے تحفظ کیلئے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نشانِ امتیاز (ملٹری) ہلالِ جرات، نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نشانِ امتیاز (ملٹری) تمغۂ بسالت اور پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نشانِ امتیاز (ملٹری) ہلالِ جرات نے یومِ تکبیر کے موقع پر پاکستانی قوم کو دلی مبارکباد پیش کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق یومِ تکبیر 28 مئی 1998ء کے اس تاریخی دن کی یاد میں منایا جاتا ہے جب پاکستان ایٹمی قوت بن کر ابھرا اور جنوبی ایشیا میں طاقت کا تزویراتی توازن بحال ہوا۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ تاریخی سنگِ میل پاکستانی قوم کے اتحاد، عزم، قربانی اور اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی وقار کے دفاع کیلئے غیر متزلزل ارادے کی علامت ہے۔

مسلح افواج کے سربراہان نے اس موقع پر پاکستان کے سائنسدانوں، انجینئرز، دفاعی ماہرین اور افواجِ پاکستان کی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت قوم کی ایک مقدس امانت ہے، جو خطے میں امن، استحکام اور قابلِ اعتماد دفاعی توازن کی ضامن ہے۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ عظیم کامیابی دور اندیش قیادت، قومی یکجہتی، سائنسدانوں کی شبانہ روز محنت اور پاکستانی عوام و مسلح افواج کی بے مثال قربانیوں کا عملی ثبوت ہے۔ پاکستان کی دفاعی صلاحیت ہر قسم کے خطرات کے خلاف قومی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے مکمل طور پر تیار اور مضبوط ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کی مسلح افواج مادرِ وطن کے دفاع، قومی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کیلئے اپنے عزم پر قائم ہیں اور ہر قسم کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق یومِ تکبیر کے موقع پر پوری قوم اللہ تعالیٰ کے حضور شکر گزار ہے اور ایک مضبوط، متحد، مستحکم اور خوشحال پاکستان کیلئے اپنے اتحاد، چوکسی، قربانی اور قومی خدمت کے عہد کی تجدید کرتی ہے۔

پاکستان مسلح افواج زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔

یومِ تکبیر پاکستان کے ناقابلِ تسخیر دفاع اور قومی خودمختاری کی علامت ہے، وزیراعظم شہباز شریف

محمود احمد May28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز۔ 28 مئی 2026ء)

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ 28 مئی 1998ء پاکستان کی قومی تاریخ کا ایک فیصلہ کن اور تاریخی لمحہ تھا، جب پاکستان نے پوری دنیا پر واضح کر دیا کہ وہ اپنی خودمختاری، سلامتی، وقار اور دفاع کے حق پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

یومِ تکبیر کے موقع پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے خصوصی پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج قوم یومِ تکبیر منا رہی ہے تو اس موقع پر شہید ذوالفقار علی بھٹو کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے، جنہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی اور ملک کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کا خواب دیکھا۔

وزیراعظم نے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جراتمندانہ، دلیرانہ اور پُرعزم قیادت نے مئی 1998ء میں شدید عالمی دباؤ کے باوجود قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا تاریخی فیصلہ کیا، جس نے ملک کے دفاع کو ہمیشہ کیلئے مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔

محمد شہباز شریف نے پاکستان کے ممتاز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر ثمر مبارک مند، انجینئرز، سائنسدانوں، افواجِ پاکستان کے افسران و جوانوں اور ایٹمی پروگرام سے وابستہ تمام افراد کی خدمات کو بھی زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان عظیم شخصیات کی محنت، قربانی، لگن اور غیر متزلزل عزم نے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یومِ تکبیر قومی اتحاد، غیر متزلزل عزم اور اجتماعی قومی طاقت کی علامت ہے، جو نہ صرف پاکستان کی آزادی اور خودمختاری کے تحفظ کی عکاسی کرتا ہے بلکہ خطے میں امن اور تزویراتی استحکام کے قیام کے عزم کا بھی مظہر ہے۔

انہوں نے قوم پر زور دیا کہ اس تاریخی دن کے موقع پر ایک مضبوط، خوشحال، متحد اور خودانحصار پاکستان کی تعمیر کے عہد کی تجدید کی جائے، ایسا پاکستان جو قائداعظم محمد علی جناح کے سنہری اصولوں ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط پر قائم ہو۔

عیدالاضحیٰ قربانی، اخوت اور قومی اتحاد کا پیغام دیتی ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی

کاشف عباسی ,May 27 ,2026

کوئٹہ / نیوز اینڈ نیوز

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ عیدالاضحیٰ ہمیں قربانی، ایثار، بھائی چارے اور قومی یکجہتی کا درس دیتی ہے، موجودہ حالات میں ان اقدار کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ بلوچستان کو امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔

تفصیلات کے مطابق عیدالاضحیٰ کے پرمسرت موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے اراکینِ صوبائی اسمبلی، اعلیٰ سرکاری حکام، قبائلی عمائدین، سیاسی و سماجی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے ملاقات کی اور انہیں عید کی مبارکباد پیش کی۔

ملاقاتوں کے دوران شرکاء نے وزیراعلیٰ بلوچستان کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے صوبے میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح و بہبود کیلئے حکومت کی کوششوں کو سراہا۔ اس موقع پر بلوچستان کی مجموعی صورتحال، سکیورٹی، جاری ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مسائل کے حل سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان عوامی خدمت، شفاف طرزِ حکمرانی، پائیدار امن اور صوبے کی ہمہ جہت ترقی کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے ہر مشکل وقت میں صبر، حوصلے اور استقامت کی روشن مثال قائم کی ہے اور حکومت عوام کے اعتماد پر پورا اترنے کیلئے عملی اور نتیجہ خیز اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے میں امن و امان کے قیام، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور عوامی مسائل کے مستقل حل کیلئے تمام ادارے بھرپور انداز میں متحرک ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ حکومت کا وژن ایک پُرامن، خوشحال اور ترقی یافتہ بلوچستان ہے، جس کے حصول کیلئے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔

میر سرفراز بگٹی نے عوام پر زور دیا کہ وہ عیدالاضحیٰ کے اس بابرکت موقع پر محبت، رواداری، بھائی چارے اور قومی اتحاد کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ معاشرے میں ہم آہنگی اور استحکام کو مزید تقویت مل سکے