آئی ایس پی آر سمر کیمپ 2026ء؛ ملک بھر سے 4 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات کی شرکت، وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی نشست

منصور احمد, JULY 20,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے زیرِ اہتمام پاکستان بھر کے طلبہ و طالبات کے لیے منعقدہ “سمر کیمپ 2026ء” کے شرکاء کے ساتھ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ایک انتہائی اہم اور مقتدر خصوصی نشست منعقد ہوئی۔ آئی ایس پی آر کے اس تزویراتی سمر کیمپ میں ملک بھر کے 18 سے زائد مختلف اسٹیشنز سے 4 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات نے بھرپور شرکت کی، جس کا بنیادی مقصد نوجوانوں میں قومی ہم آہنگی اور یکجہتی کے شعور کو بیدار کرنا تھا۔

خصوصی نشست سے خطاب اور طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ملکی سلامتی کو درپیش چیلنجز، ‘فتنہ الہندوستان’ اور ان کی مقامی پراکسیز کے حوالے سے تفصیلی تادیبی گفتگو کی۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں انکشاف کیا کہ بلوچستان میں بدامنی پھیلانے والی ان دہشت گرد تنظیموں کو بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ کی مکمل مالی و لاجسٹک پشت پناہی حاصل ہے۔ انہوں نے ہمسایہ ملک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان نے پاکستان کی جانب سے متعدد تنبیہات اور بین الاقوامی دوحہ معاہدے کے باوجود اپنی سرزمیں پر موجود ان دہشت گرد عناصر کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی، جو انتہائی تشویشناک ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے پختہ عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ قائم رہنے کے لیے بنا ہے، اور قومی اتحاد، یکجہتی، باہمی اعتماد اور ہمارے نوجوانوں کی مثبت سوچ ہی ایک مضبوط، مستحکم اور پرامن ملک کی اصل ضمانت ہے۔

اس مقتدر مکالمے کے دوران ملک بھر سے آئے ہوئے طلبہ و طالبات نے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سے صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے، سی پیک و دیگر شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری، افغان سرحد پر اسمگلنگ کی روک تھام اور سوشل میڈیا پر جاری منفی پروپیگنڈے سمیت دیگر اہم قومی امور پر کھل کر تیکھے سوالات کیے۔ سمر کیمپ کے شرکاء کا کہنا تھا کہ انہیں بلوچستان کی اصل صورتحال اور مختلف سوالات کے حقائق پر مبنی انتہائی مدلل جوابات موصول ہوئے ہیں۔ طلبہ نے آئی ایس پی آر کی اس تزویراتی کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ قومی ہم آہنگی، باہمی یکجہتی کے فروغ اور نوجوانوں کو ملکی دھارے میں شامل رکھنے کے لیے مستقبل میں بھی ایسے مقتدر مکالموں کا انعقاد انتہائی ضروری ہے۔

پارا ہائی کر دیا گیا، ہر عقل کی بات کرنے والے کو بھسم کرنا حکمتِ عملی مان لیا گیا ہے؛ مولانا فضل الرحمان کے خطاب پر فواد چوہدری کا تزویراتی ردِعمل

منصور احمد, JULY 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

سابق وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی۔ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ سخت مقتدر خطاب اور ملک کے موجودہ سنگین سیاسی و آئینی بحران پر اپنے گہرے تزویراتی ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ملک کے فیصلہ سازوں اور مقتدر حلقوں کو موجودہ صورتحال کی سنگینی سے سخت خبردار کرتے ہوئے شدید تحمل، بردباری اور ٹھنڈے دماغ سے فیصلے کرنے کا مخلصانہ مشورہ دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک اہم تادیبی پیغام میں فواد چوہدری نے جمعیت لائر فورم کے کنونشن میں مولانا فضل الرحمان کی جانب سے مقتدر حلقوں کے خلاف کیے گئے سخت ترین خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی کے سربراہ کے اس حالیہ بیان اور دوٹوک مؤقف سے ملک کے مجموعی سیاسی ماحول کی تلخیوں میں پہلے سے کہیں زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ اس انتہائی نازک اور حساس وقت میں ملک مزید تلخیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا، بلکہ اس وقت شدید تحمل اور سیاسی بردباری کا مظاہرہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

ملک کے مقتدر حلقوں اور مقتدر فیصلہ سازوں کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ اس وقت مقتدر اشرافیہ کو بالکل ٹھنڈے دماغ کے ساتھ ملکی بقا کی خاطر سوچنا چاہیے۔ انہوں نے گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اس وقت سیاسی پارہ اس قدر ہائی کر دیا گیا ہے کہ ہر عقل، دانش اور آئین پسندی کی بات کرنے والے کو ‘بھسم’ کرنا یا سائیڈ لائن کرنا ہی مروجہ ریاستی حکمتِ عملی مان لیا گیا ہے، جو کہ ملکی مستقبل کے لیے انتہائی افسوسناک اور نقصان دہ ہے۔

موجودہ حکومتی اتحاد اور دیگر وفاقی سیاسی جماعتوں کے غیر سنجیدہ رویے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے فواد چوہدری نے مزید کہا کہ اس وقت ملک کی تمام نام نہاد وفاقی جماعتیں اس جاری سیاسی و آئینی جنگ کو صرف اور صرف اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر چھوڑ کر خود بالکل سائیڈ پر ہو چکی ہیں اور تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے تادیبی انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملک پہلے ہی تاریخ کے بدترین کثیر الجہتی بحرانوں کی زد میں ہے، لہٰذا اس تلخ اور کشیدہ سیاسی ماحول میں اب مزید کسی بھی قسم کا تادیبی اضافہ یا محاذ آرائی ریاست کے لیے بہت بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔

انتخابات میں بدترین دھاندلی کی گئی؛ لوٹوں کے سہارے خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے کا آپشن مسترد کر دیا، مولانا فضل الرحمان

کاشف عباسی , JULY 19,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی۔ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے موجودہ سیاسی و مقتدر نظام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کھلا دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ انتخابات میں بدترین دھاندلی کے ذریعے پارلیمنٹ اور آئین کو یرغمال بنایا گیا ہے۔ اسلام آباد میں جمعیت لائر فورم کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک مقتدر اور بڑے وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ مقتدر حلقے ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور انہیں بلوچستان حکومت میں شمولیت سمیت خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت گرا کر جے یو آئی کی حکومت بنانے کی پیشکش کی گئی تھی، جسے انہوں نے صاف مسترد کر دیا۔ انہوں نے صائب الفاظ میں کہا کہ وہ لوٹوں کے سہارے اور مقتدر بیساکھیوں پر بیٹھ کر اس گھوڑے پر سوار ہونے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے اپنے خلاف جاری پروپیگنڈے پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ دائرہ اختیار اور غلط پالیسیوں سے اختلاف کرنے پر ان کی کردار کشی کی مہم چلائی جا رہی ہے، لیکن وہ کسی کے سامنے سرنڈر کرنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جس افسر کے آفس سے ان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا وہ فوری معافی مانگے۔ جے یو آئی کے سربراہ نے دل گرفتہ انداز میں کہا کہ انہوں نے باجوڑ دھماکوں سمیت اپنے علماء، اساتذہ اور 100 سے زائد کارکنوں کے جنازے اٹھائے ہیں، لیکن مقتدر حلقے کبھی ان کے جنازوں پر نہیں روئے، جبکہ وہ فوج کے ہر جنازے پر روئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ملک میں عدم اعتماد کی فضا خود مقتدر حلقوں کی غلط پالیسیوں نے پیدا کی ہے، جس کے باعث بنوں، لکی مروت اور ٹانک میں پولیس فورسز اور عوام کے اندر شدید ترین خلیج اور دوریاں جنم لے چکی ہیں۔

انہوں نے ماضی کے تزویراتی حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) میں بھی عوام سے البدر اور الشمس جیسے لشکر بنوائے گئے جس کے تلخ نتائج تاریخ کا حصہ ہیں، اور اب دوبارہ مقتدر حلقے عوام کو لشکر بنانے پر مجبور کر کے نئے دشمن پیدا کر رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے افسوس کا اظہار کیا کہ موجودہ خوشامدی حکمرانوں نے اپنے رویوں سے عوام، پارلیمنٹ اور آئین کو کمزور جبکہ اسٹیبلشمنٹ کو مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے تادیبی طور پر واضح کیا کہ اس وقت ریاست کی ساری توانائیاں عوامی فلاح کے بجائے صرف اور صرف اپنی سیاسی گرفت مضبوط کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں اور مقتدر طبقہ اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے شہدا کے خون کو بطور ایندھن استعمال کر رہا ہے۔

وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر بڑی کامیابی؛ ترک دنیا کی آئینی عدالتوں کی کانفرنس میں مبصر کی متفقہ رکنیت منظور

منصور احمد, JULY 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان نے بین الاقوامی آئینی عدالتی برادری میں ایک انتہائی مقتدر اور تزویراتی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ پاکستان کی نو تشکیل شدہ وفاقی آئینی عدالت کو “ترک دنیا کی آئینی عدالتوں کی کانفرنس میں متفقہ طور پر مبصر کی حیثیت سے مستقل رکنیت دے دی گئی ہے، جو کہ عالمی سطح پر ملکی عدالتی برادری کے بڑھتے ہوئے کردار اور مؤثر ترین روابط کا واضح ثبوت ہے۔

اتوار کے روز وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ آفیشل پریس ریلیز کے مطابق، ترک دنیا کی آئینی عدالتوں کی کانفرنس کا تزویراتی قیام 27 اپریل 2022ء کو استنبول (ترکیہ) میں عمل میں آیا تھا، جس کا بنیادی مقصد ترک ممالک کے مابین آئینی انصاف، قانون کی حکمرانی کو مستحکم کرنا اور عدالتی تجربات و بہترین آئینی فقہ کے تبادلے کو فروغ دینا ہے۔ اس اہم تنظیم کے مستقل اور مکمل ارکان میں ترکیہ، آذربائیجان، قازقستان، کرغزستان اور ازبکستان کی سپریم و آئینی عدالتیں شامل ہیں۔

ترک تنظیم کی جانب سے پاکستان کو مبصر کی حیثیت سے شامل کرنے کے اس مقتدر فیصلے سے متعلق جمہوریہ آذربائیجان کی آئینی عدالت کے چیئرمین اور کے موجودہ ٹرم صدر فرہاد عبداللایف نے وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کے چیف جسٹس امین الدین خان کے نام ایک باضابطہ مکتوب ارسال کیا۔ اس خط میں تصدیق کی گئی کہ تنظیم کے دستور کے آرٹیکل 10.4 کے تحت تمام رکن ممالک کی عدالتوں نے پاکستان کی شمولیت کی متفقہ منظوری دی ہے۔ فرہاد عبداللایف نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی ممتاز آئینی مہارت اور اعلیٰ ساکھ تنظیم کی سرگرمیوں میں مثبت کردار ادا کرے گی اور یہ شمولیت ادارہ جاتی روابط کو مزید مضبوط کرے گی۔

وفاقی آئینی عدالتِ پاکستان کے چیف جسٹس امین الدین خان نے اس مقتدر اور تاریخی پیش رفت کا شاندار خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان کی آئینی عدالتی روایت اور وفاقی آئینی عدالت پر بین الاقوامی برادری کے غیر متزلزل اعتماد کا مظہر قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے تادیبی بیان میں کہا کہ یہ رکنیت وفاقی آئینی عدالت کے قانون کی حکمرانی اور آئینی طرزِ حکمرانی کے فروغ کے عزم کی عکاس ہے۔ اس شمولیت سے پاکستان کو ترک دنیا کی عدالتوں کے ساتھ قریبی روابط استوار کرنے، علمی و ادارہ جاتی مکالمے میں شرکت اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے آئینی بالادستی اور بنیادی حقوق کے مؤثر تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے وسیع مواقع میسر آئیں گے۔

عمران خان سرنڈر کرنے کو تیار نہیں تو عوام بھی سر نہیں جھکائیں گے، اب گھروں سے نکلنے کا وقت آ گیا ہے؛ علیمہ خان کا سوات میں مقتدر خطاب

کاشف عباسی , JULY 19,026

سوات (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے خیبر پختونخوا کے غیرت مند عوام پر زور دیا ہے کہ وہ ملکی بقا اور حقیقی آزادی کی اس جاری تحریک میں فرنٹ لائن پر مزاحمت کریں اور پنجاب کے عوام کو بھی اپنے ساتھ لے کر آگے بڑھیں. انہوں نے واضح کیا کہ اب گھروں میں بیٹھنے کا نہیں بلکہ سڑکوں پر نکلنے کا وقت آ گیا ہے کیونکہ موجودہ قابض حکمرانوں نے تحریک انصاف کی 100 سے زائد انتخابی سیٹیں دانستہ چوری کی ہیں. سوات کے علاقے کبل چوک میں ایک مقتدر اور بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے صائب الفاظ میں کہا کہ جب بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان بدترین حالات میں جیل میں ہونے کے باوجود سرنڈر کرنے کو تیار نہیں ہیں، تو پاکستان کے عوام بھی ان ظالموں کے سامنے کبھی اپنا سر نہیں جھکائیں گے.

علیمہ خان نے دورانِ خطاب انکشاف کیا کہ گزشتہ سال 2 دسمبر کو عمران خان نے جیل سے میری بہن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارا نصب العین ‘آزادی یا موت’ ہے. انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ عمران خان نے آزادی یا موت کی بات کی تھی لیکن میں آج اس مقتدر اسٹیج سے کہتی ہوں کہ ہمارا عزم ‘آزادی یا شہادت’ ہے. ہم بہنیں اب اپنے گھروں سے یہ حتمی اور تزویراتی فیصلہ کر کے نکل چکی ہیں کہ اگر اس حقیقی آزادی کی جدوجہد میں ہم مارے بھی گئے، تو اللہ تعالیٰ ہماری شہادت قبول فرمائے، لیکن ہم پیچھے نہیں ہٹیں گی. انہوں نے عوام کو مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایران کی قیادت اور عوام سے سیکھنا چاہیے، ایران کے لیڈروں نے ملک و قوم کی خاطر بڑی سے بڑی شہادتیں دی ہیں اور اپنے عوام کو ہمیشہ فرنٹ سے لیڈ کیا ہے کیونکہ ان کے لیڈر مخلص تھے اور حق کے لیے کھڑے ہیں.

انہوں نے کبل چوک کے اجتماع سے اپیل کی کہ پاکستان میں بھی اب فیصلہ کن تحریک شروع کی جائے، اور یہ تحریک ابھی اسی وقت شروع کی جائے، کیونکہ عوام اور ہم سب یہی چاہتے ہیں. عمران خان جیسے عظیم لیڈر کو، جو صرف قوم کی خاطر لازوال قربانیاں دے رہا ہے، انہوں نے ناحق اور جھوٹے مقدمات میں جیل میں قید کر رکھا ہے. علیمہ خان نے تادیبی حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ہم سڑکوں پر نکل کر ان مقتدر حلقوں اور حکومت پر دباؤ نہیں ڈالیں گے، تب تک یہ نہ تو عمران خان کا کوئی طبی علاج کروائیں گے اور نہ ہی ان کی قیدِ تنہائی کی مروجہ سختیوں کو ختم کریں گے. انہوں نے خطاب کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اپنے اور پاکستان کے مستقبل کے لیے نکلیں، کیونکہ اب بس بہت ہو چکا ہے، عمران خان نے بھی جیل سے یہی پیغام دیا ہے کہ جب تک آپ لوگ اپنی حقیقی آزادی کے لیے خود گھروں سے باہر نہیں نکلیں گے، تب تک آپ کو غلامی سے آزادی نہیں مل سکتی.

پاکستان، آزاد کشمیر اور دنیا بھر میں عوامی ریلیاں اور سیمینارز عالمی برادری اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دلائے،

روزینہ اسماعیل, JULY 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کی جانب سے 19 جولائی 1947ء کو ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے مطالبے کی تاریخی اور تزویراتی قرارداد کی یاد میں اتوار کے روز ملک بھر سمیت دنیا بھر میں 78 واں “یومِ الحاقِ کشمیر” مقتدر انداز میں منایا گیا ہے۔ پاکستان، آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) اور دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم کشمیری تارکینِ وطن نے اس اہم دن کے موقع پر حقِ خودارادیت اور الحاقِ کشمیر کے حوالے سے اپنے دیرینہ و اصولی مؤقف کا بھرپور اعادہ کیا۔

اس تاریخی دن کی مناسبت سے جڑواں شہروں سمیت ملک بھر میں مختلف خصوصی تقریبات، عوامی ریلیوں، تزویراتی سیمینارز، کانفرنسوں اور بڑے عوامی اجتماعات کا انعقاد کیا گیا۔ تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں کو پاکستان اور کشمیر کے خوبصورت پرچموں سے سجایا گیا تھا، جبکہ سیاسی و مذہبی جماعتوں، سول سوسائٹی اور طلبہ تنظیموں نے 1947ء کی اصل قرارداد اور جموں و کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر مکمل عمل درآمد کے عزم کا اعادہ کیا۔ ان یادگاری تقریبات میں مقررین نے تحریکِ آزادی میں 1947ء کی قرارداد کی کلیدی اہمیت پر روشنی ڈالی اور اس بات پر سخت زور دیا کہ تنازعہ کشمیر کا پرامن حل صرف اور صرف وہاں کے غیور عوام کی امنگوں اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہی ممکن ہے۔

واضح رہے کہ 1947ء میں سرینگر میں غازیٔ ملت سردار محمد ابراہیم خان کی رہائش گاہ پر منعقدہ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے اجلاس میں یہ تاریخی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی۔ الحاقِ پاکستان کی اس مقتدر قرارداد کی مضبوط تزویراتی دلیل یہ ہے کہ جموں و کشمیر کی مسلم اکثریتی آبادی کا جغرافیائی تسلسل، پاکستان کے ساتھ مشترکہ ثقافتی، لسانی، نسلی و اقتصادی تعلقات اور پنجاب کی طرف بہنے والے دریاؤں کا رخ فطری طور پر پاکستان سے الحاق کا متقاضی ہے۔ اس تاریخی دستاویز میں بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت پر غیر متزلزل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اس وقت کے ڈوگرا حکمران مہاراجہ ہری سنگھ پر زور دیا گیا تھا کہ وہ 14 اگست 1947ء کو قیامِ پاکستان سے قبل ہی باقاعدہ پاکستان سے الحاق کا مقتدر اعلان کرے۔

پاکستان کا ہمیشہ سے یہ اصولی و قانونی مؤقف رہا ہے کہ جموں و کشمیر کی حتمی حیثیت کا تعین کشمیری عوام کی آزادانہ مرضی سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں (بشمول قرارداد نمبر 47 مجریہ 1948ء) کے تحت ایک غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے کے ذریعے ہونا چاہیے۔ پاکستان اس تنازعے کے حل کے لیے 1948ء اور 1949ء کی یو این سی آئی پی کی مقتدر قراردادوں کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ فریم ورک قرار دیتا ہے۔ اگست 2019ء میں مودی حکومت کی جانب سے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کی غیر قانونی منسوخی کے بعد پاکستان نے مقبوضہ وادی میں بڑھتی ہوئی پابندیوں، حراستوں اور آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنے کی بھارتی کوششوں پر عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انسانی حقوق کی مقتدر بین الاقوامی تنظیموں بشمول ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور خود اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے اپنی رپورٹس میں بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی ہولناک انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، شہری آزادیوں پر سفاکانہ پابندیوں اور من مانی نظر بندیوں کو دستاویزی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ پاکستان ہمیشہ بین الاقوامی فورمز پر مہاتما گاندھی اور جواہر لعل نہرو کے ان تاریخی بیانات کا حوالہ بھی دیتا ہے جس میں انہوں نے کشمیریوں کو جمہوری عمل کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ برٹرینڈ رسل، نیلسن منڈیلا، بل کلنٹن اور میری رابنسن جیسی عظیم عالمی شخصیات نے بھی ہمیشہ کشمیر کے پرامن حل اور وہاں انسانی حقوق کے تحفظ پر زور دیا ہے۔

لینڈ سلائیڈنگ، شہری و دریائی سیلاب اور گلیشائی جھیلوں کے پھٹنے سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بریفنگ؛ مون سون میں محفوظ سیاحت کے فروغ اور عوامی آگاہی مہم پر خصوصی زور، پریس ریلیز

روزینہ اسماعیل, JULY 19,2026

اسلام آباد/گلگت (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

وزیرِ اعظم پاکستان کی خصوصی ہدایات پر ملک بھر میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے مقتدر قومی ادارے ‘نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی’ (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین نے گلگت بلتستان کا اہم دورہ کیا ہے، جہاں انہوں نے گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (جی بی ڈی ایم اے) کے ہیڈکوارٹرز میں مون سون 2026ء کی پیشگی تیاریوں کا ایک اعلیٰ سطح کا جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ اتوار کے روز این ڈی ایم اے کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ آفیشل پریس ریلیز کے مطابق، اس تزویراتی اجلاس کے دوران گلگت بلتستان کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے حکام نے مون سون کے متوقع سیزن سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی تمام پیشگی تیاریوں، ہنگامی تادیبی منصوبہ بندی اور ریلیف کے لیے وسائل کی دستیابی پر تفصیلی بریفنگ دی۔

اجلاس کے دوران گلگت بلتستان کے جغرافیائی حالات کے پیشِ نظر ممکنہ سیلابی صورتحال، شدید بارشوں کے باعث شہری و دریائی سیلاب، پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ (پہاڑ کھسکنے) اور گلوبل وارمنگ کی وجہ سے گلیشائی جھیلوں کے پھٹنے سے پیدا ہونے والے سیلاب جیسے سنگین خطرات سے نمٹنے کے لیے کیے گئے مقتدر اقدامات کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین این ڈی ایم اے نے خطے کے تمام متعلقہ انتظامی و حفاظتی اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹنے کے لیے مقامی سطح پر آپسی کوآرڈینیشن اور رابطوں کو مزید مؤثر اور تیز بنانے کی سخت ہدایت جاری کیں۔

جائزہ اجلاس میں اس بات پر خصوصی طور پر زور دیا گیا کہ مون سون کے اس حساس سیزن کے دوران گلگت بلتستان آنے والے ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے لیے محفوظ سیاحت کے فروغ اور ان کی سفری سہولیات کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ وہ کسی ناگہانی آفت کا شکار نہ ہوں۔ اس کے ساتھ ہی، چیئرمین این ڈی ایم اے نے ممکنہ موسمی خطرات اور نقصانات سے بچاؤ کے لیے مقامی آبادی اور مسافروں کے لیے وسیع پیمانے پر عوامی آگاہی مہم چلانے کی ضرورت پر بھی سخت زور دیا تاکہ بروقت حفاظتی اقدامات کی بدولت جانی و مالی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔

پاکستانی نوجوانوں کے لیے بڑی خوشخبری؛ چین ہر سال 3 لاکھ فری لانسرز کو ڈیجیٹل اسکلز کی تربیت فراہم کرے گا، احسن اقبال

کاشف عباسی , JULY 19,026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

ملک میں ٹیکنالوجی اور نالج اکانومی کے مقتدر فروغ کے لیے پاک چین تعاون کے حوالے سے ایک انتہائی تزویراتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے انکشاف کیا ہے کہ دوست ملک چین ہر سال 3 لاکھ پاکستانی نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل اسکلز کی بین الاقوامی معیار کی تربیت فراہم کرے گا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیرِ اہتمام منعقدہ “تیسرے آئی ٹی فری لانسنگ ایوارڈز 2026ء” کی مقتدر تقریب کے دوران صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمٰن سہگل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس باوقار تقریب میں پنجاب کے وزیرِ خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن سمیت آئی ٹی شعبے کی مقتدر شخصیات نے شرکت کی۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اس وقت فری لانسنگ کے شعبے میں دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن چکا ہے اور ہمارے نوجوانوں کی ہنرمندی ملکی ڈیجیٹل معیشت اور برآمدات میں اضافے کا سب سے اہم تادیبی ذریعہ ہے۔ انہوں نے فری لانسرز اور آئی ٹی پروفیشنلز پر زور دیا کہ وہ عالمی منڈی میں اپنی مسابقت برقرار رکھنے کے لیے خود کو مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجیز سے ہم آہنگ کریں کیونکہ جدید دور میں کامیابی کے لیے بڑے دفاتر نہیں بلکہ علم اور ہنر ہی اصل سرمایہ ہے۔ اس موقع پر صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا کہ حکومت اور نجی شعبہ باہمی اشتراک سے پاکستان کو خطے کا مضبوط ڈیجیٹل اکانومی ہب بنا سکتے ہیں اور “اڑان پاکستان” وژن کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ہمارے فری لانسرز مقتدر صلاحیت رکھتے ہیں۔

پنجاب کے وزیرِ خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے اپنے خطاب میں لاہور چیمبر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ فری لانسنگ اب متبادل پیشہ نہیں بلکہ پاکستان کی ڈیجیٹل اکانومی کا ایک مضبوط اور اہم ستون بن چکی ہے، جو ہر سال کروڑوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ ملک میں لا کر قومی معیشت کو مستحکم کر رہی ہے۔ انہوں نے فری لانسرز کو ملک کا “ڈیجیٹل سفیر” قرار دیا۔ صوبائی وزیرِ خزانہ نے مقتدر یقین دہانی کرائی کہ پنجاب حکومت فری لانسرز کو بین الاقوامی ادائیگیوں میں درپیش رکاوٹیں دور کرنے اور عالمی معیار کا ادائیگی نظام فراہم کرنے کے لیے وفاق اور اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی متحرک قیادت میں صوبے میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی پارکس اور آئی ٹی زونز کے قیام پر بھرپور سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ پنجاب پاکستان کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جس نے بڑے پیمانے پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس اقدامات کا آغاز کیا ہے تاکہ نوجوانوں کو صرف فری لانسر نہیں بلکہ اے آئی ڈویلپرز اور عالمی سطح کے ٹیکنالوجی لیڈرز بنایا جا سکے۔

پنجاب کے اہم دریاؤں اور ندی نالوں میں سیلاب کی وارننگ جاری؛ پی ڈی ایم اے نے ہائی الرٹ الرٹ جاری کر دیا

منصور احمد, JULY 19,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

مانسون کی حالیہ مقتدر لہر کے پیشِ نظر پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے صوبے کے مختلف دریاؤں، ندی نالوں اور بڑے شہروں کے لیے سیلاب کی ہنگامی وارننگ جاری کر دی ہے. ترجمان پی ڈی ایم اے کی جانب سے اتوار کے روز جاری کردہ الرٹ کے مطابق، 20 سے 24 جولائی کے دوران پنجاب کے تمام بڑے دریاؤں میں پانی کی سطح اور صورتحال میں شدید اضافے کا تزویراتی خدشہ ہے، جس کے باعث متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے کے احکامات دیے گئے ہیں.

آفیشل اعلامیے کے مطابق، دریائے راوی اور دریائے چناب سے ملحقہ برساتی نالوں بشمول بہیں، بسنتر، ڈیک، ایک، پلکھو، بھمبر، ہلسی اور ڈورا میں طغیانی اور سیلاب کی وارننگ جاری کی گئی ہے. اسی طرح دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر بھی پانی کے بڑے ریلے کے پیشِ نظر سیلابی الرٹ جاری کیا گیا ہے. ترجمان نے مزید بتایا کہ ڈیرہ غازی خان کے کوہِ سلیمان سے نکلنے والی رود کوہیوں میں بھی فلیش فلڈنگ (ایک دم آنے والے سیلاب) کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے، جبکہ لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، سرگودھا، اوکاڑہ، ساہیوال، بہاولنگر اور راولپنڈی ڈویژن کے شہری علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ (شہری سیلاب) کا قوی امکان ہے. اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے صوبہ بھر کے مقتدر کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، واسا حکام، ریسکیو 1122، لوکل گورنمنٹ، اور محکمہ آبپاشی، صحت، لائیو اسٹاک و ٹرانسپورٹ کو ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں.

ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ نے تمام اضلاع کی انتظامیہ کو ہنگامی طور پر متحرک رہنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ضلعی ایمرجنسی کنٹرول رومز میں عملے کی 24 گھنٹے حاضری کو یقینی بنایا جائے. انہوں نے خصوصی تادیبی احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ریسکیو 1122 کی ڈیزاسٹر رسپانس ٹیموں کے پاس پٹرول اور ڈیزل کا اسٹاک وافر مقدار میں ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی آپریشن میں تاخیر نہ ہو. ڈی جی نے انتظامیہ کو پابند کیا کہ دریاؤں کے پاٹ (کچے کے علاقوں) میں موجود انسانی بستیوں اور مال مویشیوں کے فوری و محفوظ انخلا کو یقینی بنایا جائے اور فلڈ ریلیف کیمپوں میں خوراک، ادویات اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے. انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سرکاری احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں اور کسی بھی ہنگامی مدد یا اطلاع کے لیے پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر فوری رابطہ کریں.

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا باصلاحیت نوجوانوں کے لیے بڑا اقدام؛ پی ایچ ڈی طلبہ کے لیے مکمل فنڈڈ اسکالرشپ پروگرام متعارف

روزینہ اسماعیل, JULY 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

ملک میں اعلیٰ معیاری تحقیقی کلچر کے فروغ اور باصلاحیت نوجوان محققین کی تزویراتی حوصلہ افزائی کے لیے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے ایک بڑا مقتدر قدم اٹھایا ہے. یونیورسٹی انتظامیہ نے پی ایچ ڈی کے ہونہار طلبہ کے لیے میرٹ پر مبنی مکمل فنڈڈ اسکالرشپ پروگرام کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے. اتوار کے روز یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس انقلابی اقدام کا بنیادی مقصد مستحق اور قابل ترین طلبہ کو مالی مشکلات اور فیسوں کے بوجھ سے مکمل طور پر بے نیاز کرنا ہے تاکہ انہیں عالمی معیار کی جدید تحقیق کے لیے ایک بہترین اور سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے.

اس مقتدر پروگرام کے تحت منتخب ہونے والے پی ایچ ڈی سکالرز کو یونیورسٹی پالیسی کے مطابق ماہانہ معقول وظیفہ، مکمل ٹیوشن فیس کی معافی اور دیگر تمام منظور شدہ تعلیمی و تحقیقی اخراجات کی بھرپور مالی معاونت فراہم کی جائے گی، تاکہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں اور توجہ صرف اور صرف معیاری تحقیق اور علمی سرگرمیوں پر مرکوز رکھ سکیں. مزید برآں، اس اسکالرشپ پروگرام کے تحت محققین کو یونیورسٹی میں تدریسی تحقیقی اور دیگر علمی پراجیکٹس میں عملی طور پر حصہ لینے کے بہترین مواقع بھی دیے جائیں گے، جس سے انہیں مستقبل کے لیے عملی تدریسی تجربہ، جدید تحقیقی مہارت اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو عالمی معیار کے مطابق نکھارنے کا موقع ملے گا.

یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے اس اسکالرشپ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں اعلیٰ تحقیقی کلچر کا فروغ ان کی اولین ترین ترجیحات میں شامل ہے. انہوں نے واضح کیا کہ ایک مضبوط تحقیقی بنیاد ہی کسی بھی ملک کی پائیدار ترقی، نئی اختراعات اور علم پر مبنی معیشت کی حقیقی ضامن ہوتی ہے، اسی لیے یونیورسٹی نوجوانوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کر رہی ہے. انہوں نے مزید کہا کہ یہ فنڈڈ پروگرام محققین کو قومی ترقی، سماجی مسائل کے عملی حل اور جدید سائنسی تحقیق کے میدان میں مؤثر ترین کردار ادا کرنے کے قابل بنائے گا. وائس چانسلر نے خواہشمند طلبہ پر زور دیا کہ وہ اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے فوری درخواست دیں. اسکالرشپ کے اہلیت کا معیار اور درخواست جمع کرانے کی تمام تر تفصیلات یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی گئی ہیں.

آزاد کشمیر کے انتخابات تاریخ رقم کریں گے؛ پاکستان اور کشمیر کے لازوال رشتے کو چیلنج کیا جا رہا ہے، وزیرِ دفاع خواجہ آصف


Defense Minister Khawaja Muhammad Asif is addressing the workers convention of PML-N at Union Council Water Works

منصور احمد, JULY 19,2026

سیالکوٹ (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے واضح کیا ہے کہ آزاد کشمیر کے موجودہ انتخابات ایک نئی تاریخ رقم کریں گے کیونکہ یہ کشمیر کاز کے ساتھ سچی محبت، کشمیری شہدا کے خون کا حق مانگنے اور ان کے حقوق کی حفاظت کا الیکشن ہے. سیالکوٹ میں ایل اے 36 جموں 3 کے انتخابی کارکنوں کے ایک مقتدر اور بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس سیاسی و علاقائی پس منظر میں آج یہ الیکشن ہو رہے ہیں، اس سے قبل تاریخ میں کبھی ایسے ماحول میں الیکشن نہیں ہوئے، کیونکہ اس وقت پاکستان اور کشمیر کے لازوال رشتے کو منظم سازش کے تحت چیلنج کیا جا رہا ہے.

وزیرِ دفاع نے اپنی کشمیری شناخت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بنیادی طور پر کشمیری ہیں لیکن جنہوں نے آزادی کے لیے دو لاکھ جانوں کے نذرانے دیے، وہ ان کی خاک کے برابر بھی نہیں ہیں. انہوں نے وادی کے غیور عوام کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ ویلی میں جو کشمیری اپنے ہاتھوں میں پاکستان کا پرچم اٹھا کر نعرے لگا رہے ہیں، انہیں بخوبی اندازہ ہے کہ اس کی کیا سنگین قیمت ادا کرنا پڑتی ہے. یہی وجہ ہے کہ وہ جیلوں میں کٹھن زندگی گزار رہے ہیں اور کشمیری خواتین قید و بند کی صعوبتیں کاٹ رہی ہیں. خواجہ آصف نے تزویراتی حقائق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ کسی کو خوش کرنے کے لیے جھوٹ نہیں بولتے، سرحد پر بیٹھا جموں کا مہاجر لندن میں بیٹھ کر پاکستان اور پاک افواج کو گالیاں دینے والے بعض کشمیریوں سے کہیں بہتر ہے. انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ جو سینہ تان کر پاکستان کی حفاظت کرتا ہے، اس کی عزت کی جائے.

پاک فوج کی قربانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے کہا کہ ہماری بہادر عسکری فورسز کو دانستہ نشانہ بنایا جاتا ہے جس نے گزشتہ دو چار سالوں میں وطنِ عزیز کے دفاع کے لیے چار ہزار سے زائد مقتدر قربانیاں دی ہیں. انہوں نے ملکی خارجہ پالیسی کے باوقار کردار کا ذکر کرتے ہوئے تادیبی طور پر بتایا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ شدید جنگ اور سفارتی کشیدگی میں پاکستان کا نام ایک معتبر ثالث کی حیثیت سے بین الاقوامی میڈیا اور ٹی وی پر مسلسل نظر آ رہا ہے، جو پاکستان کے باوقار کردار کا عکاس ہے. خواجہ آصف نے بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمان کو دہراتے ہوئے اپنے خطاب کا اختتام کیا کہ “کشمیر ہماری شہ رگ ہے” محض ایک نعرہ نہیں بلکہ یہ ہمارے دو قومی نظریے کی تزویراتی بنیاد ہے.

بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا فرمان ’کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے‘ ہماری جدوجہد کی بنیاد ہے؛ سید علی گیلانی کا نعرہ پوری کشمیری قوم کی آواز ہے

منصور احمد, JULY 19,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے یومِ الحاقِ پاکستان کے مقتدر موقع پر کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 19 جولائی 1947ء کو سرینگر میں غازیٔ ملت سردار محمد ابراہیم خان کے رہائشی مکان پر منعقدہ تاریخی اجلاس میں الحاقِ پاکستان کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی. اتوار کو لاہور سے جاری کردہ اپنے ایک خصوصی تزویراتی بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ اس تاریخی اور فیصلہ کن اجلاس میں سرینگر، جموں، مظفرآباد اور میرپور سمیت ریاستِ جموں و کشمیر کے ہر چہار سو علاقے کے مقتدر نمائندے شریک ہوئے تھے، جس نے کشمیریوں کے مستقبل کا رخ متعین کیا.

حافظ نعیم الرحمان نے کشمیریوں کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام اپنے سیاسی و جغرافیائی حقوق کے لیے کل بھی متحد تھے اور آج بھی دشمن کی تمام تر سازشوں کے باوجود مکمل متحد ہیں. انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پوری پاکستانی قوم کشمیری عوام کی اصولی اور اخلاقی حمایت پر مضبوطی سے قائم اور ثابت قدم ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ پاکستانی عوام نے ہر کٹھن مرحلے میں اپنے مظلوم کشمیری بہن بھائیوں کی سیاسی و سفارتی حمایت کا حق بھرپور انداز میں ادا کیا ہے. امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے واشگاف الفاظ میں فرمایا تھا کہ “کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے”، اور آج مقبوضہ جموں و کشمیر کا ہر نوجوان اسی شہ رگ کی آزادی کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے اور لازوال قربانیاں دے رہا ہے.

انہوں نے تحریکِ آزادی کے عظیم کشمیری رہنما سید علی گیلانی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا تاریخی نعرہ “ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے” دراصل کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ پوری کشمیری قوم کا متفقہ نعرہ اور ایمان ہے. حافظ نعیم الرحمان نے عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں مودی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین اور ہولناک خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں، جنہیں فوری طور پر بند ہونا چاہیے. انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کی لازوال جدوجہد اور خون رنگ لائے گا اور بہت جلد کشمیر کی تمام اکائیاں آزاد ہو کر پاکستان کا مستقل حصہ بنیں گی.

سمر کیمپ 2026ء؛ ڈی جی آئی ایس پی آر کی ملک بھر کے طلبہ و طالبات کے ساتھ خصوصی نشست، قومی سلامتی اور چیلنجز پر تفصیلی روشنی

منصور احمد, JULY 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے زیرِ اہتمام نوجوانوں میں قومی شعور کی بیداری اور ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ایک مقتدر اور اہم ترین پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آئی ایس پی آر نے سمر کیمپ 2026ء میں شریک ملک بھر کے طلبہ و طالبات کے ساتھ ایک خصوصی تزویراتی نشست کا انعقاد کیا ہے۔ اتوار کے روز موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق، اس منفرد تعلیمی و تربیتی نشست میں پاکستان بھر کے 18 سے زائد مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے نویں سے بارہویں جماعت کے 4 ہزار سے زائد طالب علموں نے بھرپور شرکت کی۔ اس خصوصی گفتگو کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے ملک کی مجموعی قومی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ اور پاکستان کو درپیش داخلی و بیرونی چیلنجز پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

سمر کیمپ 2026ء میں شریک طلبہ و طالبات نے سیشن کے اختتام پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نشست کی بدولت انہیں پاکستان کو درپیش پیچیدہ داخلی و بیرونی سیکیورٹی چیلنجز سے متعلق انتہائی مؤثر اور گہری آگہی حاصل ہوئی ہے۔ طلبا کا کہنا تھا کہ انہیں بلوچستان میں سرگرم بھارتی پراکسی “فتنہ الہندوستان” اور ملک بھر میں امن کو سبوتاژ کرنے والے “فتنہ الخوارج” کے دہشت گردانہ اور ناپاک کردار کے بارے میں بھی تادیبی حقائق سے آگاہ کیا گیا، جس سے دشمن کے پاکستان مخالف پروپیگنڈے کو سمجھنے میں مدد ملی ہے۔

نشست کے دوران مقتدر طلبہ و طالبات نے اس بات پر سخت زور دیا کہ موجودہ ڈیجیٹل دور میں غلط معلومات (ففتھ جنریشن وارفیئر) اور منفی پروپیگنڈا سوشل میڈیا کے ذریعے انتہائی تیزی سے پھیلایا جا رہا ہے، جس کے خلاف نوجوان نسل میں شعور اور آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ سمر کیمپ میں شریک پاکستان کے مستقبل کے معماروں نے اس پختہ عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی اور ملک دشمن عناصر کے خلاف پوری پاکستانی قوم اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور وطنِ عزیز کے دفاع کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ؛ جیٹ فیول 40 روپے اور لائٹ ڈیزل آئل 25 روپے سے زائد مہنگا

منصور احمد, JULY 18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 جولائی 2026ء

عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور ملکی پرائسنگ میکانزم کے تحت حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک اور بڑے اضافے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت ہوائی جہازوں میں استعمال ہونے والے ایندھن (جیٹ فیول) اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں کو یکمشت تیز ترین مہنگا کر دیا گیا ہے۔ حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق، جیٹ فیول کی فی لیٹر قیمت میں 40 روپے 35 پیسے جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کی فی لیٹر قیمت میں 25 روپے 45 پیسے کا بھاری اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کا ملک بھر میں فوری اطلاق کر دیا گیا ہے۔

اس تزویراتی اضافے کے بعد جہازوں میں استعمال ہونے والے جیٹ فیول کی نئی قیمت 251 روپے 20 پیسے سے بڑھ کر 291 روپے 55 پیسے فی لیٹر کی مقتدر سطح پر پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب، صنعتوں اور زرعی مقاصد میں استعمال ہونے والے لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت بھی 205 روپے 22 پیسے سے بڑھا کر 230 روپے 67 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کے مطابق، ان دونوں مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نفاذ کر دیا گیا ہے جس سے ہوائی سفر اور صنعتی و زرعی لاگت پر براہِ راست اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا یہ تسلسل گزشتہ ہفتے سے جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے بھی حکومت کی جانب سے جیٹ فیول کی قیمت میں فی لیٹر 13 روپے 23 پیسے اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 9 روپے 74 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا تھا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں مسلسل اضافے سے جہاں ایئرلائنز کے کرایوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، وہاں لائٹ ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے زرعی ٹیوب ویلوں اور چھوٹی صنعتوں کا پیداواری بل بھی متاثر ہوگا۔

سکیورٹی فورسز کی وانا میں بڑی تزویراتی کارروائی؛ بارود سے بھری خودکش گاڑی تباہ، شہری آبادی بڑی تباہی سے محفوظ

کاشف عباسی , JULY 18,026

وانا/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 جولائی 2026ء

سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اور بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے انٹیلیجنس پر مبنی انتہائی حساس آپریشن کے ذریعے وانا اور اس کے گردونواح کی شہری آبادی کو ایک ہولناک اور بڑی ممکنہ تباہی سے بچا لیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق، فورسز نے جنوبی وزیرستان لوئر کے اہم علاقے وانا (غواخوا) میں بارودی مواد سے بھری ایک مشکوک گاڑی کو خودکش حملے سے پہلے ہی مؤثر کارروائی کرتے ہوئے تباہ کر دیا۔

سکیورٹی ذرائع کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، دہشت گردوں کی اس گاڑی میں بھاری مقدار میں دھماکا خیز مواد نصب تھا، جسے کسی بڑے شہر یا اہم تزویراتی ہدف پر خودکش حملے کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔ سکیورٹی فورسز نے معصوم شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنانے کے لیے انتہائی اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ فورسز نے بارود اور موٹر سائیکل سے لیس اس خودکش گاڑی کی مسلسل تین روز تک انتہائی خفیہ نگرانی کی، اور جیسے ہی یہ گاڑی شہری آبادی اور رہائشی علاقے سے دور ایک الگ تھلگ مقام پر پہنچی، تو فورسز نے اسے نشانہ بنا کر اڑا دیا۔

سکیورٹی فورسز کی اس کامیاب اور بروقت کارروائی کے نتیجے میں بارود سے بھری خودکش گاڑی اور سیکیورٹی میں شامل موٹر سائیکل مکمل طور پر تباہ ہو گئی، جبکہ ایک خارجی موقع پر ہی جہنم واصل ہوا اور 5 دہشت گرد شدید زخمی ہو گئے۔ قبائلی عوام نے سکیورٹی فورسز کے اس دلیرانہ اقدام کو بھرپور انداز میں سراہا ہے جس نے وانا کو ایک خونی حادثے سے محفوظ رکھا۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے خلاف یہ کامیاب آپریشن اس بات کا واضح اور ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ ہماری فورسز ملکی امن کے دشمن عناصر کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں اور وطنِ عزیز سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گی۔

ایف آئی اے امیگریشن کی ائیرپورٹ پر بڑی کارروائی؛ بین الاقوامی آن لائن اسکامنگ نیٹ ورک کا حصہ بننے والے 2 مسافر آف لوڈ، گرفتار

کاشف عباسی , JULY 17,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) امیگریشن نے وفاقی دارالحکومت کے ائیرپورٹ پر ایک کامیاب اور تزویراتی کارروائی کرتے ہوئے دو ایسے خطرناک مسافروں کو پرواز سے آف لوڈ کر کے گرفتار کر لیا ہے جو ملائیشیا کے وزٹ ویزے کا غلط استعمال کرتے ہوئے ایک بین الاقوامی آن لائن اسکامنگ نیٹ ورک کا حصہ بننے کے لیے بیرونِ ملک فرار ہو رہے تھے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق، گرفتار کیے گئے مسافروں کی شناخت ولید الغنی اور محمد یار کے ناموں سے ہوئی ہے، جنہیں ائیرپورٹ پر تعینات امیگریشن کاؤنٹر کے عملے نے شک گزرنے پر روک کر حراست میں لیا۔

حکام کی جانب سے کی جانے والی ابتدائی تفتیش اور مسافروں کی تادیبی پروفائلنگ کے دوران یہ سنسنی خیز انکشاف ہوا کہ مذکورہ مسافر اس سے قبل کمبوڈیا کا مشکوک سفر بھی کر چکے ہیں، جبکہ ماضی میں بھی غیر واضح سفری دستاویزات اور حالات کی بنا پر انہیں آف لوڈ کیا گیا تھا۔ دوبارہ باریک بینی سے کی گئی پروفائلنگ کے دوران جب مسافروں کے موبائل فونز کی تلاشی لی گئی تو ان سے انتہائی اہم اور ناقابلِ تردید ڈیجیٹل شواہد موصول ہوئے۔ موبائل فونز میں موجود واٹس ایپ و دیگر مبینہ چیٹس اور ریکارڈ شدہ رابطوں سے یہ بات واضح طور پر سامنے آئی کہ دونوں مسافروں کے روابط بین الاقوامی آن لائن اسکامنگ سلیپر سیلز اور منظم نیٹ ورکس سے ہیں، اور وہ دیگر معصوم پاکستانی شہریوں کو بھی خطیر رقوم کے عوض اس قسم کی غیر قانونی سائبر سرگرمیوں کے لیے سہولیات فراہم کرنے میں ملوث تھے۔

دستیاب ڈیجیٹل شواہد کی روشنی میں ایف آئی اے حکام کو قوی شبہ ہے کہ یہ مسافر ملائیشیا کے وزٹ ویزے کی آڑ میں وہاں جا کر بین الاقوامی سطح پر سائبر کرائم اور مالیاتی فراڈ (آن لائن اسکامنگ) کے ذریعے غیر قانونی طور پر بھاری رقوم کمانا چاہتے تھے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق، ملزمان کے موبائل فونز کو حتمی فرانزک آڈٹ کے لیے سرکاری قبضے میں لے لیا گیا ہے جبکہ دونوں ملزمان کو نیٹ ورک کے دیگر ملوث کرداروں کی گرفتاری، مزید تفتیش اور سخت قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل ملتان کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ترجمان نے مقتدر عزم کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایف آئی اے ملک کا وقار بین الاقوامی سطح پر برقرار رکھنے، سرحد پار سائبر کرائمز، غیر قانونی ہجرت اور سفری دستاویزات کے کسی بھی قسم کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے پوری طرح متحرک اور پرعزم ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اب روزانہ کی بنیاد پر تعین ہوگا؛ نظام میں مکمل شفافیت اور پرائسنگ فارمولا عوام کے سامنے لانے کا مقتدر فیصلہ

کاشف عباسی , JULY 17,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے پٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے ایک بڑے تزویراتی فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے مروجہ نظام کو ہفتہ وار سے بدل کر روزانہ کی بنیاد پر لانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کے ہمراہ ایک مقتدر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اس تاریخی اقدام کا بنیادی مقصد قیمتوں میں ہونے والے عالمی اتار چڑھاؤ کے ثمرات کو بلا تاخیر اور بروقت عوام تک منتقل کرنا ہے، جس سے نظام میں نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ پورا پرائسنگ فارمولا بھی پبلک کر دیا جائے گا۔

عطاء اللہ تارڑ نے عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ اضافہ بین الاقوامی کشیدگی کا نتیجہ ہے، تاہم پاکستان اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہا ہے جنہیں عالمی برادری نے بھی سراہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب دنیا بھر میں کشیدگی کے باعث کئی ترقی یافتہ ممالک میں تیل کے حصول کے لیے طویل قطاریں لگی ہوئی تھیں اور راشننگ کا نظام چل رہا تھا، اس وقت وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے تیل کے اضافی کارگوز منگوائے، جس کی بدولت پاکستان کے کسی شہر میں ایک دن کے لیے بھی پٹرول یا ڈیزل کی قلت پیدا نہیں ہوئی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ جب عالمی منڈی میں قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں، تب وفاقی حکومت نے اپنے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے 129 ارب روپے کی خطیر مقتدر سبسڈی فراہم کی تاکہ عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے ہفتہ وار قیمتوں کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک گزشتہ چھ دنوں کی اوسط قیمت نکال کر ساتویں دن فیصلہ کیا جاتا تھا، جس کے باعث عالمی منڈی میں فوری کمی کا فائدہ عوام تک پہنچنے میں تاخیر ہوتی تھی، مگر اب روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین سے یہ دیرینہ شکایت ہمیشہ کے لیے دور ہو جائے گی۔ انہوں نے پٹرولیم لیوی میں بے پناہ اضافے کے تاثر کو سراسر غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ لیوی جنگ سے پہلے کے مقابلے میں بھی کم رکھی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ملکی بقا کے لیے ماحول دوست ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ درآمدی بل کو کم کرنے کے لیے پاکستان کا الیکٹرک بائیکس اور الیکٹرک وہیکلز کی طرف بڑھنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔

آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے حوالے سے مقتدر ریگولیشن کا ذکر کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے واضح کیا کہ کمپنیوں کی جانب سے اندھا دھند منافع کمانے کا تاثر بالکل بے بنیاد ہے، کیونکہ وزیراعظم کی ہدایت پر ایف آئی اے اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) ان کی سخت ترین نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار اضافی منافع کمانے والی کمپنیوں سے رقم واپس وصول کی گئی ہے اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ انہوں نے عوام کو مطلع کیا کہ اوگرا کے موجودہ چیئرمین کی سربراہی میں ایک جدید آئی ٹی بیسڈ شفاف نظام متعارف کرایا جا چکا ہے اور شہری کسی بھی شکایت کی صورت میں اوگرا کی ویب سائٹ پر براہِ راست رجوع کر سکتے ہیں۔ انہوں نے تمام سیاسی حلقوں سے اپیل کی کہ عوامی مفاد کے اس حساس معاشی معاملے پر سیاست چمکانے سے گریز کیا جائے۔

شہری ترقی کے لیے پاکستان کا بڑا عزم؛ رانا مشہود احمد خان کا اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پائیدار اور موسمیاتی لچک پر مبنی وژن کا اعادہ

محمود احمد, JULY 17,2026

اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نیو اربن ایجنڈا کے وسط مدتی جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پائیدار، جامع اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ شہروں کی تعمیر کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تیز رفتار شہری آبادی میں اضافے کے باعث رہائش، ٹرانسپورٹ اور ماحولیات پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کو مشترکہ اور پائیدار حل تلاش کرنے ہوں گے۔

چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام نے 2025ء میں آنے والے تباہ کن شہری اور دریائی سیلابوں کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اب اقوامِ متحدہ کے ادارے ‘یو این ہیبی ٹیٹ’ کے تعاون سے ایک جامع قومی شہری حکمتِ عملی تشکیل دے رہا ہے تاکہ موسمیاتی لچک کو ابتدا ہی سے شہری منصوبہ بندی کا لازمی حصہ بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ سیلاب کے بعد بحالی کے قومی پروگرام کے تحت اب تک بے گھر ہونے والے خاندانوں کے لیے 4 لاکھ سے زائد گھر تعمیر کیے جا چکے ہیں، جبکہ حکومت کم لاگت اور کم کاربن اخراج والی پبلک ٹرانسپورٹ، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے 9 ملین سے زائد خاندانوں کو سماجی تحفظ اور سیف سٹی منصوبوں کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے مقتدر اقدامات کر رہی ہے۔

رانا مشہود احمد خان نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ پاکستان کا مستقبل اس کے نوجوانوں سے وابستہ ہے، جو ملک کی تقریباً 67 فیصد آبادی پر مشتمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی شہروں کی جانب منتقلی کے پیشِ نظر انہیں معیاری تعلیم اور روزگار فراہم کرنا ناگزیر ہے، جس کے لیے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں “پُرعزم پاکستان” پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے تاکہ نوجوانوں کو ہنر مندی اور کاروباری مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے تیز رفتار شہری آبادی سے نمٹنے کے اپنے تجربات دیگر رکن ممالک کے ساتھ شیئر کرنے اور پائیدار شہری ترقی کے لیے عالمی تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

پاک چین فارماسیوٹیکل کانفرنس کے افتتاحی روز 446 ملین ڈالر مالیت کے تاریخی تجارتی معاہدوں پر دستخط

محمود احمد, JULY 17,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

پاکستان اور چین کے مابین صحت اور دواسازی کے شعبے میں ایک بڑی تزویراتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وفاقی دارالحکومت میں دو روزہ “پاکستان چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس” کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس مقتدر کانفرنس کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ یہ اہم ترین انویسٹمنٹ کانفرنس وزارتِ قومی صحت، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ)، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کے مشترکہ اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے، جس میں تین سو سے زائد پاکستانی اور ایک سو پچاس معروف چینی صنعتی اداروں سمیت ساڑھے چار سو سے زائد نامور کمپنیاں حصہ لے رہی ہیں۔ افتتاحی تقریب سے قبل وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کانفرنس کے خدوخال اور تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔

کانفرنس کے پہلے ہی روز دونوں ممالک کی مقتدر کمپنیوں کے مابین مجموعی طور پر 446 ملین امریکی ڈالر مالیت کے نو تاریخی تجارتی و سرمایہ کاری معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جن میں مقامی مینوفیکچرنگ، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی، مشترکہ سرمایہ کاری اور برآمدی استعداد میں اضافے کے انقلابی منصوبے شامل ہیں۔ ان تزویراتی معاہدوں کے تحت ایل ڈی ایس اور سائنوویک ہولڈنگ گروپ کے درمیان ویکسینز کی رجسٹریشن، تجارتی فروغ اور مرحلہ وار مقامی تیاری کے لیے دو سو ملین ڈالر کا سب سے بڑا تزویراتی منصوبہ طے پایا۔ اس کے ساتھ ہی او بی ایس اور کین سائنو بائیولاجکس کے مابین پاکستان میں نمونیا ویکسین کی مقامی تیاری کے لیے پچاس ملین ڈالر، جبکہ اے جی پی اور شنگھائی یونائیٹڈ سیل بائیو ٹیکنالوجی کے مابین گروتھ ہارمون اور اورل ہیضہ ویکسین کی تیاری کا پچاس ملین ڈالر کا مشترکہ منصوبہ دستخط کیا گیا۔

تقریب میں او بی ایس فارما اور لیائوننگ لڈان فارماسیوٹیکل کے مابین مانع حمل امپلانٹس کی مقامی پیداوار کے لیے پچاس ملین ڈالر کا معاہدہ ہوا، جبکہ جنیکس فارما اور چینی بائیوٹیک کمپنیوں کے اشتراک سے تئیس ملین ڈالر کی لاگت سے پاکستان کا پہلا جدید بائیوفارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ پلیٹ فارم قائم کرنے کی منظوری دی گئی جہاں مونوکلونل اینٹی باڈیز اور انسولین تیار کی جائے گی۔ علاوہ ازیں کانگچنگ لیان شن زی کانگ بائیو ٹیکنالوجی کے ساتھ پچیس ملین ڈالر کی لاگت سے گلوکوز مانیٹرنگ مصنوعات کی اسمبلنگ، تیان یوآن فارماسیوٹیکل کے ساتھ پچیس ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے ملک میں پہلی مرتبہ جدید ترین ذیابیطس ادویات کی مقامی پیداوار، لکی کور انڈسٹریز کا تیرہ ملین ڈالر کا معاہدہ برائے ہیپاٹائٹس ڈیلٹا ادویات اور سٹی فارما کا ینگتزی ریور فارماسیوٹیکل گروپ کے ساتھ دس ملین ڈالر کا ٹیکنالوجی منتقلی کا معاہدہ بھی حتمی شکل پا گیا۔

پنڈال میں ڈریپ، بورڈ آف انویسٹمنٹ اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے خصوصی سہولت مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں سرمایہ کاروں کو ریگولیٹری رہنمائی، لائسنسنگ اور دیگر امور میں فوری حکومتی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ کانفرنس کے دوسرے اور آخری روز ڈریپ کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کے معیارات اور پاکستان سنگل ونڈو کے ساتھ انضمام پر خصوصی تکنیکی سیشن منعقد کیا جائے گا، جس کے بعد مزید کئی کارپوریٹ مفاہمتی یادداشتوں کو حتمی شکل دیے جانے کا قوی امکان ہے۔

مون سون 2026ء؛ این ڈی ایم اے میں ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا اہم اجلاس، وفاقی وزیر احسن اقبال کی صدارت

روزینہ اسماعیل, JULY 17,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں مون سون 2026ء کے دوران ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے اور ادارہ جاتی تیاریوں کو حتمی شکل دینے کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) میں ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا تیسرا اہم ترین اجلاس منعقد ہوا ہے۔ جمعہ کے روز این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کی، جبکہ اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک، مختلف وفاقی وزارتوں کے سیکرٹریز اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ نمائندگان نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران ملک بھر کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم ایز) کی آپریشنل تیاریوں، ہنگامی ریلیف کی منصوبہ بندی، ریسکیو کے لیے ضروری وسائل کی دستیابی اور ضلعی انتظامیہ کو متحرک کرنے پر خصوصی زور دیا گیا۔ اس تزویراتی بیٹھک میں عوام کے لیے آگاہی مہمات چلانے، متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی بروقت ترسیل، محفوظ مقامات پر انخلاء کے ہنگامی منصوبوں اور تمام اداروں کے مابین بہترین ورکنگ ریلیشن شپ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے وفاقی وزیر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ این ای او سی کا مانیٹرنگ سیل 24 گھنٹے موسمیاتی تبدیلیوں کی نگرانی کر رہا ہے اور تمام صوبوں کو ابتدائی انتباہی نظام (ارلی وارننگ سسٹم) کے ذریعے الرٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔

اجلاس میں وزارتِ مواصلات، وزارتِ توانائی اور واپڈا کے حکام نے بھی مون سون کے دوران اپنے اپنے محکموں کے اقدامات پر بریفنگ دی۔ کمیٹی نے بارشوں کے دوران اہم شاہراہوں کی فوری بحالی، بجلی کی بلاتعطل فراہمی کے تسلسل، ڈیموں کے پانی کے انتظام اور دریاؤں میں آبی صورتحال کی نگرانی کے تزویراتی منصوبوں کی منظوری دی۔ وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ انسانی جانوں، عوام کے روزگار اور قومی انفراسٹرکچر کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس لیے تمام محکمے کاغذی کارروائی کے بجائے زمین پر مربوط اور موثر ترین ردعمل کو یقینی بنائیں۔