گلگت بلتستان انتخابی دنگل، ابتدائی غیر سرکاری نتائج میں پاکستان پیپلز پارٹی ۱۰ نشستوں کے ساتھ سب سے آگے، مسلم لیگ (ن) ۶ نشستوں پر برتری کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود، سیاسی جماعتوں کی جانب سے دھاندلی کے الزامات

کاشف عباسی ,june 08,2026

گلگت(نیوز اینڈ نیوز) — 08 جون 2026ء

گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کے ابتدائی اور غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سب سے زیادہ نشستوں پر واضح برتری حاصل کرتی دکھائی دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب مختلف سیاسی جماعتوں نے انتخابی بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے سنگین الزامات بھی عائد کر دیے ہیں، گلگت سے موصول ہونے والے ابتدائی غیر سرکاری نتائج کے مطابق قانون ساز اسمبلی کی چوبیس (۲۴) نشستوں میں سے پیپلز پارٹی اس وقت دس (۱۰) حلقوں میں آگے ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) چھ (۶) نشستوں پر برتری حاصل کیے ہوئے ہے، اس کے علاوہ آزاد امیدوار پانچ (۵) حلقوں میں سبقت رکھے ہوئے ہیں، جبکہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کو دو (۲) نشستوں پر برتری حاصل ہے اور مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) بھی ایک نشست پر آگے چل رہی ہے، غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے علاقائی صدر امجد حسین حلقہ جی بی اے-۱ گلگت میں اپنے مخالفین سے آگے ہیں، جبکہ اسکردو اور اس کے ملحقہ علاقوں میں بھی پیپلز پارٹی کو نمایاں کامیابیاں ملتی دکھائی دے رہی ہیں، پیپلز پارٹی کے نمایاں امیدواروں میں سید توقیر مہدی (جی بی اے-۷ اسکردو)، فدا محمد نشاد (جی بی اے-۹ اسکردو)، ناصر علی خان (جی بی اے-۱۰ روندو)، اقبال حسن (جی بی اے-۱۱ کھرمنگ) اور عمران ندیم (جی بی اے-۱۲ شگر) اپنے اپنے حلقوں میں واضح برتری حاصل کیے ہوئے ہیں، دوسری جانب مسلم لیگ (ن) بھی گلگت اور استور سمیت کئی اہم حلقوں میں مضبوط پوزیشن میں ہے اور سخت مقابلہ کر رہی ہے، غیر سرکاری نتائج کے مطابق ن لیگ کے سابق وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن (جی بی اے-۲ گلگت)، رانا فرمان علی (جی بی اے-۱۳ استور)، رانا محمد فاروق (جی بی اے-۱۴ استور)، کفایت الرحمٰن (جی بی اے-۱۸ تانگیر)، عبدالجہان (جی بی اے-۲۰ غذر) اور محمد ابراہیم (جی بی اے-۲۲ گانچھے) اپنے اپنے انتخابی حلقوں میں آگے چل رہے ہیں، تحریکِ انصاف کے حوالے سے بات کی جائے تو پارٹی انتخابی نشان کے بغیر آزاد حیثیت میں میدان میں اترنے والے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں میں سہیل عباس (جی بی اے-۳ گلگت) اپنے حلقے میں برتری حاصل کیے ہوئے ہیں، انتخابی نتائج کے مطابق دیامر، یاسین اور گانچھے سمیت کئی دور افتادہ علاقوں میں آزاد امیدوار انتہائی مضبوط پوزیشن میں سامنے آ رہے ہیں، جس کے باعث مبصرین کا کہنا ہے کہ نئی اسمبلی میں آزاد ارکان کا کردار حکومت سازی کے لیے انتہائی اہم ہو سکتا ہے، انتخابات کے دوران اور پولنگ ختم ہونے کے بعد پیپلز پارٹی اور تحریکِ انصاف سمیت بعض بڑی سیاسی جماعتوں نے انتخابی بے ضابطگیوں اور مبینہ دھاندلی کے شدید الزامات عائد کیے ہیں، تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے ان الزامات پر کارروائی جاری ہے اور سرکاری و حتمی نتائج جاری ہونا ابھی باقی ہیں، سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر موجودہ نتائج اسی طرح برقرار رہے تو گلگت بلتستان میں اگلی حکومت سازی کے لیے سیاسی اتحاد، جوڑ توڑ اور آزاد امیدواروں کی حمایت فیصلہ کن اہمیت اختیار کر جائے گی۔

گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں مسلم لیگ (ن) کی پوزیشن مستحکم، پی ٹی آئی کا خطے میں کوئی مؤثر ووٹ بینک نہیں، جن کے اپنے امیدوار پورے نہیں وہ دھاندلی کا شور مچا رہے ہیں، صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کا پی ٹی آئی کے الزامات پر کرارا جواب

منصور احمد june 06,2026

لاہور(نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

گلگت بلتستان میں آئندہ ہونے والے عام انتخابات کے لیے سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں، جہاں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے مابین لفظی جنگ اور سیاسی گرما گرمی میں شدید اضافہ دیکھا جا رہا ہے، لاہور سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے گلگت بلتستان کی انتخابی سیاست پر ن لیگ کا مخلصانہ اور دوٹوک ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں عوامی سطح پر مسلم لیگ (ن) کے حق میں ایک واضح رجحان موجود ہے اور وہاں کے مختلف علاقوں میں گونجنے والے ”شیر، شیر“ کے نعرے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ عوام ن لیگ کی ماضی کی کارکردگی پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں، انہوں نے پی ٹی آئی کی انتخابی مہم کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے انتخابی مہم کے دوران جان بوجھ کر رکاوٹوں کا ایک جھوٹا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں اور سچ یہ ہے کہ اس جماعت کا گلگت بلتستان میں اب کوئی مؤثر ووٹ بینک موجود ہی نہیں رہا، عظمیٰ بخاری نے سیاسی الزامات پر سخت تنقید کرتے ہوئے واضح کیا کہ جن سیاسی جماعتوں کے پاس حلقوں میں کھڑے کرنے کے لیے امیدوار ہی مکمل نہیں ہیں، وہ اپنی ممکنہ شکست سے بچنے کے لیے ابھی سے ”قبل از وقت دھاندلی“ کے من گھڑت الزامات لگا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہیں، انہوں نے مشورہ دیا کہ انتخابی مقابلہ سستی الزام تراشی کے بجائے خالصتاً کارکردگی کی بنیاد پر ہونا چاہیے کیونکہ گلگت بلتستان کے باشعور عوام اب جھوٹے دعوؤں اور مخالفین کی منفی سیاست کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں اور وہ صرف ترقی اور عملی کام کرنے والی جماعت کو ہی ترجیح دے رہے ہیں، صوبائی وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ گلگت بلتستان میں سڑکوں کے جال، بہترین انفراسٹرکچر اور دیگر بڑے ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے وہاں کے عوام کی نمایاں خدمات انجام دی ہیں اور یہی بڑی وجہ ہے کہ عوامی اعتماد ن لیگ کے ساتھ نظر آ رہا ہے جبکہ مخالف سیاسی جماعتیں ترقیاتی کاموں کے بجائے صرف پروپیگنڈا اور الزامات کی سیاست کر رہی ہیں، دوسری جانب سیاسی مبصرین کے مطابق گلگت بلتستان میں انتخابی ماحول بتدریج گرم ہو رہا ہے اور تمام جماعتیں اپنے اپنے بیانیے کے ساتھ میدان میں اتر چکی ہیں، مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما رانا ثناء اللہ کے مطابق ن لیگ نے خطے کے زیادہ تر حلقوں میں اپنے مضبوط امیدوار کھڑے کیے ہیں جبکہ بعض مخصوص حلقوں میں مقامی آزاد امیدواروں کی حمایت کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، ان کے مطابق کئی نشستوں پر ن لیگ اور دیگر جماعتوں کے مابین انتہائی سخت اور کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے اور بعض حلقوں میں ہار جیت کا فرق انتہائی کم ہوگا، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کی سیاست کا یہ خاصہ رہا ہے کہ وہاں ہر نئے انتخاب کے ساتھ نئی سیاسی صف بندیاں سامنے آتی ہیں، تاہم اصل اور حتمی فیصلہ ہمیشہ عوامی ووٹ کی طاقت سے ہی ہوتا ہے، جو کسی بھی جماعت کے بلند بانگ دعووں کو حقیقت میں بدلنے یا انہیں یکسر رد کرنے کی پوری طاقت رکھتا ہے۔

عوام پر ایک اور مالی بوجھ، حکومت کا مٹی کا تیل مہنگا کرنے کا بڑا فیصلہ، قیمت میں ۸ روپے ۷۰ پیسے کا اضافہ، نئی قیمت ۲۸۰ روپے ۷۰ پیسے فی لیٹر مقرر

منصور احمد june 06,2026

لاہور(نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

حکومتِ پاکستان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ رد و بدل کے تحت مٹی کے تیل کی قیمت میں بڑا اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت ۲۸۰ روپے ۷۰ پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، لاہور اور اسلام آباد سے حاصل ہونے والی سرکاری تفصیلات کے مطابق پٹرولیم ڈویژن نے مٹی کے تیل کی قیمت میں ۸ روپے ۷۰ پیسے فی لیٹر اضافے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے، جس کے بعد یہ نئی قیمتیں فوری طور پر ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں، وزارتِ خزانہ اور پٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل میں اضافے کے ساتھ ساتھ دیگر پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں بھی نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں، جس کے تحت پٹرول کی قیمت میں ۴ روپے فی لیٹر کی واضح کمی کی گئی ہے اور پٹرول کی نئی قیمت ۳۷۷ روپے ۷۸ پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت کو پرانے نرخوں پر برقرار رکھتے ہوئے ۳۸۰ روپے ۷۸ پیسے فی لیٹر پر برقرار رکھا گیا ہے، اس فیصلے کے پسِ منظر اور عالمی مارکیٹ کے اثرات کا جائزہ لیا جائے تو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ دنوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے، عالمی منڈی کی رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں دو اعشاریہ سات (2.7) فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے نرخوں میں بھی واضح کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے، تاہم عالمی منڈی میں برینٹ اور امریکی خام تیل کی قیمتوں میں اس کمی کے رجحان کے باوجود مقامی سطح پر مختلف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ٹیکس ایڈجسٹمنٹس کی وجہ سے یہ رد و بدل جاری ہے، معاشی ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مشرقِ وسطیٰ سمیت دیگر خطوں کی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے اثرات کے باعث تیل کی قیمتوں میں یہ توازن بدلتا رہتا ہے، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں کمی کے باوجود مٹی کے تیل اور دیگر بنیادی ایندھن کی قیمتوں میں اس اضافے کا براہِ راست اور گہرا اثر ملکی دیہی علاقوں اور شدید کم آمدنی والے غریب طبقے پر پڑے گا، جہاں مٹی کا تیل روزمرہ زندگی کے کاموں اور کھانا پکانے کے لیے ایک انتہائی اہم اور بنیادی ایندھن کا کردار ادا کرتا ہے، تاہم حکومتی حکام کا اس فیصلے پر مستقل مؤقف ہے کہ ملکی سطح پر قیمتوں کا یہ حتمی تعین خالصتاً عالمی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ اور ملکی معاشی حالات و زرمبادلہ کے ذخائر کو مدنظر رکھ کر ہی کیا جاتا ہے۔

غریب اور متوسط طبقے کی کمر ٹوٹ گئی، ملک میں سالانہ مہنگائی کی مجموعی شرح ۱۵ فیصد کے قریب پہنچ گئی، آٹا، گھی، دودھ، پیاز اور آلو سمیت ۲۲ بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

منصور احمد june 06,2026

لاہور(نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

ملک میں جاری معاشی بحران کے باعث غریب اور متوسط طبقے کی کمر ٹوٹ کر رہ گئی ہے، جہاں مہنگائی کی مجموعی شرح پندرہ فیصد کے قریب پہنچ گئی ہے جبکہ رواں ہفتے کے دوران آٹا، گھی، کوکنگ آئل، تازہ دودھ اور ایل پی جی سمیت باقاعدہ بائیس (۲۲) انتہائی اہم اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق اگرچہ حالیہ ہفتے کے دوران ہفتہ وار مہنگائی کے انڈیکس میں صفر اعشاریہ پانچ چھ (0.56) فیصد کی معمولی کمی دیکھی گئی ہے، تاہم سالانہ بنیادوں پر ملک میں مہنگائی کی اصل شرح چودہ اعشاریہ سات پانچ (14.75) فیصد کی بلند سطح پر ریکارڈ کی گئی ہے، ادارہ شماریات کی رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق مارکیٹ میں مجموعی طور پر بائیس اشیاء کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافہ ہوا، دس اشیاء کی قیمتیں تھوڑی سستی ہوئیںcell جبکہ انیس (۱۹) اشیاء کے نرخ مارکیٹ میں مستحکم رہے ہیں، رپورٹ کے مطابق ایک ہی ہفتے کے دوران بنیادی اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں جو نمایاں اور ہوشربا اضافہ دیکھا گیا ان میں روزمرہ استعمال کا آٹا، ڈالڈا گھی، کوکنگ آئل، تازہ دودھ اور گھریلو ایل پی جی سلنڈر شامل ہیں، اس کے علاوہ سبزیوں کے بازار میں پیاز کی قیمت میں ریکارڈ اٹھائیس اعشاریہ ایک چھ (28.16) فیصد جبکہ آلو کی قیمت میں اکیس اعشاریہ نو ایک (21.91) فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس نے کچن کا بجٹ تباہ کر دیا ہے، دوسری جانب رپورٹ میں کچھ اشیاء کی قیمتوں میں کمی کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن کے مطابق برائلر چکن کی قیمت میں نو اعشاریہ فار آٹھ (9.48) فیصد، لہسن کی قیمت میں نو اعشاریہ ایک تین (9.13) فیصد، ڈیزل کی قیمت میں سات اعشاریہ صفر ایک (7.01) فیصد اور پٹرول کی قیمت میں چھ اعشاریہ اسی (6.80) فیصد کی کمی دیکھی گئی ہے، معاشی ماہرین کا اس صورتحال پر کہنا ہے کہ پٹرولیم اور چکن کی قیمتوں میں کمی کے باوجود عام مارکیٹ میں آٹے، دودھ اور کوکنگ آئل جیسی سب سے بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ غریب اور دباؤ کے شکار متوسط طبقے کے لیے روزمرہ زندگی میں مزید شدید مشکلات اور فاقہ کشی جیسے حالات پیدا کر رہا ہے کیونکہ ان چیزوں کا اتار چڑھاؤ براہِ راست عام شہری کی جیب پر اثر ڈالتا ہے، ادارہ شماریات کے حکام کے مطابق مارکیٹ میں قیمتوں کا یہ حالیہ اتار چڑھاؤ اور مسلسل بڑھتا ہوا رجحان عالمی مارکیٹ کی صورتحال، ملک میں اجناس کی رسد و طلب اور مجموعی ملکی معاشی صورتحال سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

عوام کے لیے ریلیف، عالمی مارکیٹ کے تناظر میں پٹرول کی قیمت میں مزید ۴ روپے فی لیٹر کمی کا اعلان، ہائی اسپیڈ ڈیزل کے نرخ برقرار رکھنے کا فیصلہ

کاشف عباسی ,june 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

حکومتِ پاکستان نے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے حالیہ رد و بدل کے بعد آئندہ ہفتے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جس کے مطابق پٹرول کی قیمت میں ۴ روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت کو پرانے نرخوں پر برقرار رکھا گیا ہے، اسلام آباد سے جاری ہونے والے سرکاری اعلامیے کے مطابق پٹرول کی ایکس ڈپو قیمت میں ۴ روپے کمی کے بعد اب نئی قیمت ۳۷۷ روپے ۷۹ پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت ۳۸۰ روپے ۷۸ پیسے فی لیٹر پر ہی برقرار رہے گی، وزارتِ خزانہ کے حکام کے مطابق ڈیزل کی قیمت کو برقرار رکھنے کے لیے ٹیکس اور دیگر مالی ایڈجسٹمنٹس کی گئی ہیں، کیونکہ ڈیزل کو ملکی ٹرانسپورٹ اور مال برداری کے شعبے میں بنیادی حیثیت حاصل ہے اور اس کی قیمتوں میں اضافہ ملکی مہنگائی پر براہِ راست اور گہرا اثر ڈالتا ہے، پٹرولیم قیمتوں کے رجحان کے اعداد و شمار کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت رواں سال ۱۰ اپریل کو ۵۲۰ روپے ۳۵ پیسے فی لیٹر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی جو کہ اب کافی نیچے آ چکی ہے، حالیہ کمی کے بعد پٹرول کی قیمت میں مسلسل چوتھے ہفتے بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں اب تک مجموعی طور پر پٹرول تقریباً ۳۷ روپے فی لیٹر سستا ہو چکا ہے، معاشی ماہرین کے مطابق پٹرول کی قیمت میں اس مسلسل کمی سے عام صارفین اور موٹر سائیکل سواروں کو بڑا ریلیف ملے گا، جبکہ ٹرانسپورٹ اور سپلائی چین کے اخراجات میں بھی معمولی کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے، تاہم ڈیزل کی قیمت تبدیل نہ ہونے اور اسے برقرار رکھنے سے مہنگائی کی مجموعی شرح پر پٹرول کی کمی کا اثر تھوڑا محدود رہ سکتا ہے، حکومتی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ آئندہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ اور ملکی زرمبادلہ کی صورتحال کو سامنے رکھ کر کیا جائے گا۔

جون کے بڑے احتجاج سے قبل آزاد کشمیر حکومت کا بڑا ایکشن، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دے دیا گیا، پورے خطے میں موبائل ڈیٹا اور انٹرنیٹ سروسز معطل، سیاحوں کو فوری علاقہ چھوڑنے کی ہدایت

کاشف عباسی ,june 06,2026

مظفرآباد (نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) حکومت نے نو جون کو ہونے والے مجوزہ بڑے اور ملک گیر احتجاج سے قبل ایک انتہائی بڑا اور تزویراتی فیصلہ کرتے ہوئے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کو انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت باقاعدہ طور پر کالعدم قرار دے دیا ہے، مظفرآباد سے موصول ہونے والی سرکاری تفصیلات کے مطابق یہ سخت ترین فیصلہ سیکیورٹی کے شدید خدشات اور خطے میں ممکنہ بدامنی و ہنگامہ آرائی کو روکنے کے پیشِ نظر کیا گیا ہے، جس کے فوری بعد پورے آزاد کشمیر میں سیکیورٹی کے انتظامات کو ہائی الرٹ کرتے ہوئے مزید سخت کر دیا گیا ہے، محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق جے اے اے سی کو “امن و امان کے لیے ایک بڑا خطرہ” قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ اس تنظیم کی حالیہ سرگرمیاں معاشرے میں شدید انتشار، جلاؤ گھیراؤ اور عدم تحفظ پیدا کرنے کا باعث بن رہی ہیں، حکومت نے پبلک سیفٹی اور امنِ عامہ کو برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر سخت ترین ہدایات جاری کی ہیں جن کے تحت سیاحوں کو اس پیک سیزن کے دوران بھی فوری طور پر آزاد کشمیر کا علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ نئے آنے والے تمام ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو سختی سے مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے دورے بیس جون تک لازمی طور پر مؤخر کر دیں، مزید برآں انتظامیہ کو تمام ہوٹلوں کو فوری طور پر خالی کرانے کے سخت احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں، سیکیورٹی خدشات کی اسی سنگین صورتحال کے باعث پورے خطے میں ہونے والے تعلیمی امتحانات کو بھی تا حکمِ ثانی ملتوی کر دیا گیا ہے جبکہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے حساس مقامات پر وفاقی اور مقامی اضافی سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے، اطلاعات کے مطابق آدھی رات کے وقت پورے آزاد کشمیر کے خطے میں موبائل ڈیٹا اور تیز رفتار انٹرنیٹ سروسز کو بھی مکمل طور پر معطل کر دیا گیا ہے جبکہ عام فون کال سروسز کو جزوی طور پر بحال رکھا گیا ہے تاکہ شرپسند عناصر سوشل میڈیا کا استعمال نہ کر سکیں، واضح رہے کہ جے اے اے سی کی جانب سے نو جون کو دی جانے والی اس مجوزہ احتجاجی تحریک کا اصل تنازع مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے معاملے کے گرد گھومتا ہے، جس میں یہ تنظیم آزاد کشمیر اسمبلی کی بارہ مخصوص نشستوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کا بنیادی مطالبہ کر رہی ہے، تنظیم کا مؤقف ہے کہ یہ نشستیں خالصتاً سیاسی فائدے اور وفاداریاں تبدیل کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں اور اس سے مقامی سیاست پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، تاہم آزاد کشمیر حکومت اور دیگر بڑے سیاسی حلقے اس مؤقف سے شدید اختلاف رکھتے ہیں، دوسری جانب اس حساس معاملے پر عدالتی پیش رفت کے تحت آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس پر تمام اہم اسٹیک ہولڈرز سے ان کی قانونی رائے طلب کر لی ہے جس کے بعد خطے کی سیاسی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے، حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ تمام سیکیورٹی ادارے صورتحال پر مسلسل کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال یا قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے لیے تمام محکمے الرٹ ہیں۔

چھوٹے تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس آسان اسکیم کا اعلان، معاشی ترقی اور دستاویزی معیشت کے فروغ کے لیے حکومت کا نیا انقلابی ٹیکس نظام متعارف، آئندہ ہفتے مصنوعی ذہانت پر مبنی سسٹم لانے کا فیصلہ

کاشف عباسی ,june 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

حکومتِ پاکستان نے ملک بھر کے چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کو باقاعدہ ٹیکس نظام میں شامل کرنے اور ٹیکس ادائیگی کے پیچیدہ عمل کو انتہائی سادہ بنانے کے لیے ایک نئی اور تاریخی “فکسڈ ٹیکس آسان اسکیم” متعارف کرانے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، اسلام آباد سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یہ خصوصی ریلیف اسکیم سالانہ بیس کروڑ روپے تک کا کاروباری حجم یعنی ٹرن اوور رکھنے والے تمام چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے لیے تیار کی گئی ہے، اس اہم ترین اسکیم کا باقاعدہ اعلان وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے رکن حامد عتیق سرور نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا، حکام نے اس موقع پر واضح کیا کہ یہ جدید ٹیکس نظام ملک بھر کی تمام بڑی تاجر تنظیموں اور چیمبرز کے نمائندوں سے تفصیلی مشاورت کے بعد تشکیل دیا گیا ہے تاکہ تاجر برادری کے تحفظات دور کرتے ہوئے ٹیکس ادائیگی کو آسان بنایا جا سکے اور زیادہ سے زیادہ غیر رجسٹرڈ تاجروں کو ٹیکس نیٹ کے دائرے میں شامل کیا جا سکے، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے جاری وسیع پیمانے پر ٹیکس اصلاحات کا بنیادی مقصد ملکی ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا، دستاویزی معیشت کو ہر سطح پر فروغ دینا اور پہلے سے ٹیکس دینے والے غریب و تنخواہ دار طبقے پر موجود اضافی ٹیکس بوجھ کو نمایاں طور پر کم کرنا ہے، ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت ایک مکمل طور پر منصفانہ، متوازن اور پائیدار ٹیکس نظام کی تشکیل کے لیے تمام ضروری اور ٹھوس اقدامات کر رہی ہے، انہوں نے ایک بڑی پیشرفت کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم کی براہِ راست نگرانی میں جاری اس ڈیجیٹل اصلاحاتی پروگرام کے تحت اب جدید ترین ٹیکنالوجی کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے تحت آئندہ ہفتے پارلیمنٹ میں مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) پر مبنی ایک بالکل نئے، خودکار اور شفاف ٹیکس نظام سے متعلق انتہائی اہم اعلان بھی متوقع ہے، محمد اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے معاشی استحکام حاصل کرنے کے بعد اب تیز رفتار معاشی ترقی کی شاہراہ پر آگے بڑھنا ناگزیر ہو چکا ہے، جس کے لیے قومی آمدنی میں اضافہ اور ٹیکس چوری کا خاتمہ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، عسکری و حکومتی حکام کے مطابق اس نئی فکسڈ ٹیکس آسان اسکیم کے نفاذ کے ذریعے چھوٹے تاجروں کے لیے ایف بی آر کے چکر کاٹنے اور فائلنگ کا عمل مزید آسان ہوگا، ملکی کاروباری سرگرمیوں کی دستاویز بندی میں واضح بہتری آئے گی اور مجموعی طور پر قومی معیشت کو مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔

دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، پنجگور میں بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن پر وزیراعظم شہباز شریف کا سکیورٹی فورسز کو زبردست خراجِ تحسین

کاشف عباسی ,june 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جون 2026ء

وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے ضلع پنجگور میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے کی جانے والی حالیہ کامیاب اور بڑی کارروائی پر فورسز کے جوانوں اور افسران کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے، وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ ایک باضابطہ اور اہم ترین بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے حب الوطنی اور جانفشانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پڑوسی ملک بھارت کی خفیہ سرپرستی اور حمایت میں کام کرنے والے خطرناک نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے چھ دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے، وزیراعظم نے اس اہم ترین انٹیلی جنس آپریشن میں حصہ لینے والے سکیورٹی اہلکاروں کی اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت، بے مثال جرات اور لازوال قومی خدمت کے جذبے کو دل کھول کر سراہا، ان کا کہنا تھا کہ ہماری بہادر سکیورٹی فورسز نے انتہائی چاق و چوبند انداز میں ایسے ملک دشمن اور وحشی دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر زمینی کارروائی کی ہے جو معصوم، بے گناہ اور نہتے پاکستانی شہریوں کی جان و مال کو شدید نقصان پہنچانے کی مذموم و تخریب کارانہ سرگرمیوں میں مخلصانہ طور پر ملوث تھے، وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کی بہادر اور نڈر سکیورٹی فورسز وطنِ عزیز کے چپے چپے کے دفاع، ملکی امن و استحکام اور عوام کے تحفظ کے لیے دن رات ہر وقت الرٹ اور تیار ہیں اور دہشت گردی کی اس طویل جنگ کے خلاف ان کی دی جانے والی عظیم قربانیاں پوری غیور قوم کے لیے باعثِ فخر اور مشعلِ راہ ہیں، انہوں نے اس آہنی عزم کا اعادہ کیا کہ حکومتِ پاکستان ریاست کی رٹ کو برقرار رکھتے ہوئے ملک سے دہشت گردی کی آخری علامت کے مکمل خاتمے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور پاک وطن کے امن و امان کو نقصان پہنچانے والے ان تمام شرپسند عناصر کے خلاف ریاستی کارروائیاں پوری فوجی و انتظامی قوت کے ساتھ آخری دم تک جاری رکھی جائیں گی، واضح رہے کہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسز نے پنجگور کے پسماندہ ضلع میں خفیہ اطلاع پر مبنی ایک گرینڈ آپریشن کے دوران چھ مبینہ دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا تھا، جبکہ عسکری کارروائی کے بعد ان کے خفیہ ٹھکانوں کی تلاشی کے دوران بھاری مقدار میں جدید خودکار اسلحہ، گولیوں کا ذخیرہ، گولہ بارود، دیسی ساختہ بم اور ایک گاڑی بھی قبضے میں لے کر دہشت گردی کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک ناکام بنا دیا گیا ہے۔

سیاسی نظام کی حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ ایک معاملے پر متفق نظر آتے ہیں کہ تحریک انصاف موجود نہیں ہونی چاہیے، سابق وفاق وزیر فواد چوہدری کا سنسنی خیز دعویٰ

کاشف عباسی ,june 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جون 2026ء

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے ملک کے موجودہ سیاسی منظرنامے کے حوالے سے ایک انتہائی سنسنی خیز اور تزویراتی دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ بظاہر ایک اہم معاملے پر مکمل متفق نظر آتے ہیں اور وہ نکتہ یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف موجود نہیں ہونی چاہیے، ایک نجی ٹی وی چینل کے معروف صحافتی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس پوزیشن کی تفصیل بتائی کہ ایک جانب اسٹیبلشمنٹ نے تحریک انصاف کے متعدد سینیئر رہنماؤں کو گرفتار کیا جبکہ دوسری جانب خود عمران خان نے پارٹی کے اندر ایسے متبادل اور غیر معروف افراد کو آگے لا کر اہم ذمہ داریاں سونپ دیں جن کے پاس کوئی سیاسی تجربہ، عوامی اثر و رسوخ یا مضبوط تنظیمی حیثیت سرے سے موجود ہی نہیں تھی، فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ان دونوں طرف کے فیصلوں اور حکمتِ عملی کے نتیجے میں پارٹی کی مجموعی تنظیمی طاقت شدید کمزور ہوئی اور تحریک انصاف کو ناقابلِ تلافی سیاسی نقصان پہنچا، انہوں نے موجودہ نازک صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ اب پارٹی اس پوزیشن میں بالکل نہیں رہی کہ وہ جیل میں بند عمران خان کی کوئی مؤثر سیاسی مدد یا ان کی رہائی کے لیے کوئی بڑا دبائو ڈال سکے، اس لیے اب عمران خان کو اپنے اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان موجود تمام تر سنگین اختلافات کو کسی تیسرے فریق کے بغیر خود براہِ راست حل کرنا ہوں گے، سابق وفاقی وزیر نے فوج اور ملکی سیاسی قیادت کے مابین تعلقات کے اصولوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تعلقات میں بہتری لانے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ کوئی بھی رہنما اپنے بنیادی سیاسی مؤقف، نظریے یا بیانیے سے دستبردار ہو جائے، تاہم پاکستان کے موجودہ سیاسی نظام کی زمینی حقیقت اور طاقت کے توازن کو کسی بھی طور نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا، انہوں نے بانی تحریک انصاف کو مخلصانہ مشورہ دیتے ہوئے زور دیا کہ عمران خان کو اب ملکی فوج کے ساتھ اپنے بگاڑے ہوئے تعلقات کو ہر حال میں بہتر بنانے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور ان تعلقات کی دوبارہ بحالی کا طریقہ کار اور فارمولا بھی خود عمران خان کو ہی طے کرنا ہوگا کیونکہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان دونوں کو ایک دوسرے کے لیے ملکی بقا کی خاطر سیاسی گنجائش پیدا کرنا ہوگی، انہوں نے خبردار کیا کہ یکطرفہ طرزِ عمل یا اکھڑ پن سے معاملات کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے، اس لیے ملک میں پائیدار سیاسی و معاشی استحکام کی واپسی کے لیے بامقصد مکالمہ، سیاسی برداشت اور باہمی رابطہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے کیونکہ تصادم اور اداروں کے ساتھ لڑائی کی سیاست کسی بھی فریق یا ملک کے مفاد میں نہیں۔

بلوچستان میں بڑی کارروائی، پنجگور میں سکیورٹی فورسز کا خفیہ اطلاع پر مبنی گرینڈ آپریشن، بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے 6 دہشت گرد ہلاک، بھاری مقدار میں اسلحہ و بارود برآمد

منصور احمد june 05,2026

پنجگور (نیوز اینڈ نیوز) — 05 جون 2026ء

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع پنجگور میں ایک انتہائی اہم اور بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے تین اور چار جون کی درمیانی شب خفیہ اطلاع پر مبنی ایک گرینڈ آپریشن کے دوران چھ مبینہ دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے، عسکری ذرائع کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق یہ ٹارگٹڈ کارروائی ایک ایسے مخصوص اور حساس مقام پر کی گئی جہاں مبینہ طور پر پڑوسی ملک بھارت کی براہِ راست سرپرستی میں کام کرنے والے انتہائی خطرناک دہشت گرد روپوش تھے اور ملک دشمن سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز کے چاق و چوبند دستوں نے جدید ہتھیاروں سے لیس دہشت گردوں کے متعدد خفیہ ٹھکانوں کو انتہائی مؤثر اور کمانڈو انداز میں نشانہ بنایا جس کے بعد دونوں اطراف سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور فورسز نے گھیراؤ سخت کرتے ہوئے چھ شرپسندوں کو موقع پر ہی ڈھیر کر دیا، کارروائی کی تفصیلات بتاتے ہوئے ترجمان نے مزید انکشاف کیا کہ ہلاک ہونے والے ان دہشت گردوں کے قبضے سے جدید خودکار اسلحہ، خطرناک گولہ بارود، دیسی ساختہ بم اور ایک گاڑی بھی برآمد کر لی گئی ہے جبکہ سکیورٹی حکام نے تصدیق کی ہے کہ مارے جانے والے تمام افراد پنجگور اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں معصوم شہریوں پر حملوں، تخریب کاری اور دہشت گردی کی متعدد سنگین کارروائیوں میں مخلصانہ طور پر مطلوب اور ملوث تھے، آئی ایس پی آر نے موجودہ صورتحال کے حوالے سے بتایا کہ ضلع پنجگور کے اس پورے علاقے میں اب بھی سکیورٹی فورسز کا وسیع پیمانے پر کلیئرنس اور سرچ آپریشن پوری قوت سے جاری ہے تاکہ وہاں موجود کسی بھی دوسرے ممکنہ دہشت گرد یا ان کے سہولت کار کی موجودگی کا جڑ سے خاتمہ کیا جا سکے، اس کامیاب ترین مشن کے بعد سکیورٹی فورسز نے اپنے آہنی عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک عزیز کی خودمختاری، امن و استحکام اور معیشت کو نقصان پہنچانے والے ان شرپسند عناصر کے خلاف بلا تفریق کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور پاک وطن سے دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے آخری گولی اور آخری خون کے قطرے تک تمام ضروری اور سخت ترین اقدامات کیے جائیں گے۔

حکومت ملی تو گلگت بلتستان میں سستی ترین بجلی بنا کر پورے پاکستان کو دیں گے، بلاول بھٹو زرداری کا غذر کے بڑے انتخابی جلسے میں اعلان

کاشف عباسی ,june 04,2026

غذر، گلگت بلتستان (نیوز اینڈ نیوز) — 4 جون 2026ء
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک بڑے عوامی اور انتخابی معرکے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات میں عوام نے پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے کا موقع دیا، تو یہاں پانی سے بھاری مقدار میں بجلی پیدا کر کے پورے پاکستان کو سب سے کم اور سستے نرخوں پر فراہم کی جائے گی۔ غذر میں ایک بہت بڑے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ ماضی کی تحقیقات کے مطابق گلگت بلتستان میں تقریباً پچاس ہزار میگاواٹ پن بجلی پیدا کرنے کی قدرتی صلاحیت موجود ہے، جسے عوامی و نجی شعبے کی مشترکہ شراکت داری (پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ) کے ذریعے کامیابی سے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔
گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں آئینی صوبہ بنانے کا تاریخی وعدہ
بلاول بھٹو زرداری نے جلسے کے شرکا سے وعدہ کیا کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ خود اسلام آباد جا کر وفاق سے یہ زوردار مطالبہ کریں گے کہ گلگت بلتستان کو باقاعدہ طور پر پاکستان کا پانچواں آئینی صوبہ تسلیم کیا جائے تاکہ یہاں کے غیور عوام کو مکمل آئینی حقوق، نمائندگی اور حقِ حکمرانی حاصل ہو سکے۔ انہوں نے خطے کے حوالے سے درج ذیل اہم نکات کا اعادہ کیا:
آئینی شناخت: گلگت بلتستان کے چپے چپے کو ملک کے دیگر صوبوں کی طرح مکمل آئینی شناخت دی جائے گی۔
حقِ ملکیت: مقامی آبادی کے حقِ ملکیت پر بغیر کسی دباؤ کے سو فیصد عملدرآمد کرایا جائے گا۔
زمینوں کے حقوق: یہاں کے مقامی عوام کو ان کی آبائی زمینوں کے قانونی اور مالکانہ حقوق دیے جائیں گے۔
حقوق کی جنگ: پیپلز پارٹی خطے کے مظلوم عوام کو ان کے حقوق دلانے کے لیے اپنی سیاسی جدوجہد آخری دم تک جاری رکھے گی۔
نوجوانوں کے لیے روزگار اور مفت ہاؤسنگ منصوبوں کا اعلان
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ خطے کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو باعزت روزگار فراہم کرنا ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور حکومت بننے کی صورت میں کسی سفارش کے بغیر، خالص میرٹ پر ہزاروں سرکاری ملازمتوں کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ انہوں نے صوبہ سندھ کے کامیاب ماڈل کی طرز پر یہاں بھی ‘جی بی پیپلز ہاؤسنگ انیشیٹو’ کے نام سے غریبوں کے لیے مفت گھروں کے منصوبے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس فلاحی اسکیم کا باقاعدہ آغاز غذر کی سرزمین سے کیا جائے گا۔
صحت اور تعلیم کے شعبے میں انقلابی اقدامات کا وعدہ
بلاول بھٹو زرداری نے سندھ میں صحت کے شعبے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح کراچی اور سندھ کے دیگر شہروں میں امراضِ قلب اور گردہ و جگر کے بڑے ہسپتالوں کے ذریعے عوام کو اربوں روپے کا مفت علاج فراہم کیا جا رہا ہے، بالکل اسی طرز کے جدید اور عالمی معیار کے طبی ادارے گلگت بلتستان میں بھی قائم کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ
خطے کے تمام چھوٹے بڑے ہسپتالوں کی حالتِ زار کو ہنگامی بنیادوں پر بہتر بنایا جائے گا۔
دیہی علاقوں کے لیے ماں اور بچے کی صحت کے خصوصی ہیلتھ پروگرام متعارف کرائے جائیں گے۔
تمام جدید طبی سہولیات اور مفت ادویات عام آدمی کی دہلیز تک پہنچائی جائیں گی۔
انفراسٹرکچر، سڑکوں اور تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی
خطے کی پسماندگی کا ذکر کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے سڑکوں اور انٹرنیٹ کے سنگین مسائل کو تسلیم کیا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ جدید ترین سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے جی بی کے دور دراز علاقوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ کے مواصلاتی رابطوں کو بحال کیا جائے گا، جبکہ علاقائی تجارتی راستوں کی تعمیر اور سیاحتی منصوبوں پر اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ انہوں نے جلسے کے آخر میں تمام کارکنوں اور عوام سے پرزور اپیل کی کہ وہ 7 جون کو ہونے والے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں تاکہ ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح کے ان تمام وعدوں کو عملی شکل دی جا سکے۔

جماعت اسلامی کا پٹرول، بجلی اور مہنگائی کے خلاف ملک گیر عوامی تحریک چلانے کا اعلان، حافظ نعیم الرحمن کی کارکنوں کو بڑی مہم کی تیاری کی ہدایت

منصور احمد june 04,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 4 جون 2026ء

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے پٹرولیم مصنوعات، بجلی کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافے اور کمر توڑ مہنگائی کے خلاف آنے والے دنوں میں ملک گیر سطح پر ایک بڑی عوامی تحریک چلانے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ مرکزِ منصورہ سے ملک بھر کے جماعتی ذمہ داران اور تنظیمی عہدیداروں کے ایک اہم ترین آن لائن اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیرِ جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی خالصتاً عوامی حمایت کے ذریعے ملکی نظام کی تبدیلی چاہتی ہے اور وہ کسی بھی قسم کی پسِ پردہ سازش یا غیر جمہوری طریقے سے اقتدار حاصل کرنے پر رتی بھر یقین نہیں رکھتی۔

لاکھوں نئے ارکان کی شمولیت: رکنیت سازی مہم تیز کرنے کی سخت ہدایت حافظ نعیم الرحمن نے ملک بھر کے کارکنان اور ذمہ داران کو خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ کے دس روز کو مکمل طور پر رکنیت سازی مہم کے لیے وقف کر دیا جائے اور مقررہ اہداف کے فوری حصول کے لیے تمام تر توانائیاں بروئے کار لائی جائیں۔ انہوں نے مہم کے اہداف کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا:

پچھلا مرحلہ: رکنیت سازی کے گزشتہ مرحلے میں ملک بھر سے تقریباً اٹھارہ سے بیس لاکھ افراد نے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی۔
موجودہ ہدف: اس موجودہ مرحلے میں بھی پندرہ سے بیس لاکھ نئے ارکان کو شامل کرنے کا بڑا ہدف آسانی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
بڑے شہروں پر فوکس: کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے تمام بڑے شہروں پر خصوصی توجہ مرکوز کر کے ہر علاقے اور گلی محلے کو اس مہم میں کور کیا جائے۔

مہنگائی اور عوامی مسائل پر دو ٹوک موقف امیرِ جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں اور پٹرول کی قیمتوں نے غریب عوام کو زندہ درگور اور شدید ترین مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، ایسی صورتحال میں جماعت اسلامی مظلوم عوام کی توانا آواز بنے گی۔ انہوں نے سوشل میڈیا اور پیغام رسانی کی ڈیجیٹل ایپلی کیشنز کے استعمال پر زور دیتے ہوئے کارکنوں کو ہدایت کی کہ

جدید مواصلاتی ذرائع کے گروپس کے ذریعے جماعت کا منشور اور اصلاحی پیغام گھر گھر پہنچایا جائے۔
عوامی مسائل کو انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مؤثر اور بھرپور انداز میں اجاگر کیا جائے۔
نچلی سطح تک تنظیمی رابطوں اور نیٹ ورک کو مزید مضبوط اور فعال بنایا جائے۔

بجٹ کے تناظر میں ملک گیر احتجاجی تحریک کا عندیہ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ آنے والے وفاقی بجٹ اور عوامی مشکلات کے تناظر میں جماعت اسلامی کسی بھی وقت ملک گیر احتجاج یا بڑی عوامی تحریک کی حتمی کال دے سکتی ہے، جس کے لیے ملک بھر کے کارکنان کو ذہنی اور تنظیمی طور پر ہر وقت مکمل تیار رہنا چاہیے۔

نوجوان نسل کو تباہی سے بچانے اور سماجی اصلاحات پر زور اپنے خطاب کے آخر میں انہوں نے نوجوانوں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے خطرناک رجحان کو ایک سنگین قومی بحران قرار دیا۔ انہوں نے اساتذہ، علمائے کرام، ڈاکٹروں، انجینئرز اور دیگر بااثر سماجی شخصیات کو ساتھ ملا کر ایک منظم اور ملک گیر آگاہی مہم چلانے کی ضرورت پر زور دیا۔ حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی صرف ایک روایتی سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک دینی و اصلاحی تحریک ہے جو معاشرتی بہتری، بلا تفریق عوامی خدمت اور اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔

آئندہ وفاق بجٹ میں موبائل اور انٹرنیٹ صارفین کے لیے بڑے ریلیف کی تجویز، وزارت آئی ٹی کی ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی سفارشات تیار

منصور احمد june 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 جون 2026ء:

وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) نے آئندہ مالی سال دو ہزار چھبیس ستائیس کے وفاقی بجٹ کے لیے وزارتِ خزانہ کو ٹیلی کام سیکٹر کی تیز رفتار ترقی اور موبائل صارفین کو بڑا ریلیف فراہم کرنے سے متعلق انتہائی اہم اور انقلابی تجاویز ارسال کر دی ہیں۔ وزارتِ آئی ٹی کے اعلیٰ حکام کے مطابق، ان بجٹ تجاویز میں موبائل اور انٹرنیٹ صارفین پر عائد بھاری ٹیکسوں میں مرحلہ وار کمی کی سفارش کی گئی ہے تاکہ ڈیجیٹل خدمات تک عام عوام کی رسائی کو مزید سستا اور آسان بنایا جا سکے۔

وزارتِ آئی ٹی کی جانب سے پیش کردہ اہم ترین تجاویز درج ذیل ہیں:

ایڈوانس ٹیکس میں کمی: موبائل صارفین پر عائد پندرہ فیصد ایڈوانس ٹیکس کو فوری طور پر کم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
عام سیلز ٹیکس میں ریلیف: ٹیلی کام سروسز پر لاگو ساڑھے انیس فیصد عام سیلز ٹیکس کو مرحلہ وار بنیادوں پر کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
یکساں ٹیکس نظام: ملک بھر کے تمام صوبوں اور علاقوں میں ٹیلی کام خدمات پر ایک جیسا اور یکساں ٹیکس نظام نافذ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
درآمدی ڈیوٹی میں چھوٹ: انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے استعمال ہونے والے براڈ بینڈ آلات اور ٹیلی کام کے دیگر سازوسامان پر عائد درآمدی ڈیوٹیز کو کم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
سرمایہ کاری کا فروغ: ملک میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی لاگت کو کم کرنے کے لیے اقدامات اور ٹیلی کام سیکٹر کے نئے منصوبوں میں نجی سرمایہ کاری کے فروغ کی سفارش کی گئی ہے۔
سرکاری خزانے پر بوجھ میں کمی: سرکاری خزانے پر انحصار کم کر کے پرائیویٹ سیکٹر (نجی شعبے) کو آگے بڑھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

    ڈیجیٹل پاکستان وژن کو فروغ دینے کا عزم وزارتِ آئی ٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ ان تمام تجاویز کا بنیادی مقصد ملک میں ڈیجیٹل رسائی، تیز رفتار انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔ حکام کے مطابق، اگر وفاقی بجٹ میں ٹیلی کام سیکٹر کو ٹیکسوں میں یہ متوقع ریلیف فراہم کر دیا جاتا ہے، تو موبائل اور انٹرنیٹ سروسز واضح طور پر سستی ہو جائیں گی، جس کا براہِ راست فائدہ عام صارفین، کاروباری اداروں اور ملک کی مجموعی ڈیجیٹل معیشت کو پہنچے گا۔

    حتمی فیصلہ وفاقی بجٹ کی پیشی پر ہوگا اگرچہ وزارتِ آئی ٹی کی جانب سے یہ تمام سفارشات وزارتِ خزانہ کو باقاعدہ طور پر بھجوا دی گئی ہیں، تاہم ان تجاویز کی حتمی منظوری اور باضابطہ اعلان وفاقی حکومت کی جانب سے نیا بجٹ پیش کیے جانے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

    راولپنڈی میں مبینہ پولیس گردی کا سنگین واقعہ، انصاف نہ ملنے پر متاثرہ خاتون کی کچہری چوک میں خودسوزی کی دھمکی

    منصور احمد june 04,2026

    راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 4 جون 2026ء

    راولپنڈی کے پوش علاقے ڈی ایچ اے فیز ٹو کی رہائشی خاتون حفصہ رانی نے مقامی پولیس پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دہائی دی ہے کہ بحریہ پولیس چوکی کے اہلکاروں نے ان کے شوہر کو مبینہ طور پر غیر قانونی حراست میں لے کر لاکھوں روپے نقدی اور قیمتی گاڑی چھین لی اور بعد ازاں ان کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔

    لاکھوں روپے کی مبینہ چھینا جھپٹی اور غیر قانونی حراست کی تفصیلات متاثرہ خاتون کے مطابق، 20 مئی 2026ء کو چوکی انچارج عبدالمقدم، امتیاز ناصر اور دیگر اہلکاروں نے ان کے شوہر اورنگزیب کو ڈی ایچ اے فیز ٹو سے حراست میں لیا۔ خاتون کا دعویٰ ہے کہ گرفتاری کے دوران پولیس اہلکاروں نے موقع پر ہی دو لاکھ روپے نقدی چھین لی، جبکہ بعد ازاں شوہر کو بحریہ فیز 7 منتقل کر کے دباؤ کے تحت ان کے بینک اکاؤنٹ سے مزید ڈھائی لاکھ روپے نکلوائے گئے۔ حفصہ رانی کا مزید کہنا ہے کہ ان کی قیمتی اسپورٹس گاڑی بھی پولیس اہلکار اپنی ذاتی تحویل میں لے گئے اور شوہر کو تین روز تک غیر قانونی حراست میں رکھنے کے بعد تھانہ صدر بیرونی میں منشیات کا مقدمہ درج کروا دیا۔ انہوں نے یہ لرزہ خیز الزام بھی لگایا کہ شوہر کی رہائی کے عوض پولیس کی جانب سے 15 لاکھ روپے رشوت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

    “انصاف نہ ملا تو خود کو آگ لگا دوں گی” — خاتون کی میڈیا سے گفتگو میڈیا کے نمائندوں سے روتے ہوئے گفتگو کرتے ہوئے حفصہ رانی نے کہا کہ وہ انصاف کی تلاش میں متعدد اعلیٰ پولیس حکام کے دفاتر کے چکر لگا لگا کر تھک چکی ہیں لیکن تاحال کسی نے ان کی فریاد نہیں سنی۔ ان کا کہنا تھا:

    “میرے دو معصوم اور چھوٹے بچے ہیں، میں عدالتوں اور پولیس دفاتر کے دھکے کھا کھا کر ہمت ہار چکی ہوں۔ اگر مجھے اگلے دو سے تین دن کے اندر انصاف فراہم نہ کیا گیا، تو میں راولپنڈی کے کچہری چوک میں سرِعام خود پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا لوں گی، جس کی ذمہ دار انتظامیہ ہو گی۔”

    وزیراعلیٰ مریم نواز اور آئی جی پنجاب سے فوری مداخلت کا مطالبہ متاثرہ خاتون نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، صوبائی وزیر داخلہ، آئی جی پنجاب، آر پی او راولپنڈی اور سی پی او راولپنڈی سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین معاملے کی کسی ایماندار افسر سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، ان کے شوہر کو انصاف فراہم کر کے مبینہ طور پر لوٹی گئی رقم اور گاڑی واپس دلائی جائے۔

    (نوٹ: مذکورہ بالا الزامات خاتون حفصہ رانی کی جانب سے پریس کانفرنس اور میڈیا گفتگو میں عائد کیے گئے ہیں۔ متعلقہ پولیس حکام کی جانب سے تاحال ان الزامات کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے)۔

    شہریوں کے لیے بڑی خوشخبری، سفری دستاویزات کے دفاتر کے چکر ختم، گھر پر ترسیل کی سروس کا باقاعدہ اعلان

    کاشف عباسی ,june 03,2026

    اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

    حکومتِ پاکستان نے عام شہریوں کی سہولت کے لیے ایک انقلابی اور بڑا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ تارکینِ وطن و سفری دستاویزات (امیگریشن اینڈ پاسپورٹ) کے ناظمِ اعلیٰ (ڈائریکٹر جنرل) محمد علی رندھاوا نے سرکاری خدمات میں ایک بہت بڑی اور تاریخی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یکم جولائی سے شہریوں کو اپنی تیار شدہ سفری دستاویز (پاسپورٹ) حاصل کرنے کے لیے سرکاری دفاتر کے دھکے کھانے کی بالکل ضرورت نہیں ہو گی۔

    شہریوں کے مسائل پر ناظمِ اعلیٰ کا ہنگامی دورہ اور اصلاحات تفصیلات کے مطابق، ناظمِ اعلیٰ نے وفاقی دارالحکومت میں سفری دستاویزات کے مختلف انتظامی شعبوں (سیکشنز) کا اچانک اور تفصیلی دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے وہاں موجود عام شہریوں سے ملاقاتیں کیں اور سفری دستاویز کے حصول میں پیش آنے والے ان کے سنگین مسائل اور شکایات کو خود سنا۔ شہریوں کی مشکلات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے انہوں نے نظام میں ہنگامی اصلاحات نافذ کرنے کا حتمی فیصلہ کیا۔

    یکم جولائی سے گھر پر ترسیل کی سہولت کا باقاعدہ آغاز سرکاری اعلان کے مطابق، اب شہریوں کی تیار شدہ سفری دستاویزات براہِ راست ان کے فراہم کردہ پتے پر یعنی سیدھی ان کے گھر پہنچائی جائیں گی۔ گھر پر ترسیل کی یہ جدید ترین سروس (ہوم ڈیلیوری) ملک بھر میں یکم جولائی سے باقاعدہ اور قانونی طور پر شروع کر دی جائے گی، جس کے بعد شہریوں کو لائنوں میں لگنے سے نجات مل جائے گی۔

    دفاتر میں رش کا خاتمہ اور نجی ڈاک رساں اداروں کو سخت احکامات محکمے کے ناظمِ اعلیٰ نے میڈیا کو بتایا کہ اس بڑے اقدام کا اصل مقصد سرکاری دفاتر میں ہونے والے غیر ضروری رش، سارا سارا دن لگی رہنے والی لمبی لائنوں اور معصوم شہریوں کی روزمرہ مشکلات کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرنا ہے۔ انہوں نے اس منصوبے کے لیے معاہدہ کرنے والے متعلقہ نجی ڈاک رساں اداروں (کورئیر کمپنیوں) کو سخت ترین ہدایات جاری کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ وہ شہریوں کی ان انتہائی حساس اور اہم سفری دستاویزات کی بروقت، امانت دارانہ اور محفوظ ترسیل کو ہر قیمت پر یقینی بنائیں۔

    سروسز میں شفافیت اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اعلیٰ سرکاری حکام کے مطابق، اس نئے اور عوامی فلاحی اقدام سے سفری دستاویزات کی فراہمی کا پورا سرکاری نظام پہلے سے کہیں زیادہ تیز رفتار، مکمل طور پر شفاف اور جدید خطوط پر استوار ہو جائے گا، جس سے نہ صرف بدعنوانی کا خاتمہ ہو گا بلکہ دور دراز علاقوں سے آنے والے غریب عوام کو بھی سفری اخراجات اور وقت کی بچت کی شکل میں بڑی سہولت میسر آئے گی۔

    دو سو کلوگرام چرس برآمدگی کا مقدمہ، عدالتِ عظمیٰ نے ملزم رضا خان کو بری کرنے کا حکم دے دیا

    منصور احمد june 03,2026

    اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء: پاکستان کی سب سے بڑی عدالت، عدالتِ عظمیٰ (سپریم کورٹ) نے دو سو (200) کلوگرام چرس برآمدگی کے سنگین مقدمے میں نامزد ملزم رضا خان کی بریت کی باقاعدہ اپیل منظور کرتے ہوئے اسے جیل سے فوری بری کرنے کا تاریخی حکم جاری کر دیا ہے۔

    تین رکنی عدالتی پینل کے سامنے اہم سماعت عدالتِ عظمیٰ کے مایہ ناز جج، جناب جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں قائم تین رکنی اعلیٰ عدالتی پینل (بینچ) نے اس اہم مقدمے کی تفصیلی سماعت کی۔ دورانِ سماعت ملزم کے صفائی کے قانون دان (وکیلِ صفائی) نے عدالت کے سامنے مضبوط مؤقف اختیار کیا کہ ان کے بے گناہ مؤکل کو ایک ایسے جھوٹے مقدمے میں سزا سنائی گئی ہے جس کا اصل تعلق مبینہ طور پر کسی دوسرے مفرور ملزم سے تھا۔

    شواہد کا سائنسی تجزیہ اور ساڑھے چار ماہ کی تاخیر صفائی کے قانون دان نے عدالت کو اہم قانونی نقطے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ مبینہ منشیات کی برآمدگی کے پورے چار ماہ اور اٹھارہ (18) دن گزر جانے کے بعد اس کا سائنسی و طبی تجزیہ (فرانزک لیب ٹیسٹ) کروایا گیا، اتنے طویل ترین وقفے سے سرکاری شواہد کی شفافیت اور سچائی انتہائی مشکوک ہو جاتی ہے۔ انہوں نے مزید دلیل دی کہ ملزم پر پولیس نے یہ من گھڑت الزام بھی عائد کیا تھا کہ وہ منشیات سے بھرا ٹرک چلا رہا تھا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی شدید جسمانی معذوری کے باعث کوئی بھی بھاری گاڑی یا ٹرک چلانے کے قابل ہی نہیں۔

    عدالتِ عظمیٰ کے جج کے اہم ریمارکس اور شواہد پر سوالات سماعت کے دوران معزز جج جناب جسٹس ہاشم کاکڑ نے پولیس کارروائی پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ برآمدگی اور سائنسی معائنے کے درمیان اس طویل وقفے پر بہت بڑا سوالیہ نشان اٹھتا ہے۔ اعلیٰ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ منشیات کے اس نوعیت کے سنگین مقدمات میں شواہد کو سنبھالنے اور ان کی جانچ پڑتال کرنے میں قانون کے مطابق سخت ترین احتیاط برتنا بے حد ضروری ہے۔

    ماتحت عدالتوں اور بلوچستان عدالتِ عالیہ کا فیصلہ مسترد صفائی کے قانون دان نے معزز ججوں کو ماضی کے فیصلوں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل خضدار کے اضافی ضلعی جج (ایڈیشنل سیشن جج) نے ملزم کو دس (10) سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی تھی، جس کے بعد صوبائی عدالتِ عالیہ (بلوچستان ہائی کورٹ) نے بھی ماتحت عدالت کی اس سزا کو برقرار رکھا تھا۔ تاہم، اب ملک کی سب سے بڑی عدالت نے ان تمام فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

    بعد ازاں، عدالتِ عظمیٰ نے دونوں جانب سے دلائل مکمل ہونے کے بعد ملزم رضا خان کی جانب سے دائر اپیل کو باقاعدہ منظور کر لیا اور پولیس و جیل انتظامیہ کو حکم دیا کہ اگر ملزم کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہیں ہے تو اسے فی الفور رہا کیا جائے۔

    عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ تعاون قابلِ ستائش، افرادی قوت کو جدید معاشی تقاضوں کے مطابق تیار کرنا ضروری ہے: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

    کاشف عباسی ,june 03,2026

    اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

    وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات اور رکنِ ایوانِ بالا (سینیٹر) محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے (ورلڈ بینک) کی جانب سے پاکستان کے ساتھ طویل اور پائیدار معاشی تعاون انتہائی قابلِ ستائش ہے، تاہم اب پاکستان کی افرادی قوت کو دنیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی معیشت کے جدید تقاضوں کے مطابق تیار کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت اور ناگزیر ہے۔

    عالمی مالیاتی ادارے کے اعلیٰ سطحی وفد کی اسلام آباد آمد وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے یہ اہم باتیں عالمی مالیاتی ادارے کے ایک اعلیٰ سطحی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہیں، جس نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ان سے خصوصی ملاقات کی۔ اس معزز وفد کی قیادت عالمی ادارے میں انسانی ترقی کے شعبے کی نائب صدر کر رہی تھیں، جبکہ ان کے ہمراہ ادارے کے دیگر سینیئر حکام بھی اس اہم بیٹھک میں شامل تھے۔

    نوجوان آبادی پاکستان کے لیے قیمتی اثاثہ ہے وزیر خزانہ نے گفتگو کے دوران واضح کیا کہ پاکستان کی بہت بڑی اور نوجوان آبادی ملک کی معاشی ترقی کے لیے ایک بہترین اور سنہری موقع ہے۔ اس انسانی سرمائے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ملک میں انسانی ترقی کے اشاریوں کو بہتر بنانا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید ترین مہارتوں سے آراستہ کرنا اور انہیں ملکی و بین الاقوامی مزدوروں کی منڈی (لیبر مارکیٹ) کی ضروریات کے مطابق فنی تربیت دینا موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات کا حصہ ہے۔

    صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ پر ٹارگٹڈ سرمایہ کاری محمد اورنگزیب نے وفد کو بتایا کہ حکومت ملک بھر میں عام شہریوں کی صحت، تعلیم، سماجی تحفظ اور روزگار کے نئے مواقع بہتر بنانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر براہِ راست اور ہدف کے مطابق سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر کڑا زور دیا کہ ملک میں مستقل اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے اقتصادی اصلاحات کے ساتھ ساتھ کارخانوں اور زرعی شعبے کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا بھی بہت ضروری ہے۔

    زچہ و بچہ کی صحت اور ابتدائی تعلیم پر تفصیلی غور اس اہم ملاقات کے دوران پاکستان میں انسانی ترقی کے بنیادی لائحہ عمل (ایجنڈے) پر تفصیلی اور باریک بینی سے گفتگو ہوئی، جس میں ماں اور بچے کی صحت، غذائیت کی کمی کو دور کرنے، ابتدائی بنیادی تعلیم کی فراہمی اور آبادی میں اضافے جیسے سنگین مسائل پر قابو پانے کے امور شامل تھے۔

    عالمی تجربات سے فائدہ اٹھانے اور نجی شعبے کی شمولیت پر اتفاق عالمی مالیاتی ادارے کے وفد نے بھی پاکستان میں نوجوانوں کی مہارتوں کی ترقی، جدید ایجادات و معلومات کے استعمال اور معاشی عمل میں نجی شعبے کی شمولیت کو ملکی بقا کے لیے اہم قرار دیا۔ وفد کے ارکان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں عوامی خدمات کی بہتری کے لیے دنیا کے دیگر کامیاب ممالک کے بین الاقوامی تجربات سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

    ملاقات کے اختتام پر پاکستان کے انسانی سرمائے کو مزید مضبوط و توانا بنانے، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے اور ملکی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے اور حکومتِ پاکستان کے درمیان مشترکہ معاشی تعاون کو مستقبل میں بھی جاری رکھنے پر مکمل اتفاق کیا گیا۔

    کاروباری برادری کا ساتھ دینے پر حکومت کا شکریہ، ملکی ترقی نجی شعبے کے تعاون سے ہی ممکن ہے: وزیراعظم شہباز شریف

    کاشف عباسی ,june 03,2026

    اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مشکل ترین معاشی حالات میں حکومتی پالیسیوں کا بھرپور ساتھ دینے پر ملک کی تاجر اور کاروباری برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط شراکت داری ہی پاکستان کی اصل معاشی ترقی کی ضامن ہے۔

    آئندہ مالی سال کے سالانہ گوشوارے پر صنعتکاروں سے مشاورت تفصیلات کے مطابق، وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملک کی معروف صنعتکار اور کاروباری شخصیات پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خصوصی ملاقات کی۔ یہ ملاقات حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کے سالانہ مالیاتی گوشوارے (بجلی اور آمدنی کے تخمینے) کے حوالے سے جاری ملک گیر مشاورت کا حصہ تھی۔ اس اہم بیٹھک میں ملک کی مجموعی معاشی صورتحال، نئی سرمایہ کاری کے فروغ اور صنعتی ترقی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    کاروباری برادری ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے وزیراعظم نے معزز وفد کا وزیراعظم ہاؤس میں خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری برادری پاکستان کی معیشت کی مضبوطی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور یہ تاجر برادری ملک کے اصل سفیر ہیں جو پوری دنیا میں پاکستان کی تجارتی پہچان بناتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت ملکی برآمدات میں اضافے پر مبنی معاشی ترقی کی پالیسی پر گامزن ہے اور اسی لیے پالیسی سازی کے ہر عمل میں نجی شعبے کی مشاورت کو بنیادی اور کلیدی اہمیت دی جا رہی ہے۔

    غیر دستاویزی معیشت کو سرکاری دائرے میں لانے کا عزم وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کی غیر دستاویزی (غیر رسمی) معیشت کو سرکاری محصولاتی دائرے (ٹیکس نیٹ) میں لانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ کاروبار دوست پالیسیوں کے باعث اب ملکی معیشت میں واضح استحکام آ رہا ہے اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کا اصل مقصد ایسی صنعتوں کا فروغ ہے جن سے ملکی پیداوار میں اضافہ ہو، برآمدات بڑھیں اور ملک سے بے روزگاری کا خاتمہ ہو سکے۔

    صنعت، زراعت اور جدید معلوماتی ٹیکنالوجی پر خصوصی توجہ وزیراعظم نے مزید کہا کہ ملک میں صنعت، زراعت اور جدید معلوماتی ٹیکنالوجی (انفارمیشن ٹیکنالوجی) کے شعبوں کی ترقی کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے جبکہ ملک کے نوجوانوں کے لیے مختلف تکنیکی اور فنی تربیت کے پروگرام بھی جاری ہیں تاکہ انہیں روزگار کے بہتر اور جدید مواقع میسر آ سکیں۔

    خصوصی تجارتی عدالتوں کا قیام اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری اس اہم ملاقات کے دوران وفد کو حکومت کی جانب سے کیے جانے والے معاشی اقدامات پر تفصیلی آگاہی دی گئی جس میں بتایا گیا کہ سرکاری محصولات کے دیرینہ مقدمات کے جلد فیصلوں کے لیے قانونی اصلاحات کی گئی ہیں اور ملک میں خصوصی تجارتی (کمرشل) عدالتوں کے قیام پر کام تیزی سے جاری ہے۔ اس کے علاوہ، کراچی کی بندرگاہوں سے ملک کے اندرونی حصوں تک رسائی کو آسان اور تیز بنانے کے منصوبے بھی آخری مراحل میں ہیں۔

    تجارتی سامان کی ترسیل اور مصنوعی ذہانت کا قومی منصوبہ سرکاری حکام کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق، ریلوے اور شاہراہوں (موٹرویز) کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری سے تجارتی سامان کی اندرون و بیرون ملک ترسیل میں نمایاں بہتری آئے گی، جبکہ حکومت ملک میں ‘مصنوعی ذہانت’ (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) پر مبنی ایک قومی منصوبہ بھی تشکیل دے رہی ہے تاکہ مختلف پیداواری شعبوں میں جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھا کر لاگت کو کم کیا جا سکے Industrial cost۔

    حکومتی معاشی پالیسیوں پر تاجر برادری کا بھرپور اعتماد ملاقات میں موجود کاروباری وفد نے موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت اب بالکل درست سمت میں گامزن ہے۔ کاروباری رہنماؤں نے صنعتوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی، محصولاتی اصلاحات، برآمدی ترقیاتی اقدامات اور جمع شدہ سرکاری واجبات (ٹیکس ریفنڈز) کی بروقت ادائیگیوں کے حکومتی اقدامات کو دل کھول کر سراہا۔

    کاروباری برادری نے حکومت کے ساتھ ہر سطح پر مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں صنعتی ترقی، برآمدات میں ریکارڈ اضافے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے وزیراعظم کے اقدامات قابلِ تحسین ہیں۔ اس اہم ترین ملاقات میں وفاقی وزراء اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے بھی شرکت کی۔

    بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابیاں، مختلف اضلاع میں 17 دہشت گرد ہلاک

    منصور احمد june 02,2026

    راولپنڈی / کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جون 2026ء

    پاک فوج اور سکیورٹی فورسز نے صوبہ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر ہنگامی اور کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے سترہ (17) اہم دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق، یہ تمام کارروائیاں صوبے کے حساس اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے مختلف خفیہ ٹھکانوں پر کی گئیں۔

    خفیہ اطلاعات پر مربوط آپریشنز اور شدید فائرنگ کا تبادلہ فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ عسکری بیان کے مطابق، بلوچستان کے مختلف مقامات پر بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گردوں کی موجودگی کی انتہائی معتبر اور خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ ان معلومات پر سکیورٹی فورسز نے انتہائی مربوط اور منظم آپریشنز کا آغاز کیا۔ کارروائیوں کے دوران گھیرے میں آئے دہشت گردوں اور فورسز کے درمیان آمنے سامنے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں سترہ (17) شرپسند دہشت گرد مارے گئے۔

    شہریوں پر حملوں میں ملوث ہونا اور بھاری اسلحے کی برآمدگی سرکاری عسکری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے یہ تمام دہشت گرد طویل عرصے سے سکیورٹی فورسز پر حملوں، تخریب کاری اور معصوم شہریوں کے خلاف مختلف گھناؤنی دہشت گردانہ کارروائیوں میں براہِ راست ملوث اور مطلوب تھے۔ کامیاب کارروائی کے بعد فورسز نے دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں پر قبضے کے بعد وہاں سے بھاری مقدار میں جدید ترین خودکار اسلحہ، گولہ بارود اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (بارودی مواد) برآمد کر کے قبضے میں لے لیے ہیں۔

    متاثرہ علاقوں میں کلیئرنس آپریشن اور عزمِ استحکام عسکری حکام کے مطابق، دہشت گردوں کی ہلاکت کے بعد ان تمام متاثرہ علاقوں میں فوج کا خصوصی سرچ اور کلیئرنس آپریشن بدستور جاری ہے تاکہ وہاں موجود کسی بھی دوسرے ممکنہ خطرے یا مفرور ساتھی کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے اور پورے خطے کو دہشت گرد عناصر سے پاک کر کے پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔

    بیان میں مزید عزم ظاہر کیا گیا کہ قومی پالیسی ‘عزمِ استحکام’ کے تحت ملک بھر سے دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے کے لیے یہ ٹارگٹڈ کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی اور پاکستان میں بیرونی ممالک کی سرپرستی اور فنڈنگ سے ہونے والی ہر قسم کی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔

    سکیورٹی فورسز نے اپنے مشترکہ بیان کے اختتام پر اس فولادی عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک کے امن، سلامتی، ملکی استحکام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ پوری قومی قوت، یکسوئی اور عسکری طاقت کے ساتھ آخری حد تک جاری رکھی جائے گی۔

    عمران خان سے ملاقات کروائیں، پھر بجٹ پاس کروائیں؛ علیمہ خان کا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو بڑا مشورہ

    کاشف عباسی ,june 02,2026

    راولپنڈی / پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 02 جون 2026ء

    پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے صوبائی بجٹ کی منظوری کے معاملے پر خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو ایک اہم اور دوٹوک مشورہ دے دیا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اگر حکومت بجٹ کی پرامن اور باقاعدہ منظوری چاہتی ہے، تو اس کے لیے سب سے پہلے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے مقتدر حلقوں اور پارٹی قیادت کی ملاقات کی اجازت دی جائے۔

    ملاقاتوں پر پابندی اور پارٹی ورکرز کے تحفظات راولپنڈی میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان گزشتہ کئی ماہ سے جیل میں سخت ترین قید کا سامنا کر رہے ہیں اور اس دوران ان سے ملاقاتوں پر عائد کی جانے والی غیر قانونی پابندیوں کے حوالے سے عوام اور پارٹی کے اندر متعدد سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے تمام مرکزی رہنماؤں اور لاکھوں مخلص کارکنوں کی یہ شدید ترین خواہش ہے کہ عمران خان سے ملاقاتوں کا سلسلہ فوری طور پر بحال کیا جائے۔

    حکومتی افواہیں اور خفیہ ڈیل کے دعووں کی حقیقت انہوں نے ایک بار پھر میڈیا کے سامنے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے مختلف سیاسی افواہیں پھیلائی جاتی ہیں، تاہم حقیقت میں پسِ پردہ کسی بھی قسم کی کوئی سیاسی ڈیل، این آر او یا مفاہمت نہیں ہو رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی حکمرانوں کو عوامی ردعمل اور اپنے خلاف سیاسی دباؤ میں شدید اضافہ محسوس ہوتا ہے تو وہ اس طرح کی قیاس آرائیاں سامنے لے آتے ہیں۔

    عمران خان کی صحت پر شدید خدشات اور طبی معائنے کا مطالبہ علیمہ خان نے سابق وزیراعظم کی جیل میں صحت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی صحت اور ان کے باقاعدہ طبی معائنے کے حوالے سے فیملی اور وکلا کو شدید اور سنجیدہ خدشات لاحق ہیں۔ انہوں نے جیل انتظامیہ اور عدالتوں سے پرزور مطالبہ کیا کہ انہیں ملک کے مستند اور ماہر ڈاکٹروں کے ذریعے فوری طور پر مکمل طبی معائنہ کروانے کی قانونی سہولت فراہم کی جائے تاکہ ان کی صحت کے بارے میں پائے جانے والے تمام شکوک و شبہات دور ہو سکیں۔

    تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کو میدان میں آنے کی پکار انہوں نے پارٹی کی اعلیٰ سطح کی قیادت سے مخلصانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تمام منتخب نمائندے، سینیٹرز، اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی اور تمام سینئر رہنما اس کڑے وقت میں مثالی یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور اپنے کارکنوں کے ساتھ ہراول دستہ بن کر کھڑے ہوں۔ علیمہ خان کے مطابق، اگر پارٹی کی مرکزی سیاسی قیادت خود جیلوں اور سڑکوں پر میدان میں آئے گی، تو اس سے نچلی سطح پر موجود ورکرز کا اعتماد اور حوصلہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو جائے گا۔

    جمہوری عمل کا احترام اور سیاسی استحکام کی ضرورت علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عوام کے ڈالے گئے قیمتی ووٹ اور مجموعی جمہوری عمل کا غیر مشروط احترام ملکی بقا کے لیے انتہائی ضروری ہے، اور ملک کے تمام موجودہ سیاسی معاملات کا واحد حل صرف آئین، قانون اور مروجہ جمہوری اصولوں کے مطابق ہی نکالا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر سخت زور دیا کہ پاکستان میں حقیقی سیاسی استحکام اور جمہوری عمل کی مضبوطی کے لیے اب تمام فریقین کو اپنا اپنا ذمہ دارانہ اور آئینی کردار ادا کرنا ہو گا۔

    انہوں نے اپنی گفتگو کے آخر میں ایک بار پھر مقتدر حلقوں سے مطالبہ کیا کہ عمران خان سے ملاقاتوں پر عائد غیر قانونی پابندیوں اور ان کے بنیادی قانونی و طبی حقوق کی پامالی کا فوری طور پر جائزہ لیا جائے، اور جیل میں بند سابق وزیراعظم سے متعلق تمام زیرِ التوا معاملات کو ملکی قانون کے مطابق فی الفور حل کیا جائے۔