اٹلی میں چار پاکستانی مزدوروں کو گاڑی میں زندہ جلا کر قتل کرنے کا ہولناک انکشاف، دو پاکستانی ملزمان گرفتار

محمود احمد june 02,2026

روم (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جون 2026ء

یورپی ملک اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک دل دہلا دینے والا اور انتہائی سفاکانہ واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں چار پاکستانی کھیت مزدوروں کو مبینہ طور پر ایک منی وین کے اندر بند کر کے زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا ہے۔ اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ واقعے میں ملوث ہونے کے قوی شبے میں دو پاکستانی شہریوں کو ہی گرفتار کر کے باقاعدہ تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔

پٹرول پمپ پر جلتی ہوئی وین سے لاشوں کی برآمدگی اطالوی میڈیا کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس کے مطابق، یہ افسوسناک اور انسانیت سوز واقعہ کلابریا کے علاقے امینڈولارا کے قریب ایک پٹرول پمپ پر پیش آیا، جہاں ایک جلتی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی شہریوں کی بری طرح جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں۔ ابتدائی کرائم سین تحقیقات کے مطابق، چاروں مقتولین گاڑی کے اندر ہی موجود تھے جب نامعلوم سفاک ملزمان نے مبینہ طور پر گاڑی کے تمام دروازے باہر سے مضبوطی سے بند کر دیے۔

نگرانی کیمروں کی ریکارڈنگ اور لرزہ خیز مناظر تحقیقاتی اداروں کو پٹرول پمپ پر لگے حفاظتی نگرانی کیمروں (سی سی ٹی وی) کی جو ریکارڈنگ موصول ہوئی ہے، اس کے مطابق دو افراد نے گاڑی کے قریب آ کر مبینہ طور پر کوئی انتہائی تیز رفتار آتش گیر مادہ (پٹرول یا کیمیکل) پھینکا، جس کے نتیجے میں وین میں اچانک ہولناک آگ بھڑک اٹھی۔ گاڑی پر آگ پھینکنے کے فوری بعد ملزمان بڑی آسانی سے موقع سے فرار ہو گئے، جبکہ گاڑی کے دروازے باہر سے بند ہونے کے باعث اندر موجود بے بس افراد اپنی جانیں بچانے میں ناکام رہے۔

فائر بریگیڈ کی آمد اور پولیس کی جانب سے قتل کی تصدیق اطلاعات کے مطابق، پٹرول پمپ انتظامیہ کی اطلاع پر فائر بریگیڈ کے اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر گاڑی میں لگی آگ پر قابو پایا، تاہم اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی اور گاڑی کے اندر موجود چاروں بدقسمت پاکستانی شہری جاں بحق ہو چکے تھے۔ مقامی پولیس کے اعلیٰ حکام نے اس واقعے کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ‘سنگین قتل’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کے مختلف پہلوؤں پر باریک بینی سے تحقیقات جاری ہیں اور گرفتار ملزمان سے مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

تارکینِ وطن کے گروہوں میں دیرینہ کشیدگی اور تنازعات مقامی ذرائع اور رپورٹس کے مطابق، اٹلی کا یہ مخصوص علاقہ گزشتہ کچھ عرصے سے غیر قانونی و قانونی تارکینِ وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا۔ مقامی باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ زرعی شعبے (کھیتوں) میں مزدوری کرنے، رہائش کے مسائل اور قانونی دستاویزات (ویزہ و پیپرز) سے متعلق دیرینہ تنازعات کے باعث وہاں مقیم مختلف گروہوں کے درمیان شدید اختلافات اور دشمنی موجود تھی۔

سخت سزا کا یقین اور پاکستانی برادری میں صدمے کی لہر اطالوی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس اندوہناک واقعے کے تمام اصل محرکات، پسِ پردہ کارفرما عناصر، ممکنہ دیگر مفرور ساتھی ملزمان اور واقعے کے پس منظر کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے۔ اطالوی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے یقین دلایا ہے کہ اس گھناؤنے جرم کے ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے گی۔

دوسری جانب، یورپ کے ملک اٹلی میں پیش آنے والے اس لرزہ خیز واقعے نے وہاں مقیم پوری پاکستانی برادری کو شدید صدمے اور خوف میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے حلقوں نے بھی اطالوی حکومت سے اس واقعے کی مکمل، شفاف اور فوری تحقیقات کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان سخت ٹیلیفونک گفتگو، ایران اور لبنان کے معاملات پر شدید اختلافات نمایاں

کاشف عباسی ,june 02,2026

واشنگٹن / تل ابیب (نیوز اینڈ نیوز) — 02 جون 2026ء

امریکہ اور اسرائیل کے روایتی گہرے گٹھ جوڑ میں دراڑیں نمایاں ہونے لگی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی ایک حالیہ ٹیلیفونک گفتگو میں شدید تلخی اور تکرار سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ پسِ پردہ جاری سفارتی کوششوں اور لبنان کی موجودہ نازک صورتحال کے حوالے سے اسرائیلی حکومت کی جارحانہ پالیسیوں پر اپنے سخت ترین تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ایرانی مذاکرات اور اسرائیل کے غیر متناسب فوجی اقدامات رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے دوٹوک گفتگو کے دوران کہا کہ حالیہ اسرائیلی اقدامات سے خطے میں عسکری کشیدگی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث ایران کے ساتھ جاری نازک مذاکراتی عمل کے مکمل طور پر متاثر ہونے اور ختم ہونے کا شدید خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اسرائیل کی جانب سے لبنان میں کی جانے والی عسکری کارروائیوں پر بھی کڑی تنقید کی اور بین الاقوامی قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں ‘غیر متناسب’ قرار دیا۔

ٹرمپ کی نیتن یاہو کو سخت وارننگ اور الفاظ کی تلخی عالمی میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ امریکی صدر نے اسرائیلی وزیرِاعظم کو واضح طور پر خبردار کیا کہ ان کی موجودہ ہٹ دھرمی پر مبنی پالیسیوں کے باعث عالمی سطح پر اسرائیل کو شدید تنقید، سفارتی تنہائی اور بدنامی کا سامنا ہے۔ بعض باخبر ذرائع کے مطابق، گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کے خلاف انتہائی سخت اور تند و تیز الفاظ بھی استعمال کیے، تاہم ان دعوؤں کی دونوں ممالک کے آزاد یا سرکاری ذرائع سے اب تک مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

حالیہ برسوں کی سب سے کشیدہ اور تلخ ترین بات چیت رپورٹ کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ اور وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام نے اس ٹیلیفونک گفتگو کو دونوں رہنماؤں کے درمیان حالیہ کئی برسوں کی سب سے سخت، تلخ اور کشیدہ ترین بات چیت قرار دیا ہے۔ سیاسی و دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران, لبنان اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی جنگی صورتحال پر اب واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان تزویراتی اختلافات کھل کر دنیا کے سامنے نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔

ایران کی تشویش اور سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ دوسری جانب، ایران نے لبنان میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ اگر یہ یکطرفہ کارروائیاں فوری طور پر نہ روکی گئیں، تو خطے میں بحالیِ امن کے لیے جاری تمام پسِ پردہ سفارتی کوششوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن اور مستقل استحکام کے لیے سب سے پہلے جنگی کشیدگی میں فوری کمی لانا ناگزیر ہے۔

سیاسی و بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ مثلثی کشیدگی مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال کو مزید پیچیدہ اور دھماکہ خیز بنا سکتی ہے، جبکہ دوسری طرف خطے میں جنگ بندی اور سفارتی حل تلاش کرنے کی عالمی کوششوں کو بھی شدید ترین نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

نظامِ شمسی سے باہر موجود سیاروں پر مقناطیسی میدان کے مضبوط شواہد دریافت، فلکیات کی دنیا میں بڑی پیش رفت

روزینہ اسماعیل.june 02,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 02 جون 2026ء

دنیا بھر کے ماہرینِ فلکیات نے نظامِ شمسی سے باہر دور دراز کائنات میں موجود مختلف سیاروں پر مقناطیسی میدان (میگنیٹک فیلڈ) کی موجودگی کے اب تک کے سب سے اہم اور ٹھوس شواہد حاصل کر لیے ہیں۔ سائنسی حلقوں کی جانب سے اسے فلکیات اور خلائی تحقیق کی دنیا میں ایک بہت بڑی اور تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

جدید دوربینوں کی مدد سے سات بڑے سیاروں کا مطالعہ سائنسی رپورٹ کے مطابق، فلکیاتی سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی کے خطوں میں نصب دنیا کی جدید ترین دوربینوں کے مشاہدات اور ڈیٹا کی مدد سے نظامِ شمسی سے باہر موجود سات بڑے اور انتہائی گرم گیسوں سے بھرپور سیاروں کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ اس جدید ترین تحقیق کے دوران ان دور دراز سیاروں پر چلنے والی خوفناک حد تک تیز رفتار ہواؤں کے رویے اور رخ کا گہرا جائزہ لیا گیا، جس کے نتیجے میں ان کے گرد ایک مضبوط مقناطیسی میدان کی موجودگی کے واضح اور ناقابلِ تردید آثار سامنے آئے۔

مقناطیسی میدان کیا ہے اور اس کی اہمیت؟ خلائی ماہرین کا کہنا ہے کہ مقناطیسی میدان دراصل ایک غیر مرئی (نظر نہ آنے والی) حفاظتی قوت یا ڈھال ہوتی ہے، جو کسی بھی سیارے کے اندرونی حصے میں موجود برقی طور پر متحرک مادّوں کی تیز حرکت کے باعث پیدا ہوتی ہے۔ ہماری زمین سمیت ہمارے پورے نظامِ شمسی کے بیشتر سیاروں میں یہ مقناطیسی میدان پہلے سے موجود ہے، جو ان سیاروں کو سورج کی تباہ کن شعاعوں اور مختلف دیگر خطرناک خلائی خطرات سے محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

مشتری جیسے دیو ہیکل سیارے اور وہاں کا درجہ حرارت حالیہ تحقیق میں جن ساتوں سیاروں کا مطالعہ کیا گیا ہے، وہ حجم اور بناوٹ کے اعتبار سے ہمارے نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے ‘مشتری’ جیسے یا اس سے بھی کہیں زیادہ بڑے (دیو ہیکل) ہیں۔ یہ تمام سیارے کائنات میں اپنے اپنے میزبان ستاروں (سورج) کے انتہائی قریب ہو کر گردش کرتے ہیں، جس کے باعث ان سیاروں کا ایک حصہ مسلسل شدید گرمی کی لپیٹ میں رہتا ہے جبکہ دوسرا حصہ مستقل تاریکی اور سردی کا شکار رہتا ہے۔ درجہ حرارت کے اسی شدید ترین فرق کے باعث ان سیاروں پر خوفناک فضائی دباؤ بنتا ہے اور انتہائی تیز رفتار طوفانی ہوائیں چلتی ہیں۔

پچیس ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہوائیں سائنس دانوں کے مطابق، ان میں سے بعض سیاروں پر چلنے والی ہواؤں کی رفتار تقریباً پچیس ہزار (25,000) کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ جاتی ہے، جو کہ ہمارے نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری پر چلنے والی طوفانی ہواؤں کی رفتار سے بھی کئی گنا زیادہ ہے۔ انہی ہواؤں کی غیر معمولی حرکات، دباؤ اور رفتار کے جدید ترین ریاضیاتی تجزیے نے محققین کو ان سیاروں کے گرد مقناطیسی میدان کی موجودگی کے حتمی شواہد فراہم کیے۔

کائنات میں زندگی کی تلاش کے لیے نئی امید ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان نئے دریافت ہونے والے سیاروں کے مقناطیسی میدان مشتری کے انتہائی طاقتور مقناطیسی میدان جتنے مضبوط نہیں ہیں، تاہم ان کی موجودگی اس بات کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ وسیع کائنات میں سیاروں کی بنیادی ساخت اور ان کے ارتقاء کے عمل میں مقناطیسی میدان ایک اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق، یہ شاندار دریافت نظامِ شمسی سے باہر موجود سیاروں کے بارے میں انسانی علم میں نمایاں اضافہ کرے گی اور مستقبل میں کائنات کے دور دراز حصوں میں ایسے نئے سیاروں کی تلاش میں انتہائی مددگار ثابت ہوگی جہاں زندگی کے وجود کے امکانات ہو سکتے ہیں۔

لبنان کی صورتحال پر سلامتی کونسل میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف، اسرائیلی کارروائیوں کی شدید مذمت

محمود احمد june 02,2026

نیویارک / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 02 جون 2026ء

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں لبنان کی مسلسل بگڑتی ہوئی تزویراتی اور انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان نے لبنان پر جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں، غیر قانونی زمینی دراندازیوں اور لبنانی علاقوں پر قبضے کو بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے بنیادی منشور (چارٹر) کی کھلی اور سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

لبنان کے بیس فیصد رقبے پر قبضہ اور شہریوں کی جبری نقل مکانی اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مستقل جنگ بندی کے انتظامات اور تمام تر بین الاقوامی سفارتی کوششوں کے باوجود لبنان میں سلامتی اور انسانی صورتحال لمحہ بہ لمحہ خراب ہو رہی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے باعث اس وقت لبنان کے تقریباً بیس فیصد رقبے پر اسرائیل کا ناجائز قبضہ قائم ہو چکا ہے، جبکہ وہاں کی مقامی شہری آبادی کو جبری نقل مکانی اور شدید ترین انسانی مشکلات کا سامنا ہے۔

ہزاروں ہلاکتیں، لاکھوں بے گھر اور امدادی کارکنوں پر حملے پاکستانی مندوب نے ہنگامی اجلاس کو زمینی حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ رواں سال مارچ کے مہینے سے لے کر اب تک ہزاروں معصوم انسان ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ دس لاکھ سے زائد لبنانی شہری اپنے ہی ملک میں بے گھر ہو کر در بدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے طبی عملے، ہسپتالوں اور امدادی کارکنوں پر ہونے والے اسرائیلی حملوں کی بھی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بزدلانہ اقدامات بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین ترین خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔

ثقافتی ورثے کی تباہی اور ملکی خودمختاری کا مطالبہ سفیر عاصم افتخار احمد نے لبنان کے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی مقامات کو جان بوجھ کر نشانہ بنائے جانے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ عالمی ثقافتی ورثے کے تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا یہ اصولی مؤقف ہے کہ لبنان کی قومی خودمختاری، سیاسی آزادی اور علاقائی سالمیت کا دنیا بھر میں ہر صورت احترام کیا جائے۔

سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر عملدرآمد کا مطالبہ پاکستانی مستقل مندوب نے کہا کہ پاکستان ان تمام سفارتی کوششوں کی غیر مشروط حمایت کرتا ہے جن کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطیٰ میں جنگی کشیدگی کا خاتمہ اور پائیدار امن کا قیام ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل کے اراکین کے سامنے زور دے کر یہ مطالبہ کیا کہ سلامتی کونسل کی منظور شدہ تاریخی ‘قرارداد نمبر 1701’ پر فوری اور مکمل عملدرآمد کروایا جائے اور اسرائیلی افواج کا ‘بلیو لائن’ (لبنانی سرحد) تک مکمل انخلا یقینی بنایا جائے۔

لبنانی عوام سے یکجہتی اور عالمی برادری کو پکار پاکستان نے لبنان کی حکومت اور وہاں کے غیور عوام کے ساتھ اپنے مکمل اور برادرانہ یکجہتی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک مستحکم، آزاد اور پرامن لبنان پورے مشرقِ وسطیٰ کے امن اور سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ پاکستان نے بین الاقوامی برادری اور عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچانے، مزید عسکری کشیدگی کو روکنے اور سفارتی حل کو آگے بڑھانے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کریں۔

اپنے خطاب کے آخر میں پاکستانی مندوب نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ خطے میں دیرپا اور مستقل امن صرف اور صرف باہمی مذاکرات، سنجیدہ سفارت کاری اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے، جبکہ یکطرفہ فوجی اقدامات مسائل کے مستقل حل کے بجائے ہمیشہ نئی اور پیچیدہ جنگی الجھنیں پیدا کرتے ہیں۔

پاکستان نے طویل المدتی تنازعات کے پھیلاؤ کے خطرات سے خبردار کر دیا، اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب کا اہم خطاب

محمود احمد june 02,2026

اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 02 جون 2026ء

پاکستان نے عالمی سطح پر جاری جنگی صورتحال کے تناظر میں ایک بار پھر اپنا واضح موقف پیش کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ طویل عرصے تک جاری رہنے والے تنازعات نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی انتہائی سنگین خطرات پیدا کرتے ہیں۔ پاکستان کے مطابق، ان جنگوں کے خطرناک اثرات اب مخصوص سرحدوں سے تجاوز کر کے دیگر پرامن ممالک تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس اور مستقل مندوب کا بیانیہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اور اہم اجلاس سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ طویل المدتی تنازعات فریقین کے مابین شدید غلط فہمیوں، تزویراتی کشیدگی اور بڑے تصادم کے امکانات کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف علاقائی استحکام داؤ پر لگ جاتا ہے بلکہ بین الاقوامی امن کو بھی شدید ترین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

یوکرین تنازع پر پاکستان کا اصولی موقف انہوں نے یوکرین کے دیرینہ تنازع کے حوالے سے پاکستان کے روایتی اور اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے فریقین کے مابین تعمیری مکالمے، فعال سفارت کاری اور پرامن حل کی حمایت کرتا آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نازک صورتحال میں مزید فوجی کشیدگی اس بحران کو ایک وسیع تر اور تباہ کن تصادم میں تبدیل کر سکتی ہے، جس کے بھیانک اثرات کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا محسوس کرے گی۔

ریاستوں کی خودمختاری اور مسلح ڈرونز کی دراندازی پر تشویش پاکستانی مندوب نے دنیا کی تمام ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کے غیر مشروط احترام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ بنیادی اصول بین الاقوامی قانون اور عالمی نظام کی بنیاد ہیں اور ان پر ہر صورت عمل ہونا چاہیے۔ انہوں نے پڑوسی ممالک کی فضائی حدود میں مسلح ڈرونز کی مبینہ دراندازی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی معصوم شہریوں کی ہلاکتوں پر پاکستان کی جانب سے گہری تشویش کا اظہار بھی کیا۔

جدید جنگی ٹیکنالوجی اور انسانی قوانین کا چیلنج سفیر عاصم افتخار احمد نے اس بات کی نشاندہی کی کہ جدید جنگوں میں ریموٹ کنٹرول ڈرونز کے بڑھتے ہوئے اندھا دھند استعمال نے نئے انسانی اور قانونی چیلنجز پیدا کر دیے ہیں، جن سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی انسانی قوانین پر مکمل عملدرآمد بے حد ضروری ہو چکا ہے۔ انہوں بھی اس بات پر سخت زور دیا کہ جنگی ٹیکنالوجی کے استعمال میں معصوم انسانی جانوں کے تحفظ کو ہمیشہ اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔

جائز سلامتی مفادات کا تسلیم کیا جانا ناگزیر پاکستان کے مستقل مندوب نے یوکرین تنازع کے مستقل حل کے لیے تین بنیادی نکات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس بحران کے خاتمے کے لیے تمام فریقین کے جائز سلامتی مفادات کو تسلیم کرنا، اقوامِ متحدہ کے منشور کے زریں اصولوں کی پاسداری کرنا اور سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں امریکہ کی سہولت کاری میں جاری مذاکراتی عمل کو تنازع کے حل کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے اس کی جلد اور غیر مشروط بحالی پر زور دیا۔

انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ محض عسکری ذرائع یا جنگی طاقت کسی بھی خطے میں کبھی پائیدار امن قائم نہیں کر سکتے، جبکہ بامعنی، سنجیدہ اور مسلسل مذاکرات ہی خطے میں دیرپا امن کی واحد ضمانت فراہم کر سکتے ہیں۔ سفیر عاصم افتخار احمد نے فوراً اور مکمل جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تمام متعلقہ فریقین سے پرخلوص اپیل کی کہ وہ ہٹ دھرمی چھوڑ کر خلوصِ نیت کے ساتھ امن کے راستے کی طرف واپس آئیں۔

پاکستان یورپی یونین کے ساتھ کثیر الجہتی شراکت داری مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے: وزیراعظم شہباز شریف

کاشف عباسی ,june 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 1 جون 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے واشنگٹن اور دیگر عالمی دارالحکومتوں میں جاری سفارتی تبدیلیوں کے تناظر میں واضح کیا ہے کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنی کثیر الجہتی تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا شدید خواہاں ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ دونوں فریقوں کے مابین تجارتی، معاشی، اقتصادی اور سفارتی تعاون کو آنے والے دنوں میں مزید وسعت دی جائے گی۔

دفترِ وزیراعظم میں اعلیٰ سطحی ملاقات اور شرکا وزیراعظم ہاؤس میں یورپی یونین کی خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ اور یورپی کمیشن کی نائب صدر کاجا کالس سے ایک اہم ملاقات کے دوران وزیراعظم نے ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے موقع پر پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور دیگر سینیئر حکام بھی موجود تھے۔

تزویراتی مکالمے کے آٹھویں دور پر اطمینان کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی دارالحکومت میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان جاری ‘تزویراتی مکالمے’ (اسٹریٹجک ڈائیلاگ) کے آٹھویں دور کے کامیاب انعقاد پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ باہمی تجارت، نئی سرمایہ کاری، ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات، علاقائی سلامتی، ہجرت کے قوانین، پائیدار ترقی اور باہمی رابطہ کاری (کنیکٹیویٹی) سمیت مختلف اہم شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔

جی ایس پی پلس سہولت کی اہمیت اور برآمدات انہوں نے پاکستان اور یورپی یونین کے مابین مضبوط تجارتی تعلقات کے فروغ میں ‘جی ایس پی پلس’ (GSP Plus) سہولت کی کلیدی اہمیت کو خصوصی طور پر اجاگر کیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس تجارتی رعایتی پروگرام نے یورپی مارکیٹ میں پاکستانی برآمدات میں اضافے اور دونوں خطوں کے معاشی روابط کو مستحکم بنانے میں ہمیشہ ایک اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔

خلیجی خطے میں امن اور عسکری و سفارتی قیادت کا کردار وزیراعظم شہباز شریف نے خلیجی خطے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی مخلصانہ سفارتی کوششوں کی حمایت کرنے پر یورپی یونین کی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی عسکری اور سیاسی قیادت، بشمول نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر، خطے میں پائیدار امن کے قیام اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنا انتہائی اہم اور تاریخی کردار ادا کر رہے ہیں۔

ملاقات کے دوران جنوبی ایشیا کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، پڑوسی ملک افغانستان سے متعلق امور اور مختلف دیگر پیچیدہ علاقائی و عالمی معاملات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

یورپی قیادت کو دورہ پاکستان کی دعوت وزیراعظم نے یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں باضابطہ طور پر پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔ اس موقع پر یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالس نے علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کو دل کھول کر سراہا اور پاکستان کے ساتھ تزویراتی تعلقات کو مزید مضبوط اور وسیع بنانے میں یورپی یونین کی گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

ایران کا امریکہ کے ساتھ مذاکرات روکنے اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا بڑا اعلان، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا خطرہ

محمود احمد june 01,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

امریکی حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر، اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری تمام پسِ پردہ سفارتی پیغامات کے تبادلے کو فوری طور پر روکنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تہران نے عالمی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے بحری راستے ‘آبنائے ہرمز’ کو مکمل بند کرنے اور دیگر علاقائی محاذوں کو فعال کرنے کا سنگین عندیہ دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں اب مذاکرات کے تمام امکانات تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور خطے کی صورتحال ایک نئے اور ہولناک مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔

اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت اور لبنانی علاقوں سے انخلا کا مطالبہ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق، حکام نے غزہ اور لبنان میں جاری اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائیوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ لبنانی علاقوں سے فی الفور اور مکمل انخلا کرے۔ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو خطے میں جاری اس تمام خونریزی اور کشیدگی کا براہِ راست ذمہ دار قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک پر کڑی تنقید کی ہے۔

آبنائے ہرمز اور باب المندب کو بند کرنے کا اعلان ایرانی میڈیا کے مطابق، تہران حکام نے تزویراتی طور پر اہم ترین بین الاقوامی بحری گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل بند کرنے اور بحیرہ احمر کے تجارتی راستے ‘باب المندب’ سمیت دیگر مزاحمتی محاذوں کو متحرک کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، سفارتی و عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے ایران کی جانب سے کیے جانے والے عملی اقدامات اور ان کے حتمی وقت کے بارے میں ابھی تک تفصیلی معلومات سامنے نہیں آئیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کابینہ اجلاس سے اہم خطاب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں کابینہ کے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام اور ملک کی اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت ہر قسم کے بیرونی چیلنج اور جنگی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے چوبیس گھنٹے تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک اپنے اصولی مؤقف اور دفاعی پالیسیوں پر سختی سے ثابت قدم رہے گا اور ہر مشکل ترین صورتحال کا دلیری سے مقابلہ کرے گا۔ صدر مسعود پزشکیان کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی قوم اپنے اصولوں اور مقاصد کے حصول کے لیے کسی بھی بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرے گی۔ انہوں نے قومی اتحاد، ملکی استقامت اور اسلامی مزاحمت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے چنے ہوئے راستے پر مضبوطی سے گامزن رہے گا۔

وزارتِ خارجہ کا امریکہ پر سنگین الزامات اور سخت موقف دوسری جانب، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس کے دوران امریکہ پر شدید ترین تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ خطے میں معصوم انسانوں کے خلاف جاری تمام اسرائیلی اقدامات اور جنگی جرائم کا برابر کا شریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایک ناقابلِ اعتبار ملک ہے جو مسلسل اپنا سفارتی مؤقف تبدیل کرتا ہے اور مذاکرات کے دوران جان بوجھ کر نئے مطالبات سامنے لاتا رہتا ہے۔

ترجمان وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ ایران بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے دفاع کے حق کو مکمل محفوظ سمجھتا ہے، اور اگر کسی بھی پڑوسی یا دور کے ملک کی سرزمین یا عسکری تنصیبات ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کے لیے استعمال کی گئیں، تو ایران ان کے خلاف سخت ترین جوابی کارروائی کا پورا قانونی و اخلاقی حق رکھتا ہے۔

عالمی منڈیوں اور تجارتی حلقوں میں شدید ہلچل مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی اس شدید ترین عسکری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر گہری تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے دنیا کے مصروف ترین بحری راستوں کی بندش کی دھمکی کے بعد عالمی منڈیاں، تیل کی کمپنیاں اور بین الاقوامی تجارتی حلقے اس بدلتی ہوئی صورتحال پر انتہائی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس سے عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔

ایران پر امریکی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ، تہران کا جوابی کارروائی کا دعویٰ

محمود احمد june 01,2026

تہران / واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان دیرینہ کشیدگی ایک بار پھر انتہائی خطرناک اور نازک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے ایرانی سرزمین پر موجود اہم فوجی تنصیبات کو براہِ راست نشانہ بنانے کے بعد ایران نے بھی امریکہ کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی کا دعویٰ کیا ہے۔ دونوں طاقتوں کے درمیان اس براہِ راست تصادم کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں اور صورتحال انتہائی دھماکہ خیز ہو چکی ہے، جبکہ خطے کے متعدد پڑوسی ممالک میں ہائی سکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

امریکی حملے اور نشانہ بننے والے اہداف امریکی مرکزی کمان کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ بیان کے مطابق، امریکی افواج نے جنوبی ایران کے ساحلی علاقوں گورک اور جزیرہ قشم میں واقع ایرانی فوج کے ریڈار سسٹمز، ڈرون کنٹرول مراکز اور فضائی دفاعی تنصیبات پر شدید حملے کیے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ یکطرفہ کارروائی ایران کی جانب سے گزشتہ دنوں امریکی ڈرون کو مار گرانے اور خطے میں بڑھتی ہوئی جارحانہ عسکری سرگرمیوں کے جواب میں کی گئی ہے۔ امریکی فوج کے مطابق، اس آپریشن کے دوران ایرانی فضائی دفاعی نظام کے بعض حصوں اور ڈرون کنٹرول مرکز کو کامیابی سے تباہ کیا گیا ہے، کیونکہ یہ تنصیبات بین الاقوامی سمندری گزرگاہوں اور امریکی مفادات کے لیے مستقل خطرہ بن چکی تھیں۔

ایران کا جوابی حملہ اور پاسدارانِ انقلاب کا مؤقف دوسری جانب، ایران کے طاقتور عسکری ادارے ‘پاسدارانِ انقلاب’ نے امریکی حملوں کے فوری جواب میں خطے میں قائم ایک بڑے امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق، اس تیز رفتار جوابی کارروائی میں ان مخصوص امریکی مقامات کو ہدف بنایا گیا جہاں سے ایران پر حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ ایرانی اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری، زمینی حدود اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گا اور کسی بھی بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق، ایران کی دفاعی و جارحانہ صلاحیت اس وقت مکمل طور پر فعال ہے اور دشمن کی کسی بھی اگلی کارروائی کا جواب دینے کے لیے انگلیاں ٹریگر پر ہیں۔

خلیجی ممالک میں ہائی الرٹ اور کویت کی تیاری مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی اس شدید فوجی کشیدگی کے باعث کویت سمیت کئی خلیجی ممالک میں ہنگامی حالت (ہائی الرٹ) نافذ کر دی گئی ہے۔ کویتی حکام نے امارت کے فضائی دفاعی نظام کو فوری طور پر متحرک کر دیا ہے جبکہ شہریوں کو کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، کویت کے بعض سرحدی اور حساس علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے ہیں تاکہ ممکنہ فضائی خطرات سے نمٹا جا سکے۔

عالمی تجارت، توانائی کی منڈیاں اور ماہرین کے خدشات سیاسی اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست فوجی کارروائیوں کا یہ سلسلہ پورے خطے کے امن و استحکام کو ملیا میٹ کر سکتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان اس کشیدگی کو فوری طور پر نہ روکا گیا، تو اس کے بھیانک اثرات عالمی تجارت، تیل و گیس کی بین الاقوامی منڈیوں (توانائی کے شعبے) اور مجموعی عالمی سلامتی پر مرتب ہوں گے۔

عالمی برادری کی تشویش اور سفارتی کوششیں اقوامِ متحدہ سمیت عالمی برادری نے مشرقِ وسطیٰ کی اس ابتر صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے اور اس سنگین تنازع کو جنگ کے بجائے سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق، موجودہ نازک حالات میں کسی بھی فریق کی جانب سے ایک غلط اندازہ یا اضافی فوجی کارروائی پورے خطے کو کسی بڑے عالمی بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ اس دوران عالمی سطح پر سفارتی رابطے بھی انتہائی تیز ہو گئے ہیں اور مختلف دوست ممالک خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے پسِ پردہ کوششیں کر رہے ہیں، تاہم صورتحال بدستور غیر یقینی اور انتہائی حساس بنی ہوئی ہے۔

چین اور امریکا کے عوام دوستی کے خواہاں، نوجوان نسل مستقبل کے تعلقات کی ضامن ہے: چینی سفیر

محمود احمد june 01,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

امریکا میں تعینات چینی سفیر شیے فینگ نے دونوں ممالک کے تعلقات کے حوالے سے ایک اہم اور مثبت بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ چین اور امریکا کے عوام کے درمیان دوستی، خیرسگالی اور باہمی احترام کی خواہش آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے، اور دونوں ممالک کے نوجوان مستقبل میں ان باہمی تعلقات کو مزید مضبوط اور پائیدار بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

پنگ پونگ سے پکل بال سفارت کاری تک کا سفر واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے اندر منعقدہ ایک منفرد “پکل بال نائٹ” تقریب سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے سفیر شیے فینگ نے تاریخی حوالوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں مشہور ‘پنگ پونگ سفارت کاری’ نے چین اور امریکا کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں تاریخی کردار ادا کیا تھا، جبکہ آج کھیل کے میدانوں کے ذریعے دونوں ممالک کی نوجوان نسل ایک بار پھر عوام کو قریب لانے کا ایک بہترین اور مؤثر ذریعہ بن رہی ہے۔

عوامی روابط اور دوستی کی خواہش چینی سفیر نے واضح کیا کہ اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب کھیل کے انداز اور باہمی رابطوں کے ذرائع ضرور بدل گئے ہیں، لیکن چین اور امریکا کے عام عوام کے دلوں میں دوستی، اقتصادی تعاون اور مثبت روابط قائم کرنے کی خواہش آج بھی برقرار ہے۔ انہوں نے اس بات پر گہرا زور دیا کہ عوامی سطح پر براہِ راست روابط اور دونوں ممالک کے نوجوانوں کے وفود کے تبادلے باہمی تعلقات کو کسی بھی قسم کے بحران سے بچانے اور مستحکم بنانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔

عالمی چیلنجز اور نوجوان نسل کی ذمہ داری سفارت خانے کی اس تقریب کے دوران شیے فینگ نے امریکی طلبہ، اساتذہ اور ان کے والدین سے تفصیلی ملاقاتیں کیں اور کھیلوں کے ذریعے پیدا ہونے والی اس نئی دوستی اور ثقافتی روابط کو دل کھول کر سراہا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی نوجوان نسل کو روایتی اختلافات سے ہٹ کر اب موسمیاتی تبدیلیوں، مصنوعی ذہانت ، عوامی صحت، عالمی غذائی تحفظ اور دیگر بڑے بین الاقوامی چیلنجز پر اپنی مشترکہ توجہ مرکوز کرنی چاہیے تاکہ دنیا کو درپیش سنگین مسائل کے حل میں یہ نوجوان اپنا مؤثر ترین کردار ادا کر سکیں۔

تعلقات کا نیا تاریخی مرحلہ اور عالمی امن چینی سفیر کا کہنا تھا کہ چین اور امریکا کے باہمی تعلقات اس وقت ایک بالکل نئے تاریخی مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں، جس کے پیشِ نظر دونوں ممالک کی قیادت کو اپنے سیاسی اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے باہمی تعاون، تعمیری مکالمے اور سفارتی اعتماد کو فروغ دینا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے طور پر چین اور امریکا کی یہ اولین مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عالمی امن، بقائے باہمی، استحکام اور معاشی ترقی کے فروغ کے لیے مل کر کام کریں اور اپنے تعلقات کو مستحکم، متوازن اور پائیدار بنیادوں پر آگے بڑھائیں۔

بین الاقوامی امور کے مبصرین کے مطابق، واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کی جانب سے اس قسم کی تقریب کا انعقاد دونوں سپر پاورز کے درمیان عوامی سطح پر دوریاں کم کرنے اور نوجوان نسل کے ذریعے مستقبل کے تعلقات کو محفوظ بنانے کی ایک انتہائی مثبت اور خوش آئند تزویراتی کوشش ہے۔

پاکستان اور یورپی یونین تعلقات کے نئے دور میں داخل، اسحاق ڈار اور کاجا کالس کی اہم ملاقات

منصور احمد june 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان دوطرفہ تزویراتی تعلقات کو مزید وسعت دینے اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ایک بڑا سنگِ میل طے ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں “پاکستان۔یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا آٹھواں اہم اجلاس آج وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد ہو رہا ہے۔ اس اعلیٰ سطحی اجلاس کی مشترکہ صدارت پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور و سلامتی پالیسی اور یورپی کمیشن کی نائب صدر کاجا کالس کر رہی ہیں۔

دفتر خارجہ میں پرتپاک استقبال اور وفود کی ملاقات وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے دفتر خارجہ پہنچنے پر یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالس کا انتہائی پرتپاک استقبال کیا۔ اس اہم ملاقات کے موقع پر دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان قائم دیرینہ، پائیدار اور دوستانہ تعلقات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس کے علاوہ علاقائی و عالمی صورتحال، باہمی تجارت، سرمایہ کاری کے نئے مواقع، ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے نمٹنے، تعلیم، سلامتی اور پائیدار ترقی سمیت متعدد باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

اعلیٰ سفارتی رابطوں کا کلیدی فورم سفارتی ماہرین کے مطابق، پاکستان۔یورپی یونین اسٹریٹجک مکالمہ دونوں فریقوں کے مابین اعلیٰ سطحی سفارتی اور تزویراتی رابطوں کا سب سے اہم اور فعال ترین فورم سمجھا جاتا ہے۔ اس فورم کا بنیادی مقصد مشترکہ مفادات کے تمام شعبوں میں تعاون کو پہلے سے زیادہ مستحکم بنانا اور وقت کے ساتھ سامنے آنے والے مشترکہ عالمی چیلنجز سے مل کر نمٹنے کے لیے ایک مؤثر اور دور رس حکمت عملی وضع کرنا ہے۔

سیاسی و اقتصادی تعلقات میں نئی پیش رفت کی امید بین الاقوامی امور کے مبصرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے اس تزویراتی اجلاس سے پاکستان اور یورپی یونین کے مابین سیاسی، اقتصادی اور سفارتی تعلقات کو ایک نئی اور مضبوط جہت ملنے کی قوی امید ہے۔ اس کے ساتھ ہی، آنے والے دنوں میں دونوں فریقین کے درمیان تجارتی روابط، ترقیاتی شراکت داری اور جنوبی ایشیا سمیت عالمی امن و استحکام کے حوالے سے بھی انتہائی اہم تزویراتی پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔

طویل المدتی شراکت داری کا مشترکہ عزم سرکاری حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اسٹریٹجک مکالمے کے اس آٹھویں اجلاس کا انعقاد دراصل دونوں فریقوں کے اس پختہ اور مشترکہ عزم کا واضح مظہر ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین باہمی احترام، مشترکہ مفادات اور ایک طویل المدتی شراکت داری کی مضبوط بنیاد پر اپنے باہمی تعلقات کو آنے والے سالوں میں مزید مضبوط اور مستحکم بنائیں گے۔

ایبولا وبا سے نمٹنے کے لیے عالمی اتحاد ناگزیر، سرحدوں کی بندش مسئلے کا حل نہیں: عالمی ادارۂ صحت

کاشف عباسی ,june 01,2026

کنشاسا (نیوز اینڈ نیوز) –01 جون 2026ء

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس اذانوم گیبریاسس نے جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی حالیہ خطرناک وبا پر قابو پانے کے لیے عالمی یکجہتی، مقامی آبادی کے اعتماد اور بین الاقوامی تعاون کی اشد ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ مختلف ممالک کی جانب سے لگائی جانے والی یکطرفہ سفری پابندیاں اور سرحدوں کی بندش اس وبا کے خلاف جاری عالمی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

مقامی آبادی کا اعتماد اور پریس کانفرنس جمہوریہ کانگو کے صوبہ ایتوری کے دارالحکومت بونیا میں اعلیٰ حکومتی حکام کے ہمراہ ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا کہ کانگو کے عوام اس مشکل گھڑی میں بالکل تنہا نہیں ہیں اور پوری عالمی برادری ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ کسی بھی وبائی مرض پر مؤثر قابو پانے کے لیے مقامی آبادی کا اعتماد حاصل کرنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ مقامی برادریاں اپنے زمینی مسائل کو بہتر انداز میں سمجھتی ہیں اور ان کے حل میں سب سے اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

ویکسین کی عدم دستیابی اور علاج کے چیلنجز ڈاکٹر ٹیڈروس نے حقائق کا اعتراف کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس وقت ایبولا کے اس مخصوص پھیلاؤ (اسٹرین) کے لیے کوئی باقاعدہ منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں ہے۔ تاہم، انہوں نے امید دلائی کہ بروقت تشخیص، معیاری طبی سہولیات کی فراہمی اور مؤثر نگہداشت کے ذریعے مریضوں کی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک متعدد مریض بہتر علاج کے بعد مکمل طور پر صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ادارۂ صحت اور اس کے شراکت دار ادارے محفوظ اور مؤثر ویکسینز اور علاج کی تیاری کے لیے طبی آزمائشوں (کلینیکل ٹرائلز) پر تیزی سے کام کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں اس مہلک بیماری کے خلاف مستقل اقدامات کیے جا سکیں۔

ایتوری میں ٹیسٹنگ کی صلاحیت اور لیبارٹری اقدامات صحت کے مقامی حکام کے مطابق، صوبہ ایتوری میں لیبارٹری کی سہولیات کو اب نمایاں طور پر بہتر بنا دیا گیا ہے۔ وہاں اب تک تقریباً 900 نمونوں کی تفصیلی جانچ کی جا چکی ہے، جن میں سے لگ بھگ 260 افراد میں خطرناک ایبولا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب صوبے میں روزانہ 200 سے 300 ٹیسٹ کرنے کی جدید صلاحیت بھی حاصل کر لی گئی ہے جو کہ وبا کو روکنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔

وبا پر قابو پانے کے بنیادی اصول اور سرحدوں کی بندش پر تنقید عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ نے ہاتھوں کی باقاعدہ صفائی، درست معلومات کی فراہمی، متاثرہ افراد کے رابطوں کا سراغ لگانے (کانٹیکٹ ٹریسنگ)، بروقت تشخیص، مریضوں کی علیحدہ نگہداشت اور محفوظ تدفین جیسے اقدامات کو وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے انتہائی ضروری قرار دیا۔ انہوں نے ان پڑوسی ممالک سے بھی پرزور اپیل کی جنہوں نے کانگو کے ساتھ اپنی سرحدیں بند کر دی ہیں یا سخت سفری پابندیاں نافذ کر رکھی ہیں کہ وہ اپنے فیصلوں پر فوری نظرثانی کریں۔ ان کے مطابق ایسی پابندیاں نہ صرف بین الاقوامی امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ بنتی ہیں بلکہ ممالک کے مابین شفافیت اور باہمی اعتماد کو بھی متاثر کرتی ہیں، جو وبائی امراض کے خلاف جنگ میں کلیدی عناصر ہیں۔

غلط معلومات اور افواہوں کے خلاف انتباہ ڈاکٹر ٹیڈروس نے میڈیا اور عوام کو سخت خبردار کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر غلط معلومات، افواہیں اور گمراہ کن پروپیگنڈا اس وبا کے خلاف جنگ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے تمام معلومات صرف سائنسی شواہد، مستند اعداد و شمار اور طبی ماہرین کی رائے کی بنیاد پر ہی عوام تک پہنچائی جانی چاہئیں۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “یکجہتی ہی ہماری سب سے بڑی قوت ہے، اور مشترکہ عالمی کوششوں سے ایبولا کی اس وبا پر بھی جلد قابو پایا جا سکتا ہے۔”

مقبوضہ جموں و کشمیر میں مدارس اور تعلیمی اداروں پر چھاپے، مذہبی آزادیوں سے متعلق خدشات میں اضافہ

روزینہ اسماعیل.May 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء

مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلم تعلیمی اور مذہبی اداروں کے خلاف قابض بھارتی انتظامیہ کی حالیہ متعصبانہ کارروائیوں پر عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مختلف بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق، بھارتی تحقیقاتی ادارے نے سرینگر اور شوپیاں کے مختلف حساس علاقوں میں کریک ڈاؤن کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر چھاپہ مار کارروائیاں کی ہیں، جن میں کئی نامور دینی مدارس اور مسلم تعلیمی ادارے بھی شامل ہیں۔

شوپیاں اور سرینگر میں کریک ڈاؤن اور تلاشی رپورٹس کے مطابق، بھارتی فورسز اور تحقیقاتی حکام نے شوپیاں میں واقع مشہور دینی ادارے ‘جامعہ سراج العلوم’ سمیت متعدد اہم مقامات کا گھیراؤ کر کے وہاں تفصیلی تلاشی لی، جبکہ سرینگر کے لال بازار کے علاقے میں بھی ایک معروف تعلیمی ادارے میں گھس کر زبردستی تلاشی کی کارروائی کی گئی۔ ان کارروائیوں کے دوران اداروں کے ریکارڈز کو قبضے میں لینے کے ساتھ ساتھ مختلف سماجی اور مذہبی شخصیات کی رہائش گاہوں پر بھی چھاپے مارے گئے اور تفتیشی حربے استعمال کیے گئے۔

مذہبی آزادی اور شہری حقوق کی پامالی کشمیر کے مقامی حلقوں، حریت رہنماؤں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ ان دانستہ کارروائیوں نے خطے میں مسلمانوں کی مذہبی آزادی، تعلیمی سرگرمیوں اور بنیادی شہری حقوق کی بقا کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔ ان کے مطابق، دینی مدارس اور تعلیمی اداروں کے خلاف بھارتی حکومت کے ان جارحانہ اقدامات سے کشمیری عوام میں شدید غم و غصہ اور گہری تشویش پائی جا رہی ہے، کیونکہ اسے کشمیر کی مسلم شناخت کو مٹانے کی کوشش دیکھا جا رہا ہے۔

سیاسی صورتحال اور عوامی بے چینی میں اضافہ دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض فوج کے سخت محاصرے کے باعث سیاسی اور سماجی صورتحال پہلے ہی انتہائی حساس اور کشیدہ ہے۔ ایسے سفاکانہ ماحول میں معصوم طلبہ کے تعلیمی اور مذہبی اداروں کو نشانہ بنانا وادی میں مزید شدید بے چینی اور مہم جوئی کا سبب بن سکتا ہے۔ ماہرین کا مؤقف ہے کہ بنیادی انسانی حقوق، اپنے عقیدے کے مطابق مذہبی آزادی اور بغیر کسی خوف کے تعلیم تک رسائی ہر مہذب معاشرے کے بنیادی اصول ہیں جن کا ہر حال میں تحفظ ضروری ہے۔

عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل حقوقِ انسانی کے ماہرین نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر پرزور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی ابتر ہوتی ہوئی موجودہ صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور وہاں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، شہری آزادیوں پر قدغن اور مسلم تعلیمی سرگرمیوں کے تحفظ کے لیے اپنا مؤثر ترین سفارتی کردار ادا کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن، استحکام اور عوامی اعتماد کا فروغ تب تک ممکن نہیں جب تک تمام اقدامات قانون، شفافیت اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کے مطابق نہ ہوں۔

افغان طالبان حکومت پر عالمی دباؤ میں اضافہ، انسانی حقوق کی 83 تنظیموں کا یورپی یونین سے سخت مؤقف اپنانے کا مطالبہ

محمود احمد May31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء

افغانستان میں بنیادی انسانی حقوق، خواتین کی آزادیوں اور تمام گروہوں کی سیاسی شمولیت کے حوالے سے بڑھتے ہوئے شدید خدشات کے باعث افغان طالبان حکومت کو ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر کڑی تنقید اور سخت سفارتی دباؤ کا سامنا ہے۔ اس سلسلے میں عالمی انسانی حقوق کی درجنوں تنظیموں نے یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ کابل کی عبوری حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کے سرکاری، سفارتی یا سیاسی روابط قائم کرنے میں انتہائی احتیاط سے کام لے۔

یورپی یونین سے مطالبہ اور دورۂ برسلز پر تشویش بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، بین الاقوامی فیڈریشن برائے انسانی حقوق سمیت دنیا بھر کی 83 معتبر عالمی تنظیموں نے آئندہ ماہ جون میں طالبان وفد کے ممکنہ دورۂ برسلز پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان تنظیموں نے یورپی یونین کی قیادت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ طالبان کے ساتھ کسی بھی قسم کے سیاسی یا سفارتی روابط کو افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال میں عملی بہتری لانے سے مشروط کیا جائے۔

طالبان حکومت کی نمائندگی پر عالمی تنظیموں کے سوالات ان تنظیموں نے اپنے مشترکہ اعلامیے اور مؤقف میں موقف اختیار کیا ہے کہ طالبان کسی عوامی، جمہوری یا نمائندہ انتخابی عمل کے ذریعے اقتدار میں نہیں آئے، اس لیے انہیں بین الاقوامی قوانین کے تحت افغانستان کے تمام عوام کا حقیقی نمائندہ تصور نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی جانب سے افغان خواتین، نوجوانوں، اقلیتوں اور سول سوسائٹی کی دبائی گئی آوازوں کو کسی بھی قیمت پر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

خواتین کے حقوق اور پابندیوں پر عالمی برادری کی تشویش انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں نے اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے کہ افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم، خواتین کے روزگار اور ان کی سماجی آزادیوں پر عائد سخت پابندیوں کے باعث پوری عالمی برادری میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ تنظیموں کے مطابق، طالبان حکومت کو بین الاقوامی سطح پر سفارتی قبولیت اور تسلیم کیے جانے کے لیے بنیادی انسانی حقوق کی بحالی اور عالمی معاہدوں کے حوالے سے فوری اور عملی اقدامات کر کے دکھانا ہوں گے۔

انسانی امداد اور سفارت کاری کا چیلنج بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کی موجودہ نازک صورتحال میں عالمی برادری کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج افغان عوام کے لیے انسانی امداد کی فراہمی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے مطالبے کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے۔ ماہرین کے مطابق، افغان عوام کی معاشی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنیادی اور غذائی امداد کا تعاون تو جاری رہنا چاہیے، تاہم سیاسی اور سفارتی سطح پر کسی بھی قسم کی پیش رفت کو بنیادی حقوق کی فراہمی اور ایک جامع سیاسی عمل کے آغاز سے مشروط رکھنا خطے کے مستقبل کے لیے بے حد ضروری ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، خواتین کے حقوق، اعلیٰ تعلیم تک رسائی، حکومت میں تمام طبقات کی سیاسی شمولیت اور بین الاقوامی وعدوں پر عملدرآمد جیسے حساس معاملات مستقبل میں بھی طالبان حکومت اور عالمی برادری کے باہمی تعلقات کا رخ طے کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے رہیں گے۔

معرکۂ حق کے اثرات عالمی مباحث کا حصہ، سربیا کے صدر کے بیان نے بھارتی دعوؤں پر نئے سوالات کھڑے کر دیے

کاشف عباسی ,May 31 ,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء

معرکۂ حق کے دوران پیش آنے والے اہم واقعات اور عسکری نتائج پر بین الاقوامی سطح پر بحث کا سلسلہ اب بھی عروج پر ہے، جبکہ اسی دوران سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچیچ کے حالیہ تہلکہ خیز بیان نے بھارتی دفاعی دعوؤں اور نئی دہلی کے سرکاری بیانیے کی قلعی کھولتے ہوئے عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

سربین صدر کا انٹرویو اور زمینی شواہد کا تذکرہ میڈیا رپورٹس کے مطابق، سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچیچ نے ایک حالیہ اہم انٹرویو میں جنوبی ایشیا کی حالیہ کشیدگی اور عسکری صورتحال کا گہرا تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں جدید دفاعی نظاموں کی کارکردگی اس وقت عالمی دفاعی اداروں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ سربین صدر کا کہنا تھا کہ اس معرکے کے حوالے سے دستیاب معلومات اور ناقابلِ تردید زمینی شواہد بعض ایسے حقائق کی نشاندہی کرتے ہیں جو بھارتی حکومت کے سرکاری دعوؤں سے بالکل مختلف اور برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔

جدید ٹیکنالوجی اور بھارتی دفاعی نظام کی ناکامی سربین صدر نے اپنے تجزیے میں مزید کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ نگرانی اور مختلف ڈیجیٹل ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے باعث اب جنگی میدان میں ہونے والی سرگرمیوں اور نقصانات کو دنیا سے مکمل طور پر پوشیدہ رکھنا کسی کے لیے ممکن نہیں رہا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ متعدد بین الاقوامی رپورٹس اور شواہد اس بات کی صاف اشارہ کرتے ہیں کہ معرکے کے دوران بھارتی فضائی دفاعی نظام (ایئر ڈیفنس سسٹم) کے بعض انتہائی اہم حصے حملوں کی زد میں آ کر شدید متاثر ہوئے تھے۔

عالمی رائے عامہ اور معلومات کی اہمیت دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر جانبدار بین الاقوامی شخصیات اور دیگر ممالک کی جانب سے سامنے آنے والے یہ تجزیے اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ جدید تنازعات میں اب محض پروپیگنڈا کام نہیں آتا، بلکہ شواہد اور تکنیکی ڈیٹا کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، کسی بھی عسکری واقعے کے بارے میں عالمی رائے عامہ اب صرف بھارتی میڈیا اور ان کے سرکاری بیانات تک محدود نہیں رہتی، بلکہ دنیا بھر کے ماہرین آزاد اور مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔

خطے کا عسکری توازن اور پائیدار امن کا راستہ ماہرین کے مطابق، سربیا کے صدر کے ان ریمارکس نے بھارتی میڈیا اور نئی دہلی کے سرکاری مؤقف کے جھوٹے پہلوؤں پر گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ دوسری جانب خطے میں عسکری توازن، جدید دفاعی نظاموں کی اصل افادیت اور جنگی حکمت عملیوں پر بھی دنیا بھر میں ایک نئی تزویراتی بحث شروع ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں حقائق پر مبنی معلومات، ذمہ دارانہ بیانات اور سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل کو ترجیح دینا ہی پائیدار امن، ترقی اور استحکام کی واحد ضمانت بن سکتا ہے۔

بھارتی آرمی چیف کا ’’سندور 2.0‘‘ بیان تنقید کی زد میں، ماہرین نے اسے داخلی بحرانوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دے دیا

منصور احمد ,May 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء

دفاعی اور سیاسی ماہرین نے بھارتی آرمی چیف کے حالیہ ’’سندور 2.0‘‘ سے متعلق بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے عسکری ضرورت کے بجائے بھارت کے اندر بڑھتے ہوئے سنگین سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل سے عوامی توجہ ہٹانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنے داخلی بحرانوں کو چھپانے کے لیے پاکستان کے خلاف من گھڑت بیانیہ تشکیل دینا بھارتی قیادت کی ایک پرانی حکمتِ عملی رہی ہے، جسے داخلی دباؤ بڑھنے پر ہمیشہ دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے۔

بدلتی علاقائی صورتحال اور سفارتی محاذ تجزیہ کاروں کے مطابق، حالیہ علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے مؤثر سفارتی کردار کے بعد بھارت کو متعدد عالمی اور علاقائی محاذوں پر سخت سفارتی مشکلات کا سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئی دہلی کی قیادت بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر ایک بار پھر روایتی پاکستان مخالف بیانیے کو فروغ دینے کی کوششوں میں مصروف ہو گئی ہے تاکہ اپنی ناکامیاں چھپائی جا سکیں۔

جدید عسکری چیلنجز اور بھارتی فوج کا اعتراف ماہرین نے اس اہم نکتے کی نشاندہی کی کہ بھارتی آرمی چیف نے اپنے خطاب میں خود جدید جنگی ماحول کے چیلنجز کے حوالے سے اعتراف کیا ہے کہ موجودہ دور میں جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے فوجی نقل و حرکت، آپریشنل سرگرمیاں اور عسکری تیاریوں کو مکمل طور پر خفیہ رکھنا اب کسی کے لیے ممکن نہیں رہا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، بھارتی آرمی چیف کا یہ اعتراف دراصل خود بھارتی فوج کو درپیش عملی اور تزویراتی چیلنجز اور ان کی کمزوریوں کی واضح عکاسی کرتا ہے۔

عسکری معاملات کا سیاسی استعمال دفاعی ماہرین کے مطابق ’’سندور 2.0‘‘ جیسے مبہم اور فرضی تصورات زیادہ تر سیاسی مقاصد حاصل کرنے اور عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے استعمال ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی مبینہ فوجی کارروائی کو ایک سال گزرنے کے بعد بھی نئی اصطلاحات اور جذباتی بیانیوں کے ذریعے زندہ رکھنے کی ضرورت پیش آ رہی ہے، تو یہ اس بات کا کھلا اشارہ ہے کہ اس کارروائی کے مطلوبہ سیاسی اور تزویراتی اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکے اور وہ ناکام ثابت ہوئی ہے۔

داخلی مسائل اور تصادم کی پالیسی تجزیہ نگاروں نے کھل کر کہا کہ بھارت میں اس وقت بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی، شدید معاشی دباؤ، داخلی نسلی تنازعات اور حکومتی پالیسیوں پر اٹھنے والی شدید تنقید کے ماحول میں ایسے بیانات کا سامنے آنا محض کوئی اتفاق نہیں ہے۔ ان کے مطابق ایسے جارحانہ بیانیوں کا واحد مقصد عوامی غیظ و غضب کا رخ داخلی مسائل سے ہٹا کر بیرونی خطرات کی جانب منتقل کرنا ہوتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ فوجی معاملات کو سیاسی بیانیے کا حصہ بنانا پیشہ ورانہ اصولوں کے خلاف ہے۔ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے تصادم کے بجائے سفارت کاری، مکالمے اور باہمی احترام کی پالیسی ہی سب سے ناگزیر راستہ ہے۔

حج 2026 کی شاندار کامیابی، پاکستان کو بین الاقوامی ’’لبیتم‘‘ ایوارڈ سمیت 4 عالمی اعزازات حاصل

روزینہ اسماعیل.May 31,2026

مکہ مکرمہ (نیوز اینڈ نیوز) 31 مئی 2026ء

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے حج 2026 کے کامیاب انعقاد پر پاکستان کو مسلسل دوسرے سال بین الاقوامی ’’لبیتم امتیازی ایوارڈ‘‘ حاصل ہونے اور نجی حج سکیم کے تحت مزید تین عالمی اعزازات ملنے کا اعلان کیا ہے۔ مکہ مکرمہ میں پاکستان حج مشن کے زیر اہتمام بعد از حج پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہترین انتظامات، جدید سہولیات اور مؤثر نگرانی کے باعث رواں سال شکایات کا تناسب ایک فیصد سے بھی کم رہا، جو کہ ایک تاریخی ریکارڈ ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حج 2026 ہر لحاظ سے کامیاب رہا اور پاکستانی عازمین نے اپنے تمام مناسک بخیر و عافیت ادا کیے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ کامیابی حکومتِ پاکستان، وزارتِ مذہبی امور، پاکستان حج مشن اور سعودی حکام کے باہمی گہرے تعاون کا نتیجہ ہے۔

وزیراعظم کی خصوصی ہدایات اور سفری سہولیات سردار محمد یوسف نے بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایات کے تحت عازمینِ حج کو رہائش، خوراک، ٹرانسپورٹ اور طبی سہولیات کی بہترین فراہمی یقینی بنائی گئی، جس کے نتیجے میں پاکستان کی کارکردگی کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک لاکھ اسی ہزار عازمین کے حج کوٹے کے ساتھ پاکستان دنیا کا دوسرا بڑا حج آپریشن چلانے والا ملک ہے۔ رواں سال ’’روڈ ٹو مکہ‘‘ منصوبے کے دائرہ کار میں توسیع کے بعد تقریباً 80 فیصد پاکستانی عازمین نے اس جدید سہولت سے فائدہ اٹھایا، جس سے سفری مراحل انتہائی آسان اور تیز تر ہو گئے۔

بیمار اور معمر عازمین کے لیے خصوصی اقدامات وفاقی وزیر نے حج طبی مشن اور سعودی جرمن ہسپتال کی خدمات کو بھرپور طریقے سے سراہتے ہوئے بتایا کہ خصوصی انتظامات کے ذریعے 146 شدید بیمار، معمر اور کمزور عازمین کو وقوفِ عرفات، طوافِ زیارت اور دیگر اہم مناسک کی ادائیگی میں سرکاری سطح پر مدد فراہم کی گئی، جو پاکستان حج مشن کی بڑی کامیابی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بعض عناصر کی جانب سے غلط معلومات اور منفی پروپیگنڈا پھیلانے کی کوشش کی گئی، تاہم قومی ذرائع ابلاغ نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حقائق عوام تک پہنچائے۔ انہوں نے زور دیا کہ حج ایک مقدس فریضہ اور قومی ذمہ داری ہے، اسے سیاسی مقاصد یا پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

حج 2027 کی تیاریاں اور نئی پالیسی کا آغاز سردار محمد یوسف نے مستقبل کی حکمت عملی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ سعودی وزارتِ حج کی نئی پالیسی کے مطابق حج 2027 کی تیاریوں کا باقاعدہ آغاز ابھی سے کر دیا گیا ہے۔ آئندہ حج پالیسی رواں سال جون میں وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کی جائے گی جبکہ ’’پہلے آؤ، پہلے پاؤ‘‘ کی پالیسی کو برقرار رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ آئندہ دو ماہ کے اندر حج 2027 کی بکنگ مکمل کر لی جائے گی، اس لیے حج کے خواہشمند افراد فوری طور پر اپنے پاسپورٹ اور دیگر سفری دستاویزات تیار کر لیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حج 2027 میں انتظامات کو ڈیجیٹل اور جدید بنانے کے لیے کئی نئے اقدامات زیر غور ہیں، جن میں عازمین کی سخت طبی جانچ، گروپ ناظمین کی پیشگی تربیت، تربیتی پروگراموں کو ڈویژنل سطح تک وسعت دینا اور مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تک تیز رفتار ٹرین سروس کے استعمال پر پیش رفت شامل ہے۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، سعودی وزیر حج ڈاکٹر توفیق بن فوزان الربیعہ اور سعودی سفیر نواف سعید المالکی کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور قوم سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کی ترقی، استحکام، خوشحالی اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعائیں کریں۔

ایران کا ٹرمپ پر سخت ردعمل، مذاکراتی عمل پر اعتماد متزلزل، آبنائے ہرمز پر مؤقف مزید واضح

کاشف عباسی ,May 30 ,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز۔ 30 مئی 2026ء)

— ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ سفارتی عمل میں مسلسل رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں اور تیسری مرتبہ مذاکراتی اعتماد کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے سامنے آنے والے غیر معمولی مطالبات نے ثابت کر دیا ہے کہ واشنگٹن کا مقصد صرف مذاکرات نہیں بلکہ دیگر سیاسی اور تزویراتی اہداف کا حصول بھی ہے۔

محسن رضائی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران ہمیشہ باعزت اور منصفانہ مذاکرات کا حامی رہا ہے، تاہم کسی بھی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کیا جائے گا جو ایرانی مفادات، خودمختاری اور قومی سلامتی کے خلاف ہو۔ ان کے مطابق حالیہ امریکی بیانات اور شرائط نے مذاکراتی فضا کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے مزید 24 بحری جہاز محفوظ طریقے سے گزرے ہیں اور تمام جہاز ایرانی نگرانی اور سکیورٹی انتظامات کے تحت اپنی منزلوں کی جانب روانہ ہوئے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا مؤثر کنٹرول برقرار ہے اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کا فیصلہ کن جواب دینے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔

ایران اور عمان کا آبنائے ہرمز پر مشاورت بڑھانے پر اتفاق

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عمان کے وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطے میں علاقائی صورتحال، جنگ بندی کی کوششوں اور آبنائے ہرمز کی سکیورٹی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز سے متعلق خودمختار اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق پالیسی سازی پر تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

عباس عراقچی نے کہا کہ ایران خطے کے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ مشاورت اور تعاون کا خیرمقدم کرتا ہے اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے تمام فیصلے بین الاقوامی قوانین اور علاقائی استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔ انہوں نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی بھی مذمت کی اور اسلامی تعاون تنظیم سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے پر غیر یقینی صورتحال برقرار

ادھر امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق واشنگٹن کو اب بھی امید ہے کہ ایران کے ساتھ کسی مفاہمتی معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے، تاہم متعدد اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔ ذرائع کے مطابق قطر میں منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ مذاکرات میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ بن چکا ہے۔

ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران اپنے منجمد اثاثوں میں سے 12 ارب ڈالر کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کر رہا ہے اور اس پیش رفت کے بغیر مذاکرات کے اگلے مرحلے میں جانے پر آمادہ نہیں۔ دوسری طرف امریکی حکام ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں سکیورٹی سے متعلق اپنی شرائط پر زور دے رہے ہیں۔

خطے میں کشیدگی برقرار، سفارتی کوششیں جاری

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ امریکہ ضرورت پڑنے پر خطے میں کارروائی کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ امریکی مرکزی کمان نے بھی اپنی افواج کی مکمل تیاری کی تصدیق کی ہے۔ اس کے برعکس ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا اور دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز، منجمد ایرانی اثاثوں اور جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کے باعث مذاکراتی عمل بدستور نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ خطے میں حالیہ فوجی کشیدگی نے سفارتی کوششوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے

امریکا۔ایران معاہدہ قریب، منجمد فنڈز اور جوہری تنازع اہم رکاوٹ بن گئے: نیویارک پوسٹ

محمود احمد May30,2026

(نیوز اینڈ نیوز۔ 30 مئی 2026ء):واشنگٹن

امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمتی معاہدے کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے، تاہم چند اہم اور حساس معاملات پر مذاکرات ابھی بھی جاری ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم ان کی انتظامیہ کو امید ہے کہ جاری سفارتی کوششیں مثبت نتائج کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں اعلیٰ سطحی مشاورت کے باوجود بعض بنیادی نکات پر اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکا۔

رپورٹس کے مطابق قطر میں منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ معاہدے میں تاخیر کی سب سے بڑی وجہ بن گیا ہے۔ ایران اپنے منجمد مالی اثاثوں کی فوری واپسی کا مطالبہ کر رہا ہے جبکہ امریکی حکام اس معاملے پر محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق تہران نے 12 ارب ڈالر کی فوری ادائیگی کو مذاکرات کی اہم شرط قرار دیا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں آزاد بحری آمدورفت اور خطے میں استحکام کو بھی کسی بھی ممکنہ معاہدے کا اہم حصہ قرار دیا۔

ادھر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکا ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی افواج خطے میں ہر ممکن ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

امریکی مرکزی کمان نے بھی تصدیق کی ہے کہ خطے میں تعینات امریکی فوجی دستے مکمل الرٹ ہیں اور کسی بھی ممکنہ پیش رفت پر فوری ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

دوسری جانب ایران نے امریکی بیانات پر محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کسی حتمی معاہدے پر اتفاق نہیں ہوا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے لیکن مذاکرات ابھی فیصلہ کن مرحلے میں داخل نہیں ہوئے۔

ایرانی ذرائع کے مطابق جنگ کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں، تاہم جوہری پروگرام، منجمد اثاثوں اور بعض سکیورٹی معاملات پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔

سیاسی و سفارتی مبصرین کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ تاہم موجودہ اختلافات کو دیکھتے ہوئے مذاکرات کا عمل ابھی مزید وقت لے سکتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کی لازوال خدمات، سفیر عاصم افتخار کا عالمی امن کے لیے عزم کا اعادہ

محمود احمد May29,2026

نیویارک/ اقوامِ متحدہ(نیوز اینڈ نیوز۔ 29 مئی 2026ء)

اقوامِ متحدہ کے امن کاروں کے عالمی دن کے موقع پر اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی امن، سلامتی اور استحکام کے قیام کے لیے اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں اپنی تاریخی اور نمایاں خدمات جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔

29 مئی کو جاری اپنے خصوصی پیغام میں سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر نیلے پرچم تلے خدمات انجام دینے والے تمام امن کاروں کی جرات، پیشہ ورانہ مہارت، لگن اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف تنازعات زدہ اور غیر مستحکم خطوں میں امن کے قیام کے لیے خدمات انجام دینے والے امن کار انسانیت کے حقیقی سفیر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں شرکت صرف ایک ذمہ داری نہیں بلکہ بین الاقوامی امن و سلامتی کے فروغ اور کثیرالجہتی تعاون سے وابستگی کا عملی اظہار ہے۔ پاکستان سن 1960 سے اب تک دنیا بھر میں اقوامِ متحدہ کے مختلف امن مشنز میں 2 لاکھ 70 ہزار سے زائد فوجی اور سویلین امن کار بھیج چکا ہے، جنہوں نے انتہائی مشکل اور خطرناک حالات میں اپنے فرائض انجام دیے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے ان 183 پاکستانی امن کاروں کو بھی زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ عظیم قربانیاں پاکستان کے عالمی امن کے لیے غیر متزلزل عزم کی روشن مثال ہیں اور پوری قوم اپنے شہداء پر فخر کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز دنیا میں امن قائم رکھنے کے لیے عالمی برادری کے پاس موجود سب سے مؤثر، عملی اور نسبتاً کم لاگت ذرائع میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ مشنز شہریوں کے تحفظ، جنگ بندی کی نگرانی، تشدد کی روک تھام، سیاسی عمل کی معاونت، انسانی امداد کی فراہمی اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

پاکستانی مندوب نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ دنیا کے مختلف حصوں میں امن کاروں کو بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اقوامِ متحدہ کے امن کاروں پر حملے ناقابلِ قبول ہیں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ایسے اقدامات جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ امن کاروں کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر کا احتساب یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن اور امن مشنز کے لیے بڑے فوجی دستے فراہم کرنے والے ملک کی حیثیت سے پاکستان امن کارروائیوں کو مزید مؤثر، محفوظ اور مستحکم بنانے کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان امن کاروں کی حفاظت، احتساب، بہتر کارکردگی اور پائیدار مالی معاونت کے حوالے سے جاری عالمی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے امن مشنز کے مستقبل اور ان کی افادیت کے جائزے کے عمل کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات کے تناظر میں امن کارروائیوں کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔

اپنے پیغام کے اختتام پر سفیر عاصم افتخار احمد نے دنیا بھر میں خدمات انجام دینے والے تمام امن کاروں کو سلام پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان عالمی امن، استحکام اور اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کے فروغ کے لیے اپنی تاریخی ذمہ داریاں مستقبل میں بھی پوری کرتا رہے گا۔

اسرائیل اور لبنان کے درمیان اہم مذاکرات آج واشنگٹن میں، جنگ بندی اور سرحدی کشیدگی پر بڑی پیش رفت متوقع

محمود احمد May29,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز۔ 29 مئی 2026ء)

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنوبی لبنان میں مسلسل اسرائیلی حملوں کے تناظر میں اسرائیلی اور لبنانی فوجی حکام کے درمیان آج واشنگٹن میں انتہائی اہم مذاکرات ہونے جا رہے ہیں، جنہیں خطے میں ممکنہ امن اور جنگ بندی کے لیے ایک بڑی سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق لبنانی اور اسرائیلی فوجی حکام امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں مذاکرات کے پہلے باضابطہ دور میں شرکت کریں گے، جہاں سرحدی کشیدگی، جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد، جنوبی لبنان کی صورتحال اور خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔

رپورٹس کے مطابق یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب اپریل کے وسط میں لبنان اور اسرائیل نے جنگ بندی میں توسیع پر رضامندی ظاہر کی تھی، تاہم اس کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور فضائی حملوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے باعث خطے میں ایک بار پھر شدید بے چینی پیدا ہو گئی ہے۔

لبنانی وزیر اعظم نواف سلام نے اسرائیلی حملوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی لبنان پر جاری اسرائیلی حملوں کا کوئی جواز موجود نہیں، لبنان اپنی سرزمین کے مکمل تحفظ اور اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کے لیے ہر ممکن سفارتی اور سیاسی کوشش جاری رکھے گا۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں واضح کیا کہ لبنانی حکومت کا بنیادی مقصد اپنی تمام سرزمین پر ریاستی رٹ کو مضبوط بنانا اور خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل فوجی کارروائیاں نہ صرف جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہیں بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق واشنگٹن مذاکرات کو امریکا کی ایک اہم سفارتی کوشش سمجھا جا رہا ہے، جس کے ذریعے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے اور لبنان اسرائیل سرحد پر ممکنہ بڑے تصادم کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی حکام کی جانب سے تاحال مذاکرات کے ایجنڈے کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مذاکرات میں سرحدی سکیورٹی، جنگ بندی کی نگرانی، حزب اللہ کی سرگرمیوں اور علاقائی استحکام جیسے اہم معاملات زیر بحث آئیں گے۔

بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب رہے تو یہ نہ صرف لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں امن کی نئی راہیں بھی کھول سکتے ہیں۔