یوتھ اینڈ اے آئی سمٹ: اقوام متحدہ میں گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل کا جامع اور نوجوانوں پر مرکوز مصنوعی ذہانت کی حکمرانی پر زور

محمود احمد, August 13,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 13 اگست 2026ء

گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے زیادہ جامع، اخلاقی اور انسان مرکز نقطۂ نظر اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت کے مستقبل اور اس کی عالمی حکمرانی کی تشکیل میں بامعنی اور فعال کردار دیا جانا چاہیے۔

انٹرنیشنل یوتھ ڈے 2026ء کے موقع پر اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں منعقدہ ‘یوتھ اینڈ اے آئی سمٹ’ سے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان نے پاکستان کے روشن مستقبل میں نوجوانوں کی اہمیت اجاگر کی اور بتایا کہ ملک کی تقریباً 70 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نیشنل اے آئی پالیسی علم پر مبنی معیشت کے فروغ کے لیے ایک جامع لائحۂ عمل فراہم کرتی ہے، جس کے تحت سال 2030ء تک 10 لاکھ مصنوعی ذہانت کے ماہرین کی تربیت، اے آئی تعلیم و تحقیق کے فروغ اور حکومت، تعلیمی اداروں و صنعت کے درمیان تعاون کو وسعت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

ڈیجیٹل تبدیلی کی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے گورنر مندوخیل نے کہا کہ مصنوعی ذہانت جغرافیائی فاصلوں کو کم کرتے ہوئے بلوچستان جیسے پسماندہ اور دور دراز علاقوں کے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے، تاہم یہ اسی وقت ممکن ہے جب ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے اور مہارتوں تک مساوی رسائی حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی تعلیم، صحت، موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے اور عوامی خدمات کو بہتر بنانے کا ذریعہ ہے، لیکن بین الاقوامی تعاون کے بغیر یہ انقلاب ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان عدم مساوات کو بڑھا سکتا ہے۔

نوجوان شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے گورنر مندوخیل نے زور دیا کہ اے آئی کا مستقبل محض نئی نسل پر مسلط نہیں ہونا چاہیے بلکہ انہیں خود اس کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان مصنوعی ذہانت کو زیادہ مواقع، شمولیت اور انسانی فلاح و بہبود کا ذریعہ بنانے کے لیے اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

پاکستان اور بیلاروس کے درمیان تجارتی اور صنعتی تعاون کے فروغ کے لیے 9 ویں مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس: خدمات کے شعبے میں تجارتی معاہدے اور میڈیا شراکت داری پر اتفاق

کاشف عباسی , August 12,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

پاکستان اور بیلاروس نے دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، صنعتی تعاون، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کے شعبوں میں باہمی شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر مکمل اتفاق کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک نے خدمات کے شعبے میں دوطرفہ تجارتی معاہدے کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے ایک مشترکہ فزیبلٹی سٹڈی گروپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ دونوں ملکوں کے قومی میڈیا اداروں کے درمیان نشریاتی تعاون اور مواد کے تبادلے کے لیے ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے ہیں۔

وزارت اقتصادی امور ڈویژن سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان اور بیلاروس کے درمیان تجارت اور اقتصادی تعاون کے مشترکہ وزارتی کمیشن کا دو روزہ 9 واں اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور بیلاروس کے وزیر توانائی ڈزیانس ماروز نے کی۔ اجلاس میں دونوں جانب سے تجارت اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے اور بدلتے ہوئے عالمی حالات میں نئے تجارتی مواقع تلاش کرنے پر زور دیا گیا۔ اس موقع پر مشترکہ وزارتی کمیشن کے متفقہ پروٹوکول پر دستخط کیے گئے جبکہ پاکستان ٹیلی ویژن اور بیلاروس کے نیشنل سٹیٹ ٹیلی ویژن اینڈ ریڈیو کے درمیان باہمی تعاون کی یادداشت پر بھی دستخط عمل میں آئے۔

صنعتی اور زرعی شعبوں میں ٹیکنالوجی کی منتقلی اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے درمیان اشتراکِ عمل کو بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ زراعت کے شعبے میں سی فوڈ، پھلوں، بیجوں اور ڈیری پروڈکٹس کے لیے آن لائن بزنس ٹو بزنس اجلاسوں اور نمائشوں کے انعقاد پر فیصلہ ہوا۔ اس کے علاوہ سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں کوالٹی کنٹرول معیارات کو باہمی طور پر تسلیم کرنے کے طریقہ کار پر کام شروع کرنے کی تجویز دی گئی، جبکہ بیلاروس نے پانی کے تحفظ اور فضلے کے انتظام کی جدید ٹیکنالوجی میں تعاون کی پیشکش کی۔

پاکستانی جانب سے بیلاروس کی معیشت کے لیے ماہر اور غیر ماہر افرادی قوت کی منظم فراہمی کا طریقہ کار وضع کرنے کی آمادگی ظاہر کی گئی، جس سے پاکستانی نوجوانوں کے لیے بیرون ملک روزگار کے بہترین مواقع پیدا ہوں گے۔ دونوں ممالک کے چیئرمینوں نے اجلاس کے نتائج اور فیصلوں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ اقدامات دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کو ایک نئی بلندی پر لے جائیں گے۔

کولمبیا کی جانب سے مقبوضہ شامی گولان ہائٹس پر اسرائیلی تسلط تسلیم کرنے کی شدید مذمت: سعودی عرب نے فیصلے کو بین الاقوامی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی قرار دے دیا

محمود احمد, August 12,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

سعودی عرب نے کولمبیا کی جانب سے مقبوضہ شامی گولان ہائٹس پر غاصب اسرائیلی خودمختاری و تسلط کو باقاعدہ تسلیم کرنے کے یکطرفہ فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین، عالمی اصولوں اور اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے جاری کردہ ایک انتہائی اہم سرکاری بیان میں واضح کیا کہ کولمبیا کا یہ غیر قانونی اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سال 1981ء میں منظور کی جانے والی تاریخی قرارداد 497 کی مکمل اور صریح خلاف ورزی ہے۔ اس سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت مقبوضہ گولان ہائٹس کے علاقے پر اسرائیل کے اپنے ظالمانہ قوانین، دائرہ اختیار اور انتظامیہ نافذ کرنے کا اقدام مکمل طور پر کالعدم اور قانونی اثرات کے بغیر ٹھہرایا گیا ہے۔

سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اس قسم کے بلاجواز اور غیر قانونی سیاسی موقف خطے میں منصفانہ اور پائیدار امن کے حصول میں کسی قسم کی مدد فراہم نہیں کرتے بلکہ اس سے خطے میں قیامِ امن کی بین الاقوامی کاوشوں کو شدید نقصان پہنچنے اور معاملات کو سبوتاژ کرنے کا اندیشہ ہے۔

سعودی عرب نے اپنے دیرینہ اور اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے زور دیا کہ گولان ہائٹس بلا شبہ شام کی ایک مقبوضہ سرزمین ہے اور اس کی تاریخی، جغرافیائی یا قانونی حیثیت کو کسی صورت تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے یکطرفہ فیصلے يا اقدامات اس ناانصافی کو کوئی قانونی جواز فراہم نہیں کر سکتے۔ اپنے بیان کے اختتام پر مملکت نے کولمبیا کی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اپنے اس فیصلے اور موقف پر نظرثانی کرے، عالمی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری کو یقینی بنائے اور خطے میں منصفانہ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے کوششوں کی حمایت کرے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کا مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر دبنگ مؤقف: سلامتی کونسل سے غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی مظالم اور غیر قانونی بستیوں کی توسیع کے خلاف فوری اور عملی اقدامات کا مطالبہ

محمود احمد, August 12,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے مشرقِ وسطیٰ کی تشویشناک اور نازک صورتِ حال پر سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بڑھتے ہوئے اسرائیلی مظالم، غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور شدت اختیار کرتے ہوئے انسانی بحران پر عالمی برادری اور سلامتی کونسل سے فوری و سخت عملی اقدامات کا مطالبات کیا ہے۔ سلامتی کونسل کے اس اہم اور ہنگامی اجلاس کے دوران اپنے مفصل اور جامع خطاب میں پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کے نمائندوں کی جانب سے کونسل کو فراہم کی گئی بریفنگز محض لفظی کارروائی یا کارروائی کا حصہ نہیں بلکہ فوری اور عملی اقدامات کا بین الاقوامی تقاضا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے اور غزة میں پیش آنے والے واقعات کو الگ تھلگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ یہ ایک طے شدہ، باہم مربوط اور دہائیوں پر محیط غاصبانہ قبضے کا نتیجہ ہیں جس کا بنیادی مقصد دو ریاستی حل کے تمام امکانات کو یکسر اور ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے مغربی کنارے میں بستیوں کی مسلسل توسیع بالخصوص ‘کرمسن تھریڈ’ منصوبے اور ای ون علاقے میں آبادکاری پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں 1967ء کے بعد سے فلسطین میں بے دخلی کا سب سے بڑا بحران جنم لے چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے زمینوں کی رجسٹریشن اور انتظامی اختیارات پر ناجائز قبضہ درحقیقت عملاً الحاق کے عمل کو آگے بڑھا رہا ہے جو سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں اور عالمی عدالتِ انصاف کی واضح مشاورتی آراء کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینیوں کے ٹیکس اور ریونیو کے اربوں روپے کی مسلسل روک تھام فلسطینی اداروں کو معاشی طور پر مفلوج کرنے کی ایک منظم سازش ہے، لہٰذا یہ رقم بغیر کسی تاخیر کے فوری اور مکمل طور پر جاری کی جانی چاہیے۔

مسجدِ اقصیٰ اور الحرم الشریف کی مقدس صورتحال پر بات کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے کہا کہ اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے مسلمانوں کی مقدس ترین جگہ پر مسلسل دھاوے اور اشتعال انگیز کارروائیاں پورے خطے کی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ انہوں نے 24 جولائی اور 6 اگست کو پاکستان سمیت آٹھ اہم عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غزہ پر اسرائیلی حملوں اور مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد کو الگ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ تمام تر اقدامات طاقت کے زور پر ایک نئی جغرافیائی صورتحال مسلط کرنے کی پالیسی کا حصہ ہیں۔

غزہ کی انسانی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ جامع منصوبے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 نے انسانی تکالیف کو کم کرنے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کیا تھا، تاہم اسرائیل کی جانب سے مسلسل فوجی کشیدگی اور روڈ میپ کو مسترد کرنا عالمی سفارتی کاوشوں کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس سلسلے میں امریکہ، مصر، قطر اور ترکیہ کی جانب سے جاری مسلسل سفارتی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے واضح مطالبات پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قابض طاقت اسرائیل تمام تر غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیاں فوری طور پر روکے اور بین الاقوامی قوانین بالخصوص سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 پر مکمل عمل پیرا ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کو فی الفور بند کرایا جائے اور جرم کے مرتکب افراد کا کڑا احتساب کیا جائے۔ انہوں نے فلسطینی صدر کے مطالبے کے مطابق فلسطینی عوام کو عالمی تحفظ فراہم کرنے اور بچوں کی حفاظت سے متعلق یونیسیف کی سفارشات پر فوراً عمل درآمد کرنے پر بھی زور دیا۔

پاکستانی مندوب نے مطالبہ کیا کہ مسجدِ اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنایا جائے اور تمام اشتعال انگیز اقدامات کو فوری روکا جائے۔ انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ قرارداد 2803 اور جامع امن منصوبے پر بغیر کسی حیل و حجت کے مکمل اور نیک نیتی سے عمل درآمد کرایا جائے اور اس کے راستے میں حائل رکاوٹوں کا سختی سے سدباب کیا جائے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے انتباہ جاری کیا کہ اگر اسرائیل کی ان جارحانہ پالیسیوں کی سمت کو فوری نہ بدلا گیا تو پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے اس کے نتائج انتہائی تباہ کن ہوں گے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا واحد راستہ 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ایک خودمختار، آزاد اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کا قیام ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

ایمریٹس ایئرلائن کی مسافروں کے لیے 4 نئی سہولیات کا اعلان: مفت تاریخ تبدیلی اور کم ریفنڈ فیس کا تحفہ

محمود احمد, August 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

عالمی ایئرلائن ایمریٹس نے اپنے مسافروں کو سفری منصوبوں میں آسانی اور لچک فراہم کرنے کے لیے چار اہم نئی سہولیات کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔ ان میں دبئی کے سفر کی تاریخ میں مفت تبدیلی، کم فیس کے ساتھ ریفنڈ، ایئرلائن کے پورے نیٹ ورک پر تاریخ میں ایک مرتبہ مفت تبدیلی اور اسکائی وارڈز اراکین کے لیے خصوصی بچت شامل ہیں۔

ایمریٹس کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق 10 اگست 2026ء سے دبئی جانے والے مسافروں کو اپنے سفر کی تاریخ میں بغیر کسی اضافی فیس کے جتنی بار چاہے تبدیلی ( کرنے کی سہولت دے دی گئی ہے۔ یہ سہولت اکانومی کلاس (سیور سے فلیکس) اور بزنس کلاس کے تمام کرایوں پر لاگو ہوگی۔ اس کے علاوہ دبئی کی پروازوں کے لیے ریفنڈ فیس میں بھی نمایاں کمی کی گئی ہے، جہاں اکانومی سیور اور بزنس سیور پر اب ریفنڈ فیس صرف 50 امریکی ڈالر جبکہ فلیکس کرایوں پر محض 25 امریکی ڈالر ہوگی۔

اسی طرح ایمریٹس نیٹ ورک کے تمام روٹس پر سفر کرنے والے مسافروں کو بھی ٹکٹ کی تاریخ میں ایک بار مفت تبدیلی کا موقع حاصل ہوگا۔ پروازوں میں کسی بھی غیر متوقع خلل یا فضائی حدود کی بندش کی صورت میں ایئرلائن مسافروں کی رہائش اور متبادل پروازوں کی بکنگ بلا معاوضہ خود یقینی بنائے گی۔

علاوہ ازیں، ایمریٹس اسکائی وارڈز اراکین کے لیے 31 اگست 2026ء تک خصوصی آفر دی گئی ہے، جس کے تحت سلور، گولڈ اور پلاٹینم کا درجہ حاصل کرنے کے لیے درکار ٹیر مائلز میں 20 فیصد کی رعایت شامل ہے، جبکہ کیش پلس مائلز کے استعمال پر فی 2,000 مائلز کے بدلے 30 امریکی ڈالر کی بچت کی جا سکے گی۔

آسٹریلیا سے پاکستان کو ریکارڈ 1.14 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر: قونصلیٹ جنرل سڈنی میں شاندار تقریب کا انعقاد

محمود احمد, August 11,2026

سڈنی (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

قونصلیٹ جنرل آف پاکستان سڈنی میں مالی سال 2025-26ء کے دوران آسٹریلیا سے پاکستان کو 1 ارب امریکی ڈالر سے زائد (1.14 ارب ڈالر) کی ریکارڈ ترسیلاتِ زر کی موصولی کی خوشی میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں آسٹریلیا میں پاکستان کے ہائی کمشنر عرفان شوکت، بینکوں، ایکسچینج کمپنیوں، کاروباری تنظیموں اور پاکستانی برادری کے نمایاں نمائندوں نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر عرفان شوکت نے اس تاریخی کامیابی پر آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی برادری، بینکوں اور ریمیٹنس پرووائیڈرز کے کردار کی بھرپور تعریف کی اور قانونی ذرائع سے پیسے بھیجنے کے عمل کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ تقریب میں بتایا گیا کہ آسٹریلیا سے پاکستان بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے، جو مالی سال 2020-21ء کے 598 ملین ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2025-26ء میں 1.14 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔

آسٹریلین ریمیٹنس اینڈ کرنسی پرووائیڈرز ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر منیر محمد، اعزازی ٹیکس ایڈوائزر علی چوہان اور بینک الفلاح کے نمائندے پرویز شہباز نے خطاب کرتے ہوئے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ ، محفوظ ترسیلات اور مالیاتی آگاہی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے نمائندے ارشد ستار اور آسٹریلیا پاکستان یوتھ ایسوسی ایشن کے سرپرستِ اعلیٰ چوہدری شکیب نے بھی پاکستانی معیشت میں اوورسیز پاکستانیوں کے کردار کو سراہا۔

تقریب کے اختتام پر قونصل جنرل قمر زمان نے تمام مہمانوں اور اسٹیک ہولڈرز کا شکریہ ادا کیا، جبکہ اس تاریخی کامیابی کی یاد میں کیک بھی کاٹا گیا۔

ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کا بڑا اعلان: مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ نیٹو جیسا اتحاد ہے، مصر بھی جلد شامل ہوگا

محمود احمد, August 09,2026

انقرہ (نیوز اینڈ نیوز) — 09 اگست 2026ء

ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ’ خطے میں جاری جنگ، بحرانوں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں علاقائی استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے قائم کیا گیا ہے، جو کہ نیٹو کی طرز کا ایک مضبوط دفاعی اتحاد ہے۔

ترک سرکاری خبر رساں ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ہاکان فیدان نے واضح کیا کہ ایران یا کوئی اور ملک اس دفاعی معاہدے کا براہِ راست ہدف نہیں ہے، اور جب تک اس اتحاد کے کسی رکن پر حملہ نہیں ہوتا، کسی دوسرے ملک کو اس سے کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ ناگفتہ بہ حالات میں علاقائی ممالک کے درمیان سلامتی اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہی مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی ضمانت ثابت ہو سکتا ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اگلے مرحلے میں مصر بھی اس اتحاد کا باقاعدہ حصہ بن جائے گا، کیونکہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب پہلے ہی مصر کے ساتھ اس انداز میں تعاون کر رہے ہیں جیسے وہ اس باقاعدہ دفاعی اتحاد کے رکن ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ مصر کی شمولیت میں چند تکنیکی اور انتظامی امور باقی ہیں جن کے حل ہوتے ہی مصر اس معاہدے میں باقاعدہ شامل ہو جائے گا۔

ہاکان فیدان نے مزید بتایا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی مخصوص ریاست کے خلاف نہیں بنایا گیا، بلکہ صدر رجب طیب اردگان کی سوچ کے مطابق اس کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ ضرورت پڑنے پر خطے کے دیگر ممالک کو بھی اسی دفاعی چھتری کے نیچے لایا جا سکے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں اس تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کی شقوں کے مطابق کسی بھی ایک رکن ملک پر عسکری یا بیرونی حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ تاریخی پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں عالمی تجارتی و بحری آمدورفت شدید متاثر ہو چکی ہے۔

ایران حکومت کا تختہ الٹنے کا منصوبہ ناکام: موساد کے دو اعلیٰ عہدیدار برطرف، اسرائیلی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ میں شدید تناؤ

محمود احمد, August 09,2026

تل ابیب (نیوز اینڈ نیوز) — 09 اگست 2026ء

ایران کی حکومت کا تختہ الٹنے اور اندرونی مسلح بغاوت کا خفیہ منصوبہ ناکام ہونے کے بعد اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی “موساد” کے دو سینئر اور اعلیٰ عہدیداروں کو عہدوں سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے پر اسرائیل کی سیکیورٹی و انٹیلی جنس اسٹیبلشمنٹ میں شدید غم و غصہ اور ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔

اسرائیلی نشریاتی ادارے کی تحریری رپورٹ کے مطابق اس خفیہ اور جامع منصوبے کا مقصد ایران میں مختلف اقلیتی گروہوں، بالخصوص کرد علیحدگی پسندوں کو استعمال کر کے تہران حکومت کے خلاف ملک گیر مظاہروں اور مسلح تصادم کو ہوا دینا تھا۔ امریکی جریدے ‘نیویارک ٹائمز’ کی سابقہ رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کی حتمی توثیق وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کی تھی، جنہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی اس آپریشن پر عملدرآمد کے لیے راضی کیا تھا۔

منصوبے کے تحت ایران کے ایک ہمسایہ عرب ملک کے عراق میں قائم سفارت خانے اور اربیل (عراقی کردستان) میں واقع اس کے قونصل خانے کو مرکزی لاجسٹک ہب بنایا گیا تھا، جہاں سے ایرانی مظاہرین اور مسلح گروہوں کو جدید اسلہ، فنڈز، گاڑیاں اور اسٹار لنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ ڈیوائسز فراہم کی جا رہی تھیں۔ تاہم، تہران اور اس کے اتحادیوں کے خفیہ اداروں کو پیشگی اطلاع مل گئی، جس کے بعد ایرانی فورسز نے سرحدی کرد علاقوں اور متعلقہ قونصل خانے کے قریب تابڑ توڑ حملے کر کے منصوبے کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا اور کرد گروہوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ‘فاکس نیوز’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے کردوں کو فراہم کیا گیا بھاری خطیر رقم اور جدید اسلہ ایران پہنچنے کے بجائے راستے ہی میں ضائع یا ہڑپ کر لیا گیا۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق نیتن یاہو نے اس بڑے سٹریٹجک بلنڈر کی سیاسی و نظامی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے تمام تر ملبہ انٹیلی جنس ایجنسی پر ڈالتے ہوئے موساد کے دو اعلیٰ ترین آفیسرز کو فارغ کر دیا ہے، جس سے ملک کے عسکری و سیاسی حلقوں میں اندرونی کھینچ تان اور تناؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

اسرائیل کا ایران کے خلاف جعلی بیان گھڑنے کا انکشاف، جولائی میں امریکی خفیہ ٹھکانے پر ایرانی حملے میں درجنوں ہلاکتیں: جو کینٹ

محمود احمد, August 09,2026

یروشلم / واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 09 اگست 2026ء

اسرائیل کی جانب سے ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں ملوث ثابت کرنے کے لیے ایرانی حکام کا جعلی بیان گھڑنے اور دنیا کو گمراہ کرنے کا بڑا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ممتاز اسرائیلی صحافی رونن برگمین کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر احمد وحیدی کا ایک من گھڑت بیان تیار کیا گیا جس میں ان سے منسوب کیا گیا کہ ایران ایٹمی بم بنا رہا ہے۔

رونن برگمین کے مطابق یہ جعلی بیان سب سے پہلے بھارت میں ایک ہندو انتہا پسند اکاؤنٹ سے وائرل کروایا گیا، جس کے بعد اسرائیلی خفیہ ادارے موساد، ایک اسرائیلی ٹی وی چینل، وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے اسے دنیا بھر میں پھیلایا تاکہ ایران کے خلاف عالمی رائے عامہ کو بدلا جا سکے۔ اس انکشاف نے اسرائیلی اداروں کے دعوؤں اور بین الاقوامی سطح پر پھیلائی جانے والی غلط معلومات کی حقیقت کا پول کھول دیا ہے۔

دوسری جانب امریکی قومی سلامتی مرکز کے سابق ڈائریکٹر جو کینٹ نے ایک سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ماہ (جولائی) میں ایران نے خطے کے ایک اہم عرب ملک میں واقع سی آئی اے اور سینٹکام کے انتہائی خفیہ مشترکہ مرکز کو بالکل درست نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔

جو کینٹ کے مطابق اس پراسرار اور حساس ٹھکانے سے امریکی افواج کے اہداف اور جاسوسی کے آپریشنز چلائے جاتے تھے، جس کے بارے میں امریکی اتحادیوں کو بھی خبر نہ تھی۔ ایرانی میزائلوں کے اس دقیق حملے کے وقت وہاں سینکڑوں امریکی انٹیلی جنس اہلکار موجود تھے، جس کے نتیجے میں درجنوں ہلاکتیں ہوئیں اور اس دہلا دینے والے حملے نے پینٹاگون اور امریکی قیادت کو ہلا کر رکھ دیا۔

جو کینٹ نے مزید کہا کہ یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ کے محاذ عالمی طاقتوں کے لیے جدید ہتھیاروں اور ڈرون جنگ کی تجارتی تجربہ گاہیں بن چکے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کرپشن کیسز میں جیل جانے سے بچنے اور یوکرینی صدر زیلنسکی اپنے اقتدار کو طویل کرنے کے لیے جنگ ختم نہیں ہونے دے رہے۔

سابق ڈائریکٹر نے امریکی سیاسی قیادت کو متنبہ کیا کہ اندرونی معاشی دباؤ اور عدم استحکام کے شکار امریکہ کو اب نیتن یاہو کی بلیک میلنگ سے باہر نکلنا ہوگا، بصورتِ دیگر عالمی و علاقائی تباہی کے اثرات بدتر ہوتے چلے جائیں گے۔

معروف فٹبالر لیونل میسی کے والد جارج میسی 68 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

محمود احمد, August 08,2026

روزاریو (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

دنیا کے عظیم ترین فٹبالر اور ارجنٹائن کے اسٹار کھلاڑی لیونل میسی کے والد اور طویل عرصے تک ان کے نمائندے (ایجنٹ) رہنے والے جارج میسی 68 برس کی عمر میں ارجنٹائن کے شہر روزاریو میں انتقال کر گئے ہیں।

غیر ملکی میڈیا اور خاندانی ذرائع کے مطابق جارج میسی گزشتہ کچھ عرصے سے شدید علیل تھے اور روزاریو کے مقامی ہسپتال اور گھر میں زیرِ علاج تھے، جہاں ان کی اہلیہ اور بچوں نے ان کی دیکھ بھال کی۔ ان کی وفات پر لیونل میسی کے بچپن کے کلب ‘نیوئیلز اولڈ بوائز’ سمیت دنیا بھر کی فٹبال برادری نے گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

جارج میسی نے اپنے بیٹے لیونل میسی کے شاندار عسکری و کھیلوں کے کیریئر کی تشکیل میں کلیدی اور تاریخی کردار ادا کیا۔ بارسلونا کے ابتدائی ایام سے لے کر کامیابیوں کے عروج تک انہوں نے ہر موڑ پر اپنے بیٹے کی رہنمائی کی اور سالہا سال تک ان کے بزنس و اسپورٹس مینیجر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

لیونل میسی ماضی میں متعدد بار اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ وہ اپنے ہر میچ کے بعد اپنے والد کی رائے اور ان کی منظوری کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ 2026 کے عالمی کپ کے دوران الجزائر کے خلاف میچ میں ہیٹ ٹرک کرنے کے بعد میسی جذباتی ہو کر رو پڑے تھے، اور بعد میں انہوں نے وضاحت کی تھی کہ ان کے آنسو کسی کھیل کی وجہ سے نہیں بلکہ والد کی بیماری اور ذاتی زندگی کی مشکلات کے باعث تھے۔

یاد رہے کہ چند ماہ قبل ارجنٹائن کے ایک میڈیا ہاؤس نے ان کی وفات کی غلط خبر شائع کی تھی، جس پر متعلقہ اینکر نے معافی مانگ کر استعفیٰ دے دیا تھا، تاہم اب ان کی وفات کی باضابطہ تصدیق کر دی گئی ہے۔

عالمی تحفظ پسندی کے باوجود چین کا معاشی معجزہ: 7 ماہ میں غیر ملکی تجارت 30 ٹریلین یوآن سے متجاوز

محمود احمد, August 08,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

عالمی سطح پر معاشی سست روی، تجارتی رکاوٹوں اور تحفظ پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے باوجود چین کی غیر ملکی تجارت نے غیر معمولی استحکام اور لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ رواں سال (2026ء) کے پہلے سات ماہ کے دوران چین کی اشیاء کی تجارت کا کل حجم 30.13 ٹریلین یوآن تک پہنچ گیا ہے، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 17.3 فیصد زیادہ ہے۔

سی جی ٹی این اور عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، اس عرصے کے دوران چین کی عالمی برآمدات میں 14 فیصد جبکہ درآمدات میں 22 فیصد کا زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رائٹرز سمیت دیگر بین الاقوامی میڈیا اداروں نے چینی تجارت کے ان اعداد و شمار کو متوقع اندازوں سے کہیں بہتر اور حیران کن قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خاص طور پر مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی مصنوعات کی بین الاقوامی طلب نے چینی برآمدات کو زبردست تقویت بخشی ہے۔

چائنا رین مین یونیورسٹی کے ممتاز پروفیسر وانگ شیاؤ سونگ نے اس معاشی پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چین کے پاس دنیا کا سب سے مکمل اور مربوط صنعتی نظام موجود ہے، جو بلا تعطل اور مؤثر سپلائی چین کو یقینی بناتا ہے۔ یہی مضبوط پیداواری بنیاد چین کی تجارتی اور معاشی پائیداری کی اصل ضامن ہے۔

چین کی اس شاندار کارکردگی کے بعد بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ، ڈوئچے بینک اور دیگر معروف عالمی مالیاتی اداروں نے سال 2026ء کے لیے چین کی جی ڈی پی کی متوقع شرحِ نمو میں اضافہ کر دیا ہے، جو عالمی معیشت میں چین کے قائدانہ کردار کا واضح ثبوت ہے۔

بھارت کا ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ کا اثر: اسرائیل سے دفاعی معاہدے کی درخواست کا دعویٰ جعلی قرار

محمود احمد, August 08,2026

نئی دہلی / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

بھارتی وزارتِ خارجہ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے” کے ردِعمل میں بھارت کی جانب سے اسرائیل سے دفاعی معاہدہ کرنے کی درخواست سے متعلق وائرل خبروں کو مکمل طور پر من گھڑت اور جعلی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

انڈین میڈیا کی رپورٹس کے مطابق یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب ترک میڈیا ادارے ‘اسٹریٹورکا’ کی جانب سے ایک رپورٹ شائع کی گئی، جسے بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا گیا۔ رپورٹ میں مبینہ ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھارت نے تین اسلامی ممالک کے سہ فریقی معاہدے کا توڑ کرنے کے لیے اسرائیل سے ہنگامی دفاعی معاہدے کی استدعا کی ہے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے حقائق کی جانچ کرنے والے سیل نے وائرل رپورٹ کے اسکرین شاٹ پر “جعلی خبر” کا ٹیگ لگا کر شائع کیا اور واضح کیا کہ بھارت نے اسرائیل سے ایسی کوئی درخواست نہیں کی۔

تاہم، ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اعتراف کیا کہ بھارت اس سہ فریقی اتحاد کی پیش رفت کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے ‘مکہ دفاعی معاہدے’ کے اثرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس حوالے سے صورتحال کا مسلسل مطالعہ کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں مکہ مکرمہ کے قصر الصفا میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ایک مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پایا ہے، جس کے تحت کسی ایک بھی رکن ملک پر بیرونی مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ کی جانب سے ‘مکہ دفاعی معاہدے’ کا پرتپاک خیرمقدم

محمود احمد, August 08,2026

اسلام آباد / جدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی “مکہ دفاعی معاہدے” کا پرجوش خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پوری مسلم دنیا اور خطے کے لیے ایک سنگِ میل اسٹریٹجک پیش رفت قرار دیا ہے۔

او آئی سی کے آفیشل ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر جاری کردہ تہنیتی اور خیرسگالی کے پیغام میں سیکرٹری جنرل نے اس عظیم پیش رفت پر مکمل حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے تینوں برادر اسلامی ممالک کی دانشمندانہ قیادت اور ان تھک کاوشوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جس کی بدولت یہ اہم اتحاد اور دفاعی معاہدہ ممکن ہو سکا۔

حسین ابراہیم طہٰ نے اپنے پیغام میں زور دے کر کہا کہ یہ تاریخی معاہدہ خطے اور پوری امتِ مسلمہ میں سلامتی، پائیدار امن اور سیاسی استحکام کے لیے ایک بنیاد اور کلیدی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔

سیکرٹری جنرل او آئی سی کا مزید کہنا تھا کہ ‘مکہ دفاعی معاہدہ’ عالمی و علاقائی سطح پر تیزی سے بڑھتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک کے درمیان یکجہتی، مشترکہ مفادات کے تحفظ اور تعمیری شراکت داری کو فروغ دینے کے پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ: بحرین کی جانب سے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے تاریخی معاہدے کا خیرمقدم

محمود احمد, August 08,2026

منامہ / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

سلطنتِ بحرین نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے” کا پرجوش خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے کے دفاعی توازن اور پائیدار امن کی سمت ایک انتہائی اہم اور مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔

بحرین کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مکہ مکرمہ میں سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان، وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے دستخطوں سے طے پانے والا یہ معاہدہ وسیع علاقائی دفاعی نظام میں ایک کلیدی اضافہ ہے۔ بیان میں تینوں برادر ممالک کی شاندار دفاعی صلاحیتوں، سیکیورٹی انضمام اور پیش ورانہ عسکری مہارت کو بھی زبردست الفاظ میں سراہا گیا ہے۔

بحرینی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ تاریخی دفاعی معاہدہ علاقائی سلامتی، باہمی استحکام اور عالمی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے تینوں ممالک کی دیرینہ وابستگی اور ماضی کے شاندار ریکارڈ کا مظہر ہے۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ تحریری شراکت داری خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے اجتماعی دفاعی نظام کو بھی یکجہتی، ہم آہنگی اور اسٹریٹجک انضمام کے ذریعے مزید فعال اور مضبوط بنائے گی۔

سلطنتِ بحرین نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی سلامتی خود بحرین کی اپنی سلامتی اور بقا کے لیے ناگزیر ہے، اور بحرین ان تمام اقدامات اور معاہدوں کی مکمل حمایت کرتا ہے جو قومی خودمختاری کا تحفظ یقینی بنائیں۔ بحرین نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ وہ علاقائی سالمیت کی پاسداری اور تمام تنازعات کے سیاسی و سفارتی حل کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔

پاکستان کا سوڈان میں تعلیم کے تحفظ اور تنازع کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات پر زور

محمود احمد, August 08,2026

اقوام متحدہ / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

پاکستان نے سوڈان میں جاری شدید مسلح تنازع کے پیشِ نظر بچوں کی تعلیم کے تحفظ، تعلیمی اداروں کی بحالی اور فوری بین الاقوامی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ سوڈان کی پائیدار بحالی، مستقبل کے استحکام اور دیرپا امن کے لیے بچوں کے تحفظ اور تعلیم تک ان کی بلا تعطل رسائی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے زیر اہتمام “سوڈان میں تعلیم کا تحفظ: امن، بحالی اور استحکام میں سرمایہ کاری” کے عنوان سے منعقدہ ‘آریا فارمیولا’ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے فرسٹ سیکرٹری سید انصار شاہ نے بتایا کہ اپریل 2023ء میں تنازع کے آغاز سے اب تک سوڈان میں 17 ملین سے زائد بچوں کی تعلیم شدید متاثر ہوئی ہے، جبکہ تقریباً 8 ملین بچے اس وقت اسکولوں سے محروم ہو چکے ہیں۔

پاکستانی نمائندے نے اسکولوں، طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی عملے پر ہونے والے تمام تر حملوں کی شدید مذمت کی اور واضح کیا کہ تعلیمی اداروں کو کبھی بھی فوجی یا سیکیورٹی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہنگامی حالات میں بھی بچوں کے حقِ تعلیم کی ضامن بنے۔

سید انصار شاہ نے سوڈان کے لیے تین اہم ترجیحات پیش کیں: اسکولوں، بچوں، اساتذہ اور امدادی کارکنوں کی حفاظت کے ساتھ انسانی امداد تک محفوظ رسائی یقینی بنائی جائے۔ بے گھر اور پناہ گزین بچوں کے لیے ہنگامی تعلیمی سرگرمیوں، اسکولوں کی دوبارہ تعمیر اور اساتذہ کی مالی و فنی معاونت کو ترجیح دی جائے۔ سوڈان کے قومی تعلیمی نظام، امتحانات اور اسناد کی توثیق و منظوری کا مکمل تحفظ کیا جائے کیونکہ یہی بچے کل سوڈان کو سنبھالنے والے معمار بنیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اولین اور حتمی ترجیح سوڈان میں جاری جنگ کا فوری خاتمہ ہونا چاہیے۔ پاکستان سوڈان کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور ملک کو تقسیم کرنے والے کسی بھی متوازی حکومتی ڈھانچے کی مخالفت کرتا ہے۔ پاکستانی نمائندے نے تمام سوڈانی فریقین پر زور دیا کہ وہ تنازع کا راستہ ترک کر کے سفارتی حل اپنائیں۔

سانحہ براڈ پیک: جاں بحق کوہ پیماؤں کی میتیں اسلام آباد منتقل، ریکوری آپریشن مکمل

منصور احمد, August 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 07 اگست 2026ء

براڈ پیک پر پیش آنے والے المناک حادثے میں جان کی بازی ہارنے والے غیر ملکی و مقامی کوہ پیماؤں کی میتیں اسکردو سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچا دی گئی ہیں۔ دشوار گزار اور شدید برفانی علاقے سے میتوں کو نکالنے کا پیچیدہ آپریشن پاک فوج کے ہیلی کاپٹروں، تجربہ کار پاکستانی کوہ پیماؤں اور نیپالی شیرپاز کی مشترکہ کوششوں سے کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ 30 جولائی کو براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے باعث 10 کوہ پیما جاں بحق ہو گئے تھے، جس کے بعد کئی روز تک شدید ترین موسمی حالات کے باوجود ریسکیو اور ریکوری آپریشن جاری رکھا گیا۔ ریکور کی جانے والی میتوں میں نیپال سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما نرمل پورجا سمیت متعدد غیر ملکی کوہ پیماؤں کی میتیں شامل ہیں۔

حکام اور سفارتی ذرائع کے مطابق کوہ پیماؤں کی میتیں اب ان کے آبا و اجداد کے ممالک میں روانگی کے لیے تیار ہیں۔ نرمل پورجا کی میت جلد برطانیہ روانہ کی جائے گی جہاں انہیں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا جائے گا۔ جبکہ چینی کوہ پیما کی میت چین اور نیپالی شیرپاز کی میتیں نیپال بھیجی جا رہی ہیں۔ اس سے قبل یکتا شیرپا کی میت نیپال اور عمانی خاتون کوہ پیما کی میت پہلے ہی عمان منتقل کی جا چکی ہے۔

حکام کا مزید کہنا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والے دیگر کوہ پیماؤں کے جسدِ خاکی کی منتقلی کے تمام قانونی اور سفارتی مراحل تیزی سے طے کیے جا رہے ہیں۔ تاھم اس المناک حادثے میں تین افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن میں پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی، ایک نیپالی شیرپا اور ایک امریکی خاتون کوہ پیما شامل ہیں، جن کی تلاش کا عمل جاری رکھا جائے گا۔

مکہ مکرمہ میں وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ملاقات، اعلیٰ سطح وفد کی بھی شرکت

کاشف عباسی , August 07,2026

مکہ مکرمہ (نیوز اینڈ نیوز) — 07 اگست 2026ء

وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے مکہ مکرمہ کے تاریخی قصر الصفا میں سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے اعلیٰ سطحی ملاقات کی ہے۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق سعودی ولی عہد نے قصر الصفا آمد پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کا گرمجوشی سے پرُتپاک استقبال کیا۔

اس اہم اور اعلیٰ سطحی ملاقات میں پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، اسٹریٹجک شراکت داری، معاشی و دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی دلچسپی کے اہم علاقائی و عالمی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تاریخی دفاعی حلف طے پا گیا

محمود احمد, August 07,2026

مکہ مکرمہ (نیوز اینڈ نیوز) — 07 اگست 2026ء

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے خطے کی سیکیورٹی، مشترکہ دفاع اور اسلامی یکجہتی کو مضبوط بنانے کی سمت ایک تاریخی اور سنگِ میل پیش رفت کرتے ہوئے مکہ مکرمہ میں سہ فریقی “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے” پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں۔ معاہدے کی سب سے اہم شق کے تحت کسی بھی ایک رکن ملک پر بیرونی مسلح حملہ تینوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا جس کا اجتماعی دفاعی اصول کے تحت مشترکہ جواب دیا جائے گا۔

یہ تاریخ ساز معاہدہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی خصوصی دعوت پر مکہ مکرمہ کے تاریخی ‘الصفاء محل’ میں منعقدہ اعلیٰ سطحی مشترکہ دفاعی سربراہ اجلاس کے دوران طے پایا۔ اجلاس میں سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان، وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے شرکت کی، جہاں سعودی ولی عہد نے دونوں سربراہانِ مملکت کا پرتپاک استقبال کیا۔

سربراہی اجلاس کے دوران تینوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان دوطرفہ و سہ فریقی اسٹریٹجک تعلقات، علاقائی سلامتی، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور باہمی دلچسپی کے امور پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ قائدین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنی طویل المیعاد برادرانہ دوستی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو دفاعی میدان میں نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔

تہوں پر مبنی اس دفاعی معاہدے کے تحت نہ صرف اجتماعی دفاع کا عہد کیا گیا ہے بلکہ عسکری تربیت، جدید دفاعی ٹیکنالوجی کی منتقلی، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ، مشترکہ فوجی مشقیں اور سلامتی کے دیگر امور میں باہمی تعاون کو وسیع تر پیمانے پر فروغ دینے پر کامل اتفاق کیا گیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ’ تینوں ممالک کی مشترکہ صلاحیتوں، بین الاقوامی اور علاقائی امن کے قیام اور محفوظ مستقبل کے لیے ایک باقاعدہ فریم ورک فراہم کرتا ہے، جو خطے میں پائیدار استحکام کا باعث بنے گا۔

سری لنکا کی جیلوں میں بیک وقت ہنگامہ آرائی، کورووٹا جیل میں 2 قیدی ہلاک، متعدد زخمی

محمود احمد, August 07,2026

کولمبو (نیوز اینڈ نیوز) — 07 اگست 2026ء

سری لنکا کے شہر رتنا پورہ کے قریب کورووٹا جیل میں ہنگامہ آرائی کے دوران 2 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ سری لنکا کے وزیرِ برائے امورِ عوامی سلامتی آنندا وجے پالا نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ کورووٹا جیل میں جمعے کی صبح تقریباً ساڑھے چھ بجے بدامنی شروع ہوئی، جس میں 2 قیدی ہلاک اور 13 دیگر زخمی ہوئے جو رتنا پورہ ٹیچنگ ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

ملک بھر کی جیلوں میں بیک وقت بدامنی

وزیر نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ حالیہ دنوں میں نیگمبو، ماہارا، میگزین، کورووٹا اور پالانسینا سمیت متعدد جیلوں میں بدامنی رپورٹ ہوئی ہے، جو مربوط انداز میں پیش آنے کے شواہد ملنے پر تخریب کاری اور سازش کا شبہ ظاہر کرتی ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ان واقعات کے فوری محرکات منشیات اور جرائم پیشہ سرگرمیوں سے جڑے ہیں۔

وزیر کے مطابق میگزین جیل میں تقریباً 40 قیدیوں نے جمعرات رات ساڑھے دس بجے ایک وارڈ سے فرار کی کوشش کی، جس میں ایک قیدی ہلاک اور 10 دیگر زخمی ہوئے۔ پالانسینا جیل میں تقریباً 30 قیدی ناشتے کے بعد جیل کی چھت پر چڑھ گئے اور اندر واپس جانے سے انکار کر دیا، جہاں پولیس اور جیل حکام صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حکام کی یقین دہانی

وزیر نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کو ہدایت دی گئی ہے کہ صورتحال پر قابو پاتے ہوئے قیدیوں کی جان کی حفاظت کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ باقی تمام جیلوں کے واقعات پر قابو پا لیا گیا ہے اور عوامی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔

بھارت میں سنسنی خیز واقعہ: گجرات کے ضلع موربی میں کنویں کے اندر پانی میں بے تحاشا ہلچل، سائنسدان اور زلزلے کے ماہرین بھی حیران

محمود احمد, August 07,2026

گجرات (نیوز اینڈ نیوز) — 07 اگست 2026ء

بھارتی ریاست گجرات کے ضلع موربی کے ایک گاؤں ویرپارڈا میں پیش آنے والے ایک عجیب و غریب اور پرسرار واقعے نے مقامی آبادی سمیت ماہرین اور انتظامیہ کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک کسان پران جیون بھائی سردیا کے کھیت میں واقع 18 فٹ گہرے کنویں کے اندر گزشتہ پانچ دنوں سے پانی میں غیر معمولی تسلسل کے ساتھ لہریں اور شدید ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔

زمین میں زلزلے کا خوف اور مقامی لوگوں کا ہجوم

واقعہ دو اگست سے شروع ہوا جب کسان نے دیکھا کہ کنویں کا پانی مسلسل اچھل رہا ہے اور کنویں کے کناروں سے باہر گر رہا ہے۔ یہ خبر پھیلتے ہی آس پاس کے دیہاتوں سے بڑی تعداد میں لوگ اس پرسرار منظر کو دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کچھ لوگوں میں زلزلے یا پراسرار زمینی تبدیلیوں کے حوالے سے افواہیں پھیلنے لگیں۔

سائنسدانوں اور ماہرین ارضیات کی ابتدائی تحقیقات

عوام میں پھیلتی تشویش کے بعد ضلعی کلیکٹر سواپنل کھارے اور جیولوجسٹ جے ایس وادھیر کی قیادت میں ماہرین نے موقع کا معائنہ کیا۔

ماہرین ارضیات نے گاندھی نگر کے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے مشاورت کے بعد واضح کیا ہے کہ اس علاقے میں زلزلے کا کوئی اثر یا زیرِ زمین فالٹ لائن موجود نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق:

علاقے میں ہونے والی شدسد بارشوں کے بعد زیرِ زمین پانی کا لیول تیزی سے بڑھا ہے، جس کی وجہ سے چٹانوں کے مساموں میں موجود ہوا پر دباؤ پڑا اور وہ کنویں کے راستے باہر نکلنے کی کوشش کر رہی ہے، جس سے پانی میں یہ ہلچل پیدا ہو رہی ہے۔

اس کے علاوہ شاہراہ کے قریب ہونے کے باعث تیز ہوا کا بہاؤ اور زیرِ زمین دباؤ بھی اس لہر جیسے اثر کا سبب بن رہا ہے۔

جامع تحقیقات کی ہدایت

ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں۔ گجرات حکومت کی خصوصی سائنسی ٹیم کو سائٹ کے تفصیلی معائنے اور حتمی رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔