پاکستان کی ثالثی میں امریکہ ایران تاریخی معاہدے کے بعد برطانیہ کی نئی ٹریول ایڈوائزری جاری، دبئی اور متحدہ عرب امارات کے سفر پر عائد تمام پابندیاں ختم، برطانوی شہری معمول کے مطابق سفر کر سکیں گے

منصور احمد june 18,2026

لندن (بین الاقوامی سفارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

پاکستان کی کامیاب ترین مخلصانہ ثالثی کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے مابین تاریخی امن معاہدہ نافذ العمل ہونے کے فوری بعد برطانوی حکومت نے خطے کی صورتحال کو پرامن قرار دیتے ہوئے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے لیے اپنی آفیشل ٹریول ایڈوائزری کو بڑے پیمانے پر اپڈیٹ کر دیا ہے، لندن سے حاصل ہونے والی بین الاقوامی سفارتی تفصیلات کے مطابق برطانوی وزارتِ خارجہ (فارن آفس) نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ جنگی تنازع اور شدید کشیدگی کے باعث برطانوی شہریوں کو دبئی سمیت متحدہ عرب امارات کے تمام شہروں کے لیے جاری کردہ ”غیر ضروری سفر سے گریز“ کی سخت ترین ہدایت اور پابندی کو فوری طور پر واپس لے لیا ہے، برطانوی حکومت کی جانب سے جاری کردہ اس نئی اور نرم ترین گائیڈ لائن کے تحت اب تمام برطانوی شہری اور کاروباری افراد پہلے کی طرح مکمل طور پر پرسکون ماحول میں معمول کے مطابق دبئی اور امارات کی دیگر ریاستوں کا آزادانہ سفر کر سکتے ہیں کیونکہ اب وہاں سیکیورٹی کا کوئی خطرہ موجود نہیں رہا، واضح رہے کہ یہ مثبت ترین عالمی پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب مقتدر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک ہولناک تباہی سے بچانے کے لیے پاکستان کے تیار کردہ تاریخی امن مینو پر باقاعدہ طور پر الیکٹرانک دستخط کر دیے ہیں۔

اس عظیم الشان کامیابی پر پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے دنیا بھر کو باضابطہ مطلع کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی کی اس تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دونوں ممالک کے صدور نے حتمی دستخط ثبت کر دیے ہیں جس کے بعد یہ جرات مندانہ معاہدہ پوری دنیا میں فوری طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس سٹریٹجک معاہدے کی بنیادی اور اہم ترین شقوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے صراحت کی کہ اس امن فارمولے کے تحت ایران بین الاقوامی تجارتی بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے لیے سٹریٹجک گزرگاہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ مکمل کھول رہا ہے جبکہ دوسری جانب سپر پاور امریکہ ایران کے خلاف خلیج میں جاری اپنی کڑی اور جابرانہ بحری ناکہ بندی کو فی الفور ختم کرنے پر مکمل راضی ہو گیا ہے، وزیرِ اعظم پاکستان کا مزید کہنا تھا کہ وہ بطورِ ثالث اور ضامن اس تاریخی امریکہ ایران مفاہمتی یادداشت کی باقاعدہ توثیق کرتے ہیں اور اس سلسلے میں ۱۹ جون ۲۰۲۶ء سے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں دونوں ممالک کے مابین تکنیکی سطح کے اگلے اہم ترین مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہونے جا رہا ہے جس میں معاہدے کے تمام باریک نکات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے گا، بین الاقوامی معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے اس عظیم الشان امن معاہدے کے نفاذ کے ساتھ ہی وال اسٹریٹ سمیت دنیا بھر کی تمام بڑی اسٹاک مارکیٹس میں زبردست تیزی اور بہتری ریکارڈ کی جا رہی ہے جبکہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل (پٹرولیم) کی آسمان کو چھوتی ہوئی قیمتیں بھی یکدم نیچے گر گئی ہیں جس سے عالمی معیشت کو ایک بہت بڑا بریک تھرو اور ریلیف ملا ہے۔

فیفا ورلڈکپ، امریکی حکام کا ایرانی فٹبال ٹیم کے ساتھ ناروا سلوک، میچ کے فوراً بعد امریکہ چھوڑنے کا حکم، کپتان مہدی تاریمی کا شدید احتجاج

محمود احمد june 18,2026

لاس اینجلس (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

جاری فیفا ورلڈک2026 کے دوران امریکی حکام کی جانب سے ایرانی فٹبال ٹیم کے ساتھ انتہائی ناروا اور متعصبانہ سلوک روا رکھنے کی سنگین تفصیلات سامنے آئی ہیں، لاس اینجلس سے موصولہ بین الاقوامی اسپورٹس رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے ایرانی فٹبال ٹیم کو نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے گئے اپنے اہم ترین میچ کے فوری بعد امریکہ میں قیام کرنے کی اجازت دینے کے بجائے فی الفور ملک چھوڑ کر واپس میکسیکو میں قائم اپنے تربیتی کیمپ میں منتقل ہونے کا سخت صدارتی و انتظامی حکم جاری کیا ہے، عالمی کھیلوں کے قوانین کے برعکس امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایرانی کھلاڑیوں کو میچ کے بعد ہوٹل میں آرام کرنے اور فزیکل ریکوری کے لیے مناسب وقت بھی فراہم نہیں کیا گیا جو کہ اسپورٹس مین شپ کی کھلی خلاف ورزی ہے، ایرانی فٹبال فیڈریشن کے ذرائع کے مطابق یہ پریشان کن صورتحال صرف میچ کے بعد تک محدود نہیں رہی بلکہ میچ سے قبل جب ایرانی ٹیم اپنے تربیتی کیمپ میکسیکو سے امریکہ آرہی تھی تو اس وقت بھی امریکی امیگریشن اور سیکیورٹی حکام نے سخت تفتیش اور کڑی اسکریننگ کے نام پر ایرانی کھلاڑیوں اور آفیشلز کو ایئرپورٹ پر مسلسل ۵ گھنٹے تک روک کر شدید ذہنی و جسمانی اذیت کا نشانہ بنایا۔

ایرانی فٹبال ٹیم کے مایہ ناز کپتان مہدی تاریمی نے امریکی بیوروکریسی کے اس جابرانہ رویے پر شدید برہمی اور احتجاج کا اظہار کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ اس غیر ضروری اور متعصبانہ تفتیش کے باعث کھلاڑیوں کی فزیکل ریکوری اور کھیل پر توجہ شدید متاثر ہوئی ہے کیونکہ ورلڈکپ جیسے اتنے بڑے عالمی عسکری مقابلے کے لیے پچ پر اترنے سے پہلے ہر کھلاڑی کا ذہنی اور جسمانی طور پر مکمل تازہ دم ہونا اور پرسکون ہونا انتہائی ضروری ہوتا ہے مگر امریکی رویے نے ٹیم کو تھکاوٹ سے دوچار کیا، واضح رہے کہ ایران نے فیفا ورلڈکپ 2026 میں اپنا پہلا اہم اوپننگ میچ نیوزی لینڈ کے خلاف لاس اینجلس کے اسٹیڈیم میں کھیلا جو دونوں ٹیموں کے مابین سخت مقابلے کے بعد ۲-۲ گول سے برابر رہا تھا، ورلڈکپ شیڈول کے مطابق گروپ مرحلے میں ایران کا اگلا اہم ترین میچ آئندہ پیر کے روز بیلجیئم کے خلاف لاس اینجلس میں ہی کھیلا جانا ہے مگر امریکی حکام کی جانب سے ٹیم کو بار بار امریکہ سے باہر بھیجنے اور دوبارہ لانے کے اس کٹھن انتظامی عمل نے ایرانی فٹبال ٹیم کی اگلے میچ کی تیاریوں پر گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

فیفا ورلڈکپ، لیونل میسی نے الجزائر کے خلاف شاندار ہیٹ ٹرک کر کے کرسٹیانو رونالڈو کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا، میروسلاو کلوزے کا ریکارڈ بھی برابر

محمود احمد june 18,2026

لزبن، پرتگال (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

ارجنٹینا کے لیجنڈری اور شہرۂ آفاق فٹبالر لیونل میسی نے الجزائر کے خلاف میچ میں سحر انگیز پرفارمنس کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاندار ہیٹ ٹرک داغ دی ہے اور اس تاریخی کارنامے کے ساتھ ہی انہوں نے فیفا ورلڈکپ کی تاریخ میں ایک نیا اور ناقابلِ یقین عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے، لزبن سے حاصل ہونے والی بین الاقوامی اسپورٹس رپورٹس کے مطابق لیونل میسی اب ۳۸ سال اور ۳۵۷ دن کی عمر میں فیفا ورلڈکپ کی تاریخ کے اندر ہیٹ ٹرک اسکور کرنے والے دنیا کے معمر ترین اور سینئر ترین کھلاڑی بن گئے ہیں، میسی نے فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے اپنے پہلے ہی اوپننگ میچ میں الجزائر کے مضبوط دفاع کے پرخچے اڑاتے ہوئے یکے بعد دیگرے ۳ شاندار گول اسکور کیے اور ارجنٹینا کو الجزائر کے خلاف ۰-۳ کے واضح مارجن سے ایک یادگار کامیابی دلائی، میچ کے دوران میسی نے اپنا پہلا گول پینلٹی باکس کے باہر طوفانی اور طویل فاصلے کے شاٹ پر کیا جبکہ دوسرا گول حریف گول کیپر سے گیند ریبونڈ ہونے پر انتہائی چابکدستی سے قریب سے نیٹ کی زینت بنایا اور تیسرا گول اپنی روایتی و خوبصورت انفرادی موو کے ذریعے ڈیفینڈرز کو چکمہ دیتے ہوئے داغ کر اپنی ہیٹ ٹرک مکمل کی۔

اس جادوئی عسکری اسپورٹس کارکردگی کے ساتھ ہی لیونل میسی نے اپنے روایتی حریف اور پرتگال کے اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو کا ایک بڑا عالمی ریکارڈ باقاعدہ طور پر توڑ دیا ہے جنہوں نے سال ۲۰۱۸ء کے ورلڈکپ میں ۳۳ سال کی عمر میں اسپین کے خلاف شاندار ہیٹ ٹرک کر کے یہ اعزاز اپنے نام کیا تھا مگر اب میسی ۳۸ سال سے زائد عمر میں یہ کارنامہ انجام دے کر دنیا کے واحد سینئر کھلاڑی بن چکے ہیں، بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق میسی نے اپنے شاندار بین الاقوامی کیریئر کے ۲۰۰ویں یادگار میچ میں یہ عظیم ترین اعزاز حاصل کیا ہے اور اس یادگار ہیٹ ٹرک کے بعد اب فیفا ورلڈکپ کی تاریخ میں لیونل میسی کے کل گولز کی مجموعی تعداد ۱۶ تک پہنچ گئی ہے جس کے ساتھ ہی انہوں نے جرمنی کے مایہ ناز اسٹرائیکر میروسلاو کلوزے کا ورلڈکپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے کا عالمی ریکارڈ بھی باقاعدہ برابر کر دیا ہے اور وہ اب مشترکہ طور پر دنیا کے ٹاپ اسکورر بن گئے ہیں، ارجنٹینا کے شائقین کے لیے یہ تاریخی کارنامہ اس لحاظ سے بھی انتہائی جذباتی اور خاص بن چکا ہے کیونکہ یہ میسی کے کیریئر کے پہلے ورلڈکپ گول کے ٹھیک ۲۰ سال مکمل ہونے کے موقع پر سامنے آیا ہے جس نے اس یادگار فتح کو فٹبال کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے لازوال بنا دیا ہے۔

بھارتی میڈیا اور صحافیوں کی بولتی بند، معاہدے پر وزیرِ اعظم شہباز شریف کے بطور ثالث دستخط نے نئی دہلی میں آگ لگا دی، ”اسلام آباد میمورنڈم“ کا متن منظرِ عام پر آنے سے مودی سرکار سکتے میں

محمود احمد june 18,2026

تہران/اسلام آباد (بین الاقوامی سفارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی کے تاریخی امن معاہدے کے حوالے سے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک دھماکہ خیز ٹوئٹ نے پاکستان کے خلاف مسلسل زہریلے پروپیگنڈے اور سازشوں میں مصروف بھارتی میڈیا اور نئی دہلی کے صحافتی حلقوں میں یکسر صفِ ماتم بچھا دی ہے، تہران اور واشنگٹن سے حاصل ہونے والی تازہ ترین سٹریٹجک رپورٹس کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والی باضابطہ مفاہمتی یادداشت کا اصل متن اور آفیشل کاپی پوری دنیا کے سامنے شیئر کر دی ہے جس پر پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے بطورِ ثالث اور ضامن واضح دستخط موجود ہیں، اس منظرِ عام پر آنے والی تاریخی دستخطی کاپی نے مودی سرکار اور ہندوستانی مبصرین کے تن بدن میں شدید آگ لگا دی ہے کیونکہ بھارتی میڈیا کے لیے یہ ہضم کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے کہ عالمی سطح پر جس پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کے لیے نئی دہلی نے اربوں ڈالر پانی کی طرح بہائے، وہی پاکستان آج حالیہ عالمی تاریخ کے سب سے بڑے اور اہم ترین امن معاہدے کو یقینی بنانے کا واحد ضامن اور مرکزی محور بن کر ابھرا ہے، ایرانی صدر کی اس تاریخی ٹوئٹ کے بعد دنیا بھر کے مقتدر سفارتی حلقوں میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور پاکستان کی عسکری قیادت کی اعلیٰ سفارتکاری کی زبردست تعریفیں کی جا رہی ہیں جبکہ دوسری جانب خطے میں امن کا روایتی دشمن بھارتی میڈیا مسلسل رونے دھونے اور مضحکہ خیز تاویلات پیش کرنے میں مصروف ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق بھارتی میڈیا کی جانب سے مودی سرکار کو خفت سے بچانے کے لیے گزشتہ ۲۴ گھنٹوں کے دوران مسلسل یہ مضحکہ خیز اور من گھڑت جھوٹا الزام عائد کیا جا رہا تھا کہ اس عالمی معاہدے کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے یکطرفہ جھوٹ بولا جا رہا ہے اور اس معاہدے کا نام سرے سے ”اسلام آباد میمورنڈم“ ہے ہی نہیں اور نہ ہی اس دستاویز میں پاکستان کا کوئی ذکر موجود ہے، تاہم ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے آفیشل اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی معاہدے کی لائیو تصویر نے بھارتی میڈیا کے اس مضحکہ خیز جھوٹ اور پراپوگنڈے کو سیکنڈوں میں یکسر بے نقاب کر دیا ہے کیونکہ صدارتی دستاویز پر جلی حروف میں ”اسلام آباد میمورنڈم“ ہی تحریر ہے جس کے نیچے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور بطورِ ثالث پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ڈیجیٹل دستخط صاف چمک رہے ہیں، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے عالمی پیغام میں واشنگٹن کو کڑا پیغام دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ ایک تاریخی دستاویز ہے اور ایک طاقتور و غیرت مند ایران کا واضح پیغام ہے کہ عالمی امن ہمیشہ صرف اور صرف باہمی احترام اور برابری کے سائے میں ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، انہوں نے فخر سے کہا کہ اس مفاہمتی یادداشت کا ایک ایک لفظ غیرت مند ایرانی قوم کی حقیقی آواز کا عکاس ہے اور ایرانی قوم نے کسی بھی بیرونی عسکری دھمکی، اقتصادی ناکہ بندی یا جابرانہ دباؤ کے سامنے اپنی عزتِ نفس اور قومی خود مختاری کا سودا نہیں کیا اور آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایرانی قوم کی بے مثال استقامت، ثابت قدمی اور تہران کی ذمہ دارانہ سٹرٹیجک سفارتکاری کا شاندار نتیجہ ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مابین طے پانے والے اس ۱۴ نکاتی امن معاہدے کی پاکستان نے بطورِ ثالث باقاعدہ توثیق کر دی ہے اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے تہنیتی پیغام میں واشنگٹن اور تہران کو مبارکباد دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ عظیم معاہدہ مشرقِ وسطیٰ اور خطے میں مستقل امن و معاشی استحکام کی سب سے مضبوط بنیاد ثابت ہوگا، انہوں نے عالمی دنیا پر واضح کیا کہ اس ناممکن سفارتی پیش رفت کو ممکن بنانے، دونوں ایٹمی و عسکری طاقتوں کو جنگ کی آگ سے نکالنے اور علاقائی استحکام کو آگے بڑھانے میں پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی رات دن کی انتھک مخفی محنت اور سٹرٹیجک حکمتِ عملی نے سب سے کلیدی اور تاریخی کردار ادا کیا ہے جسے تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا جبکہ وزیرِ اعظم نے اس شاندار کامیابی پر امریکی صدر ٹرمپ، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کو پاکستان کی ریاست اور عوام کی طرف سے دلی مبارکباد بھی پیش کی ہے۔

امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی مکمل طور پر ختم کر دی، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت 60 روزہ مدت کا باقاعدہ آغاز، 300 ارب ڈالر فنڈنگ کی خبریں جعلی پروپیگنڈا ہیں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کے اہم بیانات

کاشف عباسی ,june 18,2026

واشنگٹن (بین الاقوامی امور کے ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے مابین تاریخی امن معاہدے کے نفاذ کے ساتھ ہی امریکی افواج نے ایرانی بندرگاہوں کی طویل عرصے سے جاری سخت بحری ناکہ بندی کو مکمل طور پر ختم کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے، واشنگٹن سے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کی جانب سے جاری کردہ آفیشل سٹریٹجک بیان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خصوصی اور براہِ راست ہدایت پر ایرانی بندرگاہوں اور تمام ساحلی علاقوں کی معاشی و عسکری ناکہ بندی فوری طور پر ہٹا لی گئی ہے، سینٹ کام نے واضح کیا ہے کہ خلیجِ عرب اور خلیجِ عمان میں ایرانی بندرگاہوں تک اب بحری آمد و رفت کا راستہ مکمل طور پر صاف ہے اور پٹرولیم و دیگر تجارتی سامان لانے اور لے جانے والے بین الاقوامی بحری جہازوں کی نقل و حرکت میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جا رہی تاہم تہران حکومت کی جانب سے امن معاہدے کی مکمل پاسداری کی حتمی یقین دہانی تک امریکی جنگی جہاز اور بحری بیڑے سیکیورٹی کے پیشِ نظر جنرل ایریا میں بدستور موجود رہیں گے، دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے ایک انتہائی اہم پیغام میں بین الاقوامی میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے کہ امریکہ ایران کو 300 ارب ڈالر کی خطیر رقم ادا کر رہا ہے، صدر ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ امریکہ ایران کو کوئی رقم نہیں دے رہا اور 300 ارب ڈالر کی فنڈنگ کی یہ تمام خبریں سراسر جعلی ہیں اور یہ ڈیموکریٹس کا پھیلاؤ ہوا مایوس کن سیاسی پروپیگنڈا ہے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس تاریخی امن معاہدے میں صرف اور صرف امریکہ کی شاندار کامیابی ہوئی ہے جس کے مثبت اثرات کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں یکدم نیچے آئی ہیں اور ملکی عوام کو چاہیے کہ وہ اپنی معاشی بہتری دیکھنے کے لیے امریکی اسٹاک مارکیٹ کے بہترین انڈیکس کو دیکھیں۔

مزید برآں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واشنگٹن میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے صراحت کی کہ ایران کا اس سخت ترین معاہدے پر دستخط کرنا دراصل سپر پاور امریکہ کی ایک بہت بڑی تاریخی جیت ہے اور یہ معاہدی بالخصوص امریکی عوام کے مفادات کی فتح ہے، انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے نفاذ کے ساتھ ہی ایران کی ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا گیا ہے کیونکہ دستاویز کی اہم ترین شقوں میں واضح طور پر شامل ہے کہ ایران آئندہ ایسے کوئی بھی مہلک ہتھیار یا بیلسٹک میزائل تیار نہیں کرے گا جس سے دنیا کے امن یا کسی بھی ملک کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو، نائب صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے مثبت رویے کو باریک بینی سے مانیٹر کرتے ہوئے ہی اسے مستقبل میں ریلیف فراہم کیا جائے گا اور اس معاشی ریلیف کا تمام تر انحصار تہران کے اپنے ذمہ دارانہ رویے، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک کے ساتھ اس کے پرامن تعلقات پر ہوگا، انہوں نے واضح کیا کہ تہران حکومت کی روزمرہ کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ہی اس پر عائد اقتصادی پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی کی جائے گی اور پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی یہ ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ ہر لحاظ سے امریکی سیکیورٹی مفاد کے عین مطابق ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسرائیل اور حزب اللہ بھی اس عظیم امن معاہدے کا احترام کریں گے کیونکہ خطے میں جنگ اب کسی کے مفاد میں نہیں ہے اور بعض میڈیا ہاؤسز کی جانب سے معاہدے کی شقوں کو انتہائی غلط اور گمراہ کن انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، انہوں نے مہم جوئی کا کریڈٹ دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے اپنی سخت معاشی حکمتِ عملی سے ایران کو اس حد تک کمزور کر دیا کہ وہ اپنا جارحانہ رویہ تبدیل کر کے امن کی میز پر آنے پر مجبور ہوا لہٰذا یہ امریکہ ایران معاہدہ خطے کے وسیع تر امن کے لیے ایک بہترین تاریخی پیش رفت ہے۔

جے ڈی وینس نے خطے کی تازہ ترین عسکری صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ایران نے گزشتہ دو دنوں کے دوران آبنائے ہرمز میں کسی بھی بین الاقوامی یا تجارتی بحری جہاز کو نشانہ نہیں بنایا جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں معاہدے کی پاسداری شروع کر چکا ہے اور صرف گزشتہ رات ہی اس اہم ترین بحری گزرگاہ سے ریکارڈ ۱۲.۵ ملین بیرل خام تیل لے کر متعدد جہاز بحفاظت گزرے ہیں، انہوں نے اعلان کیا کہ اسلام آباد معاہدے کے مطابق باقاعدہ جانچ پڑتال کا ۶۰ روزہ دورانیہ آج سے نافذ العمل ہو گیا ہے اور وائٹ ہاؤس بہت جلد اس مفاہمتی یادداشت کی تمام اہم شقوں اور سٹریٹجک فوائد پر امریکی کانگریس کو تفصیلی بریفنگ دے گا، اپنے آئندہ کے سفارتی شیڈول کے بارے میں بات کرتے ہوئے امریکی نائب صدر نے کہا کہ ان کا سوئٹزرلینڈ جانے کا پروگرام ضرور ہے لیکن وہاں کب جانا ہے اس کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی کیونکہ سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ایران کے ساتھ معاہدے کے انتہائی باریک تکنیکی نکات پر مزید اہم ترین بات چیت ہونی ہے اور قوی امکان ہے کہ وہ اس ہفتے کے آخر تک سوئٹزرلینڈ روانہ ہو جائیں لیکن ان کے اس دورے کا دارومدار جنیوا میں ایرانی وفد کی آمد پر ہے جو اتوار تک متوقع ہے، جے ڈی وینس نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ ایران جنیوا مذاکرات میں تمام شرائط کی مکمل تعمیل اور عملی اقدامات کے بعد ہی دنیا بھر میں موجود اپنے منجمد فنڈز تک رسائی حاصل کر سکے گا، اسرائیلی حکومت کی جانب سے آنے والے بیانات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنجمن نیتن یاہو کی کابینہ کے کچھ وزراء اس تاریخی معاہدے اور صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر بلاجواز تنقید کر رہے ہیں لیکن اسرائیلی کابینہ کو اس قسم کی تنقید کرنے سے پہلے زمینی حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لینا چاہیے، امریکی نائب صدر نے اسرائیلی قیادت کو ایک انتہائی سخت اور واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی کابینہ کو یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ان کے گھروں کی حفاظت صرف اور صرف امریکی ہتھیاروں کی بدولت ہوتی ہے اور اسرائیل کا دفاع امریکی عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے یقینی بنایا جاتا ہے کیونکہ تل ابیب اپنی بقا کے لیے جن جدید ترین ہتھیاروں کا استعمال کرتا ہے وہ سب امریکہ کے بنے ہوئے ہیں۔

”شکریہ وزیرِ اعظم شہباز شریف، شکریہ فیلڈ مارشل عاصم منیر“، امریکہ ایران امن معاہدے کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا پاکستانی قیادت سے تاریخی رابطہ

    کاشف عباسی ,june 18,2026

    اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی کے تاریخی امن معاہدے پر الیکٹرانک دستخط مکمل ہونے کے فوراً بعد اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے ایک انتہائی اہم اور طویل ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیرِ اعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ اعلیٰ سطحی اعلامیے کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف کو آج سہ پہر ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی جانب سے ایک خصوصی ٹیلیفون کال موصول ہوئی جو ۳۰ منٹ سے زائد وقت تک جاری رہی اور دونوں مقتدر رہنماؤں کے مابین تاریخی ”اسلام آباد امن معاہدے“ پر باقاعدہ دستخطوں کے عمل درآمد کے بعد یہ پہلا براہِ راست سفارتی رابطہ ہے، اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان، ایران کی اعلیٰ ترین سٹریٹجک قیادت اور ایران کے تمام برادر عوام کو اس تاریخی امن معاہدے پر دستخط مکمل ہونے پر دلی مبارکباد پیش کی اور نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عظیم الشان معاہدہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ اور پورے خطے میں مستقل امن و استحکام کے قیام میں سنگِ میل ثابت ہوگا بلکہ جنگ کی تباہ کاریوں کے بعد برادر ایرانی قوم کی تیز ترین تعمیرِ نو اور پاکستان و ایران کے مابین باہمی دلچسپی کے تمام اقتصادی، تجارتی و دفاعی شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور پائیدار بنانے کا باعث بھی بنے گا۔

    آفیشل اعلامیے کی تفصلیات کے مطابق وزیرِ اعظم پاکستان نے ایران کے سپریم لیڈر رہبرِ معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے لیے بھی اپنے گہرے احترام اور دلنشین نیک تمناؤں کا خصوصی پیغام پہنچایا، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جنگ کے خاتمے اور خطے کی معاشی خوشحالی کے لیے امن معاہدے پر دستخط کرنے کے ایرانی قیادت کے جرات مندانہ فیصلے کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے اگلے تکنیکی مرحلے کے لیے ایرانی ٹیم کی کامیابی کی دعا کی اور اس پختہ عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک سچے برادر اسلامی اور ہمسایہ ملک کی حیثیت سے عالمی فورمز سمیت ہر کٹھن شعبے میں ایران کی اخلاقی، سیاسی و اقتصادی حمایت جاری رکھے گا، دوسری جانب ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے ایرانی قوم اور تہران حکومت کی جانب سے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا مخلصانہ اور خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے تاریخی الفاظ استعمال کیے کہ ”شکریہ وزیرِ اعظم شہباز شریف، شکریہ فیلڈ مارشل عاصم منیر“، ایرانی صدر نے واشنگٹن اور تہران کو جنگ کی آگ سے نکالنے کے لیے پاکستان کی ان دونوں اعلیٰ ترین شخصیات کی انتھک سفارتی مہارت، غیر معمولی اخلاص اور اعلیٰ دانش مندی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بطورِ ثالث اس پورے عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں نہایت شاندار اور کلیدی کردار ادا کیا ہے جسے ایران کی ریاست ہمیشہ انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھے گی اور مشکل وقت میں پاکستان کی اس مثبت، تعمیری اور مخلصانہ حمایت کو ایران کی تاریخ میں ہمیشہ سنہرے حروف سے یاد رکھا جائے گا۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے برادر پاکستانی عوام کے لیے اپنی نیک خواہشات اور محبت کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ تہران باہمی دلچسپی کے تمام اہم شعبوں میں پاکستان کے ساتھ دوطرفہ سٹریٹجک تعلقات کو اب ایک نئی بلندی تک لے جانے کا شدید خواہاں ہے، اس تاریخی اور دوستانہ گفتگو کے اختتام پر دونوں ممالک کے رہنماؤں نے باہمی سہولت کے مطابق جلد از جلد ایک دوسرے کے دارالحکومتوں یعنی اسلام آباد اور تہران کے باقاعدہ سرکاری دورے کرنے پر مکمل اتفاق کیا تاکہ دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امن و امان کے امور میں موجودہ بہترین تعاون اور مشترکہ منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھایا جا سکے جبکہ دونوں صدور نے آئندہ دنوں میں بھی خطے کی بدلتی صورتحال پر مسلسل اور قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کا دورۂ سوئٹزرلینڈ منسوخ، امریکہ ایران امن معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کے باعث فیصلہ

    کاشف عباسی ,june 18,2026

    اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا دورۂ سوئٹزرلینڈ ناگزیر وجوہات کی بنا پر یکسر منسوخ کر دیا گیا ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے حاصل ہونے والی اعلیٰ سفارتی ذرائع کی تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باقاعدہ اور مستقل خاتمے کے لیے تیار کی گئی تاریخی ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ پر بطور ثالث دستخط کرنے اور دستخطوں کی یہ تقریب جنیوا کے بجائے الیکٹرانک طور پر ورچوئل انداز میں منعقد ہونے کے باعث دورہ منسوخ کرنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا، شیڈول کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے آج رات سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا روانہ ہونا تھا جہاں وہ اس معاہدے کی دستخطی تقریب میں ذاتی طور پر شرکت کرنے والے تھے تاہم دونوں بڑی عالمی طاقتوں کے صدور کے مابین ایم او یو پر مقررہ وقت سے پہلے ہی الیکٹرانک دستخط ہو جانے کے باعث اب جنیوا میں ہونے والی اس تقریب میں وزیرِ اعظم پاکستان کی جسمانی موجودگی ضروری نہیں رہی لہٰذا ان کے بیرونِ ملک دورے کا پورا شیڈول منسوخ کر دیا گیا اور جمعرات کے روز ہی وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اس تاریخی امن دستاویز پر بطور ثالث اپنے ڈیجیٹل دستخط ثبت کر دیے۔

    بین الاقوامی مبصرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے مابین طویل عرصے سے جاری شدید ترین عسکری کشیدگی اور جنگی صورتحال کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششیں بالآخر رنگ لے آئی ہیں اور دونوں عالمی طاقتوں کو امن کی میز پر لانے کے بعد اب اس تاریخی امن دستاویز کو باقاعدہ ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ کا نام دے کر دنیا بھر میں نافذ العمل کر دیا گیا ہے جس کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس بڑے عالمی معاہدے کا مرکز، ضامن اور ثالث اسلامی جمہوریہ پاکستان بنا ہے، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا اس تاریخی دستاویز پر بطور ثالث اپنے دستخط ثبت کرنا عالمی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ، جرات مندانہ خارجہ پالیسی اور بہترین امن پسند کردار کا ایک واضح ثبوت ہے، اس تاریخی امن یادداشت پر دونوں ممالک کی اعلیٰ ترین قیادت نے پہلے ہی اپنی مکمل سفارتی رضامندی ظاہر کرتے ہوئے الیکٹرانک دستخط مکمل کر لیے تھے اور اب اس مقتدر دستاویز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے باقاعدہ دستخط موجود ہیں جس کے بعد اس عالمی امن معاہدے کو دونوں حکومتوں کی اعلیٰ ترین سٹریٹجک سطح پر حتمی قانونی و آئینی حیثیت حاصل ہو گئی ہے جو خطے میں مستقل امن کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔

    سعودی عرب کے ۳ سپر آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزر گئے، خلیجی ریاستوں نے سکھ کا سانس لے لیا

    کاشف عباسی ,june 18,2026

    لندن/مسقط (بین الاقوامی تجارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے فوری بعد سعودی عرب کے پرچم بردار ۳ عظیم الشان سپر آئل ٹینکرز انتہائی حساس سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بحفاظت عبور کر چکے ہیں، برطانوی نشریاتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ میرین ٹریفک کے مستند ترین سٹرٹیجک اعداد و شمار کے مطابق اوتاد، جحام اور شادن نامی یہ تینوں پٹرولیم جہاز فروری میں ایران امریکہ تنازع کے باقاعدہ آغاز سے ہی آبنائے ہرمز کے مغرب میں واقع خلیجی سمندر میں لنگر انداز تھے کیونکہ جنگی خطرات کے باعث ان کی نقل و حرکت مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی تھی، بحری ٹریفک ٹریکنگ کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ ان جہازوں نے صیہونی و امریکی ناکہ بندی اور ایرانی حملوں کے خوف سے بچنے کے لیے اپنی لائیو پوزیشن نشر کرنے والے جدید سیکیورٹی ٹرانسمیٹر مکمل بند رکھ کر یہ انتہائی پرخطر راستہ خاموشی سے عبور کیا اور جنگی زون سے نکل کر عمان کی محفوظ خلیج میں داخل ہونے کے فوراً بعد اپنے سگنلز کو دوبارہ فعال کیا، ڈیٹا کے مطابق تینوں ٹینکرز نے سعودی عرب کے ساحلی صنعتی شہر راس تنورہ سے خام تیل لوڈ کیا تھا جن میں سے دو نے جنگ شروع ہونے سے پہلے ۲۷ اور ۲۸ فروری کو مال برداری مکمل کی تھی جبکہ تیسرے ٹینکر نے جنگ شروع ہونے کے ٹھیک ایک ہفتے بعد ۷ مارچ کو تیل لادا تھا، اس وقت اوتاد اور شادن بالترتیب جنوبی کوریا اور جاپان کو اپنی متوقع منزل کے طور پر نشر کر رہے ہیں جبکہ جحام نے اس وقت اپنی لوکیشن کو صیغہ راز میں رکھا ہوا ہے۔

    دوسری جانب بی بی سی کے سلامتی امور کے سینیئر ایڈیٹر فرینک گارڈنر نے خطے کی تازہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس معاہدے کے نفاذ پر خلیجی عرب ریاستوں نے بظاہر محتاط رہتے ہوئے بالآخر سکھ کا سانس لیا ہے کیونکہ ان ممالک کی سب سے اہم سمندری تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز اب معمول کی بین الاقوامی آمد و رفت کے لیے دوبارہ کھولی جا رہی ہے اور یہ تمام ممالک اب یہ قوی امید کر رہے ہیں کہ حالیہ مہینوں میں ایران کی جانب سے ان کی آئل فیلڈز پر آنے والے تباہ کن ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کا سلسلہ اب مستقل طور پر ختم ہو جائے گا، تاہم اس مفاہمتی یادداشت کی ابتدائی کامیابی کے باوجود مشرقِ وسطیٰ میں کئی بڑے حل طلب معاشی و عسکری معاملات بدستور موجود ہیں، ماہرین کے مطابق مذاکرات میں سب سے پیچیدہ اور اہم ترین معاملہ ایران کا جوہری پروگرام ہے کیونکہ آئندہ ۶۰ دن کا عرصہ حد سے زیادہ مختصر ہے جس میں یہ عالمی سطح پر طے کیا جائے گا کہ تہران کے جوہری پروگرام کی نگرانی کس جدید اور سخت طریقے سے کی جائے تاکہ یہ سوفیصد یقینی بنایا جا سکے کہ وہ پسِ پردہ خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے پر کام نہ کر رہا ہو، یاد رہے کہ ۲۰۱۵ء میں اوباما دور کے تاریخی ”جے سی پی او اے“ معاہدے تک پہنچنے میں اس ۶۰ روزہ مدت سے ۱۰ گنا زیادہ طویل وقت لگا تھا جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں یکطرفہ طور پر منسوخ کر دیا تھا۔

    بین الاقوامی معاشی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمد و رفت کے لیے مقررہ ۶۰ روزہ مدت ختم ہونے کے بعد بھی خلیج میں بحری جہازوں کے لیے خطرہ برقرار رہے گا کیونکہ ایران اس گزرگاہ پر سمندری نقل و حرکت کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک نیا خودساختہ قانونی نظام نافذ کر سکتا ہے جس کے تحت وہ یہاں سے گزرنے والے عالمی جہازوں سے باقاعدہ ”ٹول ٹیکس“ وصول کرے گا، واضح رہے کہ مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کو جنگی تباہی کے بعد ملک کی دوبارہ تعمیرِ نو کے لیے ۳۰۰ ارب امریکی ڈالر کا خطیر فنڈ ملنا ہے جس کی معاشی مالی معاونت بڑی حد تک وہی خلیجی عرب ریاستیں کرنے پر مجبور ہوں گی جن پر حالیہ جنگ کے دوران ایران حملے کرتا رہا ہے، بعض ماہرین کے مطابق امریکہ داخلی سیاسی دباؤ کے باعث براہِ راست ایران کو اتنی بڑی رقم دینے کی پوزیشن میں بالکل نہیں ہے لہٰذا واشنگٹن کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں بچتا کہ وہ ایران کو آبنائے ہرمز پر ٹول وصول کرنے کی کھلی اجازت دے اور اس پر مکمل خاموشی اختیار کر لے، زیادہ امکان یہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ واشنگٹن ”ٹول“ والے معاملے پر مصلحت پسندانہ خاموشی اختیار کرے گا جبکہ تہران برادر ملک مسقط (عمان) کے ساتھ مل کر اس اہم سمندری گزرگاہ پر ٹول کی مستقل وصولی کو یقینی بنائے گا، ماہرین کے نزدیک گزشتہ چند ماہ کے تنازع کے دوران ایران نے تجارتی جہازوں کو روک کر ان سے ایک سے دو ملین ڈالر کے حساب سے عارضی ٹول وصول کیا ہے مگر مستقل قانون نافذ کرنے کی صورت میں پٹرولیم جہازوں پر ۵ لاکھ ڈالر فی جہاز ٹول فیس عائد کیے جانے کا قوی امکان ہے جبکہ دیگر تجارتی سازوسامان لے جانے والے کارگو بحری جہازوں پر یہ شرح ان کے وزن کے حساب سے مختلف ہو سکتی ہے۔

    فیفا ورلڈکپ، انگلینڈ کی کروشیا کے خلاف شاندار فتح، کپتان ہیری کین کے دو گول

    محمود احمد june 18,2026

    ٹیکساس، امریکہ (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    جاری فیفا ورلڈکپ 2026ء کے ایک انتہائی سنسنی خیز اور ہائی وولٹیج مقابلے میں انگلینڈ نے کروشیا کی فٹبال ٹیم کو دو کے مقابلے میں چار گول سے عبرتناک شکست دے کر عالمی ایونٹ میں اپنے سفر کا شاندار اور جاندار آغاز کر دیا ہے، ٹیکساس سے حاصل ہونے والی اسپورٹس تفصیلات کے مطابق اس ہائی پروفائل میچ میں انگلش ٹیم کا پلہ آغاز سے ہی کروشیا کے خلاف پوزیشن اور اٹیکنگ فٹبال کے لحاظ سے بھاری رہا، انگلینڈ کی جانب سے جارحانہ اسکورنگ کا باقاعدہ آغاز میچ کے بارہویں منٹ میں ہی ہو گیا جب کروشیا کی دفاعی فاؤل پر انگلینڈ کو ایک اہم پنالٹی کک ملی جس پر کپتان ہیری کین نے انتہائی مہارت کے ساتھ گیند کو جال کی راہ دکھا کر ٹیم کو ابتدائی برتری دلائی، تاہم کھیل کے ۳۶ویں منٹ پر کروشیا کے مایہ ناز فارورڈ مارٹن نے انگلش الیون کے مضبوط دفاع کو یکسر چکمہ دیتے ہوئے بہترین گول اسکور کیا اور مقابلہ ۱-۱ سے برابر کر دیا، اس گول کے جواب میں انگلش کپتان نے پچ پر شاندار کم بیک کیا اور ٹھیک چھ منٹ بعد یعنی ۴۲ویں منٹ پر ہیری کین نے ایک بار پھر خوبصورت فیلڈ گول داغ کر انگلینڈ کو میچ میں ۲-۱ کی برتری دلا دی لیکن پہلے ہاف کے ختم ہونے سے چند سیکنڈ قبل کروشیا کے پیٹر موسیٰ نے پینلٹی ایریا کے پاس سے ایک طوفانی ہٹ لگا کر گیند کو گول پوسٹ میں پہنچایا اور مقابلہ دو دو گول سے برابر کر دیا جس کے ساتھ ہی پہلے ہاف کا کھیل اسی سنسنی خیز اسکور پر یکسر ختم ہوا۔

    کھیل کے دوسرے ہاف کے آغاز سے ہی انگلش ٹیم نے ایک منظم سٹریٹجک دباؤ کروشیا کے کھلاڑیوں پر مسلسل برقرار رکھا جس کا بھرپور فائدہ پچ پر صاف دکھائی دیا جب کھیل کے ۴۷ویں منٹ میں انگلینڈ کے اسٹار مڈفیلڈر جوڈ بیلہنگم نے حریف ٹیم کے ڈیفینڈرز کو ڈربل کرتے ہوئے ایک شاندار گول اسکور کر کے اپنی ٹیم کو ۳-۲ کی برتری دلا دی، اس کے بعد کروشیا کی ٹیم نے میچ میں واپسی کے لیے سرتوڑ کوششیں کیں اور کئی جوابی حملے کیے لیکن انگلش گول کیپر نے ان کے تمام عزائم خاک میں ملا دیے، کھیل کے آخری لمحات میں انگلش اسٹرائیکرز نے ایک بار پھر کروشیا کے کمزور دفاع پر فائنل حملہ بولا جس کے نتیجے میں ۸۵ویں منٹ میں رشفورڈ نے گیند کو نیٹ کی زینت بنا کر اسکور ۴-۲ کر دیا اور کروشیا کی میچ میں واپسی کے تمام راستے ہمیشہ کے لیے بند کر دیے، ریفری کی فائنل سیٹی بجنے تک کروشیا کی ٹیم مزید کوئی گول اسکور کرنے میں یکسر ناکام رہی اور یوں انگلینڈ نے یہ یادگار میچ چار دو کے واضح مارجن سے اپنے نام کر کے ورلڈکپ کے گروپ مرحلے میں اہم ترین تین پوائنٹس حاصل کر لیے ہیں۔

    ایران نے شرائط نہ مانیں تو دوبارہ حملے اور بحری ناکہ بندی کریں گے، امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کی دھمکی، اسرائیل کا لبنان میں آپریشن جاری رکھنے کا اعلان

    کاشف عباسی ,june 18,2026

    واشنگٹن/تل ابیب (بین الاقوامی سفارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    امریکہ اور ایران کے مابین تاریخی امن معاہدے پر دستخطوں کے فوری بعد امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ نے تہران کو سخت ترین الفاظ میں دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ میں طے کردہ کڑی شرائط پر سو فیصد عمل نہیں کیا تو امریکہ اس کے خلاف ایک مضبوط اور ناقابلِ تسخیر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کی مکمل ملٹری صلاحیت رکھتا ہے، واشنگٹن اور تل ابیب سے حاصل ہونے والی سٹریٹجک رپورٹس کے مطابق امریکی وزیرِ جنگ نے واضح کیا کہ رواں ہفتے دستخط کیے گئے امن معاہدے کے تحت واشنگٹن نے نیک نیتی کے طور پر اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر اتفاق ضرور کیا ہے جس کے باعث گزشتہ اپریل کے مہینے سے ایرانی ساحلوں کی طرف آنے اور جانے والے بحری جہازوں کی رکی ہوئی آمد و رفت بحال ہو رہی ہے مگر یہ سب مشروط ہے، پیٹ ہیگستھ نے کڑے تیور اپناتے ہوئے کہا کہ اگر ایران اپنے وعدوں کے مطابق جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی خواہشات کو مکمل طور پر ترک نہیں کرتا تو امریکی وزارتِ جنگ ہر قسم کے اقدامات کے لیے تیار ہے اور ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائیاں فوری دوبارہ شروع کر دی جائیں گی کیونکہ امریکہ کی کسی بھی عسکری کارروائی اور مذاکرات کا بنیادی مرکز صرف ایران کے جوہری ہتھیاروں کا خاتمہ ہے، انہوں نے برطانوی قیادت پر زور دیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنے فوجی اخراجات بڑھائے اور امریکہ کو بحرِ ہند کے چاگوس جزائر میں واقع اہم ترین خفیہ فوجی اڈے ”ڈیاگو گارسیا“ تک مکمل رسائی فراہم کرے۔

    دوسری جانب امریکہ اور ایران کے مابین امن معاہدہ نافذ العمل ہونے اور اس میں تمام فوجی کارروائیاں بند کرنے کی واضح شرط کے باوجود غاصب اسرائیلی فوج نے خطے کے امن کو داؤ پر لگاتے ہوئے برادر اسلامی ملک لبنان کے خلاف اپنی جارحانہ فوجی کارروائیاں بدستور جاری رکھنے کا ہٹ دھرمی پر مبنی باضابطہ اعلان کیا ہے، اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے اپنے آفیشل ٹیلی گرام چینل پر جاری کردہ ایک جابرانہ بیان میں تصدیق کی ہے کہ صیہونی فوجیں اب بھی جنوبی لبنان کے اندر تقریباً ۱۰ کلومیٹر تک پھیلے ہوئے نام نہاد سیکیورٹی زون میں آپریشنز کر رہی ہیں اور ان کی یہ فیلڈ موجودگی آپریشنل ضروریات کے باعث ہے لہٰذا صیہونی دستے خطرات کو ختم کرنے کے نام پر معصوم شہریوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے، اس سے قبل لبنانی میڈیا نے بھی تصدیق کی تھی کہ معاہدے کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی و زمینی حملے کیے گئے ہیں، صیہونی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے اس عالمی امن معاہدے پر دستخط کے بعد اب تک کوئی عوامی بیان جاری نہیں کیا اور وہ خود کو اس عمل سے یکسر الگ تھلگ ظاہر کر رہے ہیں، انہوں نے امریکی ٹیلی ویژن ”فاکس نیوز“ سے گفتگو میں مکارانہ موقف اپنایا کہ اسرائیل اس براہِ راست امن مذاکرات کا حصہ نہیں رہا ہے اور وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے سے شدید اختلاف رکھتے ہیں جبکہ اسرائیل کے انتہا پسند دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی ایتامار بن گویر نے سوشل میڈیا پر زہر اگلتے ہوئے کھلم کھلا اعلان کیا ہے کہ اسرائیل ٹرمپ کے اس امن معاہدے کا بالکل پابند نہیں ہے کیونکہ صیہونی حکومت اس معاہدے کی فریق نہیں ہے جو ان کی نام نہاد سلامتی کو یقینی نہ بنائے، صیہونی حکام کے ان بیانات نے امریکی انتظامیہ کی امن کوششوں اور معاہدے کی شفافیت پر ایک بار پھر گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    امریکہ اور ایران کے مابین جنگ کے خاتمے کا تاریخی ۱۴ نکاتی معاہدہ نافذ العمل، صدور نے الیکٹرانک دستخط کر دیے، پاکستان کی بطور ثالث توثیق


    کاشف عباسی ,june 18,2026

    تہران/واشنگٹن/اسلام آباد (بین الاقوامی سفارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    عالمِ اسلام اور بین الاقوامی سیاست کے مابین جاری شدید ترین کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک بہت بڑی اور تاریخی بریک تھرو سامنے آئی ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی اور امن کے قیام کے لیے ایک اہم ۱۴ نکاتی جامع معاہدے پر باقاعدہ طور پر الیکٹرانک دستخط کر دیے ہیں جس کے ساتھ ہی یہ تاریخی معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے، پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے اس عالمی پیش رفت کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ پر امریکہ اور ایران کے مابین الیکٹرانک دستخط مکمل ہو چکے ہیں اور پاکستان نے بطورِ ثالث اس تاریخی امن دستاویز کی باقاعدہ توثیق کر دی ہے، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے اہم ترین جذباتی و سفارتی بیان میں واضح کیا کہ اس تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دونوں طاقتور ممالک کے صدور نے دستخط کیے ہیں جو اس بات کی ناقابلِ تردید علامت ہے کہ دونوں فریقین طویل تنازع اور جنگ کے مستقل حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے میں سو فیصد سنجیدہ ہیں، انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے ابتدائی اور بنیادی قدم کے طور پر ایران نے عالمی تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی بحری ٹریفک کے لیے فوری طور پر دوبارہ کھولنے جبکہ امریکہ نے ایران کے خلاف جاری بحری ناکہ بندی کو فی الفور ختم کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے، پاکستانی وزیرِ اعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جرات مندانہ قیادت اور بہترین سفارتکاری کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی امن کے لیے مخلصانہ وابستگی نے خطے کو ایک ممکنہ ہولناک اور تباہ کن عالمی جنگ سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے جبکہ انہوں نے امریکی مذاکراتی ٹیم بشمول جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی انتھک معاشی و سیاسی کوششوں کو بھی زبردست خراجِ تحسین پیش کیا، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایران کی اعلیٰ ترین قیادت بشمول رہبرِ معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کی اعلیٰ بصیرت اور اسلامی دانشمندی کا اعتراف کرتے ہوئے ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سینیئر ارکان محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور اسکندر مومنی کی مخلصانہ خدمات کو بھی سراہا اور برادر ممالک قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی اعلیٰ قیادت کے تعمیری کردار کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ مفاہمتی یادداشت پورے خطے میں باہمی احترام اور مشترکہ معاشی خوشحالی کی ایک انتہائی مضبوط بنیاد ثابت ہو گی۔

    بین الاقوامی بیورو کے مطابق اس دستخطی تقریب کی حیرت انگیز تفصیلات کے تحت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس کے دورے کے دوران دارالحکومت پیرس کے تاریخی ورسائی محل میں فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے ساتھ ایک پُرتکلف عشائیے کے موقع پر اس تاریخی ایران امریکہ مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کیے، اس یادگار موقع پر امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے صدر ٹرمپ کو باقاعدہ دستاویزات پیش کیں جس پر دستخط مکمل ہوتے ہی فرانسیسی صدر میکرون نے امریکی صدر کو اس عظیم کامیابی پر کھڑے ہو کر دلی مبارکباد پیش کی جبکہ صدر ٹرمپ نے صحافیوں کے جم غفیر کو فاتحانہ انداز میں بتایا کہ انہوں نے ایران کے ساتھ امن معاہدے پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں، وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ آفیشل ویڈیو میں امریکی صدر کے ہاتھ کو زوم کر کے مفاہمت کی یادداشت کے خاص فارسی ورژن پر دستخط کرنے کے تاریخی لمحے کو نمایاں طور پر دکھایا گیا ہے اور اس کے چند ہی منٹوں بعد ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ”ارنا“ نے بھی تہران سے صدر مسعود پزشکیان کی ایک یادگار لائیو تصویر شائع کی جس میں ایرانی صدر نے مسکراتے ہوئے کیمرے کے سامنے اسکرین پر مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے جس کے ایک طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط صاف دکھائی دے رہے تھے، وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام کے مطابق یہ معاہدہ جنیوا (سوئٹزرلینڈ) میں طے شدہ وقت سے پہلے ہی فریقین کی باہمی رضامندی اور جلد عملدرآمد کی خواہش کے باعث الیکٹرانک طریقے سے مکمل کر لیا گیا ہے تاہم جنیوا میں دونوں ممالک کی تکنیکی مذاکراتی ٹیموں کی طے شدہ سٹرٹیجک شرکت اور ملاقات شیڈول کے مطابق بدستور برقرار رہے گی جس میں معاہدے پر عمل درآمد کے لیے فوری اگلے انتظامی مراحل طے کیے جائیں گے۔

    دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹیلی ویژن سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے معاہدے کے حتمی متن پر الیکٹرانک دستخطوں کی مکمل تصدیق کرتے ہوئے ایران کا نپی تلا اور مضبوط موقف دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، ترجمان نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ سٹرٹیجک آبنائے ہرمز کی مکمل سیکیورٹی کا معاملہ صرف ایران اور عمان کی مشترکہ مقتدر ذمہ داری ہے اور اس تجارتی گزرگاہ میں بحری جہازوں کو فراہم کی جانے والی خدمات اور پروٹیکشن کے بدلے ایران باقاعدہ سروس فیس وصول کرے گا، انہوں نے غاصب صیہونی حکومت کو کڑی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل کی جانب سے برادر اسلامی ملک لبنان پر وحشیانہ حملے اور غاصبانہ قبضہ جاری رہا تو یہ اس عالمی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی تصور ہوگی جس کے خلاف ایران سخت ترین جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے، اسماعیل بقائی نے ملکی خودمختاری پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کے میزائل پروگرام پر کسی بھی عالمی طاقت سے کوئی مذاکرات نہیں کیے جا سکتے اور نہ ہی ایران کا کوئی بھی جوہری مواد ملک سے باہر بھیجا جائے گا البتہ تہران کے پاس افزودہ یورینیم کو پرامن مقاصد کے لیے کم درجے پر لانے کا تکنیکی آپشن موجود ہے، انہوں نے واشنگٹن کو یاد دہانی کرائی کہ طے شدہ ۶۰ دنوں کے اندر امریکہ یا کسی دوسرے فریق کو خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں کوئی اضافہ نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی کوئی نئی معاشی پابندیاں لگائی جانی چاہئیں، تہران پر عائد تیل کی تمام جابرانہ پابندیاں آج سے ہی ختم ہونی چاہئیں تاکہ ایران اگلے ۶۰ دنوں میں اپنا خام تیل عالمی منڈی میں آزادانہ فروخت کر سکے اور امریکہ اس بات کا قانونی طور پر پابند ہے کہ وہ دنیا بھر میں منجمد ایرانی مالیاتی اثاثوں کو فوری بحال کرنے کے سلسلے میں حائل تمام تر رکاوٹیں دور کرے کیونکہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں پر دنیا کے کسی بھی فریق کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

    ایران کو ۶۰ دنوں تک تیل فروخت کرنے کی مکمل اجازت ملنی چاہیے، دفاعی صلاحیتوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، اسماعیل بقائی

    روزینہ اسماعیل.june 18,2026

    تہران (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والے تاریخی امن معاہدے کے تناظر میں ایران کا ٹھوس اور غیر مبہم موقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ طے شدہ اگلے ۶۰ دنوں کے اندر دوسرے فریق کو خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی ایران پر کوئی نئی پابندیاں عائد کی جانی چاہئیں، تہران سے سرکاری ٹیلی ویژن کے حوالے سے موصولہ بین الاقوامی سفارتی رپورٹ کے مطابق ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے اہم ترین پریس بیان میں واشنگٹن پر زور دیا کہ ایران پر عائد تیل کی تمام تر پابندیاں اب فوری ختم ہونی چاہئیں اور تہران کو معاہدے کے بعد آئندہ ۶۰ دنوں تک عالمی منڈی میں اپنا خام تیل آزادانہ فروخت کرنے کی مکمل آئینی اجازت ملنی چاہیے، انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اس بات کا پابند ہے کہ وہ دنیا بھر میں ایران کے منجمد کیے گئے اربوں ڈالر کے اثاثوں تک تہران کی رسائی کے سلسلے میں حائل تمام تر رکاوٹیں دور کرے، میزائل پروگرام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کے میزائلوں کے بارے میں کسی دوسرے ملک کی گفتگو ہمیں بالکل پسند نہیں اور ایران کی دفاعی صلاحیتوں پر کسی بھی عالمی فریق کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی جبکہ ایران کے پاس افزودہ یورینیم کو خود کار طریقے سے کم درجے پر لانے کا آپشن موجود ہے مگر ایرانی جوہری مواد کو کسی صورت ملک سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا، انہوں نے مزید کہا کہ عالمی تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو فراہم کی جانے والی سیکیورٹی خدمات کے بدلے ایران باقاعدہ فیس وصول کرے گا۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مشرقِ وسطیٰ کی نازک صورتحال پر بات کرتے ہوئے صیہونی حکومت کو سخت وارننگ دی کہ اسرائیل کی لبنان میں کسی بھی قسم کی فوجی موجودگی یا جارحیت اس عالمی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی تصور ہوگی اور اگر اسرائیل نے لبنان پر اپنا غاصبانہ قبضہ جاری رکھا تو ایران کی جانب سے اس کے خلاف انتہائی ضروری و سخت اقدامات کیے جائیں گے، دوسری طرف اسرائیل نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان اس معاہدے کا حصہ نہیں ہے جبکہ لبنانی صدر جوزف عون نے اپنے پریس بیان میں اصرار کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ان کے ملک کی جاری بات چیت امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والے اس تازہ امن معاہدے سے بالکل آزاد اور الگ تھلگ ہے، ادھر امریکی قومی انسدادِ دہشت گردی سینٹر کے سابق سربراہ اور ٹرمپ انتظامیہ کے سابق مشیر جو کینٹ نے خطے کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والی اس ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ کو طویل المدتی برقرار رکھنے کے لیے خطے میں اسرائیلی مہم جوئی اور اقدامات کو محدود کرنا واشنگٹن کے لیے انتہائی ضروری ہے، انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے فیصلے کو انتہائی مثبت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے خطے میں استحکام برقرار رہے گا تاہم معاہدے کی اصل کامیابی کا انحصار اسرائیل کی جارحیت کو روکنے اور مشرقِ وسطیٰ میں توازن قائم رکھنے پر ہے، دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران معاہدہ اسرائیل کے لیے بھی معاشی و سیاسی طور پر فائدہ مند ہوگا لیکن لبنان اور حزب اللہ سے متعلق معاملات میں اسرائیل کو اپنے دفاع کا ہمیشہ مکمل حق حاصل رہے گا۔

    مسجد اقصی کی حیثیت تبدیل کرنے کی اسرائیلی سازش بے نقاب، غیر قانونی بستیوں کی توسیع پر فلسطین کی شدید مذمت

    روزینہ اسماعیل.june 18,2026

    مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    فلسطینی وزارتِ خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں اسرائیلی غیر قانونی بستیوں کی جاری وحشیانہ توسیع کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی خطرناک اور کھلی اشتعال انگیزی قرار دیا ہے، مقبوضہ بیت المقدس سے حاصل ہونے والی بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق فلسطینی وزارتِ خارجہ نے اپنے ہنگامی گراں قدر بیان میں واضح کیا ہے کہ غاصب اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں نئی صیہونی آبادکاری کے لیے ۵۷۶ رہائشی یونٹس اور الخلیل (ہیبرون) کے وسط میں ایک انتہا پسند مڈل اسکول (مذہبی مدرسے) کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے، اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ غیر قانونی منظوری اسرائیل کی ہائر پلاننگ کونسل نے دی ہے جبکہ بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے تحت اسرائیلی آبادکار بستیاں سراسر غیر قانونی اور کالعدم تصور کی جاتی ہیں، فلسطینی وزارتِ خارجہ نے عالمی برادری اور سلامتی کونسل سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ معصوم فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے والے اسرائیل پر فوری طور پر تمام آبادکاری سرگرمیاں روکنے کے لیے کڑا سفارتی و اقتصادی دباؤ ڈالے اور ان جابرانہ اقدامات کو فی الفور کالعدم قرار دے، دوسری جانب اسرائیل کے بعض سخت گیر حکومتی عہدیداروں اور انتہا پسند دائیں بازو کے رہنماؤں پر سنگین الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ امریکہ کے بعض کٹر صیہونی حلقوں کے تعاون سے مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام مسجد اقصی کی تاریخی اور قانونی حیثیت (اسٹیٹس کو) کو مستقل طور پر تبدیل کرنے کی ایک انتہائی گھناؤنی سٹریٹجک سازش پر کام کر رہے ہیں۔

    عالمی مبصرین کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل میں بعض بااثر انتہا پسند حلقے مسجد اقصی کے پاک احاطے کو باضابطہ طور پر کثیر المذاہب عبادت گاہ قرار دینے کی خطرناک تجویز پر عمل پیرا ہیں، ناقدین اور مسلم اسکالرز کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی بھی جابرانہ اقدام صدیوں پرانے اس طے شدہ عالمی انتظام کے خلاف سنگین بغاوت ہو گا جس کے تحت مسجد اقصی کا تمام تر انتظام و انصرام برادر اسلامی ملک اردن کی زیر نگرانی قائم اسلامی وقف کونسل کے پاس ہے اور موجودہ بین الاقوامی قانون کے مطابق غیر مسلم افراد مسجد اقصی کا صرف دورہ کر سکتے ہیں لیکن انہیں وہاں کسی بھی قسم کی مذہبی عبادات یا رسومات ادا کرنے کی بالکل اجازت نہیں ہے، رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے بعض انتہا پسند سیاست دان مسجد اقصی میں یہودی عبادات کو وسیع پیمانے پر زبردستی متعارف کرانے کے کھلے حامی بن چکے ہیں اور اسی سلسلے میں اسرائیلی دائیں بازو کے کٹر رہنما موشے فیگلن نے حال ہی میں مسجد اقصی کے احاطے میں گھس کر اشتعال انگیز مذہبی نغمے گائے اور وہاں مسلمانوں کی مسجد کی جگہ نئی صیہونی عبادت گاہ تعمیر کرنے کے حق میں زہریلا بیان دیا ہے جبکہ اسرائیل کے متعصب وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر بھی متعدد بار پولیس فورس کے سائے میں مسجد اقصی پر دھاوا بول چکے ہیں جس کے خلاف فلسطینی عوام اور تمام عرب ممالک مسلسل شدید ترین احتجاج ریکارڈ کراتے رہے ہیں اور حالیہ وائرل ہونے والی لائیو ویڈیوز میں اتمار بن گویر کو مسجد اقصی میں اسرائیلی جھنڈا لہراتے اور مسجد پر اسرائیلی حقِ ملکیت کے غاصبانہ نعرے لگاتے ہوئے صاف دیکھا جا سکتا ہے۔

    اگرچہ اس عالمی دباؤ پر اسرائیلی وزیراعظم کے مکار دفتر نے مسجد اقصی کی موجودہ حیثیت میں کسی بھی تبدیلی کے دعووں کی روایتی تردید کی ہے تاہم فلسطینی قیادت، اردن اور دیگر علاقائی اسلامی ممالک نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، دریں اثنا اسلامی وقف کونسل کے نائب سربراہ ڈاکٹر مصطفی ابو سوئے نے دنیا کو سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ مسجد اقصی کی موجودہ اسلامی حیثیت تبدیل کرنے کی کوئی بھی ناپاک کوشش پورے مشرقِ وسطیٰ اور خطے کے امن کو ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ میں جھونک سکتی ہے کیونکہ مسجد اقصی کے معاملے میں کوئی بھی صیہونی مداخلت کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانے کا باعث بنے گی، ادھر انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والی پیش رفت کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کے دو معصوم فلسطینی دیہات میں نامعلوم انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں نے رات کی تاریکی میں مساجد کو باقاعدہ آگ لگا دی ہے، مقامی فلسطینی حکام کے مطابق رام اللہ کے قریب واقع گاؤں جِلجِلیہ میں مسجد کے وضو خانے اور دیگر حصوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا جبکہ مسجد کی دیواروں پر عبرانی زبان میں انتہائی اشتعال انگیز اور توہین آمیز نعرے بھی تحریر کیے گئے، عینی شاہدین کے مطابق اس لگی آگ سے اللہ کے گھر کی چھت، دیواریں اور قیمتی فرش بری طرح جھلس کر متاثر ہوئے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج نے روایتی سستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے واقعے کی تصدیق کی اور کہا کہ فوجی دستوں کے پہنچنے تک مشتبہ صیہونی افراد فرار ہو چکے تھے، یہ سنگین ترین پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صیہونی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور مسجد اقصی کا تحفظ ایک بار پھر پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں یکسر نیچے آ گئیں، پاکستان میں تاحال پٹرولیم مصنوعات سستی نہ ہو سکیں

    روزینہ اسماعیل.june 18,2026

    واشنگٹن/اسلام آباد (بین الاقوامی تجارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدور کے مابین تاریخی امن معاہدے کی یادداشت پر دستخط ہوتے ہی عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اور تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، واشنگٹن سے حاصل ہونے والی معاشی رپورٹس کے مطابق اس بڑے سٹریٹجک معاہدے کے نافذ ہوتے ہی امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی فی بیرل قیمت یکسر گر کر ۷۵ ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی ہے جبکہ برطانوی خام تیل (برینٹ کروڈ) ۷۷ ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے، اسی طرح متحدہ عرب امارات کا مشہورِ زمانہ مربن خام تیل بھی عالمی منڈی میں ۷۴ ڈالر فی بیرل کی کم ترین سطح پر ٹریڈ ہو رہا ہے، عالمی معاشی ماہرین کے مطابق اس امن معاہدے کے باعث جاپان، جنوبی کوریا اور دیگر بڑی ایشیائی معیشتوں میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے جس کے نتیجے میں وہاں کے اسٹاک انڈیکسز میں زبردست بہتری اور تیزی ریکارڈ کی گئی ہے، تاہم دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں زمین پر آنے کے باوجود پاکستانی عوام کو اب تک اس کا کوئی ریلیف نہیں مل سکا ہے جس پر عوامی و تجارتی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

    ملکی معاشی ذرائع کے مطابق پاکستانی حکومت نے دو ماہ کا وافر پٹرولیم ذخیرہ موجود ہونے کے باوجود رواں سال فروری کے مہینے میں ایران جنگ شروع ہوتے ہی ہنگامی بنیادوں پر ملک میں پٹرول اور ڈیژل کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کر دیا تھا لیکن اب عالمی منڈی میں قیمتیں انتہائی کم ہونے کے باوجود حکومت کی جانب سے قیمتوں میں کمی کرنے کے بجائے تاحال صرف داخلی مشاورت کا سست عمل جاری ہے، پٹرولیم سیکٹر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کا ۷۴ اور ۷۵ ڈالر فی بیرل کی سطح پر آنا پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے امپورٹ بل میں اربوں ڈالر بچانے کا سنہری موقع ہے مگر اس کے باوجود اوگرا اور وزارتِ خزانہ کی جانب سے پٹرول سستا کرنے کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ملکی صارفین تاحال مہنگا پٹرول خریدنے پر مجبور ہیں اور عوامی سطح پر حکومت سے فوری طور پر عالمی مارکیٹ کے تناسب سے پٹرولیم مصنوعات سستی کرنے کا پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

    ٹیکساس میں چھوٹا مسافر طیارہ ہائی وے پر گر کر تباہ، شہریوں نے جان پر کھیل کر مسافروں کو بچا لیا

    منصور احمد june 18,2026

    آسٹن، ٹیکساس (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے شہر لاریڈو میں ایک چھوٹا جیٹ مسافر طیارہ ہائی وے پر اچانک گر کر خوفناک حد تک تباہ ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں ایک شخص جان کی بازی ہار گیا ہے جبکہ حادثے کے فوراً بعد عام شہریوں نے اپنی جان پر کھیل کر بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی مسافروں کی زندگیاں بچا لیں، ٹیکساس سے موصولہ عالمی بیورو رپورٹ کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں مجموعی طور پر ۶ افراد سوار تھے اور طیارہ گرتے ہی ہائی وے پر سفر کرنے والے متعدد شہریوں نے اپنی گاڑیاں روک دیں اور زخمیوں کو آگ کے شعلوں سے نکالنے کے لیے فوری طور پر جائے حادثہ کی طرف دوڑ پڑے، عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بعض جرات مند شہریوں نے طیارے کے کاک پٹ کی کھڑکی کو کلہاڑیوں اور بھاری اوزاروں سے توڑ کر اندر پھنسے ہوئے زخمی افراد کو بحفاظت باہر نکالا جبکہ دیگر لوگوں نے سرکاری امدادی ٹیموں کے پہنچنے تک شدید زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنا جاری رکھی، رپورٹ کے مطابق حادثے میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ جاں بحق ہونے والا بدقسمت فرد طیارے کا مسافر تھا یا زمین پر موجود کوئی راہگیر اس کی زد میں آیا۔

    مقامی پولیس انتظامیہ نے ابھی تک طیارے میں سوار زخمی افراد کی حتمی شناخت اور ان کی نازک طبی حالت کے بارے میں تفصیلی معلومات صیغہ راز میں رکھی ہیں جبکہ امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق حادثے کے بعد اٹھنے والے زہریلے دھوئیں اور شدید آگ پر قابو پانے کی کوشش کے دوران ۵ مقامی پولیس اہلکار بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں جنہیں فوری طور پر احتیاطی تدابیر کے تحت قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، بین الاقوامی فلائٹ ٹریکنگ کمپنی کے مستند ڈیٹا کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا یہ چھوٹا جیٹ طیارہ میکسیکو کے لاس کابوس انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اڑان بھر کر لاریڈو کی جانب پرواز کر رہا تھا، لاریڈو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ڈائریکٹر گلبرٹو سانچیز نے اپنے ابتدائی بیان میں شدید خدشہ ظاہر کیا ہے کہ طیارے کو دورانِ پرواز اچانک کسی سنگین فنی خرابی کا سامنا ہوا ہو سکتا ہے تاہم فیڈرل ایوی ایشن نے حادثے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے باقاعدہ ہائی لیول تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، اس ہولناک حادثے کی دل دہلا دینے والی ویڈیوز اور لائیو تصاویر سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح وائرل ہو رہی ہیں جن میں امریکی شہریوں کو اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر انسانیت کے ناطے مسافروں کو آگ سے نکالتے دیکھا جا سکتا ہے اور دنیا بھر میں ان شہریوں کو ہیرو قرار دیا جا رہا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران معاہدے پر تنقید کرنے والوں کو سخت جواب، تنقید کرنے والے حاسد، برے یا احمق قرار

    کاشف عباسی ,june 18,2026

    واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت ترین مؤقف نہ اپنانے کے حوالے سے ہوم گراؤنڈ پر ہونے والی تمام اندرونی تنقید کو یکسر مسترد کرتے ہوئے پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے تاریخی امن معاہدے کا بھرپور اور جارحانہ دفاع کیا ہے، واشنگٹن سے حاصل ہونے والی سیاسی و معاشی رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے امریکی سٹاک مارکیٹ میں ہونے والے ریکارڈ تاریخی اضافے اور عالمی منڈی میں خام تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کو اپنی کامیاب خارجہ پالیسی کا واضح اور ناقابلِ تردید ثبوت قرار دیا ہے، تفصیلات کے مطابق امریکی صدر نے ایران کے ساتھ طے پانے والی ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ پر امریکی انتظامیہ اور بعض کٹر پالیسی سازوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے ان سوالات کا انتہائی سخت الفاظ میں جواب دیا ہے جس میں ناقدین کا دعویٰ تھا کہ تہران کے ساتھ ہونے والا یہ معاہدہ واشنگٹن کے لیے کوئی بڑی کامیابی نہیں ہے اور امریکہ کو ایران کے خلاف مزید سخت ترین لائن لینی چاہیے تھی۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مخصوص اور روایتی جارحانہ انداز میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل“ پر ایک تند و تیز پوسٹ شیئر کی ہے جس میں انہوں نے واشگاف الفاظ میں لکھا کہ ”یہ بیوقوف، جو یہ سمجھتے ہیں کہ میں ایران پر زیادہ سخت ثابت نہیں ہوا، جب کہ میری اس کامیاب پالیسی کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ نے ابھی ابھی اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھوا ہے اور تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے گر رہی ہیں، یہ لوگ یا تو حسد کا شکار ہیں، برے لوگ ہیں، یا پھر بالکل ہی احمق ہیں“، امریکی صدر کا سٹریٹجک مؤقف ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کا باقاعدہ خاتمہ ہونے اور امن معاہدہ نافذ ہوتے ہی امریکی معیشت اور سٹاک مارکیٹ نے پچھلے تمام ریکارڈز پاش پاش کر دیے ہیں کیونکہ اس معاہدے کے تحت ایران کی جانب سے عالمی تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے اور تیل کی سپلائی بحال ہونے کی امید پر عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں یکسر نیچے آ گئی ہیں جس کا براہِ راست فائدہ امریکی اور عالمی صارفین کو پہنچ رہا ہے لہٰذا معاشی ترقی پر تنقید کرنے والے ملک کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔

    فیفا ورلڈکپ، گھانا کی پاناما کے خلاف اعصاب شکن فتح، پرتگال اور کانگو کا میچ برابر

    محمود احمد june 18,2026

    ٹورنٹو، کینیڈا (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    کینیڈا کے شہر ٹورنٹو کے کھچا کھچ بھرے اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے گروپ ایل کے ایک انتہائی سنسنی خیز اور اعصاب شکن مقابلے میں گھانا نے پاناما کی فٹبال ٹیم کو ۰-۱ سے شکست دے کر اہم کامیابی اپنے نام کر لی ہے، اسپورٹس ذرائع کے مطابق دونوں ٹیموں کے مابین کھیلا گیا یہ میچ آغاز سے ہی سست روی کا شکار رہا اور مقررہ ۹۰ منٹ کے کھیل تک کوئی بھی ٹیم گول کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی، پاناما کے مضبوط دفاع نے گھانا کے فارورڈز کو گول پوسٹ سے دور رکھا لیکن کھیل کے آخری لمحات یعنی انجری ٹائم میں گھانا کے مایہ ناز کھلاڑی کیلب یرینکی نے دفاعی لائن کو چکمہ دیتے ہوئے گیند کو جال کی راہ دکھا دی اور ٹیم کو فیصلہ کن برتری دلا دی، اس سنسنی خیز گول کے فوراً بعد میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا کیونکہ میچ کے آخری لمحات میں گھانا اور پاناما کے کھلاڑیوں کے مابین شدید گرما گرمی دیکھنے میں آئی جہاں دونوں ٹیموں کے کھلاڑی آپس میں گتھم گتھا ہو گئے اور ایک دوسرے کو سرعام دھکے دیے، اس بدامنی اور قانون کی خلاف ورزی پر فیلڈ ریفری نے فوری ایکشن لیتے ہوئے پاناما کے کھلاڑی کو ریڈ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیج دیا۔

    عالمی کپ کے سلسلے میں کھیلے گئے دن کے دوسرے اہم میچ میں دنیائے فٹبال کی مضبوط ترین ٹیم پرتگال اور ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (ڈی آر کانگو) کے مابین کھیلا گیا ہائی وولٹیج مقابلہ مقررہ وقت کے اختتام پر ۱-۱ گول کی برابری کے ساتھ یکسر ختم ہو گیا ہے، فٹبال ماہرین کے مطابق دونوں ٹیموں کے مابین کھیل کا پہلا ہاف انتہائی جارحانہ رہا اور میچ میں ہونے والے دونوں گولز پہلے ہی ہاف کے دوران اسکور کیے گئے جس میں پرتگال کی مڈفیلڈ نے بہترین پاسز کے ذریعے حملے کیے تو دوسری طرف کانگو کے کھلاڑیوں نے بھی جوابی حملوں میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی، تاہم کھیل کے دوسرے ہاف میں دونوں ٹیموں کے دفاعی کھلاڑیوں نے انتہائی الرٹ رہ کر حریف اسٹرائیکرز کو جکڑے رکھا اور مضبوط حکمتِ عملی کے باعث دوسرے ہاف میں کوئی بھی ٹیم مزید کوئی گول اسکور نہ کر سکی جس کے بعد امپائر کی فائنل سیٹی کے ساتھ ہی میچ ڈرا قرار پایا اور دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔

    فیفا ورلڈکپ، لیونل میسی کو ریڈ کارڈ نہ ملنے پر شدید تنازع، ایونٹ کی شفافیت پر انگلیاں اٹھ گئیں

    محمود احمد june 18,2026

    میامی، امریکہ (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    جاری فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ء میں ارجنٹینا اور الجزائر کے مابین کھیلے گئے میچ کے دوران ارجنٹائنی کپتان اور لیجنڈری فٹبالر لیونل میسی کو سنگین فاؤل پر ”ریڈ کارڈ“ نہ دیے جانے کے بعد عالمی ایونٹ کی شفافیت پر گہرے سوالات اٹھ گئے ہیں، میامی سے حاصل ہونے والی اسپورٹس تفصیلات کے مطابق ایک طرف جہاں مشتعل شائقین نے سوشل میڈیا پر فٹبال ورلڈکپ کو ہی باقاعدہ فکسڈ قرار دینا شروع کر دیا ہے، وہیں دوسری جانب معتبر فٹبال تجزیہ کاروں اور مبصرین نے بھی گراؤنڈ ریفری کے اس فیصلے کو سراسر غیر منصفانہ اور یکطرفہ قرار دیا ہے، مشہورِ زمانہ کھیلوں کے نشریاتی ادارے ”ای ایس پی این“ کے پینل مانیٹرنگ اور ماہرین کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے کہنا تھا کہ الجزائری دفاعی کھلاڑی کے پاؤں کے پچھلے حصے پر جان بوجھ کر اپنا بوٹ رکھ کر خطرناک انداز میں گرانے کی پاداش میں قانون کے مطابق لیونل میسی کو ۱۰۰ فیصد ریڈ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیجا جانا چاہیے تھا مگر ریفری نے اسے مکمل نظرانداز کیا۔

    میچ کے سنسنی خیز ری پلے کو بار بار دیکھنے کے بعد دنیا بھر کے کھیلوں کے پنڈتوں اور فٹبال فینز کا متفقہ طور پر یہ ماننا ہے کہ اس انتہائی پرتشدد حرکت پر اسٹار کھلاڑی کو سخت ترین سزا دی جا سکتی تھی، تاہم پولینڈ سے تعلق رکھنے والے فیلڈ ریفری سزیمون نے اس ہولناک فاؤل پر میسی کو کوئی کارڈ تک نہ دکھایا اور سب سے زیادہ حیرت انگیز بات یہ رہی کہ اس دوران جدید ترین ٹیکنالوجی ”وی اے آر“ (فيديو اسسٹنٹ ریفری) کی جانب سے بھی کوئی واضح مداخلت یا ری ویو سامنے نہیں آیا، فٹبال کے دیوانوں اور صارفین نے سوشل میڈیا پر سنگین دعویٰ کیا ہے کہ ٹورنامنٹ کی ویلیو بڑھانے کے لیے فیفا کی جانب سے جان بوجھ کر اسٹار فٹبالر لیونل میسی کو ریڈ کارڈ کی پابندی سے بچایا جا رہا ہے کیونکہ انتظامیہ اور اسپاٹ لائٹ کمپنیاں ہر حال میں چاہتی ہیں کہ آگے چل کر ورلڈکپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں میسی اور کرسٹیانو رونالڈو کا ایک آخری بڑا تاریخی مقابلہ دیکھنے کو ملے اور اسی لالچ میں الجزائر کے خلاف کھلی ناانصافی کی گئی جس سے فیفا کی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔

    ورلڈکپ میں کرسٹیانو رونالڈو کی مایوس کن کارکردگی، بڑھتی عمر اور گرتی فارم پر شدید تنقید

    محمود احمد june 18,2026

    ہیوسٹن، امریکہ (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے اپنے افتتاحی میچ میں پرتگال کی ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (ڈی آر کانگو) کے خلاف مایوس کن کارکردگی کے بعد مایہ ناز اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں اور کھیلوں کے ماہرین نے ان کی بڑھتی عمر اور ٹیم میں موجودہ کردار پر گہرے سوالات اٹھانا شروع کر دیے ہیں، امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں کھیلے گئے اس سنسنی خیز میچ میں پرتگال نے ابتدا میں جواؤ نیویس کے بہترین ہیڈر کی بدولت برتری حاصل کر لی تھی اور وٹینیا، برونو فرنینڈس اور برنارڈو سلوا پر مشتمل مضبوط پرتگالی مڈفیلڈ نے کھیل پر مکمل کنٹرول برقرار رکھتے ہوئے حریف کے مقابلے میں زیادہ پاسز بھی کیے مگر اس کے باوجود ٹیم کو حتمی گول کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا رہا، میچ میں ۴۱ سالہ رونالڈو بطور مین اسٹرائیکر بالکل غیر مؤثر ثابت ہوئے اور پورے میچ میں ان کے پاؤں سے صرف ۲۵ بار گیند ٹچ ہوئی جبکہ وہ حریف ٹیم کے نیٹ پر ایک بھی ہدف کے مطابق شاٹ لگانے میں بری طرح ناکام رہے جس کے باعث یہ اہم میچ ۱-۱ سے برابر ختم ہوا اور ڈی آر کانگو نے ورلڈکپ کا ایک قیمتی پوائنٹ حاصل کر لیا۔

    اعداد و شمار کے لحاظ سے ڈی آر کانگو نے پرتگال کے مقابلے میں زیادہ شاٹس مارے اور بہتر گولز پوزیشنز پیدا کیں جس سے پرتگالی اٹیک کی سنگین کمزوری واضح ہو گئی، رونالڈو اس میچ میں ۴۱ سال اور ۱۳۲ دن کی عمر کے ساتھ ورلڈکپ کی تاریخ کے معمر ترین آؤٹ فیلڈ کھلاڑی بن گئے ہیں مگر ناقدین کا کہنا ہے کہ عمر کے اثرات اب ان کی کارکردگی پر واضح ہو چکے ہیں اور ماضی کا یہ برق رفتار ونگر اب صرف سینٹر فارورڈ تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، تشویشناک بات یہ ہے کہ رونالڈو اپنے حالیہ ورلڈکپس اور یورو کپ کے آخری میچز میں کوئی بھی گول اسکور نہیں کر سکے اور جب وہ الیون کا حصہ ہوتے ہیں تو پرتگال کی گول اوسط اوسطاً ۱.۹ ہوتی ہے جبکہ ان کی عدم موجودگی میں یہ اوسط بڑھ کر ۲.۸ گول تک پہنچ جاتی ہے، دوسری جانب پرتگال کے ہیڈ کوچ روبرٹو مارٹینز نے رونالڈو کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا کہ فٹبال کی تاریخ کے سب سے بڑے اسکورر کو کٹھن میچ میں فیلڈ سے باہر نکالنا عقلمندی نہیں ہے، تاہم اس خراب آغاز کے بعد فٹبال کی دنیا میں یہ بحث اب عروج پر پہنچ چکی ہے کہ آیا رونالڈو پرتگال کی موجودہ ورلڈکپ مہم میں ایک مضبوط طاقت ثابت ہوں گے یا پھر ٹیم کے لیے سب سے کمزور کڑی بن جائیں گے۔

    کیپ ورڈی کے اسٹار گول کیپر وزینا کی والدہ کا ویزا منظور، اتوار کو بیٹے کا میچ دیکھنے میامی اسٹیڈیم پہنچیں گی

    محمود احمد june 18,2026

    میامی، امریکہ (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

    جاری فٹبال ورلڈکپ ۲۰۲۶ء میں اپنی جاندار پرفارمنس کی بدولت راتوں رات شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے کیپ ورڈی کے مایہ ناز گول کیپر ”وزینا“ کی والدہ اب اپنے بیٹے کو ایکشن میں دیکھنے کے لیے امریکہ کے مشہورِ زمانہ میامی اسٹیڈیم میں موجود ہوں گی، اسپورٹس ذرائع کے مطابق وزینا کی والدہ اینا کانڈیڈہ بھاری امریکن ویزا فیس کی وجہ سے اب تک امریکہ نہیں جا سکی تھیں لیکن امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے خصوصی طور پر ان کی ویزا فیس معاف کر کے ان کے امریکہ پہنچنے کے ہنگامی انتظامات شروع کر دیے ہیں، یو ایس ہاؤس ڈیموکریٹک لیڈر حکیمی جیفریز نے سوشل میڈیا پر اس بڑی خوشخبری کو شیئر کرتے ہوئے دنیا کو بتایا کہ انہوں نے امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو سے اس اہم معاملے پر خصوصی بات چیت کی تھی کہ وہ اپنے صوابدیدی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے چالیس سالہ اسٹار گول کیپر کی بوڑھی والدہ کو میچ دیکھنے کے لیے امریکہ بلانے میں مدد کریں، حکیمی جیفریز کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ سرکاری اعلان کرتے ہوئے دلی خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ بھاری فیس کی وجہ سے رکی ہوئی وزینا کی والدہ اب اتوار کے روز کیپ ورڈی اور یوراگوئے کے مابین ہونے والا سنسنی خیز مقابلہ دیکھنے کے لیے میامی کے اسٹیڈیم میں موجود ہوں گی کیونکہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ان کا ویزا جاری کر کے ان کے فضائی سفر کے انتظامات بھی سنبھال لیے ہیں۔

    امریکہ روانگی کی منظوری پر وزینا کی والدیہ اینا کانڈیڈہ نے گہرے جذباتی انداز میں خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت دنیا کی خوش قسمت ترین ماں ہیں اور اپنے بیٹے سے ملنے اور اسے اتنے بڑے عالمی اسٹیج پر کھیلتے ہوئے دیکھنے کے لیے شدید بے چین ہیں، واضح رہے کہ فٹبال ورلڈکپ ۲۰۲۶ء میں شریک کیپ ورڈی سمیت دنیا کے پانچ مخصوص ممالک کے شائقینِ فٹبال کے لیے سخت امریکی امیگریشن پالیسی کے تحت ناقابلِ واپسی ویزا فیس کی مد میں ۱۱ ہزار پاؤنڈ جمع کرانے کی کڑی شرط عائد تھی جو کہ رواں سال مئی کے مہینے میں تبدیل کی گئی تھی، اسی سخت قانون اور بھاری فیس کی وجہ سے وزینا کی فیملی امریکہ آنے سے قاصر تھی لیکن اب امریکی حکومت کے اس بڑے اور ہمدردانہ فیصلے کے بعد اسٹار گول کیپر کی والدہ اتوار کو اسٹیڈیم کے وی آئی پی اسٹینڈز میں بیٹھ کر اپنی ٹیم اور بیٹے کی حوصلہ افزائی کریں گی جس پر کیپ ورڈی کے فٹبال فینز نے امریکی حکام کا شکریہ ادا کیا ہے۔