امریکہ ایران معاہدے پر نیتن یاہو مایوس، صدر ٹرمپ کا اسرائیل کو دانشمندی برتنے کا مشورہ


کاشف عباسی ,june 17,2026

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے تاریخی معاہدے پر اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو شدید مایوسی ہوئی ہے، جی سیون سمٹ کے موقع پر ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے واضح الفاظ میں کہا کہ اب اسرائیل کو چاہیے کہ وہ لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے ساتھ بہتر برتاؤ کرے اور کوئی بھی اگلا فیصلہ کرتے ہوئے انتہائی دانشمندی کا مظاہرہ کرے، انہوں نے عالمی برادری کو مائیک پر بتایا کہ اس خطے میں امن کی بحالی اور اس تاریخی کامیابی کے پیچھے پاکستان اور قطر کا بہت بڑا ہاتھ ہے، پاکستانی وزیراعظم نے انہیں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ایک ایسا بڑا کام ہونے جا رہا ہے جس پر کسی کو یقین نہیں آئے گا، صدر ٹرمپ نے اس عظیم ترین امن مشن اور سفارتی مذاکرات کے کامیاب انعقاد پر پاکستان، قطر اور سعودی عرب کے کلیدی کردار کو سراہتے ہوئے اپنے تمام بین الاقوامی شراکت داروں کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کو بڑی خوشخبری سناتے ہوئے اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ حتمی اور باقاعدہ معاہدہ رواں اتوار تک مکمل ہو جائے گا جس کے فوراً بعد خطے کے تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی ہو جائے گی اور بند پڑی آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے ہمیشہ کے لیے کھول دیا جائے گا، انہوں نے صاف کہا کہ اگر امریکہ ایران کے ساتھ یہ ڈیل نہ کرتا تو آبنائے ہرمز کا کھلنا ناممکن تھا، صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران اس بات پر مکمل راضی ہو چکا ہے کہ وہ مستقبل میں نہ تو کبھی ایٹم بم بنائے گا اور نہ ہی اسے حاصل کرنے کی کوشش کرے گا جبکہ امریکی سیٹلائٹ کے ذریعے ایران کی تمام جوہری تنصیبات اور یورینیم کے ذخائر کی چوبیس گھنٹے کڑی نگرانی کی جا رہی ہے اور ہم ان کے جوہری مواد کا سراغ لگا لیں گے، انہوں نے ایرانی حکام کو سخت اور زیرک مذاکرات کار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگلے مرحلے میں ایرانی میزائل پروگرام اور اس سے وابستہ دیگر مسلح گروہوں کے معاملے پر بھی تفصیلی بات چیت ہو گی، پریس کانفرنس کے دوران روس یوکرین جنگ پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یوکرین سے زیادہ اس وقت روس اپنے فوجیوں سے محروم ہو رہا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یوکرین اور روس دونوں ہی یہ نہیں جانتے کہ آپس میں امن ڈیل کیسے کی جاتی ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدہ طے، 14 اہم نکات منظرِ عام پر آگئے

محمود احمد june 17,2026

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

امریکی میڈیا اور معتبر جریدے بلومبرگ نے امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والے اہم ترین ایم او یو فریم ورک کے 14 خفیہ اور انقلابی نکات کی مکمل تفصیلات جاری کر دی ہیں جس کے تحت لبنان سمیت تمام علاقائی محاذوں پر فوری جنگ بندی کی جائے گی اور حتمی معاہدے کے تحت ایران کے افزودہ جوہری مواد کے حوالے سے کڑی شقیں شامل کی جائیں گی، واشنگٹن سے حاصل ہونے والی عالمی سفارتی تفصیلات کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان آئندہ ۶۰ روز کے اندر ایک بڑے حتمی معاہدے تک پہنچنے پر مکمل اتفاق ہو گیا ہے اور دونوں ممالک نے جوہری امور سمیت طویل عرصے سے عائد اقتصادی پابندیوں کے خاتمے پر ابتدائی رضامندی ظاہر کر دی ہے، طے پانے والے نکات کے مطابق خطے کے تمام فریقین ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت نہیں کریں گے جبکہ اگلے 30 دنوں کے اندر سمندری حدود اور تجارتی راستوں پر لگی بحری ناکہ بندی کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا جائے گا اور دفاعی توازن برقرار رکھنے کے لیے سٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز میں امریکی افواج کی تعداد میں مزید کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا، امریکہ نے تہران سے تمام معاشی پابندیاں مرحلہ وار اٹھانے کا پکا وعدہ کیا ہے جس کے بعد ایران کے منجمد اثاثے بحال ہو جائیں گے اور اسے عالمی مارکیٹ میں اپنے تیل کی برآمدات کی سو فیصد اجازت ہو گی جبکہ تجارت اور توانائی کے تمام بند روٹس بھی بحال کر دیے جائیں گے، امریکی نشریاتی ادارے سی این این کا دعویٰ ہے کہ امریکہ ایران کی معاشی بحالی کے لیے 300 ارب ڈالر کے خطیر مالیاتی پیکج کا اعلان بھی کرے گا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جی سیون سمٹ کے اہم موقع پر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ایک خصوصی ملاقات کی ہے، واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہمارا بنیادی مقصد شروع دن سے ایران کو خطرناک جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکنا تھا جسے ہم نے کامیابی سے حاصل کر لیا ہے، انہوں نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز جمعے کے روز تک بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھول دی جائے گی، ایران خود یہ مذاکرات چاہتا ہے تاکہ دنیا میں ایک نارمل اور پرامن ملک کی طرح رہ سکے، صدر ٹرمپ نے ایرانی محاصرے کو کامیاب قرار دیتے ہوئے امریکی بحریہ کو مبارکباد دی اور کہا کہ ایران ابراہم اکارڈ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا مگر اب امید ہے کہ اس امن معاہدے میں مزید اسلامی ممالک بھی شامل ہوں گے، انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ ایران کو کوئی زبردستی کی رقم ادا کرنے کا پابند نہیں ہے بلکہ وہ بہت جلد ایک بڑی پریس کانفرنس میں اس تاریخی معاہدے کا ایک ایک لفظ میڈیا کے سامنے لائیں گے تاکہ درست کوریج ہو سکے اور قوی امید ہے کہ ایران کے ساتھ اس ڈیل کا دوسرا مرحلہ بھی جلد ہی کامیابی سے مکمل ہو جائے گا۔

کلمہ طیبہ کے تقدس اور احترام کا شاندار عالمی مظاہرہ، فٹبال کی سب سے بڑی تنظیم فیفا نے سعودی عرب کے قومی پرچم کے لیے منفرد اور الگ پروٹوکول اختیار کر لیا، ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے دوران دیگر ممالک کے جھنڈوں کی طرح میدان کی گھاس پر بچھانے کے بجائے خصوصی طور پر بلند مقام پر آویزاں کرنے کا تاریخی فیصلہ، میامی اسٹیڈیم میں مسلم امہ کے جذبات کی لاج رکھ لی گئی، یوراگوئے اور سعودی عرب کے مابین سنسنی خیز مقابلہ ایک ایک گول سے برابر

منصور احمد june 17,2026

میامی، امریکہ (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

بین الاقوامی فٹبال ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے میدانوں سے مسلم امہ اور دنیا بھر کے شائقین کے لیے ایک انتہائی خوبصورت اور ایمان افروز خبر سامنے آئی ہے جہاں فٹبال کی سب سے بڑی عالمی تنظیم (فیفا) نے کلمہ طیبہ کے غیر معمولی احترام اور تقدس کو مدنظر رکھتے ہوئے سعودی عرب کے قومی پرچم کے لیے اپنا دہائیوں پرانا روایتی پری میچ پروٹوکول یکسر تبدیل کر دیا ہے، امریکہ کے شہر میامی سے حاصل ہونے والی خصوصی کھیلوں کی تفصیلات کے مطابق فیفا فٹبال ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے گروپ میچز کے دوران سعودی عرب کے قومی پرچم کو دیگر تمام ممالک کے جھنڈوں کی طرح میچ شروع ہونے سے قبل اسٹیڈیم کے گراؤنڈ پر بچھانے یا پھیلانے کے بجائے خصوصی طور پر ایک انتہائی بلند اور محترم مقام پر آویزاں کیا گیا جس نے دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں اور کھیلوں کے شائقین کی توجہ اور دل جیت لیے ہیں، عام طور پر فیفا کے مروجہ انٹرنیشنل پری میچ پروٹوکول کے تحت میچ شروع ہونے سے قبل دونوں شریک ممالک کے دیو ہیکل پرچموں کو گراؤنڈ کی گھاس پر چٹائی کی طرح پھیلایا جاتا ہے تاہم سعودی عرب کے پرچم کے معاملے میں اس بار ایک بالکل منفرد، معزز اور مختلف طرزِ عمل اختیار کیا گیا جو کہ عالمی سطح پر مذہبی رواداری کی ایک بہترین مثال ہے۔

کھیلوں کے بین الاقوامی مبصرین کے مطابق فیفا کی جانب سے اس تاریخی تبدیلی کی بنیادی اور اصل وجہ سعودی عرب کے قومی پرچم پر درج مقدس ”کلمہ طیبہ“ ہے جو کہ دینِ اسلام کے بنیادی ترین عقیدے اور توحید و رسالت کی نمائندگی کرتا ہے، سعودی عرب کے ملکی قوانین، اسلامی شعائر اور دیرینہ مذہبی روایات کے مطابق کلمہ طیبہ والے اس قومی پرچم کو کسی بھی صورت زمین پر رکھنا، اس کے اوپر سے گزرنا، پاؤں لگانا یا اسے کسی بھی ایسے انداز میں استعمال کرنا جس سے ذرا سا بھی بے حرمتی یا بے توقیری کا تاثر پیدا ہو، انتہائی نامناسب اور سخت ممنوع سمجھا جاتا ہے، اسی شدید مذہبی حساسیت اور مسلمانوں کے پاک جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹورنامنٹ کی مرکزی انتظامیہ اور فیفا حکام نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سعودی پرچم کو زمین کی مٹی یا گھاس پر رکھنے کے بجائے اسٹیڈیم میں ایک مخصوص، معزز اور بلند مقام پر نصب کیا تاکہ اس کے تقدس، حرمت اور احترام کو سو فیصد برقرار رکھا جا سکے۔

دوسری جانب اگر میدان کے اندر کھیل کے مابین ہونے والے جوڑ کی بات کی جائے تو فیفا فٹبال ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے اس انتہائی اہم میچ میں سعودی عرب اور عالمی شہرت یافتہ ٹیم یوراگوئے کے درمیان کھیلا گیا معرکہ سخت مقابلے کے بعد ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ہی ڈرا ہو گیا ہے، امریکہ کے مشہورِ زمانہ میامی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے گروپ ”ایچ“ کے اس اعصاب شکن اور سنسنی خیز میچ میں یوراگوئے اور سعودی عرب کے کھلاڑیوں نے ایک دوسرے کے گول پوسٹ پر تابڑ توڑ حملے کیے تاہم مقررہ وقت کے خاتمے تک دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلہ ۱-۱ گول سے برابر رہا اور دونوں ممالک کو ایک ایک پوائنٹ پر ہی اکتفا کرنا پڑا، اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں تماشائیوں نے جہاں سعودی فٹبال ٹیم کی جاندار پرفارمنس کو سراہا، وہی پرچم کے احترام میں فیفا کے اس بڑے فیصلے کی بھی کھل کر تعریف کی ہے۔

ریاستِ قطر نے غیر ملکی تارکینِ وطن کے لیے ویزہ اور اقامہ قوانین میں اچانک بڑی اور سخت تبدیلیاں کر دیں، پاکستانیوں سمیت تمام غیر ملکیوں کے لیے اقامہ منسوخی کے بعد قطر میں رکنے کی رعایتی مدت تیس دن سے گھٹا کر صرف چودہ دن مقرر، مقررہ وقت پر ملک نہ چھوڑنے پر روزانہ کے حساب سے بھاری جرمانے عائد، وزٹ ویزہ کی خلاف ورزی پر دو سو قطری ریال روزانہ فائن کا اعلان، نوزائیدہ بچوں کی رجسٹریشن اور سفری دستاویزات کے لیے بھی کڑی شرائط جاری

محمود احمد june 17,2026

دوحہ (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

خلیجی ملک قطر میں مقیم لاکھوں غیر ملکی تارکینِ وطن اور وہاں سیر و تفریح کے لیے جانے والے سیاحوں کے لیے قطری حکومت نے ریذیڈنسی پرمٹ (اقامہ) کی منسوخی کے بعد ملک میں قانونی قیام کی رعایتی مدت کو آدھا کرتے ہوئے نئے اور بھاری جرمانے عائد کر دیے ہیں، دوحہ سے حاصل ہونے والی خلیجی میڈیا رپورٹس اور روزنامہ گلف ٹائمز کے مطابق قطری وزارتِ داخلہ کے پبلک ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے محفوظ سفری طریقہ کار پر منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے ویبنار کے دوران ایئرپورٹ پاسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کے مقتدر افسر کیپٹن علی احمد علی الکواری نے ویزہ اور اقامہ قوانین میں کی جانے والی ان بڑی اور دوررس تبدیلیوں کا باقاعدہ اور سرکاری اعلان کیا ہے، انہوں نے واشگاف الفاظ میں واضح کیا کہ قطر کی حکومت نے اقامہ منسوخی کے حوالے سے رائج پرانے قوانین کو یکسر تبدیل کر دیا ہے، پرانے ملکی قانون کے تحت جن غیر ملکی ملازمین کے اقامے یا ریذیڈنسی پرمٹ منسوخ یا منقطع کر دیے جاتے تھے انہیں نیا روزگار ڈھونڈنے یا واپسی کی تیاری کے لیے ملک میں رہنے کی ۳۰ دن کی رعایتی مہلت دی جاتی تھی لیکن اب اس مدت کو فوراً کم کر کے صرف ۱۴ دن کر دیا گیا ہے، یعنی جن تارکینِ وطن کے اقامے اب منسوخ ہوں گے انہیں ہر صورت دو ہفتوں کے اندر اندر قطر کی سرزمین چھوڑنی ہو گی، اگر کوئی شخص اس مقررہ ۱۴ دن کی مدت گزرنے کے بعد بھی قطر میں غیر قانونی طور پر روپوش یا قیام پذیر رہے گا تو اسے روزانہ کی بنیاد پر ۱۰ قطری ریال کا مالی جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔

قطری وزارتِ داخلہ کے عہدیدار نے وزٹ ویزہ پر قطر آنے والے دنیا بھر کے سیاحوں اور مسافروں کو بھی ایک سخت اور آخری وارننگ جاری کی ہے کہ وہ دوحہ ایئرپورٹ پر اپنے پاسپورٹ پر لگی ویزہ کی مہر پر درج شدہ ویزہ کی میعاد اور قطر میں قیام کی حتمی تاریخ کو اچھی طرح اور باریک بینی سے چیک کر لیں، کیونکہ اگر کوئی وزٹ ویزہ ہولڈر اپنے مقررہ ویزے کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی ایک دن کے لیے قطر میں رکا رہا تو اسے ۲۰۰ قطری ریال روزانہ کے حساب سے انتہائی بھاری جرمانہ بھرنا پڑے گا جس میں کوئی رعایت نہیں دی جائے گی، اسی طرح قطر میں مقیم غیر ملکی فیملیز کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کے سفر اور اقامے کے حوالے سے بھی کیپٹن الکواری نے نئی اور اہم شرائط سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ قطر میں پیدا ہونے والے نوزائیدہ بچوں کی پیدائش کی فوری اطلاع پاسپورٹ حکام کو دینا قانوناً لازمی ہے، والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے متعلقہ ملک کے سفارتخانے سے بچے کا نیا پاسپورٹ اور ضروری دستاویزات حاصل کرنے کے بعد بچے کا ریذیڈنسی پرمٹ اپنے والد کی اسپانسرشپ یعنی کفالت کے تحت فوری بنوائیں، اگر قطر میں پیدا ہونے والے نوزائیدہ بچے کا اقامہ وقت پر نہیں بنوایا جاتا اور وہ بچہ ایک بار ملک سے باہر چلا جاتا ہے تو اقامے کی قانونی مہر کے بغیر وہ معصوم بچہ دوبارہ کسی صورت قطر کی حدود میں داخل نہیں ہو سکے گا۔

وزارتِ داخلہ کے سینیئر عہدیدار نے تمام مسافروں کو قطر سے کسی دوسرے ملک روانگی یا سفر سے پہلے اپنے تمام تر معاملات اور واجبات کلیئر کرنے کی سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایئرپورٹ آنے سے قبل اپنے موبائل فون پر قطر حکومت کی آفیشل ”میٹراش“ موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے اپنا موجودہ سفارتی اسٹیٹس لازمی چیک کریں، مسافر ایپ پر یہ سو فیصد یقینی بنائیں کہ ان کے نام پر کوئی ٹریفک جرمانہ، اوور اسٹے کا فائن یا حکومت کا کوئی دوسرا واجب الادا ٹیکس باقی تو نہیں ہے کیونکہ یہ بقایا جات ایئرپورٹ پر ان کے سفری طریقہ کار کو بری طرح متاثر کر سکتے ہیں اور انہیں پرواز سے روکا جا سکتا ہے، اس کے علاوہ قطری حکام نے یہ سہولت بھی دی ہے کہ نئے پاسپورٹ پر پرانے اقامے کو ٹرانسفر کرنے کا سارا عمل بھی اب اسی موبائل ایپ کے ذریعے گھر بیٹھے آسانی سے مکمل کیا جا سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا بحرالکاہل میں اپنی سب سے بڑی فوجی کمان کا نام دوبارہ تبدیل کرنے کا حیران کن فیصلہ، آٹھ سال بعد ”انڈو پیسیفک“ کا لفظ خارج کر کے پرانا نام ”یو ایس پیسیفک کمانڈ“ بحال کر دیا گیا، نام کی اس تبدیلی پر نئی دہلی کے سفارتی اور دفاعی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی، انڈین میڈیا کا امریکی فوجی نقشے میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کو پاکستان کا حصہ دکھانے پر بھی واویلا، کیا امریکہ کو اب خطے میں انڈیا کی ضرورت نہیں رہی؟ عالمی منظرنامے پر نئی بحث چھڑ گئی

محمود احمد june 17,2026

واشنگٹن/نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی انتظامیہ کی جانب سے بحر الکاہل (پیسیفک) کے اسٹریٹجک خطے میں قائم اپنی سب سے بڑی اور اہم ترین عسکری کمان کا نام ایک بار پھر تبدیل کیے جانے کے غیر معمولی فیصلے نے پڑوسی ملک انڈیا کے دفاعی اور سیاسی ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دیا ہے اور نئی دہلی میں اس معاملے پر شدید خدشات اور بحث کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے سنہ ۲۰۱۸ء میں اپنے پہلے دورِ حکومت کے دوران اس فوجی کمان کا نام تبدیل کر کے ”انڈو پیسیفک کمانڈ“ رکھا تھا جس کا مقصد نئی دہلی کو عالمی سطح پر بڑی اہمیت دینا تھا، تاہم اب ٹھیک آٹھ سال بعد امریکی حکومت نے اس نام سے ”انڈو“ کا لفظ مکمل طور پر خارج کرتے ہوئے اس کا پرانا نام یعنی ”یو ایس پیسیفک کمانڈ“ باضابطہ طور پر بحال کر دیا ہے، اگرچہ واشنگٹن کے بقول اس کمان کا پرانا نام بحال کرنے کا واحد مقصد اس کے ستر سالہ تاریخی ورثے کو شاندار خراجِ تحسین پیش کرنا ہے لیکن اس اچانک فیصلے پر انڈین دفاعی ماہرین اور میڈیا میں یہ گہرے تحفظات اور خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں کہ آیا دفاعی تعاون اور چین کا راستہ روکنے کے شعبے میں امریکہ نے اب انڈیا سے دوریاں اختیار کرنا شروع کر دی ہیں اور خطے میں اس کی ضرورت کم ہو گئی ہے۔

اس سنسنی خیز دفاعی تبدیلی کے ساتھ ہی انڈین میڈیا میں اس حوالے سے بھی شدید واویلا مچایا جا رہا ہے کہ یو ایس پیسیفک کمانڈ کی ازسرِنو تشکیل کے بعد اس کے زیرِ اثر علاقوں کے حوالے سے جو سرکاری اور عسکری نقشہ جاری کیا گیا ہے اس میں پینٹاگون نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کو باقاعدہ طور پر پاکستان کا ہی حصہ ظاہر کیا ہے، اگرچہ اس امریکی فوجی نقشے میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کو بھی انڈیا کے حصے کے طور پر ہی دکھایا گیا ہے لیکن پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کو گرین زون میں دکھانا نئی دہلی کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا تصور کیا جا رہا ہے، دوسری جانب امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) نے باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے اس نام کی تبدیلی کی تصدیق کی اور بتایا کہ یہ عظیم عسکری کمانڈ ستر برس قبل امریکی صدر ہیری ٹرومین نے قائم کی تھی جو کہ امریکہ کی تمام مشترکہ جنگی کمانڈز میں سب سے قدیم اور رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑی ہے، محکمۂ دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یو ایس پیسیفک کمانڈ کا نام بحال کرنے کا مقصد اِس کمانڈ کے تاریخی عسکری ورثے کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے کیونکہ یہ نام بحرالکاہل میں خدمات انجام دینے والے تمام امریکی فوجیوں میں فخر اور اجتماعی جذبے کو فروغ دیتا ہے۔

امریکی پینٹاگون کے جاری کردہ وضاحتی بیان کے مطابق دوسری عالمی جنگ کے بعد علاقائی سکیورٹی کے مضبوط ڈھانچے کے قیام میں اس کمانڈ کے اہم ترین کردار سے لے کر کورین جنگ، ویتنام جنگ اور بے شمار انسانی ہمدردی پر مبنی بین الاقوامی کارروائیوں میں مشترکہ افواج کی بہترین ہم آہنگی تک یو ایس پیسیفک کمانڈ کا یہ تاریخی نام دہائیوں پر مشتمل عسکری ورثے اور دیرپا علاقائی شراکت داریوں کی بھرپور نمائندگی کرتا ہے، پیسیفک کمانڈ کی کلیدی ذمہ داریوں اور اس کی جغرافیائی حدود کے بارے میں محکمۂ دفاع نے واضح کیا کہ امریکہ کے مغربی ساحل کے قریب موجود سمندری پانیوں سے لے کر انڈیا کی مغربی سرحد تک کے تمام تر وسیع ترین علاقے بدستور اسی کمان کے زیرِ اثر اور کنٹرول میں رہیں گے اور اس نام کی تبدیلی کے باوجود اس کے زیرِ اثر علاقوں کی حدود میں کوئی عسکری تبدیلی نہیں کی جا رہی، امریکہ نے انڈیا کے خدشات کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ کمانڈ کا بنیادی مشن اور علاقائی اتحادیوں و شراکت داروں کے ساتھ خطے کو آزاد اور کھلا برقرار رکھنے کے لیے اس کا غیر متزلزل عزم بالکل تبدیل نہیں ہوا، تاہم دفاعی مبصرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ قدم اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اب واشنگٹن اپنی خارجہ اور فوجی پالیسی میں انڈیا کو پہلے جیسی غیر معمولی اور زبردستی کی غیر مشروط اہمیت دینے کے موڈ میں دکھائی نہیں دیتا۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہائپر اجلاس میں پاکستان کا بڑا اور جرات مندانہ مؤقف، یمن کے دیرینہ بحران کے مستقل حل کے لیے جامع سیاسی عمل اور بامعنی مذاکرات کو ناگزیر قرار دے دیا، مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا حوثی باغیوں سے اقوامِ متحدہ کے زیرِ حراست تمام بین الاقوامی اہلکاروں کو فوری رہا کرنے کا کڑا مطالبہ، عالمی برادری سے یمن کے غریب عوام کے لیے ہنگامی امدادی فنڈز بڑھانے کی اپیل

محمود احمد june 17,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

اسلامی جمہوریہ پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ کے سب سے بڑے انسانی المیے یعنی یمن بحران کے مستقل خاتمے اور وہاں پائیدار امن کے قیام کے لیے ایک بار پھر تمام تر جنگی اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے جامع سیاسی عمل اور فریقین کے مابین براہِ راست مذاکرات کو ناگزیر قرار دے دیا ہے، اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز نیویارک سے حاصل ہونے والی اعلیٰ سطحی سفارتی تفصیلات کے مطابق اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل (سیکیورٹی کونسل) کے اہم اور ہنگامی اجلاس سے باضابطہ خطاب کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ یمن کے اس پیچیدہ تنازع کا دیرپا اور پائیدار حل صرف اور صرف غیر جانبدار سفارت کاری اور سیاسی مکالمے کے ذریعے ہی ممکن ہے، انہوں نے سلامتی کونسل کے سامنے پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یمنی عوام اور ان کی اپنی مقامی قیادت کے زیرِ اثر چلنے والے سیاسی عمل کی پاکستان بھرپور حمایت کرتا ہے کیونکہ تمام مقامی یمنی فریقوں کے درمیان ہونے والے بامعنی اور سنجیدہ مذاکرات ہی اس تباہ حال ملک کو دوبارہ استحکام، خوشحالی اور مستقل امن کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔

پاکستانی مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے یمن میں حالیہ کچھ عرصے کے دوران عسکری کشیدگی میں ہونے والی نمایاں کمی اور فریقین کے مابین اعتماد سازی کے ابتدائی اقدامات کو ایک انتہائی مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے دونوں جانب سے قیدیوں کے تبادلے کے حالیہ معاہدے کا کھلے دل سے خیرمقدم کیا ہے، پاکستان نے صدارتی قیادت کونسل کی اپنی اصولی حمایت کا عزم دہراتے ہوئے یمن کے معاملے پر مامور اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی کی انتھک سفارتی کوششوں اور تگ و دو کو بھی زبردست الفاظ میں سراہا، تاہم اس موقع پر پاکستانی سفیر عاصم افتخار احمد نے حوثی جنگجوؤں سے ایک بڑا اور سخت عالمی مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حوثی اپنی تحویل اور زیرِ حراست لیے گئے اقوامِ متحدہ کے تمام معصوم اہلکاروں، سفارتکاروں اور دیگر بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے امدادی عملے کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کریں تاکہ جنگ زدہ علاقوں میں انسانی امدادی سرگرمیوں کو بغیر کسی خوف و خطر اور مؤثر انداز میں جاری رکھا جا سکے کیونکہ اس عملے کی بندش سے لاکھوں معصوم بچوں اور خواتین کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔

پاکستان نے سیکیورٹی کونسل کے ایوان میں یمن کی روز بروز بگڑتی ہوئی ہولناک انسانی اور اقتصادی صورتحال پر گہری تشویش اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے دنیا کو بتایا کہ لاکھوں کی تعداد میں یمنی شہری اس وقت بھی زندگی کی بنیادی ترین ضروریات، ادویات اور بیرونی انسانی امداد کے سخت محتاج ہیں، اس نازک موقع پر پاکستانی مندوب نے عالمی برادری اور امیر ممالک پر زور دیا کہ وہ یمن کے لیے مخصوص امدادی فنڈز میں فوری اور خطیر اضافہ کریں اور وہاں کی معاشی بحالی کے لیے بین الاقوامی تعاون کے دائرے کو مزید فروغ دیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں حالیہ مثبت سفارتی لہر اور کشیدگی میں کمی یہ ثابت کرتی ہے کہ گولی کے بجائے سفارت کاری کی اہمیت کتنی زیادہ ہے اور یہی عمل یمن میں مستقل امن کے امکانات کو دنیا بھر میں مزید مضبوط بنا سکتا ہے، انہوں نے سلامتی کونسل کے تمام مستقل ارکان سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ یمن میں امن و استحکام کی واپسی کے لیے اپنا متحد، غیر جانبدار اور مؤثر کردار ادا کریں، پاکستان نے ایک بار پھر پرامن، متحد، مستحکم اور خوشحال یمن کے قیام کے لیے اپنے اصولی عزم کو دہراتے ہوئے قوی امید ظاہر کی ہے کہ جاری عالمی سفارتی کوششیں یمنی عوام کو جنگ کی ہولناکیوں سے نجات دلا کر امن، ترقی اور خوشحالی کے حقیقی ثمرات فراہم کرنے میں ہر صورت مددگار ثابت ہوں گی۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز آل راؤنڈر شاہد خان آفریدی کا نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز کا تاریخی دورہ، مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد سے اہم ملاقات، کرکٹ اسٹار کو عالمی ادارے کے امن مشنز اور پائیدار ترقی کے امور پر خصوصی بریفنگ، سفیر عاصم افتخار احمد کی جانب سے شاہد آفریدی کی فلاحی خدمات اور جارحانہ بیٹنگ کو شاندار خراجِ تحسین، کھیل کو عالمی سفارت کاری کا مؤثر ذریعہ قرار دے دیا، اعزاز میں پروقار عشائیہ

محمود احمد june 17,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 16 جون 2026ء

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق مایہ ناز کپتان، دنیا بھر میں بوم بوم کے نام سے مشہور لیجنڈری آل راؤنڈر شاہد خان آفریدی نے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کی خصوصی اور باضابطہ دعوت پر نیویارک میں واقع اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز کا ایک یادگار اور تفصیلی دورہ کیا ہے، نیویارک کے سفارتی ذرائع سے حاصل ہونے والی خصوصی تفصیلات کے مطابق اس اعلیٰ سطحی دورے کے دوران شاہد آفریدی کو اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز کی تاریخی عمارت کے مختلف حصوں کا تفصیلی معائنہ کرایا گیا اور انہیں عالمی تنظیم کے طریقہ کار، دنیا بھر میں بین الاقوامی امن و سلامتی کے مستقل فروغ، غریب ممالک کی پائیدار ترقی اور کثیرالجہتی تعاون کو بڑھانے میں اقوامِ متحدہ کے کلیدی کردار کے بارے میں اعلیٰ حکام کی جانب سے خصوصی بریفنگ دی گئی، ہیڈکوارٹرز میں قائم پاکستانی مشن میں ہونے والی اس باضابطہ ملاقات کے دوران مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے شاہد آفریدی کا والہانہ خیرمقدم کیا اور بین الاقوامی کرکٹ کے میدانوں میں پاکستان کے لیے ان کی طویل اور شاندار خدمات کو دل کھول کر سراہا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے شاہد آفریدی کے شاندار کرکٹ کیریئر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی روایتی جارحانہ، بے باک اور دلکش بیٹنگ، خطرناک اسپن بولنگ اور میدان میں طوفانی شاٹس کے ذریعے دنیا بھر کے کروڑوں کرکٹ شائقین کے دلوں پر راج کیا اور ہمیشہ ہراول دستے کے طور پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم پوری دنیا میں بلند کیا، پاکستانی سفیر نے کرکٹ کے میدان سے ہٹ کر شاہد آفریدی کی فلاحی اور انسانی خدمات کی سرگرمیوں، بالخصوص شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کے فلاحی کاموں کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی سماجی بہبود کی مخلصانہ کاوشوں نے ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی زندگیوں پر انتہائی مثبت اور گہرے اثرات مرتب کیے ہیں جو کہ سب کے لیے قابلِ فخر ہے، دورانِ گفتگو سفیر عاصم افتخار احمد نے اس اہم نقطے پر خاص طور پر زور دیا کہ موجودہ دور میں کھیل دراصل سپورٹس ڈپلومیسی (کھیل سفارت کاری) کا ایک سب سے مؤثر اور طاقتور ذریعہ بن چکے ہیں جو جغرافیائی سرحدوں اور نظریاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر مختلف قوموں اور عوام کو ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ کھیل کے میدان دنیا میں باہمی احترام، افہام و تفہیم، عالمی امن، خیرسگالی اور بین الاقوامی برادری کے درمیان جاندار تعاون کو بڑھانے کے لیے ایک بہترین اور متحرک پلیٹ فارم مہیا کرتے ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے مایہ ناز آل راؤنڈر کو اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی روزمرہ کی سفارتی سرگرمیوں اور عالمی سطح پر پاکستان کے ٹھوس موقف کے بارے میں بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا، جن میں کثیرالجہتی بین الاقوامی نظام کے فروغ، مختلف تہذیبوں کے مابین مکالمے اور سفارت کاری کو آگے بڑھانے سمیت دنیا میں امن و سلامتی کے مستقل قیام کے لیے پاکستان کی مخلصانہ اور فعال کاوشیں شامل ہیں، اس موقع پر سابق کپتان شاہد آفریدی نے اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز کے اس یادگار دورے کی دعوت دینے اور نیویارک آمد پر انتہائی پرتپاک میزبانی کا مظاہرہ کرنے پر سفیر عاصم افتخار احمد اور پاکستان مشن کے تمام عملے کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا، شاہد آفریدی نے اقوامِ متحدہ کے فورم پر پاکستان کے مستقل مشن کی شاندار خدمات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مشن عالمی سطح پر اقوام کے درمیان باہمی افہام و تفہیم، مفید مکالمے اور کثیرالجہتی تعاون کے فروغ کے ساتھ ساتھ دیرینہ علاقائی تنازعات کے پرامن حل کے لیے ہمیشہ ایک قابلِ قدر اور جرات مندانہ کردار ادا کرتا آیا ہے، اس تاریخی دورے نے اس مشترکہ اور مضبوط سوچ کی واضح عکاسی کی ہے کہ کھیل اور روایتی سفارت کاری مل کر عوام اور مختلف اقوام کے درمیان باہمی روابط کو فولادی بنانے اور ایک زیادہ پُرامن، خوشحال اور تعاون پر مبنی عالمی ماحول کی تشکیل میں انتہائی کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں، بعد ازاں سفیر عاصم افتخار احمد نے شاہد آفریدی کے اعزاز میں نیویارک کے ایک پروقار مقام پر شاندار عشائیے کا اہتمام بھی کیا، اس الوداعی تقریب کے موقع پر اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون، پاکستان مشن کے تمام سینیئر افسران اور نیویارک کی چند دیگر اہم ترین شخصیات بھی موجود تھیں۔

اقوامِ متحدہ کا آبنائے ہرمز میں فوری انسانی امدادی راہداری کھولنے کا پرزور مطالبہ، بحری نقل و حمل میں رکاوٹوں سے عالمی سطح پر خوراک، ایندھن اور کھاد کی سپلائی شدید متاثر، یو این ہائی کمشنر وولکر ترک اور سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی جانب سے امریکہ ایران امن معاہدے اور جنگ بندی کا شاندار خیرمقدم

محمود احمد june 16,2026

اقوامِ متحدہ (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 16 جون 2026ء

عالمی سلامتی اور معیشت کے حوالے سے اقوامِ متحدہ نے ایک انتہائی اہم اور ہنگامی بیان جاری کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں فوری طور پر ایک محفوظ انسانی امدادی راہداری کھولنے کا پرزور مطالبہ کر دیا ہے تاکہ دنیا بھر میں خوراک، ایندھن اور دیگر تمام ضروری اشیاء کی معطل شدہ ترسیل کو فوری بحال کر کے ممکنہ ہولناک عالمی غذائی بحران کا رستہ روکا جا سکے، اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق خطے میں جاری حالیہ جنگ اور بحری نقل و حمل میں حائل رکاوٹوں نے عالمی سطح پر توانائی، خوراک کی منڈیوں اور انسانی امداد کی بین الاقوامی فراہمی کو شدید ترین نقصان پہنچایا ہے، اسی حساس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی نائب ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق ایوا ڈیبو نے پوری دنیا کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز جیسی حساس ترین گزرگاہ کی مکمل بندش یا اس کی محدود فعالیت دنیا کی پہلے سے پسماندہ اور کمزور معیشتوں کو ناقابلِ تلافی مالی نقصان پہنچا سکتی ہے، جس کے براہِ راست نتیجے کے طور پر عالمی سطح پر غربت، افلاس اور بھوک کے مہیب سائے مزید گہرے ہو جائیں گے۔

دوسری جانب اس بحران کے بیچ اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے عالمی طاقت امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان طے پانے والے نئے امن معاہدے اور مستقل جنگ بندی کا کھلے دل سے خیرمقدم کیا ہے اور تمام متعلقہ فریقین پر سخت زور دیا ہے کہ وہ خطے میں اب مکمل تحمل کا مظاہرہ کریں اور اس عارضی پیش رفت کو مستقل امن میں بدلنے کے لیے مخلصانہ کوششیں تیز کریں، اسی اثناء میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اپنے ایک تہنیتی بیان میں امریکہ ایران امن معاہدے کو مشرقِ وسطیٰ کے طویل تنازعے کے خاتمے کی جانب ایک انتہائی کلیدی اور تاریخی قدم قرار دیتے ہوئے تجارتی مقاصد کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے کے فیصلے کی بھرپور حمایت کی ہے، اقوامِ متحدہ اور اس کے تمام ذیلی امدادی اداروں نے متفقہ طور پر دنیا کو یہ خطرے کی گھنٹی سنائی ہے کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی حالیہ رکاوٹوں کے باعث خوراک، فصلوں کے لیے ضروری کھاد اور خام تیل (ایندھن) کی عالمی سپلائی چین بری طرح مفلوج ہو کر رہ گئی ہے، جس کے سنگین اثرات اب صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے بلکہ اس کے جھٹکے سرحدوں سے باہر پوری دنیا میں واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔

عالمی سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے حالیہ تاریخی امن فریم ورک کے مسودے میں آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے اور خطے میں جاری جنگ بندی کو مستقل قانونی شکل دینے کی کڑی شقیں شامل کی گئی ہیں، تاہم اس پورے فریم ورک کے سو فیصد نفاذ اور زمین پر اس کی عملی شکل دیکھنے کے لیے فریقین کے مابین ابھی مزید چند اعلیٰ سطح کے مذاکرات درکار ہوں گے، بین الاقوامی دفاعی اور معاشی ماہرین کے مطابق یہ حالیہ سفارتی پیش رفت اس وقت عالمی معیشت کو سہارا دینے، تیل کی بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں کے استحکام اور غریب ممالک کو خوراک کی بلاتعطل فراہمی کے لیے نہایت اہم اور ریڑھ کی ہڈی سمجھی جا رہی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم اور بڑی بحری تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے روزانہ کروڑوں بیرل تیل دنیا بھر میں سپلائی کیا جاتا ہے۔

”جب آپ بہت زیادہ امیر ہوں تو پھر لمبی باتیں بھی کر سکتے ہیں“، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید سے انتہائی دلچسپ اور طنزیہ مکالمہ، جی سیون سمٹ کے دوران دونوں رہنماؤں کی ملاقات کی اندرونی کہانی میڈیا پر وائرل، وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ کا ایران کے خلاف امریکی بحریہ کے تاریخی محاصرے کی کامیابی کا دعویٰ، آبنائے ہرمز جمعے تک عالمی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھول دی جائے گی، ابراہام اکارڈز کی توسیع کی راہ ہموار

President Trump Makes First Middle East Trip Of His Second Term

کاشف عباسی ,june 16,2026

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 16 جون 2026ء

عالمی سیاست کے افق سے ایک انتہائی سنسنی خیز اور دلچسپ سفارتی خبر سامنے آئی ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جی سیون سمٹ کے مصروف ترین موقع پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کے ساتھ ایک اہم دوطرفہ ملاقات کے دوران اپنے مخصوص اور روایتی طنزیہ انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’جب آپ بہت زیادہ امیر ہوں تو پھر آپ لمبی لمبی باتیں بھی کر سکتے ہیں‘‘، واشنگٹن کے سفارتی ذرائع سے حاصل ہونے والی اندرونی کہانی کے مطابق اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے اختتام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسکراتے ہوئے اماراتی صدر کو مخاطب کیا اور چٹکلا چھوڑا کہ جب کوئی شخص یا ریاست اتنی زیادہ دولت مند اور امیر ہو تو وہ طویل گفتگو کرنے کا بھی باآسانی متحمل ہو سکتا ہے، صدر ٹرمپ کے اس برجستہ جملے پر کمرے میں موجود دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام اور سفارتکاروں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھر گئی اور محفل کا ماحول انتہائی خوشگوار اور دوستانہ ہو گیا۔

اس اہم ترین ملاقات کے فوراً بعد امریکی دارالحکومت واشنگٹن پہنچنے پر وائٹ ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں سے ایک کڑک اور تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے امریکی خارجہ پالیسی کا بھانڈا پھوڑتے ہوئے کہا کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کا سب سے پہلا اور بنیادی مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کو کسی بھی قیمت پر جوہری ہتھیار (ایٹم بم) حاصل کرنے سے روکنا تھا اور ہم نے اپنی سخت ترین حکمتِ عملی کی بدولت اس مقصد میں تاریخی کامیابی حاصل کر لی ہے، امریکی صدر نے عالمی میڈیا کے سامنے ایک بہت بڑا دعویٰ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی سب سے اہم ترین سمندری گزرگاہ ”آبنائے ہرمز“ کو رواں ہفتے جمعے کے دن تک بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر دوبارہ کھول دیا جائے گا کیونکہ ایران اب امریکی دباؤ کے بعد عالمی برادری کے ساتھ اپنے معمول کے سفارتی و تجارتی تعلقات قائم کرنے کا شدید خواہاں ہے، صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت خود مجبور ہو کر مذاکرات کی میز کی طرف آئی ہے تاکہ دنیا میں اپنے خلاف قائم سخت تاثر کو بدل کر ایک پرامن ریاست کے طور پر اپنی حیثیت کو دوبارہ مستحکم کر سکے، انہوں نے خلیج عمان اور بحیرہ عرب میں ایرانی بحری ناکہ بندی کرنے پر امریکی بحریہ کی جارحانہ اور کامیاب کارروائیوں کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے کہا کہ ایران کا عسکری محاصرہ سو فیصد کامیاب رہا اور اس شاندار کامیابی پر امریکی بحریہ کے تمام کمانڈرز اور جوان پوری دنیا کی جانب سے مبارکباد کے مستحق ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی نقشے پر بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایران ماضی کے دوران عرب ممالک اور اسرائیل کے مابین ہونے والے تاریخی ”ابراہام اکارڈز“ کی توسیع اور امن عمل میں سب سے بڑی اور خطرناک رکاوٹ بنا ہوا تھا، تاہم اب اس تاریخی محاصرے اور نئی ڈیل کے بعد یہ قوی توقع پیدا ہو گئی ہے کہ خطے کے مزید اہم اسلامی اور عرب ممالک بھی بہت جلد اس امن اور سفارتی معاہداتی عمل کا باقاعدہ حصہ بنیں گے، صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والی اس نئی اور مجوزہ مفاہمتی یادداشت کی تمام تر باریک اور حساس تفصیلات بہت جلد پوری دنیا اور امریکی عوام کے سامنے پبلک کر دی جائیں گی، انہوں نے ایک بڑا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس سلسلے میں ایک خصوصی اور بڑی لائیو پریس کانفرنس کا انعقاد کرنے جا رہے ہیں جس میں وہ ایران کے ساتھ ہونے والے اس نئے تاریخی معاہدے کو میڈیا کے سامنے ”لفظ بہ لفظ“ خود پڑھ کر سنائیں گے تاکہ عالمی میڈیا، امریکی کانگریس اور عوام اس کے مندرجات اور کڑی شرائط کو بالکل درست اور واضح انداز میں سمجھ سکیں اور کسی قسم کا کوئی ابہام باقی نہ رہے، اس موقع پر سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں ایران کے ساتھ کیے جانے والے پرانے جوہری معاہدے پر شدید ترین تنقید کے تیر چلاتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اوباما کا وہ ناقص معاہدہ پورے خطے اور عالمی سلامتی کے لیے انتہائی نقصان دہ اور تباہ کن ثابت ہو سکتا تھا کیونکہ اس میں ایران کو چھوٹ دی گئی تھی، جبکہ اس کے برعکس میرا موجودہ معاہدہ ایران کے لیے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی تمام تر چوراہوں اور راہوں کو ہمیشہ کے لیے بند کرنے کے خلاف دنیا کی ایک سب سے مضبوط اور ناقابلِ تسخیر عسکری و سفارتی رکاوٹ ثابت ہو گا، انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایران کے ساتھ ان کڑے مذاکرات کا دوسرا اہم مرحلہ بھی جلد ہی کامیابی سے مکمل ہو جائے گا جس کے بعد پورے مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن، پائیدار سلامتی اور تجارتی استحکام کے نئے اور روشن امکانات پیدا ہوں گے۔

امریکا اور ایران کے مابین تاریخی امن معاہدے کی دستخطی تقریب کا مقام اچانک تبدیل، جنیوا کے بجائے اب سوئٹزرلینڈ کے مشہور ’برجن اسٹاک ریزورٹ‘ میں عالمی رہنما سر جوڑیں گے، دستخط جمعہ 19 جون کو ہوں گے، وزیراعظم شہباز شریف کی میزبانی اور کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں مستقل جنگ بندی کی راہ ہموار

محمود احمد june 16,2026

اسلام آباد / برن (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 16 جون 2026ء

امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان طویل ترین مذاکرات کے بعد طے پانے والے انتہائی حساس اور مجوزہ تاریخی امن معاہدے کی باضابطہ دستخطی تقریب کے مقام میں سیکیورٹی اور سفارتی وجوہات کی بنا پر اچانک بڑی تبدیلی کر دی گئی ہے، سوئٹزرلینڈ کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ ہنگامی بیان کے مطابق اس تاریخی امن معاہدے پر اب سابقہ طے شدہ مقام جنیوا کے بجائے سوئٹزرلینڈ کے دنیا بھر میں مشہور اور جھیل کے کنارے واقع پرسکون ’برجن اسٹاک ریزورٹ‘ میں دستخط کیے جائیں گے، جبکہ یہ تاریخی اور عالمی تقریب رواں ہفتے جمعہ ۱۹ جون کو منعقد ہو گی، سوئس سفارتی حکام کا کہنا ہے کہ برجن اسٹاک ریزورٹ کو اس کی غیر معمولی سیکیورٹی اور اعلیٰ سطحی بین الاقوامی سفارتی سرگرمیوں کے شاندار ٹریک ریکارڈ کی بدولت منتخب کیا گیا ہے جہاں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ ترین نمائندے اور وزرائے خارجہ اس حتمی امن معاہدے پر دستخط کر کے خطے میں جاری ہولناک کشیدگی کے خاتمے اور سفارتی تعلقات کی بحالی کا ایک نیا باب شروع کریں گے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے عالمی میڈیا کے سامنے یہ بڑا اور تاریخی اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اس تاریخی امن معاہدے کی دستخطی تقریب جنیوا میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خصوصی میزبانی اور ثالثی کے تحت منعقد ہو گی، وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے تہنیتی بیان میں واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ یہ معاہدہ صرف دو بڑے ممالک کے مابین روایتی مفاہمت یا ناکہ بندی کا خاتمہ نہیں ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر پاکستان کی غیر جانبدار سفارت کاری، باہمی مکالمے اور مستقل امن کی جیت کی ایک عظیم علامت ہے، وزیراعظم کے مطابق دونوں ممالک نے پسِ پردہ طویل اور کٹھن مذاکرات کے بعد لبنان سمیت مشرقِ وسطیٰ کے مختلف گرم محاذوں پر جاری تمام فوجی کارروائیوں اور بمباری کے فوری اور مستقل خاتمے پر مکمل اتفاق کر لیا ہے اور یہ امن معاہدہ پورے خطے میں پائیدار استحکام، تجارتی ترقی اور اعتماد سازی کے ایک نئے سنہرے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں میڈیا کو بتایا تھا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اس امن معاہدے کے حتمی مسودے کے حوالے سے دونوں طاقتوں کے درمیان انتہائی اہم اور مثبت پیش رفت ہوئی ہے، ان کے مطابق ایرانی حکومت اور اعلیٰ قیادت دستخطی تقریب کے باقاعدہ انعقاد سے قبل اپنے تمام پڑوسی مسلم ممالک اور برادر خطوں کو مکمل طور پر اعتماد میں لینے کے لیے سفارتی رابطے تیزی سے جاری رکھے ہوئے ہے، بین الاقوامی سفارتی ذرائع کے مطابق اس مجوزہ معاہدے کے اہم ترین نکات میں لبنان اور شام میں فوری جنگ بندی، امریکہ اور مغربی ممالک کی جانب سے منجمد کیے گئے اربوں ڈالرز کے ایرانی اثاثوں کی فوری بحالی اور بعض دیگر پیچیدہ مالی و سفارتی پابندیوں کے مستقل حل سے متعلق امور شامل ہیں، عالمی سیاسی مبصرین اور دفاعی ماہرین اس معاہدے کو رواں صدی میں مشرقِ وسطیٰ کے امن، سلامتی اور پائیدار استحکام کے لیے اب تک کی سب سے بڑی اور کامیاب ترین سفارتی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

پاکستان اور ایتھوپیا کے مابین اعلیٰ تعلیم اور سائنسی تحقیق کے فروغ کے لیے تاریخی ”مشترکہ ریکٹرز فورم“ قائم، کامسٹیک کی سہولت کاری سے دونوں ممالک کے سرکردہ جامعاتی ادارے ایک پیج پر آ گئے، کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کا ایتھوپیا کے ہونہار طلبہ کے لیے 25 خصوصی اسکالرشپس کا بڑا اعلان

منصور احمد june 16,2026

اسلام آباد (ایجوکیشن ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 16 جون 2026ء

اسلامی تعاون تنظیم ( کی قائمہ کمیٹی برائے سائنسی و تکنیکی تعاون (کامسٹیک) کی مخلصانہ سہولت کاری اور کوششوں سے پاکستان اور افریقی ملک ایتھوپیا کے درمیان اعلیٰ تعلیم، سائنسی تحقیق اور جدید تکنیکی تعاون کے فروغ کے لیے ایک تاریخی اور انقلابی ”مشترکہ ریکٹرز فورم“ باقاعدہ طور پر قائم کر دیا گیا ہے، وفاقِ دارالحکومت اسلام آباد سے حاصل ہونے والی تعلیمی تفصیلات کے مطابق اس سائنسی فورم میں دونوں برادر ممالک کے پانچ پانچ ممتاز ترین تعلیمی، طبی اور تحقیقی ادارے شامل کیے گئے ہیں اور اس کا بنیادی مقصد پاک ایتھوپیا تعلیمی روابط کو مضبوط بنانا، سائنس دانوں کے مابین مشترکہ تحقیق کو فروغ دینا اور عصرِ حاضر کے جدید سائنسی شعبوں میں تعاون کو وسعت دینا ہے، اس عظیم الشان فورم کے قیام کا باضابطہ اور باہم اعلان او آئی سی-کامسٹیک، پاکستان اور ایتھوپیا کے اعلیٰ حکام کے درمیان منعقدہ ایک اہم مشترکہ ورچوئل (آن لائن) اجلاس کے دوران کیا گیا۔

کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے اس اعلیٰ سطحی اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ یہ نو منتخب فورم دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ تعلیم، جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی، صحتِ عامہ (پبلک ہیلتھ)، سائنسی ریسرچ اور افرادی قوت کی استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں باہمی تعاون کو ایک نئی اور مضبوط جہت فراہم کرے گا، اس موقع پر پاکستان میں تعینات ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے اپنے ملک کی علم پر مبنی جدید معیشت، سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ اور تحقیق پر مبنی تعلیمی پالیسیوں کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی و سفارتی روابط کو مزید مستحکم کرنے کی اشد ضرورت پر زور دیا، تعلیمی ماہرین کے مطابق اس فورم کے تحت ایتھوپیا کی معروف جامعات اور ریسرچ اداروں کے ساتھ پاکستان کی ممتاز ترین یونیورسٹیوں کے درمیان طلبہ و اساتذہ کے تبادلے، مشترکہ سائنسی و طبی تحقیقی منصوبوں اور ادارہ جاتی اشتراک کو تیزی سے فروغ دیا جائے گا جبکہ اس پاک افریقہ مشن کو عملی شکل دینے کے لیے ایک مشترکہ تکنیکی کمیٹی بھی قائم کی جائے گی جو آئندہ کے تمام پروگراموں اور سرگرمیوں کی نگرانی اور رہنمائی کرے گی۔

اجلاس کے دوران پاکستان کی جانب سے خیر سگالی کے ایک بڑے جذبے کے طور پر کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کی انتظامیہ نے ایتھوپیا کے ہونہار طلبہ کے لیے ۲۵ بڑی اسکالرشپس کا باقاعدہ اعلان بھی کیا جس کا ایتھوپیا کے سفیر نے کھلے دل سے خیرمقدم کیا، جبکہ دوسری طرف کامسٹیک نے ایتھوپیا کی ان ممتاز جامعات کے ریکٹرز اور نمائندوں کو بہت جلد اسلام آباد کا سرکاری دورہ کرنے کی باضابطہ دعوت دی ہے تاکہ دوطرفہ تعلیمی و تحقیقی تعاون کو مزید وسعت دی جا سکے، ملکی و بین الاقوامی تعلیمی ماہرین کے مطابق پاکستان کا یہ جرات مندانہ اقدام افریقہ کے ساتھ پاکستان کے علمی، تحقیقی اور سائنسی تعلقات کو ایک نئی بلندی پر لے جانے کی جانب ایک انتہائی اہم اور کلیدی پیش رفت ثابت ہو گا۔

چکوال میں افسوسناک واقعہ: حج سے لوٹنے والے آسٹریلوی نژاد پاکستانی خاندان پر فائرنگ، 9 سالہ بچی جاں بحق، سی سی ڈی اہلکار گرفتار

منصور احمد june 14,2026

چکوال(نیوز اینڈ نیوز) —14جون 2026ء

ضلع چکوال کی حدود میں پیش آنے والے ایک انتہائی دلدوز اور المناک واقعے نے نہ صرف ملک بھر بلکہ آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی برادری کو بھی شدید غم و اندوہ میں مبتلا کر دیا ہے جہاں آسٹریلیا میں مستقل رہائش پذیر پاکستانی شہری عدیل احمد اپنی اہلیہ ڈاکٹر سدرہ، بیٹے عفان اور 9 سالہ معصوم بیٹی ہانیہ احمد کے ہمراہ فریضۂ حج کی مقدس سعادت حاصل کرنے کے فوراً بعد محض دو روز قبل ہی پاکستان پہنچے تھے لیکن چکوال کے علاقے میں ان کی گاڑی کو مبینہ طور پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے اہلکاروں کی جانب سے فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں گاڑی میں موجود 9 سالہ معصوم ہانیہ احمد شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گئیں جبکہ ان کے والد عدیل احمد اور بھائی عفان گولیوں کی زد میں آکر شدید زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے، اس ہولناک واقعے کی اطلاع ملتے ہی آسٹریلیا میں آباد پاکستانی کمیونٹی میں شدید غم و غصہ اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور ذرائع کے مطابق آسٹریلوی حکام نے بھی واقعے کی سنگینی کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطح پر پاکستانی حکام سے رابطہ قائم کر کے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے جبکہ مقامی پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے اور واقعے میں ملوث ایک سی سی ڈی اہلکار کو گرفتار کر کے حراست میں لے لیا ہے جس سے تفتیش جاری ہے، دوسری جانب ڈی پی او چکوال نے اس پورے واقعے کو انتہائی افسوسناک اور ناقابل تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے میڈیا کو یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ملوث پائے جانے والے تمام ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی کوتاہی یا رعایت ہرگز نہیں برتی جائے گی جبکہ شہریوں، سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے بھی اس اندوہناک واقعے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ معصوم بچی کے خون سے انصاف کیا جائے اور مستقبل میں ایسے سنگین و المناک سانحات کے مستقل سدباب کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے طریقہ کار پر نظرثانی کی جائے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا بچوں سے مشقت کے خلاف عالمی دن پر بڑا پیغام، ہر بچے کو استحصال سے پاک اور تعلیم سے آراستہ کرنے کے قومی عزم کا اعادہ، دنیا بھر میں ۱۳ کروڑ ۸۰ لاکھ بچوں کی مزدوری پر تشویش کا اظہار، بینظیر انکم سپورٹ، بیت المال اور دانش اسکولز کے ذریعے مستحق بچوں کی کفالت کا اعلان

منصور احمد june 12,2026

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 12 جون 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوامِ عالم کے ساتھ مل کر ہر بچے کو استحصال سے پاک اور تعلیم سے آراستہ تابناک مستقبل کی فراہمی کے لیے ہرممکن اقدامات کرنے کے پکے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پاکستان بچوں سے مشقت و مزدوری کے مکمل خاتمے کے لیے ایک انتہائی جامع اور مؤثر حکمتِ عملی پر پوری تندہی سے عمل پیرا ہے کیونکہ بچے ہمارے ملک کے مستقبل کے حقیقی معمار ہیں اور ان کے تابندہ مستقبل کے تحفظ اور صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے سرکاری سطح پر تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں، اسلام آباد سے وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے بچوں سے مشقت کے خلاف عالمی دن (World Day Against Child Labour) کے موقع پر جاری کیے گئے خصوصی اور مخلصانہ پیغام میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ آج کے دن پاکستان دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ مل کر اس عہد کو دہراتا ہے کہ معصوم بچوں کے حقوق کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا، انہوں نے بتایا کہ اس سال عالمی سطح پر یہ اہم دن ”بچوں سے مشقت ناقابلِ قبول: بچوں کے لیے منصفانہ مواقع، نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار“ کے خوبصورت عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے، وزیراعظم نے بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا کہ آج کے اس جدید دور میں بھی دنیا بھر کے اندر تقریباً ۱۳ کروڑ ۸۰ لاکھ معصوم بچے مزدوری اور مشقت کرنے پر مجبور ہیں جن میں سے ۵ کروڑ ۴۰ لاکھ سے زائد بچے انتہائی خطرناک نوعیت کے کاموں میں مصروف ہیں جو کہ عالمی برادری کے لیے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے، ان کا کہنا تھا کہ بچوں سے مشقت و مزدوری کا مکمل سدِ باب ہماری قومی معاشی و سماجی ترقی اور معاشرتی انصاف کے لیے ناگزیر ہے کیونکہ قوموں کی حقیقی ترقی ان کی مستقبل کی افرادی قوت اور بچوں کی ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کے بہترین استعمال پر ہی منحصر ہوتی ہے۔

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی اس مقصد سے سچی وابستگی کا واضح ثبوت یہ ہے کہ ہم نے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے متعلقہ کنونشنز کی باقاعدہ توثیق کر رکھی ہے جو ملازمت کی کم سے کم عمر اور بچوں سے مشقت کی بدترین اقسام کے خاتمے کے لیے بنائے گئے ہیں، اس وقت ملک کے اندر بچوں سے متعلق قانونی اصلاحات، قوانین کے مؤثر نفاذ، سماجی تحفظ، معیاری تعلیم اور غریب خاندانوں کی معاشی آسودگی جیسے پہلوؤں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ بچوں سے مشقت کی بنیادی جڑوں اور وجوہات کا ہمیشہ کے لیے تدارک کیا جا سکے، انہوں نے قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال (NCRC) کے کلیدی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ بچوں کے حقوق کی نگرانی اور اس حوالے سے قومی و بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عملدرآمد کے فروغ میں مصروفِ عمل ہے جبکہ وفاقی سطح پر چائلڈ پروٹیکشن انسٹیٹیوٹ اور صوبائی سطح پر چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹیز، ویلفیئر بیوروز اور چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کے ذریعے کمزور، یتیم اور محروم بچوں کو مکمل تحفظ، مالی معاونت اور معاشرے میں باعزت بحالی کے شاندار مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، وزیراعظم نے تمام صوبائی حکومتوں کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں نے بچوں سے مشقت کے تدارک کے لیے نمایاں قانونی اور انتظامی اقدامات کیے ہیں اور تمام صوبوں میں جبری مشقت کے قوانین کے تحت ضلعی نگرانی کمیٹیاں اور خصوصی یونٹس قائم کیے جا چکے ہیں جو لائقِ ستائش ہیں۔

وزیراعظم نے اپنے پیغام میں اس حقیقت کا مخلصانہ اعتراف کیا کہ ملک میں جاری غربت ہی بچوں سے مشقت کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ ہے، اسی لیے حکومت باعزت روزگار کے مواقع کی فراہمی سمیت معاونت کے سماجی تحفظ کے پروگرامز اور تعلیمی وظائف کی اسکیموں کو وسائل کی شدید کمی کے باوجود انتہائی مؤثر انداز میں چلا رہی ہے جن میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا ”وسیلہ تعلیم“ اقدام اور پاکستان بیت المال کے قائم کردہ ”چائلڈ لیبر اسکولز“ غریب بچوں کے لیے قابلِ ذکر خدمات سر انجام دے رہے ہیں، اس کے ساتھ ہی انہوں نے ”دانش اسکولز“ کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان ورلڈ کلاس اسکولوں کے ذریعے ملک کے طول و عرض میں ہزاروں مستحق اور یتیم بچے اعلیٰ تعلیم کے زیور سے بالکل مفت آراستہ ہو کر اپنے روشن مستقبل کی جانب تیزی سے پیش قدمی کر رہے ہیں، انہوں نے آئی ایل او، یونیسیف، یورپی یونین اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا جن کے مسلسل تعاون سے ملک میں لیبر گورننس کی جانب پیش رفت تیز ہو رہی ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے خطاب کے آخر میں ملک کے تمام آجروں، محنت کشوں، والدین، اساتذہ، سول سوسائٹی کی تنظیموں، مذہبی رہنماؤں، نجی شعبے اور بالخصوص ذرائع ابلاغ (میڈیا) سے پرزور اپیل کی کہ وہ معصوم بچوں کو ہر قسم کے استحصال سے محفوظ رکھنے کے اس عظیم اور مقدس قومی مقصد میں حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں کیونکہ یہ ہم سب کی مشترکہ سماجی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، انہوں نے کہا کہ آئیے ہم سب مل کر ایک ایسے پڑھتے لکھتے پاکستان کی تعمیر کریں جہاں ہر بچہ تعلیم یافتہ، محفوظ اور بااختیار ہو اور اسے قومی ترقی اور خوشحالی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے مساوی اور بہترین مواقع میسر آ سکیں۔

پاکستان کی مسقط پلان آف ایکشن کی بھرپور حمایت، نفرت انگیز تقاریر، نسل کشی پر اکسانے اور سنگین جرائم کے خاتمے کے لیے مؤثر اور اختراعی عالمی فریم ورک قرار، اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا افتتاحی تقریب سے دبنگ خطاب، سلطنتِ عمان اور عالمی برادری کو کامیاب تکمیل پر مبارکباد

محمود احمد june 12,2026

اقوام متحدہ، نیویارک(نیوز اینڈ نیوز) —12جون 2026ء

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے مسقط پلان آف ایکشن کی بھرپور اور غیر مشروط حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اسے دنیا بھر میں نفرت انگیز تقاریر، نسل کشی پر اکسانے اور دیگر سنگین ترین انسانی جرائم کی روک تھام کے لیے ایک انتہائی مؤثر اور اختراعی عالمی فریم ورک قرار دیا ہے، اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں مسقط پلان آف ایکشن کی پروقار اور اعلیٰ سطح کی افتتاحی تقریب سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ یہ عظیم الشان منصوبہ دنیا بھر کی روایتی اور مقامی برادریوں کے رہنماؤں کی سماجی ساکھ، اخلاقی حیثیت اور عوامی اعتماد کو بہترین طریقے سے بروئے کار لا کر امن، باہمی مکالمے اور مصالحتی عمل کو فروغ دیتا ہے، پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ قبائلی عمائدین، روایتی سردار اور مقامی برادریوں کے رہنما تاریخی طور پر تنازعات کے حل، منصفانہ مصالحت اور مقامی نظم و نسق کو برقرار رکھنے میں ہمیشہ کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں اور آج کے اس جدید دور میں بھی یہ مقتدر شخصیات امن سازی، تنازعات کے پرامن خاتمے اور انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں میں صفِ اول کا کردار ادا کر رہی ہیں، انہوں نے دنیا بھر میں عدم برداشت، امتیازی رویوں اور نفرت انگیز تقاریر میں ہونے والے ہولناک اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس عالمی چیلنج کے تدارک کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی اور مخلصانہ عالمی تعاون کی اشد ضرورت ہے کیونکہ نفرت انگیز تقاریر اور نسل کشی جیسے بھیانک جرائم کے محرکات انتہائی پیچیدہ نوعیت کے ہیں، لہٰذا ان کے مؤثر سدباب کے لیے اب قومی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مربوط اور یکجا اقدامات کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

واضح رہے کہ مسقط پلان آف ایکشن اقوامِ متحدہ کی سرپرستی اور سلطنتِ عمان کی خصوصی کاوشوں سے تیار کیا گیا ایک ایسا بین الاقوامی فریم ورک ہے جس کا بنیادی مقصد روایتی اور مقامی آبادیوں کے بااثر رہنماؤں کے کردار کو عالمی سطح پر مضبوط بنا کر نفرت انگیز تقاریر اور نسل کشی کی روک تھام کو عملی طور پر ممکن بنانا ہے، اس تاریخی منصوبے کی افتتاحی تقریب میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سمیت متعدد عالمی رہنماؤں، سربراہان اور نامور سفارتکاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، تقریب کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب نے ملک کی خارجہ پالیسی کو پیش کرتے ہوئے عزم دہرایا کہ پاکستان اپنے تمام بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر نفرت انگیز نظریات کے خاتمے، مستقل امن کے فروغ اور مساوات پر مبنی پُر امن معاشروں کے قیام کے لیے اپنا تعمیری کام ہمیشہ جاری رکھے گا، سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب کے آخر میں سلطنتِ عمان کی اعلیٰ قیادت، اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسدادِ نسل کشی اور پیس میکرز نیٹ ورک کی انتظامیہ کو مسقط پلان آف ایکشن کی شاندار تیاری اور اس کی کامیاب تکمیل پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد بھی پیش کی۔

پاکستان اور چائلڈ مائنڈ انسٹی ٹیوٹ کے درمیان بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کے شعبے میں اسٹریٹجک شراکت داری پر اتفاق، نیویارک میں اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران ذہنی صحت کے قومی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ تعاون پر اہم پیش رفت، وفاقی وزیرِ مملکت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ کی عالمی ماہرین کو اکتوبر میں اسلام آباد آمد کی باضابطہ دعوت

منصور احمد june 12,2026

نیویارک(نیوز اینڈ نیوز) —12جون 2026ء

پاکستان اور چائلڈ مائنڈ انسٹی ٹیوٹ کے تحت قائم ایس این ایف گلوبل سینٹر فار چائلڈ اینڈ ایڈولیسنٹ مینٹل ہیلتھ نے بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کے شعبے میں اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینے پر باقاعدہ اتفاق کر لیا ہے جس کے تحت ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ نوجوان نسل کے نفسیاتی و ذہنی مسائل کے حل کے لیے عالمی معیار کے ماڈلز متعارف کروائے جائیں گے، نیویارک سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق یہ اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے قومی صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ نے امریکہ کے سرکاری دورے کے دوران نیویارک میں واقع ایس این ایف گلوبل سینٹر کا تفصیلی دورہ کیا جہاں ان کے ہمراہ وزارتِ قومی صحت کے سینئر مشیر ڈاکٹر ملک محمد صافی اور ڈاکٹر سید عثمان ہمدانی بھی موجود تھے، دورے کے دوران پاکستانی وفد نے بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کے لیے عالمی سطح پر اپنائے جانے والے کامیاب ترین ماڈلز کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور اس بات پر تفصیلی غور کیا کہ ان بین الاقوامی تجربات کو پاکستان میں کس طرح مؤثر انداز میں نافذ کیا جا سکتا ہے جبکہ وفد کو ایس این ایف گلوبل سینٹر کے اعلیٰ ماہرین نے ادارے کے تحقیقی، تربیتی اور ڈیجیٹل پروگراموں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی جن کا بنیادی مقصد کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں ذہنی صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔

پاکستانی وفد اور عالمی ماہرین کے مابین ہونے والی اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں چند اہم ترین شعبوں میں مشترکہ تعاون کو فوری طور پر آگے بڑھانے پر بات چیت ہوئی جن کے تحت اب دونوں فریقین مل کر بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت سے متعلق مشترکہ تحقیق کریں گے، ملک میں ذہنی صحت کے قومی ڈیٹا سسٹمز کی بہتری کے لیے اقدامات کیے جائیں گے اور جدید ترین ڈیجیٹل ذہنی صحت پروگرامز تیار کیے جائیں گے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر کے اسکولوں اور بنیادی صحت کے مراکز میں ذہنی صحت کی خدمات کا انضمام کیا جائے گا تاکہ نچلی سطح پر بچوں کی کونسلنگ کی جا سکے اور پاکستانی ماہرین سمیت نوجوان محققین کے لیے عالمی فیلوشپ پروگرامز، خصوصی تربیت، رہنمائی اور افرادی قوت کی استعداد میں اضافے کے منصوبے شروع کیے جائیں گے، ملاقات کے دوران پاکستانی وفد نے عالمی ادارے کو بتایا کہ یہ جدید ماڈل پاکستان کی مجوزہ قومی ذہنی صحت پالیسی، نیشنل ہب آف ایکسیلنس فار مینٹل ہیلتھ اور ملک بھر میں بچوں اور نوجوانوں کے لیے ذہنی صحت کی خدمات کے فروغ کے سرکاری منصوبوں سے مکمل مطابقت رکھتا ہے جس پر دونوں فریقوں نے اتفاق کیا کہ اس ابتدائی رابطے کو فوری عملی شکل دینے کے لیے ایک باضابطہ ادارہ جاتی معاہدے کی جانب پیش رفت کی جائے گی جس کے تحت تحقیق، تربیت، پالیسی سازی اور اختراعات میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا، وفاقی وزیرِ مملکت برائے صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ نے چائلڈ مائنڈ انسٹی ٹیوٹ، ایس این ایف گلوبل سینٹر اور انٹرنیشنل ایسوسی ایشن فار چائلڈ اینڈ ایڈولیسنٹ سائکیاٹری اینڈ الائیڈ پروفیشنز کے نمائندوں کو رواں سال یکم اور دو اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد ہونے والی عالمی یومِ ذہنی صحت کی بڑی تقریب میں شرکت کی باضابطہ دعوت بھی دی تاکہ اس شراکت داری کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

عمان کے ساحل پر آئل ٹینکر پر امریکی فوج کی ہلاکت خیز کارروائی، دو بھارتی ملاح جاں بحق اور ایک لاپتہ، نئی دہلی کا شدید ترین احتجاج، بھارت نے امریکی سفارت خانے کے قائم مقام سربراہ کو طلب کر لیا، خلیج عمان میں تجارتی جہازوں پر حملوں سے عالمی سطح پر شدید کشیدگی

محمود احمد june 11,2026

نئی دہلی / مسقط(نیوز اینڈ نیوز) —11 جون 2026ء

عمان کے ساحل کے قریب خام تیل لے جانے والے ایک بڑے آئل ٹینکر پر امریکی فوج کی جانب سے کی جانے والی ہلاکت خیز کارروائی کے نتیجے میں دو بھارتی ملاحوں کی افسوسناک ہلاکت اور ایک ملاح کے سمندر میں لاپتہ ہونے پر بھارت میں شدید غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور بھارت نے اس واقعے پر انتہائی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے نئی دہلی میں تعینات امریکی سفارت خانے کے قائم مقام سربراہ کو وزارتِ خارجہ طلب کر کے شدید ترین سفارتی احتجاج ریکارڈ کرایا ہے، نئی دہلی اور مسقط کے سفارتی و عسکری ذرائع سے حاصل ہونے والی سنسنی خیز تفصیلات کے مطابق عمان کے سمندری ساحل کے قریب سیٹبیلو نامی آئل ٹینکر پر ہونے والے اس ہولناک حملے کے بعد جہاز کے عملے میں شامل متعدد افراد بری طرح متاثر ہوئے ہیں تاہم امدادی کارروائی کے دوران اکیس ملاحوں کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے اور اس واقعے کے فوراً بعد بھارتی حکومت نے اپنے معصوم شہریوں کی ہلاکت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی حکومت سے اس پورے واقعے کی اعلیٰ سطح پر مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے، دوسری جانب اس خونریز کارروائی پر اپنا باضابطہ عسکری موقف پیش کرتے ہوئے یونائیٹڈ اسٹیٹس سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ آئل ٹینکر برادر ملک ایران سے خام تیل لے جا رہا تھا اور مبینہ طور پر خطے میں عائد بین الاقوامی پابندیوں اور امریکی ناکہ بندی کی کھلی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا تھا اس لیے امریکی فوج کے سرکاری بیان کے مطابق اس مشکوک بحری جہاز کو رکنے کے لیے متعدد بار وائرلیس پر سخت وارننگ دی گئی تاہم جہاز کے عملے کی جانب سے امریکی ہدایات پر عمل نہ کرنے اور جہاز کی رفتار تیز کرنے کے بعد مجبورا ایک امریکی جنگی طیارے نے کارروائی کرتے ہوئے جہاز کے مرکزی انجن کو نشانہ بنایا جس کے بعد وہاں ہلاکتیں ہوئیں، اس کارروائی کے ردعمل میں بھارت کی وزارتِ خارجہ نے سخت ترین تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی سفیر کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے اور بھارتی حکام نے سمندر میں لاپتہ ہونے والے ملاح کی فوری تلاش اور متاثرہ خاندانوں کو تمام ضروری معلومات فراہم کرنے کا بھی دبنگ مطالبہ کیا ہے، واضح رہے کہ یہ خطرناک واقعہ ایک ایسے نازک وقت میں پیش آیا ہے جب چند روز قبل ہی عمان کے ساحل کے قریب ایک اور آئل ٹینکر میریویکس کو بھی اسی طرح نشانہ بنایا گیا تھا تاہم خوش قسمتی سے اس جہاز پر موجود چوبیس بھارتی ملاحوں کو بعد میں محفوظ طریقے سے نکال لیا گیا تھا، بحری امور کے ماہرین کے مطابق خلیج عمان اور بحیرہ عرب کے ان انتہائی اہم ترین عالمی تجارتی راستوں پر حالیہ دنوں میں بڑھنے والی عسکری کشیدگی اب عالمی تجارت اور دنیا بھر میں توانائی کی ترسیل کے لیے نئے اور ہولناک خطرات پیدا کر رہی ہے جبکہ سمندری راستوں پر بڑھتے ہوئے ان فوجی اقدامات نے بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں اور بڑے تجارتی اداروں کو بھی شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی فضائی کمپنی اتحاد ایئر ویز کا کابل کے لیے پروازیں دگنی کرنے کا بڑا اعلان، پندرہ جولائی سے ابوظبی اور افغانستان کے درمیان روزانہ اضافی پروازیں چلیں گی، زاید انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ذریعے یورپ جانے والے مسافروں کو شاندار سفری سہولیات کی فراہمی

منصور احمد june 11,2026

متحدہ عرب امارات کی نامور اور سرکاری فضائی کمپنی اتحاد ایئر ویز نے پندرہ جولائی دو ہزار چھبیس سے اپنے مرکزی ہیڈ کوارٹر ابوظبی اور افغان دارالحکومت کابل کے درمیان مسافر پروازوں کی تعداد میں بڑا اضافہ کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان فضائی آپریشن کو مزید وسیع کیا جائے گا، اماراتی نیوز ایجنسی کے مطابق اتحاد ایئرلائن نے مسافروں کے بے پناہ رش کے پیشِ نظر پروازوں کی موجودہ تعداد کو اب باقاعدہ طور پر دگنی کر دیا ہے اور اس نئے شیڈول کے تحت اب یومیہ ایک اضافی پرواز مستقل طور پر چلائی جائے گی، فضائی کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ پروازوں کے دائرہ کار میں یہ نئی توسیع افغانستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان براہِ راست سفر کرنے والے تجارتی مسافروں اور بالخصوص ابوظبی کے جدید ترین زاید انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے راستے یورپ، امریکہ اور دنیا کے دیگر بڑے ممالک کا سفر کرنے والے بین الاقوامی مسافروں کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد کو مدنظر رکھ کر کی گئی ہے کیونکہ کابل سے چلنے والی یہ پروازیں زاید ایئرپورٹ کو ایک بڑے فضائی مرکز کے طور پر استعمال کریں گی، ایئرلائن کی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اس اہم روٹ پر مسافروں کے آرام و آسائش کو برقرار رکھنے کے لیے جدید ترین ایئربس اے تین سو بیس طیارے استعمال کیے جا رہے ہیں جن کے اندر آٹھ بزنس کلاس اور ایک سو پچاس اکانومی کلاس کی نشستیں موجود ہیں، اس اقدام سے دونوں خطوں کے مابین فضائی روابط اور تجارتی سرگرمیوں میں مزید تیزی آئے گی۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان نے بین تہذیبی مکالمے کو عصرِ حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کی کلید قرار دے دیا، باہمی تعاون اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری ہی مؤثر ترین ذرائع ہیں، مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا چین کے زیرِ اہتمام اعلیٰ سطحی تقریب سے خطاب

محمود احمد june 11,2026

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اختلافات سے بالاتر ہو کر باہمی افہام و تفہیم، تعاون اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کو مؤثر ترین ذرائع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ کے اس نازک مرحلے پر جب عالمی امن اور ہم آہنگی کو متعدد چیلنجز درپیش ہیں بین تہذیبی مکالمے کی اہمیت کو کسی بھی طور کم نہیں سمجھا جا سکتا، چین کے مستقل مشن کے زیرِ اہتمام اقوامِ متحدہ میں بین تہذیبی مکالمے کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ اعلیٰ سطحی تقریب سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ مکالمے کی روح ہی وہ قوت ہے جس نے انسانی تہذیب کو باہمی احترام، اعتماد کے فروغ اور مشترکہ ترقی و پیش رفت کی راہ متعین کرنے کے قابل بنایا ہے، انہوں نے عالمی برادری کو بتایا کہ پاکستان جو مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مغربی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے صدیوں سے مختلف تہذیبوں، ثقافتوں اور مذاہب کے امتزاج اور باہمی تعامل کا مرکز رہا ہے اس لیے بین المذاہب ہم آہنگی، پُرامن بقائے باہمی، تنوع، تکثیریت اور مکالمے کی اقدار نہ صرف پاکستانی تہذیب کی نمایاں خصوصیات ہیں بلکہ یہی اقدار ہماری خارجہ پالیسی کی رہنمائی بھی کرتی ہیں، مستقل مندوب نے سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کے ارکان کو یاد دلایا کہ اسی جذبے کے تحت پاکستان نے فلپائن کے ساتھ مل کر امن کے لیے بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمے، افہام و تفہیم اور تعاون کے فروغ سے متعلق ایک اہم قرارداد کا معاون پیش کنندہ بننے کا اعزاز حاصل کیا جسے حال ہی میں بیس مئی کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اتفاقِ رائے سے منظور کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والی اقوامِ متحدہ ہمیشہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ رہی ہے کہ بین الاقوامی امن اور تہذیبوں کے درمیان مکالمہ ایک دوسرے سے گہرا اور اٹوٹ تعلق رکھتے ہیں، سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے اختتامی کلمات میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک پُرعزم شراکت دار کے طور پر اقوامِ متحدہ اور تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر تہذیبوں، ثقافتوں اور مذاہب کے درمیان مکالمے کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں مستقل جاری رکھے گا تاکہ عالمی امن، ہم آہنگی اور خوشحالی کے مشترکہ مقاصد کو کامیابی سے آگے بڑھایا جا سکے، انہوں نے اس موقع پر چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، جنرل اسمبلی کے صدر اور اقوامِ متحدہ کے اتحادِ تہذیبوں کے اعلیٰ نمائندے جناب میگوئل اینخیل موراتینوس کے تعریفی پیغامات کو بھی سراہا جبکہ جمہوریہ کولمبیا کے صدر جناب گستاوو پیٹرو کے خطاب کا بھی والہانہ خیرمقدم کرتے ہوئے ان کے خیالات کو دنیا کے لیے قابلِ قدر قرار دیا۔

مشرقِ وسطیٰ کے نازک حالات پر سلامتی کونسل میں پاکستان کا بڑا بیان، سفیر عاصم افتخار احمد کا کثیرالجہتی سفارت کاری، ثالثی اور فوری جنگ بندی پر زور، غزہ میں تین برس سے جاری اسرائیلی جارحیت اور تباہی پر شدید تشویش، امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی ثالثی کوششیں تاحال جاری رکھنے کا اعلان

محمود احمد june 11,2026

اقوام متحدہ، نیویارک(نیوز اینڈ نیوز) —11جون 2026ء

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی حل کے فروغ اور ثالثی کے موضوع پر منعقدہ کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خطے کی صورتحال کو نہایت نازک اور مسلسل غیر یقینی قرار دیا ہے، انہوں نے سلامتی کونسل کے ارکان کو بتایا کہ پورے خطے میں حل طلب تنازعات طویل المدتی کشمکش کی صورت اختیار کر چکے ہیں جبکہ تشدد کے مسلسل ادوار اب معمول بنتے جا رہے ہیں کیونکہ بین الاقوامی قانون کی مسلسل خلاف ورزی، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد میں ناکامی اور حقیقی سیاسی عمل کے فقدان نے پائیدار امن، استحکام اور سلامتی کے حصول کے امکانات کو شدید نقصان پہنچایا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ایسے نازک مرحلے پر سیاسی حل کے فروغ اور پیش رفت کو یقینی بنانا اقوام متحدہ کے منشور کے تحت ہماری بنیادی ذمہ داری ہے کیونکہ عرب اسرائیل تنازع سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود قدیم ترین اور اہم ترین مسائل میں سے ایک ہے، انہوں نے زمینی صورتحال کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں تقریباً تین برس سے جاری تباہ کن جنگ اور اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں انسانی المیہ انتہائی ہولناک صورت اختیار کر چکا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ کی مربوط سفارتی کاوشوں اور پاکستان سمیت آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے گروپ کی حمایت سے غزہ امن منصوبہ اور سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر دو ہزار آٹھ سو تین وجود میں آئے تھے، تاہم جنگ بندی کے باوجود فلسطینیوں کے خلاف خلاف ورزیاں اور ہلاکتیں بدستور جاری ہیں جبکہ دوسری جانب مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے غیر قانونی پھیلاؤ اور یکطرفہ اقدامات پر مبنی ایک منظم پالیسی دو ریاستی حل کے امکانات کو مسلسل کمزور کر رہی ہے، پاکستانی سفیر نے لبنان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں جنگ بندی کے خاتمے سے متعلق فریم ورک اور سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر سترہ سو ایک کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں اور اسرائیل کی بے دریغ بمباری کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ افراد جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں جبکہ جنوبی لبنان پر غیر قانونی قبضے کا دائرہ مسلسل وسیع ہوتا جا رہا ہے، اس کے علاوہ شام اپنی نئی قیادت اور جرات مندانہ سیاسی فیصلوں کے ذریعے بتدریج استحکام کی جانب پیش رفت کی کوشش کر رہا ہے تاہم اسے اب بھی اپنے جنوبی علاقوں میں جاری قبضے جیسے چیلنجز کا سامنا ہے جبکہ یمن کی صورتحال بھی عالمی برادری کی سنجیدہ توجہ کی متقاضی ہے کیونکہ اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ایک جامع اور یمنی قیادت پر مبنی سیاسی عمل ہی وہاں پائیدار امن قائم کر سکتا ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ پاکستان مغربی ایشیا اور وسیع تر خلیجی خطے میں حالیہ پیش رفت کو انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے کیونکہ اس جنگ کے علاقائی اور عالمی امن سمیت بین الاقوامی معیشت بالخصوص توانائی اور غذائی تحفظ پر مرتب ہونے والے اثرات بالکل واضح ہیں، انہوں نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ جنگ بندی کے حصول اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے پاکستان نے ترکیہ، مصر، سعودی عرب اور دیگر شراکت داروں بالخصوص قطر اور چین کے ساتھ مل کر بھرپور سفارتی اور ثالثی کوششیں کیں اور ہماری فوری ترجیح سفارت کاری کے عمل کو جاری رکھنا، مکمل جنگ بندی کو یقینی بنانا اور آبنائے ہرمز میں معمول کی صورتحال کی بحالی ہونی چاہیے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے کے تمام برادر ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور ان مشکل حالات میں پاکستان نے خلیج تعاون کونسل کے برادر رکن ممالک کے ساتھ اپنی مسلسل اور غیر متزلزل حمایت اور مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے، انہوں نے کونسل کے سامنے پاکستان کے اصولی موقف کو پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تنازعات کی بنیادی وجوہات کا مؤثر اور منصفانہ حل تلاش نہ کیا جائے کیونکہ مسئلۂ فلسطین خطے میں دیرپا امن کے قیام کی تمام کوششوں کا مرکزی محور ہے اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی بنیاد پر ایک وقت کے تعین کے ساتھ ناقابلِ واپسی سیاسی عمل کو آگے بڑھایا جانا چاہیے جو انیس سو سڑسٹھ سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک خودمختار، آزاد اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام پر منتج ہو جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، عاصم افتخار احمد نے مزید انکشاف کیا کہ پاکستان کی امن کے لیے طویل المدتی وابستگی عملی اقدامات کی صورت میں عیاں ہے اور پاکستان غزہ امن منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوششوں میں مسلسل سرگرم عمل ہے جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور مکالمے کے فروغ کے لیے ثالثی اور سہولت کاری کی مخلصانہ کوششوں میں بھی معاونت کر رہا ہے اور یہ سفارتی کوششیں آج بھی پوری تندہی سے جاری ہیں، انہوں نے اپنے خطاب کے آخر میں کونسل پر زور دیا کہ آج مشرقِ وسطیٰ کو امن کی جتنی ضرورت ہے اتنی ہی ضرورت باقی دنیا کو بھی ہے اس لیے سفارت کاری کو محاذ آرائی پر، مکالمے کو تقسیم پر اور بین الاقوامی قانون کو وقتی مفادات پر ہر صورت ترجیح دی جائے کیونکہ یہی دیرپا امن کا واحد راستہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو فوری طور پر جوہری معاہدے پر دستخط کرنے کا مشورہ، ایرانیوں کی جانب سے امریکی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنانے اور بم برآمد ہونے کا سنسنی خیز دعویٰ، سیکیور امریکہ ایکٹ منظور جبکہ ایران کے خلاف کارروائیوں میں پاکستان کی درخواست پر وقفہ دینے کا اعتراف

محمود احمد june 10,2026

واشنگٹن(نیوز اینڈ نیوز) — 10جون 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ایک سنسنی خیز عسکری دعویٰ کیا ہے کہ ایرانیوں نے حال ہی میں ایک امریکی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنا کر مار گرایا ہے جبکہ تہران کو عقل کے ناخن لیتے ہوئے فوری طور پر نئے جوہری معاہدے پر دستخط کر دینے چاہئیں کیونکہ یہ خود اس کے اپنے مفاد میں ہے، واشنگٹن ڈی سی میں میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا اور موجودہ مجوزہ معاہدہ ایرانی حکومت کے لیے ایک آخری اور بہتر موقع ہے، پریس بریفنگ کے دوران ہیلی کاپٹر حملے سے متعلق اہم عسکری تفصیلات بتاتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایرانیوں نے جس امریکی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا اس کے اندر ایک انتہائی بڑا بم موجود تھا اور یہ محض خوش قسمتی تھی کہ تباہی کے بعد وہ بم دھماکے سے نہیں پھٹا ورنہ خطے میں صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین اور قابو سے باہر ہو سکتی تھی، انہوں نے واضح کیا کہ امریکی عسکری اثاثے پر ہونے والے اس حملے کے بعد ایران کے خلاف سخت ترین جوابی کارروائی کرنا ناگزیر اور ضروری سمجھا گیا تھا، اس موقع پر امریکی صدر نے ملک کے اندرونی تحفظ کے حوالے سے سیکیور امریکہ ایکٹ پر باقاعدہ دستخط کرنے کا بھی بڑا اعلان کیا اور کہا کہ اس نئے قانون کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سرحدی سیکیورٹی فورسز کو مزید جدید وسائل اور فنڈز فراہم کیے جائیں گے کیونکہ ان کی حکومت امیگریشن اور بارڈر سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنا رہی ہے اور سرحدی نگرانی سخت کر کے غیر قانونی داخلوں کی مکمل روک تھام کی گئی ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی اس اہم گفتگو کے دوران پاکستان کا خاص طور پر حوالہ دیتے ہوئے ایک اور بڑا انکشاف کیا اور دعویٰ کیا کہ بعض نازک مواقع پر پاکستان کی اعلیٰ قیادت کی خصوصی درخواست پر ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں کچھ دیر کے لیے وقفہ دیا گیا تھا جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھنے والی شدید عسکری کشیدگی کے دوران جنگ بندی کروانے اور امن قائم کرنے کی کوششوں میں بھی امریکی کردار انتہائی کلیدی رہا ہے، امریکی صدر نے آخر میں اپنے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے حوالے سے اپنے اصولی موقف پر سختی سے قائم ہے اور ایران کو کسی بڑے نقصان سے بچنے کے لیے اب مخلصانہ طور پر سفارتی حل کی طرف بڑھنا چاہیے۔