سربراہی اجلاس: سوئٹزرلینڈ میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے اہم ملاقات، پاک-امریکہ وفود میں غیر معمولی گرمجوشی کا مظاہرہ

محمود احمد june 21,2026

زیورخ/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

سوئٹزرلینڈ کے تفریحی مقام برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی امن مذاکرات کے باقاعدہ آغاز پر پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ ایک انتہائی اہم اور مقتدر ملاقات ہوئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر عملدرآمد کے لیے سوئٹزرلینڈ کے جیو پولیٹیکل مذاکراتی مرکز میں ہونے والی اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین سٹرٹیجک تعلقات اور خطے کے امن پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر بھی موجود تھے، اور ملاقات میں اس وقت غیر معمولی سفارتی گرمجوشی دیکھی گئی جب اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شاندار استقبال کیا اور ان سے گرمجوشی سے بغل گیر ہوئے۔

بین الاقوامی سفارتی ذرائع کے مطابق برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ اختیاراتی وفود امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پہنچ چکے ہیں۔ ایرانی وفد کی قیادت وہاں کے چیف مذاکرات کار باقر قالیباف کر رہے ہیں، جسے ایرانی میڈیا میں ’میناب 168‘ کا خصوصی نام دیا گیا ہے، اس وفد میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی، قومی سلامتی کونسل کے اہم عہدیدار علی باقری، مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی، کاظم غریب آبادی اور اسماعیل بقائی شامل ہیں، جبکہ امریکی وفد کی سربراہی نائب صدر جے ڈی وینس خود کر رہے ہیں۔ عالمی امن کے اس مقتدر عمل میں سہولت کار کے طور پر قطر اور سوئٹزرلینڈ کے خصوصی نمائندے بھی کلیدی حیثیت میں شریکِ گفتگو ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اس اہم پیشرفت پر اپنا مقتدر مؤقف جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان، ایران اور امریکہ کے درمیان طے شدہ امن مفاہمت پر عملدرآمد کی بھرپور تائید و حمایت کرتا ہے اور اس عالمی عمل کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار مستقل جاری رکھے گا۔ اس تاریخی عالمی سربراہی موقع پر وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی ایران، قطر، سوئٹزرلینڈ اور امریکہ کے وفود کے ساتھ سائیڈ لائن پر انتہائی اہم دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ ترجمان دفترِ خارجہ نے واضح کیا کہ اس سنگین عالمی بحران میں پاکستان کی سفارتی سہولت کاری اس کے اصولی، متوازن اور امن پسند مؤقف کی کھلی مظہر ہے، کیونکہ امریکہ اور ایران کے ابتدائی مذاکراتی ادوار کی کامیاب میزبانی اور پاکستان کے مسلسل مقتدر سفارتی رابطے ہی بالآخر دونوں فریقین کو ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کی میز پر لانے کا بنیادی باعث بنے ہیں۔

فیفا ورلڈ کپ 2026ء؛ ٹورنٹو ایئرپورٹ پر جرمن فٹ بال ٹیم کی رن وے پر مجرموں کی طرح سخت تلاشی کی ویڈیو وائرل، مینوئل نوئر سمیت سٹار کھلاڑی شدید برہم، ”سرحدی قوانین سب کے لیے برابر ہیں، کوئی خصوصی رعایت نہیں ملے گی،“ کینیڈین حکام کا دوٹوک مؤقف

محمود احمد june 20,2026

ٹورنٹو/برلن (اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

فیفا ورلڈ کپ 2026ء کے سنسنی خیز مقابلوں کے دوران کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں ایک نیا اور غیر معمولی بین الاقوامی تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جہاں جرمنی کی عالمی شہرت یافتہ فٹ بال ٹیم کو آئیوری کوسٹ کے خلاف اپنے انتہائی اہم میچ کے لیے روانگی سے قبل ٹورنٹو ایئرپورٹ پر انتہائی سخت، تضحیک آمیز اور غیر متوقع امیگریشن و سیکیورٹی مراحل سے گزرنا پڑا ہے، اسپورٹس میڈیا رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جرمن ٹیم کا خصوصی طیارہ رن وے پر بالکل اسٹارٹ کھڑا ہے اور جہاز میں سوار ہونے سے عین قبل کینیڈین سرحدی حکام جرمن کھلاڑیوں اور ان کے سامان کی ایسے جامہ تلاشی لے رہے ہیں جیسے وہ کوئی عام مسافر یا مجرم ہوں۔

اس ہائی وولٹیج واقعے کے دوران جرمنی کے مقتدر اور تجربہ کار سٹار گول کیپر مینوئل نوئر کے تاثرات اور چہرے کے تاثرات سوشل میڈیا پر خاص طور پر توجہ کا مرکز بن گئے، وائرل تصاویر اور ویڈیوز میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ مینوئل نوئر رن وے پر ہونے والی اس طویل، وقت طلب اور سخت کسٹمز اسکریننگ کے عمل پر شدید ناخوش، پریشان اور غصے میں دکھائی دے رہے ہیں، جرمن میڈیا کے مطابق عالمی سطح کے مقتدر ایتھلیٹس کے ساتھ بین الاقوامی ایئرپورٹ پر عام مسافروں سے بھی زیادہ سخت اور تضحیک آمیز برتاؤ کرنے پر جرمن فٹ بال ایسوسی ایشن نے بھی کینیڈین امیگریشن حکام کے خلاف شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اسے ورلڈ کپ کے مروجہ پروٹوکولز کے منافی قرار دیا ہے۔

دوسری جانب اس وائرل ویڈیو پر دنیا بھر کے فٹ بال شائقین کی جانب سے کینیڈا پر شدید نکتہ چینی کی جا رہی ہے اور یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا فیفا ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے آئی ہوئی عالمی ٹیموں کو خصوصی سفارتی و سیکیورٹی رعایت ملنی چاہیے یا نہیں، تاہم اس کڑے عوامی و بین الاقوامی دباؤ کے بعد کینیڈین بارڈر سروسز اور ایئرپورٹ حکام نے اپنا سخت سٹرٹیجک مؤقف جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ شمالی امریکہ کے سرحدی، کسٹمز اور سیکیورٹی قوانین ملک میں داخل ہونے اور یہاں سے جانے والے تمام افراد پر بلا تفریقِ رنگ، نسل اور رتبہ یکساں طور پر لاگو ہوتے ہیں، حکام کا کہنا تھا کہ پروازوں کی حفاظت اور کینیڈا کے حفاظتی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی عالمی کھلاڑی یا وی آئی پی شخصیت کو سیکیورٹی چیکس میں خصوصی رعایت دینا ناممکن ہے۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد پاکستان کی سفارتی حکمتِ عملی تیز، وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی ہنگامی اور انتہائی اہم دورے پر تہران روانہ، ایرانی اعلیٰ قیادت اور سفارتی مقتدر شخصیات سے ملاقاتیں شیڈول، ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی ’ارنا‘ نے دورے کی تصدیق کر دی

کاشف عباسی ,june 20,2026

اسلام آباد/تہران (سیاسی رپورٹر/انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

سپر پاور امریکہ اور ایران کے مابین پاکستان کی مخلصانہ ثالثی کے نتیجے میں طے پانے والے تاریخی امن معاہدے ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ کے بعد خطے کی بدلتی ہوئی سٹرٹیجک صورتحال کو پائیدار بنانے کے لیے پاکستان نے ایک بار پھر اپنا فعال ترین سفارتی کردار ہنگامی بنیادوں پر تیز کر دیا ہے، اس سلسلے میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی ایک انتہائی اہم اور ہنگامی دورے پر ایران کے دارالحکومت تہران روانہ ہو گئے ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے اس مقتدر دورے کو مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن و امان کے قیام، عالمی سفارت کاری اور معاہدے کے خدوخال کو حتمی شکل دینے کے لحاظ سے انتہائی کلیدی اور سنسنی خیز اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے اس اعلیٰ سطح کے ہنگامی دورے کی حساسیت اور اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایران کے سرکاری میڈیا نے بھی اسے بریکنگ نیوز کے طور پر نمایاں کوریج دی ہے، ایران کی آفیشل اور مقتدر سرکاری نیوز ایجنسی ”ارنا“ نے پاکستانی وزیرِ داخلہ کی تہران آمد اور اس اعلیٰ سطح کے دورے کی باقاعدہ تصدیق کرتے ہوئے مطلع کیا ہے کہ محسن نقوی اپنے اس مقتدر دورے کے دوران ایرانی دارالحکومت تہران میں ایران کی اعلیٰ ترین حکومتی، عسکری اور سفارتی شخصیات سے خصوصی ملاقاتیں کریں گے، اس سٹرٹیجک دورے کا سب سے اہم، بنیادی اور حساس ترین محور ایران اور امریکہ کے درمیان جاری پسِ پردہ مذاکرات میں ہونے والی حالیہ پیشرفت، جنگ بندی کے معاہدے پر عملدرآمد اور ضامن کے طور پر پاکستان کی جانب سے کی جانے والی نئی سفارتی کوششیں ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق تہران میں ہونے والی ان مقتدر ملاقاتوں کے دوران پاک ایران دوطرفہ سیکیورٹی امور، سرحدی انتظام، خطے کی مجموعی جیو پولیٹیکل صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر تزویراتی امور پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا، یہ دورہ دراصل پاکستان کی اسی پائیدار خارجہ پالیسی کا تسلسل ہے جس کے تحت وہ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف کی قیادت میں خطے میں عالمی امن کا سب سے بڑا علمبردار بن کر ابھرا ہے، سیاسی و معاشی مبصرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے، مستقل امن و امان کے قیام اور عالمی طاقتوں کے مابین سفارتی روابط کو فعال و محفوظ بنانے کے لیے پاکستان کا یہ برادرانہ اور مقتدر ثالثی کردار خطے کو ایک نئی اور محفوظ سمت کی طرف گامزن کر رہا ہے۔

”فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ اعظم شہباز شریف عظیم ہیں، دونوں کے ورکنگ ریلیشنز شاندار ہیں، ایک آرمی چیف کو اپنے وزیرِ اعظم کا پورا احترام کرتے دیکھنا خوبصورت ترین منظر ہے“، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ کو سنسنی خیز انٹرویو، ایران جنگ رکوانے میں پاکستان کی اسٹرٹیجک ثالثی کا اعتراف

کاشف عباسی ,june 20,2026

واشنگٹن/اسلام آباد (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے تاریخی امن معاہدے ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر عالمی منظرنامے پر پاکستانی قیادت کی غیر معمولی عسکری و سیاسی صلاحیتوں اور مثالی داخلی ہم آہنگی کو دنیا کے سامنے زبردست الفاظ میں سراہا ہے، واشنگٹن سے موصولہ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مشہور امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ کو دیے گئے ایک مقتدر اور خصوصی انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے سول اور عسکری تعلقات کو دنیا بھر کے جمہوری و دفاعی نظام کے لیے ایک شاندار اور بہترین اسٹرٹیجک مثال قرار دے دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے کی صورتحال پر کھل کر بات کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ سپر پاور امریکہ اور ایران کو ہولناک جنگ کے دہانے سے واپس لانے اور کائنات میں امن قائم کرانے میں پاکستان کا کردار سب سے اہم اور مخلصانہ تھا، انہوں نے پاکستانی طاقت کا کٹھ چٹھا کھولتے ہوئے کہا کہ ”پاکستان میں فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ اور تعلقات کی کیمسٹری بہت لاجواب ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک عظیم سپہ سالار ہیں اور ان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف بھی ایک مقتدر لیڈر ہیں، دونوں کے آپس میں شاندار، مربوط اور پختہ تعلقات قائم ہیں۔“

ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے اندرونی سیاسی و عسکری ڈھانچے کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہوئے مزید کہا کہ ”یہ منظر دیکھنا بین الاقوامی برادری کے لیے انتہائی خوبصورت اور قابلِ تقلید ہے کہ ملک کا ایک طاقتور فوجی سربراہ پوری طرح اور مخلصانہ طور پر اپنے آئینی وزیرِ اعظم کا احترام کرتا ہے اور ان کے ساتھ مل کر فیصلے کرتا ہے،“ انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستانی قیادت نے ایران کے ساتھ یہ پیچیدہ مفاہمتی یادداشت طے کرنے میں واشنگٹن کی بہت بڑی اور تاریخی مدد کی، کیونکہ پاکستانی حکام تہران کے حکمرانوں اور ایرانیوں کی نفسیات کو بہت اچھے طریقے سے جانتے، پرکھتے اور سمجھتے تھے۔

امریکی صدر نے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے سنسنی خیز دعویٰ کیا کہ ”ہم نے ایران کو فوجی اور دفاعی سطح پر پوری طرح جکڑ کر شکست دے دی تھی، لیکن اس انتہائی نازک اور سسپنس سے بھرپور موڑ پر پاکستان نے، جو کہ امریکہ کے بہت قریب اور دیرینہ دوست ہے، مجھ سے باقاعدہ اعلیٰ سطحی درخواست کی کہ ایران پر مزید ملٹری حملے نہ کیے جائیں، جس کے بعد پاکستان کے فولادی اصرار پر ہی ہم نے مذاکرات اور مستقل امن کا راستہ اختیار کیا،“ سیاسی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ انٹرویو ظاہر کرتا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کی کامیاب خارجہ پالیسی نے نہ صرف دنیا کو تیسری جنگِ عظیم سے بچایا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا عسکری و سیاسی وقار بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

”میں اور اٹلی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے“، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے توہین آمیز ریمارکس پر اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی کا کرارا جواب، احتجاجاً اطالوی نائب وزیرِ اعظم کا دورۂ امریکہ منسوخ، جی 7 سمٹ کے بعد واشنگٹن اور روم میں شدید سفارتی جنگ چھڑ گئی

محمود احمد june 19,2026

روم/واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

فرانس میں منعقدہ جی 7 سربراہی اجلاس کے سائیڈ لائنز پر شروع ہونے والا تنازع اب ایک ہولناک بین الاقوامی سفارتی بحران میں تبدیل ہو گیا ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زہریلے اور توہین آمیز بیانات کے خلاف اٹلی کی قیادت نے انتہائی کڑا اور مقتدر رخ اختیار کر لیا ہے، روم سے جاری ہونے والی بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو سرِعام “جھوٹا، من گھڑت اور خود ساختہ” قرار دے کر مسترد کر دیا ہے جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ جارجیا میلونی ان کے ساتھ تصویر کھچوانے کے لیے منت سماجت کر رہی تھیں، اطالوی وزیرِ اعظم نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں تہران نما عزم کے ساتھ واضح کیا کہ ”امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ہر صورت یہ یاد رکھنا ہوگا کہ جارجیا میلونی اور ملک اٹلی دنیا میں کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔“

اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی کا مزید کہنا تھا کہ سپر پاور کے صدر کا یہ اڑیل بیان سراسر خود ساختہ کہانی پر مبنی ہے اور اس غیر ذمہ دارانہ رویے سے پوری اطالوی حکومت کو شدید مایوسی ہوئی ہے، انہوں نے کڑی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”میں اب تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ امریکی صدر اپنے دیرینہ اور مخلص یورپی اتحادیوں کے ساتھ اس طرح کا تضحیک آمیز برتاؤ آخر کیوں کرتے ہیں؟“ واضح رہے کہ یہ تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب جی 7 سربراہی اجلاس کے اختتام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مقتدر انٹرویو کے دوران سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ”اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی میرے ساتھ تصویر بنوانے کے لیے مسلسل منتیں اور سماجت کر رہی تھیں، جس پر مجھے ان کی حالت دیکھ کر ترس آگیا اور میں نے فوٹو بنوا لی۔“

ٹرمپ کے اس انتہائی توہین آمیز اور تکبر سے بھرپور بیان پر پورے اٹلی میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، جس پر ہنگامی سفارتی ایکشن لیتے ہوئے اٹلی کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی نے امریکی صدر کے رویے کے خلاف سخت ترین احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے اپنا دورۂ امریکہ یکسر منسوخ کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، اطالوی وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی نے واشنگٹن کو کڑا پیغام بھیجتے ہوئے کہا کہ ”صدر ٹرمپ کی جانب سے ہماری وزیرِ اعظم جارجیا میلونی کے خلاف استعمال کیے گئے گھٹیا اور توہین آمیز الفاظ سے پورے اطالوی عوام اور ریاست کے وقار کو شدید ٹھیس پہنچی ہے، اس توہین کے بعد میں کسی صورت واشنگٹن نہیں جا سکتا،“ انہوں نے مطلع کیا کہ اسی احتجاجی فیصلے کے تحت وہ 21 اور 22 جون کو ہونے والا اپنا اہم ترین طے شدہ سرکاری دورۂ امریکہ منسوخ کر رہے ہیں، سیاسی مبصرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد صدر ٹرمپ کا یورپی اتحادیوں کے ساتھ یہ نیا محاذ واشنگٹن کو عالمی سیاست میں مزید تنہا کر سکتا ہے۔

”چینی صدر شی جن پنگ اور نریندر مودی دنیا کے دو مضبوط ترین رہنما ہیں، مودی فرشتے کی طرح نظر آتے ہیں لیکن مذاکرات میں بے رحم قاتل ہیں“، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا جی 7 سمٹ کے بعد سنسنی خیز انٹرویو، ایران محاذ آرائی کے بعد صدارتی اختیارات کی حدود نہ ہونے کا دعویٰ

محمود احمد june 19,2026

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے صدر شی جن پنگ اور بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو اس وقت دنیا کے دو سب سے زیادہ مضبوط اور بااثر ترین عالمی رہنما قرار دے دیا ہے، واشنگٹن سے جاری بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانس میں منعقدہ جی 7 سربراہی اجلاس سے واپسی پر دیے گئے ایک انتہائی مقتدر اور سنسنی خیز انٹرویو میں امریکی صدر نے اعتراف کیا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ ان عالمی لیڈرز کی فہرست میں سرفہرست ہیں جنہیں وہ ذاتی طور پر سب سے زیادہ پسند کرتے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں رہنماؤں کی نفسیات کا کٹھ چٹھا کھولتے ہوئے چینی صدر شی جن پنگ کو “مکمل طور پر ایک کاروباری اور نفع نقصان دیکھنے والی شخصیت” جبکہ بھارتی وزیرِ اعظم مودی کو “ایک حد سے زیادہ سخت، پختہ اور ضدی انسان” قرار دیا۔

امریکی صدر نے فرانس میں میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس وقت ایک نیا پینڈورا باکس اور بحث چھیڑ دی جب انہوں نے تجارتی مذاکرات کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو ایک ہی سانس میں ‘فرشتہ’ اور ‘قاتل’ قرار دے دیا، ڈونلڈ ٹرمپ کا کڑے الفاظ میں کہنا تھا کہ ”نریندر مودی دنیا کے سخت ترین اور مشکل ترین مذاکرات کاروں میں سے ایک ہیں، وہ دیکھنے میں بہت خوبصورت، دھیمے اور معصوم نظر آتے ہیں، بالکل ایک فرشتے کی طرح، لیکن جب بات اپنے ملکی مفاد اور تجارت کی ہو تو حقیقت میں وہ انتہائی سخت، ایک بے رحم قاتل کی طرح سودے بازی کرتے ہیں اور رتی برابر بھی گنجائش نہیں دیتے۔“ انٹرویو کے دوران امریکی صدر نے کسی بھی ایسے عالمی رہنما کا نام لینے سے صاف گریز کیا جسے وہ سیاسی یا سٹرٹیجک طور پر کمزور سمجھتے ہوں۔

انٹرویو کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے ایک اور سنسنی خیز دعویٰ کیا کہ حالیہ بین الاقوامی واقعات، بشمول ایران کے ساتھ ہونے والی شدید فوجی و سفارتی محاذ آرائی اور اس کے بعد طے پانے والے تاریخی امن معاہدے نے ان کے اس یقین کو فولادی بنا دیا ہے کہ امریکی صدارتی اختیارات کی کوئی طے شدہ “حدود” نہیں ہیں اور ایک امریکی صدر دنیا کا نقشہ بدلنے کی طاقت رکھتا ہے، مبصرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ مقتدر بیان ظاہر کرتا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ حالیہ کامیابی کے بعد خود کو عالمی سیاست کا سب سے طاقتور محور قرار دے رہے ہیں جبکہ چین اور بھارت کے ساتھ مستقبل میں سخت تجارتی معرکوں کی تیاری کا اشارہ بھی دے رہے ہیں۔

”اگر ہم نے فوری طور پر نیتن یاہو حکومت کو نہ بدلا تو اسرائیل کے خارجہ تعلقات مکمل طور پر تباہ ہو جائیں گے“، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی برہمی پر سابق اسرائیلی وزیرِ اعظم اور اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ کا کڑا ردعمل، امریکہ ایران امن معاہدے پر دونوں اتحادیوں میں سفارتی دراڑیں نمایاں

محمود احمد june 19,2026

واشنگٹن/تل ابیب (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان حال ہی میں طے پانے والی تاریخی مفاہمتی یادداشت اور جنگ بندی کے بعد واشنگٹن اور تل ابیب کے مابین سٹرٹیجک تلخی برقرار ہے، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے کڑی نکتہ چینی کے بعد اسرائیل کے سابق وزیرِ اعظم اور موجودہ اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کی حکومت کو سخت ترین الفاظ میں وارننگ جاری کر دی ہے، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک مقتدر اور دوٹوک بیان میں یائر لیپڈ نے خبردار کیا ہے کہ ”پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران امریکی نائب صدر پریس کانفرنس میں اسرائیلی وزرا اسموٹریچ اور بین گویر پر شدید برہم ہوئے، جبکہ ہمارے وزیرِ خارجہ جدعون سار نے یورپی یونین کے وزیرِ خارجہ سے تعلقات منقطع کر لیے اور دوسری طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی نیتن یاہو کو لبنان میں غیر ذمہ داری دکھانے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے؛ اگر ہم نے اس انتہا پسند حکومت کو فوری طور پر اقتدار سے نہ ہٹایا تو اسرائیل کے بین الاقوامی خارجہ تعلقات دنیا بھر میں یکسر مٹ جائیں گے۔“

یہ سنگین سفارتی تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران اسرائیلی کابینہ کے بعض ارکان کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نئی امریکی خارجہ پالیسی پر کی جانے والی ذاتی و تند و تیز تنقید کا انتہائی سخت اور کرارا جواب دیا، جے ڈی وینس نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ ”اگر میں خود اسرائیلی کابینہ کی کرسی پر بیٹھا ہوتا تو دنیا میں اپنے سب سے مخلص، طاقتور اور اہم ترین دفاعی اتحادی کو اس طرح سرِعام نشانہ بنانے کی حماقت کبھی نہ کرتا،“ انہوں نے اسرائیلی حکومت کو زمینی حقائق کا آئینہ دکھاتے ہوئے سنسنی خیز یاد دہانی کرائی کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران جاری رہنے والے ہولناک معرکوں میں اسرائیل کے دفاع اور سیکیورٹی میں استعمال ہونے والے کل ہتھیاروں کا دو تہائی حصہ خالصتاً امریکہ نے فراہم کیا ہے، جنہیں رات دن محنت کر کے امریکی ماہرین نے تیار کیا اور جس کے اربوں ڈالر کے فنڈز امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے ممکن بنائے گئے تھے۔

امریکی نائب صدر نے کڑے الفاظ میں کہا کہ بعض اسرائیلی وزرا کے بیانات انتہائی افسوسناک اور اسپورٹس مین اسپرٹ کے منافی ہیں، کیونکہ وہ ایک ایسے امریکی صدر کو بلاجواز تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جو ہمیشہ سے اسرائیل کے لیے ہمدردانہ اور حفاظتی مؤقف رکھتا ہے، انہوں نے نیتن یاہو کے وزرا کو مقتدر مشورہ دیا کہ وہ خوابوں کی دنیا سے باہر نکلیں اور خطے کی نئی سٹرٹیجک تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ذمہ دارانہ بین الاقوامی طرزِ عمل اختیار کریں، واضح رہے کہ اسرائیلی کابینہ کے بعض سخت گیر ارکان امریکہ اور ایران کے مابین پاکستان کی ثالثی سے ہونے والے امن معاہدے پر مسلسل آگ بگولا ہیں اور انہوں نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا، تاہم سابق وزیرِ اعظم یائر لیپڈ، نفتالی بینیٹ اور فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے نیتن یاہو کی پالیسیوں کو اسرائیل کے لیے عالمی سفارتی تنہائی کا سبب قرار دے دیا ہے۔

عالمی مارکیٹ میں مندی کے بعد پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 14,900 روپے کی تاریخی کمی، سونا 4 لاکھ 38 ہزار 036 روپے کی سطح پر آگیا، چاندی کی قیمتیں بھی یکایک گر گئیں، صرافہ مارکیٹ کی رپورٹ

روزینہ اسماعیل.june 19,2026

کراچی (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

بین الاقوامی بلین مارکیٹ اور مقامی صرافہ بازاروں میں پٹرولیم مصنوعات کے بعد اب سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بھی بڑے پیمانے پر غیر معمولی اور تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، آل پاکستان سپریم کونسل جیولرز ایسوسی ایشن اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 149 ڈالر کی زبردست مندی کے بعد 4,156 ڈالر کی سطح پر نیچے آگئی ہے، عالمی مارکیٹ میں ہونے والی اس بڑی گراوٹ کے براہِ راست اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے ہیں جس کے باعث پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت 14,900 روپے کی نمایاں کمی کے بعد 4 لاکھ 38 ؎ہزار 036 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔

صرافہ مارکیٹ کے مقتدر ذرائع کے مطابق فی تولہ سونے کے ساتھ ساتھ 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 13,410 روپے کی بڑی کٹوتی دیکھی گئی ہے جس کے بعد مقامی بازاروں میں 10 گرام سونا گھٹ کر 3 لاکھ 74 ہزار 205 روپے کی سطح پر آگیا ہے، معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے کامیاب معاہدے اور عالمی معیشت میں استحکام کی بحالی کے باعث سرمایہ کار اب سونے کی محفوظ پناہ گاہوں سے سرمایہ نکال کر دیگر تجارتی شعبوں میں لگا رہے ہیں، جس کی وجہ سے قیمتی دھاتوں کی قیمتیں تیزی سے نیچے آرہی ہیں اور عام خریداروں کے لیے ایک طویل عرصے بعد بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔

سونے کے ساتھ ساتھ ملکی صرافہ بازاروں میں چاندی کی قیمتوں کو بھی بڑا بریک لگا ہے، اعداد و شمار کے مطابق فی تولہ چاندی کی قیمت 413 روپے کی نمایاں کمی کے بعد 6,946 روپے کی سطح پر آگئی ہے، جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 373 روپے کی بڑی گراوٹ کے ساتھ مارکیٹ میں 5,895 روپے کی سطح پر بند ہوئی، صرافہ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اس غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے باعث مارکیٹ میں خریداروں کا رش بڑھنے کا امکان ہے، تاہم آنے والے دنوں میں عالمی حالات کے مطابق قیمتوں میں مزید استحکام یا کمی متوقع ہے۔

امریکہ ایران جنگ بندی اور عالمی امن اعزاز پر پوری قوم اور عسکری و سیاسی قیادت مبارکباد کی مستحق ہے، پاکستان نے دنیا میں ذمہ دار اور پرامن ریاست کے طور پر لوہا منوایا، سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان کا مقتدر بیان، بجٹ کو عوام دوست بنانے اور پٹرولیم قیمتوں میں فوری ریلیف دینے کا مطالبہ

روزینہ اسماعیل.june 19,2026

کراچی (اسٹاف رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی اور عالمی سطح پر امن کے فروغ سے متعلق پاکستان کو ملنے والے عظیم الشان “عالمی امن اعزاز” کے حصول پر ملک کی عسکری و سیاسی قیادت سمیت پوری پاکستانی قوم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے، پریس ریلیز کے مطابق کراچی سے جاری اپنے ایک مقتدر بیان میں سابق گورنر سندھ نے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر، وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف، نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار اور پوری قوم کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخی کامیابی اجتماعی قومی کوششوں اور انتہائی مؤثر و دور اندیش سفارتی حکمتِ عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ڈاکٹر عشرت العباد خان نے ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان کی کامیاب ثالثی کے نتیجے میں بہتر ہوتے سفارتی روابط اور اس تاریخی مفاہمت کو دنیا میں امن اور استحکام کے ایک نئے سنہری دور کی علامت قرار دیا، انہوں نے فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے طویل ترین مشکل حالات، لازوال قربانیوں اور مسلسل سفارتی جدوجہد کے ذریعے بین الاقوامی برادری میں خود کو ایک انتہائی ذمہ دار اور پرامن ریاست کے طور پر منوایا ہے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان آج عالمی سفارتکاری میں ایک مقتدر اور مؤثر ترین کھلاڑی کا کردار ادا کر رہا ہے جو کہ 24 کروڑ عوام کے لیے باعثِ فخر ہے۔

سابق گورنر سندھ نے حکومتی معاشی پالیسیوں پر بات کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ان بین الاقوامی سٹرٹیجک کامیابیوں کے براہِ راست معاشی اثرات عام شہریوں کی دہلیز تک بھی لازمی پہنچنے چاہئیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہونے کے بعد ملک میں مہنگائی میں واضح کمی لائی جائے اور پٹرول، ڈیژل، گیس کی قیمتوں میں فوری و خاطر خواہ ریلیف سمیت توانائی کے شعبے میں مثبت تبدیلیاں لائی جائیں، ڈاکٹر عشرت العباد خان نے زیرِ بحث وفاقی بجٹ پر کڑا زور دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ کو ہر صورت عوام دوست بنایا جائے اور اس میں پارلیمنٹ کی تجویز کردہ ضروری ترامیم کے بعد ہی اسے منظور کیا جائے تاکہ تنخواہ دار اور غریب مزدور طبقے کو حقیقی معاشی ریلیف مل سکے۔

اپنے بیان کے آخر میں انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ پاکستان کی پائیدار ترقی صرف اور صرف سیاسی ہم آہنگی، ادارہ جاتی تعاون اور فولادی قومی اتحاد سے ہی ممکن ہے، جبکہ خطے میں درپیش بیرونی چیلنجز بالخصوص پاکستان کو نشانہ بنانے والی بھارتی پراکسی سرگرمیوں کو کچلنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مؤثر قومی حکمتِ عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان اسی درست سمت میں پیش رفت جاری رکھتا ہے تو ملک خطے میں ایک مضبوط، معاشی طور پر مستحکم اور پرامن ایٹمی ریاست کے طور پر مزید نمایاں ہو کر ابھرے گا۔

ایرانی فٹبال فیڈریشن کا سفری پابندیوں کے خلاف فیفا سے رجوع کرنے کا اعلان، میکسیکو سے لاس اینجلس روانگی کی اجازت نہ ملنے پر شدید احتجاج، ورلڈکپ شیڈول متاثر

محمود احمد june 19,2026

میامی، امریکہ (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

جاری فیفا فٹبال ورلڈکپ 2026 کے دوران کھیل کے میدان سے باہر ایک نیا بڑا سفارتی اور انتظامی تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جہاں ایرانی فٹبال فیڈریشن نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ عالمی کپ کے دوران اپنی ٹیم پر عائد کی جانے والی مبینہ سفری پابندیوں اور ویزا و سفری رکاوٹوں کے خلاف فٹبال کی عالمی گورننگ باڈی “فیفا” سے باضابطہ رجوع کر رہی ہے، بین الاقوامی اسپورٹس رپورٹس کے مطابق ایرانی فٹبال فیڈریشن نے امریکی انتظامیہ کے رویے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکہ میں عائد ان غیر لچکدار سفری پابندیوں کے باعث ایرانی نیشنل ٹیم کے کوچنگ اسٹاف کے سٹرٹیجک منصوبے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں اور عالمی کپ جیسے بڑے ایونٹ کی تیاریوں میں جان بوجھ کر غیر ضروری رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔

ایرانی فٹبال فیڈریشن کے مقتدر حکام نے تفصیلات سے مطلع کرتے ہوئے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ میکسیکو میں قائم ایرانی ٹیم کے بین الاقوامی تربیتی کیمپ سے اتوار کے روز ٹیم کو لاس اینجلس (امریکہ) روانگی کی باقاعدہ اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا گیا، جس کی وجہ سے نہ صرف کھلاڑیوں کا سفری شیڈول بری طرح پامال ہوا بلکہ ٹیم کے تمام انتظامی امور اور لاجسٹکس بھی شدید متاثر ہوئے ہیں، ایرانی فیڈریشن نے فیفا کے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کڑا مؤقف اختیار کیا ہے کہ فیفا ورلڈکپ جیسے عظیم اور عالمی یکجہتی کے ایونٹ میں شریک دنیا کی تمام پوزیشن ہولڈر ٹیموں کو بین الاقوامی قوانین کے تحت مساوی سفری سہولیات، پروٹوکول اور آزادانہ نقل و حرکت فراہم کی جانی چاہیے اور کسی بھی میزبان ملک کو اس میں سیاست چمکانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، اس سنگین معاملے پر ایرانی وفد فیفا سے فوری، ہنگامی اور مؤثر مداخلت کی درخواست کرے گا۔

واضح رہے کہ تاریخ کے اس سب سے بڑے فیفا ورلڈکپ 2026 کی مشترکہ میزبانی امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا مل کر کر رہے ہیں، لیکن امریکہ اور ایران کے مابین دیرینہ سیاسی کھچاؤ اور حال ہی میں طے پانے والے نازک امن معاہدے کے نفاذ کے ابتدائی مراحل کے دوران اس اسپورٹس ویزا تنازع نے فٹبال ورلڈکپ کے پرامن انعقاد اور امریکی انتظامیہ کے اسپورٹس مین اسپرٹ کے دعووں پر ایک بڑا سیکیورٹی و انتظامی سوالیہ نشان لگا دیا ہے جس پر فیفا کا ردعمل آنا ابھی باقی ہے۔

لندن میراتھن 2027 میں پہلی بار 2 روزہ تاریخی ایونٹ کے طور پر منعقد ہوگی، ریکارڈ 13 لاکھ سے زائد درخواستیں موصول، 1 لاکھ رنرز روایتی راستے پر دوڑیں گے، معیشت کو 400 ملین پاؤنڈ کے فائدے کی توقع

منصور احمد june 19,2026

لندن (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

لندن میراتھن کے منتظمین نے کھیلوں کی دنیا کا ایک انتہائی منفرد اور بڑا اعلان کرتے ہوئے مطلع کیا ہے کہ سال 2027 میں یہ عالمی شہرت یافتہ تاریخی دوڑ خصوصی طور پر 2 روز تک جاری رہے گی، سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) اور برطانوی میڈیا ’بی بی سی‘ کی رپورٹس کے مطابق اس نئے انقلابی فارمیٹ کے تحت 24 اور 25 اپریل 2027 کو مجموعی طور پر ریکارڈ 100,000 شرکا کو اس عالمی ایونٹ میں باقاعدہ حصہ لینے کا سنہری موقع ملے گا، منتظمین کی جانب سے یہ تاریخی فیصلہ اس وقت کیا گیا جب 2027 کی لندن میراتھن میں شرکت کے لیے دنیا بھر سے ریکارڈ 1,338,544 درخواستیں موصول ہوئیں، جو کہ گزشتہ برس کی ریکارڈ 1,133,813 درخواستوں سے بھی کہیں زیادہ ہیں، نئے فارمیٹ کے نفاذ کے بعد اب عام شرکا کے بیلٹ (قرعہ اندازی) کے ذریعے انتخاب کے امکانات تقریباً 2 گنا ہو جائیں گے۔

لندن میراتھن ایونٹس کے چیف ایگزیکٹو ہیو براشر کے مطابق اس 2 روزہ میراتھن کے انعقاد سے مختلف عالمی خیراتی اداروں (Charities) کے لیے 150 ملین پاؤنڈ سے زائد کے خطیر فنڈز جمع ہونے کی قوی توقع ہے، جبکہ برطانوی معیشت کو اس میگا ایونٹ کی بدولت مجموعی طور پر 400 ملین پاؤنڈ کا زبردست سماجی اور معاشی فائدہ پہنچے گا، انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ لندن میراتھن کی طویل تاریخ میں ایک منفرد اور غیر معمولی قدم ہے، جس کا بنیادی مقصد زیادہ سے زیادہ پُرجوش افراد، خیراتی اداروں اور مقامی برادریوں کو اس عالمی ہیلتھ ایونٹ کا حصہ بنانا ہے، دوسری جانب لندن کے مقبول میئر صادق خان نے بھی اس شاندار فیصلے کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے پُرعزم الفاظ میں کہا کہ لندن دنیا بھر میں کھیلوں کا حقیقی دارالحکومت ہے اور 2027 میں 1 سال کے لیے میراتھن کا یہ 2 روزہ خصوصی انعقاد ہمارے شہر کے لیے ایک بہت بڑا اعزاز کی بات ہے۔

کھیلوں کے منتظمین کے مطابق تمام 100,000 خوش قسمت شرکا لندن کے اسی تاریخی اور روایتی راستے پر دوڑیں گے، جو گرین وچ کے خوبصورت مقام سے شروع ہو کر ویسٹ منسٹر پر اختتام پذیر ہوتا ہے، اس کے علاوہ مستقبل کے معماروں کے لیے 20,000 سے زائد بچوں کی شرکت کے ساتھ ’منی لندن میراتھن‘ 23 اپریل کو شیڈول کے مطابق منعقد کی جائے گی، واضح رہے کہ حالیہ لندن میراتھن 2026 میں ریکارڈ 59,830 رنرز نے کامیابی سے اپنی دوڑ مکمل کی تھی، جبکہ ان شرکا نے دنیا بھر میں انسانیت اور خیراتی مقاصد کے لیے 90 ملین پاؤنڈ سے زائد کی خطیر رقم جمع کر کے کھیل کی تاریخ کا ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا جو اب 2027 میں ٹوٹنے کے قریب ہے۔

بھارت کی ہندوتوا حکومت اپنی کشمیر دشمن اور ظالمانہ پالیسیوں کے ذریعے تنازعۂ کشمیر کی حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتی، جموں و کشمیر کے بارے میں بھارتی ہٹ دھرمی عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے، کل جماعتی حریت کانفرنس کا اسلام آباد سے مشترکہ اعلامیہ جاری

منصور احمد june 19,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے سینئر ترین رہنماؤں نے مودی حکومت کی فاشسٹ پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ بھارت کی متعصب ہندوتوا حکومت اپنے تمام تر ظلم و ستم، سفاکانہ کشمیر دشمن ہتھکنڈوں اور ظالمانہ پالیسیوں کے باوجود عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازعۂ کشمیر کی تاریخی و قانونی حقیقت کو کسی صورت تبدیل نہیں کر سکتی، سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے مقتدر سینیئر رہنماؤں محمد فاروق رحمانی، حاجی سلطان بٹ اور چودھری شاہین اقبال نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے ایک اہم ترین مشترکہ ترین بیان جاری کرتے ہوئے دیرینہ تنازعۂ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاس کردہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے پر کڑا زور دیا ہے، حریت قیادت کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کے حوالے سے نئی دہلی کی ہٹ دھرمی اور ہٹلر شاہی پر مبنی جابرانہ پالیسی اب صرف جنوبی ایشیا کے خطے کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک ہولناک اور سنگین خطرہ بن چکی ہے۔

حریت رہنماؤں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی تازہ ترین زمینی صورتحال پر گہرے افسوس اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ سفاک بھارتی افواج نے وادی میں کشمیری عوام کی حق پر مبنی اور پرامن جدوجہدِ آزادی کو بندوق کے زور پر دبانے کے لیے وحشیانہ ظلم و تشدد، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے گھروں پر آدھی رات کو چھاپوں، فوجی محاصروں اور تلاشی کی نام نہاد کارروائیوں سمیت جبری گرفتاریوں اور سیاسی انتقام کا کڑا سلسلہ حد سے زیادہ تیز کر دیا ہے، کشمیری قیادت نے جابر بھارتی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کے حوالے سے اپنی نوآبادیاتی اور غاصبانہ پالیسی کو فی الفور ترک کرے اور کشمیری عوام کو ان کا بنیادی اور ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت فراہم کرتے ہوئے اس دیرینہ مسئلے کے پرامن، منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے سفارتی راہ ہموار کرے، انہوں نے عالمی برادری کو مطلع کیا کہ بھارت نے حریت کی صفِ اول کی قیادت سمیت ہزاروں معصوم کشمیری نوجوانوں کو کالے قوانین کے تحت جھوٹے، من گھڑت اور بے بنیاد مقدمات میں ملوث کر کے تہاڑ جیل سمیت دیگر بدنام زمانہ بھارتی عقوبت خانوں اور جیلوں میں غیر قانونی طور پر قید کر رکھا ہے، لیکن ان تمام تر جابرانہ ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیری عوام کے لازوال جذبۂ حریت اور آزادی کی تڑپ کو ذرہ برابر بھی کمزور نہیں کیا جا سکا۔

مشترکہ اعلامیے میں حریت رہنماؤں نے اس فولادی عزم کا اعادہ کیا کہ مقبوضہ وادی کے چپے چپے پر گرنے والا کشمیری شہداء کا پاک خون اور ان کی عظیم قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی اور مظلوم کشمیری عوام اپنی اس منصفانہ جدوجہدِ آزادی کو اس کے منطقی انجام اور مکمل آزادی تک پہنچانے کے لیے ہر محاذ پر پرعزم ہیں، انہوں نے اقوامِ متحدہ ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور بااثر عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے بدترین مظالم، ماورائے عدالت قتل، انسانی حقوق کی سنگین ترین پامالیوں اور کشمیریوں کے سیاسی جبر کا فوری اور کڑا نوٹس لے، اور بھارت پر سفارتی و اقتصادی دباؤ ڈال کر تنازعۂ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرانے میں اپنا مؤثر اور تاریخی کردار ادا کرے تاکہ خطے کو مستقل تباہی سے بچایا جا سکے۔

جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں میں ۱۶ افراد ہلاک، ایران کا معاہدہ شکنی پر سخت ردعمل کا انتباہ، محمد باقر قالیباف کا واشنگٹن اور تل ابیب کو کڑا پیغام

کاشف عباسی ,june 19,2026

بیروت/تہران (بین الاقوامی امور کے ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے مابین تاریخی مفاہمتی یادداشت کے نفاذ کے فوری بعد مشرقِ وسطیٰ کے امن کو سبوتاژ کرنے کی بڑی کوشش سامنے آئی ہے جہاں جنوبی لبنان پر جابرانہ اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم ۱۶ لبنانی شہری ہلاک اور درجنوں شدید زخمی ہو گئے ہیں، جبکہ دوسری جانب اسلامی جمہوریہ ایران نے واشنگٹن اور تل ابیب کو کڑی وارننگ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اسلام آباد معاہدے کی ذرہ برابر بھی خلاف ورزی کی گئی یا تہران پر کوئی بھی غیر معمولی مطالبات مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو ایران سخت اور تباہ کن جواب دینے میں ایک سیکنڈ کی ہچکچاہٹ بھی محسوس نہیں کرے گا، بیروت سے موصولہ تازہ ترین عسکری و سفارتی رپورٹس کے مطابق جنوبی لبنان کے مختلف رہائشی علاقوں میں اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں بھاری جانی و مالی نقصان ہوا ہے جس کے بعد خطے میں ایک بار پھر شدید جنگی کشیدگی بڑھنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے، لبنانی وزارتِ صحت کے ذرائع کے مطابق ملبے تلے دبے زخمیوں کو نکالنے کے لیے امدادی سرگرمیاں تاحال جاری ہیں۔

اس ہنگامی صورتحال اور جنیوا میں ہونے والے تکنیکی مذاکرات کے تناظر میں امریکہ کے ساتھ مذاکراتی عمل میں ایرانی اعلیٰ وفد کی قیادت کرنے والے ایرانی پارلیمان کے مقتدر اسپیکر محمد باقر قالیباف نے انتہائی سخت اور جارحانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران بین الاقوامی امن، تجارتی بحری راستوں کی آزادی اور سفارتی حل کا خواہاں ضرور ہے، تاہم اگر کوئی بھی فریق (امریکہ یا اس کے اتحادی) اس امن معاہدے کی روح کے خلاف کوئی قدم اٹھاتا ہے یا ایران پر بلاجواز معاشی و فوجی دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تو ایران اپنی دفاعی طاقت کے بل بوتے پر بھرپور اور کاری ضرب لگانے کا پورا حق محفوظ رکھتا ہے، محمد باقر قالیباف نے سپریم لیڈر رہبرِ معظم کے فیصلے کی روشنی میں دوٹوک الفاظ میں کہا:

”اگر دوسرے فریق کی جانب سے معاہدہ شکنی کی گئی یا حد سے زیادہ مطالبات مسلط کرنے کی کوشش کی گئی، تو ایران اس کا ایسا تباہ کن جواب دے گا جس کی دشمن نے کبھی توقع بھی نہیں کی ہوگی اور ہم اس میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔“

بین الاقوامی سیاسی و عسکری مبصرین کے مطابق ایک ایسے نازک وقت میں جب پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والے تاریخی ”اسلام آباد میمورنڈم“ پر باقاعدہ عملدرآمد کا ۶۰ روزہ حساس دورانیہ شروع ہو چکا ہے اور سوئٹزرلینڈ کے مقام برگن شٹاخ میں تکنیکی وفود کے مذاکرات متوقع ہیں، جنوبی لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیاں عالمی امن کوششوں کے لیے ایک بہت بڑا اور کٹھن امتحان ثابت ہوسکتی ہیں، ادھر لبنانی حکام اور قطر سمیت دیگر علاقائی مبصرین نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری مداخلت کرے اور اسرائیل کو اس جارحیت سے روکے تاکہ خطے کو کسی نئی ہولناک جنگ اور ممکنہ جوہری تصادم سے بچایا جا سکے۔

فیفا ورلڈکپ، امریکہ میں سیکیورٹی کی سنگین ناکامی، ڈیلاس اسٹیڈیم میں متعدد برطانوی شائقین بغیر ٹکٹ اور تلاشی کے اندر گھس گئے، مہنگے ٹکٹ خریدنے والے فینز کا شدید احتجاج

محمود احمد june 19,2026

ڈیلاس، امریکہ (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں جاری فیفا فٹبال ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے دوران سیکیورٹی کے حوالے سے ایک انتہائی سنگین اور حیران کن ناکامی سامنے آئی ہے جہاں ڈیلاس کے اسٹیڈیم میں کھیلے گئے ایک بڑے میچ کے دوران متعدد شائقین بغیر ٹکٹ اور بغیر کسی سیکیورٹی چیکنگ کے اسٹیڈیم کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے، برطانوی میڈیا کی جانب سے جاری کردہ ایک تہلکہ خیز رپورٹ کے مطابق ڈیلاس میں انگلینڈ اور کروشیا کے مابین کھیلے گئے ہائی وولٹیج میچ کے دوران سیکیورٹی انتظامات کے اس وقت پرخچے اڑ گئے جب بڑی تعداد میں انگلش شائقین (فینز) انتظامیہ کو چکمہ دیتے ہوئے اسٹیڈیم کی حدود میں داخل ہو گئے، عینی شاہدین اور اسٹیڈیم میں موجود پُرامن شہریوں نے میڈیا کو بتایا کہ متعدد افراد باقاعدہ سیکیورٹی چیکس اور ٹکٹ اسکیننگ بیریئرز سے بچتے ہوئے باآسانی اسٹینڈز تک پہنچ گئے جس نے امریکہ کے بڑے سیکیورٹی دعووں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔

میچ دیکھنے کے لیے خطیر رقم خرچ کر کے باقاعدہ قانونی ٹکٹ خریدنے والے ایک برطانوی مداح نے اسٹیڈیم کے باہر کی صورتحال کو انتہائی مضحکہ خیز اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ اسٹیڈیم کی ٹکٹ چیکنگ بیریئرز کے اطراف میں بڑے بڑے خلا (گیپس) موجود تھے جہاں سے بغیر ٹکٹ والے لوگ آرام سے پیدل اندر داخل ہو رہے تھے، عینی شاہد کا مزید کہنا تھا کہ وہاں چیکنگ پر موجود زیادہ تر رضاکار معمر خواتین تھیں جو رش کے باعث کسی کو بھی اندر جانے سے نہیں روک پا رہی تھیں، اس نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ”میں نے لائن میں لگ کر اپنا ٹکٹ تو اسکین کروایا لیکن حیرت انگیز طور پر کسی بھی اہلکار نے میرے جھنڈے یا ہاتھ میں موجود ورلڈکپ ٹرافی کی نقل (ریپلیکا) تک کو چیک کرنا گوارا نہیں کیا جس سے واضح ہوتا ہے کہ تلاشی کا نظام کتنا کمزور تھا،“ عینی شاہدین کے مطابق کچھ افراد تو بغیر ٹکٹ اسکین کیے ہی سیدھے راستے سے اندر داخل ہو گئے جبکہ بعض منچلوں نے لوہے کی رکاوٹیں پھلانگ کر اندر جانے کی کوشش کی۔

واضح رہے کہ اس ہائی پروفائل میچ کے لیے امریکی انتظامیہ کی جانب سے انتہائی سخت عسکری سیکیورٹی انتظامات کا دعویٰ کیا گیا تھا جس کے تحت اسٹیڈیم کی چھتوں اور اہم مقامات پر ماہر اسنائپرز (نشانہ باز) بھی تعینات کیے گئے تھے، جبکہ ڈیلاس پولیس حکام نے بھی فخر سے کہا تھا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے خصوصی تربیت یافتہ کمانڈوز اور جدید ترین اہلکار گراؤنڈ میں موجود ہیں تاہم اس کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا بغیر تلاشی کے وی آئی پی زون میں داخل ہو جانا ورلڈکپ کے بقیہ میچز کے لیے ایک تشویشناک اور سنگین سوالیہ نشان بن گیا ہے، دوسری جانب اس بڑے اسکینڈل پر پوزیشن واضح کرتے ہوئے فیفا کے مرکزی ترجمان نے روایتی دفاعی انداز اپنایا ہے اور کہا ہے کہ فی الحال انہیں کسی بھی شخص کے بغیر ٹکٹ داخل ہونے کے کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملے جبکہ مقامی پولیس نے بھی اس پورے واقعے سے یکسر لاعلمی کا اظہار کیا ہے، تاہم سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہونے اور برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے بعد مہنگے ترین ٹکٹ خرید کر میچ دیکھنے والے دنیا بھر کے شائقین میں امریکی انتظامیہ کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

فیفا ورلڈکپ، سوئٹزرلینڈ اور کینیڈا کی شاندار فتوحات، بوسنیا اور قطر کو عبرتناک شکست، کینیڈا کا قطر کے خلاف 0-6 سے تاریخی معرکہ

محمود احمد june 19,2026

گواڈالاجارا/ٹورنٹو (بین الاقوامی اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

فیفا فٹبال ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے گروپ ’بی‘ کے اہم ترین میچز میں سوئٹزرلینڈ اور کینیڈا نے سحر انگیز اور شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اپنے حریفوں کو بڑے مارجن سے شکست دے کر عالمی کپ میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، ٹورنٹو اور میکسیکو سے حاصل ہونے والی اسپورٹس رپورٹس کے مطابق گروپ ’بی‘ کے پہلے یکطرفہ مقابلے میں سوئٹزرلینڈ نے بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا کے خلاف جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے ۱-۴ سے ایک بڑی کامیابی حاصل کی، سوئس فارورڈز نے میچ کے آغاز ہی سے سٹرٹیجک اور تیز رفتار حملوں کے ذریعے بوسنیا کے دفاع (ڈیفنس) کو مسلسل شدید دباؤ میں رکھا جس کے باعث بوسنیا کی ٹیم پورے میچ میں بے بس نظر آئی اور صرف ایک ہی گول اسکور کر سکی، جبکہ سوئٹزرلینڈ نے یکے بعد دیگرے چار گول داغ کر پوزیشن مستحکم کی اور اہم ترین ۳ پوائنٹس اپنے نام کر لیے۔

دوسری جانب ٹورنٹو میں کھیلے گئے گروپ ’بی‘ کے دوسرے بڑے معرکے میں میزبان کینیڈا نے قطر کی فٹبال ٹیم کو مٹی میں ملا دیا اور کینگروز نے قطر کو ۰-۶ کے انتہائی عبرتناک مارجن سے شکست دے کر جاری ٹورنامنٹ کی اب تک کی سب سے بڑی اور تاریخی فتوحات میں سے ایک اپنے نام کر لی ہے، میچ کے دوران کینیڈین کھلاڑیوں نے شاندار ٹیم ورک، بہترین پاسنگ اور طوفانی حملوں کے ذریعے قطر کے کمزور ڈیفنس کو مکمل طور پر بے بس کر دیا اور قطری گول کیپر کو سنبھلنے کا موقع بھی نہ دیا، اس تاریخی اور شاندار کامیابی کے بعد میزبان کینیڈا نے گروپ ’بی‘ کے پوائنٹس ٹیبل پر اپنی پوزیشن کو حد سے زیادہ مضبوط اور مستحکم کر لیا ہے جبکہ قطر کو ٹورنامنٹ میں مسلسل دوسری عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے بعد اس کے اگلے مرحلے میں جانے کے امکانات معدوم ہو چکے ہیں، اس وقت گروپ ’بی‘ کی صورتحال انتہائی دلچسپ ہو چکی ہے جہاں سوئٹزرلینڈ اور کینیڈا کے درمیان ہونے والا اگلا ٹاکرا سب سے اہم تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ جو بھی ٹیم وہ میچ جیتے گی وہ گروپ میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کرے گی۔

فیفا ورلڈکپ، میکسیکو جنوبی کوریا کو شکست دے کر ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچنے والی دنیا کی پہلی ٹیم بن گئی، لوئس رومو کا فیصلہ کن گول، راؤنڈ آف 32 میں جگہ محفوظ

محمود احمد june 19,2026

گواڈالاجارہ، میکسیکو (بین الاقوامی اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

جاری فیفا فٹبال ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے گروپ مرحلے کے ایک انتہائی سنسنی خیز اور اہم ترین مقابلے میں میزبان ملک میکسیکو نے جنوبی کوریا کو اعصاب شکن مقابلے کے بعد شکست دے دی ہے، گواڈالاجارہ کے کھچا کھچ بھرے اسٹیڈیم سے موصولہ بین الاقوامی اسپورٹس رپورٹس کے مطابق ہوم گراؤنڈ پر کھیلے گئے اس میچ میں میزبان میکسیکو نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنوبی کوریا کی مضبوط ٹیم کو ۱-۰ سے مات دے دی، میچ کا واحد اور فیصلہ کن گول میکسیکو کے اسٹار کھلاڑی لوئس رومو نے کھیل کے ۵۰ویں منٹ میں حریف ٹیم کے دفاع کو پامال کرتے ہوئے انتہائی خوبصورت انداز میں نیٹ کی زینت بنایا، جنوبی کوریا کے فارورڈز نے میچ میں واپسی کے لیے آخری لمحات تک سرتوڑ کوششیں کیں تاہم میکسیکو کے مضبوط دفاع اور گول کیپر نے حریف ٹیم کے تمام حملوں کو ناکام بنا کر برتری برقرار رکھی۔

اس شاندار اور فیصلہ کن فتح کے ساتھ ہی ہوم ٹیم میکسیکو جاری فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ء کے اگلے اہم ترین ناک آؤٹ مرحلے (راؤنڈ آف 32) میں کوالیفائی کرنے والی دنیا کی پہلی ٹیم بن گئی ہے جس نے باقاعدہ طور پر اپنی پوزیشن محفوظ کر لی ہے، اس وقت ورلڈکپ کے گروپ ’اے‘ کے پوائنٹس ٹیبل پر نظر ڈالی جائے تو میزبان میکسیکو اپنے دونوں ابتدائی میچز جیت کر مجموعی طور پر ۶ پوائنٹس کے ساتھ گروپ میں پوزیشن کے لحاظ سے سب سے سرفہرست اور مضبوط ترین پوزیشن پر موجود ہے جبکہ اس تاریخی کامیابی پر میکسیکو بھر میں فٹبال کے دیوانے شائقین سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور جشن منا رہے ہیں۔

۱۵ سالہ ویبھو سوریاونشی کے ساتھ والدین کیوں سفر کریں گے؟ بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے تاریخی فیصلے کی اہم وجہ بتا دی

منصور احمد june 19,2026

ممبئی (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

بھارتی کرکٹ کے نئے ابھرتے ہوئے ۱۵ سالہ سنسنی خیز بیٹر ویبھو سوریاونشی کے ہمراہ غیر ملکی دورے پر ان کے والدین کے بھی ساتھ سفر کرنے کے انوکھے فیصلے پر پائے جانے والے تجسس کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے باقاعدہ طور پر اپنی سٹرٹیجک وضاحت پیش کر دی ہے، اسپورٹس رپورٹس کے مطابق بی سی سی آئی نے جون اور جولائی ۲۰۲۶ء میں شیڈول بھارتی کرکٹ ٹیم کے دورۂ آئرلینڈ اور دورۂ انگلینڈ کے لیے خصوصی طور پر ۱۵ سالہ کم عمر کھلاڑی ویبھو سوریاونشی کے ساتھ ان کے والدین کو بھی سرکاری خرچے پر ٹیم کے ساتھ سفر کرنے اور ہوٹل میں قیام کرنے کی باضابطہ اجازت دے رکھی ہے، اس غیر معمولی اور اپنی نوعیت کے پہلے اقدام پر دنیا بھر کے کرکٹ حلقوں میں ہونی والی بحث کے بعد بی سی سی آئی کے جوائنٹ سیکرٹری دیواجیت سائیکیا نے میڈیا کے سامنے آ کر اس معاملے کی اصل سچائی اور وجوہات واضح کی ہیں۔

بی سی سی آئی کے اعلیٰ عہدیدار دیواجیت سائیکیا نے بورڈ کی پالیسی پر روشنی ڈالتے ہوئے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ موجودہ جدید دور میں سینئر لیول پر دنیا کی کسی بھی انٹرنیشنل یا نیشنل کرکٹ ٹیم میں کوئی بھی ۱۴ یا ۱۵ سال کا کم عمر بچہ شامل نہیں ہوتا کیونکہ یہ انتہائی سخت اور دباؤ کا ماحول ہوتا ہے، لیکن کئی دہائیوں کے طویل انتظار کے بعد ہمیں ویبھو سوریاونشی جیسا غیر معمولی اور گوڈ گفٹڈ ٹیلنٹ ملا ہے، انہوں نے ماضی کی یاد تازہ کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ کی تاریخ میں ایک ایسا وقت تھا جب بالکل اسی چھوٹی عمر میں عظیم سچن ٹینڈولکر نے انڈین نیشنل ٹیم میں جگہ بنائی تھی اور اب ویبھو سوریاونشی اسی نقشِ قدم پر چل رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کا انتہائی چھوٹا بچہ جب اچانک انٹرنیشنل لیول پر سینئر نیشنل ٹیم کے ڈریسنگ روم کا حصہ بنتا ہے تو اس کی ذہنی نشوونما اور روزمرہ کی روٹین کے حوالے سے کئی پیچیدہ مسائل اور چیلنجز سامنے آ سکتے ہیں۔

دیواجیت سائیکیا نے مزید وضاحت کی کہ بی سی سی آئی نے یہ تاریخی فیصلہ صرف اور صرف سوریاونشی کو غیر ملکی دوروں کے دوران ہوم سکنس سے بچانے، ڈریسنگ روم میں خود کو مکمل طور پر پرسکون و آرام دہ محسوس کرانے اور سینئر بین الاقوامی کھلاڑیوں کے سخت عسکری و پیشہ ورانہ ماحول سے ہم آہنگ کرنے میں مدد دینے کے لیے کیا ہے تاکہ والدین کی موجودگی میں وہ کسی بھی قسم کے ذہنی دباؤ کا شکار نہ ہوں، بورڈ کا پختہ ماننا ہے کہ اس اچھوتے اور مخلصانہ اقدام کی بدولت کم عمر ویبھو سوریاونشی کے بین الاقوامی کیریئر کے آغاز میں سامنے آنے والے سیکیورٹی، نظم و ضبط اور نفسیاتی مسائل کو بڑی حد تک کم کرنے میں مدد ملے گی اور وہ پوری یکسوئی کے ساتھ آئرلینڈ اور انگلینڈ کی پچوں پر بھارت کے لیے بہترین پرفارمنس کا مظاہرہ کر سکیں گے۔

متحدہ عرب امارات کا علاقائی حالات سے متاثرہ اوور اسٹے مسافروں کے لیے ۳۰ روزہ رعایتی ویزا مدت کا اعلان، بغیر جرمانے ملک چھوڑنے یا اسٹیٹس درست کرنے کی بڑی سہولت، ۱۰ جون سے ۹ جولائی ۲۰۲۶ء تک مہلت، وفاقی اتھارٹی کا بیان

منصور احمد june 19,2026

دبئی (بین الاقوامی امور کے ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی حکومت نے مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ غیر معمولی علاقائی حالات اور فضائی آپریشنز کی معطلی کے باعث امارات میں پھنس جانے والے اوور اسٹے غیر ملکیوں کے لیے ایک بڑے معاشی و قانونی ریلیف پیکیج کا باضابطہ اعلان کیا ہے، اماراتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یو اے ای کی وفاقی اتھارٹی برائے شناخت، شہریت، کسٹمز اور بندرگاہی سیکیورٹی (آئی سی پی) نے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے غیر معمولی علاقائی سیکیورٹی صورتحال سے متاثرہ افراد کے لیے ۳۰ روزہ ویزا رعایتی مدت دینے کا اعلان کیا ہے جس کے دوران ایسے تمام غیر ملکی اماراتی قوانین کے تحت اپنا قانونی اسٹیٹس درست کر سکتے ہیں یا پھر بھاری جرمانوں کی ادائیگی کے بغیر انتہائی عزت و احترام کے ساتھ ملک سے اپنے وطن واپس روانہ ہو سکتے ہیں، وفاقی اتھارٹی کے مطابق یہ خصوصی رعایتی مدت ۱۰ جون ۲۰۲۶ء سے باقاعدہ نافذ العمل ہو چکی ہے جو ۹ جولائی ۲۰۲۶ء تک نافذ رہے گی اور اس مہلت کا اطلاق ان تمام وزٹ اور رہائشی ویزا ہولڈرز پر ہوگا جو پہلے اوور اسٹے جرمانوں سے مستثنیٰ قرار دیے گئے تھے مگر فلائٹس کینسل ہونے یا دیگر علاقائی حالات کی وجہ سے مقررہ وقت پر یو اے ای چھوڑنے میں ناکام رہے تھے۔

آئی سی پی نے اپنے آفیشل سٹرٹیجک بیان میں واضح کیا ہے کہ اس اہم ترین انسانی اقدام کا بنیادی مقصد اماراتی امیگریشن قوانین پر عملدرآمد کو شفاف بنانا اور خطے کے بحران سے متاثرہ بے قصور افراد کو اپنی قانونی حیثیت درست کرنے کا ایک آخری سنہری موقع فراہم کرنا ہے، اس ۳۰ روزہ مہلت کے دوران جو غیر ملکی افراد متحدہ عرب امارات میں مزید قیام کرنے یا نوکری کرنے کے خواہشمند ہیں، وہ اماراتی لیبر مارکیٹ کے قواعد کے مطابق اپنے رہائشی (رذیڈنس ویزا) یا روزگار کے نئے کاغذات اور اسپانسر شپ فوری اپ ڈیٹ کر سکتے ہیں جبکہ اپنے ملکوں کو واپس جانے والے مسافر ایئرپورٹ پر کسی بھی قسم کا اوور اسٹے جرمانہ یا اضافی تادیبی کارروائی بھگتے بغیر بحفاظت روانہ ہو سکتے ہیں، اتھارٹی نے اپنے مقتدر بیان میں مزید صراحت کی کہ ماضی میں پھنسے ہوئے مسافروں کو دی گئی تمام چھوٹ خالصتاً انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھی جو ہنگامی سفری صورتحال میں مسافروں اور مقیم رہائشیوں کو ریلیف دینے کے لیے نافذ کی گئی تھی، تاہم اب امریکہ ایران معاہدے کے بعد چونکہ خطے میں مجموعی فضائی و زمینی حالات تیزی سے معمول پر آ رہے ہیں، اس لیے اب یہ پرانا استثنیٰ مستقل طور پر ختم کیا جا رہا ہے، آئی سی پی نے تمام اماراتی شہریوں اور وہاں مقیم غیر ملکیوں کو سخت ہدایت دی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کی افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے صرف اور صرف حکومت کے تصدیق شدہ سرکاری ذرائع اور آئی سی پی کے پورٹل سے ہی ویزا معلومات حاصل کریں۔

آج پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کا اعلان کریں گے، امریکہ ایران جنگ بندی سے اب خطے میں معاشی خوشحالی آئے گی اور مہنگائی کی سیاہ رات ختم ہونے کو ہے، وزیرِ اعظم شہباز شریف کا قومی اسمبلی میں تاریخی خطاب، فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کلیدی کردار کی تعریف

کاشف عباسی ,june 19,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

وزیرِ اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے اہم ترین اجلاس میں مقتدر خطاب کرتے ہوئے غیور ملکی عوام کے لیے ایک بہت بڑی معاشی خوشخبری سنائی ہے کہ حکومت نے جو وعدہ کیا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوتے ہی اس کا پورا فائدہ عوام کو منتقل کیا جائے گا، اس کے تحت آج پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ اور تاریخی کمی کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا، پارلیمنٹ کے ایوان میں ارکانِ اسمبلی سے سٹریٹجک گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج سے ٹھیک ۳ مہینے پہلے جب مشرقِ وسطیٰ میں اچانک ہولناک جنگ چھڑی تھی تو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں کو یکدم آگ لگ گئی تھی جس کا براہِ راست معاشی بوجھ پاکستان کی غریب عوام کو اٹھانا پڑا، لیکن پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی حالیہ تاریخی جنگ بندی کے فوری بعد اب عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں انتہائی تیزی سے نیچے آ رہی ہیں اور یقیناً آنے والے دنوں میں اس میں مزید واضح کمی آئے گی، انہوں نے پُرعزم انداز میں کہا کہ اس عظیم امن معاہدے اور جنگ بندی کے باعث اب پورے خطے میں معاشی خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہوگا، تیل کی قیمتیں مسلسل نیچے آ رہی ہیں اور اب مہنگائی کی وہ طویل سیاہ رات ہمیشہ کے لیے ختم ہونے کو ہے جس نے عوام کو پریشان کر رکھا تھا، ان کا کہنا تھا کہ اس کٹھن بحران کے وقت ہمارے معاشی وسائل حد سے زیادہ محدود تھے لیکن چونکہ آج تیل اور پٹرول کی ہفتہ وار قیمتوں کا باقاعدہ اعلان ہونا ہے، اس لیے حکومت آج عوام کو ایک بڑا ریلیف دینے جا رہی ہے۔

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کے بڑھتے ہوئے عالمی سفارتی اثر و رسوخ پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج امریکہ ایران امن معاہدے کے نفاذ کے بعد ساری دنیا میں پاکستان کا نام انتہائی عزت، تکریم اور وقار کے ساتھ گونج رہا ہے اور دنیا کے ہر خطے میں پاکستان کا سٹریٹجک وقار بلند ہوا ہے، انہوں نے ایوان کو سفارتی رابطوں سے مطلع کرتے ہوئے بتایا کہ کل شام ان کی ایران کے معزز صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے طویل تفصیلی بات چیت ہوئی ہے جس کے دوران ایرانی صدر نے جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی مخلصانہ ثالثی پر بار بار ریاستِ پاکستان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور انہوں نے خود کہا کہ وہ بہت جلد باضابطہ دورے پر پاکستان آئیں گے اور یہاں کی غیور عوام کا ذاتی طور پر شکریہ ادا کریں گے، وزیرِ اعظم نے قومی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملکی سلامتی اور قومی وحدت کے لیے ہم سب ایک ہیں اور ہمیشہ ایک رہیں گے، انہوں نے اس عظیم مشن کی کامیابی پر نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے جنیوا اور سفارتی محاذ پر بھرپور حصہ ڈالا جبکہ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بھی ایران کے حوالے سے پسِ پردہ اپنا پورا متحرک کردار احسن طریقے سے ادا کیا، شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف (اپوزیشن لیڈر) کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس حساس قومی معاملے پر حکومت کا ساتھ دیا۔

اپنے خطاب کے آخر میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے واشنگٹن اور تہران کو امن کی میز پر لانے کے حوالے سے سب سے بڑا انکشاف کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس ناممکن سفارتی کامیابی کو ممکن بنانے میں سب سے زیادہ کلیدی، تاریخی اور سٹریٹجک کردار پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ہے جن کی شب و روز کی انتھک محنت اور جرات مندانہ حکمتِ عملی نے پاکستان کو عالمی سطح پر امن کا ضامن بنا دیا، انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہمیں ذاتی طور پر اس تاریخی کامیابی کا کوئی سستا سیاسی کریڈٹ لینے کا بالکل شوق نہیں ہے بلکہ ہماری حکومت اور عسکری قیادت کے ذہنوں پر صرف اور صرف اپنی غیور قوم کو عالمی سطح پر سرخرو کرنے اور انہیں کریڈٹ دلوانے کا ایک مخلصانہ جوش و جذبہ سوار تھا جس میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو سرخرو کیا۔

پاکستان کا لیبیا میں لیبیائی قیادت اور ملکیت پر مبنی سیاسی عمل کی حمایت کا اعادہ، سفیر عثمان جدون کا پائیدار امن کے لیے جامع لائحۂ عمل پر زور

محمود احمد june 18,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (بین الاقوامی سفارتی ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 18 جون 2026ء

پاکستان نے برادر اسلامی ملک لیبیا میں مستقل استحکام کے لیے خالصتاً لیبیائی قیادت اور ملکیت پر مبنی سیاسی عمل کے لیے اپنے اصولی اور مضبوط سفارتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اسے ملک میں پائیدار امن، قومی یکجہتی اور معاشی خوشحالی کے حصول کا واحد قابلِ عمل راستہ قرار دے دیا ہے، اقوامِ متحدہ کے صدر دفاتر سے حاصل ہونے والی بین الاقوامی سٹریٹجک تفصیلات کے مطابق پاکستان نے لیبیا میں اقوامِ متحدہ کے خصوصی معاونتی مشن کی جانب سے تمام لیبیائی فریقین اور مسلح دھڑوں کے درمیان سیاسی مکالمے اور قومی مفاہمت کو فروغ دینے کی مسلسل کوششوں کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم ترین اجلاس میں لیبیا کی تازہ ترین سیکیورٹی صورتحال پر منعقدہ بریفنگ کے دوران خصوصی اظہارِ خیال کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے گہری امید ظاہر کی کہ ملک میں انتخابی انتظامات سے متعلق حالیہ مشاورت اور منظم اسٹرکچرڈ ڈائیلاگ کے عمل سے سامنے آنے والی تمام اہم تجاویز و سفارشات تمام فریقین میں اتفاقِ رائے کے فروغ، معطل قومی اداروں کے اتحادِ نو اور دیرینہ قومی مفاہمت کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھانے میں انتہائی معاون ثابت ہوں گی۔

پاکستانی نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے سلامتی کونسل کے اراکین کے سامنے سٹریٹجک بیانیے پر روشنی ڈالتے ہوئے سیاسی، سلامتی، معاشی اور عدالتی شعبوں میں لیبیائی فریقین کے درمیان مسلسل روابط اور تعمیری شمولیت کی اہمیت پر کڑا زور دیا، انہوں نے مشرقی اور مغربی لیبیا کے مابین سیکیورٹی اداروں کے درمیان حالیہ اعتماد سازی کے مثبت اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے پُرعزم الفاظ میں ملکی استحکام کے تحفظ اور متحدہ قومی دفاعی اداروں کے قیام کے لیے جاری فیلڈ کوششوں کی مکمل حوصلہ افزائی کی، لیبیا کے داخلی اقتصادی استحکام کی بنیادی اہمیت کو دنیا بھر کے سامنے اجاگر کرتے ہوئے سفیر عثمان جدون نے جاری مالیاتی سال ۲۰۲۶ء کے لیے متفقہ اخراجاتی فریم ورک پر اس کی اصل روح کے مطابق فوری عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ملک میں معاشی و مالیاتی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے اور لیبیا کی طویل المدتی اقتصادی ترقی کی بنیاد کو مستقل طور پر مضبوط کیا جائے، انہوں نے قانون کی بالادستی، عدالتی وحدت کے تحفظ اور آئینی نگرانی کے نظام کو مزید فعال و مضبوط بنانے کی تمام ملکی کوششوں کی بھی اصولی حمایت کا اعادہ کیا۔

اپنے تاریخی خطاب کے دوران پاکستانی مندوب نے لیبیا کے عالمی بینکوں میں منجمد کھربوں ڈالر کے اثاثوں کے تحفظ اور انہیں صرف اور صرف لیبیائی عوام کی فلاح و بہبود اور ملکی تعمیرِ نو کے لیے محفوظ رکھنے کی شدید ضرورت پر زور دیا اور اس اہم ترین معاشی ضمن میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے سابقہ متعلقہ اقدامات اور قراردادوں پر بغیر کسی تاخیر کے بروقت عملدرآمد کا کڑا مطالبہ کیا، لیبیا کے ایک مکمل مستحکم، محفوظ اور متحد مستقبل کے لیے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے مستقل عزم کو اعلیٰ سطح پر اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان مستقبل میں بھی عالمی فورمز پر لیبیائی قیادت اور ملکیت پر مبنی ایسے تمام سیاسی و جمہوری عمل کی حمایت میں اپنا مثبت اور تعمیری کردار بدستور جاری رکھے گا جو برادر اسلامی ملک میں پائیدار امن، معاشی ترقی اور خوشحالی کی حقیقی راہ ہموار کرے۔