ایران کا بحرین اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈوں پر ڈرون حملوں کا دعویٰ

محمود احمد, September 02,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری براہِ راست عسکری تصادم میں انتہائی سنسنی خیز اور خطرناک موڑ سامنے آیا ہے، جہاں ایرانی فوج نے متحدہ عرب امارات اور بحرین میں واقع متعدد امریکی عسکری اڈوں اور ریڈار تنصیبات پر بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایرانی افواج کے شعبہ نشر و اشاعت کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق، مسلح افواج کے درجنوں خودکش اور جنگی ڈرونز نے متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی عسکری اڈوں ’الظفرہ اور ’المنہاد‘کو نشانہ بنایا ہے۔ دعوے میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کا بنیادی ہدف امریکی افواج کے جدید ترین ریڈار سسٹمز اور وہ حساس مقامات تھے جہاں یہ آلات نصب تھے۔

اس کے ساتھ ہی ایرانی فوج نے مزید بتایا کہ مملکتِ بحرین میں قائم ’شیخ عیسیٰ‘ امریکی ایئر بیس پر بھی کامیابی کے ساتھ دوبارہ ڈرون حملہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کارروائی میں ایران کے جدید ’آرش‘ ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے امریکی افواج کی ریڈار تنصیبات اور ان کے اجتماع کے مراکز کو کامیابی سے ہدف بنایا گیا ہے۔

ایرانی عسکری حکام نے صراحت کی ہے کہ خلیجی ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر یہ شدید اور پے در پے حملے منگل کے روز امریکہ کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی علاقوں پر کی جانے والی حالیہ بمباری کا براہِ راست اور فوری ردِعمل ہیں۔

واضح رہے کہ خلیج کے ان اہم اڈوں پر حملوں سے چند ہی گھنٹے قبل ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے کویت اور اردن میں قائم متعدد امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر بھی بھاری راکٹوں اور ڈرونز سے حملے کرنے کی باضابطہ اطلاع فراہم کی تھی۔ عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق ان حملوں نے پورے خلیجی خطے کو ایک ہمہ گیر اور تباہ کن جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

آبنائے ہرمز میں شدید پیش رفت: بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر دو تیل بردار بحری جہاز دھماکے سے تباہ، آگ کی لپیٹ میں

محمود احمد, September 02,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں جاری انتہائی سنگین اور پیچیدہ عسکری کشیدگی کے دوران ایران کے پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے نیا اور چونکا دینے والا دعویٰ کیا ہے کہ سمندری حدود میں دو تیل بردار بحری جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر شدید دھماکے کے بعد مکمل طور پر آگ کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چند گھنٹے قبل ان دو آئل ٹینکرز کے عملے کو امریکی فوج کی ایماء پر اتار دیا گیا تھا اور ان جہازوں کو غیر قانونی راستہ عبور کرنے کے لیے امریکی عسکری عناصر کے اختیار میں دیا گیا تھا۔

پاسدارانِ انقلاب کے عسکری ترجمان کا کہنا تھا کہ اس واقعہ سے قبل ایرانی بحریہ نے بین الاقوامی بحری نقل و حرکت کو بارودی سرنگوں سے آلودہ اس مخصوص سمندری گزرگاہ کو عبور کرنے کے شدید خطرات سے باضابطہ اور واضح طور پر خبردار کیا تھا۔

بیان میں امریکی اتحاد اور تجارتی اداروں کو شدید تنبیہ کرتے ہوئے مزید کہا گیا ہے کہ جو بین الاقوامی بحری کمپنیاں قانونی اور محفوظ بین الاقوامی راستہ اختیار کرنے کے بجائے امریکی جھانسے میں آتی ہیں اور اپنے تجارتی جہاز دشمن کے حوالے کرتی ہیں، ان کے لیے مزید سخت سزائیں تجویز کر لی گئی ہیں جن پر جلد اور مکمل عمل درآمد کیا جائے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف اور کرغز صدر صادر ژاپاروف کی موجودگی میں مشترکہ اعلامیہ اور دستاویزات کا تبادلہ؛ لاہور اور ’اوش‘ سسٹر سٹیز قرار، ٹرانزٹ ٹریڈ اور حوالگیِ ملزمان کا معاہدہ بھی شامل

کاشف عباسی , September 02,2026

بشکیک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

پاکستان اور کرغزستان نے باہمی سٹریٹجک تعلقات کو نئی بلندیوں پر پہنچاتے ہوئے تعلیم، صحت، ٹرانزٹ ٹریڈ، ماحولیاتی تبدیلی، سائنس و ٹیکنالوجی، ورچوئل اثاثوں اور سیکیورٹی سمیت متعدد اہم شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے متعدد معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر باضابطہ دستخط کر دیے ہیں۔

ان تاریخی معاہدوں اور ایم او یوز کی دستاویزات کے تبادلے کی پروقار تقریب بدھ کے روز کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں واقع صدارتی محل میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور جمہوریہ کرغزستان کے صدر صادر ژاپاروف کی خصوصی موجودگی شامل تھی، جہاں دونوں رہنماؤں نے باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے مشترکہ اعلامیے پر بھی دستخط کیے۔

دستاویزات کے تبادلے میں پاکستان اور کرغزستان کی حکومتوں کے درمیان انتہائی اہم ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ، ملزمان کی باہمی حوالگی کا معاہدہ اور فوجداری معاملات میں قانونی معاونت کا مسودہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کی وزارتِ داخلہ کے درمیان منشیات، نشہ آور اشیاء اور کیمیکلز کی غیر قانونی سمگلنگ کی روک تھام میں تعاون کا ایم او یو طے پایا۔

تجارتی و معاشی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے ‘کرغز پوسٹ’ اور ‘پاکستان پوسٹ’ کے درمیان پوسٹل سروسز اور ای کامرس کے شعبے میں باہمی تعاون، نیز فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور کرغزستان کے چیمبر آف کامرس کے درمیان شراکت داری کا معاہدہ شامل ہے۔ ایک اور اہم پیش رفت میں پاکستان کے تاریخی شہر لاہور اور کرغزستان کے اہم شہر ‘اوش’ کے درمیان ‘سسٹر سٹی’ تعلقات قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی اور کرغزستان کی قومی ایجنسی برائے ورچوئل ایسٹس و بلاک چین ٹیکنالوجیز کے درمیان ایم او یو پر دستخط کیے گئے۔ تعلیمی اور تحقیقی شعبے میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور کرغزستان کی وزارتِ صحت کے درمیان طبی تعلیم، اور وزارتِ وفاقی تعلیم پاکستان اور کرغزستان کی وزارتِ تعلیم کے درمیان تعاون کے معاہدے کیے گئے۔ علاوہ ازیں این ڈی یو پاکستان، آئی ایس ایس آئی اور کرغزستان کے سٹریٹجک انیشی ایٹو کے اداروں کے درمیان علمی ریسرچ کے ایم او یوز بھی شامل ہیں۔

پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان، وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے اپنے کرغز ہم منصبوں کے ساتھ دستخط شدہ دستاویزات کا تبادلہ کیا۔

عالمی مالیاتی نظام میں فوری اصلاحات اور مصنوعی ذہانت کی مساوی رسائی ناگزیر ہے: بشکیک میں ایس سی او اجلاس سے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا خطاب

محمود احمد, September 02,2026

بشکیک (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے عالمی مالیاتی نظام میں بنیادی اور عاجلانہ اصلاحات کا پرزور مطالبہ کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ دنیا کے بیشتر ترقی پذیر ممالک بدستور نا قابلِ برداشت اور کمر توڑ غیر ملکی قرضوں کے شدید بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

اماراتی نیوز ایجنسی کے مطابق، اقوام متحدہ کے سربراہ نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اعلیٰ سطحی سربراہی اجلاس سے اہم خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو عالمی مالیاتی و معاشی ڈھانچے میں فوری اصلاحات لانا ہوں گی تاکہ عالمی سطح پر انصاف اور مساوات کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترقی پذیر ممالک کو مفلوج کرنے والے ان بوجھل قرضوں کے سنگین مسئلے کا ایک پائیدار اور منصفانہ حل تلاش کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

اپنے خطاب کے دوران انتونیو گوتریش نے کثیرالجہتی ترقیاتی بینکوں پر زور دیا کہ وہ غریب اور درمیانی آمدنی والے ممالک کی معاشی ترقی کی کوششوں اور مالی معاونت کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ بڑا، مؤثر اور جرات مندانہ کردار ادا کریں۔

انہوں نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ اقوام متحدہ کے اپنے ڈھانچے اور ‘بریٹن ووڈز’ نظام سمیت تمام بین الاقوامی کثیرالجہتی اداروں میں انقلابی اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں تاکہ ان اداروں کو آج کی جدید اور تلخ عالمی حقیقتوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے اور بین الاقوامی فیصلے سازی میں ترقی پذیر ممالک کی متناسب نمائندگی اور اثر و رسوخ میں حقیقی اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔

ٹیکنالوجی کے شعبے اور بالخصوص مصنوعی ذہانت کے ابھرتے ہوئے خطرات و فوائد پر گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی اور اس کے فوائد صرف چند امیر یا ٹیکنالوجی میں پیش رفتہ ممالک تک محدود نہیں رہنے چاہئیں، بلکہ اسے دنیا کے تمام ممالک اور ان کے شہریوں کے لیے یکساں طور پر کارآمد بنانا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے عالمی سطح پر مؤثر اور محفوظ حفاظتی ضوابط اور زیادہ جامع طرزِ حکمرانی کا طریقہ کار تشکیل دینا بے حد ضروری ہے۔

’تعاون کا مطلب جھکنا نہیں‘: میکسیکو کی صدر کلاؤڈیا شین بام کا ملک کی خودمختاری، وقار اور حریت کے دفاع کا سخت عزم

محمود احمد, September 02,2026

میکسیکو سٹی (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

میکسیکو کی صدر کلاؤڈیا شین بام نے اپنی قوم کی خودمختاری، قومی وقار اور آزادی کے تحفظ کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے دنیا بھر کو واضح پیغام دیا ہے کہ ان کا ملک تمام ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعاون، مذاکرات اور مفاہمت کا خواش مند ہے، تاہم تعاون کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میکسیکو کسی کے سامنے جھکے اور نہ ہی دوستی کا مقصد اپنے بنیادی اصولوں سے دستبردار ہونا ہے۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، صدر کلاؤڈیا شین بام نے تاریخی ‘نیشنل پیلس’ میں اپنی حکومت کی دوسری باضابطہ سٹیٹ آف دی یونین تقریر کے دوران عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک انہیں میکسیکو کی صدر کے طور پر عوام کی خدمت کرنے کا اعزاز حاصل ہے، وہ ملک کی جغرافیائی و سیاسی خودمختاری، وقار اور حریت کا ثابت قدمی سے دفاع کرتی رہیں گی۔

اپنے اس اہم خطاب میں انہوں نے میکسیکو اور ہمسایہ ملک امریکہ کے سٹریٹجک تعلقات میں حائل شدو مد اور مشکلات، خصوصاً امریکہ کے اندر میکسیکن تارکینِ وطن کے ساتھ روا رکھے جانے والے نا روا سلوک کا کھلے عام اعتراف اور سخت الفاظ میں احاطہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی امیگریشن حراستی مراکز کی خراب صورتحال اور ناروا رویے کے باعث اب تک 17 میکسیکن شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ امریکہ بھر میں امیگریشن کارروائیوں اور چھاپوں کے دوران ہزاروں بے گناہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میکسیکو کی حکومت نے ان المناک واقعات پر واشنگٹن انتظامیہ کے سامنے رسمی شکایات درج کرائی ہیں اور تارکینِ وطن کے عالمی و انسانی حقوق کا مکمل احترام کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

امریکہ کی جانب سے میکسیکن شہریوں کی بڑے پیمانے پر جبری ملک بدری کے جواب میں صدر نے بتایا کہ ان کی حکومت نے (میکسیکو آپ کو گلے لگاتا ہے) کے نام سے ایک خاص ہنگامی پروگرام شروع کر رکھا ہے۔ اس اسکیم کے تحت اب تک 2 لاکھ 81 ہزار سے زائد ملک بدر یا واپس بھیجے گئے میکسیکن باشندوں کی بحالی کے لیے مدد فراہم کی جا چکی ہے، جنہیں فوری گرم کھانا، آبائی علاقوں تک محفوظ نقل و حمل، بہترین طبی و نفسیاتی نگہداشت اور شناختی دستاویزات کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔

امریکہ کے ساتھ دوطرفہ تجارت اور سرحد پر سیکیورٹی کے حساس معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے صدر کلاؤڈیا شین بام نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اور گفت و شنید کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور انہیں امید ہے کہ جلد ہی باہمی مفاہمت پر مبنی پائیدار معاہدے طے پا جائیں گے۔ سیکیورٹی تعاون کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ان کے ملک نے امریکہ کے ساتھ ایسے تمام تر معاہدے مشترکہ ذمہ داری، خودمختاری کے احترام اور بغیر کسی ماتحتی کے باہمی اعتماد کی بنیاد پر کیے ہیں۔

آسٹریلیا کی تاریخی ‘ماؤنٹ لائل’ تانبے کی کان 15 سال بعد 2029 میں دوبارہ فعال کرنے کا اعلان، 350 ملین امریکی ڈالر کی بھاری سرمایہ کاری کی منظوری

محمود احمد, September 02,2026

کینبرا (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

آسٹریلیا کی خوبصورت جزیرہ ریاست تسمانیہ کے مغربی ساحل پر واقع تاریخی تانبے کی کان 15 سال طویل بندش کے بعد بالاخر سال 2029 میں دوبارہ اپنی پیداوار کا باقاعدہ آغاز کرے گی۔ اس تاریخی کان کو سال 2014 میں پیش آنے والے دو الگ الگ المناک حادثات میں 3 کان کنوں کی ہلاکت کے بعد مکمل طور پر سیل کر دیا گیا تھا۔

چین کے خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، حکومتِ تسمانیہ نے بدھ کے روز جاری کردہ ایک رسمی بیان میں جنوبی افریقہ کی بین الاقوامی مائننگ کمپنی ‘سبیانے سٹل واٹر’ کے اس فیصلہ کن اقدام کا پرجوش خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت ماؤنٹ لائل تانبے کی کان سے 2029 تک تانبے کی پیداوار کا عمل دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے۔

تسمانیہ کے وزیر برائے کاروبار، صنعت اور قدرتی وسائل فیلکس ایلس نے اپنے باضابطہ بیان میں کہا کہ اس تاریخی کان میں پیداوار کی بحالی سے خطے میں 300 سے زائد بلاواسطہ نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس تاریخی منصوبے کا دوبارہ آغاز مغربی ساحلی خطے میں خطیر نئی سرمایہ کاری، بہترین اور پرکشش اجرت والی ملازمتیں اور ایک طویل مدتی معاشی اعتماد لے کر آئے گا۔

صنعتی منصوبے کے خدوخال کے مطابق، ماؤنٹ لائل کان کی بحالی اور جدید کاری پر عملی تعمیراتی کام 2027 کی پہلی ششماہی میں شروع ہونے کی توقع ہے، جس کے لیے جنوبی افریقی مائننگ کمپنی کی جانب سے تقریباً 490 ملین آسٹریلوی ڈالر (جو تقریباً 350 ملین امریکی ڈالر بنتے ہیں) کی بھاری سرمایہ کاری مختص کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ تانبے کی یہ مشہور کان 1890ء کی دہائی میں قائم کی گئی تھی اور اس نے آسٹریلیا کی کان کنی کی صنعت میں دہائیوں تک اہم کردار ادا کیا۔ تاہم، سال 2014 میں کان کے اندر دو الگ الگ خوفناک حادثات کے نتیجے میں 3 محنت کشوں کی ہلاکت کے بعد حفاظت کے پیشِ نظر اس میں کام مکمل طور پر معطل کر دیا گیا تھا۔

سعودی عرب کے سفارتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی: ڈاکٹر منال بنت حسن رضوان وزیرِ خارجہ کی مشیر اور خصوصی ایلچی مقرر

روزینہ اسماعیل, September 02,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ایک اہم اور اعلیٰ سطحی سفارتی فیصلہ کرتے ہوئے سینئر ڈپلومیٹ ڈاکٹر منال بنت حسن رضوان کو مذاکرات اور بین الاقوامی امن کوششوں کے لیے وزیرِ خارجہ کی خاص مشیر اور خصوصی ایلچی مقرر کر دیا ہے۔

سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق یہ اہم تقرری مملکت کی خارجہ پالیسی کے تحت عالمی سفارتی امور کو مزید مضبوط بنانے، مختلف خطوں میں باہمی مذاکرات کو فروغ دینے اور عالمی امن عمل کی حمایت کی مسلسل کوششوں کے حصے کے طور پر کی گئی ہے۔

خصوصی ایلچی مقرر کیے جانے کے بعد ڈاکٹر منال بنت حسن رضوان کے دائرہ اختیار میں بین الاقوامی مذاکرات، تنازعات کی تسویہ کاری، عالمی امن کی کوششوں میں معاونت اور بین الاقوامی برادری میں سعودی عرب کی موثر سفارتی موجودگی و اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کرنا شامل ہو گا۔

ڈاکٹر منال بنت حسن رضوان کو عالمی سفارت کاری، بین الاقوامی مذاکراتی عمل، پیچیدہ تنازعات کے حل اور کثیر الجہتی امور کا کثیر اور طویل تجربہ حاصل ہے۔ وہ اس سے قبل بھی سعودی وزارتِ خارجہ میں متعدد اعلیٰ اور ذمہ دارانہ عہدوں پر فائز رہ چکی ہیں اور اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر سعودی عرب کی نمائندگی کا اعزاز رکھتی ہیں۔

حالیہ نئی تقرری سے قبل وہ وزارتِ خارجہ میں بطور وزیر کام کر رہی تھیں۔ انہوں نے سال 2017 سے وزارتِ خارجہ میں اعلیٰ مشیر اور بعد ازاں افریقی امور کے وزیرِ مملکت کے دفتر میں بطور مشیر خدمات انجام دیں۔ اس سے قبل سال 2012 میں بھی وہ وزیرِ خارجہ کے دفتر میں بطور مشیر اہم فرائض سرانجام دے چکی ہیں۔

ان کے شاندار سفارتی کیریئر میں سال 2012 سے 2017 کے درمیان نیویارک میں اقوامِ متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مشن کے ساتھ کام کرنے کا پانچ سالہ اہم تجربہ شامل ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں عرب لیگ کے لیے سعودی مشن اور واشنگٹن ڈی سی میں سعودی سفارت خانے میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں، جہاں ان کی بنیادی ذمہ داریوں میں امریکی کانگریس سے روابط اور سیاسی امور شامل تھے۔ انہوں نے مظلوم فلسطینیوں کے حقوق اور مسئلہ فلسطین کے پائیدار حل کے لیے سعودی عرب کی سفارتی پیش رفت میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

بھارت میں تاریخی گرمی کی لہر: اگست 1901 کے بعد سے اب تک کا گرم ترین مہینہ ریکارڈ

منصور احمد, September 02,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

پڑوسی ملک بھارت میں موسمیاتی تبدیلی کے مہلک اثرات شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں رواں سال کا اگست 1901 کے بعد سے لے کر اب تک کی 125 سالہ ریکارڈ شدہ تاریخ کا سب سے گرم ترین مہینہ ثابت ہوا ہے اور ملک کا اوسط درجہ حرارت 28.01 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا ہے۔

بھارتی محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعداد و شمار کے مطابق اگست میں بھارت کا اوسط درجہ حرارت طویل مدتی اوسط سے 0.67 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی اگست کے سب سے زیادہ اوسط درجہ حرارت کا سال 2023 میں قائم ہونے والا 28.0 ڈگری سینٹی گریڈ کا سابقہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگست کے دوران پورے بھارت میں مون سون کی بارشیں معمول سے 16 فیصد کم رہیں، جس کے باعث درجہ حرارت میں غیر معمولی اور مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا۔ بارشوں میں اس کمی اور حدت میں اضافے کی بنیادی وجہ سمندری و فضائی مظہر ’ال نینو‘ کا متحرک ہونا بتایا جا رہا ہے، جو دنیا بھر میں ہوا کے دباؤ اور بارش کے قدرتی نظام میں شدید تبدیلیاں لانے کا سبب بنتا ہے۔

جنوبی ایشیا اور خاص طور پر بھارت میں ال نینو کے اثرات کے باعث شدید خشک سالی اور حدت سے بھرپور موسم پیدا ہوتا ہے۔ ماحولیاتی سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ فوسل ایندھن (گیس، تیل اور کوئلے) کے کثرت سے استعمال سے پیدا ہونے والی گلوبل وارمنگ اور ال نینو کے ملاپ نے پہلے سے گرم ہوتی ہوئی زمین کے درجہ حرارت میں تباہ کن اضافہ کر دیا ہے، جس سے مستقبل میں مزید شدید ترین اور غیر معمولی موسمی حالات پیدا ہونے کا خطرہ موجود ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی آبادی کا حامل ملک بھارت ان شدید موسمیاتی تبدیلیوں اور گرمی کی لہروں کی زدمیں ہے، جہاں حالیہ برسوں کے دوران کئی ریاستوں اور اضلاع میں درجہ حرارت خطرناک اور نا قابلِ برداشت حد تک بڑھتا ہوا دیکھا گیا ہے۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے اور عالمی سطح پر پائیدار امن کے حصول میں معاون ثابت ہوگا: بشکیک میں ترک صدر رجب طیب اردوان کا تاریخی اعلان

روزینہ اسماعیل, September 02,2026

بشکیک/انقرہ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اس عزم کی باضابطہ تصدیق کی ہے کہ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا تاریخی ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘‘ خطے سمیت عالمی سطح پر پائیدار امن اور استحکام کے حصول میں انتہائی اہم اور کلیدی کردار ادا کرے گا۔

ترک صدر نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت و حکومت کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ علاقائی خود مختاری، ملکیت اور اجتماعی مزاحمت کی مضبوط بنیادوں پر قائم کیا جانے والا یہ سہ فریقی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے امن اور دفاعی توازن کی ضمانت بنے گا۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، اس اہم معاہدے کی سیاسی اور دفاعی سٹریٹجک کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ مشترکہ اعلامیے میں اس بات کا اعادہ کیا گیا تھا کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ دفاعی صنعت، اسلحہ سازی، مشترکہ پیداوار اور جدید ترین ملٹری ٹیکنالوجی کی ترقی کے شعبوں میں ایک دوسرے سے مکمل اور مضبوط تعاون قائم کریں گے۔

اعلامیے کے مطابق اس اشتراکِ عمل اور مشترکہ سرگرمیوں کا بنیادی مقصد تینوں مسلم ممالک کی دفاعی صلاحیتوں، حربی مہارت اور مسلح افواج کے باہمی توازن و استعداد کو آئندہ چیلنجز کے مقابلے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور جدید بنانا ہے۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب کا امریکہ کو ‘سخت سزا’ دینے کا عزم: ڈونلڈ ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیان کے بعد تہران کا بھرپور جوابی کارروائی کا اعلان

محمود احمد, September 01,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری عسکری ٹکراؤ انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچ گیا ہے، جہاں ایرانی پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے منگل کو ہونے والی امریکی بمباری کے بعد باضابطہ اعلان کیا ہے کہ وہ اس امریکی جارحیت کا انتہائی ‘سخت’ اور دردناک جواب دیں گے۔

منگل کے روز پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں پر امریکی طیاروں کے حملوں کے فوراً بعد پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے تہران میں صحافیوں اور بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو اس کی اس حماقت پر ’سخت سزا‘ دی جائے گی اور واشنگٹن اپنے ان نئے حملوں کے فیصلوں پر شدید پچھتائے گا۔

پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کے یہ تند و تیز اور جنگی بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب چند ہی لمحے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو متنبہ کیا تھا کہ اگر اس نے کوئی بھی جوابی کارروائی کی تو امریکہ کا اگلا ردِعمل پہلے سے کہیں زیادہ ‘سخت اور وسیع’ ہو گا۔

ایرانی عسکری حکام نے امریکہ کی اس تنبیہ کو مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی قسم کا دباؤ یا دھمکی ایران کو اپنی خودمختاری، جغرافیائی سرحدوں اور قومی مفادات کے دفاع کے حق سے پیچھے نہیں ہٹا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں قائم تمام امریکی تنصیبات اور امریکی فورسز پاسدارانِ انقلاب کے نشانوں پر ہیں اور وقت و مقام کا انتخاب ایران خود کرے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو نیا اور سخت ترین انتباہ: دوبارہ جوابی کارروائی کی تو امریکی ردِعمل ’سخت اور وسیع‘ ہو گا

محمود احمد, September 01,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری عسکری کشیدگی میں مزید شدّت لاتے ہوئے ایک باضابطہ بیان میں متنبہ کیا ہے کہ اگر تہران حکومت نے امریکی حملوں کے جواب میں کسی بھی قسم کی کارروائی کی تو اس بار واشنگٹن کا ردِعمل پہلے سے کہیں زیادہ ’سخت اور وسیع‘ ہو گا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ تند و تیز بیان اس کے فوراً بعد سامنے آیا ہے جب امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی تھی کہ امریکی جنگی طیاروں نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے تزویراتی ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔

امریکی صدر نے واضح کیا کہ منگل کی شب امریکہ کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب کے اہم اہداف پر کیے گئے فضائی حملے مکمل طور پر قانون کے مطابق اور ‘جائز’ تھے۔ انہوں نے تہران کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر جواب میں ایران نے کوئی بھی عسکری قدم اٹھایا یا امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو امریکہ دوبارہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس سے بڑا حملہ کرے گا۔

اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے علانیہ اعلان کیا تھا کہ وہ اردن میں قائم امریکی عسکری اڈوں پر پاسدارانِ انقلاب کے حالیہ حملوں کا بدلہ لیں گے اور اس کا ’سخت‘ جواب دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ایران نے اردن اور امارات میں امریکی تنصیبات پر ان حملوں کو اس سے قبل خلیج فارس کے جزیرے ‘لارک’ پر ہونے والے امریکی حملوں کا فطری اور دفاعی ردِعمل قرار دیا تھا۔

سیاسی و عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس نئے اور انتباہی بیان کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں براہِ راست امریکی و ایرانی تصادم کا دائرہ کار مزید پھیلنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں پر زبردست فضائی حملے، بندر عباس اور چابہار سمیت متعدد ساحلی شہر دھماکوں سے گونج اٹھے

محمود احمد, September 01,2026

واشنگٹن/تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

مشرقِ وسطیٰ میں عسکری کشیدگی میں انتہائی سنسنی خیز اور خطرناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی جنگی طیاروں نے منگل کے روز ایران کی پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے مختلف اہم عسکری ٹھکانوں اور تنصیبات پر بمباری کی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ شدید فضائی حملے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں اور خطے میں تعینات امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے کے ردِعمل کے طور پر کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب، ایرانی نیوز ایجنسی ’فارس نیوز‘ کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق ایران کے ساحلی اور تزویراتی علاقوں کونارک، چابہار، بندر عباس، سیرک اور جزیرہ قشم میں انتہائی شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان تمام مقامات پر یکے بعد دیگرے کئی انفجارات ہوئے، تاہم خبر رساں ایجنسی نے ابھی تک ان دھماکوں کے عین مقام یا ہونے والے مالی و جانی نقصانات کی حتمی وضاحت نہیں کی ہے۔

عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ آبنائے ہرمز کے آس پاس ایرانی ساحلی شہروں اور جزائر کو ہدف بنایا جانا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ امریکی افواج ایران کی ساحلی دفاعی صلاحیتوں اور پاسدارانِ انقلاب کے نیول اور میزائل انفراسٹرکچر کو ناکارہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں، جس سے اس خطے میں باقاعدہ وسیع پیمانے کی جنگ کے خطرات شدید ہو گئے ہیں۔

بشکیک میں ایس سی او اجلاس کے موقع پر پوتن کی مسعود پزشکیان سے ملاقات: مشکل وقت میں ایران کی ہر ممکن مدد جاری رکھنے کا روسی اعلان

محمود احمد, September 01,2026

بشکیک/ماسکو (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ایران کی قیادت اور عوام کے عزم و ہمت کو سراہتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ماسکو انتظامیہ ’اس مشکل اور حساس دور‘ میں تہران کی ہر ممکن مدد کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔

یکم ستمبر کو کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے اہم موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ایک دباؤ سے بھرپور فضا میں ہونے والی باہمی ملاقات کے دوران صدر پوتن نے کہا کہ روس اپنے قومی مفادات، جغرافیائی سرحدوں اور خودمختاری کے دفاع میں ایرانی قوم کی جرات اور استقامت کی انتہائی قدر کرتا ہے۔

روسی خبر رساں ادارے ’تاس‘ کے مطابق روسی صدر نے ایرانی ہم منصب سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس انتہائی پیچیدہ اور مشکل دور میں ہم ایران کو درکار ہر قسم کی معاونت و سامان فراہم کرنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس موضوع پر دونوں ممالک کے حکام کے درمیان پیشگی تفصیل سے بات چیت ہو چکی ہے اور روس کی جانب سے ضروری عسکری و لاجسٹک سامان کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔

اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران صدر ولادیمیر پوتن نے روس اور ایران کے درمیان گہرے ہوتے تجارتی اور اقتصادی تعلقات کی موجودہ رفتار کو بھی سراہا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ خطے میں پھیلی موجودہ شدید ‘عسکری اور سیاسی صورتحال کے باوجود’ دونوں ممالک کے تجارتی و معاشی روابط مثبت سمت میں مسلسل پیش رفت کر رہے ہیں۔

روسی صدر کا کہنا تھا کہ باہمی تجارت میں یہ بہتری بنیادی طور پر ‘روس۔ایران بین الحکومتی کمیشن’ کی فعال اور مؤثر کارکردگی کا نتیجہ ہے، جو باقاعدگی کے ساتھ اپنے اجلاس منعقد کر رہا ہے اور جس کا تازہ ترین اور انتہائی اہم اجلاس حال ہی میں کامران ثابت ہوا ہے۔

بشکیک میں ایس سی او اجلاس کا موقع: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی ازبک وزیر خارجہ بختیار سعیدوف سے اہم ملاقات

منصور احمد, September 01,2026

بشکیک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے موقع پر ازبکستان کے وزیرِ خارجہ بختیار سعیدوف سے ایک اہم ملاقات کی ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ سے جاری باضابطہ بیان کے مطابق اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان قائم قریبی، دوستانہ اور مسلسل بڑھتی ہوئی سٹریٹجک شراکت داری کا دہرایا اور تمام شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کا اعادہ کیا۔

ملاقات کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی دلچسپی کے تمام تر شعبوں، خاص طور پر تجارتی، معاشی، علاقائی روابط اور سیکیورٹی تعاون کو مزید فعال اور مضبوط بنانے کے مختلف عملی طریقوں اور اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

امریکہ اور ایران میں عسکری کشیدگی پر اقوام متحدہ کا اظہارِ تشویش: انتونیو گوتریش کا فریقین سے شدید ترین تحمل کا مطالبہ

محمود احمد, September 01,2026

اقوام متحدہ/نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی شدید عسکری کشیدگی پر گہرے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔

چین کے خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفین دوجارک نے نیویارک میں ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہفتے کے اختتام پر ہونے والی فوجی کارروائیوں اور حملوں میں ناخوشگوار اضافہ انتہائی افسوسناک اور عالمی امن کے لیے خطرناک ہے۔

ترجمان کے مطابق سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے ایک بار پھر تمام متعلقہ فریقین سے شدید ترین تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عسکری ٹکراؤ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے، اسی لیے وہ تمام سفارتی سرگرمیوں اور دوطرفہ یا کثیرالجہتی مذاکرات کی فوری بحالی کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ صرف باہمی گفتگو اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ایک ایسا پائیدار حل تلاش کیا جا سکتا ہے جو مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں مکمل استحکام، عدم تشدد اور تمام فریقوں کے مابین اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو سکے۔

نیپال میں تبت کی سرحد کے قریب تباہ کن سیلاب سے ہلاکتیں 1,000 سے تجاوز کر گئیں، 3,900 سے زائد افراد لاپتہ

محمود احمد, September 01,2026

کاٹھمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

نیپال میں تبت کی سرحد کے قریب آنے والے انتہائی تباہ کن سیلاب کی وجہ سے املاک اور انسانی جانوں کا ہولناک نقصان ہوا ہے، جہاں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔ نیپال کے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے کے مطابق سیلابی ریلوں کے باعث ہزاروں افراد اب بھی لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز جاری ہیں۔

حکام کے فراہم کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 3,900 سے زائد افراد لاپتہ ہیں، جن میں 600 سے زیادہ وہ محنت کش اور انجینئرز بھی شامل ہیں جن کے بارے میں شدید خدشہ ہے کہ وہ دریائے ترشولی کے کنارے قائم پن بجلی کے مختلف منصوبوں میں موجود مٹی اور کیچڑ سے بھری سرنگوں کے وسیع زیرِ زمین نیٹ ورک میں پھنسے ہوئے ہیں۔

سرنگوں کے اندر پھنسے ہوئے مزدوروں کو ساہس اور آکسیجن کی فراہم یقینی بنانے کے لیے ماہر انجینئرز خصوصی ایئر پمپس کا استعمال کر رہے ہیں۔ امدادی ٹیموں کا ایک ریسکیو دستہ کامیابی کے ساتھ ایک سرنگ کے اندر داخل ہونے میں کامیاب بھی ہوا، تاہم اندر کسی شخص کو نہ پائے جانے کے بعد ٹیم کو واپس آنا پڑا۔

مقامی اور بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے 33 سالہ لاپتہ انجینئر اوروس بھنڈاری کی اہلیہ انوشیلا بھنڈاری نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی صرف یہی ایک خواہش ہے کہ ان کے شوہر کو بحفاظت تلاش کیا جا سکے تاکہ وہ جلد گھر واپس آ جائیں۔ اوروس بھنڈاری پن بجلی منصوبے کی ایک سائٹ سے سیلابی ریلے کے بعد سے لاپتہ ہیں۔

نیپال کے وزیرِاعظم بالیندر شاہ نے واقعے پر اہم پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان متاثرہ ہائیڈرو پاور منصوبوں کی سائٹس سے اب تک 279 افراد کو بحفاظت ریسکیو کر کے نکال لیا گیا ہے۔

حالات کی حساسیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے امدادی کارروائیوں کی قیادت چین اور نیپال کے تربیت یافتہ فوجی اہلکاروں پر مشتمل ایک بین الاقوامی مشترکہ ٹیم کر رہی ہے، جبکہ انڈیا، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا کے تخصصی ماہرین بھی ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں میں مکمل طور پر حصہ لے رہے ہیں۔

جزیرہ لارک پر امریکی حملوں کے بعد تہران کا اردن اور امارات میں امریکی اڈوں پر جوابی حملہ؛ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت جواب دینے کا اعلان

محمود احمد, August 31,2026

تہران/واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

ایران کی مسلح افواج کے جنرل سٹاف نے خطے کے تمام ممالک کو سخت اور واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی کے لیے ان کی سرزمین استعمال کی گئی تو تہران حکومت ایسے حملوں کا باعث بننے والے تمام ’ذرائع‘ کو بلا جھجھک نشانہ بنائے گی۔

ایرانی مسلح افواج کے جنرل سٹاف کی جانب سے جاری کردہ رسمی بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض علاقائی اور پڑوسی ممالک اپنے سابقہ علانیہ مؤقف اور وعدوں کے باوجود امریکہ کو ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں کے لیے اپنی حدود اور سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ ایران اپنے تمام پڑوسی ممالک کی سرحدوں اور خودمختاری کا احترام کرتا ہے، تاہم وہ اپنے خلاف ہونے والی ’کسی بھی جارحیت کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا‘ اور ایسے اقدامات کا پہلے سے ’مزید سخت جواب‘ دیا جائے گا۔

ایرانی عسکری حکام کے مطابق گزشتہ رات خطے میں کی جانے والی جوابی عسکری کارروائیاں بھی اسی واضح پالیسی کا تسلسل اور ردِعمل تھیں۔

یہ تند و تیز بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے اتوار کی شب خلیج فارس میں واقع تزویراتی لحاظ سے انتہائی اہم ایرانی جزیرے ‘لارک’ پر فضائی حملے کیے تھے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس امریکی کارروائی کے ردِعمل میں اس نے اردن اور متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی عسکری اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔

دوسری جانب، ان جوابی حملوں پر ردِعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باضابطہ بیان میں کہا ہے کہ امریکہ ان تمام ایرانی حملوں کو ’بغیر جواب‘ دیے ہرگز نہیں چھوڑے گا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اردن اور امارات میں امریکی تنصیبات پر حملوں کی پاداش میں ایران کو امریکہ کی جانب سے انتہائی ‘سخت اور موثر جواب’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ترکیہ میں اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں: دو طرفہ دفاعی تعاون اور علاقائی سکیورٹی کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال

منصور احمد, August 31,2026

راولپنڈی/استنبول (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ترکیہ کے اہم سرکاری دورے کے دوران استنبول میں اعلیٰ ترین سطح کی سفارتی و عسکری ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں کے دوران باہمی دلچسپی کے اہم امور، دوطرفہ دفاعی و تکنیکی تعاون اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے قیام کے دوران سعودی عرب کے وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ترکیہ کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان ، ترکیہ کے وزیرِ قومی دفاع یاسر گلر اور چیف آف ترک جنرل سٹاف جنرل سلچوک بایراکتار اوغلو سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں دفاعی پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور علاقائی امن و امان سے متعلق سٹریٹجک امور پر گفتگو کی گئی۔

دورے کے دوران چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ کے تحت قائم کردہ ‘سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی’ کے اہم اجلاس میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی، جس میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب تینوں ممالک شامل ہیں۔ اجلاس کے دوران تینوں اسلامی برادر ممالک نے سٹریٹجک روابط اور دفاعی تعاون کو مزید ادارہ جاتی اور مضبوط بنانے کے لیے مختلف عملی اقدامات اور مستقبل کے امکانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔

ترجمان کے مطابق یہ اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں اور مشترکہ اجلاس پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان برادرانہ تعلقات اور تیزی سے بڑھتے ہوئے سٹریٹجک و دفاعی تعاون کی روشن عکاسی کرتے ہیں۔

19 ارب ڈالر کی ریکارڈ اسرائیلی دفاعی برآمدات کے دوران اہم پیش رفت؛ ترکی کے ساتھ کشیدگی کے پیشِ نظر یونان کا اپنے دفاعی نظام کو جدید بنانے کا فیصلہ

کاشف عباسی , August 31,2026

تل ابیب/ایتھنز (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

اسرائیل اور یونان کے درمیان ’اخیلس شیلڈ‘ نامی ایک تاریخی اور غیر معمولی دفاعی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اسرائیلی وزارتِ دفاع کے باضابطہ بیان کے مطابق اس معاہدے کے تحت یونان کو جدید ترین اسرائیلی ٹیکنالوجی پر مبنی ایک کثیر سطحی فضائی دفاعی نظام فراہم کیا جائے گا، جو بیلسٹک میزائلوں سے لے کر جدید ڈرونز اور دیگر فضائی خطرات کا مؤثر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے اس معاہدے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور یونان کے مشترکہ تزویراتی مفادات ہیں اور دونوں ممالک کو خطے میں یکساں نوعیت کے سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔

یہ اہم دفاعی معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی دفاعی برآمدات تاریخ کی بلند ترین اور ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال اسرائیل نے 19 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا دفاعی سازوسامان اور عسکری ٹیکنالوجی برآمد کی، جو کہ 2024ء کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد زیادہ ہے۔ عسکری ماہرین کے مطابق دنیا کے متعدد ممالک اسرائیلی اسلحے اور دفاعی سسٹمز میں دلچسپی اس لیے رکھتے ہیں کیونکہ اسے عملی جنگی حالات میں آزمایا جا چکا ہے اور اس کی کارکردگی کا براہِ راست مشاہدہ کیا گیا ہے۔

یونان اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات:

اگرچہ اسرائیل اور یونان کے درمیان گزشتہ ایک دہائی کے دوران دفاعی اور تکنیکی تعاون میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، تاہم پیر کے روز طے پانے والا یہ سمجھوتہ دونوں ممالک کی تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا اور اہم دفاعی معاہدہ تصور کیا جا رہا ہے۔

یونان اپنی مسلح افواج کو جدید ترین تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے، جبکہ مشرقی بحیرہ روم میں سمندری حدود سے متعلق تنازعات کے باعث اس کا اپنے ہمسائے اور نیٹو اتحادی ملک ترکی کے ساتھ طویل عرصے سے کشیدگی اور اختلاف چلا آ رہا ہے۔ اس سے قبل بھی یونان نے اسرائیلی کمپنی ایلبٹ سسٹمز کے ساتھ 1.65 ارب ڈالر کے ایک بڑے معاہدے کے تحت فضائی تربیتی مرکز قائم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، جبکہ راکٹ لانچرز، اینٹی ٹینک میزائلوں اور ڈرونز کے حصول کے متعدد معاہدے بھی کیے جا چکے ہیں۔

یونانی وزیرِ دفاع نیکوس ڈینڈیاس نے معاہدے پر باقاعدہ دستخطوں کے بعد اپنے ردِعمل میں کہا کہ جدید دور کے تنازعات نے دفاع اور عسکری مزاحمت کے روایتی تصورات کو بالکل تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی، بیلسٹک میزائل، سیٹلائٹ مواصلات، بغیر پائلٹ کے ڈرون سسٹمز، سائبر خطرات اور ہائبرڈ جنگ جیسے عوامل نے پرانے روایتی دفاعی نظریات کو مکمل طور پر غیرحقیقی بنا دیا ہے۔

اسرائیلی وزارتِ دفاع کے مطابق اس جامع معاہدے میں ‘ڈیوڈز سلنگ’ اور ‘سپائیڈر’ سمیت متعدد عالمی معیار کے فضائی دفاعی نظام اور ایک نیا قومی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم شامل ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 30 ملین ڈالر مالیت کے ایک الگ معاہدے کے تحت رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز کے ‘ڈرون ڈوم’ سسٹمز بھی یونان کو فراہم کیے جائیں گے۔

اسرائیل دنیا کا ساتواں بڑا اسلحہ برآمد کنندہ:

سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی رواں سال جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل عالمی اسلحہ برآمدات کی فہرست میں برطانیہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کا ساتواں بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ اسرائیلی دفاعی صنعت کی مجموعی عالمی برآمدات میں نصف سے زیادہ حصہ گائیڈڈ میزائلوں، راکٹوں اور جدید فضائی دفاعی نظاموں پر مشتمل ہے۔

اردن میں امریکی اڈوں پر ایرانی حملہ: ڈونلڈ ٹرمپ کا شدید اور حتمی جوابی کارروائی کا اعلان

محمود احمد, August 31,2026

واشنگٹن/تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ امریکہ اردن میں قائم اپنے عسکری اڈوں پر ہونے والے حالیہ ایرانی حملوں کا انتہائی ’سخت اور موثر جواب‘ دے گا۔ خبر رساں ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک ہنگامی ٹیلی فونک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ایرانی عسکری اقدام پر واشنگٹن چپ نہیں بیٹھے گا اور اس کا جواب بھرپور کارروائی کی صورت میں سامنے آئے گا۔

امریکی صدر کا یہ تند و تیز بیان پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے اس باضابطہ دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی عسکری حملوں کے ردِعمل میں ایران نے اردن میں واقع دو اہم امریکی ایئر بیسز—’شاہ حسین’ اور ‘الازرق’—کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی میں وہاں موجود امریکی فوج کے ‘تکنیکی و دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے اور جنگی لڑاکا طیاروں کو بھاری نقصان’ پہنچا ہے۔

انٹرویو کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فضائی دفاعی نظام نے گزشتہ رات ایرانی میزائل حملے کے دوران ایک میزائل کو دانستہ طور پر گزرنے دیا کیونکہ وہ کسی امریکی ہدف کی سمت نہیں تھا اور اس سے کوئی خطرہ نہیں تھا، جبکہ دیگر تمام ایرانی میزائلوں کو فضا ہی میں کامیابی سے تباہ کر دیا گیا۔ دوسری جانب اردنی حکومت نے بھی اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ اس کی اپنی فضائی دفاعی فورسز نے اردن کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 8 ایرانی میزائلوں کو کامیابی سے ناکارہ بنایا۔

عسکری کشیدگی اور سخت بیانات کے باوجود امریکی صدر نے سفارتی حل کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایرانی حکام واقعی ہم سے مذاکرات اور ملاقات کرنا چاہتے ہیں، لیکن میں نہیں جانتا کہ کسی پائیدار معاہدے تک پہنچنے کے لیے ان پر آئندہ کے لیے اعتماد کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔‘

اس کے فوراً بعد اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک مفصل پوسٹ میں امریکی صدر نے ایرانی حکومت کو شدید ترین تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ ’ایران باضابطہ طور پر ایک بالکل ناکام ریاست بن چکا ہے اور اس کا وجود تقریباً ختم ہو چکا ہے! اس کے پاس اب نہ کوئی فعال بحریہ بچی ہے، نہ فضائیہ، اور نہ ہی کوئی معاشی قوت رکھنے والی کرنسی۔ وہ اپنے فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو تنخواہیں دینے سے بھی قاصر ہے۔ ملک میں مہنگائی 300 فیصد کی تاریخی سطح تک پہنچ چکی ہے، اور اس کی موجودہ قیادت مکمل انتشار کا شکار ہے جو ملک کی مناسب نمائندگی کی صلاحیت کھو چکی ہے۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان کے اختتام پر الزام عائد کیا کہ ’تہران حکومت کے پاس اب صرف امریکہ سے آنے والی فیک نیوز، اپنے ہی معصوم مظاہرین کو قتل کرنے کی سفاکانہ آمادگی (جس میں اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ان پر انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کے تحت عالمی عدالتوں میں مقدمہ چلنا چاہیے!)، اور بے بنیاد عسکری دعووں کی ایک لمبی فہرست ہی باقی رہ گئی ہے۔‘