آبی قلت سے نمٹنے کے لیے مقتدر پیش رفت: انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کا زیرِ زمین پانی کی بحالی اور بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے منصوبے کا میڈیا وزٹ، کچنار پارک میں جدید ٹیکنالوجی کا مظاہرہ

روزینہ اسماعیل.june 24,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ نے وفاقی دارالحکومت کے کچنار پارک میں زیرِ زمین پانی کی بحالی اور بارش کے پانی کو مصنوعی طریقوں سے ذخیرہ کرنے کے اپنے مقتدر منصوبے کے حوالے سے ایک خصوصی میڈیا ایکسپوژر وزٹ کا اہتمام کیا ہے۔ اس منصوبے کو ملک میں شہری سیلابی صورتحال سے نمٹنے اور تیزی سے کم ہوتے ہوئے زیرِ زمین آبی وسائل کی قدرتی بحالی کے لیے ایک منفرد اور مقتدر ترین ماحولیاتی حل قرار دیا جا رہا ہے۔

اس مقتدر موقع پر ملک کے مقتدر پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کے نمائندوں نے منصوبے کے مقام کا تفصیلی دورہ کیا اور شہری آبی نظم و نسق کو جدید خطوط پر استوار کرنے سمیت موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے مقابلے میں لچک پیدا کرنے کے لیے متعارف کرائے گئے جدید ترین سائنسی اقدامات کا بچشمِ خود مشاہدہ کیا۔ دورے کے دوران انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے اسٹریٹجک پروگرام ڈائریکٹر برائے واٹر، فوڈ اینڈ ایکو سسٹمز ڈاکٹر محسن حفیظ نے صحافیوں کے وفد کو منصوبے کے بنیادی مقاصد، عملی طریقہ کار اور پائیدار شہری آبی تحفظ میں اس کے کلیدی کردار کے بارے میں مقتدر بریفنگ دی۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر محسن حفیظ کا کہنا تھا کہ اس اہم منصوبے کا بنیادی مقصد برسات کے موسم میں بارش کے پانی کو ضائع ہونے سے بچا کر مقتدر تکنیک کے ذریعے براہِ راست زیرِ زمین آبی ذخائر تک پہنچانا ہے۔ اس عمل سے نہ صرف شہروں میں سڑکوں پر پانی کے سطحی بہاؤ اور سیلابی خطرات میں واضح کمی آئے گی بلکہ زیرِ زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح کو دوبارہ بحال کرنے میں بھی بھرپور مدد ملے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام قدرتی حل کے ذریعے موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ جدید ترین شہری انفراسٹرکچر کی ترقی کے وسیع تر قومی اقدامات کا ایک لازمی حصہ ہے۔

ڈاکٹر محسن حفیظ نے وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں پر سخت زور دیا کہ وہ ملک بھر کے بڑے شہروں میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے اور اسے زمین کا حصہ بنانے کے اس مقتدر نظام کو سرکاری سطح پر فروغ دیں اور اسے قانونی طور پر لازمی قرار دیں تاکہ پاکستان کو درپیش بڑھتی ہوئی آبی قلت اور پانی سے متعلق دیگر سنگین چیلنجز پر بروقت قابو پایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر خصوصی روشنی ڈالی کہ شدید موسمیاتی تبدیلیوں اور بڑھتی ہوئی شہری آبادی کے موجودہ تناظر میں پاکستان کے طویل المدتی آبی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایسے تمام پائیدار طریقوں کو قومی سطح پر اپنانا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان مقتدر اقدامات کے بارے میں عوامی آگاہی میں اضافہ پائیدار آبی نظم و نسق کے طریقوں کو پاکستان کے تمام شہری علاقوں میں زیادہ وسیع پیمانے پر اپنانے کی حوصلہ افزائی کرے گا۔

ملکی معیشت کے لیے بڑی عالمی کامیابی: بارکلیز کی رپورٹ سے عالمی سرمایہ کاروں کے پاکستان کی معاشی سمت پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی ہو رہی ہے، مشیرِ خزانہ خرم شہزاد

روزینہ اسماعیل.june 24,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

وفاقی وزیرِ خزانہ کے مقتدر مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ برطانیہ کے معروف بین الاقوامی مالیاتی ادارے بارکلیز نے پاکستان کے معاشی مستقبل پر گہرے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ملک کے خودمختار قرضوں کی درجہ بندی میں نمایاں بہتری کر دی ہے۔ بدھ کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کردہ اپنے ایک مقتدر پیغام میں انہوں نے بتایا کہ بارکلیز نے پاکستان کی معیشت کے حوالے سے ہونے والی مثبت اور تعمیری پیشرفت کو باقاعدہ تسلیم کرتے ہوئے ملک کے خودمختار قرضوں کی درجہ بندی کو بڑھا کر ‘اوور ویٹ’ کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس بڑے عالمی اقدام سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے پاکستان کی درست معاشی سمت پر بڑھتے ہوئے پختہ اعتماد کی واضح عکاسی ہو رہی ہے۔

بارکلیز کی جانب سے جاری کردہ اس تازہ ترین عالمی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی بیرونی مالی پوزیشن اور اندرونی مالیاتی نظم و ضبط میں حالیہ عرصے کے دوران نمایاں اور مقتدر بہتری آئی ہے، جس کے باعث ملک کے تمام اہم معاشی اشاریوں میں پائیدار استحکام دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مشیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں دوررس معاشی اصلاحات، فعال مالیاتی نظم و نسق اور بیرونی شعبے میں مقتدر بہتری کے ذریعے عالمی سرمایہ کاروں کا کھویا ہوا اعتماد بحال کرنے میں انتہائی اہم اور اسٹریٹجک پیشرفت کی ہے، جس کے مثبت نتائج اب سامنے آ رہے ہیں۔

خرم شہزاد نے مزید بتایا کہ اس مقتدر رپورٹ میں پاکستان کے جغرافیائی محلِ وقوع کو بھی غیر معمولی اور تزویراتی اہمیت دی گئی ہے۔ بارکلیز کے ماہرین کے مطابق، پاکستان اس وقت مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک انتہائی اہم تجارتی اور اقتصادی راہداری کی حیثیت رکھتا ہے، جو مستقبل قریب میں علاقائی تجارت، غیر ملکی سرمایہ کاری اور معاشی تعاون کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر پاکستان موجودہ معاشی اصلاحات، سخت مالیاتی نظم و ضبط اور استحکام کی پالیسیوں پر اسی طرح عمل جاری رکھتا ہے، تو مستقبل میں عالمی ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے ملک کی کریڈٹ ریٹنگ میں مزید مقتدر بہتری کے قوی امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے اس کے دوررس فوائد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس عالمی پیشرفت کے نتیجے میں پاکستان کے لیے بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں سے نئے قرضوں کا حصول نسبتاً آسان اور انتہائی کم لاگت پر ممکن ہو سکتا ہے، جبکہ ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔ مشیرِ خزانہ نے تاکید کی کہ بارکلیز کی جانب سے پاکستان کے خودمختار قرضوں کی درجہ بندی میں یہ مقتدر بہتری اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان کی معاشی بنیادیں بتدریج مضبوط ہو رہی ہیں اور عالمی مالیاتی ادارے اور سرمایہ کار ملک کے معاشی امکانات کو زیادہ مثبت اور تزویراتی انداز میں دیکھ رہے ہیں۔ یہ عالمی رپورٹ ایک ایسے مقتدر وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان معاشی استحکام، مالیاتی اصلاحات اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مختلف اہم اقدامات پر سختی سے عمل پیرا ہے اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں ملک کی ساکھ میں بتدریج بہترین بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔

امریکا ایران مذاکرات تعطل کا شکار: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مذاکرات فوری ختم کرنے کی دھمکی، آبنائے ہرمز میں جہازوں سے ٹول ٹیکس کی وصولی پر تنازع شدت اختیار کر گیا

محمود احمد june 24,2026

واشنگٹن/اسلام آباد (بین الاقوامی امور ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

امریکا اور ایران کے درمیان جاری تزویراتی امن مذاکرات ایک بار پھر شدید خطرات سے دوچار ہو گئے ہیں، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مذاکراتی عمل فوری طور پر یکطرفہ ختم کرنے کی کھلی دھمکی دے دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری ایک مقتدر بیان میں انکشاف کیا ہے کہ ایران نے باقاعدہ طور پر امریکا کو مقتدر یقین دہانی کرائی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بین الاقوامی تجارتی جہازوں سے نہ تو کوئی ٹول ٹیکس لیا جا رہا ہے اور نہ ہی ان سے کسی قسم کی انشورنس فیس وصول کی جا رہی ہے۔

امریکی صدر نے ایران کو سخت ترین الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر تہران کی جانب سے فراہم کردہ یہ معلومات اور تردید بعد میں غلط ثابت ہوئیں، تو امریکا اور ایران کے درمیان جاری تمام تر مذاکرات کو بغیر کسی تاخیر کے فوری طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مقتدر بیان میں مزید کہا کہ ایران کے بعض منجمد مالیاتی فنڈز اس وقت مکمل طور پر امریکی کنٹرول میں ہیں، اور ان فنڈز کو امریکی کسانوں کو ادائیگیاں کرنے کے لیے استعمال میں لایا جائے گا۔ ان کے مطابق ایران ان منجمد فنڈز کے ذریعے صرف امریکا سے ہی مکئی، گندم، سویابین اور دیگر مقتدر غذائی اجناس خریدنے کا مجاز ہو سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت ایران کو خوراک کی شدید ترین ضرورت ہے اور یہ تزویراتی خریداری صرف اور صرف امریکا سے ہی کی جائے گی۔

دوسری جانب، امریکی صدر کے اس دھمکی آمیز بیان اور دباؤ کے ہتھکنڈوں پر ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کا بھی ایک انتہائی اہم اور مقتدر ردِعمل سامنے آیا ہے، جس نے مذاکراتی عمل کے جاری رہنے کے حوالے سے تہران کے پختہ عزم کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی چیف مذاکرات کار نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کسی بیرونی طاقت کے زور پر نہیں، بلکہ ایران کے مضبوط تزویراتی مؤقف اور عوامی مزاحمت کے نتیجے میں ہی وجود میں آئی ہے۔

محمد باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ ایران نے انتہائی مشکل اور کٹھن حالات کے باوجود اپنے تمام تر قومی مفادات کا بھرپور دفاع کیا ہے اور پورے مذاکراتی عمل کے دوران اپنی مقتدر خودمختاری اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق، یہی سب سے بڑی وجہ ہے کہ یہ معاہدہ درحقیقت امریکا کی تسلط پسندانہ پالیسیوں کی ناکامی اور ایران کی عظیم سفارتی کامیابی کی ایک روشن علامت بن چکا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں پائیدار امن اور حقیقی استحکام کسی بھی بیرونی طاقت کی مداخلت کے ذریعے ہرگز ممکن نہیں ہے، بلکہ یہ صرف اور صرف خطے کے تمام ممالک کے باہمی تعاون اور مشترکہ کوششوں سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ علاقائی سلامتی اور استحکام کی مقتدر ذمہ داری خود خطے کے ممالک کو اپنے ہاتھوں میں سنبھالنی چاہیے۔

افغان رجیم کی اندرونی صفوں میں بڑی دراڑ: امیرِ طالبان کا اپنے ہی کمانڈر جمعہ خان فاتح کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کا حکم، بدخشاں میں خانہ جنگی کا خطرہ

محمود احمد june 24,2026

کابل (بین الاقوامی امور ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

افغان طالبان رجیم کی اندرونی صفوں میں ایک بہت بڑی اور مقتدر دراڑ پیدا ہو گئی ہے، جہاں امیرِ طالبان نے اپنے ہی ایک بااثر مقامی کمانڈر کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کا باقاعدہ حکم جاری کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق افغانستان کے صوبہ بدخشاں کے انتہائی قیمتی معدنیاتی وسائل پر قبضے کی اندرونی جنگ نے اب ایک سنگین عسکری و سیاسی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے، اور افغان طالبان کی مرکزی قیادت اور مقامی تاجک کمانڈر جمعہ خان فاتح کے درمیان معدنیات کی تقسیم کے مقتدر معاملے پر اختلافات پچھلے چند دنوں میں حد سے زیادہ شدت اختیار کر گئے ہیں۔ اس سنگین صورتحال کے بعد طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ نے مقامی کمانڈر جمعہ خان فاتح کو باقاعدہ طور پر باغی قرار دے کر ان کے خلاف فوری اور سخت ترین فوجی کارروائی کا مقتدر حکم دے دیا ہے۔

افغان میڈیا کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، افغان طالبان کی اسپیشل فورسز کا ایک بہت بڑا اور مقتدر قافلہ جمعہ خان فاتح کو زندہ یا مردہ گرفتار کرنے کے لیے بدخشاں کے دور افتادہ ضلع شغنان کی طرف تیز رفتاری سے روانہ ہو چکا ہے۔ کمانڈر جمعہ خان فاتح کی گرفتاری کے اس مقتدر مشن کے لیے ہمویز گاڑیوں اور بھاری ٹرکوں سمیت پچاس عسکری گاڑیوں پر مشتمل طالبان رجیم کا ایک انتہائی مسلح اور بھاری دستہ متحرک کیا گیا ہے۔ دوسری جانب افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ اس سخت فوجی کارروائی کے ردِعمل میں کمانڈر جمعہ خان فاتح نے بھی اپنے تمام مقامی افراد اور حامیوں کو طالبان رجیم کے خلاف فوری طور پر ہتھیار اٹھانے اور علاقے کی قیمتی کانوں کا کنٹرول مکمل طور پر اپنے ہاتھوں میں لینے کا مقتدر حکم دے دیا ہے۔

حساس اداروں کی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق، جمعہ خان فاتح نے کابل کی طالبان رجیم کے خلاف باقاعدہ اور منظم عسکری کارروائیوں کی تزویراتی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے، اور وہ یہ مقتدر دعویٰ بھی کر چکے ہیں کہ طالبان رجیم کے خلاف مزاحمت کے لیے ان کے پاس صوبہ بدخشاں میں دس ہزار اور ضلع نسی میں پچیس سو سے زائد تجربہ کار جنگجو بالکل تیار بیٹھے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں اور مبصرین کے مطابق، افغانستان کے ان ناراض اور بااثر کمانڈروں کی جانب سے کی جانے والی یہ عسکری مزاحمت دراصل طالبان رجیم کے نظریاتی خاتمے اور اندرونی گرفت کمزور ہونے کی شروعات ہے، جو مستقبل قریب میں پورے ملک کو ایک بار پھر شدید اور خونریز خانہ جنگی کی ہولناک دلدل میں دھکیل دے گی۔ بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغان رجیم کی جابرانہ پالیسیوں اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف بڑھتی ہوئی یہ عسکری بغاوتیں مرکزی کمانڈ کے کھوکھلے ہونے اور گہرے داخلی انتشار کا واضح ثبوت ہیں۔

آئی سی سی کی نئی رینکنگ جاری: ٹیسٹ بیٹرز میں بابر اعظم ایک درجہ تنزلی کے بعد 20ویں نمبر پر چلے گئے، جو روٹ دوبارہ نمبر ون بن گئے

محمود احمد june 24,2026

لاہور ( نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے کھلاڑیوں کی تازہ ترین عالمی رینکنگ جاری کر دی ہے، جس کے تحت ٹیسٹ فارمیٹ میں انگلینڈ کے اسٹار بیٹر جو روٹ دو درجے مقتدر بہتری کے ساتھ ایک بار پھر دنیا کے نمبر ون ٹیسٹ بیٹر بن گئے ہیں۔ ان کی اس ترقی کے نتیجے میں انگلینڈ کے ہی ہیری بروک ایک درجہ تنزلی کے بعد دوسرے اور آسٹریلیا کے ٹریوس ہیڈ بھی ایک درجہ پیچھے ہٹ کر تیسرے نمبر پر براجمان ہو گئے ہیں۔

پاکستانی بیٹرز کے لیے تازہ رینکنگ مایوس کن رہی جہاں قومی ٹیم کے مقتدر بلے باز محمد رضوان اور بابر اعظم ایک ایک درجہ تنزلی کا شکار ہو کر بالترتیب 19 ویں اور 20 ویں نمبر پر چلے گئے ہیں، البتہ سعود شکیل نے دو درجے ترقی پا کر 22 ویں پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ نیوزی لینڈ کے بیٹرز کے لیے یہ رینکنگ شاندار ثابت ہوئی؛ راچن رویندرا دو درجے ترقی کے ساتھ دسویں، ڈیرل مچل پانچ درجے چھلانگ لگا کر 16 ویں، گلین فلپس 8 درجے بہتری کے بعد 31 ویں اور ہنری نکولس 13 درجے کی طوفانی ترقی کے ساتھ 40 ویں نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔

🏏 ٹیسٹ بولرز اور آل راؤنڈرز رینکنگ

ٹیسٹ بولنگ کی دنیا میں ایک بڑا تلاطم دیکھا گیا ہے جہاں نیوزی لینڈ کے فاسٹ بولر میٹ ہنری 6 درجے کی مقتدر ترقی کے ساتھ دنیا کے نمبر ون ٹیسٹ بولر بن گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت کے جسپریت بمرا (جو نومبر 2024ء سے نمبر ون پوزیشن پر قابض تھے) اور میٹ ہنری کے رینکنگ پوائنٹس 870 پر بالکل برابر ہو چکے ہیں۔ ٹیسٹ آل راؤنڈرز میں بھارت کے رویندرا جڈیجا کی پہلی پوزیشن بدستور مقتدر اور برقرار ہے۔

📊 ون ڈے (ODI) رینکنگ کی صورتحال

ون ڈے فارمیٹ کی بات کی جائے تو بیٹرز میں نیوزی لینڈ کے ڈیرل مچل کی پہلی پوزیشن برقرار ہے، جبکہ بھارت کے شبمن گل تین درجے مقتدر بہتری کے ساتھ دوسرے نمبر پر پہنچ گئے ہیں، جس کے باعث ویرات کوہلی ایک درجہ تنزلی کے بعد تیسرے نمبر پر چلے گئے ہیں۔ اس فارمیٹ میں پاکستان کے بابر اعظم کی بدستور چھٹی پوزیشن برقرار ہے۔

ون ڈے بولرز: افغانستان کے لیگ اسپنر راشد خان کی پہلی پوزیشن قائم ہے۔ پاکستان کے مسٹری اسپنر ابرار احمد دوسری اور فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نویں پوزیشن پر مضبوطی سے برقرار ہیں۔ بھارت کے ارش دیپ سنگھ 16 درجے کی شاندار بہتری کے ساتھ 22 ویں اور بنگلادیش کے مستفیض الرحمٰن 23 ویں نمبر پر آ گئے ہیں۔
ون ڈے آل راؤنڈرز: افغانستان کے عظمت اللہ عمرزئی پہلے اور زمبابوے کے سکندر رضا دوسرے نمبر پر برقرار ہیں، جبکہ بنگلادیش کے مہدی حسن میراز ایک درجہ ترقی کے بعد تیسری مقتدر پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

19 جولائی کو نیو جرسی کے میٹ لائف اسٹیڈیم میں ہونے والے فائنل میں فیفا صدر جیانی انفانٹینو اور صدر ٹرمپ ایک ساتھ میچ دیکھیں گے؛ مصروفیات کے باعث اب تک کسی میچ میں شرکت نہ کر سکے، وائٹ ہاؤس ٹاسک فورس کا بیان

محمود احمد june 24,2026

واشنگٹن (کھیلوں کی دنیا/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

فٹبال کی عالمی گورننگ باڈی (فیفا) کے صدر جیانی انفانٹینو نے ایک مقتدر اور سنسنی خیز اعلان کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فیفا ورلڈ کپ 2026ء کے فائنل میچ میں خصوصی طور پر شرکت کریں گے اور چیمپیئن بننے والی فاتح ٹیم کو اپنے ہاتھوں سے فٹبال کی دنیا کی سب سے مقتدر اور قیمتی ٹرافی پیش کریں گے۔ عالمی اسپورٹس میڈیا کے مطابق، فٹبال ورلڈ کپ 2026ء کا فائنل معرکہ 19 جولائی کو نیو جرسی کے تاریخی ‘میٹ لائف اسٹیڈیم’ میں کھیلا جائے گا، جس پر اس وقت پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق، تاریخ کا یہ سب سے بڑا ورلڈ کپ 11 جون سے امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں کامیابی سے جاری ہے، جس میں مجموعی طور پر 104 میچز کھیلے جا رہے ہیں اور ان میں سے 78 میچز کی میزبانی تنہا امریکا کے حصے میں آئی ہے۔ اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی گوناگوں تزویراتی اور سیاسی مصروفیات کے باعث اب تک ٹورنامنٹ کا کوئی بھی ابتدائی میچ دیکھنے اسٹیڈیم نہیں پہنچ سکے، تاہم فیفا کے سربراہ جیانی انفانٹینو نے اپنے حالیہ انٹرویو میں مقتدر یقین دہانی کروائی ہے کہ امریکی صدر فائنل کے تاریخی موقع پر اسٹیڈیم میں موجود ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اور صدر ٹرمپ نہ صرف مل کر اس فائنل معرکے سے لطف اندوز ہوں گے بلکہ اختتامی تقریب کو چار چاند بھی لگائیں گے۔

دوسری جانب، وائٹ ہاؤس کی ورلڈ کپ ٹاسک فورس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اینڈریو جیولیانی نے میڈیا کو بتایا کہ صدر ٹرمپ اپنی شدید مصروفیات کے باوجود کھیلوں کے تمام بڑے عالمی ایونٹس میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور وہ اس فائنل کو یادگار بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ کھیلوں کے تجزیہ کاروں نے یاد دلایا کہ گزشتہ برس کلب ورلڈ کپ کی ٹرافی تقسیم کرنے کے دوران بھی صدر ٹرمپ اپنی منفرد باڈی لینگویج اور اسٹیج پر موجودگی کے باعث عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے تھے جس پر بعض بین الاقوامی کھلاڑی حیران بھی دکھائی دیے تھے۔ اب فٹبال کے سب سے بڑے اور میگا مقابلے کے فائنل میں ان کی شرکت ایک بار پھر کھیلوں کی دنیا اور عالمی سفارت کاری میں ایک نئی بحث کا آغاز کر سکتی ہے۔

تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی خصوصی شرکت؛ اعزاز ایرانی صدر کی صحتِ عامہ، طبی تحقیق اور جراحی کے شعبے میں گراں قدر خدمات کے اعتراف میں دیا گیا

روزینہ اسماعیل.june 23,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

پاکستان کے مقتدر ترین طبی ادارے ‘کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز آف پاکستان’ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کو ان کی صحتِ عامہ، طبی تعلیم کی ترویج، کارڈیالوجی کے شعبے میں جدید تحقیق اور انسانیت کے لیے مخلصانہ و انتھک خدمات کے اعتراف میں شعبہ جراحیِ قلب (کارڈیوتھوراسک سرجری) میں اپنی سب سے اعلیٰ ‘اعزازی فیلو شپ’ تفویض کر دی ہے۔

منگل کے روز وفاقی دارالحکومت میں منعقدہ اس پروقار اور مقتدر تقریب میں وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خصوصی طور پر شرکت کی اور ایرانی صدر کو اس تاریخی اعزاز سے نوازے جانے کے لمحات کا مشاہدہ کیا۔ واضح رہے کہ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان بذاتِ خود طب کی دنیا میں ایک معتبر نام اور ہارٹ سرجری کے مایہ ناز ماہر سرجن ہیں، جن کی علمی و عملی خدمات کو دنیا بھر میں مقتدر مانا جاتا ہے۔

طبی و سفارتی ماہرین کے مطابق، پاکستان کی جانب سے ایرانی صدر کو اس اعلیٰ ترین اعزازی فیلو شپ کی تفویض سے پاکستان اور ایران کے مابین برادرانہ تعلقات میں ایک نئے سائنسی و طبی باب کا اضافہ ہوا ہے۔ اس مقتدر اقدام سے دونوں ممالک کے میڈیکل کالجز، جامعات اور طبی اداروں کے مابین اعلیٰ تعلیم کے فروغ، ادارہ جاتی سطح پر تعلیمی و تحقیقی تبادلوں، جدید کلینیکل ریسرچ، اور فیکلٹی سمیت ممتحنین کے باہمی تبادلوں کو زبردست تزویراتی تقویت ملے گی، جو مستقبل میں دونوں برادر ممالک کے ہیلتھ کیئر سسٹمز کو مزید مربوط بنانے میں اہم ترین سنگِ میل ثابت ہوگی۔

پاکستان اور ایران مشترکہ ترقی کے لیے پرعزم، مختلف شعبوں میں تعاون مزید مضبوط ہوگا: وزیراعظم

کاشف عباسی ,june 23,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے دورہِ پاکستان پر آئے ہوئے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے ساتھ وفود کی سطح پر ہونے والی ایک انتہائی اہم اور مقتدر ملاقات کے دوران واضح کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق کوئی بات شامل نہیں ہے اور نہ ہی یہ نکتہ کبھی ایجنڈے کا حصہ رہا ہے۔ وزیراعظم نے دوٹوک انداز میں کہا کہ بیلسٹک میزائل کے حوالے سے دنیا میں کوئی دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے؛ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ دنیا کے دیگر ممالک کے پاس تو بیلسٹک میزائل ہوں اور ایران کو اس حق سے محروم رکھا جائے، اس مقتدر نکتے پر عالمی سطح پر کسی قسم کا ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کچھ شرپسند عناصر خطے میں جنگ کے شعلوں کو بجھنے نہیں دینا چاہتے اور وہ اس تاریخی امن عمل کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں۔

اس اعلیٰ سطحی تزویراتی ملاقات میں پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر (چیف آف آرمی اسٹاف) بھی شریک تھے۔ اپنے مقتدر ابتدائی کلمات میں وزیراعظم شہباز شریف نے امریکہ اور ایران کے مابین اس تاریخی ثالثی کے لیے پاکستان پر بھرپور اعتماد کرنے پر ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی اخوت کو کبھی جوابدہ نہیں ہونا پڑتا، ہم ایران کو کبھی مایوس نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کی ویژنری قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا جن کے زیرِ اثر ایران نے انتہائی وقار اور عزت کے ساتھ جنگ بندی کے اس مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔ وزیراعظم نے حالیہ کشیدگی کے دوران معصوم جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم نے ہمیشہ کی طرح اس مشکل صورتحال کا سامنا بھی انتہائی جرات، بہادری اور ہمت سے کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کے انتھک اور تزویراتی کردار کو مقتدر الفاظ میں سراہتے ہوئے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے ہماری مشترکہ کوششوں کے باعث آج یہ کامیابی ممکن ہوئی ہے۔ انہوں نے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ہونے والے تکنیکی سطح کے طویل مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی کاوشوں کو بھی لاجواب قرار دیا۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے خطے میں امن کے قیام کے لیے تعاون فراہم کرنے پر برادر دوست ممالک بالخصوص سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور مصر کی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے عزم دہرایا کہ پاکستان اور ایران ہمیشہ کے لیے دوست اور بھائی ہیں جن کی خوشیاں اور غم سانجھے ہیں، اور دونوں ممالک صدر مسعود پزشکیان کی قیادت میں اقتصادی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور تعمیرِ نو سمیت تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کر کے مشترکہ ترقی کے ایک نئے مقتدر دور کا آغاز کریں گے۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط اور جنگ بندی پر صدر زرداری کی مبارکباد؛ یکطرفہ اقدامات کی مخالفت، مکالمے اور مسلم امہ کے اتحاد کے تحفظ کے لیے پاکستان کے اصولی عزم کا اعادہ

کاشف عباسی ,june 23,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے اسلامی جمہوریہ ایران کے نومنتخب صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے منگل کے روز ایوانِ صدر میں ایک انتہائی اہم، مقتدر اور اعلیٰ سطحی ملاقات کی ہے۔ حالیہ عالمی و علاقائی تنازعے کے خاتمے کے بعد صدر پزشکیان کا یہ پہلا سرکاری دورہِ پاکستان ہے، جس کا ایوانِ صدر میں پرتپاک خیرمقدم کیا گیا۔ اس مقتدر ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے مابین دیرینہ برادرانہ و تاریخی تعلقات، علاقائی امن و سلامتی کی بدلتی صورتحال، اقتصادی تعاون کے فروغ اور باہمی دلچسپی کے تمام تزویراتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں ایران کی جانب سے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی، صدر کے دفتر کے سربراہ محسن حاجی میرزائی، وزیر داخلہ سکندر مومنی، سیاسی امور کے سربراہ سعید عباس موسوی اور پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم شامل تھے۔ دوسری جانب پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی و سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی، وزیر مملکت طلال چوہدری، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم حسین نے کی۔ ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق، صدر آصف علی زرداری نے سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی تاریخی پیش رفت اور ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر دستخط ہونے پر صدر پزشکیان کو مقتدر الفاظ میں مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ جاری تکنیکی مذاکرات خطے میں مستقل امن کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔

صدر آصف علی زرداری نے ایران کے امن، استحکام، قومی اتحاد، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل اور اصولی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کرتا رہا ہے اور عالمی چیلنجز کے پائیدار حل کے لیے صرف مکالمے اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے مسلم امہ کے اتحاد اور خلیجی ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات برقرار رکھنے کے عزم کو دہرایا۔ صدر زرداری نے ایران کی مقتدر قیادت (آیت اللہ علی حسینی خامنہ ای) کی شہادت پر ایک بار پھر گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان کی تدفین میں مقتدر سطح پر شرکت کرے گا۔ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے امن، جنگ بندی اور عالمی سطح پر مکالمے کے فروغ کے لیے پاکستان کے انتہائی مثبت، تعمیری اور مخلصانہ کردار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا اور حالیہ معاشی و سفارتی چیلنجز میں پاکستان کی جانب سے فراہم کی جانے والی مضبوط حمایت کا شکریہ ادا کیا۔ ملاقات کے اختتام پر صدر زرداری نے ایرانی صدر کے ذریعے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے لیے اپنی نیک تمنائیں اور گرمجوش سلام بھی پہنچایا۔

عالمی سفارت کاری میں بڑی پیش رفت: ایران اپنے جوہری پروگرام کے مکمل جائزے پر رضامند، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

محمود احمد june 23,2026

واشنگٹن (بین الاقوامی امور ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک تزویراتی بیان میں مقتدر دعویٰ کیا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے مکمل اور جامع جائزے پر باقاعدہ رضامند ہو گیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام کے اس تفصیلی جائزے پر تیار نہ ہوتا تو تہران کے ساتھ مستقبل میں مزید کوئی مذاکرات ممکن نہ ہوتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے دی جانے والی اسی اہم یقین دہانی اور دیگر مقتدر رعایتوں کی بنیاد پر وہ اب آبنائے ہرمز کو دوبارہ تجارتی آمد و رفت کے لیے کھولنے کی اجازت دینے پر تیار ہوئے ہیں، جس کے بعد اب وہاں کوئی بحری ناکہ بندی برقرار نہیں رہے گی۔

امریکی صدر نے اپنی تزویراتی حکمتِ عملی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ خطے میں تمام امریکی جنگی جہاز بدستور اپنی پوزیشنز پر موجود رہیں گے تاکہ اگر مستقبل میں ناکہ بندی کی بحالی کی ضرورت پیش آئے تو فوری کارروائی کی جا سکے، تاہم موجودہ صورتحال میں دوبارہ ناکہ بندی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ صدر ٹرمپ نے منجمد اثاثوں کی بحالی کے حوالے سے مقتدر انکشاف کیا کہ امریکا کی جانب سے واگزار کیے جانے والے ایران کے منجمد فنڈز صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غذائی اجناس اور ادویات کی خریداری کے لیے ہی استعمال کیے جا سکیں گے، اور یہ خریداری لازمی طور پر صرف امریکا سے ہی کی جائے گی جس میں امریکا کے عظیم کسانوں سے مکئی، گندم اور سویابین کی درآمد شامل ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کو اس وقت ان غذائی اجناس کی اشد ضرورت تھی کیونکہ وہاں ایک انسانی بحران جنم لے رہا تھا، اور انہوں نے محسوس کیا کہ اس سے پہلے کہ بہت تاخیر ہو جائے، تہران کی یہ مدد کرنا ضروری تھا۔ انہوں نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات انتہائی مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ امریکی صدر نے معاشی اشاریوں پر بات کرتے ہوئے ایک اور مقتدر بیان میں بتایا کہ آبنائے ہرمز سے گزشتہ روز 19 ملین بیرل تیل کی ریکارڈ سپلائی لائن بحال ہوئی ہے جو کہ اب تک کا سب سے بڑا حجم ہے، جس کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مسلسل کم ہو رہی ہیں اور اب یہ دنیا پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ ہو چکی ہے۔

مذہبی ہم آہنگی کی مثال: غازی کوٹ میں 7 محرم الحرام کا مرکزی جلوس پُرامن طور پر اختتام پذیر

مانسہرہ (علاقائی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

غازی کوٹ مانسہرہ میں 7 محرم الحرام کا مرکزی ماتمی جلوس انتہائی سخت اور فول پروف سیکیورٹی انتظامات کے سائے میں اپنے روایتی و مقررہ راستوں سے گزرتا ہوا علی مسجد پہنچ کر پُرامن طور پر اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ ایامِ عزا کے دوران امن و امان کی مجموعی صورتحال کو برقرار رکھنے اور عزاداروں کے تحفظ کے لیے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے سیکیورٹی کے غیر معمولی اور ٹھوس اقدامات کیے گئے تھے۔

مقتدر سیکیورٹی پلان کے تحت جلوس کی گزرگاہوں اور امام بارگاہوں پر ساڑھے تین سو سے زائد پولیس افسران اور جوانوں کو فرنٹ لائن پر تعینات کیا گیا تھا، جبکہ ان کی معاونت کے لیے ایلیٹ فورس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ، اسپیشل برانچ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے حساس اداروں کے دستوں نے بھی اپنے تزویراتی فرائض انتہائی تندہی سے سرانجام دیے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) مانسہرہ محمد اظہر خان نے جلوس کے باقاعدہ آغاز سے قبل ہی غازی کوٹ کے تمام حساس مقامات، جلوس کے روٹس اور امام بارگاہوں کا تفصیلی دورہ کر کے حفاظتی انتظامات کا خود جائزہ لیا اور فیلڈ فورس کو ہائی الرٹ رہنے کے احکامات جاری کیے۔

حفاظتی حکمتِ عملی کے مطابق، جلوس کے تمام داخلی اور خارجی راستوں کو خاردار تاریں لگا کر سیل کیا گیا تھا اور عزاداروں کی آمد کے لیے واک تھرو گیٹس نصب کیے گئے تھے، جہاں میٹل ڈیٹیکٹرز کے ذریعے جامع تلاشی کا عمل یقینی بنایا گیا۔ اس کے علاوہ، جلوس کی نقل و حرکت کی ڈیجیٹل نگرانی کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں کا مربوط نظام فعال رہا، جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ اور سراغ رساں کتوں کی مدد سے جلوس کے راستوں کی پہلے سے مکمل اسکیننگ اور کلیئرنس کی گئی تاکہ کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعے کا سدِباب کیا جا سکے۔ جلوس کے کامیاب اور پُرامن انعقاد پر ڈی پی او محمد اظہر خان نے پولیس فورس، سیکیورٹی اداروں، جلوس کے منتظمین اور عزاداروں کے مابین بہترین باہمی تعاون کو سراہتے ہوئے عزم دہرایا کہ محرم الحرام کے بقیہ ایام خصوصاً یومِ عاشور پر بھی سیکیورٹی کے اسی مقتدر معیار کو برقرار رکھا جائے گا تاکہ شہری پرسکون ماحول میں اپنے مذہبی فرائض ادا کر سکیں۔

پاک ایران تعلقات میں اہم پیش رفت: جنرل سید عاصم منیر کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مقتدر ملاقات، خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

کاشف عباسی ,june 23,2026

راولپنڈی (سفارتی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ایک انتہائی اہم اور مقتدر ملاقات کی ہے۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران مجموعی علاقائی صورتحال، امن کے پائیدار فروغ، سیکیورٹی چیلنجز اور خطے میں پائیدار استحکام سے متعلق تزویراتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کے مشترکہ ہدف کے حصول کے لیے دوطرفہ برادرانہ تعاون کو مزید وسعت دینے پر مکمل اتفاق کیا۔

پاک فوج کے ترجمان کے مطابق، ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے خطے میں مکالمے کے آغاز، کشیدگی میں نمایاں کمی اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری، مخلصانہ اور ذمہ دارانہ کردار کو مقتدر الفاظ میں سراہا۔ ایرانی صدر نے علاقائی تنازعات کے پرامن حل اور مختلف عالمی و علاقائی فریقوں کے درمیان مفاہمت کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کی مسلسل اور کامیاب سفارتی کوششوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاک ایران مضبوط تعلقات پورے خطے کے امن و امان اور معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔

مقتدر ملاقات کے دوران آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل اور اصولی عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان دیرینہ دوطرفہ، دفاعی اور سفارتی تعلقات کو مشترکہ مفادات کے تحت مزید مضبوط بنانے اور باہمی دلچسپی کے تمام امور پر مستقبل میں بھی قریبی تزویراتی مشاورت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ ‘نیوز اینڈ نیوز’ کے عسکری ذرائع کے مطابق، اس اہم ملاقات سے دونوں برادر اسلامی ممالک کے مابین سرحدی سیکیورٹی اور علاقائی مفاہمت کے عمل کو مزید تقویت ملے گی۔

روحانیت اور کھیل کا حسین امتزاج: فیفا ورلڈکپ میں میچ سے قبل مصری فٹبال ٹیم کی قرآنی سورتیں پڑھنے کی ایمان افروز ویڈیو وائرل

محمود احمد june 23,2026

سیاٹل (کھیلوں کے امور ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں جاری فیفا ورلڈکپ کے سنسنی خیز اور تاریخی مقابلوں کے دوران جہاں میدان میں فٹبال کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے، وہاں مسلم کھلاڑیوں اور ٹیموں کی جانب سے خوبصورت اسلامی شعائر کی عکاسی بھی دنیا بھر کے شائقینِ کھیل کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ اڑتالیس ٹیموں پر مشتمل اس سب سے بڑے ورلڈکپ کی منفرد بات یہ ہے کہ اس میں چودہ مسلم ممالک کی ٹیمیں ایک ساتھ ایکشن میں دکھائی دے رہی ہیں۔

چند روز قبل ہسپانوی فٹبال ٹیم کے نوجوان مسلم اسٹار لامین یمال کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف شاندار گول اسکور کرنے کے بعد میدان میں سجدہِ شکر ادا کرنے کی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر دھوم مچائی تھی۔ اب مصر کی قومی فٹبال ٹیم کی ایک اور انتہائی خوبصورت اور ایمان افروز ویڈیو وائرل ہو کر سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے، جس نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل جیت لیے ہیں۔ مصر کی ٹیم کے کھلاڑی نیوزی لینڈ کے خلاف اپنے انتہائی اہم اور فیصلہ کن مقابلے سے قبل ڈریسنگ روم میں قرآن پاک کی تلاوت اور کامیابی کے لیے گڑگڑا کر اجتماعی دعا کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

موبائل فون سے بنائی گئی اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹیم کے تمام ارکان نہایت عقیدت، یکسوئی اور خشوع و خضوع کے ساتھ کلامِ الٰہی کی تلاوت سن رہے ہیں اور میدانِ عمل میں اترنے سے قبل اپنے رب کے حضور کامیابی کے لیے دستِ دعا بلند کیے ہوئے ہیں۔ اس خوبصورت اور مقتدر منظر کو دنیا بھر کے شائقین کی جانب سے بے حد سراہا جا رہا ہے اور صارفین اسے کھیل اور روحانیت کے دلفریب امتزاج کی ایک بہترین مثال قرار دے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر مداحوں کا کہنا ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے کھیل کے میدان میں اترنے سے پہلے اللہ پر کامل بھروسہ کرنا اور اس سے نصرت مانگنا ایک انتہائی مثبت اور روشن پیغام ہے، جو دنیا بھر میں اسلام کے پُرامن تشخص کو اجاگر کر رہا ہے۔

ایتھوپیا کے ساتویں عام انتخابات: برسراقتدار ‘پراسپرٹی پارٹی’ کی تاریخی اور کلین سویپ کامیابی، قومی اسمبلی کی 438 نشستیں جیت لیں

منصور احمد june 23,2026

ادیس ابابا (بین الاقوامی امور ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

ایتھوپیا کے قومی الیکشن بورڈ نے ملک کے ساتویں عام انتخابات کے حتمی اور سرکاری نتائج کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت وزیرِ اعظم ابی احمد کی برسراقتدار ‘پراسپرٹی پارٹی’ نے ملک بھر میں زمین بوس کر دینے والی تاریخی اور کلین سویپ کامیابی حاصل کر لی ہے۔ دارالحکومت ادیس ابابا میں میڈیا کو آفیشل نتائج پر بریفنگ دینے کے لیے منعقدہ ایک مقتدر تقریب کے دوران انتخابی حکام نے بتایا کہ یہ انتخابات ایتھوپیا کے جمہوری سفر میں ایک عظیم اور یادگار سنگِ میل ثابت ہوئے ہیں جس میں 5 کروڑ 40 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز نے حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

آفیشل الیکشن کمیشن کے مقتدر ریکارڈ کے مطابق، پراسپرٹی پارٹی نے ایوانِ نمائندگان (ہاؤس آف پیپلز ریپریزنٹیٹوز) کی کل 486 ہدف شدہ نشستوں میں سے 438 پر بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے، جس نے ایتھوپیا کے مروجہ آئین کے تحت پارٹی کو نئی وفاقی حکومت بنانے کا ایک زبردست اور واضح مینڈٹ فراہم کر دیا ہے۔ پراسپرٹی پارٹی کی علاقائی نشستوں کی تزویراتی تقسیم کے مطابق، پارٹی نے اورومیا سے 167، امہارا سے 117، جنوبی ایتھوپیا سے 35، وسطی ایتھوپیا سے 28، ادیس ابابا سے 20، صومالی ریجن سے 19، جنوب مغربی ایتھوپیا سے 17، سیداما سے 13، بینشانگول گوموز سے 8، افار سے 7، گمبیلا سے 3 جبکہ ڈائر داوا اور حراری سے 2، 2 نشستیں حاصل کیں۔ دوسری جانب، اپوزیشن اور آزاد امیدواروں بشمول ایتھوپین یونٹی پارٹی، افار پیپلز پارٹی، گوموز پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی، نیشنل موومنٹ آف امہارا اور نیو جنریشن پارٹی نے مجموعی طور پر بقیہ 48 پارلیمانی نشستیں سمیٹیں۔

پراسپرٹی پارٹی نے وفاق کے ساتھ ساتھ علاقائی کونسلوں (صوبائی اسمبلیوں) کے انتخابات میں بھی ملک گیر اور غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے۔ تزویراتی ڈیٹا کے مطابق، پراسپرٹی پارٹی نے اورومیا کونسل کی 528 میں سے 523 نشستیں، امہارا کی 277 میں سے 257، صومالی ریجن کی 252 میں سے 214، جنوبی ایتھوپیا کی 182، گمبیلا کی 176، سیداما کی 175، ڈائر داوا کی 161، بینشانگول گوموز کی 145، جنوب مغربی ایتھوپیا کی 144، وسطی ایتھوپیا کی 143، ادیس ابابا کی 134، افار کی 124 اور حراری کی 32 نشستیں اپنے نام کیں۔ یہ تاریخی انتخابی معرکہ حال ہی میں ملک بھر کے 1,139 انتخابی حلقوں میں لڑا گیا، جن میں 501 حلقے قومی اسمبلی اور 638 حلقے علاقائی کونسلوں کے لیے مختص تھے۔ افریقی یونین ($AU$) اور آئی جی اے ڈی سمیت تمام مقتدر بین الاقوامی مبصرین کے مشنز نے انتخابی عمل کو مکمل پرامن، منصفانہ اور شفاف قرار دیتے ہوئے اس کی توثیق کی ہے۔

اقوامِ متحدہ میں نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون کا سلامتی کونسل میں خطاب؛ فوجی برتری کے بجائے یوکرین بحران کے منصفانہ اور پُرامن سفارتی تصفیے پر زور

محمود احمد june 23,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (سفارتی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

پاکستان نے یوکرین میں طویل عرصے سے جاری خونریز تنازع کے مسلسل پھیلاؤ پر شدید اور گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور باہمی سفارت کاری کی بحالی پر زور دیا ہے۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اس پیچیدہ عالمی بحران کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کا واحد قابلِ عمل راستہ صرف اور صرف بامعنی بات چیت اور مخلصانہ سفارتی کوششیں ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے یوکرین کی نازک صورتحال پر منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے گہرے افسوس کا اظہار کیا کہ تنازع کے حل کی جانب تاحال کوئی مثبت پیش رفت دیکھنے میں نہیں آ رہی، جبکہ مسلسل فوجی حملوں کے باعث نہ صرف جنگ میں ہولناک شدت آ رہی ہے بلکہ معصوم شہریوں کا انسانی بحران بھی روز بروز سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ جنگ کے دائرۂ کار میں مسلسل توسیع سے سویلین آبادی کی مشکلات میں ناقابلِ تلافی اضافہ ہوا ہے اور شہری بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے اس تزویراتی نقطے پر زور دیا کہ تمام متحارب فریق بین الاقوامی قانون، بالخصوص بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کریں۔ انہوں نے شہریوں اور شہری تنصیبات کے تحفظ کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، نہ کہ فوجی برتری کے حصول کی یکطرفہ کوششوں سے۔ انہوں نے فریقین کے مابین اعتماد سازی کے اقدامات اور بامعنی مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس ضمن میں انہوں نے پاکستان کے اس مقتدر مطالبے کا اعادہ کیا کہ فوری اور مکمل جنگ بندی کی جائے اور امریکہ کی سہولت کاری میں جاری تزویراتی مذاکراتی عمل کو فوری دوبارہ شروع کیا جائے۔ ‘نیوز اینڈ نیوز’ کے مطابق، انہوں نے اعادہ کیا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں اور تمام فریقوں کے جائز سلامتی مفادات کے مطابق پُرامن تصفیہ ہی اس تنازع کا واحد اور دیرپا حل ہے، اور پاکستان اس منصفانہ حل کے لیے تمام عالمی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

عالمی فورم پر پاکستان کا شام کے لیے مضبوط موقف: شامی قیادت میں سیاسی منتقلی کے عمل اور علاقائی سالمیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ

محمود احمد june 22,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (سفارتی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

پاکستان نے برادر اسلامی ملک شام میں ہونے والی حالیہ مثبت پیش رفت اور استحکام کی کوششوں کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے، وہاں جاری سیاسی منتقلی کے عمل اور بین الاقوامی برادری میں شام کے دوبارہ انضمام کے لیے اپنی غیر متزلزل سفارتی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کی انسانی و سیاسی صورتحال پر ہونے والے اہم بریفنگ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ حالیہ رپورٹس ملک کے پُرامن مستقبل اور تزویراتی بحالی کے حوالے سے ایک امید افزا رجحان کی عکاسی کرتی ہیں۔

پاکستانی مندوب نے اپنے خطاب کے دوران اسرائیل کی جانب سے شام کی جغرافیائی خود مختاری کی مسلسل اور سنگین خلاف ورزیوں، بشمول غیر قانونی فوجی دراندازیوں، من مانی گرفتاریوں اور شامی املاک و ذرائع معاش کی تباہی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے مقبوضہ شامی جولان میں اسرائیل کے نئے پانچ سالہ آباد کاری توسیعی منصوبے کو بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے یکسر منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ انہوں نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو فوری طور پر ایسے تمام یکطرفہ اقدامات سے روکا جائے اور وہ 1974ء کے مروجہ معاہدۂ علیحدگی کی مکمل پاسداری کرے۔ سفیر عاصم افتخار نے ایک پیچیدہ علاقائی ماحول کے باوجود دانشمندی کے ساتھ قومی ترجیحات، بحالی اور تعمیرِ نو پر فوکس رکھنے پر موجودہ شامی قیادت کو زبردست الفاظ میں سراہا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے شام اور اقوامِ متحدہ کے درمیان بڑھتے ہوئے مقتدر تعاون کا خیرمقدم کیا اور شمال مشرقی شام میں مقامی انتظامی ڈھانچوں کے قومی اداروں میں تدریجی انضمام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات پورے ملک میں ریاستی عملداری کی بحالی اور قومی یکجہتی کے لیے سنگ میل ثابت ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ شامی عوام کی مرضی اور قیادت میں آگے بڑھنے والا سیاسی منتقلی کا عمل ہی خطے میں پائیدار امن کی بہترین ضمانت ہے۔ سلامتی کے چیلنجز پر بات کرتے ہوئے انہوں نے متنبہ کیا کہ داعش اور غیر ملکی دہشت گرد جنگجوؤں کے خطرات تاحال موجود ہیں، جس کے لیے انسدادِ دہشت گردی کی مسلسل کوششیں ناگزیر ہیں۔ ‘نیوز اینڈ نیوز’ کے مطابق، پاکستانی مندوب نے شام کی ابتر انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ شام کی معاشی بحالی کے لیے مالی وسائل کی کمی کو فوری پورا کرے، جبکہ انہوں نے شامی عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا عزم دہرایا۔

امریکا ایران مذاکرات میں فیلڈ مارشل کا کلیدی کردار، دیگر شخصیات کو کریڈٹ دینے کی ضرورت نہیں: ہمایوں مہمند

کاشف عباسی ,june 22,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے تاریخ ساز امن بریک تھرو پر ملک کے سیاسی اور حکومتی حلقوں میں تزویراتی بحث تیز ہو گئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مقتدر رہنما اور سینیٹر ہمایوں مہمند نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں کامیابی کے پیچھے بنیادی، کلیدی اور فیصلہ کن کردار صرف اور صرف چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا تھا، اس لیے اس عظیم سفارتی کامیابی کا کریڈٹ کسی اور سیاسی شخصیت کو دینے کی قطعی ضرورت نہیں۔

نجی ٹی وی کے مقتدر ٹاک شو میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر ہمایوں مہمند کا کہنا تھا کہ خود امریکی نائب صدر جے ڈی وینس عالمی میڈیا کے سامنے اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ اس انتہائی پیچیدہ مذاکراتی عمل میں فیلڈ مارشل عاصم منیر شروع دن سے واشنگٹن کے ساتھ کھڑے رہے اور انہوں نے ہی اسے ممکن بنایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آرمی چیف کی ان انتھک اور کامیاب سفارتی کوششوں کو کسی بھی سیاسی مہرے کے کھاتے میں ڈالنا مناسب نہیں۔ سینیٹر ہمایوں مہمند نے ایران پر عائد عالمی پابندیوں میں ممکنہ نرمی یا خاتمے کے پاکستان پر اثرات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس پیش رفت سے پاکستان کو معاشی طور پر براہِ راست اور زبردست فائدہ پہنچے گا، جس سے پاک-ایران گیس پائپ لائن اور پیٹرولیم مصنوعات کی سستی درآمد کے امکانات روشن ہوں گے اور ملکی توانائی بحران پر ہمیشہ کے لیے قابو پایا جا سکے گا۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو ان منصوبوں میں شفافیت کو مقدم رکھنا ہو گا۔

دوسری جانب، وفاقی وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے بھی پروگرام میں حکومت کا تزویراتی مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے مابین یہ کامیاب مذاکرات پاکستان کے لیے نئے معاشی، سفارتی اور تزویراتی مواقع کا دروازہ کھول رہے ہیں۔ بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ تہران پر پابندیوں میں متوقع نرمی کے نتیجے میں پاک-ایران گیس پائپ لائن منصوبے، بجلی کی فراہمی اور دوطرفہ تجارت میں حائل تمام قانونی رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس مقتدر سفارتی موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران کے ساتھ اپنے معاشی اور تجارتی روابط کو فوری طور پر نئی بلندیوں پر لے جانا چاہیے تاکہ ملکی معیشت کو پائیدار استحکام حاصل ہو سکے۔ ‘نیوز اینڈ نیوز’ کے سیاسی مبصرین کے مطابق، اگرچہ کریڈٹ لینے کی جنگ جاری ہے، تاہم تمام سیاسی و عسکری مہرے اس بات پر مکمل متفق ہیں کہ خطے میں کشیدگی کا خاتمہ پاکستان کی خوشحالی کا ضامن ہے۔

سفارت کاری کا بڑا معرکہ: الحمد للہ، پاکستان کو ایک بڑی تزویراتی کامیابی حاصل ہوئی ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر؛ امریکہ اور ایران کے درمیان 60 روز میں حتمی امن معاہدے کے روڈ میپ پر اتفاق

کاشف عباسی ,june 22,2026

راولپنڈی (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی مذاکراتی عمل میں ہونے والی بریک تھرو اور مثبت پیش رفت پر اپنا مقتدر ردِعمل دیتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ “الحمد للہ پاکستان کو ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے، اور یہ تاریخی کامیابی اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم اور مخلصانہ کوششوں سے ممکن ہوئی۔” فیلڈ مارشل کا یہ مقتدر بیان سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ کے تحت ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکراتی اجلاس کے انتہائی کامیاب اختتام اور مشترکہ اعلامیے کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں علاقائی سلامتی اور عالمی امن کے حوالے سے طویل عرصے بعد بڑی تزویراتی پیش رفت ہوئی ہے۔

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے بھی برگن اسٹاک میں مذاکرات کے پہلے مرحلے کی شاندار کامیابی پر گہرے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی تاریخ کا ایک عظیم اور تاریخی سنگِ میل قرار دیا ہے۔ اپنے خصوصی بیان میں وزیرِ اعظم پاکستان نے بتایا کہ یہ مقتدر مذاکرات انتہائی خوشگوار، مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئے، جن کے منطقی نتیجے میں دونوں روایتی حریف فریقین (واشنگٹن اور تہران) نے آئندہ 60 دنوں کے اندر ایک حتمی اور جامع امن معاہدے تک پہنچنے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر باقاعدہ اتفاق کر لیا ہے۔ وزیرِ اعظم کے مطابق، اس تاریخی امن عمل کی باقاعدہ نگرانی اور تیز رفتار پیش رفت کے لیے ایک اعلیٰ سطحی مشترکہ مقتدر کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے، جبکہ تکنیکی اور تزویراتی سطح کے ذیلی مذاکرات بھی جلد شروع کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے امریکی اور ایرانی قیادت کے تعمیری و لچکدار رویے کو سراہتے ہوئے اس عمل میں معاونت کرنے والے تمام دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس موقع پر پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی پسِ پردہ غیر معمولی کاوشوں کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کی انتھک محنت، فولادی عزم اور مسلسل پسِ پردہ سفارتی رابطوں نے ہی اس ناممکن نظر آنے والی عالمی پیش رفت کو ممکن بنایا ہے۔ وزیرِ اعظم نے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزارتِ خارجہ کی مقتدر ٹیم اور وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی شبانہ روز خدمات کو بھی دل کھول کر سراہا۔ انہوں نے برادر ملک قطر اور میزبان ملک سوئٹزرلینڈ کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا جنہوں نے مذاکرات کے لیے سازگار ماحول اور تکنیکی سہولیات فراہم کیں۔ عالمی سیاسی اور سفارتی حلقوں کے مطابق، اس تاریخ ساز کامیابی نے عالمی سطح پر پاکستان کی خارجہ پالیسی اور عسکری و سیاسی قیادت کے تزویراتی وقار کو معراج بخش دی ہے، اور دنیا اب تنازعات کے حل کے لیے پاکستان کو ایک ناگزیر مصالحت کار کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

الجزائر کے خلاف ہیٹ ٹرک سے جرمن لیجنڈ میروسلاو کلوزے کے 16 گولز کا ریکارڈ برابر؛ آسٹریا کے خلاف گروپ جے کے مقتدر میچ میں دنیا بھر کی نظریں میسی پر فوکس

محمود احمد june 22,2026

ڈلاس (اسپورٹس رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء فیفا ورلڈ کپ 2026ء

کے مقتدر میدانوں میں فٹ بال کی دنیا کے بے تاج بادشاہ اور دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی ایک ایسا تاریخی سنگِ میل عبور کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں جو فٹ بال کی تاریخ کا سب سے بڑا عالمی ریکارڈ قرار دیا جا رہا ہے۔ آسٹریا کے خلاف گروپ جے کے ہونے والے انتہائی اہم تزویراتی میچ میں میسی کی تیکھی نظریں اب فیفا ورلڈ کپ کی پوری تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے کے الیون الہی ریکارڈ پر مرکوز ہو چکی ہیں۔

سالہ لیونل میسی نے رواں ورلڈ کپ کے اپنے پہلے ہی مقتدر گروپ میچ میں الجزائر کے خلاف جادوئی کھیل پیش کرتے ہوئے شاندار ہیٹ ٹرک اسکور کی تھی، جس کے بعد انہوں نے جرمنی کے سابق مقتدر اسٹرائیکر میروسلاو کلوزے کے ورلڈ کپ تاریخ میں سب سے زیادہ 16 گولز کرنے کے دیرینہ ریکارڈ کی برابری کر لی تھی۔ اب دنیائے فٹ بال کا یہ مایہ ناز کھلاڑی ورلڈ کپ تاریخ کا سب سے کامیاب گول اسکورر بننے سے صرف اور صرف ایک گول کی دوری پر کھڑا ہے۔ اگرچہ لیونل میسی حالیہ دنوں میں ہیمسٹرنگ انجری اور اپنے والد کی شدید علالت کے باعث گہرے ذہنی و جسمانی دباؤ کا شکار رہے ہیں، تاہم اس کے باوجود ان کا فیلڈ مارشل ڈسپلن اور میدان میں قائدانہ موجودگی ارجنٹائن کی مقتدر ٹیم کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ارجنٹائن کے اسٹار مڈفیلڈر الیکسس میک ایلسٹر نے بھی پریس کانفرنس میں اعتراف کیا ہے کہ میسی کا گراؤنڈ میں ہونا ہی پوری ٹیم کے عزم اور اعتماد کو آسمان پر پہنچا دیتا ہے۔

سفارتی اور تکنیکی تجزیوں کے مطابق، آسٹریا کے خلاف یہ معرکہ ارجنٹائن کو اگلے ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ دلانے کے لیے فائنل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر ارجنٹائن یہ میچ مقتدر انداز میں جیت لیتا ہے اور دوسری جانب الجزائر اپنے میچ میں ناکام رہتا ہے تو ارجنٹائن گروپ جے میں پہلی پوزیشن کو باقاعدہ یقینی بنا لے گا۔ ڈلاس اسٹیڈیم سمیت دنیا بھر کے فٹ بال شائقین کی تمام تر نظریں اب لیونل میسی پر لگی ہوئی ہیں، جو نہ صرف اپنی ٹیم کو اگلے ٹائٹل دفاع کی طرف لے جانے کے لیے کوشاں ہیں بلکہ فٹ بال کی تاریخ کا ایک نیا اور ان مٹ باب رقم کرنے کے بالکل قریب ہیں۔ ‘نیوز اینڈ نیوز’ اسپورٹس ڈیسک کے مطابق، اگلا ایک گول میسی کے کیریئر کو لافانی بنا دے گا۔

افغان طالبان رجیم کا جھوٹ ایک بار پھر بے نقاب، کابل میں دہشت گردوں کی مبینہ وی آئی پی میزبانی کے دعوے سامنے آگئے

محمود احمد june 22,2026

کابل/اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

افغان طالبان حکومت کی جانب سے سرحد پار کارروائیاں کرنے والے دہشت گرد گروہوں کو اپنی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں اور مقتدر مراعات دینے سے متعلق الزامات اور حقائق ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کرنے والی تازہ ترین تصاویر و شواہد کے بعد یہ چونکا دینے والا دعویٰ سامنے آیا ہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایک انتہائی معروف فائیو اسٹار ہوٹل میں پاکستان کو مطلوب کالعدم شدت پسند گروپس سے وابستہ ہائی پروفائل افراد کی کھلی موجودگی دیکھی گئی ہے۔

تزویراتی ذرائع کے مطابق، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان دستاویزی تصاویر میں بعض ایسے مسلح اور بااثر افراد کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے جن کے بارے میں مصدقہ طور پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد سنگین وارداتوں میں ملوث ‘حافظ گل بہادر گروپ’ سے وابستہ ہیں۔ تصاویر کے حوالے سے جیو پولیٹیکل ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کابل کے سب سے مقتدر اور معروف ‘انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل’ کے اندر کی ہیں، جہاں مبینہ طور پر یہ شدت پسند کمانڈرز نہ صرف سرکاری مہمانوں کی طرح قیام پذیر تھے بلکہ ہوٹل کے مختلف حصوں میں بلا خوف و خطر گھومتے پائے گئے۔ بعض بین الاقوامی رپورٹس میں یہ ہولناک دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ان مقتدر دہشت گردوں کو افغان انٹیلی جنس کی جانب سے خصوصی پروٹوکول، مالی سہولیات اور سخت وی آئی پی سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔

دفاعی اور قومی سلامتی کے مقتدر ماہرین کا کہنا ہے کہ کابل کے دل میں دہشت گرد کمانڈرز کی اس سطح پر موجودگی افغانستان میں موجود تخریب کار عناصر اور افغان حکومت کے اعلیٰ مہروں کے درمیان گہرے روابط کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق، ایسے اقدامات دوطرفہ تعلقات اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کو شدید ترین نقصان پہنچانے کا باعث بن رہے ہیں۔ اگرچہ افغان طالبان حکومت ماضی میں روایتی طور پر یہ دعویٰ کرتی آئی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گی، تاہم ان تازہ ترین تصاویر کے منظرِ عام پر آنے کے بعد کابل کا یہ مؤقف دنیا بھر میں بری طرح بے نقاب ہو گیا ہے۔ علاقائی امور کے ماہرین نے زور دیا ہے کہ سرحد پار سیکیورٹی چیلنجز اور دہشت گردی کے اس منظم نیٹ ورک سے نمٹنے کے لیے افغان حکومت کو اب زبانی جمع خرچ کے بجائے ٹھوس، شفاف اور ذمہ دارانہ اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔