پاک چین اقتصادی شراکت داری میں تاریخی سنگِ میل: چینی سرمایہ کاری سے قائم کمپنی ‘سروس لانگ مارچ ٹائرز’ کی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پہلی لسٹنگ، نجی شعبے کی تاریخ کا سب سے بڑا آئی پی او

کاشف عباسی ,june 28,026۔

اسلام آباد (اقتصادی و تجارتی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

پاکستان اور چین کے درمیان کیپیٹل مارکیٹ تعاون میں ایک تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت دونوں برادر ممالک کی کیپیٹل مارکیٹس میں براہِ راست روابط بڑھنے سے دوطرفہ معاشی و تزویراتی شراکت داری مزید مضبوط اور پائیدار بنیادوں پر استوار ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں پاک-چین مشترکہ ٹائر کمپنی “سروس لانگ مارچ ٹائرز” نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اپنی تاریخی لسٹنگ کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جسے ملکی مالیاتی تاریخ میں ایک مقتدر موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

سروس لانگ مارچ ٹائرز دراصل پاکستان کے معروف ’’سروسز گروپ‘‘ اور چین کی مقتدر ’’چاؤیانگ لانگ مارچ ٹائر کمپنی‘‘ کا ایک مشترکہ تزویراتی منصوبہ ہے۔ یہ پاکستان کی مالیاتی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ چینی سرمایہ کاری اور اشتراک سے قائم کسی صنعتی کمپنی نے پاکستانی اسٹاک مارکیٹ میں اپنی باقاعدہ عوامی لسٹنگ کی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان مالیاتی اور کارپوریٹ تعاون میں ایک مقتدر سنگِ میل ہے۔ کمپنی نے اس پبلک لسٹنگ کے ذریعے مارکیٹ سے ریکارڈ 28 ملین امریکی ڈالر حاصل کیے ہیں، جو پاکستان کے نجی شعبے کی تاریخ کا سب سے بڑا انیشل پبلک آفرنگ ثابت ہوا ہے۔ اس بھاری کثیر الجہتی سرمایہ کاری سے ملک میں مقامی سطح پر ٹائر سازی کی صنعتی صلاحیت میں گراں قدر اضافہ ہوگا، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ بچانے اور درآمدات پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ ملکی برآمدات کو بھی بھرپور فروغ حاصل ہوگا۔

اس مقتدر تزویراتی کامیابی کے بعد دونوں ممالک کی مالیاتی انتظامیہ نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ کیپیٹل مارکیٹ کے دائرہ کار کو مزید وسعت دیں گے۔ اس سلسلے میں پاکستان اور چین ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز کی بنیاد پر مارکیٹ انفراسٹرکچر کو جدید بنانے اور مشترکہ سرمایہ کاری کی نئی مصنوعات، بالخصوص “اسلامی فنانس” کے شعبے میں تعاون کو مقتدر خطوط پر آگے بڑھائیں گے۔ معاشی ماہرین اور تجارتی حلقوں نے اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اس نوعیت کی لسٹنگ دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور مالیاتی تعاون کے روشن مستقبل کی عکاس ہے، جو آنے والے دنوں میں مزید چینی کمپنیوں کو پاکستانی مارکیٹ کا رخ کرنے کی مقتدر ترغیب دے گی۔

عالمی فورم پر پاکستان کا اہم موقف: سوڈان میں شہریوں پر حملوں کی شدید مذمت، شہریوں کے فوری تحفظ اور سوڈانی قیادت میں سیاسی عمل پر زور

محمود احمد june 27,2026

اقوامِ متحدہ/نیویارک (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 27 جون 2026ء

پاکستان نے سوڈان میں جاری شدید خانہ جنگی پر عالمی فورم پر اپنا واضح تزویراتی موقف پیش کرتے ہوئے ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے نہتے شہریوں اور شہری تنصیبات پر کیے جانے والے حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور بڑے پیمانے پر انسانی مظالم کے فوری خطرے سے خبردار کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں سوڈان کی صورتحال پر منعقدہ اہم اجلاس سے پاکستان کا مقتدر قومی بیان دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے بگڑتی ہوئی سلامتی اور مقتدر انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تین برس سے زائد عرصے سے جاری اس بھیانک تنازعے کا سب سے زیادہ خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اسکولوں، ہسپتالوں، بازاروں اور عبادت گاہوں جیسی شہری زندگی کے لیے ناگزیر تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خاص طور پر “الابیض” کی صورتحال کو انتہائی نازک قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز کی بڑی تعداد میں عسکری کمک، زمینی حملے کے خدشات، اور دارفور سمیت سوڈان کے دیگر علاقوں میں اندھا دھند قتل، نسلی بنیادوں پر تشدد، جنسی جرائم اور جبری نقل مکانی جیسے سنگین مظالم کا ریکارڈ شدید تشویش کا باعث ہے، جو بڑے پیمانے پر انسانی المیے کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے آر ایس ایف پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر الابیض پر حملے بند کرے، بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری کرے اور ڈرونز و جدید ہتھیاروں کا استعمال روکے جس سے شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے پورے سوڈان میں ضرورت مند افراد تک محفوظ اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ امدادی کارکنوں اور سامان پر حملے کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے اصرار کیا کہ سوڈان کی خودمختاری، وحدت، علاقائی سالمیت اور قومی اداروں کا تحفظ ہر صورت ناگزیر ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل اور بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ ایسے کسی بھی اقدام یا بیان سے گریز کریں جو سوڈان کے قومی اداروں کو کمزور کرے یا متوازی عسکری یا سیاسی ڈھانچوں کے قیام کی راہ ہموار کرے، کیونکہ ایسے اقدامات سے مسلح گروہوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور تنازع طول پکڑے گا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ سوڈان کے تنازعے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں اور چونکہ سوڈان کے امن و استحکام کا افریقی اور عرب خطوں کی سلامتی سے گہرا تعلق ہے، اس لیے یہاں استحکام کی بحالی عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ذاتی نمائندے کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے عزم دہرایا کہ پاکستان سوڈان کو دوبارہ آئینی نظام کی جانب واپس لانے کے لیے اقوامِ متحدہ، افریقی یونین، عرب لیگ اور دیگر علاقائی شراکت داروں کی مقتدر کوششوں کی اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

صرف تشدد کا خاتمہ پائیدار امن کی ضمانت نہیں ہوتا، پائیدار امن باہر سے مسلط نہیں کیا جا سکتا بلکہ اسے مقامی قیادت کی سربراہی میں ہی تعمیر کرنا ہوتا ہے، اقوامِ متحدہ کے امن سازی کمیشن کے سالانہ اجلاس میں سفیر عثمان جدون کا کثیرالجہتی عزم اور پاکستان کا قومی بیان،

محمود احمد june 26,2026

اقوامِ متحدہ/نیویارک (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

پاکستان نے عالمی سطح پر امن و امان کے قیام کے لیے اپنا تزویراتی موقف پیش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دنیا بھر میں تنازعات کی روک تھام، امن قائم کرنا، امن برقرار رکھنا، امن سازی اور معاشی و سماجی ترقی ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں بلکہ پائیدار امن اور خوشحالی کے لیے ایک جامع اور باہم مربوط عمل کے لازمی اجزاء ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے امن سازی کمیشن کے بیسویں سالانہ اجلاس، جس کا مقتدر موضوع “امن سازی @20: جدت، شمولیت اور مؤثر نتائج کے لیے شراکت داریاں” تھا، میں پاکستان کا مقتدر قومی بیان پیش کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے بین الاقوامی مندوبین کو بتایا کہ عالمی تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ صرف تشدد کا خاتمہ ہی مستقل اور پائیدار امن کی ضمانت نہیں ہوتا۔

نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے تنازعات کے بعد کی مقتدر صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امن اسی وقت دیرپا اور مستحکم ثابت ہو سکتا ہے جب متعلقہ معاشرے اس کے عملی اور معاشی ثمرات خود محسوس کریں، جب ریاستی اداروں پر عام عوام کا اعتماد بحال ہو، سماجی اعتماد فروغ پائے، روزگار اور ترقی کے مواقع میں اضافہ ہو اور لوگوں کی روزمرہ زندگی میں مثبت تبدیلی نمایاں طور پر نظر آئے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ پائیدار امن کے لیے مضبوط ریاستی اداروں، سماجی ہم آہنگی، تزویراتی اقتصادی مواقع اور بحالی کے ایک ایسے جامع عمل کی ضرورت ہے جس کی قیادت اور مکمل ملکیت خود متعلقہ ممالک اور وہاں کے مقامی شراکت داروں کے پاس ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ پائیدار امن کبھی بھی باہر سے مسلط نہیں کیا جا سکتا بلکہ اسے قومی قیادت کی سربراہی میں، بین الاقوامی برادری کے بھرپور تزویراتی تعاون کے ساتھ ہی تعمیر کرنا ہوتا ہے۔

سفیر عثمان جدون نے پاکستان کی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو امن سازی کے عمل کی بنیاد بننے والے کثیرالجہتی عزم کو درپیش بڑھتے ہوئے چیلنجز، خصوصاً مالی وسائل کی کمی اور معیاری و اصولی فریم ورک سے متعلق مسائل پر گہری تشویش ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے پیس بلڈنگ فنڈ کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ فنڈ سیاسی عزم کو زمینی سطح پر عملی نتائج میں تبدیل کرنے کا ایک نہایت اہم اور مقتدر ذریعہ ہے۔ اس فنڈ کی لچک، محرک کردار اور قومی ترجیحات کے مطابق فوری ردعمل کی صلاحیت اسے امن سازی کے وسیع تر بین الاقوامی ڈھانچے کا ایک ناگزیر جزو بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سن کر انتہائی حوصلہ افزائی ہوئی ہے کہ امن سازی کمیشن اور پیس بلڈنگ فنڈ سے مستفید ہونے والے ممالک نے خود گواہی دی ہے کہ اس فنڈ کی معاونت سے قائم شراکت داریوں نے مقامی آبادی کے لیے کس طرح مثبت اور بامعنی نتائج فراہم کیے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اپنے قیام کے بیس برس مکمل ہونے پر امن سازی کے اس نئے ڈھانچے کو اس بات پر نئے اعتماد کو فروغ دینا چاہیے کہ کثیرالجہتی تعاون آج کے دور میں بھی پائیدار امن کے حصول کا مؤثر ترین ذریعہ ہے۔

پاکستانی خواتین کے لیے تاریخی اعزاز: سلیمہ امتیاز ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں امپائرنگ کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون بن گئیں، اب تک 4 عالمی میچوں میں ذمہ داریاں نبھا چکیں

محمود احمد june 26,2026

اسلام آباد (کھیل رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

پاکستان کی مقتدر اور نامور امپائر سلیمہ امتیاز نے عالمی کرکٹ کی تاریخ میں ایک اور سنہری سنگِ میل عبور کرتے ہوئے آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں امپائرنگ کے فرائض سرانجام دینے والی پہلی پاکستانی خاتون ہونے کا تاریخی اعزاز اپنے نام کر لیا ہے۔ انگلینڈ کی سرزمین پر جاری ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے مقتدر مقابلوں کے دوران سلیمہ امتیاز اپنی شاندار پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بدولت اب تک چار ہائی پروفائل میچوں میں مختلف اہم ذمہ داریاں انتہائی کامیابی سے نبھا چکی ہیں، جس میں دو میچوں میں بطور آن فیلڈ امپائر، ایک میچ میں ٹیلی ویژن (تھرڈ) امپائر اور ایک مقابلے میں فورتھ امپائر کے مقتدر فرائض شامل ہیں۔

ورلڈ کپ کے اس بڑے تزویراتی اسٹیج پر ان کی بہترین کارکردگی کے باعث آئی سی سی نے ان کی آئندہ کی مقتدر ذمہ داریوں کا شیڈول بھی جاری کر دیا ہے۔ سلیمہ امتیاز ہفتہ کے روز لندن کے تاریخی اوول گراؤنڈ میں میزبان انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان ہونے والے سنسنی خیز میچ میں بطور ٹیلی ویژن امپائر اپنے فرائض ادا کریں گی، جبکہ اتوار کے روز دنیا کے معروف ترین لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں روایتی حریفوں بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے جانے والے ہائی وولٹیج مقابلے میں فورتھ امپائر کی مقتدر کرسی سنبھالیں گی۔ واضح رہے کہ سلیمہ امتیاز ستمبر 2024ء میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے مقتدر انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ پینل میں شامل ہونے والی بھی پہلی پاکستانی خاتون بنی تھیں، جسے پاکستان میں خواتین کرکٹ آفیشلز کے لیے اب تک کا سب سے بڑا تزویراتی سنگِ میل تصور کیا جاتا ہے۔

اس تاریخی اور مقتدر کامیابی پر میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سلیمہ امتیاز نے کہا کہ آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیسے بڑے عالمی ایونٹ میں بطور امپائر ڈیبیو کرنا ان کی ذات اور پورے پاکستان کے لیے ایک انتہائی بلند اور یادگار اعزاز ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کا یہ مقتدر سفر پاکستان کی دیگر باصلاحیت خواتین اور نوجوان لڑکیوں کے لیے مشعلِ راہ بنے گا اور انہیں کھیل کے مختلف شعبوں بالخصوص امپائرنگ اور آفیشلز کی حیثیت سے عالمی سطح پر آگے بڑھنے کی بھرپور ترغیب دے گا۔ پاکستان کے مقتدر کرکٹ حلقوں، سابق کھلاڑیوں اور شائقینِ کرکٹ نے سلیمہ امتیاز کی اس بین الاقوامی کامیابی کو پاکستان کے لیے باعثِ فخر قرار دیتے ہوئے اسے عالمی کھیلوں کے افق پر پاکستانی خواتین کی بڑھتی ہوئی مقتدر نمائندگی کا ایک نہایت مثبت اور شاندار مظہر قرار دیا ہے۔

پاک روس میڈیا روابط میں تاریخی پیش رفت: روسی سرکاری میڈیا گروپ ‘روسیا سیگودنیا’ کا اسلام آباد میں کثیر المقاصد ادارتی مرکز قائم کرنے پر غور، اردو سوشل میڈیا پلیٹ فارم بھی جلد شروع کیا جائے گا

محمود احمد june 26,2026

اسلام آباد (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

روسی حکومت کی ملکیت اور زیرِ انتظام کام کرنے والے دنیا کے بڑے میڈیا گروپس میں سے ایک، “روسیا سیگودنیا” نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک جدید اور کثیر المقاصد ادارتی مرکز قائم کرنے اور پاکستان بھر میں اپنے نامہ نگاروں کا ایک وسیع نیٹ ورک تشکیل دینے پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔ میڈیا گروپ کی 85 ویں سالگرہ کے مقتدر موقع پر روسیا سیگودنیا کے ڈائریکٹر جنرل دمتری کیسلیوف نے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کو ایک خصوصی اور تفصیلی انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ادارہ پاکستان میں اپنی موجودگی بڑھانے کے لیے بہت جلد اردو زبان میں ایک جامع سوشل میڈیا پلیٹ فارم بھی شروع کرنے جا رہا ہے۔ اس نئی میڈیا کوریج کے دوران بین الاقوامی امور کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ہونے والی اندرونی پیش رفت اور اہم ترین ترقیاتی منصوبوں کو خصوصی فوکس کیا جائے گا۔

ڈائریکٹر جنرل دمتری کیسلیوف نے اپنے انٹرویو میں پاکستان کو ایک انتہائی اہم اور مقتدر شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ادارہ پاکستانی میڈیا اداروں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے مابین معلومات کے براہِ راست تبادلے کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم کی ضرورت پر زور دیا اور اس سلسلے میں “ماسکو-اسلام آباد میڈیا فورم” کا حوالہ دیا، جس میں دونوں ممالک کے سینئر حکام، سفارت کاروں اور پالیسی ماہرین نے شرکت کی تھی۔ انہوں نے اے پی پی، دی نیشن اور پاکستان آبزرور کے ساتھ گزشتہ سال اسلام آباد میں دستخط کی گئی مفاہمتی یادداشتوں اور پاکستان میں روسی نیوز ایجنسی “آر آئی اے نووستی” کے مستقل نمائندے کی موجودگی کو دوطرفہ صحافت کے لیے ایک مقتدر سنگِ میل قرار دیا۔ مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے انہوں نے خبروں کے مواد کے براہِ راست تبادلے، نیوز رومز تک باہمی رسائی، مشترکہ میڈیا فورمز، ماہرین کی کانفرنسوں اور دونوں ممالک کے صحافیوں کے لیے پریس دوروں کی تجویز پیش کی تاکہ اقتصادی، سائنسی اور ثقافتی شعبوں میں تفہیم کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

روسی میڈیا گروپ کے بین الاقوامی آپریشنز پر روشنی ڈالتے ہوئے دمتری کیسلیوف نے بتایا کہ روسیا سیگودنیا اپنے دو بڑے عالمی برانڈز “آر آئی اے نووستی” اور “سپوتنک” کے ذریعے درجنوں ممالک میں کام کر رہا ہے، جہاں سپوتنک 34 مختلف زبانوں میں خبریں، ریڈیو اور ملٹی میڈیا خدمات فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ میں ان کے سامعین میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور ان کا نیٹ ورک 100 سے زائد ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل نے واضح کیا کہ خبروں کی مقتدر پیداوار کے ساتھ ساتھ ان کا ادارہ عالمی سطح پر پھیلائی جانے والی غلط معلومات اور “ڈیپ فیکس” جیسے ہیرا پھیری پر مبنی مواد کا مؤثر جواب دینے پر خصوصی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے تاکہ سامعین کے ساتھ اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔ انہوں نے حال ہی میں اٹلی، ایتھوپیا، بیجنگ اور بیروت میں کیے گئے توسیعی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب ان کی نظریں جنوبی ایشیا کی پھیلتی ہوئی مارکیٹ پر ہیں۔

انٹرویو کے آخر میں ڈائریکٹر جنرل نے پیشہ ورانہ تربیت کے بین الاقوامی پروگرام “سپوتنک پرو” کا تذکرہ کیا، جو 2018ء سے صحافیوں اور میڈیا طلباء کو جدید ورکشاپس فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی طلباء پہلے ہی اس پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں جبکہ حال ہی میں اے پی پی کے ایک صحافی نے ماسکو میں چار ہفتوں کا تربیتی ماڈیول مکمل کیا ہے۔ دمتری کیسلیوف نے جنوبی ایشیا کی اقتصادی اور آبادیاتی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ روس اور اس خطے کے درمیان تجارت، تعلیم اور ثقافت کے فروغ کے لیے کثیر لسانی صحافت ناگزیر ہے۔ انہوں نے خصوصی طور پر اردو، پنجابی، پشتو اور بنگالی جیسی علاقائی زبانوں میں نشریات کے آغاز کو ادارے کی اہم ترین ترجیح قرار دیا، جس سے پاک روس تعلقات میں ایک نیا اور مقتدر باب روشن ہوگا۔

زلزلے کی تباہ کاریوں کے بعد چین کا وینزویلا کے لیے ہنگامی انسانی امداد کا اعلان: وزارتِ خارجہ اور ریڈ کراس کی جانب سے الگ الگ فنڈز اور امداد فراہم کی جائے گی

محمود احمد june 26,2026

بیجنگ/اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

چین نے لاطینی امریکی ملک وینزویلا میں آنے والے حالیہ تباہ کن زلزلوں کے بعد انسانی ہمدردی کی بنیاد پر متاثرہ افراد کے لیے ہنگامی انسانی امداد فراہم کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ جمعہ کے روز بیجنگ میں معمول کی پریس بریفنگ کے دوران چینی وزارتِ خارجہ کے مقتدر ترجمان، گوو جیاکن نے اس اہم فیصلے کی تفصیلات شیئر کیں۔ ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ چینی حکومت اور ریڈ کراس سوسائٹی آف چائنا الگ الگ اور آزادانہ بنیادوں پر وینزویلا کے زلزلہ زدگان کی امداد اور بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر نقد اور مقتدر تکنیکی و انسانی امداد فراہم کریں گے۔

واضح رہے کہ بدھ کے روز وینزویلا میں آنے والے دو پے در پے طاقتور زلزلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جس کے نتیجے میں اب تک کم از کم 235 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ عمارتیں گرنے کی وجہ سے سینکڑوں افراد تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ شدید متاثرہ علاقوں میں مقامی اور بین الاقوامی امدادی ٹیمیں ملبے کو ہٹانے اور زندگیاں بچانے کے لیے دن رات مقتدر ریسکیو کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ چینی ترجمان کا کہنا تھا کہ اس مشکل گھڑی میں بیجنگ حکومت اور چینی عوام وینزویلا کے ساتھ کھڑے ہیں اور یہ ہنگامی امداد وہاں زمینی سطح پر جاری امدادی کاموں کو تیز کرنے اور متاثرین کی فوری مقتدر تلافی میں معاون ثابت ہوگی۔

عالمِ اسلام میں ابھرتے ہوئے اتحاد کا سہرا پاکستان کے تزویراتی کردار کو جاتا ہے، وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف

منصور احمد june 26,2026

سیالکوٹ (سیاسی و قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے مسلم امہ کے مابین بڑھتے ہوئے روابط پر اہم تزویراتی موقف اپنائے ہوئے کہا ہے کہ ایران امریکا جنگ اور حالیہ کشیدگی میں پاکستان نے جو کلیدی کردار ادا کیا ہے وہ تاریخ کے سنہری حروف میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، اور آج عالمِ اسلام میں ابھرتے ہوئے اس بے مثال اتحاد کا سہرا پاکستان کے سر جاتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اڈا پسروریاں میں میڈیا کے مقتدر نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے عاشورۂ محرم کے موقع پر سیالکوٹ کے مرکزی ماتمی جلوس میں شرکت کی اور جلوس کی قیادت سنبھالی۔ انہوں نے بیری والا چوک میں واقع مستری عبداللہ امام بارگاہ میں منعقدہ مجلسِ عزا میں بھی شرکت کی، جبکہ صوبائی وزیر محنت و افرادی قوت محمد منشاء اللہ بٹ بھی ان کے ہمراہ فیلڈ میں موجود تھے۔

اڈ ا پسروریاں میں میڈیا سے مقتدر گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ اس سال محرم الحرام ایک ایسے نازک وقت میں آیا ہے جب پورا خطہ حالیہ جنگ کے سنگین اثرات سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے ایرانی قوم کی غیر متزلزل استقامت کو زبردست سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سنتِ حسینی اور شہدائے کربلا کی ثابت قدمی کی یاد تازہ کر دی ہے۔ خواجہ آصف نے واضح کیا کہ عاشورۂ محرم کے موقع پر آج عالمِ اسلام کا جو تزویراتی اتحاد دیکھنے میں آ رہا ہے، اس کی مثال گزشتہ صدیوں میں بہت کم ملتی ہے اور اس مقتدر کامیابی کا سہرا پاکستان کے عزم و استقلال اور ایرانی عوام کی بے مثال ثابت قدمی کو جاتا ہے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ فلسطینیوں، ایرانیوں اور لبنانیوں کی لازوال قربانیاں رنگ لا رہی ہیں اور وہ وقت اب دور نہیں جب فلسطین ایک خود مختار اور آزاد ریاست بنے گا اور لبنان کے عوام بھی اسرائیلی ظلم و ستم سے ہمیشہ کے لیے نجات حاصل کر لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام گزشتہ اڑھائی سے تین برس سے جس قربانی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، وہ بھی درحقیقت کربلا کی ہی یاد تازہ کرتی ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ مسلم ممالک کا یہ اتحاد دائمی صورت اختیار کرے اور پوری امتِ مسلمہ ایک پرچم تلے متحد ہو جائے۔

اس مقتدر موقع پر ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) دوست محمد نے وفاق اور صوبے کے وزراء کو ضلع بھر میں محرم الحرام کے دوران کیے گئے امن و امان، ٹریفک، صفائی اور دیگر بلدیاتی انتظامات پر تفصیلی اور مقتدر بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی نے بریفنگ میں بتایا کہ 10 محرم الحرام کو ضلع بھر سے 87 ماتمی جلوس برآمد ہو رہے ہیں جن کے لیے رواں سال مثالی انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تمام جلوسوں اور مجالس کی مانیٹرنگ کے لیے 410 سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں اور ڈپٹی کمشنر آفس میں یکم محرم الحرام سے ایک مقتدر 24 گھنٹے فعال مانیٹرنگ روم قائم ہے جو صوبائی محکمہ داخلہ کے مرکزی سیل سے براہِ راست منسلک ہے۔ مزید برآں، جلوسوں کے راستوں میں سبیلیں اور شدید گرمی کے پیشِ نظر خصوصی ہیٹ اسٹروک کیمپس بھی قائم کیے گئے ہیں۔ ڈی پی او دوست محمد نے سیکیورٹی گراؤنڈز پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ محرم الحرام کے دوران فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے 2600 سے زائد پولیس اہلکار الرٹ ہو کر ڈیوٹیاں سرانجام دے رہے ہیں، جہاں شہر میں تھری لیئر (تین درجاتی) سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے اور بلند عمارتوں کی روف ٹاپس پر بھی مسلح اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

انسانی وقار کا تحفظ: تشدد، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے، فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے عوام بدترین ریاستی جبر کا سامنا کر رہے ہیں، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف

کاشف عباسی ,june 26,2026

اسلام آباد (قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے تشدد، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کو کسی بھی مہذب معاشرے میں سراسر ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایسے مکروہ اقدامات انسانی حقوق اور انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہونے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین اور اسلامی تعلیمات کے بھی مکمل منافی ہیں۔ تشدد کے متاثرین کی حمایت کے عالمی دن کے موقع پر جاری کردہ اپنے مقتدر پیغام میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر میں تشدد کا شکار ہونے والے مظلوموں سے پرخلوص انداز میں یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر تشدد کی ہر شکل کے خاتمے، انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان انسان کے تقدس و وقار سے متعلق اسلامی اقدار کی رہنمائی اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی روشنی میں تمام افراد کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے متاثرین کی بحالی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی نوعیت کے معاشرتی تشدد کے متاثرین بہترین طبی، نفسیاتی، قانونی اور سماجی معاونت کے قانونی حقدار ہیں، جبکہ تشدد کے مرتکب عناصر کا کڑا احتساب یقینی بنانا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے متعلقہ قوانین کے مؤثر نفاذ، قانونی و ادارہ جاتی اصلاحات اور ریاستی تحفظ و نگرانی کے نظام کو مزید مستحکم بنایا جا رہا ہے۔ اپنے پیغام میں وزیرِ اعظم نے غیر ملکی قابضین کی طرف سے منظم انداز میں تشدد کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے نہتے عوام ریاستی جبر و استبداد، قابضین کے بدترین تشدد اور توہین آمیز و غیر انسانی سلوک کا سامنا کر رہے ہیں، اور ان قابضین کے جرائم کی مذمت اور ان کی جوابدہی اب مشترکہ عالمی ذمہ داری بن چکی ہے۔

وزیرِ اعظم نے عالمی برادری کی توجہ خاص طور پر بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری دہائیوں پر محیط ریاستی دہشت گردی کے متاثرین کی مشکلات و مصائب کی جانب مبذول کرائی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر متعدد مستند رپورٹوں میں مقبوضہ کشمیر میں من مانی گرفتاریوں، دورانِ حراست وحشیانہ تشدد، جبری گمشدگیوں، اجتماعی سزاؤں اور سیاسی اختلافِ رائے کو دبانے کے بھارتی اقدامات پر گہری تشویش ظاہر کی گئی ہے، جو کہ وہاں منظم تشدد کی عالمی تصدیق ہے۔ وزیرِ اعظم نے اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب عناصر کا احتساب یقینی بنائیں۔ انہوں نے عزم دہرایا کہ پاکستان کشمیری عوام کی غیر ملکی تسلط کے خلاف جدوجہد کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت ان کے حقِ خودارادیت کی بھرپور تائید کرتا ہے۔

اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کا فوری حل: بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی شکایات کے حل میں کامیابی کی شرح 83 فیصد تک پہنچ گئی، چیئرمین او پی ایف سید قمر رضا

محمود احمد june 26,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن (او پی ایف) کے چیئرمین سید قمر رضا نے سمندر پار پاکستانیوں کی فلاح و بہبود اور ان کے مسائل کے فوری حل کے لیے متعارف کرائی گئی انقلابی اور مقتدر اصلاحات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ فاؤنڈیشن نے اپنے شکایتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کر دیا ہے، جس کی بدولت بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی شکایات کے حل میں کامیابی کی مقتدر شرح 83 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

جمعہ کے روز ایک مقامی ٹی وی چینل سے خصوصی اور مقتدر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین او پی ایف سید قمر رضا نے وضاحت کی کہ او پی ایف بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی کے لیے کارکردگی، شفافیت اور خدمات کی فوری فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے اپنے انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل نظام کو مسلسل اپ گریڈ کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تارکینِ وطن کی سہولت کے لیے 24/7 واٹس ایپ، ای میل اور آن لائن پورٹل پر مشتمل ایک مربوط اور مقتدر شکایت سیل چست کیا گیا ہے، جہاں موصول ہونے والے مسائل پر فوری ایکشن لیا جاتا ہے۔

چیئرمین او پی ایف نے فاؤنڈیشن کے تعلیمی نیٹ ورک کے حوالے سے اہم معلومات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ او پی ایف اس وقت آزاد جموں و کشمیر سمیت پاکستان کے چاروں صوبوں میں 27 سے زائد مقتدر اسکولوں اور کالجوں کا انتظام کامیابی سے چلا رہی ہے۔ ان تمام تعلیمی اداروں میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی فیسوں میں 50 فیصد تک کی خطیر اور مقتدر رعایت بھی دی جا رہی ہے۔

سید قمر رضا نے مزید بتایا کہ او پی ایف بیرونِ ملک، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں مقیم محنتی پاکستانیوں کے لیے ملازمت کے عدم تحفظ اور کام کی جگہ کے خدشات جیسے سنگین مسائل کو حل کرنے کے لیے مقتدر سطح پر کوشاں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ او پی ایف کی مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیز اور دیگر فلاحی منصوبوں کو بھی تیز کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستانی کارکنوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیرونِ ملک کسی پاکستانی کی وفات جیسے انتہائی نازک اور افسوسناک معاملات میں فاؤنڈیشن ان کے سوگوار خاندانوں کو بروقت مالی و انتظامی امداد کی فراہمی یقینی بناتی ہے، تاکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کا ملکی اداروں کے مقتدر تعاون پر اعتماد مزید مضبوط ہو سکے۔ او پی ایف ہر سطح پر مکمل شفافیت اور اعلیٰ کارکردگی کے ساتھ سمندر پار پاکستانیوں کی خدمت کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔

منشیات سے پاک معاشرے کا عزم: پاکستان سمیت دنیا بھر میں انسدادِ منشیات اور اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن منایا گیا، شعور بیدار کرنے کے لیے خصوصی تقاریب کا انعقاد

کاشف عباسی ,june 26,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

پاکستان سمیت دنیا بھر میں منشیات کے استعمال، اس کی روک تھام اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن جمعہ 26 جون کو مقتدر روایتی جوش و جذبے اور عزمِ نو کے ساتھ منایا گیا ہے۔ اس عالمی دن کو منانے کا بنیادی اور تزویراتی مقصد انسدادِ منشیات اور اسمگلنگ کے کثیر الجہتی خطرات کے حوالے سے عام شہریوں میں وسیع آگاہی اور شعور فراہم کرنا ہے تاکہ معاشرے سے منشیات کے استعمال کا خاتمہ، غیر قانونی بین الاقوامی تجارت کا سدِباب اور اس ممنوعہ کاروبار میں ملوث مجرمانہ نیٹ ورکس کی مکمل حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ اس وقت دنیا بھر میں نشے کے عادی افراد کی تعداد میں ہونے والا مسلسل اضافہ عالمی برادری کے لیے گہری تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔

پاکستان میں منشیات کی روک تھام کے لیے قانون نافذ کرنے والے مقتدر ادارے انتہائی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ملک میں اینٹی نارکوٹکس فورس ، پولیس اور پاکستان کوسٹ گارڈز سمیت مختلف متعلقہ ادارے مشترکہ اور انفرادی کارروائیوں کے دوران سالانہ اربوں اور کروڑوں روپے مالیت کی خطرناک منشیات برآمد کرتے ہیں اور اسمگلنگ میں ملوث سینکڑوں ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جاتا ہے۔ منشیات کی سپلائی لائن کاٹنے کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں نشے کے مقتدر عادی افراد کے علاج اور ان کی بحالی کے لیے بھی حکومتی اور نجی سطح پر جامع اقدامات جاری ہیں، جن کا حتمی مقصد پاکستان کو منشیات سے پاک کر کے ایک صحت مند معاشرے کا قیام یقینی بنانا ہے۔

انسدادِ منشیات اور اس کی غیر قانونی اسمگلنگ کے اس عالمی دن کے مقتدر موقع پر ملک بھر میں سرکاری، غیر سرکاری، طبی، فلاحی، رفاعی اور نجی اداروں کے زیرِ اہتمام سیمینارز، واکس اور معلوماتی تقریبات کا بڑے پیمانے پر انعقاد کیا گیا۔ ان مقتدر تقاریب میں طبی ماہرین اور سماجی رہنماؤں نے منشیات کے جسمانی، معاشی اور معاشرتی نقصانات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مقررین نے عام آدمی بالخصوص نوجوان نسل میں اس ناسور کے خلاف شعور اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ معاشرے کے تمام طبقات مل کر اس موذی لت کے خلاف مضبوط ڈھال بن سکیں اور آنے والے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

انسانی وقار کا تحفظ: پاکستان سمیت دنیا بھر میں تشدد کے متاثرین کی حمایت کا عالمی دن منایا گیا، ظالمانہ اور غیر انسانی سلوک کے خاتمے کے لیے عوامی شعور بیدار کرنے پر زور


اسلام آباد/ نیوز ڈیسک( نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

پاکستان سمیت دنیا بھر میں تشدد کے خلاف اور اس کا شکار ہونے والے متاثرین کی حمایت کا عالمی دن جمعہ 26 جون کو مقتدر انداز میں منایا گیا ہے۔ اس اہم ترین دن کو عالمی سطح پر منانے کا بنیادی مقصد تشدد سے متاثرہ بے گناہ افراد کی نفسیاتی و جسمانی بحالی، ان کے لیے قانون کے مطابق انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا اور کائنات کے تمام انسانوں پر ہونے والے ہر قسم کے تشدد کے مکمل خاتمے کے لیے عوامی شعور کو بیدار کرنا ہے۔

انسانی تاریخ گواہ ہے کہ تشدد تمام ہی انسانی معاشروں میں کسی نہ کسی مقتدر صورت اور کسی نہ کسی سطح پر ہمیشہ موجود رہا ہے، جو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ تشدد کے متاثرین کی حمایت کے اس عالمی دن کے مقتدر موقع پر دنیا بھر میں مہم جوئی کا حصہ بننے والے متاثرین اور ایسے دردناک واقعات میں معجزاتی طور پر بچ جانے والے افراد کو ان کی جرات پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ انسانی وقار کی بحالی کے لیے تشدد اور دیگر ظالمانہ، غیر انسانی یا رسوا کن سلوک اور سخت سزا کے خلاف اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام ایک مقتدر عالمی معاہدہ عمل میں لایا گیا تھا، جس کی تزویراتی اہمیت کے پیشِ نظر اب تک امریکہ سمیت دنیا کے 166 ممالک اس عالمی معاہدے کی باقاعدہ توثیق کر چکے ہیں۔

اس مقتدر دن کی مناسبت سے پاکستان اور دنیا بھر میں سرکاری، غیر سرکاری، فلاحی اور رفاعی اداروں کے زیرِ اہتمام خصوصی سیمینارز اور شعوری تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ ان مقتدر تقاریب میں مقررین نے معاشرے میں بڑھتے ہوئے تشدد کو روکنے، تشدد کے متاثرین کی مالی و اخلاقی تلافی کرنے، ان کی طبی و سماجی بحالی کے نظام کو مؤثر بنانے اور انسانوں پر وحشیانہ تشدد میں ملوث سنگدل عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر کڑی سزا دینے کے حوالے سے عملی اقدامات اٹھانے پر مقتدر آگاہی فراہم کی، تاکہ ایک پرامن اور متوازن معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے۔

جنرل اسمبلی کے اہم مباحثے میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا تزویراتی خطاب؛ دیرپا امن محض ایک وقتی واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے، سلامتی کی کامیابیوں کو معاشی بحالی سے جوڑنا ناگزیر، امن سازی فنڈ کی لچکدار مالی معاونت کی مقتدر حمایت، پریس ریلیز

محمود احمد june 26,2026

نیویارک/اسلام آباد (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

پاکستان نے عالمی سطح پر دیرپا امن و امان کے قیام کے لیے ایک بار پھر تزویراتی موقف اپناتے ہوئے اس بات پر گہرا زور دیا ہے کہ دنیا بھر میں صرف روایتی امن مشنز کا بھیجنا کافی نہیں، بلکہ تنازعات کے آغاز ہی سے مستقل امن سازی کو عالمی عمل کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ امن مشنز سے امن سازی اور پھر متعلقہ ممالک کی قومی قیادت میں ترقی کے مرحلے تک مؤثر منتقلی کے لیے مستقل سیاسی عزم، مناسب مالی وسائل اور بین الاقوامی برادری کی مربوط معاونت ناگزیر ہے۔

امن سازی اور پائیدار امن سے متعلق اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے مقتدر مباحثے میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ امن سازی کمیشن کے قیام کو بیس برس مکمل ہو چکے ہیں، جس کا بنیادی مقصد تنازعات سے نکلنے والے پسماندہ ممالک کو امن کے پائیدار استحکام اور دوبارہ جنگ کی طرف جانے سے بچانے میں معاونت فراہم کرنا تھا۔ انہوں نے زمینی صورتحال کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا کہ آج ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نہ امن برقرار رکھنے کے مواقع پہلے جیسے رہے ہیں اور نہ ہی امن کی تعمیر کے، جبکہ دوسری جانب محدود ہوتے ہوئے وسائل پر رکن ممالک کا مقابلہ بھی بڑھتا جا رہا ہے؛ اس لیے ضروری ہے کہ ہم امن سازی کے وعدے کو پورا کرنے کے لیے مجموعی صورتحال کا سنجیدگی اور جامع انداز میں جائزہ لیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے مقتدر خطاب میں اسٹریٹجک نکتہ اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ امن کوئی ایک وقتی واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے، جو تنازعات کی روک تھام، قیامِ امن، امن مشنز، تنازعات کے بعد بحالی اور مستقل امن سازی پر مشتمل ہوتا ہے، اور یہ تمام مراحل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اور باہمی طور پر تقویت دینے والے ہیں۔ انہوں نے مصر اور سلووینیا کی سفارتی سہولت کاری میں مکمل ہونے والے “2025 پیس بلڈنگ آرکیٹیکچر ریویو” کے مقتدر نتائج کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ قومی ملکیت ، امن سازی کمیشن اور اقوامِ متحدہ کے مرکزی اداروں کے درمیان مضبوط روابط اور پورے یو این نظام میں بہتر ہم آہنگی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے مقتدر امن سازی فنڈ کے اہم کردار کو تسلیم کرتا ہے اور ان پروگراموں سے مستفید ہونے والے ممالک کے تجربات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بروقت اور لچکدار مالی و تکنیکی معاونت زمینی سطح پر حقیقی اور مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان، جو اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں فوجی دستے فراہم کرنے والے دنیا کے بڑے ممالک میں شامل ہے اور امن سازی کمیشن کا بانی رکن بھی ہے، نے خود اس امر کا مشاہدہ کیا ہے کہ سلامتی میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو ادارہ جاتی استحکام، قومی مفاہمت اور سماجی و معاشی بحالی کے ساتھ جوڑنا کس قدر ضروری ہے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان اس مشترکہ عالمی مقصد کے حصول کے لیے تمام رکن ممالک کے ساتھ مقتدر تعاون جاری رکھے گا۔

ٹیکس چوری اور جعل سازی کا ہائی پروفائل کیس: قطر میں مقیم پاکستانی کا بینک اکاؤنٹ خالی کرنے کے معاملے پر ایف بی آر کی بڑی وضاحت، واٹس ایپ پر جعلی احکامات بھیجنے کا سنسنی خیز انکشاف

منصور احمد june 25,2026

اسلام آباد (ٹیکس و معاشی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے قطر میں مقیم ایک مبینہ اوورسیز پاکستانی ارسلان آدم کے بینک اکاؤنٹ سے فنڈز کی منتقلی اور اکاؤنٹ خالی کیے جانے کے معاملے پر سوشل میڈیا اور پبلک ہلاکت خیز پروپیگنڈے کا مقتدر نوٹس لیتے ہوئے ایک انتہائی تفصیلی اور سنسنی خیز وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔ ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ یہ معاملہ کسی زیادتی کا نہیں بلکہ ٹیکس چوری اور سرکاری دستاویزات کی جعل سازی کا ایک سنگین کیس ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (ٹویٹر) پر جاری کردہ اپنے مقتدر اور تفصیلی ڈیجیٹل بیان میں ایف بی آر کے ترجمان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جناب ارسلان آدم عوامی سطح پر خود کو ایک غیر مقیم تارکینِ وطن (اوورسیز پاکستانی) کے طور پر پیش کر کے ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم سچ یہ ہے کہ سال 2017 اور 2018 کے اپنے آفیشل انکم ٹیکس گوشوارے فائل کرتے وقت انہوں نے خود اپنے دستخطوں سے اپنے آپ کو پاکستان میں مقیم شہری قرار دیا تھا۔ پاکستانی ٹیکس قانون کے تحت اس حیثیت کا حامل فرد اپنی ملکی و غیر ملکی تمام تر آمدنی پر مکمل ٹیکس دینے کا قانونی طور پر پابند ہوتا ہے۔

ایف بی آر کے مطابق، ارسلان آدم نے ہر سال 23.52 ملین روپے کی خطیر غیر ملکی آمدنی کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا، جبکہ قانون کے مطابق اس کی حد صرف 5 ملین روپے ہے۔ انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 122(9) کے تحت ایف بی آر کی جانب سے انہیں متعدد نوٹسز بھیجے گئے اور مقتدر سماعت کا مکمل و منصفانہ موقع فراہم کیا گیا، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے انکم دعووں کی تائید میں ایک بھی دستاویزی ثبوت یا بینکنگ ریکارڈ پیش کرنے میں مکمل ناکام رہے۔ ان کے اپنے اعلانات اور ثبوت فراہم نہ کرنے پر ایف بی آر نے قانون کے مطابق ان پر 30 ملین (3 کروڑ) روپے کا قانونی ٹیکس مطالبہ عائد کیا۔

بیان میں مزید انکشاف کیا گیا کہ جب ایف بی آر نے اس واجب الادا ٹیکس کی قانونی ریکوری کا عمل شروع کیا، تو جناب آدم نے اس مقتدر کارروائی کو روکنے کے لیے اپنے متعلقہ بینک کے سامنے ایف بی آر کے نام سے تیار کردہ بالکل جعلی اور من گھڑت احکامات پیش کیے، جو انہیں واٹس ایپ کے ذریعے بھیجے گئے تھے۔ ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ یہ احکامات بورڈ کی طرف سے کبھی جاری ہی نہیں کیے گئے، یہ ایف بی آر کے آفیشل آئی آر ایس سسٹم میں کہیں موجود نہیں ہیں اور نہ ہی ان پر کوئی آفیشل بارکوڈ درج ہے، جو کہ واضح جعل سازی ہے۔ اس جعل سازی کے ذریعے جب وہ ریکوری روکنے میں ناکام رہے تو انہوں نے مقتدر قانون سے بچنے کے لیے 24 جون 2026 کو کمشنر اپیلز کے سامنے ایک تاخیری اپیل دائر کی، یہ وہی دن تھا جس دن انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنا شکایتی خط وائرل کیا۔ ایف بی آر نے اعادہ کیا ہے کہ ادارہ قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنے اور قانون پسند شہریوں کی مدد کے لیے پرعزم ہے، تاہم جعل سازوں اور ٹیکس چوروں کے خلاف کسی دباؤ میں نہیں آئے گا۔

منشیات کے خلاف جنگ میں پوری قوم متحد: پاکستان منشیات، ان کی غیر قانونی ترسیل اور نوجوانوں تک رسائی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف

کاشف عباسی ,june 25,2026

اسلام آباد (قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے منشیات کے استعمال اور اس کی غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن کے مقتدر موقع پر پوری قوم بالخصوص والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں، سماجی رہنماؤں اور میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ ہماری نسلِ نو کو اس کثیر الجہتی لعنت سے بچانے کے لیے فرنٹ لائن پر آ کر اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان منشیات کی نئی اقسام، اس کی بین الاقوامی ترسیل اور نوجوانوں تک اس کی رسائی کے تمام منسلک خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر سطح پر پرعزم اور ثابت قدم ہے۔

وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ آج پاکستان عالمی برادری کے ساتھ ہم آواز ہو کر منشیات کے سدِباب کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کے عزم کو دہراتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال کا عالمی موضوع ’’دیرینہ مسائل، نئے چیلنجز اور منشیات سے پاک مستقبل کے لیے اختراعی اقدامات‘‘ ہے، جو عالمی سطح پر اس مسئلے کی بدلتی اور سنگین نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے قومی استعداد میں اضافے، صوبائی و وفاقی اداروں میں ہم آہنگی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ انٹیلی جنس کے تبادلے کو وسعت دے رہی ہے، کیونکہ ان غیر قانونی نیٹ ورکس کے مکمل خاتمے کے بغیر معاشرے کو محفوظ نہیں بنایا جا سکتا۔

وزیرِ اعظم نے اپنے مقتدر خطاب میں تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک بنانے کو حکومت کی اولین قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اینٹی نارکوٹکس فورس طلب میں کمی، آگاہی مہم اور متاثرین کے علاج و بحالی کے لیے جامع و متوازن حکمتِ عملی کے تحت کام کر رہی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے منشیات خوروں اور اسمگلروں کے خلاف برسرِ پیکار اینٹی نارکوٹکس فورس کے ان بہادر شہداء کو خصوصی اور مقتدر خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے وطنِ عزیز کے مستقبل کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسی سماجی برائیوں کے خلاف مؤثر روک تھام اور ایک صحت مند و منشیات سے پاک معاشرے کی تشکیل ہم سب کی مشترکہ آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں نئی بحری کشیدگی: ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز کے لیے نئے بحری راستے کا اعلان، بغیر رابطے سفر کرنے والے جہازوں کو کارروائی کی سخت وارننگ

منصور احمد june 25,2026

تہران/واشنگٹن ( نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

تزویراتی اور تجارتی لحاظ سے دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ “آبنائے ہرمز” میں ایک بار پھر شدید عالمی و سفارتی کشیدگی سر اٹھانے لگی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز سے بین الاقوامی تجارتی جہازوں کے گزرنے کے لیے باقاعدہ طور پر ایک بالکل نئے بحری راستے کا اعلان کر دیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب کے مقتدر ترجمان نے واضح الفاظ میں وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب سے تمام بحری جہازوں کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ایرانی فورسز کے ساتھ مسلسل لائیو رابطے میں رہتے ہوئے اپنے مقتدر سفر کو یقینی بنائیں۔

ترجمان پاسدارانِ انقلاب نے دوٹوک لہجے میں خبردار کیا کہ ایرانی فورسز سے پیشگی رابطے اور مقتدر اجازت کے بغیر کسی بھی دوسرے پرانے یا متبادل راستے سے گزرنا ایران کے لیے کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوگا اور ایسا کرنا متعلقہ جہازوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق، خطے میں اب صرف وہی بحری راستہ محفوظ تصور کیا جائے گا جس کا ایران کی جانب سے باضابطہ اعلان کیا گیا ہے، اور ان نئی مقتدر ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی تجارتی یا فوجی جہاز کو ایرانی بحریہ کی جانب سے سخت تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب، خلیج میں منعقدہ ‘بحرین تعاون کونسل’ کے مقتدر موقع پر موجود امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے اس تزویراتی اقدام پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی بحری قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کسی بھی قسم کا کوئی ٹول ٹیکس، فیس یا ایرانی شرائط ہرگز قبول نہیں کی جائیں گی، کیونکہ بین الاقوامی آبی گزرگاہیں کسی ایک مخصوص ریاست کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتیں۔

مارکو روبیو نے خلیجی ممالک کے مقتدر رہنماؤں سے ہونے والی اہم ملاقاتوں کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک نے اس نئی صورتحال پر اپنے شدید تزویراتی خدشات سے آگاہ کیا ہے، اور عمان سمیت تمام خلیجی ریاستیں اس خطے میں کسی بھی قسم کے ٹول ٹیکس کے نفاذ کے سخت خلاف ہیں۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے عزم کا اعادہ کیا کہ امریکہ اپنے اتحادی خلیجی ممالک کی سلامتی پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور آنے والے سفارتی عمل میں ان ممالک کو مکمل طور پر شامل رکھا جائے گا۔ انہوں نے ان افواہوں کو بھی یکسر مسترد کر دیا کہ امریکہ نے ایران کو کوئی رقم منتقل کی ہے یا کسی تعمیرِ نو کے منصوبے کا حصہ ہے، جس سے خطے میں تزویراتی تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

قراردادیں محض ارادوں کا اظہار نہیں بلکہ منشور کے تحت قانونی ذمہ داریاں ہیں، منتخب یا طویل عرصے تک عمل نہ ہونا کونسل کے اختیار کو کمزور کرتا ہے؛ مسئلہ فلسطین اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر پر قراردادوں پر عمل نہ ہونا عالمی امن کے لیے بڑا دھچکا، مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا مقتدر خطاب

محمود احمد june 25,2026

نیویارک/اسلام آباد (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

اقوامِ متحدہ میں پاکستان اور چین نے اپنی تزویراتی شراکت داری اور کثیرالجہتی سفارت کاری کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے مشترکہ طور پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک انتہائی مقتدر ‘آریا فارمولا’ اجلاس منعقد کیا ہے۔ اس خصوصی سفارتی بیٹھک نے دنیا بھر کے رکن ممالک کو ایک اہم اور تزویراتی موقع فراہم کیا ہے کہ وہ کھل کر اس امر پر غور کریں کہ سلامتی کونسل اپنی منظور شدہ قراردادوں کے مکمل، مؤثر اور بغیر کسی امتیاز کے یکساں عملدرآمد کو کس طرح ہر قیمت پر یقینی بنا سکتی ہے۔

اس مقتدر اجلاس کو اقوامِ متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل خالد خیاری، سیکیورٹی کونسل رپورٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر محترمہ شملہ کندیاہ، اور انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے مسٹر رچرڈ گوون نے اہم بریفنگز دیں۔ تمام مقررین نے اپنے مقالوں میں اس بات پر گہرا زور دیا کہ قراردادوں پر ان کی روح کے مطابق من و عن عملدرآمد کرنا ہی دراصل سلامتی کونسل کی ساکھ، عالمی اختیار اور اس کی افادیت کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کونسل کے فیصلوں کو زمینی حقائق میں تبدیل کرنے کے لیے قراردادوں کے ساتھ حقیقت پسندانہ مینڈیٹس، واضح طریقۂ کار، مسلسل لائیو نگرانی، مناسب مالی وسائل اور مضبوط سیاسی عزم کا ہونا ناگزیر ہے۔

اجلاس سے اپنے مقتدر خطاب میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے دوٹوک اور مقتدر الفاظ میں کہا کہ سلامتی کونسل کی قراردادیں محض رسمی ارادوں کا اظہار نہیں ہوتیں بلکہ یہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے تحت تمام رکن ممالک پر عائد ہونے والی سخت قانونی ذمہ داریاں ہیں۔ انہوں نے دنیا کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ قراردادوں پر من پسند طریقے سے (سلیکٹو) عمل کرنا یا طویل عرصے تک انہیں سرد خانے کی نذر رکھنا خود کونسل کے عالمی اختیار کو شدید کمزور کرتا ہے، دیرینہ تنازعات کے حل میں بڑی رکاوٹ بنتا ہے اور مظلوم انسانوں کے مصائب میں ہولناک اضافہ کرتا ہے، جیسا کہ اس وقت فلسطین اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کی مخدوش صورتحال میں صاف دیکھا جا سکتا ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ مضبوطی سے لڑتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازعے سے متعلق سلامتی کونسل کی مقتدر قراردادوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث یہ اہم بین الاقوامی مسئلہ آج بھی حل طلب ہے، جس کے باعث خطے اور بین الاقوامی امن و سلامتی پر انتہائی سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور معصوم کشمیری عوام مسلسل بدترین انسانی مشکلات اور مظالم کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے سلامتی کونسل کے سامنے متعدد مقتدر اور عملی تجاویز پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ غیر نافذ یا جزوی طور پر نافذ قراردادوں کا سالانہ بنیادوں پر باقاعدہ جائزہ لیا جائے، عملدرآمد کے واضح ڈیجیٹل اور سفارتی طریقے وضع کیے جائیں اور سیکریٹری جنرل کی مساعیِ جمیلہ کو کونسل کے فیصلوں کے ساتھ مربوط کیا جائے۔ اجلاس میں شریک سلامتی کونسل کے مستقل و غیر مستقل ارکان نے چین اور پاکستان کے اس مشترکہ اقدام کا زبردست خیرمقدم کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ کونسل کو اپنے فیصلوں کے مستقل اور غیر جانبدار نفاذ کو یقینی بنانا چاہیے، جس سے پاک چین کثیرالجہتی تعاون کا وقار مزید بلند ہوا ہے۔

پاکستان مشن کی میزبانی میں ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لیے عالمی تعاون اور سیاسی حمایت بڑھانے پر اعلیٰ سطحی مشاورت

محمود احمد june 24,2026

نیویارک/اسلام آباد (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

اقوامِ متحدہ میں ایچ آئی وی/ایڈز سے متعلق منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کے مقتدر موقع پر پاکستان نے عالمی صحت کے میدان میں ایک اور بڑی سفارتی کامیابی حاصل کی ہے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن اور ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لیے قائم اقوامِ متحدہ کے ‘گروپ آف فرینڈز’ کے سیکریٹریٹ نے مشترکہ طور پر ایک انتہائی اہم سفارتی بریفنگ اور مقتدر مشاورتی اجلاس کا انعقاد کیا۔ اس مقتدر عالمی اجلاس کا عنوان “ہیپاٹائٹس کے خاتمے کی جانب پیش رفت: اعلیٰ سطحی سیاسی اقدام کے لیے رفتار پیدا کرنا” تھا، جس میں دنیا بھر سے وزارتِ صحت کے مقتدر نمائندگان، اقوامِ متحدہ کے سینیئر سفارت کاروں اور عالمی صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ممتاز رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اجلاس میں وائرل ہیپاٹائٹس کے خطرناک عالمی بوجھ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا، جو اس وقت دنیا کی مہلک ترین دائمی بیماریوں میں شامل ہے اور ہر سال دنیا بھر میں تقریباً 13 لاکھ سے زائد انسانی جانیں نگل لیتی ہے۔ اس مقتدر موقع پر مختلف جغرافیائی خطوں پر مشتمل ایک مشترکہ سیاسی روڈ میپ پر اصولی اتفاقِ رائے پیدا کیا گیا، جس کا بنیادی مقصد سال 2028ء تک وائرل ہیپاٹائٹس کے مکمل خاتمے پر اقوامِ متحدہ کے ایک باضابطہ اور خود مختار اعلیٰ سطحی اجلاس کے انعقاد کی راہ ہموار کرنا ہے۔ اجلاس کا باقاعدہ آغاز اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون کے مقتدر افتتاحی کلمات سے ہوا، جس کے بعد ‘کولیشن فار گلوبل ہیپاٹائٹس ایلیمینیشن’ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جان وارڈ نے وائرل ہیپاٹائٹس کے عالمی اثرات اور بین الاقوامی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے امکانات پر جامع بریفنگ دی۔

پاکستانی حکومت کی مقتدر قومی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے سفیر عثمان جدون نے عالمی برادری کو بتایا کہ حکومتِ پاکستان نے ملک گیر سطح پر “وزیراعظم پروگرام برائے انسدادِ ہیپاٹائٹس سی” کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جس کے لیے عالمی ادارۂ صحت کے قریبی تعاون سے 25 کروڑ امریکی ڈالر کے بھاری مقتدر فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ اس پروگرام کا تزویراتی مقصد سال 2030ء تک ہیپاٹائٹس سی کو ملک میں صحتِ عامہ کے لیے خطرہ بننے سے مستقل طور پر روکنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس منصوبے کے تحت پورے پاکستان میں اسکریننگ، تشخیص اور علاج معالجے کی جدید ترین سہولیات عوام کو مکمل طور پر مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔ سفیر عثمان جدون نے مزید کہا کہ اس اہم پروگرام کی موثر نگرانی اور شفاف جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے خود وزیرِاعظم پاکستان قومی ٹاسک فورس کی براہِ راست مقتدر قیادت کر رہے ہیں، جس میں صحتِ عامہ کے ممتاز ملکی و بین الاقوامی ماہرین، معالجین اور محققین شامل ہیں۔

مشاورتی اجلاس کے دوران شرکاء نے عالمی ادارۂ صحت کی حال ہی میں جاری کردہ عالمی ہیپاٹائٹس رپورٹ اور 79ویں عالمی صحت اسمبلی کے وزارتی اعلامیے کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اجلاس میں شریک پاکستان، فرانس، جمہوریہ چیک، میکسیکو، پیرو، ترکیہ، منگولیا، چین، برازیل، ملائیشیا، اسپین اور فلپائن کے مقتدر نمائندوں نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ ہیپاٹائٹس کی روک تھام اور مکمل شفا کے مؤثر ذرائع موجود ہونے کے باوجود، اس بیماری کو عالمی سطح پر وہ مطلوبہ سیاسی توجہ اور مالی وسائل حاصل نہیں ہو رہے جس کی یہ مستحق ہے۔ شرکاء نے عزم ظاہر کیا کہ سال 2030ء تک ہیپاٹائٹس کے عالمی خاتمے کے اہداف کو پانے کے لیے مختلف جغرافیائی خطوں کی وسیع نمائندگی کے ساتھ ایک مضبوط عالمی اتحاد قائم کیا جائے گا، اور اس سلسلے میں غیر رسمی مقتدر مشاورت کا سلسلہ مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے گا۔

پاک روس اسٹریٹجک تعاون: پاکستان اور روس کے درمیان آفات سے نمٹنے، سرچ اینڈ ریسکیو اور صلاحیتی دائرہ کار کے اضافے کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق

کاشف عباسی ,june 24,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

پاکستان اور روس کے درمیان ہنگامی آفات سے نمٹنے، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز اور باہمی صلاحیتی دائرہ کار (کیپیسٹی بلڈنگ) کے اضافے کے لیے تزویراتی تعاون کو مزید مقتدر اور وسیع کرنے پر مکمل اتفاق ہو گیا ہے۔ بدھ کے روز نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ترجمان کی طرف سے جاری کردہ مقتدر پریس ریلیز کے مطابق، روس کے ایک اعلیٰ سطح کے دفاعی وفد نے این ڈی ایم اے ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کا مقتدر دورہ کیا اور وہاں قائم جدید ترین ‘نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر’ کی کارکردگی کا تفصیلی معائنہ کیا۔

روس کے ڈپٹی چیف نیشنل ڈیفنس مینجمنٹ سینٹر، لیفٹیننٹ جنرل اسکوسکوف اولیگ ایوانوچ کی مقتدر سربراہی میں آنے والے اس وفد کو این ڈی ایم اے کے اعلیٰ حکام نے پاکستان میں آفات سے نمٹنے کے طریقہ کار، جدید ترین پیشگی آگاہی کے نظام (ارلی وارننگ سسٹم) اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے بروقت اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس مقتدر موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تکنیکی تعاون اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے تجربات کے باہمی تبادلے کی کلیدی اہمیت پر خصوصی زور دیا۔

روسی دفاعی وفد کو بریفنگ کے دوران این ای او سی کے صلاحیتی دائرہ کار، سیٹلائٹ پر مبنی پیشگی انتباہی نظام اور کسی بھی ناگہانی آفت کی صورت میں قومی وسائل کے موثر اور مربوط استعمال پر انتہائی مقتدر اور جامع پریزنٹیشن دی گئی۔ اس دوران وفد کو سال 2026ء کے دوران پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درپیش ممکنہ ماحولیاتی خطرات کے حوالے سے بھی تفصیلی سائنسی ڈیٹا فراہم کیا گیا۔ بریفنگ کے بعد دونوں ممالک نے علاقائی خطرات کی درست تشخیص، ان کے بروقت تدارک اور ایک بین الاقوامی ‘گلوبل ڈیزاسٹر ریسورس نیٹ ورک’ کے قیام کے مقتدر عزم کا اعادہ کیا۔ روسی وفد نے پاکستان کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر اور یہاں آفات سے نمٹنے کے لیے رائج جدید ترین ڈیجیٹل نظام کی زبردست ستائش کی اور پاکستان کے ساتھ مل کر آفات سے بچاؤ کے لیے عملی اقدامات کو مزید موثر بنانے کا مقتدر عزم ظاہر کیا۔

عوامی ریلیف کی مقتدر فراہمی: بجٹ میں قوم سے کیے وعدے کے مطابق تنخواہ دار طبقے، کاروباری برادری اور عوام کو بھرپور ریلیف فراہم کیا، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی حکومت کی معاشی ٹیم کے ساتھ منعقدہ اجلاس میں گفتگو

منصور احمد june 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے عام عوام اور ملکی کاروباری برادری کے لیے تزویراتی ریلیف کو خاص طور پر مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ مالی سال کا بجٹ تشکیل دینے پر حکومتی بالخصوص وزارتِ خزانہ کی پوری ٹیم کی زبردست پذیرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بجٹ میں قوم سے کیے ہوئے مقتدر وعدے کے مطابق تنخواہ دار طبقے، کاروباری برادری اور عام عوام کو ہر ممکن اور بھرپور ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔ وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے بدھ کے روز جاری کردہ مقتدر پریس ریلیز کے مطابق، وزیرِ اعظم نے حکومت کی اعلیٰ سطح کی معاشی ٹیم کے ساتھ منعقدہ ایک خصوصی اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، سیکریٹری خزانہ، چیئرمین ایف بی آر اور پوری حکومتی ٹیم کی شبانہ روز کاوشوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

اس مقتدر موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ بجٹ میں محروم طبقات اور معیشت کے پہیے کو متحرک کرنے والے شعبوں کا خاص خیال رکھا گیا ہے، اور معاشی ٹیم کی اس حوالے سے تمام تر کوششیں بلاشبہ قابلِ ستائش ہیں۔ انہوں نے معاشی ٹیم کو سختی سے ہدایت کی کہ ملک کے حالیہ بہتر ہوتے ہوئے معاشی اشاریوں کے تمام ثمرات براہِ راست ملک کے ہر شہری اور نچلے طبقے تک شفاف طریقے سے پہنچائے جائیں گے۔ دوسری جانب، حکومتی معاشی ٹیم نے وزیرِ اعظم کی جانب سے ملنے والی اس مقتدر ستائش اور حوصلہ افزائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ملک کے محدود مالی وسائل کے باوجود عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کی ایک انتہائی کامیاب کوشش کی ہے۔

معاشی ٹیم کے مقتدر ارکان نے بجٹ کی تیاری کے کٹھن عمل میں تمام اسٹیک ہولڈرز سے بجٹ تجاویز کے حوالے سے ذاتی ملاقاتوں، عوامی ریلیف کے لیے واضح ہدایات اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے عوام کے ریلیف کے اقدامات منوانے کے حوالے سے خود دلچسپی لے کر تمام پیچیدہ معاملات سلجھانے پر وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیرِ اعظم کی براہِ راست ہدایت کے تحت بجٹ کی تیاری کے لیے متعدد طویل اجلاس منعقد کیے گئے اور تمام طبقاتِ فکر سے تفصیلی رہنمائی لی گئی تاکہ ایک بہترین اور متوازن بجٹ پیش کر کے غریب طبقات کا تحفظ کیا جا سکے۔ معاشی ٹیم نے وزیرِ اعظم کی مقتدر قیادت میں پاکستان کی پائیدار ترقی، معاشی خوشحالی اور مالیاتی استحکام کے لیے اپنے اقدامات اور عزم کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے کا پختہ اعادہ کیا۔

پاک سعودی برادرانہ تعلقات: پاکستان کی امن کوششوں کا مقصد خطے میں امن و استحکام کا فروغ ہے، سعودی عرب سمیت برادر ممالک کی حمایت نہایت اہم رہی ہے، وزیرِ اعظم شہباز شریف کی تبوک کے گورنر سے ٹیلیفون پر گفتگو

کاشف عباسی ,june 24,2026

اسلام آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کی تمام تر امن کوششوں کا واحد اور بنیادی مقصد خطے میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کا فروغ ہے، جس میں سعودی عرب سمیت تمام مقتدر برادر ممالک کی مسلسل اور غیر مشروط حمایت ہمیشہ نہایت اہم اور کلیدی رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سعودی عرب کے تزویراتی صوبے تبوک کے گورنر شہزادہ فہد بن سلطان بن عبدالعزیز آل سعود سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کیا، جنہوں نے بدھ کے روز وزیرِ اعظم شہباز شریف کو ٹیلیفون کیا۔ وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ مقتدر پریس ریلیز کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ٹیلیفونک گفتگو نہایت گرمجوشی، مقتدر خیرسگالی اور روایتی برادرانہ ماحول میں ہوئی۔

اس مقتدر رابطے کے دوران گورنر تبوک نے عالمی سفارتی منظرنامے پر پاکستان کی تاریخی کامیابی کا اعتراف کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کے تاریخی حصول میں پاکستان کی غیر معمولی، انتھک اور کامیاب سفارتی کوششوں پر وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کو خصوصی طور پر مبارکباد پیش کی۔ وزیرِ اعظم نے تہنیتی کلمات پر گورنر تبوک کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں ثالثی اور امن کا خواہاں رہا ہے، اور اس عظیم مقصد کی تکمیل برادر ممالک کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھی۔

پاکستان اور مملکتِ سعودی عرب کے درمیان صدیوں پر محیط تاریخی اور سٹریٹجک برادرانہ تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی پاکستان اور اس کے عوام سے گہری محبت، مقتدر لگن اور مستقل خیرسگالی کے جذبات پر پاکستان کی حکومت اور عوام کی طرف سے دلی تشکر کا اظہار کیا۔ گفتگو کے اختتام پر، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو مزید مقتدر اور مستحکم بنانے کے لیے گورنر تبوک شہزادہ فہد بن سلطان بن عبدالعزیز آل سعود کو جلد سے جلد پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی پرخلوص دعوت بھی دی۔