امریکی میجر لیگ ساکر کے مشہور اور معروف کلب انٹر میامی نے پیراگوئے سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی مڈفیلڈر میٹیاس گالارزا کو ارجنٹائن کے تاریخی کلب ریور پلیٹ سے قرض کی بنیاد پر حاصل کر کے اپنی ٹیم کا حصہ بنا لیا ہے۔
انٹر میامی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ تفصیلات کے مطابق چوبیس سالہ میٹیاس گالارزا کو 2026ء کے میجر لیگ ساکر سیزن کے اختتام تک کے لیے قرض پر ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کی ایک اہم شق یہ بھی ہے کہ قرض کی مقررہ مدت مکمل ہونے پر انٹر میامی کے پاس انہیں مستقل طور پر خریدنے کا اختیار بھی موجود رہے گا۔
میٹیاس گالارزا نے سال 2022ء میں پیراگوئے کی قومی فٹبال ٹیم کی جانب سے اپنے بین الاقوامی کیریئر کا باقاعدہ آغاز کیا تھا اور وہ اب تک اپنی قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے انیس بین الاقوامی میچز کھیل چکے ہیں۔ وہ سن دو ہزار چھبیس کے فیفا ورلڈ کپ کے عالمی مقابلے میں بھی پیراگوئے کی قومی ٹیم کے اہم رکن رہے، جہاں ان کی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے راؤنڈ آف سکسٹین تک رسائی حاصل کی تھی۔ اس عالمی ٹورنامنٹ کے دوران گالارزا نے ایک گول اسکور کیا جبکہ ایک گول میں اہم معاونت فراہم کی تھی۔
اپنے سابقہ کیریئر میں گالارزا ریور پلیٹ کے علاوہ ٹیلیرس اور امریکی کلب اٹلانٹا یونائیٹڈ کی جانب سے بھی میدان میں اتر چکے ہیں۔ انٹر میامی کے حکام کا کہنا ہے کہ گالارزا کی شمولیت سے ٹیم کے وسطی میدانی شعبے کو مزید مضبوطی اور تحرک حاصل ہوگا۔
انٹر میامی کی انتظامیہ نے یہ بات بھی واضح کی ہے کہ کھلاڑی کی اسکواڈ میں حتمی اور عملی شمولیت ان کے انٹرنیشنل ٹرانسفر سرٹیفکیٹ اور پی ون ویزا کی باضابطہ وصولی سے مشروط رہے گی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کے روز سے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور تعز شہر کے قریب حوثی جنگجوؤں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی سرکاری افواج کے درمیان شدید اور خونریز جھڑپیں جاری ہیں، جن میں دونوں جانب سے کم از کم 81 فوجی اور جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔
بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں تعینات یمنی فوج کے ایک سینئر عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ حوثی حملوں کے خلاف لڑتے ہوئے ان کی فورسز کے 24 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ تعز کے محاذ پر موجود ایک اور فوجی حکمران نے مزید 15 یمنی اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے (اے ایف پی) نے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں طبی اور ہسپتال کے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ یمنی سرکاری افواج کی جوابی کارروائی میں حوثی مسلح گروہ کے کم از کم 42 ارکان بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ خونی لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب حوثی فورسز نے تعز کے علاقے اور بحیرہ احمر کی ساحلی پٹی کے آس پاس قائم سرکاری فوج کے مواضع پر راکٹوں اور جدید ڈرونز کی مدد سے اچانک شدید زمینی حملہ کر دیا۔ یمنی فوج نے حملے کو ناکام بنانے کے لیے جوابی کارروائی کی، جس کے بعد دونوں فریقین کے درمیان شدید گولا باری کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اردن کے وزیرِ خارجہ کے حالیہ بیانات پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ ایران کو ایسے جارح کا جواب دینے کے لیے کب تک انتظار کرنا چاہیے جو نہ تو عرب ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور نہ ہی ایرانی سلامتی کا پاس رکھتا ہے۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک تفصیلی بیان میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اردنی وزیرِ خارجہ کو آڑے ہاتھوں لیا اور ان پر حقائق سے لاعلمی کا الزام عائد کیا۔ عباس عراقچی نے انکشاف کیا کہ ایران کے خلاف امریکہ کی جانب سے کیے گئے ابتدائی اور ابتدائی نوعیت کے حملوں کے دوران مختلف عرب ممالک کی فضائی، زمینی اور آبی حدود کا استعمال کیا گیا تھا۔
یہ سفارتی لفظی جنگ اس وقت شروع ہوئی جب اردن کی وزارتِ خارجہ نے کویت میں ایرانی کارروائیوں اور حملوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں “وحشیانہ” قرار دیا تھا۔ اردنی بیان میں کہا گیا تھا کہ یہ اقدام قومی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی، خطے کی سلامتی و استحکام کے لیے شدید خطرہ اور بین الاقوامی قوانین سمیت اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
دوسری جانب قطر کی وزارتِ خارجہ نے بھی کویت کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے باضابطہ بیان میں متنبہ کیا تھا کہ اس قسم کے حملے خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور امن و استحکام قائم کرنے کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے منگل کے روز ایران میں جاری امریکی فضائی حملوں کے دوران ایک شادی کی تقریب پر ہونے والی بمباری اور اس کے نتیجے میں متعدد عام شہریوں کی ہلاکت کی باضابطہ اور اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
امریکی جریدے ‘ایگزیوس’ کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے موقف اختیار کیا ہے کہ ابھی تک اس بات کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ یہ المناک واقعہ براہِ راست امریکی حملے کا نتیجہ تھا یا نہیں، تاہم اگر تحقیقات میں اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ چھ ماہ قبل امریکہ اور ایران کے درمیان شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے عام شہریوں کی ہلاکتوں کا سب سے بڑا واقعہ شمار ہوگا۔
ایگزیوس سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی حکام نے انکشاف کیا کہ سینٹکام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے بدھ کے روز اس واقعے کا فوری طور پر اندرونی جائزہ لینے کے سخت احکامات جاری کر دیے ہیں۔
یہ پیشرفت عالمی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کی اس رپورٹ کے فوراً بعد سامنے آئی ہے جس میں اسلحہ جات کے ماہرین کی تجزیاتی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ ایرانی شہر ‘کوہستک’ میں شادی کی تقریب پر ہونے والا ہولناک دھماکہ ممکنہ طور پر امریکی گائیڈڈ ہتھیار کے براہِ راست ٹکرانے کے باعث ہوا، اور یہ کسی ایرانی فضائی دفاعی میزائل کی غلط سمت یا بالواسطہ ٹکراؤ کا نتیجہ نہیں تھا۔
واضح رہے کہ اس چھ ماہ طویل جنگ کے دوران عام شہریوں کی ہلاکت کا سب سے بڑا اور ہولناک واقعہ جنگ کے بالکل پہلے دن پیش آیا تھا، جب ایرانی شہر کے ایک سکول پر امریکی فضائی حملے میں ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں بچوں کی اکثریت شامل تھی۔ امریکی فوجی حکام کے مطابق سکول پر ہونے والے اس حملے کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ بھی جلد مکمل کر کے عام کی جائے گی۔
عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی ممکنہ مسلح تنازعہ یا جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باعث بحری آمدورفت میں خلل کے اثرات صرف خلیجِ فارس تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں بڑھنے، پیداواری لاگت میں اضافے اور عالمی طلب میں شدید کمی کا خدشہ ہے۔
عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ جامع رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز خلیجِ فارس کو بحرِ ہند سے ملانے والی دنیا کی سب سے اہم اور حکمتِ عملی کے حامل آبی گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا بھر کے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کے سب سے بڑے حصے کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سپلائی چینز، بین الاقوامی تجارت، صنعت اور عالمی ملازمتوں کے شعبے کو تباہ کن حد تک متاثر کر سکتی ہے۔
دنیا کے 80 ممالک کے اعداد و شمار پر مبنی ایک حالیہ تجزیے کے مطابق اس جغرافیائی بحران کے نتیجے میں 61 ممالک میں 90 فیصد سے زیادہ محنت کشوں اور کارکنوں کی حقیقی آمدنی میں واضح کمی واقع ہوگی۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کمبوڈیا، یوکرین اور ویتنام ان ممالک میں شامل ہیں جہاں کے مزدوروں اور صنعتوں کو سب سے زیادہ مالی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔
اس کے برعکس تیل برآمد کرنے والے ممالک جن میں نائجیریا، انگولا، آسٹریلیا، برونائی دارالسلام، قازقستان، ناروے اور روس شامل ہیں، اس بحران کے اثرات سے نسبتاً محفوظ رہیں گے کیونکہ ان ممالک میں 20 فیصد سے بھی کم کارکنوں کی آمدنی متاثر ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
عالمی بینک کے تجزیے کے مطابق توانائی کی قیمتیں بڑھنے سے ٹیکسٹائل، زراعت اور پلاسٹک کے شعبے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، جبکہ خام تیل نکالنے کا شعبہ ان چند شعبوں میں شامل ہے جو بلند عالمی قیمتوں سے مستفید ہو سکتا ہے۔ چین کی الیکٹرانکس انڈسٹری اور زراعت کا شعبہ بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے کیونکہ کیمیائی کھادوں، زرعی ادویات، ایندھن اور نقل و حمل کی لاگت میں براہِ راست اضافہ ہو جائے گا۔
عالمی بینک نے دنیا بھر کی حکومتوں کو تجویز دی ہے کہ وہ مزدوروں کے روزگار کو بچانے کے لیے فنی تربیت اور دوبارہ مہارت حاصل کرنے کے پروگرامز شروع کریں، جبکہ خوراک درآمد کرنے والے کم آمدنی والے ممالک کو توانائی کی قیمتوں میں اچانک اضافے کی صورت میں فوری طور پر سبسڈی، نقد امداد اور سماجی تحفظ کے پروگرامز فعال کرنے کی تیاری رکھنی چاہیے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اعادہ کیا ہے کہ پاکستان عالمی امور اور کثیرالجہتی نظام میں اقوام متحدہ کے موثر اور فعال کردار کی مسلسل حمایت جاری رکھے گا، جبکہ موجودہ پیچیدہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم اور بین الاقوامی تعاون کو مزید مستحکم بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جمعہ کے روز جاری کیے گئے باضابطہ بیان کے مطابق، ان خیالات کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کے امیدوار سفیر اولارا اوتونو سے ایک اعلیٰ سطح کی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر یوگنڈا کے صدر کے خصوصی ایلچی اور سابق وزیراعظم روہاکانا روگونڈا بھی ان کے ہمراہ تھے۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ نے بھی شرکت کی اور اہم سفارتی امور پر گفتگو کی گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے منشور، عالمی قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں کے احترام کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے بنیادی منشور سے مکمل وابستگی رکھتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ کے آئندہ منتخب ہونے والے سیکرٹری جنرل عالمی ادارے کے تینوں بنیادی ستونوں یعنی امن و سلامتی، اقتصادی و سماجی ترقی اور انسانی حقوق پر یکساں اور متوازن توجہ مرکوز کریں گے۔
سفیر اولارا اوتونو نے کثیرالجہتی نظام کے فروغ، اقوام متحدہ کے مشنز اور عالمی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کی دہائیوں پر محیط اور تاریخی خدمات کو زبردست الفاظ میں سراہا اور پاکستان کی فعال عالمی قیادت پر تشکر کا اظہار کیا۔
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق معاملے میں ہونے والی اہم اور مثبت پیش رفت کا پرجوش خیرمقدم کیا ہے اور شامی حکومت کی جانب سے اپنی سرزمین پر کیمیائی ہتھیاروں کی سرگرمیوں کا خاتمہ کرنے کے عزم کو سراہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان نے باقی ماندہ ستائیس میں سے انیس زیرِ التوا امور کے حل کے لیے فریقین کے درمیان مسلسل روابط اور باہمی تعاون کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص شام کے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق خصوصی بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے شامی عرب جمہوریہ کی جانب سے ارسال کردہ تازہ ترین مراسلات اور تعاون کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے بتایا کہ شامی حکومت نے کیمیائی ہتھیاروں کی سرگرمیوں سے وابستہ مختلف مقامات اور حال ہی میں ظاہر کی گئی دو اہم ذخیرہ گاہوں کے جائزوں سے متعلق اہم تفصیلات فراہم کی ہیں۔
سفیر عثمان جدون نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شامی حکومت کی جانب سے حاصل کی جانے والی پیش رفت تحسین اور حوصلہ افزائی کی مستحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو حتمی انجام تک پہنچانے کے لیے آگے بڑھنے کا واحد راستہ شام اور کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم کے ٹیکنیکل سیکریٹریٹ کے درمیان قائم تعاون، باہمی اعتماد اور شفافیت کی فضا کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
پاکستانی مندوب نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ضروری تکنیکی معاونت، ماہرانہ مشورے اور صلاحیتوں میں اضافے کے لیے شام کو تعاون فراہم کرے تا کہ باقی ماندہ امور جلد از جلد حل ہو سکیں۔ انہوں نے پاکستان کی طرف سے شام کی خودمختاری، قومی وحدت اور علاقائی سالمیت کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ بھی کیا۔
سفیر عثمان جدون نے پاکستان کا اصولی موقف دہرااتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی بھی فرد، تنظیم یا فریق کی جانب سے دنیا میں کسی بھی مقام پر اور کسی بھی حالت میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی سخت مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کا عالمی معاہدہ بین الاقوامی تخفیفِ اسلحہ اور عدمِ پھیلاؤ کے نظام کا بنیادی ستون ہے، اور پاکستان اس کے بلا تفریق اور مؤثر نفاذ کا حامی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ مسلسل تکنیکی تصدیق، آزادانہ جائزہ اور عالمی تعاون کے نتیجے میں تمام زیرِ التوا مسائل احسن طریقے سے حل ہو جائیں گے اور شام کا کیمیائی ہتھیاروں کا معاملہ کامیابی سے اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا۔
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے نامور کشمیری رہنما اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک نے سرینگر کی خصوص عدالت کے سامنے ایک انتہائی اہم اور تہلکہ خیز حلف نامہ پیش کرتے ہوئے اپنے خلاف قائم مقدمے کا مزید دفاع کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے اور عدالت سے استدعا کی ہے کہ انہیں فوری طور پر سزائے موت سنائی جائے۔
یہ غیر متوقع اور ڈرامائی پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی ریاستی تحقیقاتی ایجنسی نے اپنی جدید ترین فردِ جرم میں یاسین ملک کو سن 1990ء میں پیش آنے والے سرلا بھٹ قتل کیس کا مرکزی منصوبہ ساز قرار دیا۔ اس کیس میں یاسین ملک پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے اسپتال میں کام کرنے والی نرس کے قتل کا حکم جاری کیا تھا۔
یاسین ملک کے قانون دان ابو عادل پنڈت نے سرینگر میں متعلقہ عدالت کے جج کے سامنے یہ دستی حلف نامہ جمع کرایا۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ان کی حال ہی میں نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں یاسین ملک سے تفصیلی ملاقات ہوئی تھی جہاں قید کے دوران انہوں نے یہ تحریر لکھی اور اسے عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیا۔ اس قانونی دستاویز پر یاسین ملک کے انگوٹھے کے نشان کے ساتھ ساتھ تہاڑ جیل کے نائب ناظم کی باضابطہ مہر اور دستخط بھی ثبت ہیں، جبکہ بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی اور تہاڑ جیل کے حکام نے بھی اس تحریر کی مکمل تصدیق کی ہے۔
تہاڑ جیل سے بھیجے گئے اس طویل حلف نامے کو یاسین ملک نے عدالتی نظام کے سامنے اپنا حتمی اور آخری بیان قرار دیا ہے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ مذہبی استخارے، تلاوت اور اپنے موجودہ نامساعد حالات پر طویل غور و فکر کے بعد انہوں نے یہ حتمی فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے خلاف دائر کیے گئے اس مقدمے کی مزید کوئی قانونی پیروی یا دفاع نہیں کریں گے۔ انہوں نے عدالت پر واضح کیا کہ ان کے اس فیصلے کو کسی بھی صورت میں جرم کا اعتراف یا سرکاری و تحقیقاتی اداروں کے الزامات کی تسلیم سے تعبیر نہ کیا جائے، کیونکہ وہ اس قتل میں کسی بھی طور پر ملوث نہیں ہیں، بلکہ وہ اس نظامِ عدل سے مایوس ہو کر خود کے لیے سزائے موت کی مانگ کر رہے ہیں۔
اس حلف نامے کا ایک انتہائی دردناک اور سنسنی خیز پہلو یہ ہے کہ قیدِ تنہائی کاٹنے والے کشمیری رہنما نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مقیم اپنی اہلیہ مشال ملک کو بھی اس تحریر کے ذریعے نکاح سے آزاد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ وہ اپنی شریکِ حیات کو مزید کسی بندھن یا انتظار کی صعوبت میں نہیں رکھنا چاہتے، اس لیے وہ انہیں مکمل طور پر آزاد کرتے ہیں۔
حلف نامے کے متن کے مطابق بھارت کے تحقیقاتی افسران نے جون دو ہزار چھبیس کے پہلے ہفتے میں تہاڑ جیل میں یاسین ملک سے کئی گھنٹے تفتیش کی تھی۔ اس تفتیش کے دوران ان سے ایک ایسے دستی نوٹ کے بارے میں سوالات پوچھے گئے جو مبینہ طور پر دہائیوں قبل جائے وقوعہ سے ملا تھا اور جس کی بنیاد پر ان پر اس قتل کی ہدایت دینے کا الزام لگایا گیا۔ یاسین ملک نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد اور گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا اس واقعے سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔
حلف نامے میں یاسین ملک نے ماضی کے کئی پردے بھی چاک کیے ہیں اور بھارت کی سابق حکومتی قیادت کے ساتھ اپنے تعلقات کی تفصیلی معلومات فراہم کی ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سال دو ہزار میں جیل سے رہائی کے بعد اس وقت کی بھارتی حکومت نے ان کے ساتھ باقاعدہ بات چیت اور مذاکراتی عمل کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت کی بھارتی قیادت کے نمائندوں بشمول اجیت دوول اور دیگر اعلیٰ سلامتی و استخباراتی حکام نے ان سے متعدد ملاقاتیں کی تھیں اور انہی رابطوں کے نتیجے میں بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت کی راہ ہموار کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے امریکہ میں اپنے علاج و معالجے کے سلسلے میں بھارتی حکومت کی جانب سے کی جانے والی مالی امداد کی تفصیلات بھی اس حلف نامے میں درج کی ہیں۔
یاسین ملک کے اس قدم نے کشمیری سیاست اور قانون دانوں کے حلقوں میں ایک نیا زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک اہم رہنما کی طرف سے مقدمے کے دفاع سے انکار اور سزائے موت کا مطالبہ کرنا بھارت کے قضائی اور تحقیقاتی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ حریت پسند حلقوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ یاسین ملک کا یہ بیانیہ ان کی ثبات قدمی اور مسلسل جدوجہد کی علامت ہے۔
فی الوقت سرینگر کی عدالت اور بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی نے اس حلف نامے کو اپنے ریکارڈ کا حصہ بنا لیا ہے اور اس کیس کی اگلی سماعت پر اس قانونی نقطے کا جائزہ لیا جائے گا کہ جب ملزم خود اپنا دفاع کرنے سے انکار کر دے اور سزائے موت کی استدعا کرے تو ایسی صورت میں کارروائی کو کس سمت میں آگے بڑھایا جانا چاہیے۔
پاکستان اور آسٹریلیا نے زراعت، جدید زرعی تحقیق، موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مقاومت، زرعی حیاتیاتی تحفظ ، اور واٹر مینجمنٹ کے شعبوں میں دوطرفہ سٹریٹجک تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔
وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے جاری باضابطہ اعلامیے کے مطابق، وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین سے آسٹریلین سینٹر فار انٹرنیشنل ایگریکلچرل ریسرچ کی جنرل منیجر ڈاکٹر سوزی نیومین اور آسٹریلوی ہائی کمشنر نے اسلام آباد میں ایک اہم ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے 1984ء سے جاری پاک آسٹریلیا زرعی تحقیقی شراکت داری کو سراہتے ہوئے زور دیا کہ سائنس اور تحقیق کو محض دستاویزات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی، قابلِ توسیع اور کسان دوست حل میں تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے خصوصاً آبی انتظام، فصلوں کی بہتری، باغبانی اور زرعی ویلیو چینز میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے پر زور دیا۔
گفتگو میں پاکستان کی زرعی اور باغبانی مصنوعات کی آسٹریلین مارکیٹ تک رسائی اور نباتاتی صحت کے بین الاقوامی معیارات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے کیڑوں کی جدید شناخت، مالیکیولر تشخیص، ڈی این اے بارکوڈنگ، جی آئی ایس پر مبنی نگرانی، اور ٹڈی دل سے نمٹنے کے لیے ماحول دوست نظام تشکیل دینے کی تجاویز پیش کیں۔
ملاقات میں اے سی آئی اے آر کے مالی تعاون سے ‘جنوبی دریائے سندھ کے طاس میں آبی لچک اور دیہی روزگار میں بہتری’ کے جاری منصوبے کا جائزہ بھی لیا گیا۔ آسٹریلوی وفد نے پاکستانی اداروں کے ساتھ تکنیکی تبادلے اور کسانوں کے عملی فائدے کے لیے نتائج پر مبنی تحقیقی منصوبوں کو آگے بڑھانے کے مکمل عزم کا اعادہ کیا۔
ایران پر امریکی فورسز کے حالیہ شدید ترین فضائی و میزائل حملوں کے نتیجے میں اہم ایرانی عسکری اثاثوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو پہنچنے والے شدید نقصان کی پردہ کشائی ہوئی ہے، جہاں ایرانی کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘تسنیم نیوز’ نے تین اعلیٰ ایرانی فوجی پائلٹس کی شہادت کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔
بی بی سی فارسی کی رپورٹ کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے قریب سمجھے جانے والے ابلاغی ادارے تسنیم نیوز نے بتایا کہ دو رات قبل ایران کے مختلف حساس عسکری مراکز پر ہونے والی امریکی فضائی بمباری میں تین ایرانی فوجی پائلٹس ہلاک ہوئے، تاہم ایجنسی کی جانب سے فی الوقت سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں کہ پائلٹس کو کس مخصوص مقام پر ہدف بنایا گیا۔
تسنیم نیوز کے جاری کردہ ناموں کے مطابق ہلاک ہونے والے پائلٹس میں مجتبیٰ باقری، ایرانی بحریہ کے پائلٹ حامد اوکاٹی اور ایرانی فضائیہ کے پائلٹ حسین مہدویان شامل ہیں۔ ایک علیحدہ مفصل رپورٹ میں تسنیم نیوز نے ایرانی آرمی فورسز (ارتش) کے مزید چھ ارکان کی ہلاکت کے نام بھی جاری کیے جو ملک کے جنوبی حصوں میں امریکی حملوں کا نشانہ بنے۔
یاد رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب ایک طویل وقفے کے بعد جنوبی ایران کے متعدد شہروں، پورٹس اور عسکری سائٹس پر خوفناک بمباری کی تھی۔
ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق، سرک کے علاقے کوہستک پر حملے کے علاوہ خوزستان کے اہم صنعتی اور شہری علاقوں اہواز اور آغاجاری میں کیے گئے امریکی حملوں میں سات افراد ہلاک اور آٹھ شدید زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں کم از کم ایک شخص کی شناخت ‘عوامی سکیورٹی فورسز’ کے رکن کے طور پر کی گئی ہے۔
علاوہ ازیں، پاسدارانِ انقلاب نے بھی باضابطہ تصدیق کی تھی کہ صوبہ کرمانشاہ میں آئی آر جی سی کی ایرو سپیس فورس کے چار سینئر ارکان شہید ہوئے ہیں، جبکہ خلیج فارس میں واقع تزویراتی لاوان جزیرے پر امریکی بمباری کے نتیجے میں رضاکار بسیج فورس کے بھی تین اہلکار مارے گئے ہیں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید عسکری محاذ آرائی اور سمندری ناکہ بندی کے تناظر میں ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے امریکہ کو سخت خبردار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ ایران کی منشا اور مرضی کے بغیر کبھی نہیں کھولی جائے گی۔
بی بی سی فارسی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے اپنے ایک اہم اور تند و تیز بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ حالیہ خوفناک جنگ کے برپا ہونے کے بعد امریکی افواج اور بحری بیڑے خوف کے باعث ایرانی سرحدوں سے تقریباً 500 میل دور پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرانے میں ناکامی کے باعث اب بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر جارحانہ اقدامات کر رہا ہے۔
ابراہیم عزیزی کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران امریکہ کی ہر قسم کی گیدڑ بھبکیوں اور عسکری دھمکیوں کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر اپنی بے پناہ عسکری طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہے اور سمندری سرحدوں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکی فضائیہ اور بحریہ نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں اور بندرگاہوں پر کئی ہلاکت خیز حملے کیے ہیں۔ امریکی پینٹاگون اور سنٹرل کمانڈ نے ان کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے اور بین الاقوامی تجارتی و تیل بردار بحری جہازوں پر ڈرون و میزائل حملے کرنے کی ایرانی عسکری صلاحیت کو محدود کرنا تھا۔
دوسری جانب، ایران نے امریکی فضائی حملوں کا سخت جوابی ردِعمل دیتے ہوئے اردن، کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات میں واقع متعدد امریکی عسکری اڈوں اور ایئر بیسز پر پے در پے بیلسٹک میزائلوں اور انتحاری ڈرونز سے تابڑ توڑ حملے کیے ہیں، جس کے باعث پورے خلیجی خطے میں عالمی توانائی اور بحری تجارت کا نظام شدید بحران کا شکار ہو گیا ہے۔
روسی فیڈریشن نے امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کی جانب سے دنیا بھر کے ممالک کو ایران کے ساتھ اپنے تمام تر تعلقات، معاشی روابط اور سفارتی حمایت فوری طور پر ختم کرنے کی کھلی اپیل کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے حال ہی میں واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران دھمکی آمیز انداز میں کہا تھا کہ امریکہ تہران پر تاریخی اور غیر معمولی سطح کی اقتصادی پابندیاں عائد کر رہا ہے اور جاری عسکری تنازع کو ختم کرنے کا سب سے تیز ترین طریقہ یہی ہے کہ کوئی بھی ملک یا غیر ملکی حکومت ایرانی حکومت کی کسی قسم کی مدد نہ کرے۔
امریکہ کے اس یکطرفہ مؤقف اور تسلط پسندانہ حکمتِ عملی پر روس اور چین سمیت متعدد عالمی طاقتوں نے انتہائی سخت اور برہم ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔
روسی نیوز ایجنسی ’انٹرفیکس‘ کے مطابق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے جمعرات کے روز ماسکو میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایران جیسے ممالک روس کے قابلِ اعتماد شراکت دار اور دیرینہ دوست ہیں، اور ماسکو ان کے ساتھ اپنے دوستانہ، تجارتی اور سٹریٹجک تعلقات کو نہ صرف برقرار رکھے گا بلکہ انہیں مزید گہرا اور مضبوط بنائے گا۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے امریکی دھمکیوں کو آئندہ کے لیے بے اثر قرار دیتے ہوئے صراحت کے ساتھ کہا کہ امریکہ اب اس پوزیشن یا دنیا کے اس مقام پر بالکل قائم نہیں رہا کہ وہ دوسرے آزاد اور خودمختار ممالک کے دوطرفہ اور عالمی تعلقات پر اپنی ‘اجارہ داری’ اور مرضی قائم کر سکے۔
ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور نے ایک باضابطہ عسکری بیان جاری کرتے ہوئے امریکہ پر شدید الزام عائد کیا ہے کہ وہ سرک کاؤنٹی کے ساحلی علاقے کوہستک میں ایک شادی کی تقریب پر ‘دانستہ’ اور بزدلانہ فضائی حملے کی تردید کر کے اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری سے بچنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔
بی بی سی فارسی کی رپورٹ کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں امریکہ کے ماضی کے عسکری ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان، عراق اور یمن میں بھی امریکی افواج کی جانب سے اسی طرح شادی کی پرمسرت تقریبات اور عام شہریوں کے اجتماعات پر ہلاکت خیز حملے کیے گئے تھے، اور اب وہی بھیانک تاریخ ایران کے اندر دہرائی جا رہی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے امریکہ کو براہِ راست سخت ترین سٹریٹجک دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فورسز کی اس جارحیت اور بے گناہ شہریوں کے خون کا حساب ہر صورت لیا جائے گا اور اس کا ایسا دندان شکن جواب دیا جائے گا جسے واشنگٹن مدتوں یاد رکھے گا۔
واضح رہے کہ ایران کے صوبہ ہرمزگان کے امدادی حکام اور ریڈ کریسنٹ کے مطابق کوہستک میں شادی کے گھر پر امریکی فضائی بمباری کے اثرات پڑنے سے ایک معصوم بچے سمیت چار افراد موقع پر ہی ہلاک جبکہ 60 سے زائد افراد شدید زخمی ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب، پینٹاگون اور امریکی عسکری حکام نے شہریوں کو دانستہ نشانہ بنانے کے تمام تر ایرانی الزامات کو سختی سے رد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ منگل کی شب کیے گئے فضائی آپریشنز کا اصل ہدف صرف اور صرف پاسدارانِ انقلاب اسلامی کی فوجی تنصیبات، کمانڈ سینٹرز اور عسکری اڈے تھے۔
خلیجی خطے میں برپا تباہ کن عسکری محاذ آرائی میں ایران نے پے در پے کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت میں قائم معروف امریکی عسکری مرکز ‘احمد الجابر ایئر بیس’ اور متحدہ عرب امارات کی ‘المنہاد ایئر بیس’ پر سنگین اور تباہ کن میزائل و ڈرون حملے کیے ہیں۔
ایرانی افواج کے شعبہ دفاع و تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جمعرات کی صبح جاری کردہ باضابطہ عسکری اعلامیے کے مطابق، ایرانی سپاہ اور بری فورسز نے جدید بیلسٹک و کروز میزائلوں اور بارود سے لیس ’انتحاری‘ ڈرونز کی مدد سے کویت میں واقع ‘احمد الجابر ایئر بیس’ پر قائم اہم امریکی سیٹلائٹ مواصلاتی نظام، عسکری آلات کے گوداموں اور امریکی لڑاکا طیاروں کے بم پروف ہینگروں کو براہِ راست اور کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی افواج کے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان اچانک اور جرات مندانہ حملوں کے نتیجے میں امریکی فوج کے حساس ترین سیٹلائٹ مواصلاتی نظام، ڈیٹا سنٹرز اور متعدد جدید لڑاکا طیاروں کی بیرکس اور ہینگرز کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
اسی تسلسل میں ایرانی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے متحدہ عرب امارات میں واقع ‘المنہاد ایئر بیس’ کو بھی دوبارہ نشانہ بنایا، جہاں امریکی عسکری اہلکاروں کی رہائش گاہوں، بیرکس اور الرٹ پر موجود اعلیٰ طاقت والے ریڈار سسٹمز کو یک مشت تباہ کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب، ان ایرانی دعووں سے چند ہی لمحے قبل کویتی افواج کے کمانڈر انچیف اور وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں تصدیق کی تھی کہ ایران کی سمت سے آنے والے درجنوں مشتبہ ڈرونز اور کروز میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کرنے کے لیے کویت کا قومی فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر فعال اور آپریشنل کر دیا گیا ہے جبکہ شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
اقوامِ متحدہ میں جمہوریہ اسلامی ایران کے دائمی مشن نے امریکہ پر ایران کے متعدد گنجان آباد شہروں میں عام شہریوں پر دانستہ حملے کرنے کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ بے گناہ شہریوں اور معصوم بچوں کو گولا باری کا نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کی سنگین ورزی اور ایک صریح ‘جنگی جرم’ ہے۔
اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر اور ڈپٹی ہیڈ آف مشن غلام حسین درزی نے عالمی ادارے کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کو ارسال کردہ اپنے ہنگامی اور باضابطہ خط میں یکم ستمبر کو ہونے والے بھیانک امریکی فضائی حملوں کا تفصیل سے حوالہ دیا ہے۔ انہوں نے اپنے مکتوب میں مؤقف اختیار کیا کہ جنوبی ایران کے سرحدی و ساحلی شہروں میں رہائشی علاقوں اور شہری اہداف کو دانستہ اور حکمتِ عملی کے تحت تباہ کیا گیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مارچ 1404 (شمسی ہجری تقویم) میں حالیہ خونریز جنگ کے برپا ہونے کے بعد سے واشنگٹن انتظامیہ نے مسلسل سویلین آبادی، عوامی مقامات اور قومی بنیادی ڈھانچے کو ہدف بنایا ہے۔ ان حملوں میں سکول، ہسپتال، ایئرپورٹس، رہائشی کالونیاں، پل، سڑکیں اور ریلوے کی حساس تنصیبات شدید متاثر ہوئی ہیں۔
ایران کے ہرمزگان صوبے میں امدادی ٹیموں اور ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے حکام کے مطابق کوہستک کی بندرگاہ کے قریب ہونے والے تازہ حملے میں ایک معصوم بچے سمیت چار افراد ہلاک جبکہ 60 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
دوسری جانب امریکی عسکری حکام اور پینٹاگون نے سویلینز کو دانستہ نشانہ بنانے کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ منگل کی شب کیے گئے فضائی حملوں میں صرف پاسدارانِ انقلاب اسلامی کی عسکری تنصیبات اور کمانڈ سنٹرز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
تاہم، کوہستک میں شادی ہال کے وقوعہ کا باریک بینی سے جائزہ لینے پر بی بی سی فارسی کے ‘فیکٹ فائنڈنگ ڈیپارٹمنٹ’ نے مشاہدہ کیا کہ تباہ شدہ شادی ہال قریبی ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور سے کم از کم 110 میٹر کی دوری پر واقع تھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر امریکی حملے کا اصل ہدف وہ مواصلاتی ٹاور تھا جو غلط نشانہ دہی یا ضمنی تباہی کے باعث قریبی آبادی پر اثر انداز ہوا۔
ایران اور امریکی فورسز کے درمیان جاری 40 روزہ ہلاکت خیز جنگ کے دوران امریکی فضائیہ نے پیر اور منگل کی درمیانی شب مختلف ایرانی صوبوں پر شدید ترین بمباری کی ہے، جس کے نتیجے میں ایک خاتون، بچے، سیکیورٹی اہلکاروں اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈوز سمیت 18 افراد ہلاک جبکہ 108 سے زائد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔
ایران کے وزیرِ صحت محمد رضا ظفرقندی نے میڈیا کو جاری کردہ ایک اہم ہنگامی اعلان میں امریکی حملوں کی ہلاکتوں کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ رواں 40 روزہ جنگ کے دوران ہونے والے خطرناک اور شديد ترین امریکی حملوں میں سے ایک تھا جس نے مختلف صوبوں کے کئی رہائشی و عسکری سائٹس کو نشانہ بنایا۔
رپورٹس کے مطابق امریکی بمباری کے دوران سیرِک کے پہاڑی علاقے کو بھی ہدف بنایا گیا، جہاں ایک گھر میں جاری شادی کی پرمسرت تقریب پر حملہ آور بمباری کے اثرات پڑے اور ایک بچے و خاتون سمیت چار افراد جان بحق اور 65 افراد زخمی ہو گئے۔ ہرمزگان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے صدر پژمان شاہروخی نے بتایا کہ سیرِک کے اس واقعے کے 6 زخمی انتہائی نگہداشت کے وارڈ اور 26 سرجیکل وارڈز میں شدید حالت میں زیرِ علاج ہیں۔
بی بی سی فارسی کی جانب سے رابطہ کرنے پر امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے ان ہلاکت خیز حملوں کی تردید نہیں کی اور موقف اپنایا کہ امریکی فوج ان رپورٹس سے مکمل طور پر ‘آگاہ’ ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی افواج کبھی شہریوں کو نشانہ نہیں بناتیں۔
امریکی ایئر سٹرائیکس کے مزید اثرات خوزستان صوبے میں اہواز اور آغاجاری کے مختلف مقامات پر دیکھنے کو ملے جہاں بمباری سے سات افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ‘عوامی سکیورٹی فورسز’ کا اہم رکن بھی شامل ہے۔
اس کے علاوہ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے باضابطہ تصدیق کی ہے کہ صوبہ کرمانشاہ میں آئی آر جی سی کی ایرو سپیس فورس کے چار اعلیٰ اہلکار امریکی حملے میں شہید ہو گئے ہیں، جبکہ لاوان جزیرے پر ہونے والے امریکی حملے کے نتیجے میں بسیج فورسز کے بھی تین اہلکار مارے گئے ہیں۔
اسرائیل کے انتہائی متنازع اور صیہونی انتہا پسند وزیرِ دفاع یسرائیل کاٹز نے ایک بار پھر عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی دھجیاں اڑاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ کی پٹی سے فلسطینی شہریوں کی جبرًا جلا وطنی اور نقل مکانی کا منصوبہ اسرائیل کے قومی ایجنڈے سے خارج نہیں کیا گیا ہے۔
عرب نشریاتی اداروں اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، یسرائیل کاٹز نے اپنے ایک بیان میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے شدید سفارتی دباؤ کی وجہ سے فلسطینیوں کو غزہ سے جلا وطن کرنے کے منصوبے کو فی الوقت صرف منجمد کیا گیا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع نے اپنے بیان میں ایک عجیب اور بے بنیاد دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے تقریباً 80 فیصد فلسطینی خود وہاں سے دوسرے ممالک منتقل ہونا چاہتے ہیں، تاہم حماس غزہ کے عام شہریوں کی نقل مکانی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ کاٹز نے مزید کہا کہ جو ممالک فلسطینیوں کی اپنے ہاں آباد کاری پر رضامند ہوئے ہیں، انہوں نے اس عمل کو امریکہ کی مالی و سفارتی مدد سے مشروط کر رکھا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ واشنگٹن فلسطینیوں کی جلاوطنی میں مکمل تعاون فراہم کرے گا۔
دوسری جانب، خطے میں جاری ایران اور امریکہ-اسرائیل کشیدگی پر بات کرتے ہوئے یسرائیل کاٹز نے خبردار کیا کہ ان کا ملک آنے والے یہودی تہواروں کے دوران ایران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ فوجی یا میزائل حملے کا سخت اور بڑے پیمانے پر جواب دینے کے لیے پوری طرح سے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اس وقت آبنائے ہرمز اور عالمی توانائی کی سیکیورٹی سے جڑے واشنگٹن کے مفادات کے پیشِ نظر امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کی قیادت کرنے کا موقع دے رہا ہے، تاہم اگر ایران نے اسرائیل کو براہِ راست نشانہ بنانے کی کوشش کی تو ان کا ملک کسی بھی امریکی یا بین الاقوامی فریق پر انحصار کیے بغیر آزادانہ طور پر انتہائی مہلک فورس کے ساتھ سخت جواب دے گا۔
سابقہ عسکری پیش رفت پر بات کرتے ہوئے کاٹز نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے ‘آپریشن رائزنگ لائن’ کے دوران ایرانی جوہری بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا تھا اور تہران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے تحت اسرائیل اور حماس کے درمیان تاریخی جنگ بندی کا معاہدہ طے پانے کے باوجود غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی ہلاکت خیز کارروائیاں اور فضائی بمباری کا سلسلہ مکمل طور پر نہ تھم سکا، جس کے نتیجے میں رواں سال میں ہی 900 سے زائد فلسطینی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے بی بی سی کی خصوصی تحقیقاتی شاخ ‘بی بی سی ویریفائی’ نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں اس تلخ حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ 10 اکتوبر کو امریکی ثالثی میں جنگ بندی کے باضابطہ اعلان کے بعد سے اب تک غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 1300 سے بھی تجاوز کر چکی ہے، جن میں نا قابلِ یقین حد تک 301 معصوم بچے بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ حماس اور اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی امن فارمولے کو تسلیم کرتے ہوئے تمام تر جنگی کارروائیوں، بشمول فضائی حملوں اور توپ خانے کی شدید بمباری کو فوری طور پر روکنے پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم بی بی سی ویریفائی کی جانب سے کیے گئے درجنوں مستند ویڈیوز اور سیٹلائٹ مناظر کے باریک بینی سے تجزیے نے ثابت کیا ہے کہ جنگ بندی کے معاہدو ں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ساحلِ سمندر پر قائم ایک معروف کیفے، بے گھر افراد کی عارضی خیمہ گاہوں اور وسطی غزہ میں ایک جنازے کے جلوس پر مہلک حملے کیے گئے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار، جن کا بی بی سی نے اپنے آزادانہ تجزیے میں جائزہ لیا ہے، ظاہر کرتے ہیں کہ حالیہ مہینے ہلاکتوں کے لحاظ سے خوفناک ترین رہے ہیں اور رواں سال اپریل سے اگست کے درمیان ہر ماہ 100 سے زائد افراد کی شہادت ریکارڈ کی گئی۔ اگرچہ وزارتِ صحت تمام ہلاکتوں کا ذمہ دار اسرائیلی فوجی آپریشنز کو قرار دیتی ہے اور ہلاک شدگان میں عام شہریوں اور عسکریت پسندوں کی الگ سے درجہ بندی نہیں کرتی، تاہم اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی ماہرین نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا کہ وزارتِ صحت کے یہ ارقام بالکل قابلِ اعتماد اور حقیقت پر مبنی ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی دفاعی افواج نے بی بی سی ویریفائی کو دیے گئے اپنے باضابطہ موقف میں ان ارقام کو سرے سے مسترد کر دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ ماننے کی کوئی منطقی بنیاد نہیں کہ تمام ہلاک شدہ افراد صرف آئی ڈی ایف کی کارروائیوں سے مارے گئے۔ اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے اہلکاروں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے صرف ہنگامی خطرات کے خاتمے کی خاطر معاہدے کے دائرہ کار میں انتہائی درست کارروائیاں کرتی ہے۔
تاہم بی بی سی کی اس خبر میں اس اہم پہلو کو بھی نمایاں کیا گیا ہے کہ رواں سال کے آغاز میں خود اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ ایک سینیئر اسرائیلی سیکیورٹی اہلکار نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ کی اس طویل اور بھیانک جنگ میں اب تک 70 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے صرف 20 ہزار سے زائد جنگجو شامل تھے۔
جنوبی ایران میں ایک شادی کی تقریب پر امریکی میزائل کے ٹکڑے گرنے سے معصوم بچے سمیت چار افراد کی دردناک ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سٹریٹجک جنگ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے تنازع نے جنم لے لیا ہے۔
ایرانی ریڈ کریسنٹ (ہلالِ احمر) کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق یہ المناک واقعہ جنوبی ایران کے ایک رہائشی علاقے میں اس وقت پیش آیا جب ایک گھر میں شادی کی پرمسرت تقریب جاری تھی۔ اس دوران پاس کے علاقے میں ہونے والے امریکی فضائی حملے کے نتیجے میں میزائل کے وزنی ٹکڑے شادی والے گھر پر جا گرے، جس کے نتیجے میں بچے سمیت چار افراد موقع پر ہی ہلاک جبکہ متعدد افراد شدید زخمی ہو گئے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر اس حملے کے بعد کی دل دہلا دینے والی ویڈیو شیئر کی ہے، جس میں تباہ شدہ گھر اور خوشیوں کے ماتم میں تبدیل ہونے کے اثرات کو دیکھا جا سکتا ہے۔
ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے ویڈیو کے ساتھ جاری کردہ پیغام میں امریکی کارروائی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ کی غیر قانونی، غیر اخلاقی اور ظالمانہ جنگ کی بھیانک حقیقت گزشتہ رات پوری دنیا کے سامنے بالکل آشکار ہو گئی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ ویڈیو امریکی فوج کے ہاتھوں کیے جانے والے ‘جنگی جرم کا حقیقی چہرہ’ دکھاتی ہے۔
دوسری جانب امریکی عسکری حکام اور پینٹاگون کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی ایران میں شادی کی تقریب پر میزائل کے ٹکڑے گرنے اور شہریوں کی ہلاکت سے متعلق سامنے آنے والی متعدد میڈیا اطلاعات سے مکمل طور پر آگاہ ہیں، تاہم امریکی فوج نے واضح موقف اپنایا ہے کہ اس کی کارروائیاں صرف عسکری اہداف کے خلاف ہیں اور اس نے شہریوں یا غیر نظامی آبادی کو دانستہ طور پر نشانہ نہیں بنایا ہے۔
ایران اور امریکی اتحاد کے درمیان خطے میں جاری عسکری محاذ آرائی کے تباہ کن اثرات اب خلیجی ممالک کے شہری آبادیوں تک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، جہاں کویت کے دارالحکومت میں ایک رہائشی کمپلیکس پر ایرانی ڈرون گرنے کے نتیجے میں ہولناک آگ بھڑک اٹھی۔
کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے محکمہ فائر بریگیڈ کے ترجمان کا حوالہ دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ایرانی ڈرون نے دارالحکومت کویت سٹی میں واقع ایک بڑے رہائشی کمپلیکس کو نشانہ بنایا جس سے ساہت میں شدید آگ لگ گئی۔ تاہم فائر فائٹرز اور امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر مکمل طور پر قابو پا لیا ہے۔
دوسری جانب ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ بدھ کی صبح جنوبی ایران کی حدود میں امریکی جنگی طیاروں کی شدید بمباری اور فضائی حملوں کے ردِعمل میں اس نے خطے کے مختلف ممالک میں قائم امریکی فوجی تنصیبات کو ایک ساتھ نشانہ بنایا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے بیان کے مطابق ایرانی عسکری فورسز نے اردن، بحرین، کویت اور شمالی عراق کے خود مختار کردی خطے کے دارالحکومت اربیل میں قائم امریکی عسکری اڈوں اور اڈوں پر ایک ہی وقت میں درجنوں بیلسٹک میزائلوں اور جدید ڈرونز سے حملے کیے ہیں۔
عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق خطے کی چار ریاستوں میں قائم امریکی تنصیبات پر ایک ساتھ اتنے بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے اور خلیجی شہروں کی آبادیوں پر اس کے اثرات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ اب ایک نا قابلِ کنٹرول اور ہمہ گیر جنگ کے دھانے پر پہنچ چکا ہے۔