وزیراعظم شہباز شریف کی بشکیک میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے اہم ملاقات: دوطرفہ تعلقات، تجارتی تعاون اور علاقائی امن پر تفصیلی گفتگو

محمود احمد, August 31,2026

بشکیک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کے 25ویں اجلاس کے موقع پر ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ایک اہم اور اعلیٰ سطحی دوطرفہ ملاقات کی ہے۔

پاکستانی وزیراعظم آفس سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان دہائیوں پر محیط قریبی، تاریخی اور دیرینہ برادرانہ تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے باہمی تجارتی و معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ ملاقات کے دوران رواں سال جون میں صدر مسعود پزشکیان کے دورۂ پاکستان کے موقع پر ہونے والے اہم فیصلوں اور معاہدوں پر جلد از جلد عملدرآمد کی ضرورت اور اہمیت پر زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے علاقائی روابط اور عوامی سطح پر تعلقات کے فروغ کے لیے جاری مختلف اقدامات کا تفصیلی جائزہ بھی لیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے اپنی تمام تر سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ اہم دورۂ تہران اور وہاں ایرانی اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت کے ساتھ ہونے والے مثبت رابطوں سے دونوں ممالک اور خطے کی سلامتی کے لیے انتہائی سازگار نتائج کی توقع ہے۔

وزیراعظم نے خطے میں امن کی بحالی کے لیے تمام فریقین کی جانب سے تحمل، بردباری اور مسلسل سفارتی رابطوں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کے تحت طے پانے والی پیش رفت کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔ دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے فعال اور مثبت سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات مشترکہ تاریخ، ثقافت اور گہرے مذہبی رشتوں پر قائم ہیں۔ انہوں نے تجارتی و توانائی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے مسلم دنیا میں باہمی اتحاد اور یکجہتی پر زور دیا۔

ملاقات کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر کو پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی باقاعدہ دعوت دی، جبکہ صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف کو دسمبر 2026ء میں تہران میں منعقد ہونے والے ‘اقتصادی تعاون تنظیم’ کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی باضابطہ دعوت پیش کی۔

وزیر اعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے 25ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک پہنچ گئے

محمود احمد, August 31,2026

بشکیک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے کونسل آف ہیڈز آف سٹیٹ کے 25ویں تاریخی سربراہی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک پہنچ گئے ہیں۔

وزیر اعظم کے دفتر سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق بشکیک کے ماناس بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچنے پر کرغزستان کی کابینہ کے چیئرمین (نائب وزیراعظم) عادلبیک قاسمالیف نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے اعلیٰ سطحی وفد کا گرمجوشی سے پرجوش استقبال کیا۔

ترجمان وزیراعظم کے مطابق اپنے اس اہم تین روزہ سرکاری دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے مرکزی سیشن سے خطاب کریں گے، جس میں علاقائی امن، سلامتی، تجارت، اور موسمیاتی تبدیلی جیسے اہم مسائل پر پاکستان کا موقف پیش کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ شہباز شریف اجلاس میں شرکت کرنے والے مختلف ممالک کے سربراہانِ مملکت اور حکومت کے ساتھ اعلیٰ سطحی دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔

اعلامیے کے مطابق ان اہم ملاقاتوں میں متعلقہ ممالک کے ساتھ پاکستان کے باہمی سفارتی تعلقات کی استواری، تجارت و سرمایہ کاری کے نئے مواقع، علاقائی تعاون اور مشترکہ دلچسپی کے اہم عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے 25ویں تاریخی سربراہی اجلاس کا آغاز: انڈین وزیراعظم نریندر مودی کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے اہم ملاقات

محمود احمد, August 31,2026

بشکیک (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے دو روزہ 25ویں سالگرہ کے تاریخی سربراہی اجلاس کے موقع پر انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ایک اہم اور اعلیٰ سطحی ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی سیکیورٹی اور تجارتی راہداریوں سمیت خطے کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔

کرغزستان میں منعقد ہونے والے اس 25ویں سالگرہ کے یادگار اجلاس میں چین کے صدر شی جن پنگ، روس کے صدر ولادیمیر پوتن، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ایک درجن سے زائد دیگر ممالک کے سربراہانِ مملکت و حکومت شرکت کر رہے ہیں۔ روس، چین، انڈیا، پاکستان، ایران، بیلاروس اور وسطی ایشیا کے چار ممالک اس اہم تنظیم کے باقاعدہ رکن ہیں، اور یہ سربراہی اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب تنظیم اپنے قیام کا ربع صدی کا سفر مکمل کر رہی ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ شنگھائی تعاون تنظیم کے اس ایونٹ کو کثیر قطبی عالمی نظامکے فروغ اور مغربی بلاک کے مقابلے میں خطے کے اتحاد کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

یہ اہم سربراہی اجلاس ایک ایسے انتہائی کشیدہ عالمی تناظر میں منعقد ہو رہا ہے جب روس کے یوکرین پر حملے کو ساڑھے چار سال کا طویل عرصہ بیت چکا ہے، جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری ہمہ گیر عسکری جنگ کو چھ ماہ مکمل ہو چکے ہیں۔ ایسے میں ایس سی او اجلاس کو عالمی جیو پولیٹکس میں ایک انتہائی حساس سفارتی موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

گوگل میپس کا بڑا اقدام: امریکی صارفین کے لیے جھیل اونٹاریو کا نام بدل کر ’’لیک امریکا‘‘ کر دیا گیا

محمود احمد, August 31,2026

واشنگٹن/اوٹاوا (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

عالمی ٹیک کمپنی گوگل نے امریکی صارفین کے لیے اپنی مشہور زمانہ سروس ‘گوگل میپس’ پر کینیڈا اور امریکہ کی مشترکہ سرحد پر واقع تاریخی جھیل ‘اونٹاریو’ کا باقاعدہ نام تبدیل کرکے ’’لیک امریکا‘‘ کر دیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے پی پی اور بنگلہ دیش کی سرکاری نیوز ایجنسی بی ایس ایس کے مطابق، جغرافیائی نام میں یہ غیر معمولی تبدیلی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جھیل کا نام تبدیل کرنے کے حالیہ باضابطہ اعلان کے بعد کی گئی ہے۔

گوگل کی جانب سے جاری کردہ وضاحت میں بتایا گیا ہے کہ کینیڈا میں موجود صارفین کو ان کے موبائل فونز، ٹیبلیٹس اور کمپیوٹرز پر یہ جھیل بدستور اپنے روایتی نام ’’لیک اونٹاریو‘‘ کے نام سے ہی دکھائی دے گی۔ ماہرین کے مطابق یہ نام 17ویں صدی سے مسلسل استعمال ہو رہا ہے اور اس کی تاریخی جڑیں خطے کی مقامی آبادی کی قدیم زبان اور تاریخ سے گہری جڑی ہوئی ہیں۔ تاہم امریکہ کے اندر گوگل میپس استعمال کرنے والے صارفین کو اب یہ جھیل “لیک امریکا” کے نام سے نظر آئے گی، جبکہ امریکہ اور کینیڈا سے باہر دنیا بھر کے دیگر ممالک کے صارفین کو دونوں نام بیک وقت دکھائی دیں گے۔ ٹیک کمپنی کا کہنا ہے کہ امریکہ میں جغرافیائی ناموں کی اپڈیٹ کے لیے وفاقی حکومت کے سرکاری ڈیٹا بیس ’’یو ایس جیوگرافک نیمز انفارمیشن سسٹم‘‘ کے ڈیٹا کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ دوسری جانب ٹیک کمپنی ‘ایپل’ نے اپنی ‘ایپل میپس’ ایپ پر جھیل کا اصل نام ’’لیک اونٹاریو‘‘ ہی برقرار رکھا ہوا ہے۔

جھیل کے نام کی اس اچانک تبدیلی پر کینیڈین حکام اور اعلیٰ قیادت نے شدید غم و غصے اور ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ کینیڈا کے اہم صوبے اونٹاریو کے وزیرِاعلیٰ ڈگ فورڈ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان حالیہ دنوں میں بڑھتی ہوئی شدید سفارتی اور تجارتی کشیدگی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس صورتحال کو ’’انتہائی افسوسناک‘‘ اور دونوں اتحادی ممالک کو ’’الٹی سمت میں لے جانے‘‘ کے مترادف قرار دیا ہے۔

یہ جغرافیائی اور سفارتی تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور کینیڈا کے درمیان معاشی اور تجارتی جنگ اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی درآمدی و برآمدی مصنوعات پر بھاری جوابی محصولات عائد کر رکھے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز کینیڈا کی آٹو انڈسٹری کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ اب کینیڈا کی ساختہ گاڑیاں، آٹو پارٹس یا کسی بھی قسم کی کینیڈین پروڈکٹس نہیں خریدنا چاہتا۔

صوبہ اونٹاریو کے وزیراعلیٰ ڈگ فورڈ نے ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ تجارتی جنگ دونوں ممالک کے لیے انتہائی تباہ کن ہوگی، لیکن اس کے منفی اثرات امریکہ پر کہیں زیادہ شدید پڑ سکتے ہیں کیونکہ کینیڈا امریکی گاڑیوں اور سپیئر پارٹس کا سب سے بڑا اور بنیادی خریدار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کینیڈا نے امریکی گاڑیوں کا بائیکاٹ کیا تو امریکی آٹو فیکٹریاں بند ہونے کے دہانے پر پہنچ جائیں گی، اور کینیڈین مصنوعات پر ٹیرف لگانا دراصل امریکی عوام کی جیبوں پر ٹیکس کا اضافی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔

واضح رہے کہ ‘جھیل اونٹاریو’ شمالی امریکہ کی پانچ عظیم جھیلوں میں رقبے کے لحاظ سے سب سے چھوٹی جھیل شمار کی جاتی ہے اور یہ جغرافیائی طور پر کینیڈا کے صوبے اونٹاریو اور امریکی ریاست نیویارک کی سرحدوں کے درمیان واقع ہے۔

ایران کا متحدہ عرب امارات میں المنہاد ایئر بیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ: صدر مسعود پزشکیان کی خطے میں بدامنی پر سخت تنبیہ

محمود احمد, August 31,2026

تہران/ابوظہبی (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

ایران کی مسلح افواج نے جاری علاقائی کشیدگی کے دوران ایک اور بڑی عسکری کارروائی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملے کے بعد اب متحدہ عرب امارات میں واقع ‘المنہاد ایئر بیس’ پر موجود امریکی ہیلی کاپٹروں، دفاعی آلات اور فوجی اہلکاروں کی موجودگی کے مخصوص ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی فوجی ذرائع کے مطابق المنہاد ایئر بیس پر یہ کارروائی ڈرونز اور گائیڈڈ راکٹس کے ذریعے کی گئی، جس کا مقصد خطے میں امریکی فورسز کی لاجسٹک اور عسکری نقل و حرکت کو مفلوج کرنا ہے۔ دوسری جانب، اس کارروائی کے فوراً بعد ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اپنے ایک اہم بیان میں خطے کی تشویشناک صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’خطے میں عدم استحکام، جنگ کی شدت اور بدامنی کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے اور یہ صورتحال بلا تفریق تمام ممالک کے لیے سنگین مشکلات اور معاشی بحران پیدا کرے گی۔‘

واضح رہے کہ خلیجی خطے میں ایران، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مابین جاری عسکری کشیدگی اب انتہائی خطرناک موڑ پر داخل ہو چکی ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات اور اردن میں امریکی اڈوں پر مسلسل پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی افواج کے دعووں سے مشرقِ وسطیٰ میں ہمہ گیر جنگ کی لپیٹ میں آنے کے خدشات شدت اختیار کر گئے ہیں۔

چین نے تباہ کن سیلاب کی ویڈیوز کی مبینہ سینسرشپ کا الزام مسترد کر دیا: معلومات ‘شفاف اور بروقت’ جاری کرنے کا دعویٰ

روزینہ اسماعیل, August 31,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

چین نے تبت کے سرحدی علاقوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد معلومات کی شفافیت سے متعلق اٹھنے والے بین الاقوامی سوالات کے جواب میں کہا ہے کہ حکومت آفت کی صورتحال سے متعلق تمام تر معلومات ’کھلے، شفاف اور بروقت انداز میں‘ عوام اور میڈیا کو جاری کر رہی ہے۔

اس سے قبل گزشتہ سنیچر کے روز برطانوی خبر رساں ادارے (بی بی سی) نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ نیپال اور تبت کے درمیان اہم ترین مرکزی سرحدی گزرگاہوں میں سے ایک ‘گییرونگ پورٹ’ میں پانی کے تیز اور تباہ کن بہاؤ سے ہونے والی تباہی کی ڈرامائی اور خوفناک ویڈیو کلپس کو چین کے اندر سوشل میڈیا سے ہٹایا اور سینسر کیا جا رہا ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق اب تک چین کے مرکزی سرکاری ٹیلی ویژن کے اہم نیوز بلیٹن میں اس ہولناک واقعے کی صرف ایک ہی تصویر نشر کی گئی ہے۔

پیر کے روز بیجنگ میں ایک پریس بریفنگ کے دوران جب صحافیوں نے ویڈیو کی مبینہ سینسرشپ اور خبریں چھپانے کے حوالے سے سوال کیا تو چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ‘گو جیاکون’ نے سينسرشپ پر براہِ راست تبصرے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ’آفت سے نمٹنے اور امدادی کارروائیاں ہنگامی بنیادوں پر لیکن انتہائی منظم انداز میں جاری ہیں۔‘

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے عالمی میڈیا اور ناقدین پر سخت تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’چین کو بدنام کرنے یا قدرتی آفت کو بنیاد بنا کر صورتحال کو سنسنی خیز بنانے کی کسی بھی کوشش کو عوامی سطح پر کوئی حمایت حاصل نہیں ہوگی۔‘ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔

امریکی افواج کا جزیرہ لارک پر بڑا حملہ: ایران کے دو راکٹ لانچرز تباہ، جولائی کے بعد پہلا براہِ راست امریکی اقدام

محمود احمد, August 31,2026

واشنگٹن/تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اتوار کی شب امریکی مسلح افواج کی جانب سے خلیجِ فارس میں واقع سٹریٹجک ‘جزیرہ لارک’ پر ایرانی فوج کے دو بڑے لانچرز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جولائی کے اواخر کے بعد سے یہ ایران کی سرزمین پر امریکہ کی جانب سے کیا جانے والا پہلا براہِ راست اور شدید ترین عسکری حملہ ہے۔

امریکی افواج کی یہ سرجیکل کارروائی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب حالیہ چند ہفتوں کے دوران ایران اور امریکہ کے مابین جاری براہِ راست عسکری تصادم کی شدت میں کچھ کمی آئی تھی اور دونوں فورسز کے درمیان جنگ ایک طرح کے تعطل کی کیفیت اختیار کر چکی تھی۔ ایک نامعلوم اعلیٰ امریکی فوجی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ انٹیلی جنس بیسڈ حملہ اس وقت کیا گیا جب پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار آبنائے ہرمز کے سمندری راستوں کی جانب بحری بارودی سرنگیں لے جانے والے گائیڈڈ راکٹ داغنے کی آخری تیاریوں میں المصروف تھے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی پانیوں میں ایرانی فورسز کی جانب سے بچھائی گئی تمام بارودی سرنگیں یا تو مکمل طور پر ناکارہ بنا دی گئی ہیں یا امریکی بحریہ کے قبضے میں لے لی گئی ہیں۔ امریکی صدر نے ایران کو سخت ترین الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں کوئی بھی جہاز، کشتی یا نجی ڈرون جو نئی بارودی سرنگ بچھانے کی کوشش کرے گا، اسے امریکی فورسز فوری طور پر تباہ کر دیں گی۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان اس ہمہ گیر اور تباہ کن جنگ کو شروع ہوئے اب چھ ماہ کا طویل عرصہ بیت چکا ہے، جبکہ دنیا کی سب سے اہم تیل بردار گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ کے عملی کنٹرول اور اسے بین الاقوامی بحری آمد و رفت کے لیے کھلا رکھنے کے معاملے پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان شدید ترین تنازع اور عسکری کشیدگی بدستور جاری ہے۔

ایران کا جزیرہ لارک پر حملے کے بعد شدید ردِعمل: امریکی و اسرائیلی اقدامات کا ’تباہ کن، تکلیف دہ اور سبق آموز‘ جواب دینے کا عزم

محمود احمد, August 31,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

ایران کی پارلیمان کی اہم اور سٹریٹجک ‘قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی’ کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے سٹریٹجک جزیرہ لارک پر ہونے والے حالیہ حملے پر انتہائی سخت اور تند و تیز ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس جارحانہ کارروائی کا تہران کی جانب سے حتمی اور لازمی جواب دیا جائے گا۔

ابراہیم عزیزی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک اہم بیان میں طاقتور لہجہ اپناتے ہوئے لکھا کہ “ہماری دفاعی قوتِ ارادی کو دوبارہ آزمانے” کی دشمنوں کی کوئی بھی نئی کوشش امریکہ اور اسرائیل کی ناکامیوں اور معاشی و جیو پولیٹیکل نقصان کی قیمت کو مزید شدید اور بھاری کر دے گی۔ انہوں نے واضح انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریہ اسلامی ایران اس جارحیت کا انتہائی “تباہ کن، تکلیف دہ اور عبرت ناک سبق آموز” جواب فراہم کرے گا۔

ایرانی رہنما کی جانب سے یہ سخت بیانات ایک ایسے کشیدہ وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کی پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے خلیجِ فارس میں واقع جزیرہ لارک پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں اپنے متعدد عسکری اہلکاروں اور عام شہریوں کی شہادت اور زخمی ہونے کی باضابطہ تصدیق کی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے بھی واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے حملے کے منصوبہ سازوں اور حملہ آوروں کے خلاف فوری اور بھرپور جوابی کارروائی کرنے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔

ایران کا کاظم غریب آبادی کا بڑا اعلان: تہران اور مسقط کے درمیان آبنائے ہرمز میں عارضی سمندری راہداری پر اتفاق، مکمل بحالی امریکی اقدامات سے مشروط

محمود احمد, August 30,2026

تہران/مسقط/ابوظہبی (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے اعلان کیا ہے کہ تہران اور سلطنتِ عمان (مسقط) کے مابین سٹریٹجک آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی سمندری راستے سے بحری جہازوں کی آمد و رفت کو ممکن بنانے کے لیے ایک عارضی سمندری راہداری کے قیام پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران اس دنیا کی سب سے اہم آبی گزرگاہ کو اس وقت تک مکمل اور باضابطہ طور پر نہیں کھولے گا جب تک امریکہ کو اس کے سیکیورٹی و معاشی وعدوں اور ذمہ داریوں پر عمل درآمد کا پابند نہیں بنا لیا جاتا۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سخت موقف اپنائے ہوئے زور دے کر کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی ٹریفک کے لیے بدستور بند ہے اور فی الوقت اگر کوئی تجارتی یا تیل بردار جہاز اس آبی راستے سے گزرتا ہے تو یہ صرف اور صرف ایران کی پیشگی اطلاع اور باضابطہ اجازت سے ہی ممکن ہو پاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عارضی راہداری کا مقصد صرف محدود انسانی اور ضروری مقاصد کی بحالی ہے، لیکن گزرگاہ کے مکمل تحفظ کا انحصار واشنگٹن کے رویے پر منحصر ہے۔

دوسری جانب، مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی معاشی پیش رفت کے تحت متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ملک میں قائم ’بینک مصر‘ کی تمام اماراتی شاخوں کا تفصیلی اور ہنگامی معائنہ مکمل کر لیا ہے۔ اماراتی مرکزی بینک کا یہ اقدام واشنگٹن کی جانب سے عائد کردہ تازہ ترین سخت اقتصادی پابندیوں کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے تحت ‘بینک مصر’ کو امریکی ڈالر اور مالیاتی نظام سے منقطع کر دیا گیا ہے۔ امریکی مالیاتی حکام کے مطابق مصر کے اس مرکزی بینک پر پابندی کا فیصلہ ایران پر سیاسی و معاشی دباؤ کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی وسیع تر عالمی پالیسی کا حصہ ہے۔

پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ترکی پہنچ گئے: مکہ دفاعی معاہدے کے پہلے تاریخی اجلاس میں شرکت متوقع

منصور احمد, August 30,2026

راولپنڈی/استنبول (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اپنے ایک اہم سرکاری دورے پر ترکی کے دارالحکومت انقرہ اور استنبول پہنچ گئے ہیں۔ آئی ایس پی آر نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے اس اعلیٰ سطحی عسکری دورے کی آمد کے علاوہ مزید تکنیکی تفصیلات باضابطہ طور پر جاری نہیں کی ہیں، تاہم عالمی دفاعی حلقوں میں اس دورے کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

آرمی چیف کا یہ دورہ ایک ایسے اہم موڑ پر ہو رہا ہے جب ‘مکہ دفاعی معاہدے’ کے تحت تشکیل دی گئی سٹریٹجک کمیٹی کا پہلا تاریخی اجلاس کل ترکی میں منعقد ہونے جا رہا ہے۔ اس افتتاحی اجلاس میں معاہدے کے تمام رکن ممالک ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے اعلیٰ ترین عسکری اور سیاسی نمائندوں کی شرکت کی مکمل توقع ہے۔ پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار بھی پہلے ہی سے ترکی کے دورے پر موجود ہیں اور وہاں مختلف اہم سفارتی مصروفیات، دوطرفہ میٹنگز اور اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ فی الوقت پاکستانی حکام نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے کے مزید تفصیلات یا مکہ معاہدے کے اجلاس کے ایجنڈے کو خفیہ رکھا ہے۔

سفارتی و دفاعی ذرائع کے مطابق مکہ دفاعی معاہدے میں مستقبل کے اندر مزید اہم مسلم ممالک کی شمولیت کا امکان بھی زیرِ غور لایا جا رہا ہے اور اس تناظر میں عرب جمہوریہ مصر کا نام سرفہرست لیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب اس اتحاد میں اسلامی جمہوریہ ایران کا نام بھی بعض دفاعی خبروں میں سامنے آیا ہے، تاہم ایرانی وزارتِ خارجہ کے سرکاری ترجمان کے مطابق تہران کی جانب سے فی الحال اس تین ملکی سیکیورٹی اتحاد میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے کوئی باضابطہ یا رسمی درخواست پیش نہیں کی گئی ہے۔

مکہ دفاعی معاہدے کے باضابطہ اعلان کے بعد سے ہی بین الاقوامی دفاعی ماہرین اور سیاسی تجزیہ کاروں کی جانب سے اس کی ساخت اور اہداف کے بارے میں متنوع آرا سامنے آ رہی ہیں۔ بعض عالمی ماہرین اس سہ فریقی بلاک کو ایک ’سنی اتحاد‘ یا ’اسلامی نیٹو‘ قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر کے نزدیک یہ دفاعی شراکت داری خطے کے اہم کھلاڑیوں یعنی ایران اور اسرائیل کے لیے ایک واضح سیاسی و سیکیورٹی پیغام فراہم کرتی ہے۔ کچھ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ یہ معاہدہ بنیادی طور پر ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کی جانب سے اپنے سلامتی و دفاعی امور کے لیے امریکہ پر روایتی انحصار کم کرنے کی ایک وسیع تر اور خود مختار حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا تاریخی اجلاس کل استنبول میں منعقد ہو گا: ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کی عسکری و سفارتی قیادت متحرک

کاشف عباسی , August 30,2026

استنبول/انقرہ (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے مابین طے پانے والے تاریخی ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ کے تحت تشکیل دی گئی سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا افتتاحی اجلاس 31 اگست کو استنبول میں منعقد ہو رہا ہے۔ ترکی کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم رسمی بیان کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں تینوں دوست اور برادر اسلامی ممالک کی اعلیٰ ترین سیاسی، سفارتی اور عسکری قیادت ایک ہی میز پر جمع ہو کر خطے کی صورتحال اور مشترکہ دفاع پر تفصیلی غوروخوص کرے گی۔

ترک وزارت خارجہ کی تفصیلات کے مطابق اس تاریخی اجلاس میں ترکی کی جانب سے وزیر خارجہ ہاکان فیدان وزیر برائے قومی دفاع یاشار گولر اور ترک مسلح افواج کے سربراہ جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سمیت پاکستان اور سعودی عرب کے اعلیٰ حکام شرکت کریں گے۔ پاکستان کی نمائندگی کے لیے افواجِ پاکستان کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار پہلے ہی اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ استنبول پہنچ چکے ہیں۔

سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ اجلاس مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم کردہ سہ فریقی تعاون کے فریم ورک کے عین مطابق منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس اجلاس کے بنیادی ینڈے میں شریک ممالک کے درمیان سٹریٹجک، دفاعی، سیکیورٹی، انٹیلی جنس اور جیو پولیٹیکل امور پر باہمی مشاورت اور آپریشنل صلاحیتوں میں اضافہ شامل ہے۔

ترکی کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا یہ پہلا باضابطہ اجلاس ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی و سفارتی تعلقات کو نہ صرف ایک جدید اور مضبوط تر نہج پر استوار کرے گا بلکہ اسے مزید مستحکم بنانے کی جانب ایک انتہائی اہم اور سٹریٹجک قدم بھی ثابت ہو گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی سٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کو وینزویلا کے تیل سے بھرنے کا اعلان: تیل کو امریکی عوام کے لیے ‘تحفہ’ قرار دے دیا

محمود احمد, August 30,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم پالیسی بیان میں اعلان کیا ہے کہ وینزویلا سے حاصل ہونے والے خام تیل کو امریکہ کے خالی ہوتے ہوئے سٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو کو دوبارہ بھرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری کردہ ایک پیغام میں وینزویلا کے تیل کو امریکی عوام کے لیے ایک “تحفہ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سٹریٹجک تیل کے ذخائر کو ہنگامی بنیادوں پر دوبارہ بھرنے کا باقاعدہ عمل بہت جلد شروع کر دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ امریکہ کے سٹریٹجک تیل کے ذخائر حالیہ برسوں کے دوران عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی میں آنے والی شدید رکاوٹوں، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور ایندھن کی عالمی قیمتوں میں اضافے سے نمٹنے کے لیے ریکارڈ سطح پر استعمال کیے گئے ہیں، جس کے باعث ان کی مجموعی مقدار میں تاریخی کمی واقع ہوئی ہے۔ تازہ ترین سرکاری اعدادوشمار کے مطابق امریکی سٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو میں 21 اگست تک تیل کا ذخیرہ تقریباً 290 ملین بیرل تک گر گیا تھا، جو کہ گزشتہ 44 برسوں کی کم ترین سطحوں میں شمار ہوتا ہے۔ امریکہ نے یوکرین پر روس کے حملے اور ایران سے متعلق علاقائی کشیدگی کے دوران، جو بائیڈن اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں کے ادوارِ حکومت میں تجارتی اور معاشی استحکام کے لیے ذخائر سے بڑے پیمانے پر خام تیل مارکیٹ میں جاری کیا تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ جمعے کو یہ رسمی اعلان کیا تھا کہ وینزویلا کی طویل عرصے سے تباہ حال اور معاشی دباؤ کا شکار تیل کی صنعت کی بحالی و پیداوار کے لیے ایک تاریخی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ تاہم، توانائی کے بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے تحت وینزویلا سے امریکہ تک تیل کی فوری اور بڑی مقدار میں سپلائی اتنی آسان نہیں ہوگی۔ ماہرین کے مطابق وینزویلا میں تیل کی پیداوار کو مؤثر اور نمایاں سطح تک بڑھانے کے لیے جدید بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی بحالی، ڈرلنگ ریگز اور وسیع مالیاتی سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہوگی۔

فی الوقت معاشی اور ایندھن کی مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بات مکمل طور پر واضح نہیں ہے کہ وینزویلا کے ساتھ طے پانے والا یہ نیا توانائی معاہدہ امریکی تیل کے ذخائر کو کتنی تیزی سے بھرنے میں مدد دے سکے گا اور آیا قلیل مدت کے دوران امریکی عوام کے لیے ایندھن اور پیٹرولیم مصنوعات کی مقامی قیمتوں پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

راسووا سیلاب کے بعد ملکی انفراسٹرکچر کی سب سے بڑی تباہی: 19 پل متاثر، 40 کلو میٹر طویل سڑک کو نقصان اور متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت

محمود احمد, August 30,2026

کاٹھمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

نیپال میں آنے والے تباہ کن اور اچانک سیلاب کے بعد شدید کٹاؤ کے باعث ملک کی انتہائی اہم اور مرکزی شاہراہ ‘پرتھوی ہائی وے’ کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے، جس سے اہم مواصلاتی رابطے منقطع ہو گئے ہیں۔ نیپال کے شعبہ روڈز (محکمہ سڑک جات) کے سربراہ و ڈائریکٹر جنرل وجے جائسی نے باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ راسووا کے علاقے میں آنے والے ہولناک سیلاب کے بعد یہ ملک کے سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے (شاہراہیں اور پل) کو پہنچنے والا سب سے بڑا اور سنگین ترین نقصان ہے۔

محکمے کے ڈائریکٹر جنرل وجے جائسی کے مطابق گذشتہ بدھ کے روز آنے والے تباہ کن سیلاب کے فوراً بعد دھاڈنگ ضلع کے علاقے ‘کرشنابھیر’ میں زمین اور سڑک کے کٹاؤ کا سلسلہ شروع ہوا تھا، جبکہ اتوار کی صبح پہاڑوں سے آنے والے ایک اور شدید سیلابی ریلے نے تباہی پھیلاتے ہوئے صورتحال کو مزید تشویشناک اور سنگین بنا دیا ہے۔ شدید کٹاؤ کے باعث مرکزی شاہراہ کا بڑا حصہ دریا میں بہہ چکا ہے اور گاڑیوں کی آمد و رفت مکمل طور پر معطل ہو گئی ہے۔

حالات کی سنگینی کو مدِنظر رکھتے ہوئے وجے جائسی نے مسافروں، ڈرائیورز اور ٹرانسپورٹ آپریٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ سفر کے لیے فوری طور پر متبادل راستے اختیار کریں۔ محکمہ سڑک جات کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے محکمے کے 19 اہم پل متاثر یا تباہ ہوئے ہیں، جبکہ نواکوٹ سے سیافروبیسی اور رسووا گڑھی تک تقریباً 40 کلومیٹر طویل سڑک کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ محکمے نے ہنگامی ٹیمیں تشکیل دے کر بحالی کا کام شروع کر دیا ہے تاہم مسلسل بارشوں کے باعث سڑک کھودنے اور بحال کرنے میں شدید دشواری پیش آ رہی ہے۔

نیپال سیلاب کے 2 روز بعد ملبے تلے دبے رہنے والی 5 سالہ بچی کے معجزانہ ریسکیو کی کہانی: ہسپتال میں والدین سے ملاقات، منیشا کی حالت اب مستحکم

محمود احمد, August 30,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

نیپال میں آنے والے قیامت خیز اور اچانک سیلاب و لینڈ سلائیڈنگ کے دو روز بعد ملبے کے نیچے سے معجزانہ طور پر زندہ نکالی جانے والی پانچ سالہ بچی بالآخر دارالحکومت کے ہسپتال میں اپنے والدین سے جا ملی ہے۔ ہسپتال کے ڈاکٹروں اور انتظامیہ کے مطابق ‘منیشا’ نامی بچی کی جسمانی و طبی حالت اب بالکل مستحکم ہے اور وہ کھٹمنڈو کے معروف ‘ٹیچنگ ہسپتال’ کے شعبۂ اطفال میں زیرِ علاج رہتے ہوئے تیزی سے صحت یاب ہو رہی ہے۔

سنسنی خیز اور معجزانہ ریسکیو آپریشن کے حوالے سے نیپال کی آرمڈ پولیس فورس کے اہلکار سنجو کھتری نے بتایا کہ ان کی ٹیم ضلع راسووا کے دشوار گزار علاقے ‘سیابروبیسی’ کے قریب سیلاب اور مٹی کے تودوں کی زد میں آنے والے تباہ شدہ مکانات کے ملبے میں زندہ بچ جانے والے شہریوں کی تلاش میں مصروف تھی۔ اس دوران سرچ ٹیم کو ملبے کے گہرے حصے سے کسی بلی کے پھنسے ہونے کی باریک اور مدہم آواز سنائی دی۔ امدادی ٹیموں نے جب شک کی بنیاد پر اس خاص حصے کی باریک بینی سے تلاشی لی اور وزنی ملبہ ہٹانا شروع کیا تو وہ وہاں معصوم منیشا کو ملبے تلے دبا دیکھ کر حیران رہ گئے۔ بچی کو محفوظ طریقے سے باہر نکالنے کی اس نازک کارروائی میں مسلسل دو گھنٹے لگے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو کے وقت منیشا شدید نڈھال تھی اور بمشکل ہی کسی سوال کا جواب دے پا رہی تھی۔ امدادی کارکنوں نے فوراً اسے ہیلی کاپٹر سے منتقل کرنے کی کوشش کی، تاہم خطے میں بادلوں اور خراب موسم کے باعث ہیلی کاپٹر کی اڑان ممکن نہ ہو سکی۔ جس کے بعد اسے قریبی ریسکیو کیمپ منتقل کر کے ابتدائی طبی امداد اور پانی دیا گیا۔ کچھ دیر بعد ہوش سنبھالنے پر اس کی نقاہت دور کرنے کے لیے چاول کا ابلا ہوا پانی پلایا گیا۔ شدید ذہنی صدمے کا شکار ہونے کے باوجود سنیچر کی دوپہر موسم بہتر ہوتے ہی اسے ایئر لفٹ کر کے کھٹمنڈو کے ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ہسپتال کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ تازہ ترین طبی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ منیشا کی صحت میں واضح بہتری آ رہی ہے اور وہ خطرے سے باہر ہے۔

نیپال میں سیلاب سے ہلاکتیں 734 ہو گئیں: 2,400 سے زائد افراد لاپتہ، 2,498 شہریوں کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا

محمود احمد, August 30,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

جنوبی ایشیائی ملک نیپال میں تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے (لینڈ سلائیڈنگ) کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ نیپال کے ‘نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی’ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اس قدرتی آفت کے باعث جاں بحق ہونے والے شہریوں کی کل تعداد بڑھ کر 734 ہو گئی ہے، جبکہ 2,400 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے۔

ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام نے بتایا کہ شدید متاثرہ اور کٹے ہوئے علاقوں سے ریسکیو ٹیموں نے اب تک 2,498 افراد کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ، سیلابی ریلوں اور ملبے کی زد میں آ کر 219 افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں مختلف فیلڈ ہسپتالوں اور طبی مراکز میں علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

نیپال کی دفاعی و پولیس فورسز اور امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق، تباہ شدہ سڑکوں اور پلوں کے باعث دور دراز دیہات تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، تاہم ریسکیو ٹیمیں ہیلی کاپٹرز اور سائنسی آلات کی مدد سے آپریشن کو تیز تر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

سعودی عرب کے صوبے نجران سے 18 لاکھ برس قدیم انسانی آبادی کے تاریخی آثار دریافت

کاشف عباسی , August 30,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

سعودی عرب کے جنوبی صوبے نجران کے تاریخی علاقے ‘شعب دحضہ’ سے تقریباً 18 لاکھ (1.8 ملین) برس قدیم انسانی آبادی کے نادر اور انتہائی اہم آثارِ قدیمہ دریافت ہوئے ہیں۔ سعودی ہیریٹیج کمیشن نے ان دریافت ہونے والے آثار کو جنوبی عرب کے خطے میں انسانوں کی ابتدائی آبادی اور براعظموں کے درمیان ان کی تاریخی ہجرت کے ابتدائی ادوار کا ایک نہایت اہم اور مستند سائنسی ثبوت قرار دیا ہے۔ کمیشن کے مطابق یہاں سے ملنے والے پتھر کے اوزار اور دیگر شواہد ابتدائی حجری دور کے ہیں، جن کی قدامت 12 لاکھ سے 18 لاکھ سال پرانی بتائی گئی ہے۔

سعودی ہیریٹیج کمیشن اور ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی تفصیلات کے مطابق، سنہ 1980ء میں وادی کے علاقے میں کیے جانے والے ایک ابتدائي سروے کے دوران ایک بلند سطح سے چکم دار اور سخت ‘کوارٹزائٹ’ کے پتھروں سے بنے 34 اوزاروں کا ایک قدیم مجموعہ حاصل ہوا تھا۔ ان اوزاروں میں مختلف نوعیت کے کٹر، کھرچنی، تیز دھار بلیڈ اور ہتھوڑے شامل ہیں، جنہیں اس دور کا قدیم انسان شکار کیے گئے جانوروں کا گوشت کاٹنے، ان کی ہڈیاں توڑنے، اور کھال اتار کر لباس یا عارضی پناہ گاہ بنانے جیسے روزمرہ کاموں کے لیے انتہائی مہارت سے استعمال کرتا تھا۔

سعودی ہیریٹیج کمیشن کے شعبہ آثارِ قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر العتیبی نے اس غیر معمولی دریافت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شعب دحضہ کا یہ مقام جزیرہ نمائے عرب میں انسانی موجودگی، آبادی کی ابتدا اور اس کے ارتقائی دور کے بارے میں تاریخ دانوں کو اہم اور نئی سائنسی معلومات فراہم کرتا ہے۔ اسی حوالے سے ‘نجران سوسائٹی فار ہسٹری اینڈ آرکیالوجی’ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دریافت ہونے والے اوزار اور ہتھیار اس بات کا روشن ثبوت ہیں کہ لاکھوں سال پہلے اس خطے میں رہنے والا قدیم انسان مقامی قدرتی وسائل کو اپنے مقصد کے لیے ڈھالنے میں بے پناہ مہارت، بصیرت اور ذہانت رکھتا تھا۔

ریو پارٹی کے قریب فائرنگ کے بعد سیکورٹی فورسز کا علاقے میں وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن، فوج کے ہیلی کاپٹرز اور بکتر بند گاڑیاں بھی کارروائی میں شامل

محمود احمد, August 30,2026

آؤراؤ/زیورخ (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

سوئٹزرلینڈ کے شمالی علاقے آؤراؤ میں ایک میوزک تقریب کے دوران رات گئے اچانک فائرنگ کا ہولناک واقعہ پیش آیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک شخص موقع پر ہلاک جبکہ پانچ افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ واقعہ کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ مقامی پولیس اور سیکورٹی اداروں نے فرار ہونے والے نامعلوم مسلح حملہ آور کی گرفتاری کے لیے وسیع پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا ہے۔ آؤرگاؤ کینٹونل پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک ہنگامی بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ نامعلوم ملزم کی تلاش اور اس کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن تیزی سے جاری ہے۔

پولیس ترجمان کے مطابق فائرنگ کے بنیادی محرکات اور واقعے کے درست اور حتمی حالات فی الحال واضح نہیں ہو سکے ہیں اور تفتیشی ٹیمیں تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہیں۔ سوئس میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے پولیس حکام نے کہا کہ فائرنگ کا یہ ہولناک واقعہ آؤراؤ کے علاقے شاخن میں گھوڑوں کی دوڑ کے میدان کے قریب پیش آیا، جو سوئٹزرلینڈ کے معروف شہر زیورخ سے تقریباً 46 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ اس مقام پر ہفتے کی رات سے شروع ہونے والی ایک ’ریو‘ پارٹیک منعقد کی جا رہی تھی جو اتوار کی صبح تک جاری رہنا تھی۔

واقعے کے فوراً بعد سیکورٹی فورسز نے گھوڑوں کی دوڑ کے میدان، شہر کے سوئمنگ پول اور ملحقہ کھیل کے میدان کے اطراف کے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر سیل کر دیا ہے اور عام شہریوں کو حفاظتی تدابیر کے تحت وہاں جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ پولیس کے مطابق احتیاطی تدابیر اور ملزم کے فرار کو روکنے کے لیے آؤراؤ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر بھی پولیس کی بھاری نفری اور ناظرین تعینات کر دیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پولیس انتظامیہ نے واقعے کے وقت موجود عینی شاہدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے موبائل فونز سے بنائی گئی تصاویر اور ویڈیوز تفتیش کی پیش رفت کے لیے حکام کے ساتھ شیئر کریں۔

اتوار کی صبح سامنے آنے والی المناک تصاویر اور مناظر میں علاقے میں پولیس، ایمبولینسز اور سیکورٹی اداروں کی بھاری نفری کو پیش رفت کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ایک بکتر بند گاڑی کے ذریعے مرکزی سڑک کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ سوئس نشریاتی ادارے ایس آر ایف کے مطابق پولیس اور فائر بریگیڈ کے اہلکاروں کے ساتھ ساتھ علاقائی ڈیزاسٹر رسپانس یونٹ کو بھی ہنگامی کارروائی میں شامل کر لیا گیا ہے، جبکہ علی الصبح سوئس فوج کے ایک ہیلی کاپٹر نے بھی مفرور ملزم کی نشاندہی کے لیے علاقے کا فضائی جائزہ لیا۔

سخت سفری اور میڈیا پابندیوں کے باعث تبت میں 546 لاپتہ شہریوں اور 226 غیر ملکی زائرین کی صورتحال پر پراسرار پردہ، سی سی ٹی وی کی محدود رپورٹس پر انحصار

منصور احمد, August 30,2026

پیکنگ/لھاسا (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

چین کا ہمالیائی خطہ تبت ایک بار پھر شدید قدرتی آفت، سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے، تاہم چینی ریاست کے سخت ترین کنٹرول، میڈیا سنسرشپ اور معلومات کی رسائی پر عائد کڑی پابندیوں کی وجہ سے وہاں ہونے والی ہلاکتوں اور تباہی کا حقیقی اندازہ لگانا انتہائی دشوار ہو گیا ہے۔ تبت چین کے ان حساس ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سنہ 1950ء کی دہائی میں چین کا کنٹرول قائم ہونے کے بعد سے ہی ریاستی اور انتظامی سطح پر انتہائی سخت سیاسی و سیکیورٹی کنٹرول نافذ ہے۔

تبت کے عوام طویل عرصے سے خطے کی مذہبی، ثقافتی اور سیاسی خودمختاری کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں، جس کے باعث چینی حکومت وہاں کسی بھی قسم کے عوامی احتجاج، تنظیم سازی یا بدامنی کو روکنے کے حوالے سے انتہائی محتاط اور سخت رویہ رکھتی ہے۔ اسی سیاسی و سیکیورٹی حساسیت اور ممکنہ بے چینی کے پیشِ نظر حالیہ ہولناک قدرتی آفت کے فوراً بعد چینی صدر شی جن پنگ نے خود آگے بڑھ کر ریسکیو اور ہنگامی امدادی کارروائیوں کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، چین کے وزیراعظم لی چیانگ بھی جمعرات کے روز خود متاثرہ تبت کے دشوار گزار خطے میں پہنچے۔ کسی بھی بڑی قدرتی آفت کے بعد چینی اعلیٰ قیادت کا اتنا فوری اور بلا تاخیر دورہ عالمی اور سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک ایک انتہائی غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے خطے میں پیدا ہونے والی انتظامی تشویش کا اندازہ ہوتا ہے۔

تبت کی جغرافیائی اور سیاسی سرحدیں بیرونی دنیا کے لیے تقریباً بند ہیں۔ وہاں غیر ملکی شہریوں، سیاحوں اور بین الاقوامی امدادی اداروں کے داخلے کے لیے عام چینی ویزے کے علاوہ متعدد خصوصی اجازت نامے درکار ہوتے ہیں۔ غیر ملکی صحافیوں اور بین الاقوامی میڈیا کی تبت تک رسائی مکمل طور پر ممنوع یا انتہائی محدود ہے اور مقامی تبت شہریوں سے کسی بھی قسم کا رابطہ قائم کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ یہاں تک کہ نیپال کے راستے ہندوؤں اور بدھ مت پیروکاروں کے مقدس پہاڑ ‘کلاس پربت’ کی زیارت کے لیے جانے والے مذہبی زائرین کو بھی تبت میں داخلے کے لیے چار مختلف نوعیت کے الگ الگ اجازت نامے حاصل کرنا پڑتے ہیں، جن میں چینی فوج کی حاصل کردہ ملٹری کلیرنس بھی شامل ہے۔ اس کڑی ناکہ بندی کی وجہ سے تبت کے اندر آنے والے سیلاب کی اصل شدت اور نقصانات جاننے کے لیے دنیا کو صرف چینی سرکاری نشریاتی ادارے ‘سی سی ٹی وی’ کی محتاط رپورٹس پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔

چین کے سرکاری میڈیا سی سی ٹی وی کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، سنیچر کی شام تک تبت میں مٹی کے تودے گرنے اور سیلاب کے باعث جاں بحق ہونے والے افراد کی باضابطہ تعداد 16 ہو چکی ہے، جبکہ 546 افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن میں مقدس مقامات کی زیارت اور ٹریکنگ کے لیے آئے ہوئے 226 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ لاپتہ شہریوں کی اتنی بڑی تعداد کے باوجود تبتی علاقوں میں اطلاعات کا شدید قحط ہے۔

نیپال اور تبت میں سیلابی ریلوں اور تباہ کاریوں کے مناظر سے چین کے عام عوام کی لاعلمی کا بنیادی سبب چین کا انتہائی مربوط اور طاقتور ڈیجیٹل و میڈیا سنسرشپ کا نظام ہے، جسے ‘دی گریٹ فائر وال آف چائنا’ کہا جاتا ہے۔ چین میں عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز مکمل طور پر بلاک ہیں اور مقامی ایپس پر تبت کے سیلاب، لاپتہ افراد یا مقامی شہریوں کی جانب سے بنائی گئی ویڈیوز کو الگورتھم کی مدد سے فوری حذف کر دیا جاتا ہے تاکہ ریاست کا مثبت امیج متاثر نہ ہو۔ اس کے علاوہ، چین میں کسی بھی قدرتی آفت کے وقت خبروں کو صرف سرکاری اداروں کے فلٹر شدہ بیانیے کے تحت جاری کیا جاتا ہے، جہاں تمام تر توجہ تباہی کے المناک مناظر کی بجائے حکومتی و عسکری امدادی کارروائیوں اور وزیراعظم کے دورے کو اجاگر کرنے پر ہوتی ہے۔ ساتھ ہی، تبت میں ہنگامی حالات کے دوران انٹرنیٹ سروسز کو مقامی سطح پر معطل یا انتہائی سست کر دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے مقامی باشندے اپنے رشتہ داروں یا دیگر صوبوں میں موجود شہریوں کو تصویریں اور ویڈیوز بھیجنے سے قاصر رہتے ہیں اور عام لوگ اصل حقائق سے بے خبر رہتے ہیں۔

نیپال اور تبت میں سیلاب کے بعد شدید خطرات: ماہرین کی اہم انتباہی رپورٹ، نئی مصنوعی جھیلوں کے پھٹنے کا خدشہ اور چین و نیپال کے درمیان فوری ڈیٹا شیئرنگ پر زور

محمود احمد, August 30,2026

کاٹھمنڈو/لھاسا (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

نیپال اور تبت کے سرحد پار علاقوں میں تباہ کن سیلاب کے بعد عالمی سطح پر سیلاب اور قدرتی آفات کے ماہرین نے انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خطے میں فوری تشویش کی بات یہ ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب نے اب نئے اور غیر متوقع خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پہلی لہر کے بعد لینڈ سلائیڈنگ اور پہاڑی ملبے کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال آئندہ دنوں میں کسی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، جس کے لیے دونوں ممالک کو فوری طور پر مشترکہ اور ہنگامی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

یونیورسٹی آف ریڈنگ میں سیلاب کی پیشگی وارننگ اور آفات کے خطرات پر تحقیق کرنے والے معروف بین الاقوامی ماہر جیف ڈا کوستا نے عالمی ابلاغی ادارے کو بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ قدرتی آفت کے نتیجے میں پہاڑوں سے بہہ کر آنے والے مٹی، پتھروں اور گلیشیائی ملبے نے کئی مقامات پر قدرتی دریاؤں کا راستہ روک دیا ہے۔ راستہ بلاک ہونے کی وجہ سے بالائی اور پہاڑی علاقوں میں پانی کے عارضی ذخائر اور نئی جھیلیں بن چکی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان جھیلوں کے اچانک پھٹنے کی صورت میں آنے والا دوسرا سیلاب اگرچہ حجم میں پہلے جتنا بڑا نہ بھی ہو، تب بھی وہ نیچے بستیوں پر انتہائی سنگین اور تباہ کن اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

جیف ڈا کوستا نے سائنسی نقطہ نظر سے آئندہ کے لائحہ عمل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اب اس بات کی 24 گھنٹے مانیٹرنگ اور نگرانی کرنا انتہائی اہم اور ناگزیر ہو چکا ہے کہ علاقے میں بننے والی ان نئی جھیلوں اور پانی کو روکنے والی عارضی رکاوٹوں میں کس طرح کی تبدیلیاں آ رہی ہیں اور پانی کا دباؤ کس مقام پر سب سے زیادہ ہے تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ وہ کہاں پھٹ سکتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت چین اور نیپال دونوں ممالک کے لیے بے حد ضروری ہے کہ وہ گلیشیئرز اور جھیلوں کی نگرانی سے متعلق حاصل ہونے والی تمام تر سیٹلائٹ اور زمینی معلومات ایک دوسرے کے ساتھ بلا تاخیر شیئر کریں۔

ماہرِ سیلاب ڈا کوستا کا کہنا تھا کہ ہمالیائی بالائی علاقوں میں پیدا ہونے والی کوئی بھی سیکیورٹی یا سیلابی صورتحال سرحد کے دوسری جانب نشیب میں رہنے والے لوگوں کو چند منٹوں میں انتہائی تیزی سے متاثر کر سکتی ہے۔ اس لیے جس رفتار سے پانی نیچے کی طرف بہتا ہے، معلومات اور الرٹس بھی اسی رفتار سے دونوں ملکوں کے درمیان منتقل ہونے چاہئیں تاکہ مقامی انتظامیہ اور آبادی زمینی سطح پر بروقت، درست اور عملی فیصلے کر کے انسانی جانوں کا تحفظ کر سکے۔

اپنی سائنسی تفتیش کو آگے بڑھاتے ہوئے ڈا کوستا نے اشارہ دیا کہ موسمیاتی تبدیلی بھی اس قدرتی آفت کے پس منظر میں ایک اہم اور کلیدی عنصر کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ کرۂ ارض کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت ہمالیہ کے پورے سلسلے میں گلیشیئرز، ہزاروں سال سے جمی ہوئی برفانی زمین اور پہاڑی ڈھلوانوں کے قدرتی استحکام کو شدید متاثر کر رہا ہے جس سے مٹی کے تودے گرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بات بھی واضح کی کہ مزید سائنسی تحقیق اور تفصیلی تجزیے کے بغیر اس آفت کو سو فیصد اور براہِ راست صرف موسمیاتی تبدیلی سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔

نیپال کے سیلاب میں تباہی کی انتہا: ہلاکتیں 675 ہو گئیں، لاشوں کو محفوظ رکھنا ناممکن ہونے پر اجتماعی تدفین شروع، 2,498 افراد ریسکیو

محمود احمد, August 29,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

جنوبی ایشیا کے پہاڑی ملک نیپال میں آنے والے قیامت خیز سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہونے والی تباہ کاریوں اور ہلاکتوں میں مسلسل اور دردناک اضافہ جاری ہے۔ نیپال کے ‘نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی’ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ہنگامی اعداد و شمار کے مطابق، ملک بھر میں قدرتی آفت کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے شہریوں کی تصدیق شدہ تعداد بڑھ کر 675 ہو گئی ہے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام نے بتایا کہ سخت کوششوں اور سرچ آپریشن کے نتیجے میں اب تک 2,498 افراد کو خطرناک اور سیلابی علاقوں سے بحفاظت نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل یا ریسکیو کیا جا چکا ہے، جبکہ مختلف اضلاع میں 219 افراد شدید زخمی ہیں جنہیں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

نیپال کے آفت زدہ اضلاع میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے باعث اب ایک نیا اور دلخراش انسانی بحران جنم لے چکا ہے۔ ملک بھر کے سرکاری ہسپتالوں اور مقتولین کے مرغزاروں میں سرد خانوں اور لاشوں کو محفوظ رکھنے کی گنجائش ختم ہو چکی ہے، جبکہ مواصلاتی نظام درہم برہم ہونے کی وجہ سے درجنوں لاشوں کی شناخت اور انہیں ورثا کے حوالے کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ گرم موسم اور نمی کے باعث لاشوں کے خراب ہونے کے شدید خطرے کے پیشِ نظر، مقامی انتظامیہ اور نیپالی حکام نے مختلف اضلاع میں برآمد ہونے والی لاشوں کی اجتماعی تدفین اور آخری رسومات کی ادائیگی کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

نیپالی حکام اور ریسکیو اداروں کے مطابق، تباہ شدہ سڑکوں، ٹوٹے ہوئے پلوں اور پہاڑی راستوں پر مٹی کے تودے گرنے کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو دور دراز دیہات تک پہنچنے میں شدید ترین دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگرچہ پاک فوج، مقامی پولیس اور بین الاقوامی اداروں کی ہیلی کاپٹر سروسز ریسکیو آپریشن میں متحرک ہیں، تاہم ملبے کے نیچے دبے سینکڑوں لاپتہ افراد کی موجودگی کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ نیپالی حکومت نے بین الاقوامی برادری اور عالمی امدادی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ لاشوں کی تحفظ، شناختی کٹس اور ہنگامی طبی امداد کی فراہمی میں ہنگامی بنیادوں پر مدد کریں۔