ملزم سکیورٹی فورسز کو پنجگور میں کارروائی کے دوران مطلوبہ اسلحہ و بارود سمیت ہتھے چڑھا تھا؛ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے خلاف بڑی عدالتی پیش رفت

کاشف عباسی ,june 22,2026

تربت ( نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

انسدادِ دہشت گردی کی مقتدر عدالت تربت نے فتنہ الہندوستان کے نیٹ ورک اور دیگر کالعدم تنظیموں سے منسلک خطرناک سہولت کار ساجد احمد کو دہشت گردی، معاونت اور غیر قانونی اسلحہ ایکٹ کے مروجہ مقدمات میں مجموعی طور پر 14 سال سخت قیدِ بامشقت کی سزا کا حکم دے دیا ہے۔ عدالتی دستاویزات اور سرکاری سکیورٹی ذرائع کے مطابق، مجرم ساجد احمد کو حساس اداروں اور سکیورٹی فورسز نے ضلع پنجگور کے ایک حساس علاقے میں انٹیلی جنس بیسڈ کامیاب کارروائی کے دوران گرفتار کیا تھا، جہاں تلاشی کے دوران اس کے قبضے سے بھاری مقدار میں جدید خودکار اسلحہ اور دھماکا خیز مواد برآمد ہوا تھا۔

تفتیشی حکام اور استغاثہ نے عدالت کے سامنے مضبوط شواہد پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم ریاست مخالف اور ملک دشمن نیٹ ورکس کے مقتدر مہروں سے براہِ راست رابطے میں تھا، جبکہ اس پر کالعدم تنظیموں بی ایل اے اور بی ایل ایف کے لیے تزویراتی سہولت کاری کرنے، مقامی معصوم نوجوانوں کو ورغلا کر شدت پسند سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے اور متعدد تخریبی منصوبوں میں معاونت فراہم کرنے کے سنگین الزامات ثابت ہوئے۔ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے ناقابلِ تردید سائنسی و دستاویزی شواہد اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ملزم کو قصوروار قرار دیتے ہوئے دہشت گردی کے مقدمے میں 14 سال قید کی سزا سنائی جبکہ ‘بلوچستان آرمز ایکٹ’ کے تحت بھی اضافی جرمانے اور قید کی مقتدر سزا عائد کی ہے۔

عدالتی فیصلے کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے اعلیٰ اداروں نے اس تزویراتی اقدام کو دہشت گردی کے سہولت کاروں اور فیلڈ نیٹ ورکس کے خلاف جاری آپریشنز میں ایک بڑی اور اہم ترین پیش رفت قرار دیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا واشگاف الفاظ میں کہنا ہے کہ ملک دشمن عناصر، تخریب کاروں اور ان کے مقامی و بین الاقوامی سہولت کاروں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے کسی بھی عنصر کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ ‘نیوز اینڈ نیوز’ کے تجزیہ کاروں کے مطابق، اس فیصلے سے دہشت گردی کی سپلائی لائن کو توڑنے میں مدد ملے گی، جبکہ سکیورٹی اداروں نے امن و امان کی مقتدر صورتحال برقرار رکھنے کے لیے عوام سے کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دینے کی اپیل کی ہے۔

فلپائن میں اسکول کے اندر اندھا دھند فائرنگ، 3 افراد ہلاک، 5 شدید زخمی؛ کم عمر ملزمان گرفتار

روزینہ اسماعیل.june 22,2026

منیلا (بین الاقوامی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

فلپائن کے شہر تکلوبان میں واقع ایک ہائی اسکول میں فائرنگ کے افسوسناک اور دلخراش واقعے میں 3 افراد موقع پر ہلاک جبکہ 5 زخمی ہو گئے۔ مقامی پولیس اور انتظامیہ کے مطابق، یہ لرزہ خیز واقعہ پیر کی صبح اس وقت پیش آیا جب اسکول میں معمول کے مطابق تدریسی سرگرمیاں جاری تھیں اور طلبہ کلاس رومز میں موجود تھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، فائرنگ تکلوبان کے ‘سان ہوزے نیشنل ہائی اسکول’ میں صبح تقریباً 9 بجے ہوئی، جس کے نتیجے میں پورے تعلیمی ادارے میں شدید خوف و ہراس اور بھگدڑ مچ گئی۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس کی بھاری نفری اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور لاشوں و زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔

تکلوبان پولیس حکام نے مقتدر میڈیا کو بتایا کہ اس سفاکانہ حملے میں ملوث دونوں مشتبہ کم عمر ملزمان کو فوری کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، گرفتار ہونے والوں میں ایک 15 سالہ لڑکا شامل ہے جو اسی اسکول کا گریڈ 9 کا طالب علم بتایا جاتا ہے، اسے اسکول کی عمارت کے اندر سے ہی اسلحہ سمیت حراست میں لیا گیا، جبکہ اس کے دوسرے مشتبہ ساتھی کو اسکول سے فرار ہونے کی کوشش کے دوران گھیراؤ کر کے دبوچا گیا۔ فائرنگ کے فوری بعد سوشل میڈیا پر واقعے کی مبینہ ویڈیوز گردش کرنے لگیں جن میں گولیوں کی آوازیں اور بچوں کی چیخ و پکار سنی جا سکتی ہے، تاہم پولیس حکام نے امن و امان کی صورتحال کے پیشِ نظر عوام سے غیر مصدقہ معلومات اور افواہیں پھیلانے سے گریز کرنے کی مقتدر اپیل کی ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، کم عمر حملے آوروں کی جانب سے اس انتہائی قدم اور فائرنگ کے اصل محرکات تاحال واضح نہیں ہو سکے ہیں، اور پولیس دہشت گردی، ذاتی عناد اور دیگر مختلف پہلوؤں سے تفتش کا دائرہ وسیع کر کے تحقیقات کر رہی ہے۔ واقعے کے بعد تکلوبان کے تمام تعلیمی اداروں اور اطراف کے حساس علاقوں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے، جبکہ مقامی صوبائی انتظامیہ نے متاثرہ خاندانوں سے دلی اظہارِ افسوس کرتے ہوئے اسپتال انتظامیہ کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ‘نیوز اینڈ نیوز’ کے سیاسی مبصرین کے مطابق، اس واقعے نے فلپائن کے تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی انتظامات، گن کنٹرول قوانین اور طلبہ کے ذہنی رجحانات کے حوالے سے ایک نئی ملک گیر بحث کو جنم دے دیا ہے اور والدین کی جانب سے حکومت سے سخت ترین اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

خلیجی معیشت میں بڑا اقدام: کویت کا غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے 15 سالہ اقامہ متعارف، پاکستانی تاجر بھی مستفید ہو سکیں گے

محمود احمد june 22,2026

کویت سٹی ( نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

خلیجی ریاست کویت نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور عالمی کاروباری شخصیات کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے ایک تزویراتی اور تاریخی پیشرفت کرتے ہوئے 15 سالہ طویل مدتی اقامہ (ریذیڈنسی ویزا) باقاعدہ متعارف کرا دیا ہے۔ نئے مقتدر قانون کے تحت مروجہ شرائط پر پورا اترنے والے اہل غیر ملکی سرمایہ کار، ان کے کاروباری شراکت دار اور قریبی اہلِ خانہ اب کفیل (اسپانسر) کے روایتی نظام کے بغیر طویل مدت تک کویت میں رہائش اختیار کرنے اور اپنی تجارتی سرگرمیاں بلاروک ٹوک جاری رکھنے کے اہل ہوں گے۔

کویتی حکام کے مطابق، اس انقلابی اقدام کا بنیادی مقصد ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو متحرک کرنا، ملکی معیشت کو مزید مستحکم بنانا اور کویت کو خلیجی خطے کے نمایاں مالیاتی و تجارتی مراکز کی صف میں شامل کرنا ہے۔ نئی پالیسی کے مقتدر ضوابط کے تحت وہ تمام غیر ملکی افراد درخواست دینے کے مجاز ہوں گے جو کویت میں حکومت سے منظور شدہ تزویراتی سرمایہ کاری منصوبوں اور فعال کاروباری سرگرمیوں سے وابستہ ہوں۔ کویتی وزارتِ داخلہ نے واضح کیا ہے کہ اس خصوصی اقامے کی سہولت حاصل کرنے والوں میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے علاوہ تسلیم شدہ بین الاقوامی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداران اور رجسٹرڈ کاروباری شراکت دار بھی شامل ہیں۔ پاکستانی سرمایہ کار اور کاروباری برادری بھی خلیج کی اس نئی پالیسی سے یکساں طور پر مستفید ہو سکیں گے۔

نئے مروجہ قواعد و ضوابط کے تحت سرمایہ کاروں کے لیے یہ لازمی ہوگا کہ ان کے کاروباری منصوبے ‘کویت ڈائریکٹ انویسٹمنٹ پروموشن اتھارٹی’ سے باقاعدہ تصدیق شدہ اور منظور شدہ ہوں، جبکہ مقامی کویتی شہریوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا اور حکومت کی مقرر کردہ کم از کم سرمایہ کاری کی مخصوص حد (تھریش ہولڈ) کو پورا کرنا بھی لازمی ہوگا۔ کویتی کابینہ کی منظوری کے بعد نافذ ہونے والی یہ نئی ویزا اصلاحات ملک کے طویل المدتی اقتصادی وژن کا ایک اہم حصہ ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد کویت بھی اب متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے خلیجی ممالک کی اس صف میں شامل ہو گیا ہے جو عالمی ٹیلنٹ اور سرمائے کو محفوظ اور مستحکم ماحول فراہم کر رہے ہیں، جس سے پاکستانی تاجروں کے لیے بھی مڈل ایسٹ میں کاروباری توسیع کے نئے اور مقتدر مواقع پیدا ہوں گے۔

تاریخی فتح: فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے نیوزی لینڈ کو پچھاڑ دیا، فٹبال تاریخ کا 92 سالہ انتظار ختم

محمود احمد june 22,2026

ہیوسٹن (اسپورٹس رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

اسٹار فارورڈ محمد صلاح کی شاندار کارکردگی کی بدولت مصر کی ورلڈ کپ تاریخ میں پہلی فتح؛ گروپ جی میں چار پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست

مصر کی قومی فٹبال ٹیم نے فیفا ورلڈ کپ کے مقتدر اسٹیج پر شاندار اور جارحانہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کو 1-3 سے عبرتناک شکست دے کر ٹورنامنٹ کی تاریخ میں اپنی پہلی مقتدر فتح حاصل کر لی ہے۔ مصری ٹیم کی یہ الٹ پھیر کامیابی ملک کی فٹبال تاریخ کا ایک یادگار اور سنہری باب قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ سال 1934ء میں ورلڈ کپ میں پہلی بار شرکت کرنے کے بعد سے اب تک مصر کو پہلی مرتبہ عالمی سطح پر کسی میچ میں فتح نصیب ہوئی ہے، جس سے ان کا 92 سالہ طویل انتظار ختم ہو گیا ہے۔

کھیل کے پہلے ہاف میں نیوزی لینڈ نے پراعتماد آغاز کیا اور میچ کے ابتدائی منٹوں میں ایک خوبصورت کارنر کک پر فن سرمین کے شاندار ہیڈر کی بدولت 0-1 کی برتری حاصل کر لی۔ پہلے 45 منٹ کے اختتام تک مصر ایک گول کے خسارے میں تھا، تاہم دوسرے ہاف میں مصری ٹیم نے فیلڈ مارشل اسٹرٹیجی کے تحت انتہائی جارحانہ حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے مقابلے کا رخ مکمل طور پر بدل دیا۔ میچ کے 58ویں منٹ میں مصطفیٰ زیکو نے محمد ہانی کے فلائی کراس پر بہترین ہیڈر کے ذریعے گول داغ کر مقابلہ 1-1 سے برابر کر دیا، جس کے چند ہی منٹ بعد مصری کپتان اور عالمی شہرت یافتہ اسٹار فارورڈ محمد صلاح نے حریف دفاع کو جلا دیتے ہوئے مصر کو 1-2 کی برتری دلا دی۔

میچ کے آخری لمحات میں محمد صلاح نے ایک بار پھر جادوئی کھیل پیش کرتے ہوئے گول کرنے کا خوبصورت موقع پیدا کیا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے محمود تریزیگیہ نے توازن کے ساتھ ہیڈر کے ذریعے گیند کو جال کی راہ دکھا کر تیسرا گول اسکور کیا اور مصری فتح پر حتمی مہر ثبت کر دی۔ صلاح کی اس مقتدر کارکردگی نے نہ صرف ٹیم کو تاریخی کامیابی دلائی بلکہ ورلڈ کپ کے اگلے ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی کی امیدوں کو بھی روشن کر دیا ہے۔ اس فتح کے بعد مصر دو میچوں میں چار پوائنٹس کے ساتھ گروپ جی میں سرفہرست آ گیا ہے جبکہ نیوزی لینڈ ایک پوائنٹ کے ساتھ آخری پوزیشن پر ہے۔ میچ کے اختتام پر ہیوسٹن اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں مصری شائقین نے قومی پرچم لہرا کر جشن منایا، جبکہ مصر کی نظریں اب اپنے اگلے گروپ میچ پر مرکوز ہیں۔

برطانیہ میں بڑا سیاسی بھونچال: برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کا استعفیٰ، کنگ چارلس کو فیصلے سے مطلع کر دیا

منصور احمد june 22,2026

لندن (بین الاقوامی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 22 جون 2026ء

برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے اپنی ہی جماعت لیبر پارٹی کے اندر سے شدید اور مسلسل بڑھتے ہوئے تزویراتی دباؤ کے بعد بالآخر ٹیلی ویژن پر براہِ راست خطاب کرتے ہوئے اپنے مقتدر عہدے سے استعفیٰ دینے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، کیئر اسٹارمر کا یہ اچانک اور بڑا فیصلہ ان کے سیاسی حریف اینڈی برنم کی جانب سے نارتھ ویسٹ انگلینڈ میں ضمنی الیکشن کے دوران پارلیمنٹ کی نشست پر حاصل کی جانے والی فیصلہ کن فتح کے فوراً بعد سامنے آیا ہے۔ 63 سالہ سابق وکیل اور لیبر پارٹی کے سربراہ کیئر اسٹارمر حالیہ چند ماہ میں متعدد داخلی پالیسیوں، معاشی فیصلوں اور مختلف سیاسی اسکینڈلز کے باعث برطانوی ووٹرز اور عوامی سرویز میں اپنی مروجہ مقبولیت بری طرح کھو چکے تھے۔

ٹیلی ویژن پر جذباتی اور براہِ راست خطاب کرتے ہوئے کیئر اسٹارمر نے مقتدر عوام کو بتایا کہ انہوں نے بکنگھم پیلس میں کنگ چارلس کو اپنے اس فیصلے سے باقاعدہ مطلع کر دیا ہے، جبکہ انہوں نے لیبر پارٹی کی نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ ملک اور پارٹی کے مقتدر وقار کی خاطر نئے قائد کے انتخاب کا عمل فوری شروع کریں، جس کے لیے کاغذاتِ نامزدگی 9 جولائی سے جمع کروائے جا سکیں گے۔ واضح رہے کہ سال 2024ء کے عام انتخابات میں کیئر اسٹارمر نے کنزرویٹو پارٹی کے 14 سالہ طویل اقتدار کا خاتمہ کرتے ہوئے، 1997ء کے بعد لیبر پارٹی کو برطانوی تاریخ کی سب سے بڑی پارلیمانی اکثریت دلوائی تھی، مگر وہ تبدیل ہوتے جیو پولیٹیکل حالات اور عوامی مینڈیٹ کو برقرار رکھنے میں ناکام رہے۔ ان کے اس استعفے اور ٹائم ٹیبل کے اعلان کے ساتھ ہی برطانیہ میں نئے وزیرِ اعظم کی دوڑ کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔

عالمی امن کا سنہری موقع: امریکہ اور ایران کے درمیان ایسے نتیجہ خیز مذاکرات کے منتظر ہیں جو مثبت نتائج لائیں، وزیرِ اعظم شہباز شریف

محمود احمد june 21,2026

برگن اسٹاک (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے امریکہ اور ایران کے مابین جاری تاریخی بات چیت کو عالمی تاریخ کا ایک بڑا تزویراتی موڑ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی امن کے مستقل قیام کے لیے یہ ایک انتہائی اہم اور سنہری موقع ہے، جہاں ہم سب مل کر دنیا بھر میں امن و استحکام کا ایک مضبوط اور پائیدار اتحاد قائم کر سکتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق، سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مقتدر اعلیٰ سطحی مذاکرات کے پہلے سیشن کے اختتام پر وزیرِ اعظم پاکستان نے بین الاقوامی میڈیا سے خصوصی گفتگو کی۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس انتہائی پیچیدہ اور نازک امن معاہدے کو ممکن بنانے کے لیے پسِ پردہ ایک غیر معمولی، کلیدی اور مخلصانہ کردار ادا کیا ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدبرانہ قیادت، جرات مندانہ سوچ اور براہِ راست مذاکرات کے فعال ویژن کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہی کی تزویراتی دور اندیشی کے باعث امریکہ اور ایران کا ایک میز پر بیٹھنا ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سرگرم سفارت کاری کو بھی سراہا اور قوی امید ظاہر کی کہ یہ نتیجہ خیز مذاکرات مشرقِ وسطیٰ اور پوری دنیا کے لیے مثبت معاشی و سیاسی نتائج لائیں گے۔

اس اہم مقتدر موقع پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ جے ڈی وینس نے پاک فوج کے سربراہ کی اعلیٰ حکمتِ عملی کا اعتراف کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ایک بہترین سپہ سالار قرار دیا۔ امریکی نائب صدر نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شروع دن سے ہی اس امن مشن میں واشنگٹن کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہے ہیں، اور اس سنگین عالمی بحران کو ٹالنے کے لیے پاکستان نے جو غیر جانبدارانہ اور تعمیری کردار ادا کیا ہے، اسے عالمی سطح پر بھرپور طریقے سے سراہا گیا ہے۔ جے ڈی وینس نے پاک-امریکہ دیرینہ تعلقات کو ایک نیا رخ دیتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا کہ وزیرِ اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر میرے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتہائی قریبی اور قابلِ اعتماد دوست ہیں، اور دونوں ممالک کا باہمی سیکیورٹی تعاون خطے کی سلامتی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

امریکہ اور ایران کا پاکستان کی اعلیٰ قیادت پر بھرپور اعتماد، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عالمی مذاکراتی میز پر متحرک شرکت

محمود احمد june 21,2026

برگن اسٹاک (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

سوئٹزرلینڈ کے مقتدر شہر برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے درمیان مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی میں کمی، پائیدار جنگ بندی اور خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے تاریخ ساز مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی پریس اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکہ اور ایران کے اعلیٰ اختیاراتی وفود ایک خصوصی بند کمرہ اجلاس میں آمنے سامنے بیٹھے، جہاں مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، فوری جنگ بندی، سفارتی چینلز کی بحالی اور مستقبل کے پائیدار امن فریم ورک کے مختلف تزویراتی پہلوؤں پر تفصیلی اور گہرائی سے بات چیت کی جا رہی ہے۔

باوثوق سفارتی ذرائع کے مطابق، ان انتہائی حساس اور معلق مذاکرات کو ممکن بنانے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان نے ایک تاریخی، متوازن اور مؤثر ثالثی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کی غیر جانبدارانہ خارجہ پالیسی اور دونوں عالمی طاقتوں کے ساتھ یکساں مضبوط سفارتی رابطوں کو اس پورے مذاکراتی عمل میں مرکزی اور نمایاں اہمیت دی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق، امریکہ اور ایران دونوں ممالک نے پاکستان کے مصالحتی کردار کو دل کھول کر سراہتے ہوئے اس اہم ترین امن مشن میں پاکستان کی فعال شمولیت اور رہنمائی پر اپنے غیر مشروط اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ اس مقتدر امن مشن میں پاکستان کی تزویراتی نمائندگی وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر خود کر رہے ہیں۔

عالمی سفارتی گیلری کے مطابق، امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر جیسے اہم ترین مقتدر مہرے شامل ہیں، جبکہ دوسری جانب ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جن کے ہمراہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور قومی سلامتی کے دیگر اعلیٰ حکام بھی مذاکرات کی میز پر موجود ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات میں پاکستان کے علاوہ برادر ملک قطر کا اعلیٰ سطحی وفد بھی سہولت کار کے طور پر شریک ہے۔ اس وقت پاکستان، قطر، امریکہ اور ایران پر مشتمل چار ملکی اسٹرٹیجک اجلاس میں مروجہ “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” کے اہم نکات، مستقل جنگ بندی کے امکانات اور علاقائی استحکام کے آئندہ کے سفارتی لائحہ عمل پر باریک بینی سے تکنیکی مشاورت جاری ہے۔ عالمی سیاسی و سفارتی حلقوں کے مطابق، دو روایتی حریفوں کو ایک میز پر لانا پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی، موجودہ سیاسی قیادت اور قومی سلامتی کے اداروں کے لیے ایک شاندار اور تزویراتی کامیابی قرار دی جا رہی ہے، جبکہ دنیا بھر کی نظریں اب اس اجلاس کے باقاعدہ مشترکہ اعلامیے پر لگی ہوئی ہیں۔

برگن اسٹاک میں جے ڈی وینس اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات، غیر رسمی گفتگو سوشل میڈیا پر زیرِ بحث

محمود احمد june 21,2026

برگن اسٹاک (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

سوئٹزرلینڈ کے خوبصورت علاقے برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تاریخی امن مذاکرات کے موقع پر پاکستان، امریکہ، ایران اور قطر کے اعلیٰ سطحی وفود کی مقتدر ملاقاتیں مسلسل جاری رہیں۔ اس دوران وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ایک خصوصی اور تزویراتی ملاقات کی، جس میں خطے میں پائیدار امن، امریکہ ایران مذاکرات، ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر پیش رفت اور سفارتی تعاون سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق پاکستان نے اس پیچیدہ مذاکراتی عمل میں سہولت کاری اور رابطہ کاری کے لیے ایک کلیدی اور تعمیری کردار ادا کیا ہے۔

سفارتی ملاقاتوں کے اس پسِ منظر میں سوشل میڈیا پر اس بیٹھک سے متعلق ایک غیر رسمی گفتگو بھی تیزی سے گردش کر رہی ہے، جس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے منسوب ایک جملہ خاصا زیرِ بحث بنا ہوا ہے۔ تاہم، بین الاقوامی پریس گیلری اور باوثوق سفارتی ذرائع کے مطابق اس مبینہ جملے کی کسی بھی سرکاری امریکی یا پاکستانی مقتدر بیان سے آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور اسے محض سوشل میڈیا مہم کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق برگن اسٹاک میں ہونے والی یہ اعلیٰ سطحی ملاقات انتہائی خوشگوار اور مقتدر ماحول میں ہوئی، جہاں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کی اعلیٰ قیادت اور خطے میں امن کے قیام کے لیے جاری مخلصانہ سفارتی کوششوں کو دل کھول کر سراہا۔ پریس کانفرنس اور تجزیہ کاروں کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی اس عالمی فورم پر موجودگی کو مذاکراتی عمل میں پاکستان کے فعال، اسٹرٹیجک اور بااثر کردار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امریکہ، ایران، پاکستان اور قطر کے وفود کے درمیان ان مذاکرات کا بنیادی مقصد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر من و عن عملدرآمد، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی اور وسیع تر عالمی امن کے امکانات کو آگے بڑھانا ہے۔

سربراہی اجلاس: سوئٹزرلینڈ میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے اہم ملاقات، پاک-امریکہ وفود میں غیر معمولی گرمجوشی کا مظاہرہ

محمود احمد june 21,2026

زیورخ/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

سوئٹزرلینڈ کے تفریحی مقام برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی امن مذاکرات کے باقاعدہ آغاز پر پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ ایک انتہائی اہم اور مقتدر ملاقات ہوئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر عملدرآمد کے لیے سوئٹزرلینڈ کے جیو پولیٹیکل مذاکراتی مرکز میں ہونے والی اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین سٹرٹیجک تعلقات اور خطے کے امن پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر بھی موجود تھے، اور ملاقات میں اس وقت غیر معمولی سفارتی گرمجوشی دیکھی گئی جب اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شاندار استقبال کیا اور ان سے گرمجوشی سے بغل گیر ہوئے۔

بین الاقوامی سفارتی ذرائع کے مطابق برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ اختیاراتی وفود امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پہنچ چکے ہیں۔ ایرانی وفد کی قیادت وہاں کے چیف مذاکرات کار باقر قالیباف کر رہے ہیں، جسے ایرانی میڈیا میں ’میناب 168‘ کا خصوصی نام دیا گیا ہے، اس وفد میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی، قومی سلامتی کونسل کے اہم عہدیدار علی باقری، مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی، کاظم غریب آبادی اور اسماعیل بقائی شامل ہیں، جبکہ امریکی وفد کی سربراہی نائب صدر جے ڈی وینس خود کر رہے ہیں۔ عالمی امن کے اس مقتدر عمل میں سہولت کار کے طور پر قطر اور سوئٹزرلینڈ کے خصوصی نمائندے بھی کلیدی حیثیت میں شریکِ گفتگو ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اس اہم پیشرفت پر اپنا مقتدر مؤقف جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان، ایران اور امریکہ کے درمیان طے شدہ امن مفاہمت پر عملدرآمد کی بھرپور تائید و حمایت کرتا ہے اور اس عالمی عمل کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار مستقل جاری رکھے گا۔ اس تاریخی عالمی سربراہی موقع پر وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی ایران، قطر، سوئٹزرلینڈ اور امریکہ کے وفود کے ساتھ سائیڈ لائن پر انتہائی اہم دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ ترجمان دفترِ خارجہ نے واضح کیا کہ اس سنگین عالمی بحران میں پاکستان کی سفارتی سہولت کاری اس کے اصولی، متوازن اور امن پسند مؤقف کی کھلی مظہر ہے، کیونکہ امریکہ اور ایران کے ابتدائی مذاکراتی ادوار کی کامیاب میزبانی اور پاکستان کے مسلسل مقتدر سفارتی رابطے ہی بالآخر دونوں فریقین کو ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کی میز پر لانے کا بنیادی باعث بنے ہیں۔

فیفا ورلڈ کپ 2026ء؛ ٹورنٹو ایئرپورٹ پر جرمن فٹ بال ٹیم کی رن وے پر مجرموں کی طرح سخت تلاشی کی ویڈیو وائرل، مینوئل نوئر سمیت سٹار کھلاڑی شدید برہم، ”سرحدی قوانین سب کے لیے برابر ہیں، کوئی خصوصی رعایت نہیں ملے گی،“ کینیڈین حکام کا دوٹوک مؤقف

محمود احمد june 20,2026

ٹورنٹو/برلن (اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

فیفا ورلڈ کپ 2026ء کے سنسنی خیز مقابلوں کے دوران کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں ایک نیا اور غیر معمولی بین الاقوامی تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جہاں جرمنی کی عالمی شہرت یافتہ فٹ بال ٹیم کو آئیوری کوسٹ کے خلاف اپنے انتہائی اہم میچ کے لیے روانگی سے قبل ٹورنٹو ایئرپورٹ پر انتہائی سخت، تضحیک آمیز اور غیر متوقع امیگریشن و سیکیورٹی مراحل سے گزرنا پڑا ہے، اسپورٹس میڈیا رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جرمن ٹیم کا خصوصی طیارہ رن وے پر بالکل اسٹارٹ کھڑا ہے اور جہاز میں سوار ہونے سے عین قبل کینیڈین سرحدی حکام جرمن کھلاڑیوں اور ان کے سامان کی ایسے جامہ تلاشی لے رہے ہیں جیسے وہ کوئی عام مسافر یا مجرم ہوں۔

اس ہائی وولٹیج واقعے کے دوران جرمنی کے مقتدر اور تجربہ کار سٹار گول کیپر مینوئل نوئر کے تاثرات اور چہرے کے تاثرات سوشل میڈیا پر خاص طور پر توجہ کا مرکز بن گئے، وائرل تصاویر اور ویڈیوز میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ مینوئل نوئر رن وے پر ہونے والی اس طویل، وقت طلب اور سخت کسٹمز اسکریننگ کے عمل پر شدید ناخوش، پریشان اور غصے میں دکھائی دے رہے ہیں، جرمن میڈیا کے مطابق عالمی سطح کے مقتدر ایتھلیٹس کے ساتھ بین الاقوامی ایئرپورٹ پر عام مسافروں سے بھی زیادہ سخت اور تضحیک آمیز برتاؤ کرنے پر جرمن فٹ بال ایسوسی ایشن نے بھی کینیڈین امیگریشن حکام کے خلاف شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اسے ورلڈ کپ کے مروجہ پروٹوکولز کے منافی قرار دیا ہے۔

دوسری جانب اس وائرل ویڈیو پر دنیا بھر کے فٹ بال شائقین کی جانب سے کینیڈا پر شدید نکتہ چینی کی جا رہی ہے اور یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا فیفا ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے آئی ہوئی عالمی ٹیموں کو خصوصی سفارتی و سیکیورٹی رعایت ملنی چاہیے یا نہیں، تاہم اس کڑے عوامی و بین الاقوامی دباؤ کے بعد کینیڈین بارڈر سروسز اور ایئرپورٹ حکام نے اپنا سخت سٹرٹیجک مؤقف جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ شمالی امریکہ کے سرحدی، کسٹمز اور سیکیورٹی قوانین ملک میں داخل ہونے اور یہاں سے جانے والے تمام افراد پر بلا تفریقِ رنگ، نسل اور رتبہ یکساں طور پر لاگو ہوتے ہیں، حکام کا کہنا تھا کہ پروازوں کی حفاظت اور کینیڈا کے حفاظتی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی عالمی کھلاڑی یا وی آئی پی شخصیت کو سیکیورٹی چیکس میں خصوصی رعایت دینا ناممکن ہے۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد پاکستان کی سفارتی حکمتِ عملی تیز، وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی ہنگامی اور انتہائی اہم دورے پر تہران روانہ، ایرانی اعلیٰ قیادت اور سفارتی مقتدر شخصیات سے ملاقاتیں شیڈول، ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی ’ارنا‘ نے دورے کی تصدیق کر دی

کاشف عباسی ,june 20,2026

اسلام آباد/تہران (سیاسی رپورٹر/انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

سپر پاور امریکہ اور ایران کے مابین پاکستان کی مخلصانہ ثالثی کے نتیجے میں طے پانے والے تاریخی امن معاہدے ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ کے بعد خطے کی بدلتی ہوئی سٹرٹیجک صورتحال کو پائیدار بنانے کے لیے پاکستان نے ایک بار پھر اپنا فعال ترین سفارتی کردار ہنگامی بنیادوں پر تیز کر دیا ہے، اس سلسلے میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی ایک انتہائی اہم اور ہنگامی دورے پر ایران کے دارالحکومت تہران روانہ ہو گئے ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے اس مقتدر دورے کو مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن و امان کے قیام، عالمی سفارت کاری اور معاہدے کے خدوخال کو حتمی شکل دینے کے لحاظ سے انتہائی کلیدی اور سنسنی خیز اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے اس اعلیٰ سطح کے ہنگامی دورے کی حساسیت اور اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایران کے سرکاری میڈیا نے بھی اسے بریکنگ نیوز کے طور پر نمایاں کوریج دی ہے، ایران کی آفیشل اور مقتدر سرکاری نیوز ایجنسی ”ارنا“ نے پاکستانی وزیرِ داخلہ کی تہران آمد اور اس اعلیٰ سطح کے دورے کی باقاعدہ تصدیق کرتے ہوئے مطلع کیا ہے کہ محسن نقوی اپنے اس مقتدر دورے کے دوران ایرانی دارالحکومت تہران میں ایران کی اعلیٰ ترین حکومتی، عسکری اور سفارتی شخصیات سے خصوصی ملاقاتیں کریں گے، اس سٹرٹیجک دورے کا سب سے اہم، بنیادی اور حساس ترین محور ایران اور امریکہ کے درمیان جاری پسِ پردہ مذاکرات میں ہونے والی حالیہ پیشرفت، جنگ بندی کے معاہدے پر عملدرآمد اور ضامن کے طور پر پاکستان کی جانب سے کی جانے والی نئی سفارتی کوششیں ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق تہران میں ہونے والی ان مقتدر ملاقاتوں کے دوران پاک ایران دوطرفہ سیکیورٹی امور، سرحدی انتظام، خطے کی مجموعی جیو پولیٹیکل صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر تزویراتی امور پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا، یہ دورہ دراصل پاکستان کی اسی پائیدار خارجہ پالیسی کا تسلسل ہے جس کے تحت وہ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف کی قیادت میں خطے میں عالمی امن کا سب سے بڑا علمبردار بن کر ابھرا ہے، سیاسی و معاشی مبصرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے، مستقل امن و امان کے قیام اور عالمی طاقتوں کے مابین سفارتی روابط کو فعال و محفوظ بنانے کے لیے پاکستان کا یہ برادرانہ اور مقتدر ثالثی کردار خطے کو ایک نئی اور محفوظ سمت کی طرف گامزن کر رہا ہے۔

”فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ اعظم شہباز شریف عظیم ہیں، دونوں کے ورکنگ ریلیشنز شاندار ہیں، ایک آرمی چیف کو اپنے وزیرِ اعظم کا پورا احترام کرتے دیکھنا خوبصورت ترین منظر ہے“، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ کو سنسنی خیز انٹرویو، ایران جنگ رکوانے میں پاکستان کی اسٹرٹیجک ثالثی کا اعتراف

کاشف عباسی ,june 20,2026

واشنگٹن/اسلام آباد (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 20 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے تاریخی امن معاہدے ”اسلام آباد مفاہمتی یادداشت“ کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر عالمی منظرنامے پر پاکستانی قیادت کی غیر معمولی عسکری و سیاسی صلاحیتوں اور مثالی داخلی ہم آہنگی کو دنیا کے سامنے زبردست الفاظ میں سراہا ہے، واشنگٹن سے موصولہ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مشہور امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ کو دیے گئے ایک مقتدر اور خصوصی انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے سول اور عسکری تعلقات کو دنیا بھر کے جمہوری و دفاعی نظام کے لیے ایک شاندار اور بہترین اسٹرٹیجک مثال قرار دے دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے کی صورتحال پر کھل کر بات کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ سپر پاور امریکہ اور ایران کو ہولناک جنگ کے دہانے سے واپس لانے اور کائنات میں امن قائم کرانے میں پاکستان کا کردار سب سے اہم اور مخلصانہ تھا، انہوں نے پاکستانی طاقت کا کٹھ چٹھا کھولتے ہوئے کہا کہ ”پاکستان میں فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر اور وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ اور تعلقات کی کیمسٹری بہت لاجواب ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک عظیم سپہ سالار ہیں اور ان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف بھی ایک مقتدر لیڈر ہیں، دونوں کے آپس میں شاندار، مربوط اور پختہ تعلقات قائم ہیں۔“

ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے اندرونی سیاسی و عسکری ڈھانچے کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہوئے مزید کہا کہ ”یہ منظر دیکھنا بین الاقوامی برادری کے لیے انتہائی خوبصورت اور قابلِ تقلید ہے کہ ملک کا ایک طاقتور فوجی سربراہ پوری طرح اور مخلصانہ طور پر اپنے آئینی وزیرِ اعظم کا احترام کرتا ہے اور ان کے ساتھ مل کر فیصلے کرتا ہے،“ انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستانی قیادت نے ایران کے ساتھ یہ پیچیدہ مفاہمتی یادداشت طے کرنے میں واشنگٹن کی بہت بڑی اور تاریخی مدد کی، کیونکہ پاکستانی حکام تہران کے حکمرانوں اور ایرانیوں کی نفسیات کو بہت اچھے طریقے سے جانتے، پرکھتے اور سمجھتے تھے۔

امریکی صدر نے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے سنسنی خیز دعویٰ کیا کہ ”ہم نے ایران کو فوجی اور دفاعی سطح پر پوری طرح جکڑ کر شکست دے دی تھی، لیکن اس انتہائی نازک اور سسپنس سے بھرپور موڑ پر پاکستان نے، جو کہ امریکہ کے بہت قریب اور دیرینہ دوست ہے، مجھ سے باقاعدہ اعلیٰ سطحی درخواست کی کہ ایران پر مزید ملٹری حملے نہ کیے جائیں، جس کے بعد پاکستان کے فولادی اصرار پر ہی ہم نے مذاکرات اور مستقل امن کا راستہ اختیار کیا،“ سیاسی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ انٹرویو ظاہر کرتا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کی کامیاب خارجہ پالیسی نے نہ صرف دنیا کو تیسری جنگِ عظیم سے بچایا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا عسکری و سیاسی وقار بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

”میں اور اٹلی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے“، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے توہین آمیز ریمارکس پر اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی کا کرارا جواب، احتجاجاً اطالوی نائب وزیرِ اعظم کا دورۂ امریکہ منسوخ، جی 7 سمٹ کے بعد واشنگٹن اور روم میں شدید سفارتی جنگ چھڑ گئی

محمود احمد june 19,2026

روم/واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

فرانس میں منعقدہ جی 7 سربراہی اجلاس کے سائیڈ لائنز پر شروع ہونے والا تنازع اب ایک ہولناک بین الاقوامی سفارتی بحران میں تبدیل ہو گیا ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زہریلے اور توہین آمیز بیانات کے خلاف اٹلی کی قیادت نے انتہائی کڑا اور مقتدر رخ اختیار کر لیا ہے، روم سے جاری ہونے والی بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو سرِعام “جھوٹا، من گھڑت اور خود ساختہ” قرار دے کر مسترد کر دیا ہے جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ جارجیا میلونی ان کے ساتھ تصویر کھچوانے کے لیے منت سماجت کر رہی تھیں، اطالوی وزیرِ اعظم نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں تہران نما عزم کے ساتھ واضح کیا کہ ”امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ہر صورت یہ یاد رکھنا ہوگا کہ جارجیا میلونی اور ملک اٹلی دنیا میں کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔“

اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی کا مزید کہنا تھا کہ سپر پاور کے صدر کا یہ اڑیل بیان سراسر خود ساختہ کہانی پر مبنی ہے اور اس غیر ذمہ دارانہ رویے سے پوری اطالوی حکومت کو شدید مایوسی ہوئی ہے، انہوں نے کڑی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”میں اب تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ امریکی صدر اپنے دیرینہ اور مخلص یورپی اتحادیوں کے ساتھ اس طرح کا تضحیک آمیز برتاؤ آخر کیوں کرتے ہیں؟“ واضح رہے کہ یہ تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب جی 7 سربراہی اجلاس کے اختتام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مقتدر انٹرویو کے دوران سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ”اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی میرے ساتھ تصویر بنوانے کے لیے مسلسل منتیں اور سماجت کر رہی تھیں، جس پر مجھے ان کی حالت دیکھ کر ترس آگیا اور میں نے فوٹو بنوا لی۔“

ٹرمپ کے اس انتہائی توہین آمیز اور تکبر سے بھرپور بیان پر پورے اٹلی میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے، جس پر ہنگامی سفارتی ایکشن لیتے ہوئے اٹلی کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی نے امریکی صدر کے رویے کے خلاف سخت ترین احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے اپنا دورۂ امریکہ یکسر منسوخ کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، اطالوی وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی نے واشنگٹن کو کڑا پیغام بھیجتے ہوئے کہا کہ ”صدر ٹرمپ کی جانب سے ہماری وزیرِ اعظم جارجیا میلونی کے خلاف استعمال کیے گئے گھٹیا اور توہین آمیز الفاظ سے پورے اطالوی عوام اور ریاست کے وقار کو شدید ٹھیس پہنچی ہے، اس توہین کے بعد میں کسی صورت واشنگٹن نہیں جا سکتا،“ انہوں نے مطلع کیا کہ اسی احتجاجی فیصلے کے تحت وہ 21 اور 22 جون کو ہونے والا اپنا اہم ترین طے شدہ سرکاری دورۂ امریکہ منسوخ کر رہے ہیں، سیاسی مبصرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد صدر ٹرمپ کا یورپی اتحادیوں کے ساتھ یہ نیا محاذ واشنگٹن کو عالمی سیاست میں مزید تنہا کر سکتا ہے۔

”چینی صدر شی جن پنگ اور نریندر مودی دنیا کے دو مضبوط ترین رہنما ہیں، مودی فرشتے کی طرح نظر آتے ہیں لیکن مذاکرات میں بے رحم قاتل ہیں“، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا جی 7 سمٹ کے بعد سنسنی خیز انٹرویو، ایران محاذ آرائی کے بعد صدارتی اختیارات کی حدود نہ ہونے کا دعویٰ

محمود احمد june 19,2026

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے صدر شی جن پنگ اور بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو اس وقت دنیا کے دو سب سے زیادہ مضبوط اور بااثر ترین عالمی رہنما قرار دے دیا ہے، واشنگٹن سے جاری بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانس میں منعقدہ جی 7 سربراہی اجلاس سے واپسی پر دیے گئے ایک انتہائی مقتدر اور سنسنی خیز انٹرویو میں امریکی صدر نے اعتراف کیا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ ان عالمی لیڈرز کی فہرست میں سرفہرست ہیں جنہیں وہ ذاتی طور پر سب سے زیادہ پسند کرتے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں رہنماؤں کی نفسیات کا کٹھ چٹھا کھولتے ہوئے چینی صدر شی جن پنگ کو “مکمل طور پر ایک کاروباری اور نفع نقصان دیکھنے والی شخصیت” جبکہ بھارتی وزیرِ اعظم مودی کو “ایک حد سے زیادہ سخت، پختہ اور ضدی انسان” قرار دیا۔

امریکی صدر نے فرانس میں میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس وقت ایک نیا پینڈورا باکس اور بحث چھیڑ دی جب انہوں نے تجارتی مذاکرات کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو ایک ہی سانس میں ‘فرشتہ’ اور ‘قاتل’ قرار دے دیا، ڈونلڈ ٹرمپ کا کڑے الفاظ میں کہنا تھا کہ ”نریندر مودی دنیا کے سخت ترین اور مشکل ترین مذاکرات کاروں میں سے ایک ہیں، وہ دیکھنے میں بہت خوبصورت، دھیمے اور معصوم نظر آتے ہیں، بالکل ایک فرشتے کی طرح، لیکن جب بات اپنے ملکی مفاد اور تجارت کی ہو تو حقیقت میں وہ انتہائی سخت، ایک بے رحم قاتل کی طرح سودے بازی کرتے ہیں اور رتی برابر بھی گنجائش نہیں دیتے۔“ انٹرویو کے دوران امریکی صدر نے کسی بھی ایسے عالمی رہنما کا نام لینے سے صاف گریز کیا جسے وہ سیاسی یا سٹرٹیجک طور پر کمزور سمجھتے ہوں۔

انٹرویو کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے ایک اور سنسنی خیز دعویٰ کیا کہ حالیہ بین الاقوامی واقعات، بشمول ایران کے ساتھ ہونے والی شدید فوجی و سفارتی محاذ آرائی اور اس کے بعد طے پانے والے تاریخی امن معاہدے نے ان کے اس یقین کو فولادی بنا دیا ہے کہ امریکی صدارتی اختیارات کی کوئی طے شدہ “حدود” نہیں ہیں اور ایک امریکی صدر دنیا کا نقشہ بدلنے کی طاقت رکھتا ہے، مبصرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ مقتدر بیان ظاہر کرتا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ حالیہ کامیابی کے بعد خود کو عالمی سیاست کا سب سے طاقتور محور قرار دے رہے ہیں جبکہ چین اور بھارت کے ساتھ مستقبل میں سخت تجارتی معرکوں کی تیاری کا اشارہ بھی دے رہے ہیں۔

”اگر ہم نے فوری طور پر نیتن یاہو حکومت کو نہ بدلا تو اسرائیل کے خارجہ تعلقات مکمل طور پر تباہ ہو جائیں گے“، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی برہمی پر سابق اسرائیلی وزیرِ اعظم اور اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ کا کڑا ردعمل، امریکہ ایران امن معاہدے پر دونوں اتحادیوں میں سفارتی دراڑیں نمایاں

محمود احمد june 19,2026

واشنگٹن/تل ابیب (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان حال ہی میں طے پانے والی تاریخی مفاہمتی یادداشت اور جنگ بندی کے بعد واشنگٹن اور تل ابیب کے مابین سٹرٹیجک تلخی برقرار ہے، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے کڑی نکتہ چینی کے بعد اسرائیل کے سابق وزیرِ اعظم اور موجودہ اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کی حکومت کو سخت ترین الفاظ میں وارننگ جاری کر دی ہے، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک مقتدر اور دوٹوک بیان میں یائر لیپڈ نے خبردار کیا ہے کہ ”پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران امریکی نائب صدر پریس کانفرنس میں اسرائیلی وزرا اسموٹریچ اور بین گویر پر شدید برہم ہوئے، جبکہ ہمارے وزیرِ خارجہ جدعون سار نے یورپی یونین کے وزیرِ خارجہ سے تعلقات منقطع کر لیے اور دوسری طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی نیتن یاہو کو لبنان میں غیر ذمہ داری دکھانے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے؛ اگر ہم نے اس انتہا پسند حکومت کو فوری طور پر اقتدار سے نہ ہٹایا تو اسرائیل کے بین الاقوامی خارجہ تعلقات دنیا بھر میں یکسر مٹ جائیں گے۔“

یہ سنگین سفارتی تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران اسرائیلی کابینہ کے بعض ارکان کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نئی امریکی خارجہ پالیسی پر کی جانے والی ذاتی و تند و تیز تنقید کا انتہائی سخت اور کرارا جواب دیا، جے ڈی وینس نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ ”اگر میں خود اسرائیلی کابینہ کی کرسی پر بیٹھا ہوتا تو دنیا میں اپنے سب سے مخلص، طاقتور اور اہم ترین دفاعی اتحادی کو اس طرح سرِعام نشانہ بنانے کی حماقت کبھی نہ کرتا،“ انہوں نے اسرائیلی حکومت کو زمینی حقائق کا آئینہ دکھاتے ہوئے سنسنی خیز یاد دہانی کرائی کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران جاری رہنے والے ہولناک معرکوں میں اسرائیل کے دفاع اور سیکیورٹی میں استعمال ہونے والے کل ہتھیاروں کا دو تہائی حصہ خالصتاً امریکہ نے فراہم کیا ہے، جنہیں رات دن محنت کر کے امریکی ماہرین نے تیار کیا اور جس کے اربوں ڈالر کے فنڈز امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے ممکن بنائے گئے تھے۔

امریکی نائب صدر نے کڑے الفاظ میں کہا کہ بعض اسرائیلی وزرا کے بیانات انتہائی افسوسناک اور اسپورٹس مین اسپرٹ کے منافی ہیں، کیونکہ وہ ایک ایسے امریکی صدر کو بلاجواز تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جو ہمیشہ سے اسرائیل کے لیے ہمدردانہ اور حفاظتی مؤقف رکھتا ہے، انہوں نے نیتن یاہو کے وزرا کو مقتدر مشورہ دیا کہ وہ خوابوں کی دنیا سے باہر نکلیں اور خطے کی نئی سٹرٹیجک تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ذمہ دارانہ بین الاقوامی طرزِ عمل اختیار کریں، واضح رہے کہ اسرائیلی کابینہ کے بعض سخت گیر ارکان امریکہ اور ایران کے مابین پاکستان کی ثالثی سے ہونے والے امن معاہدے پر مسلسل آگ بگولا ہیں اور انہوں نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا، تاہم سابق وزیرِ اعظم یائر لیپڈ، نفتالی بینیٹ اور فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے نیتن یاہو کی پالیسیوں کو اسرائیل کے لیے عالمی سفارتی تنہائی کا سبب قرار دے دیا ہے۔

عالمی مارکیٹ میں مندی کے بعد پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 14,900 روپے کی تاریخی کمی، سونا 4 لاکھ 38 ہزار 036 روپے کی سطح پر آگیا، چاندی کی قیمتیں بھی یکایک گر گئیں، صرافہ مارکیٹ کی رپورٹ

روزینہ اسماعیل.june 19,2026

کراچی (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

بین الاقوامی بلین مارکیٹ اور مقامی صرافہ بازاروں میں پٹرولیم مصنوعات کے بعد اب سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بھی بڑے پیمانے پر غیر معمولی اور تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، آل پاکستان سپریم کونسل جیولرز ایسوسی ایشن اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 149 ڈالر کی زبردست مندی کے بعد 4,156 ڈالر کی سطح پر نیچے آگئی ہے، عالمی مارکیٹ میں ہونے والی اس بڑی گراوٹ کے براہِ راست اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے ہیں جس کے باعث پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت 14,900 روپے کی نمایاں کمی کے بعد 4 لاکھ 38 ؎ہزار 036 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔

صرافہ مارکیٹ کے مقتدر ذرائع کے مطابق فی تولہ سونے کے ساتھ ساتھ 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 13,410 روپے کی بڑی کٹوتی دیکھی گئی ہے جس کے بعد مقامی بازاروں میں 10 گرام سونا گھٹ کر 3 لاکھ 74 ہزار 205 روپے کی سطح پر آگیا ہے، معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے کامیاب معاہدے اور عالمی معیشت میں استحکام کی بحالی کے باعث سرمایہ کار اب سونے کی محفوظ پناہ گاہوں سے سرمایہ نکال کر دیگر تجارتی شعبوں میں لگا رہے ہیں، جس کی وجہ سے قیمتی دھاتوں کی قیمتیں تیزی سے نیچے آرہی ہیں اور عام خریداروں کے لیے ایک طویل عرصے بعد بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔

سونے کے ساتھ ساتھ ملکی صرافہ بازاروں میں چاندی کی قیمتوں کو بھی بڑا بریک لگا ہے، اعداد و شمار کے مطابق فی تولہ چاندی کی قیمت 413 روپے کی نمایاں کمی کے بعد 6,946 روپے کی سطح پر آگئی ہے، جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 373 روپے کی بڑی گراوٹ کے ساتھ مارکیٹ میں 5,895 روپے کی سطح پر بند ہوئی، صرافہ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اس غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے باعث مارکیٹ میں خریداروں کا رش بڑھنے کا امکان ہے، تاہم آنے والے دنوں میں عالمی حالات کے مطابق قیمتوں میں مزید استحکام یا کمی متوقع ہے۔

امریکہ ایران جنگ بندی اور عالمی امن اعزاز پر پوری قوم اور عسکری و سیاسی قیادت مبارکباد کی مستحق ہے، پاکستان نے دنیا میں ذمہ دار اور پرامن ریاست کے طور پر لوہا منوایا، سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان کا مقتدر بیان، بجٹ کو عوام دوست بنانے اور پٹرولیم قیمتوں میں فوری ریلیف دینے کا مطالبہ

روزینہ اسماعیل.june 19,2026

کراچی (اسٹاف رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی اور عالمی سطح پر امن کے فروغ سے متعلق پاکستان کو ملنے والے عظیم الشان “عالمی امن اعزاز” کے حصول پر ملک کی عسکری و سیاسی قیادت سمیت پوری پاکستانی قوم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے، پریس ریلیز کے مطابق کراچی سے جاری اپنے ایک مقتدر بیان میں سابق گورنر سندھ نے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر، وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف، نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار اور پوری قوم کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخی کامیابی اجتماعی قومی کوششوں اور انتہائی مؤثر و دور اندیش سفارتی حکمتِ عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ڈاکٹر عشرت العباد خان نے ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان کی کامیاب ثالثی کے نتیجے میں بہتر ہوتے سفارتی روابط اور اس تاریخی مفاہمت کو دنیا میں امن اور استحکام کے ایک نئے سنہری دور کی علامت قرار دیا، انہوں نے فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے طویل ترین مشکل حالات، لازوال قربانیوں اور مسلسل سفارتی جدوجہد کے ذریعے بین الاقوامی برادری میں خود کو ایک انتہائی ذمہ دار اور پرامن ریاست کے طور پر منوایا ہے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان آج عالمی سفارتکاری میں ایک مقتدر اور مؤثر ترین کھلاڑی کا کردار ادا کر رہا ہے جو کہ 24 کروڑ عوام کے لیے باعثِ فخر ہے۔

سابق گورنر سندھ نے حکومتی معاشی پالیسیوں پر بات کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ان بین الاقوامی سٹرٹیجک کامیابیوں کے براہِ راست معاشی اثرات عام شہریوں کی دہلیز تک بھی لازمی پہنچنے چاہئیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہونے کے بعد ملک میں مہنگائی میں واضح کمی لائی جائے اور پٹرول، ڈیژل، گیس کی قیمتوں میں فوری و خاطر خواہ ریلیف سمیت توانائی کے شعبے میں مثبت تبدیلیاں لائی جائیں، ڈاکٹر عشرت العباد خان نے زیرِ بحث وفاقی بجٹ پر کڑا زور دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ کو ہر صورت عوام دوست بنایا جائے اور اس میں پارلیمنٹ کی تجویز کردہ ضروری ترامیم کے بعد ہی اسے منظور کیا جائے تاکہ تنخواہ دار اور غریب مزدور طبقے کو حقیقی معاشی ریلیف مل سکے۔

اپنے بیان کے آخر میں انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ پاکستان کی پائیدار ترقی صرف اور صرف سیاسی ہم آہنگی، ادارہ جاتی تعاون اور فولادی قومی اتحاد سے ہی ممکن ہے، جبکہ خطے میں درپیش بیرونی چیلنجز بالخصوص پاکستان کو نشانہ بنانے والی بھارتی پراکسی سرگرمیوں کو کچلنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مؤثر قومی حکمتِ عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان اسی درست سمت میں پیش رفت جاری رکھتا ہے تو ملک خطے میں ایک مضبوط، معاشی طور پر مستحکم اور پرامن ایٹمی ریاست کے طور پر مزید نمایاں ہو کر ابھرے گا۔

ایرانی فٹبال فیڈریشن کا سفری پابندیوں کے خلاف فیفا سے رجوع کرنے کا اعلان، میکسیکو سے لاس اینجلس روانگی کی اجازت نہ ملنے پر شدید احتجاج، ورلڈکپ شیڈول متاثر

محمود احمد june 19,2026

میامی، امریکہ (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

جاری فیفا فٹبال ورلڈکپ 2026 کے دوران کھیل کے میدان سے باہر ایک نیا بڑا سفارتی اور انتظامی تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جہاں ایرانی فٹبال فیڈریشن نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ عالمی کپ کے دوران اپنی ٹیم پر عائد کی جانے والی مبینہ سفری پابندیوں اور ویزا و سفری رکاوٹوں کے خلاف فٹبال کی عالمی گورننگ باڈی “فیفا” سے باضابطہ رجوع کر رہی ہے، بین الاقوامی اسپورٹس رپورٹس کے مطابق ایرانی فٹبال فیڈریشن نے امریکی انتظامیہ کے رویے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکہ میں عائد ان غیر لچکدار سفری پابندیوں کے باعث ایرانی نیشنل ٹیم کے کوچنگ اسٹاف کے سٹرٹیجک منصوبے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں اور عالمی کپ جیسے بڑے ایونٹ کی تیاریوں میں جان بوجھ کر غیر ضروری رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔

ایرانی فٹبال فیڈریشن کے مقتدر حکام نے تفصیلات سے مطلع کرتے ہوئے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ میکسیکو میں قائم ایرانی ٹیم کے بین الاقوامی تربیتی کیمپ سے اتوار کے روز ٹیم کو لاس اینجلس (امریکہ) روانگی کی باقاعدہ اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا گیا، جس کی وجہ سے نہ صرف کھلاڑیوں کا سفری شیڈول بری طرح پامال ہوا بلکہ ٹیم کے تمام انتظامی امور اور لاجسٹکس بھی شدید متاثر ہوئے ہیں، ایرانی فیڈریشن نے فیفا کے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کڑا مؤقف اختیار کیا ہے کہ فیفا ورلڈکپ جیسے عظیم اور عالمی یکجہتی کے ایونٹ میں شریک دنیا کی تمام پوزیشن ہولڈر ٹیموں کو بین الاقوامی قوانین کے تحت مساوی سفری سہولیات، پروٹوکول اور آزادانہ نقل و حرکت فراہم کی جانی چاہیے اور کسی بھی میزبان ملک کو اس میں سیاست چمکانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، اس سنگین معاملے پر ایرانی وفد فیفا سے فوری، ہنگامی اور مؤثر مداخلت کی درخواست کرے گا۔

واضح رہے کہ تاریخ کے اس سب سے بڑے فیفا ورلڈکپ 2026 کی مشترکہ میزبانی امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا مل کر کر رہے ہیں، لیکن امریکہ اور ایران کے مابین دیرینہ سیاسی کھچاؤ اور حال ہی میں طے پانے والے نازک امن معاہدے کے نفاذ کے ابتدائی مراحل کے دوران اس اسپورٹس ویزا تنازع نے فٹبال ورلڈکپ کے پرامن انعقاد اور امریکی انتظامیہ کے اسپورٹس مین اسپرٹ کے دعووں پر ایک بڑا سیکیورٹی و انتظامی سوالیہ نشان لگا دیا ہے جس پر فیفا کا ردعمل آنا ابھی باقی ہے۔

لندن میراتھن 2027 میں پہلی بار 2 روزہ تاریخی ایونٹ کے طور پر منعقد ہوگی، ریکارڈ 13 لاکھ سے زائد درخواستیں موصول، 1 لاکھ رنرز روایتی راستے پر دوڑیں گے، معیشت کو 400 ملین پاؤنڈ کے فائدے کی توقع

منصور احمد june 19,2026

لندن (انٹرنیشنل اسپورٹس ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

لندن میراتھن کے منتظمین نے کھیلوں کی دنیا کا ایک انتہائی منفرد اور بڑا اعلان کرتے ہوئے مطلع کیا ہے کہ سال 2027 میں یہ عالمی شہرت یافتہ تاریخی دوڑ خصوصی طور پر 2 روز تک جاری رہے گی، سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) اور برطانوی میڈیا ’بی بی سی‘ کی رپورٹس کے مطابق اس نئے انقلابی فارمیٹ کے تحت 24 اور 25 اپریل 2027 کو مجموعی طور پر ریکارڈ 100,000 شرکا کو اس عالمی ایونٹ میں باقاعدہ حصہ لینے کا سنہری موقع ملے گا، منتظمین کی جانب سے یہ تاریخی فیصلہ اس وقت کیا گیا جب 2027 کی لندن میراتھن میں شرکت کے لیے دنیا بھر سے ریکارڈ 1,338,544 درخواستیں موصول ہوئیں، جو کہ گزشتہ برس کی ریکارڈ 1,133,813 درخواستوں سے بھی کہیں زیادہ ہیں، نئے فارمیٹ کے نفاذ کے بعد اب عام شرکا کے بیلٹ (قرعہ اندازی) کے ذریعے انتخاب کے امکانات تقریباً 2 گنا ہو جائیں گے۔

لندن میراتھن ایونٹس کے چیف ایگزیکٹو ہیو براشر کے مطابق اس 2 روزہ میراتھن کے انعقاد سے مختلف عالمی خیراتی اداروں (Charities) کے لیے 150 ملین پاؤنڈ سے زائد کے خطیر فنڈز جمع ہونے کی قوی توقع ہے، جبکہ برطانوی معیشت کو اس میگا ایونٹ کی بدولت مجموعی طور پر 400 ملین پاؤنڈ کا زبردست سماجی اور معاشی فائدہ پہنچے گا، انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ لندن میراتھن کی طویل تاریخ میں ایک منفرد اور غیر معمولی قدم ہے، جس کا بنیادی مقصد زیادہ سے زیادہ پُرجوش افراد، خیراتی اداروں اور مقامی برادریوں کو اس عالمی ہیلتھ ایونٹ کا حصہ بنانا ہے، دوسری جانب لندن کے مقبول میئر صادق خان نے بھی اس شاندار فیصلے کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے پُرعزم الفاظ میں کہا کہ لندن دنیا بھر میں کھیلوں کا حقیقی دارالحکومت ہے اور 2027 میں 1 سال کے لیے میراتھن کا یہ 2 روزہ خصوصی انعقاد ہمارے شہر کے لیے ایک بہت بڑا اعزاز کی بات ہے۔

کھیلوں کے منتظمین کے مطابق تمام 100,000 خوش قسمت شرکا لندن کے اسی تاریخی اور روایتی راستے پر دوڑیں گے، جو گرین وچ کے خوبصورت مقام سے شروع ہو کر ویسٹ منسٹر پر اختتام پذیر ہوتا ہے، اس کے علاوہ مستقبل کے معماروں کے لیے 20,000 سے زائد بچوں کی شرکت کے ساتھ ’منی لندن میراتھن‘ 23 اپریل کو شیڈول کے مطابق منعقد کی جائے گی، واضح رہے کہ حالیہ لندن میراتھن 2026 میں ریکارڈ 59,830 رنرز نے کامیابی سے اپنی دوڑ مکمل کی تھی، جبکہ ان شرکا نے دنیا بھر میں انسانیت اور خیراتی مقاصد کے لیے 90 ملین پاؤنڈ سے زائد کی خطیر رقم جمع کر کے کھیل کی تاریخ کا ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا جو اب 2027 میں ٹوٹنے کے قریب ہے۔

بھارت کی ہندوتوا حکومت اپنی کشمیر دشمن اور ظالمانہ پالیسیوں کے ذریعے تنازعۂ کشمیر کی حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتی، جموں و کشمیر کے بارے میں بھارتی ہٹ دھرمی عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے، کل جماعتی حریت کانفرنس کا اسلام آباد سے مشترکہ اعلامیہ جاری

منصور احمد june 19,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے سینئر ترین رہنماؤں نے مودی حکومت کی فاشسٹ پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ بھارت کی متعصب ہندوتوا حکومت اپنے تمام تر ظلم و ستم، سفاکانہ کشمیر دشمن ہتھکنڈوں اور ظالمانہ پالیسیوں کے باوجود عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازعۂ کشمیر کی تاریخی و قانونی حقیقت کو کسی صورت تبدیل نہیں کر سکتی، سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے مقتدر سینیئر رہنماؤں محمد فاروق رحمانی، حاجی سلطان بٹ اور چودھری شاہین اقبال نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے ایک اہم ترین مشترکہ ترین بیان جاری کرتے ہوئے دیرینہ تنازعۂ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاس کردہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے پر کڑا زور دیا ہے، حریت قیادت کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کے حوالے سے نئی دہلی کی ہٹ دھرمی اور ہٹلر شاہی پر مبنی جابرانہ پالیسی اب صرف جنوبی ایشیا کے خطے کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک ہولناک اور سنگین خطرہ بن چکی ہے۔

حریت رہنماؤں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی تازہ ترین زمینی صورتحال پر گہرے افسوس اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ سفاک بھارتی افواج نے وادی میں کشمیری عوام کی حق پر مبنی اور پرامن جدوجہدِ آزادی کو بندوق کے زور پر دبانے کے لیے وحشیانہ ظلم و تشدد، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے گھروں پر آدھی رات کو چھاپوں، فوجی محاصروں اور تلاشی کی نام نہاد کارروائیوں سمیت جبری گرفتاریوں اور سیاسی انتقام کا کڑا سلسلہ حد سے زیادہ تیز کر دیا ہے، کشمیری قیادت نے جابر بھارتی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کے حوالے سے اپنی نوآبادیاتی اور غاصبانہ پالیسی کو فی الفور ترک کرے اور کشمیری عوام کو ان کا بنیادی اور ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت فراہم کرتے ہوئے اس دیرینہ مسئلے کے پرامن، منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے سفارتی راہ ہموار کرے، انہوں نے عالمی برادری کو مطلع کیا کہ بھارت نے حریت کی صفِ اول کی قیادت سمیت ہزاروں معصوم کشمیری نوجوانوں کو کالے قوانین کے تحت جھوٹے، من گھڑت اور بے بنیاد مقدمات میں ملوث کر کے تہاڑ جیل سمیت دیگر بدنام زمانہ بھارتی عقوبت خانوں اور جیلوں میں غیر قانونی طور پر قید کر رکھا ہے، لیکن ان تمام تر جابرانہ ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیری عوام کے لازوال جذبۂ حریت اور آزادی کی تڑپ کو ذرہ برابر بھی کمزور نہیں کیا جا سکا۔

مشترکہ اعلامیے میں حریت رہنماؤں نے اس فولادی عزم کا اعادہ کیا کہ مقبوضہ وادی کے چپے چپے پر گرنے والا کشمیری شہداء کا پاک خون اور ان کی عظیم قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی اور مظلوم کشمیری عوام اپنی اس منصفانہ جدوجہدِ آزادی کو اس کے منطقی انجام اور مکمل آزادی تک پہنچانے کے لیے ہر محاذ پر پرعزم ہیں، انہوں نے اقوامِ متحدہ ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور بااثر عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے بدترین مظالم، ماورائے عدالت قتل، انسانی حقوق کی سنگین ترین پامالیوں اور کشمیریوں کے سیاسی جبر کا فوری اور کڑا نوٹس لے، اور بھارت پر سفارتی و اقتصادی دباؤ ڈال کر تنازعۂ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرانے میں اپنا مؤثر اور تاریخی کردار ادا کرے تاکہ خطے کو مستقل تباہی سے بچایا جا سکے۔