چینی کوسٹ گارڈ پر حملہ اور خطرناک انداز میں جہاز ٹکرانے کی کوشش سنگین حرکت ہے؛ چین اپنی علاقائی خودمختاری کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گا، چینی وزارتِ خارجہ، پریس ریلیز

منصور احمد, JULY 21,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

چین نے جنوبی چین کے سمندر میں واقع ‘رینائی ریف’ کے قریب فلپائن کی جانب سے کی جانے والی دانستہ عسکری اشتعال انگیزی اور چینی کوسٹ گارڈ کے اہلکاروں پر حملے کے شدید واقعے پر فلپائن کے سفیر کو وزارتِ خارجہ طلب کر کے سخت ترین احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

چائنا گلوبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک (‘سی جی ٹی این’) کے مطابق، چین کی وزارتِ خارجہ کے شعبہ برائے سرحدی و بحری امور کے اعلیٰ عہدیدار نے منگل کے روز موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ رینائی ریف، چین کے نانشا جزائر کا نکھرتا حصہ اور چینی سرزمین ہے۔ اس تناظر میں چینی کوسٹ گارڈ کا رینائی ریف کے ملحقہ سمندری حدود میں قانون نافذ کرنا بالکل جائز، قانونی اور آئینی حق ہے۔

چینی حکام نے واقعے کی تفاصیل بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ فلپائن کے غیر قانونی طور پر رینائی ریف میں “گراؤنڈ شدہ” (پھنسے ہوئے) جنگی جہاز سے دو ربڑ کی کشتیاں اتاری گئیں، جنہوں نے انتہائی خطرناک اور جارحانہ انداز میں چینی کوسٹ گارڈ کے جہازوں کے قریب آ کر ان سے ٹکرانے کی ناپاک کوشش کی۔ اس دوران فلپائنی اہلکاروں نے چینی قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو جان بوجھ کر ہراساں کیا اور ان پر حملہ آور ہوئے، جس سے چینی اہلکاروں کی سلامتی اور جانوں کو شدید خطرات لاحق ہوئے۔

چینی وزارتِ خارجہ نے فلپائن کے اس اقدام کو انتہائی تشویشناک اور سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اشتعال انگیزی کا آغاز فلپائن کی جانب سے کیا گیا، لیکن بعد میں فلپائنی حکام نے الٹا حقائق کو مسخ کرتے ہوئے چین پر بے بنیاد الزامات عائد کیے اور معاملے کو میڈیا میں بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی ناکام کوشش کی، جس پر بیجنگ شدید عدم اطمینان کا اظہار کرتا ہے۔

چینی عہدیدار نے فلپائن سے حتمی مطالبہ کیا ہے کہ وہ بحری سرحدوں پر فوری طور پر تمام تر اشتعال انگیز اقدامات، کشیدگی بڑھانے والی سرگرمیاں اور بے بنیاد پراپیگنڈا بند کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ چین اپنی اقلیمی و علاقائی خودمختاری اور سمندری حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے تمام تر ضروری اور تادیبی اقدامات بلا جھجھک جاری رکھے گا۔

غزہ شہر میں اسرائیلی فضائی حملہ: ایک ہی خاندان کے 6 افراد بشمول 4 معصوم بچے شہید

محمود احمد, JULY 21,2026

غزہ (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

اسرائیلی فوج نے جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے منگل کو فجر کے وقت غزہ شہر پر ایک اور وحشیانہ فضائی حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد بشمول میاں، بیوی اور ان کے چار معصوم بچے موقع پر ہی شہید ہو گئے۔

‘مرکزِ اطلاعاتِ فلسطین’ کے مطابق، اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ شہر کے علاقے ‘حی الصبرہ’ میں واقع ایک رہائشی مکان کو نشانہ بنایا۔ اس اندوہناک حملے کے نتیجے میں فراس أحمد المصری، ان کی اہلیہ سلسبيل محمد علی المصری اور ان کے چار معصوم بچے نعيم، فريال، سلمى اور أميرہ جامِ شہادت نوش کر گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق، بمباری سے گھر میں ہولناک آگ بھڑک اٹھی جس کی وجہ سے سول ڈیفنس اور ریسکیو ٹیموں کو لاشیں نکالنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں فائر فائٹنگ کی ٹیموں نے غزہ میونسپلٹی کے عملے کے تعاون سے آگ پر قابو پا کر شعلوں کو قریبی مکانات تک پھیلنے سے روکا۔

دریں اثنا، اسرائیلی فورسز نے جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے مشرقی علاقوں میں شدید فائرنگ کے ساتھ ساتھ توپ خانے سے گولہ باری کی۔ منگل کی صبح خان یونس کے علاقے مواصی میں بئر 19 کے قریب اسرائیلی فائرنگ سے ایک شہری شدید زخمی بھی ہوا۔ علاوہ ازیں، گزشتہ رات شمالی غزہ کے جبالیا کیمپ میں واقع ‘یمن السعيد ہسپتال’ کی پہلی منزل پر صیہونی ڈرون حملے میں 4 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔

فلسطینی وزارتِ صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ سال 10 اکتوبر کو طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے آغاز سے لے کر اب تک اسرائیلی عسکری کارروائیوں اور خلاف ورزیوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 1,169 تک جا پہنچی ہے، جبکہ 3,756 افراد زخمی ہوئے ہیں اور تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے 802 شہدا کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔

ایران کے وزیرِ داخلہ سکندر مومنی کی پاکستان مونومنٹ آمد، یادگارِ شہدا پر حاضری اور پھولوں کی چادر چڑھائی

منصور احمد, JULY 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

ایران کے وزیرِ داخلہ سکندر مومنی نے وفاقی دارالحکومت میں قائم ‘پاکستان مونومنٹ’ کا دورہ کیا اور یادگارِ شہدا پر حاضری دے کر وطنِ عزیز کی دفاع و سلامتی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا۔

پاکستان مونومنٹ پہنچنے پر وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ایرانی وزیرِ داخلہ کا پرُتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر فیڈرل کانسٹیبلری کے چاق و چوبند دستے نے معزز مہمان کو باقاعدہ سلامی پیش کی۔ ایرانی وزیرِ داخلہ سکندر مومنی نے یادگارِ شہدا پر پھولوں کی چادر چڑھائی، فاتحہ خوانی کی اور شہدا کی عظیم اور بے مثال قربانیوں کے اعتراف میں احتراماً کچھ دیر خاموشی اختیار کی۔

بعد ازاں، معزز مہمان کو پاکستان مونومنٹ کے تاریخی پس منظر، منفرد فنِ تعمیر اور پاکستان کے بھرپور ثقافتی ورثے کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ایرانی وزیرِ داخلہ نے یادگارِ شہدا اور پاکستان مونومنٹ کی تاریخی، قومی اور فنکارانہ اہمیت کو بے حد سراہا۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے شکر پڑیاں کی پہاڑی سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی دلکش خوبصورتی اور سرسبز مارگلہ پہاڑی سلسلے کا نظارہ بھی کیا۔

دورے کے موقع پر آئی جی فیڈرل کانسٹیبلری ریاض نذیر گاڑا اور ڈی آئی جی اسلام آباد سمیت دیگر اعلیٰ سول اور پولیس افسران بھی موجود تھے۔

آئی ایم ایف نے نئے توسیعی پروگرام کے تحت یوکرین کے لیے 690 ملین ڈالر کی فوری قسط کی منظوری دے دی

محمود احمد, JULY 21,2026

واشنگٹن ڈی سی (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے توسیعی فنڈ سہولت کے تحت یوکرین کے لیے 690 ملین امریکی ڈالر کا نیا قرضہ فراہم کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

روس کی خبر رساں ایجنسی ‘تاس’ کے مطابق، اس اہم مالیاتی قسط کی فراہمی کا ابتدائی معاہدہ 12 جون کو فریقین کے مابین طے پایا تھا۔ آئی ایم ایف کی پریس سروس کی جانب سے جاری کردہ رسمی بیان میں بتایا گیا کہ فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ نے یوکرین کے لیے نئے قرضہ امدادی پروگرام کے تحت 690 ملین ڈالر کی اس نئی قسط کی حتمی منظوری دے دی ہے۔

آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ اور ماہرین کی ٹیم نے یوکرین کے 8.1 بلین ڈالر مالیت کے چار سالہ (48 ماہ) توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کا پہلا کامیابی سے جائزہ مکمل کیا۔ جاری کردہ سرکاری دستاویز کے مطابق، آئی ایم ایف کے وضع کردہ اہداف اور اصلاحات کے تناظر میں یوکرین کی مجموعی کارکردگی بڑے پیمانے پر تسلی بخش رہی ہے، جس کے باعث 690 ملین ڈالر کی رقم فوری طور پر یوکرین کو منتقل کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد اضافی سنگین محصولات؛ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈا کے خلاف تعزیری اقدام

محمود احمد, JULY 21,2026

واشنگٹن ڈی سی (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے امریکا درآمد کی جانے والی درجنوں اشیائے ضروریات پر 50 فیصد کے بھاری محصولات (ٹیرفس) عائد کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جس سے دونوں اتحادی ممالک کے درمیان ایک نئی اور شدید عالمی تجارتی جنگ چھڑنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

‘رائٹرز’ کی عالمی رپورٹ کے مطابق، امریکی انتظامیہ نے اس سخت ترین اقدام کو جواز بناتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کی حکومت امریکی ساختہ گاڑیوں، الکحل اور دودھ (ڈیری) کی مصنوعات کے ساتھ مسلسل غیر منصفانہ اور امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔ شراب، سیمنٹ، سوئمنگ پولز، فرنیچر، کپڑوں، بیجوں سے لے کر آئس ہاکی کے سامان تک پر یہ تعزیری ٹیکس لاگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 1930ء کے تاریخی ٹیرف ایکٹ کے سیکشن 338 کا سہارا لیا ہے۔ یہ قانون امریکی صدر کو یہ خصوصی اختیارات دیتا ہے کہ وہ امریکی تجارتی مفادات اور اشیاء کے خلاف امتیازی سلوک کرنے والے ممالک پر 50 فیصد تک تعزیری محصولات عائد کر سکے۔ واضح رہے کہ امریکی تاریخ میں اس قانون کا استعمال تقریباً ایک صدی بعد پہلی بار کیا گیا ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے مطابق، یہ نئے ٹیرفس اگلے 30 دنوں میں باضابطہ لاگو ہوں گے جس سے کینیڈا سے امریکا آنے والی تقریباً 20 ارب ڈالر کی برآمدات براہِ راست متاثر ہوں گی۔ امریکی مردم شماری بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق یہ کینیڈا سے امریکا درآمد کی جانے والی مجموعی مصنوعات کا تقریباً 5.2 فیصد بنتا ہے۔

دوسری جانب، کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے امریکی اقدام پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایک رسمی بیان میں کہا کہ ان کی حکومت نے امریکا کے ساتھ تمام تجارتی تحفظات اور تنازعات کو دور کرنے کے لیے انتہائی جامع اور معقول تجاویز پیش کی تھیں، لیکن اس کے باوجود امریکی صدر کی جانب سے عائد کیے جانے والے یہ یکطرفہ محصولات شمالی امریکا کے آزاد تجارتی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں ایرانی حملوں میں 100 سے زائد امریکی فوجی زخمی؛ پینٹاگون نے تصدیق کر دی

منصور احمد, JULY 21,2026

واشنگٹن ڈی سی (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

امریکی وزارتِ دفاع (پینٹاگون) نے باضابطہ تصدیق کی ہے کہ رواں ماہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے متعدد فضائی اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں تقریباً 100 امریکی فوجی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

پینٹاگون کے مرکزی ترجمان سین پارنیل نے ذرائع ابلاغ کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 7 جولائی 2026ء کے بعد سے شروع ہونے والی ایرانی حملوں کی نئی لہر میں 100 کے قریب امریکی فوجیوں کو مختلف نوعیت کے زخم آئے ہیں۔ تاہم ترجمان نے واضح کیا کہ ان میں سے 96 فیصد اہلکار معمولی زخمی تھے، جو ابتدائی طبی امداد کے بعد دوبارہ اپنے فرائضِ منصبی کی ادائیگی کے لیے ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔

گزشتہ ہفتے کے اختتام پر امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے جاری کردہ تشویشناک رپورٹس کے مطابق اردن میں ایک امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 2 امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ ایک لاپتہ فوجی اہلکار کے مقام سے نامعلوم باقیات ملی ہیں۔ اس کے علاوہ عراق میں ایرانی خودکش ڈرون کے باقی ماندہ دھماکا خیز مواد کو کنٹرولڈ طریقے سے تباہ کرنے کے دوران ایک اور امریکی فوجی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ پینٹاگون نے فی الحال تازہ ترین حملوں کے مکمل نقصانات اور زخمیوں کی حتمی فہرست کو بوجوہ عام نہیں کیا۔

امریکی فوج کے ہلاک اور زخمی اہلکاروں کا مکمل ریکارڈ رکھنے والے ادارے ‘ڈیفنس کیژولٹی اینالیسس سسٹم’ کے مطابق، امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ عسکری تصادم کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 413 سے زائد امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں (جس میں جاری جولائی کے مہینے کے زخمی شامل نہیں ہیں)۔ اعداد و شمار کی الگ رپورٹ کے مطابق زخمیوں کی یہ تعداد 427 تک جا پہنچتی ہے، جبکہ اردن اور عراق میں ہونے والی تازہ ہلاکتوں کو شامل کرنے کے بعد اس تصادم میں اب تک ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی کل تعداد 17 ہو گئی ہے۔

بنگلہ دیشی پاسپورٹ پر ‘سوائے اسرائیل’ کے الفاظ کی بحالی کا باضابطہ فیصلہ؛ رواں ماہ سے نئے پاسپورٹس کی چھپائی کا آغاز

محمود احمد, JULY 21,2026

ڈھاکہ (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

بنگلہ دیش کی وزارتِ داخلہ نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ رواں ماہ سے ایسے نئے پاسپورٹس کی چھپائی شروع کی جا رہی ہے جن پر ماضی کی طرح یہ عبارت دوبارہ درج ہوگی کہ “یہ پاسپورٹ سوائے اسرائیل کے دنیا کے تمام ممالک کے لیے مؤثر ہے”۔

‘عرب نیوز’ کے مطابق، بنگلہ دیشی وزارتِ داخلہ کے ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹر ضیاء الدین احمد نے بتایا کہ اس فیصلے کے اطلاق کے لیے سرکاری حکم نامہ جاری کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ نئے پاسپورٹس کی چھپائی رواں جولائی کے مہینے سے شروع کر دی جائے گی اور شہریوں کو ان کا باضابطہ اجرا رواں سال اکتوبر سے متوقع ہے۔

وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ پاسپورٹ پر کی جانے والی یہ بنیادی تبدیلی حکومتِ بنگلہ دیش کے سیاسی موقف کی عکاسی کرتی ہے، جو دنیا بھر کو یہ واضح پیغام دیتی ہے کہ بنگلہ دیشی قوم اپنے مظلوم فلسطینی بہن بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام عوامی جذبات اور خواہشات کی حقیقی ترجمانی ہے۔

واضح رہے کہ سال 2021ء تک بنگلہ دیشی پاسپورٹ پر یہ تاریخی عبارت درج تھی، تاہم سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت نے ای-پاسپورٹ متعارف کراتے وقت اس شق کو خاموشی سے حذف کر دیا تھا۔ اکتوبر 2023ء میں غزہ میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے بنگلہ دیشی عوام کی جانب سے اس شق کی فوری بحالی کے مطالبات میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، جس پر موجودہ حکومت نے عملدرآمد یقینی بنایا ہے۔

کویت میں امریکی فوج کے ریڈار سسٹمز اور راکٹ لانچنگ تنصیبات پر حملہ؛ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ

کاشف عباسی , JULY 21,026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے منگل کی صبح ایک جاری بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کویت میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر کارروائی کرتے ہوئے اہم ریڈار سسٹمز اور دفاعی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘بی بی سی’ کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ کویت کے احمد الجابر ایئر بیس پر کیے گئے اس حملے میں امریکی فوج کے وہ اہم ریڈار اور دفاعی نظام تباہ کر دیے گئے ہیں جو کسی بھی فضائی حملے کی پیشگی اطلاع دینے اور ان کا تدارک کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ ایرانی فورسز کے مطابق، ان دفاعی سسٹمز کو ناکارہ بنانے کے بعد ایران کے مزید ڈرونز اور میزائل حملوں کے لیے راستہ صاف ہو گیا ہے۔

اس کے علاوہ، ایرانی فوج کے بری دستوں نے ‘آپریشن صاعقہ’ کے 18 ویں مرحلے کے تحت زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے کویت کے عارف جان اڈے کو بھی نشانہ بنایا۔ اس کارروائی میں وہاں تعینات امریکی فوج کے جدید اور متحرک راکٹ لانچنگ سسٹم (ایچ آئی ایم اے آر ایس) کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ایرانی فوج کی جانب سے اس کارروائی کے ثبوت کے طور پر میزائلوں کے برسات کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے۔

دوسری جانب، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) اور کویتی حکام کی طرف سے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ان ادعاؤں پر فی الحال کوئی رسمی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

قابلِ تجدید توانائی، سیاحت، صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے وفاق کا تعاون جاری رہے گا؛ 100 میگاواٹ سولر منصوبے، دانش اسکولز اور آسان خدمت سینٹر کے قیام کا اعلان

کاشف عباسی , JULY 21,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان میں قابلِ تجدید توانائی، سیاحت، بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر)، صحت، تعلیم اور دیگر اہم شعبوں میں مسلسل ترقیاتی اقدامات اٹھا رہی ہے اور خطے کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے نو منتخب صوبائی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کے لیے پرعزم ہے۔

وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے گلگت بلتستان کے نو منتخب وزیرِ اعلیٰ امجد حسین نے اسلام آباد میں اہم ملاقات کی۔ وزیرِ اعظم نے امجد حسین کو وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ملاقات میں گلگت بلتستان کے انتظامی و ترقیاتی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت کے جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں میں 100 میگاواٹ شمسی توانائی کا منصوبہ اور دانش اسکولز کا قیام سرِ فہرست ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان کے شہریوں کی سہولت اور تمام اداریاتی خدمات کی ایک ہی چھت تلے فراہمی کے لیے گلگت میں ‘پاکستان آسان خدمت سینٹر’ قائم کرنے کی بھی باقاعدہ منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

ملاقات کے دوران نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ بھی موجود تھے۔

دریائے چناب اور جہلم میں اونچے درجے کے سیلاب کا امکان؛ شمالی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ جبکہ بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ کا شدید خطرہ، تمام امدادی ادارے ہائی الرٹ

منصور احمد, JULY 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک بھر میں مون سون کے شدید اسپیل کے پیشِ نظر 24 جولائی تک سیلابی صورتِ حال، طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ کا ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ این ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق، شمالی علاقوں کے ندی نالوں میں طغیانی، پہاڑی شاہراہوں پر لینڈ سلائیڈنگ، پنجاب کے دریاؤں میں اونچے درجے کے سیلاب اور بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ کا شدید خطرہ موجود ہے۔

این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ الرٹ کے مطابق، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے دریاؤں اور مقامی ندی نالوں میں طغیانی کے علاوہ اچانک سیلابی ریلوں کا شدید خدشہ ہے۔ 21 سے 23 جولائی کے دوران چترال، ہنزہ، نگر اور اسکردو روڈ سمیت شمالی علاقوں کی اہم ترین اور تزویراتی شاہراہوں پر لینڈ سلائیڈنگ اور پہاڑوں سے پتھر گرنے کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں، جس سے مواصلاتی نظام متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔

آبی صورتِ حال کی تفصیلات بتاتے ہوئے این ڈی ایم اے نے انتباہ کیا ہے کہ دریائے چناب اور دریائے جہلم میں اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے، جبکہ بھارت کے ڈیموں سے اضافی پانی چھوڑے جانے کے پیشِ نظر دریائے راوی اور دریائے ستلج میں بھی پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔ مزید برآں، راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ سمیت پنجاب کے اہم بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ ڈیرہ غازی خان اور بلوچستان کے برساتی نالوں میں بھی طغیانی کا شدید اندیشہ ہے۔

این ڈی ایم اے نے کسی بھی ناگہانی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے ملک بھر کی تمام ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اداروں اور متعلقہ شعبوں کو ہمہ وقت ہائی الرٹ رہنے کی سخت ہدایت کی ہے اور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور ندی نالوں کے قریب جانے میں احتیاط برتیں۔

پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ نارمل، کالا باغ اور خانکی کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب

روزینہ اسماعیل, JULY 21,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صوبے کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کے حوالے سے تازہ ترین صورتِ حال جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ فی الوقت نارمل ہے، تاہم دریائے سندھ میں کالا باغ اور دریائے چناب میں خانکی کے مقام پر نچلے درجے کی سیلابی صورتِ حال درج کی گئی ہے۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق، دریائے سندھ میں کالا باغ کے مقام پر پانی کی آمد دو لاکھ 69 ہزار کیوسک اور اخراج دو لاکھ 62 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح دریائے چناب میں خانکی کے مقام پر پانی کی آمد ایک لاکھ 13 ہزار کیوسک اور اخراج ایک لاکھ six ہزار کیوسک ہے، جبکہ تربیلا، تونسہ اور چشمہ کے مقامات پر پانی کا بہاؤ مکمل طور پر نارمل سطح پر ہے۔ دریائے چناب میں مرالہ، تریموں، پنجند اور قادر آباد کے مقامات پر بھی بہاؤ فی الحال نارمل ہے۔ اس کے علاوہ دریائے راوی میں جسڑ، شاہدرہ، ہیڈ سدھنائی اور بلوکی، جبکہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا، سلیمانکی اور ہیڈ اسلام پر بھی صورتِ حال کنٹرول میں ہے۔ تاہم، دریائے راوی اور چناب سے ملحقہ قدرتی نالوں بشمول بسنتر، ڈیک، ایک، پلکھو، بھمبر، ہلسی اور ڈورا میں سیلاب کا خطرہ موجود ہے اور وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ ڈیرہ غازی خان کی رودکوہیوں میں فی الحال پانی کا بہاؤ نارمل ہے، لیکن ناگہانی سیلاب (فلیش فلڈنگ) کا خطرہ بدستور موجود ہے۔

پی ڈی ایم اے کی رپورٹ میں انتباہ جاری کیا گیا ہے کہ 24 جولائی تک پنجاب کے مختلف دریاؤں میں پانی کی سطح میں مزید اضافے کا امکان ہے، جبکہ لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، سرگودھا، اوکاڑہ، ساہیوال، بہاولنگر اور راولپنڈی ڈویژن کے شہری علاقوں میں بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے۔

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ نے دریاؤں کے کچے کے علاقوں اور پاٹ میں مقیم شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومتِ پنجاب کی جانب سے ممکنہ متاثرہ علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپس فعال کر دیے گئے ہیں جہاں تمام بنیادی سہولیات، خوراک اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ خراب موسم اور سیلابی صورتِ حال کے پیشِ نظر تمام احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔

پورٹس اور بندرگاہوں کی جدید کاری حکومت کی اولین ترجیح؛ چینی سرمایہ کاروں کو میری ٹائم، لاجسٹکس اور گرین شپنگ میں سرمایہ کاری کی باضابطہ دعوت

منصور احمد, JULY 21,2026

بیجنگ/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری نے چین کے دارالحکومت بیجنگ میں منعقدہ مقتدر “ریجنل ٹرانزٹ ٹریڈ ہب انیشی ایٹو” سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو علاقائی تجارت اور لاجسٹکس کا انتہائی اہم مرکز قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے تزویراتی خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان جغرافیائی اور اقتصادی طور پر خطے کا سب سے بڑا تجارتی راہداری کا مرکز بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

بیجنگ میں تقریب سے خطاب کے دوران وفاقی وزیر جنید انوار چوہدری نے زور دے کر کہا کہ گوادر پورٹ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا سب سے اہم اور بنیادی اقتصادی محور ہے، جبکہ حکومتِ پاکستان اس وقت ملکی تمام بندرگاہوں کی جدید کاری اور ڈیجیٹلائزیشن کو اپنی اولین اور تادیبی ترجیح بنا چکی ہے۔ انہوں نے چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے میری ٹائم اور لاجسٹکس کے شعبوں میں کھل کر سرمایہ کاری کرنے کی باضابطہ دعوت دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ حکومت تمام غیر ملکی اور بالخصوص چینی سرمایہ کاروں کو مکمل شفاف، محفوظ اور سرمایہ کار دوست ماحول فراہم کر رہی ہے۔

وفاقی وزیرِ بحری امور نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ لاجسٹکس، ڈیجیٹل تجارت اور گرین شپنگ جیسے جدید شعبوں میں دونوں ممالک کے مابین باہمی تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک-چین تزویراتی شراکت داری اب ایک بالکل نئے معاشی و اقتصادی دور میں داخل ہو چکی ہے، جو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے میں پائیدار خوشحالی، باہمی تجارت اور مواصلاتی رابطہ سازی کو نچلی سطح تک فروغ دینے میں اہم ترین کردار ادا کرے گی۔

ہیٹی میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کے لیے ہیٹی کی قیادت میں تمام تر اقدامات کی حمایت پر زور؛ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کا اہم اور مقتدر بیان

محمود احمد, JULY 20,2026

نیویارک، اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

پاکستان نے ہیٹی کو درپیش سنگین اور کثیرالجہتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہیٹی کی اپنی قیادت اور ملکیت پر مبنی جامع تزویراتی حکمتِ عملی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام صرف سیاسی اتفاقِ رائے، مضبوط قومی سلامتی کے اداروں اور مربوط علاقائی و بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس میں ہیٹی سے متعلق بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ملک میں دیرپا استحکام کا تمام تر انحصار ہیٹی کے تمام متعلقہ فریقوں کی جانب سے دانشمندانہ سیاسی اور طرزِ حکمرانی سے متعلق تادیبی فیصلوں پر ہے۔ انہوں نے اس بات پر شدید زور دیا کہ متفقہ اور مقررہ مدت کے اندر آزادانہ، شفاف اور جامع انتخابات کے انعقاد کے لیے سازگار اور امن پسند ماحول پیدا کرنا انتہائی ناگزیر ہے۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے اپنے مقتدر خطاب میں ہیٹی میں امن و امان کی فوری بحالی، روز بروز بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال، خصوصاً خواتین اور بچوں پر مسلح گینگ تشدد کے تباہ کن اثرات سے نمٹنے کی تزویراتی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے ہتھیار پھینکنے، غیر مسلح کرنے، سابق جنگجوؤں کی بحالی اور انہیں معاشرے کے دھارے میں دوبارہ شامل کرنے کے عمل کو تیز کرنے کے ساتھ ساتھ اقوامِ متحدہ کے پابندیوں کے نظام پر مؤثر عملدرآمد کے ذریعے ہیٹی میں غیر قانونی ہتھیاروں اور بارود کی ترسیل کو فوری طور پر روکنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

پاکستانی وپاد کی جانب سے ہیٹی کے عوام اور حکومت کے لیے اپنی مکمل سفارتی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے صائب الفاظ میں کہا کہ کسی بھی دیرپا حل کے لیے ہیٹی کی اپنی قیادت پر مبنی عمل ہی ناگزیر ہے، جو باہمی مکالمے، تعاون اور مؤثر علاقائی و بین الاقوامی معاونت پر استوار ہو۔ انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر اس عزم کو دہرایا کہ پاکستان ہیٹی میں پائیدار امن، ترقی اور عوام کی خوشحالی کے قیام کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر اپنی تعمیری اور تادیبی معاونت جاری رکھے گا۔

پاک-کینیڈا تاریخی مشترکہ اعلامیہ جاری؛ تجارت، صاف توانائی، کان کنی اور زراعت میں تزویراتی تعاون کے فروغ پر مکمل اتفاق

محمود احمد, JULY 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

پاکستان اور کینیڈا نے دوطرفہ سفارتی، معاشی اور عوامی روابط میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کے مابین شراکت داری کو نئی تزویراتی بلندیوں پر لے جانے کے پختہ عزم کا اظہار کیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی مشترکہ اعلامیے کے مطابق، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی خصوصی دعوت پر کینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند نے ۲۰ جولائی ۲۰۲۶ء کو پاکستان کا اہم سرکاری دورہ کیا، جو کہ ان کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلا باضابطہ دورۂ پاکستان ہے۔ وزارتِ خارجہ میں دونوں رہنماؤں کے مابین ون آن ون ملاقات اور وفود کی سطح پر تفصیلی مذاکرات ہوئے جس میں دوطرفہ تعلقات اور عالمی و علاقائی امور کا احاطہ کیا گیا۔

مشترکہ اعلامیے کے مطابق، نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کینیڈین ہم منصب کو خطے میں جاری تنازعات کے حل کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں سے آگاہ کیا۔ وزیرِ خارجہ انیتا آنند نے پاکستان کے اس سفارتی کردار کو سراہا جس کے نتیجے میں تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت طے پائی۔ دونوں وزراء نے پائیدار جنگ بندی اور اس یادداشت کے تحت کیے گئے تمام وعدوں پر عمل درآمد پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے فروری ۲۰۲۶ء میں منعقد ہونے والے دوطرفہ مشاورتی اجلاس کے چھٹے دور کو انتہائی کامیاب قرار دیتے ہوئے تزویراتی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔ ملاقات میں کینیڈا میں مقیم ۳ لاکھ سے زائد پاکستانی نژاد افراد اور ۹ ہزار سے زائد پاکستانی طلبہ کی گراں قدر خدمات کو سراہتے ہوئے پارلیمانی، ثقافتی اور عوامی روابط کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

معاشی اور تجارتی شعبے میں دونوں وزراء نے غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ و فروغ کے معاہدے پر ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور مذاکرات جلد مکمل کرنے کے لیے باقاعدہ رابطے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا، جبکہ پاک-کینیڈا مشترکہ ورکنگ گروپ برائے تجارت و سرمایہ کاری کو بھی دوبارہ فعال کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ توانائی کے شعبے میں کینیڈین کمپنی جے سی ایم پاور کے ۲۴۰ میگاواٹ دھابیجی ہائبرڈ ونڈ سولر منصوبے کو تمام ضروری ریگولیٹری منظوری ملنے کا خیرمقدم کیا گیا، جو کے الیکٹرک کے اشتراک سے پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی کی فراہمی میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔ غذائی تحفظ کے حوالے سے دونوں رہنماؤں نے کینیڈین کینولا کی درآمد کے لیے نباتاتی صحت کی شرائط پر مبنی ایک نئے پروٹوکول پر دستخط کیے، جبکہ پاکستان کی نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی، ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اور کینیڈین فوڈ انسپیکشن ایجنسی کے مابین تکنیکی تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔

اعلامیے کے آخر میں واضح کیا گیا کہ فریقین نے عالمی سپلائی چینز میں اہم معدنیات کی تزویراتی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کان کنی کے شعبے اور معدنی تلاش میں کینیڈا کی مہارت سے فائدہ اٹھانے پر اتفاق کیا، جس کے تحت وزیرِ خارجہ انیتا آنند نے سینیٹر اسحاق ڈار کو ۲۰۲۷ء میں کینیڈا میں منعقد ہونے والی پی ڈی اے سی کانفرنس میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی۔ علاقائی امن و سلامتی، خاص طور پر افغانستان کی صورتحال اور دہشت گردی کے خطرات پر تبادلۂ خیال کرتے ہوئے کینیڈین وزیرِ خارجہ نے اعلان کیا کہ کینیڈا اقوامِ متحدہ اور انٹرپول کے ذریعے پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ تعلیم، صحت اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے نئے ترقیاتی منصوبوں کی معاونت بھی کی جائے گی۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاک-کینیڈا تعلقات اب ایک بالکل نئے اور مستحکم دور میں داخل ہو چکے ہیں۔

امریکا سے جنگ کا خاتمہ صرف عسکری فتح یا برتری پر مبنی مذاکرات سے ہی ممکن ہے؛ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا مقتدر انتباہ

کاشف عباسی , JULY 20,026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید ترین عسکری تصادم کے مقتدر تناظر میں ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے تہران اور واشنگٹن کے مابین جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم تزویراتی موقف سامنے رکھا ہے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ امریکا کے ساتھ جاری یہ جنگ صرف اسی صورت میں ختم ہو گی جب ایران کو میدانِ جنگ میں واضح برتری حاصل ہو گی، کیونکہ جنگ کا خاتمہ یا تو مکمل عسکری فتح کے ذریعے ممکن ہوتا ہے یا پھر برابری اور برتری کی بنیاد پر ہونے والے مذاکرات کے ذریعے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سفارتی مذاکرات کا درست وقت تب ہی ہوتا ہے جب آپ فوجی محاذ پر ٹھوس میدانی اور تزویراتی کامیابیاں حاصل کر چکے ہوں۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے ملکی قیادت کی حکمتِ عملی کی تادیبی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی زندگیوں اور ملک کے مستقبل کے معاملے میں کوئی خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا، اور تمام فیصلے درست اور مکمل حساب کتاب کی بنیاد پر کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت کو ہر وقت یہ تزویراتی جائزہ لینا چاہیے کہ جنگ جاری رکھنے سے ملک کو فائدہ ہو گا یا اس کی قیمت زیادہ بھاری پڑے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ نقصانات کے باوجود اس جنگ میں ایران ایک مؤثر بین الاقوامی طاقت کے طور پر ابھرا ہے اور اس نے دنیا پر اپنے نظام کی مضبوطی کو ثابت کیا ہے۔ دوسری جانب، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے واشنگٹن کا موقف دہراتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کے ساتھ تنازع کو حل کرنے کے لیے ماضی میں کئی بار مذاکرات کی کوشش کی ہے اور وہ اب بھی اس سفارتی راستے کو کھلا رکھنے کے حق میں ہیں۔

ادھر جنگ کے مقتدر محاذ پر ایرانی فوج کے ترجمان نے ایک انتہائی سخت تادیبی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دشمن کو سخت اور مکمل سبق نہ دیا گیا تو وہ دوبارہ حملہ کرے گا۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ ایران کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی دشمن جنگی سامان آبنائے ہرمز کے ذریعے لانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی، اور امریکا کے ساتھ عسکری معاونت کرنے والے تمام ممالک کو آبنائے ہرمز کے بحری راستے کو استعمال کرنے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا ہو گا۔ یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کی شب مسلسل نویں رات بھی ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں کی گئیں، جن میں ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، بحری صلاحیتوں اور میزائل و ڈرون لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔

اس کے جواب میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے ایک مقتدر تزویراتی کارروائی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اردن کے عقبہ ایئرپورٹ پر موجود امریکی فوج کے بھاری ٹرانسپورٹ طیاروں اور نگرانی کرنے والے طیاروں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد طیاروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایرانی نشریاتی اداروں کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب نے اردن کے موفق السلطی ایئر بیس پر امریکی افواج کے زیرِ استعمال 20 ہینگرز کو بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ایک اور تادیبی بیان میں کویت کے علی السالم ایئر بیس پر موجود امریکی فوجی تنصیبات کو بھی کامیابی سے نشانہ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے، جس سے خطے میں جنگ کے مزید پھیلنے کے شدید خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔

برطانیہ میں نئے سیاسی و معاشی دور کا آغاز؛ نو منتخب وزیرِ اعظم اینڈی برنہم کا حکومت بنانے کی دعوت قبول کرنے کے بعد قوم سے پہلا مقتدر خطاب

محمود احمد, JULY 20,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

برطانیہ کے نو منتخب وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے باقاعدہ طور پر حکومت بنانے کی شاہی دعوت قبول کر لی ہے اور ۱۰ ڈاؤننگ اسٹریٹ میں داخل ہوتے ہی اپنے پہلے مقتدر خطاب میں ملک کے لیے ایک بالکل نئے سیاسی و معاشی ماڈل کا اعلان کر دیا ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق، نئے برطانوی وزیرِ اعظم نے قوم سے پختہ وعدہ کیا ہے کہ ان کی حکومت کی پہلی، بنیادی اور تزویراتی ترجیح صرف اور صرف عوام کی فلاح و بہبود ہو گی۔

وزیرِ اعظم کی سرکاری رہائش گاہ میں قدم رکھتے ہی اینڈی برنہم نے اپنے تادیبی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے حکومت بنانے کی دعوت قبول کر لی ہے اور اب ہمیں پوری دنیا کو یہ دکھانے کی ضرورت ہے کہ ہم برطانیہ میں سیاسی و معاشی استحکام واپس لا سکتے ہیں۔ انہوں نے صائب الفاظ میں کہا کہ یہ لمحات برطانیہ کی تاریخ میں ایک سرکٹ بریکر ثابت ہوں گے؛ ماضی میں ہم اتنے اچھے ثابت نہیں ہو سکے، لیکن اب ہمیں خود کو بہتر بنانا ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ لمحہ تدبر، کڑے خود احتسابی اور ایک نئے تزویراتی عزم کا ہے تاکہ برطانیہ اپنا کھویا ہوا عالمی وقار دوبارہ حاصل کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی رواں سال کے آخر میں ملک کے لیے ایک جامع ۱۰ سالہ ترقیاتی منصوبہ پیش کرے گی، جبکہ عوام کو مہنگائی اور زندگی کے بھاری اخراجات کے بوجھ سے فوری نجات دلانے کے لیے پہلے ہی مرحلے میں ہنگامی اقدامات کا اعلان کیا جائے گا۔

برطانوی وزیرِ اعظم نے اپنے انقلابی اور فلاحی ایجنڈے کو واضح کرتے ہوئے اعلان کیا کہ دفتر سنبھالتے ہی ان کی پہلی ہدایت یہ ہو گی کہ ملک میں سڑکوں اور کھلے آسمان تلے سونے والے بے گھر افراد کے سنگین مسئلے کا مستقل بنیادوں پر خاتمہ کیا جائے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ غریب عوام کی دیکھ بھال کو حکومت کے دل میں رکھا جائے گا، اور اس مقصد کے لیے حکومت غریب اور کم آمدن والے طبقات کے لیے بڑی تعداد میں نجی و سرکاری کونسل ہاؤسز تعمیر کرے گی تاکہ ملک کے ہر ضرورت مند شہری کو چھت میسر آ سکے اور برطانیہ کو ایک حقیقی فلاحی ریاست بنایا جا سکے۔

فرانس کے کیلین ایمباپے نے نئی تاریخ رقم کر دی؛ دو بار عالمی کپ کا گولڈن بوٹ ایوارڈ جیتنے والے دنیا کے پہلے فٹ بالر بن گئے

محمود احمد, JULY 20,2026

ایسٹ ردرفورڈ، نیوجرسی (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

فرانس کے مایہ ناز فٹ بالر اور قومی ٹیم کے کپتان کیلین ایمباپے نے ایک سے زائد بار عالمی کپ کا ‘گولڈن بوٹ’ ایوارڈ حاصل کرنے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی بن کر فٹ بال کی تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف سے لکھوا دیا ہے۔ کیلین ایمباپے فٹ بال ورلڈ کپ کی تاریخ کے وہ پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں جنہوں نے دو مختلف ٹورنامنٹس میں سب سے زیادہ گول اسکور کرنے کا مقتدر اعزاز اپنے نام کیا ہے۔

چینی خبر رساں ادارے ‘شنہوا’ کے مطابق، 23 ویں فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں اسپین کے ہاتھوں ارجنٹائن کی 1-0 سے شکست کے بعد کیلین ایمباپے کی یہ تاریخی کامیابی باضابطہ طور پر سامنے آئی، کیونکہ فائنل معرکے میں ارجنٹائن کے اسٹار کھلاڑی لیونل میسی کوئی گول اسکور نہ کر سکے۔ چار سال قبل قطر میں کھیلے گئے ورلڈ کپ میں 8 گولز کے ساتھ یہ مقتدر اعزاز جیتنے والے کیلین ایمباپے نے اس بار امریکی سرزمین پر کھیلے گئے ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے اکیلے 10 گول داغے اور مزید 4 گول کرنے میں اپنے ساتھی کھلاڑیوں کی معاونت کی۔ فرانس کی ٹیم اس میگا ایونٹ میں چوتھی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔

دوسری جانب، ارجنٹائن کے مقتدر کپتان لیونل میسی کا اس ورلڈ کپ میں سفر 8 گول اور 4 گول اسسٹ کے ساتھ ختم ہوا۔ اگرچہ ارجنٹائن کو فائنل میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، لیکن 39 سالہ لیونل میسی اب بھی عالمی کپ کے بہترین کھلاڑی کو دیے جانے والے ‘گولڈن بال’ ایوارڈ کی دوڑ میں سب سے اہم نام سمجھے جا رہے ہیں۔ لیونل میسی پہلے ہی فٹ بال کی تاریخ میں 1978ء سے شروع ہونے والے اس مقتدر گولڈن بال ایوارڈ کو ایک سے زائد بار جیتنے والے دنیا کے واحد کھلاڑی ہیں اور اس بار بھی وہ اس اعزاز کو حاصل کرنے کے مضبوط امیدوار ہیں۔

سنگین مقدمات کی تفتیش اور اشتہاری مجرمان کے خلاف بلاامتیاز کارروائیوں کی ہدایت؛ سیف سٹی اور جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال یقینی بنانے کا حکم

منصور احمد, JULY 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد پولیس سید علی ناصر رضوی کی زیرِ صدارت پیر کے روز ایک مقتدر اور اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔ اس تزویراتی اجلاس میں ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز محمد عتیق طاہر، ڈی جی سیف سٹی محمد ہارون جوئیہ، ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق، ڈی آئی جی سکیورٹی رانا عمر فاروق اور دیگر سینئر پولیس افسران نے شرکت کی۔

ترجمان اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری کردہ آفیشل اعلامیے کے مطابق، اجلاس کے دوران وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کے قیام، جرائم کے خاتمے کے لیے جاری اقدامات، سنگین مقدمات میں تفتیشی پیش رفت، اشتہاری و عادی مجرمان کے خلاف جاری تادیبی کارروائیوں، خفیہ اطلاعات پر مبنی پولیسنگ، جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال، سیف سٹی کیمروں کے ذریعے نگرانی کے نظام، فوری جوابی کارروائی، مختلف شعبوں کے مابین رابطہ کاری اور شہریوں کو بروقت خدمات کی فراہمی جیسے اہم امور کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پر آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے تمام افسران کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کا امن ہر صورت برقرار رکھا جائے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں میں مزید تیزی لائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اشتہاری مجرمان اور عادی ملزمان کے خلاف بلاامتیاز تادیبی کارروائیاں کی جائیں، اور تمام زیرِ تفتیش مقدمات کو مکمل طور پر میرٹ پر یکسو کرتے ہوئے مضبوط شواہد کے ساتھ چالان عدالتوں میں پیش کیے جائیں تاکہ ملزمان کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دلائی جا سکے۔ انہوں نے مزید تاکید کی کہ جدید ٹیکنالوجی اور سیف سٹی کے جدید نگرانی کے نظام سے بھرپور فائدہ اٹھا کر جرائم کی روک تھام کو یقینی بنایا جائے۔ آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ شفاف تحقیقات، مؤثر پولیسنگ، کڑا احتساب، قانون کی بلاامتیاز عملداری اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اسلام آباد پولیس کی اولین اور مقتدر ترجیحات میں شامل ہے۔

فیکٹری کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سیمنٹ اور اسٹیل پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ غیر قانونی؛ سپریم کورٹ نے محکمہ ان لینڈ ریونیو کی اپیل منظور کر لی

کاشف عباسی , JULY 20,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ٹیکس قوانین کے حوالے سے ایک انتہائی مقتدر اور تزویراتی فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ فیکٹری یا کسی بھی صنعتی ڈھانچے کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سیمنٹ اور اسٹیل پر ٹیکس کی واپسی یا ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ قانون کے مطابق بالکل قابلِ قبول نہیں ہے، جبکہ سیلز ٹیکس قوانین کی تشریح سے متعلق معاملات محض حقائق کا تنازع نہیں بلکہ انتہائی اہم اور بنیادی قانونی سوالات ہیں۔ عدالتِ عظمیٰ نے محکمہ ان لینڈ ریونیو کی اپیل منظور کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ اور اپیلیٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو کے سابقہ فیصلوں کو سراسر کالعدم قرار دے کر محکمے کا اصل فیصلہ بحال کر دیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل تین رکنی مقتدر بینچ نے کمشنر ان لینڈ ریونیو زون ٹو، لارج ٹیکس پیئرز یونٹ کراچی کی جانب سے باوانی شوگر ملز لمیٹڈ کے خلاف دائر سول اپیل کا تفصیلی محفوظ فیصلہ جاری کیا۔ جسٹس عرفان سعادت خان کی جانب سے تحریر کردہ 12 صفحات پر مشتمل اس تزویراتی فیصلے کے مطابق، ٹیکس دہندہ کمپنی نے جولائی سے دسمبر 2013ء کے دوران اپنی فیکٹری کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سیمنٹ اور اسٹیل پر ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ کیا تھا، جسے محکمہ ان لینڈ ریونیو نے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء اور متعلقہ سرکاری نوٹیفیکیشنز کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا؛ تاہم بعد میں اپیلیٹ ٹریبونل اور سندھ ہائی کورٹ نے محکمے کے خلاف کمپنی کے حق میں فیصلے دیے تھے جنہیں اب سپریم کورٹ نے تادیبی طور پر معطل کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے مقتدر فیصلے میں اہم قانونی نکات واضح کرتے ہوئے قرار دیا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء کی متعلقہ دفعہ بنیادی طور پر صرف قابلِ ٹیکس اشیاء کی فراہمی پر لاگو ہوتی ہے، جبکہ فیکٹریوں اور دیگر غیر منقولہ تعمیرات کو کسی صورت قابلِ ٹیکس اشیاء قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے صائب الفاظ میں کہا کہ قانون کے تحت تعمیراتی سامان، خصوصاً سیمنٹ اور اسٹیل پر ٹیکس کی واپسی کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی کیونکہ یہ سامان مستقل طور پر غیر منقولہ جائیداد کا حصہ بن جاتا ہے۔ مزید برآں، عدالت نے واضح کیا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت ٹیکس کے دعوے کے لیے تمام کاروباری ادائیگیاں مقررہ بینکنگ چینل کے ذریعے ہونا ایک لازمی اور تادیبی شرط ہے، اور اس شرط پر عمل نہ ہونے کی صورت میں ٹیکس کا دعویٰ خود بخود خارج ہو جاتا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے یہ مقتدر قانونی اصول بھی دہرایا کہ قانون کے کسی نکتے پر فریق یا اس کے وکیل کی جانب سے نادانی میں کیا گیا اعتراف عدالت کو پابند نہیں کرتا کیونکہ قانون کے خلاف کوئی عذر قبول نہیں ہو سکتا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کی درست اور شفاف تشریح کرنا عدالت کی آئینی ذمہ داری ہے، اس لیے کسی سرکاری نمائندے کی قانونی رعایت کو بنیاد بنا کر آئین و قانون سے انحراف نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے رولنگ دی کہ سندھ ہائی کورٹ اور اپیلیٹ ٹریبونل نے معاملے کو محض حقائق کا تنازع قرار دے کر فاش غلطی کی، چنانچہ دونوں بنیادی قانونی سوالات محکمہ ان لینڈ ریونیو کے حق میں اور ٹیکس دہندہ شوگر مل کے خلاف طے کرتے ہوئے کمپنی کا دعویٰ مستقل طور پر مسترد کر دیا گیا ہے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کا وسطی ایشیائی اور دوست ممالک کے طلبہ کے لیے علامہ محمد اقبال اسکالرشپ پروگرام کا مقتدر اعلان

روزینہ اسماعیل, JULY 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 جولائی 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے پاکستان کے تزویراتی سفارتی و تعلیمی روابط کو فروغ دینے کے لیے وسطی ایشیائی اور دیگر دوست ممالک کے بین الاقوامی طلبہ کے لیے “علامہ محمد اقبال اسکالرشپ پروگرام” کے تحت پاکستان میں مکمل مالی معاونت کے ساتھ چار سالہ بی ایس ڈگری پروگرام میں داخلوں کے لیے باضابطہ مقتدر درخواستیں طلب کر لی ہیں. یہ اسکالرشپ پاکستان کی مقتدر اور عالمی معیار کی جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند غیر ملکی طلبہ کو فراہم کی جائے گی.

ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ تادیبی تفصیلات کے مطابق، اس اسکالرشپ کے تحت انجینئرنگ و ٹیکنالوجی، کمپیوٹر سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی، معاون طبی علوم ، کاروبار و معاشیات، زراعت، سماجی علوم، غذائی تحفظ ، بین الاقوامی تعلقات ، ذرائع ابلاغ اور مختلف زبانوں سمیت متعدد اہم شعبوں میں تعلیم کے وسیع مواقع دستیاب ہوں گے. اسکالرشپ پیکیج کے مقتدر نکات کے مطابق منتخب طلبہ کی مکمل ٹیوشن فیس، ہاسٹل میں رہائش، ماہانہ معقول وظیفہ، ڈگری پروگرام کے دوران ایک مرتبہ اپنے ملک سے پاکستان آمد و رفت کے ہوائی سفر کے اخراجات اور پاکستان میں ابتدائی آباد کاری کے لیے خصوصی یکمشت مالی معاونت شامل ہے.

اہلیت کے مروجہ معیار کے مطابق، بین الاقوامی امیدواروں کے لیے اے لیول یا اس کے مساوی تعلیمی قابلیت میں کم از کم 60 فیصد نمبر ہونا لازمی ہے، جبکہ انجینئرنگ پروگراموں میں داخلے کے خواہشمند طلبہ کے لیے 65 فیصد نمبروں کی تادیبی شرط رکھی گئی ہے. اس کے علاوہ منتخب امیدواروں کو پاکستان پہنچنے کے بعد انٹر بورڈ کمیٹی آف چیئرمینز (آئی بی سی سی) سے اپنی تعلیمی مساواتی سند بھی لازمی طور پر حاصل کرنا ہوگی. ہائر ایجوکیشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ اس مقتدر بین الاقوامی اسکالرشپ پروگرام کے لیے آن لائن درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 10 اگست 2026ء مقرر کی گئی ہے.