حوثی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد زخمی: سعودی عرب کا سخت ردِعمل، شدید مذمت

محمود احمد, September 08,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے جنوبی مملکت کے اہم شہروں ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں شہری آبادی اور حساس اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے سنگین واقعات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق ان پرتشدد اور بزدلانہ حملوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 73 شہری زخمی ہو گئے ہیں۔

سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اور اہم اعلامیے کے مطابق، حوثی ڈرون اور میزائل حملوں کی زد میں آ کر جنوبی سعودی عرب کے مختلف اور اہم حصوں میں واقع توانائی اور دیگر بنیادی انفراسٹرکچر کی عمارتیں متاثر ہوئی ہیں۔ سعودی حکام نے ان کارروائیوں کو خطے کے امن کے لیے ایک انتہائی خطرناک عسکری کشیدگی قرار دیتے ہوئے اپنے شہریوں، مقیم غیر ملکیوں اور قومی مفادات کی ہمہ وقت حفاظت کو یقینی بنانے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔

وزارتِ خارجہ نے اپنے تفصیلی بیان میں واضح کیا کہ حوثی ملیشیا نہ صرف زمینی اہداف بلکہ بحیرۂ احمر جیسے اہم ترین تجارتی راستے پر بھی تجارتی بحری جہازوں کو مسلسل اور منصوبہ بند طریقے سے نشانہ بنا رہی ہے، جس سے بین الاقوامی بحری آمدورفت اور آزادانہ سمندری تجارت کی سلامتی کو کھلے خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ سعودی عرب نے حوثیوں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ان مخالفانہ کارروائیوں کا سلسلہ بند کریں اور تجارت کو مفلوج کرنے سے باز رہیں۔

اعلامیے کے مطابق، ریاض حکومت یمن کے ساتھ ساتھ اپنے تمام عرب اور اسلامی ہمسایہ ممالک کی سلامتی اور پائیدار استحکام کو داؤ پر لگانے والے حوثی گروپ کے کسی بھی جارحانہ قدم کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ بیان میں حوثیوں کی طرف سے خطے میں امن کی مسلسل کوششوں کو ناکام بنانے اور بات چیت کو معطل کرنے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

سعودی حکومت نے عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ مملکت کو اپنی جغرافیائی خودمختاری کے تحفظ، قومی وسائل کی سلامتی اور ملک میں موجود تمام شہریوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اور تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا پورا آئینی و بین الاقوامی حق حاصل ہے۔ ریاض نے باور کرایا کہ اپنی سرزمین پر حملوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس طرح کی کارروائیوں کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بھی فوری طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت میں بھرتیوں کا نظام جدید اور شفاف بنانے کی منظوری: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اصلاحاتی رپورٹ منظور کر لی

کاشف عباسی , September 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وفاقی حکومت میں سرکاری ملازمین کی بھرتی کے موجودہ نظام میں اصلاحات لانے اور ‘نیشنل جاب پورٹل’ کو مزید جامع و مؤثر بنانے کے لیے قائم کردہ اعلیٰ سطحی کمیٹی کا دوسرا اور حتمی اجلاس منعقد ہوا ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، اس اہم اجلاس میں کمیٹی کی طرف سے وفاقی وزارتی و انتظامی محکموں میں بھرتیوں کے نظام کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور پورٹل کی تکنیکی صلاحیت کو مضبوط بنانے پر مبنی تفصیلی کام کا جائزہ لیا گیا۔ نائب وزیراعظم نے کمیٹی کی کارکردگی اور تجاویز کو سراہتے ہوئے حتمی رپورٹ کی منظوری دے دی۔

اس موقع پر اسحاق ڈار نے ہدایت کی کہ اجلاس کے دوران جن اہم تکنیکی و انتظامی امور پر غور و خوض کیا گیا، ان تمام قیمتی تجاویز کو بھی رپورٹ کا حصہ بنایا جائے تاکہ منظوری کے لیے حتمی مسودہ فوری طور پر وزیراعظم پاکستان کو پیش کیا جا سکے۔

نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان مجوزہ اصلاحات کا بنیادی مقصد وفاقی حکومت میں بھرتی کے عمل کو مکمل شفاف، میرٹ پر مبنی، تیز رفتار اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان تمام تر اصلاحات کے باوجود بھرتیوں کا حتمی اختیار حکومت کے پاس ہی برقرار رہے گا، تاہم تمام تر نظام کو جدید ڈیجیٹل سہولیات سے لیس کر کے زیادہ باصلاحیت اور فعال بنایا جائے گا۔

اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، وفاقی سیکرٹری کابینہ، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے اعلیٰ حکام اور دیگر متعلقہ وزراتوں و اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

پاکستان اور کویت کا دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کا عزم: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی کویتی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو

منصور احمد,September 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے ایک انتہائی اہم اور تفصیلی ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے، جس میں دونوں برادر ممالک کے مابین مختلف شعبوں میں کثیر الجہتی تعاون کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی اس اہم گفتگو میں پاکستان اور کویت کے تاریخی دوطرفہ تعلقات، تجارتی و معاشی شراکت داری، اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم شعبوں میں جاری پیش رفت کا جامع جائزہ لیا گیا۔

گفتگو کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سیکیورٹی، خطے کی تازہ ترین صورتحال اور عالمی سطح پر ہونے والی اہم سیاسی و سفارتی پیش رفتوں کے حوالے سے اپنے خیالات اور مواقف کا تبادلہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں پائیدار امن، استحکام اور سلامتی کے فروغ کے لیے باہمی مشاورت کے عمل کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اس موقع پر اسحاق ڈار اور شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے اعلیٰ سطح پر سفارتی رابطوں اور تعمیری مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا، جبکہ رواں ماہ نیویارک میں منعقد ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ایک باقاعدہ دوطرفہ تفصیلی ملاقات کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان یہ حالیہ رابطہ پاکستان اور کویت کے درمیان دہائیوں پر محیط قریبی برادرانہ تعلقات، پائیدار اعتماد اور دوطرفہ تعاون کو ایک نئی بلندی پر لے جانے کے مشترکہ عزم کا واضح مظہر ہے۔

جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملے: بچوں اور طبی عملے کے اہلکار سمیت 12 افراد ہلاک، متعدد زخمی

محمود احمد, September 07,2026

بیروت (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

جنوبی لبنان کے تاریخی اور گنجان آباد قصبے کفر رمان پر اسرائیلی جیٹ طیاروں کی شدید بمباری کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں دو بچے، چار خواتین اور امدادی کاموں میں مصروف ایک طبی اہلکار بھی شامل ہے۔

لبنان کی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق نبطیہ کے قریب کفر رمان میں ایک کثیر المنزلہ رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 11 افراد موقع پر دم توڑ گئے جبکہ 8 شدید زخمی ہوئے، جن میں تین معصوم بچے اور ایک طبی امدادی کارکن شامل ہے۔ اس حملے کے فوراً بعد ایک اور کارروائی کے دوران سڑک پر جاتی ہوئی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس میں مزید ایک طبی اہلکار ہلاک اور دو افراد زخمی ہو گئے۔

اسرائیلی عسکری حکام نے فضائی کارروائیوں کی تصدیق کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے متعدد خفیہ اور متحرک ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیلی عسکری ترجمان کے مطابق یہ شدید کارروائیاں اسرائیلی فوجیوں پر حزب اللہ کی جانب سے بارود سے لدے دو ڈرون بھیجے جانے کے فوری جواب میں کی گئیں تاکہ درپیش خطرات کا خاتمہ کیا جا سکے۔

یہ خونریز فضائی حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جنوبی لبنان میں رواں سال جون میں طے پانے والے نازک جنگ بندی معاہدے کے باوجود سرحدی کشیدگی روز بروز سنگین صورتحال اختیار کرتی جا رہی ہے۔ لبنانی صدر جوزف عون نے اسرائیلی بمباری کو خطرناک ترین عسکری پیش رفت قرار دیتے ہوئے امریکہ اور بین الاقوامی برادری سے فوری مداخلت اور سفارتی اقدامات کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

لبنانی حکومت نے اسرائیل پر جنگ بندی کے معاہدے کی متواتر خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ اسرائیل ان کارروائیوں کو اپنا دفاعی حق قرار دے رہا ہے۔ سرحد پر بڑھتی ہوئی مسلسل پرتشدد کارروائیوں نے خطے میں ایک نئی، مکمل اور وسیع تر جنگ کے خدشات کو انتہائی شدید کر دیا ہے۔

امریکہ اور ایران جنگ کے اثرات سے معیشت کو بچانے کے لیے اقدامات جاری؛ آبنائے ہرمز پر انحصار ختم کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے پر کام تیز

محمود احمد, September 07,2026

ابوظہبی (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے کہا ہے کہ ان کا ملک توانائی کی برآمدات، عالمی تجارت اور ملکی معاشی سرگرمیوں کو امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر متبادل راستے اور جدید بنیادی ڈھانچہ تیار کر رہا ہے۔

انور قرقاش نے ابوظہبی میں انعقاد پذیر ہِلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے انتہائی واضح اور سخت الفاظ میں کہا کہ متحدہ عرب امارات کی توانائی کی عالمی برآمدات اور بنیادی تجارتی و معاشی سرگرمیوں کو علاقائی کشیدگی، بدامنی یا جنگی حالات کے باعث کسی بھی صورت یرغمال نہیں بنایا جا سکتا۔

صدارتی مشیر نے اپنے خطاب میں تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ متحدہ عرب امارات اپنی مشرقی ساحلی پٹی پر واقع بندرگاہوں کی مجموعی استعداد کار میں غیر معمولی اضافہ کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پائپ لائنز، ریلوے نیٹ ورک اور نئے تجارتی راستوں کو بھی تیزی سے وسعت دی جا رہی ہے تاکہ توانائی کی منتقلی اور عالمی تجارت کے لیے ہر وقت آبنائے ہرمز کے متبادل راستے باآسانی دستیاب رہیں۔

ایران کے ساتھ مستقبل کے سفارتی تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انور قرقاش نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک فعال تعلق دوبارہ قائم تو کیا جا سکتا ہے، تاہم حالیہ عسکری حملوں اور پرتشدد واقعات کے بعد باہمی اعتماد کی مکمل بحالی میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔

انہوں نے خلیجی عرب ریاستوں کی مجموعی پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے درپیش سلامتی کے خطرے کے بارے میں اگرچہ خلیجی ممالک کے مابین عمومی اتفاقِ رائے موجود تھا، لیکن اس کے باوجود ایک مشترکہ، مضبوط اور مربوط عسکری و معاشی حکمتِ عملی اختیار کرنے میں خلیجی ریاستیں مطلوبہ حد تک کامیاب نہیں ہو سکیں۔

انور قرقاش کے مطابق موجودہ نازک صورتحال نے خلیجی ممالک کو اپنی سلامتی، بقا اور معاشی سرگرمیوں کے تحفظ کے لیے مزید خود انحصاری اور متبادل ذرائع پیدا کرنے کا شدید احساس دلایا ہے۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری شدید کشیدگی نے پہلے ہی عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل اور تیل کی بین الاقوامی منڈیوں پر گہرا دباؤ بڑھا رکھا ہے۔

یمن میں لڑائی میں ایک بار پھر شدید تپش: حوثیوں کا سعودی عرب پر فضائی حملوں اور کروز میزائل کارروائیوں کا بڑا الزام

محمود احمد, September 07,2026

صنعا (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

یمن کے حوثی باغی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے یمن کے متعدد صوبوں میں شدید فضائی حملے کیے ہیں اور کروز میزائلوں سے مختلف اہم اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ حوثیوں کے زیرِ انتظام کام کرنے والی سرکاری خبر رساں ایجنسی صبا کے مطابق ان تازہ فضائی اور میزائل حملوں کے دوران صوبہ الجوف، البیضا، مأرب اور تعز کے متعدد حساس مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے جس سے علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی ہے۔

حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب پر ان شدید حملوں کا یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن میں زمینی جنگ ایک بار پھر انتہائی خونریز اور شدت اختیار کر گئی ہے۔ حوثی جنگجو اس وقت بین الاقوامی بحری تجارت کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل آبنائے باب المندب سے متصل اہم اور تزویراتی علاقوں کی جانب تیزی سے پیش قدمی کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں جہاں انہیں شدید مقاومت کا سامنا ہے۔

موصولہ رپورٹوں کے مطابق گزشتہ چند روز سے حوثی جنگجوؤں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی باقاعدہ مسلح افواج کے درمیان گھمسان کا معرکہ جاری ہے۔ ان جھڑپوں میں اب تک دونوں جانب سے بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ واضح رہے کہ یمنی حکومتی فورسز کو سعودی عرب کی مکمل سفارتی و عسکری حمایت حاصل ہے جبکہ خود کو انصار اللہ کہلوانے والے حوثی گروپ کو ایران کا قریبی اتحادی تصور کیا جاتا ہے۔

اس وقت حوثی گروپ دارالحکومت صنعا سمیت شمالی یمن کے تمام وسیع و عریض علاقوں پر قابض ہے، جبکہ یمنی حکومت کے حامی دستے ملک کے جنوبی اور مشرقی حصوں سمیت اہم ساحلی اور بندرگاہی علاقوں کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں۔ حالیہ لڑائی کا مرکزی نقطہ تعز، الحدیدہ کے مغربی اضلاع اور المَخا کے اطراف کا خطہ ہے، جو باب المندب کی اہم سمندری گزرگاہ تک براہِ راست رسائی فراہم کرتا ہے۔ یمنی حکومتی فورسز نے بھی حوثی ٹھکانوں پر جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے بعض اہم علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اس تمام تر جنگی صورتحال کے پیشِ نظر حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف جوابی سمندری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے سعودی تیل بردار جہازوں اور ان کی نقل و حمل کو نشانہ بنانے کی کھلی دھمکیاں بھی دی ہیں۔ چونکہ آبنائے باب المندب دنیا بھر کی تیل اور تجارتی ترسیل کی اہم ترین شاہراہ ہے، اس لیے اس خطے میں جنگ کے پھیلنے سے عالمی جہاز رانی اور توانائی کے منڈیوں میں شدید بحران پیدا ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ فی الوقت سعودی حکام نے حوثیوں کے ان تازہ الزمات پر کوئی باقاعدہ تبصرہ یا آزادانہ تصدیق جاری نہیں کی ہے۔

فاسٹ بولر محمد عباس کا لارڈز کے میدان پر تاریخی کارنامہ: سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم کا 25 سالہ ریکارڈ توڑ دیا

محمود احمد, September 07,2026

ندن (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

پاکستان کے 36 سالہ تجربہ کار فاسٹ بولر محمد عباس نے کرکٹ کے قبلہ اول کہلائے جانے والے تاریخی میدان لارڈز میں اپنی جادوئی اور بے مثال سوئنگ بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک نیا قومی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ محمد عباس نے لارڈز گراؤنڈ پر سب سے زیادہ ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرنے والے پاکستانی بولرز کی فہرست میں سابق کپتان اور سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم کا سالوں پرانا قائم کردہ تاریخی ریکارڈ باضابطہ طور پر پاش پاش کر دیا ہے۔ اس شاندار کارکردگی نے دنیا بھر میں موجود کرکٹ کے شائقین اور ماہرین کی توجہ ایک بار پھر اپنی طرف مبذول کروا لی ہے۔

سرکاری و بین الاقوامی اعداد و شمار کے مطابق محمد عباس نے لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں اب تک مجموعی طور پر صرف 4 ٹیسٹ اننگز میں انتہائی قلیل اور حیران کن 11.41 کی بولنگ اوسط کا مظاہرہ کرتے ہوئے 17 وکٹیں اپنے نام کی ہیں۔ اس شاندار کامیابی اور وکٹوں کی مجموعی تعداد کے ساتھ ہی محمد عباس اب لارڈز کے تاریخی ہوم گراؤنڈ پر سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے پاکستانی فاسٹ بولرز کی فہرست میں اپنے دور کے عظیم بولر وقار یونس کے ساتھ مشترکہ طور پر دوسرے نمبر پر آ گئے ہیں، جو کہ پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم اور روشن باب ہے۔

اگر لارڈز کے میدان پر پاکستانی بولرز کے مجموعی اعداد و شمار اور تاریخی ریکارڈز پر نظر ڈالی جائے تو اس میدان پر پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرنے کا ریکارڈ سابق فاسٹ بولر محمد عامر کے پاس محفوظ ہے، جنہوں نے 7 ٹیسٹ اننگز میں 18 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔ فہرست میں دوسرے نمبر پر سابق برق رفتار بولر وقار یونس موجود ہیں جنہوں نے 5 اننگز میں 17 وکٹیں حاصل کیں، اور اب محمد عباس نے صرف 4 اننگز میں 17 وکٹیں لے کر وقار یونس کی برابری کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔

اس فہرست میں دوسرے اور تیسرے درجے پر موجود سابق کھلاڑیوں کی بات کی جائے تو اس سے قبل سوئنگ کے سلطان اور سابق قومی کپتان وسیم اکرم نے لارڈز کی 6 اننگز میں مجموعی طور پر 12 وکٹیں حاصل کی تھیں، جنہیں اب محمد عباس نے اپنی شاندار بولنگ کے ذریعے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ وسیم اکرم جیسے عظیم کھلاڑی کے ریکارڈ کو توڑنا کسی بھی جدید دور کے بولر کے لیے ایک ناقابلِ فراموش اور شاندار اعزاز تسلیم کیا جاتا ہے۔ مزید برآں، پاکستان کے سابق عالمی شہرت یافتہ لیگ اسپنر مشتاق احمد بھی اس فہرست میں اہم مقام رکھتے ہیں جنہوں نے 4 اننگز میں 11 وکٹیں اپنے نام کر رکھی ہیں۔

محمد عباس نے حال ہی میں انگلینڈ کے خلاف کھیلے گئے دوسرے لارڈز ٹیسٹ میچ میں اپنی اعلیٰ ترین بولنگ کی مہارت کا شاندار مظاہرہ کیا

سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کی گرفتاری کی باضابطہ تصدیق: 18 مقدمات میں مطلوب اور روپوش تھے، لاہور پولیس

کاشف عباسی , September 07,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

لاہور پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کی ملتان سے گرفتاری کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ مختلف قانونی کیسز میں پولیس کو اشتہاری ملزم کے طور پر 18 مقدمات میں درکار تھے۔

ترجمان لاہور پولیس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، حماد اظہر گزشتہ تقریباً تین سال سے روپوش اور روپوشی کی حالت میں تھے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام تر ضروری سیکیورٹی و قانونی ضوابط کی تکمیل کے بعد انہیں جلد از جلد مجاز عدالت میں پیش کیا جائے گا، جہاں تفتیشی ٹیمیں باقاعدہ تفتیش کی غرض سے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی استدعا کریں گی۔

سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ حماد اظہر کو گزشتہ روز ایک کارروائی کے دوران ملتان سے حراست میں لیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں فوری طور پر لاہور پولیس کی تحویل میں منتقل کر دیا گیا۔ ان کے خلاف 9 مئی 2023ء کے پرتشدد واقعات، امن و امان کی خرابی اور دیگر سنگین دفعات کے تحت قانونی کارروائیاں زیرِ التواء ہیں۔

دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف نے اس ہائی پروفائل گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے محض “سیاسی انتقام” کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔ پارٹی کے پہلے دعوے پر ابتدائی طور پر پولیس حکام کی جانب سے فوری ردِعمل سامنے نہیں آیا تھا، تاہم بعد ازاں لاہور پولیس نے ان کی گرفتاری کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔

عدالتی ذرائع کے مطابق، مختلف احتساب و انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کی جانب سے عدم پیشی پر ان کے دائمی وارنٹِ گرفتاری جاری کیے جا چکے تھے۔ ادھر، حماد اظہر کی والدہ نے ان کی بازیابی اور تحفظ کی ضمانت کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے بھی رجوع کر رکھا ہے۔

یو ایس اوپن ٹینس: ٹاپ سیڈ ہیلیواارا اور ہنری پیٹن کی جوڑی مینز ڈبلز کے پری کوارٹر فائنل میں داخل

محمود احمد, September 07,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

فن لینڈ کے نامور ٹینس سٹار ہیری ہیلیواارا اور انگلینڈ کے ہنری پیٹن پر مشتمل ٹاپ سیڈ جوڑی نے سال کے چوتھے اور آخری گرینڈ سلام یو ایس اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کے مینز ڈبلز مقابلوں کے پری کوارٹر فائنل (ٹاپ 16 مرحلے) میں باآسانی جگہ بنا لی ہے۔

امریکی شہر نیویارک میں جاری عالمی ایونٹ کے دوسرے راؤنڈ کے اہم میچ میں فن لینڈ اور انگلینڈ کی جوڑی نے شاندار فنکارانہ کھیل اور اعلیٰ ہم آہنگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اٹلی کے میتھیو آرنلڈی اور جرمنی کے جان لینارڈ سٹرف کی جوڑی کو سیدھے سیٹوں میں 5-7 اور 2-6 سے مات دے کر ایونٹ سے باہر کر دیا۔

ٹورنامنٹ کے باضابطہ ریکارڈ کے مطابق ہیری ہیلیواارا اور ہنری پیٹن کو اس میگا ایونٹ کے مینز ڈبلز زمرے میں پہلی سیڈ حاصل ہے۔ رواں سال دونوں کھلاڑی انتہائی شاندار فارم میں ہیں اور حال ہی میں ومبلڈن ٹائٹل اپنے نام کرنے کے بعد اب مسلسل دوسری گرینڈ سلام ٹرافی اٹھانے کے لیے پرعزم ہیں۔

نیویارک کے ہارڈ کورٹس پر کھیلے جا رہے اس عالمی میگا ایونٹ میں دنیا بھر کے نامور کھلاڑی ٹائٹل کی جنگ لڑ رہے ہیں، جہاں ہیلیواارا اور پیٹن کی پیش قدمی سے ایونٹ میں ان کی پوزیشن مزید مضبوط ہو گئی ہے۔

انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان تیسرا اور آخری ٹیسٹ 9 ستمبر سے برمنگھم میں ہوگا

محمود احمد, September 07,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

انگلینڈ اور پاکستان کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان جاری تین ٹیسٹ میچوں پر مشتمل تاریخی سیریز کا تیسرا اور آخری میچ 9 سے 13 ستمبر تک ایجبسٹن، برمنگھم میں کھیلا جائے گا۔

میزبان انگلینڈ نے ابتدائی دونوں ٹیسٹ میچوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیریز میں 2-0 کی فیصلہ کن اور ناقابلِ شکست برتری حاصل کر رکھی ہے۔ انگلینڈ نے لیڈز میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دی تھی، جبکہ لارڈز کے تاریخی میدان پر کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں بھی میزبان ٹیم نے 194 رنز سے کامیابی حاصل کی۔

پاکستانی ٹیم نے اس ٹیسٹ سیریز کے باقاعدہ آغاز سے قبل انگلینڈ کی کاؤنٹی کرکٹرز پر مشتمل سلیکٹ الیون کے خلاف تین روزہ مشقی میچ میں 7 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی، تاہم وہ اس فارم کو اہم ٹیسٹ میچوں میں برقرار رکھنے میں ناکام رہی۔

سلسلے کا آخری معرکہ بدھ 9 ستمبر سے ایجبسٹن میں شروع ہو رہا ہے جو 13 ستمبر تک جاری رہے گا۔ یہ اہم میچ مقامي وقت کے مطابق صبح 11 بجے شروع ہوگا۔ انگلش ٹیم کی قیادت جو روٹ کر رہے ہیں اور میزبان کرکٹ بورڈ نے آخری معرکے کے لیے 15 رکنی حتمی ڈریسنگ روم کا اعلان کر دیا ہے جہاں ان کی نظریں مکمل کلین سویپ پر مرکوز ہیں۔

دوسری جانب مسلسل دو شکستوں کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے قومی ٹیم کی کوچنگ کی کمان سرفراز احمد سے لے کر مائیک ہیسن کے سپرد کر دی ہے، جبکہ ٹیم میں بھی متعدد تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ قومی ٹیم اخری میچ میں فتح حاصل کر کے سیریز کا اختتام مثبت انداز میں کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

پوری قوم کو پاک فضائیہ پر فخر ہے، شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی: یومِ فضائیہ پر وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام

کاشف عباسی , September 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یومِ فضائیہ کے موقع پر پاک فضائیہ کے بہادر اور جری شاہینوں کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری قوم کو پاک فضائیہ پر بے پناہ فخر ہے اور ملکی دفاع کی خاطر اپنے پران نچھاور کرنے والے شہداء کی عظیم قربانیاں ہمیشہ قومی یادوں میں نقش رہیں گی۔

سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیے گئے اپنے خصوصی اور اہم پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ یومِ فضائیہ کے پروقار موقع پر وہ پاک فضائیہ کے تمام جانبازوں کی غیر معمولی جرات، اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ مہارت اور ناقابلِ تسخیر جذبے کو سلام پیش کرتے ہیں۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے تاریخی حقائق کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ ستمبر 1965ء کی جنگ میں پاکستانی فضائی حدود کے بہادرانہ دفاع سے لے کر مئی 2025ء کے معرکۂ حق کے دوران دشمن کو دیے گئے فیصلہ کن اور دندان شکن جواب تک، پاک فضائیہ نے شجاعت، فنی مہارت، درست نشانے اور ایثار و قربانی کی اپنی سدا بہار اور قابلِ فخر روایت کو پوری شان سے برقرار رکھا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ غیر معمولی عملیاتی تیاری، جدید ترین ٹیکنالوجی اور سائنسی علوم میں مکمل مہارت، اور پاک فوج کی دیگر دفاعی شاخوں کے ساتھ بہترین عملیاتی ہم آہنگی کے ذریعے پاک فضائیہ نے بارہا دنیا پر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ہر آنے والے درپیش چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے پاکستان کی جغرافیائی حدود اور خودمختاری کے دفاع کی مکمل اور بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

قومی شہداء کو عقیدت و احترام سے خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وطن کے لیے جان دینے والے سرفروشوں کی لازوال داستانیں قوم کا اصل اثاثہ ہیں۔ پوری قوم اپنے شاہینوں کی ناقابلِ تسخیر جرات، بے مثال صلاحیتوں اور سرحدوں کے تحفظ کے لیے فراہم کی جانے والی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ان پر ہمیشہ فخر محسوس کرتی رہے گی۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں جدید تدریسی مواد کی تیاری کے لیے 3 روزہ کنٹینٹ ڈویلپمنٹ ورکشاپ کا آغاز

روزینہ اسماعیل, September 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے سنٹر فار لائف لانگ لرننگ کے زیرِ اہتمام یونیورسٹی فیکلٹی کی پیشہ ورانہ استعدادِ کار، یونٹ رائٹنگ اور جدید ترین معیاری تدریسی مواد کی تیاری کے لیے 3 روزہ ‘کنٹینٹ ڈویلپمنٹ ورکشاپ’ کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔

اس اہم اور عملی تربیتی ورکشاپ کا بنیادی مقصد یونیورسٹی کے لاکھوں طلبہ و طالبات کے لیے اوپن اینڈ ڈسٹنس لرننگ کے جدید تقاضوں کے مطابق مؤثر، آسان اور جامع تعلیمی کورسز تیار کرنا اور اساتذہ کی فنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔

ورکشاپ کی پروقار افتتاحی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا کہ اوپن یونیورسٹی کے فاصلاتی تعلیمی نظام میں معیاری تعلیمی مواد ہی استاد اور طالب علم کے درمیان بنیادی پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ اس لیے طلبہ کی علمی ضروریات، بین الاقوامی ترجیحات اور جدید ہائبرڈ تدریسی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سائنسی بنیادوں پر مواد تیار کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ کی مسلسل تربیت اور جدید طریقوں سے آگاہی یونیورسٹی کے تعلیمی گراف کو مزید بلند کرے گی۔

سنٹر فار لائف لانگ لرننگ کی ڈائریکٹر طوبیٰ سلیم نے ورکشاپ کے اغراض و مقاصد اور طریقہ کار پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ تربیتی سرگرمی کے دوران فیکلٹی ممبران کو یونٹ ڈویلپمنٹ، تعلیمی تحریر، اور کورس اسٹرکچرنگ کے جدید عملی و فنی پہلوؤں سے روشناس کرایا جا رہا ہے۔

تقریب میں جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی کے نمائندے عابد گل نے بھی شرکت کی اور کہا کہ معیاری تعلیمی مواد کسی بھی فاصلاتی تعلیمی ادارے کی کامیابی کی بنیادی بنیاد ہوتا ہے۔ انہوں نے اے آئی او یو کی اس انتظامی کاوش کو سراہا اور جائیکا کے تعاون کا اعادہ کیا۔

ورکشاپ کے پہلے روز نامور تعلیمی ماہرین کی جانب سے شرکاء کو کورس آؤٹ لائنز، یونٹ اسائنمنٹس اور گائیڈ لائنز کے حوالے سے عملی مشقیں کرائی گئیں تاکہ معیاری تعلیمی مواد کو حتمی شکل دی جا سکے۔

قائداعظم یونیورسٹی میں جدید زبان لیبارٹری کا قیام: شعبہ انگریزی اور ایس آئی ایل انٹرنیشنل کے درمیان اعلیٰ سطح کا اجلاس

روزینہ اسماعیل, September 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

پاکستان کی اعلیٰ ترین تعلیمی درسگاہ قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی اور بین الاقوامی لسانی ادارے ‘ایس آئی ایل انٹرنیشنل’ کے درمیان یونیورسٹی میں اپنی نوعیت کی پہلی جدید ترین لینگویج لیبارٹری کے قیام کے حوالے سے ایک انتہائی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

اسی سلسلے میں قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی میں ایک اعلیٰ سطحی مشترکہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایس آئی ایل انٹرنیشنل کے علاقائی ڈائریکٹر وین لونسفورڈ، پاکستان کی کنٹری ڈائریکٹر ایمی سنیل اور یونیورسٹی میں ایس آئی ایل کے نمائندے نکولس ہائڈاک نے شرکت کی۔ اجلاس میں شعبہ انگریزی کی چیئرپرسن پروفیسر عروسہ کنول، ڈاکٹر عمیما کامران اور ڈاکٹر یاسر حسین بھی موجود تھے۔

اجلاس کے دوران مجوزہ زبان لیبارٹری کے تکنیکی ڈیزائن، جدید ترین ساؤنڈ و لینگویج سافٹ ویئرز، ضروری آلات اور اس کے مستقبل کے تعلیمی و تحقیقی استعمال سے متعلق مختلف انتظامی و سائنسی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

شعبہ انگریزی کی چیئرپرسن پروفیسر عروسہ کنول نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایس آئی ایل انٹرنیشنل کے عالمی تعاون سے قائم ہونے والی یہ لینگویج لیبارٹری شعبے کے تعلیمی و تحقیقی ڈھانچے کو جدید ترین عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے میں سنگِ میل ثابت ہوگی۔ جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے نہ صرف زبان کی تدریس اور سیکھنے کے عمل کو بہتر بنایا جا سکے گا بلکہ طلبہ کی عملی مہارتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔

اجلاس میں اس بات پر خصوصی تمرکز کیا گیا کہ اس لیبارٹری کے قیام سے انگریزی زبان، ڈسکورس اینالسز، ترجمہ نگاری اور بالخصوص پاکستان میں معدومیت کے خطرے سے دوچار علاقائی زبانوں پر سائنسی تحقیق کرنے والے اساتذہ، محققین اور طلبہ کو عالمی سطح کی تکنیکی سہولیات میسر آئیں گی۔

قائداعظم یونیورسٹی کی انتظامیہ اور شعبہ انگریزی نے ایس آئی ایل انٹرنیشنل کی جانب سے تعلیمی و سائنسی تعاون کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ باہمی اشتراک ملک میں زبانوں کی فروغ اور تعلیمی تحصیلاسی و تحقیقی سرگرمیوں کو ایک نیا موڑ دے گا۔

١٩٦٥ء سے ٢٠٢٦ء تک دنیا کے دفاعی تصورات تبدیل ہو چکے؛ اب جنگیں صرف روایتی ہتھیاروں سے نہیں بلکہ سائبر، سپیس اور اے آئی سے جیتی جائیں گی

منصور احمد,September 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے یومِ فضائیہ کے تاریخی موقع پر کہا ہے کہ 1965ء سے لے کر 2026ء تک گزرنے والے ان دہائیوں میں دنیا کے دفاعی تصورات اور جنگی تزویرات میں بنیادی اور انقلابی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔ ان کے مطابق آج کے دور میں کسی بھی ملک کے دفاع کا تصور صرف روایتی ہتھیاروں جیسے ٹینکوں، توپوں اور جیٹ طیاروں تک محدود نہیں رہا بلکہ مصنوعی ذہانت ، جدت اور جدید ترین ٹیکنالوجی نئے اور انتہائی طاقتور دفاعی محاذ بن چکے ہیں۔

7 ستمبر یومِ فضائیہ کی مناسبت سے جاری اپنے خصوصی اور فکر انگیز قومی پیغام میں پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی خودمختاری، جغرافیائی سلامتی اور خودمختارانہ وجود کو یقینی بنانے کے لیے ملک کی تمام دفاعی صلاحیتوں کو ٹیکنالوجی کے ان نئے اور ابھرتے ہوئے افق سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

وفاقی وزیر نے پاکستان کے نوجوانوں، سائنسدانوں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے وقت میں سائنسی علوم اور جدید ترین ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز میں پاکستان کے نوجوان ہی ملکی سلامتی اور خودمختاری کے حقیقی اور مضبوط ترین محافظ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی جیو پولیٹیکل صورتحال اور ہائبرڈ وارفیئر کے چیلنجز کے پیشِ نظر پاکستان کو علم، تحقیق، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ اور اختراع کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کو گراس روٹ لیول سے مضبوط بنانا ہوگا۔

پروفیسر احسن اقبال نے آئندہ دہائیوں کے دفاعی تقاضوں کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل کی قومی سلامتی میں مصنوعی ذہانت ، سائبر سیکیورٹی ، بغیر پائلٹ کے آپریشنل سسٹمز، خلائی ٹیکنالوجی اور دیگر ابھرتے ہوئے سائنسی شعبے کلیدی کردار ادا کریں گے۔ ان کے مطابق پاکستان کو ان شعبوں میں محض غیر ملکی ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے گاہک کے بجائے خود تحقیق اور مقامی اختراع کے ذریعے نئی ٹیکنالوجیز تیار کرنے والا خودکفیل ملک بننے کے لیے طویل المدتی حکمتِ عملی اختیار کرنی ہوگی۔

انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر واضح کیا کہ 2026ء کی جدید دنیا میں قومی سلامتی اب صرف عسکری یا روایتی طاقت تک محدود نہیں رہی، بلکہ مستحکم و پائیدار معیشت، باصلاحیت اور ہنر مند انسانی وسائل ، بین الاقوامی معیار کی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور ناقابلِ تسخیر قومی یکجہتی بھی کسی بھی ملک کی خودمختاری کے بنیادی ستون ہیں۔

پاک فضائیہ کی خدمات، قربانیاں اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں قومی تاریخ کا ناقابلِ فراموش باب ہیں: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی

کاشف عباسی , September 07,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے 7 ستمبر ‘یومِ فضائیہ’ کے موقع پر پاک فضائیہ کے شاہینوں، عظیم شہداء اور جری غازیوں کو زبردست خراجِ تحسین اور سلام پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وطنِ عزیز کی فضائی حدود کے دفاع میں پاک فضائیہ کی تاریخی خدمات، بے مثال قربانیاں اور اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ صلاحیتیں قومی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش اور روشن باب ہیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق، کوئٹہ سے جاری کردہ اپنے خصوصی قومی پیغام میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ نشانِ حیدر پانے والے سب سے کم عمر ہیرو راشد منہاس شہید سمیت پاک فضائیہ کے تمام جانبازوں نے دفاعِ وطن کی خاطر جرات، شجاعت اور قربانی کی لازوال داستانیں رقم کی ہیں۔ ان بہادر سپوتوں کا عظیم ایثار اور خون آنے والی نسلوں کے لیے عزم، حوصلے اور حب الوطنی کا روشن استعارہ ہے۔

وزیراعلیٰ نے پاک فضائیہ کی تاریخی اور حالیہ پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاک فضائیہ کے شاہینوں نے ہر مشکل گھڑی میں اپنی غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت، جدید جنگی صلاحیت اور بے مثال جرات کا مظاہرہ کر کے ملکی فضائی حدود کے دفاع کی شاندار روایت کو مزید مضبوط کیا ہے۔ پاک فضائیہ کی اس مؤثر اور قابلِ تحسین کارکردگی نے پوری قوم کا سر دنیا میں فخر سے بلند کیا اور ایک بار پھر ثابت کیا کہ پاکستان کا فضائی دفاع مکمل طور پر محفوظ اور باصلاحیت ہاتھوں میں ہے۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ 7 ستمبر کا دن محض ایک روایتی قومی دن نہیں بلکہ یہ قومی اتحاد، غیر متزلزل عزم اور وطن سے بے لوث وفاداری کے جذبے کی تجدید کا ایک خاص موقع ہے۔ پوری پاکستانی قوم اپنے شاہینوں کی فرض شناسی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور پاک فضائیہ پر بے پناہ فخر کرتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ملکی دفاع کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے شہداء قوم کے حقیقی ہیروز ہیں۔ ان کی لازوال قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں اور پوری قوم ان کے سوگوار اہل خانہ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے دعائیہ کلمات ادا کرتے ہوئے شہداء کے درجات کی بلندی اور پاک فضائیہ کے غازیوں و موجودہ افسران و جوانوں کی مزید سربلندی اور کامرانی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

1965ء کی جنگ میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دشمن کا غرور خاک میں ملا دیا: یومِ فضائیہ پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا زبردست خراجِ تحسین

منصور احمد,September 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے داخلہ محسن نقوی نے 7 ستمبر ‘یومِ فضائیہ’ کے موقع پر پاک فضائیہ کے شجاع شہداء اور غازیوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 7 ستمبر 1965ء کا دن پاک فضائیہ کی غیر معمولی شجاعت، بے مثال جرات اور اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ مہارت کا ایک سنہری اور تاریخی دن ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق، یومِ فضائیہ کی مناسبت سے جاری کردہ اپنے خصوصی قومی پیغام میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران پاک فضائیہ کے شاہینوں نے جرات و بہادری کی ایسی تاریخ رقم کی جس نے دشمن کی تمام تر عددی اور تکنیکی برتری کا غرور خاک میں ملا دیا۔

وفاقی وزیر داخلہ نے فضائی معرکے کے عظیم قومی ہیرو سکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم (مرحوم) کو خصوصاً زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایم عالم کی شجاعت اور پیشہ ورانہ مہارت پاکستان کی عسکری تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش اور روشن باب ہے۔ ایم ایم عالم نے محض ایک منٹ کے قلیل وقت میں دشمن بھارت کے 5 جدید جیٹ جنگی طیارے مار گرائے، جو کہ ایک ایسا عالمی اور تاریخی کارنامہ ہے جس کی دنیا کی ہوا بازی میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔

محسن نقوی نے اپنے پیغام میں زور دیتے ہوئے کہا کہ یومِ فضائیہ ہمارے تمام غازیوں اور شہداء کی لازوال قربانیوں کی یاد تازہ کرتا ہے اور پوری پاکستانی قوم اپنے ان سرفروش ہیروز کی قربانیوں کو ہمیشہ احترام کے ساتھ یاد رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ وطنِ عزیز کی فضائی سرحدوں کے پاسبان ہمہ وقت بیدار، پرعزم اور مستعد ہیں، جبکہ شہداء اور غازیوں نے اپنے مقدس خون سے پاکستان کے دفاع کو ہمیشہ کے لیے ناقابلِ تسخیر بنا دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاک فضائیہ کے تمام افسران، انجینئرز اور جوانوں کا جذبۂ حب الوطنی اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں پورِی قوم کے لیے قابلِ تقلید ہیں۔ قوم کو پاکستان ایئر فورس کی اعلیٰ تزویراتی و عملیاتی صلاحیتوں پر ہمیشہ کی طرح آج بھی بے پناہ فخر ہے۔

نوشکی میں ٹارگٹ کلنگ کا افسوسناک واقعہ: بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے ضلعی صدر عبدالرحمان لانگو فائرنگ سے جاں بحق

منصور احمد,September 06,2026

نوشکی / کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

بلوچستان کے ضلع نوشکی میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے ایک افسوسناک واقعے میں بلوچستان عوامی پارٹی کے ضلعی صدر اور معروف سیاسی و سماجی شخصیت عبدالرحمان لانگو نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

پولیس و سیکیورٹی حکام کے مطابق، یہ ٹارگٹڈ حملہ اتوار کی شب نوشکی شہر کے جنوب مغرب میں واقع علاقے کلی بٹو میں پیش آیا، جہاں مسلح ملزمان نے عبدالرحمان لانگو کو ان کی رہائش گاہ کے بالکل باہر اندھا دھند فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ فائرنگ اتنی شدید تھی کہ وہ موقع پر ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے، جبکہ حملہ آور رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

نوشکی پولیس کے ایس ایچ او عبدالحئی پرکانی نے واقعے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو ضروری قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ٹارگٹ کلنگ کے اس واقعے کے مختلف پہلوؤں اور ممکنہ محرکات کو سامنے رکھتے ہوئے وسیع پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے کی ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ عبدالرحمان لانگو کا شمار نوشکی کی بااثر اور متحرک سیاسی و سماجی شخصیات میں ہوتا تھا۔ وہ بلوچستان عوامی پارٹی کے ضلعی صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں ادا کرنے کے علاوہ ماضی میں یونین کونسل باغک کے منتخب چیئرمین بھی رہ چکے تھے۔

واقعے کی خبر پھیلتے ہی نوشکی شہر اور گردونواح میں شدید تشویش، غم و غصے اور خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے۔ فی الوقت کسی بھی کالعدم عسکریت پسند تنظیم یا کالعدم گروپ نے اس ہائی پروفائل قتل کی ذمہ داری قبول کرنے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں سنسنی خیز واقعہ: کوئٹہ کراچی شاہراہ کے قریب سے 6 نامعلوم افراد کی لاشیں برآمد

کاشف عباسی , September 06,2026

مستونگ / کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

بلوچستان کے حساس اور مرکزی ضلع مستونگ سے اتوار کے روز 6 نامعلوم افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جس کے بعد علاقے میں شدید سنسنی، خوف اور تحفظات کی لہر دوڑ گئی ہے۔

حکومتی و سرکاری ذرائع نے واقعے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ لاشیں کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کے قریب دو الگ الگ مقامات سے ملی ہیں۔ محکمہ داخلہ حکومتِ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی سے رابطہ کرنے پر انہوں نے لاشوں کی برآمدگی کی تصدیق کی اور بتایا کہ اس سلسلے میں مستونگ پولیس نے باقاعدہ بیان جاری کیا ہے۔

مستونگ پولیس کے باضابطہ اعلامیے کے مطابق، کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ڈی سی ہاؤس کے قریب سے 1 لاش جبکہ دتو موڑ کے مقام سے 5 افراد کی لاشیں ملیں۔ ایس ایچ او سٹی عبدالرؤف بلوچ کی نگرانی میں پولیس کی نگران ٹیم نے لاشوں کو ضروری قانونی کارروائی اور شناخت کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔

تاہم، اس دردناک واقعے کے بعد مقامی رہائشیوں نے شدید تحفظات اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مستونگ کے مقامی رہائشی مالک بلوچ نے بتایا کہ لاشیں علی الصبح سڑک کے کنارے پھینکی گئی تھیں اور کافی دیر تک کھلے آسمان تلے سڑک کنارے پڑی رہیں۔

مقامی ذرائع نے یہ حیران کن انکشاف بھی کیا کہ پولیس اور ریسکیو اہلکار لاشوں کو اٹھا کر کوئٹہ منتقل کرنے کے لیے لے گئے تھے، لیکن پراسرار طور پر کچھ ہی دیر بعد انہیں دوبارہ لا کر مستونگ کی شاہراہ کے کنارے رکھ کر چھوڑ دیا گیا۔ شہریوں کے مطابق بعد ازاں ان لاشوں کو کسی سرکاری یا فلاحی ایمبولینس کے بجائے ایک زمیاد (Zamyad) گاڑی میں لاڈ کر کے نامعلوم جگہ منتقل کیا گیا۔

واقعے کے حقائق جاننے اور لاشوں کی منتقلی کے حوالے سے پیدا ہونے والے سوالات پر مستونگ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم انہوں نے نہ تو فون کالز کا جواب دیا اور نہ ہی پیغامات کا کوئی ردِعمل سامنے آیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

قانون کی حکمرانی اور قومی یکجہتی سے ہی پاکستان کا دفاع و استحکام ممکن ہے: یومِ دفاع پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا پیغام

منصور احمد,September 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے یومِ دفاع و شہداء کے موقع پر افواجِ پاکستان کے شہداء، غازیوں اور موجودہ عسکری قیادت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 6 ستمبر ہماری قومی و سیکیورٹی تاریخ کا وہ سنہری اور یادگار دن ہے جب پوری قوم نے سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر غیر متزلزل قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق، اپنے ایک اہم اور تفصیلی قومی بیان میں وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 1965ء کی جنگ کے دوران پاکستان کی مسلح افواج کے افسران اور جوانوں نے دشمن کی عددی برتری کے مقابلے میں جس غیر معمولی جرات، پیش ورانہ عزم اور شجاعت کا مظاہرہ کیا، وہ ملکی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش باب ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہداء کی پاکیزہ قربانیاں اور غازیوں کا جذبہ آج بھی قوم کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وفاقی وزیر نے شہداء کے سوگوار اہل خانہ کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے اپنے پیاروں کی قربانی کے بعد بے مثال صبر اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر کے قوم کے سر کو فخر سے بلند رکھا۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پاکستان بنیادی طور پر ایک امن پسند ملک ہے جو خطے میں پائیدار امن، خوشحالی اور استحکام کے لیے مذاکرات، بین الاقوامی قوانین اور سفارتی ذرائع پر کامل یقین رکھتا ہے؛ تاہم ملک کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پوری قوم ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے باہم متحد اور پرعزم ہے۔

وزیرِ قانون نے زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی یکجہتی، جمہوری اقدار کی پاسداری، آئین و قانون کی حکمرانی اور مضبوط ریاستی ادارے ہی کسی بھی ملک کی حقیقی دفاعی اور معاشی خودمختاری کی بنیادی ضمانت ہوتے ہیں۔ انہوں نے پوری قوم پر زور دیا کہ ہم شہداء کی قربانیوں سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے ایک پرامن، قانون کی بالادستی پر مبنی اور خوشحال پاکستان کی تعمیر میں اپنا فعال قومی کردار ادا کریں۔

جنگیں ہتھیاروں سے نہیں، ایمان اور عزمِ محکم سے جیتی جاتی ہیں: یومِ دفاع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا پاک افواج کو زبردست خراجِ تحسین

کاشف عباسی , September 06,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے یومِ دفاعِ پاکستان (6 ستمبر) کے تاریخی موقع پر اپنے خصوصی اور تفصیلی پیغام میں پاک فوج کے تمام افسران، بہادر جوانوں، عظیم شہداء اور غازیوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا دفاع مکمل طور پر ناقابلِ تسخیر ہے اور قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق، وزیراعلیٰ مریم نواز نے اپنے پیغام میں کہا کہ پوری پاکستانی قوم کو اپنی نڈر اور پیشہ ور پاک فوج، پاک فضائیہ اور پاکستان نیوی کے کردار پر بے حد فخر ہے۔ انہوں نے آپریشن ردالفساد، ضربِ عضب اور دہشت گردی کے خلاف دیگر داخلی سیکیورٹی معرکوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاک افواج نے وطنِ عزیز سے عسکریت پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پیشہ ورانہ مہارت اور قربانی کے بالکل نئے اور اعلیٰ معیار قائم کیے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ تمام عوام دہشت گردی کے خلاف جاری اس طویل جنگ میں اگلی صفوں پر لڑنے والے افسروں اور جوانوں کی سلامتی اور کامیابی کے لیے ہمہ وقت دعا گو ہیں۔ انہوں نے 1965ء کے معرکے کی تاریخی حقیقت کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ پاک افواج نے دشمن کے دانت کھٹے کر کے ہمیشہ کے لیے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جنگیں محض ہتھیاروں، بارود اور عددی برتری سے نہیں بلکہ غیر متزلزل ایمان، شجاعت اور پکے یقین و جذبے کے ساتھ جیتی جاتی ہیں۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج کا پاکستان ایک ناقابلِ تسخیر دفاعی صلاحیت رکھنے والی تسلیم شدہ ایٹمی طاقت ہے، اور ملک کے عوام اپنی افواج اور خودمختاری پر پہلے سے کہیں زیادہ پراعتماد ہیں۔ دھرتی کی دفاعی سرحدوں پر سینہ سپر بہادر سپوت ہی ہماری قومی سلامتی کا اصل اثاثہ اور فخر ہیں۔

انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں پاکستان کو درپیش جیو پولیٹیکل چیلنجز اور اندرونی و بیرونی خطرات قوم سے بے مثال اتحاد اور یکجہتی کا تقاضا کرتے ہیں۔ ملک میں عدم استحکام اور انتشار پیدا کرنے والی دشمن قوتوں کے تمام مذموم عزائم کو پوری قومی طاقت، عزم اور اتفاق کے ساتھ ہر محاذ پر ناکام بنانا ہو گا۔