مناسکِ حج کا آغاز، لاکھوں فرزندانِ اسلام کی ’لبیک اللھم لبیک‘ کی صداؤں میں منیٰ روانگی

روزینہ اسماعیل.May 25,2026

مکہ مکرمہ: دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں عازمینِ حج نے روح پرور اور ایمان افروز ماحول میں مناسکِ حج کا باقاعدہ آغاز کر دیا، جہاں ’’لبیک اللھم لبیک‘‘ کی گونج کے ساتھ حجاجِ کرام خیموں کے شہر منیٰ کی جانب روانہ ہو گئے۔

رپورٹس کے مطابق بیرونِ ممالک سے آنے والے عازمین سمیت مجموعی طور پر 15 لاکھ سے زائد حجاج اس وقت مکہ مکرمہ میں موجود ہیں، جہاں سے قافلوں کی صورت میں منیٰ روانگی کا سلسلہ جاری ہے۔ احرام میں ملبوس فرزندانِ اسلام کی بڑی تعداد عبادات، تلبیہ اور دعاؤں میں مصروف دکھائی دے رہی ہے۔

عازمین آج کی رات منیٰ میں قیام کریں گے، جہاں وہ عبادات، ذکر و اذکار اور استغفار میں مشغول رہیں گے۔ کل 9 ذوالحجہ کو نمازِ فجر کے بعد تمام حجاج رکنِ اعظم وقوفِ عرفات کی ادائیگی کے لیے میدان عرفات روانہ ہوں گے، جہاں خطبۂ حج کے بعد ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی جائیں گی۔

سورج غروب ہونے کے بعد حجاج بغیر مغرب ادا کیے مزدلفہ روانہ ہوں گے، جہاں مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کرکے ادا کی جائیں گی اور رات کھلے آسمان تلے گزاری جائے گی۔

سعودی محکمہ موسمیات نے حج کے دوران شدید گرمی کے پیشِ نظر خصوصی الرٹ جاری کیا ہے۔ حکام کے مطابق مکہ مکرمہ، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں درجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ ہوا میں نمی کے باعث حبس کی کیفیت بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ گرد آلود ہواؤں کے امکانات کے باعث حجاج کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

سعودی حکام کی جانب سے عازمین کی سہولت کے لیے وسیع انتظامات کیے گئے ہیں، جن میں کولنگ فینز، سایہ دار راستے، پانی کے اسپرے سسٹمز، طبی مراکز اور ہنگامی امدادی ٹیمیں شامل ہیں۔ حکام کے مطابق اس سال تقریباً 30 فیصد حجاج ’’مکہ روٹ انیشی ایٹو‘‘ کے تحت جدید امیگریشن نظام کے ذریعے براہِ راست اور آسان طریقے سے سعودی عرب پہنچے۔

حج کے روحانی مناظر، دنیا بھر سے آئے مسلمانوں کا اتحاد اور مقدس مقامات پر عبادات کا یہ عظیم اجتماع امتِ مسلمہ کے اتحاد، امن اور بھائی چارے کی ایک خوبصورت تصویر پیش کر رہا ہے۔

ایران معاہدے پر جلد مثبت پیش رفت ہوگی، امریکہ کمزور ڈیل نہیں کرے گا: ڈونلڈ ٹرمپ

محمود احمد May25,2026

واشنگٹن/نیوز اینڈ نیوز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متعلق آئندہ دنوں میں مثبت خبر سامنے آنے کی توقع ہے، جبکہ امریکہ کسی بھی ایسی ڈیل پر آمادہ نہیں ہوگا جو اس کے مفادات کے خلاف ہو۔

امریکی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ زیرِ غور معاہدہ ابھی مکمل طور پر حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا، تاہم یہ معاہدہ ماضی کی پالیسیوں سے مختلف اور امریکہ کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہوگا۔

انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین اور معاہدے پر تنقید کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ بغیر حقائق جانے سوشل میڈیا اور میڈیا پر بے بنیاد تبصرے کر رہے ہیں، حالانکہ ابھی تک کسی نے اس مجوزہ معاہدے کی تفصیلات نہیں دیکھیں۔ ان کے مطابق ایسے عناصر صرف سیاسی مقاصد کے لیے تنقید کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے سابق امریکی حکومتوں کی خارجہ پالیسی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ باراک اوباما اور جو بائیڈن کی انتظامیہ اس معاملے کو بروقت حل کرنے میں ناکام رہی، جس کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت امریکی مفادات کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ریکارڈ اس بات کا گواہ ہے کہ وہ کبھی کمزور یا نقصان دہ معاہدے نہیں کرتے۔ ان کے بقول ایران سے متعلق معاملات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور اب یہ فیصلہ بڑی حد تک ایران کے طرزِ عمل اور آئندہ اقدامات پر منحصر ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ جاری سفارتی کوششیں خطے میں استحکام اور کشیدگی میں کمی کا سبب بن سکتی ہیں، تاہم امریکہ اپنے قومی مفادات اور سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا

گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر سمیت تمام مغوی افراد باحفاظت بازیاب

روزینہ اسماعیل.May 24,2026

گوادر /نیوز اینڈ نیوز

یونیورسٹی آف گوادر کے وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر سمیت یونیورسٹی کی اعلیٰ انتظامیہ اور عملے کے تمام مغوی افراد کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا، جس کے بعد وہ اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے۔ اس پیش رفت پر تعلیمی حلقوں، اساتذہ برادری اور طلبہ میں اطمینان اور خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

تفصیلات کے مطابق ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر سید منظور احمد، ڈاکٹر ارشاد بلیدی اور ان کے ڈرائیور حاتم بدل کی بحفاظت بازیابی پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے اس کامیاب کارروائی کو صوبائی حکومت، سیکیورٹی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ اداروں نے مربوط حکمت عملی، سنجیدہ کوششوں اور بروقت اقدامات کے ذریعے اس حساس معاملے کو کامیابی سے حل کیا۔

ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے اپنے بیان میں بلوچستان کی صوبائی حکومت، گورنر و وزیر اعلیٰ بلوچستان، وفاقی وزارت داخلہ، سول انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے کردار کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل مشن کی کامیابی تمام اداروں کے باہمی تعاون اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظہر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی آف گوادر کی اعلیٰ انتظامیہ کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات کے بعد ملک بھر کی جامعات اور اساتذہ برادری میں شدید تشویش پائی جاتی تھی، تاہم ان کی بحفاظت واپسی ایک خوش آئند اور حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔

چیئرمین ایچ ای سی نے اپنے پیغام میں دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ملک کے اساتذہ، محققین اور تعلیمی عملے کو ہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھے اور پاکستان کو امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن رکھے۔

فیفا نے ایران کی درخواست منظور کر لی، قومی فٹبال ٹیم کا ورلڈ کپ بیس کیمپ امریکہ سے میکسیکو منتقل

محمود احمد May24,2026

نیویارک/نیوز اینڈ نیوز

عالمی فٹبال تنظیم فیفا نے ایران کی درخواست منظور کرتے ہوئے ایرانی قومی فٹبال ٹیم کا ورلڈ کپ بیس کیمپ امریکہ کے بجائے میکسیکو منتقل کرنے کی اجازت دے دی۔ ایرانی فٹبال حکام کے مطابق ٹیم اب اپنی تیاریوں کیلئے میکسیکو کے سرحدی شہر تیخوانا میں قیام کرے گی، جو بحرالکاہل کے قریب اور امریکی سرحد سے متصل اہم شہر سمجھا جاتا ہے۔

ایران فٹبال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج نے ایرانی میڈیا کو بتایا کہ فیفا نے باضابطہ طور پر ایران کی درخواست منظور کر لی ہے، جس کے بعد قومی ٹیم کا پری ورلڈ کپ کیمپ اب امریکہ کے بجائے میکسیکو میں لگایا جائے گا۔ ان کے مطابق تیخوانا میں کیمپ قائم کرنے کا مقصد کھلاڑیوں کو بہتر اور نسبتاً پُرسکون ماحول فراہم کرنا ہے تاکہ ٹیم عالمی کپ کی تیاری مکمل توجہ کے ساتھ کر سکے۔

رپورٹس کے مطابق ایران کو گزشتہ کئی ماہ سے امریکہ میں سکیورٹی، سفری سہولیات اور ویزا معاملات کے حوالے سے مشکلات کا سامنا تھا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ رواں ماہ تک بھی متعدد کھلاڑیوں اور آفیشلز کو امریکی ویزے جاری نہیں کیے گئے تھے، جس کے باعث ٹیم انتظامیہ شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار تھی۔

واضح رہے کہ آئندہ فٹبال ورلڈ کپ 11 جون سے 19 جولائی تک امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں منعقد ہوگا۔ یہ تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ تین ممالک مشترکہ طور پر فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کریں گے۔

فٹبال مبصرین کے مطابق ایران کا کیمپ میکسیکو منتقل ہونا ٹیم کیلئے ایک اہم انتظامی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس فیصلے سے کھلاڑیوں کی نقل و حرکت، تربیتی شیڈول اور میچ تیاریوں میں آسانی پیدا ہوگی۔ دوسری جانب ایرانی شائقین بھی امید ظاہر کر رہے ہیں کہ ٹیم سیاسی اور سفری مسائل سے ہٹ کر مکمل توجہ کھیل پر مرکوز رکھ سکے گی

علیمہ خان نے محسن نقوی اور پی ٹی آئی قیادت کی خفیہ ملاقات کی تصدیق کر دی، فیملی لاعلم رہی

اسلام آباد/نیوز اینڈ نیوز

پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے پارٹی کی موجودہ قیادت اور وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے درمیان ہونے والی مبینہ خفیہ ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اہم ملاقات کے بارے میں خان خاندان کو مکمل طور پر لاعلم رکھا گیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں علیمہ خان نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور سہیل آفریدی کی وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے ملاقات سے متعلق نہ تو فیملی کو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی اس حوالے سے کسی قسم کی پیشگی اطلاع دی گئی۔

انہوں نے اس تاثر کو بھی سختی سے مسترد کیا کہ ملاقات میں عمران خان کے خاندان کا کوئی فرد شریک تھا۔ علیمہ خان کے مطابق اس ملاقات میں خان فیملی کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا اور نہ ہی خاندان کی جانب سے کسی کو اس کیلئے اختیار دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس تمام معاملے سے متعلق سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں مختلف چہ مگوئیاں کی جا رہی ہیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ خاندان کو اس ملاقات کے بارے میں مکمل بے خبری میں رکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حساس معاملات میں شفافیت اور اعتماد ضروری ہے، خاص طور پر جب معاملہ پارٹی قیادت اور حکومتی شخصیات کے درمیان رابطوں کا ہو۔

سیاسی مبصرین کے مطابق علیمہ خان کے اس بیان کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کے اندرونی معاملات اور پارٹی قیادت کے حکومتی رابطوں سے متعلق نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ بعض حلقے اس ملاقات کو سیاسی کشیدگی میں کمی لانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے اس پر تحفظات کا اظہار بھی سامنے آ رہا ہے۔

تاحال بیرسٹر گوہر، سہیل آفریدی یا وزارتِ داخلہ کی جانب سے اس ملاقات کی تفصیلات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔

بنوں میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں میں شدید جھڑپ، 25 دہشت گرد ہلاک، 4 افراد شہید

کاشف عباسی ,May 24 ,2026

بنوں/نیوز اینڈ نیوز

خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں کی تحصیل میریان کے علاقے براکزئی اخوند خیل میں ہفتہ کے روز پولیس، امن کمیٹی اور دہشت گردوں کے درمیان ہونے والی شدید جھڑپ میں کم از کم 25 دہشت گرد مارے گئے جبکہ متعدد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ کارروائی کے دوران دو پولیس اہلکاروں اور دو شہریوں نے جامِ شہادت نوش کیا جبکہ سات پولیس اہلکار اور تین شہری زخمی ہوگئے۔

پولیس حکام کے مطابق کارروائی اس وقت شروع کی گئی جب امن کمیٹی کو علاقے میں بڑی تعداد میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملی۔ اطلاع ملتے ہی بنوں پولیس نے فوری طور پر آپریشن شروع کیا جبکہ لکی مروت کی امن کمیٹی نے بھی پولیس کی مدد کیلئے علاقے میں پہنچ کر کارروائی میں حصہ لیا۔

ضلعی پولیس افسر یاسر آفریدی کے مطابق دہشت گردوں نے مختلف مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کر رکھی تھیں، تاہم پولیس نے شدید مزاحمت کے باوجود پیش قدمی جاری رکھی اور علاقے کا کنٹرول حاصل کرلیا۔ فائرنگ کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا جس کے دوران دو اہم دہشت گرد کمانڈر، زمری نور اور عبداللہ بھی مارے گئے۔

شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی شناخت وحید خان اور نور اللہ کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ شہید شہریوں میں ریٹائرڈ ایف سی اہلکار رئیب خان اور ناصر خان شامل ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق علاقے میں اب بھی بعض دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں جس کے باعث سیکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن جاری رکھا ہوا ہے جبکہ علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔

دوسری جانب بنوں پولیس نے ایک بڑی دہشت گردی کی کوشش بھی ناکام بنا دی۔ پولیس کے مطابق بنوں۔میرانشاہ روڈ پر ماما خیل کے قریب گل زمان مسجد کے نزدیک نصب 10 کلو وزنی ریموٹ کنٹرول بم کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکارہ بنا دیا گیا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے موقع پر پہنچ کر دھماکا خیز مواد کو محفوظ طریقے سے تلف کیا۔

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی اور علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

متعدد قتل کے مقدمات میں مسلسل عمر قید کی سزائیں برقرار، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

کاشف عباسی ,May 24 ,2026

اسلام آباد/نیوز اینڈ نیوز

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ایک سے زائد افراد کے قتل کے مقدمات میں عمر قید کی سزاؤں کو بیک وقت چلانا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے، کیونکہ اس سے متعدد جانیں لینے کے جرم کی سنگینی کم ہو جاتی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایک شخص اور کئی افراد کے قتل کو ایک ہی نوعیت کا جرم تصور نہیں کیا جا سکتا۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جسٹس محمد ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں مقدمے کی سماعت کی، جبکہ بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔ عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کے اُس فیصلے کو برقرار رکھا جس میں قیدی قیصر عباس کو دو خواتین کے قتل کے جرم میں دو الگ الگ عمر قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں اور حکم دیا گیا تھا کہ دونوں سزائیں یکے بعد دیگرے پوری کی جائیں گی۔

مقدمے کے مطابق قیصر عباس پر الزام تھا کہ اس نے جون 2011 میں لاہور کے علاقے علامہ اقبال ٹاؤن میں فائزہ بی بی اور ابیہ کو قتل کیا۔ پراسیکیوشن کے مطابق وقوعے سے ایک ماہ قبل مقتولہ فائزہ بی بی اور ملزم کی بہن کے درمیان جھگڑا ہوا تھا، جس کی رنجش پر یہ قتل کیے گئے۔

ٹرائل کورٹ نے شواہد اور گواہوں کی بنیاد پر ملزم کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302(b) کے تحت دو مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے بھی سزا برقرار رکھی، جس کے خلاف ملزم نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔

سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا مؤکل سزا کے خلاف نہیں بلکہ صرف اس بات کا خواہاں ہے کہ دونوں عمر قید کی سزائیں ایک ساتھ چلائی جائیں۔ وکیل نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 35(a) اور ماضی کے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک مقدمے میں ایک سے زیادہ عمر قید کی سزائیں مسلسل نہیں چل سکتیں۔

دوسری جانب سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جرم انتہائی سنگین اور سفاکانہ نوعیت کا تھا، اس لیے کسی رعایت کی گنجائش موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر متعدد قتل کے مقدمات میں سزائیں بیک وقت چلائی جائیں تو اس سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی اور جرم کی شدت کم محسوس ہوگی۔

اپنے تفصیلی فیصلے میں جسٹس محمد ہاشم کاکڑ نے قرار دیا کہ قانون کا بنیادی مقصد نہ صرف جرم کی سزا دینا بلکہ معاشرے میں انصاف اور توازن برقرار رکھنا بھی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر کئی افراد کے قتل پر صرف ایک ہی سزا مؤثر رہ جائے تو یہ اضافی جرائم کی اہمیت کو ختم کرنے کے مترادف ہوگا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ ہر انسانی جان کی الگ حیثیت اور وقعت ہے، لہٰذا متعدد قتل کے مقدمات میں ہر جرم کی سزا کو الگ انداز میں نافذ ہونا چاہیے تاکہ قانون کی عملداری اور انصاف کا تقاضا پورا ہو سکے۔

ایران جنگ میں امریکہ کو بڑا نقصان، 42 جنگی طیارے اور ڈرون تباہ یا متاثر ہونے کا انکشاف

کاشف عباسی ,May 24 ,2026

واشنگٹن /نیوز اینڈ نیوز

واشنگٹن: ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی “آپریشن ایپک فیوری” کے دوران امریکہ کو فضائی محاذ پر بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ امریکی کانگریس سے وابستہ غیرجانبدار تحقیقی ادارے کانگریشنل ریسرچ سروس (سی آر ایس) کی نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 40 روزہ جنگی مہم کے دوران امریکی فضائیہ کے 42 طیارے اور ڈرون تباہ، گر کر تباہ یا شدید متاثر ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق یہ فوجی مہم 28 فروری 2026 کو شروع ہوئی تھی اور اس دوران لڑاکا طیاروں، نگرانی کرنے والے جہازوں، ایندھن بردار طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور جدید ڈرونز کو مختلف نوعیت کے نقصانات پہنچے۔ امریکی محکمہ دفاع نے اب تک نقصانات کی مکمل سرکاری تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم سی آر ایس کی رپورٹ کو اب تک کی سب سے جامع عوامی دستاویز قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی میڈیا، دفاعی جریدوں اور عسکری مبصرین کے مطابق رپورٹ میں شامل معلومات پینٹاگون کے بیانات، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی تفصیلات اور مختلف جنگی رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہیں۔ رپورٹ کو امریکی کانگریس میں بھی خاص توجہ حاصل ہوئی ہے کیونکہ اس میں پہلی مرتبہ جنگی اخراجات اور نقصانات کی تفصیلی تصویر سامنے آئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کے جدید ترین ایف 15 ای اسٹرائیک ایگل لڑاکا طیاروں میں سے چار شدید متاثر ہوئے۔ ان میں سے تین طیارے مبینہ طور پر کویت کی فضائی حدود میں “فرینڈلی فائر” کا نشانہ بنے، جبکہ ایک ایف 15 ای ایران کے اندر جنگی کارروائی کے دوران تباہ ہوا۔ خوش قسمتی سے ان تمام واقعات میں پائلٹس نے بروقت ایجیکٹ کر کے جان بچالی۔

اسی طرح ایک جدید ایف 35 اے اسٹیلتھ فائٹر جیٹ کو بھی ایرانی زمینی دفاعی نظام سے نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی فضائیہ کا اے 10 تھنڈربولٹ حملہ آور طیارہ 3 اپریل کو دشمن کی فائرنگ کے باعث تباہ ہوا، تاہم اس کا پائلٹ محفوظ رہا۔

امریکی حکام کے مطابق جنگی اخراجات میں غیرمعمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پینٹاگون کے قائم مقام کمپٹرولر جولز ڈبلیو ہرسٹ نے کانگریس میں بریفنگ کے دوران بتایا کہ ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں پر اب تک تقریباً 29 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جن میں بڑی رقم تباہ یا متاثر ہونے والے عسکری سازوسامان کی مرمت اور تبدیلی پر خرچ کی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ ایران کے دفاعی نظام نے امریکی فضائی آپریشنز کیلئے غیر متوقع چیلنجز پیدا کیے۔ ایرانی میزائل سسٹمز، ڈرون حملوں اور فضائی نگرانی کے جدید نیٹ ورک نے کئی مواقع پر امریکی کارروائیوں کو متاثر کیا، جس کے باعث امریکی فوج کو اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلیاں کرنا پڑیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ جنگ جدید فضائی جنگی حکمتِ عملی، ڈرون ٹیکنالوجی اور میزائل دفاعی نظام کے حوالے سے ایک اہم موڑ ثابت ہو رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ کو عسکری برتری حاصل رہی، لیکن ایران نے محدود وسائل کے باوجود سخت مزاحمت کر کے واشنگٹن کو بھاری مالی اور تکنیکی نقصان پہنچایا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس رپورٹ کے بعد امریکی کانگریس میں جنگی اخراجات، مشرقِ وسطیٰ کی پالیسی اور فوجی مداخلتوں پر نئی بحث شروع ہونے کا امکان ہے، جبکہ امریکی عوام میں بھی اس جنگ کی قیمت اور نتائج پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایران کا اہم دورہ مکمل، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی کوششوں میں پیش رفت

منصور احمد ,May 24,2026

راولپنڈی/نیوز اینڈ نیوز

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران کا مختصر مگر انتہائی اہم اور نتیجہ خیز سرکاری دورہ مکمل کر لیا، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں۔ یہ دورہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور جاری سفارتی ثالثی کی کوششوں کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی، جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والے چیلنجز اور امن کے قیام کیلئے جاری سفارتی عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ملاقاتوں میں اس بات پر زور دیا گیا کہ خطے میں پائیدار امن، سفارتی رابطوں، مذاکرات اور باہمی اعتماد کے فروغ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ فریقین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ کسی بھی نئی محاذ آرائی سے پورے خطے کے امن و استحکام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اس لیے تمام تنازعات کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی قیادت سے ہونے والی بات چیت مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئی، جس نے جاری ثالثی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ہونے والی مشاورت کو انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق مذاکرات اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے، آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی برقرار رکھنے اور ایران و امریکہ کے درمیان کسی ممکنہ تصادم کو روکنے کیلئے سرگرم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان مختلف علاقائی اور عالمی فریقین سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

ایرانی قیادت نے بھی پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے خطے میں امن کے فروغ کیلئے اسلام آباد کے کردار کو اہم قرار دیا۔ ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، سرحدی تعاون، علاقائی سلامتی، اقتصادی روابط اور مشترکہ مفادات کے دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ دورہ نہ صرف پاکستان اور ایران کے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا بلکہ خطے میں جاری سفارتی کوششوں کو بھی نئی سمت فراہم کرے گا۔

ایک روز میں 274 کوہ پیماؤں نے ماؤنٹ ایورسٹ سر کر کے نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا

کٹھمنڈو/ نیوز اینڈ نیوز
نیپال میں موسم سازگار ہوتے ہی دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ پر غیر معمولی سرگرمی دیکھنے میں آئی، جہاں صرف ایک ہی روز میں 274 کوہ پیماؤں نے کامیابی کے ساتھ چوٹی سر کر کے عالمی ریکارڈ قائم کر دیا۔ یہ نیا ریکارڈ اس سے قبل 2019 میں قائم ہونے والے ریکارڈ سے بھی آگے نکل گیا، جب ایک دن میں 223 کوہ پیما ایورسٹ کی چوٹی تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

نیپالی حکام اور ایکسپیڈیشن کمپنیوں کے مطابق رواں سیزن میں حکومتِ نیپال کی جانب سے تقریباً 500 کلائمبنگ پرمٹ جاری کیے گئے، جس کے باعث ایورسٹ پر دنیا بھر سے آنے والے کوہ پیماؤں کا بڑا رش دیکھنے میں آیا۔ بلند ترین حصوں، خصوصاً 8 ہزار میٹر سے اوپر کے خطرناک “ڈیتھ زون” میں بھی کوہ پیماؤں کی طویل قطاریں دیکھی گئیں، جہاں آکسیجن کی شدید کمی کے باعث ہر قدم انتہائی خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم کی مختصر سازگار ونڈو کے دوران زیادہ سے زیادہ ٹیمیں چوٹی سر کرنے کی کوشش کرتی ہیں، اسی وجہ سے ایک ہی دن میں اتنی بڑی تعداد میں کوہ پیماؤں نے ایورسٹ کی جانب پیش قدمی کی۔ اگرچہ یہ ریکارڈ کوہ پیمائی کی تاریخ میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین نے بڑھتے ہوئے رش، ماحولیاتی دباؤ اور حفاظتی خدشات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

رواں سیزن کے دوران کئی انفرادی ریکارڈز بھی قائم ہوئے۔ معروف نیپالی شیرپا گائیڈ کیمی ریتا شیرپا نے 32ویں بار ماؤنٹ ایورسٹ سر کر کے اپنا ہی عالمی ریکارڈ مزید بہتر بنا لیا۔ انہیں دنیا میں سب سے زیادہ مرتبہ ایورسٹ سر کرنے والا کوہ پیما سمجھا جاتا ہے، اور ان کی کامیابی کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔

اسی طرح 52 سالہ لکھپا شیرپا نے 11ویں مرتبہ ایورسٹ سر کر کے خواتین کے زمرے میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ ان کی کامیابی کو خواتین کوہ پیماؤں کے لیے ایک بڑی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب روس سے تعلق رکھنے والے دونوں ٹانگوں سے محروم کوہ پیما رستم نبیئیف نے بھی غیر معمولی جرات اور عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف ہاتھوں کے سہارے ماؤنٹ ایورسٹ سر کر لیا۔ ان کی یہ کامیابی دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بن گئی ہے اور سوشل میڈیا پر لاکھوں افراد ان کی ہمت کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔

نیپال کی سیاحت کی صنعت کے لیے ایورسٹ سیزن انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ہر سال ہزاروں غیر ملکی سیاح اور کوہ پیما یہاں آتے ہیں، جس سے ملکی معیشت کو کروڑوں ڈالر کا فائدہ ہوتا ہے۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث مستقبل میں حفاظتی اقدامات کو مزید سخت بنانے کی ضرورت ہوگی تاکہ انسانی جانوں کو لاحق خطرات کم کیے جا سکیں۔

ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے 2 بھارتی کوہ پیما واپسی پر جان کی بازی ہار گئے

محمود احمد May23,2026

کٹھمنڈو/ نیوز اینڈ نیوز
دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے دو بھارتی کوہ پیما واپسی کے دوران ہلاک ہو گئے، جبکہ رواں سیزن میں ایورسٹ پر بڑھتی سرگرمیوں کے باعث کوہ پیماؤں کی حفاظت سے متعلق خدشات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔

نیپالی حکام کے مطابق بھارتی کوہ پیما ارون تیواری اور سندیپ آرے نے کامیابی کے ساتھ ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی سر کی، تاہم واپسی کے سفر میں شدید تھکن، خراب موسمی حالات اور جسمانی کمزوری کے باعث دونوں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

ایکسپیڈیشن آپریٹرز ایسوسی ایشن نیپال کے سیکریٹری جنرل رشی بھنڈاری کے مطابق سندیپ آرے کو “بالکونی” کے مقام سے “ساؤتھ کول” تک منتقل کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن وہ راستے میں دم توڑ گئے۔ دوسری جانب ارون تیواری “ہلیری اسٹیپ” کے قریب شدید جسمانی تھکن کا شکار ہوئے، جہاں موجود چار شیرپا گائیڈز نے انہیں بچانے کی بھرپور کوشش کی، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔

ماہرین کے مطابق ماؤنٹ ایورسٹ پر واپسی کا مرحلہ سب سے زیادہ خطرناک تصور کیا جاتا ہے کیونکہ چوٹی سر کرنے کے بعد آکسیجن کی کمی، سخت موسم اور جسمانی توانائی ختم ہونے کے باعث حادثات کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔

نیپال کی سیاحتی اتھارٹی کے مطابق رواں سال ایورسٹ سر کرنے کے لیے غیر معمولی تعداد میں اجازت نامے جاری کیے گئے ہیں۔ صرف ایک روز میں ریکارڈ 274 کوہ پیما دنیا کی بلند ترین چوٹی تک پہنچنے میں کامیاب رہے، جبکہ مجموعی طور پر اس سال تقریباً 500 پرمٹ جاری کیے گئے، جو 1953 کے بعد بلند ترین تعداد قرار دی جا رہی ہے۔

کوہ پیمائی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایورسٹ پر بڑھتی ہوئی رش، محدود موسمی وقت اور بلند مقامات پر انسانی دباؤ مستقبل میں مزید خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔ انہوں نے نیپالی حکام پر زور دیا ہے کہ کوہ پیماؤں کی تعداد، حفاظتی اقدامات اور ریسکیو سہولیات کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ انسانی جانوں کے ضیاع سے بچا جا سکے۔

ایران سے معاہدے یا دوبارہ جنگ؟ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار تک فیصلہ کرنے کا عندیہ دے دیا

محمود احمد May23,2026

واشنگٹن / نیوز اینڈ نیوز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے امکانات “ففٹی ففٹی” ہیں اور آئندہ چند روز میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ سفارتی راستہ اختیار کیا جائے یا دوبارہ سخت فوجی کارروائی کی جانب بڑھا جائے۔

امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ایک انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور وہ اپنی ٹیم کے ساتھ مشاورت کے بعد اتوار تک اہم فیصلہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں دو ہی امکانات موجود ہیں، یا ایک مضبوط اور مؤثر معاہدہ طے پا جائے گا یا پھر خطے میں شدید کشیدگی اور ممکنہ بمباری کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ صرف ایسے معاہدے کو قبول کرے گا جس میں ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام اور ذخائر سے متعلق تمام معاملات مکمل طور پر طے کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نہیں ہوگا جس سے ایران کو مستقبل میں جوہری صلاحیت بڑھانے کا موقع ملے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی مذاکراتی ٹیم اور قریبی مشیروں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں تاکہ ایران کی حالیہ تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق امریکہ اس وقت سفارتی حل کو ترجیح دے رہا ہے، تاہم تمام آپشنز بدستور میز پر موجود ہیں۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کی عسکری صلاحیت پہلے کے مقابلے میں کمزور ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کی گئی بعض پوسٹس بھی عالمی توجہ کا مرکز بن گئیں۔ صدر ٹرمپ نے امریکی پرچم کے رنگوں سے مزین ایران کا ایک نقشہ شیئر کیا، جس پر “یونائیٹڈ اسٹیٹس آف مڈل ایسٹ” کا جملہ تحریر تھا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس پوسٹ کو خطے میں جاری سفارتی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

اسی دوران ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے عالمی سطح پر قیاس آرائیاں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ خلیجی ممالک، یورپی سفارتی حلقے اور کئی بین الاقوامی طاقتیں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ آبنائے ہرمز اور مشرقِ وسطیٰ میں کسی بڑے فوجی تصادم سے بچا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے چند روز امریکہ اور ایران تعلقات کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو خطے میں ایک نئی کشیدگی جنم لینے کا خدشہ موجود ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

پاکستانی ثالثی کوششوں پر قطر اور امریکہ میں اہم مشاورت، امیرِ قطر اور صدر ٹرمپ کا خطے میں کشیدگی کم کرنے پر زور

محمود احمد May23,2026

دوحہ / نیوز اینڈ نیوز

دوحہ: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی تناؤ اور خلیجی خطے کی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، عالمی تجارتی راستوں کے تحفظ اور پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی و ثالثی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

قطری وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کو کسی بڑے تصادم سے بچانے، سفارتی رابطوں کو مؤثر بنانے اور خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر پاکستان کی قیادت میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری بیک ڈور سفارت کاری اور اعتماد سازی کی کوششوں کو بھی خاص اہمیت دی گئی۔

ذرائع کے مطابق امیرِ قطر اور امریکی صدر نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ حالات میں جنگ یا عسکری محاذ آرائی کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں، اس لیے مسائل کا حل مذاکرات، سفارت کاری اور مسلسل رابطوں کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ دونوں رہنماؤں نے اس امر پر زور دیا کہ خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان سمیت دیگر دوست ممالک کے کردار کو مزید فعال اور مؤثر بنایا جائے۔

ٹیلیفونک گفتگو میں ایران اور امریکہ کے درمیان پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خلیجی سمندری راستوں کی سیکیورٹی پر بھی تفصیلی مشاورت کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ عالمی تجارت، تیل و گیس کی ترسیل اور بین الاقوامی بحری سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے ضروری ہے کہ خطے میں استحکام برقرار رکھا جائے اور کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی سے گریز کیا جائے۔

امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے اس موقع پر کہا کہ قطر ہمیشہ سے تنازعات کے سیاسی اور پرامن حل پر یقین رکھتا آیا ہے اور موجودہ صورتحال میں بھی دوحہ خطے کے امن کے لیے ہر ممکن سفارتی کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد سازی کی کوششوں کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے کے استحکام کے لیے تمام ذمہ دار ممالک کو مشترکہ حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔

اعلامیے کے مطابق گفتگو میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ آبنائے ہرمز سمیت تمام اہم بحری راستوں پر تجارتی اور غیر فوجی جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنایا جائے تاکہ عالمی معیشت متاثر نہ ہو۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تناؤ کے باعث قطر، پاکستان، چین اور دیگر علاقائی ممالک مسلسل سفارتی رابطوں میں مصروف ہیں تاکہ کسی ممکنہ بحران کو روکنے کے لیے قابلِ عمل راستہ نکالا جا سکے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کی ایران اور دیگر خلیجی ممالک سے ملاقاتوں کو بھی اسی سفارتی کوشش کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

امیرِ قطر اور صدر ٹرمپ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خطے میں پائیدار امن، اقتصادی استحکام اور عالمی تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھی جائیں گی اور تمام تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی حمایت کی جائے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف چین پہنچ گئے، ہانگژو آمد پر پرتپاک استقبال، اہم ملاقاتوں اور اقتصادی مصروفیات کا آغاز

کاشف عباسی ,May 23 ,2026

ہانگژو / نیوز اینڈ نیوز

وزیراعظم شہباز شریف اپنے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ چین کے شہر ہانگژو پہنچ گئے، جہاں ژجیانگ صوبے کی اعلیٰ قیادت اور دونوں ممالک کے سفارتی حکام نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ وزیراعظم کے دورۂ چین کو پاکستان اور چین کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری، اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

شیاؤ شین ائیرپورٹ پر وزیراعظم شہباز شریف کا استقبال ژجیانگ صوبے کے نائب گورنر شو وینگوانگ، چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی اور پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائیڈونگ نے کیا۔ اس موقع پر چینی حکام اور سفارتی عملے کی جانب سے وزیراعظم اور پاکستانی وفد کے اعزاز میں خصوصی استقبالی انتظامات بھی کیے گئے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم اپنے دورے کے دوران چینی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے جن میں دوطرفہ تعلقات، سی پیک کے دوسرے مرحلے، تجارت، سرمایہ کاری، صنعتی تعاون، زرعی ترقی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور توانائی کے شعبوں میں اشتراک پر تفصیلی گفتگو ہوگی۔

دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف مختلف صنعتی و تجارتی اداروں کا دورہ بھی کریں گے جبکہ پاکستانی وفد کو جدید چینی صنعتی ماڈلز، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے متعلق بریفنگ دی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دورے میں کئی اہم معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی متوقع ہیں۔

حکومتی حکام کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ دوستی کو مزید مستحکم بنانے، صنعتی ترقی کو فروغ دینے اور اقتصادی تعاون کے نئے دروازے کھولنے کے لیے یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اپنے دورے کے دوران چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دیں گے اور حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات سے آگاہ کریں گے۔

راولپنڈی میں بڑی کارروائی، گھریلو ملازمین چوری کے الزام میں گرفتار، ڈیڑھ کروڑ کا سامان برآمد

منصور احمد ,May 23,2026

راولپنڈی / نیوز اینڈ نیوز

راولپنڈی پولیس نے گھر میں چوری کی بڑی واردات میں ملوث دو گھریلو ملازمین کو گرفتار کر کے ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کا سامان اور نقدی برآمد کر لی۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے چند روز قبل گھر والوں کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے واردات کی اور قیمتی سامان لے کر فرار ہو گئے تھے۔

پولیس ترجمان کے مطابق ملزمان کی گرفتاری ٹیکنیکل اور ہیومن انٹیلیجنس کی مدد سے عمل میں لائی گئی، جبکہ ان کے قبضے سے طلائی زیورات، غیر ملکی و ملکی کرنسی، قیمتی گھڑیاں اور دیگر سامان برآمد کیا گیا۔

برآمد ہونے والے سامان میں 6 طلائی انگوٹھیاں، 6 کانٹے اور جوڑیاں، 5 کڑے، ہار، بریسلٹ اور دیگر زیورات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 7 ہزار 865 درہم، 5 ہزار 500 امریکی ڈالر، 355 برطانوی پاؤنڈ اور 48 لاکھ 4 ہزار 500 روپے نقدی بھی برآمد کی گئی۔ پولیس نے ملزمان سے 11 قیمتی گھڑیاں بھی تحویل میں لے لی ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان واردات کے بعد روپوش ہو گئے تھے، تاہم جدید ٹیکنالوجی اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر انہیں ٹریس کر کے گرفتار کیا گیا۔ ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ ممکنہ طور پر دیگر وارداتوں کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی جا سکیں۔

سی پی او راولپنڈی سید خالد محمود ہمدانی نے کامیاب کارروائی پر پولیس ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ شہری گھریلو ملازمین کی مکمل تصدیق اور اندراج لازمی کروائیں۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کا ریکارڈ متعلقہ تھانے، خدمت مرکز یا پنجاب پولیس ایپ کے ذریعے درج کروانے سے جرائم کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔

پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گھروں میں کام کرنے والے ملازمین کی شناختی معلومات اور بائیو ڈیٹا کی تصدیق ضرور کریں تاکہ ایسے ناخوشگوار واقعات سے محفوظ رہا جا سکے۔

پاکستان اور چین کے درمیان صنعتی تعاون میں پیشرفت، چانگژو میں اہم معاہدے اور سرمایہ کاری پر گفتگو

منصور احمد ,May 23,2026

چانگژو، چین/ نیوز اینڈ نیوز

حکومتِ پاکستان نے چین کے ساتھ صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اہم پیشرفت کرتے ہوئے چینی صنعتی اداروں اور مقامی حکام کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کی ہیں۔ یہ پیشرفت وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان اور وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کے چین کے صوبہ جیانگسو کے صنعتی شہر چانگژو کے دورے کے دوران سامنے آئی۔

پاکستانی وفد نے معروف چینی کمپنی Star Charge کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا، جہاں وفد کو الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ انفراسٹرکچر، اسمارٹ انرجی سسٹمز، توانائی ذخیرہ کرنے کی جدید ٹیکنالوجی اور کلاؤڈ بیسڈ انرجی مینجمنٹ پلیٹ فارمز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کمپنی اس وقت دنیا کے 60 سے زائد ممالک میں اپنی خدمات فراہم کر رہی ہے۔

ملاقات کے دوران پاکستان میں الیکٹرک وہیکل انفراسٹرکچر، اسمارٹ انرجی منصوبوں اور مقامی صنعتی پیداوار کے امکانات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وفد کو پاکستان میں کمپنی کے مجوزہ مقامی دفتر، صنعتی توسیعی منصوبوں اور سرمایہ کاری حکمتِ عملی سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔

پاکستانی وفد نے بعد ازاں Changfa Group کا بھی دورہ کیا، جو زرعی اور صنعتی مشینری کی تیاری میں چین کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس موقع پر کنگز برج وینچرز اور چانگفا گروپ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس کے تحت پاکستان میں زرعی اور صنعتی مشینری کی مقامی تیاری، تکنیکی تعاون اور جدید مینوفیکچرنگ منصوبوں کے فروغ پر کام کیا جائے گا۔

چینی حکام اور پاکستانی وفد کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں پاکستان کی صنعتی جدیدکاری، برآمدات میں اضافے، سرمایہ کاری کے فروغ اور ٹیکنالوجی کے تبادلے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مستقبل میں صنعتی روابط، مشترکہ منصوبوں اور مینوفیکچرنگ شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔

دورے کے دوران چانگژو کے میئر ژو وی اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی پاکستانی وفد کا استقبال کیا اور چین کے صنعتی ترقیاتی ماڈل، سرمایہ کاری سہولت کاری اور جدید صنعتی پالیسیوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔

ہارون اختر خان نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری اور صنعتی شراکت داری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی تعاون پاکستان کی معیشت، مینوفیکچرنگ شعبے اور ٹیکنالوجی کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا، جبکہ اس سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

خوشدل شاہ نے آسٹریلیا سیریز کے لیے قومی اسکواڈ کے انتخاب پر سوالات اٹھا دیے

منصور احمد ,May 23,2026

لاہور/ نیوز اینڈ نیوز

پاکستان کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر خوشدل شاہ نے آسٹریلیا کے خلاف آئندہ ون ڈے سیریز کے لیے قومی اسکواڈ کے انتخاب پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سلیکشن پالیسی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے حال ہی میں آسٹریلیا کے خلاف 30 مئی سے 4 جون تک کھیلی جانے والی ون ڈے سیریز کے لیے 16 رکنی اسکواڈ کا اعلان کیا گیا تھا، جس کی قیادت شاہین شاہ آفریدی کو سونپی گئی ہے۔ اسکواڈ میں بابر اعظم، شاداب خان اور نسیم شاہ کی واپسی بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ نوجوان کھلاڑی احمد دانیال، عرفات منہاس اور روحیل نذیر کو پہلی مرتبہ ون ڈے اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ وکٹ کیپر محمد غازی غوری کو بھی موقع دیا گیا ہے۔ دوسری جانب سابق کپتان محمد رضوان کو ٹیم سے باہر کیے جانے پر کرکٹ حلقوں میں بحث جاری ہے۔

خوشدل شاہ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ قومی ٹیم کے انتخاب میں تسلسل اور واضح حکمتِ عملی ضروری ہوتی ہے تاکہ کھلاڑیوں اور شائقین دونوں کو اعتماد مل سکے۔ انہوں نے نوجوان کھلاڑیوں کو مستقل مواقع دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ٹیم میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں تو اس کا واضح مقصد اور سمت بھی سامنے آنی چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف سیریز نوجوان کرکٹرز کو آزمانے اور مستقبل کے کمبینیشن تیار کرنے کا ایک اہم موقع ہو سکتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی ٹیم کے انتخاب میں کارکردگی، تسلسل اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ پاکستان کرکٹ مضبوط بنیادوں پر آگے بڑھ سکے۔

کرکٹ شائقین اور تجزیہ کار بھی قومی اسکواڈ کے بعض فیصلوں پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ آسٹریلیا کے خلاف سیریز کو نئی قیادت اور نئے کمبینیشن کے لیے ایک اہم امتحان قرار دیا جا رہا ہے

پام وسٹا ہاؤسنگ اسکینڈل کا مرکزی ملزم متحدہ عرب امارات سے گرفتار، پاکستان حوالگی کی تیاری شروع

کاشف عباسی ,May 23 ,2026

لاہور/ نیوز اینڈ نیوز

: اربوں روپے کے پام وسٹا ہاؤسنگ اسکینڈل میں مطلوب مرکزی ملزم محمد قاسم خان کو متحدہ عرب امارات میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گرفتاری انٹرپول، پاکستانی حکام اور متحدہ عرب امارات کی متعلقہ ایجنسیوں کے باہمی تعاون سے عمل میں آئی، جبکہ ملزم کو ابوظہبی میں حراست میں لے کر مقامی حکام کے سامنے پیش کیا گیا۔

قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور کے مطابق محمد قاسم خان ایک بڑے مالیاتی اور ہاؤسنگ فراڈ کیس میں مطلوب تھا، جس میں شہریوں کو جعلی ہاؤسنگ منصوبے، منافع کے جھوٹے وعدوں اور غیرقانونی پلاٹوں کی فروخت کے ذریعے اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد اس کی بیرونِ ملک نقل و حرکت پر نظر رکھی جا رہی تھی۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے ملزم کی حوالگی کے لیے باضابطہ قانونی دستاویزات طلب کر لی ہیں تاکہ اسے پاکستانی حکام کے حوالے کیا جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور قانونی رابطے تیز کر دیے گئے ہیں اور جلد حوالگی کا عمل مکمل ہونے کا امکان ہے۔

نیب حکام کے مطابق پام وسٹا ہاؤسنگ اسکینڈل میں کم از کم 295 متاثرین سامنے آئے، جنہیں مجموعی طور پر ایک ارب 40 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچا۔ متاثرین کا مؤقف ہے کہ ہاؤسنگ سوسائٹی کے پاس محدود اراضی ہونے کے باوجود سینکڑوں اضافی پلاٹ فروخت کیے گئے، جبکہ سرمایہ کاری پر غیرمعمولی منافع کے لالچ دے کر شہریوں سے بھاری رقوم وصول کی گئیں۔

متاثرین نے الزام عائد کیا کہ ملزمان نے ایک منظم پونزی اسکیم کے تحت لوگوں کو سرمایہ کاری پر منافع کی ادائیگی کے وعدے کیے، تاہم بعد ازاں منصوبہ بند طریقے سے رقم لے کر غائب ہو گئے۔ متعدد متاثرہ شہری گزشتہ دو برس سے نیب لاہور کے باہر احتجاج اور انصاف کے مطالبات کرتے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل پام وسٹا ہاؤسنگ اسکیم کے دو دیگر ڈائریکٹرز محمود طارق اور عامر عظیم کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ محمد قاسم خان بیرونِ ملک سے مبینہ طور پر اپنے نیٹ ورک کو چلا رہا تھا۔

نیب لاہور کے ایک سینئر پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر بڑھتے ہوئے قانونی تعاون اور انٹرپول کے مؤثر کردار کے باعث مالیاتی جرائم میں ملوث افراد کے لیے بیرونِ ملک پناہ لینا اب مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق پنجاب بھر میں جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیز اور سرمایہ کاری فراڈ کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کیا جا رہا ہے۔

نشتر اسپتال میں ایچ آئی وی اسکریننگ رپورٹ کے بغیر آپریشن، سینئر رجسٹرار سمیت 10 طبی عملہ معطل

کاشف عباسی ,May 23 ,2026

لاہور/ نیوز اینڈ نیوز

نشتر اسپتال کی انتظامیہ نے ایک مریض کا ایچ آئی وی اسکریننگ ٹیسٹ موصول ہونے سے قبل آپریشن کیے جانے کے معاملے پر سخت کارروائی کرتے ہوئے سینئر رجسٹرار، پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹروں اور ایک چارج نرس سمیت 10 طبی اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے، جبکہ محکمہ صحت پنجاب نے بھی ذمہ دار افراد کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی شروع کر دی ہے۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق 19 مئی کو وارڈ نمبر 5 کے آپریشن تھیٹر نمبر 17 میں ایک مریض کی پیٹ کی سرجری اس وقت کی گئی جب اس کی ایچ آئی وی اسکریننگ رپورٹ ابھی موصول نہیں ہوئی تھی۔ اس معاملے کو اسپتال کی جانب سے سنگین غفلت، بدانتظامی اور حفاظتی ایس او پیز کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔

معطل کیے جانے والوں میں ڈاکٹر نعیم اختر، ڈاکٹر علی جان، ڈاکٹر ایفا قمر، ڈاکٹر سید محمد آصف، ڈاکٹر عبیر فاطمہ، ڈاکٹر ابوذر، ڈاکٹر عمر، ڈاکٹر سامعہ اور چارج نرس رضا زہرا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سینئر رجسٹرار سرجری ڈاکٹر فاریہ احمد اور میڈیکل آفیسر ڈاکٹر شہباز انور کو بھی ناقص انتظامی امور اور غفلت کے الزامات پر معطل کر دیا گیا ہے۔

محکمہ صحت پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ڈاکٹروں کی تربیتی پروگرامز بھی عارضی طور پر روک دیے ہیں، جن میں ایف سی پی ایس اور ایم ایس جنرل سرجری پروگرام شامل ہیں۔ تمام معطل اہلکاروں کو اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں رپورٹ کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

اسپتال کے ترجمان راؤ نوشاد کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ متعلقہ مریض آپریشن تھیٹر میں آخری مریض تھا، اس لیے استعمال ہونے والے آلات کسی دوسرے مریض پر استعمال نہیں کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ آپریشن کے بعد تمام آلات اور آپریشن تھیٹر کو مکمل طور پر جراثیم سے پاک کیا گیا۔

ترجمان کے مطابق مریض کا ابتدائی ایچ آئی وی ٹیسٹ مثبت آیا تھا، جس کے بعد نمونے مزید تصدیق کے لیے لاہور بھجوائے گئے ہیں اور پی سی آر رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دیگر مریضوں کو ایچ آئی وی منتقل ہونے کے خدشات کی خبریں تاحال غیر مصدقہ ہیں۔

واقعے کی تحقیقات کے لیے چار رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جس کی سربراہی ڈاکٹر لبنیٰ اعظم کر رہی ہیں۔ کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ ذمہ داروں کا تعین کر کے اپنی رپورٹ فوری طور پر پیش کرے۔

یاد رہے کہ ماضی میں بھی نشتر اسپتال کو انفیکشن کنٹرول اور ڈائلیسز یونٹ میں مبینہ غفلت کے باعث تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پنجاب کے وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے واضح کیا ہے کہ مریضوں کے علاج میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف؛ لیبیا کی خودمختاری، سیاسی استحکام اور انصاف کے یکساں نظام کی بھرپور حمایت

محمود احمد May23,2026

نیویارک/ نیوز اینڈ نیوز

اقوامِ متحدہ: پاکستان نے ایک بار پھر لیبیا کی خودمختاری، قومی وحدت اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ لیبیا میں پائیدار امن، سیاسی استحکام اور قومی مفاہمت کا واحد راستہ لیبیا کی قیادت اور ملکیت میں جاری سیاسی عمل ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں لیبیا اور بین الاقوامی فوجداری عدالت سے متعلق اہم اجلاس کے دوران اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو لیبیا میں امن کے قیام، ادارہ جاتی استحکام اور انصاف کے شفاف نظام کے فروغ کے لیے تعمیری کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی نائب پراسیکیوٹر نزہت شمیم خان کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ رپورٹ میں لیبیا سے متعلق تحقیقات، عدالتی تعاون اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ روابط میں پیش رفت ایک اہم پیشرفت ہے۔

پاکستانی مندوب نے اس بات کو خاص طور پر سراہا کہ لیبیا کی صورتحال میں پہلی مرتبہ ایک مشتبہ شخص کو عالمی عدالت کے حوالے کیا گیا، جس کے بعد ابتدائی عدالتی کارروائی کا آغاز ہوا۔ انہوں نے کہا کہ احتساب کا عمل صرف قانونی کارروائی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے قومی مفاہمت، سیاسی استحکام اور امن کے وسیع تر مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے زور دیا کہ بین الاقوامی احتسابی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے انصاف، غیرجانبداری، شفافیت اور یکساں طرزِ عمل ناگزیر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عالمی قوانین کا اطلاق تمام ممالک پر مساوی بنیادوں پر ہونا چاہیے اور کسی بھی معاملے میں انتخابی یا امتیازی رویہ بین الاقوامی نظام کے اعتماد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان روم اسٹیچوٹ کا فریق نہیں، تاہم پاکستان سنگین بین الاقوامی جرائم کے خلاف مؤثر، شفاف اور غیرجانبدار احتساب کے اصول کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی انصاف کا نظام اسی وقت مؤثر ثابت ہوسکتا ہے جب اس کا اطلاق سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر کیا جائے۔

پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 1970 پر عملدرآمد کے لیے بین الاقوامی فوجداری عدالت اور لیبیائی حکام کے درمیان تعاون اہم ہے، تاہم اس عمل میں لیبیا کی عدالتی خودمختاری، قومی اداروں اور داخلی معاملات کے احترام کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔

انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ لیبیا میں قومی سطح پر اداروں کو مضبوط بنانے، قانون کی حکمرانی کو فروغ دینے، عدالتی نظام کو مستحکم کرنے اور آئینی نگرانی کے عمل کو مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو طویل المدتی استحکام کی جانب لے جایا جا سکے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر پاکستان نے لیبیا میں امن، استحکام، قومی مفاہمت اور پائیدار ادارہ جاتی تعمیر کے لیے جاری تمام بین الاقوامی اور مقامی کوششوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی امن اور انصاف کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا