امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی پر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش کی گہری تشویش؛ فوری جنگ بندی کا مطالبہ

محمود احمد, JULY 22,2026

اقوامِ متحدہ/نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری اور مسلسل بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر تمام فوجی کارروائیاں روکنے اور سفارتی حل کی تلاش کے لیے کوششیں تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے ایک پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ سیکرٹری جنرل بالخصوص ایران میں اہم شہری اور بنیادی تنصیبات پر ہونے والے حملوں پر شدید مضطرب ہیں، جن میں زیرِ تعمیر ایٹمی بجلی گھر اور سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے والے اہم پلانٹس شامل ہیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ خطے کے کسی بھی حصے میں بجلی گھروں اور پانی کی فراہمی جیسے عوامی منصوبوں پر حملے بالکل نا قابلِ قبول ہیں اور ان کا سلسلہ فوراً بند ہونا چاہیے۔

ترجمان کے مطابق، ہسپتالوں، پینے کے پانی کے فراہمی کے نظام اور بنیادی انسانی ضروریات کی تنصیبات کا ہر صورت تحفظ کیا جانا چاہیے۔ سیکرٹری جنرل نے جنگ میں شامل تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین اور عام شہریوں کی حفاظت کے بنیادی اصولوں کی مکمل پاسداری کریں۔

اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اس فوجی بحران کے اثرات خطے کے دیگر ممالک تک پھیل رہے ہیں، جس کی وجہ سے بین الاقوامی تجارت، انسانی امداد کی نقل و حمل، بحری جہاز رانی کے اخراجات اور ایندھن سمیت روزمرہ کی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر شدید دباؤ بڑھ رہا ہے۔

سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اس تنازع کا کوئی بھی ملٹری یا فوجی حل موجود نہیں ہے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے سیاسی و سفارتی کاوشوں کو آگے بڑھانا ہی واحد راستہ ہے۔

سعودی عرب کی وزارتِ تجارت کا ‘ڈسکاؤنٹ سیزن 2026’ کا اعلان؛ یکم اگست سے 31 اکتوبر تک رعایت فراہم کی جائے گی

منصور احمد, JULY 22,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

سعودی عرب کی وزارتِ تجارت نے مملکت میں باقاعدہ ‘ڈسکاؤنٹ سیزن 2026ء’ کا اعلان کر دیا ہے جو یکم اگست سے شروع ہو کر 31 اکتوبر تک جاری رہے گا۔

سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق، وزارتِ تجارت نے واضح کیا ہے کہ تمام تجارتی اداروں اور دکانداروں کو سامان رعایت پر فروخت کرنے کے لیے باقاعدہ طور پر عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ (اجازت نامہ) حاصل کرنا لازم ہوگا۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ ڈسکاؤنٹ سیزن ایک خاص بنیاد پر شروع کیا جا رہا ہے جس سے دیگر روایتی سیزن جیسے کہ رمضان المبارک اور عیدین کی سیل متاثر نہیں ہوں گی۔

وزارتِ تجارت کے مطابق تاجر اور دکاندار اپنے ادارے کے لیے مخصوص آن لائن پورٹل کے ذریعے سیلز پرمٹ آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔ خریداروں اور صارفین کی سہولت کے لیے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خریداری کے مقام پر موجود بارکوڈ کو اپنے موبائل سے سکین کر کے یہ تصدیق کر سکتے ہیں کہ آیا اس ادارے کے پاس باقاعدہ سرکاری اجازت نامہ موجود ہے یا نہیں، نیز سیل سے قبل اور بعد کے نرخوں کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی قوانین کے تحت کوئی بھی دکاندار یا کمپنی وزارتِ تجارت کی باضابطہ منظوری کے بغیر ‘سیل’ کا اشتہار یا نوٹس نہیں لگا سکتی۔ اجازت نامے کے حصول کے لیے اشیاء کے پرانے اور نئے رعایتی نرخوں کا مکمل اندراج کروانا ضروری ہوتا ہے۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کا دوطرفہ تعلقات اور باہمی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ؛ اسحاق ڈار کی خلیل الرحمٰن سے اہم ملاقات

محمود احمد, JULY 22,2026

منیلا/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں منعقدہ 33 ویں ‘آسیان ریجنل فورم’ (اے آر ایف) کے وزارتی اجلاس کے موقع پر بنگلہ دیش کے وزیرِ خارجہ اور اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے نومنتخب صدر خلیل الرحمٰن سے ایک اہم ملاقات کی ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے دوران پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی حالیہ مثبت پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے گزشتہ سال نائب وزیرِ اعظم کے دورۂ بنگلہ دیش کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیاسی و سفارتی پیش رفت اور دوطرفہ تعلقات کی نئی رفتار کو سراہا اور باہمی روابط کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دونوں برادر ممالک کے مابین بڑھتے ہوئے تجارتی و ثقافتی تعلقات، عوامی سطح پر رابطوں کی بحالی اور جاری سال کے دوران پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان براہِ راست پروازوں کے باقاعدہ آغاز کا خصوصی خیرمقدم کیا، جس سے باہمی سفر اور مواصلات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

دونوں وزرائے خارجہ نے اس مثبت پیش رفت کو آئندہ بھی جاری رکھنے پر اتفاق کیا اور باہمی دلچسپی کے علاقائی، بین الاقوامی اور سفارتی امور پر تفصیلی گفتگو کی۔

پاکستان کو موبائل فونز کی تیاری اور برآمدات کا علاقائی مرکز بنانے کی پیشکش؛ وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کی سام سنگ کے وفد سے اہم ملاقات

کاشف عباسی , JULY 22,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے معروف عالمی ٹیکنالوجی کمپنی ‘سام سنگ’ کو پاکستان میں تیار ہونے والے اسمارٹ فونز کی برآمدات بڑھانے اور پاکستان کو موبائل فون سازی، مرمت و تجدید (ریفربشمنٹ) اور برآمدات کا علاقائی مرکز بنانے کی باضابطہ دعوت دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت برآمدات، صنعتی ترقی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مکمل تعاون فراہم کرے گی۔

وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، بدھ کے روز سام سنگ پاکستان کے سربراہ نے ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ وفاقی وزیرِ تجارت سے وزارتِ تجارت میں تفصیلی ملاقات کی۔ وفاقی وزیر نے سام سنگ کی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ صرف پاکستان کی مقامی مارکیٹ تک محدود رہنے کے بجائے یہاں سے تیار کردہ موبائل فونز کو افریقی ممالک اور دیگر عالمی منڈیوں میں برآمد کر کے عالمی سپلائی چین کا حصہ بنے۔

جام کمال خان نے پاکستان میں اصل کمپنی کے زیرِ انتظام تصدیق شدہ موبائل فون مرمت و تجدید کے مراکز قائم کرنے کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس نظام سے معیاری اور وارنٹی والے فونز مارکیٹ میں آئیں گے، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی ممکن ہو سکے گی۔

ملاقات کے دوران سام سنگ کے وفد نے پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری اور مقامی پیداوار کی پیش رفت سے آگاہ کیا، جبکہ ٹیکس ڈھانچے اور استعمال شدہ موبائل فونز کی بیرونی درآمدات پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مقامی صنعت کو تحفظ دینے کے لیے مناسب کسٹم ڈیوٹی کا فرق برقرار رکھا جائے۔

وفاقی وزیرِ تجارت نے صنعت کی جانب سے ٹیکس تحفظات کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی کہ کمپنی ریفربشمنٹ، برآمدات اور نئی سرمایہ کاری سے متعلق تفصیلی تجاویز پیش کرے تاکہ انہیں آئندہ موبائل فون مینوفیکچرنگ پالیسی میں شامل کیا جا سکے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ حکومت پاکستان کو عالمی ٹیکنالوجی اداروں کے لیے ایک پرکشش اور منافع بخش مرکز بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

پاکستان میں توانائی، معدنیات، آئی ٹی اور زراعت کے شعبوں میں امریکی سرمایہ کاری کی خواہش؛ وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی واشنگٹن میں ڈی ایف سی کے حکام سے ملاقات

محمود احمد, JULY 22,2026

اسلام آباد/واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقیاتی مالیات (ڈی ایف سی) کے اعلیٰ سطح کے نمائندوں سے اہم ملاقات کی، جس دوران پاکستان کے توانائی، معلومات و مواصلات (آئی ٹی)، بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر)، معدنیات، خوراک اور زراعت جیسے اہم ترین ترجیحی شعبوں میں ادارے کے بھرپور تعاون اور شراکت داری کی خواہش کا اظہار کیا۔

فنانس ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، ملاقات کے دوران وزیرِ خزانہ نے کہا کہ حکومت پاکستان ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے ان تمام شعبوں کو خصوصی اہمیت دے رہی ہے۔ انہوں نے امریکی ادارے کی جانب سے بندرگاہوں، مواصلات، آئی ٹی، توانائی، معدنیات، ادویات سازی، صنعتی پیداوار اور فراہمی کا نظام (سپلائی چین) بہتر بنانے جیسے اہم شعبوں پر خصوصی توجہ دینے کے اقدام کا پرخلوص خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ امریکی ادارے کا یہ عمل حکومتِ پاکستان کی قومی ترقیاتی ترجیحات سے کامل مطابقت رکھتا ہے۔

وزیرِ خزانہ نے ڈی ایف سی کی ماہرین پر مشتمل ٹیم کو باقاعدہ دورۂ پاکستان کی دعوت دی تاکہ ملک میں فوری سرمایہ کاری کے قابل عملی منصوبوں کی نشاندہی کی جا سکے اور مقامی و بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر تجارتی بنیادوں پر کام شروع کیا جا سکے۔

ملاقات کے دوران پاکستان کے اندر امریکی ادارے ڈی ایف سی کا مستقل نمائندہ دفتر قائم کرنے کے امکانات اور مستقبل میں امریکی کانگریس کے اعلیٰ سطح کے وفود کے ساتھ دوطرفہ معاشی روابط کو مزید وسعت دینے سے متعلق اہم امور پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

پاک ایران ریلوے تعاون اور باہمی تجارت کے فروغ کا عزم؛ اسلام آباد، تہران، استنبول مال بردار ٹرین سروس کی بحالی پر تبادلۂ خیال

منصور احمد, JULY 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی سے ایران کے وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی نے ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ اہم ملاقات کی، جس میں پاکستان میں ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران دونوں برادر ممالک کے درمیان ریلوے تعاون، سرحد پار رابطوں اور باہمی تجارت کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر ‘اسلام آباد-تہران-استنبول’ مال بردار ٹرین سروس کی بحالی پر گفتگو کے ساتھ ساتھ 1959ء کے دوطرفہ ریلوے معاہدے اور 2025ء کے تعاون کے فریم ورک کے تحت تکنیکی و تجارتی روابط کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

وفاقی وزیرِ ریلوے حنیف عباسی نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ‘مین لائن تھری’ پاکستان اور ایران کے درمیان ریلوے رابطے کا بنیادی کوریڈور ہے۔ اس اہم ریلوے لائن کی اپ گریڈیشن کا کام اسی مالی سال کے دوران شروع ہونے کی توقع ہے جو دسمبر 2029ء تک مکمل ہوگا، جس سے علاقائی تجارت کو غیر معمولی فروغ حاصل ہوگا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایرانی ریلوے کی درخواست پر تفتان ریلوے اسٹیشن کو باقاعدہ طور پر ‘کسٹمز کلیئرنس اسٹیشن’ کا درجہ دے دیا گیا ہے تاکہ سرحد پار مال برداری کا عمل آسان بنایا جا سکے۔

حنیف عباسی نے زاہدان سے تفتان کے ریلوے سیکشن کی بحالی پر ایرانی اقدامات کو سراہا اور حالیہ چیلنجز کے دوران ایرانی قوم اور قیادت کی استقامت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی نے گرمجوش میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاک ایران تعلقات تاریخی، مضبوط اور انتہائی گہرے ہیں جو گزشتہ دو سالوں میں مثالی سطح تک پہنچے ہیں۔ انہوں نے حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کی غیر متزلزل حمایت، بالخصوص وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مؤثر سفارتی کاوشوں اور مخلصانہ کوششوں کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ ایرانی وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ مشکل وقت میں پاکستان کے اس برادرانہ اور مخلصانہ کردار کو ایرانی قوم ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھے گی اور یاد رکھے گی۔

پاکستان کی پہلی قومی ویکسین پالیسی تیار؛ پاک چین ہیلتھ کانفرنس میں ایک ارب 40 کروڑ ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کے معاہدے طے پا گئے

منصور احمد, JULY 22,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

وفاقی وزیرِ قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاک چین بزنس ٹو بزنس فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر انویسٹمنٹ کانفرنس میں فارماسیوٹیکل سیکٹر کے چھ اہم ذیلی شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی، جس کا بنیادی مقصد پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی صنعت کو فروغ دینا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں اس وقت استعمال ہونے والی تمام 13 بنیادی ویکسینز مکمل طور پر بیرونِ ملک سے درآمد کی جاتی ہیں، تاہم موجودہ حکومت نے ملک کی تاریخ کی پہلی ‘قومی ویکسین پالیسی’ تیار کر لی ہے، جو جلد ہی مقامی سطح پر ویکسینز کی تیاری اور پیداوار کی راہ ہموار کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان اپنی ضرورت کی 85 فیصد ادویات خود تیار کرتا ہے، تاہم ان ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والا 95 فیصد خام مال باہر سے منگوانا پڑتا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے دو روزہ پاک چین کانفرنس کے کامیابی سے انعقاد کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وزارتِ صحت کی ٹیم نے پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان مؤثر روابط قائم کروائے، جس کے نتیجے میں کانفرنس میں 240 وفود اور 140 چینی کمپنیوں نے شرکت کی اور 340 دوطرفہ کاروباری ملاقاتیں ہوئیں۔ اس موقع پر 22 کمپنیوں نے 629.5 ملین امریکی ڈالر مالیت کے حتمی تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے، جبکہ 800 ملین امریکی ڈالر مالیت کی مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط ہوئے۔ وزیرِ اعظم کی موجودگی میں 9 اہم ترین معاہدوں پر باقاعدہ دستخط کروائے گئے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی آبادی 26 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور ہر سال ملک میں نیوزی لینڈ کی کل آبادی کے برابر نئے افراد کا اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث صحت کا شعبہ مستقل ترقی پذیر ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان اس وقت دنیا کے 52 ممالک کو ادویات برآمد کر رہا ہے۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) میں اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیکل ڈیوائسز کی رجسٹریشن کا عمل ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے اور آئندہ ایک سال کے اندر ڈریپ کے پورے نظام کو 100 فیصد ڈیجیٹلائز کر دیا جائے گا۔

پاکستان کا شام میں شامی قیادت میں عبوری انصاف اور قومی مفاہمت کی حمایت کا اعادہ

محمود احمد, JULY 22,2026

اقوامِ متحدہ/نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

پاکستان نے شام میں عبوری انصاف کے لیے شامی قیادت اور شامی ملکیت پر مبنی عمل کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ قومی ملکیت، مفاہمت اور جامع ادارے ہی شام میں پائیدار امن و استحکام کے قیام کی اصل بنیاد ہیں۔

شام میں عبوری انصاف اور لاپتا افراد سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے شامی حکومت کی جانب سے عبوری انصاف اور لاپتا افراد سے متعلق قومی کمیشنوں کے قیام اور عبوری انصاف سے متعلق مجوزہ قانون کی تیاری جیسے مثبت اقدامات کا خیرمقدم کیا۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ شامی قومی اداروں اور متعلقہ بین الاقوامی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون، شامی قیادت میں جاری کوششوں کا مددگار ہونا چاہیے، جبکہ شام کی خودمختاری اور قومی ملکیت کا مکمل احترام بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عبوری انصاف قومی مفاہمت کے فروغ، باہمی اعتماد کی بحالی، سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے اور متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ کی جائز توقعات پوری کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے شام کے لیے پاکستان کی مستقل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو شامی حکومت اور عوام کی دیرپا امن، استحکام، قومی مفاہمت اور تعمیرِ نو کی کوششوں میں بھرپور معاونت فراہم کرنی چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ایک پرامن اور خوشحال مستقبل کے حصول کے لیے شام کی حکومت اور عوام کے ساتھ اپنی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔

تجارتی سرگرمیوں میں تاریخی اضافے کے بعد پورٹس پر رش کم کرنے کے لیے پاکستان کسٹمز کے تاریخی اقدامات؛ کراچی ٹرمینلز پر کام تیز

محمود احمد, JULY 21,2026

اسلام آباد — 21 جولائی 2026ء

پاکستان کسٹمز نے کراچی کے دونوں بڑے کنٹینر ٹرمینلز پر تجارتی رش اور ازدحام کو واضح طور پر کم کرنے اور پورٹ آپریشنز کو تیز تر بنانے کے لیے کئی فیصلہ کن اور تاریخی اقدامات کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

کسٹمز حکام کے مطابق، جولائی کے دوران عالمی معاشی صورتحال میں بہتری اور خلیج فارس میں سیکیورٹی کشیدگی میں کمی کے باعث پاکستان کی بحری تجارت میں غیر معمولی اور ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، یکم جولائی سے 25 جولائی کے دوران دونوں بڑے ٹرمینلز پر مجموعی طور پر 56 بحری جہازوں نے لنگرانداز کیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 49 جہازوں کے مقابلے میں 14.3 فیصد زیادہ ہے۔ صرف جنوبی ایشیا ٹرمینل پر کنٹینرز کی نقل و حرکت 12 فیصد اضافے کے ساتھ 52 ہزار سے زائد کنٹینرز تک جا پہنچی ہے۔

اس تجارتی دباؤ سے نمٹنے کے لیے پاکستان کسٹمز نے اپنے سامان کی تلاشی اور کلیرنس کے آپریشنز کی رفتار میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ جولائی میں معائنہ شدہ سامان کی تعداد 4,298 تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال 4,007 تھی۔ اس کے علاوہ معائنے کے لیے نشان زد نئے شعبوں اور کوڈز میں تقریباً 20 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو تجارتی حجم کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔

پاکستان کسٹمز کے اعلیٰ حکام نے بتایا کہ تمام پورٹس پر عملے کی حاضری سو فیصد یقینی بنائی گئی ہے اور سامان کی بروقت کلیرنس کے لیے تمام پورٹس پر اتوار کو بھی باقاعدگی سے کام جاری رکھا جا رہا ہے۔ کسٹمز حکام روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ رواں ہفتے کے اختتام تک تمام رش کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔

بحری ٹاسک فورس کے تحت پاکستان کسٹمز نے پورٹ پر برسوں سے پھنسے 2,000 سے زائد طویل المدتی کنٹینرز کو پورٹ سے باہر نجی گوداموں میں منتقل کر دیا ہے جس سے ٹرمینلز پر وسیع جگہ خالی ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ تمام پورٹس پر جدید سکینرز کی تنصیب کی گئی ہے جس سے بغیر کسی جسمانی مداخلت اور رکاوٹ کے تیز ترین جائزہ ممکن ہو رہا ہے۔ بلا تاخیر جائزے کے جدید نظام نے پورٹ پر سامان کی کلیرنس کا وقت اور تاجروں کے لیے کاروبار کی لاگت کو نمایاں حد تک کم کر دیا ہے۔ کسٹمز حکام ‘تنگنائے ہرمز’ کی تازہ ترین بحری صورتحال پر بھی مسلسل کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوراً نمٹا جا سکے۔

پولیو کے خلاف جنگ میں پنجاب انسدادِ پولیو پروگرام اور گرل گائیڈز ایسوسی ایشن کا مشترکہ اقدام؛ 300 سے زائد رضاکاروں کو تربیت فراہم کر دی گئی

روزینہ اسماعیل, JULY 21,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

پنجاب انسدادِ پولیو پروگرام اور پاکستان گرل گائیڈز ایسوسی ایشن نے صوبے میں پولیو کے حوالے سے درست معلومات کے فروغ، ویکسین کے بارے میں پھیلائی جانے والی غلط معلومات کے مؤثر تدارک اور کمیونٹی سطح پر آگاہی بڑھانے کے لیے ایک مشترکہ انقلابی اقدام کا آغاز کر دیا ہے۔

اس نایاب شراکت داری کے پہلے مرحلے میں پنجاب بھر سے تقریباً 300 گرل گائیڈ رضاکاروں کو پولیو، ویکسین سے متعلق منفی پراپیگنڈے اور غلط فہمیوں کی نشاندہی، مستند معلومات کی فراہمی اور مؤثر کمیونٹی کمیونیکیشن کے حوالے سے جامع تربیت فراہم کر دی گئی ہے۔ یہ تربیت یافتہ گرل گائیڈز اپنے اپنے اسکولوں، کالجوں اور مقامی کمیونٹیز میں پولیو کے خلاف خصوصی سیشنز منعقد کریں گی تاکہ والدین بالخصوص ماؤں کو ہر قومی مہم کے دوران 5 سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو قطرے پلانے پر آمادہ کیا جا سکے۔

پنجاب انسدادِ پولیو پروگرام کے ترجمان کے مطابق، اس وقت صوبے سے حاصل ہونے والے تمام تر ماحولیاتی نمونے منفی آئے ہیں، جو جاری انسدادِ پولیو کوششوں کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ تاہم حکام نے واضح کیا کہ اس کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے ہر بچے کا ہر مہم میں قطرے پینا لازمی ہے۔

گرل گائیڈز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ پولیو سے پاک پاکستان کے قومی مقصد کے لیے معاشرتی سفیر کا کردار نبھاتی رہیں گی، جبکہ پولیو پروگرام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے تمام 5 سال سے کم عمر بچوں کو لازمی قطرے پلوائیں۔

آزاد کشمیر کا الیکشن جیتے تو شہباز شریف سے کہوں گا مجھے یہاں کا وزیراعظم بنا دیں؛ مظفرآباد جلسے میں نواز شریف کی خواہش کا اظہار

منصور احمد, JULY 21,2026

مظفرآباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد و صدر محمد نواز شریف نے مظفرآباد میں ایک بڑے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے خلوصِ دل سے خواہش ظاہر کی ہے کہ اگر مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں الیکشن جیت گئی تو وہ وزیرِ اعظم شہباز شریف سے کہیں گے کہ انہیں آزاد کشمیر کا وزیرِ اعظم بنا دیا جائے۔

مظفرآباد کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ اگر وہ آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم نہ بن سکے تو پھر بھی ہر 3 ماہ بعد باقاعدگی سے مظفرآباد آئیں گے اور خود جائزہ لیں گے کہ ہماری حکومت کے منشور پر عمل درآمد ہو رہا ہے یا نہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ “نواز شریف جو کہتا ہے، اسے پورا کرتا ہے” اور اگر ہماری حکومت آئی تو پچھلی تمام محرومیوں کا ازالہ کر کے دکھائیں گے۔

اس موقع پر انہوں نے مظفرآباد کے عوام کے لیے فوری طور پر 10 جدید ‘گرین بسیں’ چلانے کا اعلان کیا اور بتایا کہ چند ہی دنوں میں یہ بسیں مظفرآباد پہنچ جائیں گی۔ اس کے علاوہ انہوں نے خطے میں صحت کی بہترین سہولیات کے لیے 15 موبائل اسپتال فراہم کرنے اور آزاد کشمیر کے مجموعی ترقیاتی بجٹ میں 10 گنا اضافہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ وہ خون، نسل، روح اور دل و دماغ سے کشمیری ہیں۔ انہوں نے عوام کو بشارت دی کہ اب انہیں دور دراز علاج کے لیے اسپتال نہیں جانا پڑے گا بلکہ “اسپتال پہیوں پر چل کر خود ان کے پاس آئے گا”۔ مریم نواز نے مزید اعلان کیا کہ پنجاب کی طرز پر ‘اپنی چھت، اپنا گھر’ کا فلاحی منصوبہ مظفرآباد میں بھی شروع کیا جائے گا۔

خواتین ٹینس ایسوسی ایشن (ڈبلیو ٹی اے) کا بڑا فیصلہ: خاتون کھلاڑیوں کے لیے جینیاتی (ڈی این اے) معائنہ لازمی قرار

محمود احمد, JULY 21,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

خواتین ٹینس ایسوسی ایشن نے ڈبلیو ٹی اے ٹورنامنٹس میں شرکت کرنے والی تمام خاتون کھلاڑیوں کے لیے جینیاتی معائنے (ڈی این اے ٹیسٹنگ) کو باقاعدہ طور پر لازمی قرار دے دیا ہے۔

‘بی بی سی’ کی رپورٹ کے مطابق، 21 جولائی 2026ء سے فوری طور پر نافذ العمل ہونے والی اس نئی پالیسی کے تحت تمام خاتون کھلاڑیوں کے چیک سواب، خون یا لعاب (سلیوا) کے نمونے حاصل کیے جائیں گے۔ اس ٹیسٹ کا بنیادی مقصد وائی کروموسوم پر موجود ‘ایس آر وائی’ جینیاتی مادے کی موجودگی کا پتہ لگانا ہے، جو جسمانی طور پر مردانہ خصوصیات اور نشوونما کا باعث بنتا ہے۔

ڈبلیو ٹی اے کی واضح کردہ ہدایات کے مطابق، کھلاڑیوں کا یہ جینیاتی ٹیسٹ ان کے پیشہ ورانہ کیریئر میں صرف ایک بار (لائف ٹائم) کیا جائے گا۔ ٹیسٹ کا رپورٹڈ نتیجہ منفی آنے کی صورت میں ہی کھلاڑیوں کو ایونٹس میں کھیلنے کی اجازت دی جائے گی، جبکہ مثبت نتیجہ سامنے آنے کی صورت میں متعلقہ کھلاڑی کا تفصیلی طبی جائزہ لیا جائے گا۔ اس پالیسی کا احترام یقینی بنانے کے لیے تمام کھلاڑیوں سے ایک رسمی عہد نامے پر دستخط بھی کروائے جائیں گے اور ٹیسٹ کروانے سے انکار کی صورت میں سخت ڈسپلنری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

واضح رہے کہ سال 2024ء میں ڈبلیو ٹی اے کی سابقہ پالیسی کے تحت خواجہ سرا (ٹرانس جینڈر) خواتین کو اس شرط پر کھیلنے کی اجازت تھی کہ وہ اپنے ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کو مسلسل دو سال تک مقررہ حد سے کم رکھیں۔ تاہم، ڈبلیو ٹی اے انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اس نئی جینیاتی پالیسی کا بنیادی مقصد پیشہ ورانہ ٹینس میں تمام خاتون کھلاڑیوں کو مساوی مواقع، شفافیت اور منصفانہ کھیل کا یکساں ماحول فراہم کرنا ہے۔

پاکستان پارلیمانی سفارتکاری اور تجارتی روابط کے ذریعے کینیڈا کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پرعزم ہے؛ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا خطاب

کاشف عباسی , JULY 21,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان پارلیمانی سفارتکاری، دوطرفہ تجارت اور عوامی روابط کو وسعت دے کر کینیڈا کے ساتھ اپنی 8 دہائیوں پر محیط دیرینہ اور استوار دوستی کو ایک نئے اقتصادی و سیاسی باب میں داخل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

کینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند کے پہلے سرکاری دورۂ پاکستان کے موقع پر ان کے اعزاز میں منعقدہ پرُتپاک استقبالیہ تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب اور بعد ازاں کینیڈین وفد سے تفصیلی ملاقات کے دوران چیئرمین سینیٹ نے دونوں ممالک کے تاریخی و دوستانہ تعلقات کا اعادہ کیا۔ چیئرمین سینیٹ نے انیتا آنند کی عوامی خدمت، قانون دان کے طور پر خدمات اور سیاسی قیادت کی تعریف کی۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے تجارتی پیش رفت، بالخصوص 12 جنوری 2026ء کو کراچی بندرگاہ پر کینیڈین کینولا کی پہلی کھیپ کی آمد اور دوطرفہ اقتصادی مذاکرات کے مثبت نتائج کو سراہا۔

سید یوسف رضا گیلانی نے زور دے کر کہا کہ دوطرفہ تجارت اور غذائی سلامتی کے شعبے میں کینیڈا پاکستان کا انتہائی قابلِ اعتماد اور تزویراتی شراکت دار ہے۔ انہوں نے کینیڈا کو بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس میں فعال شرکت کی باضابطہ دعوت دی اور پاکستان کے اندر اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کے فریم ورک کے تحت کان کنی، نایاب معدنیات، صاف ٹیکنالوجی، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیکسٹائل میں کینیڈین سرمایہ کاری کی پرزور حوصلہ افزائی کی، جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ و تحفظ کے معاہدے پر جاری پیش رفت کو بھی خوش آئند قرار دیا۔

چیئرمین سینیٹ نے کینیڈا میں مقیم متحرک اور فعال پاکستانی کمیونٹی کی معاشی و سماجی خدمات کو سراہتے ہوئے تعلیمی وظائف، اعلیٰ تعلیم اور صحت عامہ خصوصاً پولیو کے خاتمے اور زچہ و بچہ کی صحت کے منصوبوں میں کینیڈین تعاون کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ انہوں نے نوبیل امن انعام یافتہ کینیڈین رہنما لیسٹر بی پیئرسن کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن صرف اقوام کے درمیان بہتر باہمی فہم و ادراک اور مشترکہ اعتماد سے ہی ممکن ہے۔

ملاقات کے دوران چیئرمین سینیٹ نے مسئلہ جموں و کشمیر پر پاکستان کے اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے زور دیا کہ اس بین الاقوامی تنازع کا حل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی آرزوؤں کے مطابق ہونا چاہیے، جبکہ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں بھی دیرپا امن کے لیے سفارتی ذرائع اور مکالمے کو واحد حل قرار دیا۔

فلائی دبئی نے شام کے تاریخی شہر حلب کے لیے روزانہ براہِ راست پروازوں کا آغاز کر دیا

محمود احمد, JULY 21,2026

ابوظہبی/دبئی (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

متحدہ عرب امارات کی معروف عالمی فضائی کمپنی ‘فلائی دبئی’ نے شام کے دوسرے بڑے اور تاریخی شہر ‘حلب’ کے لیے روزانہ کی بنیاد پر براہِ راست پروازیں شروع کر دی ہیں۔ دمشق کے بعد حلب، شام کے اندر ایئرلائن کی دوسری مرکزی منزل بن گئی ہے۔

اماراتی نیوز ایجنسی ‘وام’ کے مطابق، فلائی دبئی کے چیف کمرشل آفیسر حمد عبیداللہ نے تفصیلات بتاتے ہوئے بتایا کہ افتتاحی پرواز پیر کے روز دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 سے باقاعدہ روانہ ہوئی۔ حلب انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر طیارے کے اترتے ہی اسے روایتی ‘واٹر کینن’ سے سلامی دی گئی اور مقامی حکام نے مسافروں کا پرُتپاک استقبال کیا۔

ایئرلائن حکام کے مطابق، یہ نئی فلائٹ سروس متحدہ عرب امارات اور شام کے درمیان معاشی و تجارتی رابطوں کو مزید مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ کاروباری شخصیات، سیاحوں اور تارکینِ وطن کو بہترین سہولیات فراہم کرے گی۔ خاص طور پر موسمِ گرما کے دوران خلیجی ممالک (جی سی سی) میں مقیم شامی برادری کو اپنے وطن جانے کے لیے ایک آسان اور بااعتماد ذریعہ میسر آئے گا۔ حلب کے لیے یہ نئی فلائٹ ڈائریکٹ سروس دمشق کے لیے فلائی دبئی کی پہلے سے جاری یومیہ تین پروازوں کے علاوہ ہوگی۔

حمد عبیداللہ نے مزید بتایا کہ حلب کے لیے پروازیں ‘فلائی دبئی’ اور ‘ایمریٹس’ کے مشترکہ کوڈ شیئر معاہدے کے تحت چلائی جا رہی ہیں اور تمام پروازیں روزانہ کی بنیاد پر دبئی کے ٹرمینل 3 سے آپریشنل ہوں گی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایئرلائن اپنے عالمی نیٹ ورک کو تیزی سے وسعت دے رہی ہے؛ بنکاک اور لیبیا کے شہر بن غازی کے بعد حلب کا اضافہ اسی سلسلے کی کڑی ہے، جبکہ 23 ستمبر 2026ء سے نیپال کے شہر پوکھرا کے لیے بھی فلائی دبئی کی نئی پروازوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا۔

چینی کوسٹ گارڈ پر حملہ اور خطرناک انداز میں جہاز ٹکرانے کی کوشش سنگین حرکت ہے؛ چین اپنی علاقائی خودمختاری کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گا، چینی وزارتِ خارجہ، پریس ریلیز

منصور احمد, JULY 21,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

چین نے جنوبی چین کے سمندر میں واقع ‘رینائی ریف’ کے قریب فلپائن کی جانب سے کی جانے والی دانستہ عسکری اشتعال انگیزی اور چینی کوسٹ گارڈ کے اہلکاروں پر حملے کے شدید واقعے پر فلپائن کے سفیر کو وزارتِ خارجہ طلب کر کے سخت ترین احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

چائنا گلوبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک (‘سی جی ٹی این’) کے مطابق، چین کی وزارتِ خارجہ کے شعبہ برائے سرحدی و بحری امور کے اعلیٰ عہدیدار نے منگل کے روز موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ رینائی ریف، چین کے نانشا جزائر کا نکھرتا حصہ اور چینی سرزمین ہے۔ اس تناظر میں چینی کوسٹ گارڈ کا رینائی ریف کے ملحقہ سمندری حدود میں قانون نافذ کرنا بالکل جائز، قانونی اور آئینی حق ہے۔

چینی حکام نے واقعے کی تفاصیل بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ فلپائن کے غیر قانونی طور پر رینائی ریف میں “گراؤنڈ شدہ” (پھنسے ہوئے) جنگی جہاز سے دو ربڑ کی کشتیاں اتاری گئیں، جنہوں نے انتہائی خطرناک اور جارحانہ انداز میں چینی کوسٹ گارڈ کے جہازوں کے قریب آ کر ان سے ٹکرانے کی ناپاک کوشش کی۔ اس دوران فلپائنی اہلکاروں نے چینی قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو جان بوجھ کر ہراساں کیا اور ان پر حملہ آور ہوئے، جس سے چینی اہلکاروں کی سلامتی اور جانوں کو شدید خطرات لاحق ہوئے۔

چینی وزارتِ خارجہ نے فلپائن کے اس اقدام کو انتہائی تشویشناک اور سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اشتعال انگیزی کا آغاز فلپائن کی جانب سے کیا گیا، لیکن بعد میں فلپائنی حکام نے الٹا حقائق کو مسخ کرتے ہوئے چین پر بے بنیاد الزامات عائد کیے اور معاملے کو میڈیا میں بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی ناکام کوشش کی، جس پر بیجنگ شدید عدم اطمینان کا اظہار کرتا ہے۔

چینی عہدیدار نے فلپائن سے حتمی مطالبہ کیا ہے کہ وہ بحری سرحدوں پر فوری طور پر تمام تر اشتعال انگیز اقدامات، کشیدگی بڑھانے والی سرگرمیاں اور بے بنیاد پراپیگنڈا بند کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ چین اپنی اقلیمی و علاقائی خودمختاری اور سمندری حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے تمام تر ضروری اور تادیبی اقدامات بلا جھجھک جاری رکھے گا۔

غزہ شہر میں اسرائیلی فضائی حملہ: ایک ہی خاندان کے 6 افراد بشمول 4 معصوم بچے شہید

محمود احمد, JULY 21,2026

غزہ (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

اسرائیلی فوج نے جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے منگل کو فجر کے وقت غزہ شہر پر ایک اور وحشیانہ فضائی حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد بشمول میاں، بیوی اور ان کے چار معصوم بچے موقع پر ہی شہید ہو گئے۔

‘مرکزِ اطلاعاتِ فلسطین’ کے مطابق، اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ شہر کے علاقے ‘حی الصبرہ’ میں واقع ایک رہائشی مکان کو نشانہ بنایا۔ اس اندوہناک حملے کے نتیجے میں فراس أحمد المصری، ان کی اہلیہ سلسبيل محمد علی المصری اور ان کے چار معصوم بچے نعيم، فريال، سلمى اور أميرہ جامِ شہادت نوش کر گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق، بمباری سے گھر میں ہولناک آگ بھڑک اٹھی جس کی وجہ سے سول ڈیفنس اور ریسکیو ٹیموں کو لاشیں نکالنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں فائر فائٹنگ کی ٹیموں نے غزہ میونسپلٹی کے عملے کے تعاون سے آگ پر قابو پا کر شعلوں کو قریبی مکانات تک پھیلنے سے روکا۔

دریں اثنا، اسرائیلی فورسز نے جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے مشرقی علاقوں میں شدید فائرنگ کے ساتھ ساتھ توپ خانے سے گولہ باری کی۔ منگل کی صبح خان یونس کے علاقے مواصی میں بئر 19 کے قریب اسرائیلی فائرنگ سے ایک شہری شدید زخمی بھی ہوا۔ علاوہ ازیں، گزشتہ رات شمالی غزہ کے جبالیا کیمپ میں واقع ‘یمن السعيد ہسپتال’ کی پہلی منزل پر صیہونی ڈرون حملے میں 4 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔

فلسطینی وزارتِ صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ سال 10 اکتوبر کو طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے آغاز سے لے کر اب تک اسرائیلی عسکری کارروائیوں اور خلاف ورزیوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 1,169 تک جا پہنچی ہے، جبکہ 3,756 افراد زخمی ہوئے ہیں اور تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے 802 شہدا کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔

ایران کے وزیرِ داخلہ سکندر مومنی کی پاکستان مونومنٹ آمد، یادگارِ شہدا پر حاضری اور پھولوں کی چادر چڑھائی

منصور احمد, JULY 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

ایران کے وزیرِ داخلہ سکندر مومنی نے وفاقی دارالحکومت میں قائم ‘پاکستان مونومنٹ’ کا دورہ کیا اور یادگارِ شہدا پر حاضری دے کر وطنِ عزیز کی دفاع و سلامتی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا۔

پاکستان مونومنٹ پہنچنے پر وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ایرانی وزیرِ داخلہ کا پرُتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر فیڈرل کانسٹیبلری کے چاق و چوبند دستے نے معزز مہمان کو باقاعدہ سلامی پیش کی۔ ایرانی وزیرِ داخلہ سکندر مومنی نے یادگارِ شہدا پر پھولوں کی چادر چڑھائی، فاتحہ خوانی کی اور شہدا کی عظیم اور بے مثال قربانیوں کے اعتراف میں احتراماً کچھ دیر خاموشی اختیار کی۔

بعد ازاں، معزز مہمان کو پاکستان مونومنٹ کے تاریخی پس منظر، منفرد فنِ تعمیر اور پاکستان کے بھرپور ثقافتی ورثے کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ایرانی وزیرِ داخلہ نے یادگارِ شہدا اور پاکستان مونومنٹ کی تاریخی، قومی اور فنکارانہ اہمیت کو بے حد سراہا۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے شکر پڑیاں کی پہاڑی سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی دلکش خوبصورتی اور سرسبز مارگلہ پہاڑی سلسلے کا نظارہ بھی کیا۔

دورے کے موقع پر آئی جی فیڈرل کانسٹیبلری ریاض نذیر گاڑا اور ڈی آئی جی اسلام آباد سمیت دیگر اعلیٰ سول اور پولیس افسران بھی موجود تھے۔

آئی ایم ایف نے نئے توسیعی پروگرام کے تحت یوکرین کے لیے 690 ملین ڈالر کی فوری قسط کی منظوری دے دی

محمود احمد, JULY 21,2026

واشنگٹن ڈی سی (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے توسیعی فنڈ سہولت کے تحت یوکرین کے لیے 690 ملین امریکی ڈالر کا نیا قرضہ فراہم کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

روس کی خبر رساں ایجنسی ‘تاس’ کے مطابق، اس اہم مالیاتی قسط کی فراہمی کا ابتدائی معاہدہ 12 جون کو فریقین کے مابین طے پایا تھا۔ آئی ایم ایف کی پریس سروس کی جانب سے جاری کردہ رسمی بیان میں بتایا گیا کہ فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ نے یوکرین کے لیے نئے قرضہ امدادی پروگرام کے تحت 690 ملین ڈالر کی اس نئی قسط کی حتمی منظوری دے دی ہے۔

آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ اور ماہرین کی ٹیم نے یوکرین کے 8.1 بلین ڈالر مالیت کے چار سالہ (48 ماہ) توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کا پہلا کامیابی سے جائزہ مکمل کیا۔ جاری کردہ سرکاری دستاویز کے مطابق، آئی ایم ایف کے وضع کردہ اہداف اور اصلاحات کے تناظر میں یوکرین کی مجموعی کارکردگی بڑے پیمانے پر تسلی بخش رہی ہے، جس کے باعث 690 ملین ڈالر کی رقم فوری طور پر یوکرین کو منتقل کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد اضافی سنگین محصولات؛ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈا کے خلاف تعزیری اقدام

محمود احمد, JULY 21,2026

واشنگٹن ڈی سی (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے امریکا درآمد کی جانے والی درجنوں اشیائے ضروریات پر 50 فیصد کے بھاری محصولات (ٹیرفس) عائد کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جس سے دونوں اتحادی ممالک کے درمیان ایک نئی اور شدید عالمی تجارتی جنگ چھڑنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

‘رائٹرز’ کی عالمی رپورٹ کے مطابق، امریکی انتظامیہ نے اس سخت ترین اقدام کو جواز بناتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کی حکومت امریکی ساختہ گاڑیوں، الکحل اور دودھ (ڈیری) کی مصنوعات کے ساتھ مسلسل غیر منصفانہ اور امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔ شراب، سیمنٹ، سوئمنگ پولز، فرنیچر، کپڑوں، بیجوں سے لے کر آئس ہاکی کے سامان تک پر یہ تعزیری ٹیکس لاگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 1930ء کے تاریخی ٹیرف ایکٹ کے سیکشن 338 کا سہارا لیا ہے۔ یہ قانون امریکی صدر کو یہ خصوصی اختیارات دیتا ہے کہ وہ امریکی تجارتی مفادات اور اشیاء کے خلاف امتیازی سلوک کرنے والے ممالک پر 50 فیصد تک تعزیری محصولات عائد کر سکے۔ واضح رہے کہ امریکی تاریخ میں اس قانون کا استعمال تقریباً ایک صدی بعد پہلی بار کیا گیا ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے مطابق، یہ نئے ٹیرفس اگلے 30 دنوں میں باضابطہ لاگو ہوں گے جس سے کینیڈا سے امریکا آنے والی تقریباً 20 ارب ڈالر کی برآمدات براہِ راست متاثر ہوں گی۔ امریکی مردم شماری بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق یہ کینیڈا سے امریکا درآمد کی جانے والی مجموعی مصنوعات کا تقریباً 5.2 فیصد بنتا ہے۔

دوسری جانب، کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے امریکی اقدام پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایک رسمی بیان میں کہا کہ ان کی حکومت نے امریکا کے ساتھ تمام تجارتی تحفظات اور تنازعات کو دور کرنے کے لیے انتہائی جامع اور معقول تجاویز پیش کی تھیں، لیکن اس کے باوجود امریکی صدر کی جانب سے عائد کیے جانے والے یہ یکطرفہ محصولات شمالی امریکا کے آزاد تجارتی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں ایرانی حملوں میں 100 سے زائد امریکی فوجی زخمی؛ پینٹاگون نے تصدیق کر دی

منصور احمد, JULY 21,2026

واشنگٹن ڈی سی (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جولائی 2026ء

امریکی وزارتِ دفاع (پینٹاگون) نے باضابطہ تصدیق کی ہے کہ رواں ماہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے متعدد فضائی اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں تقریباً 100 امریکی فوجی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

پینٹاگون کے مرکزی ترجمان سین پارنیل نے ذرائع ابلاغ کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 7 جولائی 2026ء کے بعد سے شروع ہونے والی ایرانی حملوں کی نئی لہر میں 100 کے قریب امریکی فوجیوں کو مختلف نوعیت کے زخم آئے ہیں۔ تاہم ترجمان نے واضح کیا کہ ان میں سے 96 فیصد اہلکار معمولی زخمی تھے، جو ابتدائی طبی امداد کے بعد دوبارہ اپنے فرائضِ منصبی کی ادائیگی کے لیے ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔

گزشتہ ہفتے کے اختتام پر امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے جاری کردہ تشویشناک رپورٹس کے مطابق اردن میں ایک امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 2 امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ ایک لاپتہ فوجی اہلکار کے مقام سے نامعلوم باقیات ملی ہیں۔ اس کے علاوہ عراق میں ایرانی خودکش ڈرون کے باقی ماندہ دھماکا خیز مواد کو کنٹرولڈ طریقے سے تباہ کرنے کے دوران ایک اور امریکی فوجی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ پینٹاگون نے فی الحال تازہ ترین حملوں کے مکمل نقصانات اور زخمیوں کی حتمی فہرست کو بوجوہ عام نہیں کیا۔

امریکی فوج کے ہلاک اور زخمی اہلکاروں کا مکمل ریکارڈ رکھنے والے ادارے ‘ڈیفنس کیژولٹی اینالیسس سسٹم’ کے مطابق، امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ عسکری تصادم کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 413 سے زائد امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں (جس میں جاری جولائی کے مہینے کے زخمی شامل نہیں ہیں)۔ اعداد و شمار کی الگ رپورٹ کے مطابق زخمیوں کی یہ تعداد 427 تک جا پہنچتی ہے، جبکہ اردن اور عراق میں ہونے والی تازہ ہلاکتوں کو شامل کرنے کے بعد اس تصادم میں اب تک ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی کل تعداد 17 ہو گئی ہے۔